1
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَٰلَهُمْ
Those who disbelieve and avert [people] from the way of Allah - He will waste their deeds.
جن لوگوں نے کفر کیا اور (اَوروں کو) خدا کے رستے سے روکا۔ خدا نے ان کے اعمال برباد کر دیئے
کسانی که کافر شدند و (مردم را) از راه خدا بازداشتند، (خداوند) اعمالشان را نابود میکند!
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ - وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ - ذَٰلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَبِّهِمْ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَهُمْ
(1. Those who disbelieve and hinder (men) from the path of Allah, He will render their deeds vain.)(2. But those who believe and do righteous good deeds, and believe in that which is sent down to Muhammad – for it is the truth from their Lord – He expiates from them their sins and amends their Bal.)(3. That is because those who disbelieve follow falsehood, while those who believe follow the truth from their Lord. Thus does Allah set forth for mankind their parables.)
The Reward of the Disbelievers and the Believers
Allah says,
الَّذِينَ كَفَرُوا
(Those who disbelieve) meaning, in the Ayat of Allah.
وَصَدُّوا
(and hinder (men)) Others.
عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ
(from the path of Allah, He will render their deeds vain.) meaning, He renders their deeds vain and futile, and He denies them any rewards or blessings for them. This is similar to His saying,
وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَنْثُورًا
(And We will approach what they have done of deeds and make them as dispersed dust.)(25:23) Allah then says,
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ
(And those who believe and do righteous good deeds,) Which means that their hearts and souls have believed, and their limbs and their hidden and apparent acts have complied with Allah's Law.
وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ
(And believe in that which has been sent down to Muhammad) Adding this statement to the previous one is a method of adding a specific meaning to a general one. This provides proof that after Muhammad's advent, believing in him is a required condition for the true faith. Allah then says,
وَهُوَ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ
(For it is the truth from their Lord.) which is a beautifully placed parenthetical clause. Thus, Allah says,
كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ
(He expiates from them their sins and amends their Bal.)
Ibn 'Abbas, said, "This means their matter." Mujahid said, "This means their affair." Qatadah and Ibn Zayd both said, "Their condition." And all of these are similar in meaning. It has been mentioned (from the Prophet ﷺ) in the Hadith of the responding to one who sneezes,
يَهْدِيكُمُ اللهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ
(May Allah guide you and rectify your (Bal) affairs.) Then Allah says,
ذَٰلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ
(That is because those who disbelieve follow falsehood,) meaning, 'We only invalidate the deeds of the disbelievers and overlook the sins of the righteous, and amend their affairs, because those who disbelieve follow falsehood.' Meaning, they choose falsehood over the truth.
وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَبِّهِمْ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَهُمْ
(while those who believe follow the truth from their Lord. Thus does Allah set forth for the people their parables.) Thus He makes the consequence of their actions clear to them, and He shows them where they will end in their next life – and Allah knows best. Tafsir Ibn Kathir
ارشاد ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے خود بھی اللہ کی آیتوں کا انکار کیا اور دوسروں کو بھی راہ اللہ سے روکا اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال ضائع کر دئیے ان کی نیکیاں بیکار ہوگئیں، جیسے فرمان ہے ہم نے ان کے اعمال پہلے ہی غارت و برباد کر دئیے ہیں اور جو لوگ ایمان لائے دل سے اور شرع کے مطابق اعمال کئے بدن سے یعنی ظاہر و باطن دونوں اللہ کی طرف جھکا دئیے۔ اور اس وحی الہٰی کو بھی مان لیا جو موجودہ آخر الزمان پیغمبر ﷺ پر اتاری گئی ہے۔ اور جو فی الواقع رب کی طرف سے ہی ہے اور جو سراسر حق و صداقت ہی ہے۔ ان کی برائیاں برباد ہیں اور ان کے حال کی اصلاح کا ذمہ دار خود اللہ ہے اس سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کے نبی ہو چکنے کے بعد ایمان کی شرط آپ ﷺ پر اور قرآن پر ایمان لانا بھی ہے۔ حدیث کا حکم ہے کہ جس کی چھینک پر حمد کرنے کا جواب دیا گیا ہو اسے چاہیے کہ دعا (یھدیکم اللہ ویصلح بالکم) کہے یعنی اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت سنوار دے پھر فرماتا ہے کفار کے اعمال غارت کردینے کی مومنوں کی برائیاں معاف فرما دینے اور ان کی شان سنوار دینے کی وجہ یہ ہے کہ کفار تو ناحق کو اختیار کرتے ہیں حق کو چھوڑ کر اور مومن ناحق کو پرے پھینک کر حق کی پابندی کرتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کے انجام کو بیان فرماتا ہے اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ خوب جاننے والا ہے۔ Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ الْقِتَالِ
[وَهِيَ مَدَنِيَّةٌ] [[زيادة من ت، م، أ.]]
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ أَيْ: بِآيَاتِ اللَّهِ، ﴿وَصَدُّوا﴾ غَيْرَهُمْ ﴿عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ﴾ أَيْ: أَبْطَلَهَا وَأَذْهَبَهَا، وَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا جَزَاءً وَلَا ثَوَابًا، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَقَدِمْنَا إِلَى مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَنْثُورًا﴾ [الْفُرْقَانِ: ٢٣] .
ثُمَّ قَالَ: ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ أَيْ: آمَنَتْ قُلُوبُهُمْ وَسَرَائِرُهُمْ، وَانْقَادَتْ جَوَارِحُهُمْ وَبَوَاطِنُهُمْ وَظَوَاهِرُهُمْ، ﴿وَآمَنُوا بِمَا نزلَ عَلَى مُحَمَّدٍ﴾ ، عَطْفُ خَاصٍّ عَلَى عَامٍّ، وَهُوَ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهُ شَرْطٌ فِي صِحَّةِ الْإِيمَانِ بَعْدَ بِعْثَتِهِ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَهُوَ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ﴾ جُمْلَةٌ مُعْتَرِضَةٌ حَسَنَةٌ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَيْ أَمْرَهُمْ. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: شَأْنَهُمْ. وَقَالَ قَتَادَةُ وَابْنُ زَيْدٍ: حَالَهُمْ. وَالْكُلُّ مُتَقَارِبٌ. وَقَدْ جَاءَ فِي حَدِيثِ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ: "يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ" [[رواه أبو داود في السنن برقم (٥٠٣٨) والترمذي في السنن برقم (٢٧٣٩) وابن ماجه في السنن برقم (٣٧١٥) وقال الترمذي: "هذا حديث حسن صحيح".]] .
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿ذَلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ﴾ أَيْ: إِنَّمَا أَبْطَلْنَا أَعْمَالَ الْكُفَّارِ، وَتَجَاوَزْنَا عَنْ سَيِّئَاتِ الأبرار، وأصلحنا شؤونهم؛ لِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ، أَيِ: اخْتَارُوا الْبَاطِلَ عَلَى الْحَقِّ، ﴿وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَبِّهِمْ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَهُمْ﴾ أَيْ: يُبَيِّنُ لَهُمْ مَآلَ أَعْمَالِهِمْ، وَمَا يصيرون إليه في معادهم.