#3701
Sahih
The tradition mentioned above has also been transmitted by Sharik through a different chain of narrators. This version has:Avoid that which produces intoxication
شریک سے اسی سند سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نشہ آور چیز سے بچو ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، - يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، بِإِسْنَادِهِ قَالَ " اجْتَنِبُوا مَا أَسْكَرَ " .
#3702
Sahih
Jabir b. ‘Abd Allah said:Dates were steeped for the Messenger of Allah (ﷺ) in a skin, but when they could not find a skin, they were steeped for him in a small stone vessel
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چمڑے کے برتن میں نبیذ تیار کی جاتی تھی اور اگر وہ چمڑے کا برتن نہیں پاتے تو پتھر کے برتن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ تیار کی جاتی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سِقَاءٍ فَإِذَا لَمْ يَجِدُوا سِقَاءً نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ .
#3703
Sahih
Jabir b.’Abd Allah said:The Messenger of Allah(ﷺ) forbade mixing of raisins and dried dates: and unripe dates and fresh dates
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کشمش اور کھجور کو ایک ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا، نیز کچی اور پکی کھجور ملا کر نبیذ بنا نے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُنْتَبَذَ الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا وَنَهَى أَنْ يُنْتَبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا .
#3704
Sahih
‘Abd Allah b. Abi Qatadah said that his father Abu Qatadah forbade mixing raisins and dried dates, mixing unripe dates and fresh dates, and mixing dates beginning to take on colour and fresh dates. He said:Make nabidh (drink) from each separately. He (the narrator Yahya) said: Abu Salamah bin 'Abd al-Rahman narrated to me this tradition on the authority of Abu Qatadah from the Prophet (ﷺ)
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کشمش اور کھجور ملا کر اور پکی اور کچی کھجور ملا کر اور اسی طرح ایسی کھجور جس میں سرخی یا زردی ظاہر ہونے لگی ہو اور تازی پکی کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع کیا، اور آپ نے فرمایا: ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بناؤ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ نَهَى عَنْ خَلِيطِ الزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ، وَعَنْ خَلِيطِ الْبُسْرِ، وَالتَّمْرِ، وَعَنْ خَلِيطِ الزَّهْوِ، وَالرُّطَبِ، وَقَالَ، " انْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ عَلَى حِدَةٍ " . قَالَ وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ .
#3705
Sahih
Narrated A man: A man from among the Companions of the Prophet (ﷺ) said: The Prophet (ﷺ) forbade (mixing) unripe dates and dried dates, and (mixing) raisins and dried dates
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی کھجور کو پکی ہوئی کھجور کے ساتھ اور کشمش کو کھجور کے ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، - عَنْ رَجُلٍ، - قَالَ حَفْصٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَهَى عَنِ الْبَلَحِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ .
#3706
Daif Isnaad
Narrated Umm Salamah, Ummul Mu'minin: Kabshah, daughter of AbuMaryam, asked Umm Salamah (Allah be pleased with her): What did the Prophet (ﷺ) prohibit? She replied: He forbade us to boil dates so much so that the kernels are spoiled, and to mix raisins and dried dates
کبشہ بنت ابی مریم کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ان چیزوں کے متعلق پوچھا جن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منع کرتے تھے، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کھجور کو زیادہ پکانے سے جس سے اس کی گٹھلی ضائع ہو جائے، اور کشمش کے ساتھ کھجور ملا کر نبیذ بنانے سے منع کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُمَارَةَ، حَدَّثَتْنِي رَيْطَةُ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَتْ سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ مَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْهُ قَالَتْ كَانَ يَنْهَانَا أَنْ نَعْجُمَ النَّوَى طَبْخًا أَوْ نَخْلِطَ الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ .
#3707
Daif Isnaad
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Raisins were steeped for the Messenger of Allah (ﷺ) and then dried dates were infused in them, or dried dates were steeped and then raisins were infused in them
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمکش کی نبیذ بنائی جاتی تو اس میں کھجور ڈال دی جاتی اور جب کھجور کی نبیذ بنائی جاتی تو اس میں انگور ڈال دیا جاتا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ امْرَأَةٍ، مِنْ بَنِي أَسَدٍ عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُنْبَذُ لَهُ زَبِيبٌ فَيُلْقِي فِيهِ تَمْرًا وَتَمْرٌ فَيُلْقِي فِيهِ الزَّبِيبَ .
#3708
Daif Isnaad
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Safiyyah, daughter of Atiyyah, said: I entered upon Aisha with some women of AbdulQays, and asked her about mixing dried dates and raisins (for drink). She replied: I used to take a handful of dried dates and a handful or raisins and put them in a vessel, and then crush them (and soak in water). Then I would give it to the Prophet (ﷺ) to drink
صفیہ بنت عطیہ کہتی ہیں میں عبدالقیس کی چند عورتوں کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، اور ہم نے آپ سے کھجور اور کشمش ملا کر ( نبیذ تیار کرنے کے سلسلے میں ) پوچھا، آپ نے کہا: میں ایک مٹھی کھجور اور ایک مٹھی کشمش لیتی اور اسے ایک برتن میں ڈال دیتی، پھر اس کو ہاتھ سے مل دیتی پھر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پلاتی۔
حَدَّثَنَا زَيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ، حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْحِمَّانِيُّ، حَدَّثَتْنِي صَفِيَّةُ بِنْتُ عَطِيَّةَ، قَالَتْ دَخَلْتُ مَعَ نِسْوَةٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلْنَاهَا عَنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ فَقَالَتْ كُنْتُ آخُذُ قَبْضَةً مِنْ تَمْرٍ وَقَبْضَةً مِنْ زَبِيبٍ فَأُلْقِيهِ فِي إِنَاءٍ فَأَمْرُسُهُ ثُمَّ أَسْقِيهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم .
#3709
Sahih Isnaad
Qatadah said on the authority of Jabir b. Zaid and ‘Ikrimah that they disapprove of drink made exclusively from unripe dates. This they reported on the authority of Ibn ‘Abbas said:I am afraid it may not be muzza from which(the people of) ‘Abd al-Qais were prohibited. I asked Qatadah : What is muzza’? He replied: Drink of dates made in a green jar and vessels smeared with pitch
جابر بن زید اور عکرمہ سے روایت ہے کہ وہ دونوں صرف کچی کھجور کی نبیذ کو مکروہ جانتے تھے، اور اس مذہب کو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے لیتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں ڈرتا ہوں کہیں یہ «مزاء» نہ ہو جس سے عبدالقیس کو منع کیا گیا تھا ہشام کہتے ہیں: میں نے قتادہ سے کہا: «مزاء» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: حنتم اور مزفت میں تیار کی گئی نبیذ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَعِكْرِمَةَ، أَنَّهُمَا كَانَا يَكْرَهَانِ الْبُسْرَ وَحْدَهُ وَيَأْخُذَانِ ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَخْشَى أَنْ يَكُونَ الْمُزَّاءَ الَّذِي نُهِيَتْ عَنْهُ عَبْدُ الْقَيْسِ . فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ مَا الْمُزَّاءُ قَالَ النَّبِيذُ فِي الْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ .
#3710
Hasan Sahih
Narrated Ad-Daylami: We came to the Prophet (ﷺ) and said to him: Messenger of Allah, you know who we are, from where we are and to whom we have come. He said: To Allah and His Apostle. We said: Messenger of Allah, we have grapes; what should we do with them? He said: Make them raisins. We then asked: What should we do with raisins? He replied: Steep them in the morning and drink in the evening, and steep them in the evening and drink in the morning. Steep them in skin vessels and do not steep them in earthen jar, for it it is delayed in pressing, it becomes vinegar
دیلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو معلوم ہے کہ ہم کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں، لیکن کس کے پاس آئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کے پاس پھر ہم نے عرض کیا: اے رسول اللہ! ہمارے یہاں انگور ہوتا ہے ہم اس کا کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے خشک لو ہم نے عرض کیا: اس زبیب ( سوکھے ہوئے انگور ) کو کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح کو اسے بھگو دو، اور شام کو پی لو، اور جو شام کو بھگوؤ اسے صبح کو پی لو اور چمڑوں کے برتنوں میں اسے بھگویا کرو، مٹکوں اور گھڑوں میں نہیں کیونکہ اگر نچوڑنے میں دیر ہو گی تو وہ سرکہ ہو جائے گا ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنِ السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْتَ مَنْ نَحْنُ وَمِنْ أَيْنَ نَحْنُ فَإِلَى مَنْ نَحْنُ قَالَ " إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ " . فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَنَا أَعْنَابًا مَا نَصْنَعُ بِهَا قَالَ " زَبِّبُوهَا " . قُلْنَا مَا نَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ قَالَ " انْبِذُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَانْبِذُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ وَانْبِذُوهُ فِي الشِّنَانِ وَلاَ تَنْبِذُوهُ فِي الْقُلَلِ فَإِنَّهُ إِذَا تَأَخَّرَ عَنْ عَصْرِهِ صَارَ خَلاًّ " .
#3711
Sahih
A’ishah said :Dates were steeped for the Apostel of Allah (ﷺ) in skin which was tied up at the top and had a mouth. What was steeped in the morning he would drink in the evening and what was steeped in the evening he would drink in the morning
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک ایسے چمڑے کے برتن میں نبیذ تیار کی جاتی تھی جس کا اوپری حصہ باندھ دیا جاتا، اور اس کے نیچے کی طرف بھی منہ ہوتا، صبح میں نبیذ بنائی جاتی تو اسے شام میں پیتے اور شام میں نبیذ بنائی جاتی تو اسے صبح میں پیتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سِقَاءٍ يُوكَأُ أَعْلاَهُ وَلَهُ عَزْلاَءُ يُنْبَذُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ عِشَاءً وَيُنْبَذُ عِشَاءً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً .
#3712
Hasan Isnaad
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Amrah said on the authority of Aisha that she would steep dates for the Messenger of Allah (ﷺ) in the morning. When the evening came, he took his dinner and drank it after his dinner. If anything remained, she poured it out. She then would steep for him at night. When the morning came, he took his morning meal and drank it after his morning meal. She said: The skin vessel was washed in the morning and in the evening. My father (Hayyan) said to her: Twice a day? She said: Yes
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صبح کو نبیذ بھگوتی تھیں تو جب شام کا وقت ہوتا تو آپ شام کا کھانا کھانے کے بعد اسے پیتے، اور اگر کچھ بچ جاتی تو میں اسے پھینک دیتی یا اسے خالی کر دیتی، پھر آپ کے لیے رات میں نبیذ بھگوتی اور صبح ہوتی تو آپ اسے دن کا کھانا تناول فرما کر پیتے۔ وہ کہتی ہیں: مشک کو صبح و شام دھویا جاتا تھا۔ مقاتل کہتے ہیں: میرے والد ( حیان ) نے ان سے کہا: ایک دن میں دو بار؟ وہ بولیں: ہاں دو بار۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ شَبِيبَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ، يُحَدِّثُ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي، عَمْرَةُ عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّهَا كَانَتْ تَنْبِذُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غُدْوَةً فَإِذَا كَانَ مِنَ الْعَشِيِّ فَتَعَشَّى شَرِبَ عَلَى عَشَائِهِ وَإِنْ فَضَلَ شَىْءٌ صَبَبْتُهُ - أَوْ فَرَغْتُهُ - ثُمَّ تَنْبِذُ لَهُ بِاللَّيْلِ فَإِذَا أَصْبَحَ تَغَدَّى فَشَرِبَ عَلَى غَدَائِهِ قَالَتْ نَغْسِلُ السِّقَاءَ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً فَقَالَ لَهَا أَبِي مَرَّتَيْنِ فِي يَوْمٍ قَالَتْ نَعَمْ .
#3713
Sahih
Ibn abbas said :Raisins were steeped for the Prophet (ﷺ) and he would drink it in the morning and the night after, the following day and the night after. He then gave orders and it was given to servants to drinks or poured away. Abu Dawud said: That "it was given to servants to drink" means before it spoiled. Abu Dawud said: Abu 'Umar Yahya al-Bahrani
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمش کی نبیذ تیار کی جاتی تو آپ اس دن پیتے، دوسرے دن پیتے اور تیسرے دن کی شام تک پیتے پھر حکم فرماتے تو جو بچا ہوتا اسے خدمت گزاروں کو پلا دیا جاتا یا بہا دیا جاتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خادموں کو پلانے کا مطلب یہ ہے کہ خراب ہونے سے پہلے پہلے انہیں پلا دیا جاتا۔
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عُمَرَ، يَحْيَى الْبَهْرَانِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ يُنْبَذُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الزَّبِيبُ فَيَشْرَبُهُ الْيَوْمَ وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ إِلَى مَسَاءِ الثَّالِثَةِ ثُمَّ يَأْمُرُ بِهِ فَيُسْقَى الْخَدَمَ أَوْ يُهَرَاقُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ مَعْنَى يُسْقَى الْخَدَمَ يُبَادَرُ بِهِ الْفَسَادُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو عُمَرَ يَحْيَى بْنُ عُبَيْدٍ الْبَهْرَانِيُّ .
#3714
Sahih
A’ishah said that the prophet (ﷺ) used to stay with Zainab, daughter of Jahsh, and drink honey. I and Hafsah counseled each other that if the Prophet (ﷺ) enters upon any of us, she must say :I find the smell of gum (maghafir) from you. He then entered upon one of them; she said that to him. Thereupon he said : No, I drank honey at (the house of) Zainab daughter of jahsh, and I will not do it again. Then the following verse came down :’’O Prophet !why holdest thou to be forbidden that which Allah has made lawful to thee ? ‘’Thou seekest. . . If you two turn in repentance to Allah ‘’ refers to Hafsah and A’ishah , and the verse: ‘’When the Prophet disclosed a matter in confidence to one of his consorts’’ refers to the statements of the Prophet (ﷺ) disclosed a matter in confidence to one of his consorts’’ refers to the statement of the Prophet (ﷺ) :No, I drank honey
عبید بن عمیر کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ خبر دے رہی تھیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور شہد پیتے تھے تو ایک روز میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہما نے مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں وہ کہے: مجھے آپ سے مغافیر ۱؎ کی بو محسوس ہو رہی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک کے پاس تشریف لائے، تو اس نے آپ سے ویسے ہی کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب دوبارہ ہرگز نہیں پیوں گا تو قرآن کریم کی آیت: «لم تحرم ما أحل الله لك تبتغي» ۲؎ سے لے کر «إن تتوبا إلى الله» ۳؎ تک عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کے متعلق نازل ہوئی۔ «إن تتوبا» میں خطاب عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کو ہے اور «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» میں «حديثا» سے مراد آپ کا: «بل شربت عسلا» ( بلکہ میں نے شہد پیا ہے ) کہنا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلاً فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَيَّتُنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُنَّ فَقَالَتْ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ " . فَنَزَلَتْ { لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي } إِلَى { إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ } لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ رضى الله عنهما { وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا } لِقَوْلِهِ " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً " .
#3715
Sahih
‘A’ishah said :The Messenger of Allah(ﷺ) liked sweet meats and honey. The narrator then mentioned a part of the tradition mentioned above. The Messenger of Allah (ﷺ) felt it hard on him to find smell from him. In this tradition saudah said: but you ate gum ? He said : No, I drank honey. Hafsah gave it to me to drank. I said : Its bees ate ‘urfut. Abu Dawud said: Maghafir is a gum ; jarasat means ate; ’urfut is a bees ‘ plant
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میٹھی چیزیں اور شہد پسند کرتے تھے، اور پھر انہوں نے اسی حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بہت ناگوار لگتا کہ آپ سے کسی قسم کی بو محسوس کی جائے اور اس حدیث میں یہ ہے کہ سودہ ۱؎ نے کہا: بلکہ آپ نے مغافیر کھائی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں نے شہد پیا ہے، جسے حفصہ نے مجھے پلایا ہے تو میں نے کہا: شاید اس کی مکھی نے عرفط ۲؎ چاٹا ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مغافیر: مقلہ ہے اور وہ گوند ہے، اور جرست: کے معنی چاٹنے کے ہیں، اور عرفط شہد کی مکھی کے پودوں میں سے ایک پودا ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ . فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْخَبَرِ . وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَشْتَدُّ عَلَيْهِ أَنْ تُوجَدَ مِنْهُ الرِّيحُ . وَفِي الْحَدِيثِ قَالَتْ سَوْدَةُ بَلْ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ . قَالَ " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً سَقَتْنِي حَفْصَةُ " . فَقُلْتُ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْمَغَافِيرُ مُقْلَةٌ وَهِيَ صَمْغَةٌ . وَجَرَسَتْ رَعَتْ . وَالْعُرْفُطُ نَبْتٌ مِنْ نَبْتِ النَّحْلِ .
#3716
Sahih
Narrated AbuHurayrah: I knew that the Messenger of Allah (ﷺ) used to keep fast. I waited for the day when he did not fast to present him the drink (nabidh) which I made in a pumpkin. I then brought it to him while it fermented. He said: Throw it to this wall, for this is a drink of the one who does not believe in Allah and the Last Day
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھے معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھا کرتے ہیں تو میں اس نبیذ کے لیے جو میں نے ایک تمبی میں بنائی تھی آپ کے روزہ نہ رکھنے کا انتظار کرتا رہا پھر میں اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا وہ جوش مار رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اس دیوار پر مار دو یہ تو اس شخص کا مشروب ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَصُومُ فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَهُ بِنَبِيذٍ صَنَعْتُهُ فِي دُبَّاءٍ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِهِ فَإِذَا هُوَ يَنِشُّ فَقَالَ " اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطَ فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لاَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ " .
#3717
Sahih
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet (ﷺ) forbade that a man should drink while standing
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی کھڑے ہو کر کچھ پیئے۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا .
#3718
Sahih
Nazzal b. Samurah said :‘Ali asked for water and he drank it while standing. He then said: some people disapprove of doing this (drinking while standing ), but I saw the Messenger of Allah (ﷺ) doing as I have done
نزال بن سبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور اسے کھڑے ہو کر پیا اور کہا: بعض لوگ ایسا کرنے کو مکروہ اور ناپسند سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے جیسے تم لوگوں نے مجھے کرتے دیکھا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، أَنَّ عَلِيًّا، دَعَا بِمَاءٍ فَشَرِبَهُ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ إِنَّ رِجَالاً يَكْرَهُ أَحَدُهُمْ أَنْ يَفْعَلَ هَذَا وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُ مِثْلَ مَا رَأَيْتُمُونِي أَفْعَلُهُ .
#3719
Sahih
Ibn Abbas said:The apostle of allah (ﷺ) forbade drinking from the mouth of a water-skin, and riding the animal which feeds on filth and eating the animal which is killed in confinement. Abu Dawud said: Jallalah means an animal which eats filth and impurities
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے میں منہ لگا کر پینے سے، نجاست کھانے والے جانور کی سواری سے اور جس پرندہ کو باندھ کر تیر وغیرہ سے نشانہ لگا کر مارا گیا ہو اسے کھانے سے منع فرمایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «جلّالہ» وہ جانور ہے جو نجاست کھاتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ وَعَنْ رُكُوبِ الْجَلاَّلَةِ وَالْمُجَثَّمَةِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْجَلاَّلَةُ الَّتِي تَأْكُلُ الْعَذِرَةَ .
#3720
Sahih
Abu Sa’id al-Khudri said :The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited drinking by inverting the heads of skin vessels
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزوں کا منہ موڑ کر پینے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ .
#3721
Daif
A man of the Ansar quoting from his father said that the Prophet (ﷺ) called for a skin-vessel on the day of the battle of Uhud. He then said:Invert the head of the vessel and he drank from its mouth
عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن ایک مشکیزہ منگوایا اور فرمایا: مشکیزے کا منہ موڑو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے منہ سے پیا۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، - رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ - عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَعَا بِإِدَاوَةٍ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ " اخْنُثْ فَمَ الإِدَاوَةِ " . ثُمَّ شَرِبَ مِنْ فِيهَا .
#3722
Sahih
Abu sa’id al-Khudri said:The apostle of Allah (ﷺ) forbade drinking from the broken place (of a cup) and blowing into a drink
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ کی ٹوٹی ہوئی جگہ سے پینے، اور پینے کی چیزوں میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الشُّرْبِ مِنْ ثُلْمَةِ الْقَدَحِ وَأَنْ يُنْفَخَ فِي الشَّرَابِ .
#3723
Sahih
Ibn Abi Laila said:Whan Hudhaifah was in al-Mada’in, he asked for water. A peasant brought him a silver vessel. He threw it away and said: I threw it away, for I prohibited (him) but he did not stop. The Messenger of Allah (ﷺ) forbade to wear silk or brocade, and to drink from gold and silver vessels. He said: Others have them in this world and you will have them in the next
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے، آپ نے پانی طلب کیا تو ایک زمیندار چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا تو آپ نے اسے اسی پر پھینک دیا، اور کہا: میں نے اسے اس پر صرف اس لیے پھینکا ہے کہ میں اسے منع کر چکا ہوں لیکن یہ اس سے باز نہیں آیا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم اور دیبا پہننے سے اور سونے، چاندی کے برتن میں پینے سے منع کیا ہے، اور فرمایا ہے: یہ ان ( کافروں ) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں ۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ كَانَ حُذَيْفَةُ بِالْمَدَائِنِ فَاسْتَسْقَى فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَرَمَاهُ بِهِ وَقَالَ إِنِّي لَمْ أَرْمِهِ بِهِ إِلاَّ أَنِّي قَدْ نَهَيْتُهُ فَلَمْ يَنْتَهِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَعَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَقَالَ " هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الآخِرَةِ " .
#3724
Sahih
Jabir b. ‘abd Allah said:The Prophet (ﷺ) went to visit a man of the Ansar accompanied by one of his Companions who was watering his garden. The Messenger of Allah(ﷺ) said: If you have any water which has remained over night in a skin (we should like it), or shall sip (from a streamlet)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص ایک انصاری کے پاس آئے وہ اپنے باغ کو پانی دے رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے پاس مشکیزہ میں رات کا باسی پانی ہو تو بہتر ہے، ورنہ ہم منہ لگا کر نہر ہی سے پانی پی لیتے ہیں اس نے کہا: نہیں بلکہ میرے پاس مشکیزہ میں رات کا باسی پانی موجود ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي فُلَيْحٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي شَنٍّ وَإِلاَّ كَرَعْنَا " . قَالَ بَلْ عِنْدِي مَاءٌ بَاتَ فِي شَنٍّ .
#3725
Sahih
Narrated Abdullah ibn AbuAwfa: The Prophet (ﷺ) said: The supplier of the people is the last (man) to drink
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوم کے ساقی کو سب سے اخیر میں پینا چاہیئے ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْمُخْتَارِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " سَاقِيَ الْقَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا " .