#3726
Sahih
Anas b. Malik said:The Prophet (ﷺ) was brought milk that was mixed with water. A nomad Arab was on his right and Abu Bakr was on his left. He himself drank and gave it to the nomad Arab, and said: He who is on the right , then he who is on his right then he who is on his right
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ لایا گیا جس میں پانی ملایا گیا تھا، آپ کے دائیں ایک دیہاتی اور بائیں ابوبکر بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا پھر دیہاتی کو ( پیالہ ) دے دیا اور فرمایا: دائیں طرف والا زیادہ حقدار ہے پھر وہ جو اس کے دائیں ہو ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيبَ بِمَاءٍ وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ فَشَرِبَ ثُمَّ أَعْطَى الأَعْرَابِيَّ وَقَالَ " الأَيْمَنَ فَالأَيْمَنَ " .
#3727
Sahih
Anas b.Malik said :when the prophet (ﷺ) drank, he used to breathe three times in the course of a drink and say : It is more whole some ,thrist-quenching and healthier
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیتے تو تین سانس میں پیتے اور فرماتے: یہ خوب پیاس کو مارنے والا، ہاضم اور صحت بخش ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي عِصَامٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا شَرِبَ تَنَفَّسَ ثَلاَثًا وَقَالَ " هُوَ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ وَأَبْرَأُ " .
#3728
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade blowing or breathing into a vessel
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الإِنَاءِ أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ .
#3729
Sahih
’Abd Allah b. Busr from Banu Sulaim said:The Messenger of Allah (ﷺ) came to my father and he was a guest with him. He offered food to him and brought hais. He then brought a drink which he drank and he gave it to the one on his right. He ate dried dates and began to put the kernels on the back of his ring finger and middle finger. When he got up, my father also got up, and held the rein of his mount. He said : Pray to Allah for me. He said : O Allah, bless them in what you provided them, and have mercy on them
عبداللہ بن بسر جو بنی سلیم سے تعلق رکھتے ہیں کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس قیام کیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا، پھر انہوں نے حیس ۱؎ کا ذکر کیا جسے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے پھر وہ آپ کے پاس پانی لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا پھر جو آپ کے داہنے تھا اسے دیدیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوریں کھائیں اور ان کی گٹھلیاں درمیانی اور شہادت والی انگلیوں کی پشت پر رکھ کر پھینکنے لگے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میرے والد بھی کھڑے ہوئے اور انہوں نے آپ کی سواری کی لگام پکڑ کر عرض کیا: میرے لیے اللہ سے دعا کر دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم بارك لهم فيما رزقتهم واغفر لهم وارحمهم» اے اللہ جو روزی تو نے انہیں دی ہے اس میں برکت عطا فرما، انہیں بخش دے، اور ان پر رحم فرما ۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، - مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ - قَالَ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أَبِي فَنَزَلَ عَلَيْهِ فَقَدَّمَ إِلَيْهِ طَعَامًا فَذَكَرَ حَيْسًا أَتَاهُ بِهِ ثُمَّ أَتَاهُ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ فَنَاوَلَ مَنْ عَلَى يَمِينِهِ وَأَكَلَ تَمْرًا فَجَعَلَ يُلْقِي النَّوَى عَلَى ظَهْرِ أُصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى فَلَمَّا قَامَ قَامَ أَبِي فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ لِي . فَقَالَ " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ " .
#3730
Hasan
Narrated Abdullah ibn Abbas: I was in the house of Maymunah. The Messenger of Allah (ﷺ) accompanied by Khalid ibn al-Walid entered. Two roasted long-tailed lizards (dabb) placed on the sticks were brought to him. The Messenger of Allah (ﷺ) spat. Khalid said: I think that you abominate it, Messenger of Allah. He said: Yes. Then the Messenger of Allah (ﷺ) was brought milk, and he drank (it). The Messenger of Allah (ﷺ) then said: When one of you eats food, he should say: O Allah, bless us in it, and give us food (or nourishment) better than it. When he is given milk to drink he should say: O Allah! bless us in it and give us more of it, for no food or drink satisfies like milk. Abu Dawud said: This is the Musaddad's version
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھا کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی تھے، لوگ دو بھنی ہوئی گوہ دو لکڑیوں پر رکھ کر لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر تھوکا، تو خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا خیال ہے اس سے آپ کو گھن ( کراہت ) ہو رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اسے یہ دعا پڑھنی چاہئیے «اللهم بارك لنا فيه وأطعمنا خيرا منه» اے اللہ! تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور ہمیں اس سے بہتر کھانا کھلا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور جب اسے کوئی دودھ پلائے تو اسے چاہیئے کہ یہ دعا پڑھے «اللهم بارك لنا فيه وزدنا منه» اے اللہ! تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور اسے ہمیں اور دے کیونکہ دودھ کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں جو کھانے اور پینے دونوں سے کفایت کرے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كُنْتُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَجَاءُوا بِضَبَّيْنِ مَشْوِيَّيْنِ عَلَى ثُمَامَتَيْنِ فَتَبَزَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ خَالِدٌ إِخَالُكَ تَقْذُرُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " أَجَلْ " . ثُمَّ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِلَبَنٍ فَشَرِبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ . وَإِذَا سُقِيَ لَبَنًا فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ . فَإِنَّهُ لَيْسَ شَىْءٌ يُجْزِئُ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ إِلاَّ اللَّبَنُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا لَفْظُ مُسَدَّدٍ .
#3731
Sahih
Jabir reported the Prophet (ﷺ) as saying:Shut your door and make mention of Allah's name, for the devil does not open a door which has been shut; extinguish your lamp and make mention of Allah's name, cover up your vessel even by a piece of wood that you just put on it and make mention of Allah's name, and tie up your water-skin mentioning Allah's name
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا نام لے کر اپنے دروازے بند کرو کیونکہ شیطان بند دروازوں کو نہیں کھولتا، اللہ کا نام لے کر اپنے چراغ بجھاؤ، اللہ کا نام لے کر اپنے برتنوں کو ڈھانپو خواہ کسی لکڑی ہی سے ہو جسے تم اس پر چوڑائی میں رکھ دو، اور اللہ کا نام لے کر مشکیزے کا منہ باندھو ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَغْلِقْ بَابَكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا وَأَطْفِ مِصْبَاحَكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَخَمِّرْ إِنَاءَكَ وَلَوْ بِعُودٍ تَعْرُضُهُ عَلَيْهِ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَأَوْكِ سِقَاءَكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ " .
#3732
Sahih
Jabir b.’Abd Allah reported the Prophet (ﷺ)as saying this version is not complete ‘’for the devil does not open a shut door, or loosen a water-skin, or uncover a vessel, for a mouse sets a house on fire over its inhabitants’’
اس سند سے بھی جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن یہ پوری نہیں ہے، اس میں ہے کہ شیطان کسی بند دروازے کو نہیں کھولتا، نہ کسی بندھن کو کھولتا ہے اور نہ کسی برتن کے ڈھکنے کو، اور چوہیا لوگوں کا گھر جلا دیتی ہے، یا کہا ان کے گھروں کو جلا دیتی ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْخَبَرِ وَلَيْسَ بِتَمَامِهِ قَالَ " فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَفْتَحُ بَابًا غَلَقًا وَلاَ يَحُلُّ وِكَاءً وَلاَ يَكْشِفُ إِنَاءً وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى النَّاسِ بَيْتَهُمْ " . أَوْ " بُيُوتَهُمْ " .
#3733
Sahih
Jabir b.Abd Allah reported the Prophet (ﷺ) as saying:Gather your children when darkness spreads, or in the evening (according to Musaddad), for the jinn are abroad and seize them
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عشاء کے وقت اپنے بچوں کو اپنے پاس ہی رکھو ( اور مسدد کی روایت میں ہے: شام کے وقت اپنے بچوں کو اپنے پاس رکھو ) کیونکہ یہ جنوں کے پھیلنے اور ( بچوں کو ) اچک لینے کا وقت ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَفُضَيْلُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ السُّكَّرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَفَعَهُ قَالَ " وَاكْفِتُوا صِبْيَانَكُمْ عِنْدَ الْعِشَاءِ " . وَقَالَ مُسَدَّدٌ " عِنْدَ الْمَسَاءِ " " فَإِنَّ لِلْجِنِّ انْتِشَارًا وَخَطْفَةً " .
#3734
Sahih
Jabir said:We were with Prophet (ﷺ) and he asked for something to drink. A man from the company asked: Should we not give you nabidh (drink made from dates) to drink ? He replied : Yes . The man went quickly and bought a cup of nabidh. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Why did you not cover it up even by putting a piece of wood on it ? Abu Dawud said: Al-Asma'i's version has: "You put it on it
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے پانی طلب کیا تو قوم میں سے ایک شخص نے عرض کیا: کیا ہم آپ کو نبیذ نہ پلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ( کوئی مضائقہ نہیں ) تو وہ نکلا اور دوڑ کر ایک پیالہ نبیذ لے آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اسے ڈھک کیوں نہیں لیا؟ ایک لکڑی ہی سے سہی جو اس کے عرض ( چوڑان ) میں رکھ لیتا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اصمعی نے کہا: «تعرضه عليه» یعنی تو اسے اس پر چوڑان میں رکھ لیتا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَسْقَى فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَلاَ نَسْقِيكَ نَبِيذًا قَالَ " بَلَى " . قَالَ فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَشْتَدُّ فَجَاءَ بِقَدَحٍ فِيهِ نَبِيذٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَلاَّ خَمَّرْتَهُ وَلَوْ أَنْ تَعْرِضَ عَلَيْهِ عُودًا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ الأَصْمَعِيُّ تَعْرُضُهُ عَلَيْهِ .
#3735
Sahih
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The water from as-Suqya' was considered sweetest by the Prophet (ﷺ). Qutaybah said: it was a well on two days' journey from Medina
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سقیا کے گھروں سے میٹھا پانی لایا جاتا۔ قتیبہ کہتے ہیں: سقیا ایک چشمہ ہے جس کی مسافت مدینہ سے دو دن کی ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُسْتَعْذَبُ لَهُ الْمَاءُ مِنْ بُيُوتِ السُّقْيَا . قَالَ قُتَيْبَةُ عَيْنٌ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْمَدِينَةِ يَوْمَانِ .
#3736
Sahih
‘Abd Allah b. ‘Umar reported the Prophet(ﷺ) as sayings:when one of you is invited for a wedding feast, he must attend it
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ولیمہ کی دعوت میں مدعو کیا جائے تو اسے چاہیئے کہ اس میں آئے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيَأْتِهَا " .
#3737
Sahih
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn ‘Umar to the same effect through a different chain of narrators. This version has the additional words:If he is not fasting, he should eat, and if he is fasting, he should leave it
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مفہوم کی حدیث بیان فرمائی اس میں اتنا اضافہ ہے کہ اگر روزے سے نہ ہو تو کھا لے، اور اگر روزے سے ہو تو ( کھانے اور کھلانے والوں کے لیے بخشش و برکت کی ) دعا کرے ۔
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ زَادَ " فَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ وَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيَدْعُ " .
#3738
Sahih
Ibn ‘Umar reported the Messenger of Allah(ﷺ) as saying:if one of you invites his brother, he should accept(the invitation), whether it is a wedding feast or something of that nature
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی اپنے بھائی کو ولیمے کی یا اسی طرح کی کوئی دعوت دے تو وہ اسے قبول کرے ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُجِبْ عُرْسًا كَانَ أَوْ نَحْوَهُ " .
#3739
Daif
The tradition mentioned above has also been transmitted by Nafi’ to the same effect through the chain of narrators as mentioned in Ayyub
اس سند سے بھی نافع سے ایوب کی روایت جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، بِإِسْنَادِ أَيُّوبَ وَمَعْنَاهُ .
#3740
Sahih
Jabir reported the Messenger of Allah(ﷺ) as sayings:when one of you is invited to a meal, he must accept. If he wishes he may eat, but if he wishes(to leave), he may leave
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو دعوت دی جائے اسے دعوت قبول کرنی چاہیئے پھر اگر چاہے تو کھائے اور چاہے تو نہ کھائے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ دُعِيَ فَلْيُجِبْ فَإِنْ شَاءَ طَعِمَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ " .
#3741
Daif
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) said: He who does not accept an invitation which he receives has disobeyed Allah and His Apostle, and he who enters without invitation enters as a thief and goes out as a raider. Abu Dawud said: Aban bin Tariq is unknown
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے دعوت دی گئی اور اس نے قبول نہیں کیا تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، اور جو بغیر دعوت کے گیا تو وہ چور بن کر داخل ہوا اور لوٹ مار کر نکلا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابان بن طارق مجہول راوی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ دُعِيَ فَلَمْ يُجِبْ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَمَنْ دَخَلَ عَلَى غَيْرِ دَعْوَةٍ دَخَلَ سَارِقًا وَخَرَجَ مُغِيرًا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبَانُ بْنُ طَارِقٍ مَجْهُولٌ .
#3742
Sahih
Abu Hurairah said:The worst kind of food is that at a wedding feast to which the rich are invited and from which the poor are left out. If anyone does not attend the feast to which he was invited, he has disobeyed Allah and His Apostle (may peace upon him)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے سب سے برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں صرف مالدار بلائے جائیں اور غریب و مسکین چھوڑ دیئے جائیں، اور جو ( ولیمہ کی ) دعوت میں نہیں آیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى لَهَا الأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ وَمَنْ لَمْ يَأْتِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ .
#3743
Sahih
Thabit said:The marriage of Zainab daughter of Jahsh was mentioned before Anas b. Malik. He said: I did not see that the Messenger of Allah (ﷺ) held such a wedding feast for any of his wives as he did for her. He held a wedding feast with a sheep
ثابت کہتے ہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے نکاح کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیویوں میں سے کسی کے نکاح میں زینب کے نکاح کی طرح ولیمہ کرتے نہیں دیکھا، آپ نے ان کے نکاح میں ایک بکری کا ولیمہ کیا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ ذُكِرَ تَزْوِيجُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْلَمَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَيْهَا أَوْلَمَ بِشَاةٍ .
#3744
Sahih
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet (ﷺ) held a wedding feast for Safiyyah with meal and dates
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے نکاح میں ستو اور کھجور کا ولیمہ کیا۔
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِهِ، بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَوْلَمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِسَوِيقٍ وَتَمْرٍ .
#3745
Daif
Narrated Zubayr ibn Uthman: The Prophet (ﷺ) said: The wedding feast on the first day is a duty, that on the second is a good practice, but that on the third day is to make men hear of it and show it to them. Qatadah said: A man told me that Sa'id ibn al-Musayyab was invited (to a wedding feast on the first day and he accepted it. He was again invited on the second day, and he accepted. When he was invited on the third day, he did not accept; he said: They are the people who make men hear of it and show it to them)
عبداللہ بن عثمان ثقفی بنو ثقیف کے ایک کانے شخص سے روایت کرتے ہیں ( جسے اس کی بھلائیوں کی وجہ سے معروف کہا جاتا تھا، یعنی خیر کے پیش نظر اس کی تعریف کی جاتی تھی، اگر اس کا نام زہیر بن عثمان نہیں تو مجھے نہیں معلوم کہ اس کا کیا نام تھا ) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولیمہ پہلے روز حق ہے، دوسرے روز بہتر ہے، اور تیسرے روز شہرت و ریاکاری ہے ۔ قتادہ کہتے ہیں: مجھ سے ایک شخص نے بیان کیا کہ سعید بن مسیب کو پہلے دن دعوت دی گئی تو انہوں نے قبول کیا اور دوسرے روز بھی دعوت دی گئی تو اسے بھی قبول کیا اور تیسرے روز دعوت دی گئی تو قبول نہیں کیا اور کہا: ( دعوت دینے والے ) نام و نمود والے اور ریا کار لوگ ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، أَعْوَرَ مِنْ ثَقِيفٍ كَانَ يُقَالُ لَهُ مَعْرُوفًا - أَىْ يُثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا إِنْ لَمْ يَكُنِ اسْمُهُ زُهَيْرُ بْنُ عُثْمَانَ فَلاَ أَدْرِي مَا اسْمُهُ - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْوَلِيمَةُ أَوَّلُ يَوْمٍ حَقٌّ وَالثَّانِي مَعْرُوفٌ وَالْيَوْمُ الثَّالِثُ سُمْعَةٌ وَرِيَاءٌ " . قَالَ قَتَادَةُ وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ دُعِيَ أَوَّلَ يَوْمٍ فَأَجَابَ وَدُعِيَ الْيَوْمَ الثَّانِي فَأَجَابَ وَدُعِيَ الْيَوْمَ الثَّالِثَ فَلَمْ يُجِبْ وَقَالَ أَهْلُ سُمْعَةٍ وَرِيَاءٍ .
#3746
Daif
Qatadah reported this story from Sa’id b. al-Musayyab. This version adds:When he was invited on the third day, he did not accept but threw pebbles on the messenger
اس سند سے بھی سعید بن مسیب سے یہی واقعہ مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ پہلے اور دوسرے روز انہوں نے دعوت قبول کر لی پھر جب تیسرے روز انہیں دعوت دی گئی تو قبول نہیں کیا اور قاصد کو کنکری ماری۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ فَدُعِيَ الْيَوْمَ الثَّالِثَ فَلَمْ يُجِبْ وَحَصَبَ الرَّسُولَ .
#3747
Sahih Isnaad
Narrated Jabir ibn Abdullah: When the Prophet (ﷺ) returned to Medina, he would slaughter a camel or a cow
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے ایک اونٹ یا ایک گائے ذبح کی۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ نَحَرَ جَزُورًا أَوْ بَقَرَةً .
#3748
Sahih Isnaad Maqtu
Abu Shuraih al-Ka’bi reported the Messenger of Allah(ﷺ) as sayings:He who believes in Allah and the Last Day should honour his guest provisions for the road are what will serve for a day and night: hospitality extends for three days; what goes after that is sadaqah(charity): and it is not allowable that a guest should stay till he makes himself an encumbrance. Abu Dawud said: Malik was asked about the saying of the Prophet: "Provisions for the road what will serve for a day a night." He said: He should honor him, present him some gift, and protect him for a day and night, and hospitality for three days
ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی خاطر تواضع کرنی چاہیئے، اس کا جائزہ ایک دن اور ایک رات ہے اور ضیافت تین دن تک ہے اور اس کے بعد صدقہ ہے، اور اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس کے پاس اتنے عرصے تک قیام کرے کہ وہ اسے مشقت اور تنگی میں ڈال دے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ اشہب نے آپ کو خبر دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: امام مالک سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان «جائزته يوم وليلة» کے متعلق پوچھا گیا: تو انہوں نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ میزبان ایک دن اور ایک رات تک اس کی عزت و اکرام کرے، تحفہ و تحائف سے نوازے، اور اس کی حفاظت کرے اور تین دن تک ضیافت کرے ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتُهُ يَوْمُهُ وَلَيْلَتُهُ الضِّيَافَةُ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ وَمَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ وَلاَ يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْرِجَهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ أَخْبَرَكُمْ أَشْهَبُ قَالَ وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " جَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ " . فَقَالَ يُكْرِمُهُ وَيُتْحِفُهُ وَيَحْفَظُهُ يَوْمًا وَلَيْلَةً وَثَلاَثَةُ أَيَّامٍ ضِيَافَةٌ .
#3749
Hasan Sahih Isnaad
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: Hospitality extend for three days, and what goes beyond that is sadaqah (charity)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہمانداری تین روز تک ہے، اور جو اس کے علاوہ ہو وہ صدقہ ہے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الضِّيَافَةُ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ فَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ " .
#3750
Sahih
Narrated AbuKarimah: The Prophet (ﷺ) said: It is a duty of every Muslim (to provide hospitality) to a guest for a night. If anyone comes in the morning to his house, it is a debt due to him. If he wishes, he may fulfil it, and if he wishes he may leave it
ابوکریمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان پر مہمان کی ایک رات کی ضیافت حق ہے، جو کسی مسلمان کے گھر میں رات گزارے تو ایک دن کی مہمانی اس پر قرض ہے، چاہے تو اسے وصول کر لے اور چاہے تو چھوڑ دے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْلَةُ الضَّيْفِ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فَمَنْ أَصْبَحَ بِفِنَائِهِ فَهُوَ عَلَيْهِ دَيْنٌ إِنْ شَاءَ اقْتَضَى وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ " .