#4126
Sahih
Al-Aliyah, daughter of Subay', said:I had some sheep at Uhud, and they began to die. I then entered upon Maymunah, wife of the Prophet (ﷺ), and mentioned it to her. Maymunah said to me: If you took their skins and made use of them, (that would be better for you). She asked: Is that lawful? She replied, Yes. Some people of the Quraysh passed by the Messenger of Allah (ﷺ) dragging a sheep of theirs as big as an ass. The Messenger of Allah (ﷺ) said to them: Would that you took its skin. They said: It died a natural death. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Water and leaves of the mimosa flava purify it
عالیہ بنت سبیع کہتی ہیں کہ میری کچھ بکریاں احد پہاڑ پر تھیں وہ مرنے لگیں تو میں ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے مجھ سے کہا: اگر تم ان کی کھالوں سے فائدہ اٹھاتیں! تو میں بولی: کیا یہ درست ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے قریش کے کچھ لوگ ایک مری ہوئی بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹتے ہوئے گزرے، تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے اس کی کھال لے لی ہوتی لوگوں نے عرض کیا: وہ تو مری ہوئی ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی اور بیر کی پتی اس کو پاک کر دے گی ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ حُذَافَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ سُبَيْعٍ، أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ لِي غَنَمٌ بِأُحُدٍ فَوَقَعَ فِيهَا الْمَوْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ لِي مَيْمُونَةُ لَوْ أَخَذْتِ جُلُودَهَا فَانْتَفَعْتِ بِهَا . فَقَالَتْ أَوَيَحِلُّ ذَلِكَ قَالَتْ نَعَمْ . مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا " . قَالُوا إِنَّهَا مَيْتَةٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ " .
#4127
Sahih
Narrated Abdullah ibn Ukaym: The letter of the Messenger of Allah (ﷺ) was read out to us in the territory of Juhaynah when I was a young boy: Do not make use of the skin or sinew of an animal which died a natural death
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب جہینہ کی سر زمین میں ہمیں پڑھ کر سنایا گیا اس وقت میں نوجوان تھا، اس میں تھا: مرے ہوئے جانور سے نفع نہ اٹھاؤ، نہ اس کی کھال سے، اور نہ پٹھوں سے ۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ قُرِئَ عَلَيْنَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِأَرْضِ جُهَيْنَةَ وَأَنَا غُلاَمٌ شَابٌّ " أَنْ لاَ تَسْتَمْتِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلاَ عَصَبٍ " .
#4128
Sahih
Al-Hakam ibn Uyaynah said that he went along with some people to Abdullah ibn Ukaym, a man of Juhaynah. al-Hakam said:They entered and I sat at the door. Then they came out and told me that Abdullah ibn Ukaym had informed them that the Messenger of Allah (ﷺ) had written to Juhaynah one month before his death: Do not make use of the skin or sinew of an animal which died a natural death. Abu Dawud said: Al-Nadr b. Shumail said: The skin is called ihab when it is not tanned and when it is tanned, it not called ihab but na,es shann and qirbah (tanned skin or leather)
حکم بن عتیبہ سے روایت ہے کہ وہ اور ان کے ساتھ کچھ اور لوگ عبداللہ بن عکیم کے پاس جو قبیلہ جہینہ کے ایک شخص تھے گئے، اندر چلے گئے، میں دروازے ہی پر بیٹھا رہا، پھر وہ لوگ باہر آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ عبداللہ بن عکیم نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے ایک ماہ پیشتر جہینہ کے لوگوں کو لکھا: مردار کی کھال اور پٹھوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نضر بن شمیل کہتے ہیں: «اہاب» ایسی کھال کو کہا جاتا ہے جس کی دباغت نہ ہوئی ہو، اور جب دباغت دے دی جائے تو اسے «اہاب»نہیں کہتے بلکہ اسے «شنّ» یا «قربۃ» کہا جاتا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، أَنَّهُ انْطَلَقَ هُوَ وَنَاسٌ مَعَهُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ - رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ - قَالَ الْحَكَمُ فَدَخَلُوا وَقَعَدْتُ عَلَى الْبَابِ فَخَرَجُوا إِلَىَّ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُكَيْمٍ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَتَبَ إِلَى جُهَيْنَةَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ أَنْ لاَ يَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلاَ عَصَبٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ فَإِذَا دُبِغَ لاَ يُقَالُ لَهُ إِهَابٌ إِنَّمَا يُسَمَّى شَنًّا وَقِرْبَةً قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ يُسَمَّى إِهَابًا مَا لَمْ يُدْبَغْ .
#4129
Sahih
Narrated Mu'awiyah: The Prophet (ﷺ) said: Do not ride on silk stuff and panther skins. AbuSa'id said to us: AbuDawud said to us: The name of AbulMu'tamir is Yazid ibn Tahman. He lived in al-Hirah
امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ریشمی زینوں پر اور چیتوں کی کھال پر سواری نہ کرو ۔ ابن سیرین کہتے ہیں: معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث کی روایت میں متہم نہ تھے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَرْكَبُوا الْخَزَّ وَلاَ النِّمَارَ " . قَالَ وَكَانَ مُعَاوِيَةُ لاَ يُتَّهَمُ فِي الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ لَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ لَنَا أَبُو دَاوُدَ أَبُو الْمُعْتَمِرِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ طَهْمَانَ كَانَ يَنْزِلُ الْحِيرَةَ .
#4130
Hasan
Narrated Abu Hurairah:The Prophet (ﷺ) as saying: The angels do not accompany those fellow travellers who have panther skin
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے ایسے لوگوں کے ساتھ نہیں رہتے جن کے ساتھ چیتے کی کھال ہوتی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَصْحَبُ الْمَلاَئِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جِلْدُ نَمِرٍ " .
#4131
Sahih
Khalid said:Al-Miqdam ibn Ma'dikarib and a man of Banu Asad from the people of Qinnisrin went to Mu'awiyah ibn AbuSufyan. Mu'awiyah said to al-Miqdam: Do you know that al-Hasan ibn Ali has died? Al-Miqdam recited the Qur'anic verse "We belong to Allah and to Him we shall return." A man asked him: Do you think it a calamity? He replied: Why should I not consider it a calamity when it is a fact that the Messenger of Allah (ﷺ) used to take him on his lap, saying: This belongs to me and Husayn belongs to Ali? The man of Banu Asad said: (He was) a live coal which Allah has extinguished. Al-Miqdam said: Today I shall continue to make you angry and make you hear what you dislike. He then said: Mu'awiyah, if I speak the truth, declare me true, and if I tell a lie, declare me false. He said: Do so. He said: I adjure you by Allah, did you hear the Messenger of Allah (ﷺ) forbidding use to wear gold? He replied: Yes. He said: I adjure you by Allah, do you know that the Messenger of Allah (ﷺ) prohibited the wearing of silk? He replied: Yes. He said: I adjure you by Allah, do you know that the Messenger of Allah (ﷺ) prohibited the wearing of the skins of beasts of prey and riding on them? He said: Yes. He said: I swear by Allah, I saw all this in your house, O Mu'awiyah. Mu'awiyah said: I know that I cannot be saved from you, O Miqdam. Khalid said: Mu'awiyah then ordered to give him what he did not order to give to his two companions, and gave a stipend of two hundred (dirhams) to his son. Al-Miqdam then divided it among his companions, and the man of Banu Asad did not give anything to anyone from the property he received. When Mu'awiyah was informed about it, he said: Al-Miqdam is a generous man; he has an open hand (for generosity). The man of Banu Asad withholds his things in a good manner
خالد کہتے ہیں مقدام بن معدی کرب، عمرو بن اسود اور بنی اسد کے قنسرین کے رہنے والے ایک شخص معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے مقدام سے کہا: کیا آپ کو خبر ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا انتقال ہو گیا؟ مقدام نے یہ سن کر «انا لله وانا اليه راجعون» پڑھا تو ان سے ایک شخص نے کہا: کیا آپ اسے کوئی مصیبت سمجھتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں اسے مصیبت کیوں نہ سمجھوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی گود میں بٹھایا، اور فرمایا: یہ میرے مشابہ ہے، اور حسین علی کے ۔ یہ سن کر اسدی نے کہا: ایک انگارہ تھا جسے اللہ نے بجھا دیا تو مقدام نے کہا: آج میں آپ کو ناپسندیدہ بات سنائے، اور ناراض کئے بغیر نہیں رہ سکتا، پھر انہوں نے کہا: معاویہ! اگر میں سچ کہوں تو میری تصدیق کریں، اور اگر میں جھوٹ کہوں تو جھٹلا دیں، معاویہ بولے: میں ایسا ہی کروں گا۔ مقدام نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ معاویہ نے کہا: ہاں۔ پھر کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی کپڑا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں معلوم ہے، پھر کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال پہننے اور اس پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں معلوم ہے۔ تو انہوں نے کہا: معاویہ! قسم اللہ کی میں یہ ساری چیزیں آپ کے گھر میں دیکھ رہا ہوں؟ تو معاویہ نے کہا: مقدام! مجھے معلوم تھا کہ میں تمہاری نکتہ چینیوں سے بچ نہ سکوں گا۔ خالد کہتے ہیں: پھر معاویہ نے مقدام کو اتنا مال دینے کا حکم دیا جتنا ان کے اور دونوں ساتھیوں کو نہیں دیا تھا اور ان کے بیٹے کا حصہ دو سو والوں میں مقرر کیا، مقدام نے وہ سارا مال اپنے ساتھیوں میں بانٹ دیا، اسدی نے اپنے مال میں سے کسی کو کچھ نہ دیا، یہ خبر معاویہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: مقدام سخی آدمی ہیں جو اپنا ہاتھ کھلا رکھتے ہیں، اور اسدی اپنی چیزیں اچھی طرح روکنے والے آدمی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِيكَرِبَ وَعَمْرُو بْنُ الأَسْوَدِ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مِنْ أَهْلِ قِنَّسْرِينَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ أَتَرَاهَا مُصِيبَةً قَالَ لَهُ وَلِمَ لاَ أَرَاهَا مُصِيبَةً وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حِجْرِهِ فَقَالَ " هَذَا مِنِّي وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ " . فَقَالَ الأَسَدِيُّ جَمْرَةٌ أَطْفَأَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ . قَالَ فَقَالَ الْمِقْدَامُ أَمَّا أَنَا فَلاَ أَبْرَحُ الْيَوْمَ حَتَّى أُغِيظَكَ وَأُسْمِعَكَ مَا تَكْرَهُ . ثُمَّ قَالَ يَا مُعَاوِيَةُ إِنْ أَنَا صَدَقْتُ فَصَدِّقْنِي وَإِنْ أَنَا كَذَبْتُ فَكَذِّبْنِي قَالَ أَفْعَلُ . قَالَ فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ قَالَ نَعَمْ . قَالَ فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ قَالَ نَعَمْ . قَالَ فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا قَالَ نَعَمْ . قَالَ فَوَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا كُلَّهُ فِي بَيْتِكَ يَا مُعَاوِيَةُ . فَقَالَ مُعَاوِيَةُ قَدْ عَلِمْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْكَ يَا مِقْدَامُ قَالَ خَالِدٌ فَأَمَرَ لَهُ مُعَاوِيَةُ بِمَا لَمْ يَأْمُرْ لِصَاحِبَيْهِ وَفَرَضَ لاِبْنِهِ فِي الْمِائَتَيْنِ فَفَرَّقَهَا الْمِقْدَامُ فِي أَصْحَابِهِ قَالَ وَلَمْ يُعْطِ الأَسَدِيُّ أَحَدًا شَيْئًا مِمَّا أَخَذَ فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ أَمَّا الْمِقْدَامُ فَرَجُلٌ كَرِيمٌ بَسَطَ يَدَهُ وَأَمَّا الأَسَدِيُّ فَرَجُلٌ حَسَنُ الإِمْسَاكِ لِشَيْئِهِ .
#4132
Sahih
Abu al-Malih b. Usamah quoting his father said:The Messenger of Allah (ﷺ) forbade (the use of) the skins of beasts of prey
اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھالوں کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَاهُمُ - الْمَعْنَى، - عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ .
#4133
Sahih
Narrated Jabir:We were with the Prophet (ﷺ) on a journey. He said: Make a general practice of wearing sandals, for a man keeps riding as long as he wears sandals
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ نے فرمایا: جوتے خوب پہنا کرو کیونکہ جب تک آدمی جوتے پہنے رہتا ہے برابر سوار رہتا ہے ( یعنی پاؤں اذیت سے محفوظ رہتا ہے ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَقَالَ " أَكْثِرُوا مِنَ النِّعَالِ فَإِنَّ الرَّجُلَ لاَ يَزَالُ رَاكِبًا مَا انْتَعَلَ " .
#4134
Sahih
Narrated Anas:The sandals of the Prophet (ﷺ) had two thongs
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر جوتے میں دو تسمے ( فیتے ) لگے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَعْلَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم كَانَ لَهَا قِبَالاَنِ .
#4135
Sahih
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade that a man should put on sandals while standing
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر جوتا پہننے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ قَائِمًا .
#4136
Sahih
Narrated Abu Hurairah:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: None of you should walk with one sandal, but should wear a pair or should put off both of them
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک جوتا پہن کر نہ چلا کرے، دونوں پہنے رکھے یا دونوں اتاr دے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَمْشِي أَحَدُكُمْ فِي النَّعْلِ الْوَاحِدَةِ لِيَنْتَعِلْهُمَا جَمِيعًا أَوْ لِيَخْلَعْهُمَا جَمِيعًا " .
#4137
Sahih
Narrated Jabir:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: When the thong (of a sandal) of one of you is cut off, he should not walk with one sandal till he repairs his thongs. He should not walk with one shoe, or eat with his left hand
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے ایک جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو جب تک اس کا تسمہ درست نہ کر لے ایک ہی پہن کر نہ چلے، اور نہ ایک موزہ پہن کر چلے، اور نہ بائیں ہاتھ سے کھائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ فَلاَ يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ حَتَّى يُصْلِحَ شِسْعَهُ وَلاَ يَمْشِ فِي خُفٍّ وَاحِدٍ وَلاَ يَأْكُلْ بِشِمَالِهِ " .
#4138
Daif Isnaad
Narrated Abdullah ibn Abbas: It is part of the Sunnah that when a man sits down, he should take off his sandals and place them at his side
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہ سنت ہے کہ جب آدمی بیٹھے تو اپنے جوتے اتار کر اپنے پہلو میں رکھ لے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَارُونَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي نَهِيكٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مِنَ السُّنَّةِ إِذَا جَلَسَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْلَعَ نَعْلَيْهِ فَيَضَعَهُمَا بِجَنْبِهِ .
#4139
Sahih
Narrated Abu Hurairah:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: When one of you puts on sandals, he should put on his right one first, and when he takes them off, he should take off the left one first ; so that the right one should be the first to be put on and the last to be taken off
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی جوتا پہنے تو پہلے داہنے پاؤں سے شروع کرے، اور جب نکالے تو پہلے بائیں پاؤں سے نکالے، داہنا پاؤں پہنتے وقت شروع میں رہے اور اتارتے وقت اخیر میں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ وَإِذَا نَزَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالشِّمَالِ لِتَكُنِ الْيَمِينُ أَوَّلَهُمَا يَنْتَعِلُ وَآخِرَهُمَا يَنْزِعُ " .
#4140
Sahih
Narrated 'Aishah: The Messenger of Allah (ﷺ) liked to begin with the right side as far as possible in all conditions: in his purification, and combing. The narrator Muslim added: "in using tooth-stick," and he did not mention "in all his conditions". Abu Dawud said: Shu'bah transmitted it from Mu'adh, but did not mention "his tooth-stick
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طاقت بھر اپنے تمام کاموں میں، وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں داہنے سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے۔ مسلم بن ابراہیم کی روایت میں «وسواكه» بھی ہے یعنی مسواک کرنے میں اور انہوں نے «في شأنه كله» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے معاذ نے شعبہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے مسواک کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ فِي طُهُورِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَنَعْلِهِ . قَالَ مُسْلِمٌ وَسِوَاكِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ عَنْ شُعْبَةَ مُعَاذٌ وَلَمْ يَذْكُرْ سِوَاكَهُ .
#4141
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: When you put on (a garment) and when you perform ablution, you should begin with your right side
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کپڑے پہنو اور جب وضو کرو تو اپنے داہنے سے شروع کرو ۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا لَبِسْتُمْ وَإِذَا تَوَضَّأْتُمْ فَابْدَءُوا بِأَيَامِنِكُمْ " .
#4142
Sahih
Narrated Jabir bin ‘Abdullah :The Messenger of Allah (ﷺ) mentioned bedding and said: There should be bedding for a man, bedding for his wife, and third for a guest, but a fourth for the devil
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بستروں اور بچھونوں کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ایک بستر تو آدمی کو چاہیئے، ایک اس کی بیوی کو چاہیئے اور ایک مہمان کے لیے اور چوتھا بستر شیطان کے لیے ہوتا ہے ۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْهَمْدَانِيُّ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْفُرُشَ فَقَالَ " فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ وَفِرَاشٌ لِلْمَرْأَةِ وَفِرَاشٌ لِلضَّيْفِ وَالرَّابِعُ لِلشَّيْطَانِ " .
#4143
Sahih
Narrated Jabir ibn Samurah: When I came to the Prophet (ﷺ) in his house, I saw him sitting reclining on a pillow. The narrator Ibn al-Jarrah added: "on his left side". Abu Dawud said: Ishaq b. Mansur transmitted it from Isra'il, also mentioning the words "on his left side
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوا تو آپ کو ایک تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا۔ ابن الجراح نے «على يساره» کا اضافہ کیا ہے یعنی آپ اپنے بائیں پہلو پر ٹیک لگائے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسحاق بن منصور نے اسے اسرائیل سے روایت کیا ہے اس میں بھی «على يساره» کا لفظ ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِهِ فَرَأَيْتُهُ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ - زَادَ ابْنُ الْجَرَّاحِ - عَلَى يَسَارِهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ إِسْرَائِيلَ أَيْضًا عَلَى يَسَارِهِ .
#4144
Sahih Isnaad
Sa'id ibn Amr al-Qurashi quoting his father said:Ibn Umar (once) saw some fellow travellers of the Yemen. They had their saddles (on camels) of leather. He said: If anyone likes to see the fellow travellers most resembling to the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ), he should see them
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اہل یمن کے سفر کے چند ساتھیوں کو دیکھا ان کے بچھونے چمڑوں کے تھے، تو انہوں نے کہا: جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے رفقاء کو دیکھنا پسند ہو تو وہ انہیں دیکھ لے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ رَأَى رُفْقَةً مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ رِحَالُهُمُ الأَدَمُ فَقَالَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى أَشْبَهِ رُفْقَةٍ كَانُوا بِأَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَؤُلاَءِ .
#4145
Sahih
Narrated Jabir:The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: Have you made cushions ? I said: How can we afford cushions ? He said: Soon you will have cushions
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے توشک اور گدے بنا لیے؟ میں نے عرض کیا: ہمیں گدے کہاں میسر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے پاس گدے ہوں گے ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتَّخَذْتُمْ أَنْمَاطًا " . قُلْتُ وَأَنَّى لَنَا الأَنْمَاطُ قَالَ " أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ " .
#4146
Sahih
Narrated 'Aishah:The pillow of the Messenger of Allah (ﷺ) on which he slept at night (according to the version on Ibn Mani') was of leather stuffed with palm fibre (according to the agreed version)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تکیہ، جس پر آپ رات کو سوتے تھے، ایسے چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری تھی۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ كَانَ وِسَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ ابْنُ مَنِيعٍ - الَّتِي يَنَامُ عَلَيْهَا بِاللَّيْلِ - ثُمَّ اتَّفَقَا - مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ .
#4147
Sahih
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The bedding of the Messenger of Allah (ﷺ) consisted of leather stuffed with palm fibre
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گدا چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری تھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ حَيَّانَ - عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَتْ ضِجْعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ .
#4148
Sahih
Narrated Umm Salamah, Ummul Mu'minin: Her bedding was in front of the place of prayer of the Prophet (ﷺ)
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کا بسترا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ کے سامنے رہتا تھا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ كَانَ فِرَاشُهَا حِيَالَ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#4149
Sahih
Narrated Abdullah ibn Umar: The Messenger of Allah (ﷺ) came to Fatimah and found a curtain hanging at her door, so he did not enter. Whenever he entered (the house), he would visit her first. Then Ali came and found that Fatimah was grieved. He asked: What is the matter with you? She replied: The Messenger of Allah (ﷺ) came to me but did not enter (the house). Ali then came to him and said: Messenger of Allah, Fatimah felt it keenly that you came to visit her but did not go in. He replied: What have I to do with this world? What have I to do with prints and figures (on the curtain)? He (Ali) then went to Fatimah and informed her of what the Messenger of Allah (ﷺ) had said. She said: Ask the Messenger of Allah (ﷺ) what he me to do about it. He (the Prophet) said: Tell her that she must send it to so-and-so
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹکتے دیکھا تو آپ اندر داخل نہیں ہوئے بہت کم ایسا ہو تاکہ آپ اندر جائیں اور پہلے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نہ ملیں، اتنے میں علی رضی اللہ عنہ آ گئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غمگین دیکھا تو پوچھا: کیا بات ہے؟ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تھے لیکن اندر نہیں آئے، علی رضی اللہ عنہ یہ سن کر آپ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر یہ بات بڑی گراں گزری ہے کہ آپ ان کے پاس تشریف لائے اور اندر نہیں آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے دنیا سے کیا سروکار، مجھے نقش و نگار سے کیا واسطہ؟ یہ سن کر وہ واپس فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اور آپ نے جو فرمایا تھا انہیں بتایا، اس پر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیے کہ اس پردے کے متعلق آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اس سے کہو: اسے وہ بنی فلاں کو بھیج دے ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى فَاطِمَةَ رضى الله عنها فَوَجَدَ عَلَى بَابِهَا سِتْرًا فَلَمْ يَدْخُلْ قَالَ وَقَلَّمَا كَانَ يَدْخُلُ إِلاَّ بَدَأَ بِهَا فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَآهَا مُهْتَمَّةً فَقَالَ مَا لَكِ قَالَتْ جَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَىَّ فَلَمْ يَدْخُلْ فَأَتَاهُ عَلِيٌّ رضى الله عنه فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَاطِمَةَ اشْتَدَّ عَلَيْهَا أَنَّكَ جِئْتَهَا فَلَمْ تَدْخُلْ عَلَيْهَا . قَالَ " وَمَا أَنَا وَالدُّنْيَا وَمَا أَنَا وَالرَّقْمَ " . فَذَهَبَ إِلَى فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ قُلْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا يَأْمُرُنِي بِهِ . قَالَ " قُلْ لَهَا فَلْتُرْسِلْ بِهِ إِلَى بَنِي فُلاَنٍ " .
#4150
Sahih
The tradition mentioned above has also been transmitted through a different chain of narrators by Ibn Fudail on his father's authority. This version has:"The curtain was embellished
فضیل سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ وہ ایک منقش پردہ تھا۔
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ وَكَانَ سِتْرًا مَوْشِيًّا .