#3676
Sahih
Narrated An-Nu'man ibn Bashir: The Prophet (ﷺ) said: from grapes wine is made, from dried dates wine is made, from honey wine is made, from wheat wine is made, from barley wine is made
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب انگور کی بھی ہوتی ہے، کھجور کی بھی، شہد کی بھی ہوتی ہے، گیہوں کی بھی ہوتی ہے، اور جو کی بھی ہوتی ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنَ الْعِنَبِ خَمْرًا وَإِنَّ مِنَ التَّمْرِ خَمْرًا وَإِنَّ مِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا وَإِنَّ مِنَ الْبُرِّ خَمْرًا وَإِنَّ مِنَ الشَّعِيرِ خَمْرًا " .
#3677
Sahih
Narrated An-Nu'man ibn Bashir: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Wine is made from grape-syrup, raisins, dried dates, wheat, barley, millet, and I forbid you from every intoxicant
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: شراب انگور کے رس، کشمش، کھجور، گیہوں، جو اور مکئی سے بنتی ہے، اور میں تمہیں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، أَنَّ عَامِرًا، حَدَّثَهُ أَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ الْخَمْرَ مِنَ الْعَصِيرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالذُّرَةِ وَإِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ " .
#3678
Sahih
Abu Hurairah b. Bashir reported the Apostel of Allah (ﷺ)as saying:Wine comes from these two trees, the date-palm and the grapes-vine. Abu Dawud said : The name of Abu KAthir al-Ubari is Yazid b. ‘Abd al-Rahman b. Ghufailat al-Sahmi. Some said: Uzainah. What is correct is Ghufailah
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب ان دو درختوں کھجور اور انگور سے بنتی ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ اسْمُ أَبِي كَثِيرٍ الْغُبَرِيِّ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غُفَيْلَةَ السَّحْمِيُّ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ أُذَيْنَةُ وَالصَّوَابُ غُفَيْلَةُ .
#3679
Sahih
Ibn ‘Umar reported the Apostel of Allah (ﷺ) as saying:Every intoxicant is forbidden. He who drinks wine in this world, and dies when he is addiction to it, will not drink it in the next
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۱؎، اور جو مر گیا اور وہ شراب پیتا تھا اور اس کا عادی تھا تو وہ آخرت میں اسے نہیں پئے گا ( یعنی جنت کی شراب سے محروم رہے گا ) ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، - فِي آخَرِينَ - قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الآخِرَةِ " .
#3680
Sahih
Narrated Abdullah Ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Every intoxicant is khamr (wine) and every intoxicant is forbidden. If anyone drinks wine, Allah will not accept prayer from him for forty days, but if he repents, Allah will accept his repentance. If he repeats it a fourth time, it is binding on Allah that He will give him tinat al-khabal to drink. He was asked: What is tinat al-khabal, Messenger of Allah? He replied: Discharge of wounds, flowing from the inhabitants of Hell. If anyone serves it to a minor who does not distinguish between the lawful and the unlawful, it is binding on Allah that He will give him to drink the discharge of wounds, flowing from the inhabitants of Hell
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے، اور جس نے کوئی نشہ آور چیز استعمال کی تو اس کی چالیس روز کی نماز کم کر دی جائے گی، اگر اس نے اللہ سے توبہ کر لی تو اللہ اسے معاف کر دے گا اور اگر چوتھی بار پھر اس نے پی تو اللہ کے لیے یہ روا ہو جاتا ہے کہ اسے «طینہ الخبال» پلائے عرض کیا گیا: «طینہ الخبال» کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: جہنمیوں کی پیپ ہے، اور جس شخص نے کسی کمسن لڑکے کو جسے حلال و حرام کی تمیز نہ ہو شراب پلائی تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور جہنمیوں کی پیپ پلائے گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ، يَقُولُ عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كُلُّ مُخَمِّرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَمَنْ شَرِبَ مُسْكِرًا بُخِسَتْ صَلاَتُهُ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ " . قِيلَ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ وَمَنْ سَقَاهُ صَغِيرًا لاَ يَعْرِفُ حَلاَلَهُ مِنْ حَرَامِهِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ "
#3681
Hasan Sahih
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: If a large amount of anything causes intoxication, a small amount of it is prohibited
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ دَاوُدَ بْنِ بَكْرِ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ " .
#3682
Sahih
’A’ishah said :The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about bit’. He replied: Every liquor which intoxicates is forbidden. Abu Dawud said: I read out this tradition to Yazid bin 'Abd Rabbihi al-Jurjisi. Muhammad bin Hard told you this tradition from al-Zabidi from al-Zuhri through his chain of narrators. This version added: Bit' is the nabidh from honey, which the people of the Yemen would drink. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Hanbal say: There is no god but Allah. there was none stronger in memory and like al-Jurjisi among the people of Hims
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی شراب کا حکم پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ہر شراب جو نشہ آور ہو حرام ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یزید بن عبدربہ جرجسی پر اس روایت کو یوں پڑھا: آپ سے محمد بن حرب نے بیان کیا انہوں نے زبیدی سے اور زبیدی نے زہری سے یہی حدیث اسی سند سے روایت کی، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ بتع شہد کی شراب کو کہتے ہیں، اہل یمن اسے پیتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے ہوئے سنا: «لا إله إلا الله» جرجسی کیا ہی معتبر شخص تھا، اہل حمص میں اس کی نظیر نہیں تھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْبِتْعِ فَقَالَ " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَرَأْتُ عَلَى يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ الْجُرْجُسِيِّ حَدَّثَكُمْ مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ عَنِ الزُّبَيْدِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ زَادَ وَالْبِتْعُ نَبِيذُ الْعَسَلِ كَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَشْرَبُونَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مَا كَانَ أَثْبَتَهُ مَا كَانَ فِيهِمْ مِثْلُهُ يَعْنِي فِي أَهْلِ حِمْصَ يَعْنِي الْجُرْجُسِيَّ .
#3683
Sahih
Narrated Daylam al-Himyari: I asked the Prophet (ﷺ) and said: Messenger of Allah! we live in a cold land in which we do heavy work and we make a liquor from wheat to get strength from if for our work and to stand the cold of our country. He asked: Is it intoxicating? I replied: Yes. He said: You must avoid it. I said: The people will not abandon it. He said: If they do not abandon it, fight with them
دیلم حمیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ سرد علاقے میں رہتے ہیں اور سخت محنت و مشقت کے کام کرتے ہیں، ہم لوگ اس گیہوں سے شراب بنا کر اس سے اپنے کاموں کے لیے طاقت حاصل کرتے ہیں اور اپنے ملک کی سردیوں سے اپنا بچاؤ کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ نشہ آور ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا: ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو اس سے بچو ۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: لوگ اسے نہیں چھوڑ سکتے، آپ نے فرمایا: اگر وہ اسے نہ چھوڑیں تو تم ان سے لڑائی کرو ۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ دَيْلَمٍ الْحِمْيَرِيِّ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ نُعَالِجُ فِيهَا عَمَلاً شَدِيدًا وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا مِنْ هَذَا الْقَمْحِ نَتَقَوَّى بِهِ عَلَى أَعْمَالِنَا وَعَلَى بَرْدِ بِلاَدِنَا . قَالَ " هَلْ يُسْكِرُ " . قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ " فَاجْتَنِبُوهُ " . قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ النَّاسَ غَيْرُ تَارِكِيهِ . قَالَ " فَإِنْ لَمْ يَتْرُكُوهُ فَقَاتِلُوهُمْ " .
#3684
Sahih
Abu Musa said :I asked the prophet (ﷺ) about wine made from honey. He said: That is bit. I said: And the one made from barley and millet ? He said :That is mizr. He then said: Tell your people that every intoxicant is prohibited
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی شراب کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ بتع ہے میں نے کہا: جو اور مکئی سے بھی شراب بنائی جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مزر ہے پھر آپ نے فرمایا: اپنی قوم کو بتا دو کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ شَرَابٍ مِنَ الْعَسَلِ فَقَالَ " ذَاكَ الْبِتْعُ " . قُلْتُ وَيُنْتَبَذُ مِنَ الشَّعِيرِ وَالذُّرَةِ . فَقَالَ " ذَاكَ الْمِزْرُ " . ثُمَّ قَالَ " أَخْبِرْ قَوْمَكَ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
#3685
Sahih
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Prophet (ﷺ) forbade wine (khamr), game of chance (maysir), drum (kubah), and wine made from millet (ghubayrah), saying: Every intoxicant is forbidden. Abu Dawud said: Ibn Sallam Abu 'Ubaid said: Ghubairah was an intoxicant liquor made from millet. This wine was made by the Abyssinians
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب، جوا، کوبہ ( چوسر یا ڈھولک ) اور غبیراء سے منع کیا، اور فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سلام ابو عبید نے کہا ہے: غبیراء ایسی شراب ہے جو مکئی سے بنائی جاتی ہے حبشہ کے لوگ اسے بناتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَالْكُوبَةِ وَالْغُبَيْرَاءِ وَقَالَ " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ ابْنُ سَلاَمٍ أَبُو عُبَيْدٍ الْغُبَيْرَاءُ السُّكُرْكَةُ تُعْمَلُ مِنَ الذُّرَةِ شَرَابٌ يَعْمَلُهُ الْحَبَشَةُ .
#3686
Daif
Narrated Umm Salamah, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade every intoxicant and everything which produces languidness
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نشہ آور چیز اور ہر «مفتر» ( فتور پیدا کرنے اور سستی لانے والی ) چیز سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيِّ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ وَمُفَتِّرٍ .
#3687
Sahih
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Every intoxicant is forbidden; if a faraq of anything causes intoxication, a handful of it is forbidden
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جو چیز فرق ۱؎ بھر نشہ لاتی ہے اس کا ایک چلو بھی حرام ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، - يَعْنِي ابْنَ مَيْمُونٍ - حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، - قَالَ مُوسَى هُوَ عَمْرُو بْنُ سَلْمٍ الأَنْصَارِيُّ - عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَمَا أَسْكَرَ مِنْهُ الْفَرْقُ فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ " .
#3688
Sahih
Narrated AbdurRahman ibn Ghanam: Malik ibn AbuMaryam said: AbdurRahman ibn Ghanam entered upon us and we discussed tila' and he said: AbuMalik al-Ash'ari told me that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Some of my people will assuredly drink wine calling it by another name
مالک بن ابی مریم کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن غنم ہمارے پاس آئے تو ہم نے ان سے طلاء ۱؎ کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے لیکن اس کا نام شراب کے علاوہ کچھ اور رکھ لیں گے ۲؎ ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ دَخَلَ عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ فَتَذَاكَرْنَا الطِّلاَءَ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبُو مَالِكٍ الأَشْعَرِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا " .
#3689
Sahih
Abu Dawud said:An old man of the people of Wasit narrated from Abu Mansur al-Harith bin Mansur saying: I heard Sufyan Al-Thawri who was asked about al-dadhi. He said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Some of my people will assuredly drink wine calling it by another name
حارث بن منصور کہتے ہیں میں نے سفیان ثوری سے سنا ان سے «داذی» ۱؎ کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ نے فرمایا ہے: میری امت کے بعض لوگ شراب پئیں گے لیکن اسے دوسرے نام سے موسوم کریں گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان ثوری کا کہنا ہے:«داذی» فاسقوں کی شراب ہے۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شَيْخٌ، مِنْ أَهْلِ وَاسِطٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الْحَارِثُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ، وَسُئِلَ، عَنِ الدَّاذِيِّ، فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ الدَّاذِيُّ شَرَابُ الْفَاسِقِينَ .
#3690
Sahih
Ibn ‘Umar and Ibn ‘Abbas said :We testify that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade (the use of) gourds, green jars, receptacles smeared with pitch, and hollowed stumps of palm-trees
ابن عمر اور ابن عباس کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمبی، سبز رنگ کے برتن، تارکول ملے ہوئے برتن اور لکڑی کے برتن ۱؎ سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ، عَبَّاسٍ قَالاَ نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ .
#3691
Sahih
Adb Allah bin 'Umar said:The Messenger of Allah (ﷺ) forbade the nabidh (date-wine) of jarr. I was alarmed by his statement: The Apostel of Allah (ﷺ) forbade the nabidh of jarr. I then entered upon Ibn ‘Abbas and asked him : Are you listening to what Ibn Umar says ? He asked : What is that ? I said : The Apostel of Allah (ﷺ) forbade the nabidh of jarr . He said :He spoke the truth. The Apostel of Allah (ﷺ) forbade the nabidh of jarr .I asked :what is jarr ? He replied : Anything made of clay
سعید بن جبیر کہتے ہیں میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» ( مٹی کا گھڑا ) میں بنائی ہوئی نبیذ کو حرام قرار دیا ہے تو میں ان کی یہ بات سن کر گھبرایا ہوا نکلا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر کہا: کیا آپ نے سنا نہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما کیا کہتے ہیں؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: وہ یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» کے نبیذ کو حرام قرار دیا ہے، انہوں نے کہا: وہ سچ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» کے نبیذ کو حرام قرار دیا ہے، میں نے کہا: «جر» کیا ہے؟ فرمایا: ہر وہ چیز ہے جو مٹی سے بنائی جاتی ہو۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَعْلَى، - يَعْنِي ابْنَ حَكِيمٍ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَبِيذَ الْجَرِّ فَخَرَجْتُ فَزِعًا مِنْ قَوْلِهِ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَبِيذَ الْجَرِّ فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَمَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ ابْنُ عُمَرَ قَالَ وَمَا ذَاكَ قُلْتُ قَالَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَبِيذَ الْجَرِّ . قَالَ صَدَقَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَبِيذَ الْجَرِّ . قُلْتُ مَا الْجَرُّ قَالَ كُلُّ شَىْءٍ يُصْنَعُ مِنْ مَدَرٍ .
#3692
Sahih
Ibn 'Abbas said:The deputation of 'Abd al-Qais came to Messenger of Allah (ﷺ) and said: This is the tribe of Rabi'ah, and the infidels of Mudar are between us and you. We are able to come to you only in the sacred month. So give a decisive command which we may follow ourselves and to which we call those at home behind us. He (the Prophet) said: I command you to observe four things, and forbade you four things: Belief in Allah. the testimony that there is no god but Allah, and he expresses one by folding his hand. Musadad's version has: Faith in Allah, and he explained to them: The testimony that there is no god but Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah, observance of prayer, payment of zakat, and your giving the filth of the booty. I forbid you the use of pumpkins, green jarrs, vessels smeared with pitch, and hollow stumps of palm-trees. Ibn 'Ubaid's version has word muqayyar (vessels smeared with pitch) instead of naqir (hollow stumps). Musaddad's version has naqir and muqayyar (pitch); he did not mention muzaffat (vessels smeared with pitch). Abu Dawud said: The name of Abu Jamrah is Nasr bin 'Imran al-Duba'i
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عبدالقیس کا وفد آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ بنو ربیعہ کا ایک قبیلہ ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کفار حائل ہیں، ہم آپ تک حرمت والے مہینوں ۱؎ ہی میں پہنچ سکتے ہیں، اس لیے آپ ہمیں کچھ ایسی چیزوں کا حکم دے دیجئیے کہ جن پر ہم خود عمل کرتے رہیں اور ان لوگوں کو بھی ان پر عمل کے لیے کہیں جو اس وفد کے ساتھ نہیں آئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں، اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں ( جن کا حکم دیتا ہوں وہ یہ ہیں ) اللہ پر ایمان لانا اور اس بات کی گواہی دینی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے ایک کی گرہ بنائی، مسدد کہتے ہیں: آپ نے اللہ پر ایمان لانا، فرمایا، پھر اس کی تفسیر کی کہ اس کا مطلب ) اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، اور مال غنیمت سے پانچواں حصہ دینا ہے، اور میں تمہیں دباء، حنتم، مزفت اور مقیر سے منع کرتا ہوں ۔ ابن عبید نے لفظ مقیر کے بجائے نقیر اور مسدد نے نقیر اور مقیر کہا، اور مزفت کا ذکر نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوجمرہ کا نام نصر بن عمران ضبعی ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ - وَقَالَ مُسَدَّدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا، حَدِيثُ سُلَيْمَانَ قَالَ - قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا هَذَا الْحَىَّ مِنْ رَبِيعَةَ قَدْ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ وَلَسْنَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلاَّ فِي شَهْرٍ حَرَامٍ فَمُرْنَا بِشَىْءٍ نَأْخُذُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا . قَالَ " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ الإِيمَانُ بِاللَّهِ وَشَهَادَةُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ " . وَعَقَدَ بِيَدِهِ وَاحِدَةً . وَقَالَ مُسَدَّدٌ الإِيمَانُ بِاللَّهِ ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ شَهَادَةَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ " وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامُ الصَّلاَةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَأَنْ تُؤَدُّوا الْخُمُسَ مِمَّا غَنِمْتُمْ وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالْمُقَيَّرِ " . وَقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ النَّقِيرِ مَكَانَ الْمُقَيَّرِ . وَقَالَ مُسَدَّدٌ وَالنَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ وَلَمْ يَذْكُرِ الْمُزَفَّتِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو جَمْرَةَ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ الضُّبَعِيُّ .
#3693
Sahih
Abu Hurairah said:The Messenger of Allah (ﷺ) said to the deputation of 'Abd al-Qais: I forbid you the use of hollow stumps, vessels smeared with pitch, green harrs, pumpkins, and a skin cut off at the top, but drink from your skin and tie it with string
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد عبدالقیس سے فرمایا: میں تمہیں لکڑی کے برتن، تار کول ملے ہوئے برتن، سبز لاکھی گھڑے، تمبی اور کٹے ہوئے چمڑے کے برتن سے منع کرتا ہوں لیکن تم اپنے چمڑے کے برتن سے پیا کرو اور اس کا منہ باندھ کر رکھو ۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ نُوحِ بْنِ قَيْسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ " أَنْهَاكُمْ عَنِ النَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ وَالْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالْمَزَادَةِ الْمَجْبُوبَةِ وَلَكِنِ اشْرَبْ فِي سِقَائِكَ وَأَوْكِهْ " .
#3694
Sahih
In the story of the deputation of AbdulQays Ibn Abbas said:They (the people) asked: In which should we drink, Prophet of Allah? The Prophet (ﷺ) said: You should use those skin vessels that are tied at their mouths
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے وفد عبدالقیس کے واقعے کے سلسلے میں روایت ہے کہ وفد کے لوگوں نے پوچھا: ہم کس چیز میں پیئں اللہ کے نبی؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان مشکیزوں کو لازم پکڑو جن کے منہ باندھ کر رکھے جاتے ہوں ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قِصَّةِ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالُوا فِيمَ نَشْرَبُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عَلَيْكُمْ بِأَسْقِيَةِ الأَدَمِ الَّتِي يُلاَثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا " .
#3695
Sahih
A man of the deputation of 'Abd al-Qais who came to the Prophet (ﷺ) said - the narrator 'Awf thinks that his name was Qais bin al-Nu'man:The Prophet (ﷺ) said: Do not drink from hollowed stumps, vessel smeared with pitch, pumpkins, and green jars, but drink from a skin which is tied with string. If the drink ferments, lighten it by infusing water. If you are helpless, then pour it away
ابوالقموص زید بن علی سے روایت ہے، کہتے ہیں مجھ سے عبدالقیس کے اس وفد میں سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا ایک شخص نے بیان کیا ( عوف کا خیال ہے کہ اس کا نام قیس بن نعمان تھا ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ نقیر، مزفت، دباء، اور حنتم میں مت پیو، بلکہ مشکیزوں سے پیو جس پر ڈاٹ لگا ہو، اور اگر نبیذ میں تیزی آ جائے تو پانی ڈال کر اس کی تیزی توڑ دو اگر اس کے باوجود بھی تیزی نہ جائے تو اسے بہا دو ۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي الْقَمُوصِ، زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ حَدَّثَنِي رَجُلٌ، كَانَ مِنَ الْوَفْدِ الَّذِينَ وَفَدُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ يَحْسِبُ عَوْفٌ أَنَّ اسْمَهُ قَيْسُ بْنُ النُّعْمَانِ فَقَالَ " لاَ تَشْرَبُوا فِي نَقِيرٍ وَلاَ مُزَفَّتٍ وَلاَ دُبَّاءٍ وَلاَ حَنْتَمٍ وَاشْرَبُوا فِي الْجِلْدِ الْمُوكَإِ عَلَيْهِ فَإِنِ اشْتَدَّ فَاكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ فَإِنْ أَعْيَاكُمْ فَأَهْرِيقُوهُ " .
#3696
Sahih
Ibn ‘Abbas said :The deputation of ‘Abd al-Qais asked (the prophet):From which(vessels)should we drink ? He (the prophet) replied: Do not drink from the pumpkins, vessels smeared with pitch, and hollow stumps , and steep dates in skins. They asked: Messenger of Allah, if it ferments? He replied: infuse water in it. They asked: Messenger of Allah...” (repeating the same words). He replied to them third or fourth time: Pour it away. He then said: Allah has forbidden me, or he said: He has forbidden me wine, game of chance and kubah(drums). He said: Every intoxicant is unlawful. Sufyan said: I asked ‘All b. Badhimah about kubah . He replied: Drum
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں وفد عبدالقیس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کس برتن میں پیئیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دباء، مزفت اور نقیر میں مت پیو، اور تم نبیذ مشکیزوں میں بنایا کرو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول اگر مشکیزے میں تیزی آ جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں پانی ڈال دیا کرو وفد کے لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ( اگر پھر بھی تیزی نہ جائے تو ) آپ نے ان سے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا: اسے بہا دو ۱؎ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر شراب، جوا، اور ڈھولک کو حرام قرار دیا ہے یا یوں کہا: شراب، جوا، اور ڈھول ۲؎ حرام قرار دے دی گئی ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے علی بن بذیمہ سے کوبہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ ڈھول ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ حَبْتَرٍ النَّهْشَلِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فِيمَ نَشْرَبُ قَالَ " لاَ تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ وَلاَ فِي الْمُزَفَّتِ وَلاَ فِي النَّقِيرِ وَانْتَبِذُوا فِي الأَسْقِيَةِ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنِ اشْتَدَّ فِي الأَسْقِيَةِ قَالَ " فَصُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ لَهُمْ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ " أَهْرِيقُوهُ " . ثُمَّ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَىَّ أَوْ حُرِّمَ الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْكُوبَةُ " . قَالَ " وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " . قَالَ سُفْيَانُ فَسَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ بَذِيمَةَ عَنِ الْكُوبَةِ قَالَ الطَّبْلُ .
#3697
Sahih
Narrated Ali ibn AbuTalib: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade us the use of pumpkins, green jars, hollow stumps and wine made from barley
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تونبی، سبز رنگ کے برتن، لکڑی کے برتن اور جو کی شراب سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سُمَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْجِعَةِ .
#3698
Sahih
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Prophet (ﷺ) said: I forbade you three things, and now I command (permit) you for them. I forbade you to visit graves, now you may visit them, for in visiting them there is admonition. I forbade you drinks except from skin vessels, but now you may drink from any kind of vessels, but do not drink an intoxicant. I forbade you to eat the meat of sacrificial animals after three days, but now you may eat and enjoy it during your journeys
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں تین چیزوں سے روک دیا تھا، اب میں تمہیں ان کا حکم دیتا ہوں: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا اب تم ان کی زیارت کرو کیونکہ یہ آخرت کو یاد دلاتی ہے ۱؎ اور میں نے تمہیں چمڑے کے علاوہ برتنوں میں پینے سے منع کیا تھا، لیکن اب تم ہر برتن میں پیو، البتہ کوئی نشہ آور چیز نہ پیو، اور میں نے تمہیں تین روز کے بعد قربانی کے گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا، لیکن اب اسے بھی ( جب تک چاہو ) کھاؤ اور اپنے سفروں میں اس سے فائدہ اٹھاؤ ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُعَرِّفُ بْنُ وَاصِلٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلاَثٍ وَأَنَا آمُرُكُمْ بِهِنَّ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا تَذْكِرَةً وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الأَشْرِبَةِ أَنْ تَشْرَبُوا إِلاَّ فِي ظُرُوفِ الأَدَمِ فَاشْرَبُوا فِي كُلِّ وِعَاءٍ غَيْرَ أَنْ لاَ تَشْرَبُوا مُسْكِرًا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِي أَنْ تَأْكُلُوهَا بَعْدَ ثَلاَثٍ فَكُلُوا وَاسْتَمْتِعُوا بِهَا فِي أَسْفَارِكُمْ " .
#3699
Sahih
Jabir b. ‘Abd Allah said:When the Messenger of Allah(ﷺ) forbade the use of(wine) vessels, Ansar said: They are inevitable for us. Thereupon he said: If so, then no
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا تو انصار کے لوگوں نے آپ سے عرض کیا: وہ تو ہمارے لیے بہت ضروری ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب ممانعت نہیں رہی ( تمہیں ان کی اجازت ہے ) ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الأَوْعِيَةِ قَالَ قَالَتِ الأَنْصَارُ إِنَّهُ لاَ بُدَّ لَنَا . قَالَ " فَلاَ إِذًا " .
#3700
Sahih
‘Abd Allah b.’ Amr said:The Prophet(ﷺ) mentioned the vessels: pumpkins, green jarrs, vessels smeared with pitch and hollow stumps. A desert Arab said: We have no vessels(except these). He said: Drink(from them) what is lawful
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم، مزفت، اور نقیر کے برتنوں کا ذکر کیا ۱؎ تو ایک دیہاتی نے عرض کیا: ہمارے پاس تو اور کوئی برتن ہی نہیں رہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا جو حلال ہوا سے پیو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الأَوْعِيَةَ الدُّبَّاءَ وَالْحَنْتَمَ وَالْمُزَفَّتَ وَالنَّقِيرَ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ إِنَّهُ لاَ ظُرُوفَ لَنَا . فَقَالَ " اشْرَبُوا مَا حَلَّ " .