#4151
Sahih
Narrated 'Aishah:The Messenger of Allah (ﷺ) never left in his house anything containing the figure of a cross without destroying it
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کسی ایسی چیز کو جس میں صلیب کی تصویر بنی ہوتی بغیر کاٹے یا توڑے نہیں چھوڑتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حِطَّانَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ لاَ يَتْرُكُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا فِيهِ تَصْلِيبٌ إِلاَّ قَضَبَهُ .
#4152
Daif
Narrated Ali ibn AbuTalib: The Prophet (ﷺ) said: The angels do not enter a house which contains a picture, a dog, or a man who is impure by sexual defilement
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر، کتا، یا جنبی ( ناپاک شخص ) ہو ۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَىٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلاَ كَلْبٌ وَلاَ جُنُبٌ " .
#4153
Sahih
Narrated Abu Talhat al-Ansari:I heard the Prophet (ﷺ) say: The angels do not enter a house which contains a dog or a picture. Zaid b. Khalid al-Juhani said to Sa'id b. Yasar al-Ansari, the transmitter of this tradition: Go with me to 'Aishah, Mother of Faithful, so that we ask about it. So we went and said to her: Mother of Faithful, Abu Talhah has transmitted to us a tradition so-and-so. Have you heard the Prophet (ﷺ) mentioning that ? She replied: No but I tell what I saw him doing. The Messenger of Allah (ﷺ) went on an expedition and I was waiting for his return. I got a carpet which I hung as a screen on a stick over the door. When he came I received him and said: Peace be upon you, Messenger of Allah, His mercy and His blessings. Praise to be Allah Who gave you dominance and respect. Then he looked at the house and saw the carpet; and he did not respond to me at all. I found (signs of) disapproval in his face. He then came to the carpet and tore it down. He then said: Allah has not commanded us to clothe stones and clay out of the sustenance He has given us. She said: I then cut it to pieces and made two pillows out of it and stuffed them with palm fibre, and he did not disapprove of it to me
ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا مجسمہ ہو ۔ زید بن خالد نے جو اس حدیث کے راوی ہیں سعید بن یسار سے کہا: میرے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلو ہم ان سے اس بارے میں پوچھیں گے چنانچہ ہم گئے اور جا کر پوچھا: ام المؤمنین! ابوطلحہ نے ہم سے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایسا ایسا فرمایا ہے تو کیا آپ نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ آپ نے کہا: نہیں، لیکن میں نے جو کچھ آپ کو کرتے دیکھا ہے وہ میں تم سے بیان کرتی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ میں نکلے، میں آپ کی واپسی کی منتظر تھی، میں نے ایک پردہ لیا جو میرے پاس تھا اور اسے دروازے کی پڑی لکڑی پر لٹکا دیا، پھر جب آئے تو میں نے آپ کا استقبال کیا اور کہا: سلامتی ہو آپ پر اے اللہ کے رسول! اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، شکر ہے اس اللہ کا جس نے آپ کو عزت بخشی اور اپنے فضل و کرم سے نوازا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر پر نظر ڈالی، تو آپ کی نگاہ پردے پر گئی تو آپ نے میرے سلام کا کوئی جواب نہیں دیا، میں نے آپ کے چہرہ پر ناگواری دیکھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پردے کے پاس آئے اور اسے اتار دیا اور فرمایا: اللہ نے ہمیں یہ حکم نہیں دیا ہے کہ ہم اس کی عطا کی ہوئی چیزوں میں سے پتھر اور اینٹ کو کپڑے پہنائیں پھر میں نے کاٹ کر اس کے دو تکیے بنا لیے، اور ان میں کھجور کی چھال کا بھراؤ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس کام پر کوئی نکیر نہیں فرمائی۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ تِمْثَالٌ " . وَقَالَ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ نَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِكَ . فَانْطَلَقْنَا فَقُلْنَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ حَدَّثَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِكَذَا وَكَذَا فَهَلْ سَمِعْتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُ ذَلِكَ قَالَتْ لاَ وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكُمْ بِمَا رَأَيْتُهُ فَعَلَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ وَكُنْتُ أَتَحَيَّنُ قُفُولَهُ فَأَخَذْتُ نَمَطًا كَانَ لَنَا فَسَتَرْتُهُ عَلَى الْعَرَضِ فَلَمَّا جَاءَ اسْتَقْبَلْتُهُ فَقُلْتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَعَزَّكَ وَأَكْرَمَكَ فَنَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ فَرَأَى النَّمَطَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ شَيْئًا وَرَأَيْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ فَأَتَى النَّمَطَ حَتَّى هَتَكَهُ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنَا فِيمَا رَزَقَنَا أَنْ نَكْسُوَ الْحِجَارَةَ وَاللَّبِنَ " . قَالَتْ فَقَطَعْتُهُ وَجَعَلْتُهُ وِسَادَتَيْنِ وَحَشَوْتُهُمَا لِيفًا فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَىَّ .
#4154
Sahih Isnaad
The tradition mentioned above has also been transmitted by Suhail through a different chain of narrators like the previous one. This version has:I said: Mother, he has told me that the Prophet (ﷺ) has said: He also said the words ; Sa'id b. yasir client of Banu al-Najjar
اس سند سے بھی سہیل سے اسی طرح مروی ہے اس میں «فقلنا يا أم المؤمنين إن أبا طلحة حدثنا عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم» کے بجائے «فقلت يا أمه إن هذا حدثني أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال» ہے نیز اس میں «سعيد بن يسار الأنصاري» کے بجائے «سعيد بن يسار مولى بني النجار» ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ قَالَ فَقُلْتُ يَا أُمَّهْ إِنَّ هَذَا حَدَّثَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَقَالَ فِيهِ سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي النَّجَّارِ .
#4155
Sahih
Narrated Abu Talhah:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: The angels do not enter the house which contains a picture. Busr (b. Sa'id), the transmitter of this tradition, said: Zaid (b. Khalid al-Juhani) then fell it and we paid him a sick visit. There was a curtain with a picture hanging at his door. I then said to 'Ubaid Allah al-Khawlani', the step-son of Maimunah, wife of the Prophet (ﷺ): Did Zaid not tell us about pictures on the first day ? 'Ubaid Allah said: Did you not hear him when he said: Except a figure on a garment
زید بن خالد رضی اللہ عنہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے ہیں جس میں تصویر ہو ۔ بسر جو حدیث کے راوی ہیں کہتے ہیں: پھر زید بن خالد بیمار ہوئے تو ہم ان کی عیادت کرنے کے لیے گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹک رہا ہے جس میں تصویر ہے تو میں نے ام المؤمنین میمونہ کے ربیب ( پروردہ ) عبیداللہ خولانی سے کہا: کیا زید نے ہمیں تصویر کی ممانعت کے سلسلہ میں اس سے پہلے حدیث نہیں سنائی تھی ( پھر یہ کیا ہوا؟ ) تو عبیداللہ نے کہا: کیا آپ نے ان سے نہیں سنا تھا انہوں نے یہ بھی تو کہا تھا سوائے اس نقش و نگار کے جو کپڑے پر ہو ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ لاَ تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ " . قَالَ بُسْرٌ ثُمَّ اشْتَكَى زَيْدٌ فَعُدْنَاهُ فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلاَنِيِّ رَبِيبِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْدٌ عَنِ الصُّوَرِ يَوْمَ الأَوَّلِ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَلَمْ تَسْمَعْهُ حِينَ قَالَ إِلاَّ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ .
#4156
Hasan Sahih
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) ordered Umar ibn al-Khattab who was in al-Batha' at the time of the conquest (of Makkah) to visit the Ka'bah and obliterate all images in it. The Prophet (ﷺ) did not enter it until all the images were obliterated
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے وقت جب آپ بطحاء میں تھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ کعبہ میں جائیں اور جتنی تصویریں ہوں سب کو مٹا ڈالیں، آپ اس وقت تک کعبہ کے اندر تشریف نہیں لے گئے جب تک سبھی تصویریں مٹا نہ دی گئیں۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ عَبْدِ الْكَرِيمِ، حَدَّثَهُمْ قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ عَقِيلٍ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - زَمَنَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ أَنْ يَأْتِيَ الْكَعْبَةَ فَيَمْحُوَ كُلَّ صُورَةٍ فِيهَا فَلَمْ يَدْخُلْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى مُحِيَتْ كُلُّ صُورَةٍ فِيهَا .
#4157
Sahih
Narrated Ibn 'Abbas:Maimunah, wife of the Prophet (ﷺ) reported him as saying: Gabriel (peace be upon him) promised to visit me last night, but he did not visit me. Then it occurred to him that there was a pup under his bed. So he ordered and it was turned out. He then got water in his hand and sprinkled it on its place. When Gabriel (ﷺ) met him, he said: We do not enter a house which contains a dog or a picture. When the morning came, the Prophet (ﷺ) ordered to kill dogs. He ordered to kill the dog which guarded a small orchard, and left the dog which guarded the big orchard
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام نے آج رات مجھ سے ملنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ مجھ سے نہیں ملے پھر آپ کو خیال آیا کہ ہماری چارپائی کے نیچے کتے کا پلا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ نکالا گیا، پھر اپنے ہاتھ میں پانی لے کر آپ نے وہاں چھڑکاؤ کیا تو جبرائیل آپ سے ملے اور کہنے لگے: ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو پھر صبح ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا یہاں تک کہ آپ چھوٹے باغوں کے کتوں کو بھی مار ڈالنے کا حکم دے رہے تھے صرف آپ بڑے باغوں کے کتوں کو چھوڑ رہے تھے ( کیونکہ بغیر کتوں کے ان کی دیکھ ریکھ دشوار ہوتی ہے ) ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ السَّبَّاقِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ، زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِيَ اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي " . ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جَرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ بِسَاطٍ لَنَا فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً فَنَضَحَ بِهِ مَكَانَهُ فَلَمَّا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ إِنَّا لاَ نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ صُورَةٌ فَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَأْمُرُ بِقَتْلِ كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ وَيَتْرُكُ كَلْبَ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ .
#4158
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Gabriel (ﷺ) came to me and said: I came to you last night and was prevented from entering simply because there were images at the door, for there was a decorated curtain with images on it in the house, and there was a dog in the house. So order the head of the image which is in the house to be cut off so that it resembles the form of a tree; order the curtain to be cut up and made into two cushions spread out on which people may tread; and order the dog to be turned out. The Messenger of Allah (ﷺ) then did so. The dog belonged to al-Hasan or al-Husayn and was under their couch. So he ordered it to be turned out. Abu Dawud said: Al-Nadd means a thing on which clothes are placed like a couch
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل علیہ السلام نے آ کر کہا: میں کل رات آپ کے پاس آیا تھا لیکن اندر نہ آنے کی وجہ صرف وہ تصویریں رہیں جو آپ کے دروازے پر تھیں اور آپ کے گھر میں ( دروازے پر ) ایک منقش پردہ تھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں، اور گھر میں کتا بھی تھا تو آپ کہہ دیں کہ گھر میں جو تصویریں ہوں ان کا سر کاٹ دیں تاکہ وہ درخت کی شکل کی ہو جائیں، اور پردے کو پھاڑ کر اس کے دو غالیچے بنا لیں تاکہ وہ بچھا کر پیروں سے روندے جائیں اور حکم دیں کہ کتے کو باہر نکال دیا جائے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا، اسی دوران حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کا کتا ان کے تخت کے نیچے بیٹھا نظر آیا، آپ نے حکم دیا تو وہ بھی باہر نکال دیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «نضد» چارپائی کی شکل کی ایک چیز ہے جس پر کپڑے رکھے جاتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ لِي أَتَيْتُكَ الْبَارِحَةَ فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَكُونَ دَخَلْتُ إِلاَّ أَنَّهُ كَانَ عَلَى الْبَابِ تَمَاثِيلُ وَكَانَ فِي الْبَيْتِ قِرَامُ سِتْرٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ وَكَانَ فِي الْبَيْتِ كَلْبٌ فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ الَّذِي فِي الْبَيْتِ يُقْطَعُ فَيَصِيرُ كَهَيْئَةِ الشَّجَرَةِ وَمُرْ بِالسِّتْرِ فَلْيُقْطَعْ فَلْيُجْعَلْ مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ مَنْبُوذَتَيْنِ تُوطَآنِ وَمُرْ بِالْكَلْبِ فَلْيُخْرَجْ " . فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِذَا الْكَلْبُ لِحَسَنٍ أَوْ حُسَيْنٍ كَانَ تَحْتَ نَضَدٍ لَهُمْ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّضَدُ شَىْءٌ تُوضَعُ عَلَيْهِ الثِّيَابُ شِبْهُ السَّرِيرِ .
#4159
Sahih
Narrated Abdullah ibn Mughaffal: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade combing the hair except every second day
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پابندی سے ) کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے البتہ ناغہ کے ساتھ ہو ( تو جائز ہے ) ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ التَّرَجُّلِ إِلاَّ غِبًّا .
#4160
Sahih
Abdullah ibn Buraydah said:A man from the companions of the Prophet (ﷺ) travelled to Fudalah ibn Ubayd when he was in Egypt. He came to him and said: I have not come to you to visit you. But you and I heard a tradition from the Messenger of Allah (ﷺ). I hope you may have some knowledge of it. He asked: What is it? He replied: So and so. He said: Why do I see you dishevelled when you are the ruler of this land? He said: The Messenger of Allah (ﷺ) has forbidden us to indulge much in luxury. He said: Why do I see you unshod? He replied: The Prophet (ﷺ) used to command us to go barefoot at times
عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے پاس مصر گئے، جب وہاں پہنچے تو عرض کیا: میں یہاں آپ سے ملاقات کے لیے نہیں آیا ہوں، ہم نے اور آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی مجھے امید ہے کہ اس کے متعلق آپ کو کچھ ( مزید ) علم ہو، انہوں نے پوچھا: وہ کون سی حدیث ہے؟ فرمایا: وہ اس اس طرح ہے، پھر انہوں نے فضالہ سے کہا: کیا بات ہے میں آپ کو پراگندہ سر دیکھ رہا ہوں حالانکہ آپ اس سر زمین کے حاکم ہیں؟ تو ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں زیادہ عیش عشرت سے منع فرماتے تھے، پھر انہوں نے پوچھا: آپ کے پیر میں جوتیاں کیوں نظر نہیں آتیں؟ تو وہ بولے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کبھی کبھی ننگے پیر رہنے کا بھی حکم دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الْمَازِنِيُّ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَحَلَ إِلَى فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ وَهُوَ بِمِصْرَ فَقَدِمَ عَلَيْهِ فَقَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ آتِكَ زَائِرًا وَلَكِنِّي سَمِعْتُ أَنَا وَأَنْتَ حَدِيثًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَكَ مِنْهُ عِلْمٌ . قَالَ وَمَا هُوَ قَالَ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَمَا لِي أَرَاكَ شَعِثًا وَأَنْتَ أَمِيرُ الأَرْضِ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَنْهَانَا عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الإِرْفَاهِ . قَالَ فَمَا لِي لاَ أَرَى عَلَيْكَ حِذَاءً قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُنَا أَنْ نَحْتَفِيَ أَحْيَانًا .
#4161
Sahih
Narrated AbuUmamah Ilyas ibn Tha'labah: The Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) mentioned this word before him. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Listen, listen! Wearing old clothes is a part of faith, wearing old clothes is a part of faith. Abu Dawud said: He is Abu Umamah b. Tha'labat al-Ansari
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ نے ایک روز آپ کے پاس دنیا کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ بیشک سادگی و پراگندہ حالی ایمان کی دلیل ہے، بیشک سادگی و پراگندہ حالی ایمان کی دلیل ہے اس سے مراد ترک زینت و آرائش اور خستہ حالی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وہ ابوامامہ بن ثعلبہ انصاری ہیں۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ ذَكَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا عِنْدَهُ الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ تَسْمَعُونَ أَلاَ تَسْمَعُونَ إِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الإِيمَانِ إِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الإِيمَانِ " . يَعْنِي التَّقَحُّلَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هُوَ أَبُو أُمَامَةَ بْنُ ثَعْلَبَةَ الأَنْصَارِيُّ .
#4162
Sahih
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet (ﷺ) had sikkah with which he perfumed himself
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خوشبو کی ایک ڈبیہ تھی جس سے آپ خوشبو لگایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَتْ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سُكَّةٌ يَتَطَيَّبُ مِنْهَا .
#4163
Hasan Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: He who has hair should honour it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس بال ہوں تو اسے چاہیئے کہ وہ انہیں اچھی طرح رکھے ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كَانَ لَهُ شَعْرٌ فَلْيُكْرِمْهُ " .
#4164
Daif
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Karimah, daughter of Hammam, told that a woman came to Aisha (Allah be pleased with her) and asked her about dyeing with henna. She replied: There is no harm, but I do not like it. My beloved, the Messenger of Allah (ﷺ), disliked its odour. Abu Dawud said: She meant the colour of hair of the head
کریمہ بنت ہمام کا بیان ہے کہ ایک عورت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے مہندی کے خضاب کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن میں اسے ناپسند کرتی ہوں، میرے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بو ناپسند فرماتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مراد سر کے بال کا خضاب ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي كَرِيمَةُ بِنْتُ هَمَّامٍ، أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - فَسَأَلَتْهَا عَنْ خِضَابِ الْحِنَّاءِ فَقَالَتْ لاَ بَأْسَ بِهِ وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ كَانَ حَبِيبِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَكْرَهُ رِيحَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ تَعْنِي خِضَابَ شَعْرِ الرَّأْسِ .
#4165
Daif
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: When Hind, daughter of Utbah, said: Prophet of Allah, accept my allegiance, he replied; I shall not accept your allegiance till you make a difference to the palms of your hands; for they look like the paws of a beast of prey
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے نبی! مجھ سے بیعت لے لیجئیے، تو آپ نے فرمایا: جب تک تم اپنی دونوں ہتھیلیوں کا رنگ نہیں بدلو گی میں تم سے بیعت نہیں لوں گا، گویا وہ دونوں کسی درندے کی ہتھیلیاں ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَتْنِي غِبْطَةُ بِنْتُ عَمْرٍو الْمُجَاشِعِيَّةُ، قَالَتْ حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي أُمُّ الْحَسَنِ، عَنْ جَدَّتِهَا، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ هِنْدًا بِنْتَ عُتْبَةَ، قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ بَايِعْنِي . قَالَ " لاَ أُبَايِعُكِ حَتَّى تُغَيِّرِي كَفَّيْكِ كَأَنَّهُمَا كَفَّا سَبُعٍ " .
#4166
Hasan
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: A woman made a sign from behind a curtain to indicate that she had a letter for the Messenger of Allah (ﷺ). The Prophet (ﷺ) closed his hand, saying: I do not know this is a man's or a woman's hand. She said: No, a woman. He said: If you were a woman, you would make a difference to your nails, meaning with henna
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے پردے کے پیچھے سے اشارہ کیا، اس کے ہاتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا ایک خط تھا، آپ نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا، اور فرمایا: مجھے نہیں معلوم کہ یہ کسی مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا تو اس نے عرض کیا: نہیں، بلکہ یہ عورت کا ہاتھ ہے، تو آپ نے فرمایا: اگر تم عورت ہوتی تو اپنے ناخن کے رنگ بدلے ہوتی یعنی مہندی سے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّورِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ عِصْمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ أَوْمَتِ امْرَأَةٌ مِنْ وَرَاءِ سِتْرٍ بِيَدِهَا كِتَابٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَبَضَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ فَقَالَ " مَا أَدْرِي أَيَدُ رَجُلٍ أَمْ يَدُ امْرَأَةٍ " . قَالَتْ بَلِ امْرَأَةٌ . قَالَ " لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً لَغَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ " . يَعْنِي بِالْحِنَّاءِ .
#4167
Sahih
Narrated Humaid b. 'Adb al-Rahman:That he heard Mu'awiyah b. Abi Sufyan say during the Hajj when he was on the pulpit and took a lock of hair which was in the hand of the guard, saying: O people of Medina, where are your scholars ? I heard the Messenger of Allah (ﷺ) forbidding such a think as this and said: The children of Isra'il perished when their women practised it
حمید بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے جس سال حج کیا میں نے آپ کو منبر پر کہتے سنا، آپ نے بالوں کا ایک گچھا جو ایک پہرے دار کے ہاتھ میں تھا لے کر کہا: مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان جیسی چیزوں سے منع کرتے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: بنی اسرائیل ہلاک ہو گئے جس وقت ان کی عورتوں نے یہ کام شروع کیا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعْرٍ كَانَتْ فِي يَدِ حَرَسِيٍّ يَقُولُ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ وَيَقُولُ " إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ " .
#4168
Sahih
Abd Allah said:The Messenger of Allah (ﷺ) cursed the woman who adds some false hair and the woman who asks for it, the woman who tattoos and the woman who asks for it
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اس عورت پر جو دوسری عورت کے بال میں بال کو جوڑے، اور اس عورت پر اپنے بالوں میں اور بال جڑوائے، اور اس عورت پر دوسری عورت کا بدن گودے، اور نیل بھرے، اور اس عورت پر جو اپنا بدن گودوائے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ .
#4169
Sahih
Abd Allah (b. Mas'us) said:Allah has cursed the woman who tattoo and the women who have themselves tattooed, the women who add false hair (according to the version of Muhammad b. Isa) and the women who pluck hairs from their faces (according to the version on 'Uthman). The agreed version then goes: The women who spaces between their teeth for beauty, changing what Allah has created. When a woman of Banu Asad called Umm Ya'qub, who read the Qur'an (according to the version of 'Uthman) heard it, she came to him (according to the agreed version) and said: I have heard that you have cursed the women who tattoo, those have themselves tattooed, those who add false hair (according to the version of Muhammad), those pluck hairs from their faces, and those who make spaces between their teeth (according to the agreed version), for changing what Allah has created (according to the version of 'Uthman). He said: Why should I not curse those whom the Messenger of Allah (ﷺ) had cursed and those who were mentioned in Allah's Book ? She said: I have read it from cover to cover and have not found in it. He said: I swear by Allah, if you read it, you would have found it. He then read: What the Apostle has brought you accept, and what he has forbidden refrain from it. She said: I find some of these thing in you wife. He said: Enter (the house) and see. She said: I then entered (the house) and came out. He asked: What did you see ? She said: I did not see (anything). He said: Had it been so, she would have not have been with us. This is according to the version of 'Uthman
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ نے جسم میں گودنے لگانے والیوں اور گودنے لگوانے والیوں پر لعنت کی ہے، ( محمد کی روایت میں ہے ) اور بال جوڑنے والیوں پر، ( اور عثمان کی روایت میں ہے ) اور اپنے بال اکھیڑنے والیوں پر، جو زیب و زینت کے واسطہ منہ کے روئیں اکھیڑتی ہیں، اور خوبصورتی کے لیے اپنے دانتوں میں کشادگی کرانے والیوں، اور اللہ کی بنائی ہوئی صورت کو بدلنے والیوں پر۔ تو یہ خبر قبیلہ بنی اسد کی ایک عورت ( ام یعقوب نامی ) کو پہنچی جو قرآن پڑھا کرتی تھی، تو وہ عبداللہ بن مسعود کے پاس آئی اور کہنے لگی: مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ نے گودنے والیوں اور گودوانے والیوں پر اور بال جوڑنے والیوں اور بال اکھیڑنے والیوں پر اور دانتوں کے درمیان کشادگی کرانے والیوں پر خوبصورتی کے لیے جو اللہ کی بنائی ہوئی شکل تبدیل کر دیتی ہیں پر لعنت کی ہے؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا: میں ان پر کیوں نہ لعنت کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہو اور وہ اللہ کی کتاب کی رو سے بھی ملعون ہوں؟ تو اس عورت نے کہا: میں تو پورا قرآن پڑھ چکی ہوں لیکن یہ مسئلہ مجھے اس میں کہیں نہیں ملا؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم نے اسے پڑھا ہوتا تو یہ مسئلہ ضرور پاتی پھر آپ نے آیت کریمہ «وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا» اور تمہیں جو کچھ رسول دیں اسے لے لو اور جس سے منع کریں رک جاؤ ( الحشر: ۷ ) پڑھی تو وہ بولی: میں نے تو اس میں سے بعض چیزیں آپ کی بیوی کو بھی کرتے دیکھا ہے، آپ نے کہا: اچھا اندر جاؤ اور دیکھو تو وہ اندر گئیں پھر باہر آئیں تو آپ نے پوچھا: تم نے کیا دیکھا ہے؟ تو اس عورت نے کہا: مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی تو آپ نے فرمایا: اگر وہ ایسا کرتی تو پھر میرے ساتھ نہ رہتی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ . قَالَ مُحَمَّدٌ وَالْوَاصِلاَتِ وَقَالَ عُثْمَانُ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ ثُمَّ اتَّفَقَا وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ . زَادَ عُثْمَانُ كَانَتْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثُمَّ اتَّفَقَا فَأَتَتْهُ فَقَالَتْ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ لَعَنْتَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ . قَالَ مُحَمَّدٌ وَالْوَاصِلاَتِ وَقَالَ عُثْمَانُ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ ثُمَّ اتَّفَقَا وَالْمُتَفَلِّجَاتِ قَالَ عُثْمَانُ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ تَعَالَى . فَقَالَ وَمَا لِي لاَ أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى قَالَتْ لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ لَوْحَىِ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُهُ . فَقَالَ وَاللَّهِ لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ ثُمَّ قَرَأَ { وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا } قَالَتْ إِنِّي أَرَى بَعْضَ هَذَا عَلَى امْرَأَتِكَ . قَالَ فَادْخُلِي فَانْظُرِي . فَدَخَلَتْ ثُمَّ خَرَجَتْ فَقَالَ مَا رَأَيْتِ وَقَالَ عُثْمَانُ فَقَالَتْ مَا رَأَيْتُ . فَقَالَ لَوْ كَانَ ذَلِكَ مَا كَانَتْ مَعَنَا .
#4170
Sahih
Narrated Ibn 'Abbas: The woman who supplies fake hair and the one who asks for it, the woman who pulls out hair for other people and the woman who depilates herself, the woman who tattoos and the one who has it done when there is no disease to justify it have been cursed. Abu Dawud said: Wasilah means the woman who adds false hair to the hair of women. Mustawsilah means the one who asks for adding the hair to her hair. namisah means a woman who plucks hair from the brow until she makes it thin; mutanammisah means the woman who depilates herself ; washimah is a woman who tattoos in the face with antimony or ink ; mustawshimah is a woman with whom it is done
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ملعون قرار دی گئی ہے بال جوڑنے والی، اور جڑوانے والی، بال اکھیڑنے والی اور اکھڑوانے والی، اور بغیر کسی بیماری کے گودنے لگانے والی اور گودنے لگوانے والی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «واصلة» اس عورت کو کہتے ہیں جو عورتوں کے بال میں بال جوڑے، اور «مستوصلة» اسے کہتے ہیں جو ایسا کروائے، اور «نامصة» وہ عورت ہے جو ابرو کے بال اکھیڑ کر باریک کرے، اور«متنمصة» وہ ہے جو ایسا کروائے، اور «واشمة» وہ عورت ہے جو چہرہ میں سرمہ یا سیاہی سے خال ( تل ) بنائے، اور «مستوشمة» وہ ہے جو ایسا کروائے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لُعِنَتِ الْوَاصِلَةُ وَالْمُسْتَوْصِلَةُ وَالنَّامِصَةُ وَالْمُتَنَمِّصَةُ وَالْوَاشِمَةُ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ مِنْ غَيْرِ دَاءٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَتَفْسِيرُ الْوَاصِلَةِ الَّتِي تَصِلُ الشَّعْرَ بِشَعْرِ النِّسَاءِ وَالْمُسْتَوْصِلَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا وَالنَّامِصَةُ الَّتِي تَنْقُشُ الْحَاجِبَ حَتَّى تَرِقَّهُ وَالْمُتَنَمِّصَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا وَالْوَاشِمَةُ الَّتِي تَجْعَلُ الْخِيلاَنَ فِي وَجْهِهَا بِكُحْلٍ أَوْ مِدَادٍ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا .
#4171
Daif Maqtu
Sa'id b. Jubair said:There is no harm in fastening the hair with silk or woollen threads. Abu Dawud said: It appears that he held the view that what is prohibited is the adding of the hair of women. Abu Dawud said: Ahmad (b. hanbal) used to say: There is no harm in tying the hair with silk or woollen threads
سعید بن جبیر کہتے ہیں بالوں کی چوٹیاں بنا کر کسی چیز سے باندھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: گویا وہ اس بات کی طرف جا رہے ہیں کہ جس سے منع کیا گیا ہے وہ دوسری عورت کے بال اپنے بال میں جوڑنا ہے نہ کہ اپنے بالوں کی چوٹی باندھنی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد کہتے تھے: چوٹی باندھنے میں کوئی حرج نہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ لاَ بَأْسَ بِالْقَرَامِلِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَأَنَّهُ يَذْهَبُ إِلَى أَنَّ الْمَنْهِيَّ، عَنْهُ شُعُورُ النِّسَاءِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَانَ أَحْمَدُ يَقُولُ الْقَرَامِلُ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ .
#4172
Sahih
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:If anyone is presented some perfume, he should not return it, for it is a thing of good fragrance and light to bear
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے خوشبو کا ( تحفہ ) پیش کیا جائے تو وہ اسے لوٹائے نہیں کیونکہ وہ خوشبودار ہے اور اٹھانے میں ہلکا ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، - الْمَعْنَى - أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئَ، حَدَّثَهُمْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ طِيبٌ فَلاَ يَرُدَّهُ فَإِنَّهُ طَيِّبُ الرِّيحِ خَفِيفُ الْمَحْمَلِ " .
#4173
Hasan
Narrated AbuMusa: The Prophet (ﷺ) said: If a woman uses perfume and passes the people so that they may get its odour, she is so-and-so, meaning severe remarks
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت عطر لگائے پھر وہ لوگوں کے پاس سے اس لیے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ ایسی اور ایسی ہے آپ نے ( ایسی عورت کے متعلق ) بڑی سخت بات کہی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنِي غُنَيْمُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا اسْتَعْطَرَتِ الْمَرْأَةُ فَمَرَّتْ عَلَى الْقَوْمِ لِيَجِدُوا رِيحَهَا فَهِيَ كَذَا وَكَذَا " . قَالَ قَوْلاً شَدِيدًا .
#4174
Sahih
Narrated AbuHurayrah: A woman met him and he found the odour of perfume in her. Her clothes were fluttering in the air. He said: O maid-servant of the Almighty, are you coming from the mosque? She replied: Yes. He said: For it did you use perfume? She replied: Yes. He said: I heard my beloved AbulQasim (ﷺ) say: The prayer of a woman who uses perfume for this mosque is not accepted until she returns and takes a bath like that of sexual defilement (perfectly). Abu Dawud said: Al-i'sar means dust
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان سے ایک عورت ملی جس سے آپ نے خوشبو پھوٹتے محسوس کیا، اور اس کے کپڑے ہوا سے اڑ رہے تھے تو آپ نے کہا: جبار کی بندی! تم مسجد سے آئی ہو؟ وہ بولی: ہاں، انہوں نے کہا: تم نے مسجد جانے کے لیے خوشبو لگا رکھی ہے؟ بولی: ہاں، آپ نے کہا: میں نے اپنے حبیب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اس عورت کی نماز قبول نہیں کی جاتی جو اس مسجد میں آنے کے لیے خوشبو لگائے، جب تک واپس لوٹ کر جنابت کا غسل نہ کر لے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «اعصار» غبار ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، مَوْلَى أَبِي رُهْمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ وَجَدَ مِنْهَا رِيحَ الطِّيبِ يُنْفَحُ وَلِذَيْلِهَا إِعْصَارٌ فَقَالَ يَا أَمَةَ الْجَبَّارِ جِئْتِ مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَتْ نَعَمْ . قَالَ وَلَهُ تَطَيَّبْتِ قَالَتْ نَعَمْ . قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ حِبِّي أَبَا الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تُقْبَلُ صَلاَةٌ لاِمْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ لِهَذَا الْمَسْجِدِ حَتَّى تَرْجِعَ فَتَغْتَسِلَ غُسْلَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الإِعْصَارُ غُبَارٌ .
#4175
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: If a woman fumigates herself with perfume, she must not attend the night prayer with us. Ibn Nufayl said: Isha' means night prayer
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے خوشبو کی دھونی لے رکھی ہو تو وہ ہمارے ساتھ عشاء کے لیے ( مسجد میں ) نہ آئے ( بلکہ وہ گھر ہی میں پڑھ لے ) ۔ ابن نفیل کی روایت میں «العشاء» کے بجائے «عشاء الآخرة» ہے ( یعنی عشاء کی صلاۃ ) ۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عَلْقَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا فَلاَ تَشْهَدَنَّ مَعَنَا الْعِشَاءَ " . قَالَ ابْنُ نُفَيْلٍ " عِشَاءَ الآخِرَةِ " .