العربية
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ نُسَىٍّ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ - وَالأَوَّلُ أَتَمُّ - فَقُلْتُ مَا تَرَى فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ " جَمْرَةٌ بَيْنَ كَتِفَيْكَ تَقَلَّدْتَهَا " . أَوْ " تَعَلَّقْتَهَا " .
English
A similar tradition has also been transmitted by 'Ubadah b. al-Samit through a different chain of narrators, but the former tradition is more perfect. This version has:I said: What do you think about it, Messenger of Allah? He said: A live coal between your shoulders which you have put around your neck or hanged it اردو
اس سند سے بھی عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، لیکن اس سے پہلی والی روایت زیادہ مکمل ہے اس میں یہ ہے کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے دونوں مونڈھوں کے درمیان ایک انگارا ہے جسے تم نے گلے کا طوق بنا لیا ہے یا اسے لٹکا لیا ہے ۱؎ ۔