العربية
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي كَرِيمَةُ بِنْتُ هَمَّامٍ، أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - فَسَأَلَتْهَا عَنْ خِضَابِ الْحِنَّاءِ فَقَالَتْ لاَ بَأْسَ بِهِ وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ كَانَ حَبِيبِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَكْرَهُ رِيحَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ تَعْنِي خِضَابَ شَعْرِ الرَّأْسِ .
English
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Karimah, daughter of Hammam, told that a woman came to Aisha (Allah be pleased with her) and asked her about dyeing with henna. She replied: There is no harm, but I do not like it. My beloved, the Messenger of Allah (ﷺ), disliked its odour. Abu Dawud said: She meant the colour of hair of the head اردو
کریمہ بنت ہمام کا بیان ہے کہ ایک عورت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے مہندی کے خضاب کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن میں اسے ناپسند کرتی ہوں، میرے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بو ناپسند فرماتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مراد سر کے بال کا خضاب ہے۔