#3651
Sahih
Abd Allah bin al-Zubair said on the authority of the father :I asked al-Zubair : What prevents you from narrating traditions from the Messenger of Allah (ﷺ) as his Companions narrate from him? He said: By Allah I was very close to him. But I heard him (ﷺ) say: He who lies about me deliberately will certainly come to his abode in Hell
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے زبیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور صحابہ کی طرح حدیثیں کیوں نہیں بیان کرتے؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک طرح کی قربت و منزلت حاصل تھی لیکن میں نے آپ کو بیان فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - الْمَعْنَى - عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ، - قَالَ مُسَدَّدٌ أَبُو بِشْرٍ - عَنْ وَبَرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ لِلزُّبَيْرِ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُحَدِّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا يُحَدِّثُ عَنْهُ أَصْحَابُهُ فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ لِي مِنْهُ وَجْهٌ وَمَنْزِلَةٌ وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ " مَنْ كَذَبَ عَلَىَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
#3652
Daif
Narrated Jundub: The Prophet (ﷺ) said: If anyone interprets the Book of Allah in the light of his opinion even if he is right, he has erred
جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اپنی عقل سے کوئی بات کہی اور درستگی کو پہنچ گیا تو بھی اس نے غلطی کی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُقْرِئُ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ مِهْرَانَ، - أَخُو حَزْمٍ الْقُطَعِيِّ - حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ، عَنْ جُنْدُبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قَالَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ فَقَدْ أَخْطَأَ " .
#3653
Daif Isnaad
AbuSallam said on the authority of a man who served the Holy Prophet (ﷺ) that whenever he talked, he repeated it three times
ابو سلام ایک شخص سے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی ( اہم ) بات بیان کرتے تو اسے تین مرتبہ دہراتے ( تاکہ اچھی طرح سامع کی سمجھ میں آ جائے ) ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ، هَاشِمِ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ سَابِقِ بْنِ نَاجِيَةَ، عَنْ أَبِي سَلاَّمٍ، عَنْ رَجُلٍ، خَدَمَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا حَدَّثَ حَدِيثًا أَعَادَهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ .
#3654
Sahih
Urwah said:Abu Hurairah sat beside the apartment of `A’ishah while she was praying. He then began to say: Listen, O lady of the apartment, saying it twice (in quick succession). When she finished her prayer, she said: Are you not surprised at him and the way he narrates traditions from the Apostle of the Allah (ﷺ). When the Apostle of the Allah (ﷺ) gave a talk, a man could count his words if he wished to count
عروہ کہتے ہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے بغل میں بیٹھے تھے اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں تو وہ کہنے لگے: سن اے حجرے والی! دو بار یہ جملہ کہا، جب ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نماز سے فارغ ہوئیں تو کہنے لگیں: کیا تمہیں اس پر اور اس کی حدیث پر تعجب نہیں کہ وہ کیسے جلدی جلدی بیان کر رہا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کلام کرتے تو اگر شمار کرنے والا اسے شمار کرنا چاہتا تو شمار کر لیتا ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم صاف صاف اور بالکل واضح انداز میں بات کرتے تھے ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ جَلَسَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - وَهِيَ تُصَلِّي فَجَعَلَ يَقُولُ اسْمَعِي يَا رَبَّةَ الْحُجْرَةِ مَرَّتَيْنِ . فَلَمَّا قَضَتْ صَلاَتَهَا قَالَتْ أَلاَ تَعْجَبُ إِلَى هَذَا وَحَدِيثِهِ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُحَدِّثُ الْحَدِيثَ لَوْ شَاءَ الْعَادُّ أَنْ يُحْصِيَهُ أَحْصَاهُ .
#3655
Sahih
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Are you not surprised at AbuHurayrah? He came and sat beside my apartment, and began to narrate traditions from the Messenger of Allah (ﷺ) making me hear them. I was saying supererogatory prayer. He got up (and went away) before I finished my prayer. Had I found him, I would have replied to him. The Messenger of Allah (ﷺ) did not narrate traditions quickly one after another as you narrate quickly
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا تمہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر تعجب نہیں کہ وہ آئے اور میرے حجرے کے ایک جانب بیٹھے اور مجھے سنانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرنے لگے، میں نفل نماز پڑھ رہی تھی، تو وہ قبل اس کے کہ میں اپنی نماز سے فارغ ہوتی اٹھے ( اور چلے گئے ) اور اگر میں انہیں پاتی تو ان سے کہتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری طرح جلدی جلدی باتیں نہیں کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ أَلاَ يُعْجِبُكَ أَبُو هُرَيْرَةَ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسْمِعُنِي ذَلِكَ وَكُنْتُ أُسَبِّحُ فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ مِثْلَ سَرْدِكُمْ .
#3656
Daif
Narrated Mu'awiyah: The Holy Prophet (ﷺ) forbade the discussion of thorny questions
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی باتوں سے منع فرمایا ہے جس میں بکثرت غلطی واقع ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْغَلُوطَاتِ .
#3657
Hasan
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: If anyone is given a legal decision ignorantly, the sin rests on the one who gave it. Sulayman al-Mahri added in his version: If anyone advises his brother, knowing that guidance lies in another direction, he has deceived him. These are the wordings of Sulayman
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے فتوی دیا اور سلیمان بن داود مہری کی روایت میں ہے جس کو بغیر علم کے فتوی دیا گیا۔ تو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہو گا ۔ سلیمان مہری نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ جس نے اپنے بھائی کو کسی ایسے امر کا مشورہ دیا جس کے متعلق وہ یہ جانتا ہو کہ بھلائی اس کے علاوہ دوسرے میں ہے تو اس نے اس کے ساتھ خیانت کی۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ - عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَفْتَى " . ح وَحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي نُعَيْمَةَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الطُّنْبُذِيِّ - رَضِيعِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ - قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أُفْتِيَ بِغَيْرِ عِلْمٍ كَانَ إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ " . زَادَ سُلَيْمَانُ الْمَهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ " وَمَنْ أَشَارَ عَلَى أَخِيهِ بِأَمْرٍ يَعْلَمُ أَنَّ الرُّشْدَ فِي غَيْرِهِ فَقَدْ خَانَهُ " . وَهَذَا لَفْظُ سُلَيْمَانَ .
#3658
Hasan Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: He who is asked something he knows and conceals it will have a bridle of fire put on him on the Day of Resurrection
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے کوئی دین کا مسئلہ پوچھا گیا اور اس نے اسے چھپا لیا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائے گا ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ أَلْجَمَهُ اللَّهُ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
#3659
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: You hear (from me), and others will hear from you; and people will hear from them who heard from you
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ( علم دین ) مجھ سے سنتے ہو اور لوگ تم سے سنیں گے اور پھر جن لوگوں نے تم سے سنا ہے لوگ ان سے سنیں گے ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَسْمَعُونَ وَيُسْمَعُ مِنْكُمْ وَيُسْمَعُ مِمَّنْ سَمِعَ مِنْكُمْ " .
#3660
Sahih
Narrated Zayd ibn Thabit: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: May Allah brighten a man who hears a tradition from us, gets it by heart and passes it on to others. Many a bearer of knowledge conveys it to one who is more versed than he is; and many a bearer of knowledge is not versed in it
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی اور اسے یاد رکھا یہاں تک کہ اسے دوسروں تک پہنچا دیا کیونکہ بہت سے حاملین فقہ ایسے ہیں جو فقہ کو اپنے سے زیادہ فقہ و بصیرت والے کو پہنچا دیتے ہیں، اور بہت سے فقہ کے حاملین خود فقیہ نہیں ہوتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، - مِنْ وَلَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ " .
#3661
Sahih
Sahl b. Sa’d reported the prophet (ﷺ) as saying:I swear on Allah, it will be better for you that Allah should give guidance to one man through your agency than that you should acquire the red ones among the camels
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی، اگر تیری رہنمائی سے اللہ تعالیٰ ایک آدمی کو بھی ہدایت دیدے تو یہ تیرے لیے سرخ اونٹ سے ( جو بہت قیمتی اور عزیز ہوتے ہیں ) بہتر ہے ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ، - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَاللَّهِ لأَنْ يُهْدَى بِهُدَاكَ رَجْلٌ وَاحِدٌ خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ " .
#3662
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: relate traditions from the children of Isra'il; there is no harm
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل سے روایت کرو، اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلاَ حَرَجَ " .
#3663
Sahih Isnaad
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Prophet (ﷺ) used to relate to us traditions from the children of Isra'il till morning came; he would not get up except for obligatory prayer
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے بنی اسرائیل کی باتیں اس قدر بیان کرتے کہ صبح ہو جاتی اور صرف فرض نماز ہی کے لیے اٹھتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحَدِّثُنَا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَتَّى يُصْبِحَ مَا يَقُومُ إِلاَّ إِلَى عُظْمِ صَلاَةٍ .
#3664
Sahih
Narrated Abu Hurayrah: The Prophet (ﷺ) said: If anyone acquires knowledge that should be sought seeking the Face of Allah, but he acquires it only to get some worldly advantage, he will not experience the arf, i.e. the fragrance, of Paradise
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ایسا علم صرف دنیاوی مقصد کے لیے سیکھا جس سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ أَبِي طُوَالَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لاَ يَتَعَلَّمُهُ إِلاَّ لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . يَعْنِي رِيحَهَا .
#3665
Hasan Sahih
Narrated Awf ibn Malik al-Ashja'i: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Only a ruler, or one put in charge, or one who is presumptuous, gives instructions
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: وعظ و نصیحت وہی کرتا ہے جو امیر ہو یا مامور ہو یا فریبی ۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْخَوَّاصُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَقُصُّ إِلاَّ أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُخْتَالٌ " .
#3666
Daif
Narrated AbuSa'id al-Khudri: I was sitting in the company of the poor members of the emigrants. Some of them were sitting together because of lack of clothing while a reader was reciting to us. All of a sudden the Messenger of Allah (ﷺ) came along and stood beside us. When the Messenger of Allah (ﷺ) stood, the reader stopped and greeted him. He asked: What were you doing? We said: Messenger of Allah! We had a reader who was reciting to us and we were listening to the Book of Allah, the Exalted. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: Praise be to Allah Who has put among my people those with whom I have been ordered to stay. The Messenger of Allah (ﷺ) then sat among us so as to be like one of us, and when he had made a sign with his hand they sat in a circle with their faces turned towards him. The narrator said: I think that the Messenger of Allah (ﷺ) did not recognize any of them except me. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: Rejoice, you group of poor emigrants, in the announcement that you will have perfect light on the Day of Resurrection. You will enter Paradise half a day before the rich, and that is five hundred years
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں غریب و خستہ حال مہاجرین کی جماعت میں جا بیٹھا، ان میں بعض بعض کی آڑ میں برہنگی کے سبب چھپتا تھا اور ایک قاری ہم میں قرآن پڑھ رہا تھا، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے درمیان آ کر کھڑے ہو گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے تو قاری خاموش ہو گیا، آپ نے ہمیں سلام کیا پھر فرمایا: تم لوگ کیا کر رہے تھے؟ ہم نے عرض کیا: ہمارے یہ قاری ہیں ہمیں قرآن پڑھ کر سنا رہے تھے اور ہم اللہ کی کتاب سن رہے تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبھی تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے میری امت میں ایسے لوگوں کو پیدا کیا کہ مجھے حکم دیا گیا کہ میں اپنے آپ کو ان کے ساتھ روکے رکھوں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان میں آ کر بیٹھ گئے تاکہ اپنے آپ کو ہمارے برابر کر لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے حلقہ بنا کر بیٹھنے کا اشارہ کیا، تو سبھی لوگ حلقہ بنا کر بیٹھ گئے اور ان سب کا رخ آپ کی طرف ہو گیا۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میرے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو نہیں پہچانا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فقرائے مہاجرین کی جماعت! تمہارے لیے قیامت کے دن نور کامل کی بشارت ہے، تم لوگ جنت میں مالداروں سے آدھے دن پہلے داخل ہو گے، اور یہ پانچ سو برس ہو گا ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ بَشِيرٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ جَلَسْتُ فِي عِصَابَةٍ مِنْ ضُعَفَاءِ الْمُهَاجِرِينَ وَإِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِنَ الْعُرْىِ وَقَارِئٌ يَقْرَأُ عَلَيْنَا إِذْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ عَلَيْنَا فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَكَتَ الْقَارِئُ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ " مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ " . قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَ قَارِئٌ لَنَا يَقْرَأُ عَلَيْنَا فَكُنَّا نَسْتَمِعُ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ . قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ أُمِرْتُ أَنْ أَصْبِرَ نَفْسِي مَعَهُمْ " . قَالَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَطَنَا لِيَعْدِلَ بِنَفْسِهِ فِينَا ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا فَتَحَلَّقُوا وَبَرَزَتْ وُجُوهُهُمْ لَهُ - قَالَ - فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَرَفَ مِنْهُمْ أَحَدًا غَيْرِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَبْشِرُوا يَا مَعْشَرَ صَعَالِيكِ الْمُهَاجِرِينَ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَاءِ النَّاسِ بِنِصْفِ يَوْمٍ وَذَاكَ خَمْسُمِائَةِ سَنَةٍ " .
#3667
Hasan
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet (ﷺ) said: That I sit in the company of the people who remember Allah the Exalted from morning prayer till the sun rises is dearer to me than that I emancipate four slaves from the children of Isma`il, and that I sit with the people who remember Allah from afternoon prayer till the sun sets is dearer to me than that I emancipate four slaves
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا ایسی قوم کے ساتھ بیٹھنا جو فجر سے لے کر طلوع شمس تک اللہ کا ذکر کرتی ہو میرے نزدیک اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ امر ہے، اور میرا ایسی قوم کے ساتھ بیٹھنا جو نماز عصر سے غروب آفتاب تک اللہ کے ذکرو اذکار میں منہمک رہتی ہو میرے نزدیک چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ السَّلاَمِ، - يَعْنِي ابْنَ مُطَهَّرٍ أَبُو ظَفَرٍ - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ خَلَفٍ الْعَمِّيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَعَالَى مِنْ صَلاَةِ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَلأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ مِنْ صَلاَةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَةً " .
#3668
Sahih
Abd Allah (b. Mas`ud) said:The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: recite Surat al-Nisa’. I asked: Shall I recite to you what was sent down to you? He replied: I like to here it from someone else. So I recited (it) until I reached this verse “How then shall it be when We bring from every people a witness?”. Then I raised my head and saw tears falling from his eyes
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مجھ پر سورۃ نساء پڑھو میں نے عرض کیا: کیا میں آپ کو پڑھ کے سناؤں؟ جب کہ وہ آپ پر اتاری گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ میں اوروں سے سنوں پھر میں نے آپ کو «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد» اس وقت کیا ہو گا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے ( سورة النساء: ۴۱ ) تک پڑھ کر سنایا، اور اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْرَأْ عَلَىَّ سُورَةَ النِّسَاءِ " . قَالَ قُلْتُ أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ قَالَ " إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي " . قَالَ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ حَتَّى إِذَا انْتَهَيْتُ إِلَى قَوْلِهِ { فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ } الآيَةَ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا عَيْنَاهُ تَهْمِلاَنِ .
#3669
Sahih
’Umar said :The prohibition of wine came down when (the Quranic verse ) came down. It was made from five thing namely, grapes, dates, honey, wheat ,barley. Wine is what infects (khamara) the mind. There are three things I wished that the prophet (ﷺ) would not leave us until he explained them fully to our satisfaction: (share of) grandfather, one who leaves no descendants or ascendants as hairs, and the details of usury
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ شراب کی حرمت نازل ہوئی تو اس وقت شراب پانچ چیزوں: انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جو سے بنتی تھی، اور شراب وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ لے، اور تین باتیں ایسی ہیں کہ میری خواہش تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جدا نہ ہوں جب تک کہ آپ انہیں ہم سے اچھی طرح بیان نہ کر دیں: ایک دادا کا حصہ، دوسرے کلالہ کا معاملہ اور تیسرے سود کے کچھ مسائل۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ، حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ يَوْمَ نَزَلَ وَهِيَ مِنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ مِنَ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ وَثَلاَثٌ وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يُفَارِقْنَا حَتَّى يَعْهَدَ إِلَيْنَا فِيهِنَّ عَهْدًا نَنْتَهِي إِلَيْهِ الْجَدُّ وَالْكَلاَلَةُ وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا .
#3670
Sahih
Narrated Umar ibn al-Khattab: When the prohibition of wine (was yet to be) declared, Umar said: O Allah, give us a satisfactory explanation about wine. So the following verse of Surat al-Baqarah revealed; "They ask thee concerning wine and gambling. Say: In them is great sin...." Umar was then called and it was recited to him. He said: O Allah, give us a satisfactory explanation about wine. Then the following verse of Surat an-Nisa' was revealed: "O ye who believe! approach not prayers with a mind befogged...." Thereafter the herald of the Messenger of Allah (ﷺ) would call when the (congregational) prayer was performed: Beware, one who is drunk should not come to prayer. Umar was again called and it was recited to him). He said: O Allah, give us a satisfactory explanation about wine. This verse was revealed: "Will ye not then abstain?" Umar said: We abstained
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو انہوں نے دعا کی: اے اللہ! شراب کے سلسلے میں ہمیں واضح حکم فرما جس سے تشفی ہو جائے تو سورۃ البقرہ کی یہ آیت اتری: «يسألونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير» یعنی لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں تو آپ کہہ دیجئیے ان میں بڑے گناہ ہیں ( سورة البقرہ: ۲۱۹ ) ۔ راوی کہتے ہیں: تو عمر رضی اللہ عنہ بلائے گئے اور یہ آیت انہیں پڑھ کر سنائی گئی تو انہوں نے پھر دعا کی: اے اللہ! ہمارے لیے شراب کے سلسلے میں صاف اور واضح حکم نازل فرما جس سے تشفی ہو سکے، تو سورۃ نساء کی یہ آیت نازل ہوئی: «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى» یعنی اے ایمان والو! نشے کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ ( سورة النساء: ۴۳ ) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی جب اقامت کہہ دی جاتی تو آواز لگاتا: خبردار کوئی نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ آئے، پھر عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر یہ آیت انہیں پڑھ کر سنائی گئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے پھر دعا کی: اے اللہ! شراب کے سلسلے میں کوئی واضح اور صاف حکم نازل فرما، تو یہ آیت نازل ہوئی:«فهل أنتم منتهون» یعنی کیا اب باز آ جاؤ گے ( سورة المائدہ: ۹۱ ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم باز آ گئے ۔
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتَّلِيُّ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ قَالَ عُمَرُ اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءً فَنَزَلَتِ الآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ { يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ } الآيَةَ قَالَ فَدُعِيَ عُمَرُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ قَالَ اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءً فَنَزَلَتِ الآيَةُ الَّتِي فِي النِّسَاءِ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَقْرَبُوا الصَّلاَةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى } فَكَانَ مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ يُنَادِي أَلاَ لاَ يَقْرَبَنَّ الصَّلاَةَ سَكْرَانُ فَدُعِيَ عُمَرُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءً فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ } قَالَ عُمَرُ انْتَهَيْنَا .
#3671
Sahih
Narrated Ali ibn AbuTalib: A man of the Ansar called him and AbdurRahman ibn Awf and supplied them wine before it was prohibited. Ali then led them in the evening prayer, and he recited; "Say: O ye who reject faith." He was confused in it. Then the following verse came down: "O ye who believe! approach not prayers with a mind befogged until you can understand all that ye say
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہیں اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ایک انصاری نے بلایا اور انہیں شراب پلائی اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی پھر علی رضی اللہ عنہ نے مغرب پڑھائی اور سورۃ «قل يا أيها الكافرون» کی تلاوت کی اور اس میں کچھ گڈ مڈ کر دیا تو آیت: «لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون» نشے کی حالت میں نماز کے قریب تک مت جاؤ یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو جو تم پڑھو نازل ہوئی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ دَعَاهُ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَسَقَاهُمَا قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ فَأَمَّهُمْ عَلِيٌّ فِي الْمَغْرِبِ فَقَرَأَ { قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ } فَخَلَطَ فِيهَا فَنَزَلَتْ { لاَ تَقْرَبُوا الصَّلاَةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ } .
#3672
Hasan Isnaad
Ibn Abbas said:The Quranic verse :”O ye who believe ,approach not prayer with minds befogged until you can understand all they say,” and the verse: “They ask thee concerning wine and gambling. Say: In them is great sin and some profit for men ,” were repeated by the verse in Surat al-Ma’idah: ”O ye who believe, intoxicants and gambling,(dedication) stones
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى» ( سورة النساء: ۴۳ ) اور «يسألونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير ومنافع للناس» ( سورة البقرہ: ۲۱۹ ) ان دونوں آیتوں کو سورۃ المائدہ کی آیت «إنما الخمر والميسر والأنصاب» ( سورة المائدة: ۹۰ ) نے منسوخ کر دیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَقْرَبُوا الصَّلاَةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى } وَ { يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ } نَسَخَتْهُمَا الَّتِي فِي الْمَائِدَةِ { إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ } الآيَةَ .
#3673
Sahih
Narrated Anas ibn Malik: I was serving wine to the people in the house of AbuTalhah when it was prohibited and that day our wine was made from unripe dates. A man entered upon us and said: The wine has been prohibited, and the herald of the Messenger of Allah (ﷺ) made an announcement. We then said: This is the herald of the Messenger of Allah (ﷺ)
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ شراب کی حرمت کے وقت میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر لوگوں کو شراب پلا رہا تھا، ہماری شراب اس روز کھجور ہی سے تیار کی گئی تھی، اتنے میں ایک شخص ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا کہ شراب حرام کر دی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے بھی آواز لگائی تو ہم نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ حَيْثُ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ فِي مَنْزِلِ أَبِي طَلْحَةَ وَمَا شَرَابُنَا يَوْمَئِذٍ إِلاَّ الْفَضِيخُ فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ وَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَا هَذَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#3674
Sahih
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) said: Allah has cursed wine, its drinker, its server, its seller, its buyer, its presser, the one for whom it is pressed, the one who conveys it, and the one to whom it is conveyed
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب کے پینے اور پلانے والے، اس کے بیچنے اور خریدنے والے، اس کے نچوڑنے اور نچوڑوانے والے، اسے لے جانے والے اور جس کے لیے لے جائی جائے سب پر اللہ کی لعنت ہو ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، مَوْلاَهُمْ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْغَافِقِيِّ أَنَّهُمَا سَمِعَا ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَعَنَ اللَّهُ الْخَمْرَ وَشَارِبَهَا وَسَاقِيَهَا وَبَائِعَهَا وَمُبْتَاعَهَا وَعَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ " .
#3675
Sahih
Anas b. Malik said :Abu Talhah asked the prophet (ﷺ) about the orphans who had inherited wine. He replied: Pour it out. He asked: May I not make vinegar of it ? He replied : No
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوطلحہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان یتیموں کے سلسلے میں پوچھا جنہوں نے میراث میں شراب پائی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بہا دو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا میں اس کا سرکہ نہ بنا لوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَيْتَامٍ وَرِثُوا خَمْرًا قَالَ " أَهْرِقْهَا " . قَالَ أَفَلاَ أَجْعَلُهَا خَلاًّ قَالَ " لاَ " .