#3401
Shadh
Abu Dawud said:I read out (this tradition) to Sa'id b. Ya'qub al-Taliqini, and I said to him: Ibn al-Mubarak transmitted (this tradition) to you from Sa'id Abi Shuja' who said: 'Uthman b. Sahl b. Rafi' b. Khadij narrated it to me saying: I was an orphan being nourished under the guardianship of Rafi' b. Khadij and I performed Hajj with him. My brother 'Imran b. Sahl then came to me and said: We rented out land to so-and-so for two hundred dirhams. He said: Leave it, for the Prophet (ﷺ) forbade renting land
عثمان بن سہل بن رافع بن خدیج کہتے ہیں میں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے زیر پرورش ایک یتیم تھا، میں نے ان کے ساتھ حج کیا تو میرے بھائی عمران بن سہل ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہم نے اپنی زمین دو سو درہم کے بدلے فلاں شخص کو کرایہ پر دی ہے، تو انہوں نے ( رافع نے ) کہا: اسے چھوڑ دو ( یعنی یہ معاملہ ختم کر لو ) کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَرَأْتُ عَلَى سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيِّ قُلْتُ لَهُ حَدَّثَكُمُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدٍ أَبِي شُجَاعٍ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ سَهْلِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ إِنِّي لَيَتِيمٌ فِي حِجْرِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَحَجَجْتُ مَعَهُ فَجَاءَهُ أَخِي عِمْرَانُ بْنُ سَهْلٍ فَقَالَ أَكْرَيْنَا أَرْضَنَا فُلاَنَةَ بِمِائَتَىْ دِرْهَمٍ فَقَالَ دَعْهُ فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ .
#3402
Daif Isnaad
Narrated Rafi' ibn Khadij: Rafi' had cultivated a land. The Prophet (ﷺ) passed him when he was watering it. So he asked him: To whom does the crop belong, and to whom does the land belong? He replied: The crop is mine for my seed and labour. The half (of the crop) is mine and the half for so-and-so. He said: You conducted usurious transaction. Return the land to its owner and take your wages and cost
ابن ابی نعم سے روایت ہے کہ مجھ سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے ایک زمین میں کھیتی کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا اور وہ اس میں پانی دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: کھیتی کس کی ہے اور زمین کس کی؟ تو انہوں کہا: میری کھیتی میرے بیج سے ہے اور محنت بھی میری ہے نصف پیداوار مجھے ملے گی اور نصف پیداوار فلاں شخص کو ( جو زمین کا مالک ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں نے ربا کیا ( یعنی یہ عقد ناجائز ہے ) زمین اس کے مالک کو لوٹا دو، اور تم اپنے خرچ اور اپنی محنت کی اجرت لے لو ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا بُكَيْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ - عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، أَنَّهُ زَرَعَ أَرْضًا فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَسْقِيهَا فَسَأَلَهُ " لِمَنِ الزَّرْعُ وَلِمَنِ الأَرْضُ " . فَقَالَ زَرْعِي بِبَذْرِي وَعَمَلِي لِيَ الشَّطْرُ وَلِبَنِي فُلاَنٍ الشَّطْرُ . فَقَالَ " أَرْبَيْتُمَا فَرُدَّ الأَرْضَ عَلَى أَهْلِهَا وَخُذْ نَفَقَتَكَ " .
#3403
Sahih
Narrated Rafi' ibn Khadij: The Prophet (ﷺ) said: If anyone sows in other people's land without their permission, he has no right to any of the crop, but he may have what it cost him
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دوسرے لوگوں کی زمین میں بغیر ان کی اجازت کے کاشت کی تو اسے کاشت میں سے کچھ نہیں ملے گا صرف اس کا خرچ ملے گا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَىْءٌ وَلَهُ نَفَقَتُهُ " .
#3404
Sahih
Narrated Jabir b. 'Abd Allah :The Messenger of Allah (ﷺ) forbade muhaqalah, muzabanah, mukhabarah, and mu'awanah. One of the two narrators from Hammad said the word mu'awamah, and other said: "selling many years ahead". The agreed version then goes: and thunya, but gave license for 'araya
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ ۱؎ مزابنہ ۲؎ مخابرہ اور معاومہ ۳؎ سے منع فرمایا ہے۔ مسدد کی روایت میں «عن حماد» ہے اور ابوزبیر اور سعید بن میناء دونوں میں سے ایک نے معاومہ کہا اور دوسرے نے «بيع السنين»کہا ہے پھر دونوں راوی متفق ہیں اور استثناء کرنے ۴؎ سے منع فرمایا ہے، اور عرایا ۵؎ کی اجازت دی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ حَمَّادًا، وَعَبْدَ الْوَارِثِ، حَدَّثَاهُمْ كُلُّهُمْ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، - قَالَ عَنْ حَمَّادٍ، وَسَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ، ثُمَّ اتَّفَقُوا - عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَالْمُعَاوَمَةِ - قَالَ عَنْ حَمَّادٍ وَقَالَ أَحَدُهُمَا وَالْمُعَاوَمَةِ وَقَالَ الآخَرُ بَيْعِ السِّنِينَ ثُمَّ اتَّفَقُوا - وَعَنِ الثُّنْيَا وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا .
#3405
Sahih
Narrated Jabir b. 'Abd Allah :The Messenger of Allah (ﷺ) forbade muzabanah, muhaqalah and thunya except it is known
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ ( درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک پھل سے بیچنے ) سے اور محاقلہ ( کھیت میں لگی ہوئی فصل کو غلہ سے اندازہ کر کے بیچنے ) سے اور غیر متعین اور غیر معلوم مقدار کے استثناء سے روکا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ، عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَعَنِ الثُّنْيَا إِلاَّ أَنْ يُعْلَمَ .
#3406
Daif
Narrated Jabir b. 'Abd Allah :I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If any of you does not leave mukhabarah, he should take notice of war from Allah and His Apostle (ﷺ)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو مخابرہ نہ چھوڑے تو اسے چاہیئے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا اعلان کر دے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ رَجَاءٍ، - يَعْنِي الْمَكِّيَّ - قَالَ ابْنُ خُثَيْمٍ حَدَّثَنِي عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ لَمْ يَذَرِ الْمُخَابَرَةَ فَلْيَأْذَنْ بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ " .
#3407
Sahih
Narrated Zaid b. Thabit:The Messenger of Allah (ﷺ) forbade mukhabarah. I asked: What is mukhabarah ? He replied: That you have the land (for cultivation) for half, a third, or a quarter (of the produce)
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے روکا ہے، میں نے پوچھا: مخابرہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: مخابرہ یہ ہے کہ تم زمین کو آدھی یا تہائی یا چوتھائی پیداوار پر بٹائی پر لو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُخَابَرَةِ . قُلْتُ وَمَا الْمُخَابَرَةُ قَالَ أَنْ تَأْخُذَ الأَرْضَ بِنِصْفٍ أَوْ ثُلُثٍ أَوْ رُبُعٍ .
#3408
Sahih
Narrated Ibn 'Umar:The Messenger of Allah (ﷺ) made an agreement with the people of Khaibar to work and cultivate in return for half of the fruits or produce
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کو زمین کے کام پر اس شرط پہ لگایا کہ کھجور یا غلہ کی جو بھی پیداوار ہو گی اس کا آدھا ہم لیں گے اور آدھا تمہیں دیں گے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ .
#3409
Sahih
Narrated Ibn 'Umar:The Prophet (ﷺ) handed over the Jews of Khaibar the palm trees and the land of Khaibar on condition that they should employ what belonged to them in working on them, and that he should have half of the fruits
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں کو خیبر کے کھجور کے درخت اور اس کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ ان میں اپنی پونجی لگا کر کام کریں گے اور جو پیداوار ہو گی، اس کا نصف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہو گا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ غَنَجٍ - عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَفَعَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ نَخْلَ خَيْبَرَ وَأَرْضَهَا عَلَى أَنْ يَعْتَمِلُوهَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَأَنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَطْرَ ثَمَرَتِهَا .
#3410
Hasan Sahih
Narrated Ibn 'Abbas:The Messenger of Allah (ﷺ) conquered Khaibar, and stipulated that all the land, gold and silver would belong to him. The people of Khaibar said: we know the land more than you ; so give it to us on condition that you should have half of the produce and we would have the half. He then gave it to them on that condition. When the time of picking the fruits of the palm-trees came, he sent 'Abd Allah b. Rawahah to them, and he assessed the among of the fruits of the palm-trees. This is what the people of Medina call khars (assessment). He used to say: In these palm-trees there is such-and-such amount (of produce). They would say: You assessed more to us, Ibn Rawahah (than the real amount). He would say: I first take the responsibility of assessing the fruits of the palm-trees and give you half of (the amount) I said. They would say: This is true, and on this (equity) stand the heavens and the earth. We agreed that we should take (the amount which) you said
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا، اور یہ شرط لگا دی ( واضح کر دیا ) کہ اب زمین ان کی ہے اور جو بھی سونا چاندی نکلے وہ بھی ان کا ہے، تب خیبر والے کہنے لگے: ہم زمین کے کام کاج کو آپ لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں تو آپ ہمیں زمین اس شرط پہ دے دیجئیے کہ نصف پیداوار آپ کو دیں گے اور نصف ہم لیں گے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی شرط پر انہیں زمین دے دی، پھر جب کھجور کے توڑنے کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس بھیجا، انہوں نے جا کر کھجور کا اندازہ لگایا ( اسی کو اہل مدینہ «خرص» ( آنکنا ) کہتے ہیں ) تو انہوں نے کہا: اس باغ میں اتنی کھجوریں نکلیں گی اور اس باغ میں اتنی ( ان کا نصف ہمیں دے دو ) وہ کہنے لگے: اے ابن رواحہ! تم نے تو ہم پر ( بوجھ ڈالنے کے لیے ) زیادہ تخمینہ لگا دیا ہے، تو ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا ( اگر یہ زیادہ ہے ) تو ہم اسے توڑ لیں گے اور جو میں نے کہا ہے اس کا آدھا تمہیں دے دیں گے، یہ سن کر انہوں نے کہا یہی صحیح بات ہے، اور اسی انصاف اور سچائی کی بنا پر ہی زمین و آسمان اپنی جگہ پر قائم اور ٹھہرے ہوئے ہیں، ہم راضی ہیں تمہارے آنکنے کے مطابق ہی ہم لے لیں گے۔
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ وَاشْتَرَطَ أَنَّ لَهُ الأَرْضَ وَكُلَّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ . قَالَ أَهْلُ خَيْبَرَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِالأَرْضِ مِنْكُمْ فَأَعْطِنَاهَا عَلَى أَنَّ لَكُمْ نِصْفَ الثَّمَرَةِ وَلَنَا نِصْفٌ . فَزَعَمَ أَنَّهُ أَعْطَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ فَلَمَّا كَانَ حِينَ يُصْرَمُ النَّخْلُ بَعَثَ إِلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَحَزَرَ عَلَيْهِمُ النَّخْلَ وَهُوَ الَّذِي يُسَمِّيهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْخَرْصَ فَقَالَ فِي ذِهْ كَذَا وَكَذَا قَالُوا أَكْثَرْتَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ رَوَاحَةَ . فَقَالَ فَأَنَا أَلِي حَزْرَ النَّخْلِ وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ . قَالُوا هَذَا الْحَقُّ وَبِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ قَدْ رَضِينَا أَنْ نَأْخُذَهُ بِالَّذِي قُلْتَ .
#3411
Sahih Isnaad
The tradition mentioned above has also been narrated by Ja'far b. Burqan through his chain and to the same effect. This version has:He said: He assessed, and after the words of kull safara' wa baida', he said: that is, gold and silver will belong to him
جعفر بن برقان سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے اس میں لفظ «فحزر» ہے اور «وكل صفراء وبيضاء» کی تفسیر سونے چاندی سے کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ فَحَزَرَ وَقَالَ عِنْدَ قَوْلِهِ وَكُلَّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ يَعْنِي الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ لَهُ .
#3412
Sahih Isnaad
Narrated Miqsam:When the Prophet (ﷺ) conquered Khaibar. He then narrated it like the tradition of Zaid (b. Abu al-Zarqa'). This version has: He then assessed the produce of the palm-trees and said: I take the job of picking the fruit myself, and I shall give you half of (the amount) I said
مقسم سے (مرسلاً) روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت خیبر فتح کیا، پھر آگے انہوں نے زید کی حدیث ( پچھلی حدیث ) کی طرح حدیث ذکر کی اس میں ہے پھر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کھجور کا اندازہ لگایا، ( اور جب یہودیوں نے اعتراض کیا ) تو آپ نے کہا: اچھا کھجوروں کے پھل میں خود توڑ لوں گا، اور جو اندازہ میں نے لگایا ہے، اس کا نصف تمہیں دے دوں گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا كَثِيرٌ، - يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ - عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ، عَنْ مِقْسَمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ زَيْدٍ قَالَ فَحَزَرَ النَّخْلَ وَقَالَ فَأَنَا أَلِي جُذَاذَ النَّخْلِ وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ .
#3413
Daif Isnaad
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Prophet (ﷺ) used to send Abdullah ibn Rawahah (to Khaybar), and he would assess the amount of dates when they began to ripen before they were eaten (by the Jews). He would then give choice to the Jews that they have them (on their possession) by that assessment or could assign to them (Muslims) by that assignment, so that the (amount of) zakat could be calculated before the fruit became eatable and distributed (among the people)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ( خیبر ) بھیجتے تھے، تو وہ کھجوروں کا اٹکل اندازہ لگاتے تھے جس وقت وہ پکنے کے قریب ہو جاتا کھائے جانے کے قابل ہونے سے پہلے پھر یہود کو اختیار دیتے کہ یا تو وہ اس اندازے کے مطابق نصف لے لیں یا آپ کو دے دیں تاکہ وہ زکوٰۃ کے حساب و کتاب میں آ جائیں، اس سے پہلے کہ پھل کھائے جائیں اور ادھر ادھر بٹ جائیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَبْعَثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَيَخْرُصُ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ ثُمَّ يُخَيِّرُ يَهُودَ يَأْخُذُونَهُ بِذَلِكَ الْخَرْصِ أَوْ يَدْفَعُونَهُ إِلَيْهِمْ بِذَلِكَ الْخَرْصِ لِكَىْ تُحْصَى الزَّكَاةُ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثِّمَارُ وَتُفَرَّقَ .
#3414
Sahih
Narrated Jabir ibn Abdullah: When Allah bestowed Khaybar on His Prophet (ﷺ) as fay' (as a result of conquest without fighting), the Messenger of Allah (ﷺ) allowed (them) to remain there as they were before, and apportioned it between him and them. He then sent Abdullah ibn Rawahah who assessed (the amount of dates) upon them
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ نے اپنے رسول کو خیبر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں کو ان کی جگہوں پر رہنے دیا جیسے وہ پہلے تھے اور خیبر کی زمین کو ( آدھے آدھے کے اصول پر ) انہیں بٹائی پر دے دیا اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ( تخمینہ لگا کر تقسیم کے لیے ) بھیجا تو انہوں نے جا کر اندازہ کیا ( اور اسی اندازے کا نصف ان سے لے لیا ) ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ خَيْبَرَ فَأَقَرَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا كَانُوا وَجَعَلَهَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَبَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَخَرَصَهَا عَلَيْهِمْ .
#3415
Sahih Isnaad
Narrated Jabir ibn Abdullah: Ibn Rawahah assessed them (the amount of dates) at forty thousand wasqs, and when Ibn Rawahah gave them option, the Jews took the fruits in their possession and twenty thousand wasqs of dates were due from them
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے چالیس ہزار وسق ( کھجور ) کا اندازہ لگایا ( ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے ) اور ان کا خیال ہے کہ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جب یہود کو اختیار دیا ( کہ وہ ہمیں اس کا نصف دے دیں، یا ہم سے اس کا نصف لے لیں ) تو انہوں نے پھل اپنے پاس رکھا اور انہیں بیس ہزار وسق ( کٹائی کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دینا پڑا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ خَرَصَهَا ابْنُ رَوَاحَةَ أَرْبَعِينَ أَلْفَ وَسْقٍ وَزَعَمَ أَنَّ الْيَهُودَ لَمَّا خَيَّرَهُمُ ابْنُ رَوَاحَةَ أَخَذُوا الثَّمَرَ وَعَلَيْهِمْ عِشْرُونَ أَلْفَ وَسْقٍ .
#3416
Sahih
Narrated Ubaydah ibn as-Samit: I taught some persons of the people of Suffah writing and the Qur'an. A man of them presented to me a bow. I said: It cannot be reckoned property; may I shoot with it in Allah's path? I must come to the Apostle of of Allah (ﷺ) and ask him (about it). So I came to him and said : Messenger of Allah (ﷺ), one of those whom I have been teaching writing and the Qur'an has presented me a bow, and as it cannot be reckoned property, may I shoot with it in Allah's path? He said: If you want to have a necklace of fire on you, accept it
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اصحاب صفہ کے کچھ لوگوں کو قرآن پڑھنا اور لکھنا سکھایا تو ان میں سے ایک نے مجھے ایک کمان ہدیتہً دی، میں نے ( جی میں ) کہا یہ کوئی مال تو ہے نہیں، اس سے میں فی سبیل اللہ تیر اندازی کا کام لوں گا ( پھر بھی ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا اور آپ سے اس بارے میں پوچھوں گا، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جن لوگوں کو قرآن پڑھنا لکھنا سکھا رہا تھا، ان میں سے ایک شخص نے مجھے ہدیہ میں ایک کمان دی ہے، اور اس کی کچھ مالیت تو ہے نہیں، میں اس سے اللہ کی راہ میں جہاد کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں پسند ہو کہ تمہیں آگ کا طوق پہنایا جائے تو اس کمان کو قبول کر لو ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَىٍّ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ الْكِتَابَ وَالْقُرْآنَ فَأَهْدَى إِلَىَّ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَوْسًا فَقُلْتُ لَيْسَتْ بِمَالٍ وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلأَسْأَلَنَّهُ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ أَهْدَى إِلَىَّ قَوْسًا مِمَّنْ كُنْتُ أُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْقُرْآنَ وَلَيْسَتْ بِمَالٍ وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ . قَالَ " إِنْ كُنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَوَّقَ طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْهَا " .
#3417
Sahih
A similar tradition has also been transmitted by 'Ubadah b. al-Samit through a different chain of narrators, but the former tradition is more perfect. This version has:I said: What do you think about it, Messenger of Allah? He said: A live coal between your shoulders which you have put around your neck or hanged it
اس سند سے بھی عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، لیکن اس سے پہلی والی روایت زیادہ مکمل ہے اس میں یہ ہے کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے دونوں مونڈھوں کے درمیان ایک انگارا ہے جسے تم نے گلے کا طوق بنا لیا ہے یا اسے لٹکا لیا ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ نُسَىٍّ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ - وَالأَوَّلُ أَتَمُّ - فَقُلْتُ مَا تَرَى فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ " جَمْرَةٌ بَيْنَ كَتِفَيْكَ تَقَلَّدْتَهَا " . أَوْ " تَعَلَّقْتَهَا " .
#3418
Sahih
Narrated Abu Sa’id Al Khudri :Some of the Companions of Prophet (ﷺ) went on a journey. They encamped with a clan of the Arabs and sought hospitality from them, but they refused to provide them with any hospitality. The chief of the clan was stung by a scorpion or bitten by a snake. They gave him all sorts of treatment, but nothing gave him relied. One of them said: Would that you had gone to those people who encamped with you ; some of them might have something which could give you relief to your companion. (So they went and) one of them said: Our chief has been stung by a scorpion or bitten by a snake. We administered all sorts of medicine but nothing gave him relief. Has any of you anything, i.e. charm, which gives healing to our companion. One of those people said: I shall apply charm; we sought hospitality from you, but you refused to entertain us. I am not going to apply charm until you give me some wages. So they offered them a number of sheep. He then came to and recited Faithat-al-Kitab and spat until he was cured as if he were set free from a bond. Thereafter they made payment of the wages as agreed by them. They said: Apportion (the wages). The man who applied the charm said: Do not do until we come to the Messenger of Allah (ﷺ) and consult him. So they came to the Messenger of Allah (ﷺ) next morning and mentioned it to him. The Messenger of Allah (ﷺ) said: From where did you learn that it was a charm ? You have done right. Give me a share along with you
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی ایک جماعت ایک سفر پر نکلی اور عرب کے قبائل میں سے کسی قبیلے کے پاس وہ لوگ جا کر ٹھہرے اور ان سے مہمان نوازی طلب کی تو انہوں نے مہمان نوازی سے انکار کر دیا وہ پھر اس قبیلے کے سردار کو سانپ یا بچھو نے کاٹ ( ڈنک مار دیا ) کھایا، انہوں نے ہر چیز سے علاج کیا لیکن اسے کسی چیز سے فائدہ نہیں ہو رہا تھا، تب ان میں سے ایک نے کہا: اگر تم ان لوگوں کے پاس آتے جو تمہارے یہاں آ کر قیام پذیر ہیں، ممکن ہے ان میں سے کسی کے پاس کوئی چیز ہو جو تمہارے ساتھی کو فائدہ پہنچائے ( وہ آئے ) اور ان میں سے ایک نے کہا: ہمارا سردار ڈس لیا گیا ہے ہم نے اس کی شفایابی کے لیے ہر طرح کی دوا دارو کر لی لیکن کوئی چیز اسے فائدہ نہیں دے رہی ہے، تو کیا تم میں سے کسی کے پاس جھاڑ پھونک قسم کی کوئی چیز ہے جو ہمارے ( ساتھی کو شفاء دے ) ؟ تو اس جماعت میں سے ایک شخص نے کہا: ہاں، میں جھاڑ پھونک کرتا ہوں، لیکن بھائی بات یہ ہے کہ ہم نے چاہا کہ تم ہمیں اپنا مہمان بنا لو لیکن تم نے ہمیں اپنا مہمان بنانے سے انکار کر دیا، تو اب جب تک اس کا معاوضہ طے نہ کر دو میں جھاڑ پھونک کرنے والا نہیں، انہوں نے بکریوں کا ایک گلہ دینے کا وعدہ کیا تو وہ ( صحابی ) سردار کے پاس آئے اور سورۃ فاتحہ پڑھ کر تھوتھو کرتے رہے یہاں تک کہ وہ شفایاب ہو گیا، گویا وہ رسی کی گرہ سے آزاد ہو گیا، تو ان لوگوں نے جو اجرت ٹھہرائی تھی وہ پوری پوری دے دی، تو صحابہ نے کہا: لاؤ اسے تقسیم کر لیں، تو اس شخص نے جس نے منتر پڑھا تھا کہا: نہیں ابھی نہ کرو یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے پوچھ لیں تو وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے پورا واقعہ ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم نے کیسے جانا کہ یہ جھاڑ پھونک ہے؟ تم نے اچھا کیا، اپنے ساتھ تم میرا بھی ایک حصہ لگانا ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَهْطًا، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْطَلَقُوا فِي سَفْرَةٍ سَافَرُوهَا فَنَزَلُوا بِحَىٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَاسْتَضَافُوهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمْ - قَالَ - فَلُدِغَ سَيِّدُ ذَلِكَ الْحَىِّ فَشَفَوْا لَهُ بِكُلِّ شَىْءٍ لاَ يَنْفَعُهُ شَىْءٌ . فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَوْ أَتَيْتُمْ هَؤُلاَءِ الرَّهْطَ الَّذِينَ نَزَلُوا بِكُمْ لَعَلَّ أَنْ يَكُونَ عِنْدَ بَعْضِهِمْ شَىْءٌ يَنْفَعُ صَاحِبَكُمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّ سَيِّدَنَا لُدِغَ فَشَفَيْنَا لَهُ بِكُلِّ شَىْءٍ فَلاَ يَنْفَعُهُ شَىْءٌ فَهَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ شَىْءٌ يَشْفِي صَاحِبَنَا يَعْنِي رُقْيَةً . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ إِنِّي لأَرْقِي وَلَكِنِ اسْتَضَفْنَاكُمْ فَأَبَيْتُمْ أَنْ تُضَيِّفُونَا مَا أَنَا بِرَاقٍ حَتَّى تَجْعَلُوا لِي جُعْلاً . فَجَعَلُوا لَهُ قَطِيعًا مِنَ الشَّاءِ فَأَتَاهُ فَقَرَأَ عَلَيْهِ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَيَتْفُلُ حَتَّى بَرِئَ كَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَأَوْفَاهُمْ جُعْلَهُمُ الَّذِي صَالَحُوهُ عَلَيْهِ . فَقَالُوا اقْتَسِمُوا فَقَالَ الَّذِي رَقَى لاَ تَفْعَلُوا حَتَّى نَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَسْتَأْمِرَهُ . فَغَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرُوا لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مِنْ أَيْنَ عَلِمْتُمْ أَنَّهَا رُقْيَةٌ أَحْسَنْتُمْ وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ " .
#3419
Daif
This tradition has also been transmitted by Abu Sa'id al-Khudri form the Prophet (ﷺ)
اس سند سے بھی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَخِيهِ، مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ .
#3420
Sahih
Kharijah b. al-Salt quoted his paternal uncle as saying that he passed by a clan (of the Arab) who came to him and said:You have brought what is good from this man. Then they brought a lunatic in chains. He recited Surat al-Fatihah over him three days, morning and evening. When he finished, he collected his saliva and then spat it out, (he felt relief) as if he were set free from a bond. They gave him something (as wages). He then came to the Prophet (ﷺ) and mentioned it to him. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Accept it, for by my life, some accept it for a worthless charm, but you have done so far a genuine one
خارجہ بن صلت کے چچا علاقہ بن صحار تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کا گزر ایک قوم کے پاس سے ہوا تو وہ لوگ ان کے پاس آئے اور کہا کہ آپ آدمی ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس سے بھلائی لے کر آئے ہیں، تو ہمارے اس آدمی کو ذرا جھاڑ پھونک دیں، پھر وہ لوگ رسیوں میں بندھے ہوئے ایک پاگل لے کر آئے، تو انہوں نے اس پر تین دن تک صبح و شام سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا، جب وہ اسے ختم کرتے تو ( منہ میں ) تھوک جمع کرتے پھر تھو تھو کرتے، پھر وہ شخص ایسا ہو گیا، گویا اس کی گرہیں کھل گئیں، ان لوگوں نے ان کو کچھ دیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( بے دھڑک ) کھاؤ، قسم ہے ( یعنی اس ذات کی جس کے اختیار میں میری زندگی ہے ) لوگ تو جھوٹا منتر پڑھ کر کھاتے ہیں، آپ تو سچا منتر پڑھ کر کھا رہے ہیں ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ فَأَتَوْهُ فَقَالُوا إِنَّكَ جِئْتَ مِنْ عِنْدِ هَذَا الرَّجُلِ بِخَيْرٍ فَارْقِ لَنَا هَذَا الرَّجُلَ . فَأَتَوْهُ بِرَجُلٍ مَعْتُوهٍ فِي الْقُيُودِ فَرَقَاهُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً كُلَّمَا خَتَمَهَا جَمَعَ بُزَاقَهُ ثُمَّ تَفَلَ فَكَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَأَعْطُوهُ شَيْئًا فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَهُ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " كُلْ فَلَعَمْرِي لَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةٍ بَاطِلٍ لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةٍ حَقٍّ " .
#3421
Sahih
Narrated Rafi' ibn Khadij: The Prophet (ﷺ) said: The earnings of a cupper are impure, the price paid for a dog is impure, and the hire paid to a prostitute is impure
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سینگی ( پچھنا ) لگانے والے کی کمائی بری ( غیر شریفانہ ) ہے ۱؎ کتے کی قیمت ناپاک ہے اور زانیہ عورت کی کمائی ناپاک ( یعنی حرام ) ہے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ قَارِظٍ - عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ وَثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ " .
#3422
Sahih
Narrated Muhayyisah ibn Ka'b: Muhayyisah asked permission of the Messenger of Allah (ﷺ) regarding hire of the cupper, but he forbade him. He kept on asking his permission, and at last he said to him: Feed your watering camel with it and feed your slave with it
محیصہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی لگا کر اجرت لینے کی اجازت مانگی تو آپ نے انہیں اس کے لینے سے منع فرمایا، وہ برابر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھتے اور اجازت طلب کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ نے ان سے کہہ دیا کہ اس سے اپنے اونٹ اور اپنے غلام کو چارہ کھلاؤ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ مُحَيِّصَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي إِجَارَةِ الْحَجَّامِ فَنَهَاهُ عَنْهَا فَلَمْ يَزَلْ يَسْأَلُهُ وَيَسْتَأْذِنُهُ حَتَّى أَمَرَهُ أَنِ اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ وَرَقِيقَكَ .
#3423
Sahih
Narrated Ibn 'Abbas:The Messenger of Allah (ﷺ) got him self cupped and gave the cupper his wages. Had he considered it impure, he would not have given it (wage) to him
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی، اور سینگی لگانے والے کو اس کی مزدوری دی، اگر آپ اسے حرام جانتے تو اسے مزدوری نہ دیتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَلَوْ عَلِمَهُ خَبِيثًا لَمْ يُعْطِهِ .
#3424
Sahih
Narrated Anas b. Malik :That Abu Tibah cupped the Messenger of Allah (ﷺ) and he ordered that a sa' of dates be given to him, also ordering his people to remit some of his dues
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ابوطیبہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سینگی لگائی تو آپ نے اسے ایک صاع کھجور دینے کا حکم دیا اور اس کے مالکان سے کہا کہ اس کے خراج میں کچھ کمی کر دیں۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ حَجَمَ أَبُو طَيْبَةَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ وَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ .
#3425
Sahih Hadith
Narrated Abu Hurairah:That the Messenger of Allah (ﷺ) forbade earnings of slave-girls
ابوحازم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کی کمائی لینے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ كَسْبِ الإِمَاءِ .