1
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ حمٓ
Ha, Meem.
حٰم
حم
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
حم - تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ - مَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَجَلٍ مُسَمًّى ۚ وَالَّذِينَ كَفَرُوا عَمَّا أُنْذِرُوا مُعْرِضُونَ - قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَرُونِي مَاذَا خَلَقُوا مِنَ الْأَرْضِ أَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمَاوَاتِ ۖ ائْتُونِي بِكِتَابٍ مِنْ قَبْلِ هَٰذَا أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ - وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَنْ لَا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ - وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ
(1. Ha Mim.)(2. The revelation of the Book is from Allah, the Almighty, the All-Wise.)(3. We created not the heavens and the earth and all that is between them except with truth, and for a specified term. But those who disbelieve, turn away from that whereof they are warned.)(4. Say: "Think you about all that you invoke besides Allah? Show me what have they created of the earth? Or have they a share in (the creation of) the heavens? Bring me a scripture prior to this or some trace of knowledge, if you are truthful!")(5. And who is more astray than those who invoke besides Allah others who will not answer them until the Day of Resurrection, and who are unaware of their invocations to them?)(6. And when mankind are gathered, they (false deities) will become their enemies and will deny their worship.)
The Qur'an is a Revelation from Allah and the Universe is His True Creation
Allah informs that He has revealed the Book to His servant and Messenger Muhammad – may Allah's blessings be upon him until the Day of Judgement. Allah then describes Himself as being of unimaginable glory, possessing ultimate wisdom in His statements and actions. Allah then says,
مَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ
(We created not the heavens and the earth and all that is between them except in truth,) meaning, not in idle play and falsehood.
وَأَجَلٍ مُسَمًّى
(and for a specified term.) meaning, for a fixed and specified duration that will not increase or decrease. Allah continues,
وَالَّذِينَ كَفَرُوا عَمَّا أُنْذِرُوا مُعْرِضُونَ
(But those who disbelieve, turn away from that of which they are warned.) Meaning, the disbelievers are distracted from what is intended for them. Allah has indeed revealed to them a Book and sent to them a Messenger. Yet, they obstinately turn away from all of that. Therefore, they will soon realize the consequence of their behavior.
Refuting the Idolators
Allah then says,
قُلْ
(Say) meaning, to these idolators who worship others besides Allah.
أَرَأَيْتُمْ مَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَرُونِي مَاذَا خَلَقُوا مِنَ الْأَرْضِ
(Think you about all that you invoke besides Allah? Show me what they have created of the earth?)(46:4) meaning, 'show me the place that they have independently created from the earth.'
أَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمَاوَاتِ
(Or have they a share in the heavens?) which means that they are not partners in anything in the heavens, nor on earth. They do not own even the thin membrane covering a date's pit. The dominion and control only belong to Allah, Exalted is He. 'How then would you worship others or join them as partners with Him? Who guided you to that? Who called you to that? Did He command you to do it, or is it something that you suggested yourselves?' Thus, He says,
ائْتُونِي بِكِتَابٍ مِنْ قَبْلِ هَٰذَا
(Bring me a scripture prior to this) meaning, 'bring a book from among the Books of Allah that have been revealed to the Prophets, that commands you to worship these idols.'
أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ
(or some trace of knowledge,) meaning, 'some clear evidence justifying this way you have chosen.'
إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
(if you are truthful!) meaning, 'you have absolutely no evidence for that – neither textual (from revelation) nor rational.' For this reason, some recited it;
أَوْ أَثَرَةٍ مِنْ عِلْمٍ
"or something inherited from knowledge" meaning, 'or true knowledge that you have inherited from anyone before you.' This is similar to Mujahid's statement when he said,
أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ
(or some trace of knowledge.) "Or anyone who has inherited any knowledge." Allah then says,
وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَنْ لَا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ
(And who is more astray than those who invokes besides Allah others who will not answer them until the Day of Resurrection, and who are unaware of their invocations to them?) meaning, no one is more misguided than those who invoke idols instead of Allah, asking them for things that they cannot give – until the Day of Judgment. They (the idols) are unaware of what he asks, they can neither hear, see, or act. This is because they are inanimate, senseless stones. Allah then says,
وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ
(And when mankind are gathered, they will become their enemies and will deny their worship.) This is similar to Allah's saying:
وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ آلِهَةً لِيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا - كَلَّا ۚ سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا
(They have taken gods beside Allah, that they might give them dignity. No! They will deny their worship of them, and will be opponents to them.)(19:81-82) meaning, they will betray them when they need them the most. (Ibrahim) Al-Khalil, peace be upon him, said:
إِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا مَوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ نَاصِرِينَ
(You have taken only idols besides Allah! The love between you is only in the life of this world. On the Day of Resurrection, you shall disown each other and curse each other, and your abode will be the Fire, and you shall have no helpers.)(29:25) Tafsir Ibn Kathir
کبریائی اللہ عزوجل کی چادر ہے ان آیتوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے اس فیصلے کی خبر دیتا ہے جو وہ آخرت کے دن اپنے بندوں کے درمیان کرے گا۔ جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے ہاتھ پاؤں سے مطابق شرع نیک نیتی کے ساتھ اچھے عمل کئے انہیں اپنے کرم و رحم سے جنت عطا فرمائے گا رحمت سے مراد جنت ہے۔ جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے جسے میں چاہوں گا تجھے عطا فرماؤں گا، کھلی کامیابی اور حقیقی مراد کو حاصل کرلینا یہی ہے اور جو لوگ ایمان سے رک گئے بلکہ کفر کیا ان سے قیامت کے دن بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی آیتیں تمہارے سامنے نہیں پڑھی جاتی تھیں ؟ یعنی یقینا پڑھی جاتی تھیں اور تمہیں سنائی جاتی تھیں پھر بھی تم نے غرور و نخوت میں آکر ان کی اتباع نہ کی۔ بلکہ ان سے منہ پھیرے رہے اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کی تکذیب لئے ہوئے تم نے ظاہرا اپنے افعال میں بھی اس کی نافرمانی کی گناہوں پر گناہ دلیری سے کرتے چلے گئے اور قیامت ضرور قائم ہوگی اس کے آنے میں کوئی شک نہیں تو تم پلٹ کر جواب دے دیا کرتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کسے کہتے ہیں ؟ ہمیں اگرچہ کچھ یوں ہی سا وہم ہوتا ہے لیکن ہرگز یقین نہیں کہ قیامت ضرور آئے گی ہی اب ان کی بد اعمالیوں کی سزا ان کے سامنے آگئی اپنی آنکھوں اپنے کرتوت کا بدلہ دیکھ چکے اور جس عذاب و سزا کا انکار کرتے تھے، جسے مذاق میں اڑاتے تھے جس کا ہونا ناممکن سمجھ رہے تھے ان عذابوں نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور انہیں ہر قسم کی بھلائی سے مایوس کرنے کے لئے کہہ دیا گیا کہ ہم تمہارے ساتھ وہی معاملہ کریں گے جیسے کوئی کسی کو بھول جاتا ہے یعنی جہنم میں جھونک کر پھر تمہیں کبھی اچھائی سے یاد بھی نہ کریں گے۔ یہ بدلہ ہے اس کا کہ تم اس دن کی ملاقات کو بھلائے ہوئے تھے، اس کے لئے تم نے کوئی عمل نہ کیا، کیونکہ تم اس کے آنے کی صداقت کے قائل ہی نہ تھے۔ اب تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے اور کوئی نہیں جو تمہاری کسی قسم کی مدد کرسکے۔ صحیح حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں سے قیامت کے دن فرمائے گا کیا میں نے تجھے بال بچے نہیں دئیے تھے ؟ کیا میں نے تجھ پر دنیا میں انعام و اکرام نازل نہیں فرمائے تھے ؟ کیا میں نے تیرے لئے اونٹوں اور گھوڑوں کو مطیع اور فرمانبردار نہیں کیا تھا ؟ اور تجھے چھوڑ دیا تھا کہ سرور و خوشی کے ساتھ اپنے مکانات اور حویلیوں میں آزادی کی زندگی بسر کرے ؟ یہ جواب دے گا کہ میرے پروردگار یہ سب سچ ہے بیشک تیرے یہ تمام احسانات مجھ پر تھے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا پس آج میں تجھے اس طرح بھلا دوں گا جس طرح تو مجھے بھول گیا تھا پھر فرماتا ہے کہ یہ سزائیں تمہیں اسلئے دی گئی ہیں کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا خوب مذاق اڑایا تھا۔ اور دنیا کی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا تم اسی پر مطمئن تھے اور اس قدر تم نے بےفکری برتی کہ آخر آج نقصان اور خسارے میں پڑگئے۔ اب تم دوزخ سے نکالے نہ جاؤ گے اور نہ تم سے ہماری خفگی کے دور کرنے کی کوئی وجہ طلب کی جائے گی یعنی اس عذاب سے تمہارا چھٹکارا بھی محال اور اب میری رضامندی کا تمہیں حاصل ہونا بھی ناممکن۔ جیسے کہ مومن بغیر عذاب و حساب کے جنت میں جائیں گے۔ ایسے ہی تم بےحساب عذاب کئے جاؤ گے اور تمہاری توبہ بےسود رہے گی اپنے اس فیصلے کو جو مومنوں اور کافروں میں ہوگیا بیان فرما کر اب ارشاد فرماتا ہے کہ تمام حمد زمین و آسمان اور ہر چیز کے مالک اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے۔ جو کل جہان کا پالنہار ہے اسی کو کبریائی یعنی سلطنت اور بڑائی آسمانوں اور زمینوں میں ہے وہ بڑی عظمت اور بزرگی والا ہے۔ ہر چیز اس کے سامنے پست ہے ہر ایک اس کا محتاج ہے صحیح مسلم شریف کی حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ جل و علا فرماتا ہے عظمت میرا تہبند ہے اور کبریائی میری چادر ہے جو شخص ان میں سے کسی کو بھی مجھ سے لینا چاہے گا میں اسے جہنم رسید کر دونگا۔ یعنی بڑائی اور تکبر کرنے والا دوزخی ہے۔ وہ عزیز ہے یعنی غالب ہے جو کبھی کسی سے مغلوب نہیں ہونے کا کوئی نہیں جو اس پر روک ٹوک کرسکے۔ اس کے سامنے پڑ سکے وہ حکیم ہے۔ اس کا کوئی قول کوئی فعل اس کی شریعت کا کوئی مسئلہ اس کی لکھی ہوئی تقدیر کا کوئی حرف حکمت سے خالی نہیں نہ اس کے سوا کوئی مسجود۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے سورة جاثیہ کی تفسیر ختم ہوئی اور اسی کے ساتھ پچیسویں پارے کی تفسیر ختم ہوئی۔ فالحمدللہ Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْقَافِ
وَهِيَ مَكِّيَّةٌ.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّهُ نَزَّلَ الْكِتَابَ عَلَى عَبْدِهِ وَرَسُولِهِ مُحَمَّدٍ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ دَائِمًا إِلَى يَوْمِ الدِّينِ، وَوَصَفَ نَفْسَهُ بِالْعِزَّةِ الَّتِي لَا تُرَامُ، وَالْحِكْمَةِ فِي الْأَقْوَالِ وَالْأَفْعَالِ، ثُمَّ قَالَ: ﴿مَا خَلَقْنَا السَّمَوَاتِ وَالأرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلا بِالْحَقِّ﴾ أَيْ: لَا عَلَى وَجْهِ الْعَبَثِ وَالْبَاطِلِ، ﴿وَأَجَلٌ مُسَمًّى﴾ أَيْ: إِلَى مُدَّةٍ مُعَيَّنَةٍ مَضْرُوبَةٍ لَا تَزِيدُ وَلَا تَنْقُصُ.
قَوْلُهُ: ﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا عَمَّا أُنْذِرُوا مُعْرِضُونَ﴾ أَيْ: لَاهُونَ [[في ت، م، أ: "لاهين".]] عَمَّا يُرَادُ بِهِمْ، وَقَدْ أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ كِتَابًا وَأُرْسِلَ إِلَيْهِمْ رَسُولٌ، وَهُمْ مُعْرِضُونَ عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ، أَيْ: وَسَيَعْلَمُونَ غِبَّ ذَلِكَ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿قُلْ﴾ أَيْ: لِهَؤُلَاءِ الْمُشْرِكِينَ الْعَابِدِينَ مَعَ اللَّهِ غَيْرَهُ: ﴿أَرَأَيْتُمْ مَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَرُونِي مَاذَا خَلَقُوا مِنَ الأرْضِ﴾ أَيْ: أَرْشِدُونِي إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي اسْتَقَلُّوا بِخَلْقِهِ مِنَ الْأَرْضِ، ﴿أَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمَوَاتِ﴾ أَيْ: وَلَا شِرْكَ لَهُمْ فِي السَّمَوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ، وَمَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ، إِنِ المُلْك والتصرّف كله إلا الله، عَزَّ وَجَلَّ، فَكَيْفَ تَعْبُدُونَ مَعَهُ غَيْرَهُ، وَتُشْرِكُونَ بِهِ؟ مَنْ أَرْشَدَكُمْ إِلَى هَذَا؟ مَنْ دَعَاكُمْ إِلَيْهِ؟ أَهْوَ أَمَرَكُمْ بِهِ؟ أَمْ هُوَ شَيْءٌ اقْتَرَحْتُمُوهُ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ؟ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿اِئْتُونِي بِكِتَابٍ مِنْ قَبْلِ هَذَا﴾ أَيْ: هَاتُوا كِتَابًا مِنْ كُتُبِ اللَّهِ الْمُنَزَّلَةِ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ [[في ت، م، أ: "هاتوا كتابا من الكتب المنزلة على أنبيائهم".]] ، عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، يَأْمُرُكُمْ بِعِبَادَةِ هَذِهِ الْأَصْنَامِ، ﴿أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ﴾ أَيْ: دَلِيلٍ بَيِّن عَلَى هَذَا الْمَسْلَكِ الَّذِي سَلَكْتُمُوهُ ﴿إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴾ أَيْ: لَا دَلِيلَ لَكُمْ نَقْلِيًّا وَلَا عَقْلِيًّا عَلَى ذَلِكَ؛ وَلِهَذَا قَرَأَ آخَرُونَ: "أَوْ أثَرَة مِنْ عِلْمٍ" أَيْ: أَوْ عِلْمٍ صَحِيحٍ يَأْثُرُونَهُ عَنْ أَحَدٍ مِمَّنْ قَبْلَهُمْ، كَمَا قَالَ مُجَاهِدٌ فِي قَوْلِهِ: ﴿أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ﴾ أَوْ أحد يأثُر علما.
وَقَالَ العَوْفي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَوْ بَيِّنَةٍ مِنَ الْأَمْرِ.
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ [[في أ: "عن" وهو خطأ.]] سُلَيم، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سُفْيَانُ: لَا أَعْلَمُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ ﷺ: "أَوْ أثَرَة مِنْ عِلْمٍ" قَالَ: "الْخَطُّ" [[المسند (١/٢٢٦) .]] .
وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ: أَوْ بَقِيَّةٍ مِنْ عِلْمٍ. وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: ﴿أَوْ أَثَارَةٍ﴾ شَيْءٌ يَسْتَخْرِجُهُ فَيُثِيرُهُ.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ أَيْضًا: ﴿أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ﴾ يَعْنِي الْخَطَّ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: ﴿أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ﴾ خَاصَّةٍ مِنْ عِلْمٍ.
وَكُلُّ هَذِهِ الْأَقْوَالِ مُتَقَارِبَةٌ، وَهِيَ رَاجِعَةٌ إِلَى مَا قُلْنَاهُ، وَهُوَ اخْتِيَارُ ابْنِ جَرِيرٍ رَحِمَهُ اللَّهُ وَأَكْرَمَهُ، وَأَحْسَنَ مَثْوَاهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَنْ لَا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ﴾ أَيْ: لَا أَضَلَّ مِمَّنْ يَدْعُو أَصْنَامًا، وَيَطْلُبُ مِنْهَا مَا لَا تَسْتَطِيعُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَهِيَ غَافِلَةٌ عَمَّا يَقُولُ، لَا تَسْمَعُ وَلَا تُبْصِرُ وَلَا تَبْطِشُ؛ لِأَنَّهَا جَمَادٌ حجَارة صُمّ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ﴾ ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ آلِهَةً لِيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا كَلا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا﴾ [مَرْيَمَ: ٨١، ٨٢] أَيْ: سَيَخُونُونَهُمْ [[في أ: "سيجدونهم".]] أَحْوَجَ مَا يَكُونُونَ إِلَيْهِمْ، وَقَالَ الْخَلِيلُ: ﴿إِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا مَوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ نَاصِرِينَ﴾ [الْعَنْكَبُوتِ: ٢٥] .