#3426
Hasan
Narrated Tariq ibn AbdurRahman al-Qarash: Rafi' ibn Rifa'ah came to a meeting of the Ansar and said: The Prophet of Allah (ﷺ) forbade us (from some things) today, and he mentioned some things. He forbade the earning of a slave-girl except what she earned with her hand. He indicated (some things) with his fingers such as baking, spinning, and ginning
طارق بن عبدالرحمٰن قرشی کہتے ہیں رافع بن رفاعہ رضی اللہ عنہ انصار کی ایک مجلس میں آئے اور کہنے لگے کہ آج اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا ہے، پھر انہوں نے کچھ چیزوں کا ذکر کیا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی کی کمائی ( زنا کی کمائی ) سے منع فرمایا سوائے اس کمائی کے جو اس نے ہاتھ سے محنت کر کے کمائی ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں سے اشارہ کر کے بتایا، مثلاً روٹی پکانا، چرخہ کاتنا، روئی دھننا، جیسے کام۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنِي طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ، قَالَ جَاءَ رَافِعُ بْنُ رِفَاعَةَ إِلَى مَجْلِسِ الأَنْصَارِ فَقَالَ لَقَدْ نَهَانَا نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْيَوْمَ فَذَكَرَ أَشْيَاءَ وَنَهَانَا عَنْ كَسْبِ الأَمَةِ إِلاَّ مَا عَمِلَتْ بِيَدِهَا . وَقَالَ هَكَذَا بِأَصَابِعِهِ نَحْوَ الْخَبْزِ وَالْغَزْلِ وَالنَّفْشِ .
#3427
Hasan
Narrated Rafi' b. Khadij:The Messenger of Allah (ﷺ) forbade earnings of a slave-girl unless it is known from where it came
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی کی کمائی سے منع فرمایا ہے جب تک کہ یہ معلوم نہ ہو جائے کہ اس نے کہاں سے حاصل کیا ہے ۱؎؟ ۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ هُرَيْرٍ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، رَافِعٍ - هُوَ ابْنُ خَدِيجٍ - قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ كَسْبِ الأَمَةِ حَتَّى يُعْلَمَ مِنْ أَيْنَ هُوَ .
#3428
Sahih
Narrated AbuMas'ud: The Prophet (ﷺ) forbade the price paid for a dog, the hire paid to a prostitute, and the gift given to a soothsayer
ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت ۱؎، زانیہ عورت کی کمائی ۲؎، اور کاہن کی اجرت ۳؎لینے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ .
#3429
Sahih
Narrated Abdullah ibn Umar: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade (taking hire for) a stallion's covering
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ .
#3430
Daif
AbuMajidah said:I cut the ear of a boy, or he cut my ear (the narrator is doubtful). AbuBakr then came to us to perform hajj and we got together with him. But he referred us to Umar ibn al-Khattab. Umar (ibn al-Khattab) said: This reached the extent of retaliation. Call a cupper to me so that he may retaliate. When the cupper was called, he (Umar) said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: I gave a boy to my maternal aunt, and I hope that she will be blessed in respect of him. I said to her: Do not entrust him to a supper, nor to a goldsmith, nor to a butcher. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by 'Abd al-A'la from Ibn Ishaq who said: Abu Majidah is a man of Banu Sahm narrating from 'Umar b. al-Khattab
ابوماجدہ کہتے ہیں میں نے ایک غلام کا کان کاٹ لیا، یا میرا کان کاٹ لیا گیا، ( یہ شک راوی کو ہوا ہے ) ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں حج کے ارادے سے آئے، ہم سب ان کے پاس جمع ہو گئے، تو انہوں نے ہمیں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ معاملہ تو قصاص تک پہنچ گیا ہے، کسی حجام ( پچھنا لگانے والے ) کو میرے پاس بلا کر لاؤ تاکہ وہ اس سے ( جس نے کان کاٹا ہے ) قصاص لے، پھر جب حجام ( پچھنا لگانے والا ) بلا کر لایا گیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: میں نے اپنی خالہ کو ایک غلام ہبہ کیا اور میں نے امید کی کہ انہیں اس غلام سے برکت ہو گی تو میں نے ان سے کہا کہ اس غلام کو کسی حجام ( سینگی لگانے والے ) ، سنار اور قصاب کے حوالے نہ کر دینا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالاعلی نے اسے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ابن ماجدہ بنو سہم کے ایک فرد ہیں اور انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ( عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی روایت مرسل ہے)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَاجِدَةَ، قَالَ قَطَعْتُ مِنْ أُذُنِ غُلاَمٍ - أَوْ قُطِعَ مِنْ أُذُنِي - فَقَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ حَاجًّا فَاجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ فَرَفَعَنَا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ هَذَا قَدْ بَلَغَ الْقِصَاصَ ادْعُوا لِي حَجَّامًا لِيَقْتَصَّ مِنْهُ فَلَمَّا دُعِيَ الْحَجَّامُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنِّي وَهَبْتُ لِخَالَتِي غُلاَمًا وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يُبَارَكَ لَهَا فِيهِ فَقُلْتُ لَهَا لاَ تُسَلِّمِيهِ حَجَّامًا وَلاَ صَائِغًا وَلاَ قَصَّابًا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى عَبْدُ الأَعْلَى عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ ابْنُ مَاجِدَةَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْمٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ .
#3431
Daif
A similar tradition has also been transmitted by Abu Majidah al-Sahmi from 'Umar b. al-Khattab through a different chain of narrators
ابن ماجدہ سہمی نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُرَقِيُّ، عَنِ ابْنِ مَاجِدَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
#3432
Daif
Abu Majidah quoted 'Umar b. al-Khattab as saying:I heard the Prophet (ﷺ) say ... narrating the tradition to the same effect
اس سند سے بھی ابن ماجدہ سہمی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم مثل روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُرَقِيُّ، عَنِ ابْنِ مَاجِدَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ .
#3433
Sahih
Narrated Ibn 'Umar:The Prophet (ﷺ) as saying: If anyone buys a slave who possesses property. his property belongs to the seller unless buyer makes a provision and if anyone buys palm-trees after they have been fecundated, the fruit belongs to the seller unless the buyer make a provision
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی غلام کو بیچا اور اس کے پاس مال ہو، تو اس کا مال بائع لے گا، الا یہ کہتے ہیں کہ خریدار پہلے سے اس مال کی شرط لگا لے ۱؎، ( ایسے ہی ) جس نے تابیر ( اصلاح ) کئے ہوئے ( گابھا دئیے ہوئے کھجور کا درخت بیچا تو پھل بائع کا ہو گا الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت شرط لگا لے ( کہ پھل میں لوں گا ) ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَهُ الْمُبْتَاعُ وَمَنْ بَاعَ نَخْلاً مُؤَبَّرًا فَالثَّمَرَةُ لِلْبَائِعِ إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " .
#3434
Daif
This tradition has also been narrated by 'Umar from the Messenger of Allah (ﷺ) through a different chain of narrators. It mentions only the sale of the slave. It has also been transmitted by Nafi' on the authority of Ibn 'Umar from the Prophet (ﷺ) indicating only the sale of palm-trees. Abu Dawud said:Al-Zuhri and Nafi' differed among themselves in four traditions. This is one of them
عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غلام کا واقعہ روایت کیا ہے، اور نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کھجور کے درخت کے واقعہ کی روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زہری اور نافع نے چار حدیثوں میں اختلاف کیا ہے جن میں سے ایک یہ ہے۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقِصَّةِ الْعَبْدِ وَعَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِقِصَّةِ النَّخْلِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَاخْتَلَفَ الزُّهْرِيُّ وَنَافِعٌ فِي أَرْبَعَةِ أَحَادِيثَ هَذَا أَحَدُهَا .
#3435
Sahih
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: If anyone buys a slave who possesses property, his property belongs to the seller unless the buyer makes a proviso
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی ایسا غلام بیچا جس کے پاس مال ہو تو مال بیچنے والے کو ملے گا، الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت شرط لگا لے ( کہ مال میں لوں گا تو پھر خریدار ہی پائے گا ) ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، حَدَّثَنِي مَنْ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " .
#3436
Sahih
Narrated 'Abdullah bin 'Umar:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: None of you must buy in opposition to one another ; and do not go out to meet the merchandise, (but one must wait) till it is brought down to the market
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرے ۱؎ اور تاجر سے پہلے ہی مل کر سودا نہ کرے جب تک کہ وہ اپنا سامان بازار میں نہ اتار لے ۲؎ ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَلاَ تَلَقَّوُا السِّلَعَ حَتَّى يُهْبَطَ بِهَا الأَسْوَاقَ " .
#3437
Sahih
Abu Hurairah said:Do not go our to meet what is being brought (to market for sale). If anyone does so and buys some of it, the owner of merchandise has a choice (of canceling the deal) when it comes to the market. Abu 'Ali said: I heard Abu Dawud say: Sufyan said: none of you must buy in opposition to one another ; that is he says: I have a better one for ten (dirhams)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جلب سے یعنی مال تجارت بازار میں آنے سے پہلے ہی راہ میں جا کر سودا کر لینے سے منع فرمایا ہے، لیکن اگر خریدنے والے نے آگے بڑھ کر ( ارزاں ) خرید لیا، تو صاحب سامان کو بازار میں آنے کے بعد اختیار ہے ( کہ وہ چاہے اس بیع کو باقی رکھے، اور چاہے تو فسخ کر دے ) ۔ ابوعلی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ سفیان نے کہا کہ کسی کے بیع پر بیع نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ( خریدار کوئی چیز مثلاً گیارہ روپے میں خرید رہا ہے تو کوئی اس سے یہ نہ کہے ) کہ میرے پاس اس سے بہتر مال دس روپے میں مل جائے گا۔
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيَّ - عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ تَلَقِّي الْجَلَبِ فَإِنْ تَلَقَّاهُ مُتَلَقٍّ مُشْتَرٍ فَاشْتَرَاهُ فَصَاحِبُ السِّلْعَةِ بِالْخِيَارِ إِذَا وَرَدَتِ السُّوقَ . قَالَ أَبُو عَلِيٍّ سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ يَقُولُ قَالَ سُفْيَانُ لاَ يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ أَنْ يَقُولَ إِنَّ عِنْدِي خَيْرًا مِنْهُ بِعَشْرَةٍ .
#3438
Sahih
Narrated Abu Hurairah:The Prophet (ﷺ) forbade to bid against one another
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نجش نہ کرو ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَنَاجَشُوا " .
#3439
Sahih
Narrated Ibn 'Abbas:The Messenger of Allah (ﷺ) forbade a townsman to sell for a man from the desert. I asked: What do you mean by the selling of a townsman for a man from the desert ? He replied: He should not be a broker for him
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی چیز بیچے، میں ( طاؤس ) نے کہا: شہری دیہاتی کی چیز نہ بیچے اس کا کیا مطلب ہے؟ تو ابن عباس نے فرمایا: ( اس کا مطلب یہ ہے کہ ) وہ اس کی دلالی نہ کرے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ . فَقُلْتُ مَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ لاَ يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا .
#3440
Sahih
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet (ﷺ) said: A townsman must not sell for a man from the desert, even if he is his brother or father. Abu Dawud said: Anas b. Malik said: It was said: A townsman must not sell for a man from the desert. This phrase carries a broad meaning. It means that the (the townsman) must not sell anything for him or buy anything for him
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے اگرچہ وہ اس کا بھائی یا باپ ہی کیوں نہ ہو ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے حفص بن عمر کو کہتے ہوئے سنا: مجھ سے ابوہلال نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: مجھ سے محمد نے بیان کیا انہوں نے انس بن مالک سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: لوگ کہا کرتے تھے کہ شہری دیہاتی کا سامان نہ بیچے، یہ ایک جامع کلمہ ہے ( مفہوم یہ ہے کہ ) نہ اس کے واسطے کوئی چیز بیچے اور نہ اس کے لیے کوئی چیز خریدے ( یہ ممانعت دونوں کو عام ہے ) ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الزِّبْرِقَانَ أَبَا هَمَّامٍ، حَدَّثَهُمْ - قَالَ زُهَيْرٌ وَكَانَ ثِقَةً - عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ أَوْ أَبَاهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ حَدَّثَنَا أَبُو هِلاَلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ يُقَالُ لاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ . وَهِيَ كَلِمَةٌ جَامِعَةٌ لاَ يَبِيعُ لَهُ شَيْئًا وَلاَ يَبْتَاعُ لَهُ شَيْئًا .
#3441
Daif Isnaad
Narrated Salim al-Makki: That a bedouin told him that he brought a milch she-camel in the time of the Messenger of Allah (ﷺ). He alighted with Talhah ibn Ubaydullah (and wanted to sell his milch animal to him). He said: The Prophet (ﷺ) forbade a townsman to sell for a man from the desert. But go to the market and see who buys from you. consult me thereafter, and then I shall ask you (to sell) or forbid you
سالم مکی سے روایت ہے کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے ان سے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی ایک دودھاری اونٹنی لے کر آیا، یا اپنا بیچنے کا سامان لے کر آیا، اور طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس قیام کیا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہری کو دیہاتی کا سامان کو بیچنے سے روکا ہے ( اس لیے میں تمہارے ساتھ تمہارا دلال بن کر تو نہ جاؤں گا ) لیکن تم بازار جاؤ اور دیکھو کون کون تم سے خرید و فروخت کرنا چاہتا ہے پھر تم مجھ سے مشورہ کرنا تو میں تمہیں بتاؤں گا کہ دے دو یا نہ دو۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَالِمٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، قَدِمَ بِحَلُوبَةٍ لَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَزَلَ عَلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ فَقَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلَكِنِ اذْهَبْ إِلَى السُّوقِ فَانْظُرْ مَنْ يُبَايِعُكَ فَشَاوِرْنِي حَتَّى آمُرَكَ أَوْ أَنْهَاكَ .
#3442
Sahih
Narrated Jabir: The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: A townsman must not sell for a man from the desert ; and leave people alone, Allah will give them provision from one another
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شہری کسی دیہاتی کی چیز نہ بیچے، لوگوں کو چھوڑ دو ( انہیں خود سے لین دین کرنے دو ) اللہ بعض کو بعض کے ذریعہ روزی دیتا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَذَرُوا النَّاسَ يَرْزُقِ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ " .
#3443
Sahih
Narrated Abu Hurairah:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Do not go out to meet riders to conduct business with them ; none of you must buy in opposition to one another; and do not tie up the udders of camels and sheep, for he who buys them after that has been done has two courses open to him after milking them: he may keep them if he is pleased with them, or he may return them along with a sa' of dates is he is displeased with them
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجارتی قافلوں سے آگے بڑھ کر نہ ملو ۱؎، کسی کی بیع پر بیع نہ کرو، اور اونٹ و بکری کا تصریہ ۲؎ نہ کرو جس نے کوئی ایسی بکری یا اونٹنی خریدی تو اسے دودھ دوہنے کے بعد اختیار ہے، چاہے تو اسے رکھ لے اور چاہے تو پسند کر کے اسے واپس کر دے، اور ساتھ میں ایک صاع کھجور دیدے ۳؎ ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَلَقَّوُا الرُّكْبَانَ لِلْبَيْعِ وَلاَ يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَلاَ تُصَرُّوا الإِبِلَ وَالْغَنَمَ فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلِبَهَا فَإِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ " .
#3444
Sahih
Narrated Abu Hurairah: The Prophet (ﷺ) as saying: If anyone buys sheep whose udders have been tied up, he has option for three days: he may return it if he desires with a sa' of any grain, not (necessarily) wheat
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے تصریہ کی ہوئی بکری خریدی تو اسے تین دن تک اختیار ہے چاہے تو اسے لوٹا دے، اور ساتھ میں ایک صاع غلہ ( جو غلہ بھی میسر ہو ) دیدے، گیہوں دینا ضروری نہیں ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَهِشَامٍ، وَحَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ إِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ طَعَامٍ لاَ سَمْرَاءَ " .
#3445
Sahih Hadith
Narrated Abu Hurairah:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: If anyone buys sheep or goat whose udders have been tied up and he milked it, he may keep it if he is pleased with it, or he may return it if he is displeased with it. There is one sa' of dates (which he must give to the seller) for milking it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے تھن میں دودھ جمع کی ہوئی بکری خریدی اسے دوہا، تو اگر اسے پسند ہو تو روک لے اور اگر ناپسند ہو تو دوہنے کے عوض ایک صاع کھجور دے کر اسے واپس پھیر دے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَخْلَدٍ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ، - يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ - حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي زِيَادٌ، أَنَّ ثَابِتًا، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنِ اشْتَرَى غَنَمًا مُصَرَّاةً احْتَلَبَهَا فَإِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ سَخِطَهَا فَفِي حَلْبَتِهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ " .
#3446
Daif
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) said: If anyone buys a sheep whose udders have been tied up, he has option for three days (for decision). If he returns it, he should return with it wheat equal to its milk or double of it
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی تھن میں دودھ جمع کی ہوئی ( مادہ ) خریدے تو تین دن تک اسے اختیار ہے ( چاہے تو رکھ لے تو کوئی بات نہیں ) اور اگر واپس کرتا ہے، تو اس کے ساتھ اس کے دودھ کے برابر یا اس دودھ کے دو گنا گیہوں بھی دے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنِ ابْتَاعَ مُحَفَّلَةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا مِثْلَ أَوْ مِثْلَىْ لَبَنِهَا قَمْحًا " .
#3447
Sahih
Narrated Ma'mar b. Abi Ma'mar, one of the children of 'Adi b. Ka'b: The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: No one withholds goods till their price rises but a sinner. I said to Sa'id (b. al-Musayyab): You withhold goods till their price rises. He said: Ma'mar used to withhold goods till their price rose. Abu Dawud said: I asked Ahmad (b. Hanbal): What is hoarding (hukrah) ? He replied: That on which people live. Abu Dawud said: Al-Auza'i said: A muhtakir (one who hoards) is one who withholds supply of goods in the market
بنو عدی بن کعب کے ایک فرد معمر بن ابی معمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھاؤ بڑھانے کے لیے احتکار ( ذخیرہ اندوزی ) وہی کرتا ہے جو خطاکار ہو ۔ محمد بن عمرو کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے کہا: آپ تو احتکار کرتے ہیں، انہوں نے کہا: معمر بھی احتکار کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے امام احمد سے پوچھا: حکرہ کیا ہے؟ ( یعنی احتکار کا اطلاق کس چیز پر ہو گا ) انہوں نے کہا: جس پر لوگوں کی زندگی موقوف ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اوزاعی کہتے ہیں: احتکار ( ذخیرہ اندوزی ) کرنے والا وہ ہے جو بازار کے آڑے آئے یعنی اس کے لیے رکاوٹ بنے۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِي مَعْمَرٍ، أَحَدِ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَحْتَكِرُ إِلاَّ خَاطِئٌ " . فَقُلْتُ لِسَعِيدٍ فَإِنَّكَ تَحْتَكِرُ قَالَ وَمَعْمَرٌ كَانَ يَحْتَكِرُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَسَأَلْتُ أَحْمَدَ مَا الْحُكْرَةُ قَالَ مَا فِيهِ عَيْشُ النَّاسِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ الأَوْزَاعِيُّ الْمُحْتَكِرُ مَنْ يَعْتَرِضُ السُّوقَ .
#3448
Daif Isnaad Maqtu
Qatadah said:Hoarding does not apply to dried dates. Ibn al-Muthanna said that he (Yahya b. Fayyad) reported on the authority of al-Hasan. We (Ibn al-Muthanna) said to him (Yahya): Do not say: "on the authority of al-Hasan." Abu Dawud said: This tradition according to us is false. Abu Dawud said: Sa'id b. al-Musayyab used to hoard kernel, fodder, and seeds. Abu Dawud said: I heard Ahmad b. Yunus say: I asked Sufyan about hoarding fodder. He replied: They (the people in the past) disapproved of hoarding. I asked Abu Bakr b. 'Ayyash (about it). He replied: Hoard it
قتادہ کہتے ہیں کھجور میں احتکار ( ذخیرہ اندودزی ) نہیں ہے۔ ابن مثنی کی روایت میں یحییٰ بن فیاض نے یوں کہا «حدثنا همام عن قتادة عن الحسن» محمد بن مثنی کہتے ہیں تو ہم نے ان سے کہا: «عن قتادة» کے بعد «عن الحسن» نہ کہیے ( کیونکہ یہ قول حسن بصری کا نہیں ہے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمارے نزدیک باطل ہے۔ سعید بن مسیب کھجور کی گٹھلی، جانوروں کے چارے اور بیجوں کی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔ اور میں نے احمد بن یونس کو کہتے سنا کہ میں نے سفیان ( ابن سعید ثوری ) سے جانوروں کے چاروں کے روک لینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: لوگ احتکار ( ذخیرہ اندوزی ) کو ناپسند کرتے تھے۔ اور میں نے ابوبکر بن عیاش سے پوچھا تو انہوں نے کہا: روک لو ( کوئی حرج نہیں ہے ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَيَّاضٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَيَّاضِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ لَيْسَ فِي التَّمْرِ حُكْرَةٌ . قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى قَالَ عَنِ الْحَسَنِ فَقُلْنَا لَهُ لاَ تَقُلْ عَنِ الْحَسَنِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدَنَا بَاطِلٌ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ يَحْتَكِرُ النَّوَى وَالْخَبَطَ وَالْبِزْرَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ يُونُسَ يَقُولُ سَأَلْتُ سُفْيَانَ عَنْ كَبْسِ الْقَتِّ فَقَالَ كَانُوا يَكْرَهُونَ الْحُكْرَةَ وَسَأَلْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَيَّاشٍ فَقَالَ اكْبِسْهُ .
#3449
Daif
Narrated 'Alqamah b. 'Abdullah: On the authority of his father, who said: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade to break the coins of the Muslims current among them except for some defect
عبداللہ (مزنی) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے رائج سکے کو توڑنے سے منع فرمایا ہے مگر یہ کہ کسی کو ضرورت ہو۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ فَضَاءٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُكْسَرَ سِكَّةُ الْمُسْلِمِينَ الْجَائِزَةُ بَيْنَهُمْ إِلاَّ مِنْ بَأْسٍ .
#3450
Sahih
Narrated AbuHurayrah: A man came and said: Messenger of Allah, fix prices. He said: (No), but I shall pray. Again the man came and said: Messenger of Allah, fix prices. He said: It is but Allah Who makes the prices low and high. I hope that when I meet Allah, none of you has any claim on me for doing wrong regarding blood or property
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نرخ مقرر فرما دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( میں نرخ مقرر تو نہیں کروں گا ) البتہ دعا کروں گا ( کہ غلہ سستا ہو جائے ) ، پھر ایک اور شخص آپ کے پاس آیا اور اس نے بھی کہا: اللہ کے رسول! نرخ متعین فرما دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ہی نرخ گراتا اور اٹھاتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میں اللہ سے اس طرح ملوں کہ کسی کی طرف سے مجھ پر زیادتی کا الزام نہ ہو ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ بِلاَلٍ، حَدَّثَهُمْ حَدَّثَنِي الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَعِّرْ . فَقَالَ " بَلْ أَدْعُو " . ثُمَّ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَعِّرْ فَقَالَ " بَلِ اللَّهُ يَخْفِضُ وَيَرْفَعُ وَإِنِّي لأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ وَلَيْسَ لأَحَدٍ عِنْدِي مَظْلَمَةٌ " .