بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ صٓ ۚ وَٱلْقُرْءَانِ ذِى ٱلذِّكْرِ
Sad. By the Qur'an containing reminder...
ص۔ قسم ہے اس قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے (کہ تم حق پر ہو)
ص، سوگند به قرآنی که دارای ذکر است (که این کتاب، معجزه الهی است).
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
ص ۚ وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ - بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ - كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ
(1. Sad. By the Qur'an full of reminding.)(2. Those who disbelieve are in false pride and opposition.)(3. How many a generation have We destroyed before them! And they cried out when there was no longer time for escape.)
We have already discussed the separate letters in the the beginning of the Tafsir of Surat Al-Baqarah, and there is no need to repeat it here.
وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ
(By the Qur'an full of reminding.) means, by the Qur'an which includes all that is in it as a reminder and a benefit to people in this life and the Hereafter. Ad-Dahhak said that the Ayah,
ذِي الذِّكْرِ
(full of reminding.) is like the Ayah,
لَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ ۖ
(Indeed, We have sent down for you (O mankind) a Book in which there is Dhikrukum)(21:10). i.e., your reminder. This was also the view of Qatadah and of Ibn Jarir. Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Sa'id bin Jubayr, Isma'il bin Abi Khalid, Ibn 'Uyaynah, Abu Husayn, Abu Salih and As-Suddi said:
ذِي الذِّكْرِ
(full of reminding.) "Full of honor," i.e., of high standing. There is no contradiction between the two views, because it is a noble Book which includes reminders and leaves no excuse and brings warnings. The reason for this oath is to be found in the Ayah:
إِنْ كُلٌّ إِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ
(Not one of them but denied the Messengers; therefore My torment was justified.)(38:14). Qatadah said, "The reason for it is to be found in the Ayah:
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ
(Nay, those who disbelieve are in false pride and opposition)." This was the view favored by Ibn Jarir.
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ
(Nay, those who disbelieve are in false pride and opposition.) means, in this Qur'an there is a reminder for those who will be reminded and a lesson for those who will learn a lesson, but the disbelievers will not benefit from it because they
فِي عِزَّةٍ
(are in false pride) meaning, arrogance and tribalism,
وَشِقَاقٍ
(and opposition.) means, they are stubbornly opposed to it and go against it. Then Allah scares them with news of how the nations who came before them were destroyed because of their opposition to the Messengers and their disbelief in the Scriptures that were revealed from heaven. Allah says:
كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ
(How many a generation have We destroyed before them!) meaning, disbelieving nations.
فَنَادَوْا
(And they cried out) means, when the punishment came to them, they called for help and cried out to Allah, but that did not save them at all. This is like the Ayat:
فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا إِذَا هُمْ مِنْهَا يَرْكُضُونَ - لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَىٰ مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ
(Then, when they perceived (saw) Our torment, behold, they (tried to) flee from it. Flee not, but return to that wherein you lived a luxurious life, and to your homes, in order that you may be questioned.)(21:12-13).
Abu Dawud At-Tayalisi recorded that At-Tamimi said, "I asked Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, about the Ayah:
فَنَادَوْا وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ
(And they cried out when there was no longer time for escape.) He said that it was not the time for them to call or flee or escape. Muhammad bin Ka'b said, concerning the Ayah:
فَنَادَوْا وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ
(And they cried out when there was no longer time for escape.) "They called for Tawhid when their lives were over, and they resorted to repentance when their lives were over."
Qatadah said, "When they saw the punishment, they wanted to repent when there was no longer time to call out." Mujahid said:
فَنَادَوْا وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ
(And they cried out when there was no longer time for escape.) "It was not the time to flee or escape." Allah says:
وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ
(when there was no longer time for escape.) meaning, there was no time to escape or run away; and Allah knows best.
Tafsir Ibn Kathir
حروف مقطعات جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان کی پوری تفسیر سورة بقرہ کے شروع میں گذر چکی ہے۔ یہاں قرآن کی قسم کھائی اور اسے پند و نصیحت کرنے والا فرمایا۔ کیونکہ اس کی باتوں پر عمل کرنے والے کی دین و دنیا دونوں سنور جاتی ہیں اور آیت میں ہے (لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 10ۧ) 21۔ الأنبیاء :10) اس قرآن میں تمہارے لئے نصیحت ہے اور یہ بھی مطلب ہے کہ قرآن شرافت میں بزرگ عزت و عظمت والا ہے۔ اب اس قسم کا جواب بعض کے نزدیک تو (اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ 14) 38۔ ص :14) ، ہے۔ بعض کہتے ہیں (اِنَّ ذٰلِكَ لَحَــقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ 64) 38۔ ص :64) ، ہے لیکن یہ زیادہ مناسب نہیں ملعوم ہوتا۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں اس کا جواب اس کے بعد کی آیت ہے۔ ابن جریر اسی کو مختار بتاتے ہیں۔ بعض عربی داں کہتے ہیں اس کا جواب ص ہے اور اس لفظ کے معنی صداقت اور حقانیت کے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ پوری سورت کا خلاصہ اس قسم کا جواب ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے یہ قرآن تو سراسر عبرت و نصیحت ہے مگر اس سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جن کے دل میں ایمان ہے کافر لوگ اس فائدے سے اس لئے محروم ہیں کہ وہ متکبر ہیں اور مخالف ہیں یہ لوگ اپنے سے پہلے اور اپنے جیسے لوگوں کے انجام پر نظر ڈالیں تو اپنے انجام سے ڈریں۔ اگلی امتیں اسی جرم پر ہم نے تہ وبالا کردی ہیں عذاب آ پڑنے کے بعد تو بڑے روئے پیٹے خوب آہو زاری کی لیکن اس وقت کی تمام باتیں بےسود ہیں۔ جیسے فرمایا (فَلَمَّآ اَحَسُّوْا بَاْسَنَآ اِذَا هُمْ مِّنْهَا يَرْكُضُوْنَ 12ۭ) 21۔ الأنبیاء :12) ہمارے عذابوں کو معلوم کر کے ان سے بچنا اور بھاگنا چاہا۔ لیکن یہ کیسے ہوسکتا تھا ؟ ابن عباس فرماتے ہیں کہ اب بھاگنے کا وقت نہیں نہ فریاد کا وقت ہے، اس وقت کوئی فریاد رسی نہیں کرسکتا۔ چاہو جتنا چیخو چلاؤ محض بےسود ہے۔ اب توحید کی قبولیت بےنفع، توبہ بیکار ہے۔ یہ بےوقت کی پکار ہے۔ لات معنی میں لا کے ہے۔ اس میں " ت " زائد ہے جیسے ثم میں بھی " ت " زیادہ ہوتی ہے اور ربت میں بھی۔ یہ مفصولہ ہے اور اس پر وقف ہے۔ امام ابن جریر کا قول ہے کہ یہ " ت " حین سے ملی ہوئی ہے یعنی ولاتحین ہے، لیکن مشہور اول ہی ہے۔ جمہور نے حین کو زبر سے پڑھا ہے۔ تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ وقت آہو زاری کا وقت نہیں۔ بعض نے یہاں زیر پڑھنا بھی جائز رکھا ہے لغت میں نوص کہتے ہیں پیچھے ہٹنے کو اور بوص کہتے ہیں آگے بڑھنے کو پس مقصد یہ ہے کہ یہ وقت بھاگنے اور نکل جانے کا وقت نہیں واللہ الموفق۔
Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ ص
[وَهِيَ] [[زيادة من ت، س.]] مَكِّيَّةٌ.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
أَمَّا الْكَلَامُ عَلَى الْحُرُوفِ الْمُقَطَّعَةِ فَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ سُورَةِ "الْبَقَرَةِ" بِمَا أَغْنَى عَنْ إِعَادَتِهِ هَاهُنَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ﴾ أَيْ: وَالْقُرْآنِ الْمُشْتَمِلِ عَلَى مَا فِيهِ ذِكْرٌ لِلْعِبَادِ وَنَفْعٌ لَهُمْ فِي الْمَعَاشِ وَالْمَعَادِ.
قَالَ الضَّحَّاكُ فِي قَوْلِهِ: ﴿ذِي الذِّكْرِ﴾ كَقَوْلِهِ: ﴿لَقَدْ أَنزلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ﴾ ] الْأَنْبِيَاءِ: ١٠ [أَيْ: تَذْكِيرُكُمْ. وَكَذَا قَالَ قَتَادَةُ وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَأَبُو [[في أ: "ابن".]] حُصَيْنٍ وَأَبُو صَالِحٍ وَالسُّدِّيُّ [[في ت: "وخلق غيرهما".]] ﴿ذِي الذِّكْرِ﴾ ذِي الشَّرَفِ أَيْ: ذِي الشَّأْنِ وَالْمَكَانَةِ.
وَلَا مُنَافَاةَ بَيْنَ الْقَوْلَيْنِ، فَإِنَّهُ كِتَابٌ شَرِيفٌ مُشْتَمِلٌ عَلَى التَّذْكِيرِ وَالْإِعْذَارِ وَالْإِنْذَارِ.
وَاخْتَلَفُوا فِي جَوَابِ هَذَا الْقَسْمِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ قَوْلُهُ: ﴿إِنْ كُلٌّ إِلا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ﴾ ] ص: ١٤ [. وَقِيلَ قَوْلُهُ: ﴿إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ﴾ ] ص: ٦٤ [حَكَاهُمَا [[في س: "رواهما".]] ابْنُ جَرِيرٍ وَهَذَا الثَّانِي فِيهِ بُعْدٌ كَبِيرٌ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: جَوَابُهُ: ﴿بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ﴾ وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقِيلَ: جَوَابُهُ مَا تَضَمَّنَهُ سِيَاقُ السُّورَةِ بِكَمَالِهَا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
ثُمَّ حَكَى ابْنُ جَرِيرٍ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ [[في أ: "العربية".]] أَنَّهُ قَالَ: جَوَابُهُ "ص" بِمَعْنَى: صِدْقٌ حَقٌّ وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ﴾ أَيْ: إِنَّ فِي هَذَا الْقُرْآنِ لَذِكْرًا لِمَنْ يَتَذَكَّرُ، وَعِبْرَةً لِمَنْ يَعْتَبِرُ. وَإِنَّمَا لَمْ يَنْتَفِعْ بِهِ الْكَافِرُونَ لِأَنَّهُمْ ﴿فِي عِزَّةٍ﴾ أَيِ: اسْتِكْبَارٍ عَنْهُ وَحَمِيَّةٍ ﴿وَشِقَاقٍ﴾ أَيْ: مُخَالَفَةٍ لَهُ وَمُعَانَدَةٍ وَمُفَارَقَةٍ.
ثُمَّ خَوَّفَهُمْ مَا أَهْلَكَ بِهِ الْأُمَمَ الْمُكَذِّبَةَ قَبْلَهُمْ بِسَبَبِ مُخَالَفَتِهِمْ لِلرُّسُلِ وَتَكْذِيبِهِمُ الكتب المنزلة من السَّمَاءِ فَقَالَ: ﴿كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ﴾ أَيْ: مِنْ أُمَّةٍ مُكَذِّبَةٍ، ﴿فَنَادَوْا﴾ أَيْ: [[في ت: "إلى".]] حِينَ جَاءَهُمُ الْعَذَابُ اسْتَغَاثُوا وَجَأَرُوا إِلَى اللَّهِ. وَلَيْسَ ذَلِكَ بِمُجْدٍ عَنْهُمْ شَيْئًا. كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا إِذَا هُمْ مِنْهَا يَرْكُضُونَ﴾ ] الْأَنْبِيَاءِ: ١٢ [أَيْ: يَهْرَبُونَ، ﴿لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَى مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ﴾ ] الْأَنْبِيَاءِ: ١٣ [
قَالَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ: ﴿فَنَادَوْا وَلاتَ حِينَ مَنَاصٍ﴾ قَالَ: لَيْسَ بِحِينِ نِدَاءٍ، وَلَا نَزْوٍ وَلَا فِرَارٍ [[وقد رواه الطستي في مسائل نافع بن الأزرق أنه سأل ابن عباس فذكره.]]
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: لَيْسَ بِحِينِ مِغَاثٍ.
وَقَالَ شَبِيبُ بْنُ بِشْرٍ [[في أ: "بشير".]] عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ [[في ت: "سئل".]] ابْنِ عَبَّاسٍ: نَادَوُا النِّدَاءَ حِينَ لَا يَنْفَعُهُمْ وَأَنْشَدَ:
تَذَكَّر لَيْلَى لاتَ حِينَ تذَكّر [[البيت للأعشى، وعجزه: وقد تبت عنها والمناص بعيد.]] .
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَنَادَوْا وَلاتَ حِينَ مَنَاصٍ﴾ يَقُولُ: نَادَوْا بِالتَّوْحِيدِ حِينَ تَوَلَّتِ الدُّنْيَا عَنْهُمْ، وَاسْتَنَاصُوا لِلتَّوْبَةِ حِينَ تَوَلَّتِ الدُّنْيَا عَنْهُمْ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ أَرَادُوا التَّوْبَةَ فِي غَيْرِ حِينِ النِّدَاءِ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: ﴿فَنَادَوْا وَلاتَ حِينَ مَنَاصٍ﴾ لَيْسَ بِحِينِ فِرَارٍ وَلَا إِجَابَةٍ.
وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنْ عِكْرِمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَأَبِي مَالِكٍ وَالضَّحَّاكِ وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَالْحَسَنِ وَقَتَادَةَ.
وَعَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: ﴿وَلاتَ حِينَ مَنَاصٍ﴾ وَلَا نِدَاءَ فِي غَيْرِ حِينِ النِّدَاءِ.
وَهَذِهِ الْكَلِمَةُ وَهِيَ "لَاتَ" هِيَ "لَا" الَّتِي لِلنَّفْيِ، زِيدَتْ مَعَهَا "التَّاءُ" كَمَا تُزَادُ فِي "ثُمَّ" فَيَقُولُونَ: "ثُمَّتْ"، وَ "رُبَّ" فَيَقُولُونَ: "رُبَّتْ". وَهِيَ مَفْصُولَةٌ وَالْوَقْفُ عَلَيْهَا. وَمِنْهُمْ مَنْ حَكَى عَنِ الْمُصْحَفِ الْإِمَامِ فِيمَا ذَكَرَهُ [ابْنُ جَرِيرٍ] [[ما بين المعقوفتين بياض في س.]] أَنَّهَا مُتَّصِلَةٌ بِحِينَ: "وَلَا تَحِينَ مَنَاصٍ". وَالْمَشْهُورُ الْأَوَّلُ. ثُمَّ قَرَأَ الْجُمْهُورُ بِنَصْبِ "حِينَ" تَقْدِيرُهُ: وَلَيْسَ الْحِينُ حِينَ مَنَاصٍ. وَمِنْهُمْ مَنْ جَوَّزَ النَّصْبَ بِهَا، وَأَنْشَدَ:
تَذَكَّر حُب لَيْلَى لاتَ حِينَا ... وأَضْحَى الشَّيْبُ قَدْ قَطَع القَرينا [[البيت في تفسير الطبري (٢٣/٧٧) .]]
وَمِنْهُمْ مَنْ جَوَّزَ الْجَرَّ بِهَا، وَأَنْشَدَ:
طَلَبُوا صُلْحَنَا ولاتَ أوانٍ ... فأجَبْنَا أن ليس حينُ بقاءِ [[البيت لأبي زبيد الطائي، وهو في تفسير الطبري (٢٣/٧٧) .]] وَأَنْشَدَ بَعْضُهُمْ أَيْضًا:
ولاتَ سَاعةَ مَنْدَم
بِخَفْضِ السَّاعَةِ، وَأَهْلُ اللُّغَةِ يَقُولُونَ: النَّوْصُ: التَّأَخُّرُ، وَالْبَوْصُ: التَّقَدُّمُ. وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلاتَ حِينَ مَنَاصٍ﴾ أَيْ: لَيْسَ الْحِينُ حِينَ فِرَارٍ وَلَا ذَهَابٍ.
بَلِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فِى عِزَّةٍۢ وَشِقَاقٍۢ
But those who disbelieve are in pride and dissension.
مگر جو لوگ کافر ہیں وہ غرور اور مخالفت میں ہیں
ولی کافران گرفتار غرور اختلافند!
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
ص ۚ وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ - بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ - كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ
(1. Sad. By the Qur'an full of reminding.)(2. Those who disbelieve are in false pride and opposition.)(3. How many a generation have We destroyed before them! And they cried out when there was no longer time for escape.)
We have already discussed the separate letters in the the beginning of the Tafsir of Surat Al-Baqarah, and there is no need to repeat it here.
وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ
(By the Qur'an full of reminding.) means, by the Qur'an which includes all that is in it as a reminder and a benefit to people in this life and the Hereafter. Ad-Dahhak said that the Ayah,
ذِي الذِّكْرِ
(full of reminding.) is like the Ayah,
لَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ ۖ
(Indeed, We have sent down for you (O mankind) a Book in which there is Dhikrukum)(21:10). i.e., your reminder. This was also the view of Qatadah and of Ibn Jarir. Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Sa'id bin Jubayr, Isma'il bin Abi Khalid, Ibn 'Uyaynah, Abu Husayn, Abu Salih and As-Suddi said:
ذِي الذِّكْرِ
(full of reminding.) "Full of honor," i.e., of high standing. There is no contradiction between the two views, because it is a noble Book which includes reminders and leaves no excuse and brings warnings. The reason for this oath is to be found in the Ayah:
إِنْ كُلٌّ إِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ
(Not one of them but denied the Messengers; therefore My torment was justified.)(38:14). Qatadah said, "The reason for it is to be found in the Ayah:
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ
(Nay, those who disbelieve are in false pride and opposition)." This was the view favored by Ibn Jarir.
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ
(Nay, those who disbelieve are in false pride and opposition.) means, in this Qur'an there is a reminder for those who will be reminded and a lesson for those who will learn a lesson, but the disbelievers will not benefit from it because they
فِي عِزَّةٍ
(are in false pride) meaning, arrogance and tribalism,
وَشِقَاقٍ
(and opposition.) means, they are stubbornly opposed to it and go against it. Then Allah scares them with news of how the nations who came before them were destroyed because of their opposition to the Messengers and their disbelief in the Scriptures that were revealed from heaven. Allah says:
كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ
(How many a generation have We destroyed before them!) meaning, disbelieving nations.
فَنَادَوْا
(And they cried out) means, when the punishment came to them, they called for help and cried out to Allah, but that did not save them at all. This is like the Ayat:
فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا إِذَا هُمْ مِنْهَا يَرْكُضُونَ - لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَىٰ مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ
(Then, when they perceived (saw) Our torment, behold, they (tried to) flee from it. Flee not, but return to that wherein you lived a luxurious life, and to your homes, in order that you may be questioned.)(21:12-13).
Abu Dawud At-Tayalisi recorded that At-Tamimi said, "I asked Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, about the Ayah:
فَنَادَوْا وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ
(And they cried out when there was no longer time for escape.) He said that it was not the time for them to call or flee or escape. Muhammad bin Ka'b said, concerning the Ayah:
فَنَادَوْا وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ
(And they cried out when there was no longer time for escape.) "They called for Tawhid when their lives were over, and they resorted to repentance when their lives were over."
Qatadah said, "When they saw the punishment, they wanted to repent when there was no longer time to call out." Mujahid said:
فَنَادَوْا وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ
(And they cried out when there was no longer time for escape.) "It was not the time to flee or escape." Allah says:
وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ
(when there was no longer time for escape.) meaning, there was no time to escape or run away; and Allah knows best.
Tafsir Ibn Kathir
حروف مقطعات جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان کی پوری تفسیر سورة بقرہ کے شروع میں گذر چکی ہے۔ یہاں قرآن کی قسم کھائی اور اسے پند و نصیحت کرنے والا فرمایا۔ کیونکہ اس کی باتوں پر عمل کرنے والے کی دین و دنیا دونوں سنور جاتی ہیں اور آیت میں ہے (لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 10ۧ) 21۔ الأنبیاء :10) اس قرآن میں تمہارے لئے نصیحت ہے اور یہ بھی مطلب ہے کہ قرآن شرافت میں بزرگ عزت و عظمت والا ہے۔ اب اس قسم کا جواب بعض کے نزدیک تو (اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ 14) 38۔ ص :14) ، ہے۔ بعض کہتے ہیں (اِنَّ ذٰلِكَ لَحَــقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ 64) 38۔ ص :64) ، ہے لیکن یہ زیادہ مناسب نہیں ملعوم ہوتا۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں اس کا جواب اس کے بعد کی آیت ہے۔ ابن جریر اسی کو مختار بتاتے ہیں۔ بعض عربی داں کہتے ہیں اس کا جواب ص ہے اور اس لفظ کے معنی صداقت اور حقانیت کے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ پوری سورت کا خلاصہ اس قسم کا جواب ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے یہ قرآن تو سراسر عبرت و نصیحت ہے مگر اس سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جن کے دل میں ایمان ہے کافر لوگ اس فائدے سے اس لئے محروم ہیں کہ وہ متکبر ہیں اور مخالف ہیں یہ لوگ اپنے سے پہلے اور اپنے جیسے لوگوں کے انجام پر نظر ڈالیں تو اپنے انجام سے ڈریں۔ اگلی امتیں اسی جرم پر ہم نے تہ وبالا کردی ہیں عذاب آ پڑنے کے بعد تو بڑے روئے پیٹے خوب آہو زاری کی لیکن اس وقت کی تمام باتیں بےسود ہیں۔ جیسے فرمایا (فَلَمَّآ اَحَسُّوْا بَاْسَنَآ اِذَا هُمْ مِّنْهَا يَرْكُضُوْنَ 12ۭ) 21۔ الأنبیاء :12) ہمارے عذابوں کو معلوم کر کے ان سے بچنا اور بھاگنا چاہا۔ لیکن یہ کیسے ہوسکتا تھا ؟ ابن عباس فرماتے ہیں کہ اب بھاگنے کا وقت نہیں نہ فریاد کا وقت ہے، اس وقت کوئی فریاد رسی نہیں کرسکتا۔ چاہو جتنا چیخو چلاؤ محض بےسود ہے۔ اب توحید کی قبولیت بےنفع، توبہ بیکار ہے۔ یہ بےوقت کی پکار ہے۔ لات معنی میں لا کے ہے۔ اس میں " ت " زائد ہے جیسے ثم میں بھی " ت " زیادہ ہوتی ہے اور ربت میں بھی۔ یہ مفصولہ ہے اور اس پر وقف ہے۔ امام ابن جریر کا قول ہے کہ یہ " ت " حین سے ملی ہوئی ہے یعنی ولاتحین ہے، لیکن مشہور اول ہی ہے۔ جمہور نے حین کو زبر سے پڑھا ہے۔ تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ وقت آہو زاری کا وقت نہیں۔ بعض نے یہاں زیر پڑھنا بھی جائز رکھا ہے لغت میں نوص کہتے ہیں پیچھے ہٹنے کو اور بوص کہتے ہیں آگے بڑھنے کو پس مقصد یہ ہے کہ یہ وقت بھاگنے اور نکل جانے کا وقت نہیں واللہ الموفق۔
Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ ص
[وَهِيَ] [[زيادة من ت، س.]] مَكِّيَّةٌ.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
أَمَّا الْكَلَامُ عَلَى الْحُرُوفِ الْمُقَطَّعَةِ فَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ سُورَةِ "الْبَقَرَةِ" بِمَا أَغْنَى عَنْ إِعَادَتِهِ هَاهُنَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ﴾ أَيْ: وَالْقُرْآنِ الْمُشْتَمِلِ عَلَى مَا فِيهِ ذِكْرٌ لِلْعِبَادِ وَنَفْعٌ لَهُمْ فِي الْمَعَاشِ وَالْمَعَادِ.
قَالَ الضَّحَّاكُ فِي قَوْلِهِ: ﴿ذِي الذِّكْرِ﴾ كَقَوْلِهِ: ﴿لَقَدْ أَنزلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ﴾ ] الْأَنْبِيَاءِ: ١٠ [أَيْ: تَذْكِيرُكُمْ. وَكَذَا قَالَ قَتَادَةُ وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَأَبُو [[في أ: "ابن".]] حُصَيْنٍ وَأَبُو صَالِحٍ وَالسُّدِّيُّ [[في ت: "وخلق غيرهما".]] ﴿ذِي الذِّكْرِ﴾ ذِي الشَّرَفِ أَيْ: ذِي الشَّأْنِ وَالْمَكَانَةِ.
وَلَا مُنَافَاةَ بَيْنَ الْقَوْلَيْنِ، فَإِنَّهُ كِتَابٌ شَرِيفٌ مُشْتَمِلٌ عَلَى التَّذْكِيرِ وَالْإِعْذَارِ وَالْإِنْذَارِ.
وَاخْتَلَفُوا فِي جَوَابِ هَذَا الْقَسْمِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ قَوْلُهُ: ﴿إِنْ كُلٌّ إِلا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ﴾ ] ص: ١٤ [. وَقِيلَ قَوْلُهُ: ﴿إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ﴾ ] ص: ٦٤ [حَكَاهُمَا [[في س: "رواهما".]] ابْنُ جَرِيرٍ وَهَذَا الثَّانِي فِيهِ بُعْدٌ كَبِيرٌ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: جَوَابُهُ: ﴿بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ﴾ وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقِيلَ: جَوَابُهُ مَا تَضَمَّنَهُ سِيَاقُ السُّورَةِ بِكَمَالِهَا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
ثُمَّ حَكَى ابْنُ جَرِيرٍ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ [[في أ: "العربية".]] أَنَّهُ قَالَ: جَوَابُهُ "ص" بِمَعْنَى: صِدْقٌ حَقٌّ وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ﴾ أَيْ: إِنَّ فِي هَذَا الْقُرْآنِ لَذِكْرًا لِمَنْ يَتَذَكَّرُ، وَعِبْرَةً لِمَنْ يَعْتَبِرُ. وَإِنَّمَا لَمْ يَنْتَفِعْ بِهِ الْكَافِرُونَ لِأَنَّهُمْ ﴿فِي عِزَّةٍ﴾ أَيِ: اسْتِكْبَارٍ عَنْهُ وَحَمِيَّةٍ ﴿وَشِقَاقٍ﴾ أَيْ: مُخَالَفَةٍ لَهُ وَمُعَانَدَةٍ وَمُفَارَقَةٍ.
ثُمَّ خَوَّفَهُمْ مَا أَهْلَكَ بِهِ الْأُمَمَ الْمُكَذِّبَةَ قَبْلَهُمْ بِسَبَبِ مُخَالَفَتِهِمْ لِلرُّسُلِ وَتَكْذِيبِهِمُ الكتب المنزلة من السَّمَاءِ فَقَالَ: ﴿كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ﴾ أَيْ: مِنْ أُمَّةٍ مُكَذِّبَةٍ، ﴿فَنَادَوْا﴾ أَيْ: [[في ت: "إلى".]] حِينَ جَاءَهُمُ الْعَذَابُ اسْتَغَاثُوا وَجَأَرُوا إِلَى اللَّهِ. وَلَيْسَ ذَلِكَ بِمُجْدٍ عَنْهُمْ شَيْئًا. كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا إِذَا هُمْ مِنْهَا يَرْكُضُونَ﴾ ] الْأَنْبِيَاءِ: ١٢ [أَيْ: يَهْرَبُونَ، ﴿لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَى مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ﴾ ] الْأَنْبِيَاءِ: ١٣ [
قَالَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ: ﴿فَنَادَوْا وَلاتَ حِينَ مَنَاصٍ﴾ قَالَ: لَيْسَ بِحِينِ نِدَاءٍ، وَلَا نَزْوٍ وَلَا فِرَارٍ [[وقد رواه الطستي في مسائل نافع بن الأزرق أنه سأل ابن عباس فذكره.]]
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: لَيْسَ بِحِينِ مِغَاثٍ.
وَقَالَ شَبِيبُ بْنُ بِشْرٍ [[في أ: "بشير".]] عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ [[في ت: "سئل".]] ابْنِ عَبَّاسٍ: نَادَوُا النِّدَاءَ حِينَ لَا يَنْفَعُهُمْ وَأَنْشَدَ:
تَذَكَّر لَيْلَى لاتَ حِينَ تذَكّر [[البيت للأعشى، وعجزه: وقد تبت عنها والمناص بعيد.]] .
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَنَادَوْا وَلاتَ حِينَ مَنَاصٍ﴾ يَقُولُ: نَادَوْا بِالتَّوْحِيدِ حِينَ تَوَلَّتِ الدُّنْيَا عَنْهُمْ، وَاسْتَنَاصُوا لِلتَّوْبَةِ حِينَ تَوَلَّتِ الدُّنْيَا عَنْهُمْ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ أَرَادُوا التَّوْبَةَ فِي غَيْرِ حِينِ النِّدَاءِ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: ﴿فَنَادَوْا وَلاتَ حِينَ مَنَاصٍ﴾ لَيْسَ بِحِينِ فِرَارٍ وَلَا إِجَابَةٍ.
وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنْ عِكْرِمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَأَبِي مَالِكٍ وَالضَّحَّاكِ وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَالْحَسَنِ وَقَتَادَةَ.
وَعَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: ﴿وَلاتَ حِينَ مَنَاصٍ﴾ وَلَا نِدَاءَ فِي غَيْرِ حِينِ النِّدَاءِ.
وَهَذِهِ الْكَلِمَةُ وَهِيَ "لَاتَ" هِيَ "لَا" الَّتِي لِلنَّفْيِ، زِيدَتْ مَعَهَا "التَّاءُ" كَمَا تُزَادُ فِي "ثُمَّ" فَيَقُولُونَ: "ثُمَّتْ"، وَ "رُبَّ" فَيَقُولُونَ: "رُبَّتْ". وَهِيَ مَفْصُولَةٌ وَالْوَقْفُ عَلَيْهَا. وَمِنْهُمْ مَنْ حَكَى عَنِ الْمُصْحَفِ الْإِمَامِ فِيمَا ذَكَرَهُ [ابْنُ جَرِيرٍ] [[ما بين المعقوفتين بياض في س.]] أَنَّهَا مُتَّصِلَةٌ بِحِينَ: "وَلَا تَحِينَ مَنَاصٍ". وَالْمَشْهُورُ الْأَوَّلُ. ثُمَّ قَرَأَ الْجُمْهُورُ بِنَصْبِ "حِينَ" تَقْدِيرُهُ: وَلَيْسَ الْحِينُ حِينَ مَنَاصٍ. وَمِنْهُمْ مَنْ جَوَّزَ النَّصْبَ بِهَا، وَأَنْشَدَ:
تَذَكَّر حُب لَيْلَى لاتَ حِينَا ... وأَضْحَى الشَّيْبُ قَدْ قَطَع القَرينا [[البيت في تفسير الطبري (٢٣/٧٧) .]]
وَمِنْهُمْ مَنْ جَوَّزَ الْجَرَّ بِهَا، وَأَنْشَدَ:
طَلَبُوا صُلْحَنَا ولاتَ أوانٍ ... فأجَبْنَا أن ليس حينُ بقاءِ [[البيت لأبي زبيد الطائي، وهو في تفسير الطبري (٢٣/٧٧) .]] وَأَنْشَدَ بَعْضُهُمْ أَيْضًا:
ولاتَ سَاعةَ مَنْدَم
بِخَفْضِ السَّاعَةِ، وَأَهْلُ اللُّغَةِ يَقُولُونَ: النَّوْصُ: التَّأَخُّرُ، وَالْبَوْصُ: التَّقَدُّمُ. وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلاتَ حِينَ مَنَاصٍ﴾ أَيْ: لَيْسَ الْحِينُ حِينَ فِرَارٍ وَلَا ذَهَابٍ.
كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍۢ فَنَادَوا۟ وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٍۢ
How many a generation have We destroyed before them, and they [then] called out; but it was not a time for escape.
ہم نے ان سے پہلے بہت سی اُمتوں کو ہلاک کردیا تو وہ (عذاب کے وقت) لگے فریاد کرنے اور وہ رہائی کا وقت نہیں تھا
چه بسیار اقوامی را که پیش از آنها هلاک کردیم؛ و به هنگام نزول عذاب فریاد میزدند (و کمک میخواستند) ولی وقت نجات گذشته بود!
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
ص ۚ وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ - بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ - كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ
(1. Sad. By the Qur'an full of reminding.)(2. Those who disbelieve are in false pride and opposition.)(3. How many a generation have We destroyed before them! And they cried out when there was no longer time for escape.)
We have already discussed the separate letters in the the beginning of the Tafsir of Surat Al-Baqarah, and there is no need to repeat it here.
وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ
(By the Qur'an full of reminding.) means, by the Qur'an which includes all that is in it as a reminder and a benefit to people in this life and the Hereafter. Ad-Dahhak said that the Ayah,
ذِي الذِّكْرِ
(full of reminding.) is like the Ayah,
لَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ ۖ
(Indeed, We have sent down for you (O mankind) a Book in which there is Dhikrukum)(21:10). i.e., your reminder. This was also the view of Qatadah and of Ibn Jarir. Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Sa'id bin Jubayr, Isma'il bin Abi Khalid, Ibn 'Uyaynah, Abu Husayn, Abu Salih and As-Suddi said:
ذِي الذِّكْرِ
(full of reminding.) "Full of honor," i.e., of high standing. There is no contradiction between the two views, because it is a noble Book which includes reminders and leaves no excuse and brings warnings. The reason for this oath is to be found in the Ayah:
إِنْ كُلٌّ إِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ
(Not one of them but denied the Messengers; therefore My torment was justified.)(38:14). Qatadah said, "The reason for it is to be found in the Ayah:
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ
(Nay, those who disbelieve are in false pride and opposition)." This was the view favored by Ibn Jarir.
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ
(Nay, those who disbelieve are in false pride and opposition.) means, in this Qur'an there is a reminder for those who will be reminded and a lesson for those who will learn a lesson, but the disbelievers will not benefit from it because they
فِي عِزَّةٍ
(are in false pride) meaning, arrogance and tribalism,
وَشِقَاقٍ
(and opposition.) means, they are stubbornly opposed to it and go against it. Then Allah scares them with news of how the nations who came before them were destroyed because of their opposition to the Messengers and their disbelief in the Scriptures that were revealed from heaven. Allah says:
كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ
(How many a generation have We destroyed before them!) meaning, disbelieving nations.
فَنَادَوْا
(And they cried out) means, when the punishment came to them, they called for help and cried out to Allah, but that did not save them at all. This is like the Ayat:
فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا إِذَا هُمْ مِنْهَا يَرْكُضُونَ - لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَىٰ مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ
(Then, when they perceived (saw) Our torment, behold, they (tried to) flee from it. Flee not, but return to that wherein you lived a luxurious life, and to your homes, in order that you may be questioned.)(21:12-13).
Abu Dawud At-Tayalisi recorded that At-Tamimi said, "I asked Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, about the Ayah:
فَنَادَوْا وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ
(And they cried out when there was no longer time for escape.) He said that it was not the time for them to call or flee or escape. Muhammad bin Ka'b said, concerning the Ayah:
فَنَادَوْا وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ
(And they cried out when there was no longer time for escape.) "They called for Tawhid when their lives were over, and they resorted to repentance when their lives were over."
Qatadah said, "When they saw the punishment, they wanted to repent when there was no longer time to call out." Mujahid said:
فَنَادَوْا وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ
(And they cried out when there was no longer time for escape.) "It was not the time to flee or escape." Allah says:
وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ
(when there was no longer time for escape.) meaning, there was no time to escape or run away; and Allah knows best.
Tafsir Ibn Kathir
حروف مقطعات جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان کی پوری تفسیر سورة بقرہ کے شروع میں گذر چکی ہے۔ یہاں قرآن کی قسم کھائی اور اسے پند و نصیحت کرنے والا فرمایا۔ کیونکہ اس کی باتوں پر عمل کرنے والے کی دین و دنیا دونوں سنور جاتی ہیں اور آیت میں ہے (لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 10ۧ) 21۔ الأنبیاء :10) اس قرآن میں تمہارے لئے نصیحت ہے اور یہ بھی مطلب ہے کہ قرآن شرافت میں بزرگ عزت و عظمت والا ہے۔ اب اس قسم کا جواب بعض کے نزدیک تو (اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ 14) 38۔ ص :14) ، ہے۔ بعض کہتے ہیں (اِنَّ ذٰلِكَ لَحَــقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ 64) 38۔ ص :64) ، ہے لیکن یہ زیادہ مناسب نہیں ملعوم ہوتا۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں اس کا جواب اس کے بعد کی آیت ہے۔ ابن جریر اسی کو مختار بتاتے ہیں۔ بعض عربی داں کہتے ہیں اس کا جواب ص ہے اور اس لفظ کے معنی صداقت اور حقانیت کے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ پوری سورت کا خلاصہ اس قسم کا جواب ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے یہ قرآن تو سراسر عبرت و نصیحت ہے مگر اس سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جن کے دل میں ایمان ہے کافر لوگ اس فائدے سے اس لئے محروم ہیں کہ وہ متکبر ہیں اور مخالف ہیں یہ لوگ اپنے سے پہلے اور اپنے جیسے لوگوں کے انجام پر نظر ڈالیں تو اپنے انجام سے ڈریں۔ اگلی امتیں اسی جرم پر ہم نے تہ وبالا کردی ہیں عذاب آ پڑنے کے بعد تو بڑے روئے پیٹے خوب آہو زاری کی لیکن اس وقت کی تمام باتیں بےسود ہیں۔ جیسے فرمایا (فَلَمَّآ اَحَسُّوْا بَاْسَنَآ اِذَا هُمْ مِّنْهَا يَرْكُضُوْنَ 12ۭ) 21۔ الأنبیاء :12) ہمارے عذابوں کو معلوم کر کے ان سے بچنا اور بھاگنا چاہا۔ لیکن یہ کیسے ہوسکتا تھا ؟ ابن عباس فرماتے ہیں کہ اب بھاگنے کا وقت نہیں نہ فریاد کا وقت ہے، اس وقت کوئی فریاد رسی نہیں کرسکتا۔ چاہو جتنا چیخو چلاؤ محض بےسود ہے۔ اب توحید کی قبولیت بےنفع، توبہ بیکار ہے۔ یہ بےوقت کی پکار ہے۔ لات معنی میں لا کے ہے۔ اس میں " ت " زائد ہے جیسے ثم میں بھی " ت " زیادہ ہوتی ہے اور ربت میں بھی۔ یہ مفصولہ ہے اور اس پر وقف ہے۔ امام ابن جریر کا قول ہے کہ یہ " ت " حین سے ملی ہوئی ہے یعنی ولاتحین ہے، لیکن مشہور اول ہی ہے۔ جمہور نے حین کو زبر سے پڑھا ہے۔ تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ وقت آہو زاری کا وقت نہیں۔ بعض نے یہاں زیر پڑھنا بھی جائز رکھا ہے لغت میں نوص کہتے ہیں پیچھے ہٹنے کو اور بوص کہتے ہیں آگے بڑھنے کو پس مقصد یہ ہے کہ یہ وقت بھاگنے اور نکل جانے کا وقت نہیں واللہ الموفق۔
Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ ص
[وَهِيَ] [[زيادة من ت، س.]] مَكِّيَّةٌ.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
أَمَّا الْكَلَامُ عَلَى الْحُرُوفِ الْمُقَطَّعَةِ فَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ سُورَةِ "الْبَقَرَةِ" بِمَا أَغْنَى عَنْ إِعَادَتِهِ هَاهُنَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ﴾ أَيْ: وَالْقُرْآنِ الْمُشْتَمِلِ عَلَى مَا فِيهِ ذِكْرٌ لِلْعِبَادِ وَنَفْعٌ لَهُمْ فِي الْمَعَاشِ وَالْمَعَادِ.
قَالَ الضَّحَّاكُ فِي قَوْلِهِ: ﴿ذِي الذِّكْرِ﴾ كَقَوْلِهِ: ﴿لَقَدْ أَنزلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ﴾ ] الْأَنْبِيَاءِ: ١٠ [أَيْ: تَذْكِيرُكُمْ. وَكَذَا قَالَ قَتَادَةُ وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَأَبُو [[في أ: "ابن".]] حُصَيْنٍ وَأَبُو صَالِحٍ وَالسُّدِّيُّ [[في ت: "وخلق غيرهما".]] ﴿ذِي الذِّكْرِ﴾ ذِي الشَّرَفِ أَيْ: ذِي الشَّأْنِ وَالْمَكَانَةِ.
وَلَا مُنَافَاةَ بَيْنَ الْقَوْلَيْنِ، فَإِنَّهُ كِتَابٌ شَرِيفٌ مُشْتَمِلٌ عَلَى التَّذْكِيرِ وَالْإِعْذَارِ وَالْإِنْذَارِ.
وَاخْتَلَفُوا فِي جَوَابِ هَذَا الْقَسْمِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ قَوْلُهُ: ﴿إِنْ كُلٌّ إِلا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ﴾ ] ص: ١٤ [. وَقِيلَ قَوْلُهُ: ﴿إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ﴾ ] ص: ٦٤ [حَكَاهُمَا [[في س: "رواهما".]] ابْنُ جَرِيرٍ وَهَذَا الثَّانِي فِيهِ بُعْدٌ كَبِيرٌ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: جَوَابُهُ: ﴿بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ﴾ وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقِيلَ: جَوَابُهُ مَا تَضَمَّنَهُ سِيَاقُ السُّورَةِ بِكَمَالِهَا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
ثُمَّ حَكَى ابْنُ جَرِيرٍ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ [[في أ: "العربية".]] أَنَّهُ قَالَ: جَوَابُهُ "ص" بِمَعْنَى: صِدْقٌ حَقٌّ وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ﴾ أَيْ: إِنَّ فِي هَذَا الْقُرْآنِ لَذِكْرًا لِمَنْ يَتَذَكَّرُ، وَعِبْرَةً لِمَنْ يَعْتَبِرُ. وَإِنَّمَا لَمْ يَنْتَفِعْ بِهِ الْكَافِرُونَ لِأَنَّهُمْ ﴿فِي عِزَّةٍ﴾ أَيِ: اسْتِكْبَارٍ عَنْهُ وَحَمِيَّةٍ ﴿وَشِقَاقٍ﴾ أَيْ: مُخَالَفَةٍ لَهُ وَمُعَانَدَةٍ وَمُفَارَقَةٍ.
ثُمَّ خَوَّفَهُمْ مَا أَهْلَكَ بِهِ الْأُمَمَ الْمُكَذِّبَةَ قَبْلَهُمْ بِسَبَبِ مُخَالَفَتِهِمْ لِلرُّسُلِ وَتَكْذِيبِهِمُ الكتب المنزلة من السَّمَاءِ فَقَالَ: ﴿كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ﴾ أَيْ: مِنْ أُمَّةٍ مُكَذِّبَةٍ، ﴿فَنَادَوْا﴾ أَيْ: [[في ت: "إلى".]] حِينَ جَاءَهُمُ الْعَذَابُ اسْتَغَاثُوا وَجَأَرُوا إِلَى اللَّهِ. وَلَيْسَ ذَلِكَ بِمُجْدٍ عَنْهُمْ شَيْئًا. كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا إِذَا هُمْ مِنْهَا يَرْكُضُونَ﴾ ] الْأَنْبِيَاءِ: ١٢ [أَيْ: يَهْرَبُونَ، ﴿لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَى مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ﴾ ] الْأَنْبِيَاءِ: ١٣ [
قَالَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ: ﴿فَنَادَوْا وَلاتَ حِينَ مَنَاصٍ﴾ قَالَ: لَيْسَ بِحِينِ نِدَاءٍ، وَلَا نَزْوٍ وَلَا فِرَارٍ [[وقد رواه الطستي في مسائل نافع بن الأزرق أنه سأل ابن عباس فذكره.]]
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: لَيْسَ بِحِينِ مِغَاثٍ.
وَقَالَ شَبِيبُ بْنُ بِشْرٍ [[في أ: "بشير".]] عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ [[في ت: "سئل".]] ابْنِ عَبَّاسٍ: نَادَوُا النِّدَاءَ حِينَ لَا يَنْفَعُهُمْ وَأَنْشَدَ:
تَذَكَّر لَيْلَى لاتَ حِينَ تذَكّر [[البيت للأعشى، وعجزه: وقد تبت عنها والمناص بعيد.]] .
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَنَادَوْا وَلاتَ حِينَ مَنَاصٍ﴾ يَقُولُ: نَادَوْا بِالتَّوْحِيدِ حِينَ تَوَلَّتِ الدُّنْيَا عَنْهُمْ، وَاسْتَنَاصُوا لِلتَّوْبَةِ حِينَ تَوَلَّتِ الدُّنْيَا عَنْهُمْ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ أَرَادُوا التَّوْبَةَ فِي غَيْرِ حِينِ النِّدَاءِ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: ﴿فَنَادَوْا وَلاتَ حِينَ مَنَاصٍ﴾ لَيْسَ بِحِينِ فِرَارٍ وَلَا إِجَابَةٍ.
وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنْ عِكْرِمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَأَبِي مَالِكٍ وَالضَّحَّاكِ وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَالْحَسَنِ وَقَتَادَةَ.
وَعَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: ﴿وَلاتَ حِينَ مَنَاصٍ﴾ وَلَا نِدَاءَ فِي غَيْرِ حِينِ النِّدَاءِ.
وَهَذِهِ الْكَلِمَةُ وَهِيَ "لَاتَ" هِيَ "لَا" الَّتِي لِلنَّفْيِ، زِيدَتْ مَعَهَا "التَّاءُ" كَمَا تُزَادُ فِي "ثُمَّ" فَيَقُولُونَ: "ثُمَّتْ"، وَ "رُبَّ" فَيَقُولُونَ: "رُبَّتْ". وَهِيَ مَفْصُولَةٌ وَالْوَقْفُ عَلَيْهَا. وَمِنْهُمْ مَنْ حَكَى عَنِ الْمُصْحَفِ الْإِمَامِ فِيمَا ذَكَرَهُ [ابْنُ جَرِيرٍ] [[ما بين المعقوفتين بياض في س.]] أَنَّهَا مُتَّصِلَةٌ بِحِينَ: "وَلَا تَحِينَ مَنَاصٍ". وَالْمَشْهُورُ الْأَوَّلُ. ثُمَّ قَرَأَ الْجُمْهُورُ بِنَصْبِ "حِينَ" تَقْدِيرُهُ: وَلَيْسَ الْحِينُ حِينَ مَنَاصٍ. وَمِنْهُمْ مَنْ جَوَّزَ النَّصْبَ بِهَا، وَأَنْشَدَ:
تَذَكَّر حُب لَيْلَى لاتَ حِينَا ... وأَضْحَى الشَّيْبُ قَدْ قَطَع القَرينا [[البيت في تفسير الطبري (٢٣/٧٧) .]]
وَمِنْهُمْ مَنْ جَوَّزَ الْجَرَّ بِهَا، وَأَنْشَدَ:
طَلَبُوا صُلْحَنَا ولاتَ أوانٍ ... فأجَبْنَا أن ليس حينُ بقاءِ [[البيت لأبي زبيد الطائي، وهو في تفسير الطبري (٢٣/٧٧) .]] وَأَنْشَدَ بَعْضُهُمْ أَيْضًا:
ولاتَ سَاعةَ مَنْدَم
بِخَفْضِ السَّاعَةِ، وَأَهْلُ اللُّغَةِ يَقُولُونَ: النَّوْصُ: التَّأَخُّرُ، وَالْبَوْصُ: التَّقَدُّمُ. وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلاتَ حِينَ مَنَاصٍ﴾ أَيْ: لَيْسَ الْحِينُ حِينَ فِرَارٍ وَلَا ذَهَابٍ.
وَعَجِبُوٓا۟ أَن جَآءَهُم مُّنذِرٌۭ مِّنْهُمْ ۖ وَقَالَ ٱلْكَٰفِرُونَ هَٰذَا سَٰحِرٌۭ كَذَّابٌ
And they wonder that there has come to them a warner from among themselves. And the disbelievers say, "This is a magician and a liar.
اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس ان ہی میں سے ہدایت کرنے والا آیا اور کافر کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا
آنها تعجّب کردند که پیامبر بیمدهندهای از میان آنان به سویشان آمده؛ و کافران گفتند: این ساحر بسیار دروغگویی است!
Tafsir Ibn Kathir
And they wonder that a warner has come to them from among themselves. And the disbelievers say: "This is a sorcerer, a liar. (4)"Has he made the gods into One God. Verily, this is a curious thing! (5)And the leaders among them went about (saying): "Go on, and remain constant to your gods! Verily, this is a thing designed! (6)"We have not heard (the like) of this in the religion of these later days. This is nothing but an invention! (7)"Has the Reminder been sent down to him (alone) from among us?" Nay, but they are in doubt about My Reminder! Nay, but they have not tasted (My) torment (8)Or have they the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Real Bestower (9)Or is it that the dominion of the heavens and the earth and all that is between them is theirs If so, let them ascend up with means (10)They will be a defeated host like the Confederates of the old times (11)
The Idolators were amazed at the Message, Tawhid and the Qur'an
Allah tells us that the idolators wondered at the sending of the Messenger of Allah ﷺ as a bringer of glad tidings and a warner. This is like the Ayah:
أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۗ قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَٰذَا لَسَاحِرٌ مُبِينٌ
(Is it a wonder for mankind that We have sent Our revelation to a man from among themselves (saying): "Warn mankind, and give good news to those who believe that they shall have with their Lord the rewards of their good deeds?" (But) the disbelievers say: "This is indeed an evident sorcerer!")(10:2). And Allah says here:
وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ ۖ
(And they wonder that a warner has come to them from among themselves.) meaning, a human being like themselves.
وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَٰذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ - أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ
(And the disbelievers said: "This is a sorcerer, a liar. Has he made the gods into One God?") meaning, does he claim that the One Who is to worshipped is One and there is no god besides Him? The idolators – may Allah curse them – denounced that and were amazed at the idea of giving up Shirk, because they had learned from their forefathers to worship idols and their hearts were filled with love for that. When the Messenger ﷺ called them to rid their hearts of that and to worship Allah Alone, this was too much for them and they were astounded by it. They said:
أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ - وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ
("Has he made the gods into One God? Verily, this is a curious thing!" And the leaders among them went about) meaning the chiefs and masters and nobles,
امْشُوا
((saying): "Go on...") meaning, 'persist in your religion,'
وَاصْبِرُوا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ
(and remain constant to your gods!), meaning, 'do not respond to Muhammad's call to Tawhid.'
إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ
(Verily, this is a thing designed!) Ibn Jarir said, "The Tawhid to which Muhammad is calling you is something by which he wishes to gain power over you, and exalt his own position, so that he will have followers among you, but we will not respond to him."
The Reason for the Revelation of These Ayat
Abu Ja'far bin Jarir recorded that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said, "When Abu Talib fell sick, some of the people of the Quraysh, including Abu Jahl, entered upon him and said, 'Your brother's son is insulting our gods; he does such and such and says such and such. Why don't you send for him and tell him not to do that?' So he sent for the Prophet ﷺ and he entered the house. There was space enough for one man to sit between them and Abu Talib, and Abu Jahl, may Allah curse him, was afraid that if [the Prophet ﷺ] were to sit beside Abu Talib he would be more lenient with him, so he jumped up and sat in that spot, and the Messenger of Allah ﷺ could find nowhere to sit near his uncle, so he sat by the door. Abu Talib said to him, 'O son of my brother, why are your people complaining about you and claiming that you insult their gods and say such and such?' They made so many complaints against him. Thereupon, he ﷺ said,
يَا عَمِّ إِنِّي أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ يَقُولُونَهَا تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ، وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ
(O uncle, all I want from them is one word which, if they say it, the Arabs will become their followers and the non-Arabs will pay Jizyah to them.) They were worried about what he said, so they said, 'One word? Yes, by your father, (we will say) ten words! What is it?' Abu Talib said, 'What word is it, O son of my brother?' He ﷺ said,
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ
(La ilaha illallah.) They stood up in agitation, brushing down their clothes, saying,
أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ
(Has he made the gods into One God. Verily, this is a curious thing!) Then this passage was revealed, from this Ayah to the Ayah:
بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!)" This is the wording of Abu Kurayb. Something similar was also recorded by Imam Ahmad and An-Nasa'i, and At-Tirmidhi said, "Hasan."
مَا سَمِعْنَا بِهَٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ
(We have not heard (the like) of this in the religion of these later days.) means, 'we have not heard anything like this Tawhid to which Muhammad calls us in the religion of these later days.'
Al-'Awfi reported that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said, "We have not heard of this from the religion of these later days (meaning Christianity); if this Qur'an were true, the Christians would have told us about it."
إِنْ هَٰذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ
(This is nothing but an invention!) Mujahid and Qatadah said, "A lie." Ibn 'Abbas said, "A fabrication."
أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنَا ۚ
(Has the Reminder been sent down to him (alone) from among us?)
They thought it unlikely that he would be singled out from among them to receive the Qur'an. This is like the Ayat:
لَوْلَا نُزِّلَ هَٰذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ
(And they say: "Why is not this Qur'an sent down to some great man of the two towns?")(43:31). Allah said:
أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ۚ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ
(Is it they who would portion out the mercy of your Lord? It is We Who portion out between them their livelihood in this world, and We raised some of them above others in ranks)(43:32).
When they said this, it indicated their ignorance and lack of understanding since they thought it was unlikely that the Qur'an would be revealed to the Messenger ﷺ and not to somebody else.
بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!) means, they say this because they have not yet tasted the punishment and vengeance of Allah. But they will come to know the consequences of what they say and what they rejected on the Day when they are herded into the fire of Hell. Then Allah points out that He is the One Who is in control of His Creation and Who does whatever He wills, Who gives whatever He wants to whomever He wants, and honors whomever He wants and humiliates whomever He wants, and guides whomever He wants and misguides whomever He wants, and sends the Ruh (Jibril) by His command upon whomsoever He wants among His servants, and seals the hearts of whomever He wants, so no one can guide him apart from Allah. His servants do not possess any power and have no control over His dominion, not even a speck of dust's weight; they do not possess even a thin membrane over a date stone. Allah says, denouncing them:
أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ
(Or have they the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Real Bestower?) meaning, the Almighty Whose might cannot be overcome, the Bestower Who gives whatever He wills to whomsoever He wills. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا - أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۖ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا - فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ صَدَّ عَنْهُ ۚ وَكَفَىٰ بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا
(Or have they a share in the dominion? Then in that case they would not give mankind even a speck on the back of a date stone. Or do they envy men for what Allah has given them of His bounty? Then, We had already given the family of Ibrahim the Book and Al-Hikmah, and conferred upon them a great kingdom. Of them were (some) who believed in him, and of them were (some) who averted their faces from him; and enough is Hell for burning (them).)(4:53-55).
قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لَأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْإِنْفَاقِ ۚ وَكَانَ الْإِنْسَانُ قَتُورًا
(Say: "If you possessed the treasure of the mercy of my Lord (wealth), then you would surely hold back for fear of (being exhausted), and man is ever miserly!")(17:100).
This is after Allah tells us the story of how the disbeliever denied the sending of a human Messenger, as He tells us that the people of Salih, peace be upon him, said:
أَأُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ - سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ
("Is it that the Reminder is sent to him alone from among us Nay, he is an insolent liar!" Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!)(54:25-26)
أَمْ لَهُمْ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ فَلْيَرْتَقُوا فِي الْأَسْبَابِ
(Or is it that the dominion of the heavens and the earth and all that is between them is theirs? If so, let them ascend up with means.) means, if they have that, then let them ascend up with means. Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa'id bin Jubayr, Qatadah and others said, "The ways to the heaven."
Ad-Dahhak, said, "Then let them ascend into the seventh heaven." Then Allah says,
جُنْدٌ مَا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الْأَحْزَابِ
(they will be a defeated host like the Confederates of the old times.) meaning, these hosts of disbelievers who are in false pride and opposition will be defeated and overwhelmed and disgraced, just as the Confederates of the old times were disgraced before them. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُنْتَصِرٌ - سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ
(Or say they: "We are a great multitude, victorious?" Their multitude will be put to flight, and they will show their backs.)(54:44-45) – which is what happened on the day of Badr –
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ
(Nay, but the Hour is their appointed time, and the Hour will be more grievous and more bitter.)(54:46)
Tafsir Ibn Kathir
مشرکین کا نبی اکرم ﷺ پر تعجب۔حضور ﷺ کی رسالت پر کفار کے حماقت آمیز تعجب کا اظہار ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ) 10۔ یونس :2) ، کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ان میں سے ایک انسان کی طرف ہم نے وحی کی تاکہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے اور ایمانداروں کو اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ اس کے پاس ان کے لئے بہترین لائحہ عمل ہے۔ کافر تو ہمارے رسول کو کھلا جادوگر کہنے لگے۔ یہیں پر یہ ذکر ہے کہ انہی میں سے انہی جیسے ایک انسان کے رسول بن کر آنے پر انہیں تعجب ہوا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور کذاب ہے۔ رسول ﷺ کی رسالت پر تعجب کے ساتھ ہی اللہ کی وحدانیت پر بھی انہیں تعجب معلوم ہوا اور کہنے لگے کہ اور سنو اتنے سارے معبودوں کے بدلے یہ تو کہتا ہے کہ اللہ ایک ہی ہے اور اس کا کوئی کسی طرح کا شریک ہی نہیں ان بیوقوفوں کو اپنے بڑوں کی دیکھا دیکھی جس شرک و کفر کی عادت تھی اس کے خلاف آواز سن کر ان کے دل دکھنے اور رکنے لگے اور وہ توحید کو ایک انوکھی اور انجان چیز سمجھنے لگے۔ ان کے بڑوں اور سرداروں نے تکبر کے ساتھ منہ موڑتے ہوئے اعلان کیا کہ اپنے قدیمی مذہب پر جمے رہو۔ اس کی بات نہ مانو اور اپنے معبودوں کی عبادت کرتے رہو۔ یہ تو صرف اپنے مطلب کی باتیں کہتا ہے۔ یہ اس بہانے اپنی جما رہا ہے کہ یہ تمہارا سب کا بڑا بن جائے اور تم اس کے تابع فرمان ہوجاؤ۔ ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ ایک بار قریشیوں کے شریف اور سردار رؤسا ایک مرتبہ جمع ہوئے ان میں ابو جہل بن ہشام عاص بن وائل اسود بن المطلب اسود بن عبد یغوث وغیرہ بھی تھے اور سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چل کر آج ابو طالب سے آخری فیصلہ کرلیں وہ انصاف کے ساتھ ایک بات ہمارے ذمہ ڈال دے اور ایک اپنے بھتیجے کے ذمے۔ کیونکہ یہ اب انتہائی عمر کو پہنچ چکے ہیں چراغ سحری ہو رہے ہیں اگر مرگئے اور ان کے بعد ہم نے محمد ﷺ کو کوئی مصیبت پہنچائی تو عرب میں طعنہ دیں گے کہ بڈھے کی موجودگی تک تو کچھ نہ چلی اور ان کی موت کے بعد بہادری آگئی۔ چناچہ ایک آدمی بھیج کر ابو طالب سے اجازت مانگی ان کی اجازت پر سب گھر میں گئے اور کہا سنئے جناب ! آپ ہمارے سردار ہیں بزرگ ہیں بڑے ہیں۔ ہم آپ کے بھتیجے سے اب بہت تنگ آگئے ہیں آپ انصاف کے ساتھ ہم میں اور اس میں فیصلہ کر دیجئے۔ دیکھئے ہم آپ سے انصاف چاہتے ہیں وہ ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں اور نہ ہم انہیں ستائیں وہ مختار ہیں جس کی چاہیں عبادت کریں لیکن ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں۔ ابو طالب نے آدمی بھیج کر اللہ کے رسول ﷺ کو بلوایا اور کہا جان پدر دیکھتے ہو آپ کی قوم کے سردار اور بزرگ سب جمع ہوئے ہیں اور آپ سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودوں کی توہین اور برائی کرنے سے باز آجائیں اور یہ آپ کو آپ کے دین پر چلنے میں آزادی دے رہے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا چچا جان کیا میں انہیں بہترین اور بڑی بھلائی کی طرف نہ بلاؤں ؟ ابو طالب نے کہا وہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ ایک کلمہ کہہ دیں صرف اس کے کہنے کی وجہ سے سارا عرب ان کے ماتحت ہوجائے گا اور سارے عجم پر ان کی حکومت ہوجائے گی۔ ابو جہل ملعون نے سوال کیا کہ اچھا بتاؤ وہ ایسا کونسا کلمہ ہے ؟ ایک نہیں ہم دس کہنے کو تیار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہو لا الہ الا اللہ بس یہ سننا تھا کہ شور و غل کردیا اور کہنے لگے اس کے سوا جو تو مانگے ہم دینے کو تیار ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم سورج کو بھی لاکر میرے ہاتھ پر رکھ دو تو بھی تو تم سے اس کلمے کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ سارے کے سارے مارے غصے اور غضب کے بھنا کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے واللہ ہم تجھے اور تیرے اللہ کو گالیاں دیں گے جس نے تجھے یہ حکم دیا ہے۔ اب یہ چلے اور ان کے سردار یہ کہتے رہے کہ جاؤ اپنے دین پر اور اپنے معبودوں کی عبادت پر جمے رہو۔ معلوم ہوگیا کہ اس شخص کا تو ارادہ ہی اور ہے یہ تو بڑا بننا چاہتا ہے (ابن ابی حاتم وغیرہ) ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان کے بھاگ جانے کے بعد حضور نے اپنے چچا سے کہا کہ آپ ہی اس کلمے کو پڑھ لیجئے اس نے کہا نہیں میں تو اپنے باپ دادوں اور قوم کے بڑوں کے دین پر ہی رہوں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا کہ جسے تو چاہے ہدایت نہیں کرسکتا اور روایت میں ہے کہ اس وقت ابو طالب بیمار تھے اور اسی وجہ سے وہ مرا بھی۔ جس وقت حضور ﷺ تشریف لائے اس وقت ابو طالب کے پاس ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ خالی تھی باقی تمام گھر آدمیوں سے بھرا ہوا تھا تو ابو جہل خبیث نے خیال کیا کہ اگر آپ ﷺ آ کر اپنے چچا کے پاس بیٹھ گئے تو زیادہ اثر ڈال سکیں گے اس لئے یہ ملعون کود کر وہاں جا بیٹھا اور حضور ﷺ کو دروازہ کے پاس ہی بیٹھنا پڑا۔ حضور ﷺ نے جب ایک کلمہ کہنے کو کہا تو سب نے جواب دیا کہ ایک نہیں دس ہم سب منتظر ہیں فرمایئے وہ کیا کلمہ ہے ؟ اور جب کلمہ توحید آپ کی زبانی سنا تو کپڑے جھاڑتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے لو اور سنو یہ تو سارے معبودوں کا ایک معبود بنا رہا ہے۔ اس پر یہ آیتیں، عذاب تک، اتریں۔ امام ترمذی اس روایت کو حسن کہتے ہیں۔ ہم نے تو یہ بات نہ اپنے دین میں دیکھی نہ نصرانیوں کے دین میں۔ یہ بالکل غلط اور جھوٹ اور بےسند بات ہے۔ یہ کیسے کچھ تعجب کی بات ہے کہ اللہ میاں کو کوئی اور نظر ہی نہ آیا اور اس پر قرآن اتار دیا۔ جیسے ایک اور آیت میں ان کا قول ہے (وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ 31) 43۔ الزخرف :31) یعنی ان دونوں شہروں میں کے کسی بڑے آدمی پر یہ قرآن کیوں نہ اتارا گیا ؟ جس کے جواب میں جناب باری کا ارشاد ہوا کہ کیا یہی لوگ رب کی رحمت کی تقسیم کرنے والے ہیں ؟ یہ تو اس قدر محتاج ہیں کہ ان کی اپنی روزیاں اور درجے بھی ہم تقسیم کرتے ہیں۔ الغرض یہ اعتراض بھی ان کی حماقت کا غرہ تھا۔ اللہ فرماتا ہے، یہ ہے ان کے شک کا نتیجہ اور وجہ یہ ہے کہ اب تک یہ چکنی چپڑی کھاتے رہے ہیں ہمارے عذابوں سے سابقہ نہیں پڑا۔ کل قیامت کے دن جبکہ دھکے دے کر جہنم میں گرائے جائیں گے۔ اس وقت اپنی اس سرکشی کا مزہ پائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنا قبضہ اور اپنی قدرت ظاہر فرماتا ہے کہ جو وہ چاہے کرے، جسے چاہے جو چاہے دے، عزت ذلت اس کے ہاتھ ہے، ہدایت ضلالت اس کی طرف سے ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے وحی نازل فرمائے اور جس کے دل پر چاہے اپنی مہر لگا دے بندوں کے اختیار میں کچھ نہیں وہ محض بےبس بالکل لاچار اور سراسر مجبور ہیں۔ اسی لئے فرمایا کیا ان کے پاس اس بلند جناب غالب، وہاب اللہ کی رحمت کے خزانے ہیں ؟ یعنی نہیں ہیں جیسے فرمایا (اَمْ لَھُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا 53ۙ) 4۔ النسآء :53) ، اگر اللہ کی حکمرانی کا کوئی حصہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو یہ بخیل تو کسی کو ٹکڑا بھی نہ کھانے دیتے۔ اور انہیں لوگوں کے ہاتھوں میں اللہ کا فضل دیکھ کر حسد آ رہا ہے ؟ ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بہت بڑی سلطنت دی تھی۔ ان میں سے بعض تو ایمان لائے اور بعض ایمان سے رکے رہے جو بھڑکتی جہنم کے لقمے بنیں گے وہ آگ ہی انہیں کافی ہے اور آیت میں ہے (قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا01000ۧ) 17۔ الإسراء :100)۔ یعنی اگر میرے رب کی رحمتوں کے خزانے تمہاری ملکیت میں ہوتے تو تم تو کمی سے ڈر کر خرچ کرنے سے رک جاتے انسان ہے ہی ناشکرا۔ قوم صالح نے بھی اپنے نبی ﷺ سے یہی کہا تھا کہ الخ، کیا ہم سب کو چھوڑ کر اسی پر ذکر اتارا گیا ؟ نہیں بلکہ یہ کذاب اور شریر ہے۔ اللہ فرماتا ہے کل معلوم کرلیں گے کہ ایسا کون ہے ؟ پھر فرمایا کیا زمین آسمان اور اس کے درمیان کی چیزوں پر ان کا اختیار ہے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر آسمانوں کی راہوں پر چڑھ جائیں ساتویں آسمان پر پہنچ جائیں۔ یہ یہاں کا لشکر بھی عنقریب ہزیمت و شکست اٹھائے گا اور مغلوب و ذلیل ہوگا۔ جیسے اور بڑے بڑے گروہ حق سے ٹکرائے اور پاش پاش ہوگئے، جیسے اور آیت میں ہے (اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَــصِرٌ 44) 54۔ القمر :44) ، یعنی کیا ان کا قول ہے کہ ہم بڑی جماعت ہیں اور ہم ہی فتح یاب رہیں گے ؟ سنو انہیں ابھی ابھی شکست فاش ہوگی اور پیٹھ دکھاتے ہوئے بزدلی کے ساتھ بدحواس ہو کر بھاگ کھڑے ہوں گے چناچہ بدر والے دن اللہ کی فرماں روائی نے اللہ کی باتوں کی سچائی انہیں اپنی آنکھوں سے دکھائی اور ابھی ان کے عذابوں کے وعدے کا دن تو آخرت کا دن ہے جو سخت کڑوا اور نہایت دہشت ناک اور وحشت والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنِ الْمُشْرِكِينَ فِي تَعَجُّبِهِمْ مِنْ بِعْثَةِ الرَّسُولِ بَشَرًا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَذَا لَسَاحِرٌ مُبِينٌ﴾ وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ﴾ أَيْ: بَشَرٌ مِثْلُهُمْ، ﴿وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا﴾ أَيْ: أَزَعَمَ أَنَّ الْمَعْبُودَ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ؟! أَنْكَرَ الْمُشْرِكُونَ ذَلِكَ -قَبَّحَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى-وَتَعَجَّبُوا مِنْ تَرْكِ الشِّرْكِ بِاللَّهِ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا قَدْ تَلَقَّوْا عَنْ آبَائِهِمْ عِبَادَةَ الْأَوْثَانِ وَأُشْرِبَتْهُ قُلُوبُهُمْ فَلَمَّا دَعَاهُمُ الرَّسُولُ ﷺ إِلَى خَلْعِ ذَلِكَ مِنْ قُلُوبِهِمْ وَإِفْرَادِ اللَّهِ [[في ت، س، أ: "الإله".]] بِالْوَحْدَانِيَّةِ أَعَظَمُوا ذَلِكَ وَتَعَجَّبُوا وَقَالُوا: ﴿أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ وَانْطَلَقَ الْمَلأ مِنْهُمْ﴾ وَهُمْ سَادَتُهُمْ وَقَادَتُهُمْ وَرُؤَسَاؤُهُمْ وَكُبَرَاؤُهُمْ قَائِلِينَ: ﴿ [أَنِ] امْشُوا﴾ [[زيادة من أ.]] أَيِ: اسْتَمِرُّوا عَلَى دِينِكُمْ ﴿وَاصْبِرُوا عَلَى آلِهَتِكُمْ﴾ وَلَا تَسْتَجِيبُوا لِمَا يَدْعُوكُمْ إِلَيْهِ مُحَمَّدٌ مِنَ التَّوْحِيدِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ﴾ قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: إِنَّ هَذَا الَّذِي يَدْعُونَا [[في ت: "يدعوا".]] إِلَيْهِ مُحَمَّدٌ ﷺ مِنَ التَّوْحِيدِ لَشَيْءٌ يُرِيدُ بِهِ الشَّرَفَ عَلَيْكُمْ وَالِاسْتِعْلَاءَ، وَأَنْ يَكُونَ لَهُ مِنْكُمْ أَتْبَاعٌ وَلَسْنَا مُجِيبِيهِ إِلَيْهِ.
ذِكْرُ سَبَبِ نُزُولِ هَذِهِ الْآيَاتِ:
قَالَ السُّدِّيُّ: إِنَّ أُنَاسًا مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِيهِمْ: أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ وَالْعَاصُ بْنُ وَائِلٍ، وَالْأَسْوَدُ بْنُ الْمُطَّلِبِ وَالْأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ يَغُوثَ فِي نَفَرٍ مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى أَبِي طَالِبٍ فَلْنُكَلِّمْهُ فِيهِ، فَلْيُنْصِفْنَا مِنْهُ فَلْيَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِنَا وَنَدَعْهُ وَإِلَهَهُ الَّذِي يَعْبُدُهُ؛ فَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَمُوتَ هَذَا الشَّيْخُ فَيَكُونَ مِنَّا إِلَيْهِ شَيْءٌ. فَتُعَيِّرُنَا [بِهِ] [[زيادة من ت، س، أ.]] العرب يقولون: تَرَكُوهُ حَتَّى إِذَا مَاتَ عَنْهُ [[في أ: "عمه"، وكذا في الطبري.]] تَنَاوَلُوهُ". فَبَعَثُوا رَجُلًا مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ [[في ت، س، أ: "يدعى".]] الْمُطَّلِبُ" فَاسْتَأْذَنَ لَهُمْ عَلَى أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: هَؤُلَاءِ مَشْيَخَةُ قَوْمِكَ وَسَرَاتُهُمْ يَسْتَأْذِنُونَ عَلَيْكَ. قَالَ: أَدْخِلْهُمْ. فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ قَالُوا: يَا أَبَا طَالِبٍ أَنْتَ كَبِيرُنَا وَسَيِّدُنَا فَأَنْصِفْنَا مِنِ ابْنِ أَخِيكَ فَمُرْهُ فَلْيَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِنَا وَنَدَعْهُ وَإِلَهَهُ. قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْهِ أَبُو طَالِبٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي هَؤُلَاءِ مَشْيَخَةُ قَوْمِكَ وَسَرَاتُهُمْ وَقَدْ سَأَلُوكَ أَنْ تَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِهِمْ وَيَدَعُوكَ وَإِلَهَكَ. قَالَ: "يَا عَمِّ أَفَلَا أَدْعُوهُمْ إِلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَهُمْ؟ " قَالَ: وَإِلَامَ تَدْعُوهُمْ؟ قَالَ: "أَدْعُوهُمْ [إِلَى] [[زيادة من أ.]] أَنْ يَتَكَلَّمُوا بِكَلِمَةٍ تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَيَمْلِكُونَ بِهَا الْعَجَمَ". فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ: مَا هِيَ وَأَبِيكَ؟ لَنُعْطِيَنَّهَا [[في ت، س، أ: "لنعطينكما"]] وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا. قَالَ: تَقُولُونَ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ". فَنَفَرَ وَقَالَ: سَلْنَا غَيْرَ هَذَا [[في ت، س، أ: "غيرها".]] قَالَ: "لَوْ جِئْتُمُونِي بِالشَّمْسِ حَتَّى تَضَعُوهَا فِي يَدِي مَا سَأَلْتُكُمْ غَيْرَهَا" فَقَامُوا مِنْ عِنْدِهِ غِضَابًا، وَقَالُوا: وَاللَّهِ لَنَشْتُمَنَّكَ وَإِلَهَكَ الَّذِي أَمَرَكَ [[في أ: "يأمرك".]] بِهَذَا. ﴿وَانْطَلَقَ الْمَلأ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَى آلِهَتِكُمْ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ﴾
رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَابْنُ جَرِيرٍ وَزَادَ: فَلَمَّا خَرَجُوا دَعَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَمَّهُ إِلَى قَوْلِ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" فَأَبَى وَقَالَ: بَلْ عَلَى دِينِ الْأَشْيَاخِ. وَنَزَلَتْ: ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ﴾ [الْقَصَصِ:٥٦] [[تفسير الطبري (٢٣/٨٠) .]]
وَقَالَ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَابْنُ وَكِيعٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قال: لما مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَهْطٌ مِنْ قُرَيْشٍ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ فَقَالُوا: إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يَشْتُمُ آلِهَتَنَا وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ وَيَقُولُ وَيَقُولُ فَلَوْ بَعَثْتَ إِلَيْهِ فَنَهَيْتَهُ؟ فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَجَاءَ النَّبِيُّ ﷺ فَدَخَلَ الْبَيْتَ وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَبِي طَالِبٍ قَدْرُ مَجْلِسِ رَجُلٍ قَالَ: فَخَشِيَ أَبُو جَهْلٍ إِنْ جَلَسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يَكُونَ أَرَقَّ لَهُ عَلَيْهِ. فَوَثَبَ فَجَلَسَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ وَلَمْ يَجِدْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَجْلِسًا قُرْبَ عَمِّهِ فَجَلَسَ عِنْدَ الْبَابِ. فَقَالَ لَهُ أَبُو طَالِبٍ: أَيِ ابْنَ أَخِي مَا بَالُ قَوْمِكَ يَشُكُونَكَ، يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَشْتُمُ آلِهَتَهُمْ وَتَقُولُ وَتَقُولُ؟ قَالَ: وَأَكْثَرُوا عَلَيْهِ مِنَ الْقَوْلِ وَتَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: " يَا عَمِّ إِنِّي أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ! يَقُولُونَهَا تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ" فَفَزِعُوا لِكَلِمَتِهِ وَلِقَوْلِهِ وَقَالُوا [[في ت، س، أ: "فقال القوم".]] كَلِمَةً وَاحِدَةً! نَعَمْ وَأَبِيكَ عَشْرًا فَقَالُوا: وَمَا هِيَ؟ وَقَالَ أَبُو طَالِبٍ وَأَيُّ كَلِمَةٍ هِيَ يَا ابْنَ أَخِي؟ فَقَالَ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" فَقَامُوا فَزِعِينَ يَنْفُضُونَ ثِيَابَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ: ﴿أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ﴾ قَالَ: وَنَزَلَتْ مِنْ [[في أ: "في".]] هَذَا الْمَوْضِعِ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ﴾ لَفْظُ أَبِي كُرَيْبٍ [[تفسير الطبري (٢٣/٧٩) .]]
وَهَكَذَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبَّادٍ غَيْرِ مَنْسُوبٍ بِهِ نَحْوَهُ [[المسند (١/٣٦٢) والنسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٣٧) .]] وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَابْنُ جَرِيرٍ أَيْضًا كُلُّهُمْ فِي تَفَاسِيرِهِمْ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عن الأعمش عن يحيى بن عمارة الْكُوفِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ [[في ت: "ورواه الترمذي وقال: حديث حسن".]] حَسَنٌ [[سنن الترمذي برقم (٣٢٣٢) والنسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٣٦) وتفسير الطبري (٢٣/٧٩) .]]
* *
وَقَوْلُهُمْ: ﴿مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الآخِرَةِ﴾ أَيْ: مَا سَمِعْنَا بِهَذَا الَّذِي يَدْعُونَا إِلَيْهِ مُحَمَّدٌ مِنَ التَّوْحِيدِ فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ.
قَالَ مُجَاهِدٌ وَقَتَادَةُ وَابْنُ [[في ت: "وأبو".]] زَيْدٍ: يَعْنُونَ دِينَ قُرَيْشٍ.
وَقَالَ غَيْرُهُمْ: يَعْنُونَ النَّصْرَانِيَّةَ، قَالَهُ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ وَالسُّدِّيُّ.
وَقَالَ الْعَوْفِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الآخِرَةِ﴾ يَعْنِي: النَّصْرَانِيَّةَ قَالُوا: لَوْ كَانَ هَذَا الْقُرْآنُ حَقًّا أَخْبَرَتْنَا بِهِ النَّصَارَى.
﴿إِنْ هَذَا إِلا اخْتِلاقٌ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ، وَقَتَادَةُ كَذِبٌ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تَخَرُّصٌ.
* *
وَقَوْلُهُمْ: ﴿أَؤُنزلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنَا﴾ يَعْنِي: أَنَّهُمْ يَسْتَبْعِدُونَ تَخْصِيصَهُ بِإِنْزَالِ الْقُرْآنِ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِهِمْ كُلِّهِمْ كَمَا قَالُوا فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿لَوْلا نزلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٣١] قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٣٢] وَلِهَذَا لَمَّا قَالُوا هَذَا الَّذِي دَلَّ عَلَى جَهْلِهِمْ وَقِلَّةِ عَقْلِهِمْ فِي اسْتِبْعَادِهِمْ إِنْزَالَ الْقُرْآنِ عَلَى الرَّسُولِ مِنْ بَيْنِهِمْ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ﴾ أَيْ: إِنَّمَا يَقُولُونَ هَذَا لِأَنَّهُمْ مَا ذَاقُوا إِلَى حِينِ قَوْلِهِمْ ذَلِكَ عَذَابَ اللَّهِ وَنِقْمَتَهُ سَيَعْلَمُونَ غِبَّ مَا قَالُوا، وَمَا كَذَّبُوا بِهِ يَوْمَ يُدَعّون إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعّا.
ثُمَّ قَالَ مُبَيِّنًا أَنَّهُ الْمُتَصَرِّفُ فِي مُلْكِهِ الْفَعَّالُ لِمَا يَشَاءُ الَّذِي يُعْطِي مَنْ يَشَاءُ مَا يَشَاءُ وَيُعِزُّ مَنْ يَشَاءُ وَيُذِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَيُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيُنَزِّلُ الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَخْتِمُ عَلَى قَلْبِ مَنْ يَشَاءُ، فَلَا يَهْدِيهِ أَحَدٌ مِنْ بَعْدِ اللَّهِ وَإِنَّ الْعِبَادَ لَا يَمْلِكُونَ شَيْئًا مِنَ الْأَمْرِ وَلَيْسَ إِلَيْهِمْ مِنَ التَّصَرُّفِ فِي الْمُلْكِ وَلَا مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَمَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى مُنْكِرًا عَلَيْهِمْ: ﴿أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ﴾ أَيِ: الْعَزِيزِ الَّذِي لَا يُرَامُ جَنَابُهُ الْوَهَّابِ الَّذِي يُعْطِي مَا يُرِيدُ لِمَنْ يُرِيدُ.
وَهَذِهِ الْآيَةُ شَبِيهَةٌ بِقَوْلِهِ: ﴿أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ صَدَّ عَنْهُ وَكَفَى بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا﴾ [النِّسَاءِ: ٥٣: ٥٥] وَقَوْلُهُ ﴿قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لأمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الإنْفَاقِ وَكَانَ الإنْسَانُ قَتُورًا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ١٠] وَذَلِكَ بَعْدَ الْحِكَايَةِ عَنِ الْكُفَّارِ أَنَّهُمْ أَنْكَرُوا بِعْثَةَ الرَّسُولِ الْبَشَرِيِّ وَكَمَا أَخْبَرَ تَعَالَى عَنْ قَوْمِ صَالِحٍ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] حِينَ قَالُوا: ﴿أَؤُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَنِ الْكَذَّابُ الأشِرُ﴾ [القمر: ٢٥: ٢٦] وقوله: ﴿أَمْ لَهُمْ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَلْيَرْتَقُوا فِي الأسْبَابِ﴾ أَيْ: إِنْ كَانَ لَهُمْ ذَلِكَ فَلْيَصْعَدُوا فِي الْأَسْبَابِ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَقَتَادَةُ وَغَيْرُهُمْ: يَعْنِي طُرُقَ السَّمَاءِ.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: فَلْيَصْعَدُوا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿جُنْدٌ مَا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الأحْزَابِ﴾ أَيْ: هَؤُلَاءِ الْجُنْدُ الْمُكَذِّبُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ سَيُهْزَمُونَ وَيُغْلَبُونَ وَيُكْبَتُونَ كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِنَ الْأَحْزَابِ الْمُكَذِّبِينَ وَهَذِهِ كَقَوْلِهِ: ﴿أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُنْتَصِرٌ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ﴾ وَكَانَ ذَلِكَ يَوْمَ بَدْرٍ ﴿بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ﴾ [الْقَمَرِ: ٤٤: ٤٦] .
أَجَعَلَ ٱلْءَالِهَةَ إِلَٰهًۭا وَٰحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌۭ
Has he made the gods [only] one God? Indeed, this is a curious thing."
کیا اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے
آیا او بجای اینهمه خدایان، خدای واحدی قرار داده؟! این براستی چیز عجیبی است!»
Tafsir Ibn Kathir
And they wonder that a warner has come to them from among themselves. And the disbelievers say: "This is a sorcerer, a liar. (4)"Has he made the gods into One God. Verily, this is a curious thing! (5)And the leaders among them went about (saying): "Go on, and remain constant to your gods! Verily, this is a thing designed! (6)"We have not heard (the like) of this in the religion of these later days. This is nothing but an invention! (7)"Has the Reminder been sent down to him (alone) from among us?" Nay, but they are in doubt about My Reminder! Nay, but they have not tasted (My) torment (8)Or have they the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Real Bestower (9)Or is it that the dominion of the heavens and the earth and all that is between them is theirs If so, let them ascend up with means (10)They will be a defeated host like the Confederates of the old times (11)
The Idolators were amazed at the Message, Tawhid and the Qur'an
Allah tells us that the idolators wondered at the sending of the Messenger of Allah ﷺ as a bringer of glad tidings and a warner. This is like the Ayah:
أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۗ قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَٰذَا لَسَاحِرٌ مُبِينٌ
(Is it a wonder for mankind that We have sent Our revelation to a man from among themselves (saying): "Warn mankind, and give good news to those who believe that they shall have with their Lord the rewards of their good deeds?" (But) the disbelievers say: "This is indeed an evident sorcerer!")(10:2). And Allah says here:
وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ ۖ
(And they wonder that a warner has come to them from among themselves.) meaning, a human being like themselves.
وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَٰذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ - أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ
(And the disbelievers said: "This is a sorcerer, a liar. Has he made the gods into One God?") meaning, does he claim that the One Who is to worshipped is One and there is no god besides Him? The idolators – may Allah curse them – denounced that and were amazed at the idea of giving up Shirk, because they had learned from their forefathers to worship idols and their hearts were filled with love for that. When the Messenger ﷺ called them to rid their hearts of that and to worship Allah Alone, this was too much for them and they were astounded by it. They said:
أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ - وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ
("Has he made the gods into One God? Verily, this is a curious thing!" And the leaders among them went about) meaning the chiefs and masters and nobles,
امْشُوا
((saying): "Go on...") meaning, 'persist in your religion,'
وَاصْبِرُوا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ
(and remain constant to your gods!), meaning, 'do not respond to Muhammad's call to Tawhid.'
إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ
(Verily, this is a thing designed!) Ibn Jarir said, "The Tawhid to which Muhammad is calling you is something by which he wishes to gain power over you, and exalt his own position, so that he will have followers among you, but we will not respond to him."
The Reason for the Revelation of These Ayat
Abu Ja'far bin Jarir recorded that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said, "When Abu Talib fell sick, some of the people of the Quraysh, including Abu Jahl, entered upon him and said, 'Your brother's son is insulting our gods; he does such and such and says such and such. Why don't you send for him and tell him not to do that?' So he sent for the Prophet ﷺ and he entered the house. There was space enough for one man to sit between them and Abu Talib, and Abu Jahl, may Allah curse him, was afraid that if [the Prophet ﷺ] were to sit beside Abu Talib he would be more lenient with him, so he jumped up and sat in that spot, and the Messenger of Allah ﷺ could find nowhere to sit near his uncle, so he sat by the door. Abu Talib said to him, 'O son of my brother, why are your people complaining about you and claiming that you insult their gods and say such and such?' They made so many complaints against him. Thereupon, he ﷺ said,
يَا عَمِّ إِنِّي أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ يَقُولُونَهَا تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ، وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ
(O uncle, all I want from them is one word which, if they say it, the Arabs will become their followers and the non-Arabs will pay Jizyah to them.) They were worried about what he said, so they said, 'One word? Yes, by your father, (we will say) ten words! What is it?' Abu Talib said, 'What word is it, O son of my brother?' He ﷺ said,
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ
(La ilaha illallah.) They stood up in agitation, brushing down their clothes, saying,
أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ
(Has he made the gods into One God. Verily, this is a curious thing!) Then this passage was revealed, from this Ayah to the Ayah:
بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!)" This is the wording of Abu Kurayb. Something similar was also recorded by Imam Ahmad and An-Nasa'i, and At-Tirmidhi said, "Hasan."
مَا سَمِعْنَا بِهَٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ
(We have not heard (the like) of this in the religion of these later days.) means, 'we have not heard anything like this Tawhid to which Muhammad calls us in the religion of these later days.'
Al-'Awfi reported that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said, "We have not heard of this from the religion of these later days (meaning Christianity); if this Qur'an were true, the Christians would have told us about it."
إِنْ هَٰذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ
(This is nothing but an invention!) Mujahid and Qatadah said, "A lie." Ibn 'Abbas said, "A fabrication."
أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنَا ۚ
(Has the Reminder been sent down to him (alone) from among us?)
They thought it unlikely that he would be singled out from among them to receive the Qur'an. This is like the Ayat:
لَوْلَا نُزِّلَ هَٰذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ
(And they say: "Why is not this Qur'an sent down to some great man of the two towns?")(43:31). Allah said:
أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ۚ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ
(Is it they who would portion out the mercy of your Lord? It is We Who portion out between them their livelihood in this world, and We raised some of them above others in ranks)(43:32).
When they said this, it indicated their ignorance and lack of understanding since they thought it was unlikely that the Qur'an would be revealed to the Messenger ﷺ and not to somebody else.
بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!) means, they say this because they have not yet tasted the punishment and vengeance of Allah. But they will come to know the consequences of what they say and what they rejected on the Day when they are herded into the fire of Hell. Then Allah points out that He is the One Who is in control of His Creation and Who does whatever He wills, Who gives whatever He wants to whomever He wants, and honors whomever He wants and humiliates whomever He wants, and guides whomever He wants and misguides whomever He wants, and sends the Ruh (Jibril) by His command upon whomsoever He wants among His servants, and seals the hearts of whomever He wants, so no one can guide him apart from Allah. His servants do not possess any power and have no control over His dominion, not even a speck of dust's weight; they do not possess even a thin membrane over a date stone. Allah says, denouncing them:
أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ
(Or have they the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Real Bestower?) meaning, the Almighty Whose might cannot be overcome, the Bestower Who gives whatever He wills to whomsoever He wills. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا - أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۖ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا - فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ صَدَّ عَنْهُ ۚ وَكَفَىٰ بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا
(Or have they a share in the dominion? Then in that case they would not give mankind even a speck on the back of a date stone. Or do they envy men for what Allah has given them of His bounty? Then, We had already given the family of Ibrahim the Book and Al-Hikmah, and conferred upon them a great kingdom. Of them were (some) who believed in him, and of them were (some) who averted their faces from him; and enough is Hell for burning (them).)(4:53-55).
قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لَأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْإِنْفَاقِ ۚ وَكَانَ الْإِنْسَانُ قَتُورًا
(Say: "If you possessed the treasure of the mercy of my Lord (wealth), then you would surely hold back for fear of (being exhausted), and man is ever miserly!")(17:100).
This is after Allah tells us the story of how the disbeliever denied the sending of a human Messenger, as He tells us that the people of Salih, peace be upon him, said:
أَأُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ - سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ
("Is it that the Reminder is sent to him alone from among us Nay, he is an insolent liar!" Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!)(54:25-26)
أَمْ لَهُمْ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ فَلْيَرْتَقُوا فِي الْأَسْبَابِ
(Or is it that the dominion of the heavens and the earth and all that is between them is theirs? If so, let them ascend up with means.) means, if they have that, then let them ascend up with means. Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa'id bin Jubayr, Qatadah and others said, "The ways to the heaven."
Ad-Dahhak, said, "Then let them ascend into the seventh heaven." Then Allah says,
جُنْدٌ مَا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الْأَحْزَابِ
(they will be a defeated host like the Confederates of the old times.) meaning, these hosts of disbelievers who are in false pride and opposition will be defeated and overwhelmed and disgraced, just as the Confederates of the old times were disgraced before them. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُنْتَصِرٌ - سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ
(Or say they: "We are a great multitude, victorious?" Their multitude will be put to flight, and they will show their backs.)(54:44-45) – which is what happened on the day of Badr –
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ
(Nay, but the Hour is their appointed time, and the Hour will be more grievous and more bitter.)(54:46)
Tafsir Ibn Kathir
مشرکین کا نبی اکرم ﷺ پر تعجب۔حضور ﷺ کی رسالت پر کفار کے حماقت آمیز تعجب کا اظہار ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ) 10۔ یونس :2) ، کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ان میں سے ایک انسان کی طرف ہم نے وحی کی تاکہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے اور ایمانداروں کو اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ اس کے پاس ان کے لئے بہترین لائحہ عمل ہے۔ کافر تو ہمارے رسول کو کھلا جادوگر کہنے لگے۔ یہیں پر یہ ذکر ہے کہ انہی میں سے انہی جیسے ایک انسان کے رسول بن کر آنے پر انہیں تعجب ہوا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور کذاب ہے۔ رسول ﷺ کی رسالت پر تعجب کے ساتھ ہی اللہ کی وحدانیت پر بھی انہیں تعجب معلوم ہوا اور کہنے لگے کہ اور سنو اتنے سارے معبودوں کے بدلے یہ تو کہتا ہے کہ اللہ ایک ہی ہے اور اس کا کوئی کسی طرح کا شریک ہی نہیں ان بیوقوفوں کو اپنے بڑوں کی دیکھا دیکھی جس شرک و کفر کی عادت تھی اس کے خلاف آواز سن کر ان کے دل دکھنے اور رکنے لگے اور وہ توحید کو ایک انوکھی اور انجان چیز سمجھنے لگے۔ ان کے بڑوں اور سرداروں نے تکبر کے ساتھ منہ موڑتے ہوئے اعلان کیا کہ اپنے قدیمی مذہب پر جمے رہو۔ اس کی بات نہ مانو اور اپنے معبودوں کی عبادت کرتے رہو۔ یہ تو صرف اپنے مطلب کی باتیں کہتا ہے۔ یہ اس بہانے اپنی جما رہا ہے کہ یہ تمہارا سب کا بڑا بن جائے اور تم اس کے تابع فرمان ہوجاؤ۔ ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ ایک بار قریشیوں کے شریف اور سردار رؤسا ایک مرتبہ جمع ہوئے ان میں ابو جہل بن ہشام عاص بن وائل اسود بن المطلب اسود بن عبد یغوث وغیرہ بھی تھے اور سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چل کر آج ابو طالب سے آخری فیصلہ کرلیں وہ انصاف کے ساتھ ایک بات ہمارے ذمہ ڈال دے اور ایک اپنے بھتیجے کے ذمے۔ کیونکہ یہ اب انتہائی عمر کو پہنچ چکے ہیں چراغ سحری ہو رہے ہیں اگر مرگئے اور ان کے بعد ہم نے محمد ﷺ کو کوئی مصیبت پہنچائی تو عرب میں طعنہ دیں گے کہ بڈھے کی موجودگی تک تو کچھ نہ چلی اور ان کی موت کے بعد بہادری آگئی۔ چناچہ ایک آدمی بھیج کر ابو طالب سے اجازت مانگی ان کی اجازت پر سب گھر میں گئے اور کہا سنئے جناب ! آپ ہمارے سردار ہیں بزرگ ہیں بڑے ہیں۔ ہم آپ کے بھتیجے سے اب بہت تنگ آگئے ہیں آپ انصاف کے ساتھ ہم میں اور اس میں فیصلہ کر دیجئے۔ دیکھئے ہم آپ سے انصاف چاہتے ہیں وہ ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں اور نہ ہم انہیں ستائیں وہ مختار ہیں جس کی چاہیں عبادت کریں لیکن ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں۔ ابو طالب نے آدمی بھیج کر اللہ کے رسول ﷺ کو بلوایا اور کہا جان پدر دیکھتے ہو آپ کی قوم کے سردار اور بزرگ سب جمع ہوئے ہیں اور آپ سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودوں کی توہین اور برائی کرنے سے باز آجائیں اور یہ آپ کو آپ کے دین پر چلنے میں آزادی دے رہے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا چچا جان کیا میں انہیں بہترین اور بڑی بھلائی کی طرف نہ بلاؤں ؟ ابو طالب نے کہا وہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ ایک کلمہ کہہ دیں صرف اس کے کہنے کی وجہ سے سارا عرب ان کے ماتحت ہوجائے گا اور سارے عجم پر ان کی حکومت ہوجائے گی۔ ابو جہل ملعون نے سوال کیا کہ اچھا بتاؤ وہ ایسا کونسا کلمہ ہے ؟ ایک نہیں ہم دس کہنے کو تیار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہو لا الہ الا اللہ بس یہ سننا تھا کہ شور و غل کردیا اور کہنے لگے اس کے سوا جو تو مانگے ہم دینے کو تیار ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم سورج کو بھی لاکر میرے ہاتھ پر رکھ دو تو بھی تو تم سے اس کلمے کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ سارے کے سارے مارے غصے اور غضب کے بھنا کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے واللہ ہم تجھے اور تیرے اللہ کو گالیاں دیں گے جس نے تجھے یہ حکم دیا ہے۔ اب یہ چلے اور ان کے سردار یہ کہتے رہے کہ جاؤ اپنے دین پر اور اپنے معبودوں کی عبادت پر جمے رہو۔ معلوم ہوگیا کہ اس شخص کا تو ارادہ ہی اور ہے یہ تو بڑا بننا چاہتا ہے (ابن ابی حاتم وغیرہ) ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان کے بھاگ جانے کے بعد حضور نے اپنے چچا سے کہا کہ آپ ہی اس کلمے کو پڑھ لیجئے اس نے کہا نہیں میں تو اپنے باپ دادوں اور قوم کے بڑوں کے دین پر ہی رہوں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا کہ جسے تو چاہے ہدایت نہیں کرسکتا اور روایت میں ہے کہ اس وقت ابو طالب بیمار تھے اور اسی وجہ سے وہ مرا بھی۔ جس وقت حضور ﷺ تشریف لائے اس وقت ابو طالب کے پاس ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ خالی تھی باقی تمام گھر آدمیوں سے بھرا ہوا تھا تو ابو جہل خبیث نے خیال کیا کہ اگر آپ ﷺ آ کر اپنے چچا کے پاس بیٹھ گئے تو زیادہ اثر ڈال سکیں گے اس لئے یہ ملعون کود کر وہاں جا بیٹھا اور حضور ﷺ کو دروازہ کے پاس ہی بیٹھنا پڑا۔ حضور ﷺ نے جب ایک کلمہ کہنے کو کہا تو سب نے جواب دیا کہ ایک نہیں دس ہم سب منتظر ہیں فرمایئے وہ کیا کلمہ ہے ؟ اور جب کلمہ توحید آپ کی زبانی سنا تو کپڑے جھاڑتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے لو اور سنو یہ تو سارے معبودوں کا ایک معبود بنا رہا ہے۔ اس پر یہ آیتیں، عذاب تک، اتریں۔ امام ترمذی اس روایت کو حسن کہتے ہیں۔ ہم نے تو یہ بات نہ اپنے دین میں دیکھی نہ نصرانیوں کے دین میں۔ یہ بالکل غلط اور جھوٹ اور بےسند بات ہے۔ یہ کیسے کچھ تعجب کی بات ہے کہ اللہ میاں کو کوئی اور نظر ہی نہ آیا اور اس پر قرآن اتار دیا۔ جیسے ایک اور آیت میں ان کا قول ہے (وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ 31) 43۔ الزخرف :31) یعنی ان دونوں شہروں میں کے کسی بڑے آدمی پر یہ قرآن کیوں نہ اتارا گیا ؟ جس کے جواب میں جناب باری کا ارشاد ہوا کہ کیا یہی لوگ رب کی رحمت کی تقسیم کرنے والے ہیں ؟ یہ تو اس قدر محتاج ہیں کہ ان کی اپنی روزیاں اور درجے بھی ہم تقسیم کرتے ہیں۔ الغرض یہ اعتراض بھی ان کی حماقت کا غرہ تھا۔ اللہ فرماتا ہے، یہ ہے ان کے شک کا نتیجہ اور وجہ یہ ہے کہ اب تک یہ چکنی چپڑی کھاتے رہے ہیں ہمارے عذابوں سے سابقہ نہیں پڑا۔ کل قیامت کے دن جبکہ دھکے دے کر جہنم میں گرائے جائیں گے۔ اس وقت اپنی اس سرکشی کا مزہ پائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنا قبضہ اور اپنی قدرت ظاہر فرماتا ہے کہ جو وہ چاہے کرے، جسے چاہے جو چاہے دے، عزت ذلت اس کے ہاتھ ہے، ہدایت ضلالت اس کی طرف سے ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے وحی نازل فرمائے اور جس کے دل پر چاہے اپنی مہر لگا دے بندوں کے اختیار میں کچھ نہیں وہ محض بےبس بالکل لاچار اور سراسر مجبور ہیں۔ اسی لئے فرمایا کیا ان کے پاس اس بلند جناب غالب، وہاب اللہ کی رحمت کے خزانے ہیں ؟ یعنی نہیں ہیں جیسے فرمایا (اَمْ لَھُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا 53ۙ) 4۔ النسآء :53) ، اگر اللہ کی حکمرانی کا کوئی حصہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو یہ بخیل تو کسی کو ٹکڑا بھی نہ کھانے دیتے۔ اور انہیں لوگوں کے ہاتھوں میں اللہ کا فضل دیکھ کر حسد آ رہا ہے ؟ ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بہت بڑی سلطنت دی تھی۔ ان میں سے بعض تو ایمان لائے اور بعض ایمان سے رکے رہے جو بھڑکتی جہنم کے لقمے بنیں گے وہ آگ ہی انہیں کافی ہے اور آیت میں ہے (قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا01000ۧ) 17۔ الإسراء :100)۔ یعنی اگر میرے رب کی رحمتوں کے خزانے تمہاری ملکیت میں ہوتے تو تم تو کمی سے ڈر کر خرچ کرنے سے رک جاتے انسان ہے ہی ناشکرا۔ قوم صالح نے بھی اپنے نبی ﷺ سے یہی کہا تھا کہ الخ، کیا ہم سب کو چھوڑ کر اسی پر ذکر اتارا گیا ؟ نہیں بلکہ یہ کذاب اور شریر ہے۔ اللہ فرماتا ہے کل معلوم کرلیں گے کہ ایسا کون ہے ؟ پھر فرمایا کیا زمین آسمان اور اس کے درمیان کی چیزوں پر ان کا اختیار ہے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر آسمانوں کی راہوں پر چڑھ جائیں ساتویں آسمان پر پہنچ جائیں۔ یہ یہاں کا لشکر بھی عنقریب ہزیمت و شکست اٹھائے گا اور مغلوب و ذلیل ہوگا۔ جیسے اور بڑے بڑے گروہ حق سے ٹکرائے اور پاش پاش ہوگئے، جیسے اور آیت میں ہے (اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَــصِرٌ 44) 54۔ القمر :44) ، یعنی کیا ان کا قول ہے کہ ہم بڑی جماعت ہیں اور ہم ہی فتح یاب رہیں گے ؟ سنو انہیں ابھی ابھی شکست فاش ہوگی اور پیٹھ دکھاتے ہوئے بزدلی کے ساتھ بدحواس ہو کر بھاگ کھڑے ہوں گے چناچہ بدر والے دن اللہ کی فرماں روائی نے اللہ کی باتوں کی سچائی انہیں اپنی آنکھوں سے دکھائی اور ابھی ان کے عذابوں کے وعدے کا دن تو آخرت کا دن ہے جو سخت کڑوا اور نہایت دہشت ناک اور وحشت والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنِ الْمُشْرِكِينَ فِي تَعَجُّبِهِمْ مِنْ بِعْثَةِ الرَّسُولِ بَشَرًا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَذَا لَسَاحِرٌ مُبِينٌ﴾ وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ﴾ أَيْ: بَشَرٌ مِثْلُهُمْ، ﴿وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا﴾ أَيْ: أَزَعَمَ أَنَّ الْمَعْبُودَ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ؟! أَنْكَرَ الْمُشْرِكُونَ ذَلِكَ -قَبَّحَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى-وَتَعَجَّبُوا مِنْ تَرْكِ الشِّرْكِ بِاللَّهِ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا قَدْ تَلَقَّوْا عَنْ آبَائِهِمْ عِبَادَةَ الْأَوْثَانِ وَأُشْرِبَتْهُ قُلُوبُهُمْ فَلَمَّا دَعَاهُمُ الرَّسُولُ ﷺ إِلَى خَلْعِ ذَلِكَ مِنْ قُلُوبِهِمْ وَإِفْرَادِ اللَّهِ [[في ت، س، أ: "الإله".]] بِالْوَحْدَانِيَّةِ أَعَظَمُوا ذَلِكَ وَتَعَجَّبُوا وَقَالُوا: ﴿أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ وَانْطَلَقَ الْمَلأ مِنْهُمْ﴾ وَهُمْ سَادَتُهُمْ وَقَادَتُهُمْ وَرُؤَسَاؤُهُمْ وَكُبَرَاؤُهُمْ قَائِلِينَ: ﴿ [أَنِ] امْشُوا﴾ [[زيادة من أ.]] أَيِ: اسْتَمِرُّوا عَلَى دِينِكُمْ ﴿وَاصْبِرُوا عَلَى آلِهَتِكُمْ﴾ وَلَا تَسْتَجِيبُوا لِمَا يَدْعُوكُمْ إِلَيْهِ مُحَمَّدٌ مِنَ التَّوْحِيدِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ﴾ قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: إِنَّ هَذَا الَّذِي يَدْعُونَا [[في ت: "يدعوا".]] إِلَيْهِ مُحَمَّدٌ ﷺ مِنَ التَّوْحِيدِ لَشَيْءٌ يُرِيدُ بِهِ الشَّرَفَ عَلَيْكُمْ وَالِاسْتِعْلَاءَ، وَأَنْ يَكُونَ لَهُ مِنْكُمْ أَتْبَاعٌ وَلَسْنَا مُجِيبِيهِ إِلَيْهِ.
ذِكْرُ سَبَبِ نُزُولِ هَذِهِ الْآيَاتِ:
قَالَ السُّدِّيُّ: إِنَّ أُنَاسًا مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِيهِمْ: أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ وَالْعَاصُ بْنُ وَائِلٍ، وَالْأَسْوَدُ بْنُ الْمُطَّلِبِ وَالْأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ يَغُوثَ فِي نَفَرٍ مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى أَبِي طَالِبٍ فَلْنُكَلِّمْهُ فِيهِ، فَلْيُنْصِفْنَا مِنْهُ فَلْيَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِنَا وَنَدَعْهُ وَإِلَهَهُ الَّذِي يَعْبُدُهُ؛ فَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَمُوتَ هَذَا الشَّيْخُ فَيَكُونَ مِنَّا إِلَيْهِ شَيْءٌ. فَتُعَيِّرُنَا [بِهِ] [[زيادة من ت، س، أ.]] العرب يقولون: تَرَكُوهُ حَتَّى إِذَا مَاتَ عَنْهُ [[في أ: "عمه"، وكذا في الطبري.]] تَنَاوَلُوهُ". فَبَعَثُوا رَجُلًا مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ [[في ت، س، أ: "يدعى".]] الْمُطَّلِبُ" فَاسْتَأْذَنَ لَهُمْ عَلَى أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: هَؤُلَاءِ مَشْيَخَةُ قَوْمِكَ وَسَرَاتُهُمْ يَسْتَأْذِنُونَ عَلَيْكَ. قَالَ: أَدْخِلْهُمْ. فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ قَالُوا: يَا أَبَا طَالِبٍ أَنْتَ كَبِيرُنَا وَسَيِّدُنَا فَأَنْصِفْنَا مِنِ ابْنِ أَخِيكَ فَمُرْهُ فَلْيَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِنَا وَنَدَعْهُ وَإِلَهَهُ. قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْهِ أَبُو طَالِبٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي هَؤُلَاءِ مَشْيَخَةُ قَوْمِكَ وَسَرَاتُهُمْ وَقَدْ سَأَلُوكَ أَنْ تَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِهِمْ وَيَدَعُوكَ وَإِلَهَكَ. قَالَ: "يَا عَمِّ أَفَلَا أَدْعُوهُمْ إِلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَهُمْ؟ " قَالَ: وَإِلَامَ تَدْعُوهُمْ؟ قَالَ: "أَدْعُوهُمْ [إِلَى] [[زيادة من أ.]] أَنْ يَتَكَلَّمُوا بِكَلِمَةٍ تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَيَمْلِكُونَ بِهَا الْعَجَمَ". فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ: مَا هِيَ وَأَبِيكَ؟ لَنُعْطِيَنَّهَا [[في ت، س، أ: "لنعطينكما"]] وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا. قَالَ: تَقُولُونَ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ". فَنَفَرَ وَقَالَ: سَلْنَا غَيْرَ هَذَا [[في ت، س، أ: "غيرها".]] قَالَ: "لَوْ جِئْتُمُونِي بِالشَّمْسِ حَتَّى تَضَعُوهَا فِي يَدِي مَا سَأَلْتُكُمْ غَيْرَهَا" فَقَامُوا مِنْ عِنْدِهِ غِضَابًا، وَقَالُوا: وَاللَّهِ لَنَشْتُمَنَّكَ وَإِلَهَكَ الَّذِي أَمَرَكَ [[في أ: "يأمرك".]] بِهَذَا. ﴿وَانْطَلَقَ الْمَلأ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَى آلِهَتِكُمْ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ﴾
رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَابْنُ جَرِيرٍ وَزَادَ: فَلَمَّا خَرَجُوا دَعَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَمَّهُ إِلَى قَوْلِ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" فَأَبَى وَقَالَ: بَلْ عَلَى دِينِ الْأَشْيَاخِ. وَنَزَلَتْ: ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ﴾ [الْقَصَصِ:٥٦] [[تفسير الطبري (٢٣/٨٠) .]]
وَقَالَ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَابْنُ وَكِيعٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قال: لما مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَهْطٌ مِنْ قُرَيْشٍ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ فَقَالُوا: إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يَشْتُمُ آلِهَتَنَا وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ وَيَقُولُ وَيَقُولُ فَلَوْ بَعَثْتَ إِلَيْهِ فَنَهَيْتَهُ؟ فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَجَاءَ النَّبِيُّ ﷺ فَدَخَلَ الْبَيْتَ وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَبِي طَالِبٍ قَدْرُ مَجْلِسِ رَجُلٍ قَالَ: فَخَشِيَ أَبُو جَهْلٍ إِنْ جَلَسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يَكُونَ أَرَقَّ لَهُ عَلَيْهِ. فَوَثَبَ فَجَلَسَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ وَلَمْ يَجِدْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَجْلِسًا قُرْبَ عَمِّهِ فَجَلَسَ عِنْدَ الْبَابِ. فَقَالَ لَهُ أَبُو طَالِبٍ: أَيِ ابْنَ أَخِي مَا بَالُ قَوْمِكَ يَشُكُونَكَ، يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَشْتُمُ آلِهَتَهُمْ وَتَقُولُ وَتَقُولُ؟ قَالَ: وَأَكْثَرُوا عَلَيْهِ مِنَ الْقَوْلِ وَتَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: " يَا عَمِّ إِنِّي أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ! يَقُولُونَهَا تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ" فَفَزِعُوا لِكَلِمَتِهِ وَلِقَوْلِهِ وَقَالُوا [[في ت، س، أ: "فقال القوم".]] كَلِمَةً وَاحِدَةً! نَعَمْ وَأَبِيكَ عَشْرًا فَقَالُوا: وَمَا هِيَ؟ وَقَالَ أَبُو طَالِبٍ وَأَيُّ كَلِمَةٍ هِيَ يَا ابْنَ أَخِي؟ فَقَالَ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" فَقَامُوا فَزِعِينَ يَنْفُضُونَ ثِيَابَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ: ﴿أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ﴾ قَالَ: وَنَزَلَتْ مِنْ [[في أ: "في".]] هَذَا الْمَوْضِعِ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ﴾ لَفْظُ أَبِي كُرَيْبٍ [[تفسير الطبري (٢٣/٧٩) .]]
وَهَكَذَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبَّادٍ غَيْرِ مَنْسُوبٍ بِهِ نَحْوَهُ [[المسند (١/٣٦٢) والنسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٣٧) .]] وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَابْنُ جَرِيرٍ أَيْضًا كُلُّهُمْ فِي تَفَاسِيرِهِمْ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عن الأعمش عن يحيى بن عمارة الْكُوفِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ [[في ت: "ورواه الترمذي وقال: حديث حسن".]] حَسَنٌ [[سنن الترمذي برقم (٣٢٣٢) والنسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٣٦) وتفسير الطبري (٢٣/٧٩) .]]
* *
وَقَوْلُهُمْ: ﴿مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الآخِرَةِ﴾ أَيْ: مَا سَمِعْنَا بِهَذَا الَّذِي يَدْعُونَا إِلَيْهِ مُحَمَّدٌ مِنَ التَّوْحِيدِ فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ.
قَالَ مُجَاهِدٌ وَقَتَادَةُ وَابْنُ [[في ت: "وأبو".]] زَيْدٍ: يَعْنُونَ دِينَ قُرَيْشٍ.
وَقَالَ غَيْرُهُمْ: يَعْنُونَ النَّصْرَانِيَّةَ، قَالَهُ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ وَالسُّدِّيُّ.
وَقَالَ الْعَوْفِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الآخِرَةِ﴾ يَعْنِي: النَّصْرَانِيَّةَ قَالُوا: لَوْ كَانَ هَذَا الْقُرْآنُ حَقًّا أَخْبَرَتْنَا بِهِ النَّصَارَى.
﴿إِنْ هَذَا إِلا اخْتِلاقٌ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ، وَقَتَادَةُ كَذِبٌ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تَخَرُّصٌ.
* *
وَقَوْلُهُمْ: ﴿أَؤُنزلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنَا﴾ يَعْنِي: أَنَّهُمْ يَسْتَبْعِدُونَ تَخْصِيصَهُ بِإِنْزَالِ الْقُرْآنِ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِهِمْ كُلِّهِمْ كَمَا قَالُوا فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿لَوْلا نزلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٣١] قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٣٢] وَلِهَذَا لَمَّا قَالُوا هَذَا الَّذِي دَلَّ عَلَى جَهْلِهِمْ وَقِلَّةِ عَقْلِهِمْ فِي اسْتِبْعَادِهِمْ إِنْزَالَ الْقُرْآنِ عَلَى الرَّسُولِ مِنْ بَيْنِهِمْ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ﴾ أَيْ: إِنَّمَا يَقُولُونَ هَذَا لِأَنَّهُمْ مَا ذَاقُوا إِلَى حِينِ قَوْلِهِمْ ذَلِكَ عَذَابَ اللَّهِ وَنِقْمَتَهُ سَيَعْلَمُونَ غِبَّ مَا قَالُوا، وَمَا كَذَّبُوا بِهِ يَوْمَ يُدَعّون إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعّا.
ثُمَّ قَالَ مُبَيِّنًا أَنَّهُ الْمُتَصَرِّفُ فِي مُلْكِهِ الْفَعَّالُ لِمَا يَشَاءُ الَّذِي يُعْطِي مَنْ يَشَاءُ مَا يَشَاءُ وَيُعِزُّ مَنْ يَشَاءُ وَيُذِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَيُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيُنَزِّلُ الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَخْتِمُ عَلَى قَلْبِ مَنْ يَشَاءُ، فَلَا يَهْدِيهِ أَحَدٌ مِنْ بَعْدِ اللَّهِ وَإِنَّ الْعِبَادَ لَا يَمْلِكُونَ شَيْئًا مِنَ الْأَمْرِ وَلَيْسَ إِلَيْهِمْ مِنَ التَّصَرُّفِ فِي الْمُلْكِ وَلَا مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَمَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى مُنْكِرًا عَلَيْهِمْ: ﴿أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ﴾ أَيِ: الْعَزِيزِ الَّذِي لَا يُرَامُ جَنَابُهُ الْوَهَّابِ الَّذِي يُعْطِي مَا يُرِيدُ لِمَنْ يُرِيدُ.
وَهَذِهِ الْآيَةُ شَبِيهَةٌ بِقَوْلِهِ: ﴿أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ صَدَّ عَنْهُ وَكَفَى بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا﴾ [النِّسَاءِ: ٥٣: ٥٥] وَقَوْلُهُ ﴿قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لأمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الإنْفَاقِ وَكَانَ الإنْسَانُ قَتُورًا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ١٠] وَذَلِكَ بَعْدَ الْحِكَايَةِ عَنِ الْكُفَّارِ أَنَّهُمْ أَنْكَرُوا بِعْثَةَ الرَّسُولِ الْبَشَرِيِّ وَكَمَا أَخْبَرَ تَعَالَى عَنْ قَوْمِ صَالِحٍ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] حِينَ قَالُوا: ﴿أَؤُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَنِ الْكَذَّابُ الأشِرُ﴾ [القمر: ٢٥: ٢٦] وقوله: ﴿أَمْ لَهُمْ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَلْيَرْتَقُوا فِي الأسْبَابِ﴾ أَيْ: إِنْ كَانَ لَهُمْ ذَلِكَ فَلْيَصْعَدُوا فِي الْأَسْبَابِ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَقَتَادَةُ وَغَيْرُهُمْ: يَعْنِي طُرُقَ السَّمَاءِ.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: فَلْيَصْعَدُوا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿جُنْدٌ مَا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الأحْزَابِ﴾ أَيْ: هَؤُلَاءِ الْجُنْدُ الْمُكَذِّبُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ سَيُهْزَمُونَ وَيُغْلَبُونَ وَيُكْبَتُونَ كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِنَ الْأَحْزَابِ الْمُكَذِّبِينَ وَهَذِهِ كَقَوْلِهِ: ﴿أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُنْتَصِرٌ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ﴾ وَكَانَ ذَلِكَ يَوْمَ بَدْرٍ ﴿بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ﴾ [الْقَمَرِ: ٤٤: ٤٦] .
وَٱنطَلَقَ ٱلْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ ٱمْشُوا۟ وَٱصْبِرُوا۟ عَلَىٰٓ ءَالِهَتِكُمْ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَىْءٌۭ يُرَادُ
And the eminent among them went forth, [saying], "Continue, and be patient over [the defense of] your gods. Indeed, this is a thing intended.
تو ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے (اور بولے) کہ چلو اور اپنے معبودوں (کی پوجا) پر قائم رہو۔ بےشک یہ ایسی بات ہے جس سے (تم پر شرف وفضلیت) مقصود ہے
سرکردگان آنها بیرون آمدند و گفتند: «بروید و خدایانتان را محکم بچسبید، این چیزی است که خواستهاند (شما را گمراه کنند)!
Tafsir Ibn Kathir
And they wonder that a warner has come to them from among themselves. And the disbelievers say: "This is a sorcerer, a liar. (4)"Has he made the gods into One God. Verily, this is a curious thing! (5)And the leaders among them went about (saying): "Go on, and remain constant to your gods! Verily, this is a thing designed! (6)"We have not heard (the like) of this in the religion of these later days. This is nothing but an invention! (7)"Has the Reminder been sent down to him (alone) from among us?" Nay, but they are in doubt about My Reminder! Nay, but they have not tasted (My) torment (8)Or have they the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Real Bestower (9)Or is it that the dominion of the heavens and the earth and all that is between them is theirs If so, let them ascend up with means (10)They will be a defeated host like the Confederates of the old times (11)
The Idolators were amazed at the Message, Tawhid and the Qur'an
Allah tells us that the idolators wondered at the sending of the Messenger of Allah ﷺ as a bringer of glad tidings and a warner. This is like the Ayah:
أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۗ قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَٰذَا لَسَاحِرٌ مُبِينٌ
(Is it a wonder for mankind that We have sent Our revelation to a man from among themselves (saying): "Warn mankind, and give good news to those who believe that they shall have with their Lord the rewards of their good deeds?" (But) the disbelievers say: "This is indeed an evident sorcerer!")(10:2). And Allah says here:
وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ ۖ
(And they wonder that a warner has come to them from among themselves.) meaning, a human being like themselves.
وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَٰذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ - أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ
(And the disbelievers said: "This is a sorcerer, a liar. Has he made the gods into One God?") meaning, does he claim that the One Who is to worshipped is One and there is no god besides Him? The idolators – may Allah curse them – denounced that and were amazed at the idea of giving up Shirk, because they had learned from their forefathers to worship idols and their hearts were filled with love for that. When the Messenger ﷺ called them to rid their hearts of that and to worship Allah Alone, this was too much for them and they were astounded by it. They said:
أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ - وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ
("Has he made the gods into One God? Verily, this is a curious thing!" And the leaders among them went about) meaning the chiefs and masters and nobles,
امْشُوا
((saying): "Go on...") meaning, 'persist in your religion,'
وَاصْبِرُوا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ
(and remain constant to your gods!), meaning, 'do not respond to Muhammad's call to Tawhid.'
إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ
(Verily, this is a thing designed!) Ibn Jarir said, "The Tawhid to which Muhammad is calling you is something by which he wishes to gain power over you, and exalt his own position, so that he will have followers among you, but we will not respond to him."
The Reason for the Revelation of These Ayat
Abu Ja'far bin Jarir recorded that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said, "When Abu Talib fell sick, some of the people of the Quraysh, including Abu Jahl, entered upon him and said, 'Your brother's son is insulting our gods; he does such and such and says such and such. Why don't you send for him and tell him not to do that?' So he sent for the Prophet ﷺ and he entered the house. There was space enough for one man to sit between them and Abu Talib, and Abu Jahl, may Allah curse him, was afraid that if [the Prophet ﷺ] were to sit beside Abu Talib he would be more lenient with him, so he jumped up and sat in that spot, and the Messenger of Allah ﷺ could find nowhere to sit near his uncle, so he sat by the door. Abu Talib said to him, 'O son of my brother, why are your people complaining about you and claiming that you insult their gods and say such and such?' They made so many complaints against him. Thereupon, he ﷺ said,
يَا عَمِّ إِنِّي أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ يَقُولُونَهَا تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ، وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ
(O uncle, all I want from them is one word which, if they say it, the Arabs will become their followers and the non-Arabs will pay Jizyah to them.) They were worried about what he said, so they said, 'One word? Yes, by your father, (we will say) ten words! What is it?' Abu Talib said, 'What word is it, O son of my brother?' He ﷺ said,
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ
(La ilaha illallah.) They stood up in agitation, brushing down their clothes, saying,
أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ
(Has he made the gods into One God. Verily, this is a curious thing!) Then this passage was revealed, from this Ayah to the Ayah:
بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!)" This is the wording of Abu Kurayb. Something similar was also recorded by Imam Ahmad and An-Nasa'i, and At-Tirmidhi said, "Hasan."
مَا سَمِعْنَا بِهَٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ
(We have not heard (the like) of this in the religion of these later days.) means, 'we have not heard anything like this Tawhid to which Muhammad calls us in the religion of these later days.'
Al-'Awfi reported that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said, "We have not heard of this from the religion of these later days (meaning Christianity); if this Qur'an were true, the Christians would have told us about it."
إِنْ هَٰذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ
(This is nothing but an invention!) Mujahid and Qatadah said, "A lie." Ibn 'Abbas said, "A fabrication."
أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنَا ۚ
(Has the Reminder been sent down to him (alone) from among us?)
They thought it unlikely that he would be singled out from among them to receive the Qur'an. This is like the Ayat:
لَوْلَا نُزِّلَ هَٰذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ
(And they say: "Why is not this Qur'an sent down to some great man of the two towns?")(43:31). Allah said:
أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ۚ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ
(Is it they who would portion out the mercy of your Lord? It is We Who portion out between them their livelihood in this world, and We raised some of them above others in ranks)(43:32).
When they said this, it indicated their ignorance and lack of understanding since they thought it was unlikely that the Qur'an would be revealed to the Messenger ﷺ and not to somebody else.
بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!) means, they say this because they have not yet tasted the punishment and vengeance of Allah. But they will come to know the consequences of what they say and what they rejected on the Day when they are herded into the fire of Hell. Then Allah points out that He is the One Who is in control of His Creation and Who does whatever He wills, Who gives whatever He wants to whomever He wants, and honors whomever He wants and humiliates whomever He wants, and guides whomever He wants and misguides whomever He wants, and sends the Ruh (Jibril) by His command upon whomsoever He wants among His servants, and seals the hearts of whomever He wants, so no one can guide him apart from Allah. His servants do not possess any power and have no control over His dominion, not even a speck of dust's weight; they do not possess even a thin membrane over a date stone. Allah says, denouncing them:
أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ
(Or have they the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Real Bestower?) meaning, the Almighty Whose might cannot be overcome, the Bestower Who gives whatever He wills to whomsoever He wills. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا - أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۖ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا - فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ صَدَّ عَنْهُ ۚ وَكَفَىٰ بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا
(Or have they a share in the dominion? Then in that case they would not give mankind even a speck on the back of a date stone. Or do they envy men for what Allah has given them of His bounty? Then, We had already given the family of Ibrahim the Book and Al-Hikmah, and conferred upon them a great kingdom. Of them were (some) who believed in him, and of them were (some) who averted their faces from him; and enough is Hell for burning (them).)(4:53-55).
قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لَأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْإِنْفَاقِ ۚ وَكَانَ الْإِنْسَانُ قَتُورًا
(Say: "If you possessed the treasure of the mercy of my Lord (wealth), then you would surely hold back for fear of (being exhausted), and man is ever miserly!")(17:100).
This is after Allah tells us the story of how the disbeliever denied the sending of a human Messenger, as He tells us that the people of Salih, peace be upon him, said:
أَأُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ - سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ
("Is it that the Reminder is sent to him alone from among us Nay, he is an insolent liar!" Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!)(54:25-26)
أَمْ لَهُمْ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ فَلْيَرْتَقُوا فِي الْأَسْبَابِ
(Or is it that the dominion of the heavens and the earth and all that is between them is theirs? If so, let them ascend up with means.) means, if they have that, then let them ascend up with means. Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa'id bin Jubayr, Qatadah and others said, "The ways to the heaven."
Ad-Dahhak, said, "Then let them ascend into the seventh heaven." Then Allah says,
جُنْدٌ مَا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الْأَحْزَابِ
(they will be a defeated host like the Confederates of the old times.) meaning, these hosts of disbelievers who are in false pride and opposition will be defeated and overwhelmed and disgraced, just as the Confederates of the old times were disgraced before them. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُنْتَصِرٌ - سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ
(Or say they: "We are a great multitude, victorious?" Their multitude will be put to flight, and they will show their backs.)(54:44-45) – which is what happened on the day of Badr –
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ
(Nay, but the Hour is their appointed time, and the Hour will be more grievous and more bitter.)(54:46)
Tafsir Ibn Kathir
مشرکین کا نبی اکرم ﷺ پر تعجب۔حضور ﷺ کی رسالت پر کفار کے حماقت آمیز تعجب کا اظہار ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ) 10۔ یونس :2) ، کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ان میں سے ایک انسان کی طرف ہم نے وحی کی تاکہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے اور ایمانداروں کو اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ اس کے پاس ان کے لئے بہترین لائحہ عمل ہے۔ کافر تو ہمارے رسول کو کھلا جادوگر کہنے لگے۔ یہیں پر یہ ذکر ہے کہ انہی میں سے انہی جیسے ایک انسان کے رسول بن کر آنے پر انہیں تعجب ہوا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور کذاب ہے۔ رسول ﷺ کی رسالت پر تعجب کے ساتھ ہی اللہ کی وحدانیت پر بھی انہیں تعجب معلوم ہوا اور کہنے لگے کہ اور سنو اتنے سارے معبودوں کے بدلے یہ تو کہتا ہے کہ اللہ ایک ہی ہے اور اس کا کوئی کسی طرح کا شریک ہی نہیں ان بیوقوفوں کو اپنے بڑوں کی دیکھا دیکھی جس شرک و کفر کی عادت تھی اس کے خلاف آواز سن کر ان کے دل دکھنے اور رکنے لگے اور وہ توحید کو ایک انوکھی اور انجان چیز سمجھنے لگے۔ ان کے بڑوں اور سرداروں نے تکبر کے ساتھ منہ موڑتے ہوئے اعلان کیا کہ اپنے قدیمی مذہب پر جمے رہو۔ اس کی بات نہ مانو اور اپنے معبودوں کی عبادت کرتے رہو۔ یہ تو صرف اپنے مطلب کی باتیں کہتا ہے۔ یہ اس بہانے اپنی جما رہا ہے کہ یہ تمہارا سب کا بڑا بن جائے اور تم اس کے تابع فرمان ہوجاؤ۔ ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ ایک بار قریشیوں کے شریف اور سردار رؤسا ایک مرتبہ جمع ہوئے ان میں ابو جہل بن ہشام عاص بن وائل اسود بن المطلب اسود بن عبد یغوث وغیرہ بھی تھے اور سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چل کر آج ابو طالب سے آخری فیصلہ کرلیں وہ انصاف کے ساتھ ایک بات ہمارے ذمہ ڈال دے اور ایک اپنے بھتیجے کے ذمے۔ کیونکہ یہ اب انتہائی عمر کو پہنچ چکے ہیں چراغ سحری ہو رہے ہیں اگر مرگئے اور ان کے بعد ہم نے محمد ﷺ کو کوئی مصیبت پہنچائی تو عرب میں طعنہ دیں گے کہ بڈھے کی موجودگی تک تو کچھ نہ چلی اور ان کی موت کے بعد بہادری آگئی۔ چناچہ ایک آدمی بھیج کر ابو طالب سے اجازت مانگی ان کی اجازت پر سب گھر میں گئے اور کہا سنئے جناب ! آپ ہمارے سردار ہیں بزرگ ہیں بڑے ہیں۔ ہم آپ کے بھتیجے سے اب بہت تنگ آگئے ہیں آپ انصاف کے ساتھ ہم میں اور اس میں فیصلہ کر دیجئے۔ دیکھئے ہم آپ سے انصاف چاہتے ہیں وہ ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں اور نہ ہم انہیں ستائیں وہ مختار ہیں جس کی چاہیں عبادت کریں لیکن ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں۔ ابو طالب نے آدمی بھیج کر اللہ کے رسول ﷺ کو بلوایا اور کہا جان پدر دیکھتے ہو آپ کی قوم کے سردار اور بزرگ سب جمع ہوئے ہیں اور آپ سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودوں کی توہین اور برائی کرنے سے باز آجائیں اور یہ آپ کو آپ کے دین پر چلنے میں آزادی دے رہے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا چچا جان کیا میں انہیں بہترین اور بڑی بھلائی کی طرف نہ بلاؤں ؟ ابو طالب نے کہا وہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ ایک کلمہ کہہ دیں صرف اس کے کہنے کی وجہ سے سارا عرب ان کے ماتحت ہوجائے گا اور سارے عجم پر ان کی حکومت ہوجائے گی۔ ابو جہل ملعون نے سوال کیا کہ اچھا بتاؤ وہ ایسا کونسا کلمہ ہے ؟ ایک نہیں ہم دس کہنے کو تیار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہو لا الہ الا اللہ بس یہ سننا تھا کہ شور و غل کردیا اور کہنے لگے اس کے سوا جو تو مانگے ہم دینے کو تیار ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم سورج کو بھی لاکر میرے ہاتھ پر رکھ دو تو بھی تو تم سے اس کلمے کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ سارے کے سارے مارے غصے اور غضب کے بھنا کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے واللہ ہم تجھے اور تیرے اللہ کو گالیاں دیں گے جس نے تجھے یہ حکم دیا ہے۔ اب یہ چلے اور ان کے سردار یہ کہتے رہے کہ جاؤ اپنے دین پر اور اپنے معبودوں کی عبادت پر جمے رہو۔ معلوم ہوگیا کہ اس شخص کا تو ارادہ ہی اور ہے یہ تو بڑا بننا چاہتا ہے (ابن ابی حاتم وغیرہ) ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان کے بھاگ جانے کے بعد حضور نے اپنے چچا سے کہا کہ آپ ہی اس کلمے کو پڑھ لیجئے اس نے کہا نہیں میں تو اپنے باپ دادوں اور قوم کے بڑوں کے دین پر ہی رہوں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا کہ جسے تو چاہے ہدایت نہیں کرسکتا اور روایت میں ہے کہ اس وقت ابو طالب بیمار تھے اور اسی وجہ سے وہ مرا بھی۔ جس وقت حضور ﷺ تشریف لائے اس وقت ابو طالب کے پاس ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ خالی تھی باقی تمام گھر آدمیوں سے بھرا ہوا تھا تو ابو جہل خبیث نے خیال کیا کہ اگر آپ ﷺ آ کر اپنے چچا کے پاس بیٹھ گئے تو زیادہ اثر ڈال سکیں گے اس لئے یہ ملعون کود کر وہاں جا بیٹھا اور حضور ﷺ کو دروازہ کے پاس ہی بیٹھنا پڑا۔ حضور ﷺ نے جب ایک کلمہ کہنے کو کہا تو سب نے جواب دیا کہ ایک نہیں دس ہم سب منتظر ہیں فرمایئے وہ کیا کلمہ ہے ؟ اور جب کلمہ توحید آپ کی زبانی سنا تو کپڑے جھاڑتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے لو اور سنو یہ تو سارے معبودوں کا ایک معبود بنا رہا ہے۔ اس پر یہ آیتیں، عذاب تک، اتریں۔ امام ترمذی اس روایت کو حسن کہتے ہیں۔ ہم نے تو یہ بات نہ اپنے دین میں دیکھی نہ نصرانیوں کے دین میں۔ یہ بالکل غلط اور جھوٹ اور بےسند بات ہے۔ یہ کیسے کچھ تعجب کی بات ہے کہ اللہ میاں کو کوئی اور نظر ہی نہ آیا اور اس پر قرآن اتار دیا۔ جیسے ایک اور آیت میں ان کا قول ہے (وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ 31) 43۔ الزخرف :31) یعنی ان دونوں شہروں میں کے کسی بڑے آدمی پر یہ قرآن کیوں نہ اتارا گیا ؟ جس کے جواب میں جناب باری کا ارشاد ہوا کہ کیا یہی لوگ رب کی رحمت کی تقسیم کرنے والے ہیں ؟ یہ تو اس قدر محتاج ہیں کہ ان کی اپنی روزیاں اور درجے بھی ہم تقسیم کرتے ہیں۔ الغرض یہ اعتراض بھی ان کی حماقت کا غرہ تھا۔ اللہ فرماتا ہے، یہ ہے ان کے شک کا نتیجہ اور وجہ یہ ہے کہ اب تک یہ چکنی چپڑی کھاتے رہے ہیں ہمارے عذابوں سے سابقہ نہیں پڑا۔ کل قیامت کے دن جبکہ دھکے دے کر جہنم میں گرائے جائیں گے۔ اس وقت اپنی اس سرکشی کا مزہ پائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنا قبضہ اور اپنی قدرت ظاہر فرماتا ہے کہ جو وہ چاہے کرے، جسے چاہے جو چاہے دے، عزت ذلت اس کے ہاتھ ہے، ہدایت ضلالت اس کی طرف سے ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے وحی نازل فرمائے اور جس کے دل پر چاہے اپنی مہر لگا دے بندوں کے اختیار میں کچھ نہیں وہ محض بےبس بالکل لاچار اور سراسر مجبور ہیں۔ اسی لئے فرمایا کیا ان کے پاس اس بلند جناب غالب، وہاب اللہ کی رحمت کے خزانے ہیں ؟ یعنی نہیں ہیں جیسے فرمایا (اَمْ لَھُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا 53ۙ) 4۔ النسآء :53) ، اگر اللہ کی حکمرانی کا کوئی حصہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو یہ بخیل تو کسی کو ٹکڑا بھی نہ کھانے دیتے۔ اور انہیں لوگوں کے ہاتھوں میں اللہ کا فضل دیکھ کر حسد آ رہا ہے ؟ ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بہت بڑی سلطنت دی تھی۔ ان میں سے بعض تو ایمان لائے اور بعض ایمان سے رکے رہے جو بھڑکتی جہنم کے لقمے بنیں گے وہ آگ ہی انہیں کافی ہے اور آیت میں ہے (قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا01000ۧ) 17۔ الإسراء :100)۔ یعنی اگر میرے رب کی رحمتوں کے خزانے تمہاری ملکیت میں ہوتے تو تم تو کمی سے ڈر کر خرچ کرنے سے رک جاتے انسان ہے ہی ناشکرا۔ قوم صالح نے بھی اپنے نبی ﷺ سے یہی کہا تھا کہ الخ، کیا ہم سب کو چھوڑ کر اسی پر ذکر اتارا گیا ؟ نہیں بلکہ یہ کذاب اور شریر ہے۔ اللہ فرماتا ہے کل معلوم کرلیں گے کہ ایسا کون ہے ؟ پھر فرمایا کیا زمین آسمان اور اس کے درمیان کی چیزوں پر ان کا اختیار ہے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر آسمانوں کی راہوں پر چڑھ جائیں ساتویں آسمان پر پہنچ جائیں۔ یہ یہاں کا لشکر بھی عنقریب ہزیمت و شکست اٹھائے گا اور مغلوب و ذلیل ہوگا۔ جیسے اور بڑے بڑے گروہ حق سے ٹکرائے اور پاش پاش ہوگئے، جیسے اور آیت میں ہے (اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَــصِرٌ 44) 54۔ القمر :44) ، یعنی کیا ان کا قول ہے کہ ہم بڑی جماعت ہیں اور ہم ہی فتح یاب رہیں گے ؟ سنو انہیں ابھی ابھی شکست فاش ہوگی اور پیٹھ دکھاتے ہوئے بزدلی کے ساتھ بدحواس ہو کر بھاگ کھڑے ہوں گے چناچہ بدر والے دن اللہ کی فرماں روائی نے اللہ کی باتوں کی سچائی انہیں اپنی آنکھوں سے دکھائی اور ابھی ان کے عذابوں کے وعدے کا دن تو آخرت کا دن ہے جو سخت کڑوا اور نہایت دہشت ناک اور وحشت والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنِ الْمُشْرِكِينَ فِي تَعَجُّبِهِمْ مِنْ بِعْثَةِ الرَّسُولِ بَشَرًا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَذَا لَسَاحِرٌ مُبِينٌ﴾ وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ﴾ أَيْ: بَشَرٌ مِثْلُهُمْ، ﴿وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا﴾ أَيْ: أَزَعَمَ أَنَّ الْمَعْبُودَ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ؟! أَنْكَرَ الْمُشْرِكُونَ ذَلِكَ -قَبَّحَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى-وَتَعَجَّبُوا مِنْ تَرْكِ الشِّرْكِ بِاللَّهِ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا قَدْ تَلَقَّوْا عَنْ آبَائِهِمْ عِبَادَةَ الْأَوْثَانِ وَأُشْرِبَتْهُ قُلُوبُهُمْ فَلَمَّا دَعَاهُمُ الرَّسُولُ ﷺ إِلَى خَلْعِ ذَلِكَ مِنْ قُلُوبِهِمْ وَإِفْرَادِ اللَّهِ [[في ت، س، أ: "الإله".]] بِالْوَحْدَانِيَّةِ أَعَظَمُوا ذَلِكَ وَتَعَجَّبُوا وَقَالُوا: ﴿أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ وَانْطَلَقَ الْمَلأ مِنْهُمْ﴾ وَهُمْ سَادَتُهُمْ وَقَادَتُهُمْ وَرُؤَسَاؤُهُمْ وَكُبَرَاؤُهُمْ قَائِلِينَ: ﴿ [أَنِ] امْشُوا﴾ [[زيادة من أ.]] أَيِ: اسْتَمِرُّوا عَلَى دِينِكُمْ ﴿وَاصْبِرُوا عَلَى آلِهَتِكُمْ﴾ وَلَا تَسْتَجِيبُوا لِمَا يَدْعُوكُمْ إِلَيْهِ مُحَمَّدٌ مِنَ التَّوْحِيدِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ﴾ قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: إِنَّ هَذَا الَّذِي يَدْعُونَا [[في ت: "يدعوا".]] إِلَيْهِ مُحَمَّدٌ ﷺ مِنَ التَّوْحِيدِ لَشَيْءٌ يُرِيدُ بِهِ الشَّرَفَ عَلَيْكُمْ وَالِاسْتِعْلَاءَ، وَأَنْ يَكُونَ لَهُ مِنْكُمْ أَتْبَاعٌ وَلَسْنَا مُجِيبِيهِ إِلَيْهِ.
ذِكْرُ سَبَبِ نُزُولِ هَذِهِ الْآيَاتِ:
قَالَ السُّدِّيُّ: إِنَّ أُنَاسًا مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِيهِمْ: أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ وَالْعَاصُ بْنُ وَائِلٍ، وَالْأَسْوَدُ بْنُ الْمُطَّلِبِ وَالْأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ يَغُوثَ فِي نَفَرٍ مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى أَبِي طَالِبٍ فَلْنُكَلِّمْهُ فِيهِ، فَلْيُنْصِفْنَا مِنْهُ فَلْيَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِنَا وَنَدَعْهُ وَإِلَهَهُ الَّذِي يَعْبُدُهُ؛ فَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَمُوتَ هَذَا الشَّيْخُ فَيَكُونَ مِنَّا إِلَيْهِ شَيْءٌ. فَتُعَيِّرُنَا [بِهِ] [[زيادة من ت، س، أ.]] العرب يقولون: تَرَكُوهُ حَتَّى إِذَا مَاتَ عَنْهُ [[في أ: "عمه"، وكذا في الطبري.]] تَنَاوَلُوهُ". فَبَعَثُوا رَجُلًا مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ [[في ت، س، أ: "يدعى".]] الْمُطَّلِبُ" فَاسْتَأْذَنَ لَهُمْ عَلَى أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: هَؤُلَاءِ مَشْيَخَةُ قَوْمِكَ وَسَرَاتُهُمْ يَسْتَأْذِنُونَ عَلَيْكَ. قَالَ: أَدْخِلْهُمْ. فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ قَالُوا: يَا أَبَا طَالِبٍ أَنْتَ كَبِيرُنَا وَسَيِّدُنَا فَأَنْصِفْنَا مِنِ ابْنِ أَخِيكَ فَمُرْهُ فَلْيَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِنَا وَنَدَعْهُ وَإِلَهَهُ. قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْهِ أَبُو طَالِبٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي هَؤُلَاءِ مَشْيَخَةُ قَوْمِكَ وَسَرَاتُهُمْ وَقَدْ سَأَلُوكَ أَنْ تَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِهِمْ وَيَدَعُوكَ وَإِلَهَكَ. قَالَ: "يَا عَمِّ أَفَلَا أَدْعُوهُمْ إِلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَهُمْ؟ " قَالَ: وَإِلَامَ تَدْعُوهُمْ؟ قَالَ: "أَدْعُوهُمْ [إِلَى] [[زيادة من أ.]] أَنْ يَتَكَلَّمُوا بِكَلِمَةٍ تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَيَمْلِكُونَ بِهَا الْعَجَمَ". فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ: مَا هِيَ وَأَبِيكَ؟ لَنُعْطِيَنَّهَا [[في ت، س، أ: "لنعطينكما"]] وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا. قَالَ: تَقُولُونَ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ". فَنَفَرَ وَقَالَ: سَلْنَا غَيْرَ هَذَا [[في ت، س، أ: "غيرها".]] قَالَ: "لَوْ جِئْتُمُونِي بِالشَّمْسِ حَتَّى تَضَعُوهَا فِي يَدِي مَا سَأَلْتُكُمْ غَيْرَهَا" فَقَامُوا مِنْ عِنْدِهِ غِضَابًا، وَقَالُوا: وَاللَّهِ لَنَشْتُمَنَّكَ وَإِلَهَكَ الَّذِي أَمَرَكَ [[في أ: "يأمرك".]] بِهَذَا. ﴿وَانْطَلَقَ الْمَلأ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَى آلِهَتِكُمْ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ﴾
رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَابْنُ جَرِيرٍ وَزَادَ: فَلَمَّا خَرَجُوا دَعَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَمَّهُ إِلَى قَوْلِ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" فَأَبَى وَقَالَ: بَلْ عَلَى دِينِ الْأَشْيَاخِ. وَنَزَلَتْ: ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ﴾ [الْقَصَصِ:٥٦] [[تفسير الطبري (٢٣/٨٠) .]]
وَقَالَ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَابْنُ وَكِيعٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قال: لما مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَهْطٌ مِنْ قُرَيْشٍ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ فَقَالُوا: إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يَشْتُمُ آلِهَتَنَا وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ وَيَقُولُ وَيَقُولُ فَلَوْ بَعَثْتَ إِلَيْهِ فَنَهَيْتَهُ؟ فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَجَاءَ النَّبِيُّ ﷺ فَدَخَلَ الْبَيْتَ وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَبِي طَالِبٍ قَدْرُ مَجْلِسِ رَجُلٍ قَالَ: فَخَشِيَ أَبُو جَهْلٍ إِنْ جَلَسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يَكُونَ أَرَقَّ لَهُ عَلَيْهِ. فَوَثَبَ فَجَلَسَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ وَلَمْ يَجِدْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَجْلِسًا قُرْبَ عَمِّهِ فَجَلَسَ عِنْدَ الْبَابِ. فَقَالَ لَهُ أَبُو طَالِبٍ: أَيِ ابْنَ أَخِي مَا بَالُ قَوْمِكَ يَشُكُونَكَ، يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَشْتُمُ آلِهَتَهُمْ وَتَقُولُ وَتَقُولُ؟ قَالَ: وَأَكْثَرُوا عَلَيْهِ مِنَ الْقَوْلِ وَتَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: " يَا عَمِّ إِنِّي أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ! يَقُولُونَهَا تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ" فَفَزِعُوا لِكَلِمَتِهِ وَلِقَوْلِهِ وَقَالُوا [[في ت، س، أ: "فقال القوم".]] كَلِمَةً وَاحِدَةً! نَعَمْ وَأَبِيكَ عَشْرًا فَقَالُوا: وَمَا هِيَ؟ وَقَالَ أَبُو طَالِبٍ وَأَيُّ كَلِمَةٍ هِيَ يَا ابْنَ أَخِي؟ فَقَالَ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" فَقَامُوا فَزِعِينَ يَنْفُضُونَ ثِيَابَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ: ﴿أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ﴾ قَالَ: وَنَزَلَتْ مِنْ [[في أ: "في".]] هَذَا الْمَوْضِعِ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ﴾ لَفْظُ أَبِي كُرَيْبٍ [[تفسير الطبري (٢٣/٧٩) .]]
وَهَكَذَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبَّادٍ غَيْرِ مَنْسُوبٍ بِهِ نَحْوَهُ [[المسند (١/٣٦٢) والنسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٣٧) .]] وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَابْنُ جَرِيرٍ أَيْضًا كُلُّهُمْ فِي تَفَاسِيرِهِمْ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عن الأعمش عن يحيى بن عمارة الْكُوفِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ [[في ت: "ورواه الترمذي وقال: حديث حسن".]] حَسَنٌ [[سنن الترمذي برقم (٣٢٣٢) والنسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٣٦) وتفسير الطبري (٢٣/٧٩) .]]
* *
وَقَوْلُهُمْ: ﴿مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الآخِرَةِ﴾ أَيْ: مَا سَمِعْنَا بِهَذَا الَّذِي يَدْعُونَا إِلَيْهِ مُحَمَّدٌ مِنَ التَّوْحِيدِ فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ.
قَالَ مُجَاهِدٌ وَقَتَادَةُ وَابْنُ [[في ت: "وأبو".]] زَيْدٍ: يَعْنُونَ دِينَ قُرَيْشٍ.
وَقَالَ غَيْرُهُمْ: يَعْنُونَ النَّصْرَانِيَّةَ، قَالَهُ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ وَالسُّدِّيُّ.
وَقَالَ الْعَوْفِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الآخِرَةِ﴾ يَعْنِي: النَّصْرَانِيَّةَ قَالُوا: لَوْ كَانَ هَذَا الْقُرْآنُ حَقًّا أَخْبَرَتْنَا بِهِ النَّصَارَى.
﴿إِنْ هَذَا إِلا اخْتِلاقٌ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ، وَقَتَادَةُ كَذِبٌ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تَخَرُّصٌ.
* *
وَقَوْلُهُمْ: ﴿أَؤُنزلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنَا﴾ يَعْنِي: أَنَّهُمْ يَسْتَبْعِدُونَ تَخْصِيصَهُ بِإِنْزَالِ الْقُرْآنِ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِهِمْ كُلِّهِمْ كَمَا قَالُوا فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿لَوْلا نزلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٣١] قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٣٢] وَلِهَذَا لَمَّا قَالُوا هَذَا الَّذِي دَلَّ عَلَى جَهْلِهِمْ وَقِلَّةِ عَقْلِهِمْ فِي اسْتِبْعَادِهِمْ إِنْزَالَ الْقُرْآنِ عَلَى الرَّسُولِ مِنْ بَيْنِهِمْ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ﴾ أَيْ: إِنَّمَا يَقُولُونَ هَذَا لِأَنَّهُمْ مَا ذَاقُوا إِلَى حِينِ قَوْلِهِمْ ذَلِكَ عَذَابَ اللَّهِ وَنِقْمَتَهُ سَيَعْلَمُونَ غِبَّ مَا قَالُوا، وَمَا كَذَّبُوا بِهِ يَوْمَ يُدَعّون إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعّا.
ثُمَّ قَالَ مُبَيِّنًا أَنَّهُ الْمُتَصَرِّفُ فِي مُلْكِهِ الْفَعَّالُ لِمَا يَشَاءُ الَّذِي يُعْطِي مَنْ يَشَاءُ مَا يَشَاءُ وَيُعِزُّ مَنْ يَشَاءُ وَيُذِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَيُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيُنَزِّلُ الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَخْتِمُ عَلَى قَلْبِ مَنْ يَشَاءُ، فَلَا يَهْدِيهِ أَحَدٌ مِنْ بَعْدِ اللَّهِ وَإِنَّ الْعِبَادَ لَا يَمْلِكُونَ شَيْئًا مِنَ الْأَمْرِ وَلَيْسَ إِلَيْهِمْ مِنَ التَّصَرُّفِ فِي الْمُلْكِ وَلَا مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَمَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى مُنْكِرًا عَلَيْهِمْ: ﴿أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ﴾ أَيِ: الْعَزِيزِ الَّذِي لَا يُرَامُ جَنَابُهُ الْوَهَّابِ الَّذِي يُعْطِي مَا يُرِيدُ لِمَنْ يُرِيدُ.
وَهَذِهِ الْآيَةُ شَبِيهَةٌ بِقَوْلِهِ: ﴿أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ صَدَّ عَنْهُ وَكَفَى بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا﴾ [النِّسَاءِ: ٥٣: ٥٥] وَقَوْلُهُ ﴿قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لأمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الإنْفَاقِ وَكَانَ الإنْسَانُ قَتُورًا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ١٠] وَذَلِكَ بَعْدَ الْحِكَايَةِ عَنِ الْكُفَّارِ أَنَّهُمْ أَنْكَرُوا بِعْثَةَ الرَّسُولِ الْبَشَرِيِّ وَكَمَا أَخْبَرَ تَعَالَى عَنْ قَوْمِ صَالِحٍ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] حِينَ قَالُوا: ﴿أَؤُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَنِ الْكَذَّابُ الأشِرُ﴾ [القمر: ٢٥: ٢٦] وقوله: ﴿أَمْ لَهُمْ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَلْيَرْتَقُوا فِي الأسْبَابِ﴾ أَيْ: إِنْ كَانَ لَهُمْ ذَلِكَ فَلْيَصْعَدُوا فِي الْأَسْبَابِ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَقَتَادَةُ وَغَيْرُهُمْ: يَعْنِي طُرُقَ السَّمَاءِ.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: فَلْيَصْعَدُوا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿جُنْدٌ مَا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الأحْزَابِ﴾ أَيْ: هَؤُلَاءِ الْجُنْدُ الْمُكَذِّبُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ سَيُهْزَمُونَ وَيُغْلَبُونَ وَيُكْبَتُونَ كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِنَ الْأَحْزَابِ الْمُكَذِّبِينَ وَهَذِهِ كَقَوْلِهِ: ﴿أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُنْتَصِرٌ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ﴾ وَكَانَ ذَلِكَ يَوْمَ بَدْرٍ ﴿بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ﴾ [الْقَمَرِ: ٤٤: ٤٦] .
مَا سَمِعْنَا بِهَٰذَا فِى ٱلْمِلَّةِ ٱلْءَاخِرَةِ إِنْ هَٰذَآ إِلَّا ٱخْتِلَٰقٌ
We have not heard of this in the latest religion. This is not but a fabrication.
یہ پچھلے مذہب میں ہم نے کبھی سنی ہی نہیں۔ یہ بالکل بنائی ہوئی بات ہے
ما هرگز چنین چیزی در آیین دیگری نشنیدهایم؛ این تنها یک آئین ساختگی است!
Tafsir Ibn Kathir
And they wonder that a warner has come to them from among themselves. And the disbelievers say: "This is a sorcerer, a liar. (4)"Has he made the gods into One God. Verily, this is a curious thing! (5)And the leaders among them went about (saying): "Go on, and remain constant to your gods! Verily, this is a thing designed! (6)"We have not heard (the like) of this in the religion of these later days. This is nothing but an invention! (7)"Has the Reminder been sent down to him (alone) from among us?" Nay, but they are in doubt about My Reminder! Nay, but they have not tasted (My) torment (8)Or have they the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Real Bestower (9)Or is it that the dominion of the heavens and the earth and all that is between them is theirs If so, let them ascend up with means (10)They will be a defeated host like the Confederates of the old times (11)
The Idolators were amazed at the Message, Tawhid and the Qur'an
Allah tells us that the idolators wondered at the sending of the Messenger of Allah ﷺ as a bringer of glad tidings and a warner. This is like the Ayah:
أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۗ قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَٰذَا لَسَاحِرٌ مُبِينٌ
(Is it a wonder for mankind that We have sent Our revelation to a man from among themselves (saying): "Warn mankind, and give good news to those who believe that they shall have with their Lord the rewards of their good deeds?" (But) the disbelievers say: "This is indeed an evident sorcerer!")(10:2). And Allah says here:
وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ ۖ
(And they wonder that a warner has come to them from among themselves.) meaning, a human being like themselves.
وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَٰذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ - أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ
(And the disbelievers said: "This is a sorcerer, a liar. Has he made the gods into One God?") meaning, does he claim that the One Who is to worshipped is One and there is no god besides Him? The idolators – may Allah curse them – denounced that and were amazed at the idea of giving up Shirk, because they had learned from their forefathers to worship idols and their hearts were filled with love for that. When the Messenger ﷺ called them to rid their hearts of that and to worship Allah Alone, this was too much for them and they were astounded by it. They said:
أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ - وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ
("Has he made the gods into One God? Verily, this is a curious thing!" And the leaders among them went about) meaning the chiefs and masters and nobles,
امْشُوا
((saying): "Go on...") meaning, 'persist in your religion,'
وَاصْبِرُوا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ
(and remain constant to your gods!), meaning, 'do not respond to Muhammad's call to Tawhid.'
إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ
(Verily, this is a thing designed!) Ibn Jarir said, "The Tawhid to which Muhammad is calling you is something by which he wishes to gain power over you, and exalt his own position, so that he will have followers among you, but we will not respond to him."
The Reason for the Revelation of These Ayat
Abu Ja'far bin Jarir recorded that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said, "When Abu Talib fell sick, some of the people of the Quraysh, including Abu Jahl, entered upon him and said, 'Your brother's son is insulting our gods; he does such and such and says such and such. Why don't you send for him and tell him not to do that?' So he sent for the Prophet ﷺ and he entered the house. There was space enough for one man to sit between them and Abu Talib, and Abu Jahl, may Allah curse him, was afraid that if [the Prophet ﷺ] were to sit beside Abu Talib he would be more lenient with him, so he jumped up and sat in that spot, and the Messenger of Allah ﷺ could find nowhere to sit near his uncle, so he sat by the door. Abu Talib said to him, 'O son of my brother, why are your people complaining about you and claiming that you insult their gods and say such and such?' They made so many complaints against him. Thereupon, he ﷺ said,
يَا عَمِّ إِنِّي أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ يَقُولُونَهَا تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ، وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ
(O uncle, all I want from them is one word which, if they say it, the Arabs will become their followers and the non-Arabs will pay Jizyah to them.) They were worried about what he said, so they said, 'One word? Yes, by your father, (we will say) ten words! What is it?' Abu Talib said, 'What word is it, O son of my brother?' He ﷺ said,
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ
(La ilaha illallah.) They stood up in agitation, brushing down their clothes, saying,
أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ
(Has he made the gods into One God. Verily, this is a curious thing!) Then this passage was revealed, from this Ayah to the Ayah:
بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!)" This is the wording of Abu Kurayb. Something similar was also recorded by Imam Ahmad and An-Nasa'i, and At-Tirmidhi said, "Hasan."
مَا سَمِعْنَا بِهَٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ
(We have not heard (the like) of this in the religion of these later days.) means, 'we have not heard anything like this Tawhid to which Muhammad calls us in the religion of these later days.'
Al-'Awfi reported that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said, "We have not heard of this from the religion of these later days (meaning Christianity); if this Qur'an were true, the Christians would have told us about it."
إِنْ هَٰذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ
(This is nothing but an invention!) Mujahid and Qatadah said, "A lie." Ibn 'Abbas said, "A fabrication."
أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنَا ۚ
(Has the Reminder been sent down to him (alone) from among us?)
They thought it unlikely that he would be singled out from among them to receive the Qur'an. This is like the Ayat:
لَوْلَا نُزِّلَ هَٰذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ
(And they say: "Why is not this Qur'an sent down to some great man of the two towns?")(43:31). Allah said:
أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ۚ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ
(Is it they who would portion out the mercy of your Lord? It is We Who portion out between them their livelihood in this world, and We raised some of them above others in ranks)(43:32).
When they said this, it indicated their ignorance and lack of understanding since they thought it was unlikely that the Qur'an would be revealed to the Messenger ﷺ and not to somebody else.
بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!) means, they say this because they have not yet tasted the punishment and vengeance of Allah. But they will come to know the consequences of what they say and what they rejected on the Day when they are herded into the fire of Hell. Then Allah points out that He is the One Who is in control of His Creation and Who does whatever He wills, Who gives whatever He wants to whomever He wants, and honors whomever He wants and humiliates whomever He wants, and guides whomever He wants and misguides whomever He wants, and sends the Ruh (Jibril) by His command upon whomsoever He wants among His servants, and seals the hearts of whomever He wants, so no one can guide him apart from Allah. His servants do not possess any power and have no control over His dominion, not even a speck of dust's weight; they do not possess even a thin membrane over a date stone. Allah says, denouncing them:
أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ
(Or have they the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Real Bestower?) meaning, the Almighty Whose might cannot be overcome, the Bestower Who gives whatever He wills to whomsoever He wills. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا - أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۖ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا - فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ صَدَّ عَنْهُ ۚ وَكَفَىٰ بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا
(Or have they a share in the dominion? Then in that case they would not give mankind even a speck on the back of a date stone. Or do they envy men for what Allah has given them of His bounty? Then, We had already given the family of Ibrahim the Book and Al-Hikmah, and conferred upon them a great kingdom. Of them were (some) who believed in him, and of them were (some) who averted their faces from him; and enough is Hell for burning (them).)(4:53-55).
قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لَأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْإِنْفَاقِ ۚ وَكَانَ الْإِنْسَانُ قَتُورًا
(Say: "If you possessed the treasure of the mercy of my Lord (wealth), then you would surely hold back for fear of (being exhausted), and man is ever miserly!")(17:100).
This is after Allah tells us the story of how the disbeliever denied the sending of a human Messenger, as He tells us that the people of Salih, peace be upon him, said:
أَأُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ - سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ
("Is it that the Reminder is sent to him alone from among us Nay, he is an insolent liar!" Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!)(54:25-26)
أَمْ لَهُمْ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ فَلْيَرْتَقُوا فِي الْأَسْبَابِ
(Or is it that the dominion of the heavens and the earth and all that is between them is theirs? If so, let them ascend up with means.) means, if they have that, then let them ascend up with means. Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa'id bin Jubayr, Qatadah and others said, "The ways to the heaven."
Ad-Dahhak, said, "Then let them ascend into the seventh heaven." Then Allah says,
جُنْدٌ مَا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الْأَحْزَابِ
(they will be a defeated host like the Confederates of the old times.) meaning, these hosts of disbelievers who are in false pride and opposition will be defeated and overwhelmed and disgraced, just as the Confederates of the old times were disgraced before them. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُنْتَصِرٌ - سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ
(Or say they: "We are a great multitude, victorious?" Their multitude will be put to flight, and they will show their backs.)(54:44-45) – which is what happened on the day of Badr –
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ
(Nay, but the Hour is their appointed time, and the Hour will be more grievous and more bitter.)(54:46)
Tafsir Ibn Kathir
مشرکین کا نبی اکرم ﷺ پر تعجب۔حضور ﷺ کی رسالت پر کفار کے حماقت آمیز تعجب کا اظہار ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ) 10۔ یونس :2) ، کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ان میں سے ایک انسان کی طرف ہم نے وحی کی تاکہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے اور ایمانداروں کو اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ اس کے پاس ان کے لئے بہترین لائحہ عمل ہے۔ کافر تو ہمارے رسول کو کھلا جادوگر کہنے لگے۔ یہیں پر یہ ذکر ہے کہ انہی میں سے انہی جیسے ایک انسان کے رسول بن کر آنے پر انہیں تعجب ہوا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور کذاب ہے۔ رسول ﷺ کی رسالت پر تعجب کے ساتھ ہی اللہ کی وحدانیت پر بھی انہیں تعجب معلوم ہوا اور کہنے لگے کہ اور سنو اتنے سارے معبودوں کے بدلے یہ تو کہتا ہے کہ اللہ ایک ہی ہے اور اس کا کوئی کسی طرح کا شریک ہی نہیں ان بیوقوفوں کو اپنے بڑوں کی دیکھا دیکھی جس شرک و کفر کی عادت تھی اس کے خلاف آواز سن کر ان کے دل دکھنے اور رکنے لگے اور وہ توحید کو ایک انوکھی اور انجان چیز سمجھنے لگے۔ ان کے بڑوں اور سرداروں نے تکبر کے ساتھ منہ موڑتے ہوئے اعلان کیا کہ اپنے قدیمی مذہب پر جمے رہو۔ اس کی بات نہ مانو اور اپنے معبودوں کی عبادت کرتے رہو۔ یہ تو صرف اپنے مطلب کی باتیں کہتا ہے۔ یہ اس بہانے اپنی جما رہا ہے کہ یہ تمہارا سب کا بڑا بن جائے اور تم اس کے تابع فرمان ہوجاؤ۔ ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ ایک بار قریشیوں کے شریف اور سردار رؤسا ایک مرتبہ جمع ہوئے ان میں ابو جہل بن ہشام عاص بن وائل اسود بن المطلب اسود بن عبد یغوث وغیرہ بھی تھے اور سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چل کر آج ابو طالب سے آخری فیصلہ کرلیں وہ انصاف کے ساتھ ایک بات ہمارے ذمہ ڈال دے اور ایک اپنے بھتیجے کے ذمے۔ کیونکہ یہ اب انتہائی عمر کو پہنچ چکے ہیں چراغ سحری ہو رہے ہیں اگر مرگئے اور ان کے بعد ہم نے محمد ﷺ کو کوئی مصیبت پہنچائی تو عرب میں طعنہ دیں گے کہ بڈھے کی موجودگی تک تو کچھ نہ چلی اور ان کی موت کے بعد بہادری آگئی۔ چناچہ ایک آدمی بھیج کر ابو طالب سے اجازت مانگی ان کی اجازت پر سب گھر میں گئے اور کہا سنئے جناب ! آپ ہمارے سردار ہیں بزرگ ہیں بڑے ہیں۔ ہم آپ کے بھتیجے سے اب بہت تنگ آگئے ہیں آپ انصاف کے ساتھ ہم میں اور اس میں فیصلہ کر دیجئے۔ دیکھئے ہم آپ سے انصاف چاہتے ہیں وہ ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں اور نہ ہم انہیں ستائیں وہ مختار ہیں جس کی چاہیں عبادت کریں لیکن ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں۔ ابو طالب نے آدمی بھیج کر اللہ کے رسول ﷺ کو بلوایا اور کہا جان پدر دیکھتے ہو آپ کی قوم کے سردار اور بزرگ سب جمع ہوئے ہیں اور آپ سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودوں کی توہین اور برائی کرنے سے باز آجائیں اور یہ آپ کو آپ کے دین پر چلنے میں آزادی دے رہے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا چچا جان کیا میں انہیں بہترین اور بڑی بھلائی کی طرف نہ بلاؤں ؟ ابو طالب نے کہا وہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ ایک کلمہ کہہ دیں صرف اس کے کہنے کی وجہ سے سارا عرب ان کے ماتحت ہوجائے گا اور سارے عجم پر ان کی حکومت ہوجائے گی۔ ابو جہل ملعون نے سوال کیا کہ اچھا بتاؤ وہ ایسا کونسا کلمہ ہے ؟ ایک نہیں ہم دس کہنے کو تیار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہو لا الہ الا اللہ بس یہ سننا تھا کہ شور و غل کردیا اور کہنے لگے اس کے سوا جو تو مانگے ہم دینے کو تیار ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم سورج کو بھی لاکر میرے ہاتھ پر رکھ دو تو بھی تو تم سے اس کلمے کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ سارے کے سارے مارے غصے اور غضب کے بھنا کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے واللہ ہم تجھے اور تیرے اللہ کو گالیاں دیں گے جس نے تجھے یہ حکم دیا ہے۔ اب یہ چلے اور ان کے سردار یہ کہتے رہے کہ جاؤ اپنے دین پر اور اپنے معبودوں کی عبادت پر جمے رہو۔ معلوم ہوگیا کہ اس شخص کا تو ارادہ ہی اور ہے یہ تو بڑا بننا چاہتا ہے (ابن ابی حاتم وغیرہ) ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان کے بھاگ جانے کے بعد حضور نے اپنے چچا سے کہا کہ آپ ہی اس کلمے کو پڑھ لیجئے اس نے کہا نہیں میں تو اپنے باپ دادوں اور قوم کے بڑوں کے دین پر ہی رہوں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا کہ جسے تو چاہے ہدایت نہیں کرسکتا اور روایت میں ہے کہ اس وقت ابو طالب بیمار تھے اور اسی وجہ سے وہ مرا بھی۔ جس وقت حضور ﷺ تشریف لائے اس وقت ابو طالب کے پاس ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ خالی تھی باقی تمام گھر آدمیوں سے بھرا ہوا تھا تو ابو جہل خبیث نے خیال کیا کہ اگر آپ ﷺ آ کر اپنے چچا کے پاس بیٹھ گئے تو زیادہ اثر ڈال سکیں گے اس لئے یہ ملعون کود کر وہاں جا بیٹھا اور حضور ﷺ کو دروازہ کے پاس ہی بیٹھنا پڑا۔ حضور ﷺ نے جب ایک کلمہ کہنے کو کہا تو سب نے جواب دیا کہ ایک نہیں دس ہم سب منتظر ہیں فرمایئے وہ کیا کلمہ ہے ؟ اور جب کلمہ توحید آپ کی زبانی سنا تو کپڑے جھاڑتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے لو اور سنو یہ تو سارے معبودوں کا ایک معبود بنا رہا ہے۔ اس پر یہ آیتیں، عذاب تک، اتریں۔ امام ترمذی اس روایت کو حسن کہتے ہیں۔ ہم نے تو یہ بات نہ اپنے دین میں دیکھی نہ نصرانیوں کے دین میں۔ یہ بالکل غلط اور جھوٹ اور بےسند بات ہے۔ یہ کیسے کچھ تعجب کی بات ہے کہ اللہ میاں کو کوئی اور نظر ہی نہ آیا اور اس پر قرآن اتار دیا۔ جیسے ایک اور آیت میں ان کا قول ہے (وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ 31) 43۔ الزخرف :31) یعنی ان دونوں شہروں میں کے کسی بڑے آدمی پر یہ قرآن کیوں نہ اتارا گیا ؟ جس کے جواب میں جناب باری کا ارشاد ہوا کہ کیا یہی لوگ رب کی رحمت کی تقسیم کرنے والے ہیں ؟ یہ تو اس قدر محتاج ہیں کہ ان کی اپنی روزیاں اور درجے بھی ہم تقسیم کرتے ہیں۔ الغرض یہ اعتراض بھی ان کی حماقت کا غرہ تھا۔ اللہ فرماتا ہے، یہ ہے ان کے شک کا نتیجہ اور وجہ یہ ہے کہ اب تک یہ چکنی چپڑی کھاتے رہے ہیں ہمارے عذابوں سے سابقہ نہیں پڑا۔ کل قیامت کے دن جبکہ دھکے دے کر جہنم میں گرائے جائیں گے۔ اس وقت اپنی اس سرکشی کا مزہ پائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنا قبضہ اور اپنی قدرت ظاہر فرماتا ہے کہ جو وہ چاہے کرے، جسے چاہے جو چاہے دے، عزت ذلت اس کے ہاتھ ہے، ہدایت ضلالت اس کی طرف سے ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے وحی نازل فرمائے اور جس کے دل پر چاہے اپنی مہر لگا دے بندوں کے اختیار میں کچھ نہیں وہ محض بےبس بالکل لاچار اور سراسر مجبور ہیں۔ اسی لئے فرمایا کیا ان کے پاس اس بلند جناب غالب، وہاب اللہ کی رحمت کے خزانے ہیں ؟ یعنی نہیں ہیں جیسے فرمایا (اَمْ لَھُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا 53ۙ) 4۔ النسآء :53) ، اگر اللہ کی حکمرانی کا کوئی حصہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو یہ بخیل تو کسی کو ٹکڑا بھی نہ کھانے دیتے۔ اور انہیں لوگوں کے ہاتھوں میں اللہ کا فضل دیکھ کر حسد آ رہا ہے ؟ ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بہت بڑی سلطنت دی تھی۔ ان میں سے بعض تو ایمان لائے اور بعض ایمان سے رکے رہے جو بھڑکتی جہنم کے لقمے بنیں گے وہ آگ ہی انہیں کافی ہے اور آیت میں ہے (قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا01000ۧ) 17۔ الإسراء :100)۔ یعنی اگر میرے رب کی رحمتوں کے خزانے تمہاری ملکیت میں ہوتے تو تم تو کمی سے ڈر کر خرچ کرنے سے رک جاتے انسان ہے ہی ناشکرا۔ قوم صالح نے بھی اپنے نبی ﷺ سے یہی کہا تھا کہ الخ، کیا ہم سب کو چھوڑ کر اسی پر ذکر اتارا گیا ؟ نہیں بلکہ یہ کذاب اور شریر ہے۔ اللہ فرماتا ہے کل معلوم کرلیں گے کہ ایسا کون ہے ؟ پھر فرمایا کیا زمین آسمان اور اس کے درمیان کی چیزوں پر ان کا اختیار ہے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر آسمانوں کی راہوں پر چڑھ جائیں ساتویں آسمان پر پہنچ جائیں۔ یہ یہاں کا لشکر بھی عنقریب ہزیمت و شکست اٹھائے گا اور مغلوب و ذلیل ہوگا۔ جیسے اور بڑے بڑے گروہ حق سے ٹکرائے اور پاش پاش ہوگئے، جیسے اور آیت میں ہے (اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَــصِرٌ 44) 54۔ القمر :44) ، یعنی کیا ان کا قول ہے کہ ہم بڑی جماعت ہیں اور ہم ہی فتح یاب رہیں گے ؟ سنو انہیں ابھی ابھی شکست فاش ہوگی اور پیٹھ دکھاتے ہوئے بزدلی کے ساتھ بدحواس ہو کر بھاگ کھڑے ہوں گے چناچہ بدر والے دن اللہ کی فرماں روائی نے اللہ کی باتوں کی سچائی انہیں اپنی آنکھوں سے دکھائی اور ابھی ان کے عذابوں کے وعدے کا دن تو آخرت کا دن ہے جو سخت کڑوا اور نہایت دہشت ناک اور وحشت والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنِ الْمُشْرِكِينَ فِي تَعَجُّبِهِمْ مِنْ بِعْثَةِ الرَّسُولِ بَشَرًا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَذَا لَسَاحِرٌ مُبِينٌ﴾ وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ﴾ أَيْ: بَشَرٌ مِثْلُهُمْ، ﴿وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا﴾ أَيْ: أَزَعَمَ أَنَّ الْمَعْبُودَ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ؟! أَنْكَرَ الْمُشْرِكُونَ ذَلِكَ -قَبَّحَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى-وَتَعَجَّبُوا مِنْ تَرْكِ الشِّرْكِ بِاللَّهِ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا قَدْ تَلَقَّوْا عَنْ آبَائِهِمْ عِبَادَةَ الْأَوْثَانِ وَأُشْرِبَتْهُ قُلُوبُهُمْ فَلَمَّا دَعَاهُمُ الرَّسُولُ ﷺ إِلَى خَلْعِ ذَلِكَ مِنْ قُلُوبِهِمْ وَإِفْرَادِ اللَّهِ [[في ت، س، أ: "الإله".]] بِالْوَحْدَانِيَّةِ أَعَظَمُوا ذَلِكَ وَتَعَجَّبُوا وَقَالُوا: ﴿أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ وَانْطَلَقَ الْمَلأ مِنْهُمْ﴾ وَهُمْ سَادَتُهُمْ وَقَادَتُهُمْ وَرُؤَسَاؤُهُمْ وَكُبَرَاؤُهُمْ قَائِلِينَ: ﴿ [أَنِ] امْشُوا﴾ [[زيادة من أ.]] أَيِ: اسْتَمِرُّوا عَلَى دِينِكُمْ ﴿وَاصْبِرُوا عَلَى آلِهَتِكُمْ﴾ وَلَا تَسْتَجِيبُوا لِمَا يَدْعُوكُمْ إِلَيْهِ مُحَمَّدٌ مِنَ التَّوْحِيدِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ﴾ قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: إِنَّ هَذَا الَّذِي يَدْعُونَا [[في ت: "يدعوا".]] إِلَيْهِ مُحَمَّدٌ ﷺ مِنَ التَّوْحِيدِ لَشَيْءٌ يُرِيدُ بِهِ الشَّرَفَ عَلَيْكُمْ وَالِاسْتِعْلَاءَ، وَأَنْ يَكُونَ لَهُ مِنْكُمْ أَتْبَاعٌ وَلَسْنَا مُجِيبِيهِ إِلَيْهِ.
ذِكْرُ سَبَبِ نُزُولِ هَذِهِ الْآيَاتِ:
قَالَ السُّدِّيُّ: إِنَّ أُنَاسًا مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِيهِمْ: أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ وَالْعَاصُ بْنُ وَائِلٍ، وَالْأَسْوَدُ بْنُ الْمُطَّلِبِ وَالْأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ يَغُوثَ فِي نَفَرٍ مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى أَبِي طَالِبٍ فَلْنُكَلِّمْهُ فِيهِ، فَلْيُنْصِفْنَا مِنْهُ فَلْيَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِنَا وَنَدَعْهُ وَإِلَهَهُ الَّذِي يَعْبُدُهُ؛ فَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَمُوتَ هَذَا الشَّيْخُ فَيَكُونَ مِنَّا إِلَيْهِ شَيْءٌ. فَتُعَيِّرُنَا [بِهِ] [[زيادة من ت، س، أ.]] العرب يقولون: تَرَكُوهُ حَتَّى إِذَا مَاتَ عَنْهُ [[في أ: "عمه"، وكذا في الطبري.]] تَنَاوَلُوهُ". فَبَعَثُوا رَجُلًا مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ [[في ت، س، أ: "يدعى".]] الْمُطَّلِبُ" فَاسْتَأْذَنَ لَهُمْ عَلَى أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: هَؤُلَاءِ مَشْيَخَةُ قَوْمِكَ وَسَرَاتُهُمْ يَسْتَأْذِنُونَ عَلَيْكَ. قَالَ: أَدْخِلْهُمْ. فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ قَالُوا: يَا أَبَا طَالِبٍ أَنْتَ كَبِيرُنَا وَسَيِّدُنَا فَأَنْصِفْنَا مِنِ ابْنِ أَخِيكَ فَمُرْهُ فَلْيَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِنَا وَنَدَعْهُ وَإِلَهَهُ. قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْهِ أَبُو طَالِبٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي هَؤُلَاءِ مَشْيَخَةُ قَوْمِكَ وَسَرَاتُهُمْ وَقَدْ سَأَلُوكَ أَنْ تَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِهِمْ وَيَدَعُوكَ وَإِلَهَكَ. قَالَ: "يَا عَمِّ أَفَلَا أَدْعُوهُمْ إِلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَهُمْ؟ " قَالَ: وَإِلَامَ تَدْعُوهُمْ؟ قَالَ: "أَدْعُوهُمْ [إِلَى] [[زيادة من أ.]] أَنْ يَتَكَلَّمُوا بِكَلِمَةٍ تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَيَمْلِكُونَ بِهَا الْعَجَمَ". فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ: مَا هِيَ وَأَبِيكَ؟ لَنُعْطِيَنَّهَا [[في ت، س، أ: "لنعطينكما"]] وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا. قَالَ: تَقُولُونَ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ". فَنَفَرَ وَقَالَ: سَلْنَا غَيْرَ هَذَا [[في ت، س، أ: "غيرها".]] قَالَ: "لَوْ جِئْتُمُونِي بِالشَّمْسِ حَتَّى تَضَعُوهَا فِي يَدِي مَا سَأَلْتُكُمْ غَيْرَهَا" فَقَامُوا مِنْ عِنْدِهِ غِضَابًا، وَقَالُوا: وَاللَّهِ لَنَشْتُمَنَّكَ وَإِلَهَكَ الَّذِي أَمَرَكَ [[في أ: "يأمرك".]] بِهَذَا. ﴿وَانْطَلَقَ الْمَلأ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَى آلِهَتِكُمْ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ﴾
رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَابْنُ جَرِيرٍ وَزَادَ: فَلَمَّا خَرَجُوا دَعَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَمَّهُ إِلَى قَوْلِ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" فَأَبَى وَقَالَ: بَلْ عَلَى دِينِ الْأَشْيَاخِ. وَنَزَلَتْ: ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ﴾ [الْقَصَصِ:٥٦] [[تفسير الطبري (٢٣/٨٠) .]]
وَقَالَ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَابْنُ وَكِيعٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قال: لما مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَهْطٌ مِنْ قُرَيْشٍ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ فَقَالُوا: إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يَشْتُمُ آلِهَتَنَا وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ وَيَقُولُ وَيَقُولُ فَلَوْ بَعَثْتَ إِلَيْهِ فَنَهَيْتَهُ؟ فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَجَاءَ النَّبِيُّ ﷺ فَدَخَلَ الْبَيْتَ وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَبِي طَالِبٍ قَدْرُ مَجْلِسِ رَجُلٍ قَالَ: فَخَشِيَ أَبُو جَهْلٍ إِنْ جَلَسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يَكُونَ أَرَقَّ لَهُ عَلَيْهِ. فَوَثَبَ فَجَلَسَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ وَلَمْ يَجِدْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَجْلِسًا قُرْبَ عَمِّهِ فَجَلَسَ عِنْدَ الْبَابِ. فَقَالَ لَهُ أَبُو طَالِبٍ: أَيِ ابْنَ أَخِي مَا بَالُ قَوْمِكَ يَشُكُونَكَ، يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَشْتُمُ آلِهَتَهُمْ وَتَقُولُ وَتَقُولُ؟ قَالَ: وَأَكْثَرُوا عَلَيْهِ مِنَ الْقَوْلِ وَتَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: " يَا عَمِّ إِنِّي أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ! يَقُولُونَهَا تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ" فَفَزِعُوا لِكَلِمَتِهِ وَلِقَوْلِهِ وَقَالُوا [[في ت، س، أ: "فقال القوم".]] كَلِمَةً وَاحِدَةً! نَعَمْ وَأَبِيكَ عَشْرًا فَقَالُوا: وَمَا هِيَ؟ وَقَالَ أَبُو طَالِبٍ وَأَيُّ كَلِمَةٍ هِيَ يَا ابْنَ أَخِي؟ فَقَالَ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" فَقَامُوا فَزِعِينَ يَنْفُضُونَ ثِيَابَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ: ﴿أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ﴾ قَالَ: وَنَزَلَتْ مِنْ [[في أ: "في".]] هَذَا الْمَوْضِعِ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ﴾ لَفْظُ أَبِي كُرَيْبٍ [[تفسير الطبري (٢٣/٧٩) .]]
وَهَكَذَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبَّادٍ غَيْرِ مَنْسُوبٍ بِهِ نَحْوَهُ [[المسند (١/٣٦٢) والنسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٣٧) .]] وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَابْنُ جَرِيرٍ أَيْضًا كُلُّهُمْ فِي تَفَاسِيرِهِمْ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عن الأعمش عن يحيى بن عمارة الْكُوفِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ [[في ت: "ورواه الترمذي وقال: حديث حسن".]] حَسَنٌ [[سنن الترمذي برقم (٣٢٣٢) والنسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٣٦) وتفسير الطبري (٢٣/٧٩) .]]
* *
وَقَوْلُهُمْ: ﴿مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الآخِرَةِ﴾ أَيْ: مَا سَمِعْنَا بِهَذَا الَّذِي يَدْعُونَا إِلَيْهِ مُحَمَّدٌ مِنَ التَّوْحِيدِ فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ.
قَالَ مُجَاهِدٌ وَقَتَادَةُ وَابْنُ [[في ت: "وأبو".]] زَيْدٍ: يَعْنُونَ دِينَ قُرَيْشٍ.
وَقَالَ غَيْرُهُمْ: يَعْنُونَ النَّصْرَانِيَّةَ، قَالَهُ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ وَالسُّدِّيُّ.
وَقَالَ الْعَوْفِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الآخِرَةِ﴾ يَعْنِي: النَّصْرَانِيَّةَ قَالُوا: لَوْ كَانَ هَذَا الْقُرْآنُ حَقًّا أَخْبَرَتْنَا بِهِ النَّصَارَى.
﴿إِنْ هَذَا إِلا اخْتِلاقٌ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ، وَقَتَادَةُ كَذِبٌ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تَخَرُّصٌ.
* *
وَقَوْلُهُمْ: ﴿أَؤُنزلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنَا﴾ يَعْنِي: أَنَّهُمْ يَسْتَبْعِدُونَ تَخْصِيصَهُ بِإِنْزَالِ الْقُرْآنِ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِهِمْ كُلِّهِمْ كَمَا قَالُوا فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿لَوْلا نزلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٣١] قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٣٢] وَلِهَذَا لَمَّا قَالُوا هَذَا الَّذِي دَلَّ عَلَى جَهْلِهِمْ وَقِلَّةِ عَقْلِهِمْ فِي اسْتِبْعَادِهِمْ إِنْزَالَ الْقُرْآنِ عَلَى الرَّسُولِ مِنْ بَيْنِهِمْ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ﴾ أَيْ: إِنَّمَا يَقُولُونَ هَذَا لِأَنَّهُمْ مَا ذَاقُوا إِلَى حِينِ قَوْلِهِمْ ذَلِكَ عَذَابَ اللَّهِ وَنِقْمَتَهُ سَيَعْلَمُونَ غِبَّ مَا قَالُوا، وَمَا كَذَّبُوا بِهِ يَوْمَ يُدَعّون إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعّا.
ثُمَّ قَالَ مُبَيِّنًا أَنَّهُ الْمُتَصَرِّفُ فِي مُلْكِهِ الْفَعَّالُ لِمَا يَشَاءُ الَّذِي يُعْطِي مَنْ يَشَاءُ مَا يَشَاءُ وَيُعِزُّ مَنْ يَشَاءُ وَيُذِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَيُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيُنَزِّلُ الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَخْتِمُ عَلَى قَلْبِ مَنْ يَشَاءُ، فَلَا يَهْدِيهِ أَحَدٌ مِنْ بَعْدِ اللَّهِ وَإِنَّ الْعِبَادَ لَا يَمْلِكُونَ شَيْئًا مِنَ الْأَمْرِ وَلَيْسَ إِلَيْهِمْ مِنَ التَّصَرُّفِ فِي الْمُلْكِ وَلَا مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَمَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى مُنْكِرًا عَلَيْهِمْ: ﴿أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ﴾ أَيِ: الْعَزِيزِ الَّذِي لَا يُرَامُ جَنَابُهُ الْوَهَّابِ الَّذِي يُعْطِي مَا يُرِيدُ لِمَنْ يُرِيدُ.
وَهَذِهِ الْآيَةُ شَبِيهَةٌ بِقَوْلِهِ: ﴿أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ صَدَّ عَنْهُ وَكَفَى بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا﴾ [النِّسَاءِ: ٥٣: ٥٥] وَقَوْلُهُ ﴿قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لأمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الإنْفَاقِ وَكَانَ الإنْسَانُ قَتُورًا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ١٠] وَذَلِكَ بَعْدَ الْحِكَايَةِ عَنِ الْكُفَّارِ أَنَّهُمْ أَنْكَرُوا بِعْثَةَ الرَّسُولِ الْبَشَرِيِّ وَكَمَا أَخْبَرَ تَعَالَى عَنْ قَوْمِ صَالِحٍ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] حِينَ قَالُوا: ﴿أَؤُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَنِ الْكَذَّابُ الأشِرُ﴾ [القمر: ٢٥: ٢٦] وقوله: ﴿أَمْ لَهُمْ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَلْيَرْتَقُوا فِي الأسْبَابِ﴾ أَيْ: إِنْ كَانَ لَهُمْ ذَلِكَ فَلْيَصْعَدُوا فِي الْأَسْبَابِ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَقَتَادَةُ وَغَيْرُهُمْ: يَعْنِي طُرُقَ السَّمَاءِ.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: فَلْيَصْعَدُوا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿جُنْدٌ مَا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الأحْزَابِ﴾ أَيْ: هَؤُلَاءِ الْجُنْدُ الْمُكَذِّبُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ سَيُهْزَمُونَ وَيُغْلَبُونَ وَيُكْبَتُونَ كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِنَ الْأَحْزَابِ الْمُكَذِّبِينَ وَهَذِهِ كَقَوْلِهِ: ﴿أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُنْتَصِرٌ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ﴾ وَكَانَ ذَلِكَ يَوْمَ بَدْرٍ ﴿بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ﴾ [الْقَمَرِ: ٤٤: ٤٦] .
أَءُنزِلَ عَلَيْهِ ٱلذِّكْرُ مِنۢ بَيْنِنَا ۚ بَلْ هُمْ فِى شَكٍّۢ مِّن ذِكْرِى ۖ بَل لَّمَّا يَذُوقُوا۟ عَذَابِ
Has the message been revealed to him out of [all of] us?" Rather, they are in doubt about My message. Rather, they have not yet tasted My punishment.
کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کی کتاب) اُتری ہے؟ (نہیں) بلکہ یہ میری نصیحت کی کتاب سے شک میں ہیں۔ بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا
آیا از میان همه ما، قرآن تنها بر او [= محمّد] نازل شده؟!» آنها در حقیقت در اصل وحی من تردید دارند، بلکه آنان هنوز عذاب الهی را نچشیدهاند (که این چنین گستاخانه سخن میگویند)!
Tafsir Ibn Kathir
And they wonder that a warner has come to them from among themselves. And the disbelievers say: "This is a sorcerer, a liar. (4)"Has he made the gods into One God. Verily, this is a curious thing! (5)And the leaders among them went about (saying): "Go on, and remain constant to your gods! Verily, this is a thing designed! (6)"We have not heard (the like) of this in the religion of these later days. This is nothing but an invention! (7)"Has the Reminder been sent down to him (alone) from among us?" Nay, but they are in doubt about My Reminder! Nay, but they have not tasted (My) torment (8)Or have they the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Real Bestower (9)Or is it that the dominion of the heavens and the earth and all that is between them is theirs If so, let them ascend up with means (10)They will be a defeated host like the Confederates of the old times (11)
The Idolators were amazed at the Message, Tawhid and the Qur'an
Allah tells us that the idolators wondered at the sending of the Messenger of Allah ﷺ as a bringer of glad tidings and a warner. This is like the Ayah:
أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۗ قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَٰذَا لَسَاحِرٌ مُبِينٌ
(Is it a wonder for mankind that We have sent Our revelation to a man from among themselves (saying): "Warn mankind, and give good news to those who believe that they shall have with their Lord the rewards of their good deeds?" (But) the disbelievers say: "This is indeed an evident sorcerer!")(10:2). And Allah says here:
وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ ۖ
(And they wonder that a warner has come to them from among themselves.) meaning, a human being like themselves.
وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَٰذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ - أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ
(And the disbelievers said: "This is a sorcerer, a liar. Has he made the gods into One God?") meaning, does he claim that the One Who is to worshipped is One and there is no god besides Him? The idolators – may Allah curse them – denounced that and were amazed at the idea of giving up Shirk, because they had learned from their forefathers to worship idols and their hearts were filled with love for that. When the Messenger ﷺ called them to rid their hearts of that and to worship Allah Alone, this was too much for them and they were astounded by it. They said:
أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ - وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ
("Has he made the gods into One God? Verily, this is a curious thing!" And the leaders among them went about) meaning the chiefs and masters and nobles,
امْشُوا
((saying): "Go on...") meaning, 'persist in your religion,'
وَاصْبِرُوا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ
(and remain constant to your gods!), meaning, 'do not respond to Muhammad's call to Tawhid.'
إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ
(Verily, this is a thing designed!) Ibn Jarir said, "The Tawhid to which Muhammad is calling you is something by which he wishes to gain power over you, and exalt his own position, so that he will have followers among you, but we will not respond to him."
The Reason for the Revelation of These Ayat
Abu Ja'far bin Jarir recorded that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said, "When Abu Talib fell sick, some of the people of the Quraysh, including Abu Jahl, entered upon him and said, 'Your brother's son is insulting our gods; he does such and such and says such and such. Why don't you send for him and tell him not to do that?' So he sent for the Prophet ﷺ and he entered the house. There was space enough for one man to sit between them and Abu Talib, and Abu Jahl, may Allah curse him, was afraid that if [the Prophet ﷺ] were to sit beside Abu Talib he would be more lenient with him, so he jumped up and sat in that spot, and the Messenger of Allah ﷺ could find nowhere to sit near his uncle, so he sat by the door. Abu Talib said to him, 'O son of my brother, why are your people complaining about you and claiming that you insult their gods and say such and such?' They made so many complaints against him. Thereupon, he ﷺ said,
يَا عَمِّ إِنِّي أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ يَقُولُونَهَا تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ، وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ
(O uncle, all I want from them is one word which, if they say it, the Arabs will become their followers and the non-Arabs will pay Jizyah to them.) They were worried about what he said, so they said, 'One word? Yes, by your father, (we will say) ten words! What is it?' Abu Talib said, 'What word is it, O son of my brother?' He ﷺ said,
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ
(La ilaha illallah.) They stood up in agitation, brushing down their clothes, saying,
أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ
(Has he made the gods into One God. Verily, this is a curious thing!) Then this passage was revealed, from this Ayah to the Ayah:
بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!)" This is the wording of Abu Kurayb. Something similar was also recorded by Imam Ahmad and An-Nasa'i, and At-Tirmidhi said, "Hasan."
مَا سَمِعْنَا بِهَٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ
(We have not heard (the like) of this in the religion of these later days.) means, 'we have not heard anything like this Tawhid to which Muhammad calls us in the religion of these later days.'
Al-'Awfi reported that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said, "We have not heard of this from the religion of these later days (meaning Christianity); if this Qur'an were true, the Christians would have told us about it."
إِنْ هَٰذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ
(This is nothing but an invention!) Mujahid and Qatadah said, "A lie." Ibn 'Abbas said, "A fabrication."
أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنَا ۚ
(Has the Reminder been sent down to him (alone) from among us?)
They thought it unlikely that he would be singled out from among them to receive the Qur'an. This is like the Ayat:
لَوْلَا نُزِّلَ هَٰذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ
(And they say: "Why is not this Qur'an sent down to some great man of the two towns?")(43:31). Allah said:
أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ۚ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ
(Is it they who would portion out the mercy of your Lord? It is We Who portion out between them their livelihood in this world, and We raised some of them above others in ranks)(43:32).
When they said this, it indicated their ignorance and lack of understanding since they thought it was unlikely that the Qur'an would be revealed to the Messenger ﷺ and not to somebody else.
بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!) means, they say this because they have not yet tasted the punishment and vengeance of Allah. But they will come to know the consequences of what they say and what they rejected on the Day when they are herded into the fire of Hell. Then Allah points out that He is the One Who is in control of His Creation and Who does whatever He wills, Who gives whatever He wants to whomever He wants, and honors whomever He wants and humiliates whomever He wants, and guides whomever He wants and misguides whomever He wants, and sends the Ruh (Jibril) by His command upon whomsoever He wants among His servants, and seals the hearts of whomever He wants, so no one can guide him apart from Allah. His servants do not possess any power and have no control over His dominion, not even a speck of dust's weight; they do not possess even a thin membrane over a date stone. Allah says, denouncing them:
أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ
(Or have they the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Real Bestower?) meaning, the Almighty Whose might cannot be overcome, the Bestower Who gives whatever He wills to whomsoever He wills. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا - أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۖ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا - فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ صَدَّ عَنْهُ ۚ وَكَفَىٰ بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا
(Or have they a share in the dominion? Then in that case they would not give mankind even a speck on the back of a date stone. Or do they envy men for what Allah has given them of His bounty? Then, We had already given the family of Ibrahim the Book and Al-Hikmah, and conferred upon them a great kingdom. Of them were (some) who believed in him, and of them were (some) who averted their faces from him; and enough is Hell for burning (them).)(4:53-55).
قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لَأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْإِنْفَاقِ ۚ وَكَانَ الْإِنْسَانُ قَتُورًا
(Say: "If you possessed the treasure of the mercy of my Lord (wealth), then you would surely hold back for fear of (being exhausted), and man is ever miserly!")(17:100).
This is after Allah tells us the story of how the disbeliever denied the sending of a human Messenger, as He tells us that the people of Salih, peace be upon him, said:
أَأُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ - سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ
("Is it that the Reminder is sent to him alone from among us Nay, he is an insolent liar!" Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!)(54:25-26)
أَمْ لَهُمْ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ فَلْيَرْتَقُوا فِي الْأَسْبَابِ
(Or is it that the dominion of the heavens and the earth and all that is between them is theirs? If so, let them ascend up with means.) means, if they have that, then let them ascend up with means. Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa'id bin Jubayr, Qatadah and others said, "The ways to the heaven."
Ad-Dahhak, said, "Then let them ascend into the seventh heaven." Then Allah says,
جُنْدٌ مَا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الْأَحْزَابِ
(they will be a defeated host like the Confederates of the old times.) meaning, these hosts of disbelievers who are in false pride and opposition will be defeated and overwhelmed and disgraced, just as the Confederates of the old times were disgraced before them. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُنْتَصِرٌ - سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ
(Or say they: "We are a great multitude, victorious?" Their multitude will be put to flight, and they will show their backs.)(54:44-45) – which is what happened on the day of Badr –
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ
(Nay, but the Hour is their appointed time, and the Hour will be more grievous and more bitter.)(54:46)
Tafsir Ibn Kathir
مشرکین کا نبی اکرم ﷺ پر تعجب۔حضور ﷺ کی رسالت پر کفار کے حماقت آمیز تعجب کا اظہار ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ) 10۔ یونس :2) ، کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ان میں سے ایک انسان کی طرف ہم نے وحی کی تاکہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے اور ایمانداروں کو اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ اس کے پاس ان کے لئے بہترین لائحہ عمل ہے۔ کافر تو ہمارے رسول کو کھلا جادوگر کہنے لگے۔ یہیں پر یہ ذکر ہے کہ انہی میں سے انہی جیسے ایک انسان کے رسول بن کر آنے پر انہیں تعجب ہوا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور کذاب ہے۔ رسول ﷺ کی رسالت پر تعجب کے ساتھ ہی اللہ کی وحدانیت پر بھی انہیں تعجب معلوم ہوا اور کہنے لگے کہ اور سنو اتنے سارے معبودوں کے بدلے یہ تو کہتا ہے کہ اللہ ایک ہی ہے اور اس کا کوئی کسی طرح کا شریک ہی نہیں ان بیوقوفوں کو اپنے بڑوں کی دیکھا دیکھی جس شرک و کفر کی عادت تھی اس کے خلاف آواز سن کر ان کے دل دکھنے اور رکنے لگے اور وہ توحید کو ایک انوکھی اور انجان چیز سمجھنے لگے۔ ان کے بڑوں اور سرداروں نے تکبر کے ساتھ منہ موڑتے ہوئے اعلان کیا کہ اپنے قدیمی مذہب پر جمے رہو۔ اس کی بات نہ مانو اور اپنے معبودوں کی عبادت کرتے رہو۔ یہ تو صرف اپنے مطلب کی باتیں کہتا ہے۔ یہ اس بہانے اپنی جما رہا ہے کہ یہ تمہارا سب کا بڑا بن جائے اور تم اس کے تابع فرمان ہوجاؤ۔ ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ ایک بار قریشیوں کے شریف اور سردار رؤسا ایک مرتبہ جمع ہوئے ان میں ابو جہل بن ہشام عاص بن وائل اسود بن المطلب اسود بن عبد یغوث وغیرہ بھی تھے اور سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چل کر آج ابو طالب سے آخری فیصلہ کرلیں وہ انصاف کے ساتھ ایک بات ہمارے ذمہ ڈال دے اور ایک اپنے بھتیجے کے ذمے۔ کیونکہ یہ اب انتہائی عمر کو پہنچ چکے ہیں چراغ سحری ہو رہے ہیں اگر مرگئے اور ان کے بعد ہم نے محمد ﷺ کو کوئی مصیبت پہنچائی تو عرب میں طعنہ دیں گے کہ بڈھے کی موجودگی تک تو کچھ نہ چلی اور ان کی موت کے بعد بہادری آگئی۔ چناچہ ایک آدمی بھیج کر ابو طالب سے اجازت مانگی ان کی اجازت پر سب گھر میں گئے اور کہا سنئے جناب ! آپ ہمارے سردار ہیں بزرگ ہیں بڑے ہیں۔ ہم آپ کے بھتیجے سے اب بہت تنگ آگئے ہیں آپ انصاف کے ساتھ ہم میں اور اس میں فیصلہ کر دیجئے۔ دیکھئے ہم آپ سے انصاف چاہتے ہیں وہ ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں اور نہ ہم انہیں ستائیں وہ مختار ہیں جس کی چاہیں عبادت کریں لیکن ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں۔ ابو طالب نے آدمی بھیج کر اللہ کے رسول ﷺ کو بلوایا اور کہا جان پدر دیکھتے ہو آپ کی قوم کے سردار اور بزرگ سب جمع ہوئے ہیں اور آپ سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودوں کی توہین اور برائی کرنے سے باز آجائیں اور یہ آپ کو آپ کے دین پر چلنے میں آزادی دے رہے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا چچا جان کیا میں انہیں بہترین اور بڑی بھلائی کی طرف نہ بلاؤں ؟ ابو طالب نے کہا وہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ ایک کلمہ کہہ دیں صرف اس کے کہنے کی وجہ سے سارا عرب ان کے ماتحت ہوجائے گا اور سارے عجم پر ان کی حکومت ہوجائے گی۔ ابو جہل ملعون نے سوال کیا کہ اچھا بتاؤ وہ ایسا کونسا کلمہ ہے ؟ ایک نہیں ہم دس کہنے کو تیار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہو لا الہ الا اللہ بس یہ سننا تھا کہ شور و غل کردیا اور کہنے لگے اس کے سوا جو تو مانگے ہم دینے کو تیار ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم سورج کو بھی لاکر میرے ہاتھ پر رکھ دو تو بھی تو تم سے اس کلمے کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ سارے کے سارے مارے غصے اور غضب کے بھنا کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے واللہ ہم تجھے اور تیرے اللہ کو گالیاں دیں گے جس نے تجھے یہ حکم دیا ہے۔ اب یہ چلے اور ان کے سردار یہ کہتے رہے کہ جاؤ اپنے دین پر اور اپنے معبودوں کی عبادت پر جمے رہو۔ معلوم ہوگیا کہ اس شخص کا تو ارادہ ہی اور ہے یہ تو بڑا بننا چاہتا ہے (ابن ابی حاتم وغیرہ) ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان کے بھاگ جانے کے بعد حضور نے اپنے چچا سے کہا کہ آپ ہی اس کلمے کو پڑھ لیجئے اس نے کہا نہیں میں تو اپنے باپ دادوں اور قوم کے بڑوں کے دین پر ہی رہوں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا کہ جسے تو چاہے ہدایت نہیں کرسکتا اور روایت میں ہے کہ اس وقت ابو طالب بیمار تھے اور اسی وجہ سے وہ مرا بھی۔ جس وقت حضور ﷺ تشریف لائے اس وقت ابو طالب کے پاس ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ خالی تھی باقی تمام گھر آدمیوں سے بھرا ہوا تھا تو ابو جہل خبیث نے خیال کیا کہ اگر آپ ﷺ آ کر اپنے چچا کے پاس بیٹھ گئے تو زیادہ اثر ڈال سکیں گے اس لئے یہ ملعون کود کر وہاں جا بیٹھا اور حضور ﷺ کو دروازہ کے پاس ہی بیٹھنا پڑا۔ حضور ﷺ نے جب ایک کلمہ کہنے کو کہا تو سب نے جواب دیا کہ ایک نہیں دس ہم سب منتظر ہیں فرمایئے وہ کیا کلمہ ہے ؟ اور جب کلمہ توحید آپ کی زبانی سنا تو کپڑے جھاڑتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے لو اور سنو یہ تو سارے معبودوں کا ایک معبود بنا رہا ہے۔ اس پر یہ آیتیں، عذاب تک، اتریں۔ امام ترمذی اس روایت کو حسن کہتے ہیں۔ ہم نے تو یہ بات نہ اپنے دین میں دیکھی نہ نصرانیوں کے دین میں۔ یہ بالکل غلط اور جھوٹ اور بےسند بات ہے۔ یہ کیسے کچھ تعجب کی بات ہے کہ اللہ میاں کو کوئی اور نظر ہی نہ آیا اور اس پر قرآن اتار دیا۔ جیسے ایک اور آیت میں ان کا قول ہے (وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ 31) 43۔ الزخرف :31) یعنی ان دونوں شہروں میں کے کسی بڑے آدمی پر یہ قرآن کیوں نہ اتارا گیا ؟ جس کے جواب میں جناب باری کا ارشاد ہوا کہ کیا یہی لوگ رب کی رحمت کی تقسیم کرنے والے ہیں ؟ یہ تو اس قدر محتاج ہیں کہ ان کی اپنی روزیاں اور درجے بھی ہم تقسیم کرتے ہیں۔ الغرض یہ اعتراض بھی ان کی حماقت کا غرہ تھا۔ اللہ فرماتا ہے، یہ ہے ان کے شک کا نتیجہ اور وجہ یہ ہے کہ اب تک یہ چکنی چپڑی کھاتے رہے ہیں ہمارے عذابوں سے سابقہ نہیں پڑا۔ کل قیامت کے دن جبکہ دھکے دے کر جہنم میں گرائے جائیں گے۔ اس وقت اپنی اس سرکشی کا مزہ پائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنا قبضہ اور اپنی قدرت ظاہر فرماتا ہے کہ جو وہ چاہے کرے، جسے چاہے جو چاہے دے، عزت ذلت اس کے ہاتھ ہے، ہدایت ضلالت اس کی طرف سے ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے وحی نازل فرمائے اور جس کے دل پر چاہے اپنی مہر لگا دے بندوں کے اختیار میں کچھ نہیں وہ محض بےبس بالکل لاچار اور سراسر مجبور ہیں۔ اسی لئے فرمایا کیا ان کے پاس اس بلند جناب غالب، وہاب اللہ کی رحمت کے خزانے ہیں ؟ یعنی نہیں ہیں جیسے فرمایا (اَمْ لَھُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا 53ۙ) 4۔ النسآء :53) ، اگر اللہ کی حکمرانی کا کوئی حصہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو یہ بخیل تو کسی کو ٹکڑا بھی نہ کھانے دیتے۔ اور انہیں لوگوں کے ہاتھوں میں اللہ کا فضل دیکھ کر حسد آ رہا ہے ؟ ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بہت بڑی سلطنت دی تھی۔ ان میں سے بعض تو ایمان لائے اور بعض ایمان سے رکے رہے جو بھڑکتی جہنم کے لقمے بنیں گے وہ آگ ہی انہیں کافی ہے اور آیت میں ہے (قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا01000ۧ) 17۔ الإسراء :100)۔ یعنی اگر میرے رب کی رحمتوں کے خزانے تمہاری ملکیت میں ہوتے تو تم تو کمی سے ڈر کر خرچ کرنے سے رک جاتے انسان ہے ہی ناشکرا۔ قوم صالح نے بھی اپنے نبی ﷺ سے یہی کہا تھا کہ الخ، کیا ہم سب کو چھوڑ کر اسی پر ذکر اتارا گیا ؟ نہیں بلکہ یہ کذاب اور شریر ہے۔ اللہ فرماتا ہے کل معلوم کرلیں گے کہ ایسا کون ہے ؟ پھر فرمایا کیا زمین آسمان اور اس کے درمیان کی چیزوں پر ان کا اختیار ہے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر آسمانوں کی راہوں پر چڑھ جائیں ساتویں آسمان پر پہنچ جائیں۔ یہ یہاں کا لشکر بھی عنقریب ہزیمت و شکست اٹھائے گا اور مغلوب و ذلیل ہوگا۔ جیسے اور بڑے بڑے گروہ حق سے ٹکرائے اور پاش پاش ہوگئے، جیسے اور آیت میں ہے (اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَــصِرٌ 44) 54۔ القمر :44) ، یعنی کیا ان کا قول ہے کہ ہم بڑی جماعت ہیں اور ہم ہی فتح یاب رہیں گے ؟ سنو انہیں ابھی ابھی شکست فاش ہوگی اور پیٹھ دکھاتے ہوئے بزدلی کے ساتھ بدحواس ہو کر بھاگ کھڑے ہوں گے چناچہ بدر والے دن اللہ کی فرماں روائی نے اللہ کی باتوں کی سچائی انہیں اپنی آنکھوں سے دکھائی اور ابھی ان کے عذابوں کے وعدے کا دن تو آخرت کا دن ہے جو سخت کڑوا اور نہایت دہشت ناک اور وحشت والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنِ الْمُشْرِكِينَ فِي تَعَجُّبِهِمْ مِنْ بِعْثَةِ الرَّسُولِ بَشَرًا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَذَا لَسَاحِرٌ مُبِينٌ﴾ وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ﴾ أَيْ: بَشَرٌ مِثْلُهُمْ، ﴿وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا﴾ أَيْ: أَزَعَمَ أَنَّ الْمَعْبُودَ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ؟! أَنْكَرَ الْمُشْرِكُونَ ذَلِكَ -قَبَّحَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى-وَتَعَجَّبُوا مِنْ تَرْكِ الشِّرْكِ بِاللَّهِ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا قَدْ تَلَقَّوْا عَنْ آبَائِهِمْ عِبَادَةَ الْأَوْثَانِ وَأُشْرِبَتْهُ قُلُوبُهُمْ فَلَمَّا دَعَاهُمُ الرَّسُولُ ﷺ إِلَى خَلْعِ ذَلِكَ مِنْ قُلُوبِهِمْ وَإِفْرَادِ اللَّهِ [[في ت، س، أ: "الإله".]] بِالْوَحْدَانِيَّةِ أَعَظَمُوا ذَلِكَ وَتَعَجَّبُوا وَقَالُوا: ﴿أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ وَانْطَلَقَ الْمَلأ مِنْهُمْ﴾ وَهُمْ سَادَتُهُمْ وَقَادَتُهُمْ وَرُؤَسَاؤُهُمْ وَكُبَرَاؤُهُمْ قَائِلِينَ: ﴿ [أَنِ] امْشُوا﴾ [[زيادة من أ.]] أَيِ: اسْتَمِرُّوا عَلَى دِينِكُمْ ﴿وَاصْبِرُوا عَلَى آلِهَتِكُمْ﴾ وَلَا تَسْتَجِيبُوا لِمَا يَدْعُوكُمْ إِلَيْهِ مُحَمَّدٌ مِنَ التَّوْحِيدِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ﴾ قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: إِنَّ هَذَا الَّذِي يَدْعُونَا [[في ت: "يدعوا".]] إِلَيْهِ مُحَمَّدٌ ﷺ مِنَ التَّوْحِيدِ لَشَيْءٌ يُرِيدُ بِهِ الشَّرَفَ عَلَيْكُمْ وَالِاسْتِعْلَاءَ، وَأَنْ يَكُونَ لَهُ مِنْكُمْ أَتْبَاعٌ وَلَسْنَا مُجِيبِيهِ إِلَيْهِ.
ذِكْرُ سَبَبِ نُزُولِ هَذِهِ الْآيَاتِ:
قَالَ السُّدِّيُّ: إِنَّ أُنَاسًا مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِيهِمْ: أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ وَالْعَاصُ بْنُ وَائِلٍ، وَالْأَسْوَدُ بْنُ الْمُطَّلِبِ وَالْأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ يَغُوثَ فِي نَفَرٍ مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى أَبِي طَالِبٍ فَلْنُكَلِّمْهُ فِيهِ، فَلْيُنْصِفْنَا مِنْهُ فَلْيَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِنَا وَنَدَعْهُ وَإِلَهَهُ الَّذِي يَعْبُدُهُ؛ فَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَمُوتَ هَذَا الشَّيْخُ فَيَكُونَ مِنَّا إِلَيْهِ شَيْءٌ. فَتُعَيِّرُنَا [بِهِ] [[زيادة من ت، س، أ.]] العرب يقولون: تَرَكُوهُ حَتَّى إِذَا مَاتَ عَنْهُ [[في أ: "عمه"، وكذا في الطبري.]] تَنَاوَلُوهُ". فَبَعَثُوا رَجُلًا مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ [[في ت، س، أ: "يدعى".]] الْمُطَّلِبُ" فَاسْتَأْذَنَ لَهُمْ عَلَى أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: هَؤُلَاءِ مَشْيَخَةُ قَوْمِكَ وَسَرَاتُهُمْ يَسْتَأْذِنُونَ عَلَيْكَ. قَالَ: أَدْخِلْهُمْ. فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ قَالُوا: يَا أَبَا طَالِبٍ أَنْتَ كَبِيرُنَا وَسَيِّدُنَا فَأَنْصِفْنَا مِنِ ابْنِ أَخِيكَ فَمُرْهُ فَلْيَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِنَا وَنَدَعْهُ وَإِلَهَهُ. قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْهِ أَبُو طَالِبٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي هَؤُلَاءِ مَشْيَخَةُ قَوْمِكَ وَسَرَاتُهُمْ وَقَدْ سَأَلُوكَ أَنْ تَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِهِمْ وَيَدَعُوكَ وَإِلَهَكَ. قَالَ: "يَا عَمِّ أَفَلَا أَدْعُوهُمْ إِلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَهُمْ؟ " قَالَ: وَإِلَامَ تَدْعُوهُمْ؟ قَالَ: "أَدْعُوهُمْ [إِلَى] [[زيادة من أ.]] أَنْ يَتَكَلَّمُوا بِكَلِمَةٍ تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَيَمْلِكُونَ بِهَا الْعَجَمَ". فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ: مَا هِيَ وَأَبِيكَ؟ لَنُعْطِيَنَّهَا [[في ت، س، أ: "لنعطينكما"]] وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا. قَالَ: تَقُولُونَ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ". فَنَفَرَ وَقَالَ: سَلْنَا غَيْرَ هَذَا [[في ت، س، أ: "غيرها".]] قَالَ: "لَوْ جِئْتُمُونِي بِالشَّمْسِ حَتَّى تَضَعُوهَا فِي يَدِي مَا سَأَلْتُكُمْ غَيْرَهَا" فَقَامُوا مِنْ عِنْدِهِ غِضَابًا، وَقَالُوا: وَاللَّهِ لَنَشْتُمَنَّكَ وَإِلَهَكَ الَّذِي أَمَرَكَ [[في أ: "يأمرك".]] بِهَذَا. ﴿وَانْطَلَقَ الْمَلأ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَى آلِهَتِكُمْ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ﴾
رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَابْنُ جَرِيرٍ وَزَادَ: فَلَمَّا خَرَجُوا دَعَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَمَّهُ إِلَى قَوْلِ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" فَأَبَى وَقَالَ: بَلْ عَلَى دِينِ الْأَشْيَاخِ. وَنَزَلَتْ: ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ﴾ [الْقَصَصِ:٥٦] [[تفسير الطبري (٢٣/٨٠) .]]
وَقَالَ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَابْنُ وَكِيعٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قال: لما مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَهْطٌ مِنْ قُرَيْشٍ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ فَقَالُوا: إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يَشْتُمُ آلِهَتَنَا وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ وَيَقُولُ وَيَقُولُ فَلَوْ بَعَثْتَ إِلَيْهِ فَنَهَيْتَهُ؟ فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَجَاءَ النَّبِيُّ ﷺ فَدَخَلَ الْبَيْتَ وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَبِي طَالِبٍ قَدْرُ مَجْلِسِ رَجُلٍ قَالَ: فَخَشِيَ أَبُو جَهْلٍ إِنْ جَلَسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يَكُونَ أَرَقَّ لَهُ عَلَيْهِ. فَوَثَبَ فَجَلَسَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ وَلَمْ يَجِدْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَجْلِسًا قُرْبَ عَمِّهِ فَجَلَسَ عِنْدَ الْبَابِ. فَقَالَ لَهُ أَبُو طَالِبٍ: أَيِ ابْنَ أَخِي مَا بَالُ قَوْمِكَ يَشُكُونَكَ، يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَشْتُمُ آلِهَتَهُمْ وَتَقُولُ وَتَقُولُ؟ قَالَ: وَأَكْثَرُوا عَلَيْهِ مِنَ الْقَوْلِ وَتَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: " يَا عَمِّ إِنِّي أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ! يَقُولُونَهَا تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ" فَفَزِعُوا لِكَلِمَتِهِ وَلِقَوْلِهِ وَقَالُوا [[في ت، س، أ: "فقال القوم".]] كَلِمَةً وَاحِدَةً! نَعَمْ وَأَبِيكَ عَشْرًا فَقَالُوا: وَمَا هِيَ؟ وَقَالَ أَبُو طَالِبٍ وَأَيُّ كَلِمَةٍ هِيَ يَا ابْنَ أَخِي؟ فَقَالَ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" فَقَامُوا فَزِعِينَ يَنْفُضُونَ ثِيَابَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ: ﴿أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ﴾ قَالَ: وَنَزَلَتْ مِنْ [[في أ: "في".]] هَذَا الْمَوْضِعِ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ﴾ لَفْظُ أَبِي كُرَيْبٍ [[تفسير الطبري (٢٣/٧٩) .]]
وَهَكَذَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبَّادٍ غَيْرِ مَنْسُوبٍ بِهِ نَحْوَهُ [[المسند (١/٣٦٢) والنسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٣٧) .]] وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَابْنُ جَرِيرٍ أَيْضًا كُلُّهُمْ فِي تَفَاسِيرِهِمْ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عن الأعمش عن يحيى بن عمارة الْكُوفِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ [[في ت: "ورواه الترمذي وقال: حديث حسن".]] حَسَنٌ [[سنن الترمذي برقم (٣٢٣٢) والنسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٣٦) وتفسير الطبري (٢٣/٧٩) .]]
* *
وَقَوْلُهُمْ: ﴿مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الآخِرَةِ﴾ أَيْ: مَا سَمِعْنَا بِهَذَا الَّذِي يَدْعُونَا إِلَيْهِ مُحَمَّدٌ مِنَ التَّوْحِيدِ فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ.
قَالَ مُجَاهِدٌ وَقَتَادَةُ وَابْنُ [[في ت: "وأبو".]] زَيْدٍ: يَعْنُونَ دِينَ قُرَيْشٍ.
وَقَالَ غَيْرُهُمْ: يَعْنُونَ النَّصْرَانِيَّةَ، قَالَهُ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ وَالسُّدِّيُّ.
وَقَالَ الْعَوْفِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الآخِرَةِ﴾ يَعْنِي: النَّصْرَانِيَّةَ قَالُوا: لَوْ كَانَ هَذَا الْقُرْآنُ حَقًّا أَخْبَرَتْنَا بِهِ النَّصَارَى.
﴿إِنْ هَذَا إِلا اخْتِلاقٌ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ، وَقَتَادَةُ كَذِبٌ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تَخَرُّصٌ.
* *
وَقَوْلُهُمْ: ﴿أَؤُنزلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنَا﴾ يَعْنِي: أَنَّهُمْ يَسْتَبْعِدُونَ تَخْصِيصَهُ بِإِنْزَالِ الْقُرْآنِ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِهِمْ كُلِّهِمْ كَمَا قَالُوا فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿لَوْلا نزلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٣١] قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٣٢] وَلِهَذَا لَمَّا قَالُوا هَذَا الَّذِي دَلَّ عَلَى جَهْلِهِمْ وَقِلَّةِ عَقْلِهِمْ فِي اسْتِبْعَادِهِمْ إِنْزَالَ الْقُرْآنِ عَلَى الرَّسُولِ مِنْ بَيْنِهِمْ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ﴾ أَيْ: إِنَّمَا يَقُولُونَ هَذَا لِأَنَّهُمْ مَا ذَاقُوا إِلَى حِينِ قَوْلِهِمْ ذَلِكَ عَذَابَ اللَّهِ وَنِقْمَتَهُ سَيَعْلَمُونَ غِبَّ مَا قَالُوا، وَمَا كَذَّبُوا بِهِ يَوْمَ يُدَعّون إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعّا.
ثُمَّ قَالَ مُبَيِّنًا أَنَّهُ الْمُتَصَرِّفُ فِي مُلْكِهِ الْفَعَّالُ لِمَا يَشَاءُ الَّذِي يُعْطِي مَنْ يَشَاءُ مَا يَشَاءُ وَيُعِزُّ مَنْ يَشَاءُ وَيُذِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَيُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيُنَزِّلُ الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَخْتِمُ عَلَى قَلْبِ مَنْ يَشَاءُ، فَلَا يَهْدِيهِ أَحَدٌ مِنْ بَعْدِ اللَّهِ وَإِنَّ الْعِبَادَ لَا يَمْلِكُونَ شَيْئًا مِنَ الْأَمْرِ وَلَيْسَ إِلَيْهِمْ مِنَ التَّصَرُّفِ فِي الْمُلْكِ وَلَا مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَمَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى مُنْكِرًا عَلَيْهِمْ: ﴿أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ﴾ أَيِ: الْعَزِيزِ الَّذِي لَا يُرَامُ جَنَابُهُ الْوَهَّابِ الَّذِي يُعْطِي مَا يُرِيدُ لِمَنْ يُرِيدُ.
وَهَذِهِ الْآيَةُ شَبِيهَةٌ بِقَوْلِهِ: ﴿أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ صَدَّ عَنْهُ وَكَفَى بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا﴾ [النِّسَاءِ: ٥٣: ٥٥] وَقَوْلُهُ ﴿قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لأمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الإنْفَاقِ وَكَانَ الإنْسَانُ قَتُورًا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ١٠] وَذَلِكَ بَعْدَ الْحِكَايَةِ عَنِ الْكُفَّارِ أَنَّهُمْ أَنْكَرُوا بِعْثَةَ الرَّسُولِ الْبَشَرِيِّ وَكَمَا أَخْبَرَ تَعَالَى عَنْ قَوْمِ صَالِحٍ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] حِينَ قَالُوا: ﴿أَؤُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَنِ الْكَذَّابُ الأشِرُ﴾ [القمر: ٢٥: ٢٦] وقوله: ﴿أَمْ لَهُمْ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَلْيَرْتَقُوا فِي الأسْبَابِ﴾ أَيْ: إِنْ كَانَ لَهُمْ ذَلِكَ فَلْيَصْعَدُوا فِي الْأَسْبَابِ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَقَتَادَةُ وَغَيْرُهُمْ: يَعْنِي طُرُقَ السَّمَاءِ.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: فَلْيَصْعَدُوا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿جُنْدٌ مَا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الأحْزَابِ﴾ أَيْ: هَؤُلَاءِ الْجُنْدُ الْمُكَذِّبُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ سَيُهْزَمُونَ وَيُغْلَبُونَ وَيُكْبَتُونَ كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِنَ الْأَحْزَابِ الْمُكَذِّبِينَ وَهَذِهِ كَقَوْلِهِ: ﴿أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُنْتَصِرٌ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ﴾ وَكَانَ ذَلِكَ يَوْمَ بَدْرٍ ﴿بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ﴾ [الْقَمَرِ: ٤٤: ٤٦] .
أَمْ عِندَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ ٱلْعَزِيزِ ٱلْوَهَّابِ
Or do they have the depositories of the mercy of your Lord, the Exalted in Might, the Bestower?
کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار کی رحمت کے خزانے ہیں جو غالب اور بہت عطا کرنے والا ہے
مگر خزاین رحمت پروردگار توانا و بخشندهات نزد آنهاست (تا به هر کس میل دارند بدهند)؟!
Tafsir Ibn Kathir
And they wonder that a warner has come to them from among themselves. And the disbelievers say: "This is a sorcerer, a liar. (4)"Has he made the gods into One God. Verily, this is a curious thing! (5)And the leaders among them went about (saying): "Go on, and remain constant to your gods! Verily, this is a thing designed! (6)"We have not heard (the like) of this in the religion of these later days. This is nothing but an invention! (7)"Has the Reminder been sent down to him (alone) from among us?" Nay, but they are in doubt about My Reminder! Nay, but they have not tasted (My) torment (8)Or have they the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Real Bestower (9)Or is it that the dominion of the heavens and the earth and all that is between them is theirs If so, let them ascend up with means (10)They will be a defeated host like the Confederates of the old times (11)
The Idolators were amazed at the Message, Tawhid and the Qur'an
Allah tells us that the idolators wondered at the sending of the Messenger of Allah ﷺ as a bringer of glad tidings and a warner. This is like the Ayah:
أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۗ قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَٰذَا لَسَاحِرٌ مُبِينٌ
(Is it a wonder for mankind that We have sent Our revelation to a man from among themselves (saying): "Warn mankind, and give good news to those who believe that they shall have with their Lord the rewards of their good deeds?" (But) the disbelievers say: "This is indeed an evident sorcerer!")(10:2). And Allah says here:
وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ ۖ
(And they wonder that a warner has come to them from among themselves.) meaning, a human being like themselves.
وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَٰذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ - أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ
(And the disbelievers said: "This is a sorcerer, a liar. Has he made the gods into One God?") meaning, does he claim that the One Who is to worshipped is One and there is no god besides Him? The idolators – may Allah curse them – denounced that and were amazed at the idea of giving up Shirk, because they had learned from their forefathers to worship idols and their hearts were filled with love for that. When the Messenger ﷺ called them to rid their hearts of that and to worship Allah Alone, this was too much for them and they were astounded by it. They said:
أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ - وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ
("Has he made the gods into One God? Verily, this is a curious thing!" And the leaders among them went about) meaning the chiefs and masters and nobles,
امْشُوا
((saying): "Go on...") meaning, 'persist in your religion,'
وَاصْبِرُوا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ
(and remain constant to your gods!), meaning, 'do not respond to Muhammad's call to Tawhid.'
إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ
(Verily, this is a thing designed!) Ibn Jarir said, "The Tawhid to which Muhammad is calling you is something by which he wishes to gain power over you, and exalt his own position, so that he will have followers among you, but we will not respond to him."
The Reason for the Revelation of These Ayat
Abu Ja'far bin Jarir recorded that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said, "When Abu Talib fell sick, some of the people of the Quraysh, including Abu Jahl, entered upon him and said, 'Your brother's son is insulting our gods; he does such and such and says such and such. Why don't you send for him and tell him not to do that?' So he sent for the Prophet ﷺ and he entered the house. There was space enough for one man to sit between them and Abu Talib, and Abu Jahl, may Allah curse him, was afraid that if [the Prophet ﷺ] were to sit beside Abu Talib he would be more lenient with him, so he jumped up and sat in that spot, and the Messenger of Allah ﷺ could find nowhere to sit near his uncle, so he sat by the door. Abu Talib said to him, 'O son of my brother, why are your people complaining about you and claiming that you insult their gods and say such and such?' They made so many complaints against him. Thereupon, he ﷺ said,
يَا عَمِّ إِنِّي أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ يَقُولُونَهَا تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ، وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ
(O uncle, all I want from them is one word which, if they say it, the Arabs will become their followers and the non-Arabs will pay Jizyah to them.) They were worried about what he said, so they said, 'One word? Yes, by your father, (we will say) ten words! What is it?' Abu Talib said, 'What word is it, O son of my brother?' He ﷺ said,
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ
(La ilaha illallah.) They stood up in agitation, brushing down their clothes, saying,
أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ
(Has he made the gods into One God. Verily, this is a curious thing!) Then this passage was revealed, from this Ayah to the Ayah:
بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!)" This is the wording of Abu Kurayb. Something similar was also recorded by Imam Ahmad and An-Nasa'i, and At-Tirmidhi said, "Hasan."
مَا سَمِعْنَا بِهَٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ
(We have not heard (the like) of this in the religion of these later days.) means, 'we have not heard anything like this Tawhid to which Muhammad calls us in the religion of these later days.'
Al-'Awfi reported that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said, "We have not heard of this from the religion of these later days (meaning Christianity); if this Qur'an were true, the Christians would have told us about it."
إِنْ هَٰذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ
(This is nothing but an invention!) Mujahid and Qatadah said, "A lie." Ibn 'Abbas said, "A fabrication."
أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنَا ۚ
(Has the Reminder been sent down to him (alone) from among us?)
They thought it unlikely that he would be singled out from among them to receive the Qur'an. This is like the Ayat:
لَوْلَا نُزِّلَ هَٰذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ
(And they say: "Why is not this Qur'an sent down to some great man of the two towns?")(43:31). Allah said:
أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ۚ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ
(Is it they who would portion out the mercy of your Lord? It is We Who portion out between them their livelihood in this world, and We raised some of them above others in ranks)(43:32).
When they said this, it indicated their ignorance and lack of understanding since they thought it was unlikely that the Qur'an would be revealed to the Messenger ﷺ and not to somebody else.
بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!) means, they say this because they have not yet tasted the punishment and vengeance of Allah. But they will come to know the consequences of what they say and what they rejected on the Day when they are herded into the fire of Hell. Then Allah points out that He is the One Who is in control of His Creation and Who does whatever He wills, Who gives whatever He wants to whomever He wants, and honors whomever He wants and humiliates whomever He wants, and guides whomever He wants and misguides whomever He wants, and sends the Ruh (Jibril) by His command upon whomsoever He wants among His servants, and seals the hearts of whomever He wants, so no one can guide him apart from Allah. His servants do not possess any power and have no control over His dominion, not even a speck of dust's weight; they do not possess even a thin membrane over a date stone. Allah says, denouncing them:
أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ
(Or have they the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Real Bestower?) meaning, the Almighty Whose might cannot be overcome, the Bestower Who gives whatever He wills to whomsoever He wills. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا - أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۖ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا - فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ صَدَّ عَنْهُ ۚ وَكَفَىٰ بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا
(Or have they a share in the dominion? Then in that case they would not give mankind even a speck on the back of a date stone. Or do they envy men for what Allah has given them of His bounty? Then, We had already given the family of Ibrahim the Book and Al-Hikmah, and conferred upon them a great kingdom. Of them were (some) who believed in him, and of them were (some) who averted their faces from him; and enough is Hell for burning (them).)(4:53-55).
قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لَأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْإِنْفَاقِ ۚ وَكَانَ الْإِنْسَانُ قَتُورًا
(Say: "If you possessed the treasure of the mercy of my Lord (wealth), then you would surely hold back for fear of (being exhausted), and man is ever miserly!")(17:100).
This is after Allah tells us the story of how the disbeliever denied the sending of a human Messenger, as He tells us that the people of Salih, peace be upon him, said:
أَأُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ - سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ
("Is it that the Reminder is sent to him alone from among us Nay, he is an insolent liar!" Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!)(54:25-26)
أَمْ لَهُمْ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ فَلْيَرْتَقُوا فِي الْأَسْبَابِ
(Or is it that the dominion of the heavens and the earth and all that is between them is theirs? If so, let them ascend up with means.) means, if they have that, then let them ascend up with means. Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa'id bin Jubayr, Qatadah and others said, "The ways to the heaven."
Ad-Dahhak, said, "Then let them ascend into the seventh heaven." Then Allah says,
جُنْدٌ مَا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الْأَحْزَابِ
(they will be a defeated host like the Confederates of the old times.) meaning, these hosts of disbelievers who are in false pride and opposition will be defeated and overwhelmed and disgraced, just as the Confederates of the old times were disgraced before them. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُنْتَصِرٌ - سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ
(Or say they: "We are a great multitude, victorious?" Their multitude will be put to flight, and they will show their backs.)(54:44-45) – which is what happened on the day of Badr –
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ
(Nay, but the Hour is their appointed time, and the Hour will be more grievous and more bitter.)(54:46)
Tafsir Ibn Kathir
مشرکین کا نبی اکرم ﷺ پر تعجب۔حضور ﷺ کی رسالت پر کفار کے حماقت آمیز تعجب کا اظہار ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ) 10۔ یونس :2) ، کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ان میں سے ایک انسان کی طرف ہم نے وحی کی تاکہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے اور ایمانداروں کو اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ اس کے پاس ان کے لئے بہترین لائحہ عمل ہے۔ کافر تو ہمارے رسول کو کھلا جادوگر کہنے لگے۔ یہیں پر یہ ذکر ہے کہ انہی میں سے انہی جیسے ایک انسان کے رسول بن کر آنے پر انہیں تعجب ہوا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور کذاب ہے۔ رسول ﷺ کی رسالت پر تعجب کے ساتھ ہی اللہ کی وحدانیت پر بھی انہیں تعجب معلوم ہوا اور کہنے لگے کہ اور سنو اتنے سارے معبودوں کے بدلے یہ تو کہتا ہے کہ اللہ ایک ہی ہے اور اس کا کوئی کسی طرح کا شریک ہی نہیں ان بیوقوفوں کو اپنے بڑوں کی دیکھا دیکھی جس شرک و کفر کی عادت تھی اس کے خلاف آواز سن کر ان کے دل دکھنے اور رکنے لگے اور وہ توحید کو ایک انوکھی اور انجان چیز سمجھنے لگے۔ ان کے بڑوں اور سرداروں نے تکبر کے ساتھ منہ موڑتے ہوئے اعلان کیا کہ اپنے قدیمی مذہب پر جمے رہو۔ اس کی بات نہ مانو اور اپنے معبودوں کی عبادت کرتے رہو۔ یہ تو صرف اپنے مطلب کی باتیں کہتا ہے۔ یہ اس بہانے اپنی جما رہا ہے کہ یہ تمہارا سب کا بڑا بن جائے اور تم اس کے تابع فرمان ہوجاؤ۔ ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ ایک بار قریشیوں کے شریف اور سردار رؤسا ایک مرتبہ جمع ہوئے ان میں ابو جہل بن ہشام عاص بن وائل اسود بن المطلب اسود بن عبد یغوث وغیرہ بھی تھے اور سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چل کر آج ابو طالب سے آخری فیصلہ کرلیں وہ انصاف کے ساتھ ایک بات ہمارے ذمہ ڈال دے اور ایک اپنے بھتیجے کے ذمے۔ کیونکہ یہ اب انتہائی عمر کو پہنچ چکے ہیں چراغ سحری ہو رہے ہیں اگر مرگئے اور ان کے بعد ہم نے محمد ﷺ کو کوئی مصیبت پہنچائی تو عرب میں طعنہ دیں گے کہ بڈھے کی موجودگی تک تو کچھ نہ چلی اور ان کی موت کے بعد بہادری آگئی۔ چناچہ ایک آدمی بھیج کر ابو طالب سے اجازت مانگی ان کی اجازت پر سب گھر میں گئے اور کہا سنئے جناب ! آپ ہمارے سردار ہیں بزرگ ہیں بڑے ہیں۔ ہم آپ کے بھتیجے سے اب بہت تنگ آگئے ہیں آپ انصاف کے ساتھ ہم میں اور اس میں فیصلہ کر دیجئے۔ دیکھئے ہم آپ سے انصاف چاہتے ہیں وہ ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں اور نہ ہم انہیں ستائیں وہ مختار ہیں جس کی چاہیں عبادت کریں لیکن ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں۔ ابو طالب نے آدمی بھیج کر اللہ کے رسول ﷺ کو بلوایا اور کہا جان پدر دیکھتے ہو آپ کی قوم کے سردار اور بزرگ سب جمع ہوئے ہیں اور آپ سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودوں کی توہین اور برائی کرنے سے باز آجائیں اور یہ آپ کو آپ کے دین پر چلنے میں آزادی دے رہے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا چچا جان کیا میں انہیں بہترین اور بڑی بھلائی کی طرف نہ بلاؤں ؟ ابو طالب نے کہا وہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ ایک کلمہ کہہ دیں صرف اس کے کہنے کی وجہ سے سارا عرب ان کے ماتحت ہوجائے گا اور سارے عجم پر ان کی حکومت ہوجائے گی۔ ابو جہل ملعون نے سوال کیا کہ اچھا بتاؤ وہ ایسا کونسا کلمہ ہے ؟ ایک نہیں ہم دس کہنے کو تیار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہو لا الہ الا اللہ بس یہ سننا تھا کہ شور و غل کردیا اور کہنے لگے اس کے سوا جو تو مانگے ہم دینے کو تیار ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم سورج کو بھی لاکر میرے ہاتھ پر رکھ دو تو بھی تو تم سے اس کلمے کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ سارے کے سارے مارے غصے اور غضب کے بھنا کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے واللہ ہم تجھے اور تیرے اللہ کو گالیاں دیں گے جس نے تجھے یہ حکم دیا ہے۔ اب یہ چلے اور ان کے سردار یہ کہتے رہے کہ جاؤ اپنے دین پر اور اپنے معبودوں کی عبادت پر جمے رہو۔ معلوم ہوگیا کہ اس شخص کا تو ارادہ ہی اور ہے یہ تو بڑا بننا چاہتا ہے (ابن ابی حاتم وغیرہ) ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان کے بھاگ جانے کے بعد حضور نے اپنے چچا سے کہا کہ آپ ہی اس کلمے کو پڑھ لیجئے اس نے کہا نہیں میں تو اپنے باپ دادوں اور قوم کے بڑوں کے دین پر ہی رہوں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا کہ جسے تو چاہے ہدایت نہیں کرسکتا اور روایت میں ہے کہ اس وقت ابو طالب بیمار تھے اور اسی وجہ سے وہ مرا بھی۔ جس وقت حضور ﷺ تشریف لائے اس وقت ابو طالب کے پاس ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ خالی تھی باقی تمام گھر آدمیوں سے بھرا ہوا تھا تو ابو جہل خبیث نے خیال کیا کہ اگر آپ ﷺ آ کر اپنے چچا کے پاس بیٹھ گئے تو زیادہ اثر ڈال سکیں گے اس لئے یہ ملعون کود کر وہاں جا بیٹھا اور حضور ﷺ کو دروازہ کے پاس ہی بیٹھنا پڑا۔ حضور ﷺ نے جب ایک کلمہ کہنے کو کہا تو سب نے جواب دیا کہ ایک نہیں دس ہم سب منتظر ہیں فرمایئے وہ کیا کلمہ ہے ؟ اور جب کلمہ توحید آپ کی زبانی سنا تو کپڑے جھاڑتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے لو اور سنو یہ تو سارے معبودوں کا ایک معبود بنا رہا ہے۔ اس پر یہ آیتیں، عذاب تک، اتریں۔ امام ترمذی اس روایت کو حسن کہتے ہیں۔ ہم نے تو یہ بات نہ اپنے دین میں دیکھی نہ نصرانیوں کے دین میں۔ یہ بالکل غلط اور جھوٹ اور بےسند بات ہے۔ یہ کیسے کچھ تعجب کی بات ہے کہ اللہ میاں کو کوئی اور نظر ہی نہ آیا اور اس پر قرآن اتار دیا۔ جیسے ایک اور آیت میں ان کا قول ہے (وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ 31) 43۔ الزخرف :31) یعنی ان دونوں شہروں میں کے کسی بڑے آدمی پر یہ قرآن کیوں نہ اتارا گیا ؟ جس کے جواب میں جناب باری کا ارشاد ہوا کہ کیا یہی لوگ رب کی رحمت کی تقسیم کرنے والے ہیں ؟ یہ تو اس قدر محتاج ہیں کہ ان کی اپنی روزیاں اور درجے بھی ہم تقسیم کرتے ہیں۔ الغرض یہ اعتراض بھی ان کی حماقت کا غرہ تھا۔ اللہ فرماتا ہے، یہ ہے ان کے شک کا نتیجہ اور وجہ یہ ہے کہ اب تک یہ چکنی چپڑی کھاتے رہے ہیں ہمارے عذابوں سے سابقہ نہیں پڑا۔ کل قیامت کے دن جبکہ دھکے دے کر جہنم میں گرائے جائیں گے۔ اس وقت اپنی اس سرکشی کا مزہ پائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنا قبضہ اور اپنی قدرت ظاہر فرماتا ہے کہ جو وہ چاہے کرے، جسے چاہے جو چاہے دے، عزت ذلت اس کے ہاتھ ہے، ہدایت ضلالت اس کی طرف سے ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے وحی نازل فرمائے اور جس کے دل پر چاہے اپنی مہر لگا دے بندوں کے اختیار میں کچھ نہیں وہ محض بےبس بالکل لاچار اور سراسر مجبور ہیں۔ اسی لئے فرمایا کیا ان کے پاس اس بلند جناب غالب، وہاب اللہ کی رحمت کے خزانے ہیں ؟ یعنی نہیں ہیں جیسے فرمایا (اَمْ لَھُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا 53ۙ) 4۔ النسآء :53) ، اگر اللہ کی حکمرانی کا کوئی حصہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو یہ بخیل تو کسی کو ٹکڑا بھی نہ کھانے دیتے۔ اور انہیں لوگوں کے ہاتھوں میں اللہ کا فضل دیکھ کر حسد آ رہا ہے ؟ ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بہت بڑی سلطنت دی تھی۔ ان میں سے بعض تو ایمان لائے اور بعض ایمان سے رکے رہے جو بھڑکتی جہنم کے لقمے بنیں گے وہ آگ ہی انہیں کافی ہے اور آیت میں ہے (قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا01000ۧ) 17۔ الإسراء :100)۔ یعنی اگر میرے رب کی رحمتوں کے خزانے تمہاری ملکیت میں ہوتے تو تم تو کمی سے ڈر کر خرچ کرنے سے رک جاتے انسان ہے ہی ناشکرا۔ قوم صالح نے بھی اپنے نبی ﷺ سے یہی کہا تھا کہ الخ، کیا ہم سب کو چھوڑ کر اسی پر ذکر اتارا گیا ؟ نہیں بلکہ یہ کذاب اور شریر ہے۔ اللہ فرماتا ہے کل معلوم کرلیں گے کہ ایسا کون ہے ؟ پھر فرمایا کیا زمین آسمان اور اس کے درمیان کی چیزوں پر ان کا اختیار ہے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر آسمانوں کی راہوں پر چڑھ جائیں ساتویں آسمان پر پہنچ جائیں۔ یہ یہاں کا لشکر بھی عنقریب ہزیمت و شکست اٹھائے گا اور مغلوب و ذلیل ہوگا۔ جیسے اور بڑے بڑے گروہ حق سے ٹکرائے اور پاش پاش ہوگئے، جیسے اور آیت میں ہے (اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَــصِرٌ 44) 54۔ القمر :44) ، یعنی کیا ان کا قول ہے کہ ہم بڑی جماعت ہیں اور ہم ہی فتح یاب رہیں گے ؟ سنو انہیں ابھی ابھی شکست فاش ہوگی اور پیٹھ دکھاتے ہوئے بزدلی کے ساتھ بدحواس ہو کر بھاگ کھڑے ہوں گے چناچہ بدر والے دن اللہ کی فرماں روائی نے اللہ کی باتوں کی سچائی انہیں اپنی آنکھوں سے دکھائی اور ابھی ان کے عذابوں کے وعدے کا دن تو آخرت کا دن ہے جو سخت کڑوا اور نہایت دہشت ناک اور وحشت والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنِ الْمُشْرِكِينَ فِي تَعَجُّبِهِمْ مِنْ بِعْثَةِ الرَّسُولِ بَشَرًا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَذَا لَسَاحِرٌ مُبِينٌ﴾ وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ﴾ أَيْ: بَشَرٌ مِثْلُهُمْ، ﴿وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا﴾ أَيْ: أَزَعَمَ أَنَّ الْمَعْبُودَ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ؟! أَنْكَرَ الْمُشْرِكُونَ ذَلِكَ -قَبَّحَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى-وَتَعَجَّبُوا مِنْ تَرْكِ الشِّرْكِ بِاللَّهِ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا قَدْ تَلَقَّوْا عَنْ آبَائِهِمْ عِبَادَةَ الْأَوْثَانِ وَأُشْرِبَتْهُ قُلُوبُهُمْ فَلَمَّا دَعَاهُمُ الرَّسُولُ ﷺ إِلَى خَلْعِ ذَلِكَ مِنْ قُلُوبِهِمْ وَإِفْرَادِ اللَّهِ [[في ت، س، أ: "الإله".]] بِالْوَحْدَانِيَّةِ أَعَظَمُوا ذَلِكَ وَتَعَجَّبُوا وَقَالُوا: ﴿أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ وَانْطَلَقَ الْمَلأ مِنْهُمْ﴾ وَهُمْ سَادَتُهُمْ وَقَادَتُهُمْ وَرُؤَسَاؤُهُمْ وَكُبَرَاؤُهُمْ قَائِلِينَ: ﴿ [أَنِ] امْشُوا﴾ [[زيادة من أ.]] أَيِ: اسْتَمِرُّوا عَلَى دِينِكُمْ ﴿وَاصْبِرُوا عَلَى آلِهَتِكُمْ﴾ وَلَا تَسْتَجِيبُوا لِمَا يَدْعُوكُمْ إِلَيْهِ مُحَمَّدٌ مِنَ التَّوْحِيدِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ﴾ قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: إِنَّ هَذَا الَّذِي يَدْعُونَا [[في ت: "يدعوا".]] إِلَيْهِ مُحَمَّدٌ ﷺ مِنَ التَّوْحِيدِ لَشَيْءٌ يُرِيدُ بِهِ الشَّرَفَ عَلَيْكُمْ وَالِاسْتِعْلَاءَ، وَأَنْ يَكُونَ لَهُ مِنْكُمْ أَتْبَاعٌ وَلَسْنَا مُجِيبِيهِ إِلَيْهِ.
ذِكْرُ سَبَبِ نُزُولِ هَذِهِ الْآيَاتِ:
قَالَ السُّدِّيُّ: إِنَّ أُنَاسًا مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِيهِمْ: أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ وَالْعَاصُ بْنُ وَائِلٍ، وَالْأَسْوَدُ بْنُ الْمُطَّلِبِ وَالْأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ يَغُوثَ فِي نَفَرٍ مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى أَبِي طَالِبٍ فَلْنُكَلِّمْهُ فِيهِ، فَلْيُنْصِفْنَا مِنْهُ فَلْيَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِنَا وَنَدَعْهُ وَإِلَهَهُ الَّذِي يَعْبُدُهُ؛ فَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَمُوتَ هَذَا الشَّيْخُ فَيَكُونَ مِنَّا إِلَيْهِ شَيْءٌ. فَتُعَيِّرُنَا [بِهِ] [[زيادة من ت، س، أ.]] العرب يقولون: تَرَكُوهُ حَتَّى إِذَا مَاتَ عَنْهُ [[في أ: "عمه"، وكذا في الطبري.]] تَنَاوَلُوهُ". فَبَعَثُوا رَجُلًا مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ [[في ت، س، أ: "يدعى".]] الْمُطَّلِبُ" فَاسْتَأْذَنَ لَهُمْ عَلَى أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: هَؤُلَاءِ مَشْيَخَةُ قَوْمِكَ وَسَرَاتُهُمْ يَسْتَأْذِنُونَ عَلَيْكَ. قَالَ: أَدْخِلْهُمْ. فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ قَالُوا: يَا أَبَا طَالِبٍ أَنْتَ كَبِيرُنَا وَسَيِّدُنَا فَأَنْصِفْنَا مِنِ ابْنِ أَخِيكَ فَمُرْهُ فَلْيَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِنَا وَنَدَعْهُ وَإِلَهَهُ. قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْهِ أَبُو طَالِبٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي هَؤُلَاءِ مَشْيَخَةُ قَوْمِكَ وَسَرَاتُهُمْ وَقَدْ سَأَلُوكَ أَنْ تَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِهِمْ وَيَدَعُوكَ وَإِلَهَكَ. قَالَ: "يَا عَمِّ أَفَلَا أَدْعُوهُمْ إِلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَهُمْ؟ " قَالَ: وَإِلَامَ تَدْعُوهُمْ؟ قَالَ: "أَدْعُوهُمْ [إِلَى] [[زيادة من أ.]] أَنْ يَتَكَلَّمُوا بِكَلِمَةٍ تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَيَمْلِكُونَ بِهَا الْعَجَمَ". فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ: مَا هِيَ وَأَبِيكَ؟ لَنُعْطِيَنَّهَا [[في ت، س، أ: "لنعطينكما"]] وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا. قَالَ: تَقُولُونَ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ". فَنَفَرَ وَقَالَ: سَلْنَا غَيْرَ هَذَا [[في ت، س، أ: "غيرها".]] قَالَ: "لَوْ جِئْتُمُونِي بِالشَّمْسِ حَتَّى تَضَعُوهَا فِي يَدِي مَا سَأَلْتُكُمْ غَيْرَهَا" فَقَامُوا مِنْ عِنْدِهِ غِضَابًا، وَقَالُوا: وَاللَّهِ لَنَشْتُمَنَّكَ وَإِلَهَكَ الَّذِي أَمَرَكَ [[في أ: "يأمرك".]] بِهَذَا. ﴿وَانْطَلَقَ الْمَلأ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَى آلِهَتِكُمْ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ﴾
رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَابْنُ جَرِيرٍ وَزَادَ: فَلَمَّا خَرَجُوا دَعَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَمَّهُ إِلَى قَوْلِ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" فَأَبَى وَقَالَ: بَلْ عَلَى دِينِ الْأَشْيَاخِ. وَنَزَلَتْ: ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ﴾ [الْقَصَصِ:٥٦] [[تفسير الطبري (٢٣/٨٠) .]]
وَقَالَ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَابْنُ وَكِيعٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قال: لما مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَهْطٌ مِنْ قُرَيْشٍ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ فَقَالُوا: إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يَشْتُمُ آلِهَتَنَا وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ وَيَقُولُ وَيَقُولُ فَلَوْ بَعَثْتَ إِلَيْهِ فَنَهَيْتَهُ؟ فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَجَاءَ النَّبِيُّ ﷺ فَدَخَلَ الْبَيْتَ وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَبِي طَالِبٍ قَدْرُ مَجْلِسِ رَجُلٍ قَالَ: فَخَشِيَ أَبُو جَهْلٍ إِنْ جَلَسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يَكُونَ أَرَقَّ لَهُ عَلَيْهِ. فَوَثَبَ فَجَلَسَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ وَلَمْ يَجِدْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَجْلِسًا قُرْبَ عَمِّهِ فَجَلَسَ عِنْدَ الْبَابِ. فَقَالَ لَهُ أَبُو طَالِبٍ: أَيِ ابْنَ أَخِي مَا بَالُ قَوْمِكَ يَشُكُونَكَ، يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَشْتُمُ آلِهَتَهُمْ وَتَقُولُ وَتَقُولُ؟ قَالَ: وَأَكْثَرُوا عَلَيْهِ مِنَ الْقَوْلِ وَتَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: " يَا عَمِّ إِنِّي أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ! يَقُولُونَهَا تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ" فَفَزِعُوا لِكَلِمَتِهِ وَلِقَوْلِهِ وَقَالُوا [[في ت، س، أ: "فقال القوم".]] كَلِمَةً وَاحِدَةً! نَعَمْ وَأَبِيكَ عَشْرًا فَقَالُوا: وَمَا هِيَ؟ وَقَالَ أَبُو طَالِبٍ وَأَيُّ كَلِمَةٍ هِيَ يَا ابْنَ أَخِي؟ فَقَالَ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" فَقَامُوا فَزِعِينَ يَنْفُضُونَ ثِيَابَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ: ﴿أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ﴾ قَالَ: وَنَزَلَتْ مِنْ [[في أ: "في".]] هَذَا الْمَوْضِعِ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ﴾ لَفْظُ أَبِي كُرَيْبٍ [[تفسير الطبري (٢٣/٧٩) .]]
وَهَكَذَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبَّادٍ غَيْرِ مَنْسُوبٍ بِهِ نَحْوَهُ [[المسند (١/٣٦٢) والنسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٣٧) .]] وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَابْنُ جَرِيرٍ أَيْضًا كُلُّهُمْ فِي تَفَاسِيرِهِمْ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عن الأعمش عن يحيى بن عمارة الْكُوفِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ [[في ت: "ورواه الترمذي وقال: حديث حسن".]] حَسَنٌ [[سنن الترمذي برقم (٣٢٣٢) والنسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٣٦) وتفسير الطبري (٢٣/٧٩) .]]
* *
وَقَوْلُهُمْ: ﴿مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الآخِرَةِ﴾ أَيْ: مَا سَمِعْنَا بِهَذَا الَّذِي يَدْعُونَا إِلَيْهِ مُحَمَّدٌ مِنَ التَّوْحِيدِ فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ.
قَالَ مُجَاهِدٌ وَقَتَادَةُ وَابْنُ [[في ت: "وأبو".]] زَيْدٍ: يَعْنُونَ دِينَ قُرَيْشٍ.
وَقَالَ غَيْرُهُمْ: يَعْنُونَ النَّصْرَانِيَّةَ، قَالَهُ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ وَالسُّدِّيُّ.
وَقَالَ الْعَوْفِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الآخِرَةِ﴾ يَعْنِي: النَّصْرَانِيَّةَ قَالُوا: لَوْ كَانَ هَذَا الْقُرْآنُ حَقًّا أَخْبَرَتْنَا بِهِ النَّصَارَى.
﴿إِنْ هَذَا إِلا اخْتِلاقٌ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ، وَقَتَادَةُ كَذِبٌ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تَخَرُّصٌ.
* *
وَقَوْلُهُمْ: ﴿أَؤُنزلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنَا﴾ يَعْنِي: أَنَّهُمْ يَسْتَبْعِدُونَ تَخْصِيصَهُ بِإِنْزَالِ الْقُرْآنِ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِهِمْ كُلِّهِمْ كَمَا قَالُوا فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿لَوْلا نزلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٣١] قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٣٢] وَلِهَذَا لَمَّا قَالُوا هَذَا الَّذِي دَلَّ عَلَى جَهْلِهِمْ وَقِلَّةِ عَقْلِهِمْ فِي اسْتِبْعَادِهِمْ إِنْزَالَ الْقُرْآنِ عَلَى الرَّسُولِ مِنْ بَيْنِهِمْ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ﴾ أَيْ: إِنَّمَا يَقُولُونَ هَذَا لِأَنَّهُمْ مَا ذَاقُوا إِلَى حِينِ قَوْلِهِمْ ذَلِكَ عَذَابَ اللَّهِ وَنِقْمَتَهُ سَيَعْلَمُونَ غِبَّ مَا قَالُوا، وَمَا كَذَّبُوا بِهِ يَوْمَ يُدَعّون إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعّا.
ثُمَّ قَالَ مُبَيِّنًا أَنَّهُ الْمُتَصَرِّفُ فِي مُلْكِهِ الْفَعَّالُ لِمَا يَشَاءُ الَّذِي يُعْطِي مَنْ يَشَاءُ مَا يَشَاءُ وَيُعِزُّ مَنْ يَشَاءُ وَيُذِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَيُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيُنَزِّلُ الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَخْتِمُ عَلَى قَلْبِ مَنْ يَشَاءُ، فَلَا يَهْدِيهِ أَحَدٌ مِنْ بَعْدِ اللَّهِ وَإِنَّ الْعِبَادَ لَا يَمْلِكُونَ شَيْئًا مِنَ الْأَمْرِ وَلَيْسَ إِلَيْهِمْ مِنَ التَّصَرُّفِ فِي الْمُلْكِ وَلَا مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَمَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى مُنْكِرًا عَلَيْهِمْ: ﴿أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ﴾ أَيِ: الْعَزِيزِ الَّذِي لَا يُرَامُ جَنَابُهُ الْوَهَّابِ الَّذِي يُعْطِي مَا يُرِيدُ لِمَنْ يُرِيدُ.
وَهَذِهِ الْآيَةُ شَبِيهَةٌ بِقَوْلِهِ: ﴿أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ صَدَّ عَنْهُ وَكَفَى بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا﴾ [النِّسَاءِ: ٥٣: ٥٥] وَقَوْلُهُ ﴿قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لأمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الإنْفَاقِ وَكَانَ الإنْسَانُ قَتُورًا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ١٠] وَذَلِكَ بَعْدَ الْحِكَايَةِ عَنِ الْكُفَّارِ أَنَّهُمْ أَنْكَرُوا بِعْثَةَ الرَّسُولِ الْبَشَرِيِّ وَكَمَا أَخْبَرَ تَعَالَى عَنْ قَوْمِ صَالِحٍ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] حِينَ قَالُوا: ﴿أَؤُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَنِ الْكَذَّابُ الأشِرُ﴾ [القمر: ٢٥: ٢٦] وقوله: ﴿أَمْ لَهُمْ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَلْيَرْتَقُوا فِي الأسْبَابِ﴾ أَيْ: إِنْ كَانَ لَهُمْ ذَلِكَ فَلْيَصْعَدُوا فِي الْأَسْبَابِ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَقَتَادَةُ وَغَيْرُهُمْ: يَعْنِي طُرُقَ السَّمَاءِ.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: فَلْيَصْعَدُوا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿جُنْدٌ مَا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الأحْزَابِ﴾ أَيْ: هَؤُلَاءِ الْجُنْدُ الْمُكَذِّبُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ سَيُهْزَمُونَ وَيُغْلَبُونَ وَيُكْبَتُونَ كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِنَ الْأَحْزَابِ الْمُكَذِّبِينَ وَهَذِهِ كَقَوْلِهِ: ﴿أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُنْتَصِرٌ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ﴾ وَكَانَ ذَلِكَ يَوْمَ بَدْرٍ ﴿بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ﴾ [الْقَمَرِ: ٤٤: ٤٦] .
أَمْ لَهُم مُّلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ فَلْيَرْتَقُوا۟ فِى ٱلْأَسْبَٰبِ
Or is theirs the dominion of the heavens and the earth and what is between them? Then let them ascend through [any] ways of access.
یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان (سب) پر ان ہی کی حکومت ہے۔ تو چاہیئے کہ رسیاں تان کر (آسمانوں) پر چڑھ جائیں
یا اینکه مالکیّت و حاکمیّت آسمانها و زمین و آنچه میان این دو است از آن آنهاست؟! (اگر چنین است) با هر وسیله ممکن به آسمانها بروند (و جلو نزول وحی را بر قلب پاک محمّد بگیرند)!
Tafsir Ibn Kathir
And they wonder that a warner has come to them from among themselves. And the disbelievers say: "This is a sorcerer, a liar. (4)"Has he made the gods into One God. Verily, this is a curious thing! (5)And the leaders among them went about (saying): "Go on, and remain constant to your gods! Verily, this is a thing designed! (6)"We have not heard (the like) of this in the religion of these later days. This is nothing but an invention! (7)"Has the Reminder been sent down to him (alone) from among us?" Nay, but they are in doubt about My Reminder! Nay, but they have not tasted (My) torment (8)Or have they the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Real Bestower (9)Or is it that the dominion of the heavens and the earth and all that is between them is theirs If so, let them ascend up with means (10)They will be a defeated host like the Confederates of the old times (11)
The Idolators were amazed at the Message, Tawhid and the Qur'an
Allah tells us that the idolators wondered at the sending of the Messenger of Allah ﷺ as a bringer of glad tidings and a warner. This is like the Ayah:
أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۗ قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَٰذَا لَسَاحِرٌ مُبِينٌ
(Is it a wonder for mankind that We have sent Our revelation to a man from among themselves (saying): "Warn mankind, and give good news to those who believe that they shall have with their Lord the rewards of their good deeds?" (But) the disbelievers say: "This is indeed an evident sorcerer!")(10:2). And Allah says here:
وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ ۖ
(And they wonder that a warner has come to them from among themselves.) meaning, a human being like themselves.
وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَٰذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ - أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ
(And the disbelievers said: "This is a sorcerer, a liar. Has he made the gods into One God?") meaning, does he claim that the One Who is to worshipped is One and there is no god besides Him? The idolators – may Allah curse them – denounced that and were amazed at the idea of giving up Shirk, because they had learned from their forefathers to worship idols and their hearts were filled with love for that. When the Messenger ﷺ called them to rid their hearts of that and to worship Allah Alone, this was too much for them and they were astounded by it. They said:
أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ - وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ
("Has he made the gods into One God? Verily, this is a curious thing!" And the leaders among them went about) meaning the chiefs and masters and nobles,
امْشُوا
((saying): "Go on...") meaning, 'persist in your religion,'
وَاصْبِرُوا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ
(and remain constant to your gods!), meaning, 'do not respond to Muhammad's call to Tawhid.'
إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ
(Verily, this is a thing designed!) Ibn Jarir said, "The Tawhid to which Muhammad is calling you is something by which he wishes to gain power over you, and exalt his own position, so that he will have followers among you, but we will not respond to him."
The Reason for the Revelation of These Ayat
Abu Ja'far bin Jarir recorded that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said, "When Abu Talib fell sick, some of the people of the Quraysh, including Abu Jahl, entered upon him and said, 'Your brother's son is insulting our gods; he does such and such and says such and such. Why don't you send for him and tell him not to do that?' So he sent for the Prophet ﷺ and he entered the house. There was space enough for one man to sit between them and Abu Talib, and Abu Jahl, may Allah curse him, was afraid that if [the Prophet ﷺ] were to sit beside Abu Talib he would be more lenient with him, so he jumped up and sat in that spot, and the Messenger of Allah ﷺ could find nowhere to sit near his uncle, so he sat by the door. Abu Talib said to him, 'O son of my brother, why are your people complaining about you and claiming that you insult their gods and say such and such?' They made so many complaints against him. Thereupon, he ﷺ said,
يَا عَمِّ إِنِّي أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ يَقُولُونَهَا تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ، وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ
(O uncle, all I want from them is one word which, if they say it, the Arabs will become their followers and the non-Arabs will pay Jizyah to them.) They were worried about what he said, so they said, 'One word? Yes, by your father, (we will say) ten words! What is it?' Abu Talib said, 'What word is it, O son of my brother?' He ﷺ said,
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ
(La ilaha illallah.) They stood up in agitation, brushing down their clothes, saying,
أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ
(Has he made the gods into One God. Verily, this is a curious thing!) Then this passage was revealed, from this Ayah to the Ayah:
بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!)" This is the wording of Abu Kurayb. Something similar was also recorded by Imam Ahmad and An-Nasa'i, and At-Tirmidhi said, "Hasan."
مَا سَمِعْنَا بِهَٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ
(We have not heard (the like) of this in the religion of these later days.) means, 'we have not heard anything like this Tawhid to which Muhammad calls us in the religion of these later days.'
Al-'Awfi reported that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said, "We have not heard of this from the religion of these later days (meaning Christianity); if this Qur'an were true, the Christians would have told us about it."
إِنْ هَٰذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ
(This is nothing but an invention!) Mujahid and Qatadah said, "A lie." Ibn 'Abbas said, "A fabrication."
أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنَا ۚ
(Has the Reminder been sent down to him (alone) from among us?)
They thought it unlikely that he would be singled out from among them to receive the Qur'an. This is like the Ayat:
لَوْلَا نُزِّلَ هَٰذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ
(And they say: "Why is not this Qur'an sent down to some great man of the two towns?")(43:31). Allah said:
أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ۚ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ
(Is it they who would portion out the mercy of your Lord? It is We Who portion out between them their livelihood in this world, and We raised some of them above others in ranks)(43:32).
When they said this, it indicated their ignorance and lack of understanding since they thought it was unlikely that the Qur'an would be revealed to the Messenger ﷺ and not to somebody else.
بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!) means, they say this because they have not yet tasted the punishment and vengeance of Allah. But they will come to know the consequences of what they say and what they rejected on the Day when they are herded into the fire of Hell. Then Allah points out that He is the One Who is in control of His Creation and Who does whatever He wills, Who gives whatever He wants to whomever He wants, and honors whomever He wants and humiliates whomever He wants, and guides whomever He wants and misguides whomever He wants, and sends the Ruh (Jibril) by His command upon whomsoever He wants among His servants, and seals the hearts of whomever He wants, so no one can guide him apart from Allah. His servants do not possess any power and have no control over His dominion, not even a speck of dust's weight; they do not possess even a thin membrane over a date stone. Allah says, denouncing them:
أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ
(Or have they the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Real Bestower?) meaning, the Almighty Whose might cannot be overcome, the Bestower Who gives whatever He wills to whomsoever He wills. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا - أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۖ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا - فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ صَدَّ عَنْهُ ۚ وَكَفَىٰ بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا
(Or have they a share in the dominion? Then in that case they would not give mankind even a speck on the back of a date stone. Or do they envy men for what Allah has given them of His bounty? Then, We had already given the family of Ibrahim the Book and Al-Hikmah, and conferred upon them a great kingdom. Of them were (some) who believed in him, and of them were (some) who averted their faces from him; and enough is Hell for burning (them).)(4:53-55).
قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لَأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْإِنْفَاقِ ۚ وَكَانَ الْإِنْسَانُ قَتُورًا
(Say: "If you possessed the treasure of the mercy of my Lord (wealth), then you would surely hold back for fear of (being exhausted), and man is ever miserly!")(17:100).
This is after Allah tells us the story of how the disbeliever denied the sending of a human Messenger, as He tells us that the people of Salih, peace be upon him, said:
أَأُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ - سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ
("Is it that the Reminder is sent to him alone from among us Nay, he is an insolent liar!" Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!)(54:25-26)
أَمْ لَهُمْ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ فَلْيَرْتَقُوا فِي الْأَسْبَابِ
(Or is it that the dominion of the heavens and the earth and all that is between them is theirs? If so, let them ascend up with means.) means, if they have that, then let them ascend up with means. Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa'id bin Jubayr, Qatadah and others said, "The ways to the heaven."
Ad-Dahhak, said, "Then let them ascend into the seventh heaven." Then Allah says,
جُنْدٌ مَا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الْأَحْزَابِ
(they will be a defeated host like the Confederates of the old times.) meaning, these hosts of disbelievers who are in false pride and opposition will be defeated and overwhelmed and disgraced, just as the Confederates of the old times were disgraced before them. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُنْتَصِرٌ - سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ
(Or say they: "We are a great multitude, victorious?" Their multitude will be put to flight, and they will show their backs.)(54:44-45) – which is what happened on the day of Badr –
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ
(Nay, but the Hour is their appointed time, and the Hour will be more grievous and more bitter.)(54:46)
Tafsir Ibn Kathir
مشرکین کا نبی اکرم ﷺ پر تعجب۔حضور ﷺ کی رسالت پر کفار کے حماقت آمیز تعجب کا اظہار ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ) 10۔ یونس :2) ، کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ان میں سے ایک انسان کی طرف ہم نے وحی کی تاکہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے اور ایمانداروں کو اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ اس کے پاس ان کے لئے بہترین لائحہ عمل ہے۔ کافر تو ہمارے رسول کو کھلا جادوگر کہنے لگے۔ یہیں پر یہ ذکر ہے کہ انہی میں سے انہی جیسے ایک انسان کے رسول بن کر آنے پر انہیں تعجب ہوا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور کذاب ہے۔ رسول ﷺ کی رسالت پر تعجب کے ساتھ ہی اللہ کی وحدانیت پر بھی انہیں تعجب معلوم ہوا اور کہنے لگے کہ اور سنو اتنے سارے معبودوں کے بدلے یہ تو کہتا ہے کہ اللہ ایک ہی ہے اور اس کا کوئی کسی طرح کا شریک ہی نہیں ان بیوقوفوں کو اپنے بڑوں کی دیکھا دیکھی جس شرک و کفر کی عادت تھی اس کے خلاف آواز سن کر ان کے دل دکھنے اور رکنے لگے اور وہ توحید کو ایک انوکھی اور انجان چیز سمجھنے لگے۔ ان کے بڑوں اور سرداروں نے تکبر کے ساتھ منہ موڑتے ہوئے اعلان کیا کہ اپنے قدیمی مذہب پر جمے رہو۔ اس کی بات نہ مانو اور اپنے معبودوں کی عبادت کرتے رہو۔ یہ تو صرف اپنے مطلب کی باتیں کہتا ہے۔ یہ اس بہانے اپنی جما رہا ہے کہ یہ تمہارا سب کا بڑا بن جائے اور تم اس کے تابع فرمان ہوجاؤ۔ ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ ایک بار قریشیوں کے شریف اور سردار رؤسا ایک مرتبہ جمع ہوئے ان میں ابو جہل بن ہشام عاص بن وائل اسود بن المطلب اسود بن عبد یغوث وغیرہ بھی تھے اور سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چل کر آج ابو طالب سے آخری فیصلہ کرلیں وہ انصاف کے ساتھ ایک بات ہمارے ذمہ ڈال دے اور ایک اپنے بھتیجے کے ذمے۔ کیونکہ یہ اب انتہائی عمر کو پہنچ چکے ہیں چراغ سحری ہو رہے ہیں اگر مرگئے اور ان کے بعد ہم نے محمد ﷺ کو کوئی مصیبت پہنچائی تو عرب میں طعنہ دیں گے کہ بڈھے کی موجودگی تک تو کچھ نہ چلی اور ان کی موت کے بعد بہادری آگئی۔ چناچہ ایک آدمی بھیج کر ابو طالب سے اجازت مانگی ان کی اجازت پر سب گھر میں گئے اور کہا سنئے جناب ! آپ ہمارے سردار ہیں بزرگ ہیں بڑے ہیں۔ ہم آپ کے بھتیجے سے اب بہت تنگ آگئے ہیں آپ انصاف کے ساتھ ہم میں اور اس میں فیصلہ کر دیجئے۔ دیکھئے ہم آپ سے انصاف چاہتے ہیں وہ ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں اور نہ ہم انہیں ستائیں وہ مختار ہیں جس کی چاہیں عبادت کریں لیکن ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں۔ ابو طالب نے آدمی بھیج کر اللہ کے رسول ﷺ کو بلوایا اور کہا جان پدر دیکھتے ہو آپ کی قوم کے سردار اور بزرگ سب جمع ہوئے ہیں اور آپ سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودوں کی توہین اور برائی کرنے سے باز آجائیں اور یہ آپ کو آپ کے دین پر چلنے میں آزادی دے رہے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا چچا جان کیا میں انہیں بہترین اور بڑی بھلائی کی طرف نہ بلاؤں ؟ ابو طالب نے کہا وہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ ایک کلمہ کہہ دیں صرف اس کے کہنے کی وجہ سے سارا عرب ان کے ماتحت ہوجائے گا اور سارے عجم پر ان کی حکومت ہوجائے گی۔ ابو جہل ملعون نے سوال کیا کہ اچھا بتاؤ وہ ایسا کونسا کلمہ ہے ؟ ایک نہیں ہم دس کہنے کو تیار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہو لا الہ الا اللہ بس یہ سننا تھا کہ شور و غل کردیا اور کہنے لگے اس کے سوا جو تو مانگے ہم دینے کو تیار ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم سورج کو بھی لاکر میرے ہاتھ پر رکھ دو تو بھی تو تم سے اس کلمے کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ سارے کے سارے مارے غصے اور غضب کے بھنا کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے واللہ ہم تجھے اور تیرے اللہ کو گالیاں دیں گے جس نے تجھے یہ حکم دیا ہے۔ اب یہ چلے اور ان کے سردار یہ کہتے رہے کہ جاؤ اپنے دین پر اور اپنے معبودوں کی عبادت پر جمے رہو۔ معلوم ہوگیا کہ اس شخص کا تو ارادہ ہی اور ہے یہ تو بڑا بننا چاہتا ہے (ابن ابی حاتم وغیرہ) ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان کے بھاگ جانے کے بعد حضور نے اپنے چچا سے کہا کہ آپ ہی اس کلمے کو پڑھ لیجئے اس نے کہا نہیں میں تو اپنے باپ دادوں اور قوم کے بڑوں کے دین پر ہی رہوں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا کہ جسے تو چاہے ہدایت نہیں کرسکتا اور روایت میں ہے کہ اس وقت ابو طالب بیمار تھے اور اسی وجہ سے وہ مرا بھی۔ جس وقت حضور ﷺ تشریف لائے اس وقت ابو طالب کے پاس ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ خالی تھی باقی تمام گھر آدمیوں سے بھرا ہوا تھا تو ابو جہل خبیث نے خیال کیا کہ اگر آپ ﷺ آ کر اپنے چچا کے پاس بیٹھ گئے تو زیادہ اثر ڈال سکیں گے اس لئے یہ ملعون کود کر وہاں جا بیٹھا اور حضور ﷺ کو دروازہ کے پاس ہی بیٹھنا پڑا۔ حضور ﷺ نے جب ایک کلمہ کہنے کو کہا تو سب نے جواب دیا کہ ایک نہیں دس ہم سب منتظر ہیں فرمایئے وہ کیا کلمہ ہے ؟ اور جب کلمہ توحید آپ کی زبانی سنا تو کپڑے جھاڑتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے لو اور سنو یہ تو سارے معبودوں کا ایک معبود بنا رہا ہے۔ اس پر یہ آیتیں، عذاب تک، اتریں۔ امام ترمذی اس روایت کو حسن کہتے ہیں۔ ہم نے تو یہ بات نہ اپنے دین میں دیکھی نہ نصرانیوں کے دین میں۔ یہ بالکل غلط اور جھوٹ اور بےسند بات ہے۔ یہ کیسے کچھ تعجب کی بات ہے کہ اللہ میاں کو کوئی اور نظر ہی نہ آیا اور اس پر قرآن اتار دیا۔ جیسے ایک اور آیت میں ان کا قول ہے (وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ 31) 43۔ الزخرف :31) یعنی ان دونوں شہروں میں کے کسی بڑے آدمی پر یہ قرآن کیوں نہ اتارا گیا ؟ جس کے جواب میں جناب باری کا ارشاد ہوا کہ کیا یہی لوگ رب کی رحمت کی تقسیم کرنے والے ہیں ؟ یہ تو اس قدر محتاج ہیں کہ ان کی اپنی روزیاں اور درجے بھی ہم تقسیم کرتے ہیں۔ الغرض یہ اعتراض بھی ان کی حماقت کا غرہ تھا۔ اللہ فرماتا ہے، یہ ہے ان کے شک کا نتیجہ اور وجہ یہ ہے کہ اب تک یہ چکنی چپڑی کھاتے رہے ہیں ہمارے عذابوں سے سابقہ نہیں پڑا۔ کل قیامت کے دن جبکہ دھکے دے کر جہنم میں گرائے جائیں گے۔ اس وقت اپنی اس سرکشی کا مزہ پائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنا قبضہ اور اپنی قدرت ظاہر فرماتا ہے کہ جو وہ چاہے کرے، جسے چاہے جو چاہے دے، عزت ذلت اس کے ہاتھ ہے، ہدایت ضلالت اس کی طرف سے ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے وحی نازل فرمائے اور جس کے دل پر چاہے اپنی مہر لگا دے بندوں کے اختیار میں کچھ نہیں وہ محض بےبس بالکل لاچار اور سراسر مجبور ہیں۔ اسی لئے فرمایا کیا ان کے پاس اس بلند جناب غالب، وہاب اللہ کی رحمت کے خزانے ہیں ؟ یعنی نہیں ہیں جیسے فرمایا (اَمْ لَھُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا 53ۙ) 4۔ النسآء :53) ، اگر اللہ کی حکمرانی کا کوئی حصہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو یہ بخیل تو کسی کو ٹکڑا بھی نہ کھانے دیتے۔ اور انہیں لوگوں کے ہاتھوں میں اللہ کا فضل دیکھ کر حسد آ رہا ہے ؟ ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بہت بڑی سلطنت دی تھی۔ ان میں سے بعض تو ایمان لائے اور بعض ایمان سے رکے رہے جو بھڑکتی جہنم کے لقمے بنیں گے وہ آگ ہی انہیں کافی ہے اور آیت میں ہے (قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا01000ۧ) 17۔ الإسراء :100)۔ یعنی اگر میرے رب کی رحمتوں کے خزانے تمہاری ملکیت میں ہوتے تو تم تو کمی سے ڈر کر خرچ کرنے سے رک جاتے انسان ہے ہی ناشکرا۔ قوم صالح نے بھی اپنے نبی ﷺ سے یہی کہا تھا کہ الخ، کیا ہم سب کو چھوڑ کر اسی پر ذکر اتارا گیا ؟ نہیں بلکہ یہ کذاب اور شریر ہے۔ اللہ فرماتا ہے کل معلوم کرلیں گے کہ ایسا کون ہے ؟ پھر فرمایا کیا زمین آسمان اور اس کے درمیان کی چیزوں پر ان کا اختیار ہے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر آسمانوں کی راہوں پر چڑھ جائیں ساتویں آسمان پر پہنچ جائیں۔ یہ یہاں کا لشکر بھی عنقریب ہزیمت و شکست اٹھائے گا اور مغلوب و ذلیل ہوگا۔ جیسے اور بڑے بڑے گروہ حق سے ٹکرائے اور پاش پاش ہوگئے، جیسے اور آیت میں ہے (اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَــصِرٌ 44) 54۔ القمر :44) ، یعنی کیا ان کا قول ہے کہ ہم بڑی جماعت ہیں اور ہم ہی فتح یاب رہیں گے ؟ سنو انہیں ابھی ابھی شکست فاش ہوگی اور پیٹھ دکھاتے ہوئے بزدلی کے ساتھ بدحواس ہو کر بھاگ کھڑے ہوں گے چناچہ بدر والے دن اللہ کی فرماں روائی نے اللہ کی باتوں کی سچائی انہیں اپنی آنکھوں سے دکھائی اور ابھی ان کے عذابوں کے وعدے کا دن تو آخرت کا دن ہے جو سخت کڑوا اور نہایت دہشت ناک اور وحشت والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنِ الْمُشْرِكِينَ فِي تَعَجُّبِهِمْ مِنْ بِعْثَةِ الرَّسُولِ بَشَرًا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَذَا لَسَاحِرٌ مُبِينٌ﴾ وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ﴾ أَيْ: بَشَرٌ مِثْلُهُمْ، ﴿وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا﴾ أَيْ: أَزَعَمَ أَنَّ الْمَعْبُودَ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ؟! أَنْكَرَ الْمُشْرِكُونَ ذَلِكَ -قَبَّحَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى-وَتَعَجَّبُوا مِنْ تَرْكِ الشِّرْكِ بِاللَّهِ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا قَدْ تَلَقَّوْا عَنْ آبَائِهِمْ عِبَادَةَ الْأَوْثَانِ وَأُشْرِبَتْهُ قُلُوبُهُمْ فَلَمَّا دَعَاهُمُ الرَّسُولُ ﷺ إِلَى خَلْعِ ذَلِكَ مِنْ قُلُوبِهِمْ وَإِفْرَادِ اللَّهِ [[في ت، س، أ: "الإله".]] بِالْوَحْدَانِيَّةِ أَعَظَمُوا ذَلِكَ وَتَعَجَّبُوا وَقَالُوا: ﴿أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ وَانْطَلَقَ الْمَلأ مِنْهُمْ﴾ وَهُمْ سَادَتُهُمْ وَقَادَتُهُمْ وَرُؤَسَاؤُهُمْ وَكُبَرَاؤُهُمْ قَائِلِينَ: ﴿ [أَنِ] امْشُوا﴾ [[زيادة من أ.]] أَيِ: اسْتَمِرُّوا عَلَى دِينِكُمْ ﴿وَاصْبِرُوا عَلَى آلِهَتِكُمْ﴾ وَلَا تَسْتَجِيبُوا لِمَا يَدْعُوكُمْ إِلَيْهِ مُحَمَّدٌ مِنَ التَّوْحِيدِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ﴾ قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: إِنَّ هَذَا الَّذِي يَدْعُونَا [[في ت: "يدعوا".]] إِلَيْهِ مُحَمَّدٌ ﷺ مِنَ التَّوْحِيدِ لَشَيْءٌ يُرِيدُ بِهِ الشَّرَفَ عَلَيْكُمْ وَالِاسْتِعْلَاءَ، وَأَنْ يَكُونَ لَهُ مِنْكُمْ أَتْبَاعٌ وَلَسْنَا مُجِيبِيهِ إِلَيْهِ.
ذِكْرُ سَبَبِ نُزُولِ هَذِهِ الْآيَاتِ:
قَالَ السُّدِّيُّ: إِنَّ أُنَاسًا مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِيهِمْ: أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ وَالْعَاصُ بْنُ وَائِلٍ، وَالْأَسْوَدُ بْنُ الْمُطَّلِبِ وَالْأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ يَغُوثَ فِي نَفَرٍ مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى أَبِي طَالِبٍ فَلْنُكَلِّمْهُ فِيهِ، فَلْيُنْصِفْنَا مِنْهُ فَلْيَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِنَا وَنَدَعْهُ وَإِلَهَهُ الَّذِي يَعْبُدُهُ؛ فَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَمُوتَ هَذَا الشَّيْخُ فَيَكُونَ مِنَّا إِلَيْهِ شَيْءٌ. فَتُعَيِّرُنَا [بِهِ] [[زيادة من ت، س، أ.]] العرب يقولون: تَرَكُوهُ حَتَّى إِذَا مَاتَ عَنْهُ [[في أ: "عمه"، وكذا في الطبري.]] تَنَاوَلُوهُ". فَبَعَثُوا رَجُلًا مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ [[في ت، س، أ: "يدعى".]] الْمُطَّلِبُ" فَاسْتَأْذَنَ لَهُمْ عَلَى أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: هَؤُلَاءِ مَشْيَخَةُ قَوْمِكَ وَسَرَاتُهُمْ يَسْتَأْذِنُونَ عَلَيْكَ. قَالَ: أَدْخِلْهُمْ. فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ قَالُوا: يَا أَبَا طَالِبٍ أَنْتَ كَبِيرُنَا وَسَيِّدُنَا فَأَنْصِفْنَا مِنِ ابْنِ أَخِيكَ فَمُرْهُ فَلْيَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِنَا وَنَدَعْهُ وَإِلَهَهُ. قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْهِ أَبُو طَالِبٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي هَؤُلَاءِ مَشْيَخَةُ قَوْمِكَ وَسَرَاتُهُمْ وَقَدْ سَأَلُوكَ أَنْ تَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِهِمْ وَيَدَعُوكَ وَإِلَهَكَ. قَالَ: "يَا عَمِّ أَفَلَا أَدْعُوهُمْ إِلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَهُمْ؟ " قَالَ: وَإِلَامَ تَدْعُوهُمْ؟ قَالَ: "أَدْعُوهُمْ [إِلَى] [[زيادة من أ.]] أَنْ يَتَكَلَّمُوا بِكَلِمَةٍ تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَيَمْلِكُونَ بِهَا الْعَجَمَ". فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ: مَا هِيَ وَأَبِيكَ؟ لَنُعْطِيَنَّهَا [[في ت، س، أ: "لنعطينكما"]] وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا. قَالَ: تَقُولُونَ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ". فَنَفَرَ وَقَالَ: سَلْنَا غَيْرَ هَذَا [[في ت، س، أ: "غيرها".]] قَالَ: "لَوْ جِئْتُمُونِي بِالشَّمْسِ حَتَّى تَضَعُوهَا فِي يَدِي مَا سَأَلْتُكُمْ غَيْرَهَا" فَقَامُوا مِنْ عِنْدِهِ غِضَابًا، وَقَالُوا: وَاللَّهِ لَنَشْتُمَنَّكَ وَإِلَهَكَ الَّذِي أَمَرَكَ [[في أ: "يأمرك".]] بِهَذَا. ﴿وَانْطَلَقَ الْمَلأ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَى آلِهَتِكُمْ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ﴾
رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَابْنُ جَرِيرٍ وَزَادَ: فَلَمَّا خَرَجُوا دَعَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَمَّهُ إِلَى قَوْلِ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" فَأَبَى وَقَالَ: بَلْ عَلَى دِينِ الْأَشْيَاخِ. وَنَزَلَتْ: ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ﴾ [الْقَصَصِ:٥٦] [[تفسير الطبري (٢٣/٨٠) .]]
وَقَالَ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَابْنُ وَكِيعٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قال: لما مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَهْطٌ مِنْ قُرَيْشٍ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ فَقَالُوا: إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يَشْتُمُ آلِهَتَنَا وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ وَيَقُولُ وَيَقُولُ فَلَوْ بَعَثْتَ إِلَيْهِ فَنَهَيْتَهُ؟ فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَجَاءَ النَّبِيُّ ﷺ فَدَخَلَ الْبَيْتَ وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَبِي طَالِبٍ قَدْرُ مَجْلِسِ رَجُلٍ قَالَ: فَخَشِيَ أَبُو جَهْلٍ إِنْ جَلَسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يَكُونَ أَرَقَّ لَهُ عَلَيْهِ. فَوَثَبَ فَجَلَسَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ وَلَمْ يَجِدْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَجْلِسًا قُرْبَ عَمِّهِ فَجَلَسَ عِنْدَ الْبَابِ. فَقَالَ لَهُ أَبُو طَالِبٍ: أَيِ ابْنَ أَخِي مَا بَالُ قَوْمِكَ يَشُكُونَكَ، يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَشْتُمُ آلِهَتَهُمْ وَتَقُولُ وَتَقُولُ؟ قَالَ: وَأَكْثَرُوا عَلَيْهِ مِنَ الْقَوْلِ وَتَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: " يَا عَمِّ إِنِّي أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ! يَقُولُونَهَا تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ" فَفَزِعُوا لِكَلِمَتِهِ وَلِقَوْلِهِ وَقَالُوا [[في ت، س، أ: "فقال القوم".]] كَلِمَةً وَاحِدَةً! نَعَمْ وَأَبِيكَ عَشْرًا فَقَالُوا: وَمَا هِيَ؟ وَقَالَ أَبُو طَالِبٍ وَأَيُّ كَلِمَةٍ هِيَ يَا ابْنَ أَخِي؟ فَقَالَ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" فَقَامُوا فَزِعِينَ يَنْفُضُونَ ثِيَابَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ: ﴿أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ﴾ قَالَ: وَنَزَلَتْ مِنْ [[في أ: "في".]] هَذَا الْمَوْضِعِ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ﴾ لَفْظُ أَبِي كُرَيْبٍ [[تفسير الطبري (٢٣/٧٩) .]]
وَهَكَذَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبَّادٍ غَيْرِ مَنْسُوبٍ بِهِ نَحْوَهُ [[المسند (١/٣٦٢) والنسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٣٧) .]] وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَابْنُ جَرِيرٍ أَيْضًا كُلُّهُمْ فِي تَفَاسِيرِهِمْ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عن الأعمش عن يحيى بن عمارة الْكُوفِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ [[في ت: "ورواه الترمذي وقال: حديث حسن".]] حَسَنٌ [[سنن الترمذي برقم (٣٢٣٢) والنسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٣٦) وتفسير الطبري (٢٣/٧٩) .]]
* *
وَقَوْلُهُمْ: ﴿مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الآخِرَةِ﴾ أَيْ: مَا سَمِعْنَا بِهَذَا الَّذِي يَدْعُونَا إِلَيْهِ مُحَمَّدٌ مِنَ التَّوْحِيدِ فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ.
قَالَ مُجَاهِدٌ وَقَتَادَةُ وَابْنُ [[في ت: "وأبو".]] زَيْدٍ: يَعْنُونَ دِينَ قُرَيْشٍ.
وَقَالَ غَيْرُهُمْ: يَعْنُونَ النَّصْرَانِيَّةَ، قَالَهُ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ وَالسُّدِّيُّ.
وَقَالَ الْعَوْفِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الآخِرَةِ﴾ يَعْنِي: النَّصْرَانِيَّةَ قَالُوا: لَوْ كَانَ هَذَا الْقُرْآنُ حَقًّا أَخْبَرَتْنَا بِهِ النَّصَارَى.
﴿إِنْ هَذَا إِلا اخْتِلاقٌ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ، وَقَتَادَةُ كَذِبٌ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تَخَرُّصٌ.
* *
وَقَوْلُهُمْ: ﴿أَؤُنزلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنَا﴾ يَعْنِي: أَنَّهُمْ يَسْتَبْعِدُونَ تَخْصِيصَهُ بِإِنْزَالِ الْقُرْآنِ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِهِمْ كُلِّهِمْ كَمَا قَالُوا فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿لَوْلا نزلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٣١] قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٣٢] وَلِهَذَا لَمَّا قَالُوا هَذَا الَّذِي دَلَّ عَلَى جَهْلِهِمْ وَقِلَّةِ عَقْلِهِمْ فِي اسْتِبْعَادِهِمْ إِنْزَالَ الْقُرْآنِ عَلَى الرَّسُولِ مِنْ بَيْنِهِمْ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ﴾ أَيْ: إِنَّمَا يَقُولُونَ هَذَا لِأَنَّهُمْ مَا ذَاقُوا إِلَى حِينِ قَوْلِهِمْ ذَلِكَ عَذَابَ اللَّهِ وَنِقْمَتَهُ سَيَعْلَمُونَ غِبَّ مَا قَالُوا، وَمَا كَذَّبُوا بِهِ يَوْمَ يُدَعّون إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعّا.
ثُمَّ قَالَ مُبَيِّنًا أَنَّهُ الْمُتَصَرِّفُ فِي مُلْكِهِ الْفَعَّالُ لِمَا يَشَاءُ الَّذِي يُعْطِي مَنْ يَشَاءُ مَا يَشَاءُ وَيُعِزُّ مَنْ يَشَاءُ وَيُذِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَيُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيُنَزِّلُ الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَخْتِمُ عَلَى قَلْبِ مَنْ يَشَاءُ، فَلَا يَهْدِيهِ أَحَدٌ مِنْ بَعْدِ اللَّهِ وَإِنَّ الْعِبَادَ لَا يَمْلِكُونَ شَيْئًا مِنَ الْأَمْرِ وَلَيْسَ إِلَيْهِمْ مِنَ التَّصَرُّفِ فِي الْمُلْكِ وَلَا مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَمَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى مُنْكِرًا عَلَيْهِمْ: ﴿أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ﴾ أَيِ: الْعَزِيزِ الَّذِي لَا يُرَامُ جَنَابُهُ الْوَهَّابِ الَّذِي يُعْطِي مَا يُرِيدُ لِمَنْ يُرِيدُ.
وَهَذِهِ الْآيَةُ شَبِيهَةٌ بِقَوْلِهِ: ﴿أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ صَدَّ عَنْهُ وَكَفَى بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا﴾ [النِّسَاءِ: ٥٣: ٥٥] وَقَوْلُهُ ﴿قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لأمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الإنْفَاقِ وَكَانَ الإنْسَانُ قَتُورًا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ١٠] وَذَلِكَ بَعْدَ الْحِكَايَةِ عَنِ الْكُفَّارِ أَنَّهُمْ أَنْكَرُوا بِعْثَةَ الرَّسُولِ الْبَشَرِيِّ وَكَمَا أَخْبَرَ تَعَالَى عَنْ قَوْمِ صَالِحٍ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] حِينَ قَالُوا: ﴿أَؤُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَنِ الْكَذَّابُ الأشِرُ﴾ [القمر: ٢٥: ٢٦] وقوله: ﴿أَمْ لَهُمْ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَلْيَرْتَقُوا فِي الأسْبَابِ﴾ أَيْ: إِنْ كَانَ لَهُمْ ذَلِكَ فَلْيَصْعَدُوا فِي الْأَسْبَابِ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَقَتَادَةُ وَغَيْرُهُمْ: يَعْنِي طُرُقَ السَّمَاءِ.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: فَلْيَصْعَدُوا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿جُنْدٌ مَا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الأحْزَابِ﴾ أَيْ: هَؤُلَاءِ الْجُنْدُ الْمُكَذِّبُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ سَيُهْزَمُونَ وَيُغْلَبُونَ وَيُكْبَتُونَ كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِنَ الْأَحْزَابِ الْمُكَذِّبِينَ وَهَذِهِ كَقَوْلِهِ: ﴿أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُنْتَصِرٌ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ﴾ وَكَانَ ذَلِكَ يَوْمَ بَدْرٍ ﴿بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ﴾ [الْقَمَرِ: ٤٤: ٤٦] .
جُندٌۭ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُومٌۭ مِّنَ ٱلْأَحْزَابِ
[They are but] soldiers [who will be] defeated there among the companies [of disbelievers].
یہاں شکست کھائے ہوئے گروہوں میں سے یہ بھی ایک لشکر ہے
(آری) اینها لشکر کوچک شکستخوردهای از احزابند!
Tafsir Ibn Kathir
And they wonder that a warner has come to them from among themselves. And the disbelievers say: "This is a sorcerer, a liar. (4)"Has he made the gods into One God. Verily, this is a curious thing! (5)And the leaders among them went about (saying): "Go on, and remain constant to your gods! Verily, this is a thing designed! (6)"We have not heard (the like) of this in the religion of these later days. This is nothing but an invention! (7)"Has the Reminder been sent down to him (alone) from among us?" Nay, but they are in doubt about My Reminder! Nay, but they have not tasted (My) torment (8)Or have they the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Real Bestower (9)Or is it that the dominion of the heavens and the earth and all that is between them is theirs If so, let them ascend up with means (10)They will be a defeated host like the Confederates of the old times (11)
The Idolators were amazed at the Message, Tawhid and the Qur'an
Allah tells us that the idolators wondered at the sending of the Messenger of Allah ﷺ as a bringer of glad tidings and a warner. This is like the Ayah:
أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۗ قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَٰذَا لَسَاحِرٌ مُبِينٌ
(Is it a wonder for mankind that We have sent Our revelation to a man from among themselves (saying): "Warn mankind, and give good news to those who believe that they shall have with their Lord the rewards of their good deeds?" (But) the disbelievers say: "This is indeed an evident sorcerer!")(10:2). And Allah says here:
وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ ۖ
(And they wonder that a warner has come to them from among themselves.) meaning, a human being like themselves.
وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَٰذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ - أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ
(And the disbelievers said: "This is a sorcerer, a liar. Has he made the gods into One God?") meaning, does he claim that the One Who is to worshipped is One and there is no god besides Him? The idolators – may Allah curse them – denounced that and were amazed at the idea of giving up Shirk, because they had learned from their forefathers to worship idols and their hearts were filled with love for that. When the Messenger ﷺ called them to rid their hearts of that and to worship Allah Alone, this was too much for them and they were astounded by it. They said:
أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ - وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ
("Has he made the gods into One God? Verily, this is a curious thing!" And the leaders among them went about) meaning the chiefs and masters and nobles,
امْشُوا
((saying): "Go on...") meaning, 'persist in your religion,'
وَاصْبِرُوا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ
(and remain constant to your gods!), meaning, 'do not respond to Muhammad's call to Tawhid.'
إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ
(Verily, this is a thing designed!) Ibn Jarir said, "The Tawhid to which Muhammad is calling you is something by which he wishes to gain power over you, and exalt his own position, so that he will have followers among you, but we will not respond to him."
The Reason for the Revelation of These Ayat
Abu Ja'far bin Jarir recorded that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said, "When Abu Talib fell sick, some of the people of the Quraysh, including Abu Jahl, entered upon him and said, 'Your brother's son is insulting our gods; he does such and such and says such and such. Why don't you send for him and tell him not to do that?' So he sent for the Prophet ﷺ and he entered the house. There was space enough for one man to sit between them and Abu Talib, and Abu Jahl, may Allah curse him, was afraid that if [the Prophet ﷺ] were to sit beside Abu Talib he would be more lenient with him, so he jumped up and sat in that spot, and the Messenger of Allah ﷺ could find nowhere to sit near his uncle, so he sat by the door. Abu Talib said to him, 'O son of my brother, why are your people complaining about you and claiming that you insult their gods and say such and such?' They made so many complaints against him. Thereupon, he ﷺ said,
يَا عَمِّ إِنِّي أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ يَقُولُونَهَا تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ، وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ
(O uncle, all I want from them is one word which, if they say it, the Arabs will become their followers and the non-Arabs will pay Jizyah to them.) They were worried about what he said, so they said, 'One word? Yes, by your father, (we will say) ten words! What is it?' Abu Talib said, 'What word is it, O son of my brother?' He ﷺ said,
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ
(La ilaha illallah.) They stood up in agitation, brushing down their clothes, saying,
أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ
(Has he made the gods into One God. Verily, this is a curious thing!) Then this passage was revealed, from this Ayah to the Ayah:
بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!)" This is the wording of Abu Kurayb. Something similar was also recorded by Imam Ahmad and An-Nasa'i, and At-Tirmidhi said, "Hasan."
مَا سَمِعْنَا بِهَٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ
(We have not heard (the like) of this in the religion of these later days.) means, 'we have not heard anything like this Tawhid to which Muhammad calls us in the religion of these later days.'
Al-'Awfi reported that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said, "We have not heard of this from the religion of these later days (meaning Christianity); if this Qur'an were true, the Christians would have told us about it."
إِنْ هَٰذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ
(This is nothing but an invention!) Mujahid and Qatadah said, "A lie." Ibn 'Abbas said, "A fabrication."
أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنَا ۚ
(Has the Reminder been sent down to him (alone) from among us?)
They thought it unlikely that he would be singled out from among them to receive the Qur'an. This is like the Ayat:
لَوْلَا نُزِّلَ هَٰذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ
(And they say: "Why is not this Qur'an sent down to some great man of the two towns?")(43:31). Allah said:
أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ۚ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ
(Is it they who would portion out the mercy of your Lord? It is We Who portion out between them their livelihood in this world, and We raised some of them above others in ranks)(43:32).
When they said this, it indicated their ignorance and lack of understanding since they thought it was unlikely that the Qur'an would be revealed to the Messenger ﷺ and not to somebody else.
بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!) means, they say this because they have not yet tasted the punishment and vengeance of Allah. But they will come to know the consequences of what they say and what they rejected on the Day when they are herded into the fire of Hell. Then Allah points out that He is the One Who is in control of His Creation and Who does whatever He wills, Who gives whatever He wants to whomever He wants, and honors whomever He wants and humiliates whomever He wants, and guides whomever He wants and misguides whomever He wants, and sends the Ruh (Jibril) by His command upon whomsoever He wants among His servants, and seals the hearts of whomever He wants, so no one can guide him apart from Allah. His servants do not possess any power and have no control over His dominion, not even a speck of dust's weight; they do not possess even a thin membrane over a date stone. Allah says, denouncing them:
أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ
(Or have they the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Real Bestower?) meaning, the Almighty Whose might cannot be overcome, the Bestower Who gives whatever He wills to whomsoever He wills. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا - أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۖ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا - فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ صَدَّ عَنْهُ ۚ وَكَفَىٰ بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا
(Or have they a share in the dominion? Then in that case they would not give mankind even a speck on the back of a date stone. Or do they envy men for what Allah has given them of His bounty? Then, We had already given the family of Ibrahim the Book and Al-Hikmah, and conferred upon them a great kingdom. Of them were (some) who believed in him, and of them were (some) who averted their faces from him; and enough is Hell for burning (them).)(4:53-55).
قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لَأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْإِنْفَاقِ ۚ وَكَانَ الْإِنْسَانُ قَتُورًا
(Say: "If you possessed the treasure of the mercy of my Lord (wealth), then you would surely hold back for fear of (being exhausted), and man is ever miserly!")(17:100).
This is after Allah tells us the story of how the disbeliever denied the sending of a human Messenger, as He tells us that the people of Salih, peace be upon him, said:
أَأُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ - سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ
("Is it that the Reminder is sent to him alone from among us Nay, he is an insolent liar!" Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!)(54:25-26)
أَمْ لَهُمْ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ فَلْيَرْتَقُوا فِي الْأَسْبَابِ
(Or is it that the dominion of the heavens and the earth and all that is between them is theirs? If so, let them ascend up with means.) means, if they have that, then let them ascend up with means. Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa'id bin Jubayr, Qatadah and others said, "The ways to the heaven."
Ad-Dahhak, said, "Then let them ascend into the seventh heaven." Then Allah says,
جُنْدٌ مَا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الْأَحْزَابِ
(they will be a defeated host like the Confederates of the old times.) meaning, these hosts of disbelievers who are in false pride and opposition will be defeated and overwhelmed and disgraced, just as the Confederates of the old times were disgraced before them. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُنْتَصِرٌ - سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ
(Or say they: "We are a great multitude, victorious?" Their multitude will be put to flight, and they will show their backs.)(54:44-45) – which is what happened on the day of Badr –
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ
(Nay, but the Hour is their appointed time, and the Hour will be more grievous and more bitter.)(54:46)
Tafsir Ibn Kathir
مشرکین کا نبی اکرم ﷺ پر تعجب۔حضور ﷺ کی رسالت پر کفار کے حماقت آمیز تعجب کا اظہار ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ) 10۔ یونس :2) ، کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ان میں سے ایک انسان کی طرف ہم نے وحی کی تاکہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے اور ایمانداروں کو اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ اس کے پاس ان کے لئے بہترین لائحہ عمل ہے۔ کافر تو ہمارے رسول کو کھلا جادوگر کہنے لگے۔ یہیں پر یہ ذکر ہے کہ انہی میں سے انہی جیسے ایک انسان کے رسول بن کر آنے پر انہیں تعجب ہوا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور کذاب ہے۔ رسول ﷺ کی رسالت پر تعجب کے ساتھ ہی اللہ کی وحدانیت پر بھی انہیں تعجب معلوم ہوا اور کہنے لگے کہ اور سنو اتنے سارے معبودوں کے بدلے یہ تو کہتا ہے کہ اللہ ایک ہی ہے اور اس کا کوئی کسی طرح کا شریک ہی نہیں ان بیوقوفوں کو اپنے بڑوں کی دیکھا دیکھی جس شرک و کفر کی عادت تھی اس کے خلاف آواز سن کر ان کے دل دکھنے اور رکنے لگے اور وہ توحید کو ایک انوکھی اور انجان چیز سمجھنے لگے۔ ان کے بڑوں اور سرداروں نے تکبر کے ساتھ منہ موڑتے ہوئے اعلان کیا کہ اپنے قدیمی مذہب پر جمے رہو۔ اس کی بات نہ مانو اور اپنے معبودوں کی عبادت کرتے رہو۔ یہ تو صرف اپنے مطلب کی باتیں کہتا ہے۔ یہ اس بہانے اپنی جما رہا ہے کہ یہ تمہارا سب کا بڑا بن جائے اور تم اس کے تابع فرمان ہوجاؤ۔ ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ ایک بار قریشیوں کے شریف اور سردار رؤسا ایک مرتبہ جمع ہوئے ان میں ابو جہل بن ہشام عاص بن وائل اسود بن المطلب اسود بن عبد یغوث وغیرہ بھی تھے اور سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چل کر آج ابو طالب سے آخری فیصلہ کرلیں وہ انصاف کے ساتھ ایک بات ہمارے ذمہ ڈال دے اور ایک اپنے بھتیجے کے ذمے۔ کیونکہ یہ اب انتہائی عمر کو پہنچ چکے ہیں چراغ سحری ہو رہے ہیں اگر مرگئے اور ان کے بعد ہم نے محمد ﷺ کو کوئی مصیبت پہنچائی تو عرب میں طعنہ دیں گے کہ بڈھے کی موجودگی تک تو کچھ نہ چلی اور ان کی موت کے بعد بہادری آگئی۔ چناچہ ایک آدمی بھیج کر ابو طالب سے اجازت مانگی ان کی اجازت پر سب گھر میں گئے اور کہا سنئے جناب ! آپ ہمارے سردار ہیں بزرگ ہیں بڑے ہیں۔ ہم آپ کے بھتیجے سے اب بہت تنگ آگئے ہیں آپ انصاف کے ساتھ ہم میں اور اس میں فیصلہ کر دیجئے۔ دیکھئے ہم آپ سے انصاف چاہتے ہیں وہ ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں اور نہ ہم انہیں ستائیں وہ مختار ہیں جس کی چاہیں عبادت کریں لیکن ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں۔ ابو طالب نے آدمی بھیج کر اللہ کے رسول ﷺ کو بلوایا اور کہا جان پدر دیکھتے ہو آپ کی قوم کے سردار اور بزرگ سب جمع ہوئے ہیں اور آپ سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودوں کی توہین اور برائی کرنے سے باز آجائیں اور یہ آپ کو آپ کے دین پر چلنے میں آزادی دے رہے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا چچا جان کیا میں انہیں بہترین اور بڑی بھلائی کی طرف نہ بلاؤں ؟ ابو طالب نے کہا وہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ ایک کلمہ کہہ دیں صرف اس کے کہنے کی وجہ سے سارا عرب ان کے ماتحت ہوجائے گا اور سارے عجم پر ان کی حکومت ہوجائے گی۔ ابو جہل ملعون نے سوال کیا کہ اچھا بتاؤ وہ ایسا کونسا کلمہ ہے ؟ ایک نہیں ہم دس کہنے کو تیار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہو لا الہ الا اللہ بس یہ سننا تھا کہ شور و غل کردیا اور کہنے لگے اس کے سوا جو تو مانگے ہم دینے کو تیار ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم سورج کو بھی لاکر میرے ہاتھ پر رکھ دو تو بھی تو تم سے اس کلمے کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ سارے کے سارے مارے غصے اور غضب کے بھنا کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے واللہ ہم تجھے اور تیرے اللہ کو گالیاں دیں گے جس نے تجھے یہ حکم دیا ہے۔ اب یہ چلے اور ان کے سردار یہ کہتے رہے کہ جاؤ اپنے دین پر اور اپنے معبودوں کی عبادت پر جمے رہو۔ معلوم ہوگیا کہ اس شخص کا تو ارادہ ہی اور ہے یہ تو بڑا بننا چاہتا ہے (ابن ابی حاتم وغیرہ) ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان کے بھاگ جانے کے بعد حضور نے اپنے چچا سے کہا کہ آپ ہی اس کلمے کو پڑھ لیجئے اس نے کہا نہیں میں تو اپنے باپ دادوں اور قوم کے بڑوں کے دین پر ہی رہوں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا کہ جسے تو چاہے ہدایت نہیں کرسکتا اور روایت میں ہے کہ اس وقت ابو طالب بیمار تھے اور اسی وجہ سے وہ مرا بھی۔ جس وقت حضور ﷺ تشریف لائے اس وقت ابو طالب کے پاس ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ خالی تھی باقی تمام گھر آدمیوں سے بھرا ہوا تھا تو ابو جہل خبیث نے خیال کیا کہ اگر آپ ﷺ آ کر اپنے چچا کے پاس بیٹھ گئے تو زیادہ اثر ڈال سکیں گے اس لئے یہ ملعون کود کر وہاں جا بیٹھا اور حضور ﷺ کو دروازہ کے پاس ہی بیٹھنا پڑا۔ حضور ﷺ نے جب ایک کلمہ کہنے کو کہا تو سب نے جواب دیا کہ ایک نہیں دس ہم سب منتظر ہیں فرمایئے وہ کیا کلمہ ہے ؟ اور جب کلمہ توحید آپ کی زبانی سنا تو کپڑے جھاڑتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے لو اور سنو یہ تو سارے معبودوں کا ایک معبود بنا رہا ہے۔ اس پر یہ آیتیں، عذاب تک، اتریں۔ امام ترمذی اس روایت کو حسن کہتے ہیں۔ ہم نے تو یہ بات نہ اپنے دین میں دیکھی نہ نصرانیوں کے دین میں۔ یہ بالکل غلط اور جھوٹ اور بےسند بات ہے۔ یہ کیسے کچھ تعجب کی بات ہے کہ اللہ میاں کو کوئی اور نظر ہی نہ آیا اور اس پر قرآن اتار دیا۔ جیسے ایک اور آیت میں ان کا قول ہے (وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ 31) 43۔ الزخرف :31) یعنی ان دونوں شہروں میں کے کسی بڑے آدمی پر یہ قرآن کیوں نہ اتارا گیا ؟ جس کے جواب میں جناب باری کا ارشاد ہوا کہ کیا یہی لوگ رب کی رحمت کی تقسیم کرنے والے ہیں ؟ یہ تو اس قدر محتاج ہیں کہ ان کی اپنی روزیاں اور درجے بھی ہم تقسیم کرتے ہیں۔ الغرض یہ اعتراض بھی ان کی حماقت کا غرہ تھا۔ اللہ فرماتا ہے، یہ ہے ان کے شک کا نتیجہ اور وجہ یہ ہے کہ اب تک یہ چکنی چپڑی کھاتے رہے ہیں ہمارے عذابوں سے سابقہ نہیں پڑا۔ کل قیامت کے دن جبکہ دھکے دے کر جہنم میں گرائے جائیں گے۔ اس وقت اپنی اس سرکشی کا مزہ پائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنا قبضہ اور اپنی قدرت ظاہر فرماتا ہے کہ جو وہ چاہے کرے، جسے چاہے جو چاہے دے، عزت ذلت اس کے ہاتھ ہے، ہدایت ضلالت اس کی طرف سے ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے وحی نازل فرمائے اور جس کے دل پر چاہے اپنی مہر لگا دے بندوں کے اختیار میں کچھ نہیں وہ محض بےبس بالکل لاچار اور سراسر مجبور ہیں۔ اسی لئے فرمایا کیا ان کے پاس اس بلند جناب غالب، وہاب اللہ کی رحمت کے خزانے ہیں ؟ یعنی نہیں ہیں جیسے فرمایا (اَمْ لَھُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا 53ۙ) 4۔ النسآء :53) ، اگر اللہ کی حکمرانی کا کوئی حصہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو یہ بخیل تو کسی کو ٹکڑا بھی نہ کھانے دیتے۔ اور انہیں لوگوں کے ہاتھوں میں اللہ کا فضل دیکھ کر حسد آ رہا ہے ؟ ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بہت بڑی سلطنت دی تھی۔ ان میں سے بعض تو ایمان لائے اور بعض ایمان سے رکے رہے جو بھڑکتی جہنم کے لقمے بنیں گے وہ آگ ہی انہیں کافی ہے اور آیت میں ہے (قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا01000ۧ) 17۔ الإسراء :100)۔ یعنی اگر میرے رب کی رحمتوں کے خزانے تمہاری ملکیت میں ہوتے تو تم تو کمی سے ڈر کر خرچ کرنے سے رک جاتے انسان ہے ہی ناشکرا۔ قوم صالح نے بھی اپنے نبی ﷺ سے یہی کہا تھا کہ الخ، کیا ہم سب کو چھوڑ کر اسی پر ذکر اتارا گیا ؟ نہیں بلکہ یہ کذاب اور شریر ہے۔ اللہ فرماتا ہے کل معلوم کرلیں گے کہ ایسا کون ہے ؟ پھر فرمایا کیا زمین آسمان اور اس کے درمیان کی چیزوں پر ان کا اختیار ہے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر آسمانوں کی راہوں پر چڑھ جائیں ساتویں آسمان پر پہنچ جائیں۔ یہ یہاں کا لشکر بھی عنقریب ہزیمت و شکست اٹھائے گا اور مغلوب و ذلیل ہوگا۔ جیسے اور بڑے بڑے گروہ حق سے ٹکرائے اور پاش پاش ہوگئے، جیسے اور آیت میں ہے (اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَــصِرٌ 44) 54۔ القمر :44) ، یعنی کیا ان کا قول ہے کہ ہم بڑی جماعت ہیں اور ہم ہی فتح یاب رہیں گے ؟ سنو انہیں ابھی ابھی شکست فاش ہوگی اور پیٹھ دکھاتے ہوئے بزدلی کے ساتھ بدحواس ہو کر بھاگ کھڑے ہوں گے چناچہ بدر والے دن اللہ کی فرماں روائی نے اللہ کی باتوں کی سچائی انہیں اپنی آنکھوں سے دکھائی اور ابھی ان کے عذابوں کے وعدے کا دن تو آخرت کا دن ہے جو سخت کڑوا اور نہایت دہشت ناک اور وحشت والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنِ الْمُشْرِكِينَ فِي تَعَجُّبِهِمْ مِنْ بِعْثَةِ الرَّسُولِ بَشَرًا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَذَا لَسَاحِرٌ مُبِينٌ﴾ وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ﴾ أَيْ: بَشَرٌ مِثْلُهُمْ، ﴿وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا﴾ أَيْ: أَزَعَمَ أَنَّ الْمَعْبُودَ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ؟! أَنْكَرَ الْمُشْرِكُونَ ذَلِكَ -قَبَّحَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى-وَتَعَجَّبُوا مِنْ تَرْكِ الشِّرْكِ بِاللَّهِ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا قَدْ تَلَقَّوْا عَنْ آبَائِهِمْ عِبَادَةَ الْأَوْثَانِ وَأُشْرِبَتْهُ قُلُوبُهُمْ فَلَمَّا دَعَاهُمُ الرَّسُولُ ﷺ إِلَى خَلْعِ ذَلِكَ مِنْ قُلُوبِهِمْ وَإِفْرَادِ اللَّهِ [[في ت، س، أ: "الإله".]] بِالْوَحْدَانِيَّةِ أَعَظَمُوا ذَلِكَ وَتَعَجَّبُوا وَقَالُوا: ﴿أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ وَانْطَلَقَ الْمَلأ مِنْهُمْ﴾ وَهُمْ سَادَتُهُمْ وَقَادَتُهُمْ وَرُؤَسَاؤُهُمْ وَكُبَرَاؤُهُمْ قَائِلِينَ: ﴿ [أَنِ] امْشُوا﴾ [[زيادة من أ.]] أَيِ: اسْتَمِرُّوا عَلَى دِينِكُمْ ﴿وَاصْبِرُوا عَلَى آلِهَتِكُمْ﴾ وَلَا تَسْتَجِيبُوا لِمَا يَدْعُوكُمْ إِلَيْهِ مُحَمَّدٌ مِنَ التَّوْحِيدِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ﴾ قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: إِنَّ هَذَا الَّذِي يَدْعُونَا [[في ت: "يدعوا".]] إِلَيْهِ مُحَمَّدٌ ﷺ مِنَ التَّوْحِيدِ لَشَيْءٌ يُرِيدُ بِهِ الشَّرَفَ عَلَيْكُمْ وَالِاسْتِعْلَاءَ، وَأَنْ يَكُونَ لَهُ مِنْكُمْ أَتْبَاعٌ وَلَسْنَا مُجِيبِيهِ إِلَيْهِ.
ذِكْرُ سَبَبِ نُزُولِ هَذِهِ الْآيَاتِ:
قَالَ السُّدِّيُّ: إِنَّ أُنَاسًا مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِيهِمْ: أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ وَالْعَاصُ بْنُ وَائِلٍ، وَالْأَسْوَدُ بْنُ الْمُطَّلِبِ وَالْأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ يَغُوثَ فِي نَفَرٍ مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى أَبِي طَالِبٍ فَلْنُكَلِّمْهُ فِيهِ، فَلْيُنْصِفْنَا مِنْهُ فَلْيَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِنَا وَنَدَعْهُ وَإِلَهَهُ الَّذِي يَعْبُدُهُ؛ فَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَمُوتَ هَذَا الشَّيْخُ فَيَكُونَ مِنَّا إِلَيْهِ شَيْءٌ. فَتُعَيِّرُنَا [بِهِ] [[زيادة من ت، س، أ.]] العرب يقولون: تَرَكُوهُ حَتَّى إِذَا مَاتَ عَنْهُ [[في أ: "عمه"، وكذا في الطبري.]] تَنَاوَلُوهُ". فَبَعَثُوا رَجُلًا مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ [[في ت، س، أ: "يدعى".]] الْمُطَّلِبُ" فَاسْتَأْذَنَ لَهُمْ عَلَى أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: هَؤُلَاءِ مَشْيَخَةُ قَوْمِكَ وَسَرَاتُهُمْ يَسْتَأْذِنُونَ عَلَيْكَ. قَالَ: أَدْخِلْهُمْ. فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ قَالُوا: يَا أَبَا طَالِبٍ أَنْتَ كَبِيرُنَا وَسَيِّدُنَا فَأَنْصِفْنَا مِنِ ابْنِ أَخِيكَ فَمُرْهُ فَلْيَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِنَا وَنَدَعْهُ وَإِلَهَهُ. قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْهِ أَبُو طَالِبٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي هَؤُلَاءِ مَشْيَخَةُ قَوْمِكَ وَسَرَاتُهُمْ وَقَدْ سَأَلُوكَ أَنْ تَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِهِمْ وَيَدَعُوكَ وَإِلَهَكَ. قَالَ: "يَا عَمِّ أَفَلَا أَدْعُوهُمْ إِلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَهُمْ؟ " قَالَ: وَإِلَامَ تَدْعُوهُمْ؟ قَالَ: "أَدْعُوهُمْ [إِلَى] [[زيادة من أ.]] أَنْ يَتَكَلَّمُوا بِكَلِمَةٍ تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَيَمْلِكُونَ بِهَا الْعَجَمَ". فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ: مَا هِيَ وَأَبِيكَ؟ لَنُعْطِيَنَّهَا [[في ت، س، أ: "لنعطينكما"]] وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا. قَالَ: تَقُولُونَ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ". فَنَفَرَ وَقَالَ: سَلْنَا غَيْرَ هَذَا [[في ت، س، أ: "غيرها".]] قَالَ: "لَوْ جِئْتُمُونِي بِالشَّمْسِ حَتَّى تَضَعُوهَا فِي يَدِي مَا سَأَلْتُكُمْ غَيْرَهَا" فَقَامُوا مِنْ عِنْدِهِ غِضَابًا، وَقَالُوا: وَاللَّهِ لَنَشْتُمَنَّكَ وَإِلَهَكَ الَّذِي أَمَرَكَ [[في أ: "يأمرك".]] بِهَذَا. ﴿وَانْطَلَقَ الْمَلأ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَى آلِهَتِكُمْ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ﴾
رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَابْنُ جَرِيرٍ وَزَادَ: فَلَمَّا خَرَجُوا دَعَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَمَّهُ إِلَى قَوْلِ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" فَأَبَى وَقَالَ: بَلْ عَلَى دِينِ الْأَشْيَاخِ. وَنَزَلَتْ: ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ﴾ [الْقَصَصِ:٥٦] [[تفسير الطبري (٢٣/٨٠) .]]
وَقَالَ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَابْنُ وَكِيعٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قال: لما مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَهْطٌ مِنْ قُرَيْشٍ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ فَقَالُوا: إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يَشْتُمُ آلِهَتَنَا وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ وَيَقُولُ وَيَقُولُ فَلَوْ بَعَثْتَ إِلَيْهِ فَنَهَيْتَهُ؟ فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَجَاءَ النَّبِيُّ ﷺ فَدَخَلَ الْبَيْتَ وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَبِي طَالِبٍ قَدْرُ مَجْلِسِ رَجُلٍ قَالَ: فَخَشِيَ أَبُو جَهْلٍ إِنْ جَلَسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يَكُونَ أَرَقَّ لَهُ عَلَيْهِ. فَوَثَبَ فَجَلَسَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ وَلَمْ يَجِدْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَجْلِسًا قُرْبَ عَمِّهِ فَجَلَسَ عِنْدَ الْبَابِ. فَقَالَ لَهُ أَبُو طَالِبٍ: أَيِ ابْنَ أَخِي مَا بَالُ قَوْمِكَ يَشُكُونَكَ، يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَشْتُمُ آلِهَتَهُمْ وَتَقُولُ وَتَقُولُ؟ قَالَ: وَأَكْثَرُوا عَلَيْهِ مِنَ الْقَوْلِ وَتَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: " يَا عَمِّ إِنِّي أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ! يَقُولُونَهَا تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ" فَفَزِعُوا لِكَلِمَتِهِ وَلِقَوْلِهِ وَقَالُوا [[في ت، س، أ: "فقال القوم".]] كَلِمَةً وَاحِدَةً! نَعَمْ وَأَبِيكَ عَشْرًا فَقَالُوا: وَمَا هِيَ؟ وَقَالَ أَبُو طَالِبٍ وَأَيُّ كَلِمَةٍ هِيَ يَا ابْنَ أَخِي؟ فَقَالَ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" فَقَامُوا فَزِعِينَ يَنْفُضُونَ ثِيَابَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ: ﴿أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ﴾ قَالَ: وَنَزَلَتْ مِنْ [[في أ: "في".]] هَذَا الْمَوْضِعِ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ﴾ لَفْظُ أَبِي كُرَيْبٍ [[تفسير الطبري (٢٣/٧٩) .]]
وَهَكَذَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبَّادٍ غَيْرِ مَنْسُوبٍ بِهِ نَحْوَهُ [[المسند (١/٣٦٢) والنسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٣٧) .]] وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَابْنُ جَرِيرٍ أَيْضًا كُلُّهُمْ فِي تَفَاسِيرِهِمْ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عن الأعمش عن يحيى بن عمارة الْكُوفِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ [[في ت: "ورواه الترمذي وقال: حديث حسن".]] حَسَنٌ [[سنن الترمذي برقم (٣٢٣٢) والنسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٣٦) وتفسير الطبري (٢٣/٧٩) .]]
* *
وَقَوْلُهُمْ: ﴿مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الآخِرَةِ﴾ أَيْ: مَا سَمِعْنَا بِهَذَا الَّذِي يَدْعُونَا إِلَيْهِ مُحَمَّدٌ مِنَ التَّوْحِيدِ فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ.
قَالَ مُجَاهِدٌ وَقَتَادَةُ وَابْنُ [[في ت: "وأبو".]] زَيْدٍ: يَعْنُونَ دِينَ قُرَيْشٍ.
وَقَالَ غَيْرُهُمْ: يَعْنُونَ النَّصْرَانِيَّةَ، قَالَهُ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ وَالسُّدِّيُّ.
وَقَالَ الْعَوْفِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الآخِرَةِ﴾ يَعْنِي: النَّصْرَانِيَّةَ قَالُوا: لَوْ كَانَ هَذَا الْقُرْآنُ حَقًّا أَخْبَرَتْنَا بِهِ النَّصَارَى.
﴿إِنْ هَذَا إِلا اخْتِلاقٌ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ، وَقَتَادَةُ كَذِبٌ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تَخَرُّصٌ.
* *
وَقَوْلُهُمْ: ﴿أَؤُنزلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنَا﴾ يَعْنِي: أَنَّهُمْ يَسْتَبْعِدُونَ تَخْصِيصَهُ بِإِنْزَالِ الْقُرْآنِ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِهِمْ كُلِّهِمْ كَمَا قَالُوا فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿لَوْلا نزلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٣١] قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٣٢] وَلِهَذَا لَمَّا قَالُوا هَذَا الَّذِي دَلَّ عَلَى جَهْلِهِمْ وَقِلَّةِ عَقْلِهِمْ فِي اسْتِبْعَادِهِمْ إِنْزَالَ الْقُرْآنِ عَلَى الرَّسُولِ مِنْ بَيْنِهِمْ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ﴾ أَيْ: إِنَّمَا يَقُولُونَ هَذَا لِأَنَّهُمْ مَا ذَاقُوا إِلَى حِينِ قَوْلِهِمْ ذَلِكَ عَذَابَ اللَّهِ وَنِقْمَتَهُ سَيَعْلَمُونَ غِبَّ مَا قَالُوا، وَمَا كَذَّبُوا بِهِ يَوْمَ يُدَعّون إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعّا.
ثُمَّ قَالَ مُبَيِّنًا أَنَّهُ الْمُتَصَرِّفُ فِي مُلْكِهِ الْفَعَّالُ لِمَا يَشَاءُ الَّذِي يُعْطِي مَنْ يَشَاءُ مَا يَشَاءُ وَيُعِزُّ مَنْ يَشَاءُ وَيُذِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَيُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيُنَزِّلُ الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَخْتِمُ عَلَى قَلْبِ مَنْ يَشَاءُ، فَلَا يَهْدِيهِ أَحَدٌ مِنْ بَعْدِ اللَّهِ وَإِنَّ الْعِبَادَ لَا يَمْلِكُونَ شَيْئًا مِنَ الْأَمْرِ وَلَيْسَ إِلَيْهِمْ مِنَ التَّصَرُّفِ فِي الْمُلْكِ وَلَا مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَمَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى مُنْكِرًا عَلَيْهِمْ: ﴿أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ﴾ أَيِ: الْعَزِيزِ الَّذِي لَا يُرَامُ جَنَابُهُ الْوَهَّابِ الَّذِي يُعْطِي مَا يُرِيدُ لِمَنْ يُرِيدُ.
وَهَذِهِ الْآيَةُ شَبِيهَةٌ بِقَوْلِهِ: ﴿أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ صَدَّ عَنْهُ وَكَفَى بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا﴾ [النِّسَاءِ: ٥٣: ٥٥] وَقَوْلُهُ ﴿قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لأمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الإنْفَاقِ وَكَانَ الإنْسَانُ قَتُورًا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ١٠] وَذَلِكَ بَعْدَ الْحِكَايَةِ عَنِ الْكُفَّارِ أَنَّهُمْ أَنْكَرُوا بِعْثَةَ الرَّسُولِ الْبَشَرِيِّ وَكَمَا أَخْبَرَ تَعَالَى عَنْ قَوْمِ صَالِحٍ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] حِينَ قَالُوا: ﴿أَؤُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَنِ الْكَذَّابُ الأشِرُ﴾ [القمر: ٢٥: ٢٦] وقوله: ﴿أَمْ لَهُمْ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَلْيَرْتَقُوا فِي الأسْبَابِ﴾ أَيْ: إِنْ كَانَ لَهُمْ ذَلِكَ فَلْيَصْعَدُوا فِي الْأَسْبَابِ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَقَتَادَةُ وَغَيْرُهُمْ: يَعْنِي طُرُقَ السَّمَاءِ.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: فَلْيَصْعَدُوا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿جُنْدٌ مَا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الأحْزَابِ﴾ أَيْ: هَؤُلَاءِ الْجُنْدُ الْمُكَذِّبُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ سَيُهْزَمُونَ وَيُغْلَبُونَ وَيُكْبَتُونَ كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِنَ الْأَحْزَابِ الْمُكَذِّبِينَ وَهَذِهِ كَقَوْلِهِ: ﴿أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُنْتَصِرٌ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ﴾ وَكَانَ ذَلِكَ يَوْمَ بَدْرٍ ﴿بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ﴾ [الْقَمَرِ: ٤٤: ٤٦] .
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍۢ وَعَادٌۭ وَفِرْعَوْنُ ذُو ٱلْأَوْتَادِ
The people of Noah denied before them, and [the tribe of] 'Aad and Pharaoh, the owner of stakes,
ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور میخوں والا فرعون (اور اس کی قوم کے لوگ) بھی جھٹلا چکے ہیں
پیش از آنان قوم نوح و عاد و فرعون صاحب قدرت (پیامبران ما را) تکذیب کردند!
Tafsir Ibn Kathir
Before them denied – the people of Nuh; and 'Ad; and Fir'awn the man of stakes (12)And Thamud, and the people of Lut, and the Dwellers of Al-Aykah; such were the Confederates (13)Not one of them but denied the Messengers; therefore My torment was justified (14)And these only wait for a single Sayhah there will be no pause or ending thereto (15)They say: "Our Lord! Hasten to us Qittana before the Day of Reckoning! (16)Be patient of what they say.. ()
A Reminder of Those Who were destroyed among the Previous Nations
Allah tells us about those past nations and the punishment and vengeance that struck them for their going against the Messengers and disbelieving in the Prophets, peace be upon them. We have already seen their stories in detail in numerous places (in the Qur'an). Allah says:
أُولَٰئِكَ الْأَحْزَابُ
(such were the Confederates.) meaning, 'they were greater and stronger than you, they had more wealth and children, but that did not protect them from the punishment of Allah at all when the command of your Lord came to pass.' Allah says:
إِنْ كُلٌّ إِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ
(Not one of them but denied the Messengers; therefore My torment was justified.)
The reason for their destruction was their disbelief in the Messengers, so let those who are addressed here beware and be afraid.'
وَمَا يَنْظُرُ هَٰؤُلَاءِ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ
(And these only wait for a single Sayhah there will be no pause or ending thereto.)
Malik narrated from Zayd bin Aslam; "There will none who can avert it," i.e., they will only wait for the Hour that it shall come upon them suddenly while they perceive not. But some of its portents have already come, i.e., it has drawn nigh. This Sayhah is the blast on the Trumpet when Allah will command Israfil to sound a long note, and there will be no one in the heaven or on earth but will be terrified, except those whom Allah spares.
وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ
(They say: "Our Lord! Hasten to us Qittana before the Day of Reckoning!")
Here Allah denounces the idolators for calling for the punishment to be hastened upon themselves. Qitt refers to a book or record, or it was said that it means one's allotted share or fortune. Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Ad-Dahhak, Al-Hasan and others said, "They asked for the punishment to be hastened." Qatadah added, this is like when they said:
اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
("O Allah! If this (the Qur'an) is indeed the truth from You, then rain down stones on us from the sky or bring on us a painful torment.")(8:32).
It was also said that they asked for their share of Paradise to be hastened, if it really existed, so that they might have their share in this world; they said this because they thought it unlikely to exist and they disbelieved in it. Ibn Jarir said, "They asked for whatever they deserved, good or bad, to be hastened for them in this world." What he said is good, and A-Dahhak and Isma'il bin Abi Khalid based their views on it. And Allah knows best. They said this by way of mockery and disbelief, so Allah commanded His Messenger ﷺ to be patient in the face of their insults, and He gave him the glad tidings that his patience would be rewarded with victory and success.
Tafsir Ibn Kathir
ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہوچکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور زور میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آچکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہوگی کہ جس کے کان میں پڑی بیہوش و بےجان ہوگیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ قط کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ کر نڈر ہو کر عذابوں کے طلب کرنے کا ذکر ہو رہا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا اللہ اگر یہ صحیح ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب آسمانی ہمیں پہنچا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنا جنت کا حصہ یہاں طلب کیا اور یہ جو کچھ کہا یہ بہ وجہ اسے جھوٹا سمجھنے اور محال جاننے کے تھا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ جس خیر و شر کے وہ دنیا میں مستحق تھے اسے انہوں نے جلد طلب کیا۔ یہی بات ٹھیک ہے ضحاک اور اسماعیل کی تفسیر کا ماحصل بھی یہی ہے۔ واللہ اعلم۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تکذیب اور ہنسی کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو صبر کی تعلیم دی اور برداشت کی تلقین کی۔ حضرت داؤد ؑ کی فراست۔ ذالاید سے مراد علمی اور عملی قوت والا ہے اور صرف قوۃ والے کے معنی بھی ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے (وَالسَّمَاۗءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ 47) 51۔ الذاریات :47) ، مجاہد فرماتے ہیں مراد اطاعت کی طاقت ہے۔ حضرت داؤد ؑ کو عبادت کی قدرت اور اسلام کی فقہ عطا فرمائی گی تھی۔ یہ مذکور ہے کہ آپ ہر رات تہائی رات تک تہجد میں کھڑے رہتے تھے اور ایک دن بعد ایک دن ہمیشہ روزے سے رہتے تھے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند حضرت داؤد کی رات کی نماز اور انہی کے روزے تھے۔ آپ آدھی رات سوتے اور تہائی رات قیام کرتے اور چھٹا حصہ رات کا پھر سو جاتے، اور ایک دن روزہ رکھتے ایک دن نہ رکھتے اور دشمنان دین سے جہاد کرنے میں پیٹھ نہ دکھاتے اور اپنے ہر حال میں اللہ کی طرف رغبت و رجوع رکھتے۔ پہاڑوں کو ان کے ساتھ مسخر کردیا تھا۔ وہ آپ کے ساتھ سورج کے ڈھلنے کے وقت اور دن کے آخری وقت تسبیح بیان کرتے۔ جیسے فرمان ہے (يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ ۚ وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ 10 ۙ) 34۔ سبأ :10) یعنی اللہ نے پہاڑوں کو ان کے ساتھ رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح پرندے بھی آپ کی آواز سن کر آپ کے ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرنے لگ جاتے اڑتے ہوئے پرند پاس سے گذرتے اور آپ توراۃ پڑھتے ہوتے تو آپ کے ساتھ وہ بھی تلاوت میں مشغول ہوجاتے اور اڑنا بھول جاتے بلکہ ٹھہر جاتے۔ حضور ﷺ نے فتح مکہ والے دن ضحیٰ کے وقت حضرت ام ہانی کے گھر میں آٹھ رکعت نماز ادا کی۔ ابن عباس فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ بھی وقت نماز ہے جیسے فرمان ہے (اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18)۔ عبداللہ بن حارث بنی نوفل کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ضحیٰ کی نماز نہیں پڑھتے تھے ایک دن میں انہیں حضرت ام ہانی ؓ کے ہاں لے گیا اور کہا کہ آپ ان سے وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے مجھ سے بیان فرمائی تھی۔ تو مائی صاحبہ نے فرمایا فتح مکہ والے دن میرے گھر میں میرے پاس اللہ کے رسول ﷺ آئے۔ پھر ایک برتن میں پانی بھروایا اور ایک کپڑا تان کر نہانے بیٹھ گئے پھر گھر کے ایک کونے میں پانی چھڑک کر آٹھ رکعت صلوۃ ضحیٰ کی ادا کیں، ان کا قیام رکوع سجدہ اور جلوس سب قریب قریب برابر تھے حضرت ابن عباس جب یہ سن کر وہاں سے نکلے تو فرمانے لگے پورے قرآن کو میں نے پڑھ لیا میں نہیں جانتا کہ ضحیٰ کی نماز کیا ہے آج مجھے معلوم ہوا کہ (يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18) والی آیت میں بھی اشراق سے مراد یہی ضحیٰ ہے۔ چناچہ اس کے بعد انہوں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا۔ جب حضرت داؤد اللہ کی پاکیزگی اور بزرگی بیان فرماتے تو پرندے بھی ہواؤں میں رک جاتے تھے اور حضرت داؤد کی ماتحتی میں ان کی تسبیح کا ساتھ دیتے تھے۔ اور اس کی سلطنت ہم نے مضبوط کردی اور بادشاہوں کو جن جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ہم نے اسے سب دے دیں۔ چار ہزار تو ان کی محافظ سپاہ تھی۔ اس قدر فوج تھی کہ ہر رات تینتیس ہزار فوجی پہرے پر چڑھتے تھے لیکن جو آج کی رات آتے پھر سال بھر تک ان کی باری نہ آتی۔ چالیس ہزار آدمی ہر وقت ان کی خدمت میں مسلح تیار رہتے۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے زمانے میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں میں ایک مقدمہ ہوا۔ ایک نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ دوسرے نے اس جرم سے انکار کیا حضرت داؤد ؑ نے مدعی سے دلیل طلب کی وہ کوئی گواہ پیش نہ کرسکا آپ نے فرمایا اچھا تمہیں کل فیصلہ سنایا جائے گا۔ رات کو حضرت داؤد کو خواب میں حکم ہوا کہ دعویدار کو قتل کردو۔ صبح آپ نے دونوں بلوایا اور حکم دیا کہ اس مدعی کو قتل کردیا جائے اس نے کہا اے اللہ کے نبی آپ میرے ہی قتل کا حکم دے رہے ہیں حالانکہ اس نے میری گائے چرالی ہے۔ آپ نے فرمایا یہ میرا حکم نہیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور ناممکن ہے کہ یہ ٹل جائے تو تیار ہوجا۔ تب اس نے کہا اے اللہ کے رسول میں اپنے دعوے میں تو سچا ہوں اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے قتل کا حکم میرے اس مقدمے کی وجہ سے نہیں کیا۔ اس کی وجہ اور ہی ہے اور اسے صرف میں ہی جانتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ آج میں نے اسے فریب سے قتل کردیا ہے جس کا کسی کو علم نہیں۔ پس اس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو قصاص کا حکم دیا ہے۔ چناچہ وہ قتل کردیا گیا۔ اب تو حضرت داؤد کی ہیبت ہر شخص کے دل میں بیٹھ گئی ہم نے اسے حکمت دی تھی یعنی فہم و عقل، زیرکی اور دانائی، عدل و فراست کتاب اللہ اور اس کی اتباع نبوت و رسالت وغیرہ اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کا صحیح طریقہ۔ یعنی گواہ لینا قسم کھلوانا، مدعی کے ذمہ بار ثبوت ڈالنا مدعی علیہ سے قسم لینا۔ یہی طریقہ فیصلوں کا انبیاء کا اور نیک لوگوں کا رہا اور یہی طریقہ اس امت میں رائج ہے۔ غرض حضرت داؤد معاملے کی تہ کو پہنچ جاتے تھے اور حق و باطل سچ جھوٹ میں صحیح اور کھرے کا امتیاز کرلیتے تھے۔ کلام بھی آپ کا صاف ہوتا تھا اور حکم بھی عدل پر مبنی ہوتا تھا۔ آپ ہی نے اما بعد کا کہنا ایجاد کیا ہے اور فصل الخطاب سے اس کی طرف بھی اشارہ ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ هَؤُلَاءِ الْقُرُونِ الْمَاضِيَةِ، وَمَا حَلَّ بِهِمْ مِنَ الْعَذَابِ وَالنَّكَالِ وَالنَّقَمَاتِ فِي مُخَالَفَةِ الرُّسُلِ وَتَكْذِيبِ الْأَنْبِيَاءِ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ قِصَصُهُمْ مَبْسُوطَةً فِي أَمَاكِنَ مُتَعَدِّدَةٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أُولَئِكَ الأحْزَابُ﴾ أَيْ: كَانُوا أَكْثَرَ مِنْكُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً وَأَكْثَرَ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا فَمَا دَافَعَ [[في ت، أ: "دفع"، وفي س: "لما دفع".]] ذَلِكَ عَنْهُمْ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ [[في أ: "الله".]] وَلِهَذَا قَالَ: ﴿إِنْ كُلٌّ إِلا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ﴾ فَجَعَلَ عِلَّةَ هَلَاكِهِمْ هُوَ تَكْذِيبُهُمْ بِالرُّسُلِ فَلْيَحْذَرِ الْمُخَاطَبُونَ مِنْ ذَلِكَ أَشَدَّ الْحَذَرِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا يَنْظُرُ هَؤُلاءِ إِلا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ﴾ [[في أ: "وما ينظرون" وهو خطأ.]] قَالَ مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: أَيْ لَيْسَ لَهَا مَثْنَوِيَّةٌ أَيْ: مَا يَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَنْ تَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا أَيْ: فَقَدِ اقْتَرَبَتْ وَدَنَتْ وَأَزِفَتْ وَهَذِهِ الصَّيْحَةُ هِيَ نَفْخَةُ الْفَزَعِ الَّتِي يَأْمُرُ اللَّهُ إِسْرَافِيلَ أَنْ يُطَوِّلَهَا، فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا فَزِعَ إِلَّا مَنِ اسْتَثْنَى [[في أ: "شاء".]] اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ﴾ هَذَا إِنْكَارٌ مِنَ اللَّهِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ فِي دُعَائِهِمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ بِتَعْجِيلِ الْعَذَابِ، فَإِنَّ الْقِطَّ هُوَ الْكِتَابُ وَقِيلَ: هُوَ الْحَظُّ وَالنَّصِيبُ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمُجَاهِدٌ وَالضَّحَّاكُ وَالْحَسَنُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ: سَأَلُوا تَعْجِيلَ الْعَذَابِ -زَادَ قَتَادَةُ كَمَا قَالُوا: ﴿اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ [الأنفال: ٣٢] وَقِيلَ: سَأَلُوا تَعْجِيلَ نَصِيبِهِمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِنْ كَانَتْ مَوْجُودَةً أَنْ يَلْقَوْا [[في أ: "يسلموا".]] ذَاكَ فِي الدُّنْيَا. وَإِنَّمَا خَرَجَ هَذَا مِنْهُمْ مَخْرَجَ الِاسْتِبْعَادِ وَالتَّكْذِيبِ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: سَأَلُوا تَعْجِيلَ مَا يَسْتَحِقُّونَهُ مِنَ الْخَيْرِ أَوِ الشَّرِّ فِي الدُّنْيَا وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ جَيِّدٌ، وَعَلَيْهِ يَدُورُ كَلَامُ الضَّحَّاكِ وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَلَمَّا كَانَ هَذَا الْكَلَامُ مِنْهُمْ عَلَى وَجْهِ الِاسْتِهْزَاءِ وَالِاسْتِبْعَادِ قَالَ اللَّهِ تَعَالَى لِرَسُولِهِ ﷺ آمِرًا لَهُ بِالصَّبْرِ عَلَى أَذَاهُمْ وَمُبَشِّرًا لَهُ عَلَى صَبْرِهِ بِالْعَاقِبَةِ وَالنَّصْرِ [[في أ: "والنصرة".]] وَالظَّفَرِ.
وَثَمُودُ وَقَوْمُ لُوطٍۢ وَأَصْحَٰبُ لْـَٔيْكَةِ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلْأَحْزَابُ
And [the tribe of] Thamud and the people of Lot and the companions of the thicket. Those are the companies.
اور ثمود اور لوط کی قوم اور بن کے رہنے والے بھی۔ یہی وہ گروہ ہیں
و (نیز) قوم ثمود و لوط و اصحاب الأیکه [= قوم شعیب]، اینها احزابی بودند (که به تکذیب پیامبران برخاستند)!
Tafsir Ibn Kathir
Before them denied – the people of Nuh; and 'Ad; and Fir'awn the man of stakes (12)And Thamud, and the people of Lut, and the Dwellers of Al-Aykah; such were the Confederates (13)Not one of them but denied the Messengers; therefore My torment was justified (14)And these only wait for a single Sayhah there will be no pause or ending thereto (15)They say: "Our Lord! Hasten to us Qittana before the Day of Reckoning! (16)Be patient of what they say.. ()
A Reminder of Those Who were destroyed among the Previous Nations
Allah tells us about those past nations and the punishment and vengeance that struck them for their going against the Messengers and disbelieving in the Prophets, peace be upon them. We have already seen their stories in detail in numerous places (in the Qur'an). Allah says:
أُولَٰئِكَ الْأَحْزَابُ
(such were the Confederates.) meaning, 'they were greater and stronger than you, they had more wealth and children, but that did not protect them from the punishment of Allah at all when the command of your Lord came to pass.' Allah says:
إِنْ كُلٌّ إِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ
(Not one of them but denied the Messengers; therefore My torment was justified.)
The reason for their destruction was their disbelief in the Messengers, so let those who are addressed here beware and be afraid.'
وَمَا يَنْظُرُ هَٰؤُلَاءِ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ
(And these only wait for a single Sayhah there will be no pause or ending thereto.)
Malik narrated from Zayd bin Aslam; "There will none who can avert it," i.e., they will only wait for the Hour that it shall come upon them suddenly while they perceive not. But some of its portents have already come, i.e., it has drawn nigh. This Sayhah is the blast on the Trumpet when Allah will command Israfil to sound a long note, and there will be no one in the heaven or on earth but will be terrified, except those whom Allah spares.
وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ
(They say: "Our Lord! Hasten to us Qittana before the Day of Reckoning!")
Here Allah denounces the idolators for calling for the punishment to be hastened upon themselves. Qitt refers to a book or record, or it was said that it means one's allotted share or fortune. Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Ad-Dahhak, Al-Hasan and others said, "They asked for the punishment to be hastened." Qatadah added, this is like when they said:
اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
("O Allah! If this (the Qur'an) is indeed the truth from You, then rain down stones on us from the sky or bring on us a painful torment.")(8:32).
It was also said that they asked for their share of Paradise to be hastened, if it really existed, so that they might have their share in this world; they said this because they thought it unlikely to exist and they disbelieved in it. Ibn Jarir said, "They asked for whatever they deserved, good or bad, to be hastened for them in this world." What he said is good, and A-Dahhak and Isma'il bin Abi Khalid based their views on it. And Allah knows best. They said this by way of mockery and disbelief, so Allah commanded His Messenger ﷺ to be patient in the face of their insults, and He gave him the glad tidings that his patience would be rewarded with victory and success.
Tafsir Ibn Kathir
ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہوچکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور زور میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آچکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہوگی کہ جس کے کان میں پڑی بیہوش و بےجان ہوگیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ قط کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ کر نڈر ہو کر عذابوں کے طلب کرنے کا ذکر ہو رہا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا اللہ اگر یہ صحیح ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب آسمانی ہمیں پہنچا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنا جنت کا حصہ یہاں طلب کیا اور یہ جو کچھ کہا یہ بہ وجہ اسے جھوٹا سمجھنے اور محال جاننے کے تھا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ جس خیر و شر کے وہ دنیا میں مستحق تھے اسے انہوں نے جلد طلب کیا۔ یہی بات ٹھیک ہے ضحاک اور اسماعیل کی تفسیر کا ماحصل بھی یہی ہے۔ واللہ اعلم۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تکذیب اور ہنسی کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو صبر کی تعلیم دی اور برداشت کی تلقین کی۔ حضرت داؤد ؑ کی فراست۔ ذالاید سے مراد علمی اور عملی قوت والا ہے اور صرف قوۃ والے کے معنی بھی ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے (وَالسَّمَاۗءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ 47) 51۔ الذاریات :47) ، مجاہد فرماتے ہیں مراد اطاعت کی طاقت ہے۔ حضرت داؤد ؑ کو عبادت کی قدرت اور اسلام کی فقہ عطا فرمائی گی تھی۔ یہ مذکور ہے کہ آپ ہر رات تہائی رات تک تہجد میں کھڑے رہتے تھے اور ایک دن بعد ایک دن ہمیشہ روزے سے رہتے تھے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند حضرت داؤد کی رات کی نماز اور انہی کے روزے تھے۔ آپ آدھی رات سوتے اور تہائی رات قیام کرتے اور چھٹا حصہ رات کا پھر سو جاتے، اور ایک دن روزہ رکھتے ایک دن نہ رکھتے اور دشمنان دین سے جہاد کرنے میں پیٹھ نہ دکھاتے اور اپنے ہر حال میں اللہ کی طرف رغبت و رجوع رکھتے۔ پہاڑوں کو ان کے ساتھ مسخر کردیا تھا۔ وہ آپ کے ساتھ سورج کے ڈھلنے کے وقت اور دن کے آخری وقت تسبیح بیان کرتے۔ جیسے فرمان ہے (يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ ۚ وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ 10 ۙ) 34۔ سبأ :10) یعنی اللہ نے پہاڑوں کو ان کے ساتھ رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح پرندے بھی آپ کی آواز سن کر آپ کے ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرنے لگ جاتے اڑتے ہوئے پرند پاس سے گذرتے اور آپ توراۃ پڑھتے ہوتے تو آپ کے ساتھ وہ بھی تلاوت میں مشغول ہوجاتے اور اڑنا بھول جاتے بلکہ ٹھہر جاتے۔ حضور ﷺ نے فتح مکہ والے دن ضحیٰ کے وقت حضرت ام ہانی کے گھر میں آٹھ رکعت نماز ادا کی۔ ابن عباس فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ بھی وقت نماز ہے جیسے فرمان ہے (اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18)۔ عبداللہ بن حارث بنی نوفل کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ضحیٰ کی نماز نہیں پڑھتے تھے ایک دن میں انہیں حضرت ام ہانی ؓ کے ہاں لے گیا اور کہا کہ آپ ان سے وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے مجھ سے بیان فرمائی تھی۔ تو مائی صاحبہ نے فرمایا فتح مکہ والے دن میرے گھر میں میرے پاس اللہ کے رسول ﷺ آئے۔ پھر ایک برتن میں پانی بھروایا اور ایک کپڑا تان کر نہانے بیٹھ گئے پھر گھر کے ایک کونے میں پانی چھڑک کر آٹھ رکعت صلوۃ ضحیٰ کی ادا کیں، ان کا قیام رکوع سجدہ اور جلوس سب قریب قریب برابر تھے حضرت ابن عباس جب یہ سن کر وہاں سے نکلے تو فرمانے لگے پورے قرآن کو میں نے پڑھ لیا میں نہیں جانتا کہ ضحیٰ کی نماز کیا ہے آج مجھے معلوم ہوا کہ (يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18) والی آیت میں بھی اشراق سے مراد یہی ضحیٰ ہے۔ چناچہ اس کے بعد انہوں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا۔ جب حضرت داؤد اللہ کی پاکیزگی اور بزرگی بیان فرماتے تو پرندے بھی ہواؤں میں رک جاتے تھے اور حضرت داؤد کی ماتحتی میں ان کی تسبیح کا ساتھ دیتے تھے۔ اور اس کی سلطنت ہم نے مضبوط کردی اور بادشاہوں کو جن جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ہم نے اسے سب دے دیں۔ چار ہزار تو ان کی محافظ سپاہ تھی۔ اس قدر فوج تھی کہ ہر رات تینتیس ہزار فوجی پہرے پر چڑھتے تھے لیکن جو آج کی رات آتے پھر سال بھر تک ان کی باری نہ آتی۔ چالیس ہزار آدمی ہر وقت ان کی خدمت میں مسلح تیار رہتے۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے زمانے میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں میں ایک مقدمہ ہوا۔ ایک نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ دوسرے نے اس جرم سے انکار کیا حضرت داؤد ؑ نے مدعی سے دلیل طلب کی وہ کوئی گواہ پیش نہ کرسکا آپ نے فرمایا اچھا تمہیں کل فیصلہ سنایا جائے گا۔ رات کو حضرت داؤد کو خواب میں حکم ہوا کہ دعویدار کو قتل کردو۔ صبح آپ نے دونوں بلوایا اور حکم دیا کہ اس مدعی کو قتل کردیا جائے اس نے کہا اے اللہ کے نبی آپ میرے ہی قتل کا حکم دے رہے ہیں حالانکہ اس نے میری گائے چرالی ہے۔ آپ نے فرمایا یہ میرا حکم نہیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور ناممکن ہے کہ یہ ٹل جائے تو تیار ہوجا۔ تب اس نے کہا اے اللہ کے رسول میں اپنے دعوے میں تو سچا ہوں اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے قتل کا حکم میرے اس مقدمے کی وجہ سے نہیں کیا۔ اس کی وجہ اور ہی ہے اور اسے صرف میں ہی جانتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ آج میں نے اسے فریب سے قتل کردیا ہے جس کا کسی کو علم نہیں۔ پس اس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو قصاص کا حکم دیا ہے۔ چناچہ وہ قتل کردیا گیا۔ اب تو حضرت داؤد کی ہیبت ہر شخص کے دل میں بیٹھ گئی ہم نے اسے حکمت دی تھی یعنی فہم و عقل، زیرکی اور دانائی، عدل و فراست کتاب اللہ اور اس کی اتباع نبوت و رسالت وغیرہ اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کا صحیح طریقہ۔ یعنی گواہ لینا قسم کھلوانا، مدعی کے ذمہ بار ثبوت ڈالنا مدعی علیہ سے قسم لینا۔ یہی طریقہ فیصلوں کا انبیاء کا اور نیک لوگوں کا رہا اور یہی طریقہ اس امت میں رائج ہے۔ غرض حضرت داؤد معاملے کی تہ کو پہنچ جاتے تھے اور حق و باطل سچ جھوٹ میں صحیح اور کھرے کا امتیاز کرلیتے تھے۔ کلام بھی آپ کا صاف ہوتا تھا اور حکم بھی عدل پر مبنی ہوتا تھا۔ آپ ہی نے اما بعد کا کہنا ایجاد کیا ہے اور فصل الخطاب سے اس کی طرف بھی اشارہ ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ هَؤُلَاءِ الْقُرُونِ الْمَاضِيَةِ، وَمَا حَلَّ بِهِمْ مِنَ الْعَذَابِ وَالنَّكَالِ وَالنَّقَمَاتِ فِي مُخَالَفَةِ الرُّسُلِ وَتَكْذِيبِ الْأَنْبِيَاءِ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ قِصَصُهُمْ مَبْسُوطَةً فِي أَمَاكِنَ مُتَعَدِّدَةٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أُولَئِكَ الأحْزَابُ﴾ أَيْ: كَانُوا أَكْثَرَ مِنْكُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً وَأَكْثَرَ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا فَمَا دَافَعَ [[في ت، أ: "دفع"، وفي س: "لما دفع".]] ذَلِكَ عَنْهُمْ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ [[في أ: "الله".]] وَلِهَذَا قَالَ: ﴿إِنْ كُلٌّ إِلا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ﴾ فَجَعَلَ عِلَّةَ هَلَاكِهِمْ هُوَ تَكْذِيبُهُمْ بِالرُّسُلِ فَلْيَحْذَرِ الْمُخَاطَبُونَ مِنْ ذَلِكَ أَشَدَّ الْحَذَرِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا يَنْظُرُ هَؤُلاءِ إِلا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ﴾ [[في أ: "وما ينظرون" وهو خطأ.]] قَالَ مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: أَيْ لَيْسَ لَهَا مَثْنَوِيَّةٌ أَيْ: مَا يَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَنْ تَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا أَيْ: فَقَدِ اقْتَرَبَتْ وَدَنَتْ وَأَزِفَتْ وَهَذِهِ الصَّيْحَةُ هِيَ نَفْخَةُ الْفَزَعِ الَّتِي يَأْمُرُ اللَّهُ إِسْرَافِيلَ أَنْ يُطَوِّلَهَا، فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا فَزِعَ إِلَّا مَنِ اسْتَثْنَى [[في أ: "شاء".]] اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ﴾ هَذَا إِنْكَارٌ مِنَ اللَّهِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ فِي دُعَائِهِمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ بِتَعْجِيلِ الْعَذَابِ، فَإِنَّ الْقِطَّ هُوَ الْكِتَابُ وَقِيلَ: هُوَ الْحَظُّ وَالنَّصِيبُ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمُجَاهِدٌ وَالضَّحَّاكُ وَالْحَسَنُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ: سَأَلُوا تَعْجِيلَ الْعَذَابِ -زَادَ قَتَادَةُ كَمَا قَالُوا: ﴿اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ [الأنفال: ٣٢] وَقِيلَ: سَأَلُوا تَعْجِيلَ نَصِيبِهِمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِنْ كَانَتْ مَوْجُودَةً أَنْ يَلْقَوْا [[في أ: "يسلموا".]] ذَاكَ فِي الدُّنْيَا. وَإِنَّمَا خَرَجَ هَذَا مِنْهُمْ مَخْرَجَ الِاسْتِبْعَادِ وَالتَّكْذِيبِ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: سَأَلُوا تَعْجِيلَ مَا يَسْتَحِقُّونَهُ مِنَ الْخَيْرِ أَوِ الشَّرِّ فِي الدُّنْيَا وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ جَيِّدٌ، وَعَلَيْهِ يَدُورُ كَلَامُ الضَّحَّاكِ وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَلَمَّا كَانَ هَذَا الْكَلَامُ مِنْهُمْ عَلَى وَجْهِ الِاسْتِهْزَاءِ وَالِاسْتِبْعَادِ قَالَ اللَّهِ تَعَالَى لِرَسُولِهِ ﷺ آمِرًا لَهُ بِالصَّبْرِ عَلَى أَذَاهُمْ وَمُبَشِّرًا لَهُ عَلَى صَبْرِهِ بِالْعَاقِبَةِ وَالنَّصْرِ [[في أ: "والنصرة".]] وَالظَّفَرِ.
إِن كُلٌّ إِلَّا كَذَّبَ ٱلرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ
Each of them denied the messengers, so My penalty was justified.
(ان) سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو میرا عذاب (ان پر) آ واقع ہوا
هر یک (از این گروهها) رسولان را تکذیب کردند، و عذاب الهی درباره آنان تحقق یافت!
Tafsir Ibn Kathir
Before them denied – the people of Nuh; and 'Ad; and Fir'awn the man of stakes (12)And Thamud, and the people of Lut, and the Dwellers of Al-Aykah; such were the Confederates (13)Not one of them but denied the Messengers; therefore My torment was justified (14)And these only wait for a single Sayhah there will be no pause or ending thereto (15)They say: "Our Lord! Hasten to us Qittana before the Day of Reckoning! (16)Be patient of what they say.. ()
A Reminder of Those Who were destroyed among the Previous Nations
Allah tells us about those past nations and the punishment and vengeance that struck them for their going against the Messengers and disbelieving in the Prophets, peace be upon them. We have already seen their stories in detail in numerous places (in the Qur'an). Allah says:
أُولَٰئِكَ الْأَحْزَابُ
(such were the Confederates.) meaning, 'they were greater and stronger than you, they had more wealth and children, but that did not protect them from the punishment of Allah at all when the command of your Lord came to pass.' Allah says:
إِنْ كُلٌّ إِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ
(Not one of them but denied the Messengers; therefore My torment was justified.)
The reason for their destruction was their disbelief in the Messengers, so let those who are addressed here beware and be afraid.'
وَمَا يَنْظُرُ هَٰؤُلَاءِ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ
(And these only wait for a single Sayhah there will be no pause or ending thereto.)
Malik narrated from Zayd bin Aslam; "There will none who can avert it," i.e., they will only wait for the Hour that it shall come upon them suddenly while they perceive not. But some of its portents have already come, i.e., it has drawn nigh. This Sayhah is the blast on the Trumpet when Allah will command Israfil to sound a long note, and there will be no one in the heaven or on earth but will be terrified, except those whom Allah spares.
وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ
(They say: "Our Lord! Hasten to us Qittana before the Day of Reckoning!")
Here Allah denounces the idolators for calling for the punishment to be hastened upon themselves. Qitt refers to a book or record, or it was said that it means one's allotted share or fortune. Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Ad-Dahhak, Al-Hasan and others said, "They asked for the punishment to be hastened." Qatadah added, this is like when they said:
اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
("O Allah! If this (the Qur'an) is indeed the truth from You, then rain down stones on us from the sky or bring on us a painful torment.")(8:32).
It was also said that they asked for their share of Paradise to be hastened, if it really existed, so that they might have their share in this world; they said this because they thought it unlikely to exist and they disbelieved in it. Ibn Jarir said, "They asked for whatever they deserved, good or bad, to be hastened for them in this world." What he said is good, and A-Dahhak and Isma'il bin Abi Khalid based their views on it. And Allah knows best. They said this by way of mockery and disbelief, so Allah commanded His Messenger ﷺ to be patient in the face of their insults, and He gave him the glad tidings that his patience would be rewarded with victory and success.
Tafsir Ibn Kathir
ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہوچکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور زور میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آچکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہوگی کہ جس کے کان میں پڑی بیہوش و بےجان ہوگیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ قط کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ کر نڈر ہو کر عذابوں کے طلب کرنے کا ذکر ہو رہا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا اللہ اگر یہ صحیح ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب آسمانی ہمیں پہنچا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنا جنت کا حصہ یہاں طلب کیا اور یہ جو کچھ کہا یہ بہ وجہ اسے جھوٹا سمجھنے اور محال جاننے کے تھا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ جس خیر و شر کے وہ دنیا میں مستحق تھے اسے انہوں نے جلد طلب کیا۔ یہی بات ٹھیک ہے ضحاک اور اسماعیل کی تفسیر کا ماحصل بھی یہی ہے۔ واللہ اعلم۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تکذیب اور ہنسی کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو صبر کی تعلیم دی اور برداشت کی تلقین کی۔ حضرت داؤد ؑ کی فراست۔ ذالاید سے مراد علمی اور عملی قوت والا ہے اور صرف قوۃ والے کے معنی بھی ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے (وَالسَّمَاۗءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ 47) 51۔ الذاریات :47) ، مجاہد فرماتے ہیں مراد اطاعت کی طاقت ہے۔ حضرت داؤد ؑ کو عبادت کی قدرت اور اسلام کی فقہ عطا فرمائی گی تھی۔ یہ مذکور ہے کہ آپ ہر رات تہائی رات تک تہجد میں کھڑے رہتے تھے اور ایک دن بعد ایک دن ہمیشہ روزے سے رہتے تھے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند حضرت داؤد کی رات کی نماز اور انہی کے روزے تھے۔ آپ آدھی رات سوتے اور تہائی رات قیام کرتے اور چھٹا حصہ رات کا پھر سو جاتے، اور ایک دن روزہ رکھتے ایک دن نہ رکھتے اور دشمنان دین سے جہاد کرنے میں پیٹھ نہ دکھاتے اور اپنے ہر حال میں اللہ کی طرف رغبت و رجوع رکھتے۔ پہاڑوں کو ان کے ساتھ مسخر کردیا تھا۔ وہ آپ کے ساتھ سورج کے ڈھلنے کے وقت اور دن کے آخری وقت تسبیح بیان کرتے۔ جیسے فرمان ہے (يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ ۚ وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ 10 ۙ) 34۔ سبأ :10) یعنی اللہ نے پہاڑوں کو ان کے ساتھ رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح پرندے بھی آپ کی آواز سن کر آپ کے ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرنے لگ جاتے اڑتے ہوئے پرند پاس سے گذرتے اور آپ توراۃ پڑھتے ہوتے تو آپ کے ساتھ وہ بھی تلاوت میں مشغول ہوجاتے اور اڑنا بھول جاتے بلکہ ٹھہر جاتے۔ حضور ﷺ نے فتح مکہ والے دن ضحیٰ کے وقت حضرت ام ہانی کے گھر میں آٹھ رکعت نماز ادا کی۔ ابن عباس فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ بھی وقت نماز ہے جیسے فرمان ہے (اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18)۔ عبداللہ بن حارث بنی نوفل کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ضحیٰ کی نماز نہیں پڑھتے تھے ایک دن میں انہیں حضرت ام ہانی ؓ کے ہاں لے گیا اور کہا کہ آپ ان سے وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے مجھ سے بیان فرمائی تھی۔ تو مائی صاحبہ نے فرمایا فتح مکہ والے دن میرے گھر میں میرے پاس اللہ کے رسول ﷺ آئے۔ پھر ایک برتن میں پانی بھروایا اور ایک کپڑا تان کر نہانے بیٹھ گئے پھر گھر کے ایک کونے میں پانی چھڑک کر آٹھ رکعت صلوۃ ضحیٰ کی ادا کیں، ان کا قیام رکوع سجدہ اور جلوس سب قریب قریب برابر تھے حضرت ابن عباس جب یہ سن کر وہاں سے نکلے تو فرمانے لگے پورے قرآن کو میں نے پڑھ لیا میں نہیں جانتا کہ ضحیٰ کی نماز کیا ہے آج مجھے معلوم ہوا کہ (يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18) والی آیت میں بھی اشراق سے مراد یہی ضحیٰ ہے۔ چناچہ اس کے بعد انہوں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا۔ جب حضرت داؤد اللہ کی پاکیزگی اور بزرگی بیان فرماتے تو پرندے بھی ہواؤں میں رک جاتے تھے اور حضرت داؤد کی ماتحتی میں ان کی تسبیح کا ساتھ دیتے تھے۔ اور اس کی سلطنت ہم نے مضبوط کردی اور بادشاہوں کو جن جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ہم نے اسے سب دے دیں۔ چار ہزار تو ان کی محافظ سپاہ تھی۔ اس قدر فوج تھی کہ ہر رات تینتیس ہزار فوجی پہرے پر چڑھتے تھے لیکن جو آج کی رات آتے پھر سال بھر تک ان کی باری نہ آتی۔ چالیس ہزار آدمی ہر وقت ان کی خدمت میں مسلح تیار رہتے۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے زمانے میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں میں ایک مقدمہ ہوا۔ ایک نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ دوسرے نے اس جرم سے انکار کیا حضرت داؤد ؑ نے مدعی سے دلیل طلب کی وہ کوئی گواہ پیش نہ کرسکا آپ نے فرمایا اچھا تمہیں کل فیصلہ سنایا جائے گا۔ رات کو حضرت داؤد کو خواب میں حکم ہوا کہ دعویدار کو قتل کردو۔ صبح آپ نے دونوں بلوایا اور حکم دیا کہ اس مدعی کو قتل کردیا جائے اس نے کہا اے اللہ کے نبی آپ میرے ہی قتل کا حکم دے رہے ہیں حالانکہ اس نے میری گائے چرالی ہے۔ آپ نے فرمایا یہ میرا حکم نہیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور ناممکن ہے کہ یہ ٹل جائے تو تیار ہوجا۔ تب اس نے کہا اے اللہ کے رسول میں اپنے دعوے میں تو سچا ہوں اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے قتل کا حکم میرے اس مقدمے کی وجہ سے نہیں کیا۔ اس کی وجہ اور ہی ہے اور اسے صرف میں ہی جانتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ آج میں نے اسے فریب سے قتل کردیا ہے جس کا کسی کو علم نہیں۔ پس اس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو قصاص کا حکم دیا ہے۔ چناچہ وہ قتل کردیا گیا۔ اب تو حضرت داؤد کی ہیبت ہر شخص کے دل میں بیٹھ گئی ہم نے اسے حکمت دی تھی یعنی فہم و عقل، زیرکی اور دانائی، عدل و فراست کتاب اللہ اور اس کی اتباع نبوت و رسالت وغیرہ اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کا صحیح طریقہ۔ یعنی گواہ لینا قسم کھلوانا، مدعی کے ذمہ بار ثبوت ڈالنا مدعی علیہ سے قسم لینا۔ یہی طریقہ فیصلوں کا انبیاء کا اور نیک لوگوں کا رہا اور یہی طریقہ اس امت میں رائج ہے۔ غرض حضرت داؤد معاملے کی تہ کو پہنچ جاتے تھے اور حق و باطل سچ جھوٹ میں صحیح اور کھرے کا امتیاز کرلیتے تھے۔ کلام بھی آپ کا صاف ہوتا تھا اور حکم بھی عدل پر مبنی ہوتا تھا۔ آپ ہی نے اما بعد کا کہنا ایجاد کیا ہے اور فصل الخطاب سے اس کی طرف بھی اشارہ ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ هَؤُلَاءِ الْقُرُونِ الْمَاضِيَةِ، وَمَا حَلَّ بِهِمْ مِنَ الْعَذَابِ وَالنَّكَالِ وَالنَّقَمَاتِ فِي مُخَالَفَةِ الرُّسُلِ وَتَكْذِيبِ الْأَنْبِيَاءِ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ قِصَصُهُمْ مَبْسُوطَةً فِي أَمَاكِنَ مُتَعَدِّدَةٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أُولَئِكَ الأحْزَابُ﴾ أَيْ: كَانُوا أَكْثَرَ مِنْكُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً وَأَكْثَرَ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا فَمَا دَافَعَ [[في ت، أ: "دفع"، وفي س: "لما دفع".]] ذَلِكَ عَنْهُمْ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ [[في أ: "الله".]] وَلِهَذَا قَالَ: ﴿إِنْ كُلٌّ إِلا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ﴾ فَجَعَلَ عِلَّةَ هَلَاكِهِمْ هُوَ تَكْذِيبُهُمْ بِالرُّسُلِ فَلْيَحْذَرِ الْمُخَاطَبُونَ مِنْ ذَلِكَ أَشَدَّ الْحَذَرِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا يَنْظُرُ هَؤُلاءِ إِلا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ﴾ [[في أ: "وما ينظرون" وهو خطأ.]] قَالَ مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: أَيْ لَيْسَ لَهَا مَثْنَوِيَّةٌ أَيْ: مَا يَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَنْ تَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا أَيْ: فَقَدِ اقْتَرَبَتْ وَدَنَتْ وَأَزِفَتْ وَهَذِهِ الصَّيْحَةُ هِيَ نَفْخَةُ الْفَزَعِ الَّتِي يَأْمُرُ اللَّهُ إِسْرَافِيلَ أَنْ يُطَوِّلَهَا، فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا فَزِعَ إِلَّا مَنِ اسْتَثْنَى [[في أ: "شاء".]] اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ﴾ هَذَا إِنْكَارٌ مِنَ اللَّهِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ فِي دُعَائِهِمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ بِتَعْجِيلِ الْعَذَابِ، فَإِنَّ الْقِطَّ هُوَ الْكِتَابُ وَقِيلَ: هُوَ الْحَظُّ وَالنَّصِيبُ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمُجَاهِدٌ وَالضَّحَّاكُ وَالْحَسَنُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ: سَأَلُوا تَعْجِيلَ الْعَذَابِ -زَادَ قَتَادَةُ كَمَا قَالُوا: ﴿اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ [الأنفال: ٣٢] وَقِيلَ: سَأَلُوا تَعْجِيلَ نَصِيبِهِمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِنْ كَانَتْ مَوْجُودَةً أَنْ يَلْقَوْا [[في أ: "يسلموا".]] ذَاكَ فِي الدُّنْيَا. وَإِنَّمَا خَرَجَ هَذَا مِنْهُمْ مَخْرَجَ الِاسْتِبْعَادِ وَالتَّكْذِيبِ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: سَأَلُوا تَعْجِيلَ مَا يَسْتَحِقُّونَهُ مِنَ الْخَيْرِ أَوِ الشَّرِّ فِي الدُّنْيَا وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ جَيِّدٌ، وَعَلَيْهِ يَدُورُ كَلَامُ الضَّحَّاكِ وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَلَمَّا كَانَ هَذَا الْكَلَامُ مِنْهُمْ عَلَى وَجْهِ الِاسْتِهْزَاءِ وَالِاسْتِبْعَادِ قَالَ اللَّهِ تَعَالَى لِرَسُولِهِ ﷺ آمِرًا لَهُ بِالصَّبْرِ عَلَى أَذَاهُمْ وَمُبَشِّرًا لَهُ عَلَى صَبْرِهِ بِالْعَاقِبَةِ وَالنَّصْرِ [[في أ: "والنصرة".]] وَالظَّفَرِ.
وَمَا يَنظُرُ هَٰٓؤُلَآءِ إِلَّا صَيْحَةًۭ وَٰحِدَةًۭ مَّا لَهَا مِن فَوَاقٍۢ
And these [disbelievers] await not but one blast [of the Horn]; for it there will be no delay.
اور یہ لوگ تو صرف ایک زور کی آواز کا جس میں (شروع ہوئے پیچھے) کچھ وقفہ نہیں ہوگا، انتظار کرتے ہیں
اینها (با این اعمالشان) جز یک صیحه آسمانی را انتظار نمیکشند که هیچ مهلت و بازگشتی برای آن وجود ندارد (و همگی را نابود میسازد)!
Tafsir Ibn Kathir
Before them denied – the people of Nuh; and 'Ad; and Fir'awn the man of stakes (12)And Thamud, and the people of Lut, and the Dwellers of Al-Aykah; such were the Confederates (13)Not one of them but denied the Messengers; therefore My torment was justified (14)And these only wait for a single Sayhah there will be no pause or ending thereto (15)They say: "Our Lord! Hasten to us Qittana before the Day of Reckoning! (16)Be patient of what they say.. ()
A Reminder of Those Who were destroyed among the Previous Nations
Allah tells us about those past nations and the punishment and vengeance that struck them for their going against the Messengers and disbelieving in the Prophets, peace be upon them. We have already seen their stories in detail in numerous places (in the Qur'an). Allah says:
أُولَٰئِكَ الْأَحْزَابُ
(such were the Confederates.) meaning, 'they were greater and stronger than you, they had more wealth and children, but that did not protect them from the punishment of Allah at all when the command of your Lord came to pass.' Allah says:
إِنْ كُلٌّ إِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ
(Not one of them but denied the Messengers; therefore My torment was justified.)
The reason for their destruction was their disbelief in the Messengers, so let those who are addressed here beware and be afraid.'
وَمَا يَنْظُرُ هَٰؤُلَاءِ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ
(And these only wait for a single Sayhah there will be no pause or ending thereto.)
Malik narrated from Zayd bin Aslam; "There will none who can avert it," i.e., they will only wait for the Hour that it shall come upon them suddenly while they perceive not. But some of its portents have already come, i.e., it has drawn nigh. This Sayhah is the blast on the Trumpet when Allah will command Israfil to sound a long note, and there will be no one in the heaven or on earth but will be terrified, except those whom Allah spares.
وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ
(They say: "Our Lord! Hasten to us Qittana before the Day of Reckoning!")
Here Allah denounces the idolators for calling for the punishment to be hastened upon themselves. Qitt refers to a book or record, or it was said that it means one's allotted share or fortune. Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Ad-Dahhak, Al-Hasan and others said, "They asked for the punishment to be hastened." Qatadah added, this is like when they said:
اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
("O Allah! If this (the Qur'an) is indeed the truth from You, then rain down stones on us from the sky or bring on us a painful torment.")(8:32).
It was also said that they asked for their share of Paradise to be hastened, if it really existed, so that they might have their share in this world; they said this because they thought it unlikely to exist and they disbelieved in it. Ibn Jarir said, "They asked for whatever they deserved, good or bad, to be hastened for them in this world." What he said is good, and A-Dahhak and Isma'il bin Abi Khalid based their views on it. And Allah knows best. They said this by way of mockery and disbelief, so Allah commanded His Messenger ﷺ to be patient in the face of their insults, and He gave him the glad tidings that his patience would be rewarded with victory and success.
Tafsir Ibn Kathir
ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہوچکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور زور میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آچکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہوگی کہ جس کے کان میں پڑی بیہوش و بےجان ہوگیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ قط کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ کر نڈر ہو کر عذابوں کے طلب کرنے کا ذکر ہو رہا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا اللہ اگر یہ صحیح ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب آسمانی ہمیں پہنچا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنا جنت کا حصہ یہاں طلب کیا اور یہ جو کچھ کہا یہ بہ وجہ اسے جھوٹا سمجھنے اور محال جاننے کے تھا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ جس خیر و شر کے وہ دنیا میں مستحق تھے اسے انہوں نے جلد طلب کیا۔ یہی بات ٹھیک ہے ضحاک اور اسماعیل کی تفسیر کا ماحصل بھی یہی ہے۔ واللہ اعلم۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تکذیب اور ہنسی کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو صبر کی تعلیم دی اور برداشت کی تلقین کی۔ حضرت داؤد ؑ کی فراست۔ ذالاید سے مراد علمی اور عملی قوت والا ہے اور صرف قوۃ والے کے معنی بھی ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے (وَالسَّمَاۗءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ 47) 51۔ الذاریات :47) ، مجاہد فرماتے ہیں مراد اطاعت کی طاقت ہے۔ حضرت داؤد ؑ کو عبادت کی قدرت اور اسلام کی فقہ عطا فرمائی گی تھی۔ یہ مذکور ہے کہ آپ ہر رات تہائی رات تک تہجد میں کھڑے رہتے تھے اور ایک دن بعد ایک دن ہمیشہ روزے سے رہتے تھے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند حضرت داؤد کی رات کی نماز اور انہی کے روزے تھے۔ آپ آدھی رات سوتے اور تہائی رات قیام کرتے اور چھٹا حصہ رات کا پھر سو جاتے، اور ایک دن روزہ رکھتے ایک دن نہ رکھتے اور دشمنان دین سے جہاد کرنے میں پیٹھ نہ دکھاتے اور اپنے ہر حال میں اللہ کی طرف رغبت و رجوع رکھتے۔ پہاڑوں کو ان کے ساتھ مسخر کردیا تھا۔ وہ آپ کے ساتھ سورج کے ڈھلنے کے وقت اور دن کے آخری وقت تسبیح بیان کرتے۔ جیسے فرمان ہے (يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ ۚ وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ 10 ۙ) 34۔ سبأ :10) یعنی اللہ نے پہاڑوں کو ان کے ساتھ رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح پرندے بھی آپ کی آواز سن کر آپ کے ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرنے لگ جاتے اڑتے ہوئے پرند پاس سے گذرتے اور آپ توراۃ پڑھتے ہوتے تو آپ کے ساتھ وہ بھی تلاوت میں مشغول ہوجاتے اور اڑنا بھول جاتے بلکہ ٹھہر جاتے۔ حضور ﷺ نے فتح مکہ والے دن ضحیٰ کے وقت حضرت ام ہانی کے گھر میں آٹھ رکعت نماز ادا کی۔ ابن عباس فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ بھی وقت نماز ہے جیسے فرمان ہے (اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18)۔ عبداللہ بن حارث بنی نوفل کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ضحیٰ کی نماز نہیں پڑھتے تھے ایک دن میں انہیں حضرت ام ہانی ؓ کے ہاں لے گیا اور کہا کہ آپ ان سے وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے مجھ سے بیان فرمائی تھی۔ تو مائی صاحبہ نے فرمایا فتح مکہ والے دن میرے گھر میں میرے پاس اللہ کے رسول ﷺ آئے۔ پھر ایک برتن میں پانی بھروایا اور ایک کپڑا تان کر نہانے بیٹھ گئے پھر گھر کے ایک کونے میں پانی چھڑک کر آٹھ رکعت صلوۃ ضحیٰ کی ادا کیں، ان کا قیام رکوع سجدہ اور جلوس سب قریب قریب برابر تھے حضرت ابن عباس جب یہ سن کر وہاں سے نکلے تو فرمانے لگے پورے قرآن کو میں نے پڑھ لیا میں نہیں جانتا کہ ضحیٰ کی نماز کیا ہے آج مجھے معلوم ہوا کہ (يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18) والی آیت میں بھی اشراق سے مراد یہی ضحیٰ ہے۔ چناچہ اس کے بعد انہوں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا۔ جب حضرت داؤد اللہ کی پاکیزگی اور بزرگی بیان فرماتے تو پرندے بھی ہواؤں میں رک جاتے تھے اور حضرت داؤد کی ماتحتی میں ان کی تسبیح کا ساتھ دیتے تھے۔ اور اس کی سلطنت ہم نے مضبوط کردی اور بادشاہوں کو جن جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ہم نے اسے سب دے دیں۔ چار ہزار تو ان کی محافظ سپاہ تھی۔ اس قدر فوج تھی کہ ہر رات تینتیس ہزار فوجی پہرے پر چڑھتے تھے لیکن جو آج کی رات آتے پھر سال بھر تک ان کی باری نہ آتی۔ چالیس ہزار آدمی ہر وقت ان کی خدمت میں مسلح تیار رہتے۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے زمانے میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں میں ایک مقدمہ ہوا۔ ایک نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ دوسرے نے اس جرم سے انکار کیا حضرت داؤد ؑ نے مدعی سے دلیل طلب کی وہ کوئی گواہ پیش نہ کرسکا آپ نے فرمایا اچھا تمہیں کل فیصلہ سنایا جائے گا۔ رات کو حضرت داؤد کو خواب میں حکم ہوا کہ دعویدار کو قتل کردو۔ صبح آپ نے دونوں بلوایا اور حکم دیا کہ اس مدعی کو قتل کردیا جائے اس نے کہا اے اللہ کے نبی آپ میرے ہی قتل کا حکم دے رہے ہیں حالانکہ اس نے میری گائے چرالی ہے۔ آپ نے فرمایا یہ میرا حکم نہیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور ناممکن ہے کہ یہ ٹل جائے تو تیار ہوجا۔ تب اس نے کہا اے اللہ کے رسول میں اپنے دعوے میں تو سچا ہوں اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے قتل کا حکم میرے اس مقدمے کی وجہ سے نہیں کیا۔ اس کی وجہ اور ہی ہے اور اسے صرف میں ہی جانتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ آج میں نے اسے فریب سے قتل کردیا ہے جس کا کسی کو علم نہیں۔ پس اس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو قصاص کا حکم دیا ہے۔ چناچہ وہ قتل کردیا گیا۔ اب تو حضرت داؤد کی ہیبت ہر شخص کے دل میں بیٹھ گئی ہم نے اسے حکمت دی تھی یعنی فہم و عقل، زیرکی اور دانائی، عدل و فراست کتاب اللہ اور اس کی اتباع نبوت و رسالت وغیرہ اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کا صحیح طریقہ۔ یعنی گواہ لینا قسم کھلوانا، مدعی کے ذمہ بار ثبوت ڈالنا مدعی علیہ سے قسم لینا۔ یہی طریقہ فیصلوں کا انبیاء کا اور نیک لوگوں کا رہا اور یہی طریقہ اس امت میں رائج ہے۔ غرض حضرت داؤد معاملے کی تہ کو پہنچ جاتے تھے اور حق و باطل سچ جھوٹ میں صحیح اور کھرے کا امتیاز کرلیتے تھے۔ کلام بھی آپ کا صاف ہوتا تھا اور حکم بھی عدل پر مبنی ہوتا تھا۔ آپ ہی نے اما بعد کا کہنا ایجاد کیا ہے اور فصل الخطاب سے اس کی طرف بھی اشارہ ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ هَؤُلَاءِ الْقُرُونِ الْمَاضِيَةِ، وَمَا حَلَّ بِهِمْ مِنَ الْعَذَابِ وَالنَّكَالِ وَالنَّقَمَاتِ فِي مُخَالَفَةِ الرُّسُلِ وَتَكْذِيبِ الْأَنْبِيَاءِ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ قِصَصُهُمْ مَبْسُوطَةً فِي أَمَاكِنَ مُتَعَدِّدَةٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أُولَئِكَ الأحْزَابُ﴾ أَيْ: كَانُوا أَكْثَرَ مِنْكُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً وَأَكْثَرَ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا فَمَا دَافَعَ [[في ت، أ: "دفع"، وفي س: "لما دفع".]] ذَلِكَ عَنْهُمْ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ [[في أ: "الله".]] وَلِهَذَا قَالَ: ﴿إِنْ كُلٌّ إِلا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ﴾ فَجَعَلَ عِلَّةَ هَلَاكِهِمْ هُوَ تَكْذِيبُهُمْ بِالرُّسُلِ فَلْيَحْذَرِ الْمُخَاطَبُونَ مِنْ ذَلِكَ أَشَدَّ الْحَذَرِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا يَنْظُرُ هَؤُلاءِ إِلا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ﴾ [[في أ: "وما ينظرون" وهو خطأ.]] قَالَ مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: أَيْ لَيْسَ لَهَا مَثْنَوِيَّةٌ أَيْ: مَا يَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَنْ تَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا أَيْ: فَقَدِ اقْتَرَبَتْ وَدَنَتْ وَأَزِفَتْ وَهَذِهِ الصَّيْحَةُ هِيَ نَفْخَةُ الْفَزَعِ الَّتِي يَأْمُرُ اللَّهُ إِسْرَافِيلَ أَنْ يُطَوِّلَهَا، فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا فَزِعَ إِلَّا مَنِ اسْتَثْنَى [[في أ: "شاء".]] اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ﴾ هَذَا إِنْكَارٌ مِنَ اللَّهِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ فِي دُعَائِهِمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ بِتَعْجِيلِ الْعَذَابِ، فَإِنَّ الْقِطَّ هُوَ الْكِتَابُ وَقِيلَ: هُوَ الْحَظُّ وَالنَّصِيبُ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمُجَاهِدٌ وَالضَّحَّاكُ وَالْحَسَنُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ: سَأَلُوا تَعْجِيلَ الْعَذَابِ -زَادَ قَتَادَةُ كَمَا قَالُوا: ﴿اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ [الأنفال: ٣٢] وَقِيلَ: سَأَلُوا تَعْجِيلَ نَصِيبِهِمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِنْ كَانَتْ مَوْجُودَةً أَنْ يَلْقَوْا [[في أ: "يسلموا".]] ذَاكَ فِي الدُّنْيَا. وَإِنَّمَا خَرَجَ هَذَا مِنْهُمْ مَخْرَجَ الِاسْتِبْعَادِ وَالتَّكْذِيبِ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: سَأَلُوا تَعْجِيلَ مَا يَسْتَحِقُّونَهُ مِنَ الْخَيْرِ أَوِ الشَّرِّ فِي الدُّنْيَا وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ جَيِّدٌ، وَعَلَيْهِ يَدُورُ كَلَامُ الضَّحَّاكِ وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَلَمَّا كَانَ هَذَا الْكَلَامُ مِنْهُمْ عَلَى وَجْهِ الِاسْتِهْزَاءِ وَالِاسْتِبْعَادِ قَالَ اللَّهِ تَعَالَى لِرَسُولِهِ ﷺ آمِرًا لَهُ بِالصَّبْرِ عَلَى أَذَاهُمْ وَمُبَشِّرًا لَهُ عَلَى صَبْرِهِ بِالْعَاقِبَةِ وَالنَّصْرِ [[في أ: "والنصرة".]] وَالظَّفَرِ.
وَقَالُوا۟ رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ ٱلْحِسَابِ
And they say, "Our Lord, hasten for us our share [of the punishment] before the Day of Account"
اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ہمارا حصہ حساب کے دن سے پہلے ہی دے دے
آنها (از روی خیرهسری) گفتند: «پروردگارا! بهره ما را از عذاب هر چه زودتر قبل از روز حساب به ما ده!»
Tafsir Ibn Kathir
Before them denied – the people of Nuh; and 'Ad; and Fir'awn the man of stakes (12)And Thamud, and the people of Lut, and the Dwellers of Al-Aykah; such were the Confederates (13)Not one of them but denied the Messengers; therefore My torment was justified (14)And these only wait for a single Sayhah there will be no pause or ending thereto (15)They say: "Our Lord! Hasten to us Qittana before the Day of Reckoning! (16)Be patient of what they say.. ()
A Reminder of Those Who were destroyed among the Previous Nations
Allah tells us about those past nations and the punishment and vengeance that struck them for their going against the Messengers and disbelieving in the Prophets, peace be upon them. We have already seen their stories in detail in numerous places (in the Qur'an). Allah says:
أُولَٰئِكَ الْأَحْزَابُ
(such were the Confederates.) meaning, 'they were greater and stronger than you, they had more wealth and children, but that did not protect them from the punishment of Allah at all when the command of your Lord came to pass.' Allah says:
إِنْ كُلٌّ إِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ
(Not one of them but denied the Messengers; therefore My torment was justified.)
The reason for their destruction was their disbelief in the Messengers, so let those who are addressed here beware and be afraid.'
وَمَا يَنْظُرُ هَٰؤُلَاءِ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ
(And these only wait for a single Sayhah there will be no pause or ending thereto.)
Malik narrated from Zayd bin Aslam; "There will none who can avert it," i.e., they will only wait for the Hour that it shall come upon them suddenly while they perceive not. But some of its portents have already come, i.e., it has drawn nigh. This Sayhah is the blast on the Trumpet when Allah will command Israfil to sound a long note, and there will be no one in the heaven or on earth but will be terrified, except those whom Allah spares.
وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ
(They say: "Our Lord! Hasten to us Qittana before the Day of Reckoning!")
Here Allah denounces the idolators for calling for the punishment to be hastened upon themselves. Qitt refers to a book or record, or it was said that it means one's allotted share or fortune. Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Ad-Dahhak, Al-Hasan and others said, "They asked for the punishment to be hastened." Qatadah added, this is like when they said:
اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
("O Allah! If this (the Qur'an) is indeed the truth from You, then rain down stones on us from the sky or bring on us a painful torment.")(8:32).
It was also said that they asked for their share of Paradise to be hastened, if it really existed, so that they might have their share in this world; they said this because they thought it unlikely to exist and they disbelieved in it. Ibn Jarir said, "They asked for whatever they deserved, good or bad, to be hastened for them in this world." What he said is good, and A-Dahhak and Isma'il bin Abi Khalid based their views on it. And Allah knows best. They said this by way of mockery and disbelief, so Allah commanded His Messenger ﷺ to be patient in the face of their insults, and He gave him the glad tidings that his patience would be rewarded with victory and success.
Tafsir Ibn Kathir
ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہوچکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور زور میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آچکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہوگی کہ جس کے کان میں پڑی بیہوش و بےجان ہوگیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ قط کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ کر نڈر ہو کر عذابوں کے طلب کرنے کا ذکر ہو رہا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا اللہ اگر یہ صحیح ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب آسمانی ہمیں پہنچا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنا جنت کا حصہ یہاں طلب کیا اور یہ جو کچھ کہا یہ بہ وجہ اسے جھوٹا سمجھنے اور محال جاننے کے تھا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ جس خیر و شر کے وہ دنیا میں مستحق تھے اسے انہوں نے جلد طلب کیا۔ یہی بات ٹھیک ہے ضحاک اور اسماعیل کی تفسیر کا ماحصل بھی یہی ہے۔ واللہ اعلم۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تکذیب اور ہنسی کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو صبر کی تعلیم دی اور برداشت کی تلقین کی۔ حضرت داؤد ؑ کی فراست۔ ذالاید سے مراد علمی اور عملی قوت والا ہے اور صرف قوۃ والے کے معنی بھی ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے (وَالسَّمَاۗءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ 47) 51۔ الذاریات :47) ، مجاہد فرماتے ہیں مراد اطاعت کی طاقت ہے۔ حضرت داؤد ؑ کو عبادت کی قدرت اور اسلام کی فقہ عطا فرمائی گی تھی۔ یہ مذکور ہے کہ آپ ہر رات تہائی رات تک تہجد میں کھڑے رہتے تھے اور ایک دن بعد ایک دن ہمیشہ روزے سے رہتے تھے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند حضرت داؤد کی رات کی نماز اور انہی کے روزے تھے۔ آپ آدھی رات سوتے اور تہائی رات قیام کرتے اور چھٹا حصہ رات کا پھر سو جاتے، اور ایک دن روزہ رکھتے ایک دن نہ رکھتے اور دشمنان دین سے جہاد کرنے میں پیٹھ نہ دکھاتے اور اپنے ہر حال میں اللہ کی طرف رغبت و رجوع رکھتے۔ پہاڑوں کو ان کے ساتھ مسخر کردیا تھا۔ وہ آپ کے ساتھ سورج کے ڈھلنے کے وقت اور دن کے آخری وقت تسبیح بیان کرتے۔ جیسے فرمان ہے (يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ ۚ وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ 10 ۙ) 34۔ سبأ :10) یعنی اللہ نے پہاڑوں کو ان کے ساتھ رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح پرندے بھی آپ کی آواز سن کر آپ کے ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرنے لگ جاتے اڑتے ہوئے پرند پاس سے گذرتے اور آپ توراۃ پڑھتے ہوتے تو آپ کے ساتھ وہ بھی تلاوت میں مشغول ہوجاتے اور اڑنا بھول جاتے بلکہ ٹھہر جاتے۔ حضور ﷺ نے فتح مکہ والے دن ضحیٰ کے وقت حضرت ام ہانی کے گھر میں آٹھ رکعت نماز ادا کی۔ ابن عباس فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ بھی وقت نماز ہے جیسے فرمان ہے (اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18)۔ عبداللہ بن حارث بنی نوفل کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ضحیٰ کی نماز نہیں پڑھتے تھے ایک دن میں انہیں حضرت ام ہانی ؓ کے ہاں لے گیا اور کہا کہ آپ ان سے وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے مجھ سے بیان فرمائی تھی۔ تو مائی صاحبہ نے فرمایا فتح مکہ والے دن میرے گھر میں میرے پاس اللہ کے رسول ﷺ آئے۔ پھر ایک برتن میں پانی بھروایا اور ایک کپڑا تان کر نہانے بیٹھ گئے پھر گھر کے ایک کونے میں پانی چھڑک کر آٹھ رکعت صلوۃ ضحیٰ کی ادا کیں، ان کا قیام رکوع سجدہ اور جلوس سب قریب قریب برابر تھے حضرت ابن عباس جب یہ سن کر وہاں سے نکلے تو فرمانے لگے پورے قرآن کو میں نے پڑھ لیا میں نہیں جانتا کہ ضحیٰ کی نماز کیا ہے آج مجھے معلوم ہوا کہ (يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18) والی آیت میں بھی اشراق سے مراد یہی ضحیٰ ہے۔ چناچہ اس کے بعد انہوں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا۔ جب حضرت داؤد اللہ کی پاکیزگی اور بزرگی بیان فرماتے تو پرندے بھی ہواؤں میں رک جاتے تھے اور حضرت داؤد کی ماتحتی میں ان کی تسبیح کا ساتھ دیتے تھے۔ اور اس کی سلطنت ہم نے مضبوط کردی اور بادشاہوں کو جن جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ہم نے اسے سب دے دیں۔ چار ہزار تو ان کی محافظ سپاہ تھی۔ اس قدر فوج تھی کہ ہر رات تینتیس ہزار فوجی پہرے پر چڑھتے تھے لیکن جو آج کی رات آتے پھر سال بھر تک ان کی باری نہ آتی۔ چالیس ہزار آدمی ہر وقت ان کی خدمت میں مسلح تیار رہتے۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے زمانے میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں میں ایک مقدمہ ہوا۔ ایک نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ دوسرے نے اس جرم سے انکار کیا حضرت داؤد ؑ نے مدعی سے دلیل طلب کی وہ کوئی گواہ پیش نہ کرسکا آپ نے فرمایا اچھا تمہیں کل فیصلہ سنایا جائے گا۔ رات کو حضرت داؤد کو خواب میں حکم ہوا کہ دعویدار کو قتل کردو۔ صبح آپ نے دونوں بلوایا اور حکم دیا کہ اس مدعی کو قتل کردیا جائے اس نے کہا اے اللہ کے نبی آپ میرے ہی قتل کا حکم دے رہے ہیں حالانکہ اس نے میری گائے چرالی ہے۔ آپ نے فرمایا یہ میرا حکم نہیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور ناممکن ہے کہ یہ ٹل جائے تو تیار ہوجا۔ تب اس نے کہا اے اللہ کے رسول میں اپنے دعوے میں تو سچا ہوں اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے قتل کا حکم میرے اس مقدمے کی وجہ سے نہیں کیا۔ اس کی وجہ اور ہی ہے اور اسے صرف میں ہی جانتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ آج میں نے اسے فریب سے قتل کردیا ہے جس کا کسی کو علم نہیں۔ پس اس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو قصاص کا حکم دیا ہے۔ چناچہ وہ قتل کردیا گیا۔ اب تو حضرت داؤد کی ہیبت ہر شخص کے دل میں بیٹھ گئی ہم نے اسے حکمت دی تھی یعنی فہم و عقل، زیرکی اور دانائی، عدل و فراست کتاب اللہ اور اس کی اتباع نبوت و رسالت وغیرہ اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کا صحیح طریقہ۔ یعنی گواہ لینا قسم کھلوانا، مدعی کے ذمہ بار ثبوت ڈالنا مدعی علیہ سے قسم لینا۔ یہی طریقہ فیصلوں کا انبیاء کا اور نیک لوگوں کا رہا اور یہی طریقہ اس امت میں رائج ہے۔ غرض حضرت داؤد معاملے کی تہ کو پہنچ جاتے تھے اور حق و باطل سچ جھوٹ میں صحیح اور کھرے کا امتیاز کرلیتے تھے۔ کلام بھی آپ کا صاف ہوتا تھا اور حکم بھی عدل پر مبنی ہوتا تھا۔ آپ ہی نے اما بعد کا کہنا ایجاد کیا ہے اور فصل الخطاب سے اس کی طرف بھی اشارہ ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ هَؤُلَاءِ الْقُرُونِ الْمَاضِيَةِ، وَمَا حَلَّ بِهِمْ مِنَ الْعَذَابِ وَالنَّكَالِ وَالنَّقَمَاتِ فِي مُخَالَفَةِ الرُّسُلِ وَتَكْذِيبِ الْأَنْبِيَاءِ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ قِصَصُهُمْ مَبْسُوطَةً فِي أَمَاكِنَ مُتَعَدِّدَةٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أُولَئِكَ الأحْزَابُ﴾ أَيْ: كَانُوا أَكْثَرَ مِنْكُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً وَأَكْثَرَ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا فَمَا دَافَعَ [[في ت، أ: "دفع"، وفي س: "لما دفع".]] ذَلِكَ عَنْهُمْ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ [[في أ: "الله".]] وَلِهَذَا قَالَ: ﴿إِنْ كُلٌّ إِلا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ﴾ فَجَعَلَ عِلَّةَ هَلَاكِهِمْ هُوَ تَكْذِيبُهُمْ بِالرُّسُلِ فَلْيَحْذَرِ الْمُخَاطَبُونَ مِنْ ذَلِكَ أَشَدَّ الْحَذَرِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا يَنْظُرُ هَؤُلاءِ إِلا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ﴾ [[في أ: "وما ينظرون" وهو خطأ.]] قَالَ مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: أَيْ لَيْسَ لَهَا مَثْنَوِيَّةٌ أَيْ: مَا يَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَنْ تَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا أَيْ: فَقَدِ اقْتَرَبَتْ وَدَنَتْ وَأَزِفَتْ وَهَذِهِ الصَّيْحَةُ هِيَ نَفْخَةُ الْفَزَعِ الَّتِي يَأْمُرُ اللَّهُ إِسْرَافِيلَ أَنْ يُطَوِّلَهَا، فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا فَزِعَ إِلَّا مَنِ اسْتَثْنَى [[في أ: "شاء".]] اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ﴾ هَذَا إِنْكَارٌ مِنَ اللَّهِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ فِي دُعَائِهِمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ بِتَعْجِيلِ الْعَذَابِ، فَإِنَّ الْقِطَّ هُوَ الْكِتَابُ وَقِيلَ: هُوَ الْحَظُّ وَالنَّصِيبُ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمُجَاهِدٌ وَالضَّحَّاكُ وَالْحَسَنُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ: سَأَلُوا تَعْجِيلَ الْعَذَابِ -زَادَ قَتَادَةُ كَمَا قَالُوا: ﴿اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ [الأنفال: ٣٢] وَقِيلَ: سَأَلُوا تَعْجِيلَ نَصِيبِهِمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِنْ كَانَتْ مَوْجُودَةً أَنْ يَلْقَوْا [[في أ: "يسلموا".]] ذَاكَ فِي الدُّنْيَا. وَإِنَّمَا خَرَجَ هَذَا مِنْهُمْ مَخْرَجَ الِاسْتِبْعَادِ وَالتَّكْذِيبِ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: سَأَلُوا تَعْجِيلَ مَا يَسْتَحِقُّونَهُ مِنَ الْخَيْرِ أَوِ الشَّرِّ فِي الدُّنْيَا وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ جَيِّدٌ، وَعَلَيْهِ يَدُورُ كَلَامُ الضَّحَّاكِ وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَلَمَّا كَانَ هَذَا الْكَلَامُ مِنْهُمْ عَلَى وَجْهِ الِاسْتِهْزَاءِ وَالِاسْتِبْعَادِ قَالَ اللَّهِ تَعَالَى لِرَسُولِهِ ﷺ آمِرًا لَهُ بِالصَّبْرِ عَلَى أَذَاهُمْ وَمُبَشِّرًا لَهُ عَلَى صَبْرِهِ بِالْعَاقِبَةِ وَالنَّصْرِ [[في أ: "والنصرة".]] وَالظَّفَرِ.
ٱصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَٱذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُۥدَ ذَا ٱلْأَيْدِ ۖ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ
Be patient over what they say and remember Our servant, David, the possessor of strength; indeed, he was one who repeatedly turned back [to Allah].
(اے پیغمبر) یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو۔ اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو جو صاحب قوت تھے (اور) بےشک وہ رجوع کرنے والے تھے
در برابر آنچه میگویند شکیبا باش، و به خاطر بیاور بنده ما داوود صاحب قدرت را، که او بسیار توبهکننده بود!
Tafsir Ibn Kathir
..And remember Our slave Dawud, endued with Al-Ayd. Verily, he was ever oft-returning in all matters and in repentance (17)Verily, We made the mountains to glorify Our praises with him in the 'Ashi and Ishraq (18)And (so did) the birds assembled, all obedient to him (19)We made his kingdom strong and gave him Al-Hikmah and sound judgement in speech and decision (20)
Dawud, peace be upon him
Allah tells us that His servant and Messenger Dawud, peace be upon him, was endued with power. Al-Ayd means strength in knowledge and action. Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, As-Suddi and Ibn Zayd said, "Al-Ayd means strength."
Mujahid said, "Al-Ayd means strength in obedience to Allah." Qatadah said, "Dawud, peace be upon him, was given strength in worship and the proper understanding of Islam." He told us that he, peace be upon him, used to spend a third of the night in prayer, and he fasted for half a lifetime. This was reported in the Two Sahihs, where it is recorded that the Messenger of Allah ﷺ said:
أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللهِ تَعَالَى صَلَاةُ دَاوُدَ، وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ صِيَامُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَيَقُومُ ثُلُثَهُ، وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى، وَأَنَّهُ كَانَ أَوَّابًا
(The most beloved of prayer to Allah is the prayer of Dawud, and the most beloved of fasting to Allah is the fasting of Dawud. He used to sleep for half of the night, stand in prayer for a third of the night, then sleep for a sixth of the night, and he used to fast alternate days. He never fled from the battlefield, and he always turned to Allah.) which means that he turned to Allah with regard to all of his affairs.
إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ
(Verily, We made the mountains to glorify Our praises with him in the 'Ashi and Ishraq.) means, Allah caused the mountains to glorify His praises with him at sunrise and at the end of the day. This is like the Ayah:
يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ ۖ
(O you mountains. Glorify (Allah) with him! And you birds (also)!)(34:10).
The birds also used to glorify Allah's praises with him. If a bird flew by him and heard him chanting the Zabur, it would not go away; instead it would stay hovering in the air, glorifying Allah along with him. And the lofty mountains would respond to him and echo his glorification of Allah. Ibn Jarir recorded from 'Abdullah bin Al-Harith bin Nawfal that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, did not pray Ad-Duha. ['Abdullah said:] "So I took him to Umm Hani, may Allah be pleased with her, and said to her, 'Tell him what you told me.' She said, 'The Messenger of Allah ﷺ entered my house on the day of the conquest of Makkah. He called for water to be poured into a large bowl, then he called for a garment which he used as a screen between me and him, and he washed himself. Then he sprinkled water around the house and prayed eight Rak'ahs. This was Ad-Duha, and its standing, bowing, prostration and sitting were all equal in brevity.' Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, left, saying, 'I have read the Qur'an from cover to cover, and I never knew about Salat Ad-Duha until now!' Then he recited:
يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ
(glorify Our praises with him in the 'Ashi and Ishraq.) I used to say, "What is Salat Al-Ishraq, but now I know what it is."
وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً ۖ
(And (so did) the birds assembled,) meaning, hovering in the air.
كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ
(all obedient to him.) means, they obeyed him and followed him in glorifying Allah. Sa'id bin Jubayr, Qatadah and Malik said, narrating from Zayd bin Aslam and Ibn Zayd:
كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ
(all obedient to him.) means, "Following his commands."
وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ
(We made his kingdom strong) means, 'We gave him complete dominion with all that kings need.' Ibn Abi Najih reported that Mujahid said, "He was the strongest and most powerful of the people of this world."
وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ
(and gave him Al-Hikmah) Mujahid said, "This means understanding, reason and intelligence." Qatadah said, "The Book of Allah and following what is in it." As-Suddi said:
الْحِكْمَةَ
(Al-Hikmah) "Prophethood."
وَفَصْلَ الْخِطَابِ
(and sound judgement) Shurayh Al-Qadi and Ash-Sha'bi said, "Sound judgement is testimony and oaths." Qatadah said, "Two witnesses for the plaintiff or an oath on the part of the defendant is meaning of sound judgement." This is the sound judgement which the Prophets and Messengers judged and the believers and righteous accepted. This is the basis of this Ummah's judicial system until the Day of Resurrection. This was the view of Abu 'Abdur-Rahman As-Sulami. Mujahid and As-Suddi said, "It means passing the right judgement and understanding the case." Mujahid also said, "It is soundness in speech and in judgement, and this includes all of the above." This is what is meant, and this is the view favored by Ibn Jarir.
Tafsir Ibn Kathir
ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہوچکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور زور میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آچکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہوگی کہ جس کے کان میں پڑی بیہوش و بےجان ہوگیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ قط کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ کر نڈر ہو کر عذابوں کے طلب کرنے کا ذکر ہو رہا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا اللہ اگر یہ صحیح ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب آسمانی ہمیں پہنچا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنا جنت کا حصہ یہاں طلب کیا اور یہ جو کچھ کہا یہ بہ وجہ اسے جھوٹا سمجھنے اور محال جاننے کے تھا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ جس خیر و شر کے وہ دنیا میں مستحق تھے اسے انہوں نے جلد طلب کیا۔ یہی بات ٹھیک ہے ضحاک اور اسماعیل کی تفسیر کا ماحصل بھی یہی ہے۔ واللہ اعلم۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تکذیب اور ہنسی کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو صبر کی تعلیم دی اور برداشت کی تلقین کی۔ حضرت داؤد ؑ کی فراست۔ ذالاید سے مراد علمی اور عملی قوت والا ہے اور صرف قوۃ والے کے معنی بھی ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے (وَالسَّمَاۗءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ 47) 51۔ الذاریات :47) ، مجاہد فرماتے ہیں مراد اطاعت کی طاقت ہے۔ حضرت داؤد ؑ کو عبادت کی قدرت اور اسلام کی فقہ عطا فرمائی گی تھی۔ یہ مذکور ہے کہ آپ ہر رات تہائی رات تک تہجد میں کھڑے رہتے تھے اور ایک دن بعد ایک دن ہمیشہ روزے سے رہتے تھے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند حضرت داؤد کی رات کی نماز اور انہی کے روزے تھے۔ آپ آدھی رات سوتے اور تہائی رات قیام کرتے اور چھٹا حصہ رات کا پھر سو جاتے، اور ایک دن روزہ رکھتے ایک دن نہ رکھتے اور دشمنان دین سے جہاد کرنے میں پیٹھ نہ دکھاتے اور اپنے ہر حال میں اللہ کی طرف رغبت و رجوع رکھتے۔ پہاڑوں کو ان کے ساتھ مسخر کردیا تھا۔ وہ آپ کے ساتھ سورج کے ڈھلنے کے وقت اور دن کے آخری وقت تسبیح بیان کرتے۔ جیسے فرمان ہے (يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ ۚ وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ 10 ۙ) 34۔ سبأ :10) یعنی اللہ نے پہاڑوں کو ان کے ساتھ رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح پرندے بھی آپ کی آواز سن کر آپ کے ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرنے لگ جاتے اڑتے ہوئے پرند پاس سے گذرتے اور آپ توراۃ پڑھتے ہوتے تو آپ کے ساتھ وہ بھی تلاوت میں مشغول ہوجاتے اور اڑنا بھول جاتے بلکہ ٹھہر جاتے۔ حضور ﷺ نے فتح مکہ والے دن ضحیٰ کے وقت حضرت ام ہانی کے گھر میں آٹھ رکعت نماز ادا کی۔ ابن عباس فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ بھی وقت نماز ہے جیسے فرمان ہے (اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18)۔ عبداللہ بن حارث بنی نوفل کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ضحیٰ کی نماز نہیں پڑھتے تھے ایک دن میں انہیں حضرت ام ہانی ؓ کے ہاں لے گیا اور کہا کہ آپ ان سے وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے مجھ سے بیان فرمائی تھی۔ تو مائی صاحبہ نے فرمایا فتح مکہ والے دن میرے گھر میں میرے پاس اللہ کے رسول ﷺ آئے۔ پھر ایک برتن میں پانی بھروایا اور ایک کپڑا تان کر نہانے بیٹھ گئے پھر گھر کے ایک کونے میں پانی چھڑک کر آٹھ رکعت صلوۃ ضحیٰ کی ادا کیں، ان کا قیام رکوع سجدہ اور جلوس سب قریب قریب برابر تھے حضرت ابن عباس جب یہ سن کر وہاں سے نکلے تو فرمانے لگے پورے قرآن کو میں نے پڑھ لیا میں نہیں جانتا کہ ضحیٰ کی نماز کیا ہے آج مجھے معلوم ہوا کہ (يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18) والی آیت میں بھی اشراق سے مراد یہی ضحیٰ ہے۔ چناچہ اس کے بعد انہوں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا۔ جب حضرت داؤد اللہ کی پاکیزگی اور بزرگی بیان فرماتے تو پرندے بھی ہواؤں میں رک جاتے تھے اور حضرت داؤد کی ماتحتی میں ان کی تسبیح کا ساتھ دیتے تھے۔ اور اس کی سلطنت ہم نے مضبوط کردی اور بادشاہوں کو جن جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ہم نے اسے سب دے دیں۔ چار ہزار تو ان کی محافظ سپاہ تھی۔ اس قدر فوج تھی کہ ہر رات تینتیس ہزار فوجی پہرے پر چڑھتے تھے لیکن جو آج کی رات آتے پھر سال بھر تک ان کی باری نہ آتی۔ چالیس ہزار آدمی ہر وقت ان کی خدمت میں مسلح تیار رہتے۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے زمانے میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں میں ایک مقدمہ ہوا۔ ایک نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ دوسرے نے اس جرم سے انکار کیا حضرت داؤد ؑ نے مدعی سے دلیل طلب کی وہ کوئی گواہ پیش نہ کرسکا آپ نے فرمایا اچھا تمہیں کل فیصلہ سنایا جائے گا۔ رات کو حضرت داؤد کو خواب میں حکم ہوا کہ دعویدار کو قتل کردو۔ صبح آپ نے دونوں بلوایا اور حکم دیا کہ اس مدعی کو قتل کردیا جائے اس نے کہا اے اللہ کے نبی آپ میرے ہی قتل کا حکم دے رہے ہیں حالانکہ اس نے میری گائے چرالی ہے۔ آپ نے فرمایا یہ میرا حکم نہیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور ناممکن ہے کہ یہ ٹل جائے تو تیار ہوجا۔ تب اس نے کہا اے اللہ کے رسول میں اپنے دعوے میں تو سچا ہوں اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے قتل کا حکم میرے اس مقدمے کی وجہ سے نہیں کیا۔ اس کی وجہ اور ہی ہے اور اسے صرف میں ہی جانتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ آج میں نے اسے فریب سے قتل کردیا ہے جس کا کسی کو علم نہیں۔ پس اس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو قصاص کا حکم دیا ہے۔ چناچہ وہ قتل کردیا گیا۔ اب تو حضرت داؤد کی ہیبت ہر شخص کے دل میں بیٹھ گئی ہم نے اسے حکمت دی تھی یعنی فہم و عقل، زیرکی اور دانائی، عدل و فراست کتاب اللہ اور اس کی اتباع نبوت و رسالت وغیرہ اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کا صحیح طریقہ۔ یعنی گواہ لینا قسم کھلوانا، مدعی کے ذمہ بار ثبوت ڈالنا مدعی علیہ سے قسم لینا۔ یہی طریقہ فیصلوں کا انبیاء کا اور نیک لوگوں کا رہا اور یہی طریقہ اس امت میں رائج ہے۔ غرض حضرت داؤد معاملے کی تہ کو پہنچ جاتے تھے اور حق و باطل سچ جھوٹ میں صحیح اور کھرے کا امتیاز کرلیتے تھے۔ کلام بھی آپ کا صاف ہوتا تھا اور حکم بھی عدل پر مبنی ہوتا تھا۔ آپ ہی نے اما بعد کا کہنا ایجاد کیا ہے اور فصل الخطاب سے اس کی طرف بھی اشارہ ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَذْكُرُ تَعَالَى عَنْ عَبْدِهِ وَرَسُولِهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَنَّهُ كَانَ ذَا أَيْدٍ وَالْأَيْدُ: الْقُوَّةُ فِي الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ.
قَالَ [ابْنُ عَبَّاسٍ] [[زيادة من ت، س.]] وَابْنُ زَيْدٍ وَالسُّدِّيُّ: الْأَيْدُ: الْقُوَّةُ وَقَرَأَ ابْنُ زَيْدٍ: ﴿وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ﴾ [الذَّارِيَاتِ: ٤٧]
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: الْأَيْدُ: الْقُوَّةُ فِي الطَّاعَةِ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: أُعْطِيَ دَاوُدُ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ت، س، أ.]] قُوَّةً فِي الْعِبَادَةِ وَفِقْهًا فِي الْإِسْلَامِ، وَقَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ وَيَصُومُ نِصْفَ الدَّهْرِ.
وَهَذَا ثَابِتٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى" [[صحيح البخاري برقم (١١٣١) وصحيح مسلم برقم (١١٥٩) .]] وَإِنَّهُ كَانَ أَوَّابًا، وَهُوَ الرَّجَّاعُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي جَمِيعِ أُمُورِهِ وَشُئُونِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالإشْرَاقِ﴾ أَيْ: إِنَّهُ تَعَالَى سَخَّرَ الْجِبَالَ تُسَبِّحُ مَعَهُ عِنْدَ إِشْرَاقِ الشَّمْسِ وَآخِرِ النَّهَارِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ﴾ [سَبَأٍ: ١٠] وَكَذَلِكَ كَانَتِ الطَّيْرُ تُسَبِّحُ بِتَسْبِيحِهِ وَتُرَجِّعُ بِتَرْجِيعِهِ إِذَا مَرَّ بِهِ الطَّيْرُ وَهُوَ سَابِحٌ فِي الْهَوَاءِ فَسَمِعَهُ وَهُوَ يَتَرَنَّمُ بِقِرَاءَةِ الزَّبُورِ لَا تَسْتَطِيعُ الذَّهَابَ بَلْ تَقِفُ فِي الْهَوَاءِ وَتُسَبِّحُ مَعَهُ وَتُجِيبُهُ الْجِبَالُ الشَّامِخَاتُ تُرَجِّعُ مَعَهُ وَتُسَبِّحُ تَبَعًا لَهُ.
قَالَ [[في ت: "وروى".]] ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَر عَنْ عبد الكريم عن مُوسَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ [[في ت: "بإسناده".]] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[في أ: "ابن عباس رضي الله عنهما".]] أَنَّهُ بَلَغَهُ: أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ ذَكَرَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يوم فَتْحِ مَكَّةَ صَلَّى الضُّحَى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، قَالَ [[في ت: "فقال".]] ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ ظَنَنْتُ أَنَّ لِهَذِهِ السَّاعَةِ صَلَاةً يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالإشْرَاقِ﴾ [[تفسير الطبري (٢٣/٨٧) .]]
ثُمَّ رَوَاهُ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ مَوْلَاهُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ [[في أ: "عن".]] نَوْفَلٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ لَا يُصَلِّي الضُّحَى قَالَ: فَأَدْخَلْتُهُ عَلَى أُمِّ هَانِئٍ فَقُلْتُ: أَخْبِرِي هَذَا مَا أَخْبَرْتِنِي بِهِ. فَقَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ الْفَتْحِ فِي بَيْتِي ثُمَّ أَمَرَ بِمَاءٍ صُبَّ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ أَمَرَ بِثَوْبٍ فَأَخَذَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ رَشَّ نَاحِيَةَ الْبَيْتِ فَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، وَذَلِكَ مِنَ الضُّحَى قِيَامُهُنَّ وَرُكُوعُهُنَّ وَسُجُودُهُنَّ وَجُلُوسُهُنَّ سَوَاءٌ قَرِيبٌ بِعَضُهُنَّ مِنْ بَعْضٍ فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ يَقُولُ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ مَا عَرَفْتُ صَلَاةَ الضُّحَى إِلَّا الْآنَ: ﴿يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالإشْرَاقِ﴾ وَكُنْتُ أَقُولُ: أَيْنَ صَلَاةُ الْإِشْرَاقِ وَكَانَ بَعْدُ يَقُولُ: صَلَاةُ الْإِشْرَاقِ. [[تفسير الطبري (٢٣/٨٧) .]]
وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً﴾ أَيْ: مَحْبُوسَةً فِي الْهَوَاءِ، ﴿كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ﴾ أَيْ: مُطِيعٌ يُسَبِّحُ تَبَعًا لَهُ.
قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَقَتَادَةُ وَمَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَابْنِ زَيْدٍ: ﴿كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ﴾ أَيْ: مُطِيعٌ.
[وَقَوْلُهُ] [[زيادة من ت، س، أ.]] ﴿وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ﴾ أَيْ: جَعَلْنَا لَهُ مُلْكًا كَامِلًا مِنْ جَمِيعِ مَا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ الْمُلُوكُ.
قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ: كَانَ أَشَدَّ أَهْلِ الدُّنْيَا سُلْطَانًا.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: كَانَ يَحْرُسُهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ أَرْبَعَةُ آلَافٍ.
وَقَالَ بَعْضُ السَّلَفِ: بَلَغَنِي أَنَّهُ كَانَ حَرَسُه فِي كُلِّ لَيْلَةٍ ثَلَاثَةً وَثَلَاثِينَ أَلْفًا لَا تَدُورُ عَلَيْهِمُ النَّوْبَةُ إِلَى مِثْلِهَا مِنَ الْعَامِ الْقَابِلِ.
وَقَالَ غَيْرُهُ: أَرْبَعُونَ أَلْفًا مُشْتَمِلُونَ [[في ت، س، أ: "مشتكون".]] بِالسِّلَاحِ. وَقَدْ ذَكَرَ [[في ت: "وروى".]] ابْنُ جَرِيرٍ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ رِوَايَةِ عِلْباء بْنُ أَحْمَرَ عَنْ عِكْرِمة عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ نَفَرَيْنِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ اسْتَعْدَى أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّهُ اغْتَصَبَهُ بَقَرًا فَأَنْكَرَ الْآخَرُ، وَلَمْ يَكُنْ [[في س: "تكن".]] لِلْمُدَّعِي بَيِّنَةٌ فَأَرْجَأَ أَمْرَهُمَا فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ أُمِرَ دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي الْمَنَامِ بِقَتْلِ الْمُدَّعِي فَلَمَّا كَانَ النَّهَارُ طَلَبَهُمَا وَأَمَرَ بِقَتْلِ الْمُدَّعِي فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ عَلَامَ تَقْتُلُنِي وَقَدِ اغْتَصَبَنِي هَذَا بَقَرِي؟ فَقَالَ: إِنِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي بِقَتْلِكَ فَأَنَا قَاتِلُكَ لَا مَحَالَةَ. فَقَالَ: وَاللَّهِ يا نبي اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْكَ بِقَتْلِي لِأَجْلِ هَذَا الَّذِي ادَّعَيْتُ عَلَيْهِ، وَإِنِّي لَصَادِقٌ فِيمَا ادَّعَيْتُ وَلَكِنِّي كُنْتُ قَدِ اغْتَلْتُ أَبَاهُ وَقَتَلْتُهُ، وَلَمْ يَشْعُرْ بِذَلِكَ أَحَدٌ فَأَمَرَ بِهِ دَاوُدُ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من س، ت، أ.]] فَقُتِلَ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَاشْتَدَّتْ هَيْبَتُهُ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ وَهُوَ الَّذِي يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ: يَعْنِي: الْفَهْمَ وَالْعَقْلَ وَالْفِطْنَةَ. وَقَالَ مَرَّةً: الْحِكْمَةَ وَالْعَدْلَ. وَقَالَ مَرَّةً: الصَّوَابَ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: كِتَابَ اللَّهِ وَاتِّبَاعَ مَا فِيهِ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: ﴿الْحِكْمَةَ﴾ النُّبُوَّةُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَفَصْلَ الْخِطَابِ﴾ قَالَ شُرَيْحٌ الْقَاضِي وَالشَّعْبِيُّ فَصْلُ الْخِطَابِ: الشُّهُودُ وَالْأَيْمَانُ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: شَاهِدَانِ عَلَى الْمُدَّعِي أَوْ يَمِينُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ هُوَ فَصْلُ الْخِطَابِ الَّذِي فَصَلَ بِهِ الْأَنْبِيَاءُ وَالرُّسُلُ -أَوْ قَالَ: الْمُؤْمِنُونَ وَالصَّالِحُونَ-وَهُوَ قَضَاءُ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَكَذَا قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ وَالسُّدِّيُّ: هُوَ إِصَابَةُ الْقَضَاءِ وَفَهْمِهِ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ أَيْضًا: هُوَ الْفَصْلُ فِي الْكَلَامِ وَفِي الْحُكْمِ [[في ت: "في القضاء والحكم".]]
وَهَذَا يَشْمَلُ هَذَا كُلَّهُ وَهُوَ الْمُرَادُ وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ [[في ت: "ورواه".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ النُّمَيْرِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ قَالَ: "أَمَّا بَعْدُ" دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ فَصْلُ الْخِطَابِ.
وَكَذَا قَالَ الشَّعْبِيُّ: فَصْلُ الْخِطَابِ: "أَمَّا بَعْدُ".
إِنَّا سَخَّرْنَا ٱلْجِبَالَ مَعَهُۥ يُسَبِّحْنَ بِٱلْعَشِىِّ وَٱلْإِشْرَاقِ
Indeed, We subjected the mountains [to praise] with him, exalting [Allah] in the [late] afternoon and [after] sunrise.
ہم نے پہاڑوں کو ان کے زیر فرمان کردیا تھا کہ صبح وشام ان کے ساتھ (خدائے) پاک (کا) ذکر کرتے تھے
ما کوهها را مسخّر او ساختیم که هر شامگاه و صبحگاه با او تسبیح میگفتند!
Tafsir Ibn Kathir
..And remember Our slave Dawud, endued with Al-Ayd. Verily, he was ever oft-returning in all matters and in repentance (17)Verily, We made the mountains to glorify Our praises with him in the 'Ashi and Ishraq (18)And (so did) the birds assembled, all obedient to him (19)We made his kingdom strong and gave him Al-Hikmah and sound judgement in speech and decision (20)
Dawud, peace be upon him
Allah tells us that His servant and Messenger Dawud, peace be upon him, was endued with power. Al-Ayd means strength in knowledge and action. Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, As-Suddi and Ibn Zayd said, "Al-Ayd means strength."
Mujahid said, "Al-Ayd means strength in obedience to Allah." Qatadah said, "Dawud, peace be upon him, was given strength in worship and the proper understanding of Islam." He told us that he, peace be upon him, used to spend a third of the night in prayer, and he fasted for half a lifetime. This was reported in the Two Sahihs, where it is recorded that the Messenger of Allah ﷺ said:
أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللهِ تَعَالَى صَلَاةُ دَاوُدَ، وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ صِيَامُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَيَقُومُ ثُلُثَهُ، وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى، وَأَنَّهُ كَانَ أَوَّابًا
(The most beloved of prayer to Allah is the prayer of Dawud, and the most beloved of fasting to Allah is the fasting of Dawud. He used to sleep for half of the night, stand in prayer for a third of the night, then sleep for a sixth of the night, and he used to fast alternate days. He never fled from the battlefield, and he always turned to Allah.) which means that he turned to Allah with regard to all of his affairs.
إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ
(Verily, We made the mountains to glorify Our praises with him in the 'Ashi and Ishraq.) means, Allah caused the mountains to glorify His praises with him at sunrise and at the end of the day. This is like the Ayah:
يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ ۖ
(O you mountains. Glorify (Allah) with him! And you birds (also)!)(34:10).
The birds also used to glorify Allah's praises with him. If a bird flew by him and heard him chanting the Zabur, it would not go away; instead it would stay hovering in the air, glorifying Allah along with him. And the lofty mountains would respond to him and echo his glorification of Allah. Ibn Jarir recorded from 'Abdullah bin Al-Harith bin Nawfal that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, did not pray Ad-Duha. ['Abdullah said:] "So I took him to Umm Hani, may Allah be pleased with her, and said to her, 'Tell him what you told me.' She said, 'The Messenger of Allah ﷺ entered my house on the day of the conquest of Makkah. He called for water to be poured into a large bowl, then he called for a garment which he used as a screen between me and him, and he washed himself. Then he sprinkled water around the house and prayed eight Rak'ahs. This was Ad-Duha, and its standing, bowing, prostration and sitting were all equal in brevity.' Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, left, saying, 'I have read the Qur'an from cover to cover, and I never knew about Salat Ad-Duha until now!' Then he recited:
يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ
(glorify Our praises with him in the 'Ashi and Ishraq.) I used to say, "What is Salat Al-Ishraq, but now I know what it is."
وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً ۖ
(And (so did) the birds assembled,) meaning, hovering in the air.
كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ
(all obedient to him.) means, they obeyed him and followed him in glorifying Allah. Sa'id bin Jubayr, Qatadah and Malik said, narrating from Zayd bin Aslam and Ibn Zayd:
كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ
(all obedient to him.) means, "Following his commands."
وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ
(We made his kingdom strong) means, 'We gave him complete dominion with all that kings need.' Ibn Abi Najih reported that Mujahid said, "He was the strongest and most powerful of the people of this world."
وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ
(and gave him Al-Hikmah) Mujahid said, "This means understanding, reason and intelligence." Qatadah said, "The Book of Allah and following what is in it." As-Suddi said:
الْحِكْمَةَ
(Al-Hikmah) "Prophethood."
وَفَصْلَ الْخِطَابِ
(and sound judgement) Shurayh Al-Qadi and Ash-Sha'bi said, "Sound judgement is testimony and oaths." Qatadah said, "Two witnesses for the plaintiff or an oath on the part of the defendant is meaning of sound judgement." This is the sound judgement which the Prophets and Messengers judged and the believers and righteous accepted. This is the basis of this Ummah's judicial system until the Day of Resurrection. This was the view of Abu 'Abdur-Rahman As-Sulami. Mujahid and As-Suddi said, "It means passing the right judgement and understanding the case." Mujahid also said, "It is soundness in speech and in judgement, and this includes all of the above." This is what is meant, and this is the view favored by Ibn Jarir.
Tafsir Ibn Kathir
ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہوچکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور زور میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آچکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہوگی کہ جس کے کان میں پڑی بیہوش و بےجان ہوگیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ قط کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ کر نڈر ہو کر عذابوں کے طلب کرنے کا ذکر ہو رہا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا اللہ اگر یہ صحیح ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب آسمانی ہمیں پہنچا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنا جنت کا حصہ یہاں طلب کیا اور یہ جو کچھ کہا یہ بہ وجہ اسے جھوٹا سمجھنے اور محال جاننے کے تھا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ جس خیر و شر کے وہ دنیا میں مستحق تھے اسے انہوں نے جلد طلب کیا۔ یہی بات ٹھیک ہے ضحاک اور اسماعیل کی تفسیر کا ماحصل بھی یہی ہے۔ واللہ اعلم۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تکذیب اور ہنسی کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو صبر کی تعلیم دی اور برداشت کی تلقین کی۔ حضرت داؤد ؑ کی فراست۔ ذالاید سے مراد علمی اور عملی قوت والا ہے اور صرف قوۃ والے کے معنی بھی ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے (وَالسَّمَاۗءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ 47) 51۔ الذاریات :47) ، مجاہد فرماتے ہیں مراد اطاعت کی طاقت ہے۔ حضرت داؤد ؑ کو عبادت کی قدرت اور اسلام کی فقہ عطا فرمائی گی تھی۔ یہ مذکور ہے کہ آپ ہر رات تہائی رات تک تہجد میں کھڑے رہتے تھے اور ایک دن بعد ایک دن ہمیشہ روزے سے رہتے تھے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند حضرت داؤد کی رات کی نماز اور انہی کے روزے تھے۔ آپ آدھی رات سوتے اور تہائی رات قیام کرتے اور چھٹا حصہ رات کا پھر سو جاتے، اور ایک دن روزہ رکھتے ایک دن نہ رکھتے اور دشمنان دین سے جہاد کرنے میں پیٹھ نہ دکھاتے اور اپنے ہر حال میں اللہ کی طرف رغبت و رجوع رکھتے۔ پہاڑوں کو ان کے ساتھ مسخر کردیا تھا۔ وہ آپ کے ساتھ سورج کے ڈھلنے کے وقت اور دن کے آخری وقت تسبیح بیان کرتے۔ جیسے فرمان ہے (يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ ۚ وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ 10 ۙ) 34۔ سبأ :10) یعنی اللہ نے پہاڑوں کو ان کے ساتھ رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح پرندے بھی آپ کی آواز سن کر آپ کے ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرنے لگ جاتے اڑتے ہوئے پرند پاس سے گذرتے اور آپ توراۃ پڑھتے ہوتے تو آپ کے ساتھ وہ بھی تلاوت میں مشغول ہوجاتے اور اڑنا بھول جاتے بلکہ ٹھہر جاتے۔ حضور ﷺ نے فتح مکہ والے دن ضحیٰ کے وقت حضرت ام ہانی کے گھر میں آٹھ رکعت نماز ادا کی۔ ابن عباس فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ بھی وقت نماز ہے جیسے فرمان ہے (اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18)۔ عبداللہ بن حارث بنی نوفل کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ضحیٰ کی نماز نہیں پڑھتے تھے ایک دن میں انہیں حضرت ام ہانی ؓ کے ہاں لے گیا اور کہا کہ آپ ان سے وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے مجھ سے بیان فرمائی تھی۔ تو مائی صاحبہ نے فرمایا فتح مکہ والے دن میرے گھر میں میرے پاس اللہ کے رسول ﷺ آئے۔ پھر ایک برتن میں پانی بھروایا اور ایک کپڑا تان کر نہانے بیٹھ گئے پھر گھر کے ایک کونے میں پانی چھڑک کر آٹھ رکعت صلوۃ ضحیٰ کی ادا کیں، ان کا قیام رکوع سجدہ اور جلوس سب قریب قریب برابر تھے حضرت ابن عباس جب یہ سن کر وہاں سے نکلے تو فرمانے لگے پورے قرآن کو میں نے پڑھ لیا میں نہیں جانتا کہ ضحیٰ کی نماز کیا ہے آج مجھے معلوم ہوا کہ (يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18) والی آیت میں بھی اشراق سے مراد یہی ضحیٰ ہے۔ چناچہ اس کے بعد انہوں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا۔ جب حضرت داؤد اللہ کی پاکیزگی اور بزرگی بیان فرماتے تو پرندے بھی ہواؤں میں رک جاتے تھے اور حضرت داؤد کی ماتحتی میں ان کی تسبیح کا ساتھ دیتے تھے۔ اور اس کی سلطنت ہم نے مضبوط کردی اور بادشاہوں کو جن جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ہم نے اسے سب دے دیں۔ چار ہزار تو ان کی محافظ سپاہ تھی۔ اس قدر فوج تھی کہ ہر رات تینتیس ہزار فوجی پہرے پر چڑھتے تھے لیکن جو آج کی رات آتے پھر سال بھر تک ان کی باری نہ آتی۔ چالیس ہزار آدمی ہر وقت ان کی خدمت میں مسلح تیار رہتے۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے زمانے میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں میں ایک مقدمہ ہوا۔ ایک نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ دوسرے نے اس جرم سے انکار کیا حضرت داؤد ؑ نے مدعی سے دلیل طلب کی وہ کوئی گواہ پیش نہ کرسکا آپ نے فرمایا اچھا تمہیں کل فیصلہ سنایا جائے گا۔ رات کو حضرت داؤد کو خواب میں حکم ہوا کہ دعویدار کو قتل کردو۔ صبح آپ نے دونوں بلوایا اور حکم دیا کہ اس مدعی کو قتل کردیا جائے اس نے کہا اے اللہ کے نبی آپ میرے ہی قتل کا حکم دے رہے ہیں حالانکہ اس نے میری گائے چرالی ہے۔ آپ نے فرمایا یہ میرا حکم نہیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور ناممکن ہے کہ یہ ٹل جائے تو تیار ہوجا۔ تب اس نے کہا اے اللہ کے رسول میں اپنے دعوے میں تو سچا ہوں اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے قتل کا حکم میرے اس مقدمے کی وجہ سے نہیں کیا۔ اس کی وجہ اور ہی ہے اور اسے صرف میں ہی جانتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ آج میں نے اسے فریب سے قتل کردیا ہے جس کا کسی کو علم نہیں۔ پس اس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو قصاص کا حکم دیا ہے۔ چناچہ وہ قتل کردیا گیا۔ اب تو حضرت داؤد کی ہیبت ہر شخص کے دل میں بیٹھ گئی ہم نے اسے حکمت دی تھی یعنی فہم و عقل، زیرکی اور دانائی، عدل و فراست کتاب اللہ اور اس کی اتباع نبوت و رسالت وغیرہ اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کا صحیح طریقہ۔ یعنی گواہ لینا قسم کھلوانا، مدعی کے ذمہ بار ثبوت ڈالنا مدعی علیہ سے قسم لینا۔ یہی طریقہ فیصلوں کا انبیاء کا اور نیک لوگوں کا رہا اور یہی طریقہ اس امت میں رائج ہے۔ غرض حضرت داؤد معاملے کی تہ کو پہنچ جاتے تھے اور حق و باطل سچ جھوٹ میں صحیح اور کھرے کا امتیاز کرلیتے تھے۔ کلام بھی آپ کا صاف ہوتا تھا اور حکم بھی عدل پر مبنی ہوتا تھا۔ آپ ہی نے اما بعد کا کہنا ایجاد کیا ہے اور فصل الخطاب سے اس کی طرف بھی اشارہ ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَذْكُرُ تَعَالَى عَنْ عَبْدِهِ وَرَسُولِهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَنَّهُ كَانَ ذَا أَيْدٍ وَالْأَيْدُ: الْقُوَّةُ فِي الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ.
قَالَ [ابْنُ عَبَّاسٍ] [[زيادة من ت، س.]] وَابْنُ زَيْدٍ وَالسُّدِّيُّ: الْأَيْدُ: الْقُوَّةُ وَقَرَأَ ابْنُ زَيْدٍ: ﴿وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ﴾ [الذَّارِيَاتِ: ٤٧]
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: الْأَيْدُ: الْقُوَّةُ فِي الطَّاعَةِ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: أُعْطِيَ دَاوُدُ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ت، س، أ.]] قُوَّةً فِي الْعِبَادَةِ وَفِقْهًا فِي الْإِسْلَامِ، وَقَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ وَيَصُومُ نِصْفَ الدَّهْرِ.
وَهَذَا ثَابِتٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى" [[صحيح البخاري برقم (١١٣١) وصحيح مسلم برقم (١١٥٩) .]] وَإِنَّهُ كَانَ أَوَّابًا، وَهُوَ الرَّجَّاعُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي جَمِيعِ أُمُورِهِ وَشُئُونِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالإشْرَاقِ﴾ أَيْ: إِنَّهُ تَعَالَى سَخَّرَ الْجِبَالَ تُسَبِّحُ مَعَهُ عِنْدَ إِشْرَاقِ الشَّمْسِ وَآخِرِ النَّهَارِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ﴾ [سَبَأٍ: ١٠] وَكَذَلِكَ كَانَتِ الطَّيْرُ تُسَبِّحُ بِتَسْبِيحِهِ وَتُرَجِّعُ بِتَرْجِيعِهِ إِذَا مَرَّ بِهِ الطَّيْرُ وَهُوَ سَابِحٌ فِي الْهَوَاءِ فَسَمِعَهُ وَهُوَ يَتَرَنَّمُ بِقِرَاءَةِ الزَّبُورِ لَا تَسْتَطِيعُ الذَّهَابَ بَلْ تَقِفُ فِي الْهَوَاءِ وَتُسَبِّحُ مَعَهُ وَتُجِيبُهُ الْجِبَالُ الشَّامِخَاتُ تُرَجِّعُ مَعَهُ وَتُسَبِّحُ تَبَعًا لَهُ.
قَالَ [[في ت: "وروى".]] ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَر عَنْ عبد الكريم عن مُوسَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ [[في ت: "بإسناده".]] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[في أ: "ابن عباس رضي الله عنهما".]] أَنَّهُ بَلَغَهُ: أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ ذَكَرَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يوم فَتْحِ مَكَّةَ صَلَّى الضُّحَى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، قَالَ [[في ت: "فقال".]] ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ ظَنَنْتُ أَنَّ لِهَذِهِ السَّاعَةِ صَلَاةً يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالإشْرَاقِ﴾ [[تفسير الطبري (٢٣/٨٧) .]]
ثُمَّ رَوَاهُ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ مَوْلَاهُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ [[في أ: "عن".]] نَوْفَلٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ لَا يُصَلِّي الضُّحَى قَالَ: فَأَدْخَلْتُهُ عَلَى أُمِّ هَانِئٍ فَقُلْتُ: أَخْبِرِي هَذَا مَا أَخْبَرْتِنِي بِهِ. فَقَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ الْفَتْحِ فِي بَيْتِي ثُمَّ أَمَرَ بِمَاءٍ صُبَّ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ أَمَرَ بِثَوْبٍ فَأَخَذَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ رَشَّ نَاحِيَةَ الْبَيْتِ فَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، وَذَلِكَ مِنَ الضُّحَى قِيَامُهُنَّ وَرُكُوعُهُنَّ وَسُجُودُهُنَّ وَجُلُوسُهُنَّ سَوَاءٌ قَرِيبٌ بِعَضُهُنَّ مِنْ بَعْضٍ فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ يَقُولُ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ مَا عَرَفْتُ صَلَاةَ الضُّحَى إِلَّا الْآنَ: ﴿يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالإشْرَاقِ﴾ وَكُنْتُ أَقُولُ: أَيْنَ صَلَاةُ الْإِشْرَاقِ وَكَانَ بَعْدُ يَقُولُ: صَلَاةُ الْإِشْرَاقِ. [[تفسير الطبري (٢٣/٨٧) .]]
وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً﴾ أَيْ: مَحْبُوسَةً فِي الْهَوَاءِ، ﴿كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ﴾ أَيْ: مُطِيعٌ يُسَبِّحُ تَبَعًا لَهُ.
قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَقَتَادَةُ وَمَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَابْنِ زَيْدٍ: ﴿كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ﴾ أَيْ: مُطِيعٌ.
[وَقَوْلُهُ] [[زيادة من ت، س، أ.]] ﴿وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ﴾ أَيْ: جَعَلْنَا لَهُ مُلْكًا كَامِلًا مِنْ جَمِيعِ مَا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ الْمُلُوكُ.
قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ: كَانَ أَشَدَّ أَهْلِ الدُّنْيَا سُلْطَانًا.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: كَانَ يَحْرُسُهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ أَرْبَعَةُ آلَافٍ.
وَقَالَ بَعْضُ السَّلَفِ: بَلَغَنِي أَنَّهُ كَانَ حَرَسُه فِي كُلِّ لَيْلَةٍ ثَلَاثَةً وَثَلَاثِينَ أَلْفًا لَا تَدُورُ عَلَيْهِمُ النَّوْبَةُ إِلَى مِثْلِهَا مِنَ الْعَامِ الْقَابِلِ.
وَقَالَ غَيْرُهُ: أَرْبَعُونَ أَلْفًا مُشْتَمِلُونَ [[في ت، س، أ: "مشتكون".]] بِالسِّلَاحِ. وَقَدْ ذَكَرَ [[في ت: "وروى".]] ابْنُ جَرِيرٍ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ رِوَايَةِ عِلْباء بْنُ أَحْمَرَ عَنْ عِكْرِمة عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ نَفَرَيْنِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ اسْتَعْدَى أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّهُ اغْتَصَبَهُ بَقَرًا فَأَنْكَرَ الْآخَرُ، وَلَمْ يَكُنْ [[في س: "تكن".]] لِلْمُدَّعِي بَيِّنَةٌ فَأَرْجَأَ أَمْرَهُمَا فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ أُمِرَ دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي الْمَنَامِ بِقَتْلِ الْمُدَّعِي فَلَمَّا كَانَ النَّهَارُ طَلَبَهُمَا وَأَمَرَ بِقَتْلِ الْمُدَّعِي فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ عَلَامَ تَقْتُلُنِي وَقَدِ اغْتَصَبَنِي هَذَا بَقَرِي؟ فَقَالَ: إِنِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي بِقَتْلِكَ فَأَنَا قَاتِلُكَ لَا مَحَالَةَ. فَقَالَ: وَاللَّهِ يا نبي اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْكَ بِقَتْلِي لِأَجْلِ هَذَا الَّذِي ادَّعَيْتُ عَلَيْهِ، وَإِنِّي لَصَادِقٌ فِيمَا ادَّعَيْتُ وَلَكِنِّي كُنْتُ قَدِ اغْتَلْتُ أَبَاهُ وَقَتَلْتُهُ، وَلَمْ يَشْعُرْ بِذَلِكَ أَحَدٌ فَأَمَرَ بِهِ دَاوُدُ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من س، ت، أ.]] فَقُتِلَ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَاشْتَدَّتْ هَيْبَتُهُ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ وَهُوَ الَّذِي يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ: يَعْنِي: الْفَهْمَ وَالْعَقْلَ وَالْفِطْنَةَ. وَقَالَ مَرَّةً: الْحِكْمَةَ وَالْعَدْلَ. وَقَالَ مَرَّةً: الصَّوَابَ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: كِتَابَ اللَّهِ وَاتِّبَاعَ مَا فِيهِ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: ﴿الْحِكْمَةَ﴾ النُّبُوَّةُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَفَصْلَ الْخِطَابِ﴾ قَالَ شُرَيْحٌ الْقَاضِي وَالشَّعْبِيُّ فَصْلُ الْخِطَابِ: الشُّهُودُ وَالْأَيْمَانُ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: شَاهِدَانِ عَلَى الْمُدَّعِي أَوْ يَمِينُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ هُوَ فَصْلُ الْخِطَابِ الَّذِي فَصَلَ بِهِ الْأَنْبِيَاءُ وَالرُّسُلُ -أَوْ قَالَ: الْمُؤْمِنُونَ وَالصَّالِحُونَ-وَهُوَ قَضَاءُ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَكَذَا قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ وَالسُّدِّيُّ: هُوَ إِصَابَةُ الْقَضَاءِ وَفَهْمِهِ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ أَيْضًا: هُوَ الْفَصْلُ فِي الْكَلَامِ وَفِي الْحُكْمِ [[في ت: "في القضاء والحكم".]]
وَهَذَا يَشْمَلُ هَذَا كُلَّهُ وَهُوَ الْمُرَادُ وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ [[في ت: "ورواه".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ النُّمَيْرِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ قَالَ: "أَمَّا بَعْدُ" دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ فَصْلُ الْخِطَابِ.
وَكَذَا قَالَ الشَّعْبِيُّ: فَصْلُ الْخِطَابِ: "أَمَّا بَعْدُ".
وَٱلطَّيْرَ مَحْشُورَةًۭ ۖ كُلٌّۭ لَّهُۥٓ أَوَّابٌۭ
And the birds were assembled, all with him repeating [praises].
اور پرندوں کو بھی کہ جمع رہتے تھے۔ سب ان کے فرمانبردار تھے
پرندگان را نیز دسته جمعی مسخّر او کردیم (تا همراه او تسبیح خدا گویند)؛ و همه اینها بازگشتکننده به سوی او بودند!
Tafsir Ibn Kathir
..And remember Our slave Dawud, endued with Al-Ayd. Verily, he was ever oft-returning in all matters and in repentance (17)Verily, We made the mountains to glorify Our praises with him in the 'Ashi and Ishraq (18)And (so did) the birds assembled, all obedient to him (19)We made his kingdom strong and gave him Al-Hikmah and sound judgement in speech and decision (20)
Dawud, peace be upon him
Allah tells us that His servant and Messenger Dawud, peace be upon him, was endued with power. Al-Ayd means strength in knowledge and action. Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, As-Suddi and Ibn Zayd said, "Al-Ayd means strength."
Mujahid said, "Al-Ayd means strength in obedience to Allah." Qatadah said, "Dawud, peace be upon him, was given strength in worship and the proper understanding of Islam." He told us that he, peace be upon him, used to spend a third of the night in prayer, and he fasted for half a lifetime. This was reported in the Two Sahihs, where it is recorded that the Messenger of Allah ﷺ said:
أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللهِ تَعَالَى صَلَاةُ دَاوُدَ، وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ صِيَامُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَيَقُومُ ثُلُثَهُ، وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى، وَأَنَّهُ كَانَ أَوَّابًا
(The most beloved of prayer to Allah is the prayer of Dawud, and the most beloved of fasting to Allah is the fasting of Dawud. He used to sleep for half of the night, stand in prayer for a third of the night, then sleep for a sixth of the night, and he used to fast alternate days. He never fled from the battlefield, and he always turned to Allah.) which means that he turned to Allah with regard to all of his affairs.
إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ
(Verily, We made the mountains to glorify Our praises with him in the 'Ashi and Ishraq.) means, Allah caused the mountains to glorify His praises with him at sunrise and at the end of the day. This is like the Ayah:
يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ ۖ
(O you mountains. Glorify (Allah) with him! And you birds (also)!)(34:10).
The birds also used to glorify Allah's praises with him. If a bird flew by him and heard him chanting the Zabur, it would not go away; instead it would stay hovering in the air, glorifying Allah along with him. And the lofty mountains would respond to him and echo his glorification of Allah. Ibn Jarir recorded from 'Abdullah bin Al-Harith bin Nawfal that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, did not pray Ad-Duha. ['Abdullah said:] "So I took him to Umm Hani, may Allah be pleased with her, and said to her, 'Tell him what you told me.' She said, 'The Messenger of Allah ﷺ entered my house on the day of the conquest of Makkah. He called for water to be poured into a large bowl, then he called for a garment which he used as a screen between me and him, and he washed himself. Then he sprinkled water around the house and prayed eight Rak'ahs. This was Ad-Duha, and its standing, bowing, prostration and sitting were all equal in brevity.' Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, left, saying, 'I have read the Qur'an from cover to cover, and I never knew about Salat Ad-Duha until now!' Then he recited:
يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ
(glorify Our praises with him in the 'Ashi and Ishraq.) I used to say, "What is Salat Al-Ishraq, but now I know what it is."
وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً ۖ
(And (so did) the birds assembled,) meaning, hovering in the air.
كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ
(all obedient to him.) means, they obeyed him and followed him in glorifying Allah. Sa'id bin Jubayr, Qatadah and Malik said, narrating from Zayd bin Aslam and Ibn Zayd:
كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ
(all obedient to him.) means, "Following his commands."
وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ
(We made his kingdom strong) means, 'We gave him complete dominion with all that kings need.' Ibn Abi Najih reported that Mujahid said, "He was the strongest and most powerful of the people of this world."
وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ
(and gave him Al-Hikmah) Mujahid said, "This means understanding, reason and intelligence." Qatadah said, "The Book of Allah and following what is in it." As-Suddi said:
الْحِكْمَةَ
(Al-Hikmah) "Prophethood."
وَفَصْلَ الْخِطَابِ
(and sound judgement) Shurayh Al-Qadi and Ash-Sha'bi said, "Sound judgement is testimony and oaths." Qatadah said, "Two witnesses for the plaintiff or an oath on the part of the defendant is meaning of sound judgement." This is the sound judgement which the Prophets and Messengers judged and the believers and righteous accepted. This is the basis of this Ummah's judicial system until the Day of Resurrection. This was the view of Abu 'Abdur-Rahman As-Sulami. Mujahid and As-Suddi said, "It means passing the right judgement and understanding the case." Mujahid also said, "It is soundness in speech and in judgement, and this includes all of the above." This is what is meant, and this is the view favored by Ibn Jarir.
Tafsir Ibn Kathir
ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہوچکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور زور میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آچکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہوگی کہ جس کے کان میں پڑی بیہوش و بےجان ہوگیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ قط کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ کر نڈر ہو کر عذابوں کے طلب کرنے کا ذکر ہو رہا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا اللہ اگر یہ صحیح ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب آسمانی ہمیں پہنچا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنا جنت کا حصہ یہاں طلب کیا اور یہ جو کچھ کہا یہ بہ وجہ اسے جھوٹا سمجھنے اور محال جاننے کے تھا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ جس خیر و شر کے وہ دنیا میں مستحق تھے اسے انہوں نے جلد طلب کیا۔ یہی بات ٹھیک ہے ضحاک اور اسماعیل کی تفسیر کا ماحصل بھی یہی ہے۔ واللہ اعلم۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تکذیب اور ہنسی کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو صبر کی تعلیم دی اور برداشت کی تلقین کی۔ حضرت داؤد ؑ کی فراست۔ ذالاید سے مراد علمی اور عملی قوت والا ہے اور صرف قوۃ والے کے معنی بھی ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے (وَالسَّمَاۗءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ 47) 51۔ الذاریات :47) ، مجاہد فرماتے ہیں مراد اطاعت کی طاقت ہے۔ حضرت داؤد ؑ کو عبادت کی قدرت اور اسلام کی فقہ عطا فرمائی گی تھی۔ یہ مذکور ہے کہ آپ ہر رات تہائی رات تک تہجد میں کھڑے رہتے تھے اور ایک دن بعد ایک دن ہمیشہ روزے سے رہتے تھے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند حضرت داؤد کی رات کی نماز اور انہی کے روزے تھے۔ آپ آدھی رات سوتے اور تہائی رات قیام کرتے اور چھٹا حصہ رات کا پھر سو جاتے، اور ایک دن روزہ رکھتے ایک دن نہ رکھتے اور دشمنان دین سے جہاد کرنے میں پیٹھ نہ دکھاتے اور اپنے ہر حال میں اللہ کی طرف رغبت و رجوع رکھتے۔ پہاڑوں کو ان کے ساتھ مسخر کردیا تھا۔ وہ آپ کے ساتھ سورج کے ڈھلنے کے وقت اور دن کے آخری وقت تسبیح بیان کرتے۔ جیسے فرمان ہے (يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ ۚ وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ 10 ۙ) 34۔ سبأ :10) یعنی اللہ نے پہاڑوں کو ان کے ساتھ رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح پرندے بھی آپ کی آواز سن کر آپ کے ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرنے لگ جاتے اڑتے ہوئے پرند پاس سے گذرتے اور آپ توراۃ پڑھتے ہوتے تو آپ کے ساتھ وہ بھی تلاوت میں مشغول ہوجاتے اور اڑنا بھول جاتے بلکہ ٹھہر جاتے۔ حضور ﷺ نے فتح مکہ والے دن ضحیٰ کے وقت حضرت ام ہانی کے گھر میں آٹھ رکعت نماز ادا کی۔ ابن عباس فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ بھی وقت نماز ہے جیسے فرمان ہے (اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18)۔ عبداللہ بن حارث بنی نوفل کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ضحیٰ کی نماز نہیں پڑھتے تھے ایک دن میں انہیں حضرت ام ہانی ؓ کے ہاں لے گیا اور کہا کہ آپ ان سے وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے مجھ سے بیان فرمائی تھی۔ تو مائی صاحبہ نے فرمایا فتح مکہ والے دن میرے گھر میں میرے پاس اللہ کے رسول ﷺ آئے۔ پھر ایک برتن میں پانی بھروایا اور ایک کپڑا تان کر نہانے بیٹھ گئے پھر گھر کے ایک کونے میں پانی چھڑک کر آٹھ رکعت صلوۃ ضحیٰ کی ادا کیں، ان کا قیام رکوع سجدہ اور جلوس سب قریب قریب برابر تھے حضرت ابن عباس جب یہ سن کر وہاں سے نکلے تو فرمانے لگے پورے قرآن کو میں نے پڑھ لیا میں نہیں جانتا کہ ضحیٰ کی نماز کیا ہے آج مجھے معلوم ہوا کہ (يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18) والی آیت میں بھی اشراق سے مراد یہی ضحیٰ ہے۔ چناچہ اس کے بعد انہوں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا۔ جب حضرت داؤد اللہ کی پاکیزگی اور بزرگی بیان فرماتے تو پرندے بھی ہواؤں میں رک جاتے تھے اور حضرت داؤد کی ماتحتی میں ان کی تسبیح کا ساتھ دیتے تھے۔ اور اس کی سلطنت ہم نے مضبوط کردی اور بادشاہوں کو جن جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ہم نے اسے سب دے دیں۔ چار ہزار تو ان کی محافظ سپاہ تھی۔ اس قدر فوج تھی کہ ہر رات تینتیس ہزار فوجی پہرے پر چڑھتے تھے لیکن جو آج کی رات آتے پھر سال بھر تک ان کی باری نہ آتی۔ چالیس ہزار آدمی ہر وقت ان کی خدمت میں مسلح تیار رہتے۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے زمانے میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں میں ایک مقدمہ ہوا۔ ایک نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ دوسرے نے اس جرم سے انکار کیا حضرت داؤد ؑ نے مدعی سے دلیل طلب کی وہ کوئی گواہ پیش نہ کرسکا آپ نے فرمایا اچھا تمہیں کل فیصلہ سنایا جائے گا۔ رات کو حضرت داؤد کو خواب میں حکم ہوا کہ دعویدار کو قتل کردو۔ صبح آپ نے دونوں بلوایا اور حکم دیا کہ اس مدعی کو قتل کردیا جائے اس نے کہا اے اللہ کے نبی آپ میرے ہی قتل کا حکم دے رہے ہیں حالانکہ اس نے میری گائے چرالی ہے۔ آپ نے فرمایا یہ میرا حکم نہیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور ناممکن ہے کہ یہ ٹل جائے تو تیار ہوجا۔ تب اس نے کہا اے اللہ کے رسول میں اپنے دعوے میں تو سچا ہوں اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے قتل کا حکم میرے اس مقدمے کی وجہ سے نہیں کیا۔ اس کی وجہ اور ہی ہے اور اسے صرف میں ہی جانتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ آج میں نے اسے فریب سے قتل کردیا ہے جس کا کسی کو علم نہیں۔ پس اس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو قصاص کا حکم دیا ہے۔ چناچہ وہ قتل کردیا گیا۔ اب تو حضرت داؤد کی ہیبت ہر شخص کے دل میں بیٹھ گئی ہم نے اسے حکمت دی تھی یعنی فہم و عقل، زیرکی اور دانائی، عدل و فراست کتاب اللہ اور اس کی اتباع نبوت و رسالت وغیرہ اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کا صحیح طریقہ۔ یعنی گواہ لینا قسم کھلوانا، مدعی کے ذمہ بار ثبوت ڈالنا مدعی علیہ سے قسم لینا۔ یہی طریقہ فیصلوں کا انبیاء کا اور نیک لوگوں کا رہا اور یہی طریقہ اس امت میں رائج ہے۔ غرض حضرت داؤد معاملے کی تہ کو پہنچ جاتے تھے اور حق و باطل سچ جھوٹ میں صحیح اور کھرے کا امتیاز کرلیتے تھے۔ کلام بھی آپ کا صاف ہوتا تھا اور حکم بھی عدل پر مبنی ہوتا تھا۔ آپ ہی نے اما بعد کا کہنا ایجاد کیا ہے اور فصل الخطاب سے اس کی طرف بھی اشارہ ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَذْكُرُ تَعَالَى عَنْ عَبْدِهِ وَرَسُولِهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَنَّهُ كَانَ ذَا أَيْدٍ وَالْأَيْدُ: الْقُوَّةُ فِي الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ.
قَالَ [ابْنُ عَبَّاسٍ] [[زيادة من ت، س.]] وَابْنُ زَيْدٍ وَالسُّدِّيُّ: الْأَيْدُ: الْقُوَّةُ وَقَرَأَ ابْنُ زَيْدٍ: ﴿وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ﴾ [الذَّارِيَاتِ: ٤٧]
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: الْأَيْدُ: الْقُوَّةُ فِي الطَّاعَةِ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: أُعْطِيَ دَاوُدُ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ت، س، أ.]] قُوَّةً فِي الْعِبَادَةِ وَفِقْهًا فِي الْإِسْلَامِ، وَقَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ وَيَصُومُ نِصْفَ الدَّهْرِ.
وَهَذَا ثَابِتٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى" [[صحيح البخاري برقم (١١٣١) وصحيح مسلم برقم (١١٥٩) .]] وَإِنَّهُ كَانَ أَوَّابًا، وَهُوَ الرَّجَّاعُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي جَمِيعِ أُمُورِهِ وَشُئُونِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالإشْرَاقِ﴾ أَيْ: إِنَّهُ تَعَالَى سَخَّرَ الْجِبَالَ تُسَبِّحُ مَعَهُ عِنْدَ إِشْرَاقِ الشَّمْسِ وَآخِرِ النَّهَارِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ﴾ [سَبَأٍ: ١٠] وَكَذَلِكَ كَانَتِ الطَّيْرُ تُسَبِّحُ بِتَسْبِيحِهِ وَتُرَجِّعُ بِتَرْجِيعِهِ إِذَا مَرَّ بِهِ الطَّيْرُ وَهُوَ سَابِحٌ فِي الْهَوَاءِ فَسَمِعَهُ وَهُوَ يَتَرَنَّمُ بِقِرَاءَةِ الزَّبُورِ لَا تَسْتَطِيعُ الذَّهَابَ بَلْ تَقِفُ فِي الْهَوَاءِ وَتُسَبِّحُ مَعَهُ وَتُجِيبُهُ الْجِبَالُ الشَّامِخَاتُ تُرَجِّعُ مَعَهُ وَتُسَبِّحُ تَبَعًا لَهُ.
قَالَ [[في ت: "وروى".]] ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَر عَنْ عبد الكريم عن مُوسَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ [[في ت: "بإسناده".]] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[في أ: "ابن عباس رضي الله عنهما".]] أَنَّهُ بَلَغَهُ: أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ ذَكَرَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يوم فَتْحِ مَكَّةَ صَلَّى الضُّحَى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، قَالَ [[في ت: "فقال".]] ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ ظَنَنْتُ أَنَّ لِهَذِهِ السَّاعَةِ صَلَاةً يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالإشْرَاقِ﴾ [[تفسير الطبري (٢٣/٨٧) .]]
ثُمَّ رَوَاهُ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ مَوْلَاهُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ [[في أ: "عن".]] نَوْفَلٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ لَا يُصَلِّي الضُّحَى قَالَ: فَأَدْخَلْتُهُ عَلَى أُمِّ هَانِئٍ فَقُلْتُ: أَخْبِرِي هَذَا مَا أَخْبَرْتِنِي بِهِ. فَقَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ الْفَتْحِ فِي بَيْتِي ثُمَّ أَمَرَ بِمَاءٍ صُبَّ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ أَمَرَ بِثَوْبٍ فَأَخَذَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ رَشَّ نَاحِيَةَ الْبَيْتِ فَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، وَذَلِكَ مِنَ الضُّحَى قِيَامُهُنَّ وَرُكُوعُهُنَّ وَسُجُودُهُنَّ وَجُلُوسُهُنَّ سَوَاءٌ قَرِيبٌ بِعَضُهُنَّ مِنْ بَعْضٍ فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ يَقُولُ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ مَا عَرَفْتُ صَلَاةَ الضُّحَى إِلَّا الْآنَ: ﴿يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالإشْرَاقِ﴾ وَكُنْتُ أَقُولُ: أَيْنَ صَلَاةُ الْإِشْرَاقِ وَكَانَ بَعْدُ يَقُولُ: صَلَاةُ الْإِشْرَاقِ. [[تفسير الطبري (٢٣/٨٧) .]]
وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً﴾ أَيْ: مَحْبُوسَةً فِي الْهَوَاءِ، ﴿كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ﴾ أَيْ: مُطِيعٌ يُسَبِّحُ تَبَعًا لَهُ.
قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَقَتَادَةُ وَمَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَابْنِ زَيْدٍ: ﴿كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ﴾ أَيْ: مُطِيعٌ.
[وَقَوْلُهُ] [[زيادة من ت، س، أ.]] ﴿وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ﴾ أَيْ: جَعَلْنَا لَهُ مُلْكًا كَامِلًا مِنْ جَمِيعِ مَا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ الْمُلُوكُ.
قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ: كَانَ أَشَدَّ أَهْلِ الدُّنْيَا سُلْطَانًا.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: كَانَ يَحْرُسُهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ أَرْبَعَةُ آلَافٍ.
وَقَالَ بَعْضُ السَّلَفِ: بَلَغَنِي أَنَّهُ كَانَ حَرَسُه فِي كُلِّ لَيْلَةٍ ثَلَاثَةً وَثَلَاثِينَ أَلْفًا لَا تَدُورُ عَلَيْهِمُ النَّوْبَةُ إِلَى مِثْلِهَا مِنَ الْعَامِ الْقَابِلِ.
وَقَالَ غَيْرُهُ: أَرْبَعُونَ أَلْفًا مُشْتَمِلُونَ [[في ت، س، أ: "مشتكون".]] بِالسِّلَاحِ. وَقَدْ ذَكَرَ [[في ت: "وروى".]] ابْنُ جَرِيرٍ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ رِوَايَةِ عِلْباء بْنُ أَحْمَرَ عَنْ عِكْرِمة عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ نَفَرَيْنِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ اسْتَعْدَى أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّهُ اغْتَصَبَهُ بَقَرًا فَأَنْكَرَ الْآخَرُ، وَلَمْ يَكُنْ [[في س: "تكن".]] لِلْمُدَّعِي بَيِّنَةٌ فَأَرْجَأَ أَمْرَهُمَا فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ أُمِرَ دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي الْمَنَامِ بِقَتْلِ الْمُدَّعِي فَلَمَّا كَانَ النَّهَارُ طَلَبَهُمَا وَأَمَرَ بِقَتْلِ الْمُدَّعِي فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ عَلَامَ تَقْتُلُنِي وَقَدِ اغْتَصَبَنِي هَذَا بَقَرِي؟ فَقَالَ: إِنِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي بِقَتْلِكَ فَأَنَا قَاتِلُكَ لَا مَحَالَةَ. فَقَالَ: وَاللَّهِ يا نبي اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْكَ بِقَتْلِي لِأَجْلِ هَذَا الَّذِي ادَّعَيْتُ عَلَيْهِ، وَإِنِّي لَصَادِقٌ فِيمَا ادَّعَيْتُ وَلَكِنِّي كُنْتُ قَدِ اغْتَلْتُ أَبَاهُ وَقَتَلْتُهُ، وَلَمْ يَشْعُرْ بِذَلِكَ أَحَدٌ فَأَمَرَ بِهِ دَاوُدُ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من س، ت، أ.]] فَقُتِلَ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَاشْتَدَّتْ هَيْبَتُهُ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ وَهُوَ الَّذِي يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ: يَعْنِي: الْفَهْمَ وَالْعَقْلَ وَالْفِطْنَةَ. وَقَالَ مَرَّةً: الْحِكْمَةَ وَالْعَدْلَ. وَقَالَ مَرَّةً: الصَّوَابَ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: كِتَابَ اللَّهِ وَاتِّبَاعَ مَا فِيهِ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: ﴿الْحِكْمَةَ﴾ النُّبُوَّةُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَفَصْلَ الْخِطَابِ﴾ قَالَ شُرَيْحٌ الْقَاضِي وَالشَّعْبِيُّ فَصْلُ الْخِطَابِ: الشُّهُودُ وَالْأَيْمَانُ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: شَاهِدَانِ عَلَى الْمُدَّعِي أَوْ يَمِينُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ هُوَ فَصْلُ الْخِطَابِ الَّذِي فَصَلَ بِهِ الْأَنْبِيَاءُ وَالرُّسُلُ -أَوْ قَالَ: الْمُؤْمِنُونَ وَالصَّالِحُونَ-وَهُوَ قَضَاءُ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَكَذَا قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ وَالسُّدِّيُّ: هُوَ إِصَابَةُ الْقَضَاءِ وَفَهْمِهِ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ أَيْضًا: هُوَ الْفَصْلُ فِي الْكَلَامِ وَفِي الْحُكْمِ [[في ت: "في القضاء والحكم".]]
وَهَذَا يَشْمَلُ هَذَا كُلَّهُ وَهُوَ الْمُرَادُ وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ [[في ت: "ورواه".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ النُّمَيْرِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ قَالَ: "أَمَّا بَعْدُ" دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ فَصْلُ الْخِطَابِ.
وَكَذَا قَالَ الشَّعْبِيُّ: فَصْلُ الْخِطَابِ: "أَمَّا بَعْدُ".
وَشَدَدْنَا مُلْكَهُۥ وَءَاتَيْنَٰهُ ٱلْحِكْمَةَ وَفَصْلَ ٱلْخِطَابِ
And We strengthened his kingdom and gave him wisdom and discernment in speech.
اور ہم نے ان کی بادشاہی کو مستحکم کیا اور ان کو حکمت عطا کی اور (خصومت کی) بات کا فیصلہ (سکھایا)
و حکومت او را استحکام بخشیدیم، (هم) دانش به او دادیم و (هم) داوری عادلانه!
Tafsir Ibn Kathir
..And remember Our slave Dawud, endued with Al-Ayd. Verily, he was ever oft-returning in all matters and in repentance (17)Verily, We made the mountains to glorify Our praises with him in the 'Ashi and Ishraq (18)And (so did) the birds assembled, all obedient to him (19)We made his kingdom strong and gave him Al-Hikmah and sound judgement in speech and decision (20)
Dawud, peace be upon him
Allah tells us that His servant and Messenger Dawud, peace be upon him, was endued with power. Al-Ayd means strength in knowledge and action. Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, As-Suddi and Ibn Zayd said, "Al-Ayd means strength."
Mujahid said, "Al-Ayd means strength in obedience to Allah." Qatadah said, "Dawud, peace be upon him, was given strength in worship and the proper understanding of Islam." He told us that he, peace be upon him, used to spend a third of the night in prayer, and he fasted for half a lifetime. This was reported in the Two Sahihs, where it is recorded that the Messenger of Allah ﷺ said:
أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللهِ تَعَالَى صَلَاةُ دَاوُدَ، وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ صِيَامُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَيَقُومُ ثُلُثَهُ، وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى، وَأَنَّهُ كَانَ أَوَّابًا
(The most beloved of prayer to Allah is the prayer of Dawud, and the most beloved of fasting to Allah is the fasting of Dawud. He used to sleep for half of the night, stand in prayer for a third of the night, then sleep for a sixth of the night, and he used to fast alternate days. He never fled from the battlefield, and he always turned to Allah.) which means that he turned to Allah with regard to all of his affairs.
إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ
(Verily, We made the mountains to glorify Our praises with him in the 'Ashi and Ishraq.) means, Allah caused the mountains to glorify His praises with him at sunrise and at the end of the day. This is like the Ayah:
يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ ۖ
(O you mountains. Glorify (Allah) with him! And you birds (also)!)(34:10).
The birds also used to glorify Allah's praises with him. If a bird flew by him and heard him chanting the Zabur, it would not go away; instead it would stay hovering in the air, glorifying Allah along with him. And the lofty mountains would respond to him and echo his glorification of Allah. Ibn Jarir recorded from 'Abdullah bin Al-Harith bin Nawfal that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, did not pray Ad-Duha. ['Abdullah said:] "So I took him to Umm Hani, may Allah be pleased with her, and said to her, 'Tell him what you told me.' She said, 'The Messenger of Allah ﷺ entered my house on the day of the conquest of Makkah. He called for water to be poured into a large bowl, then he called for a garment which he used as a screen between me and him, and he washed himself. Then he sprinkled water around the house and prayed eight Rak'ahs. This was Ad-Duha, and its standing, bowing, prostration and sitting were all equal in brevity.' Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, left, saying, 'I have read the Qur'an from cover to cover, and I never knew about Salat Ad-Duha until now!' Then he recited:
يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ
(glorify Our praises with him in the 'Ashi and Ishraq.) I used to say, "What is Salat Al-Ishraq, but now I know what it is."
وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً ۖ
(And (so did) the birds assembled,) meaning, hovering in the air.
كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ
(all obedient to him.) means, they obeyed him and followed him in glorifying Allah. Sa'id bin Jubayr, Qatadah and Malik said, narrating from Zayd bin Aslam and Ibn Zayd:
كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ
(all obedient to him.) means, "Following his commands."
وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ
(We made his kingdom strong) means, 'We gave him complete dominion with all that kings need.' Ibn Abi Najih reported that Mujahid said, "He was the strongest and most powerful of the people of this world."
وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ
(and gave him Al-Hikmah) Mujahid said, "This means understanding, reason and intelligence." Qatadah said, "The Book of Allah and following what is in it." As-Suddi said:
الْحِكْمَةَ
(Al-Hikmah) "Prophethood."
وَفَصْلَ الْخِطَابِ
(and sound judgement) Shurayh Al-Qadi and Ash-Sha'bi said, "Sound judgement is testimony and oaths." Qatadah said, "Two witnesses for the plaintiff or an oath on the part of the defendant is meaning of sound judgement." This is the sound judgement which the Prophets and Messengers judged and the believers and righteous accepted. This is the basis of this Ummah's judicial system until the Day of Resurrection. This was the view of Abu 'Abdur-Rahman As-Sulami. Mujahid and As-Suddi said, "It means passing the right judgement and understanding the case." Mujahid also said, "It is soundness in speech and in judgement, and this includes all of the above." This is what is meant, and this is the view favored by Ibn Jarir.
Tafsir Ibn Kathir
ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہوچکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور زور میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آچکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہوگی کہ جس کے کان میں پڑی بیہوش و بےجان ہوگیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ قط کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ کر نڈر ہو کر عذابوں کے طلب کرنے کا ذکر ہو رہا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا اللہ اگر یہ صحیح ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب آسمانی ہمیں پہنچا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنا جنت کا حصہ یہاں طلب کیا اور یہ جو کچھ کہا یہ بہ وجہ اسے جھوٹا سمجھنے اور محال جاننے کے تھا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ جس خیر و شر کے وہ دنیا میں مستحق تھے اسے انہوں نے جلد طلب کیا۔ یہی بات ٹھیک ہے ضحاک اور اسماعیل کی تفسیر کا ماحصل بھی یہی ہے۔ واللہ اعلم۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تکذیب اور ہنسی کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو صبر کی تعلیم دی اور برداشت کی تلقین کی۔ حضرت داؤد ؑ کی فراست۔ ذالاید سے مراد علمی اور عملی قوت والا ہے اور صرف قوۃ والے کے معنی بھی ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے (وَالسَّمَاۗءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ 47) 51۔ الذاریات :47) ، مجاہد فرماتے ہیں مراد اطاعت کی طاقت ہے۔ حضرت داؤد ؑ کو عبادت کی قدرت اور اسلام کی فقہ عطا فرمائی گی تھی۔ یہ مذکور ہے کہ آپ ہر رات تہائی رات تک تہجد میں کھڑے رہتے تھے اور ایک دن بعد ایک دن ہمیشہ روزے سے رہتے تھے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند حضرت داؤد کی رات کی نماز اور انہی کے روزے تھے۔ آپ آدھی رات سوتے اور تہائی رات قیام کرتے اور چھٹا حصہ رات کا پھر سو جاتے، اور ایک دن روزہ رکھتے ایک دن نہ رکھتے اور دشمنان دین سے جہاد کرنے میں پیٹھ نہ دکھاتے اور اپنے ہر حال میں اللہ کی طرف رغبت و رجوع رکھتے۔ پہاڑوں کو ان کے ساتھ مسخر کردیا تھا۔ وہ آپ کے ساتھ سورج کے ڈھلنے کے وقت اور دن کے آخری وقت تسبیح بیان کرتے۔ جیسے فرمان ہے (يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ ۚ وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ 10 ۙ) 34۔ سبأ :10) یعنی اللہ نے پہاڑوں کو ان کے ساتھ رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح پرندے بھی آپ کی آواز سن کر آپ کے ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرنے لگ جاتے اڑتے ہوئے پرند پاس سے گذرتے اور آپ توراۃ پڑھتے ہوتے تو آپ کے ساتھ وہ بھی تلاوت میں مشغول ہوجاتے اور اڑنا بھول جاتے بلکہ ٹھہر جاتے۔ حضور ﷺ نے فتح مکہ والے دن ضحیٰ کے وقت حضرت ام ہانی کے گھر میں آٹھ رکعت نماز ادا کی۔ ابن عباس فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ بھی وقت نماز ہے جیسے فرمان ہے (اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18)۔ عبداللہ بن حارث بنی نوفل کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ضحیٰ کی نماز نہیں پڑھتے تھے ایک دن میں انہیں حضرت ام ہانی ؓ کے ہاں لے گیا اور کہا کہ آپ ان سے وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے مجھ سے بیان فرمائی تھی۔ تو مائی صاحبہ نے فرمایا فتح مکہ والے دن میرے گھر میں میرے پاس اللہ کے رسول ﷺ آئے۔ پھر ایک برتن میں پانی بھروایا اور ایک کپڑا تان کر نہانے بیٹھ گئے پھر گھر کے ایک کونے میں پانی چھڑک کر آٹھ رکعت صلوۃ ضحیٰ کی ادا کیں، ان کا قیام رکوع سجدہ اور جلوس سب قریب قریب برابر تھے حضرت ابن عباس جب یہ سن کر وہاں سے نکلے تو فرمانے لگے پورے قرآن کو میں نے پڑھ لیا میں نہیں جانتا کہ ضحیٰ کی نماز کیا ہے آج مجھے معلوم ہوا کہ (يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18) والی آیت میں بھی اشراق سے مراد یہی ضحیٰ ہے۔ چناچہ اس کے بعد انہوں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا۔ جب حضرت داؤد اللہ کی پاکیزگی اور بزرگی بیان فرماتے تو پرندے بھی ہواؤں میں رک جاتے تھے اور حضرت داؤد کی ماتحتی میں ان کی تسبیح کا ساتھ دیتے تھے۔ اور اس کی سلطنت ہم نے مضبوط کردی اور بادشاہوں کو جن جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ہم نے اسے سب دے دیں۔ چار ہزار تو ان کی محافظ سپاہ تھی۔ اس قدر فوج تھی کہ ہر رات تینتیس ہزار فوجی پہرے پر چڑھتے تھے لیکن جو آج کی رات آتے پھر سال بھر تک ان کی باری نہ آتی۔ چالیس ہزار آدمی ہر وقت ان کی خدمت میں مسلح تیار رہتے۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے زمانے میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں میں ایک مقدمہ ہوا۔ ایک نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ دوسرے نے اس جرم سے انکار کیا حضرت داؤد ؑ نے مدعی سے دلیل طلب کی وہ کوئی گواہ پیش نہ کرسکا آپ نے فرمایا اچھا تمہیں کل فیصلہ سنایا جائے گا۔ رات کو حضرت داؤد کو خواب میں حکم ہوا کہ دعویدار کو قتل کردو۔ صبح آپ نے دونوں بلوایا اور حکم دیا کہ اس مدعی کو قتل کردیا جائے اس نے کہا اے اللہ کے نبی آپ میرے ہی قتل کا حکم دے رہے ہیں حالانکہ اس نے میری گائے چرالی ہے۔ آپ نے فرمایا یہ میرا حکم نہیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور ناممکن ہے کہ یہ ٹل جائے تو تیار ہوجا۔ تب اس نے کہا اے اللہ کے رسول میں اپنے دعوے میں تو سچا ہوں اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے قتل کا حکم میرے اس مقدمے کی وجہ سے نہیں کیا۔ اس کی وجہ اور ہی ہے اور اسے صرف میں ہی جانتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ آج میں نے اسے فریب سے قتل کردیا ہے جس کا کسی کو علم نہیں۔ پس اس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو قصاص کا حکم دیا ہے۔ چناچہ وہ قتل کردیا گیا۔ اب تو حضرت داؤد کی ہیبت ہر شخص کے دل میں بیٹھ گئی ہم نے اسے حکمت دی تھی یعنی فہم و عقل، زیرکی اور دانائی، عدل و فراست کتاب اللہ اور اس کی اتباع نبوت و رسالت وغیرہ اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کا صحیح طریقہ۔ یعنی گواہ لینا قسم کھلوانا، مدعی کے ذمہ بار ثبوت ڈالنا مدعی علیہ سے قسم لینا۔ یہی طریقہ فیصلوں کا انبیاء کا اور نیک لوگوں کا رہا اور یہی طریقہ اس امت میں رائج ہے۔ غرض حضرت داؤد معاملے کی تہ کو پہنچ جاتے تھے اور حق و باطل سچ جھوٹ میں صحیح اور کھرے کا امتیاز کرلیتے تھے۔ کلام بھی آپ کا صاف ہوتا تھا اور حکم بھی عدل پر مبنی ہوتا تھا۔ آپ ہی نے اما بعد کا کہنا ایجاد کیا ہے اور فصل الخطاب سے اس کی طرف بھی اشارہ ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَذْكُرُ تَعَالَى عَنْ عَبْدِهِ وَرَسُولِهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَنَّهُ كَانَ ذَا أَيْدٍ وَالْأَيْدُ: الْقُوَّةُ فِي الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ.
قَالَ [ابْنُ عَبَّاسٍ] [[زيادة من ت، س.]] وَابْنُ زَيْدٍ وَالسُّدِّيُّ: الْأَيْدُ: الْقُوَّةُ وَقَرَأَ ابْنُ زَيْدٍ: ﴿وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ﴾ [الذَّارِيَاتِ: ٤٧]
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: الْأَيْدُ: الْقُوَّةُ فِي الطَّاعَةِ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: أُعْطِيَ دَاوُدُ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ت، س، أ.]] قُوَّةً فِي الْعِبَادَةِ وَفِقْهًا فِي الْإِسْلَامِ، وَقَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ وَيَصُومُ نِصْفَ الدَّهْرِ.
وَهَذَا ثَابِتٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى" [[صحيح البخاري برقم (١١٣١) وصحيح مسلم برقم (١١٥٩) .]] وَإِنَّهُ كَانَ أَوَّابًا، وَهُوَ الرَّجَّاعُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي جَمِيعِ أُمُورِهِ وَشُئُونِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالإشْرَاقِ﴾ أَيْ: إِنَّهُ تَعَالَى سَخَّرَ الْجِبَالَ تُسَبِّحُ مَعَهُ عِنْدَ إِشْرَاقِ الشَّمْسِ وَآخِرِ النَّهَارِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ﴾ [سَبَأٍ: ١٠] وَكَذَلِكَ كَانَتِ الطَّيْرُ تُسَبِّحُ بِتَسْبِيحِهِ وَتُرَجِّعُ بِتَرْجِيعِهِ إِذَا مَرَّ بِهِ الطَّيْرُ وَهُوَ سَابِحٌ فِي الْهَوَاءِ فَسَمِعَهُ وَهُوَ يَتَرَنَّمُ بِقِرَاءَةِ الزَّبُورِ لَا تَسْتَطِيعُ الذَّهَابَ بَلْ تَقِفُ فِي الْهَوَاءِ وَتُسَبِّحُ مَعَهُ وَتُجِيبُهُ الْجِبَالُ الشَّامِخَاتُ تُرَجِّعُ مَعَهُ وَتُسَبِّحُ تَبَعًا لَهُ.
قَالَ [[في ت: "وروى".]] ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَر عَنْ عبد الكريم عن مُوسَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ [[في ت: "بإسناده".]] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[في أ: "ابن عباس رضي الله عنهما".]] أَنَّهُ بَلَغَهُ: أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ ذَكَرَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يوم فَتْحِ مَكَّةَ صَلَّى الضُّحَى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، قَالَ [[في ت: "فقال".]] ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ ظَنَنْتُ أَنَّ لِهَذِهِ السَّاعَةِ صَلَاةً يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالإشْرَاقِ﴾ [[تفسير الطبري (٢٣/٨٧) .]]
ثُمَّ رَوَاهُ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ مَوْلَاهُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ [[في أ: "عن".]] نَوْفَلٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ لَا يُصَلِّي الضُّحَى قَالَ: فَأَدْخَلْتُهُ عَلَى أُمِّ هَانِئٍ فَقُلْتُ: أَخْبِرِي هَذَا مَا أَخْبَرْتِنِي بِهِ. فَقَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ الْفَتْحِ فِي بَيْتِي ثُمَّ أَمَرَ بِمَاءٍ صُبَّ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ أَمَرَ بِثَوْبٍ فَأَخَذَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ رَشَّ نَاحِيَةَ الْبَيْتِ فَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، وَذَلِكَ مِنَ الضُّحَى قِيَامُهُنَّ وَرُكُوعُهُنَّ وَسُجُودُهُنَّ وَجُلُوسُهُنَّ سَوَاءٌ قَرِيبٌ بِعَضُهُنَّ مِنْ بَعْضٍ فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ يَقُولُ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ مَا عَرَفْتُ صَلَاةَ الضُّحَى إِلَّا الْآنَ: ﴿يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالإشْرَاقِ﴾ وَكُنْتُ أَقُولُ: أَيْنَ صَلَاةُ الْإِشْرَاقِ وَكَانَ بَعْدُ يَقُولُ: صَلَاةُ الْإِشْرَاقِ. [[تفسير الطبري (٢٣/٨٧) .]]
وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً﴾ أَيْ: مَحْبُوسَةً فِي الْهَوَاءِ، ﴿كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ﴾ أَيْ: مُطِيعٌ يُسَبِّحُ تَبَعًا لَهُ.
قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَقَتَادَةُ وَمَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَابْنِ زَيْدٍ: ﴿كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ﴾ أَيْ: مُطِيعٌ.
[وَقَوْلُهُ] [[زيادة من ت، س، أ.]] ﴿وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ﴾ أَيْ: جَعَلْنَا لَهُ مُلْكًا كَامِلًا مِنْ جَمِيعِ مَا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ الْمُلُوكُ.
قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ: كَانَ أَشَدَّ أَهْلِ الدُّنْيَا سُلْطَانًا.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: كَانَ يَحْرُسُهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ أَرْبَعَةُ آلَافٍ.
وَقَالَ بَعْضُ السَّلَفِ: بَلَغَنِي أَنَّهُ كَانَ حَرَسُه فِي كُلِّ لَيْلَةٍ ثَلَاثَةً وَثَلَاثِينَ أَلْفًا لَا تَدُورُ عَلَيْهِمُ النَّوْبَةُ إِلَى مِثْلِهَا مِنَ الْعَامِ الْقَابِلِ.
وَقَالَ غَيْرُهُ: أَرْبَعُونَ أَلْفًا مُشْتَمِلُونَ [[في ت، س، أ: "مشتكون".]] بِالسِّلَاحِ. وَقَدْ ذَكَرَ [[في ت: "وروى".]] ابْنُ جَرِيرٍ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ رِوَايَةِ عِلْباء بْنُ أَحْمَرَ عَنْ عِكْرِمة عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ نَفَرَيْنِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ اسْتَعْدَى أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّهُ اغْتَصَبَهُ بَقَرًا فَأَنْكَرَ الْآخَرُ، وَلَمْ يَكُنْ [[في س: "تكن".]] لِلْمُدَّعِي بَيِّنَةٌ فَأَرْجَأَ أَمْرَهُمَا فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ أُمِرَ دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي الْمَنَامِ بِقَتْلِ الْمُدَّعِي فَلَمَّا كَانَ النَّهَارُ طَلَبَهُمَا وَأَمَرَ بِقَتْلِ الْمُدَّعِي فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ عَلَامَ تَقْتُلُنِي وَقَدِ اغْتَصَبَنِي هَذَا بَقَرِي؟ فَقَالَ: إِنِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي بِقَتْلِكَ فَأَنَا قَاتِلُكَ لَا مَحَالَةَ. فَقَالَ: وَاللَّهِ يا نبي اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْكَ بِقَتْلِي لِأَجْلِ هَذَا الَّذِي ادَّعَيْتُ عَلَيْهِ، وَإِنِّي لَصَادِقٌ فِيمَا ادَّعَيْتُ وَلَكِنِّي كُنْتُ قَدِ اغْتَلْتُ أَبَاهُ وَقَتَلْتُهُ، وَلَمْ يَشْعُرْ بِذَلِكَ أَحَدٌ فَأَمَرَ بِهِ دَاوُدُ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من س، ت، أ.]] فَقُتِلَ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَاشْتَدَّتْ هَيْبَتُهُ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ وَهُوَ الَّذِي يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ: يَعْنِي: الْفَهْمَ وَالْعَقْلَ وَالْفِطْنَةَ. وَقَالَ مَرَّةً: الْحِكْمَةَ وَالْعَدْلَ. وَقَالَ مَرَّةً: الصَّوَابَ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: كِتَابَ اللَّهِ وَاتِّبَاعَ مَا فِيهِ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: ﴿الْحِكْمَةَ﴾ النُّبُوَّةُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَفَصْلَ الْخِطَابِ﴾ قَالَ شُرَيْحٌ الْقَاضِي وَالشَّعْبِيُّ فَصْلُ الْخِطَابِ: الشُّهُودُ وَالْأَيْمَانُ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: شَاهِدَانِ عَلَى الْمُدَّعِي أَوْ يَمِينُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ هُوَ فَصْلُ الْخِطَابِ الَّذِي فَصَلَ بِهِ الْأَنْبِيَاءُ وَالرُّسُلُ -أَوْ قَالَ: الْمُؤْمِنُونَ وَالصَّالِحُونَ-وَهُوَ قَضَاءُ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَكَذَا قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ وَالسُّدِّيُّ: هُوَ إِصَابَةُ الْقَضَاءِ وَفَهْمِهِ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ أَيْضًا: هُوَ الْفَصْلُ فِي الْكَلَامِ وَفِي الْحُكْمِ [[في ت: "في القضاء والحكم".]]
وَهَذَا يَشْمَلُ هَذَا كُلَّهُ وَهُوَ الْمُرَادُ وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ [[في ت: "ورواه".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ النُّمَيْرِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ قَالَ: "أَمَّا بَعْدُ" دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ فَصْلُ الْخِطَابِ.
وَكَذَا قَالَ الشَّعْبِيُّ: فَصْلُ الْخِطَابِ: "أَمَّا بَعْدُ".
۞ وَهَلْ أَتَىٰكَ نَبَؤُا۟ ٱلْخَصْمِ إِذْ تَسَوَّرُوا۟ ٱلْمِحْرَابَ
And has there come to you the news of the adversaries, when they climbed over the wall of [his] prayer chamber -
بھلا تمہارے پاس ان جھگڑنے والوں کی بھی خبر آئی ہے جب وہ دیوار پھاند کر عبادت خانے میں داخل ہوئے
آیا داستان شاکیان هنگامی که از محراب (داوود) بالا رفتند به تو رسیده است؟!
Tafsir Ibn Kathir
And has the news of the litigants reached you? When they climbed over the wall into (his) Mihrab (private chamber of worship)(21)When they entered in upon Dawud, he was terrified of them. They said: "Fear not! (We are) two litigants, one of us has wronged the other, therefore judge between us with truth, and treat us not with injustice, and guide us to the right way (22)Verily, this my brother (in religion) has ninety-nine ewes, while I have (only) one ewe, and he says: "Hand it over to me, and he overpowered me in speech. (23)[Dawud] said: "He has wronged you in demanding your ewe in addition to his ewes. And, verily, many partners oppress one another, except those who believe and do righteous good deeds, and they are few." And Dawud guessed that We have tried him and he sought forgiveness of his Lord, and he fell down prostrate and turned (to Allah) in repentance (24)So, We forgave him that, and verily, for him is a near access to Us, and a good place of return (25)
The Story of the Two Litigants
In discussing this passage, the scholars of Tafsir mention a story which is mostly based upon Isra'iliyat narrations. Nothing has been reported about this from the Infallible Prophet ﷺ that we could accept as true. But Ibn Abi Hatim narrated a Hadith whose chain of narration cannot be regarded as Sahih because it is reported by Yazid Ar-Raqashi from Anas, may Allah be pleased with him. Although Yazid was one of the righteous, his Hadiths are regarded as weak by the Imams. So, it is better to speak briefly of this story and refer knowledge of it to Allah, may He be exalted. For the Qur'an is true and what it contains is also true.
فَفَزِعَ مِنْهُمْ
(he was terrified of them.) This was because he was in his Mihrab (private chamber). That was the noblest part of his house, where he commanded that no one should enter upon him that day. So, he did not realize that these two people had climbed the fence surrounding his Mihrab (private chamber) to ask him about their case.
وَعَزَّنِي فِي الْخِطَابِ
(and he overpowered me in speech.) means, 'he defeated me.'
وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ
(And Dawud guessed that We have tried him)
Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas said that this means, "We tested him."
وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ
(and he fell down prostrate and turned (to Allah) in repentance.)
فَغَفَرْنَا لَهُ ذَٰلِكَ ۖ
(So, We forgave him that,)
The Sajdah in Surah Sad
The performance of Sajdah in Surah Sad is not one of the obligatory locations; it is a prostration of thanks (Sajdat Shukr). The evidence for it is the report recorded by Imam Ahmad from Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, who said; "The prostration in Surah Sad is not one of the obligatory prostrations; I saw the Messenger of Allah ﷺ prostrating in this Surah." This was also recorded by Al-Bukhari, Abu Dawud, At-Tirmidhi, and An-Nasa'i in his Tafsir. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih." In his Tafsir of this Ayah, An-Nasa'i also recorded that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said, "The Prophet ﷺ prostrated in Sad, and he said:
سَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ تَوْبَةً، وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا
(Dawud prostrated as an act of repentance and we prostrate as an act of thanks.)"
This was recorded only by An-Nasa'i. The men of its chain of narration are all reliable.
In his Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Al-'Awwam said that he asked Mujahid about the prostration in Surah Sad. He said, "I asked Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, 'Why do you prostrate?' He said, 'Have you not read:
وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ
(and among his [Nuh's] progeny Dawud, Sulayman)(6:84)
أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ ۗ
(They are those whom Allah had guided. So follow their guidance)(6:90). Dawud, peace be upon him, was one of those whom your Prophet ﷺ was commanded to follow. Dawud prostrated here so the Messenger of Allah ﷺ also prostrated here.'"
Abu Dawud recorded that Abu Sa'id Al-Khudri, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ recited Sad while he was on the Minbar. When he reached the prostration, he came down from the Minbar and prostrated, and the people prostrated with him. On another occasion when he recited it, he reached the prostration and the people prepared to prostrate. He ﷺ said:
إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَشَزَّنْتُمْ
(This is repentance for a Prophet, but I see that you are preparing to prostrate.) Then he came down (from the Minbar) and prostrated." This was recorded only by Abu Dawud and its chain of narration meets the conditions of the Two Sahihs.
وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ
(and verily, for him is a near access to Us, and a good place of (final) return.) means, on the Day of Resurrection, he will have good deeds by virtue of which he will be brought close to Allah, and he will have a good place of (final) return, which means the lofty levels of Paradise, because of his repentance and his perfect justice in his kingdom. As it says in the Sahih:
الْمُقْسِطُونَ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمٰنِ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يُقْسِطُونَ فِي أَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا
(Those who are fair and just with their families and those who are under their authority will be on Minbars of light on the right hand of Ar-Rahman, and both His Hands are right Hands.)"
Tafsir Ibn Kathir
مفسرین نے یہاں پر ایک قصہ بیان کیا ہے لیکن اس کا اکثر حصہ بنو اسرائیل کی روایاتوں سے لیا گیا ہے۔ حدیث سے ثابت نہیں۔ ابن ابی حاتم میں ایک حدیث ہے لیکن وہ بھی ثابت نہیں کیونکہ اس کا ایک راوی یزید رقاشی ہے گو وہ نہایت نیک شخص ہے لیکن ہے ضعیف۔ پس اولیٰ یہ ہے کہ قرآن میں جو ہے اور جس پر یہ شامل ہے وہ حق ہے۔ حضرت داؤد کا انہیں دیکھ کر گھبرانا اس وجہ سے تھا کہ وہ اپنے تنہائی کے خاص خلوت خانے میں تھے اور پہرہ داروں کو منع کیا تھا کہ کوئی بھی آج اندر نہ آئے اور یکایک ان دونوں کو جو دیکھا تو گھبرا گئے۔ عزنی الخ، سے مطلب بات چیت میں غالب آجانا دوسرے پر چھا جانا ہے۔ حضرت داؤد سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے پس وہ رکوع سجدہ کرتے ہوئے اللہ کی طرف جھک پڑے۔ مذکور ہے کہ چالیس دن تک سجدہ سے سر نہ اٹھایا پس ہم نے اسے بخش دیا۔ یہ یاد رہے کہ جو کام عوام کے لئے نیکیوں کے ہوتے ہیں وہی کام خواص کے لئے بعض مرتبہ بدیوں کے بن جاتے ہیں۔ یہ آیت سجدے کی ہے یا نہیں ؟ اس کی بات امام شافعی کا جدید مذہب تو یہ ہے کہ یہاں سجدہ ضروری نہیں یہ تو سجدہ شکر ہے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ ص ضروری سجدوں میں سے نہیں ہاں میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے (بخاری وغیرہ) نسائی میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہاں سجدہ کر کے فرمایا یہ سجدہ حضرت داؤد کا تو توبہ کے لئے تھا اور ہمارا شکر کے لئے ہے۔ ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے خواب میں دیکھا گویا میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں اور نماز میں میں نے سجدے کی آیت تلاوت کی اور سجدہ کیا تو میرے ساتھ اس درخت نے بھی سجدہ کیا اور میں نے سنا کہ وہ یہ دعا مانگ رہا تھا یعنی اے اللہ ! میرے اس سجدے کو تو میرے لئے اپنے پاس اجر اور خزانے کا سبب بنا اور اس سے تو میرا بوجھ ہلکا کر دے اور اسے مجھ سے قبول فرما جیسے کہ تو نے اپنے بندے داؤد کے سجدے کو قبول فرمایا۔ ابن عباس فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی اور سجدے کی آیت کو پڑھ کر سجدہ کیا اور اس سجدے میں وہی دعا پڑھی جو اس شخص نے درخت کی دعا نقل کی تھی۔ ابن عباس اس آیت کے سجدے پر یہ دلیل وارد کرتے تھے کہ قرآن نے فرمایا ہے اس کی اولاد میں سے داؤد سلیمان ہیں جنہیں ہم نے ہدایت کی تھی پس تو اے نبی ﷺ ان کی ہدایت کی پیروی کر پس حضور ﷺ ان کی اقتداء کے مامور تھے اور یہ صاف ثابت ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے سجدہ کیا اور حضور ﷺ نے بھی یہ سجدہ کیا۔ ابو سعید خدری ؓ کا بیان ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میں سورة ص لکھ رہا ہوں جب آیت سجدہ تک پہنچا تو میں نے دیکھا کہ قلم اور دوات اور میرے آس پاس کی تمام چیزوں نے سجدہ کیا۔ انہوں نے اپنا یہ خواب حضور ﷺ سے بیان کیا پھر آپ اس آیت کی تلاوت کے وقت برابر سجدہ کرتے رہے (احمد) ابو داؤد میں ہے کہ حضور ﷺ نے منبر پر سورة ص پڑھی اور سجدے کی آیت تک پہنچ کر منبر سے اتر کر آپ سجدہ تک پہنچے تو لوگوں نے سجدے کی تیاری کی آپ نے فرمایا یہ تو ایک نبی کی توبہ کا سجدہ تھا لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم سجدہ کرنے کے لئے تیار ہوگئے ہو چناچہ آپ اترے اور سجدہ کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے اسے بخش دیا۔ قیامت کے دن اس کی بڑی منزلت اور قدر ہوگی نبیوں اور عادلوں کا درجہ وہ پائیں گے۔ حدیث میں ہے عادل لوگ نور کے ممبروں پر رحمٰن کے دائیں جانب ہوں گے۔ اللہ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ یہ عادل وہ ہیں جو اپنی اہل و عیال میں اور جن کے وہ مالک ہوں عدل و انصاف کرتے ہیں۔ اور حدیث میں ہے سب سے زیادہ اللہ کے دوست اور سب سے زیادہ اس کے مقرب وہ بادشاہ ہوں گے جو عادل ہوں اور سب سے زیادہ دشمن اور سب سے سخت عذاب والے وہ ہوں گے جو ظالم بادشاہ ہوں۔ (ترمذی وغیرہ) حضرت مالک بن دینار فرماتے ہیں قیامت کے دن حضرت داؤد ؑ کو عرش کے پائے کے پاس کھڑا کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ اے داؤد جس پیاری درد ناک میٹھی اور جاذب آواز سے تم میری تعریفیں دنیا میں کرتے تھے اب بھی کرو۔ آپ فرمائیں گے باری تعالیٰ اب وہ آواز کہاں رہی ؟ اللہ فرمائے گا میں نے وہی آواز آج تمہیں پھر عطا فرمائی۔ اب حضرت داؤد ؑ اپنی دلکش اور دلربا آواز نکال کر نہایت وجد کی حالت میں اللہ کی حمد وثناء بیان کریں گے جسے سن کر جنتی اور نعمتوں کو بھی بھول جائیں گے اور یہ سریلی آواز اور نورانی گلا انہیں سب نعمتوں سے ہٹا کر اپنی طرف متوجہ کرے گا۔
Tafsir Ibn Kathir
قَدْ ذَكَرَ الْمُفَسِّرُونَ هَاهُنَا قِصَّةً أَكْثَرُهَا مَأْخُوذٌ مِنَ الْإِسْرَائِيلِيَّاتِ وَلَمْ يَثْبُتْ فِيهَا عَنِ الْمَعْصُومِ حَدِيثٌ يَجِبُ اتِّبَاعُهُ وَلَكِنْ رَوَى ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ هُنَا حَدِيثًا لَا يَصِحُّ سَنَدُهُ؛ لِأَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ عَنْ أَنَسٍ -وَيَزِيدُ وَإِنْ كَانَ مِنَ الصَّالِحِينَ-لَكِنَّهُ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ عِنْدَ الْأَئِمَّةِ فَالْأُولَى أَنْ [[في ت: "أنه".]] يُقْتَصَرَ عَلَى مُجَرَّدِ تِلَاوَةِ هَذِهِ الْقِصَّةِ وَأَنْ يُرَدَّ عِلْمُهَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ الْقُرْآنَ حَقٌّ وَمَا تَضَمَّنَ فَهُوَ حَقٌّ أَيْضًا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿ [إِذْ دَخَلُوا عَلَى دَاوُدَ] فَفَزِعَ مِنْهُمْ﴾ [[زيادة من ت، أ.]] إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ لِأَنَّهُ كَانَ فِي مِحْرَابِهِ، وَهُوَ أَشْرَفُ مَكَانٍ فِي دَارِهِ وَكَانَ قَدْ أَمَرَ أَلَّا يَدْخُلَ عَلَيْهِ أَحَدٌ ذَلِكَ الْيَوْمَ فَلَمْ يَشْعُرْ إِلَّا بِشَخْصَيْنِ قَدْ تَسَوَّرا عَلَيْهِ الْمِحْرَابَ أَيِ: احْتَاطَا بِهِ يَسْأَلَانِهِ عَنْ شَأْنِهِمَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَعَزَّنِي فِي الْخِطَابِ﴾ أَيْ: غَلَبَنِي يُقَالُ: عَزَّ يَعِزُّ: إِذَا قَهَرَ وَغَلَبَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَظَنَّ دَاوُدُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ﴾ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَيِ اخْتَبَرْنَاهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَخَرَّ رَاكِعًا﴾ أَيْ: سَاجِدًا ﴿وَأَنَابَ﴾ وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ رَكَعَ أَوَّلًا ثُمَّ سَجَدَ بَعْدَ ذَلِكَ وَقَدْ ذَكَرَ أَنَّهُ اسْتَمَرَّ سَاجِدًا أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، ﴿فَغَفَرْنَا لَهُ ذَلِكَ﴾ أَيْ: مَا كَانَ مِنْهُ مِمَّا يُقَالُ فِيهِ: إِنَّ حَسَنَاتِ الْأَبْرَارِ سَيِّئَاتُ الْمُقَرَّبِينَ.
وَقَدِ اخْتَلَفَ الْأَئِمَّةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ [[في أ: "رحمهم الله".]] فِي سَجْدَةِ "ص" هَلْ هِيَ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ؟ عَلَى قَوْلَيْنِ الْجَدِيدُ مِنْ مَذْهَبِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهَا لَيْسَتْ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ بَلْ هِيَ سَجْدَةُ شُكْرٍ. وَالدَّلِيلُ عَلَى ذَلِكَ مَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ حَيْثُ قَالَ:
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ -وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ-عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[في أ: "عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ"، وفي ت: "ما رواه الإمام أحمد بإسناده عن ابن عباس" زيادة من أ.]] أَنَّهُ قَالَ فِي السُّجُودِ فِي "ص": لَيْسَتْ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَسْجُدُ فِيهَا.
وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ فِي تَفْسِيرِهِ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ بِهِ [[المسند (١/٣٦٠) وصحيح البخاري برقم (١٠٦٩) وسنن أبي داود برقم (١٤٠٩) وسنن الترمذي برقم (٥٧٧) .]] وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ [[في أ: "حديث حسن".]] صَحِيحٌ.
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] النَّسَائِيُّ أَيْضًا عِنْدَ تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ -هُوَ الْمِقْسَمِيُّ-حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرِو [[في أ: "عمر".]] بْنُ ذَرٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أن النَّبِيَّ ﷺ سَجَدَ فِي "ص" وَقَالَ: "سَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ تَوْبَةً وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا".
تَفَرَّدَ بِرِوَايَتِهِ النَّسَائِيُّ [[النسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٣٨) .]] وَرِجَالُ إِسْنَادِهِ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ وَقَدْ أَخْبَرَنِي شَيْخُنَا الْحَافِظُ أَبُو الحجاج المزي قراءة عليه وأنا أسمع: أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْمُدَرَّجِيُّ [[في أ: "أبو إسحاق بن المدرجي".]] أَخْبَرَنَا زَاهِرُ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الثَّقَفِيُّ أَخْبَرَنَا زَاهِرُ بْنُ طَاهِرٍ الشَّحَامِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الكَنْجَرُوذي أَخْبَرَنَا الْحَاكِمُ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّرَّاجُ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا محمد بن يزيد ابن خُنَيْس عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبِيدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: قَالَ لِيَ ابْنُ جُرَيْجٍ: يَا حَسَنُ حَدَّثَنِي جَدُّكَ عُبَيْدِ اللَّهِ [[في أ: "عبد الله".]] بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي أُصَلِّي خَلْفَ شَجَرَةٍ فَقَرَأْتُ السَّجْدَةَ فَسَجَدْتُ فَسَجَدَتِ الشَّجَرَةُ لِسُجُودِي فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ وَهِيَ سَاجِدَةٌ: اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا وَاقْبَلْهَا مِنِّي كَمَا قَبِلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ قَامَ فَقَرَأَ السَّجْدَةَ ثُمَّ سَجَدَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ وَهُوَ سَاجِدٌ كَمَا حَكَى الرَّجُلُ مِنْ كَلَامِ الشَّجَرَةِ [[رواه المزي في تهذيب الكمال (٦/٣١٤) .]]
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ قُتَيْبَةَ وَابْنِ مَاجَهْ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ خَلَّادٍ كِلَاهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ [[في أ: "يزيد بن حبيش".]] نَحْوَهُ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ [[سنن الترمذي برقم (٥٧٩) وسنن ابن ماجة برقم (١٠٥٣) .]]
وَقَالَ الْبُخَارِيُّ عِنْدَ تَفْسِيرِهَا أَيْضًا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبِيدِ الطَّنَافِسِيُّ عَنِ الْعَوَامِّ قَالَ: سَأَلْتُ مُجَاهِدًا عَنْ سَجْدَةِ "ص" فَقَالَ: [[في ت: "بإسناده إلى مجاهد قال".]] سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: مِنْ أين سجدت؟ فقال: أو ما تَقْرَأُ: ﴿وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ﴾ [الْأَنْعَامِ:٨٤] ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهِ﴾ [الْأَنْعَامِ:٩٠] [[في ت، س، أ: "هداهم" وهو خطأ، والصواب ما أثبتناه.]] فَكَانَ دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِمَّنْ [[في ت، س: "فيمن".]] أُمِرَ نَبِيُّكُمْ ﷺ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِ فَسَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَسَجَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ [[صحيح البخاري برقم (٤٨٠٧) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا بَكْرٌ -هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ-أَنَّهُ أَخْبَرَهُ [[في ت: "بإسناده".]] أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ [[في أ: "الخدري رضي الله عنه".]] رَأَى رُؤْيَا أَنَّهُ يَكْتُبُ "ص" فَلَمَّا بَلَغَ إِلَى الَّتِي يَسْجُدُ بِهَا رَأَى الدَّوَاةَ وَالْقَلَمَ وَكُلَّ شَيْءٍ بِحَضْرَتِهِ انْقَلَبَ سَاجِدًا قَالَ: فَقَصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ ﷺ فَلَمْ يَزَلْ يَسْجُدُ بِهَا بَعْدُ. تَفَرَّدَ بِهِ [الْإِمَامُ] [[زيادة من أ.]] أَحْمَدُ [[المسند (٣/٧٨) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] أَبُو دَاوُدَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عن أبي سعيد الخدري رضي اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ "ص" فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمٌ آخَرُ قَرَأَهَا فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَشَزّن [[في ت: "تشدد".]] النَّاسُ لِلسُّجُودِ، فَقَالَ: "إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَشَزّنْتُم". فَنَزَلَ وَسَجَدَ وَسَجَدُوا. تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو دَاوُدَ [[سنن أبي داود برقم (١٤١٠) .]] وَإِسْنَادُهُ عَلَى شَرْطِ الصَّحِيحِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ﴾ أَيْ: وَإِنَّ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَقُرْبَةً يُقَرِّبُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا وَحُسْنَ مَرْجِعٍ وَهُوَ الدَّرَجَاتُ الْعَالِيَاتُ فِي الْجَنَّةِ لِتَوْبَتِهِ [[في ت، س: "لنبوته".]] وَعَدْلِهِ التَّامِّ فِي مُلْكِهِ كَمَا جَاءَ فِي الصَّحِيحِ: "الْمُقْسِطُونَ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ الَّذِينَ يُقْسِطُونَ فِي أَهْلِيهِمْ وَمَا وُلُّوا" [[صحيح مسلم برقم (١٨٢٧) من حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ عَنْ عَطِيَّةَ [[في ت: "وروى الترمذي".]] عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَقْرَبَهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا إِمَامٌ عَادِلٌ [[في أ: "عدل".]] وَإِنَّ أَبْغَضَ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَشَدَّهُمْ عَذَابًا إِمَامٌ جَائِرٌ". وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مِنْ حَدِيثِ فُضَيْلٍ -وَهُوَ ابْنُ مَرْزُوقٍ الْأَغَرُّ-عَنْ عَطِيَّةَ بِهِ [[المسند (٣/٢٢) وسنن الترمذي برقم (١٣٢٩) .]] وَقَالَ: لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ دِينَارٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ﴾ قَالَ: يُقَامُ دَاوُدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ سَاقِ الْعَرْشِ ثُمَّ يَقُولُ: يَا دَاوُدُ مَجِّدْنِي الْيَوْمَ بِذَلِكَ الصَّوْتِ الْحَسَنِ الرَّخِيمِ الَّذِي كُنْتَ تُمَجِّدُنِي بِهِ فِي الدُّنْيَا. فَيَقُولُ: وَكَيْفَ وَقَدْ سُلِبْتُهُ؟ فَيَقُولُ: إِنِّي أَرُدُّهُ عَلَيْكَ الْيَوْمَ. قَالَ: فَيَرْفَعُ دَاوُدُ بِصَوْتٍ يَسْتَفْرِغُ نعيم أهل الجنان.
إِذْ دَخَلُوا۟ عَلَىٰ دَاوُۥدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ ۖ قَالُوا۟ لَا تَخَفْ ۖ خَصْمَانِ بَغَىٰ بَعْضُنَا عَلَىٰ بَعْضٍۢ فَٱحْكُم بَيْنَنَا بِٱلْحَقِّ وَلَا تُشْطِطْ وَٱهْدِنَآ إِلَىٰ سَوَآءِ ٱلصِّرَٰطِ
When they entered upon David and he was alarmed by them? They said, "Fear not. [We are] two adversaries, one of whom has wronged the other, so judge between us with truth and do not exceed [it] and guide us to the sound path.
جس وقت وہ داؤد کے پاس آئے تو وہ ان سے گھبرا گئے انہوں نے کہا کہ خوف نہ کیجیئے۔ ہم دونوں کا ایک مقدمہ ہے کہ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے تو آپ ہم میں انصاف کا فیصلہ کر دیجیئے اور بےانصافی نہ کیجیئے گا اور ہم کو سیدھا رستہ دکھا دیجیئے
در آن هنگام که (بیمقدمه) بر او وارد شدند و او از دیدن آنها وحشت کرد؛ گفتند: «نترس، دو نفر شاکی هستیم که یکی از ما بر دیگری ستم کرده؛ اکنون در میان ما بحق داوری کن و ستم روا مدار و ما را به راه راست هدایت کن!
Tafsir Ibn Kathir
And has the news of the litigants reached you? When they climbed over the wall into (his) Mihrab (private chamber of worship)(21)When they entered in upon Dawud, he was terrified of them. They said: "Fear not! (We are) two litigants, one of us has wronged the other, therefore judge between us with truth, and treat us not with injustice, and guide us to the right way (22)Verily, this my brother (in religion) has ninety-nine ewes, while I have (only) one ewe, and he says: "Hand it over to me, and he overpowered me in speech. (23)[Dawud] said: "He has wronged you in demanding your ewe in addition to his ewes. And, verily, many partners oppress one another, except those who believe and do righteous good deeds, and they are few." And Dawud guessed that We have tried him and he sought forgiveness of his Lord, and he fell down prostrate and turned (to Allah) in repentance (24)So, We forgave him that, and verily, for him is a near access to Us, and a good place of return (25)
The Story of the Two Litigants
In discussing this passage, the scholars of Tafsir mention a story which is mostly based upon Isra'iliyat narrations. Nothing has been reported about this from the Infallible Prophet ﷺ that we could accept as true. But Ibn Abi Hatim narrated a Hadith whose chain of narration cannot be regarded as Sahih because it is reported by Yazid Ar-Raqashi from Anas, may Allah be pleased with him. Although Yazid was one of the righteous, his Hadiths are regarded as weak by the Imams. So, it is better to speak briefly of this story and refer knowledge of it to Allah, may He be exalted. For the Qur'an is true and what it contains is also true.
فَفَزِعَ مِنْهُمْ
(he was terrified of them.) This was because he was in his Mihrab (private chamber). That was the noblest part of his house, where he commanded that no one should enter upon him that day. So, he did not realize that these two people had climbed the fence surrounding his Mihrab (private chamber) to ask him about their case.
وَعَزَّنِي فِي الْخِطَابِ
(and he overpowered me in speech.) means, 'he defeated me.'
وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ
(And Dawud guessed that We have tried him)
Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas said that this means, "We tested him."
وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ
(and he fell down prostrate and turned (to Allah) in repentance.)
فَغَفَرْنَا لَهُ ذَٰلِكَ ۖ
(So, We forgave him that,)
The Sajdah in Surah Sad
The performance of Sajdah in Surah Sad is not one of the obligatory locations; it is a prostration of thanks (Sajdat Shukr). The evidence for it is the report recorded by Imam Ahmad from Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, who said; "The prostration in Surah Sad is not one of the obligatory prostrations; I saw the Messenger of Allah ﷺ prostrating in this Surah." This was also recorded by Al-Bukhari, Abu Dawud, At-Tirmidhi, and An-Nasa'i in his Tafsir. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih." In his Tafsir of this Ayah, An-Nasa'i also recorded that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said, "The Prophet ﷺ prostrated in Sad, and he said:
سَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ تَوْبَةً، وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا
(Dawud prostrated as an act of repentance and we prostrate as an act of thanks.)"
This was recorded only by An-Nasa'i. The men of its chain of narration are all reliable.
In his Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Al-'Awwam said that he asked Mujahid about the prostration in Surah Sad. He said, "I asked Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, 'Why do you prostrate?' He said, 'Have you not read:
وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ
(and among his [Nuh's] progeny Dawud, Sulayman)(6:84)
أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ ۗ
(They are those whom Allah had guided. So follow their guidance)(6:90). Dawud, peace be upon him, was one of those whom your Prophet ﷺ was commanded to follow. Dawud prostrated here so the Messenger of Allah ﷺ also prostrated here.'"
Abu Dawud recorded that Abu Sa'id Al-Khudri, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ recited Sad while he was on the Minbar. When he reached the prostration, he came down from the Minbar and prostrated, and the people prostrated with him. On another occasion when he recited it, he reached the prostration and the people prepared to prostrate. He ﷺ said:
إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَشَزَّنْتُمْ
(This is repentance for a Prophet, but I see that you are preparing to prostrate.) Then he came down (from the Minbar) and prostrated." This was recorded only by Abu Dawud and its chain of narration meets the conditions of the Two Sahihs.
وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ
(and verily, for him is a near access to Us, and a good place of (final) return.) means, on the Day of Resurrection, he will have good deeds by virtue of which he will be brought close to Allah, and he will have a good place of (final) return, which means the lofty levels of Paradise, because of his repentance and his perfect justice in his kingdom. As it says in the Sahih:
الْمُقْسِطُونَ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمٰنِ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يُقْسِطُونَ فِي أَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا
(Those who are fair and just with their families and those who are under their authority will be on Minbars of light on the right hand of Ar-Rahman, and both His Hands are right Hands.)"
Tafsir Ibn Kathir
مفسرین نے یہاں پر ایک قصہ بیان کیا ہے لیکن اس کا اکثر حصہ بنو اسرائیل کی روایاتوں سے لیا گیا ہے۔ حدیث سے ثابت نہیں۔ ابن ابی حاتم میں ایک حدیث ہے لیکن وہ بھی ثابت نہیں کیونکہ اس کا ایک راوی یزید رقاشی ہے گو وہ نہایت نیک شخص ہے لیکن ہے ضعیف۔ پس اولیٰ یہ ہے کہ قرآن میں جو ہے اور جس پر یہ شامل ہے وہ حق ہے۔ حضرت داؤد کا انہیں دیکھ کر گھبرانا اس وجہ سے تھا کہ وہ اپنے تنہائی کے خاص خلوت خانے میں تھے اور پہرہ داروں کو منع کیا تھا کہ کوئی بھی آج اندر نہ آئے اور یکایک ان دونوں کو جو دیکھا تو گھبرا گئے۔ عزنی الخ، سے مطلب بات چیت میں غالب آجانا دوسرے پر چھا جانا ہے۔ حضرت داؤد سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے پس وہ رکوع سجدہ کرتے ہوئے اللہ کی طرف جھک پڑے۔ مذکور ہے کہ چالیس دن تک سجدہ سے سر نہ اٹھایا پس ہم نے اسے بخش دیا۔ یہ یاد رہے کہ جو کام عوام کے لئے نیکیوں کے ہوتے ہیں وہی کام خواص کے لئے بعض مرتبہ بدیوں کے بن جاتے ہیں۔ یہ آیت سجدے کی ہے یا نہیں ؟ اس کی بات امام شافعی کا جدید مذہب تو یہ ہے کہ یہاں سجدہ ضروری نہیں یہ تو سجدہ شکر ہے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ ص ضروری سجدوں میں سے نہیں ہاں میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے (بخاری وغیرہ) نسائی میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہاں سجدہ کر کے فرمایا یہ سجدہ حضرت داؤد کا تو توبہ کے لئے تھا اور ہمارا شکر کے لئے ہے۔ ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے خواب میں دیکھا گویا میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں اور نماز میں میں نے سجدے کی آیت تلاوت کی اور سجدہ کیا تو میرے ساتھ اس درخت نے بھی سجدہ کیا اور میں نے سنا کہ وہ یہ دعا مانگ رہا تھا یعنی اے اللہ ! میرے اس سجدے کو تو میرے لئے اپنے پاس اجر اور خزانے کا سبب بنا اور اس سے تو میرا بوجھ ہلکا کر دے اور اسے مجھ سے قبول فرما جیسے کہ تو نے اپنے بندے داؤد کے سجدے کو قبول فرمایا۔ ابن عباس فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی اور سجدے کی آیت کو پڑھ کر سجدہ کیا اور اس سجدے میں وہی دعا پڑھی جو اس شخص نے درخت کی دعا نقل کی تھی۔ ابن عباس اس آیت کے سجدے پر یہ دلیل وارد کرتے تھے کہ قرآن نے فرمایا ہے اس کی اولاد میں سے داؤد سلیمان ہیں جنہیں ہم نے ہدایت کی تھی پس تو اے نبی ﷺ ان کی ہدایت کی پیروی کر پس حضور ﷺ ان کی اقتداء کے مامور تھے اور یہ صاف ثابت ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے سجدہ کیا اور حضور ﷺ نے بھی یہ سجدہ کیا۔ ابو سعید خدری ؓ کا بیان ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میں سورة ص لکھ رہا ہوں جب آیت سجدہ تک پہنچا تو میں نے دیکھا کہ قلم اور دوات اور میرے آس پاس کی تمام چیزوں نے سجدہ کیا۔ انہوں نے اپنا یہ خواب حضور ﷺ سے بیان کیا پھر آپ اس آیت کی تلاوت کے وقت برابر سجدہ کرتے رہے (احمد) ابو داؤد میں ہے کہ حضور ﷺ نے منبر پر سورة ص پڑھی اور سجدے کی آیت تک پہنچ کر منبر سے اتر کر آپ سجدہ تک پہنچے تو لوگوں نے سجدے کی تیاری کی آپ نے فرمایا یہ تو ایک نبی کی توبہ کا سجدہ تھا لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم سجدہ کرنے کے لئے تیار ہوگئے ہو چناچہ آپ اترے اور سجدہ کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے اسے بخش دیا۔ قیامت کے دن اس کی بڑی منزلت اور قدر ہوگی نبیوں اور عادلوں کا درجہ وہ پائیں گے۔ حدیث میں ہے عادل لوگ نور کے ممبروں پر رحمٰن کے دائیں جانب ہوں گے۔ اللہ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ یہ عادل وہ ہیں جو اپنی اہل و عیال میں اور جن کے وہ مالک ہوں عدل و انصاف کرتے ہیں۔ اور حدیث میں ہے سب سے زیادہ اللہ کے دوست اور سب سے زیادہ اس کے مقرب وہ بادشاہ ہوں گے جو عادل ہوں اور سب سے زیادہ دشمن اور سب سے سخت عذاب والے وہ ہوں گے جو ظالم بادشاہ ہوں۔ (ترمذی وغیرہ) حضرت مالک بن دینار فرماتے ہیں قیامت کے دن حضرت داؤد ؑ کو عرش کے پائے کے پاس کھڑا کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ اے داؤد جس پیاری درد ناک میٹھی اور جاذب آواز سے تم میری تعریفیں دنیا میں کرتے تھے اب بھی کرو۔ آپ فرمائیں گے باری تعالیٰ اب وہ آواز کہاں رہی ؟ اللہ فرمائے گا میں نے وہی آواز آج تمہیں پھر عطا فرمائی۔ اب حضرت داؤد ؑ اپنی دلکش اور دلربا آواز نکال کر نہایت وجد کی حالت میں اللہ کی حمد وثناء بیان کریں گے جسے سن کر جنتی اور نعمتوں کو بھی بھول جائیں گے اور یہ سریلی آواز اور نورانی گلا انہیں سب نعمتوں سے ہٹا کر اپنی طرف متوجہ کرے گا۔
Tafsir Ibn Kathir
قَدْ ذَكَرَ الْمُفَسِّرُونَ هَاهُنَا قِصَّةً أَكْثَرُهَا مَأْخُوذٌ مِنَ الْإِسْرَائِيلِيَّاتِ وَلَمْ يَثْبُتْ فِيهَا عَنِ الْمَعْصُومِ حَدِيثٌ يَجِبُ اتِّبَاعُهُ وَلَكِنْ رَوَى ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ هُنَا حَدِيثًا لَا يَصِحُّ سَنَدُهُ؛ لِأَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ عَنْ أَنَسٍ -وَيَزِيدُ وَإِنْ كَانَ مِنَ الصَّالِحِينَ-لَكِنَّهُ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ عِنْدَ الْأَئِمَّةِ فَالْأُولَى أَنْ [[في ت: "أنه".]] يُقْتَصَرَ عَلَى مُجَرَّدِ تِلَاوَةِ هَذِهِ الْقِصَّةِ وَأَنْ يُرَدَّ عِلْمُهَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ الْقُرْآنَ حَقٌّ وَمَا تَضَمَّنَ فَهُوَ حَقٌّ أَيْضًا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿ [إِذْ دَخَلُوا عَلَى دَاوُدَ] فَفَزِعَ مِنْهُمْ﴾ [[زيادة من ت، أ.]] إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ لِأَنَّهُ كَانَ فِي مِحْرَابِهِ، وَهُوَ أَشْرَفُ مَكَانٍ فِي دَارِهِ وَكَانَ قَدْ أَمَرَ أَلَّا يَدْخُلَ عَلَيْهِ أَحَدٌ ذَلِكَ الْيَوْمَ فَلَمْ يَشْعُرْ إِلَّا بِشَخْصَيْنِ قَدْ تَسَوَّرا عَلَيْهِ الْمِحْرَابَ أَيِ: احْتَاطَا بِهِ يَسْأَلَانِهِ عَنْ شَأْنِهِمَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَعَزَّنِي فِي الْخِطَابِ﴾ أَيْ: غَلَبَنِي يُقَالُ: عَزَّ يَعِزُّ: إِذَا قَهَرَ وَغَلَبَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَظَنَّ دَاوُدُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ﴾ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَيِ اخْتَبَرْنَاهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَخَرَّ رَاكِعًا﴾ أَيْ: سَاجِدًا ﴿وَأَنَابَ﴾ وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ رَكَعَ أَوَّلًا ثُمَّ سَجَدَ بَعْدَ ذَلِكَ وَقَدْ ذَكَرَ أَنَّهُ اسْتَمَرَّ سَاجِدًا أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، ﴿فَغَفَرْنَا لَهُ ذَلِكَ﴾ أَيْ: مَا كَانَ مِنْهُ مِمَّا يُقَالُ فِيهِ: إِنَّ حَسَنَاتِ الْأَبْرَارِ سَيِّئَاتُ الْمُقَرَّبِينَ.
وَقَدِ اخْتَلَفَ الْأَئِمَّةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ [[في أ: "رحمهم الله".]] فِي سَجْدَةِ "ص" هَلْ هِيَ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ؟ عَلَى قَوْلَيْنِ الْجَدِيدُ مِنْ مَذْهَبِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهَا لَيْسَتْ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ بَلْ هِيَ سَجْدَةُ شُكْرٍ. وَالدَّلِيلُ عَلَى ذَلِكَ مَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ حَيْثُ قَالَ:
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ -وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ-عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[في أ: "عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ"، وفي ت: "ما رواه الإمام أحمد بإسناده عن ابن عباس" زيادة من أ.]] أَنَّهُ قَالَ فِي السُّجُودِ فِي "ص": لَيْسَتْ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَسْجُدُ فِيهَا.
وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ فِي تَفْسِيرِهِ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ بِهِ [[المسند (١/٣٦٠) وصحيح البخاري برقم (١٠٦٩) وسنن أبي داود برقم (١٤٠٩) وسنن الترمذي برقم (٥٧٧) .]] وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ [[في أ: "حديث حسن".]] صَحِيحٌ.
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] النَّسَائِيُّ أَيْضًا عِنْدَ تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ -هُوَ الْمِقْسَمِيُّ-حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرِو [[في أ: "عمر".]] بْنُ ذَرٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أن النَّبِيَّ ﷺ سَجَدَ فِي "ص" وَقَالَ: "سَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ تَوْبَةً وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا".
تَفَرَّدَ بِرِوَايَتِهِ النَّسَائِيُّ [[النسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٣٨) .]] وَرِجَالُ إِسْنَادِهِ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ وَقَدْ أَخْبَرَنِي شَيْخُنَا الْحَافِظُ أَبُو الحجاج المزي قراءة عليه وأنا أسمع: أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْمُدَرَّجِيُّ [[في أ: "أبو إسحاق بن المدرجي".]] أَخْبَرَنَا زَاهِرُ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الثَّقَفِيُّ أَخْبَرَنَا زَاهِرُ بْنُ طَاهِرٍ الشَّحَامِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الكَنْجَرُوذي أَخْبَرَنَا الْحَاكِمُ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّرَّاجُ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا محمد بن يزيد ابن خُنَيْس عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبِيدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: قَالَ لِيَ ابْنُ جُرَيْجٍ: يَا حَسَنُ حَدَّثَنِي جَدُّكَ عُبَيْدِ اللَّهِ [[في أ: "عبد الله".]] بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي أُصَلِّي خَلْفَ شَجَرَةٍ فَقَرَأْتُ السَّجْدَةَ فَسَجَدْتُ فَسَجَدَتِ الشَّجَرَةُ لِسُجُودِي فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ وَهِيَ سَاجِدَةٌ: اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا وَاقْبَلْهَا مِنِّي كَمَا قَبِلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ قَامَ فَقَرَأَ السَّجْدَةَ ثُمَّ سَجَدَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ وَهُوَ سَاجِدٌ كَمَا حَكَى الرَّجُلُ مِنْ كَلَامِ الشَّجَرَةِ [[رواه المزي في تهذيب الكمال (٦/٣١٤) .]]
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ قُتَيْبَةَ وَابْنِ مَاجَهْ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ خَلَّادٍ كِلَاهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ [[في أ: "يزيد بن حبيش".]] نَحْوَهُ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ [[سنن الترمذي برقم (٥٧٩) وسنن ابن ماجة برقم (١٠٥٣) .]]
وَقَالَ الْبُخَارِيُّ عِنْدَ تَفْسِيرِهَا أَيْضًا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبِيدِ الطَّنَافِسِيُّ عَنِ الْعَوَامِّ قَالَ: سَأَلْتُ مُجَاهِدًا عَنْ سَجْدَةِ "ص" فَقَالَ: [[في ت: "بإسناده إلى مجاهد قال".]] سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: مِنْ أين سجدت؟ فقال: أو ما تَقْرَأُ: ﴿وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ﴾ [الْأَنْعَامِ:٨٤] ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهِ﴾ [الْأَنْعَامِ:٩٠] [[في ت، س، أ: "هداهم" وهو خطأ، والصواب ما أثبتناه.]] فَكَانَ دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِمَّنْ [[في ت، س: "فيمن".]] أُمِرَ نَبِيُّكُمْ ﷺ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِ فَسَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَسَجَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ [[صحيح البخاري برقم (٤٨٠٧) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا بَكْرٌ -هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ-أَنَّهُ أَخْبَرَهُ [[في ت: "بإسناده".]] أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ [[في أ: "الخدري رضي الله عنه".]] رَأَى رُؤْيَا أَنَّهُ يَكْتُبُ "ص" فَلَمَّا بَلَغَ إِلَى الَّتِي يَسْجُدُ بِهَا رَأَى الدَّوَاةَ وَالْقَلَمَ وَكُلَّ شَيْءٍ بِحَضْرَتِهِ انْقَلَبَ سَاجِدًا قَالَ: فَقَصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ ﷺ فَلَمْ يَزَلْ يَسْجُدُ بِهَا بَعْدُ. تَفَرَّدَ بِهِ [الْإِمَامُ] [[زيادة من أ.]] أَحْمَدُ [[المسند (٣/٧٨) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] أَبُو دَاوُدَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عن أبي سعيد الخدري رضي اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ "ص" فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمٌ آخَرُ قَرَأَهَا فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَشَزّن [[في ت: "تشدد".]] النَّاسُ لِلسُّجُودِ، فَقَالَ: "إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَشَزّنْتُم". فَنَزَلَ وَسَجَدَ وَسَجَدُوا. تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو دَاوُدَ [[سنن أبي داود برقم (١٤١٠) .]] وَإِسْنَادُهُ عَلَى شَرْطِ الصَّحِيحِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ﴾ أَيْ: وَإِنَّ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَقُرْبَةً يُقَرِّبُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا وَحُسْنَ مَرْجِعٍ وَهُوَ الدَّرَجَاتُ الْعَالِيَاتُ فِي الْجَنَّةِ لِتَوْبَتِهِ [[في ت، س: "لنبوته".]] وَعَدْلِهِ التَّامِّ فِي مُلْكِهِ كَمَا جَاءَ فِي الصَّحِيحِ: "الْمُقْسِطُونَ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ الَّذِينَ يُقْسِطُونَ فِي أَهْلِيهِمْ وَمَا وُلُّوا" [[صحيح مسلم برقم (١٨٢٧) من حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ عَنْ عَطِيَّةَ [[في ت: "وروى الترمذي".]] عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَقْرَبَهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا إِمَامٌ عَادِلٌ [[في أ: "عدل".]] وَإِنَّ أَبْغَضَ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَشَدَّهُمْ عَذَابًا إِمَامٌ جَائِرٌ". وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مِنْ حَدِيثِ فُضَيْلٍ -وَهُوَ ابْنُ مَرْزُوقٍ الْأَغَرُّ-عَنْ عَطِيَّةَ بِهِ [[المسند (٣/٢٢) وسنن الترمذي برقم (١٣٢٩) .]] وَقَالَ: لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ دِينَارٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ﴾ قَالَ: يُقَامُ دَاوُدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ سَاقِ الْعَرْشِ ثُمَّ يَقُولُ: يَا دَاوُدُ مَجِّدْنِي الْيَوْمَ بِذَلِكَ الصَّوْتِ الْحَسَنِ الرَّخِيمِ الَّذِي كُنْتَ تُمَجِّدُنِي بِهِ فِي الدُّنْيَا. فَيَقُولُ: وَكَيْفَ وَقَدْ سُلِبْتُهُ؟ فَيَقُولُ: إِنِّي أَرُدُّهُ عَلَيْكَ الْيَوْمَ. قَالَ: فَيَرْفَعُ دَاوُدُ بِصَوْتٍ يَسْتَفْرِغُ نعيم أهل الجنان.
إِنَّ هَٰذَآ أَخِى لَهُۥ تِسْعٌۭ وَتِسْعُونَ نَعْجَةًۭ وَلِىَ نَعْجَةٌۭ وَٰحِدَةٌۭ فَقَالَ أَكْفِلْنِيهَا وَعَزَّنِى فِى ٱلْخِطَابِ
Indeed this, my brother, has ninety-nine ewes, and I have one ewe; so he said, 'Entrust her to me,' and he overpowered me in speech."
(کیفیت یہ ہے کہ) یہ میرا بھائی ہے اس کے (ہاں) ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے (پاس) ایک دُنبی ہے۔ یہ کہتا ہے کہ یہ بھی میرے حوالے کردے اور گفتگو میں مجھ پر زبردستی کرتا ہے
این برادر من است؛ و او نود و نه میش دارد و من یکی بیش ندارم امّا او اصرار میکند که: این یکی را هم به من واگذار؛ و در سخن بر من غلبه کرده است!»
Tafsir Ibn Kathir
And has the news of the litigants reached you? When they climbed over the wall into (his) Mihrab (private chamber of worship)(21)When they entered in upon Dawud, he was terrified of them. They said: "Fear not! (We are) two litigants, one of us has wronged the other, therefore judge between us with truth, and treat us not with injustice, and guide us to the right way (22)Verily, this my brother (in religion) has ninety-nine ewes, while I have (only) one ewe, and he says: "Hand it over to me, and he overpowered me in speech. (23)[Dawud] said: "He has wronged you in demanding your ewe in addition to his ewes. And, verily, many partners oppress one another, except those who believe and do righteous good deeds, and they are few." And Dawud guessed that We have tried him and he sought forgiveness of his Lord, and he fell down prostrate and turned (to Allah) in repentance (24)So, We forgave him that, and verily, for him is a near access to Us, and a good place of return (25)
The Story of the Two Litigants
In discussing this passage, the scholars of Tafsir mention a story which is mostly based upon Isra'iliyat narrations. Nothing has been reported about this from the Infallible Prophet ﷺ that we could accept as true. But Ibn Abi Hatim narrated a Hadith whose chain of narration cannot be regarded as Sahih because it is reported by Yazid Ar-Raqashi from Anas, may Allah be pleased with him. Although Yazid was one of the righteous, his Hadiths are regarded as weak by the Imams. So, it is better to speak briefly of this story and refer knowledge of it to Allah, may He be exalted. For the Qur'an is true and what it contains is also true.
فَفَزِعَ مِنْهُمْ
(he was terrified of them.) This was because he was in his Mihrab (private chamber). That was the noblest part of his house, where he commanded that no one should enter upon him that day. So, he did not realize that these two people had climbed the fence surrounding his Mihrab (private chamber) to ask him about their case.
وَعَزَّنِي فِي الْخِطَابِ
(and he overpowered me in speech.) means, 'he defeated me.'
وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ
(And Dawud guessed that We have tried him)
Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas said that this means, "We tested him."
وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ
(and he fell down prostrate and turned (to Allah) in repentance.)
فَغَفَرْنَا لَهُ ذَٰلِكَ ۖ
(So, We forgave him that,)
The Sajdah in Surah Sad
The performance of Sajdah in Surah Sad is not one of the obligatory locations; it is a prostration of thanks (Sajdat Shukr). The evidence for it is the report recorded by Imam Ahmad from Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, who said; "The prostration in Surah Sad is not one of the obligatory prostrations; I saw the Messenger of Allah ﷺ prostrating in this Surah." This was also recorded by Al-Bukhari, Abu Dawud, At-Tirmidhi, and An-Nasa'i in his Tafsir. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih." In his Tafsir of this Ayah, An-Nasa'i also recorded that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said, "The Prophet ﷺ prostrated in Sad, and he said:
سَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ تَوْبَةً، وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا
(Dawud prostrated as an act of repentance and we prostrate as an act of thanks.)"
This was recorded only by An-Nasa'i. The men of its chain of narration are all reliable.
In his Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Al-'Awwam said that he asked Mujahid about the prostration in Surah Sad. He said, "I asked Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, 'Why do you prostrate?' He said, 'Have you not read:
وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ
(and among his [Nuh's] progeny Dawud, Sulayman)(6:84)
أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ ۗ
(They are those whom Allah had guided. So follow their guidance)(6:90). Dawud, peace be upon him, was one of those whom your Prophet ﷺ was commanded to follow. Dawud prostrated here so the Messenger of Allah ﷺ also prostrated here.'"
Abu Dawud recorded that Abu Sa'id Al-Khudri, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ recited Sad while he was on the Minbar. When he reached the prostration, he came down from the Minbar and prostrated, and the people prostrated with him. On another occasion when he recited it, he reached the prostration and the people prepared to prostrate. He ﷺ said:
إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَشَزَّنْتُمْ
(This is repentance for a Prophet, but I see that you are preparing to prostrate.) Then he came down (from the Minbar) and prostrated." This was recorded only by Abu Dawud and its chain of narration meets the conditions of the Two Sahihs.
وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ
(and verily, for him is a near access to Us, and a good place of (final) return.) means, on the Day of Resurrection, he will have good deeds by virtue of which he will be brought close to Allah, and he will have a good place of (final) return, which means the lofty levels of Paradise, because of his repentance and his perfect justice in his kingdom. As it says in the Sahih:
الْمُقْسِطُونَ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمٰنِ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يُقْسِطُونَ فِي أَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا
(Those who are fair and just with their families and those who are under their authority will be on Minbars of light on the right hand of Ar-Rahman, and both His Hands are right Hands.)"
Tafsir Ibn Kathir
مفسرین نے یہاں پر ایک قصہ بیان کیا ہے لیکن اس کا اکثر حصہ بنو اسرائیل کی روایاتوں سے لیا گیا ہے۔ حدیث سے ثابت نہیں۔ ابن ابی حاتم میں ایک حدیث ہے لیکن وہ بھی ثابت نہیں کیونکہ اس کا ایک راوی یزید رقاشی ہے گو وہ نہایت نیک شخص ہے لیکن ہے ضعیف۔ پس اولیٰ یہ ہے کہ قرآن میں جو ہے اور جس پر یہ شامل ہے وہ حق ہے۔ حضرت داؤد کا انہیں دیکھ کر گھبرانا اس وجہ سے تھا کہ وہ اپنے تنہائی کے خاص خلوت خانے میں تھے اور پہرہ داروں کو منع کیا تھا کہ کوئی بھی آج اندر نہ آئے اور یکایک ان دونوں کو جو دیکھا تو گھبرا گئے۔ عزنی الخ، سے مطلب بات چیت میں غالب آجانا دوسرے پر چھا جانا ہے۔ حضرت داؤد سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے پس وہ رکوع سجدہ کرتے ہوئے اللہ کی طرف جھک پڑے۔ مذکور ہے کہ چالیس دن تک سجدہ سے سر نہ اٹھایا پس ہم نے اسے بخش دیا۔ یہ یاد رہے کہ جو کام عوام کے لئے نیکیوں کے ہوتے ہیں وہی کام خواص کے لئے بعض مرتبہ بدیوں کے بن جاتے ہیں۔ یہ آیت سجدے کی ہے یا نہیں ؟ اس کی بات امام شافعی کا جدید مذہب تو یہ ہے کہ یہاں سجدہ ضروری نہیں یہ تو سجدہ شکر ہے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ ص ضروری سجدوں میں سے نہیں ہاں میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے (بخاری وغیرہ) نسائی میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہاں سجدہ کر کے فرمایا یہ سجدہ حضرت داؤد کا تو توبہ کے لئے تھا اور ہمارا شکر کے لئے ہے۔ ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے خواب میں دیکھا گویا میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں اور نماز میں میں نے سجدے کی آیت تلاوت کی اور سجدہ کیا تو میرے ساتھ اس درخت نے بھی سجدہ کیا اور میں نے سنا کہ وہ یہ دعا مانگ رہا تھا یعنی اے اللہ ! میرے اس سجدے کو تو میرے لئے اپنے پاس اجر اور خزانے کا سبب بنا اور اس سے تو میرا بوجھ ہلکا کر دے اور اسے مجھ سے قبول فرما جیسے کہ تو نے اپنے بندے داؤد کے سجدے کو قبول فرمایا۔ ابن عباس فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی اور سجدے کی آیت کو پڑھ کر سجدہ کیا اور اس سجدے میں وہی دعا پڑھی جو اس شخص نے درخت کی دعا نقل کی تھی۔ ابن عباس اس آیت کے سجدے پر یہ دلیل وارد کرتے تھے کہ قرآن نے فرمایا ہے اس کی اولاد میں سے داؤد سلیمان ہیں جنہیں ہم نے ہدایت کی تھی پس تو اے نبی ﷺ ان کی ہدایت کی پیروی کر پس حضور ﷺ ان کی اقتداء کے مامور تھے اور یہ صاف ثابت ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے سجدہ کیا اور حضور ﷺ نے بھی یہ سجدہ کیا۔ ابو سعید خدری ؓ کا بیان ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میں سورة ص لکھ رہا ہوں جب آیت سجدہ تک پہنچا تو میں نے دیکھا کہ قلم اور دوات اور میرے آس پاس کی تمام چیزوں نے سجدہ کیا۔ انہوں نے اپنا یہ خواب حضور ﷺ سے بیان کیا پھر آپ اس آیت کی تلاوت کے وقت برابر سجدہ کرتے رہے (احمد) ابو داؤد میں ہے کہ حضور ﷺ نے منبر پر سورة ص پڑھی اور سجدے کی آیت تک پہنچ کر منبر سے اتر کر آپ سجدہ تک پہنچے تو لوگوں نے سجدے کی تیاری کی آپ نے فرمایا یہ تو ایک نبی کی توبہ کا سجدہ تھا لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم سجدہ کرنے کے لئے تیار ہوگئے ہو چناچہ آپ اترے اور سجدہ کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے اسے بخش دیا۔ قیامت کے دن اس کی بڑی منزلت اور قدر ہوگی نبیوں اور عادلوں کا درجہ وہ پائیں گے۔ حدیث میں ہے عادل لوگ نور کے ممبروں پر رحمٰن کے دائیں جانب ہوں گے۔ اللہ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ یہ عادل وہ ہیں جو اپنی اہل و عیال میں اور جن کے وہ مالک ہوں عدل و انصاف کرتے ہیں۔ اور حدیث میں ہے سب سے زیادہ اللہ کے دوست اور سب سے زیادہ اس کے مقرب وہ بادشاہ ہوں گے جو عادل ہوں اور سب سے زیادہ دشمن اور سب سے سخت عذاب والے وہ ہوں گے جو ظالم بادشاہ ہوں۔ (ترمذی وغیرہ) حضرت مالک بن دینار فرماتے ہیں قیامت کے دن حضرت داؤد ؑ کو عرش کے پائے کے پاس کھڑا کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ اے داؤد جس پیاری درد ناک میٹھی اور جاذب آواز سے تم میری تعریفیں دنیا میں کرتے تھے اب بھی کرو۔ آپ فرمائیں گے باری تعالیٰ اب وہ آواز کہاں رہی ؟ اللہ فرمائے گا میں نے وہی آواز آج تمہیں پھر عطا فرمائی۔ اب حضرت داؤد ؑ اپنی دلکش اور دلربا آواز نکال کر نہایت وجد کی حالت میں اللہ کی حمد وثناء بیان کریں گے جسے سن کر جنتی اور نعمتوں کو بھی بھول جائیں گے اور یہ سریلی آواز اور نورانی گلا انہیں سب نعمتوں سے ہٹا کر اپنی طرف متوجہ کرے گا۔
Tafsir Ibn Kathir
قَدْ ذَكَرَ الْمُفَسِّرُونَ هَاهُنَا قِصَّةً أَكْثَرُهَا مَأْخُوذٌ مِنَ الْإِسْرَائِيلِيَّاتِ وَلَمْ يَثْبُتْ فِيهَا عَنِ الْمَعْصُومِ حَدِيثٌ يَجِبُ اتِّبَاعُهُ وَلَكِنْ رَوَى ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ هُنَا حَدِيثًا لَا يَصِحُّ سَنَدُهُ؛ لِأَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ عَنْ أَنَسٍ -وَيَزِيدُ وَإِنْ كَانَ مِنَ الصَّالِحِينَ-لَكِنَّهُ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ عِنْدَ الْأَئِمَّةِ فَالْأُولَى أَنْ [[في ت: "أنه".]] يُقْتَصَرَ عَلَى مُجَرَّدِ تِلَاوَةِ هَذِهِ الْقِصَّةِ وَأَنْ يُرَدَّ عِلْمُهَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ الْقُرْآنَ حَقٌّ وَمَا تَضَمَّنَ فَهُوَ حَقٌّ أَيْضًا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿ [إِذْ دَخَلُوا عَلَى دَاوُدَ] فَفَزِعَ مِنْهُمْ﴾ [[زيادة من ت، أ.]] إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ لِأَنَّهُ كَانَ فِي مِحْرَابِهِ، وَهُوَ أَشْرَفُ مَكَانٍ فِي دَارِهِ وَكَانَ قَدْ أَمَرَ أَلَّا يَدْخُلَ عَلَيْهِ أَحَدٌ ذَلِكَ الْيَوْمَ فَلَمْ يَشْعُرْ إِلَّا بِشَخْصَيْنِ قَدْ تَسَوَّرا عَلَيْهِ الْمِحْرَابَ أَيِ: احْتَاطَا بِهِ يَسْأَلَانِهِ عَنْ شَأْنِهِمَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَعَزَّنِي فِي الْخِطَابِ﴾ أَيْ: غَلَبَنِي يُقَالُ: عَزَّ يَعِزُّ: إِذَا قَهَرَ وَغَلَبَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَظَنَّ دَاوُدُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ﴾ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَيِ اخْتَبَرْنَاهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَخَرَّ رَاكِعًا﴾ أَيْ: سَاجِدًا ﴿وَأَنَابَ﴾ وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ رَكَعَ أَوَّلًا ثُمَّ سَجَدَ بَعْدَ ذَلِكَ وَقَدْ ذَكَرَ أَنَّهُ اسْتَمَرَّ سَاجِدًا أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، ﴿فَغَفَرْنَا لَهُ ذَلِكَ﴾ أَيْ: مَا كَانَ مِنْهُ مِمَّا يُقَالُ فِيهِ: إِنَّ حَسَنَاتِ الْأَبْرَارِ سَيِّئَاتُ الْمُقَرَّبِينَ.
وَقَدِ اخْتَلَفَ الْأَئِمَّةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ [[في أ: "رحمهم الله".]] فِي سَجْدَةِ "ص" هَلْ هِيَ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ؟ عَلَى قَوْلَيْنِ الْجَدِيدُ مِنْ مَذْهَبِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهَا لَيْسَتْ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ بَلْ هِيَ سَجْدَةُ شُكْرٍ. وَالدَّلِيلُ عَلَى ذَلِكَ مَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ حَيْثُ قَالَ:
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ -وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ-عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[في أ: "عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ"، وفي ت: "ما رواه الإمام أحمد بإسناده عن ابن عباس" زيادة من أ.]] أَنَّهُ قَالَ فِي السُّجُودِ فِي "ص": لَيْسَتْ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَسْجُدُ فِيهَا.
وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ فِي تَفْسِيرِهِ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ بِهِ [[المسند (١/٣٦٠) وصحيح البخاري برقم (١٠٦٩) وسنن أبي داود برقم (١٤٠٩) وسنن الترمذي برقم (٥٧٧) .]] وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ [[في أ: "حديث حسن".]] صَحِيحٌ.
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] النَّسَائِيُّ أَيْضًا عِنْدَ تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ -هُوَ الْمِقْسَمِيُّ-حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرِو [[في أ: "عمر".]] بْنُ ذَرٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أن النَّبِيَّ ﷺ سَجَدَ فِي "ص" وَقَالَ: "سَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ تَوْبَةً وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا".
تَفَرَّدَ بِرِوَايَتِهِ النَّسَائِيُّ [[النسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٣٨) .]] وَرِجَالُ إِسْنَادِهِ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ وَقَدْ أَخْبَرَنِي شَيْخُنَا الْحَافِظُ أَبُو الحجاج المزي قراءة عليه وأنا أسمع: أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْمُدَرَّجِيُّ [[في أ: "أبو إسحاق بن المدرجي".]] أَخْبَرَنَا زَاهِرُ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الثَّقَفِيُّ أَخْبَرَنَا زَاهِرُ بْنُ طَاهِرٍ الشَّحَامِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الكَنْجَرُوذي أَخْبَرَنَا الْحَاكِمُ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّرَّاجُ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا محمد بن يزيد ابن خُنَيْس عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبِيدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: قَالَ لِيَ ابْنُ جُرَيْجٍ: يَا حَسَنُ حَدَّثَنِي جَدُّكَ عُبَيْدِ اللَّهِ [[في أ: "عبد الله".]] بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي أُصَلِّي خَلْفَ شَجَرَةٍ فَقَرَأْتُ السَّجْدَةَ فَسَجَدْتُ فَسَجَدَتِ الشَّجَرَةُ لِسُجُودِي فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ وَهِيَ سَاجِدَةٌ: اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا وَاقْبَلْهَا مِنِّي كَمَا قَبِلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ قَامَ فَقَرَأَ السَّجْدَةَ ثُمَّ سَجَدَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ وَهُوَ سَاجِدٌ كَمَا حَكَى الرَّجُلُ مِنْ كَلَامِ الشَّجَرَةِ [[رواه المزي في تهذيب الكمال (٦/٣١٤) .]]
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ قُتَيْبَةَ وَابْنِ مَاجَهْ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ خَلَّادٍ كِلَاهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ [[في أ: "يزيد بن حبيش".]] نَحْوَهُ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ [[سنن الترمذي برقم (٥٧٩) وسنن ابن ماجة برقم (١٠٥٣) .]]
وَقَالَ الْبُخَارِيُّ عِنْدَ تَفْسِيرِهَا أَيْضًا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبِيدِ الطَّنَافِسِيُّ عَنِ الْعَوَامِّ قَالَ: سَأَلْتُ مُجَاهِدًا عَنْ سَجْدَةِ "ص" فَقَالَ: [[في ت: "بإسناده إلى مجاهد قال".]] سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: مِنْ أين سجدت؟ فقال: أو ما تَقْرَأُ: ﴿وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ﴾ [الْأَنْعَامِ:٨٤] ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهِ﴾ [الْأَنْعَامِ:٩٠] [[في ت، س، أ: "هداهم" وهو خطأ، والصواب ما أثبتناه.]] فَكَانَ دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِمَّنْ [[في ت، س: "فيمن".]] أُمِرَ نَبِيُّكُمْ ﷺ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِ فَسَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَسَجَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ [[صحيح البخاري برقم (٤٨٠٧) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا بَكْرٌ -هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ-أَنَّهُ أَخْبَرَهُ [[في ت: "بإسناده".]] أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ [[في أ: "الخدري رضي الله عنه".]] رَأَى رُؤْيَا أَنَّهُ يَكْتُبُ "ص" فَلَمَّا بَلَغَ إِلَى الَّتِي يَسْجُدُ بِهَا رَأَى الدَّوَاةَ وَالْقَلَمَ وَكُلَّ شَيْءٍ بِحَضْرَتِهِ انْقَلَبَ سَاجِدًا قَالَ: فَقَصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ ﷺ فَلَمْ يَزَلْ يَسْجُدُ بِهَا بَعْدُ. تَفَرَّدَ بِهِ [الْإِمَامُ] [[زيادة من أ.]] أَحْمَدُ [[المسند (٣/٧٨) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] أَبُو دَاوُدَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عن أبي سعيد الخدري رضي اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ "ص" فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمٌ آخَرُ قَرَأَهَا فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَشَزّن [[في ت: "تشدد".]] النَّاسُ لِلسُّجُودِ، فَقَالَ: "إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَشَزّنْتُم". فَنَزَلَ وَسَجَدَ وَسَجَدُوا. تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو دَاوُدَ [[سنن أبي داود برقم (١٤١٠) .]] وَإِسْنَادُهُ عَلَى شَرْطِ الصَّحِيحِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ﴾ أَيْ: وَإِنَّ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَقُرْبَةً يُقَرِّبُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا وَحُسْنَ مَرْجِعٍ وَهُوَ الدَّرَجَاتُ الْعَالِيَاتُ فِي الْجَنَّةِ لِتَوْبَتِهِ [[في ت، س: "لنبوته".]] وَعَدْلِهِ التَّامِّ فِي مُلْكِهِ كَمَا جَاءَ فِي الصَّحِيحِ: "الْمُقْسِطُونَ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ الَّذِينَ يُقْسِطُونَ فِي أَهْلِيهِمْ وَمَا وُلُّوا" [[صحيح مسلم برقم (١٨٢٧) من حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ عَنْ عَطِيَّةَ [[في ت: "وروى الترمذي".]] عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَقْرَبَهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا إِمَامٌ عَادِلٌ [[في أ: "عدل".]] وَإِنَّ أَبْغَضَ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَشَدَّهُمْ عَذَابًا إِمَامٌ جَائِرٌ". وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مِنْ حَدِيثِ فُضَيْلٍ -وَهُوَ ابْنُ مَرْزُوقٍ الْأَغَرُّ-عَنْ عَطِيَّةَ بِهِ [[المسند (٣/٢٢) وسنن الترمذي برقم (١٣٢٩) .]] وَقَالَ: لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ دِينَارٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ﴾ قَالَ: يُقَامُ دَاوُدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ سَاقِ الْعَرْشِ ثُمَّ يَقُولُ: يَا دَاوُدُ مَجِّدْنِي الْيَوْمَ بِذَلِكَ الصَّوْتِ الْحَسَنِ الرَّخِيمِ الَّذِي كُنْتَ تُمَجِّدُنِي بِهِ فِي الدُّنْيَا. فَيَقُولُ: وَكَيْفَ وَقَدْ سُلِبْتُهُ؟ فَيَقُولُ: إِنِّي أَرُدُّهُ عَلَيْكَ الْيَوْمَ. قَالَ: فَيَرْفَعُ دَاوُدُ بِصَوْتٍ يَسْتَفْرِغُ نعيم أهل الجنان.
قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَىٰ نِعَاجِهِۦ ۖ وَإِنَّ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلْخُلَطَآءِ لَيَبْغِى بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَقَلِيلٌۭ مَّا هُمْ ۗ وَظَنَّ دَاوُۥدُ أَنَّمَا فَتَنَّٰهُ فَٱسْتَغْفَرَ رَبَّهُۥ وَخَرَّ رَاكِعًۭا وَأَنَابَ ۩
[David] said, "He has certainly wronged you in demanding your ewe [in addition] to his ewes. And indeed, many associates oppress one another, except for those who believe and do righteous deeds - and few are they." And David became certain that We had tried him, and he asked forgiveness of his Lord and fell down bowing [in prostration] and turned in repentance [to Allah].
انہوں نے کہا کہ یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملالے بےشک تجھ پر ظلم کرتا ہے۔ اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔ ہاں جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ اور داؤد نے خیال کیا کہ (اس واقعے سے) ہم نے ان کو آزمایا ہے تو انہوں نے اپنے پروردگار سے مغفرت مانگی اور جھک کر گڑ پڑے اور (خدا کی طرف) رجوع کیا
(داوود) گفت: «مسلّماً او با درخواست یک میش تو برای افزودن آن به میشهایش، بر تو ستم نموده؛ و بسیاری از شریکان (و دوستان) به یکدیگر ستم میکنند، مگر کسانی که ایمان آورده و اعمال صالح انجام دادهاند؛ امّا عدّه آنان کم است!» داوود دانست که ما او را (با این ماجرا) آزمودهایم، از این رو از پروردگارش طلب آمرزش نمود و به سجده افتاد و توبه کرد.
Tafsir Ibn Kathir
And has the news of the litigants reached you? When they climbed over the wall into (his) Mihrab (private chamber of worship)(21)When they entered in upon Dawud, he was terrified of them. They said: "Fear not! (We are) two litigants, one of us has wronged the other, therefore judge between us with truth, and treat us not with injustice, and guide us to the right way (22)Verily, this my brother (in religion) has ninety-nine ewes, while I have (only) one ewe, and he says: "Hand it over to me, and he overpowered me in speech. (23)[Dawud] said: "He has wronged you in demanding your ewe in addition to his ewes. And, verily, many partners oppress one another, except those who believe and do righteous good deeds, and they are few." And Dawud guessed that We have tried him and he sought forgiveness of his Lord, and he fell down prostrate and turned (to Allah) in repentance (24)So, We forgave him that, and verily, for him is a near access to Us, and a good place of return (25)
The Story of the Two Litigants
In discussing this passage, the scholars of Tafsir mention a story which is mostly based upon Isra'iliyat narrations. Nothing has been reported about this from the Infallible Prophet ﷺ that we could accept as true. But Ibn Abi Hatim narrated a Hadith whose chain of narration cannot be regarded as Sahih because it is reported by Yazid Ar-Raqashi from Anas, may Allah be pleased with him. Although Yazid was one of the righteous, his Hadiths are regarded as weak by the Imams. So, it is better to speak briefly of this story and refer knowledge of it to Allah, may He be exalted. For the Qur'an is true and what it contains is also true.
فَفَزِعَ مِنْهُمْ
(he was terrified of them.) This was because he was in his Mihrab (private chamber). That was the noblest part of his house, where he commanded that no one should enter upon him that day. So, he did not realize that these two people had climbed the fence surrounding his Mihrab (private chamber) to ask him about their case.
وَعَزَّنِي فِي الْخِطَابِ
(and he overpowered me in speech.) means, 'he defeated me.'
وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ
(And Dawud guessed that We have tried him)
Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas said that this means, "We tested him."
وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ
(and he fell down prostrate and turned (to Allah) in repentance.)
فَغَفَرْنَا لَهُ ذَٰلِكَ ۖ
(So, We forgave him that,)
The Sajdah in Surah Sad
The performance of Sajdah in Surah Sad is not one of the obligatory locations; it is a prostration of thanks (Sajdat Shukr). The evidence for it is the report recorded by Imam Ahmad from Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, who said; "The prostration in Surah Sad is not one of the obligatory prostrations; I saw the Messenger of Allah ﷺ prostrating in this Surah." This was also recorded by Al-Bukhari, Abu Dawud, At-Tirmidhi, and An-Nasa'i in his Tafsir. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih." In his Tafsir of this Ayah, An-Nasa'i also recorded that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said, "The Prophet ﷺ prostrated in Sad, and he said:
سَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ تَوْبَةً، وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا
(Dawud prostrated as an act of repentance and we prostrate as an act of thanks.)"
This was recorded only by An-Nasa'i. The men of its chain of narration are all reliable.
In his Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Al-'Awwam said that he asked Mujahid about the prostration in Surah Sad. He said, "I asked Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, 'Why do you prostrate?' He said, 'Have you not read:
وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ
(and among his [Nuh's] progeny Dawud, Sulayman)(6:84)
أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ ۗ
(They are those whom Allah had guided. So follow their guidance)(6:90). Dawud, peace be upon him, was one of those whom your Prophet ﷺ was commanded to follow. Dawud prostrated here so the Messenger of Allah ﷺ also prostrated here.'"
Abu Dawud recorded that Abu Sa'id Al-Khudri, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ recited Sad while he was on the Minbar. When he reached the prostration, he came down from the Minbar and prostrated, and the people prostrated with him. On another occasion when he recited it, he reached the prostration and the people prepared to prostrate. He ﷺ said:
إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَشَزَّنْتُمْ
(This is repentance for a Prophet, but I see that you are preparing to prostrate.) Then he came down (from the Minbar) and prostrated." This was recorded only by Abu Dawud and its chain of narration meets the conditions of the Two Sahihs.
وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ
(and verily, for him is a near access to Us, and a good place of (final) return.) means, on the Day of Resurrection, he will have good deeds by virtue of which he will be brought close to Allah, and he will have a good place of (final) return, which means the lofty levels of Paradise, because of his repentance and his perfect justice in his kingdom. As it says in the Sahih:
الْمُقْسِطُونَ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمٰنِ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يُقْسِطُونَ فِي أَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا
(Those who are fair and just with their families and those who are under their authority will be on Minbars of light on the right hand of Ar-Rahman, and both His Hands are right Hands.)"
Tafsir Ibn Kathir
مفسرین نے یہاں پر ایک قصہ بیان کیا ہے لیکن اس کا اکثر حصہ بنو اسرائیل کی روایاتوں سے لیا گیا ہے۔ حدیث سے ثابت نہیں۔ ابن ابی حاتم میں ایک حدیث ہے لیکن وہ بھی ثابت نہیں کیونکہ اس کا ایک راوی یزید رقاشی ہے گو وہ نہایت نیک شخص ہے لیکن ہے ضعیف۔ پس اولیٰ یہ ہے کہ قرآن میں جو ہے اور جس پر یہ شامل ہے وہ حق ہے۔ حضرت داؤد کا انہیں دیکھ کر گھبرانا اس وجہ سے تھا کہ وہ اپنے تنہائی کے خاص خلوت خانے میں تھے اور پہرہ داروں کو منع کیا تھا کہ کوئی بھی آج اندر نہ آئے اور یکایک ان دونوں کو جو دیکھا تو گھبرا گئے۔ عزنی الخ، سے مطلب بات چیت میں غالب آجانا دوسرے پر چھا جانا ہے۔ حضرت داؤد سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے پس وہ رکوع سجدہ کرتے ہوئے اللہ کی طرف جھک پڑے۔ مذکور ہے کہ چالیس دن تک سجدہ سے سر نہ اٹھایا پس ہم نے اسے بخش دیا۔ یہ یاد رہے کہ جو کام عوام کے لئے نیکیوں کے ہوتے ہیں وہی کام خواص کے لئے بعض مرتبہ بدیوں کے بن جاتے ہیں۔ یہ آیت سجدے کی ہے یا نہیں ؟ اس کی بات امام شافعی کا جدید مذہب تو یہ ہے کہ یہاں سجدہ ضروری نہیں یہ تو سجدہ شکر ہے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ ص ضروری سجدوں میں سے نہیں ہاں میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے (بخاری وغیرہ) نسائی میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہاں سجدہ کر کے فرمایا یہ سجدہ حضرت داؤد کا تو توبہ کے لئے تھا اور ہمارا شکر کے لئے ہے۔ ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے خواب میں دیکھا گویا میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں اور نماز میں میں نے سجدے کی آیت تلاوت کی اور سجدہ کیا تو میرے ساتھ اس درخت نے بھی سجدہ کیا اور میں نے سنا کہ وہ یہ دعا مانگ رہا تھا یعنی اے اللہ ! میرے اس سجدے کو تو میرے لئے اپنے پاس اجر اور خزانے کا سبب بنا اور اس سے تو میرا بوجھ ہلکا کر دے اور اسے مجھ سے قبول فرما جیسے کہ تو نے اپنے بندے داؤد کے سجدے کو قبول فرمایا۔ ابن عباس فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی اور سجدے کی آیت کو پڑھ کر سجدہ کیا اور اس سجدے میں وہی دعا پڑھی جو اس شخص نے درخت کی دعا نقل کی تھی۔ ابن عباس اس آیت کے سجدے پر یہ دلیل وارد کرتے تھے کہ قرآن نے فرمایا ہے اس کی اولاد میں سے داؤد سلیمان ہیں جنہیں ہم نے ہدایت کی تھی پس تو اے نبی ﷺ ان کی ہدایت کی پیروی کر پس حضور ﷺ ان کی اقتداء کے مامور تھے اور یہ صاف ثابت ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے سجدہ کیا اور حضور ﷺ نے بھی یہ سجدہ کیا۔ ابو سعید خدری ؓ کا بیان ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میں سورة ص لکھ رہا ہوں جب آیت سجدہ تک پہنچا تو میں نے دیکھا کہ قلم اور دوات اور میرے آس پاس کی تمام چیزوں نے سجدہ کیا۔ انہوں نے اپنا یہ خواب حضور ﷺ سے بیان کیا پھر آپ اس آیت کی تلاوت کے وقت برابر سجدہ کرتے رہے (احمد) ابو داؤد میں ہے کہ حضور ﷺ نے منبر پر سورة ص پڑھی اور سجدے کی آیت تک پہنچ کر منبر سے اتر کر آپ سجدہ تک پہنچے تو لوگوں نے سجدے کی تیاری کی آپ نے فرمایا یہ تو ایک نبی کی توبہ کا سجدہ تھا لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم سجدہ کرنے کے لئے تیار ہوگئے ہو چناچہ آپ اترے اور سجدہ کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے اسے بخش دیا۔ قیامت کے دن اس کی بڑی منزلت اور قدر ہوگی نبیوں اور عادلوں کا درجہ وہ پائیں گے۔ حدیث میں ہے عادل لوگ نور کے ممبروں پر رحمٰن کے دائیں جانب ہوں گے۔ اللہ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ یہ عادل وہ ہیں جو اپنی اہل و عیال میں اور جن کے وہ مالک ہوں عدل و انصاف کرتے ہیں۔ اور حدیث میں ہے سب سے زیادہ اللہ کے دوست اور سب سے زیادہ اس کے مقرب وہ بادشاہ ہوں گے جو عادل ہوں اور سب سے زیادہ دشمن اور سب سے سخت عذاب والے وہ ہوں گے جو ظالم بادشاہ ہوں۔ (ترمذی وغیرہ) حضرت مالک بن دینار فرماتے ہیں قیامت کے دن حضرت داؤد ؑ کو عرش کے پائے کے پاس کھڑا کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ اے داؤد جس پیاری درد ناک میٹھی اور جاذب آواز سے تم میری تعریفیں دنیا میں کرتے تھے اب بھی کرو۔ آپ فرمائیں گے باری تعالیٰ اب وہ آواز کہاں رہی ؟ اللہ فرمائے گا میں نے وہی آواز آج تمہیں پھر عطا فرمائی۔ اب حضرت داؤد ؑ اپنی دلکش اور دلربا آواز نکال کر نہایت وجد کی حالت میں اللہ کی حمد وثناء بیان کریں گے جسے سن کر جنتی اور نعمتوں کو بھی بھول جائیں گے اور یہ سریلی آواز اور نورانی گلا انہیں سب نعمتوں سے ہٹا کر اپنی طرف متوجہ کرے گا۔
Tafsir Ibn Kathir
قَدْ ذَكَرَ الْمُفَسِّرُونَ هَاهُنَا قِصَّةً أَكْثَرُهَا مَأْخُوذٌ مِنَ الْإِسْرَائِيلِيَّاتِ وَلَمْ يَثْبُتْ فِيهَا عَنِ الْمَعْصُومِ حَدِيثٌ يَجِبُ اتِّبَاعُهُ وَلَكِنْ رَوَى ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ هُنَا حَدِيثًا لَا يَصِحُّ سَنَدُهُ؛ لِأَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ عَنْ أَنَسٍ -وَيَزِيدُ وَإِنْ كَانَ مِنَ الصَّالِحِينَ-لَكِنَّهُ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ عِنْدَ الْأَئِمَّةِ فَالْأُولَى أَنْ [[في ت: "أنه".]] يُقْتَصَرَ عَلَى مُجَرَّدِ تِلَاوَةِ هَذِهِ الْقِصَّةِ وَأَنْ يُرَدَّ عِلْمُهَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ الْقُرْآنَ حَقٌّ وَمَا تَضَمَّنَ فَهُوَ حَقٌّ أَيْضًا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿ [إِذْ دَخَلُوا عَلَى دَاوُدَ] فَفَزِعَ مِنْهُمْ﴾ [[زيادة من ت، أ.]] إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ لِأَنَّهُ كَانَ فِي مِحْرَابِهِ، وَهُوَ أَشْرَفُ مَكَانٍ فِي دَارِهِ وَكَانَ قَدْ أَمَرَ أَلَّا يَدْخُلَ عَلَيْهِ أَحَدٌ ذَلِكَ الْيَوْمَ فَلَمْ يَشْعُرْ إِلَّا بِشَخْصَيْنِ قَدْ تَسَوَّرا عَلَيْهِ الْمِحْرَابَ أَيِ: احْتَاطَا بِهِ يَسْأَلَانِهِ عَنْ شَأْنِهِمَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَعَزَّنِي فِي الْخِطَابِ﴾ أَيْ: غَلَبَنِي يُقَالُ: عَزَّ يَعِزُّ: إِذَا قَهَرَ وَغَلَبَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَظَنَّ دَاوُدُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ﴾ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَيِ اخْتَبَرْنَاهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَخَرَّ رَاكِعًا﴾ أَيْ: سَاجِدًا ﴿وَأَنَابَ﴾ وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ رَكَعَ أَوَّلًا ثُمَّ سَجَدَ بَعْدَ ذَلِكَ وَقَدْ ذَكَرَ أَنَّهُ اسْتَمَرَّ سَاجِدًا أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، ﴿فَغَفَرْنَا لَهُ ذَلِكَ﴾ أَيْ: مَا كَانَ مِنْهُ مِمَّا يُقَالُ فِيهِ: إِنَّ حَسَنَاتِ الْأَبْرَارِ سَيِّئَاتُ الْمُقَرَّبِينَ.
وَقَدِ اخْتَلَفَ الْأَئِمَّةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ [[في أ: "رحمهم الله".]] فِي سَجْدَةِ "ص" هَلْ هِيَ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ؟ عَلَى قَوْلَيْنِ الْجَدِيدُ مِنْ مَذْهَبِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهَا لَيْسَتْ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ بَلْ هِيَ سَجْدَةُ شُكْرٍ. وَالدَّلِيلُ عَلَى ذَلِكَ مَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ حَيْثُ قَالَ:
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ -وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ-عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[في أ: "عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ"، وفي ت: "ما رواه الإمام أحمد بإسناده عن ابن عباس" زيادة من أ.]] أَنَّهُ قَالَ فِي السُّجُودِ فِي "ص": لَيْسَتْ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَسْجُدُ فِيهَا.
وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ فِي تَفْسِيرِهِ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ بِهِ [[المسند (١/٣٦٠) وصحيح البخاري برقم (١٠٦٩) وسنن أبي داود برقم (١٤٠٩) وسنن الترمذي برقم (٥٧٧) .]] وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ [[في أ: "حديث حسن".]] صَحِيحٌ.
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] النَّسَائِيُّ أَيْضًا عِنْدَ تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ -هُوَ الْمِقْسَمِيُّ-حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرِو [[في أ: "عمر".]] بْنُ ذَرٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أن النَّبِيَّ ﷺ سَجَدَ فِي "ص" وَقَالَ: "سَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ تَوْبَةً وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا".
تَفَرَّدَ بِرِوَايَتِهِ النَّسَائِيُّ [[النسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٣٨) .]] وَرِجَالُ إِسْنَادِهِ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ وَقَدْ أَخْبَرَنِي شَيْخُنَا الْحَافِظُ أَبُو الحجاج المزي قراءة عليه وأنا أسمع: أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْمُدَرَّجِيُّ [[في أ: "أبو إسحاق بن المدرجي".]] أَخْبَرَنَا زَاهِرُ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الثَّقَفِيُّ أَخْبَرَنَا زَاهِرُ بْنُ طَاهِرٍ الشَّحَامِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الكَنْجَرُوذي أَخْبَرَنَا الْحَاكِمُ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّرَّاجُ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا محمد بن يزيد ابن خُنَيْس عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبِيدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: قَالَ لِيَ ابْنُ جُرَيْجٍ: يَا حَسَنُ حَدَّثَنِي جَدُّكَ عُبَيْدِ اللَّهِ [[في أ: "عبد الله".]] بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي أُصَلِّي خَلْفَ شَجَرَةٍ فَقَرَأْتُ السَّجْدَةَ فَسَجَدْتُ فَسَجَدَتِ الشَّجَرَةُ لِسُجُودِي فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ وَهِيَ سَاجِدَةٌ: اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا وَاقْبَلْهَا مِنِّي كَمَا قَبِلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ قَامَ فَقَرَأَ السَّجْدَةَ ثُمَّ سَجَدَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ وَهُوَ سَاجِدٌ كَمَا حَكَى الرَّجُلُ مِنْ كَلَامِ الشَّجَرَةِ [[رواه المزي في تهذيب الكمال (٦/٣١٤) .]]
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ قُتَيْبَةَ وَابْنِ مَاجَهْ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ خَلَّادٍ كِلَاهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ [[في أ: "يزيد بن حبيش".]] نَحْوَهُ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ [[سنن الترمذي برقم (٥٧٩) وسنن ابن ماجة برقم (١٠٥٣) .]]
وَقَالَ الْبُخَارِيُّ عِنْدَ تَفْسِيرِهَا أَيْضًا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبِيدِ الطَّنَافِسِيُّ عَنِ الْعَوَامِّ قَالَ: سَأَلْتُ مُجَاهِدًا عَنْ سَجْدَةِ "ص" فَقَالَ: [[في ت: "بإسناده إلى مجاهد قال".]] سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: مِنْ أين سجدت؟ فقال: أو ما تَقْرَأُ: ﴿وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ﴾ [الْأَنْعَامِ:٨٤] ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهِ﴾ [الْأَنْعَامِ:٩٠] [[في ت، س، أ: "هداهم" وهو خطأ، والصواب ما أثبتناه.]] فَكَانَ دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِمَّنْ [[في ت، س: "فيمن".]] أُمِرَ نَبِيُّكُمْ ﷺ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِ فَسَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَسَجَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ [[صحيح البخاري برقم (٤٨٠٧) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا بَكْرٌ -هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ-أَنَّهُ أَخْبَرَهُ [[في ت: "بإسناده".]] أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ [[في أ: "الخدري رضي الله عنه".]] رَأَى رُؤْيَا أَنَّهُ يَكْتُبُ "ص" فَلَمَّا بَلَغَ إِلَى الَّتِي يَسْجُدُ بِهَا رَأَى الدَّوَاةَ وَالْقَلَمَ وَكُلَّ شَيْءٍ بِحَضْرَتِهِ انْقَلَبَ سَاجِدًا قَالَ: فَقَصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ ﷺ فَلَمْ يَزَلْ يَسْجُدُ بِهَا بَعْدُ. تَفَرَّدَ بِهِ [الْإِمَامُ] [[زيادة من أ.]] أَحْمَدُ [[المسند (٣/٧٨) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] أَبُو دَاوُدَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عن أبي سعيد الخدري رضي اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ "ص" فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمٌ آخَرُ قَرَأَهَا فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَشَزّن [[في ت: "تشدد".]] النَّاسُ لِلسُّجُودِ، فَقَالَ: "إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَشَزّنْتُم". فَنَزَلَ وَسَجَدَ وَسَجَدُوا. تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو دَاوُدَ [[سنن أبي داود برقم (١٤١٠) .]] وَإِسْنَادُهُ عَلَى شَرْطِ الصَّحِيحِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ﴾ أَيْ: وَإِنَّ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَقُرْبَةً يُقَرِّبُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا وَحُسْنَ مَرْجِعٍ وَهُوَ الدَّرَجَاتُ الْعَالِيَاتُ فِي الْجَنَّةِ لِتَوْبَتِهِ [[في ت، س: "لنبوته".]] وَعَدْلِهِ التَّامِّ فِي مُلْكِهِ كَمَا جَاءَ فِي الصَّحِيحِ: "الْمُقْسِطُونَ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ الَّذِينَ يُقْسِطُونَ فِي أَهْلِيهِمْ وَمَا وُلُّوا" [[صحيح مسلم برقم (١٨٢٧) من حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ عَنْ عَطِيَّةَ [[في ت: "وروى الترمذي".]] عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَقْرَبَهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا إِمَامٌ عَادِلٌ [[في أ: "عدل".]] وَإِنَّ أَبْغَضَ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَشَدَّهُمْ عَذَابًا إِمَامٌ جَائِرٌ". وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مِنْ حَدِيثِ فُضَيْلٍ -وَهُوَ ابْنُ مَرْزُوقٍ الْأَغَرُّ-عَنْ عَطِيَّةَ بِهِ [[المسند (٣/٢٢) وسنن الترمذي برقم (١٣٢٩) .]] وَقَالَ: لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ دِينَارٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ﴾ قَالَ: يُقَامُ دَاوُدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ سَاقِ الْعَرْشِ ثُمَّ يَقُولُ: يَا دَاوُدُ مَجِّدْنِي الْيَوْمَ بِذَلِكَ الصَّوْتِ الْحَسَنِ الرَّخِيمِ الَّذِي كُنْتَ تُمَجِّدُنِي بِهِ فِي الدُّنْيَا. فَيَقُولُ: وَكَيْفَ وَقَدْ سُلِبْتُهُ؟ فَيَقُولُ: إِنِّي أَرُدُّهُ عَلَيْكَ الْيَوْمَ. قَالَ: فَيَرْفَعُ دَاوُدُ بِصَوْتٍ يَسْتَفْرِغُ نعيم أهل الجنان.
فَغَفَرْنَا لَهُۥ ذَٰلِكَ ۖ وَإِنَّ لَهُۥ عِندَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَـَٔابٍۢ
So We forgave him that; and indeed, for him is nearness to Us and a good place of return.
تو ہم نے ان کو بخش دیا۔ اور بےشک ان کے لئے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے
ما این عمل را بر او بخشیدیم؛ و او نزد ما دارای مقامی والا و سرانجامی نیکوست!
Tafsir Ibn Kathir
And has the news of the litigants reached you? When they climbed over the wall into (his) Mihrab (private chamber of worship)(21)When they entered in upon Dawud, he was terrified of them. They said: "Fear not! (We are) two litigants, one of us has wronged the other, therefore judge between us with truth, and treat us not with injustice, and guide us to the right way (22)Verily, this my brother (in religion) has ninety-nine ewes, while I have (only) one ewe, and he says: "Hand it over to me, and he overpowered me in speech. (23)[Dawud] said: "He has wronged you in demanding your ewe in addition to his ewes. And, verily, many partners oppress one another, except those who believe and do righteous good deeds, and they are few." And Dawud guessed that We have tried him and he sought forgiveness of his Lord, and he fell down prostrate and turned (to Allah) in repentance (24)So, We forgave him that, and verily, for him is a near access to Us, and a good place of return (25)
The Story of the Two Litigants
In discussing this passage, the scholars of Tafsir mention a story which is mostly based upon Isra'iliyat narrations. Nothing has been reported about this from the Infallible Prophet ﷺ that we could accept as true. But Ibn Abi Hatim narrated a Hadith whose chain of narration cannot be regarded as Sahih because it is reported by Yazid Ar-Raqashi from Anas, may Allah be pleased with him. Although Yazid was one of the righteous, his Hadiths are regarded as weak by the Imams. So, it is better to speak briefly of this story and refer knowledge of it to Allah, may He be exalted. For the Qur'an is true and what it contains is also true.
فَفَزِعَ مِنْهُمْ
(he was terrified of them.) This was because he was in his Mihrab (private chamber). That was the noblest part of his house, where he commanded that no one should enter upon him that day. So, he did not realize that these two people had climbed the fence surrounding his Mihrab (private chamber) to ask him about their case.
وَعَزَّنِي فِي الْخِطَابِ
(and he overpowered me in speech.) means, 'he defeated me.'
وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ
(And Dawud guessed that We have tried him)
Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas said that this means, "We tested him."
وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ
(and he fell down prostrate and turned (to Allah) in repentance.)
فَغَفَرْنَا لَهُ ذَٰلِكَ ۖ
(So, We forgave him that,)
The Sajdah in Surah Sad
The performance of Sajdah in Surah Sad is not one of the obligatory locations; it is a prostration of thanks (Sajdat Shukr). The evidence for it is the report recorded by Imam Ahmad from Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, who said; "The prostration in Surah Sad is not one of the obligatory prostrations; I saw the Messenger of Allah ﷺ prostrating in this Surah." This was also recorded by Al-Bukhari, Abu Dawud, At-Tirmidhi, and An-Nasa'i in his Tafsir. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih." In his Tafsir of this Ayah, An-Nasa'i also recorded that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said, "The Prophet ﷺ prostrated in Sad, and he said:
سَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ تَوْبَةً، وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا
(Dawud prostrated as an act of repentance and we prostrate as an act of thanks.)"
This was recorded only by An-Nasa'i. The men of its chain of narration are all reliable.
In his Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Al-'Awwam said that he asked Mujahid about the prostration in Surah Sad. He said, "I asked Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, 'Why do you prostrate?' He said, 'Have you not read:
وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ
(and among his [Nuh's] progeny Dawud, Sulayman)(6:84)
أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ ۗ
(They are those whom Allah had guided. So follow their guidance)(6:90). Dawud, peace be upon him, was one of those whom your Prophet ﷺ was commanded to follow. Dawud prostrated here so the Messenger of Allah ﷺ also prostrated here.'"
Abu Dawud recorded that Abu Sa'id Al-Khudri, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ recited Sad while he was on the Minbar. When he reached the prostration, he came down from the Minbar and prostrated, and the people prostrated with him. On another occasion when he recited it, he reached the prostration and the people prepared to prostrate. He ﷺ said:
إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَشَزَّنْتُمْ
(This is repentance for a Prophet, but I see that you are preparing to prostrate.) Then he came down (from the Minbar) and prostrated." This was recorded only by Abu Dawud and its chain of narration meets the conditions of the Two Sahihs.
وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ
(and verily, for him is a near access to Us, and a good place of (final) return.) means, on the Day of Resurrection, he will have good deeds by virtue of which he will be brought close to Allah, and he will have a good place of (final) return, which means the lofty levels of Paradise, because of his repentance and his perfect justice in his kingdom. As it says in the Sahih:
الْمُقْسِطُونَ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمٰنِ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يُقْسِطُونَ فِي أَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا
(Those who are fair and just with their families and those who are under their authority will be on Minbars of light on the right hand of Ar-Rahman, and both His Hands are right Hands.)"
Tafsir Ibn Kathir
مفسرین نے یہاں پر ایک قصہ بیان کیا ہے لیکن اس کا اکثر حصہ بنو اسرائیل کی روایاتوں سے لیا گیا ہے۔ حدیث سے ثابت نہیں۔ ابن ابی حاتم میں ایک حدیث ہے لیکن وہ بھی ثابت نہیں کیونکہ اس کا ایک راوی یزید رقاشی ہے گو وہ نہایت نیک شخص ہے لیکن ہے ضعیف۔ پس اولیٰ یہ ہے کہ قرآن میں جو ہے اور جس پر یہ شامل ہے وہ حق ہے۔ حضرت داؤد کا انہیں دیکھ کر گھبرانا اس وجہ سے تھا کہ وہ اپنے تنہائی کے خاص خلوت خانے میں تھے اور پہرہ داروں کو منع کیا تھا کہ کوئی بھی آج اندر نہ آئے اور یکایک ان دونوں کو جو دیکھا تو گھبرا گئے۔ عزنی الخ، سے مطلب بات چیت میں غالب آجانا دوسرے پر چھا جانا ہے۔ حضرت داؤد سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے پس وہ رکوع سجدہ کرتے ہوئے اللہ کی طرف جھک پڑے۔ مذکور ہے کہ چالیس دن تک سجدہ سے سر نہ اٹھایا پس ہم نے اسے بخش دیا۔ یہ یاد رہے کہ جو کام عوام کے لئے نیکیوں کے ہوتے ہیں وہی کام خواص کے لئے بعض مرتبہ بدیوں کے بن جاتے ہیں۔ یہ آیت سجدے کی ہے یا نہیں ؟ اس کی بات امام شافعی کا جدید مذہب تو یہ ہے کہ یہاں سجدہ ضروری نہیں یہ تو سجدہ شکر ہے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ ص ضروری سجدوں میں سے نہیں ہاں میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے (بخاری وغیرہ) نسائی میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہاں سجدہ کر کے فرمایا یہ سجدہ حضرت داؤد کا تو توبہ کے لئے تھا اور ہمارا شکر کے لئے ہے۔ ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے خواب میں دیکھا گویا میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں اور نماز میں میں نے سجدے کی آیت تلاوت کی اور سجدہ کیا تو میرے ساتھ اس درخت نے بھی سجدہ کیا اور میں نے سنا کہ وہ یہ دعا مانگ رہا تھا یعنی اے اللہ ! میرے اس سجدے کو تو میرے لئے اپنے پاس اجر اور خزانے کا سبب بنا اور اس سے تو میرا بوجھ ہلکا کر دے اور اسے مجھ سے قبول فرما جیسے کہ تو نے اپنے بندے داؤد کے سجدے کو قبول فرمایا۔ ابن عباس فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی اور سجدے کی آیت کو پڑھ کر سجدہ کیا اور اس سجدے میں وہی دعا پڑھی جو اس شخص نے درخت کی دعا نقل کی تھی۔ ابن عباس اس آیت کے سجدے پر یہ دلیل وارد کرتے تھے کہ قرآن نے فرمایا ہے اس کی اولاد میں سے داؤد سلیمان ہیں جنہیں ہم نے ہدایت کی تھی پس تو اے نبی ﷺ ان کی ہدایت کی پیروی کر پس حضور ﷺ ان کی اقتداء کے مامور تھے اور یہ صاف ثابت ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے سجدہ کیا اور حضور ﷺ نے بھی یہ سجدہ کیا۔ ابو سعید خدری ؓ کا بیان ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میں سورة ص لکھ رہا ہوں جب آیت سجدہ تک پہنچا تو میں نے دیکھا کہ قلم اور دوات اور میرے آس پاس کی تمام چیزوں نے سجدہ کیا۔ انہوں نے اپنا یہ خواب حضور ﷺ سے بیان کیا پھر آپ اس آیت کی تلاوت کے وقت برابر سجدہ کرتے رہے (احمد) ابو داؤد میں ہے کہ حضور ﷺ نے منبر پر سورة ص پڑھی اور سجدے کی آیت تک پہنچ کر منبر سے اتر کر آپ سجدہ تک پہنچے تو لوگوں نے سجدے کی تیاری کی آپ نے فرمایا یہ تو ایک نبی کی توبہ کا سجدہ تھا لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم سجدہ کرنے کے لئے تیار ہوگئے ہو چناچہ آپ اترے اور سجدہ کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے اسے بخش دیا۔ قیامت کے دن اس کی بڑی منزلت اور قدر ہوگی نبیوں اور عادلوں کا درجہ وہ پائیں گے۔ حدیث میں ہے عادل لوگ نور کے ممبروں پر رحمٰن کے دائیں جانب ہوں گے۔ اللہ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ یہ عادل وہ ہیں جو اپنی اہل و عیال میں اور جن کے وہ مالک ہوں عدل و انصاف کرتے ہیں۔ اور حدیث میں ہے سب سے زیادہ اللہ کے دوست اور سب سے زیادہ اس کے مقرب وہ بادشاہ ہوں گے جو عادل ہوں اور سب سے زیادہ دشمن اور سب سے سخت عذاب والے وہ ہوں گے جو ظالم بادشاہ ہوں۔ (ترمذی وغیرہ) حضرت مالک بن دینار فرماتے ہیں قیامت کے دن حضرت داؤد ؑ کو عرش کے پائے کے پاس کھڑا کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ اے داؤد جس پیاری درد ناک میٹھی اور جاذب آواز سے تم میری تعریفیں دنیا میں کرتے تھے اب بھی کرو۔ آپ فرمائیں گے باری تعالیٰ اب وہ آواز کہاں رہی ؟ اللہ فرمائے گا میں نے وہی آواز آج تمہیں پھر عطا فرمائی۔ اب حضرت داؤد ؑ اپنی دلکش اور دلربا آواز نکال کر نہایت وجد کی حالت میں اللہ کی حمد وثناء بیان کریں گے جسے سن کر جنتی اور نعمتوں کو بھی بھول جائیں گے اور یہ سریلی آواز اور نورانی گلا انہیں سب نعمتوں سے ہٹا کر اپنی طرف متوجہ کرے گا۔
Tafsir Ibn Kathir
قَدْ ذَكَرَ الْمُفَسِّرُونَ هَاهُنَا قِصَّةً أَكْثَرُهَا مَأْخُوذٌ مِنَ الْإِسْرَائِيلِيَّاتِ وَلَمْ يَثْبُتْ فِيهَا عَنِ الْمَعْصُومِ حَدِيثٌ يَجِبُ اتِّبَاعُهُ وَلَكِنْ رَوَى ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ هُنَا حَدِيثًا لَا يَصِحُّ سَنَدُهُ؛ لِأَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ عَنْ أَنَسٍ -وَيَزِيدُ وَإِنْ كَانَ مِنَ الصَّالِحِينَ-لَكِنَّهُ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ عِنْدَ الْأَئِمَّةِ فَالْأُولَى أَنْ [[في ت: "أنه".]] يُقْتَصَرَ عَلَى مُجَرَّدِ تِلَاوَةِ هَذِهِ الْقِصَّةِ وَأَنْ يُرَدَّ عِلْمُهَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ الْقُرْآنَ حَقٌّ وَمَا تَضَمَّنَ فَهُوَ حَقٌّ أَيْضًا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿ [إِذْ دَخَلُوا عَلَى دَاوُدَ] فَفَزِعَ مِنْهُمْ﴾ [[زيادة من ت، أ.]] إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ لِأَنَّهُ كَانَ فِي مِحْرَابِهِ، وَهُوَ أَشْرَفُ مَكَانٍ فِي دَارِهِ وَكَانَ قَدْ أَمَرَ أَلَّا يَدْخُلَ عَلَيْهِ أَحَدٌ ذَلِكَ الْيَوْمَ فَلَمْ يَشْعُرْ إِلَّا بِشَخْصَيْنِ قَدْ تَسَوَّرا عَلَيْهِ الْمِحْرَابَ أَيِ: احْتَاطَا بِهِ يَسْأَلَانِهِ عَنْ شَأْنِهِمَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَعَزَّنِي فِي الْخِطَابِ﴾ أَيْ: غَلَبَنِي يُقَالُ: عَزَّ يَعِزُّ: إِذَا قَهَرَ وَغَلَبَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَظَنَّ دَاوُدُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ﴾ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَيِ اخْتَبَرْنَاهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَخَرَّ رَاكِعًا﴾ أَيْ: سَاجِدًا ﴿وَأَنَابَ﴾ وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ رَكَعَ أَوَّلًا ثُمَّ سَجَدَ بَعْدَ ذَلِكَ وَقَدْ ذَكَرَ أَنَّهُ اسْتَمَرَّ سَاجِدًا أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، ﴿فَغَفَرْنَا لَهُ ذَلِكَ﴾ أَيْ: مَا كَانَ مِنْهُ مِمَّا يُقَالُ فِيهِ: إِنَّ حَسَنَاتِ الْأَبْرَارِ سَيِّئَاتُ الْمُقَرَّبِينَ.
وَقَدِ اخْتَلَفَ الْأَئِمَّةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ [[في أ: "رحمهم الله".]] فِي سَجْدَةِ "ص" هَلْ هِيَ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ؟ عَلَى قَوْلَيْنِ الْجَدِيدُ مِنْ مَذْهَبِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهَا لَيْسَتْ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ بَلْ هِيَ سَجْدَةُ شُكْرٍ. وَالدَّلِيلُ عَلَى ذَلِكَ مَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ حَيْثُ قَالَ:
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ -وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ-عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[في أ: "عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ"، وفي ت: "ما رواه الإمام أحمد بإسناده عن ابن عباس" زيادة من أ.]] أَنَّهُ قَالَ فِي السُّجُودِ فِي "ص": لَيْسَتْ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَسْجُدُ فِيهَا.
وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ فِي تَفْسِيرِهِ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ بِهِ [[المسند (١/٣٦٠) وصحيح البخاري برقم (١٠٦٩) وسنن أبي داود برقم (١٤٠٩) وسنن الترمذي برقم (٥٧٧) .]] وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ [[في أ: "حديث حسن".]] صَحِيحٌ.
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] النَّسَائِيُّ أَيْضًا عِنْدَ تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ -هُوَ الْمِقْسَمِيُّ-حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرِو [[في أ: "عمر".]] بْنُ ذَرٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أن النَّبِيَّ ﷺ سَجَدَ فِي "ص" وَقَالَ: "سَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ تَوْبَةً وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا".
تَفَرَّدَ بِرِوَايَتِهِ النَّسَائِيُّ [[النسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٣٨) .]] وَرِجَالُ إِسْنَادِهِ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ وَقَدْ أَخْبَرَنِي شَيْخُنَا الْحَافِظُ أَبُو الحجاج المزي قراءة عليه وأنا أسمع: أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْمُدَرَّجِيُّ [[في أ: "أبو إسحاق بن المدرجي".]] أَخْبَرَنَا زَاهِرُ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الثَّقَفِيُّ أَخْبَرَنَا زَاهِرُ بْنُ طَاهِرٍ الشَّحَامِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الكَنْجَرُوذي أَخْبَرَنَا الْحَاكِمُ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّرَّاجُ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا محمد بن يزيد ابن خُنَيْس عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبِيدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: قَالَ لِيَ ابْنُ جُرَيْجٍ: يَا حَسَنُ حَدَّثَنِي جَدُّكَ عُبَيْدِ اللَّهِ [[في أ: "عبد الله".]] بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي أُصَلِّي خَلْفَ شَجَرَةٍ فَقَرَأْتُ السَّجْدَةَ فَسَجَدْتُ فَسَجَدَتِ الشَّجَرَةُ لِسُجُودِي فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ وَهِيَ سَاجِدَةٌ: اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا وَاقْبَلْهَا مِنِّي كَمَا قَبِلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ قَامَ فَقَرَأَ السَّجْدَةَ ثُمَّ سَجَدَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ وَهُوَ سَاجِدٌ كَمَا حَكَى الرَّجُلُ مِنْ كَلَامِ الشَّجَرَةِ [[رواه المزي في تهذيب الكمال (٦/٣١٤) .]]
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ قُتَيْبَةَ وَابْنِ مَاجَهْ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ خَلَّادٍ كِلَاهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ [[في أ: "يزيد بن حبيش".]] نَحْوَهُ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ [[سنن الترمذي برقم (٥٧٩) وسنن ابن ماجة برقم (١٠٥٣) .]]
وَقَالَ الْبُخَارِيُّ عِنْدَ تَفْسِيرِهَا أَيْضًا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبِيدِ الطَّنَافِسِيُّ عَنِ الْعَوَامِّ قَالَ: سَأَلْتُ مُجَاهِدًا عَنْ سَجْدَةِ "ص" فَقَالَ: [[في ت: "بإسناده إلى مجاهد قال".]] سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: مِنْ أين سجدت؟ فقال: أو ما تَقْرَأُ: ﴿وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ﴾ [الْأَنْعَامِ:٨٤] ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهِ﴾ [الْأَنْعَامِ:٩٠] [[في ت، س، أ: "هداهم" وهو خطأ، والصواب ما أثبتناه.]] فَكَانَ دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِمَّنْ [[في ت، س: "فيمن".]] أُمِرَ نَبِيُّكُمْ ﷺ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِ فَسَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَسَجَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ [[صحيح البخاري برقم (٤٨٠٧) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا بَكْرٌ -هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ-أَنَّهُ أَخْبَرَهُ [[في ت: "بإسناده".]] أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ [[في أ: "الخدري رضي الله عنه".]] رَأَى رُؤْيَا أَنَّهُ يَكْتُبُ "ص" فَلَمَّا بَلَغَ إِلَى الَّتِي يَسْجُدُ بِهَا رَأَى الدَّوَاةَ وَالْقَلَمَ وَكُلَّ شَيْءٍ بِحَضْرَتِهِ انْقَلَبَ سَاجِدًا قَالَ: فَقَصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ ﷺ فَلَمْ يَزَلْ يَسْجُدُ بِهَا بَعْدُ. تَفَرَّدَ بِهِ [الْإِمَامُ] [[زيادة من أ.]] أَحْمَدُ [[المسند (٣/٧٨) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] أَبُو دَاوُدَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عن أبي سعيد الخدري رضي اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ "ص" فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمٌ آخَرُ قَرَأَهَا فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَشَزّن [[في ت: "تشدد".]] النَّاسُ لِلسُّجُودِ، فَقَالَ: "إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَشَزّنْتُم". فَنَزَلَ وَسَجَدَ وَسَجَدُوا. تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو دَاوُدَ [[سنن أبي داود برقم (١٤١٠) .]] وَإِسْنَادُهُ عَلَى شَرْطِ الصَّحِيحِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ﴾ أَيْ: وَإِنَّ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَقُرْبَةً يُقَرِّبُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا وَحُسْنَ مَرْجِعٍ وَهُوَ الدَّرَجَاتُ الْعَالِيَاتُ فِي الْجَنَّةِ لِتَوْبَتِهِ [[في ت، س: "لنبوته".]] وَعَدْلِهِ التَّامِّ فِي مُلْكِهِ كَمَا جَاءَ فِي الصَّحِيحِ: "الْمُقْسِطُونَ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ الَّذِينَ يُقْسِطُونَ فِي أَهْلِيهِمْ وَمَا وُلُّوا" [[صحيح مسلم برقم (١٨٢٧) من حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ عَنْ عَطِيَّةَ [[في ت: "وروى الترمذي".]] عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَقْرَبَهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا إِمَامٌ عَادِلٌ [[في أ: "عدل".]] وَإِنَّ أَبْغَضَ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَشَدَّهُمْ عَذَابًا إِمَامٌ جَائِرٌ". وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مِنْ حَدِيثِ فُضَيْلٍ -وَهُوَ ابْنُ مَرْزُوقٍ الْأَغَرُّ-عَنْ عَطِيَّةَ بِهِ [[المسند (٣/٢٢) وسنن الترمذي برقم (١٣٢٩) .]] وَقَالَ: لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ دِينَارٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ﴾ قَالَ: يُقَامُ دَاوُدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ سَاقِ الْعَرْشِ ثُمَّ يَقُولُ: يَا دَاوُدُ مَجِّدْنِي الْيَوْمَ بِذَلِكَ الصَّوْتِ الْحَسَنِ الرَّخِيمِ الَّذِي كُنْتَ تُمَجِّدُنِي بِهِ فِي الدُّنْيَا. فَيَقُولُ: وَكَيْفَ وَقَدْ سُلِبْتُهُ؟ فَيَقُولُ: إِنِّي أَرُدُّهُ عَلَيْكَ الْيَوْمَ. قَالَ: فَيَرْفَعُ دَاوُدُ بِصَوْتٍ يَسْتَفْرِغُ نعيم أهل الجنان.
يَٰدَاوُۥدُ إِنَّا جَعَلْنَٰكَ خَلِيفَةًۭ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱحْكُم بَيْنَ ٱلنَّاسِ بِٱلْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ ٱلْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌۭ شَدِيدٌۢ بِمَا نَسُوا۟ يَوْمَ ٱلْحِسَابِ
[We said], "O David, indeed We have made you a successor upon the earth, so judge between the people in truth and do not follow [your own] desire, as it will lead you astray from the way of Allah." Indeed, those who go astray from the way of Allah will have a severe punishment for having forgotten the Day of Account.
اے داؤد ہم نے تم کو زمین میں بادشاہ بنایا ہے تو لوگوں میں انصاف کے فیصلے کیا کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں خدا کے رستے سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ خدا کے رستے سے بھٹکتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب (تیار) ہے کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا
ای داوود! ما تو را خلیفه و (نماینده خود) در زمین قرار دادیم؛ پس در میان مردم بحق داوری کن، و از هوای نفس پیروی مکن که تو را از راه خدا منحرف سازد؛ کسانی که از راه خدا گمراه شوند، عذاب شدیدی بخاطر فراموش کردن روز حساب دارند!
Tafsir Ibn Kathir
O Dawud! Verily, We have placed you as a successor on the earth; so judge you between men in truth (and justice) and follow not your desire – for it will mislead you from the path of Allah. Verily, those who wander astray from the path of Allah (shall) have a severe torment, because they forgot the Day of Reckoni (26)
Advice to Rulers and Leaders
This is advice from Allah, may He be exalted, to those who are in positions of authority. They should rule according to the truth and justice revealed from Him, they should not turn away from it and be led astray from the path of Allah. Allah has issued a stern warning of a severe punishment to those who go astray from His path and forget the Day of Resurrection.
Ibn Abi Hatim recorded that Ibrahim Abu Zur'ah, who read the Scripture, reported that Al-Walid bin 'Abd Al-Malik said to him: "Does anyone have the right to question the Khalifah? You have read the first Scripture and the Qur'an, and you have understood them." He replied, "May I speak, O Commander of the faithful?" He said, "Speak, for you are under the protection of Allah." I said, "O Commander of the faithful, are you more dear to Allah, or Dawud, peace be upon him For Allah gave him both prophethood and rulership, then He warned him in His Book:
يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ۚ
(O Dawud ! Verily, We have placed you as a successor on the earth; so judge you between men in truth (and justice) and follow not your desire – for it will mislead you from the path of Allah)." 'Ikrimah said:
لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ
((Those shall) have a severe torment, because they forgot the Day of Reckoning.) "They will have a severe punishment on the Day of Reckoning because of what they forgot. " As-Suddi said, "They will have a severe punishment because of what they neglected to do for the sake of the Day of Reckoning." This interpretation is more in accordance with the apparent meaning of the Ayah. And Allah, may He be glorified and exalted, is the Guide to the Truth.
Tafsir Ibn Kathir
صاحب اختیار لوگوں کے لئے انصاف کا حکم۔ اس آیت میں بادشاہ اور ذی اختیار لوگوں کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ عدل و انصاف کے ساتھ قرآن و حدیث کے مطابق فیصلے کریں ورنہ اللہ کی راہ سے بھٹک جائیں گے اور جو بھٹک کر اپنے حساب کے دن کو بھول جائے وہ سخت عذابوں میں مبتلا ہوگا۔ حضرت ابو زرعہ ؒ سے بادشاہ وقت ولید بن عبدالملک نے ایک مرتبہ دریافت کیا کہ کیا خلیفہ وقت سے بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں حساب لیا جائے گا آپ نے فرمایا سچ بتادوں خلیفہ نے کہا ضرور سچ ہی بتاؤ اور آپ کو ہر طرح امن ہے۔ فرمایا اے امیر المومنین اللہ کے نزدیک آپ سے بہت بڑا درجہ حضرت داؤد ؑ کا تھا انہیں خلافت کے ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ نے نبوت بھی دے رکھی تھی لیکن اس کے باوجود کتاب اللہ ان سے کہتی ہے (يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاس بالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭاِنَّ الَّذِيْنَ يَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا نَسُوْا يَوْمَ الْحِسَابِ 26) 38۔ ص :26) عکرمہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ان کے لئے یوم الحساب کو سخت عذاب ہیں اس کے بھول جانے کے باعث سدی کہتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہیں اس وجہ سے کہ انہوں نے یوم الحساب کے لئے اعمال جمع نہیں کئے۔ آیت کے لفظوں سے اسی قول کو زیادہ مناسبت ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ وَصِيَّةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لِوُلَاةِ الْأُمُورِ أَنْ يَحْكُمُوا بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ الْمُنَزَّلِ مِنْ عِنْدِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَا يَعْدِلُوا عَنْهُ فَيَضِلُّوا عَنْ سَبِيلِهِ [[في أ: "سبيل الله".]] وَقَدْ تَوَعَّدَ [اللَّهُ] [[زيادة من أ.]] تَعَالَى مَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ، وَتَنَاسَى يَوْمَ الْحِسَابِ، بِالْوَعِيدِ الْأَكِيدِ وَالْعَذَابِ الشَّدِيدِ.
قَالَ [[في ت: "روى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ جَنَاحٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ أَبُو زُرْعَةَ -وَكَانَ قَدْ قَرَأَ الْكِتَابَ-أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ لَهُ: [[في ت: "لأبي وزعة".]] أَيُحَاسَبُ الْخَلِيفَةُ فَإِنَّكَ قَدْ قَرَأْتَ الْكِتَابَ الْأَوَّلَ، وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ وَفَقِهْتَ؟ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَقُولُ؟ قَالَ: قُلْ فِي أَمَانٍ. قَلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْتَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ أَوْ دَاوُدُ؟ إِنِ اللَّهَ -عَزَّ وَجَلَّ-جَمَعَ لَهُ النُّبُوَّةَ وَالْخِلَافَةَ ثُمَّ تَوَعَّدَهُ فِي كِتَابِهِ فَقَالَ: ﴿يَا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الأرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلا تَتَّبِعِ الْهَوَى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ﴾ الْآيَةَ.
وَقَالَ عِكْرِمَةُ: ﴿لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ﴾ هَذَا مِنَ الْمُقَدَّمِ وَالْمُؤَخَّرِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ يَوْمَ الْحِسَابِ بِمَا نَسُوا.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا تَرَكُوا أَنْ يَعْمَلُوا لِيَوْمِ الْحِسَابِ.
وَهَذَا الْقَوْلُ أَمَشَى عَلَى ظَاهِرِ الْآيَةِ فَاللَّهُ أعلم.
وَمَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَآءَ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَٰطِلًۭا ۚ ذَٰلِكَ ظَنُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۚ فَوَيْلٌۭ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنَ ٱلنَّارِ
And We did not create the heaven and the earth and that between them aimlessly. That is the assumption of those who disbelieve, so woe to those who disbelieve from the Fire.
اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کائنات ان میں ہے اس کو خالی از مصلحت نہیں پیدا کیا۔ یہ ان کا گمان ہے جو کافر ہیں۔ سو کافروں کے لئے دوزخ کا عذاب ہے
ما آسمان و زمین و آنچه را میان آنهاست بیهوده نیافریدیم؛ این گمان کافران است؛ وای بر کافران از آتش (دوزخ)!
Tafsir Ibn Kathir
And We created not the heaven and the earth and all that is between them without purpose! That is the consideration of those who disbelieve! Then woe to those who disbelieve from the Fire (27)Shall We treat those who believe and do righteous good deeds as those who cause mischief on the earth? Or shall We treat those who have Taqwa as the evildoers (28)(This is) a Book which We have sent down to you, full of blessings, that they may ponder over its Verses, and that men of understanding may remember (29)
The Wisdom behind the Creation of This World
Allah tells us that He did not create the creatures in vain; He created them to worship Him Alone, then He will gather them on the Day of Gathering and will reward the obedient and punish the disbelievers. Allah says:
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ۚ ذَٰلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ
(And We created not the heaven and the earth and all that is between them without purpose! That is the consideration of those who disbelieve!) meaning, those who do not think that the resurrection and the place of return will occur, but they think that there is nothing after this world.
فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ
(Then woe to those who disbelieve from the Fire!) means, woe to them on the Day when they will be resurrected, from the Fire that is prepared for them. Then Allah explains that because of His justice and wisdom, He does not treat the believers and the disbelievers equally. Allah says:
أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ
(Shall We treat those who believe and do righteous good deeds as those who do mischief on the earth? Or shall We treat Those who have Taqwa as the evildoers?) meaning, 'We shall not do that.' They are not equal before Allah, and since this is the case, there must inevitably be another realm in which those who obey Allah will be rewarded and the wicked will be punished. This teaching indicates to those of a sound mind and upright nature that there must inevitably be a resurrection and recompense. We see evildoers and criminals are prospering and increasing in wealth, children and luxury, until they die in that state. We see oppressed believers dying of grief and distress, so by the wisdom of the All-Wise, All-Knowing, All-Just who does not do even a speck of dust's weight of injustice, there should be a time when the rights of the oppressed are restored with due justice. If this does not happen in this world, there must be another realm where recompense may be made and consolation may be found. The Qur'an teaches sound aims based on a rational way of thinking, so Allah says:
كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ
((This is) a Book which We have sent down to you, full of blessings, that they may ponder over its Ayat, and that men of understanding may remember.) meaning, those who are possessed of wisdom and reason.
Tafsir Ibn Kathir
ارشاد ہے کہ مخلوق کی پیدائش عبث اور بیکار نہیں یہ سب عبادت خالق کے لئے پیدا کی گئی ہے پھر ایک وقت آنے والا ہے کہ ماننے والے کی سربلندی کی جائے اور نہ ماننے والوں کو سخت سزا دی جائے۔ کافروں کا خیال ہے کہ ہم نے انہیں یونہی پیدا کردیا ہے ؟ اور آخرت اور دوسری زندگی کوئی چیز نہیں یہ غلط ہے۔ ان کافروں کو قیامت کے دن بڑی خرابی ہوگی کیونکہ اس آگ میں انہیں جلنا پڑے گا جو ان کے لئے اللہ کے فرشتوں نے بڑھکا رکھی ہے۔ یہ ناممکن ہے اور ان ہونی بات ہے کہ مومن و مفسد کو اور پرہیزگار اور بدکار کو ایک جیسا کردیں۔ اگر قیامت آنے والی ہی نہ ہو تو یہ دونوں انجام کے لحاظ سے یکساں ہی رہے۔ حالانکہ یہ خلاف انصاف ہے قیامت ضرور آئے گی نیک کار جنت میں اور گنہگار جہنم میں جائیں گے۔ پس عقلی اقتضا بھی دار آخرت کے ثبوت کو ہی چاہتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ظالم پاپی اللہ کی درگاہ سے راندہ ہوا دنیا میں خوش وقت ہے مال اولاد فراغت تندرستی سب کچھ اس کے پاس ہے اور ایک مومن متقی پاک دامن ایک ایک پیسے سے تنگ ایک ایک راحت سے دور رہے تو حکمت علیم و حکیم و عادل کا اقتضاء یہ تھا کہ کوئی ایسا وقت بھی آئے کہ اس نمک حرام سے اس کی نمک حرامی کا بدلہ لیا جائے اور اس صابر و شاکر فرمانبردار کی نیکیوں کا اسے بدلہ دیا جائے اور یہی دار آخرت میں ہونا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ اس جہان کے بعد ایک جہاں یقینا ہے۔ چونکہ یہ پاک تعلیم قرآن سے ہی حاصل ہوئی ہے اور اس نیکی کا رہبر یہی ہے اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا کہ یہ مبارک کتاب ہم نے تیری طرف نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اسے سمجھیں اور ذی عقل لوگ اس سے نصیحت حاصل کرسکیں۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں جس نے قرآن کے الفاظ حفظ کر لئے اور قرآن پر عمل نہیں کیا اس نے قرآن میں تدبر و غور بھی نہیں کیا لوگ کہتے ہیں ہم نے پورا قرآن پڑھ لیا لیکن قرآن کی ایک نصیحت یا قرآن کے ایک حکم کا نمونہ میں نظر نہیں آتا ایسا نہ چاہئے۔ اصل غور و خوض اور نصیحت و عبرت عمل ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّهُ مَا خَلَقَ الْخَلْقَ عَبَثًا وَإِنَّمَا خَلَقَهُمْ لِيَعْبُدُوهُ وَيُوَحِّدُوهُ ثُمَّ يَجْمَعُهُمْ [[في ت، س: "جمعهم".]] لِيَوْمِ الْجَمْعِ فَيُثِيبُ الْمُطِيعَ وَيُعَذِّبُ الْكَافِرَ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالأرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ أَيِ: الَّذِينَ لَا يَرَوْنَ بَعْثًا وَلَا مَعَادًا وَإِنَّمَا يَعْتَقِدُونَ هَذِهِ الدَّارَ فَقَطْ، ﴿فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ﴾ أَيْ: وَيْلٌ لَهُمْ يَوْمَ مَعَادِهِمْ وَنَشُورِهِمْ مِنَ النَّارِ الْمُعَدَّةِ لَهُمْ.
ثُمَّ بَيَّنَ تَعَالَى أَنَّهُ مِنْ عَدْلِهِ وَحِكْمَتِهِ لَا يُسَاوِي بَيْنَ الْمُؤْمِنِ وَالْكَافِرِ فَقَالَ: ﴿أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الأرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ﴾ أَيْ: لَا نَفْعَلُ ذَلِكَ وَلَا يَسْتَوُونَ عِنْدَ اللَّهِ، وَإِذَا كَانَ الْأَمْرُ كَذَلِكَ فَلَا بُدَّ مِنْ دَارٍ أُخْرَى يُثَابُ فِيهَا هَذَا الْمُطِيعُ وَيُعَاقَبُ [[في ت: "ويعذب".]] فِيهَا هَذَا الْفَاجِرُ. [[في س: "العاصي".]] وَهَذَا الْإِرْشَادُ يَدُلُّ الْعُقُولَ السَّلِيمَةَ وَالْفِطَرَ الْمُسْتَقِيمَةَ عَلَى أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ مَعَادٍ وَجَزَاءٍ فَإِنَّا نَرَى الظَّالِمَ الْبَاغِيَ يَزْدَادُ مَالُهُ وَوَلَدُهُ وَنَعِيمُهُ وَيَمُوتُ كَذَلِكَ وَنَرَى الْمُطِيعَ الْمَظْلُومَ يَمُوتُ بِكَمَدِهِ فَلَا بُدَّ فِي حِكْمَةِ الْحَكِيمِ الْعَلِيمِ الْعَادِلِ الَّذِي لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ إِنْصَافِ هَذَا مِنْ هَذَا. وَإِذَا لَمْ يَقَعْ هَذَا فِي هَذِهِ الدَّارِ فَتَعَيَّنَ أَنَّ هُنَاكَ دَارًا أُخْرَى لِهَذَا الْجَزَاءِ وَالْمُوَاسَاةِ. وَلَمَّا كَانَ الْقُرْآنُ يُرْشِدُ إِلَى الْمَقَاصِدِ الصَّحِيحَةِ وَالْمَآخِذِ الْعَقْلِيَّةِ الصَّرِيحَةِ، قَالَ: ﴿كِتَابٌ أَنزلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الألْبَابِ﴾ أَيْ: ذَوُو الْعُقُولِ وَهِيَ الْأَلْبَابُ، جَمْعُ لُبٍّ، وَهُوَ العقل.
قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: وَاللَّهِ مَا تَدَبُّره بِحِفْظِ حُرُوفِهِ وَإِضَاعَةِ حُدُودِهِ، حَتَّى إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيَقُولُ: قَرَأْتُ الْقُرْآنَ [كُلَّهُ] [[زيادة من ت، س، أ.]] مَا يُرَى لَهُ القرآنُ فِي خُلُقٍ وَلَا عَمَلٍ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
أَمْ نَجْعَلُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ كَٱلْمُفْسِدِينَ فِى ٱلْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ ٱلْمُتَّقِينَ كَٱلْفُجَّارِ
Or should we treat those who believe and do righteous deeds like corrupters in the land? Or should We treat those who fear Allah like the wicked?
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے۔ کیا ان کو ہم ان کی طرح کر دیں گے جو ملک میں فساد کرتے ہیں۔ یا پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح کر دیں گے
آیا کسانی را که ایمان آورده و کارهای شایسته انجام دادهاند همچون مفسدان در زمین قرار میدهیم، یا پرهیزگاران را همچون فاجران؟!
Tafsir Ibn Kathir
And We created not the heaven and the earth and all that is between them without purpose! That is the consideration of those who disbelieve! Then woe to those who disbelieve from the Fire (27)Shall We treat those who believe and do righteous good deeds as those who cause mischief on the earth? Or shall We treat those who have Taqwa as the evildoers (28)(This is) a Book which We have sent down to you, full of blessings, that they may ponder over its Verses, and that men of understanding may remember (29)
The Wisdom behind the Creation of This World
Allah tells us that He did not create the creatures in vain; He created them to worship Him Alone, then He will gather them on the Day of Gathering and will reward the obedient and punish the disbelievers. Allah says:
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ۚ ذَٰلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ
(And We created not the heaven and the earth and all that is between them without purpose! That is the consideration of those who disbelieve!) meaning, those who do not think that the resurrection and the place of return will occur, but they think that there is nothing after this world.
فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ
(Then woe to those who disbelieve from the Fire!) means, woe to them on the Day when they will be resurrected, from the Fire that is prepared for them. Then Allah explains that because of His justice and wisdom, He does not treat the believers and the disbelievers equally. Allah says:
أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ
(Shall We treat those who believe and do righteous good deeds as those who do mischief on the earth? Or shall We treat Those who have Taqwa as the evildoers?) meaning, 'We shall not do that.' They are not equal before Allah, and since this is the case, there must inevitably be another realm in which those who obey Allah will be rewarded and the wicked will be punished. This teaching indicates to those of a sound mind and upright nature that there must inevitably be a resurrection and recompense. We see evildoers and criminals are prospering and increasing in wealth, children and luxury, until they die in that state. We see oppressed believers dying of grief and distress, so by the wisdom of the All-Wise, All-Knowing, All-Just who does not do even a speck of dust's weight of injustice, there should be a time when the rights of the oppressed are restored with due justice. If this does not happen in this world, there must be another realm where recompense may be made and consolation may be found. The Qur'an teaches sound aims based on a rational way of thinking, so Allah says:
كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ
((This is) a Book which We have sent down to you, full of blessings, that they may ponder over its Ayat, and that men of understanding may remember.) meaning, those who are possessed of wisdom and reason.
Tafsir Ibn Kathir
ارشاد ہے کہ مخلوق کی پیدائش عبث اور بیکار نہیں یہ سب عبادت خالق کے لئے پیدا کی گئی ہے پھر ایک وقت آنے والا ہے کہ ماننے والے کی سربلندی کی جائے اور نہ ماننے والوں کو سخت سزا دی جائے۔ کافروں کا خیال ہے کہ ہم نے انہیں یونہی پیدا کردیا ہے ؟ اور آخرت اور دوسری زندگی کوئی چیز نہیں یہ غلط ہے۔ ان کافروں کو قیامت کے دن بڑی خرابی ہوگی کیونکہ اس آگ میں انہیں جلنا پڑے گا جو ان کے لئے اللہ کے فرشتوں نے بڑھکا رکھی ہے۔ یہ ناممکن ہے اور ان ہونی بات ہے کہ مومن و مفسد کو اور پرہیزگار اور بدکار کو ایک جیسا کردیں۔ اگر قیامت آنے والی ہی نہ ہو تو یہ دونوں انجام کے لحاظ سے یکساں ہی رہے۔ حالانکہ یہ خلاف انصاف ہے قیامت ضرور آئے گی نیک کار جنت میں اور گنہگار جہنم میں جائیں گے۔ پس عقلی اقتضا بھی دار آخرت کے ثبوت کو ہی چاہتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ظالم پاپی اللہ کی درگاہ سے راندہ ہوا دنیا میں خوش وقت ہے مال اولاد فراغت تندرستی سب کچھ اس کے پاس ہے اور ایک مومن متقی پاک دامن ایک ایک پیسے سے تنگ ایک ایک راحت سے دور رہے تو حکمت علیم و حکیم و عادل کا اقتضاء یہ تھا کہ کوئی ایسا وقت بھی آئے کہ اس نمک حرام سے اس کی نمک حرامی کا بدلہ لیا جائے اور اس صابر و شاکر فرمانبردار کی نیکیوں کا اسے بدلہ دیا جائے اور یہی دار آخرت میں ہونا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ اس جہان کے بعد ایک جہاں یقینا ہے۔ چونکہ یہ پاک تعلیم قرآن سے ہی حاصل ہوئی ہے اور اس نیکی کا رہبر یہی ہے اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا کہ یہ مبارک کتاب ہم نے تیری طرف نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اسے سمجھیں اور ذی عقل لوگ اس سے نصیحت حاصل کرسکیں۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں جس نے قرآن کے الفاظ حفظ کر لئے اور قرآن پر عمل نہیں کیا اس نے قرآن میں تدبر و غور بھی نہیں کیا لوگ کہتے ہیں ہم نے پورا قرآن پڑھ لیا لیکن قرآن کی ایک نصیحت یا قرآن کے ایک حکم کا نمونہ میں نظر نہیں آتا ایسا نہ چاہئے۔ اصل غور و خوض اور نصیحت و عبرت عمل ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّهُ مَا خَلَقَ الْخَلْقَ عَبَثًا وَإِنَّمَا خَلَقَهُمْ لِيَعْبُدُوهُ وَيُوَحِّدُوهُ ثُمَّ يَجْمَعُهُمْ [[في ت، س: "جمعهم".]] لِيَوْمِ الْجَمْعِ فَيُثِيبُ الْمُطِيعَ وَيُعَذِّبُ الْكَافِرَ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالأرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ أَيِ: الَّذِينَ لَا يَرَوْنَ بَعْثًا وَلَا مَعَادًا وَإِنَّمَا يَعْتَقِدُونَ هَذِهِ الدَّارَ فَقَطْ، ﴿فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ﴾ أَيْ: وَيْلٌ لَهُمْ يَوْمَ مَعَادِهِمْ وَنَشُورِهِمْ مِنَ النَّارِ الْمُعَدَّةِ لَهُمْ.
ثُمَّ بَيَّنَ تَعَالَى أَنَّهُ مِنْ عَدْلِهِ وَحِكْمَتِهِ لَا يُسَاوِي بَيْنَ الْمُؤْمِنِ وَالْكَافِرِ فَقَالَ: ﴿أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الأرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ﴾ أَيْ: لَا نَفْعَلُ ذَلِكَ وَلَا يَسْتَوُونَ عِنْدَ اللَّهِ، وَإِذَا كَانَ الْأَمْرُ كَذَلِكَ فَلَا بُدَّ مِنْ دَارٍ أُخْرَى يُثَابُ فِيهَا هَذَا الْمُطِيعُ وَيُعَاقَبُ [[في ت: "ويعذب".]] فِيهَا هَذَا الْفَاجِرُ. [[في س: "العاصي".]] وَهَذَا الْإِرْشَادُ يَدُلُّ الْعُقُولَ السَّلِيمَةَ وَالْفِطَرَ الْمُسْتَقِيمَةَ عَلَى أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ مَعَادٍ وَجَزَاءٍ فَإِنَّا نَرَى الظَّالِمَ الْبَاغِيَ يَزْدَادُ مَالُهُ وَوَلَدُهُ وَنَعِيمُهُ وَيَمُوتُ كَذَلِكَ وَنَرَى الْمُطِيعَ الْمَظْلُومَ يَمُوتُ بِكَمَدِهِ فَلَا بُدَّ فِي حِكْمَةِ الْحَكِيمِ الْعَلِيمِ الْعَادِلِ الَّذِي لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ إِنْصَافِ هَذَا مِنْ هَذَا. وَإِذَا لَمْ يَقَعْ هَذَا فِي هَذِهِ الدَّارِ فَتَعَيَّنَ أَنَّ هُنَاكَ دَارًا أُخْرَى لِهَذَا الْجَزَاءِ وَالْمُوَاسَاةِ. وَلَمَّا كَانَ الْقُرْآنُ يُرْشِدُ إِلَى الْمَقَاصِدِ الصَّحِيحَةِ وَالْمَآخِذِ الْعَقْلِيَّةِ الصَّرِيحَةِ، قَالَ: ﴿كِتَابٌ أَنزلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الألْبَابِ﴾ أَيْ: ذَوُو الْعُقُولِ وَهِيَ الْأَلْبَابُ، جَمْعُ لُبٍّ، وَهُوَ العقل.
قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: وَاللَّهِ مَا تَدَبُّره بِحِفْظِ حُرُوفِهِ وَإِضَاعَةِ حُدُودِهِ، حَتَّى إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيَقُولُ: قَرَأْتُ الْقُرْآنَ [كُلَّهُ] [[زيادة من ت، س، أ.]] مَا يُرَى لَهُ القرآنُ فِي خُلُقٍ وَلَا عَمَلٍ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
كِتَٰبٌ أَنزَلْنَٰهُ إِلَيْكَ مُبَٰرَكٌۭ لِّيَدَّبَّرُوٓا۟ ءَايَٰتِهِۦ وَلِيَتَذَكَّرَ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٰبِ
[This is] a blessed Book which We have revealed to you, [O Muhammad], that they might reflect upon its verses and that those of understanding would be reminded.
(یہ) کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں
این کتابی است پربرکت که بر تو نازل کردهایم تا در آیات آن تدبّر کنند و خردمندان متذکّر شوند!
Tafsir Ibn Kathir
And We created not the heaven and the earth and all that is between them without purpose! That is the consideration of those who disbelieve! Then woe to those who disbelieve from the Fire (27)Shall We treat those who believe and do righteous good deeds as those who cause mischief on the earth? Or shall We treat those who have Taqwa as the evildoers (28)(This is) a Book which We have sent down to you, full of blessings, that they may ponder over its Verses, and that men of understanding may remember (29)
The Wisdom behind the Creation of This World
Allah tells us that He did not create the creatures in vain; He created them to worship Him Alone, then He will gather them on the Day of Gathering and will reward the obedient and punish the disbelievers. Allah says:
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ۚ ذَٰلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ
(And We created not the heaven and the earth and all that is between them without purpose! That is the consideration of those who disbelieve!) meaning, those who do not think that the resurrection and the place of return will occur, but they think that there is nothing after this world.
فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ
(Then woe to those who disbelieve from the Fire!) means, woe to them on the Day when they will be resurrected, from the Fire that is prepared for them. Then Allah explains that because of His justice and wisdom, He does not treat the believers and the disbelievers equally. Allah says:
أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ
(Shall We treat those who believe and do righteous good deeds as those who do mischief on the earth? Or shall We treat Those who have Taqwa as the evildoers?) meaning, 'We shall not do that.' They are not equal before Allah, and since this is the case, there must inevitably be another realm in which those who obey Allah will be rewarded and the wicked will be punished. This teaching indicates to those of a sound mind and upright nature that there must inevitably be a resurrection and recompense. We see evildoers and criminals are prospering and increasing in wealth, children and luxury, until they die in that state. We see oppressed believers dying of grief and distress, so by the wisdom of the All-Wise, All-Knowing, All-Just who does not do even a speck of dust's weight of injustice, there should be a time when the rights of the oppressed are restored with due justice. If this does not happen in this world, there must be another realm where recompense may be made and consolation may be found. The Qur'an teaches sound aims based on a rational way of thinking, so Allah says:
كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ
((This is) a Book which We have sent down to you, full of blessings, that they may ponder over its Ayat, and that men of understanding may remember.) meaning, those who are possessed of wisdom and reason.
Tafsir Ibn Kathir
ارشاد ہے کہ مخلوق کی پیدائش عبث اور بیکار نہیں یہ سب عبادت خالق کے لئے پیدا کی گئی ہے پھر ایک وقت آنے والا ہے کہ ماننے والے کی سربلندی کی جائے اور نہ ماننے والوں کو سخت سزا دی جائے۔ کافروں کا خیال ہے کہ ہم نے انہیں یونہی پیدا کردیا ہے ؟ اور آخرت اور دوسری زندگی کوئی چیز نہیں یہ غلط ہے۔ ان کافروں کو قیامت کے دن بڑی خرابی ہوگی کیونکہ اس آگ میں انہیں جلنا پڑے گا جو ان کے لئے اللہ کے فرشتوں نے بڑھکا رکھی ہے۔ یہ ناممکن ہے اور ان ہونی بات ہے کہ مومن و مفسد کو اور پرہیزگار اور بدکار کو ایک جیسا کردیں۔ اگر قیامت آنے والی ہی نہ ہو تو یہ دونوں انجام کے لحاظ سے یکساں ہی رہے۔ حالانکہ یہ خلاف انصاف ہے قیامت ضرور آئے گی نیک کار جنت میں اور گنہگار جہنم میں جائیں گے۔ پس عقلی اقتضا بھی دار آخرت کے ثبوت کو ہی چاہتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ظالم پاپی اللہ کی درگاہ سے راندہ ہوا دنیا میں خوش وقت ہے مال اولاد فراغت تندرستی سب کچھ اس کے پاس ہے اور ایک مومن متقی پاک دامن ایک ایک پیسے سے تنگ ایک ایک راحت سے دور رہے تو حکمت علیم و حکیم و عادل کا اقتضاء یہ تھا کہ کوئی ایسا وقت بھی آئے کہ اس نمک حرام سے اس کی نمک حرامی کا بدلہ لیا جائے اور اس صابر و شاکر فرمانبردار کی نیکیوں کا اسے بدلہ دیا جائے اور یہی دار آخرت میں ہونا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ اس جہان کے بعد ایک جہاں یقینا ہے۔ چونکہ یہ پاک تعلیم قرآن سے ہی حاصل ہوئی ہے اور اس نیکی کا رہبر یہی ہے اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا کہ یہ مبارک کتاب ہم نے تیری طرف نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اسے سمجھیں اور ذی عقل لوگ اس سے نصیحت حاصل کرسکیں۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں جس نے قرآن کے الفاظ حفظ کر لئے اور قرآن پر عمل نہیں کیا اس نے قرآن میں تدبر و غور بھی نہیں کیا لوگ کہتے ہیں ہم نے پورا قرآن پڑھ لیا لیکن قرآن کی ایک نصیحت یا قرآن کے ایک حکم کا نمونہ میں نظر نہیں آتا ایسا نہ چاہئے۔ اصل غور و خوض اور نصیحت و عبرت عمل ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّهُ مَا خَلَقَ الْخَلْقَ عَبَثًا وَإِنَّمَا خَلَقَهُمْ لِيَعْبُدُوهُ وَيُوَحِّدُوهُ ثُمَّ يَجْمَعُهُمْ [[في ت، س: "جمعهم".]] لِيَوْمِ الْجَمْعِ فَيُثِيبُ الْمُطِيعَ وَيُعَذِّبُ الْكَافِرَ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالأرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ أَيِ: الَّذِينَ لَا يَرَوْنَ بَعْثًا وَلَا مَعَادًا وَإِنَّمَا يَعْتَقِدُونَ هَذِهِ الدَّارَ فَقَطْ، ﴿فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ﴾ أَيْ: وَيْلٌ لَهُمْ يَوْمَ مَعَادِهِمْ وَنَشُورِهِمْ مِنَ النَّارِ الْمُعَدَّةِ لَهُمْ.
ثُمَّ بَيَّنَ تَعَالَى أَنَّهُ مِنْ عَدْلِهِ وَحِكْمَتِهِ لَا يُسَاوِي بَيْنَ الْمُؤْمِنِ وَالْكَافِرِ فَقَالَ: ﴿أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الأرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ﴾ أَيْ: لَا نَفْعَلُ ذَلِكَ وَلَا يَسْتَوُونَ عِنْدَ اللَّهِ، وَإِذَا كَانَ الْأَمْرُ كَذَلِكَ فَلَا بُدَّ مِنْ دَارٍ أُخْرَى يُثَابُ فِيهَا هَذَا الْمُطِيعُ وَيُعَاقَبُ [[في ت: "ويعذب".]] فِيهَا هَذَا الْفَاجِرُ. [[في س: "العاصي".]] وَهَذَا الْإِرْشَادُ يَدُلُّ الْعُقُولَ السَّلِيمَةَ وَالْفِطَرَ الْمُسْتَقِيمَةَ عَلَى أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ مَعَادٍ وَجَزَاءٍ فَإِنَّا نَرَى الظَّالِمَ الْبَاغِيَ يَزْدَادُ مَالُهُ وَوَلَدُهُ وَنَعِيمُهُ وَيَمُوتُ كَذَلِكَ وَنَرَى الْمُطِيعَ الْمَظْلُومَ يَمُوتُ بِكَمَدِهِ فَلَا بُدَّ فِي حِكْمَةِ الْحَكِيمِ الْعَلِيمِ الْعَادِلِ الَّذِي لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ إِنْصَافِ هَذَا مِنْ هَذَا. وَإِذَا لَمْ يَقَعْ هَذَا فِي هَذِهِ الدَّارِ فَتَعَيَّنَ أَنَّ هُنَاكَ دَارًا أُخْرَى لِهَذَا الْجَزَاءِ وَالْمُوَاسَاةِ. وَلَمَّا كَانَ الْقُرْآنُ يُرْشِدُ إِلَى الْمَقَاصِدِ الصَّحِيحَةِ وَالْمَآخِذِ الْعَقْلِيَّةِ الصَّرِيحَةِ، قَالَ: ﴿كِتَابٌ أَنزلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الألْبَابِ﴾ أَيْ: ذَوُو الْعُقُولِ وَهِيَ الْأَلْبَابُ، جَمْعُ لُبٍّ، وَهُوَ العقل.
قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: وَاللَّهِ مَا تَدَبُّره بِحِفْظِ حُرُوفِهِ وَإِضَاعَةِ حُدُودِهِ، حَتَّى إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيَقُولُ: قَرَأْتُ الْقُرْآنَ [كُلَّهُ] [[زيادة من ت، س، أ.]] مَا يُرَى لَهُ القرآنُ فِي خُلُقٍ وَلَا عَمَلٍ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَوَهَبْنَا لِدَاوُۥدَ سُلَيْمَٰنَ ۚ نِعْمَ ٱلْعَبْدُ ۖ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ
And to David We gave Solomon. An excellent servant, indeed he was one repeatedly turning back [to Allah].
اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کئے۔ بہت خوب بندے (تھے اور) وہ (خدا کی طرف) رجوع کرنے والے تھے
ما سلیمان را به داوود بخشیدیم؛ چه بنده خوبی! زیرا همواره به سوی خدا بازگشت میکرد (و به یاد او بود)!
Tafsir Ibn Kathir
And to Dawud We gave Sulayman. How excellent a servant! Verily, he was ever turning in repentance (to Us)(30)When there were displayed before him, in the afternoon, well trained horses of the highest breed (31)He said: "I did love the good instead of remembering my Lord," till the time was over, and (the sun) had hidden in the veil (of night)(32)Then he said: "Bring them back to me." Then he began to pass his hand over their legs and their necks (33)
Sulayman the Son of Dawud
Allah tells us that he gave Sulayman to Dawud as a Prophet, as He says elsewhere:
وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ ۖ
(And Sulayman inherited Dawud)(27:16). meaning, he inherited prophethood from him. Dawud had other sons besides Sulayman, for he had one hundred free wives.
نِعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ
(How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)!) This is praise for Sulayman, because he was very much obedient, worshipping Allah much and always turning to Allah in repentance.
إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصَّافِنَاتُ الْجِيَادُ
(When there were displayed before him, in the afternoon, well trained horses of the highest breed.) means, these well trained horses were shown to Sulayman, peace be upon him, in his capacity as king and ruler. Mujahid said, "They were the kind of horses which stand on three legs and raise the fourth, and they were swift horses." This was also the view of several others among the Salaf. Abu Dawud recorded that 'A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "The Messenger of Allah ﷺ came back from the campaign of Tabuk or Khaybar, and there was a curtain covering her room. The wind came and lifted the curtain, revealing some toys belonging to 'A'ishah, may Allah be pleased with her. The Prophet ﷺ said:
مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟
(What is this, O 'A'ishah?) She, may Allah be pleased with her, said, "My toys." Among them he saw a horse with two wings made of cloth. He ﷺ said:
مَا هَذَا الَّذِي أَرَى وَسَطَهُنَّ؟
(What is this that I see in the midst of them?) She, may Allah be pleased with her, said, "A horse." The Messenger of Allah ﷺ said,
مَا هَذَا الَّذِي عَلَيْهِ؟
(And what is this on it?) She, may Allah be pleased with her, said, "Wings." The Messenger of Allah ﷺ said,
فَرَسٌ لَهُ جَنَاحَانِ؟
(A horse with two wings?) She, may Allah be pleased with her, said, "Did you not hear that Sulayman, peace be upon him, had a horse that had wings?" She, may Allah be pleased with her, said, "The Messenger of Allah ﷺ smiled so broadly that I could see his molars."
فَقَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي حَتَّىٰ تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ
(He said: "I did love the good (i.e., horses) instead of remembering my Lord" till the time was over, and (the sun) had hidden in the veil (of night))
More than one of the Salaf and scholars of Tafsir mentioned that he was so busy looking at the horses that he missed the time of 'Asr prayer. He did not miss it deliberately, but because of forgetfulness, as happened to the Prophet ﷺ on the day of Khandaq, when he was too busy to pray 'Asr and he prayed it after the sun had set. This was recorded in the Two Sahihs with more than one chain of narration, including the report from Jabir, may Allah be pleased with him, who said, "On the day of Khandaq, 'Umar, may Allah be pleased with him, came after the sun had set and started cursing the disbelievers of the Quraysh. He said, 'O Messenger of Allah, I could not pray 'Asr until the sun had almost set.' The Messenger of Allah ﷺ said,
وَاللهِ مَا صَلَّيْتُهَا
(By Allah, I did not pray it either.)" He (Jabir) said, "So we got up and went to Buthan. Allah's Prophet ﷺ performed ablution for the prayer and we too performed ablution. He prayed 'Asr after the sun had set, then he prayed Maghrib after that."
رُدُّوهَا عَلَيَّ ۖ فَطَفِقَ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالْأَعْنَاقِ
(Then he said: "Bring them (horses) back to me." Then he began to pass his hand over their legs and their necks.)
Al-Hasan Al-Basri said, "He said, 'No, by Allah, you will not keep me from worshipping my Lord again,' then he ordered that they should be slaughtered." This was also the view of Qatadah. As-Suddi said, "Their necks and hamstrings were struck with swords."
Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said, "He began patting the horses' heads and legs out of love for them." This is the view that was favored by Ibn Jarir. He said, "Because he would not punish an animal by cutting its hamstrings or destroy his own wealth for no other reason than that he had been distracted from his prayer by looking at it, and it was not the animals' fault. "
This view which Ibn Jarir thought more correct is subject to further review, because such action may have been permissible according to their law, especially since he got angry for the sake of Allah for being distracted by these horses until the time for prayer had lapsed. Then, since he dispensed with them for the sake of Allah, Allah compensated him with something better, the wind which blew gently by his order wherever he willed. Its morning lasted a month's (journey), and its afternoon lasted a month's (journey). This was faster and better than horses.
Imam Ahmad recorded that Abu Qatadah and Abu Ad-Dahma', who traveled a lot to the Ka'bah, said, "We met a man from among the bedouins who said to us: 'The Messenger of Allah ﷺ took my hand and started teaching me some of that which Allah had taught him. He said,
إِنَّكَ لَا تَدَعُ شَيْئًا اتِّقَاءَ اللهِ تَعَالَى إِلَّا أَعْطَاكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا مِنْهُ
(You do not give up anything for the sake of Allah, but Allah will give you something better than it.)'"
Tafsir Ibn Kathir
حضرت سلیمان حضرت داؤد کے وارث۔ اللہ تعالیٰ نے جوا یک بڑی نعمت حضرت داؤد ؑ کو عطا فرمائی تھی اس کا ذکر فرما رہا ہے کہ ان کی نبوت کا وارث ان کے لڑکے حضرت سلیمان ؑ کو بنادیا۔ اسی لئے صرف حضرت سلیمان کا ذکر کیا ورنہ ان کے اور بچے بھی تھے۔ ایک سو عورتیں آپ کی لونڈیوں کے علاوہ تھیں۔ چناچہ اور آیت میں ہے (وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۭ اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ 16) 27۔ النمل :16) یعنی حضرت داود کے وارث حضرت سلیمان ہوئے یعنی نبوت آپ کے بعد انہیں ملی۔ یہ بھی بڑے اچھے بندے تھے یعنی خوب عبادت گذار تھے اور اللہ کی طرف جھکنے والے تھے۔ مکحول کہتے ہیں کہ جناب داؤد نبی نے ایک مرتبہ آپ سے چند سوالات کئے اور ان کے معقول جوابات پا کر فرمایا کہ آپ نبی اللہ ہیں۔ پوچھا کہ سب سے اچھی چیز کیا ہے ؟ جواب دیا کہ اللہ کی طرف سکینت اور ایمان پوچھا کہ سب سے زیادہ میٹھی چیز کیا ہے ؟ جواب ملا اللہ کی رحمت پوچھا سب سے زیادہ ٹھنڈک والی چیز کیا ہے ؟ جواب دیا اللہ کا لوگوں سے درگذر کرنا اور لوگوں کا آپس میں ایک دوسرے کو معاف کردینا (ابن ابی حاتم) حضرت سلیمان ؑ کے سامنے ان کی بادشاہت کے زمانے میں ان کے گھوڑے پیش کئے گئے۔ یہ بہت تیز رفتار تھے جو تین ٹانگوں پر کھڑے رہتے تھے اور ایک پیر یونہی سا زمین پر ٹکتا تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ پر دار گھوڑے تھے تعداد میں بیس تھے۔ ابراہیم تمیمی نے گھوڑوں کی تعداد بیس ہزار بتلائی ہے۔ واللہ اعلم ابو داؤد میں ہے حضور ﷺ تبوک یا خیبر کے سفر سے واپس آئے تھے گھر میں تشریف فرما تھے جب تیز ہوا کے جھونکے سے گھر کے کونے کا پردہ ہٹ گیا وہاں حضرت عائشہ کی کھیلنے کی گڑیاں رکھی ہوئی تھیں۔ حضور ﷺ کی نظر بھی پڑگئی۔ دریافت کیا یہ کیا ہے ؟ حضرت عائشہ ؓ نے جواب دیا میری گڑیاں ہیں آپ نے دیکھا کہ بیچ میں ایک گھوڑا سا بنا ہوا ہے جس کے دو پر بھی کپڑے کے لگے ہوئے ہیں۔ پوچھا یہ کیا ہے ؟ کہا گھوڑا ہے فرمایا اور یہ اس کے اوپر دونوں طرف کپڑے کے کیا بنے ہوئے ہیں ؟ کہا یہ دونوں اس کے پر ہیں۔ فرمایا اچھا گھوڑا اور اس کے پر بھی ؟ صدیقہ نے عرض کیا کیا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت سلیمان کے پر دار گھوڑے تھے، یہ سن کر حضور ﷺ ہنس دیئے یہاں تک کہ آپ کے آخری دانت دکھائی دینے لگے۔ حضرت سلیمان ؑ ان کے دیکھنے بھالنے میں اس قدر مشغول ہوگئے کہ عصر کی نماز کا خیال ہی نہ رہا بالکل بھول گئے۔ جیسے کہحضور ﷺ جنگ خندق والے دن لڑائی کی مشغولیت کی وجہ سے عصر کی نماز نہ پڑھ سکے تھے اور مغرب کے بعد ادا کی۔ چناچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ سورج ڈوبنے کے بد حضرت عمر ؓ کفار قریش کو برا کہتے ہوئے حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے حضور ﷺ میں تو عصر کی نماز بھی نہ پڑھ سکا۔ آپ نے فرمایا میں بھی اب تک ادا نہیں کرسکا۔ چناچہ ہم بطحان میں گئے وہاں وضو کیا اور سورج کے غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز ادا کی اور پھر مغرب پڑھی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دین سلیمان میں جنگی صالح کی وجہ سے تاخیر نماز جائز ہو اور یہ جنگی گھوڑے تھے جنہیں اسی مقصد سے رکھا تھا۔ چناچہ بعض علماء نے یہ کہا بھی ہے کہ صلوۃ خوف کے جاری ہونے سے پہلے یہی حال تھا۔ بعض کہتے ہیں جب تلواریں تنی ہوئی ہوں لشکر بھڑ گئے ہوں اور نماز کے لئے رکوع و سجود کا امکان ہی نہ ہو تب یہ حکم ہے جیسے صحابہ ؓ نے تیستر کی فتح کے بعد موقعہ پر کیا تھا لیکن ہمارا پہلا قول ہی ٹھیک ہے اس لئے کہ اس کے بعد ہی حضرت سلیمان کا ان گھوڑوں کو دوبارہ طلب کرنا وغیرہ بیان ہوا ہے۔ انہیں واپس منگوا کر ان کے کاٹ ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا میرے رب کی عبادت سے مجھے اس چیز نے غافل کردیا میں ایسی چیز ہی نہیں رکھنے کا۔ چناچہ ان کی کوچیں کاٹ دی گئیں اور ان کی گردنیں ماری گئیں۔ لیکن حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ آپ نے گھوڑوں کے پیشانی کے بالوں وغیرہ پر ہاتھ پھیرا۔ امام ابن جریر بھی اسی قول کو اختیار کرتے ہیں کہ بلا وجہ جانوروں کو ایذاء پہچانی ممنوع ہے ان جانوروں کا کوئی قصور نہ تھا جو انہیں کٹوا دیتے لیکن میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے یہ بات ان کی شرع میں جائز ہو خصوصاً ایسے وقت جبکہ وہ یاد اللہ میں حارج ہوئے اور وقت نماز نکل گیا تو دراصل یہ غصہ بھی اللہ کے لئے تھا۔ چناچہ اسی وجہ سے ان گھوڑوں سے بھی تیز اور ہلکی چیز اللہ نے اپنے نبی کو عطا فرمائی یعنی ہوا ان کے تابع کردی۔ حضرت ابو قتادہ ؓ اور حضرت ابو دھما اکثر حج کیا کرتے تھے ان کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ ایک گاؤں میں ہماری ایک بدوی سے ملاقات ہوئی اس نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے بہت کچھ دینی تعلیم دی اس میں یہ بھی فرمایا کہ اللہ سے ڈر کر تو جس چیز کو چھوڑے گا اللہ تجھے اس سے بہتر عطا فرمائیگا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا أَنَّهُ وَهَبَ لِدَاوُدَ سُلَيْمَانَ، أَيْ: نَبِيًّا كَمَا قَالَ: ﴿وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُدَ﴾ أَيْ: فِي النُّبُوَّةِ وَإِلَّا فَقَدَ كَانَ لَهُ بَنُونَ غَيْرُهُ، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ عِنْدَهُ مِائَةُ امْرَأَةٍ حَرَائِرَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾ ثَنَاءٌ عَلَى سُلَيْمَانَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِأَنَّهُ كَثِيرُ الطَّاعَةِ وَالْعِبَادَةِ وَالْإِنَابَةِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
قَالَ [[في ت: "روى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا [[في ت: "بإسناده".]] مَكْحُولٌ قَالَ: لَمَّا وَهَبَ اللَّهُ لِدَاوُدَ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ [[في ت، س: "عليهما".]] السَّلَامُ قَالَ لَهُ: يَا بُنَيَّ مَا أَحْسَنُ؟ قَالَ: سَكِينَةُ اللَّهِ وَإِيمَانٌ. قَالَ: فَمَا أَقْبَحُ؟ قَالَ: كَفْرٌ بَعْدَ إِيمَانٍ. قَالَ: فَمَا أَحْلَى؟ قَالَ: رَوْحُ اللَّهِ بَيْنَ عِبَادِهِ. قَالَ: فَمَا أَبْرَدُ؟ قَالَ: عَفْوُ اللَّهِ عَنِ النَّاسِ وَعَفْوُ النَّاسِ بَعْضِهِمْ عَنْ بَعْضٍ. قَالَ دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: فَأَنْتَ نَبِيٌّ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصَّافِنَاتُ الْجِيَادُ﴾ أَيْ: إِذْ عُرِضَ عَلَى سُلَيْمَانَ فِي حَالِ مَمْلَكَتِهِ وَسُلْطَانِهِ الْخَيْلُ الصَّافِنَاتُ.
قَالَ مُجَاهِدٌ: وَهِيَ الَّتِي تَقِفُ عَلَى ثَلَاثٍ وَطَرَفِ حَافِرِ الرَّابِعَةِ، وَالْجِيَادُ: السِّرَاعُ. وَكَذَا قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ السَّلَفِ.
وَقَالَ [[في ت: "روى".]] ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُؤمَّل حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِيهِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصَّافِنَاتُ الْجِيَادُ﴾ قَالَ: كَانَتْ عِشْرِينَ فَرَسًا ذَاتَ أَجْنِحَةٍ. كَذَا رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ أَخْبَرَنِي إِسْرَائِيلُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ قَالَ: كَانَتِ الْخَيْلُ الَّتِي شَغَلَتْ سُلَيْمَانَ، عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عِشْرِينَ أَلْفَ فَرَسٍ، فَعَقَرَهَا وَهَذَا أَشْبَهُ [[في أ: "الأشبه".]] وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] أَبُو دَاوُدَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنِي عُمَارة بْنُ غَزيَّة: أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ عائشة رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ -أَوْ خَيْبَرَ-وَفِي سَهْوَتِهَا سَتْرٌ فَهَبَّتِ الرِّيحُ فَكَشَفَتْ نَاحِيَةَ السَّتْرِ عَنْ بَنَاتٍ لِعَائِشَةَ -لُعَب-فَقَالَ: "مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟ " قَالَتْ: بَنَاتِي. وَرَأَى بَيْنَهُنَّ فَرَسًا لَهُ [[في أ: "لها".]] جَنَاحَانِ مِنْ رِقَاعٍ فَقَالَ: "مَا هَذَا [[في أ: "ما هذا يا عائشة".]] الَّذِي أَرَى وَسَطَهُنَّ؟ " قَالَتْ: فَرَسٌ. قَالَ: "وَمَا هَذَا الَّذِي عَلَيْهِ؟ " قَالَتْ: جَنَاحَانِ قَالَ: "فَرَسٌ لَهُ جَنَاحَانِ؟! " قَالَتْ: أَمَا سَمِعْتَ أَنَّ لِسُلَيْمَانَ خَيْلٌ لَهَا أَجْنِحَةٌ؟ قَالَتْ: فَضَحِكَ حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ ﷺ [[سنن أبي داود برقم (٤٩٣٢) .]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَقَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي حَتَّى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ﴾ [[في ت، س: "قال".]] ذَكَرَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ السَّلَفِ وَالْمُفَسِّرِينَ أَنَّهُ اشْتَغَلَ بِعَرْضِهَا حَتَّى فَاتَ وَقْتُ [[في ت، أ: "عن وقت".]] صَلَاةِ الْعَصْرِ وَالَّذِي يُقْطَعُ بِهِ أَنَّهُ لَمْ يَتْرُكْهَا عَمْدًا بَلْ نِسْيَانًا كَمَا شُغِلَ النَّبِيُّ ﷺ يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى صَلَّاهَا بَعْدَ الْغُرُوبِ [[في أ: "المغرب".]] وَذَلِكَ ثَابِتٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، مِنْ ذَلِكَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَ عُمَرُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَجَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ، وَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا كِدْتُ أُصَلِّي الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ تَغْرُبُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "وَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا" فَقَالَ: [[في ت: "قال".]] فَقُمْنَا إِلَى بُطْحَان فَتَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ وَتَوَضَّأْنَا [[في ت: "فتوضأنا".]] لَهَا فَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ [[صحيح البخاري برقم (٤١١٢) وصحيح مسلم برقم (٦٣١) .]]
وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ كَانَ [[في أ: "ادعى هذا طائفة".]] سَائِغًا فِي مِلَّتِهِمْ تَأْخِيرُ الصَّلَاةِ لِعُذْرِ الْغَزْوِ وَالْقِتَالِ. وَالْخَيْلُ تُرَادُ لِلْقِتَالِ. وَقَدِ ادَّعَى طَائِفَةٌ [[في س، أ: "أنه قد كان".]] مِنَ الْعُلَمَاءِ أَنَّ هَذَا كَانَ مَشْرُوعًا فَنُسِخَ ذَلِكَ بِصَلَاةِ الْخَوْفِ وَمِنْهُمْ مَنْ ذَهَبَ إِلَى ذَلِكَ فِي حَالِ الْمُسَايَفَةِ وَالْمُضَايَقَةِ، حَيْثُ لَا يُمْكِنُ صَلَاةٌ وَلَا رُكُوعٌ وَلَا سُجُودٌ كَمَا فَعَلَ الصَّحَابَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فِي فَتْحِ تُسْتَرَ، وَهُوَ مَنْقُولٌ عَنْ مَكْحُولٍ وَالْأَوْزَاعِيِّ وَغَيْرِهِمَا وَالْأَوَّلُ أُقَرَبُ؛ لِأَنَّهُ قَالَ بَعْدَهَا: ﴿رُدُّوهَا عَلَيَّ فَطَفِقَ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالأعْنَاقِ﴾
قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ. قَالَ: لَا وَاللَّهِ لَا تَشْغَلِينِي عَنْ عِبَادَةِ رَبِّي آخِرَ مَا [[في أ: "أحر ما".]] عَلَيْكِ. ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَعُقِرَتْ. وَكَذَا قَالَ قَتَادَةُ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: ضَرَبَ أَعْنَاقَهَا وَعَرَاقِيبَهَا بِالسُّيُوفِ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: جَعَلَ يَمْسَحُ أَعْرَافَ الْخَيْلِ، وَعَرَاقِيبُهَا حِبَالُهَا. وَهَذَا الْقَوْلُ اخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ قَالَ: لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيُعَذِّبَ حَيَوَانًا بِالْعَرْقَبَةِ وَيُهْلِكَ مَالًا مِنْ مَالِهِ بِلَا سَبَبٍ سِوَى أَنَّهُ اشْتَغَلَ عَنْ صِلَاتِهِ بِالنَّظَرِ إِلَيْهَا وَلَا ذَنْبَ لَهَا. وَهَذَا الَّذِي رَجَّحَ بِهِ ابْنُ جَرِيرٍ فِيهِ نَظَرٌ؛ لِأَنَّهُ قَدْ يَكُونُ فِي شَرْعِهِمْ جَوَازُ مِثْلِ هَذَا وَلَا سِيَّمَا إِذَا كَانَ غَضَبًا لله عز وجل بسبب أنه اشْتَغَلَ بِهَا حَتَّى خَرَجَ وَقْتُ الصَّلَاةِ؛ وَلِهَذَا لَمَّا خَرَجَ عَنْهَا لِلَّهِ تَعَالَى [[في ت، س: "عز وجل".]] عَوَّضَهُ اللَّهُ تَعَالَى مَا [[في ت، س: "بما".]] هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا وَهِيَ [[في ت، س، أ: "وهو".]] الرِّيحُ الَّتِي تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ فَهَذَا أَسْرَعُ وَخَيْرٌ مِنَ الْخَيْلِ [[وهذا هو الصواب، وانظر كلام القرطبي في: الجامع لأحكام القرآن (١٥/١٩٥، ١٩٦) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ [[في ت: "وروى الإمام أحمد بإسناده".]] عَنْ أَبِي قَتَادَةَ وَأَبِي الدَّهْمَاءِ -وَكَانَا يُكْثِرَانِ السَّفَرَ نَحْوَ الْبَيْتِ-قَالَا أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَقَالَ الْبَدَوِيُّ: أَخَذَ بِيَدِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم فجعل يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ تَعَالَى وَقَالَ: "إِنَّكَ لَا تَدَعُ شَيْئًا اتِّقَاءَ اللَّهِ [[في أ: "لله".]] -عَزَّ وَجَلَّ-إِلَّا أَعْطَاكَ اللَّهُ خَيْرًا مِنْهُ" [[المسند (٥/٧٨) وقال الهيثمي في المجمع (١٠/٢٩٦) : "رجاله رجال الصحيح".]]
إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِٱلْعَشِىِّ ٱلصَّٰفِنَٰتُ ٱلْجِيَادُ
[Mention] when there were exhibited before him in the afternoon the poised [standing] racehorses.
جب ان کے سامنے شام کو خاصے کے گھوڑے پیش کئے گئے
به خاطر بیاور هنگامی را که عصرگاهان اسبان چابک تندرو را بر او عرضه داشتند،
Tafsir Ibn Kathir
And to Dawud We gave Sulayman. How excellent a servant! Verily, he was ever turning in repentance (to Us)(30)When there were displayed before him, in the afternoon, well trained horses of the highest breed (31)He said: "I did love the good instead of remembering my Lord," till the time was over, and (the sun) had hidden in the veil (of night)(32)Then he said: "Bring them back to me." Then he began to pass his hand over their legs and their necks (33)
Sulayman the Son of Dawud
Allah tells us that he gave Sulayman to Dawud as a Prophet, as He says elsewhere:
وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ ۖ
(And Sulayman inherited Dawud)(27:16). meaning, he inherited prophethood from him. Dawud had other sons besides Sulayman, for he had one hundred free wives.
نِعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ
(How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)!) This is praise for Sulayman, because he was very much obedient, worshipping Allah much and always turning to Allah in repentance.
إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصَّافِنَاتُ الْجِيَادُ
(When there were displayed before him, in the afternoon, well trained horses of the highest breed.) means, these well trained horses were shown to Sulayman, peace be upon him, in his capacity as king and ruler. Mujahid said, "They were the kind of horses which stand on three legs and raise the fourth, and they were swift horses." This was also the view of several others among the Salaf. Abu Dawud recorded that 'A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "The Messenger of Allah ﷺ came back from the campaign of Tabuk or Khaybar, and there was a curtain covering her room. The wind came and lifted the curtain, revealing some toys belonging to 'A'ishah, may Allah be pleased with her. The Prophet ﷺ said:
مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟
(What is this, O 'A'ishah?) She, may Allah be pleased with her, said, "My toys." Among them he saw a horse with two wings made of cloth. He ﷺ said:
مَا هَذَا الَّذِي أَرَى وَسَطَهُنَّ؟
(What is this that I see in the midst of them?) She, may Allah be pleased with her, said, "A horse." The Messenger of Allah ﷺ said,
مَا هَذَا الَّذِي عَلَيْهِ؟
(And what is this on it?) She, may Allah be pleased with her, said, "Wings." The Messenger of Allah ﷺ said,
فَرَسٌ لَهُ جَنَاحَانِ؟
(A horse with two wings?) She, may Allah be pleased with her, said, "Did you not hear that Sulayman, peace be upon him, had a horse that had wings?" She, may Allah be pleased with her, said, "The Messenger of Allah ﷺ smiled so broadly that I could see his molars."
فَقَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي حَتَّىٰ تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ
(He said: "I did love the good (i.e., horses) instead of remembering my Lord" till the time was over, and (the sun) had hidden in the veil (of night))
More than one of the Salaf and scholars of Tafsir mentioned that he was so busy looking at the horses that he missed the time of 'Asr prayer. He did not miss it deliberately, but because of forgetfulness, as happened to the Prophet ﷺ on the day of Khandaq, when he was too busy to pray 'Asr and he prayed it after the sun had set. This was recorded in the Two Sahihs with more than one chain of narration, including the report from Jabir, may Allah be pleased with him, who said, "On the day of Khandaq, 'Umar, may Allah be pleased with him, came after the sun had set and started cursing the disbelievers of the Quraysh. He said, 'O Messenger of Allah, I could not pray 'Asr until the sun had almost set.' The Messenger of Allah ﷺ said,
وَاللهِ مَا صَلَّيْتُهَا
(By Allah, I did not pray it either.)" He (Jabir) said, "So we got up and went to Buthan. Allah's Prophet ﷺ performed ablution for the prayer and we too performed ablution. He prayed 'Asr after the sun had set, then he prayed Maghrib after that."
رُدُّوهَا عَلَيَّ ۖ فَطَفِقَ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالْأَعْنَاقِ
(Then he said: "Bring them (horses) back to me." Then he began to pass his hand over their legs and their necks.)
Al-Hasan Al-Basri said, "He said, 'No, by Allah, you will not keep me from worshipping my Lord again,' then he ordered that they should be slaughtered." This was also the view of Qatadah. As-Suddi said, "Their necks and hamstrings were struck with swords."
Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said, "He began patting the horses' heads and legs out of love for them." This is the view that was favored by Ibn Jarir. He said, "Because he would not punish an animal by cutting its hamstrings or destroy his own wealth for no other reason than that he had been distracted from his prayer by looking at it, and it was not the animals' fault. "
This view which Ibn Jarir thought more correct is subject to further review, because such action may have been permissible according to their law, especially since he got angry for the sake of Allah for being distracted by these horses until the time for prayer had lapsed. Then, since he dispensed with them for the sake of Allah, Allah compensated him with something better, the wind which blew gently by his order wherever he willed. Its morning lasted a month's (journey), and its afternoon lasted a month's (journey). This was faster and better than horses.
Imam Ahmad recorded that Abu Qatadah and Abu Ad-Dahma', who traveled a lot to the Ka'bah, said, "We met a man from among the bedouins who said to us: 'The Messenger of Allah ﷺ took my hand and started teaching me some of that which Allah had taught him. He said,
إِنَّكَ لَا تَدَعُ شَيْئًا اتِّقَاءَ اللهِ تَعَالَى إِلَّا أَعْطَاكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا مِنْهُ
(You do not give up anything for the sake of Allah, but Allah will give you something better than it.)'"
Tafsir Ibn Kathir
حضرت سلیمان حضرت داؤد کے وارث۔ اللہ تعالیٰ نے جوا یک بڑی نعمت حضرت داؤد ؑ کو عطا فرمائی تھی اس کا ذکر فرما رہا ہے کہ ان کی نبوت کا وارث ان کے لڑکے حضرت سلیمان ؑ کو بنادیا۔ اسی لئے صرف حضرت سلیمان کا ذکر کیا ورنہ ان کے اور بچے بھی تھے۔ ایک سو عورتیں آپ کی لونڈیوں کے علاوہ تھیں۔ چناچہ اور آیت میں ہے (وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۭ اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ 16) 27۔ النمل :16) یعنی حضرت داود کے وارث حضرت سلیمان ہوئے یعنی نبوت آپ کے بعد انہیں ملی۔ یہ بھی بڑے اچھے بندے تھے یعنی خوب عبادت گذار تھے اور اللہ کی طرف جھکنے والے تھے۔ مکحول کہتے ہیں کہ جناب داؤد نبی نے ایک مرتبہ آپ سے چند سوالات کئے اور ان کے معقول جوابات پا کر فرمایا کہ آپ نبی اللہ ہیں۔ پوچھا کہ سب سے اچھی چیز کیا ہے ؟ جواب دیا کہ اللہ کی طرف سکینت اور ایمان پوچھا کہ سب سے زیادہ میٹھی چیز کیا ہے ؟ جواب ملا اللہ کی رحمت پوچھا سب سے زیادہ ٹھنڈک والی چیز کیا ہے ؟ جواب دیا اللہ کا لوگوں سے درگذر کرنا اور لوگوں کا آپس میں ایک دوسرے کو معاف کردینا (ابن ابی حاتم) حضرت سلیمان ؑ کے سامنے ان کی بادشاہت کے زمانے میں ان کے گھوڑے پیش کئے گئے۔ یہ بہت تیز رفتار تھے جو تین ٹانگوں پر کھڑے رہتے تھے اور ایک پیر یونہی سا زمین پر ٹکتا تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ پر دار گھوڑے تھے تعداد میں بیس تھے۔ ابراہیم تمیمی نے گھوڑوں کی تعداد بیس ہزار بتلائی ہے۔ واللہ اعلم ابو داؤد میں ہے حضور ﷺ تبوک یا خیبر کے سفر سے واپس آئے تھے گھر میں تشریف فرما تھے جب تیز ہوا کے جھونکے سے گھر کے کونے کا پردہ ہٹ گیا وہاں حضرت عائشہ کی کھیلنے کی گڑیاں رکھی ہوئی تھیں۔ حضور ﷺ کی نظر بھی پڑگئی۔ دریافت کیا یہ کیا ہے ؟ حضرت عائشہ ؓ نے جواب دیا میری گڑیاں ہیں آپ نے دیکھا کہ بیچ میں ایک گھوڑا سا بنا ہوا ہے جس کے دو پر بھی کپڑے کے لگے ہوئے ہیں۔ پوچھا یہ کیا ہے ؟ کہا گھوڑا ہے فرمایا اور یہ اس کے اوپر دونوں طرف کپڑے کے کیا بنے ہوئے ہیں ؟ کہا یہ دونوں اس کے پر ہیں۔ فرمایا اچھا گھوڑا اور اس کے پر بھی ؟ صدیقہ نے عرض کیا کیا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت سلیمان کے پر دار گھوڑے تھے، یہ سن کر حضور ﷺ ہنس دیئے یہاں تک کہ آپ کے آخری دانت دکھائی دینے لگے۔ حضرت سلیمان ؑ ان کے دیکھنے بھالنے میں اس قدر مشغول ہوگئے کہ عصر کی نماز کا خیال ہی نہ رہا بالکل بھول گئے۔ جیسے کہحضور ﷺ جنگ خندق والے دن لڑائی کی مشغولیت کی وجہ سے عصر کی نماز نہ پڑھ سکے تھے اور مغرب کے بعد ادا کی۔ چناچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ سورج ڈوبنے کے بد حضرت عمر ؓ کفار قریش کو برا کہتے ہوئے حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے حضور ﷺ میں تو عصر کی نماز بھی نہ پڑھ سکا۔ آپ نے فرمایا میں بھی اب تک ادا نہیں کرسکا۔ چناچہ ہم بطحان میں گئے وہاں وضو کیا اور سورج کے غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز ادا کی اور پھر مغرب پڑھی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دین سلیمان میں جنگی صالح کی وجہ سے تاخیر نماز جائز ہو اور یہ جنگی گھوڑے تھے جنہیں اسی مقصد سے رکھا تھا۔ چناچہ بعض علماء نے یہ کہا بھی ہے کہ صلوۃ خوف کے جاری ہونے سے پہلے یہی حال تھا۔ بعض کہتے ہیں جب تلواریں تنی ہوئی ہوں لشکر بھڑ گئے ہوں اور نماز کے لئے رکوع و سجود کا امکان ہی نہ ہو تب یہ حکم ہے جیسے صحابہ ؓ نے تیستر کی فتح کے بعد موقعہ پر کیا تھا لیکن ہمارا پہلا قول ہی ٹھیک ہے اس لئے کہ اس کے بعد ہی حضرت سلیمان کا ان گھوڑوں کو دوبارہ طلب کرنا وغیرہ بیان ہوا ہے۔ انہیں واپس منگوا کر ان کے کاٹ ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا میرے رب کی عبادت سے مجھے اس چیز نے غافل کردیا میں ایسی چیز ہی نہیں رکھنے کا۔ چناچہ ان کی کوچیں کاٹ دی گئیں اور ان کی گردنیں ماری گئیں۔ لیکن حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ آپ نے گھوڑوں کے پیشانی کے بالوں وغیرہ پر ہاتھ پھیرا۔ امام ابن جریر بھی اسی قول کو اختیار کرتے ہیں کہ بلا وجہ جانوروں کو ایذاء پہچانی ممنوع ہے ان جانوروں کا کوئی قصور نہ تھا جو انہیں کٹوا دیتے لیکن میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے یہ بات ان کی شرع میں جائز ہو خصوصاً ایسے وقت جبکہ وہ یاد اللہ میں حارج ہوئے اور وقت نماز نکل گیا تو دراصل یہ غصہ بھی اللہ کے لئے تھا۔ چناچہ اسی وجہ سے ان گھوڑوں سے بھی تیز اور ہلکی چیز اللہ نے اپنے نبی کو عطا فرمائی یعنی ہوا ان کے تابع کردی۔ حضرت ابو قتادہ ؓ اور حضرت ابو دھما اکثر حج کیا کرتے تھے ان کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ ایک گاؤں میں ہماری ایک بدوی سے ملاقات ہوئی اس نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے بہت کچھ دینی تعلیم دی اس میں یہ بھی فرمایا کہ اللہ سے ڈر کر تو جس چیز کو چھوڑے گا اللہ تجھے اس سے بہتر عطا فرمائیگا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا أَنَّهُ وَهَبَ لِدَاوُدَ سُلَيْمَانَ، أَيْ: نَبِيًّا كَمَا قَالَ: ﴿وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُدَ﴾ أَيْ: فِي النُّبُوَّةِ وَإِلَّا فَقَدَ كَانَ لَهُ بَنُونَ غَيْرُهُ، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ عِنْدَهُ مِائَةُ امْرَأَةٍ حَرَائِرَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾ ثَنَاءٌ عَلَى سُلَيْمَانَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِأَنَّهُ كَثِيرُ الطَّاعَةِ وَالْعِبَادَةِ وَالْإِنَابَةِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
قَالَ [[في ت: "روى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا [[في ت: "بإسناده".]] مَكْحُولٌ قَالَ: لَمَّا وَهَبَ اللَّهُ لِدَاوُدَ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ [[في ت، س: "عليهما".]] السَّلَامُ قَالَ لَهُ: يَا بُنَيَّ مَا أَحْسَنُ؟ قَالَ: سَكِينَةُ اللَّهِ وَإِيمَانٌ. قَالَ: فَمَا أَقْبَحُ؟ قَالَ: كَفْرٌ بَعْدَ إِيمَانٍ. قَالَ: فَمَا أَحْلَى؟ قَالَ: رَوْحُ اللَّهِ بَيْنَ عِبَادِهِ. قَالَ: فَمَا أَبْرَدُ؟ قَالَ: عَفْوُ اللَّهِ عَنِ النَّاسِ وَعَفْوُ النَّاسِ بَعْضِهِمْ عَنْ بَعْضٍ. قَالَ دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: فَأَنْتَ نَبِيٌّ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصَّافِنَاتُ الْجِيَادُ﴾ أَيْ: إِذْ عُرِضَ عَلَى سُلَيْمَانَ فِي حَالِ مَمْلَكَتِهِ وَسُلْطَانِهِ الْخَيْلُ الصَّافِنَاتُ.
قَالَ مُجَاهِدٌ: وَهِيَ الَّتِي تَقِفُ عَلَى ثَلَاثٍ وَطَرَفِ حَافِرِ الرَّابِعَةِ، وَالْجِيَادُ: السِّرَاعُ. وَكَذَا قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ السَّلَفِ.
وَقَالَ [[في ت: "روى".]] ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُؤمَّل حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِيهِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصَّافِنَاتُ الْجِيَادُ﴾ قَالَ: كَانَتْ عِشْرِينَ فَرَسًا ذَاتَ أَجْنِحَةٍ. كَذَا رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ أَخْبَرَنِي إِسْرَائِيلُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ قَالَ: كَانَتِ الْخَيْلُ الَّتِي شَغَلَتْ سُلَيْمَانَ، عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عِشْرِينَ أَلْفَ فَرَسٍ، فَعَقَرَهَا وَهَذَا أَشْبَهُ [[في أ: "الأشبه".]] وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] أَبُو دَاوُدَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنِي عُمَارة بْنُ غَزيَّة: أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ عائشة رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ -أَوْ خَيْبَرَ-وَفِي سَهْوَتِهَا سَتْرٌ فَهَبَّتِ الرِّيحُ فَكَشَفَتْ نَاحِيَةَ السَّتْرِ عَنْ بَنَاتٍ لِعَائِشَةَ -لُعَب-فَقَالَ: "مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟ " قَالَتْ: بَنَاتِي. وَرَأَى بَيْنَهُنَّ فَرَسًا لَهُ [[في أ: "لها".]] جَنَاحَانِ مِنْ رِقَاعٍ فَقَالَ: "مَا هَذَا [[في أ: "ما هذا يا عائشة".]] الَّذِي أَرَى وَسَطَهُنَّ؟ " قَالَتْ: فَرَسٌ. قَالَ: "وَمَا هَذَا الَّذِي عَلَيْهِ؟ " قَالَتْ: جَنَاحَانِ قَالَ: "فَرَسٌ لَهُ جَنَاحَانِ؟! " قَالَتْ: أَمَا سَمِعْتَ أَنَّ لِسُلَيْمَانَ خَيْلٌ لَهَا أَجْنِحَةٌ؟ قَالَتْ: فَضَحِكَ حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ ﷺ [[سنن أبي داود برقم (٤٩٣٢) .]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَقَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي حَتَّى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ﴾ [[في ت، س: "قال".]] ذَكَرَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ السَّلَفِ وَالْمُفَسِّرِينَ أَنَّهُ اشْتَغَلَ بِعَرْضِهَا حَتَّى فَاتَ وَقْتُ [[في ت، أ: "عن وقت".]] صَلَاةِ الْعَصْرِ وَالَّذِي يُقْطَعُ بِهِ أَنَّهُ لَمْ يَتْرُكْهَا عَمْدًا بَلْ نِسْيَانًا كَمَا شُغِلَ النَّبِيُّ ﷺ يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى صَلَّاهَا بَعْدَ الْغُرُوبِ [[في أ: "المغرب".]] وَذَلِكَ ثَابِتٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، مِنْ ذَلِكَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَ عُمَرُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَجَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ، وَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا كِدْتُ أُصَلِّي الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ تَغْرُبُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "وَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا" فَقَالَ: [[في ت: "قال".]] فَقُمْنَا إِلَى بُطْحَان فَتَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ وَتَوَضَّأْنَا [[في ت: "فتوضأنا".]] لَهَا فَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ [[صحيح البخاري برقم (٤١١٢) وصحيح مسلم برقم (٦٣١) .]]
وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ كَانَ [[في أ: "ادعى هذا طائفة".]] سَائِغًا فِي مِلَّتِهِمْ تَأْخِيرُ الصَّلَاةِ لِعُذْرِ الْغَزْوِ وَالْقِتَالِ. وَالْخَيْلُ تُرَادُ لِلْقِتَالِ. وَقَدِ ادَّعَى طَائِفَةٌ [[في س، أ: "أنه قد كان".]] مِنَ الْعُلَمَاءِ أَنَّ هَذَا كَانَ مَشْرُوعًا فَنُسِخَ ذَلِكَ بِصَلَاةِ الْخَوْفِ وَمِنْهُمْ مَنْ ذَهَبَ إِلَى ذَلِكَ فِي حَالِ الْمُسَايَفَةِ وَالْمُضَايَقَةِ، حَيْثُ لَا يُمْكِنُ صَلَاةٌ وَلَا رُكُوعٌ وَلَا سُجُودٌ كَمَا فَعَلَ الصَّحَابَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فِي فَتْحِ تُسْتَرَ، وَهُوَ مَنْقُولٌ عَنْ مَكْحُولٍ وَالْأَوْزَاعِيِّ وَغَيْرِهِمَا وَالْأَوَّلُ أُقَرَبُ؛ لِأَنَّهُ قَالَ بَعْدَهَا: ﴿رُدُّوهَا عَلَيَّ فَطَفِقَ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالأعْنَاقِ﴾
قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ. قَالَ: لَا وَاللَّهِ لَا تَشْغَلِينِي عَنْ عِبَادَةِ رَبِّي آخِرَ مَا [[في أ: "أحر ما".]] عَلَيْكِ. ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَعُقِرَتْ. وَكَذَا قَالَ قَتَادَةُ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: ضَرَبَ أَعْنَاقَهَا وَعَرَاقِيبَهَا بِالسُّيُوفِ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: جَعَلَ يَمْسَحُ أَعْرَافَ الْخَيْلِ، وَعَرَاقِيبُهَا حِبَالُهَا. وَهَذَا الْقَوْلُ اخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ قَالَ: لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيُعَذِّبَ حَيَوَانًا بِالْعَرْقَبَةِ وَيُهْلِكَ مَالًا مِنْ مَالِهِ بِلَا سَبَبٍ سِوَى أَنَّهُ اشْتَغَلَ عَنْ صِلَاتِهِ بِالنَّظَرِ إِلَيْهَا وَلَا ذَنْبَ لَهَا. وَهَذَا الَّذِي رَجَّحَ بِهِ ابْنُ جَرِيرٍ فِيهِ نَظَرٌ؛ لِأَنَّهُ قَدْ يَكُونُ فِي شَرْعِهِمْ جَوَازُ مِثْلِ هَذَا وَلَا سِيَّمَا إِذَا كَانَ غَضَبًا لله عز وجل بسبب أنه اشْتَغَلَ بِهَا حَتَّى خَرَجَ وَقْتُ الصَّلَاةِ؛ وَلِهَذَا لَمَّا خَرَجَ عَنْهَا لِلَّهِ تَعَالَى [[في ت، س: "عز وجل".]] عَوَّضَهُ اللَّهُ تَعَالَى مَا [[في ت، س: "بما".]] هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا وَهِيَ [[في ت، س، أ: "وهو".]] الرِّيحُ الَّتِي تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ فَهَذَا أَسْرَعُ وَخَيْرٌ مِنَ الْخَيْلِ [[وهذا هو الصواب، وانظر كلام القرطبي في: الجامع لأحكام القرآن (١٥/١٩٥، ١٩٦) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ [[في ت: "وروى الإمام أحمد بإسناده".]] عَنْ أَبِي قَتَادَةَ وَأَبِي الدَّهْمَاءِ -وَكَانَا يُكْثِرَانِ السَّفَرَ نَحْوَ الْبَيْتِ-قَالَا أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَقَالَ الْبَدَوِيُّ: أَخَذَ بِيَدِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم فجعل يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ تَعَالَى وَقَالَ: "إِنَّكَ لَا تَدَعُ شَيْئًا اتِّقَاءَ اللَّهِ [[في أ: "لله".]] -عَزَّ وَجَلَّ-إِلَّا أَعْطَاكَ اللَّهُ خَيْرًا مِنْهُ" [[المسند (٥/٧٨) وقال الهيثمي في المجمع (١٠/٢٩٦) : "رجاله رجال الصحيح".]]
فَقَالَ إِنِّىٓ أَحْبَبْتُ حُبَّ ٱلْخَيْرِ عَن ذِكْرِ رَبِّى حَتَّىٰ تَوَارَتْ بِٱلْحِجَابِ
And he said, "Indeed, I gave preference to the love of good [things] over the remembrance of my Lord until the sun disappeared into the curtain [of darkness]."
تو کہنے لگے کہ میں نے اپنے پروردگار کی یاد سے (غافل ہو کر) مال کی محبت اختیار کی۔ یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا
گفت: «من این اسبان را بخاطر پروردگارم دوست دارم (و میخواهم از آنها در جهاد استفاده کنم»، او همچنان به آنها نگاه میکرد) تا از دیدگانش پنهان شدند.
Tafsir Ibn Kathir
And to Dawud We gave Sulayman. How excellent a servant! Verily, he was ever turning in repentance (to Us)(30)When there were displayed before him, in the afternoon, well trained horses of the highest breed (31)He said: "I did love the good instead of remembering my Lord," till the time was over, and (the sun) had hidden in the veil (of night)(32)Then he said: "Bring them back to me." Then he began to pass his hand over their legs and their necks (33)
Sulayman the Son of Dawud
Allah tells us that he gave Sulayman to Dawud as a Prophet, as He says elsewhere:
وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ ۖ
(And Sulayman inherited Dawud)(27:16). meaning, he inherited prophethood from him. Dawud had other sons besides Sulayman, for he had one hundred free wives.
نِعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ
(How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)!) This is praise for Sulayman, because he was very much obedient, worshipping Allah much and always turning to Allah in repentance.
إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصَّافِنَاتُ الْجِيَادُ
(When there were displayed before him, in the afternoon, well trained horses of the highest breed.) means, these well trained horses were shown to Sulayman, peace be upon him, in his capacity as king and ruler. Mujahid said, "They were the kind of horses which stand on three legs and raise the fourth, and they were swift horses." This was also the view of several others among the Salaf. Abu Dawud recorded that 'A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "The Messenger of Allah ﷺ came back from the campaign of Tabuk or Khaybar, and there was a curtain covering her room. The wind came and lifted the curtain, revealing some toys belonging to 'A'ishah, may Allah be pleased with her. The Prophet ﷺ said:
مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟
(What is this, O 'A'ishah?) She, may Allah be pleased with her, said, "My toys." Among them he saw a horse with two wings made of cloth. He ﷺ said:
مَا هَذَا الَّذِي أَرَى وَسَطَهُنَّ؟
(What is this that I see in the midst of them?) She, may Allah be pleased with her, said, "A horse." The Messenger of Allah ﷺ said,
مَا هَذَا الَّذِي عَلَيْهِ؟
(And what is this on it?) She, may Allah be pleased with her, said, "Wings." The Messenger of Allah ﷺ said,
فَرَسٌ لَهُ جَنَاحَانِ؟
(A horse with two wings?) She, may Allah be pleased with her, said, "Did you not hear that Sulayman, peace be upon him, had a horse that had wings?" She, may Allah be pleased with her, said, "The Messenger of Allah ﷺ smiled so broadly that I could see his molars."
فَقَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي حَتَّىٰ تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ
(He said: "I did love the good (i.e., horses) instead of remembering my Lord" till the time was over, and (the sun) had hidden in the veil (of night))
More than one of the Salaf and scholars of Tafsir mentioned that he was so busy looking at the horses that he missed the time of 'Asr prayer. He did not miss it deliberately, but because of forgetfulness, as happened to the Prophet ﷺ on the day of Khandaq, when he was too busy to pray 'Asr and he prayed it after the sun had set. This was recorded in the Two Sahihs with more than one chain of narration, including the report from Jabir, may Allah be pleased with him, who said, "On the day of Khandaq, 'Umar, may Allah be pleased with him, came after the sun had set and started cursing the disbelievers of the Quraysh. He said, 'O Messenger of Allah, I could not pray 'Asr until the sun had almost set.' The Messenger of Allah ﷺ said,
وَاللهِ مَا صَلَّيْتُهَا
(By Allah, I did not pray it either.)" He (Jabir) said, "So we got up and went to Buthan. Allah's Prophet ﷺ performed ablution for the prayer and we too performed ablution. He prayed 'Asr after the sun had set, then he prayed Maghrib after that."
رُدُّوهَا عَلَيَّ ۖ فَطَفِقَ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالْأَعْنَاقِ
(Then he said: "Bring them (horses) back to me." Then he began to pass his hand over their legs and their necks.)
Al-Hasan Al-Basri said, "He said, 'No, by Allah, you will not keep me from worshipping my Lord again,' then he ordered that they should be slaughtered." This was also the view of Qatadah. As-Suddi said, "Their necks and hamstrings were struck with swords."
Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said, "He began patting the horses' heads and legs out of love for them." This is the view that was favored by Ibn Jarir. He said, "Because he would not punish an animal by cutting its hamstrings or destroy his own wealth for no other reason than that he had been distracted from his prayer by looking at it, and it was not the animals' fault. "
This view which Ibn Jarir thought more correct is subject to further review, because such action may have been permissible according to their law, especially since he got angry for the sake of Allah for being distracted by these horses until the time for prayer had lapsed. Then, since he dispensed with them for the sake of Allah, Allah compensated him with something better, the wind which blew gently by his order wherever he willed. Its morning lasted a month's (journey), and its afternoon lasted a month's (journey). This was faster and better than horses.
Imam Ahmad recorded that Abu Qatadah and Abu Ad-Dahma', who traveled a lot to the Ka'bah, said, "We met a man from among the bedouins who said to us: 'The Messenger of Allah ﷺ took my hand and started teaching me some of that which Allah had taught him. He said,
إِنَّكَ لَا تَدَعُ شَيْئًا اتِّقَاءَ اللهِ تَعَالَى إِلَّا أَعْطَاكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا مِنْهُ
(You do not give up anything for the sake of Allah, but Allah will give you something better than it.)'"
Tafsir Ibn Kathir
حضرت سلیمان حضرت داؤد کے وارث۔ اللہ تعالیٰ نے جوا یک بڑی نعمت حضرت داؤد ؑ کو عطا فرمائی تھی اس کا ذکر فرما رہا ہے کہ ان کی نبوت کا وارث ان کے لڑکے حضرت سلیمان ؑ کو بنادیا۔ اسی لئے صرف حضرت سلیمان کا ذکر کیا ورنہ ان کے اور بچے بھی تھے۔ ایک سو عورتیں آپ کی لونڈیوں کے علاوہ تھیں۔ چناچہ اور آیت میں ہے (وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۭ اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ 16) 27۔ النمل :16) یعنی حضرت داود کے وارث حضرت سلیمان ہوئے یعنی نبوت آپ کے بعد انہیں ملی۔ یہ بھی بڑے اچھے بندے تھے یعنی خوب عبادت گذار تھے اور اللہ کی طرف جھکنے والے تھے۔ مکحول کہتے ہیں کہ جناب داؤد نبی نے ایک مرتبہ آپ سے چند سوالات کئے اور ان کے معقول جوابات پا کر فرمایا کہ آپ نبی اللہ ہیں۔ پوچھا کہ سب سے اچھی چیز کیا ہے ؟ جواب دیا کہ اللہ کی طرف سکینت اور ایمان پوچھا کہ سب سے زیادہ میٹھی چیز کیا ہے ؟ جواب ملا اللہ کی رحمت پوچھا سب سے زیادہ ٹھنڈک والی چیز کیا ہے ؟ جواب دیا اللہ کا لوگوں سے درگذر کرنا اور لوگوں کا آپس میں ایک دوسرے کو معاف کردینا (ابن ابی حاتم) حضرت سلیمان ؑ کے سامنے ان کی بادشاہت کے زمانے میں ان کے گھوڑے پیش کئے گئے۔ یہ بہت تیز رفتار تھے جو تین ٹانگوں پر کھڑے رہتے تھے اور ایک پیر یونہی سا زمین پر ٹکتا تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ پر دار گھوڑے تھے تعداد میں بیس تھے۔ ابراہیم تمیمی نے گھوڑوں کی تعداد بیس ہزار بتلائی ہے۔ واللہ اعلم ابو داؤد میں ہے حضور ﷺ تبوک یا خیبر کے سفر سے واپس آئے تھے گھر میں تشریف فرما تھے جب تیز ہوا کے جھونکے سے گھر کے کونے کا پردہ ہٹ گیا وہاں حضرت عائشہ کی کھیلنے کی گڑیاں رکھی ہوئی تھیں۔ حضور ﷺ کی نظر بھی پڑگئی۔ دریافت کیا یہ کیا ہے ؟ حضرت عائشہ ؓ نے جواب دیا میری گڑیاں ہیں آپ نے دیکھا کہ بیچ میں ایک گھوڑا سا بنا ہوا ہے جس کے دو پر بھی کپڑے کے لگے ہوئے ہیں۔ پوچھا یہ کیا ہے ؟ کہا گھوڑا ہے فرمایا اور یہ اس کے اوپر دونوں طرف کپڑے کے کیا بنے ہوئے ہیں ؟ کہا یہ دونوں اس کے پر ہیں۔ فرمایا اچھا گھوڑا اور اس کے پر بھی ؟ صدیقہ نے عرض کیا کیا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت سلیمان کے پر دار گھوڑے تھے، یہ سن کر حضور ﷺ ہنس دیئے یہاں تک کہ آپ کے آخری دانت دکھائی دینے لگے۔ حضرت سلیمان ؑ ان کے دیکھنے بھالنے میں اس قدر مشغول ہوگئے کہ عصر کی نماز کا خیال ہی نہ رہا بالکل بھول گئے۔ جیسے کہحضور ﷺ جنگ خندق والے دن لڑائی کی مشغولیت کی وجہ سے عصر کی نماز نہ پڑھ سکے تھے اور مغرب کے بعد ادا کی۔ چناچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ سورج ڈوبنے کے بد حضرت عمر ؓ کفار قریش کو برا کہتے ہوئے حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے حضور ﷺ میں تو عصر کی نماز بھی نہ پڑھ سکا۔ آپ نے فرمایا میں بھی اب تک ادا نہیں کرسکا۔ چناچہ ہم بطحان میں گئے وہاں وضو کیا اور سورج کے غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز ادا کی اور پھر مغرب پڑھی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دین سلیمان میں جنگی صالح کی وجہ سے تاخیر نماز جائز ہو اور یہ جنگی گھوڑے تھے جنہیں اسی مقصد سے رکھا تھا۔ چناچہ بعض علماء نے یہ کہا بھی ہے کہ صلوۃ خوف کے جاری ہونے سے پہلے یہی حال تھا۔ بعض کہتے ہیں جب تلواریں تنی ہوئی ہوں لشکر بھڑ گئے ہوں اور نماز کے لئے رکوع و سجود کا امکان ہی نہ ہو تب یہ حکم ہے جیسے صحابہ ؓ نے تیستر کی فتح کے بعد موقعہ پر کیا تھا لیکن ہمارا پہلا قول ہی ٹھیک ہے اس لئے کہ اس کے بعد ہی حضرت سلیمان کا ان گھوڑوں کو دوبارہ طلب کرنا وغیرہ بیان ہوا ہے۔ انہیں واپس منگوا کر ان کے کاٹ ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا میرے رب کی عبادت سے مجھے اس چیز نے غافل کردیا میں ایسی چیز ہی نہیں رکھنے کا۔ چناچہ ان کی کوچیں کاٹ دی گئیں اور ان کی گردنیں ماری گئیں۔ لیکن حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ آپ نے گھوڑوں کے پیشانی کے بالوں وغیرہ پر ہاتھ پھیرا۔ امام ابن جریر بھی اسی قول کو اختیار کرتے ہیں کہ بلا وجہ جانوروں کو ایذاء پہچانی ممنوع ہے ان جانوروں کا کوئی قصور نہ تھا جو انہیں کٹوا دیتے لیکن میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے یہ بات ان کی شرع میں جائز ہو خصوصاً ایسے وقت جبکہ وہ یاد اللہ میں حارج ہوئے اور وقت نماز نکل گیا تو دراصل یہ غصہ بھی اللہ کے لئے تھا۔ چناچہ اسی وجہ سے ان گھوڑوں سے بھی تیز اور ہلکی چیز اللہ نے اپنے نبی کو عطا فرمائی یعنی ہوا ان کے تابع کردی۔ حضرت ابو قتادہ ؓ اور حضرت ابو دھما اکثر حج کیا کرتے تھے ان کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ ایک گاؤں میں ہماری ایک بدوی سے ملاقات ہوئی اس نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے بہت کچھ دینی تعلیم دی اس میں یہ بھی فرمایا کہ اللہ سے ڈر کر تو جس چیز کو چھوڑے گا اللہ تجھے اس سے بہتر عطا فرمائیگا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا أَنَّهُ وَهَبَ لِدَاوُدَ سُلَيْمَانَ، أَيْ: نَبِيًّا كَمَا قَالَ: ﴿وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُدَ﴾ أَيْ: فِي النُّبُوَّةِ وَإِلَّا فَقَدَ كَانَ لَهُ بَنُونَ غَيْرُهُ، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ عِنْدَهُ مِائَةُ امْرَأَةٍ حَرَائِرَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾ ثَنَاءٌ عَلَى سُلَيْمَانَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِأَنَّهُ كَثِيرُ الطَّاعَةِ وَالْعِبَادَةِ وَالْإِنَابَةِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
قَالَ [[في ت: "روى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا [[في ت: "بإسناده".]] مَكْحُولٌ قَالَ: لَمَّا وَهَبَ اللَّهُ لِدَاوُدَ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ [[في ت، س: "عليهما".]] السَّلَامُ قَالَ لَهُ: يَا بُنَيَّ مَا أَحْسَنُ؟ قَالَ: سَكِينَةُ اللَّهِ وَإِيمَانٌ. قَالَ: فَمَا أَقْبَحُ؟ قَالَ: كَفْرٌ بَعْدَ إِيمَانٍ. قَالَ: فَمَا أَحْلَى؟ قَالَ: رَوْحُ اللَّهِ بَيْنَ عِبَادِهِ. قَالَ: فَمَا أَبْرَدُ؟ قَالَ: عَفْوُ اللَّهِ عَنِ النَّاسِ وَعَفْوُ النَّاسِ بَعْضِهِمْ عَنْ بَعْضٍ. قَالَ دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: فَأَنْتَ نَبِيٌّ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصَّافِنَاتُ الْجِيَادُ﴾ أَيْ: إِذْ عُرِضَ عَلَى سُلَيْمَانَ فِي حَالِ مَمْلَكَتِهِ وَسُلْطَانِهِ الْخَيْلُ الصَّافِنَاتُ.
قَالَ مُجَاهِدٌ: وَهِيَ الَّتِي تَقِفُ عَلَى ثَلَاثٍ وَطَرَفِ حَافِرِ الرَّابِعَةِ، وَالْجِيَادُ: السِّرَاعُ. وَكَذَا قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ السَّلَفِ.
وَقَالَ [[في ت: "روى".]] ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُؤمَّل حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِيهِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصَّافِنَاتُ الْجِيَادُ﴾ قَالَ: كَانَتْ عِشْرِينَ فَرَسًا ذَاتَ أَجْنِحَةٍ. كَذَا رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ أَخْبَرَنِي إِسْرَائِيلُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ قَالَ: كَانَتِ الْخَيْلُ الَّتِي شَغَلَتْ سُلَيْمَانَ، عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عِشْرِينَ أَلْفَ فَرَسٍ، فَعَقَرَهَا وَهَذَا أَشْبَهُ [[في أ: "الأشبه".]] وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] أَبُو دَاوُدَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنِي عُمَارة بْنُ غَزيَّة: أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ عائشة رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ -أَوْ خَيْبَرَ-وَفِي سَهْوَتِهَا سَتْرٌ فَهَبَّتِ الرِّيحُ فَكَشَفَتْ نَاحِيَةَ السَّتْرِ عَنْ بَنَاتٍ لِعَائِشَةَ -لُعَب-فَقَالَ: "مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟ " قَالَتْ: بَنَاتِي. وَرَأَى بَيْنَهُنَّ فَرَسًا لَهُ [[في أ: "لها".]] جَنَاحَانِ مِنْ رِقَاعٍ فَقَالَ: "مَا هَذَا [[في أ: "ما هذا يا عائشة".]] الَّذِي أَرَى وَسَطَهُنَّ؟ " قَالَتْ: فَرَسٌ. قَالَ: "وَمَا هَذَا الَّذِي عَلَيْهِ؟ " قَالَتْ: جَنَاحَانِ قَالَ: "فَرَسٌ لَهُ جَنَاحَانِ؟! " قَالَتْ: أَمَا سَمِعْتَ أَنَّ لِسُلَيْمَانَ خَيْلٌ لَهَا أَجْنِحَةٌ؟ قَالَتْ: فَضَحِكَ حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ ﷺ [[سنن أبي داود برقم (٤٩٣٢) .]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَقَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي حَتَّى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ﴾ [[في ت، س: "قال".]] ذَكَرَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ السَّلَفِ وَالْمُفَسِّرِينَ أَنَّهُ اشْتَغَلَ بِعَرْضِهَا حَتَّى فَاتَ وَقْتُ [[في ت، أ: "عن وقت".]] صَلَاةِ الْعَصْرِ وَالَّذِي يُقْطَعُ بِهِ أَنَّهُ لَمْ يَتْرُكْهَا عَمْدًا بَلْ نِسْيَانًا كَمَا شُغِلَ النَّبِيُّ ﷺ يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى صَلَّاهَا بَعْدَ الْغُرُوبِ [[في أ: "المغرب".]] وَذَلِكَ ثَابِتٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، مِنْ ذَلِكَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَ عُمَرُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَجَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ، وَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا كِدْتُ أُصَلِّي الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ تَغْرُبُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "وَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا" فَقَالَ: [[في ت: "قال".]] فَقُمْنَا إِلَى بُطْحَان فَتَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ وَتَوَضَّأْنَا [[في ت: "فتوضأنا".]] لَهَا فَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ [[صحيح البخاري برقم (٤١١٢) وصحيح مسلم برقم (٦٣١) .]]
وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ كَانَ [[في أ: "ادعى هذا طائفة".]] سَائِغًا فِي مِلَّتِهِمْ تَأْخِيرُ الصَّلَاةِ لِعُذْرِ الْغَزْوِ وَالْقِتَالِ. وَالْخَيْلُ تُرَادُ لِلْقِتَالِ. وَقَدِ ادَّعَى طَائِفَةٌ [[في س، أ: "أنه قد كان".]] مِنَ الْعُلَمَاءِ أَنَّ هَذَا كَانَ مَشْرُوعًا فَنُسِخَ ذَلِكَ بِصَلَاةِ الْخَوْفِ وَمِنْهُمْ مَنْ ذَهَبَ إِلَى ذَلِكَ فِي حَالِ الْمُسَايَفَةِ وَالْمُضَايَقَةِ، حَيْثُ لَا يُمْكِنُ صَلَاةٌ وَلَا رُكُوعٌ وَلَا سُجُودٌ كَمَا فَعَلَ الصَّحَابَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فِي فَتْحِ تُسْتَرَ، وَهُوَ مَنْقُولٌ عَنْ مَكْحُولٍ وَالْأَوْزَاعِيِّ وَغَيْرِهِمَا وَالْأَوَّلُ أُقَرَبُ؛ لِأَنَّهُ قَالَ بَعْدَهَا: ﴿رُدُّوهَا عَلَيَّ فَطَفِقَ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالأعْنَاقِ﴾
قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ. قَالَ: لَا وَاللَّهِ لَا تَشْغَلِينِي عَنْ عِبَادَةِ رَبِّي آخِرَ مَا [[في أ: "أحر ما".]] عَلَيْكِ. ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَعُقِرَتْ. وَكَذَا قَالَ قَتَادَةُ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: ضَرَبَ أَعْنَاقَهَا وَعَرَاقِيبَهَا بِالسُّيُوفِ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: جَعَلَ يَمْسَحُ أَعْرَافَ الْخَيْلِ، وَعَرَاقِيبُهَا حِبَالُهَا. وَهَذَا الْقَوْلُ اخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ قَالَ: لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيُعَذِّبَ حَيَوَانًا بِالْعَرْقَبَةِ وَيُهْلِكَ مَالًا مِنْ مَالِهِ بِلَا سَبَبٍ سِوَى أَنَّهُ اشْتَغَلَ عَنْ صِلَاتِهِ بِالنَّظَرِ إِلَيْهَا وَلَا ذَنْبَ لَهَا. وَهَذَا الَّذِي رَجَّحَ بِهِ ابْنُ جَرِيرٍ فِيهِ نَظَرٌ؛ لِأَنَّهُ قَدْ يَكُونُ فِي شَرْعِهِمْ جَوَازُ مِثْلِ هَذَا وَلَا سِيَّمَا إِذَا كَانَ غَضَبًا لله عز وجل بسبب أنه اشْتَغَلَ بِهَا حَتَّى خَرَجَ وَقْتُ الصَّلَاةِ؛ وَلِهَذَا لَمَّا خَرَجَ عَنْهَا لِلَّهِ تَعَالَى [[في ت، س: "عز وجل".]] عَوَّضَهُ اللَّهُ تَعَالَى مَا [[في ت، س: "بما".]] هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا وَهِيَ [[في ت، س، أ: "وهو".]] الرِّيحُ الَّتِي تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ فَهَذَا أَسْرَعُ وَخَيْرٌ مِنَ الْخَيْلِ [[وهذا هو الصواب، وانظر كلام القرطبي في: الجامع لأحكام القرآن (١٥/١٩٥، ١٩٦) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ [[في ت: "وروى الإمام أحمد بإسناده".]] عَنْ أَبِي قَتَادَةَ وَأَبِي الدَّهْمَاءِ -وَكَانَا يُكْثِرَانِ السَّفَرَ نَحْوَ الْبَيْتِ-قَالَا أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَقَالَ الْبَدَوِيُّ: أَخَذَ بِيَدِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم فجعل يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ تَعَالَى وَقَالَ: "إِنَّكَ لَا تَدَعُ شَيْئًا اتِّقَاءَ اللَّهِ [[في أ: "لله".]] -عَزَّ وَجَلَّ-إِلَّا أَعْطَاكَ اللَّهُ خَيْرًا مِنْهُ" [[المسند (٥/٧٨) وقال الهيثمي في المجمع (١٠/٢٩٦) : "رجاله رجال الصحيح".]]
رُدُّوهَا عَلَىَّ ۖ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِٱلسُّوقِ وَٱلْأَعْنَاقِ
[He said], "Return them to me," and set about striking [their] legs and necks.
(بولے کہ) ان کو میرے پاس واپس لے آؤ۔ پھر ان کی ٹانگوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے
(آنها به قدری جالب بودند که گفت:) بار دیگر آنها را نزد من بازگردانید! و دست به ساقها و گردنهای آنها کشید (و آنها را نوازش داد).
Tafsir Ibn Kathir
And to Dawud We gave Sulayman. How excellent a servant! Verily, he was ever turning in repentance (to Us)(30)When there were displayed before him, in the afternoon, well trained horses of the highest breed (31)He said: "I did love the good instead of remembering my Lord," till the time was over, and (the sun) had hidden in the veil (of night)(32)Then he said: "Bring them back to me." Then he began to pass his hand over their legs and their necks (33)
Sulayman the Son of Dawud
Allah tells us that he gave Sulayman to Dawud as a Prophet, as He says elsewhere:
وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ ۖ
(And Sulayman inherited Dawud)(27:16). meaning, he inherited prophethood from him. Dawud had other sons besides Sulayman, for he had one hundred free wives.
نِعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ
(How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)!) This is praise for Sulayman, because he was very much obedient, worshipping Allah much and always turning to Allah in repentance.
إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصَّافِنَاتُ الْجِيَادُ
(When there were displayed before him, in the afternoon, well trained horses of the highest breed.) means, these well trained horses were shown to Sulayman, peace be upon him, in his capacity as king and ruler. Mujahid said, "They were the kind of horses which stand on three legs and raise the fourth, and they were swift horses." This was also the view of several others among the Salaf. Abu Dawud recorded that 'A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "The Messenger of Allah ﷺ came back from the campaign of Tabuk or Khaybar, and there was a curtain covering her room. The wind came and lifted the curtain, revealing some toys belonging to 'A'ishah, may Allah be pleased with her. The Prophet ﷺ said:
مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟
(What is this, O 'A'ishah?) She, may Allah be pleased with her, said, "My toys." Among them he saw a horse with two wings made of cloth. He ﷺ said:
مَا هَذَا الَّذِي أَرَى وَسَطَهُنَّ؟
(What is this that I see in the midst of them?) She, may Allah be pleased with her, said, "A horse." The Messenger of Allah ﷺ said,
مَا هَذَا الَّذِي عَلَيْهِ؟
(And what is this on it?) She, may Allah be pleased with her, said, "Wings." The Messenger of Allah ﷺ said,
فَرَسٌ لَهُ جَنَاحَانِ؟
(A horse with two wings?) She, may Allah be pleased with her, said, "Did you not hear that Sulayman, peace be upon him, had a horse that had wings?" She, may Allah be pleased with her, said, "The Messenger of Allah ﷺ smiled so broadly that I could see his molars."
فَقَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي حَتَّىٰ تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ
(He said: "I did love the good (i.e., horses) instead of remembering my Lord" till the time was over, and (the sun) had hidden in the veil (of night))
More than one of the Salaf and scholars of Tafsir mentioned that he was so busy looking at the horses that he missed the time of 'Asr prayer. He did not miss it deliberately, but because of forgetfulness, as happened to the Prophet ﷺ on the day of Khandaq, when he was too busy to pray 'Asr and he prayed it after the sun had set. This was recorded in the Two Sahihs with more than one chain of narration, including the report from Jabir, may Allah be pleased with him, who said, "On the day of Khandaq, 'Umar, may Allah be pleased with him, came after the sun had set and started cursing the disbelievers of the Quraysh. He said, 'O Messenger of Allah, I could not pray 'Asr until the sun had almost set.' The Messenger of Allah ﷺ said,
وَاللهِ مَا صَلَّيْتُهَا
(By Allah, I did not pray it either.)" He (Jabir) said, "So we got up and went to Buthan. Allah's Prophet ﷺ performed ablution for the prayer and we too performed ablution. He prayed 'Asr after the sun had set, then he prayed Maghrib after that."
رُدُّوهَا عَلَيَّ ۖ فَطَفِقَ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالْأَعْنَاقِ
(Then he said: "Bring them (horses) back to me." Then he began to pass his hand over their legs and their necks.)
Al-Hasan Al-Basri said, "He said, 'No, by Allah, you will not keep me from worshipping my Lord again,' then he ordered that they should be slaughtered." This was also the view of Qatadah. As-Suddi said, "Their necks and hamstrings were struck with swords."
Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said, "He began patting the horses' heads and legs out of love for them." This is the view that was favored by Ibn Jarir. He said, "Because he would not punish an animal by cutting its hamstrings or destroy his own wealth for no other reason than that he had been distracted from his prayer by looking at it, and it was not the animals' fault. "
This view which Ibn Jarir thought more correct is subject to further review, because such action may have been permissible according to their law, especially since he got angry for the sake of Allah for being distracted by these horses until the time for prayer had lapsed. Then, since he dispensed with them for the sake of Allah, Allah compensated him with something better, the wind which blew gently by his order wherever he willed. Its morning lasted a month's (journey), and its afternoon lasted a month's (journey). This was faster and better than horses.
Imam Ahmad recorded that Abu Qatadah and Abu Ad-Dahma', who traveled a lot to the Ka'bah, said, "We met a man from among the bedouins who said to us: 'The Messenger of Allah ﷺ took my hand and started teaching me some of that which Allah had taught him. He said,
إِنَّكَ لَا تَدَعُ شَيْئًا اتِّقَاءَ اللهِ تَعَالَى إِلَّا أَعْطَاكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا مِنْهُ
(You do not give up anything for the sake of Allah, but Allah will give you something better than it.)'"
Tafsir Ibn Kathir
حضرت سلیمان حضرت داؤد کے وارث۔ اللہ تعالیٰ نے جوا یک بڑی نعمت حضرت داؤد ؑ کو عطا فرمائی تھی اس کا ذکر فرما رہا ہے کہ ان کی نبوت کا وارث ان کے لڑکے حضرت سلیمان ؑ کو بنادیا۔ اسی لئے صرف حضرت سلیمان کا ذکر کیا ورنہ ان کے اور بچے بھی تھے۔ ایک سو عورتیں آپ کی لونڈیوں کے علاوہ تھیں۔ چناچہ اور آیت میں ہے (وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۭ اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ 16) 27۔ النمل :16) یعنی حضرت داود کے وارث حضرت سلیمان ہوئے یعنی نبوت آپ کے بعد انہیں ملی۔ یہ بھی بڑے اچھے بندے تھے یعنی خوب عبادت گذار تھے اور اللہ کی طرف جھکنے والے تھے۔ مکحول کہتے ہیں کہ جناب داؤد نبی نے ایک مرتبہ آپ سے چند سوالات کئے اور ان کے معقول جوابات پا کر فرمایا کہ آپ نبی اللہ ہیں۔ پوچھا کہ سب سے اچھی چیز کیا ہے ؟ جواب دیا کہ اللہ کی طرف سکینت اور ایمان پوچھا کہ سب سے زیادہ میٹھی چیز کیا ہے ؟ جواب ملا اللہ کی رحمت پوچھا سب سے زیادہ ٹھنڈک والی چیز کیا ہے ؟ جواب دیا اللہ کا لوگوں سے درگذر کرنا اور لوگوں کا آپس میں ایک دوسرے کو معاف کردینا (ابن ابی حاتم) حضرت سلیمان ؑ کے سامنے ان کی بادشاہت کے زمانے میں ان کے گھوڑے پیش کئے گئے۔ یہ بہت تیز رفتار تھے جو تین ٹانگوں پر کھڑے رہتے تھے اور ایک پیر یونہی سا زمین پر ٹکتا تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ پر دار گھوڑے تھے تعداد میں بیس تھے۔ ابراہیم تمیمی نے گھوڑوں کی تعداد بیس ہزار بتلائی ہے۔ واللہ اعلم ابو داؤد میں ہے حضور ﷺ تبوک یا خیبر کے سفر سے واپس آئے تھے گھر میں تشریف فرما تھے جب تیز ہوا کے جھونکے سے گھر کے کونے کا پردہ ہٹ گیا وہاں حضرت عائشہ کی کھیلنے کی گڑیاں رکھی ہوئی تھیں۔ حضور ﷺ کی نظر بھی پڑگئی۔ دریافت کیا یہ کیا ہے ؟ حضرت عائشہ ؓ نے جواب دیا میری گڑیاں ہیں آپ نے دیکھا کہ بیچ میں ایک گھوڑا سا بنا ہوا ہے جس کے دو پر بھی کپڑے کے لگے ہوئے ہیں۔ پوچھا یہ کیا ہے ؟ کہا گھوڑا ہے فرمایا اور یہ اس کے اوپر دونوں طرف کپڑے کے کیا بنے ہوئے ہیں ؟ کہا یہ دونوں اس کے پر ہیں۔ فرمایا اچھا گھوڑا اور اس کے پر بھی ؟ صدیقہ نے عرض کیا کیا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت سلیمان کے پر دار گھوڑے تھے، یہ سن کر حضور ﷺ ہنس دیئے یہاں تک کہ آپ کے آخری دانت دکھائی دینے لگے۔ حضرت سلیمان ؑ ان کے دیکھنے بھالنے میں اس قدر مشغول ہوگئے کہ عصر کی نماز کا خیال ہی نہ رہا بالکل بھول گئے۔ جیسے کہحضور ﷺ جنگ خندق والے دن لڑائی کی مشغولیت کی وجہ سے عصر کی نماز نہ پڑھ سکے تھے اور مغرب کے بعد ادا کی۔ چناچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ سورج ڈوبنے کے بد حضرت عمر ؓ کفار قریش کو برا کہتے ہوئے حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے حضور ﷺ میں تو عصر کی نماز بھی نہ پڑھ سکا۔ آپ نے فرمایا میں بھی اب تک ادا نہیں کرسکا۔ چناچہ ہم بطحان میں گئے وہاں وضو کیا اور سورج کے غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز ادا کی اور پھر مغرب پڑھی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دین سلیمان میں جنگی صالح کی وجہ سے تاخیر نماز جائز ہو اور یہ جنگی گھوڑے تھے جنہیں اسی مقصد سے رکھا تھا۔ چناچہ بعض علماء نے یہ کہا بھی ہے کہ صلوۃ خوف کے جاری ہونے سے پہلے یہی حال تھا۔ بعض کہتے ہیں جب تلواریں تنی ہوئی ہوں لشکر بھڑ گئے ہوں اور نماز کے لئے رکوع و سجود کا امکان ہی نہ ہو تب یہ حکم ہے جیسے صحابہ ؓ نے تیستر کی فتح کے بعد موقعہ پر کیا تھا لیکن ہمارا پہلا قول ہی ٹھیک ہے اس لئے کہ اس کے بعد ہی حضرت سلیمان کا ان گھوڑوں کو دوبارہ طلب کرنا وغیرہ بیان ہوا ہے۔ انہیں واپس منگوا کر ان کے کاٹ ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا میرے رب کی عبادت سے مجھے اس چیز نے غافل کردیا میں ایسی چیز ہی نہیں رکھنے کا۔ چناچہ ان کی کوچیں کاٹ دی گئیں اور ان کی گردنیں ماری گئیں۔ لیکن حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ آپ نے گھوڑوں کے پیشانی کے بالوں وغیرہ پر ہاتھ پھیرا۔ امام ابن جریر بھی اسی قول کو اختیار کرتے ہیں کہ بلا وجہ جانوروں کو ایذاء پہچانی ممنوع ہے ان جانوروں کا کوئی قصور نہ تھا جو انہیں کٹوا دیتے لیکن میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے یہ بات ان کی شرع میں جائز ہو خصوصاً ایسے وقت جبکہ وہ یاد اللہ میں حارج ہوئے اور وقت نماز نکل گیا تو دراصل یہ غصہ بھی اللہ کے لئے تھا۔ چناچہ اسی وجہ سے ان گھوڑوں سے بھی تیز اور ہلکی چیز اللہ نے اپنے نبی کو عطا فرمائی یعنی ہوا ان کے تابع کردی۔ حضرت ابو قتادہ ؓ اور حضرت ابو دھما اکثر حج کیا کرتے تھے ان کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ ایک گاؤں میں ہماری ایک بدوی سے ملاقات ہوئی اس نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے بہت کچھ دینی تعلیم دی اس میں یہ بھی فرمایا کہ اللہ سے ڈر کر تو جس چیز کو چھوڑے گا اللہ تجھے اس سے بہتر عطا فرمائیگا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا أَنَّهُ وَهَبَ لِدَاوُدَ سُلَيْمَانَ، أَيْ: نَبِيًّا كَمَا قَالَ: ﴿وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُدَ﴾ أَيْ: فِي النُّبُوَّةِ وَإِلَّا فَقَدَ كَانَ لَهُ بَنُونَ غَيْرُهُ، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ عِنْدَهُ مِائَةُ امْرَأَةٍ حَرَائِرَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾ ثَنَاءٌ عَلَى سُلَيْمَانَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِأَنَّهُ كَثِيرُ الطَّاعَةِ وَالْعِبَادَةِ وَالْإِنَابَةِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
قَالَ [[في ت: "روى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا [[في ت: "بإسناده".]] مَكْحُولٌ قَالَ: لَمَّا وَهَبَ اللَّهُ لِدَاوُدَ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ [[في ت، س: "عليهما".]] السَّلَامُ قَالَ لَهُ: يَا بُنَيَّ مَا أَحْسَنُ؟ قَالَ: سَكِينَةُ اللَّهِ وَإِيمَانٌ. قَالَ: فَمَا أَقْبَحُ؟ قَالَ: كَفْرٌ بَعْدَ إِيمَانٍ. قَالَ: فَمَا أَحْلَى؟ قَالَ: رَوْحُ اللَّهِ بَيْنَ عِبَادِهِ. قَالَ: فَمَا أَبْرَدُ؟ قَالَ: عَفْوُ اللَّهِ عَنِ النَّاسِ وَعَفْوُ النَّاسِ بَعْضِهِمْ عَنْ بَعْضٍ. قَالَ دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: فَأَنْتَ نَبِيٌّ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصَّافِنَاتُ الْجِيَادُ﴾ أَيْ: إِذْ عُرِضَ عَلَى سُلَيْمَانَ فِي حَالِ مَمْلَكَتِهِ وَسُلْطَانِهِ الْخَيْلُ الصَّافِنَاتُ.
قَالَ مُجَاهِدٌ: وَهِيَ الَّتِي تَقِفُ عَلَى ثَلَاثٍ وَطَرَفِ حَافِرِ الرَّابِعَةِ، وَالْجِيَادُ: السِّرَاعُ. وَكَذَا قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ السَّلَفِ.
وَقَالَ [[في ت: "روى".]] ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُؤمَّل حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِيهِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصَّافِنَاتُ الْجِيَادُ﴾ قَالَ: كَانَتْ عِشْرِينَ فَرَسًا ذَاتَ أَجْنِحَةٍ. كَذَا رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ أَخْبَرَنِي إِسْرَائِيلُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ قَالَ: كَانَتِ الْخَيْلُ الَّتِي شَغَلَتْ سُلَيْمَانَ، عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عِشْرِينَ أَلْفَ فَرَسٍ، فَعَقَرَهَا وَهَذَا أَشْبَهُ [[في أ: "الأشبه".]] وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] أَبُو دَاوُدَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنِي عُمَارة بْنُ غَزيَّة: أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ عائشة رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ -أَوْ خَيْبَرَ-وَفِي سَهْوَتِهَا سَتْرٌ فَهَبَّتِ الرِّيحُ فَكَشَفَتْ نَاحِيَةَ السَّتْرِ عَنْ بَنَاتٍ لِعَائِشَةَ -لُعَب-فَقَالَ: "مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟ " قَالَتْ: بَنَاتِي. وَرَأَى بَيْنَهُنَّ فَرَسًا لَهُ [[في أ: "لها".]] جَنَاحَانِ مِنْ رِقَاعٍ فَقَالَ: "مَا هَذَا [[في أ: "ما هذا يا عائشة".]] الَّذِي أَرَى وَسَطَهُنَّ؟ " قَالَتْ: فَرَسٌ. قَالَ: "وَمَا هَذَا الَّذِي عَلَيْهِ؟ " قَالَتْ: جَنَاحَانِ قَالَ: "فَرَسٌ لَهُ جَنَاحَانِ؟! " قَالَتْ: أَمَا سَمِعْتَ أَنَّ لِسُلَيْمَانَ خَيْلٌ لَهَا أَجْنِحَةٌ؟ قَالَتْ: فَضَحِكَ حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ ﷺ [[سنن أبي داود برقم (٤٩٣٢) .]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَقَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي حَتَّى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ﴾ [[في ت، س: "قال".]] ذَكَرَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ السَّلَفِ وَالْمُفَسِّرِينَ أَنَّهُ اشْتَغَلَ بِعَرْضِهَا حَتَّى فَاتَ وَقْتُ [[في ت، أ: "عن وقت".]] صَلَاةِ الْعَصْرِ وَالَّذِي يُقْطَعُ بِهِ أَنَّهُ لَمْ يَتْرُكْهَا عَمْدًا بَلْ نِسْيَانًا كَمَا شُغِلَ النَّبِيُّ ﷺ يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى صَلَّاهَا بَعْدَ الْغُرُوبِ [[في أ: "المغرب".]] وَذَلِكَ ثَابِتٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، مِنْ ذَلِكَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَ عُمَرُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَجَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ، وَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا كِدْتُ أُصَلِّي الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ تَغْرُبُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "وَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا" فَقَالَ: [[في ت: "قال".]] فَقُمْنَا إِلَى بُطْحَان فَتَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ وَتَوَضَّأْنَا [[في ت: "فتوضأنا".]] لَهَا فَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ [[صحيح البخاري برقم (٤١١٢) وصحيح مسلم برقم (٦٣١) .]]
وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ كَانَ [[في أ: "ادعى هذا طائفة".]] سَائِغًا فِي مِلَّتِهِمْ تَأْخِيرُ الصَّلَاةِ لِعُذْرِ الْغَزْوِ وَالْقِتَالِ. وَالْخَيْلُ تُرَادُ لِلْقِتَالِ. وَقَدِ ادَّعَى طَائِفَةٌ [[في س، أ: "أنه قد كان".]] مِنَ الْعُلَمَاءِ أَنَّ هَذَا كَانَ مَشْرُوعًا فَنُسِخَ ذَلِكَ بِصَلَاةِ الْخَوْفِ وَمِنْهُمْ مَنْ ذَهَبَ إِلَى ذَلِكَ فِي حَالِ الْمُسَايَفَةِ وَالْمُضَايَقَةِ، حَيْثُ لَا يُمْكِنُ صَلَاةٌ وَلَا رُكُوعٌ وَلَا سُجُودٌ كَمَا فَعَلَ الصَّحَابَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فِي فَتْحِ تُسْتَرَ، وَهُوَ مَنْقُولٌ عَنْ مَكْحُولٍ وَالْأَوْزَاعِيِّ وَغَيْرِهِمَا وَالْأَوَّلُ أُقَرَبُ؛ لِأَنَّهُ قَالَ بَعْدَهَا: ﴿رُدُّوهَا عَلَيَّ فَطَفِقَ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالأعْنَاقِ﴾
قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ. قَالَ: لَا وَاللَّهِ لَا تَشْغَلِينِي عَنْ عِبَادَةِ رَبِّي آخِرَ مَا [[في أ: "أحر ما".]] عَلَيْكِ. ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَعُقِرَتْ. وَكَذَا قَالَ قَتَادَةُ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: ضَرَبَ أَعْنَاقَهَا وَعَرَاقِيبَهَا بِالسُّيُوفِ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: جَعَلَ يَمْسَحُ أَعْرَافَ الْخَيْلِ، وَعَرَاقِيبُهَا حِبَالُهَا. وَهَذَا الْقَوْلُ اخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ قَالَ: لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيُعَذِّبَ حَيَوَانًا بِالْعَرْقَبَةِ وَيُهْلِكَ مَالًا مِنْ مَالِهِ بِلَا سَبَبٍ سِوَى أَنَّهُ اشْتَغَلَ عَنْ صِلَاتِهِ بِالنَّظَرِ إِلَيْهَا وَلَا ذَنْبَ لَهَا. وَهَذَا الَّذِي رَجَّحَ بِهِ ابْنُ جَرِيرٍ فِيهِ نَظَرٌ؛ لِأَنَّهُ قَدْ يَكُونُ فِي شَرْعِهِمْ جَوَازُ مِثْلِ هَذَا وَلَا سِيَّمَا إِذَا كَانَ غَضَبًا لله عز وجل بسبب أنه اشْتَغَلَ بِهَا حَتَّى خَرَجَ وَقْتُ الصَّلَاةِ؛ وَلِهَذَا لَمَّا خَرَجَ عَنْهَا لِلَّهِ تَعَالَى [[في ت، س: "عز وجل".]] عَوَّضَهُ اللَّهُ تَعَالَى مَا [[في ت، س: "بما".]] هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا وَهِيَ [[في ت، س، أ: "وهو".]] الرِّيحُ الَّتِي تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ فَهَذَا أَسْرَعُ وَخَيْرٌ مِنَ الْخَيْلِ [[وهذا هو الصواب، وانظر كلام القرطبي في: الجامع لأحكام القرآن (١٥/١٩٥، ١٩٦) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ [[في ت: "وروى الإمام أحمد بإسناده".]] عَنْ أَبِي قَتَادَةَ وَأَبِي الدَّهْمَاءِ -وَكَانَا يُكْثِرَانِ السَّفَرَ نَحْوَ الْبَيْتِ-قَالَا أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَقَالَ الْبَدَوِيُّ: أَخَذَ بِيَدِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم فجعل يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ تَعَالَى وَقَالَ: "إِنَّكَ لَا تَدَعُ شَيْئًا اتِّقَاءَ اللَّهِ [[في أ: "لله".]] -عَزَّ وَجَلَّ-إِلَّا أَعْطَاكَ اللَّهُ خَيْرًا مِنْهُ" [[المسند (٥/٧٨) وقال الهيثمي في المجمع (١٠/٢٩٦) : "رجاله رجال الصحيح".]]
وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَٰنَ وَأَلْقَيْنَا عَلَىٰ كُرْسِيِّهِۦ جَسَدًۭا ثُمَّ أَنَابَ
And We certainly tried Solomon and placed on his throne a body; then he returned.
اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر انہوں نے (خدا کی طرف) رجوع کیا
ما سلیمان را آزمودیم و بر تخت او جسدی افکندیم؛ سپس او به درگاه خداوند توبه کرد.
Tafsir Ibn Kathir
And indeed, We tried Sulayman and We placed on his throne Jasad (a body), and he returned (34)He said: "My Lord! Forgive me, and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me. Verily, You are the Bestower. (35)So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order wherever he willed (36)And the Shayatin, from every kind of builder and diver (37)And also others bound in fetters (38)[Allah said to Sulayman]: "This is Our gift, so spend you or withhold, no account will be asked of you. (39)And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return (40)
How Allah tested Sulayman then made Things easy for Him
Allah says,
وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ
(And indeed, We tried Sulayman) meaning, 'We tested him.'
وَأَلْقَيْنَا عَلَىٰ كُرْسِيِّهِ جَسَدًا
(and We placed on his throne Jasad (a body)).
ثُمَّ أَنَابَ
(and he returned.) means, after this test, he turned back to Him and asked for forgiveness and to be given a kingdom such as shall not belong to any other after him.
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
(He said: "My Lord! Forgive me, and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me. Verily, You are the Bestower.")
Some of them said, "No one after me will have the right to ask Allah for such a kingdom." This is the apparent meaning from the context of the Ayah, and several Hadiths with a similar meaning have been narrated from the Messenger of Allah ﷺ.
In his Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet ﷺ said:
إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ، وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنَ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتّٰى تُصْبِحُوا،وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي
(An 'Ifrit from among the Jinn came and bothered me last night – or he said something similar – trying to stop me from praying. Allah enabled me to overpower him, and I wanted to tie him to one of the pillars in the Masjid so that you could see him this morning. Then I remembered what my brother Sulayman said, (My Lord! Forgive me and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me))
Rawh said, "so he let him go, humiliated." ) This was also recorded by Muslim and An-Nasa'i. In his Sahih, Muslim recorded that Abu Ad-Darda', may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ stood up to pray and we heard him say,
أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ
(I seek refuge with Allah from you.) Then he said,
أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ
(I curse you with the curse of Allah.) three times, and he stretched out his hand as if he was reaching out to take something. When he finished his prayer, we said, 'O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer which we have never heard you say before, and we saw you stretching out your hand.' He ﷺ said:
إِنَّ عَدُوَّ اللهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ التَّامَّةِ، فَلَمْ يَتَأَخَّرْ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ،وَاللهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا، يَلْعَبُ بِهِ صِبْيَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ
(The enemy of Allah Iblis came with a flame of fire to throw in my face, so I said, "I seek refuge with Allah from you" three times, then I said, "I curse you with the complete curse of Allah," but he did not back off. I said it three times. Then I wanted to seize him. By Allah, if it were not for the words of our brother Sulayman, he would have been chained up and he would have become a plaything for the children of the people of Al-Madinah.)" Allah says:
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ
(So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order wherever he willed.) Al-Hasan Al-Basri, may Allah have mercy on him, said, "When Sulayman, peace be upon him, slaughtered the horses out of anger for the sake of Allah, Allah compensated him with something better and swifter, the wind whose morning was a month's (journey), and its afternoon was a month's (journey)."
حَيْثُ أَصَابَ
(wherever he willed.) means, wherever in the world he wanted.
وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ
(And also the Shayatin, from every kind of builder and diver,) means, among them were some whom he used to build high rooms, images, basins as large as reservoirs, and cauldrons fixed (in their places), and other difficult tasks which humans were unable to do. And there was another group, who dived into the sea recovering pearls, jewels and other precious things which cannot be found anywhere else.
وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
(And also others bound in fetters.) means, tied up in chains. These were the ones who had rebelled and refused to work, or else their work was bad and they were wrongdoers.
هَٰذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ
([Allah said to Sulayman]: "This is Our Gift, so spend you or withhold, no account will be asked of you.") means, 'this that We have given to you of kingship and perfect power, as you asked for, you may give to whomsoever you wish and deny to whomsoever you wish, and you will not be brought to account. Whatever you do is permissible for you, so however you judge, it will be right.' It was reported in the Two Sahihs that when the Messenger of Allah ﷺ was given the choice between being a servant and a Messenger – who does what he is commanded to do and distributes things among the people as Allah commands him to do – or being a Prophet and a king, who can give to whomever he wishes and withhold from whomever he wishes without being held accountable for anything, he chose the former. He consulted with Jibril, peace be upon him, who said, "Be humble." So he chose the former because it has a greater value before Allah and brings a higher status in the Hereafter, even though the second option, prophethood combined with kingship, is also a great thing both in this world and in the Hereafter, when Allah tells us what He gave to Sulayman, peace be upon him, in this world, He tells us that he will have a great share with Allah on the Day of Resurrection. He says:
وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ
(And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return.) meaning, in this world and the Hereafter.
Tafsir Ibn Kathir
سلیمان ؑ کا تفصیلی تذکرہ۔ہم نے حضرت سلیمان کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ ؓ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہرچند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتاسکتا ہے آپ نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر میں ملتا تھا ہر ساتویں دن اس میں لبالب پانی آجاتا تھا اور یہی پانی یہ شیطان پیتا تھا۔ اس کا پانی نکال دیا گیا اور بالکل خالی کر کے پانی کو بند کر کے اس کے آنے والے دن اسے شراب سے پر کردیا گیا جب شیطان آیا اور یہ حال دیکھا تو کہنے لگا یہ تو مزے کی چیز ہے لیکن عقل کی دشمن جہالت کو ترقی دینے والی چیز ہے۔ چناچہ وہ پیاسا ہی چلا گیا۔ جب پیاس کی شدت ہوئی تو مجبوراً یہ سب کچھ کہتے ہوئے پینا ہی پڑا۔ اب عقل جاتی رہی اور اسے حضرت سلیمان کی انگوٹھی دکھائی گئی یا مونڈھوں کے درمیان سے مہر لگا دی گئی۔ یہ بےبس ہوگیا حضرت سلیمان کی حکومت اسی انگوٹھی کی وجہ سے تھی۔ جب یہ حضرت سلیمان کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے یہ کام سر انجام دینے کا حکم دیا یہ ہدہد کے انڈے لے آیا اور انہیں جمع کر کے ان پر شیشہ رکھ دیا۔ ہدہد آیا اس نے اپنے انڈے دیکھے چاروں طرف گھوما لیکن دیکھا کہ ہاتھ نہیں آسکتے اڑ کر واپس چلا گیا اور الماس لے آیا اور اسے اس شیشے پر رکھ کر شیشے کو کاٹنا شروع کردیا آخر وہ کٹ گیا اور ہدہد اپنے انڈے لے گیا اور اس الماس کو بھی لے لیا گیا اور اسی سے پتھر کاٹ کاٹ کر عمارت شروع ہوئی حضرت سلیمان ؑ جب بیت الخلا میں یا حمام میں جاتے تو انگوٹھی اتار جاتے ایک دن حمام میں جانا تھا اور یہ شیطان آپ کے ساتھ تھا آپ اس وقت فرضی غسل کے لئے جا رہے تھے انگوٹھی اسی کو سونپ دی اور چلے گئے اس نے انگوٹھی سمندر میں پھینک دی اور شیطان پر حضرت سلیمان کی شکل ڈال دی گئی اور آپ سے تخت و تاج چھن گیا۔ سب چیزوں پر شیطان نے قبضہ کرلیا سوائے آپ کی بیویوں کے۔ اب اس سے بہت سی غیر معروف باتیں ظہور میں آنے لگیں اس زمانہ میں ایک صاحب تھے جو ایسے ہی تھے جیسے حضور ﷺ کے زمانہ میں حضرت فاروق ؓ۔ اس نے کہا آزمائش کرنی چاہئے مجھے تو یہ شخص سلیمان معلوم نہیں ہوتا۔ چناچہ ایک روز اس نے کہا کیوں جناب اگر کوئی شخص رات کو جنبی ہوجائے اور موسم ذرا ٹھنڈا ہو اور وہ سورج طلوع ہونے تک غسل نہ کرے تو کوئی حرج تو نہیں ؟ اس نے کہا ہرگز نہیں۔ چالیس دن تک یہ تخت سلیمان پر رہا پھر آپ کی مچھلی کے پیٹ سے انگوٹھی مل گئی ہاتھ میں ڈالتے ہی پھر تمام چیزیں آپ کی مطیع ہوگئیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ سدی فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ کی ایک سو بیویاں تھیں آپ کو سب سے زیادہ اعتبار ان میں سے ایک بیوی پر تھا جن کا نام جراوہ تھا۔ جب جنبی ہونے یا پاخانے جاتے تو اپنی انگوٹھی انہی کو سونپ جاتے۔ ایک مرتبہ آپ پاخانے گئے پیچھے سے ایک شیطان آپ ہی کی صورت بنا کر آیا اور بیوی صاحبہ سے انگوٹھی طلب کی آپ نے دے دی یہ آتے ہی تخت پر بیٹھ گیا جب حضرت سلیمان آئے اور انگوٹھی طلب کی تو بیوی صاحبہ نے فرمایا آپ انگوٹھی تو لے گئے۔ آپ سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے نہایت پریشان حال سے محل سے نکل گئے اس شیطان نے چالیس دن تک حکومت کی لیکن احکام کی تبدیلی کو دیکھ کر علماء نے سمجھ لیا کہ یہ سلیمان نہیں۔ چناچہ ان کی جماعت آپ کی بیویوں کے پاس آئی اور ان سے کہا یہ کیا معاملہ ہے ہمیں سلیمان کی ذات میں شک پڑگیا۔ اگر یہ سچ مچ سلیمان ہے تو اس کی عقل جاتی رہی ہے یا یہ کہ یہ سلیمان ہی نہیں۔ ورنہ ایسے خلاف شرع احکام نہ دیتا۔ عورتیں یہ سن کر رونے لگیں۔ یہ یہاں سے واپس آگئے اور تخت کے اردگرد اسے گھیر کر بٹھ گئے اور تورات کھول کر اس کی تلاوت شروع کردی۔ یہ خبیث شیطان کلام اللہ سے بھاگا اور انگوٹھی سمندر میں پھینک دی جسے ایک مچھلی نگل گئی۔ حضرت سلیمان یونہی اپنے دن گذارتے تھے ایک مرتبہ سمندر کے کنارے نکل گئے بھوک بہت لگی ہوئی تھی ماہی گیروں کو مچھلیاں پکڑتے ہوئے دیکھ کر ان کے پاس آ کر ان سے ایک مچھلی مانگی اور اپنا نام بھی بتایا، اس پر بعض لوگوں کو بڑا طیش آیا کہ دیکھو بھیک مناگنے والا اپنے تئیں سلیمان بتاتا ہے انہوں نے آپ کو مارنا پیٹنا شروع کیا آپ زخمی ہو کر کنارے جا کر اپنے زخم کا خون دھونے لگے۔ بعض ماہی گیروں کو رحم آگیا کہ ایک سائل کو خواہ مخواہ مارا۔ جاؤ بھئی اسے دو مچھلیاں دے آؤ بھوکا ہے بھون کھائے گا۔ چناچہ و مچھلیاں آپ کو دے آئے بھوک کی وجہ سے آپ اپنے زخم کو اور خون کو تو بھول گئے اور جلدی سے مچھلی کا پیٹ چاک کرنے بیٹھ گئے۔ قدرت اللہ سے اس کے پیٹ سے وہ انگوٹھی نکلی آپ نے اللہ کی تعریف بیان کی اور انگوٹھی انگلی میں ڈالی اس وقت پرندوں نے آ کر آپ پر سایہ کرلیا اور لوگوں نے آپ کو پہچان لیا اور آپ سے معذرت کرنے لگے آپ نے فرمایا یہ سب امر اللہ تھا اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا۔ آپ آئے اپنے تخت پر بیٹھ گئے اور حکم دیا کہ اس شیطان کو جہاں بھی وہ ہو گرفتار کر لاؤ چناچہ اسے قید کرلیا گیا آپ نے اسے ایک لوہے کے صندوق میں بند کیا اور قفل لگا کر اس پر اپنی مہر لگا دی اور سمندر میں پھنکوا دیا جو قیامت تک وہیں قید رہے گا۔ اس کا نام حقیق تھا۔ آپ کی یہ دعا کہ مجھے ایسا ملک عطا فرمایا جائے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو یہ بھی پوری ہوئی اور آپ کے تابع ہوائیں کردی گئیں۔ مجاہد سے مروی ہے کہ ایک شیطان سے جس کا نام آصف تھا ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ نے پوچھا کہ تم لوگوں کو کس طرح فتنے میں ڈالتے ہو ؟ اس نے کہا ذرا مجھے انگوٹھی دکھاؤ میں ابھی آپ کو دکھا دیتا ہوں آپ نے انگوٹھی دے دی اس نے اسے سمندر میں پھینک دیا تخت و تاج کا مالک بن بیٹھا اور آپ کے لباس میں لوگوں کو راہ اللہ سے ہٹانے لگا۔ " یاد رہے کہ یہ سب واقعات بنی اسرائیل کے بیان کردہ ہیں " اور ان سب سے زیادہ منکر واقعہ وہ ہے۔ جو ابن ابی حاتم میں ہے جس کا اوپر بیان ہوا۔ جس میں آپ کی بیوی صاحبہ حضرت جراوہ کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آخر نبوت یہاں تک پہنچی تھی کہ لڑکے آپ کو پتھر مارتے تھے۔ آپ کی بیویوں سے جب علماء نے معاملہ کی تفتیش کی تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہمیں بھی اس کے سلیمان ہونے سے انکار ہے کیونکہ وہ حالت حیض میں ہمارے پاس آتا ہے۔ شیطان کو جب یہ معلوم ہوگیا کہ راز کھل گیا ہے تو اس نے جادو اور کفر کی کتابیں لکھوا کر کرسی تلے دفن کردیا اور پھر لوگوں کے سامنے انہیں نکلوا کر ان سے کہا دیکھو ان کتابوں کی بدولت سلیمان تم پر حکومت کر رہا تھا چناچہ لوگوں نے آپ کو کافر کہنا شروع کردیا۔ حضرت سلیمان سمندر کے کنارے مزدوری کرتے تھے ایک مرتبہ ایک شخص نے بہت سی مچھلیاں خریدیں مزدور کو بلایا آپ پہنچے اس نے کہا یہ اٹھالو پوچھا مزدوری کیا دو گے ؟ اس نے کہا اس میں سے ایک مچھلی تمہیں دے دوں گا آپ نے ٹوکرا سر پر رکھا اس کے ہاں پہنچایا اس نے ایک مچھلی دے دی آپ نے اس کا پیٹ چاک کیا پیٹ چاک کرتے ہی وہ انگوٹھی نکل پڑی پہنتے ہی کل شیاطین جن انسان پھر تابع ہوگئے اور جھرمٹ باندھ کر حاضر ہوگئے آپ نے ملک پر قبضہ کیا اور اس شیطان کو سخت سزا دی۔ پس ثم اناب سے مراد شیطان جو مسلط کیا گیا تھا اس کا لوٹنا ہے۔ اس کی اسناد حضرت ابن عباس تک ہے۔ ہے تو قوی لیکن یہ ظاہر ہے کہ اسے حضرت ابن عباس نے اہل کتاب سے لیا ہے، یہ بھی اس وقت جبکہ اسے ابن عباس کا قول مان لیں۔ اہل کتاب کی ایک جماعت حضرت سلیمان کو نہیں مانتی تھی تو عجب نہیں کہ یہ بیہودہ قصہ اسی خبیث جماعت کا گھڑا ہوا ہو۔ اس میں تو وہ چیزیں بھی ہیں جو بالکل ہی منکر ہیں خصوصاً اس شیطان کا آپ کی عورتوں کے پاس جانا اور آئمہ نے بھی ایسے ہی قصے بیان تو کئے ہیں لیکن اس بات کا سب نے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ جن ان کے پاس نہیں جاسکا اور نبی کے گھرانے کی عورتوں کی عصمت و شرافت کا تقاضا بھی یہی ہے اور بھی بہت سے لوگوں نے ان واقعات کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن سب کی اصل یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے لئے گئے ہیں۔ واللہ اعلم۔ شیبانی فرماتے ہیں آپ نے اپنی انگوٹھی عسقلان میں پائی تھی اور بیت المقدس تک تواضعاً آپ پیدل چلے تھے۔ امام ابن بی حاتم نے صفت سلیمان میں حضرت کعب احبار سے ایک عجیب خبر روایت کی ہے۔ ابو اسحاق مصری کہتے ہیں کہ جب (اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۽) 89۔ الفجر :7) کے قصے سے حضرت کعب نے فراغت حاصل کی تو حضرت معاویہ نے کہا ابو اسحاق آپ حضرت سلیمان کی کرسی کا ذکر بھی کیجئے فرمایا کہ وہ ہاتھی دانت کی تھی اور یاقوت زبرجد اور لولو سے مرصع تھی اور اس کے چاروں طرف سونے کے کھجور کے درخت بنے ہوئے تھے جن کے خوشے بھی موتیوں کے تھے ان میں سے جو دائیں جانب تھے ان کے سرے پر سونے کے مور تھے اور بائیں طرف والوں پر سونے کے گدھ تھے۔ اس کرسی کے پہلے درجے پر دائیں جانب سونے کے دو درخت صنوبر کے تھے اور بائیں جانب سونے کے دو شیر بن ہوئے تھے۔ ان کے سروں پر زبر جد کے دوستون تھے اور کرسی کے دونوں جانب انگور کی سنہری بیلیں تھیں جو کرسی کو ڈھانپے ہوئے تھیں اس کے خوشے بھی سرخ موتی کے تھے پھر کرسی کے اعلیٰ درجے پر دو شیر بہت بڑے سونے کے بنے ہوئے تھے جن کے اندر خول تھا ان میں مشک و عنبر بھرا رہتا تھا۔ جب حضرت سلیمان کرسی پر آتے تو یہ شیر حرکت کرتے اور ان کے گھومنے سے ان کے اندر سے مشک و عنبر چاروں طرف چھڑک دیا جاتا پھر دو منبر سونے کے بچھا دئے جاتے۔ ایک آپ کے وزیر کا اور ایک اس وقت کے سب سے بڑے عالم کا۔ پھر کرسی کے سامنے ستر منبر سونے کے اور بچھائے جاتے جن پر بنو اسرائیل کے قاضی ان کے علماء اور ان کے سردار بیٹھتے۔ ان کے پیچھے پینتیس منبر سونے کے اور ہوتے تھے جو خالی رہا کرتے تھے۔ حضرت سلیمان جب تشریف لاتے پہلے زینے پر قدم رکھتے ہی کرسی ان تمام چیزوں سمیت گھوم جاتی شیر اپن داہنا قدم آگے بڑھا دیتا اور گدھ اپنا بایاں پر پھیلا دیتا۔ جب دوسرے درجے پر قدم رکھتے تو شیر اپنا بایاں پاؤں پھیلا دیتا اور گدھ اپنا دایاں پر جب آپ تیسرے درجے پر چڑھ جاتے اور کرسی پر بیٹھ جاتے تو ایک بڑا گدھ آپ کا تاج لے کر آپ کے سر پر رکھتا پھر کرسی زور زور سے گھومتی۔ حضرت معاوضہ نے پوچھا آخر اس کی کیا وجہ ؟ فرمایا وہ ایک سونے کی لاٹ پر تھی جسے صخر جن نے بنایا تھا۔ اس کے گھومتے ہی نیچے والے مور گدھ وغیرہ سب اوپر آجاتے اور سر جھکاتے پر پھڑ پھڑاتے جس سے آپ کے جسم پر مشک و عنبر کا چھڑکاؤ ہوجاتا پھر ایک سونے کا کبوتر تورات اٹھا کر آپ کے ہاتھ میں دیتا جسے آپ تلاوت فرماتے۔ لیکن یہ روایت بالکل غریب ہے۔ حضرت سلیمان ؑ کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایسا ملک دے کہ مجھ سے کوئی اور چھین نہ سکے جیسے کہ اس جسم کا واقعہ ہوا جو آپ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ دوسروں کے لئے ایسے ملک کے نہ ملنے کی دعا کرتے ہوں۔ لیکن جن بعض لوگوں نے یہ معنی لئے ہیں وہ کچھ ٹھیک نظر نہیں آتے، بلکہ صحیح مطلب یہی ہے کہ آپ کی دعا کا یہی مطلب تھا کہ مجھے ایسا ملک اور سلطنت دی جائے کہ میرے بعد پھر کسی اور شخص کو ایسی سلطنت نہ ملے۔ یہی آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے اور یہی احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا ایک سرکش جن نے گزشتہ شب مجھ پر زیادتی کی اور میری نماز بگاڑ دینا چاہی لیکن اللہ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے اس ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھو لیکن اسی وقت مجھے میرے بھائی حضرت سلیمان (علیہ الصلوۃ والسلام) کی دعا یاد آگئی۔ راوی حدیث حضرت روح فرماتے ہیں پھر حضور ﷺ نے اسے ذلیل و خوار کر کے چھوڑ دیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نماز میں کھڑے ہوئے تو ہم نے سنا کہ آپ نے فرمایا اعوذ باللہ منک پھر آپ نے تین بار فرمایا العنک بلعنتہ اللہ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا کہ گویا آپ کسی چیز کو لینا چاہتے ہیں۔ جب فارغ ہوئے تو ہم نے آپ سے ان دونوں باتوں کی وجہ پوچھی آپ نے فرمایا اللہ کا دشمن ابلیس آگ لے کر میرے منہ میں ڈالنے کے لئے آیا تو میں نے تین مرتبہ اعوذ پڑھی پھر تین مرتبہ اس پر لعنت بھیجی لیکن وہ پھر بھی نہ ہٹا پھر میں نے چاہا کہ اسے پکڑ کر باندھ دوں تاکہ مدینے کے لڑکے اس سے کھیلیں اگر ہمارے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو میں یہی کرتا۔ حضرت عطا بن یزید لیثی نماز پڑھ رہے تھے جو ابو عبید نے ان کے سامنے سے گذرنا چاہا انہوں نے انہیں اپنے ہاتھ سے روک دیا پھر فرمایا مجھ سے حضرت ابو سعید خدری نے حدیث بیان کی کہ حضور ﷺ صبح کی نماز پڑھا رہے تھے یہ بھی آپ کے پیچھے تھے قرأت آپ پر خلط ملط ہوگئی فارغ ہو کر فرمایا کاش تم دیکھتے کہ میں نے ابلیس کو پکڑ لیا تھا اور اس قدر اس کا گلا گھونٹا کہ اس کے منہ کی جھاگ میری شہادت کی اور بیج کی انگلی پر پڑی اگر میرے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح ہوتے اس مسجد کے ستون سے بندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اسے ستاتے تم سے جہاں تک ہو سکے اس بات کا خیال رکھو کہ نماز کی حالت میں تمہارے سامنے سے کوئی گذرنے نہ پائے (مسند احمد) مسند کی اور حدیث میں ہے ربعیہ بن یزید عبداللہ ویلمی کہتے ہیں میں حضرت عمرو بن عاص ؓ کے پاس طائف کے ایک باغ میں گیا جس کا ام ربط تھا آپ اس وقت ایک قریشی کا محاصرہ کئے ہوئے تھے جو زانی اور شرابی تھا۔ میں نے ان سے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ یہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ جو ایک گھونٹ شراب پئے گا اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہ فرمائے گا اور برا آدمی وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی برا ہوگیا ہے جو شخص صرف نماز ہی کی نیت سے بیت المقدس کی مسجد میں جائے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا۔ وہ شرابی جسے حضرت عبداللہ پکڑے ہوئے تھے وہ شراب کا ذکر سنتے ہی جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا۔ اب حضرت عبداللہ نے فرمایا کسی کو حلال نہیں کہ میرے ذمے وہ بات کرے جو میں نے نہ کی۔ میں نے حضور ﷺ سے یوں سنا ہے جو شخص شراب کا ایک گھونٹ بھی پی لے اس کی چالیس دن کی نماز نامقبول ہے۔ اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ پھر اگر دوبارہ لوٹے تو پھر چالیس دن تک کی نمازیں نامقبول ہیں پھر اگر توبہ کرلے تو توبہ مقبول ہے مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ میں فرمایا کہ پھر اگر لوٹے گا تو یقینا اللہ تعالیٰ اسے جہنمیوں کے بدن کا خون، پیپ، پیشاب وغیرہ قیامت کے دن پلائے گا اور حضور ﷺ سے میں نے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا جس پر وہ نور اس دن پڑگیا وہ تو ہدایت والا ہوگیا اور جس تک وہ نور نہ پہنچا وہ بھٹک گیا۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل چکا اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کی جن میں سے دو تو انہیں مل گئیں اور ہمیں امید ہے کہ تیسری ہمارے لئے ہو (1) مجھے ایسا حکم دے جو تیرے حکم کے موافق ہو (2) مجھے ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لئے لائق نہ ہو۔ تیسری دعا یہ تھی کہ جو شخص اپنے گھر سے اس مسجد کی نماز کے ارادے ہی سے نکلے تو جب وہ لوٹے تو ایسا ہوجائے گویا آج پیدا ہوا پس ہمیں اللہ سے امید ہے کہ یہ ہمارے لئے اللہ نے دی ہو۔ طبرانی میں ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ عزوجل نے حضرت داؤد ؑ کو اپنے لئے ایک گھر بنانے کا حکم دیا حضرت داؤد نے پہلے اپنا گھر بنا لیا اس پر وحی آئی کہ تم نے اپنا گھر میرے گھر سے پہلے بنایا آپ نے عرض کیا پروردگار یہی فیصلہ کیا گیا تھا پھر مسجد بنانی شروع کی دیواریں پوری ہوگئیں تو اتفاقاً تہائی حصہ گرگیا آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جواب ملا کہ تو میرا گھر نہیں بنا سکتا۔ پوچھا کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ تیرے ہاتھوں سے خون بہا ہے۔ عرض کیا اللہ تعالیٰ وہ بھی تیری ہی محبت میں فرمایا ہاں لیکن وہ میرے بندے تھے میں ان پر رحم کرتا ہوں۔ آپ کو یہ کلام سن کر سخت پریشانی ہوئی۔ پھر وحی آئی کہ غمگین نہ ہو میں اسے تیرے لڑکے سلیمان کے ہاتھوں پورا کراؤں گا۔ چناچہ آپ کے انتقال کے بعد حضرت سلیمان نے اسے بنانا شروع کیا جب پورا کرچکے تو بڑی بڑی قربانیاں کیں اور ذبیحہ ذبح کئے اور بنو اسرائیل کو جمع کر کے خوب کھلایا پلایا اللہ کی وحی آئی کہ تو نے یہ سب کچھ میرے حکم کی تعمیل کی خوشی میں کیا ہے تو مجھ سے مانگ جو مانگے گا پائے گا۔ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ میرے تین سوال ہیں مجھے ایسا فیصلہ سمجھا جو تیرے فیصلے کے مطابق ہو اور ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو اور جو اس گھر میں آئے صرف نماز کے ارادے سے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا آزاد ہوجائے جیسے آج پیدا ہوا۔ ان میں سے دو چیزیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرما دیں اور مھے امید ہے کہ تیسری بھی دے دی گئی ہو۔ رسول اللہ ﷺ اپنی ہر دعا کو ان لفظوں سے شروع فرماتے (سبحان اللہ ربی الاعلی العلی الوہاب) (مستند احمد) اور روایت میں ہے کہ حضرت داؤد کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان سے فرمایا مجھ سے اپنی حاجت طلب کرو آپ نے عرض کیا اللہ تعالیٰ مجھے ایسا دل دے جو تجھ سے ڈرتا رہے جیسا کہ میرے والد کا دل تجھ سے خوف کیا کرتا تھا اور میرے دل میں اپنی محبت ڈال دے جیسے کہ میرے والد کے دل میں تیری محبت تھی اس پر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا کہ میرا بندہ میری عین عطا کے وقت بھی مجھ سے ڈرا اور میری محبت طلب کرتا ہے مجھے اپنی قسم میں اسے اتنی بڑی سلطنت دوں گا جو اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی ماتحتی میں ہوائیں کردیں اور جنات کو بھی ان کا ماتحت بنادیا اور اسی قدر ملک و مال پر بھی، انہیں حساب قیامت سے آزاد کردیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے دعا کی کہ باری تعالیٰ سلیمان کے ساتھ بھی اسی لطف و کرم سے پیش آنا جیسا آج لطف و کرم تیرا مجھ پر رہا تو وحی آئی کہ سلیمان سے کہہ دو وہ بھی اسی طرح میرا رہے جس طرح تو میرا تھا، تو میں بھی اس کے ساتھ ہو خوبصورت پیارے وفادار تیز رو گھوڑوں کو کاٹ ڈالا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ان کے عوض ان سے بہتر عطا فرمائے۔ یعنی ہوا کو ان کے تابع فرمان کردیا جو مہینے بھر کی راہ کو صبح کی ایک گھڑی میں طے کردیتی تھی اور اسی طرح شام کو جہاں کا ارادہ کرتے ذرا سی دیر میں پہنچا دیتی۔ جنات کو بھی حضرت سلیمان ؑ کے تابع کردیا ان میں سے بعض بڑی اونچی لمبی سنگین پختہ عمارت کے بنانے کے کام سر انجام دیتے جو انسانی طاقت سے باہر تھا اور بعض غوطہ خور تھے جو سمندر کی تہ میں سے لولو جواہر اور دیگر قسم قسم کی نفیس و نادر چیزیں لا دیتے تھے۔ پھر اور کچھ تھے جو بھاری بھاری بیڑیوں میں جکڑے رہتے تھے۔ یہ یا تو وہ تھے جو حکومت سے سرتابی کرتے تھے یا کام کاج میں شرارت اور کمی کرتے تھے یا لوگوں کو ستاتے اور ایذاء دیتے تھے۔ یہ ہے ہماری مہربانی اور ہماری بخشش اور ہمارا انعام اور ہمارا عطیہ اب تجھے اختیار ہے جس سے جو چاہے سلوک کر سب بےحساب ہے کسی پر پکڑ نہیں۔ جو تیری زبان سے نکلے گا وہ حق ہوگا۔ صحیح حدیث میں ہے جب رسول اللہ ﷺ کو اختیار دیا گیا کہ اگر چاہیں عبد و رسول رہیں یعنی جو حکم کیا جائے بجا لاتے رہیں اللہ کے فرمان کے مطابق تقسیم کرتے رہیں اور اگر چاہیں نبی اور بادشاہ بنا دیئے جائیں جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں اور اس کا کوئی حساب اللہ کے ہاں نہ لیا جائے تو آپ نے حضرت جبرائیل ؑ سے مشورہ لیا اور آپ کے مشورے سے پہلی بات قبول فرمائی کیونکہ فضیلت کے لحاظ سے اولیٰ اور اعلیٰ وہی ہے۔ گو نبوت و سلطنت بھی بڑی چیز ہے۔ اسی لئے حضرت سلیمان کا دنیوی عزو جاہ بیان کرتے ہی فرمایا کہ وہ دار آخرت میں بھی ہمارے پاس بڑے مرتبے اور بہترین بزرگی اور اعلیٰ تر قریب والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ﴾ أَيِ: اخْتَبَرْنَاهُ بِأَنْ سَلَبْنَاهُ الْمُلْكَ مَرَّةً، ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَالْحَسَنُ وَقَتَادَةُ وَغَيْرُهُمْ: يَعْنِي شَيْطَانًا. ﴿ثُمَّ أَنَابَ﴾ أَيْ: [[في ت، س: "ثم".]] رَجَعَ إِلَى مُلْكِهِ وَسُلْطَانِهِ وَأُبَّهَتِهِ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَكَانَ اسْمُ ذَلِكَ الشَّيْطَانِ صَخْرًا. قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَقَتَادَةُ. وَقِيلَ: آصِفُ. قَالَهُ مُجَاهِدٌ وَقِيلَ: آصِرُوا. قَالَهُ مُجَاهِدٌ أَيْضًا. وَقِيلَ: حبقيقُ. قَالَهُ السُّدِّيُّ. وَقَدْ ذَكَرُوا هَذِهِ الْقِصَّةَ مَبْسُوطَةً وَمُخْتَصَرَةً.
وَقَدْ قَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبة عَنْ قَتَادَةَ: قَالَ أَمَرَ سُلَيْمَانُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ بِبِنَاءِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقِيلَ لَهُ: ابْنِهِ وَلَا يُسمَعُ فِيهِ صَوْتُ حَدِيدٍ. فَقَالَ: فَطَلَبَ ذَلِكَ فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهِ. فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ شَيْطَانًا فِي الْبَحْرِ يُقَالُ لَهُ: "صَخْرٌ" شِبْهُ الْمَارِدِ. قَالَ: فَطَلَبَهُ وَكَانَتْ عَيْنٌ فِي الْبَحْرِ يَردهُا فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ مَرَّةً فَنُزِحَ مَاؤُهَا وَجُعِلَ فِيهَا خَمْرٌ، فَجَاءَ يَوْمَ ورْده فَإِذَا هُوَ بِالْخَمْرِ فَقَالَ: إِنَّكِ لَشَرَابٌ طَيِّبٌ إِلَّا أَنَّكِ تُصْبِينَ الْحَلِيمَ، وَتَزِيدِينَ الْجَاهِلَ جَهْلًا. ثُمَّ رَجَعَ حَتَّى عَطِشَ عَطَشًا شَدِيدًا ثُمَّ أَتَاهَا [[في أ: "أتاه".]] فَقَالَ: إِنَّكِ لَشَرَابٌ طَيِّبٌ إِلَّا أَنَّكِ تُصْبِينَ الْحَلِيمَ، وَتَزِيدِينَ الْجَاهِلَ جَهْلًا. ثُمَّ شَرِبَهَا حَتَّى غَلَبَتْ عَلَى عَقْلِهِ، قَالَ: فَأُرِيَ الْخَاتَمَ أَوْ خُتِمَ بِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَذَلَّ. قَالَ: وَكَانَ مُلْكُهُ فِي خَاتَمِهِ فأتي به سليمان فقال: إنه قَدْ أُمِرْنَا بِبِنَاءِ هَذَا الْبَيْتِ وَقِيلَ لَنَا: لَا يُسْمَعَنَّ فِيهِ صَوْتُ حَدِيدٍ. قَالَ: فَأَتَى بِبَيْضِ الْهُدْهُدِ فَجَعَلَ عَلَيْهِ زُجَاجَةً فَجَاءَ الْهُدْهُدُ فَدَارَ حَوْلَهَا، فَجَعَلَ يَرَى بَيْضَهُ وَلَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ فَذَهَبَ فَجَاءَ بِالْمَاسِ فَوَضَعَهُ عَلَيْهِ فَقَطَعَهَا بِهِ حَتَّى أَفْضَى إِلَى بَيْضِهِ. فَأَخَذَ الْمَاسَ فَجَعَلُوا يَقْطَعُونَ بِهِ الْحِجَارَةَ. وَكَانَ سُلَيْمَانُ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ الْخَلَاءَ -أَوِ: الْحَمَّامَ-لَمْ يَدْخُلْ بِخَاتَمِهِ فَانْطَلَقَ يَوْمًا إِلَى الْحَمَّامِ وَذَلِكَ الشَّيْطَانُ صَخْرٌ مَعَهُ، وَذَلِكَ عِنْدَ مُقَارَفَةٍ قَارَفَ فِيهِ [[في ت: "فيها".]] بَعْضَ نِسَائِهِ. قَالَ: فَدَخَلَ الْحَمَّامَ وَأَعْطَى الشَّيْطَانَ خَاتَمَهُ فَأَلْقَاهُ فِي الْبَحْرِ فَالْتَقَمَتْهُ سَمَكَةٌ، وَنُزِعَ مُلك سُلَيْمَانَ مِنْهُ وَأُلْقِيَ عَلَى الشَّيْطَانِ شَبَه سُلَيْمَانَ. قَالَ: فَجَاءَ فَقَعَدَ عَلَى كُرْسِيِّهِ وَسَرِيرِهِ وسُلِّط عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ كُلِّهِ غَيْرَ نِسَائِهِ. قَالَ: فَجَعَلَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ، وَجَعَلُوا يُنْكِرُونَ مِنْهُ أَشْيَاءَ حَتَّى قَالُوا: لَقَدْ فُتِنَ نَبِيُّ اللَّهِ. وَكَانَ فِيهِمْ رَجُلٌ يُشَبِّهُونَهُ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي الْقُوَّةِ فَقَالَ: وَاللَّهُ لَأُجَرِّبَنَّهُ. قَالَ: فَقَالَ: يَا نَبِيَّ [[في أ: "أنبي".]] اللَّهِ -وَهُوَ لَا يَرَى إِلَّا أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ-أَحَدُنَا تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ فِي اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ فَيَدَعُ الْغُسْلَ عَمْدًا حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَتُرَى [[في ت: "ترى".]] عَلَيْهِ بَأْسًا؟ فَقَالَ: [[في ت، س: "قال".]] لَا. قَالَ: فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً حَتَّى وَجَدَ نَبِيُّ اللَّهِ خَاتَمَهُ فِي بَطْنِ سَمَكَةٍ فَأَقْبَلَ فَجَعَلَ لَا يَسْتَقْبِلُهُ جِنِّيٌّ وَلَا طَيْرٌ إِلَّا سَجَدَ لَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ، ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ: هُوَ الشَّيْطَانُ صَخْرٌ [[تفسير الطبري (٢٣/١٠١) .]]
وَقَالَ السُّدِّيُّ: ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ﴾ أَيِ: ابْتَلَيْنَا سُلَيْمَانَ، ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ: جَلَسَ الشَّيْطَانُ عَلَى كُرْسِيِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا. قَالَ: وَكَانَ لِسُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِائَةُ امْرَأَةٍ وَكَانَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ يُقَالُ لَهَا: "جَرَادَةُ"، وَهِيَ آثَرُ نِسَائِهِ وَآمَنُهُنَّ عِنْدَهُ وَكَانَ إِذَا أَجْنَبَ أَوْ أَتَى حَاجَةً [[في أ: "حاجته".]] نَزَعَ خَاتَمَهُ وَلَمْ يَأْتَمِنْ [[في ت: "يأمن".]] عَلَيْهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ غَيْرَهَا فَأَعْطَاهَا يَوْمًا خَاتَمَهُ وَدَخَلَ الْخَلَاءَ فَخَرَجَ الشَّيْطَانُ فِي صُورَتِهِ فَقَالَ: هَاتِي الْخَاتَمَ. فَأَعْطَتْهُ فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى مَجْلِسِ سُلَيْمَانَ وَخَرَجَ سُلَيْمَانُ بَعْدَ ذَلِكَ فَسَأَلَهَا أَنْ تُعْطِيَهِ خَاتَمَهُ، فَقَالَتْ: أَلَمْ تَأْخُذْهُ قَبْلُ؟ قَالَ: لَا. وَخَرَجَ مَكَانَهُ تَائِهًا. قَالَ: وَمَكَثَ الشَّيْطَانُ يُحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، قَالَ: فَأَنْكَرَ النَّاسُ أَحْكَامَهُ فَاجْتَمَعَ قُرَّاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَعُلَمَاؤُهُمْ فَجَاءُوا حَتَّى دَخَلُوا عَلَى نِسَائِهِ فَقَالُوا: إِنَّا قَدْ أَنْكَرْنَا هَذَا فَإِنْ كَانَ سُلَيْمَانَ فَقَدْ ذَهَبَ عَقْلُهُ وَأَنْكَرْنَا أَحْكَامَهُ. قَالَ: فَبَكَى النِّسَاءُ عِنْدَ ذَلِكَ قَالَ: فَأَقْبَلُوا يَمْشُونَ حَتَّى أَتَوْا [[في أ: "أتوه".]] فَأَحْدَقُوا بِهِ ثُمَّ نَشَرُوا التَّوْرَاةَ فَقَرَءُوا. قَالَ: فَطَارَ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ حَتَّى وَقَعَ عَلَى شُرْفَةٍ وَالْخَاتَمُ مَعَهُ. ثُمَّ طَارَ حَتَّى ذَهَبَ إِلَى الْبَحْرِ فَوَقَعَ الْخَاتَمُ مِنْهُ فِي الْبَحْرِ فَابْتَلَعَهُ حُوتٌ مِنْ حِيتَانِ الْبَحْرِ. قَالَ: وَأَقْبَلَ سُلَيْمَانُ فِي حَالِهِ الَّتِي كَانَ فِيهَا حَتَّى انْتَهَى إِلَى صَيَّادٍ مِنْ صَيَّادِي [[في ت، س، أ: "صيادين".]] الْبَحْرِ وَهُوَ جَائِعٌ وَقَدِ اشْتَدَّ جُوعُهُ. فَاسْتَطْعَمَهُمْ مِنْ صَيْدِهِمْ وَقَالَ: إِنِّي أَنَا سُلَيْمَانُ. فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُهُمْ فَضَرَبَهُ بِعَصًا فَشَجَّهُ فَجَعَلَ يَغْسِلُ دَمَهُ وَهُوَ عَلَى شَاطِئِ الْبَحْرِ فَلَامَ الصَّيَّادُونَ صَاحِبَهُمُ الَّذِي ضَرَبَهُ فَقَالُوا بِئْسَ مَا صَنَعْتَ حيث ضربته. قال: إنه زَعَمَ أَنَّهُ سُلَيْمَانُ. قَالَ: فَأَعْطَوْهُ سَمَكَتَيْنِ مِمَّا قَدْ مَذِرَ عِنْدَهُمْ فَلَمْ يَشْغَلْهُ مَا كَانَ بِهِ مِنَ الضَّرْبِ حَتَّى قَامَ إِلَى شَطِّ الْبَحْرِ فَشَقَّ بُطُونَهُمَا فَجَعَلَ يَغْسِلُ [دَمَهُ] [[زيادة من أ.]] فَوَجَدَ خَاتَمَهُ فِي بَطْنِ إِحْدَاهُمَا فَأَخَذَهُ فَلَبِسَهُ فَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ بَهَاءَهُ وَمُلْكَهُ، وَجَاءَتِ الطَّيْرُ حَتَّى حَامَتْ عَلَيْهِ فَعَرَفَ الْقَوْمُ أَنَّهُ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَامَ الْقَوْمُ يَعْتَذِرُونَ مِمَّا صَنَعُوا [بِهِ] [[زيادة من أ.]] فَقَالَ: مَا أَحْمَدُكُمْ عَلَى عُذْرِكُمْ وَلَا أَلُومُكُمْ عَلَى مَا كَانَ مِنْكُمْ، كَانَ هَذَا الْأَمْرُ لَا بُدَّ مِنْهُ. قَالَ: فَجَاءَ حَتَّى أَتَى مُلْكَهُ وَأَرْسَلَ إِلَى الشَّيْطَانِ فَجِيءَ بِهِ فَأَمَرَ بِهِ فَجُعِلَ فِي صُنْدُوقٍ مِنْ حَدِيدٍ، ثُمَّ أَطْبَقَ عَلَيْهِ وَقَفَلَ عَلَيْهِ بِقُفْلٍ وَخَتَمَ عَلَيْهِ بِخَاتَمِهِ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَأُلْقِي فِي الْبَحْرِ فَهُوَ فِيهِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ. وَكَانَ اسْمُهُ حبقيقُ قَالَ: وَسَخَّرَ [[في ت، أ: "وسخرت".]] لَهُ الرِّيحَ وَلَمْ تَكُنْ سُخِّرَتْ لَهُ قَبْلَ ذَلِكَ وَهُوَ قَوْلُهُ: ﴿وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لأحَدٍ مِنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ [[تفسير الطبري (٢٣/١٠١) .]]
وَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَوْلُهُ: ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ: شَيْطَانًا يُقَالُ لَهُ: آصِفُ. فَقَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ: كَيْفَ تَفْتِنُونَ النَّاسَ؟ قَالَ: أَرِنِي خَاتَمَكَ أُخْبِرْكَ. فَلَمَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ نَبَذَهُ آصِفُ فِي الْبَحْرِ فَسَاحَ سُلَيْمَانُ وَذَهَبَ مُلْكُهُ، وَقَعَدَ آصِفُ عَلَى كُرْسِيِّهِ وَمَنَعَهُ اللَّهُ نِسَاءَ سُلَيْمَانَ فَلَمْ يَقْرَبْهُنَّ -وَلَمْ يَقْرَبْنَهُ وَأَنْكَرْنَهُ. قَالَ: فَكَانَ سُلَيْمَانُ يَسْتَطْعِمُ فَيَقُولُ: أَتَعْرِفُونِي؟ أَطْعِمُونِي أَنَا سُلَيْمَانُ فَيُكَذِّبُونَهُ، حَتَّى أَعْطَتْهُ امْرَأَةٌ يَوْمًا حُوتًا فَجَعَلَ يُطَيِّبُ بَطْنَهُ، فَوَجَدَ خَاتَمَهُ فِي بَطْنِهِ فَرَجَعَ إِلَيْهِ مُلْكُهُ وَفَرَّ آصِفُ فَدَخَلَ الْبَحْرَ فَارًّا.
وَهَذِهِ كُلُّهَا مِنَ الْإِسْرَائِيلِيَّاتِ وَمِنْ أَنْكَرِهَا مَا قَالَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ:
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشِ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ﴾ قَالَ: أَرَادَ سُلَيْمَانُ أَنْ يَدْخُلَ الْخَلَاءَ فَأَعْطَى الْجَرَادَةَ خَاتَمَهُ -وَكَانَتِ الْجَرَادَةُ [[في ت: "جرادة".]] امْرَأَتَهُ وَكَانَتْ أَحَبَّ نِسَائِهِ إِلَيْهِ-فَجَاءَ الشَّيْطَانُ فِي صُورَةِ سُلَيْمَانَ فَقَالَ لَهَا: هَاتِي خَاتَمِي. فَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ. فَلَمَّا لَبِسَهُ دَانَتْ لَهُ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ [[في أ: "والجن والطير".]] وَالشَّيَاطِينُ فَلَمَّا خَرَجَ سُلَيْمَانُ مِنَ الْخَلَاءِ قَالَ لَهَا: هَاتِي خَاتَمِي. قَالَتْ: قَدْ أَعْطَيْتُهُ سُلَيْمَانَ. قَالَ: أَنَا سُلَيْمَانُ. قَالَتْ: كَذَبْتَ لَسْتَ سُلَيْمَانَ [[في ت: "بسليمان".]] فَجَعَلَ لَا يَأْتِي أَحَدًا يَقُولُ لَهُ: "أَنَا سُلَيْمَانُ"، إِلَّا كَذَّبَهُ حَتَّى جَعَلَ [[في أ: "جاء".]] الصِّبْيَانُ يَرْمُونَهُ بِالْحِجَارَةِ. فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَرَف أَنَّهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ: وَقَامَ الشَّيْطَانُ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ فَلَمَّا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَى سُلَيْمَانَ سُلْطَانَهُ أَلْقَى فِي قُلُوبِ النَّاسِ إِنْكَارَ ذَلِكَ الشَّيْطَانِ. قَالَ: فَأَرْسَلُوا إِلَى نِسَاءِ سُلَيْمَانَ فَقَالُوا لَهُنَّ: أَتُنْكِرْنَ مِنْ سُلَيْمَانَ شَيْئًا؟ قُلْنَ: نَعَمْ إِنَّهُ يَأْتِينَا وَنَحْنُ حُيَّضٌ وَمَا كَانَ يَأْتِينَا قَبْلَ ذَلِكَ. فَلَمَّا رَأَى الشَّيْطَانُ أَنَّهُ قَدْ فَطِنَ لَهُ [[في ت: "أنه فطن له".]] ظَنَّ أَنَّ أَمْرَهُ قَدِ انْقَطَعَ فَكَتَبُوا كُتُبًا فِيهَا سِحْرٌ وَكُفْرٌ، فَدَفَنُوهَا تَحْتَ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ ثُمَّ أَثَارُوهَا وقرءوها على الناس. وقالوا: بِهَذَا كَانَ يَظْهَرُ سُلَيْمَانُ عَلَى النَّاسِ [وَيَغْلِبُهُمْ] [[زيادة من أ.]] فَأَكْفَرَ النَّاسُ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَلَمْ يَزَالُوا يُكَفِّرُونَهُ وَبَعَثَ ذَلِكَ الشيطانُ بِالْخَاتَمِ فَطَرَحَهُ فِي الْبَحْرِ فَتَلَقَّتْهُ سَمَكَةٌ فَأَخَذَتْهُ. وَكَانَ سُلَيْمَانُ يَحْمِلُ عَلَى شَطِّ الْبَحْرِ بِالْأَجْرِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَاشْتَرَى سَمَكًا فِيهِ تِلْكَ السَّمَكَةُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا الْخَاتَمُ فَدَعَا سُلَيْمَانُ فَقَالَ: تَحْمِلُ لِي هَذَا السَّمَكَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ. قَالَ: بِكَمْ؟ قَالَ بِسَمَكَةٍ مِنْ هَذَا السَّمَكِ. قَالَ: فَحَمَلَ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلَامُ السَّمَكَ ثُمَّ انْطَلَقَ بِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ فَلَمَّا انْتَهَى الرَّجُلُ إِلَى بَابِهِ أَعْطَاهُ تِلْكَ السَّمَكَةَ الَّتِي فِي بَطْنِهَا الْخَاتَمُ فَأَخَذَهَا سُلَيْمَانُ فَشَقَّ بَطْنَهَا، فَإِذَا الْخَاتَمُ فِي جَوْفِهَا فَأَخَذَهُ فَلَبِسَهُ. قَالَ: فَلَمَّا لَبِسَهُ دَانَتْ لَهُ الْجِنُّ وَالْإِنْسُ وَالشَّيَاطِينُ وَعَادَ إِلَى حَالِهِ وَهَرب الشَّيْطَانُ حَتَّى دَخَلَ جَزِيرَةً [[في ت: "لحق بجزيرة".]] مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ فَأَرْسَلَ سُلَيْمَانُ فِي طَلَبِهِ وَكَانَ شَيْطَانًا مَرِيدًا فَجَعَلُوا يَطْلُبُونَهُ وَلَا يَقْدِرُونَ عَلَيْهِ حَتَّى وَجَدُوهُ يَوْمًا نَائِمًا فَجَاءُوا فَبَنَوْا عَلَيْهِ بُنْيَانًا مِنْ رَصَاصٍ فَاسْتَيْقَظَ فَوَثَبَ فَجَعَلَ لَا يَثِبُ فِي مَكَانٍ من البيت إلا أنماط معه من الرَّصَاصُ قَالَ: فَأَخَذُوهُ فَأَوْثَقُوهُ وَجَاءُوا بِهِ إِلَى سُلَيْمَانَ، فَأَمَرَ بِهِ فَنُقِرَ [[في ت: "فثقب".]] لَهُ تَخْتٌ مِنْ رُخَامٍ ثُمَّ أُدْخِلَ فِي جَوْفِهِ ثُمَّ سُدَّ بِالنُّحَاسِ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَطُرِحَ فِي الْبَحْرِ فَذَلِكَ قَوْلُهُ: ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ﴾ قَالَ: يَعْنِي الشَّيْطَانَ الَّذِي كَانَ سُلِّطَ عَلَيْهِ.
إِسْنَادُهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَوِيٌّ وَلَكِنَّ الظَّاهِرَ أَنَّهُ إِنَّمَا تَلَقَّاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ -إِنْ صَحَّ عَنْهُ-مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَفِيهِمْ طَائِفَةٌ لَا يَعْتَقِدُونَ نُبُوَّةَ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَالظَّاهِرُ أَنَّهُمْ يَكْذِبُونَ عَلَيْهِ وَلِهَذَا كَانَ فِي السِّيَاقِ مُنْكَرَاتٌ مِنْ أَشَدِّهَا ذِكْرُ النِّسَاءِ فَإِنَّ الْمَشْهُورَ أَنَّ [[في أ: "فإن المشهور عن مجاهد وغير واحد من السلف أن".]] ذَلِكَ الْجِنِّيَّ لَمْ يُسَلَّطْ عَلَى نِسَاءِ سُلَيْمَانَ بَلْ عَصَمَهُنَّ اللَّهُ مِنْهُ تَشْرِيفًا وَتَكْرِيمًا لِنَبِيِّهِ ﷺ، وَقَدْ رُوِيَتْ هَذِهِ الْقِصَّةُ مُطَوَّلَةً عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ السَّلَفِ، كَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَجَمَاعَةٍ آخَرِينَ وَكُلُّهَا متُلقًّاة مِنْ قَصَصِ أَهْلِ الْكِتَابِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ.
وَقَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ: وَجَدَ سُلَيْمَانُ خَاتَمَهُ فِي عَسْقَلَانَ، فَمَشَى فِي خِرْقَةٍ [[في أ: "بحرقة".]] إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ تَوَاضُعًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَقَدْ رَوَى ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ فِي صِفَةِ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ خَبَرًا عَجِيبًا فَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاقَ الْمِصْرِيُّ عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ؛ أَنَّهُ لَمَّا فَرَغَ مِنْ حَدِيثِ "إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ" قَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ أَخْبِرْنِي عَنْ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ وَمَا كَانَ عَلَيْهِ؛ وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ هُوَ؟ فَقَالَ: كَانَ كُرْسِيُّ سُلَيْمَانَ مِنْ أَنْيَابِ الْفِيَلَةِ مُفَصّصاً بِالدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ وَالزَّبَرْجَدِ وَاللُّؤْلُؤِ. وَقَدْ جُعل لَهُ دَرَجَةً مِنْهَا مُفَصّصة بِالدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ وَالزَّبَرْجَدِ ثُمَّ أَمَرَ بِالْكُرْسِيِّ فحُفّ مِنْ جَانِبَيْهِ بِالنَّخْلِ، نَخْلٌ مِنْ ذَهَبٍ شَمَارِيخُهَا مِنْ يَاقُوتٍ وَزَبَرْجَدٍ وَلُؤْلُؤٍ. وَجُعِلَ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ الَّتِي عَنْ يَمِينِ الْكُرْسِيِّ طَوَاوِيسُ مَنْ ذَهَبٍ، ثُمَّ جُعِلَ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ الَّتِي عَلَى يَسَارِ الْكُرْسِيِّ نُسُورٌ مَنْ ذَهَبٍ مُقَابَلَةَ الطَّوَاوِيسِ، وَجُعِلَ على يمين الدرجة الأولى شَجَرَتَا صَنَوْبَرٍ مَنْ ذَهَبٍ، وَعَنْ يَسَارِهَا أَسَدَانِ مَنْ ذَهَبٍ وَعَلَى رُءُوسِ الْأَسَدَيْنِ عَمُودَانِ مِنْ زَبَرْجَدٍ وَجُعِلَ مِنْ جَانِبَيِ الْكُرْسِيِّ شَجَرَتَا كَرْمٍ مَنْ ذَهَبٍ قَدْ أَظَلَّتَا الْكُرْسِيَّ وَجُعِلَ عَنَاقِيدُهُمَا دُرًّا وَيَاقُوتًا أَحْمَرَ. ثُمَّ جُعل فَوْقَ دَرَج الْكُرْسِيِّ أسَدَان عَظِيمَانِ مِنْ ذَهَبٍ مُجَوَّفَانِ مَحْشُوَّانِ مِسْكًا وَعَنْبَرًا. فَإِذَا أَرَادَ سُلَيْمَانُ أَنْ يَصْعَدَ عَلَى كُرْسِيِّهِ اسْتَدَارَ الْأَسَدَانِ سَاعَةً ثُمَّ يَقَعَانِ [[في ت: "يقفان".]] فَيَنْضَحَانِ مَا فِي أَجْوَافِهِمَا مِنَ الْمِسْكِ وَالْعَنْبَرِ حَوْلَ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، ثُمَّ يُوضَعُ مِنْبَرَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَاحِدٌ لِخَلِيفَتِهِ وَالْآخِرُ لِرَئِيسِ أَحْبَارِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ذَلِكَ الزَّمَانِ. ثُمَّ يُوضَعُ أَمَامَ كُرْسِيِّهِ سَبْعُونَ مِنْبَرًا مِنْ ذَهَبٍ يَقْعُدُ عَلَيْهَا سَبْعُونَ قَاضِيًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَعُلَمَائِهِمْ وَأَهْلِ الشَّرَفِ مِنْهُمْ وَالطَوْلِ وَمِنْ خَلْفِ تِلْكَ الْمَنَابِرِ كُلِّهَا خَمْسَةٌ وَثَلَاثُونَ مِنْبَرًا مِنْ ذَهَبٍ لَيْسَ عَلَيْهَا أَحَدٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَصْعَدَ عَلَى كُرْسِيِّهِ وَضَعَ قَدَمَيْهِ عَلَى الدَّرَجَةِ السُّفْلَى فَاسْتَدَارَ الْكُرْسِيُّ كُلُّهُ بِمَا فِيهِ وَمَا عَلَيْهِ، وَيَبْسُطُ الْأَسَدُ يَدَهُ الْيُمْنَى وَيَنْشُرُ النَّسْرُ جَنَاحَهُ الْأَيْسَرَ ثُمَّ يَصْعَدُ [سُلَيْمَانُ] [[زيادة من ت، أ.]] عَلَى الدَّرَجَةِ الثَّانِيَةِ فَيَبْسُطُ الْأَسَدُ يَدَهُ الْيُسْرَى وَيَنْشُرُ النَّسْرُ جَنَاحَهُ الْأَيْمَنَ فَإِذَا اسْتَوَى سُلَيْمَانُ عَلَى الدَّرَجَةِ الثَّالِثَةِ وَقَعَدَ عَلَى الْكُرْسِيِّ أَخَذَ نَسْرٌ مِنْ تِلْكَ النُّسُورِ عَظِيمٌ تَاجَ سُلَيْمَانَ فَوَضَعَهُ عَلَى رَأْسِهِ فَإِذَا وَضَعَهُ عَلَى رَأْسِهِ اسْتَدَارَ الْكُرْسِيُّ بِمَا فِيهِ كَمَا تَدُورُ الرَّحَى الْمُسْرِعَةُ. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَمَا الَّذِي يُدِيرُهُ يَا أَبَا إِسْحَاقَ؟ قَالَ: تِنِّينٌ مِنْ ذَهَبِ ذَلِكَ الْكُرْسِيِّ عَلَيْهِ وَهُوَ عَظِيمٌ مِمَّا عَمِلَهُ صَخْرٌ الْجِنِّيُّ فَإِذَا أَحَسَّتْ بِدَوَرَانِهِ تِلْكَ النُّسُورُ والأسْدُ وَالطَّوَاوِيسُ الَّتِي فِي أَسْفَلِ الْكُرْسِيِّ دُرْنَ إِلَى أَعْلَاهُ فَإِذَا وَقَفَ وَقَفْنَ كُلُّهُنَّ مُنَكِّسَاتٍ رُءُوسَهُنَّ عَلَى رَأْسِ سُلَيْمَانَ [ابْنِ دَاوُدَ] [[زيادة من أ.]] عَلَيْهِ [[في أ: "عليهما".]] السَّلَامُ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ يَنْضَحْنَ جَمِيعًا مَا فِي أَجْوَافِهِنَّ مِنَ الْمِسْكِ وَالْعَنْبَرِ عَلَى رَأْسِ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ. ثُمَّ تَتَنَاوَلُ حَمَامَةٌ مَنْ ذَهَبٍ وَاقِفَةٌ عَلَى عَمُودٍ مِنْ جَوْهَرٍ التوراةَ فَتَجْعَلُهَا فِي يَدِهِ فَيَقْرَؤُهَا سُلَيْمَانُ عَلَى النَّاسِ.
وَذَكَرَ تَمَامَ الْخَبَرِ [[في ت: "الحديث".]] وَهُوَ غَرِيبٌ جِدًّا.
﴿قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لأحَدٍ مِنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ قَالَ بَعْضُهُمْ: مَعْنَاهُ: لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي أَيْ: لَا يَصْلُحُ لِأَحَدٍ أَنْ يَسْلُبَنِيهِ كَمَا كَانَ مِنْ قَضِيَّةِ [[في ت: "في قصة"، وفي أ: "من قصة".]] الْجَسَدِ الَّذِي أُلْقِيَ عَلَى كُرْسِيِّهِ لَا أَنَّهُ يَحْجُرُ عَلَى مَنْ بَعْدَهُ مِنَ النَّاسِ. وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ سَأَلَ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى مُلْكًا لَا يَكُونُ لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ مِنَ الْبَشَرِ مِثْلُهُ، وَهَذَا هُوَ ظَاهِرُ السِّيَاقِ مِنَ الْآيَةِ وَبِهِ [[في ت، س، أ: "وبذلك".]] وَرَدَتِ الْأَحَادِيثُ الصَّحِيحَةُ مِنْ طُرُقٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ.
قَالَ [[في ت: "فروى".]] الْبُخَارِيُّ عِنْدَ تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا رَوْحٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّت عَلَيَّ الْبَارِحَةَ -أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا-لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصبحوا وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ: ﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لأحَدٍ مِنْ بَعْدِي﴾
قَالَ رَوْحٌ: فَرَدَّهُ خَاسِئًا [[صحيح البخاري برقم (٤٨٠٨) .]]
وَكَذَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ بِهِ [[صحيح مسلم برقم (٥٤١) والنسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٤٠) .]]
وَقَالَ مُسْلِمٌ فِي صَحِيحِهِ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ المُرَادي حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ حَدَّثَنِي رَبِيعَةَ بْنِ يَزيد عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي فَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ: "أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ". ثُمَّ قَالَ: "أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ" -ثَلَاثًا-وَبَسَطَ يَدَه كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُهُ قَبْلَ ذَلِكَ وَرَأَيْنَاكَ بَسَطَتْ يَدَكَ؟ قَالَ: "إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ -ثَلَاثَ مَرَّاتٍ-ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ التَّامَّةِ. فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أخْذَه وَاللَّهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا يَلْعَبُ بِهِ صِبْيَانُ [[في ت، س، أ: "ولدان".]] أَهْلِ الْمَدِينَةِ" [[صحيح مسلم برقم (٥٤٢) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ حَاجِبُ سُلَيْمَانَ قَالَ: رَأَيْتُ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ قَائِمًا يُصَلِّي، فَذَهَبْتُ أَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَرَدَّنِي ثُمَّ قَالَ [[في ت: "بإسناده".]] حَدَّثَنِي [[في ت: "عن".]] أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَامَ يُصَلِّي [[في ت: "فصلى".]] صَلَاةَ الصُّبْحِ وَهُوَ خَلْفُهُ فَقَرَأَ فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صِلَاتِهِ قَالَ: "لَوْ رَأَيْتُمُونِي وَإِبْلِيسَ فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي فَمَا زِلْتُ أَخْنُقُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ لُعَابِهِ بَيْنَ أُصْبُعَيَّ هَاتَيْنِ -الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا-وَلَوْلَا دَعْوَةُ أَخِي سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ [[في ت: "أصبح".]] مَرْبُوطًا بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، يَتَلَاعَبُ بِهِ صِبْيَانُ الْمَدِينَةِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَلَّا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ أَحَدٌ فَلْيَفْعَلْ".
وَقَدْ رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ: "مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَلَّا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ أَحَدٌ فَلْيَفْعَلْ" عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيج عَنْ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيِّ بِهِ [[المسند (٣/٨٣) وسنن أبي داود برقم (٦٩٩) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَهُوَ فِي حَائِطٍ لَهُ بِالطَّائِفِ يُقَالُ لَهُ: "الْوَهْطُ"، وَهُوَ مُخَاصر فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ يُزَنّ بشُرْب الْخَمْرِ، فَقُلْتُ: بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثٌ أَنَّهُ "مِنْ شَرِبِ شَرْبَةَ خَمْر لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ -عَزَّ وَجَلَّ-لَهُ تَوبَةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، وَإِنَّ الشَّقِيَّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَإِنَّهُ مَنْ أَتَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ لا يَنْهَزه إلا الصلاة فيه، خرج مِنْ خَطِيئَتِهِ مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، فَلَمَّا سَمِعَ الْفَتَى ذَكْرَ الْخَمْرِ اجْتَذَبَ يَدَهُ مِنْ يَدِهِ ثُمَّ انْطَلَقَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو [[في أ: "عمرو رضي الله عنهما".]] إِنِّي لَا أُحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ عَلَيّ مَا لَمْ أَقُلْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "مَنْ شَرِبَ مِنَ الْخَمْرِ شَرْبَةً لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ [[في أ: "وإن".]] عَادَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ. فَإِنْ عَادَ -قَالَ فَلَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ-فَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ رَدْغَة الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" قَالَ: وَسَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ ثُمَّ أَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ نُورِهِ يَوْمَئِذٍ اهْتَدَى وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ فَلِذَلِكَ [[في أ: "ولذلك".]] أَقُولُ جَفَّ الْقَلَمُ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" وَسَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "إِنَّ سُلَيْمَانَ سَأَلَ اللَّهَ تَعَالَى ثَلَاثًا فَأَعْطَاهُ اثْنَتَيْنِ وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ تَكُونَ لَنَا الثَّالِثَةُ: سَأَلَهُ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَسَأَلَهُ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَسَأَلَهُ أَيُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ مَنْ بَيْتِهِ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ [[في ت، س، أ: "مثل يوم".]] وَلَدَتْهُ أُمُّهُ فَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللَّهُ تَعَالَى [[في ت، س، أ: "عز وجل".]] قَدْ أَعْطَانَا إِيَّاهَا" [[المسند (٢/١٧٦) .]]
وَقَدْ رَوَى هَذَا الْفَصْلَ الْأَخِيرَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ مِنْ طُرُقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَيْرُوزَ الدَّيْلِمِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ سُلَيْمَانَ لَمَّا بَنَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ سَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خِلَالًا ثَلَاثًا ... " وَذَكَرَهُ [[سنن النسائي (٢/٤٣) وسنن ابن ماجة برقم (١٤٠٨) .]]
وَقَدْ رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ رَافِعِ بْنِ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، بِإِسْنَادٍ وَسِيَاقٍ غَرِيبَيْنِ فَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبة الْعَسْقَلَانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ سُوَيْد حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَة عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ [[في ت: "وروى الطبراني بإسناده".]] عَنْ رَافِعِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِدَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ابْنِ لِي بَيْتًا فِي الْأَرْضِ. فَبَنَى دَاوُدُ [[في ت: "داود عليه السلام".]] بَيْتًا لِنَفْسِهِ قَبْلَ الْبَيْتِ الَّذِي أُمِرَ بِهِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: يَا دَاوُدُ نَصَبْتَ بَيْتَكَ قَبْلَ بَيْتِي؟ قَالَ: يَا رَبِّ هَكَذَا قَضَيْتَ [[في ت، س، أ: "هكذا قلت فيما قضيت".]] مَنْ مَلَكَ اسْتَأْثَرَ ثُمَّ أَخَذَ فِي بِنَاءِ الْمَسْجِدِ فَلَمَّا تَمَّ السُّورَ سَقَطَ ثَلَاثًا فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ: يَا دَاوُدُ [[في ت، أ: "فأوحى الله إليه"]] إِنَّكَ لَا تَصْلُحُ أَنْ تَبْنِيَ لِي بَيْتًا قَالَ: وَلِمَ يَا رَبِّ؟ قَالَ: لِمَا جَرَى عَلَى يَدَيْكَ مِنَ الدِّمَاءِ. قَالَ: يَا رَبِّ أَوْ مَا كَانَ [[في ت، س، أ: "أو لم يكن".]] ذَلِكَ فِي هَوَاكَ وَمَحَبَّتِكَ؟ قَالَ: بَلَى وَلَكِنَّهُمْ عِبَادِي وَأَنَا أَرْحَمُهُمْ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: لَا تَحْزَنْ فَإِنِّي سَأَقْضِي بِنَاءَهُ عَلَى يَدَيِ ابْنِكَ سُلَيْمَانَ. فَلَمَّا مَاتَ دَاوُدُ أَخْذَ سُلَيْمَانُ فِي بِنَائِهِ فَلَمَّا تَمَّ قَرَّبَ الْقَرَابِينَ وَذَبَحَ الذَّبَائِحَ وَجَمَعَ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: قَدْ أَرَى سرورَك بِبُنْيَانِ بَيْتِي فَسَلْنِي أُعْطِكَ. قَالَ: أَسْأَلُكَ ثَلَاثَ خِصَالٍ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَكَ وَمُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي وَمَنْ أَتَى هَذَا الْبَيْتَ لَا يُرِيدُ إلا الصلاة فيه خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أما ثِنْتَانِ فَقَدْ أُعْطِيَهُمَا وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أُعْطِيَ الثَّالِثَةَ" [[المعجم الكبير (٥/٢٤) قال الهيثمي في المجمع (٤/٨) : "فيه محمد بن أيوب بن سويد الرملي وهو متهم بالوضع".]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عُمَر بْنُ رَاشِدٍ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ دَعَا دُعَاءً إِلَّا اسْتَفْتَحَهُ بِـ "سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّي الْأَعْلَى الْعَلِيِّ الْوَهَّابِ" [[المسند (٤/٥٤) قال الهيثمي في المجمع (١٠/١٥٦) : "فيه عمر بن راشد اليمامي وثقه غير واحد، وبقية رجاله رجال الصحيح".]]
وَقَدْ قَالَ [[في ت: "وروى".]] أَبُو عَبِيدٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بَرْقان عَنْ صَالِحِ بْنِ مِسْمَارٍ قَالَ: لَمَّا مَاتَ نَبِيُّ اللَّهِ دَاوُدُ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى ابْنِهِ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِمَا [[في ت، أ: "عليه".]] السَّلَامُ: أَنْ سَلْنِي حَاجَتَكَ. قَالَ: أَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ لِي قَلْبًا يَخْشَاكَ كَمَا كَانَ قَلْبُ أَبِي وَأَنْ تَجْعَلَ قَلْبِي يُحِبُّكَ كَمَا كَانَ قَلْبُ أَبِي. فَقَالَ اللَّهُ: أَرْسَلْتُ إِلَى عَبْدِي وَسَأَلَتْهُ [[في ت، س: "أسأله".]] حَاجَتَهُ فَكَانَتْ [حَاجَتُهُ] [[زيادة من ت، س.]] أَنْ أَجْعَلَ قَلْبَهُ يَخْشَانِي وَأَنْ أَجْعَلَ قَلْبَهُ يُحِبُّنِي لأهَبَنّ لَهُ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ﴾ وَالَّتِي بَعْدَهَا، قَالَ: فَأَعْطَاهُ [اللَّهُ] [[زيادة من أ.]] مَا أَعْطَاهُ وَفِي الْآخِرَةِ لَا حِسَابَ عَلَيْهِ.
هَكَذَا أَوْرَدَهُ أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ عَسَاكِرَ فِي تَرْجَمَةِ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي تَارِيخِهِ [[تاريخ دمشق (٧/٥٦٩) "القسم المخطوط".]]
وَرُوِيَ عَنْ بَعْضِ السَّلَفِ أَنَّهُ قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ دَاوُدَ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ت، س، أ.]] أَنَّهُ قَالَ: "إِلَهِي كُنْ لِسُلَيْمَانَ كَمَا كُنْتَ لِي": فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: أَنْ قُلْ لِسُلَيْمَانَ: يَكُونُ لِي كَمَا كُنْتَ لِي، أَكُونُ لَهُ كَمَا كنتُ لَكَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ﴾ قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَمَّا عَقَرَ سُلَيْمَانُ الْخَيْلَ غَضَبًا لِلَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ عَوَّضَهُ اللَّهُ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا وَأَسْرَعُ الرِّيحُ الَّتِي غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿حَيْثُ أَصَابَ﴾ أَيْ: حَيْثُ أَرَادَ مِنَ الْبِلَادِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ﴾ أَيْ: مِنْهُمْ مَنْ هُوَ مُسْتَعْمَلٌ فِي الْأَبْنِيَةِ الْهَائِلَةِ مِنْ مَحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجَفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَاسِيَاتٍ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَعْمَالِ الشَّاقَّةِ الَّتِي لَا يَقْدِرُ عَلَيْهَا الْبَشَرُ وَطَائِفَةٌ غَوَّاصُونَ فِي الْبِحَارِ يَسْتَخْرِجُونَ مِمَّا [[في ت: "ما".]] فِيهَا مِنَ اللَّآلِئِ وَالْجَوَاهِرِ وَالْأَشْيَاءِ النَّفِيسَةِ الَّتِي لَا تُوجَدُ إِلَّا فِيهَا ﴿وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الأصْفَادِ﴾ أَيْ: مُوثَقُونَ فِي الْأَغْلَالِ وَالْأَكْبَالِ مِمَّنْ قَدْ تَمَرّد وَعَصَى وَامْتَنَعَ مِنَ الْعَمَلِ وَأَبَى أَوْ قَدْ أَسَاءَ فِي صنيعه واعتدى.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿هَذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ أَيْ: هَذَا الَّذِي أَعْطَيْنَاكَ مِنَ الْمُلْكِ التَّامِّ وَالسُّلْطَانِ الْكَامِلِ كَمَا سَأَلْتَنَا فَأَعْطِ مَنْ شِئْتَ وَاحْرِمْ مَنْ شِئْتَ، لَا حِسَابَ عَلَيْكَ، أَيْ: مَهْمَا فعلتَ فَهُوَ جَائِزٌ لَكَ احْكُمْ بِمَا شِئْتَ فَهُوَ صَوَابٌ. وَقَدْ ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ [[في أ: "الصحيح".]] أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لَمَّا خُيِّر بَيْنَ أَنْ يَكُونَ عَبْدًا رَسُولًا -وَهُوَ الَّذِي يَفْعَلُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ وَإِنَّمَا هُوَ قَاسِمٌ يَقْسِمُ بَيْنَ النَّاسِ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ بِهِ-وَبَيْنَ أَنْ يَكُونَ مَلِكًا نَبِيًّا يُعْطِي مَنْ يَشَاءُ وَيَمْنَعُ مَنْ يَشَاءُ بِلَا حِسَابٍ وَلَا جُنَاحٍ، اخْتَارَ الْمَنْزِلَةَ الْأُولَى بَعْدَ مَا اسْتَشَارَ جِبْرِيلَ فَقَالَ لَهُ: تَوَاضَعْ فَاخْتَارَ الْمَنْزِلَةَ الْأُولَى لِأَنَّهَا أَرْفَعُ قَدْرًا عِنْدَ اللَّهِ وَأَعْلَى مَنْزِلَةً فِي الْمَعَادِ وَإِنْ كَانَتِ الْمَنْزِلَةُ الثَّانِيَةُ وَهِيَ النُّبُوَّةُ مَعَ الْمُلْكِ عَظِيمَةً أَيْضًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلِهَذَا لَمَّا ذَكَرَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَا أَعْطَى سُلَيْمَانَ فِي الدُّنْيَا نَبَّهَ عَلَى أَنَّهُ ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْضًا، فَقَالَ: ﴿وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ﴾ أَيْ: فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ.
قَالَ رَبِّ ٱغْفِرْ لِى وَهَبْ لِى مُلْكًۭا لَّا يَنۢبَغِى لِأَحَدٍۢ مِّنۢ بَعْدِىٓ ۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْوَهَّابُ
He said, "My Lord, forgive me and grant me a kingdom such as will not belong to anyone after me. Indeed, You are the Bestower."
(اور) دعا کی کہ اے پروردگار مجھے مغفرت کر اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا کر کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بےشک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے
گفت: پروردگارا! مرا ببخش و حکومتی به من عطا کن که بعد از من سزاوار هیچ کس نباشد، که تو بسیار بخشندهای!
Tafsir Ibn Kathir
And indeed, We tried Sulayman and We placed on his throne Jasad (a body), and he returned (34)He said: "My Lord! Forgive me, and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me. Verily, You are the Bestower. (35)So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order wherever he willed (36)And the Shayatin, from every kind of builder and diver (37)And also others bound in fetters (38)[Allah said to Sulayman]: "This is Our gift, so spend you or withhold, no account will be asked of you. (39)And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return (40)
How Allah tested Sulayman then made Things easy for Him
Allah says,
وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ
(And indeed, We tried Sulayman) meaning, 'We tested him.'
وَأَلْقَيْنَا عَلَىٰ كُرْسِيِّهِ جَسَدًا
(and We placed on his throne Jasad (a body)).
ثُمَّ أَنَابَ
(and he returned.) means, after this test, he turned back to Him and asked for forgiveness and to be given a kingdom such as shall not belong to any other after him.
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
(He said: "My Lord! Forgive me, and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me. Verily, You are the Bestower.")
Some of them said, "No one after me will have the right to ask Allah for such a kingdom." This is the apparent meaning from the context of the Ayah, and several Hadiths with a similar meaning have been narrated from the Messenger of Allah ﷺ.
In his Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet ﷺ said:
إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ، وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنَ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتّٰى تُصْبِحُوا،وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي
(An 'Ifrit from among the Jinn came and bothered me last night – or he said something similar – trying to stop me from praying. Allah enabled me to overpower him, and I wanted to tie him to one of the pillars in the Masjid so that you could see him this morning. Then I remembered what my brother Sulayman said, (My Lord! Forgive me and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me))
Rawh said, "so he let him go, humiliated." ) This was also recorded by Muslim and An-Nasa'i. In his Sahih, Muslim recorded that Abu Ad-Darda', may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ stood up to pray and we heard him say,
أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ
(I seek refuge with Allah from you.) Then he said,
أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ
(I curse you with the curse of Allah.) three times, and he stretched out his hand as if he was reaching out to take something. When he finished his prayer, we said, 'O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer which we have never heard you say before, and we saw you stretching out your hand.' He ﷺ said:
إِنَّ عَدُوَّ اللهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ التَّامَّةِ، فَلَمْ يَتَأَخَّرْ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ،وَاللهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا، يَلْعَبُ بِهِ صِبْيَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ
(The enemy of Allah Iblis came with a flame of fire to throw in my face, so I said, "I seek refuge with Allah from you" three times, then I said, "I curse you with the complete curse of Allah," but he did not back off. I said it three times. Then I wanted to seize him. By Allah, if it were not for the words of our brother Sulayman, he would have been chained up and he would have become a plaything for the children of the people of Al-Madinah.)" Allah says:
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ
(So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order wherever he willed.) Al-Hasan Al-Basri, may Allah have mercy on him, said, "When Sulayman, peace be upon him, slaughtered the horses out of anger for the sake of Allah, Allah compensated him with something better and swifter, the wind whose morning was a month's (journey), and its afternoon was a month's (journey)."
حَيْثُ أَصَابَ
(wherever he willed.) means, wherever in the world he wanted.
وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ
(And also the Shayatin, from every kind of builder and diver,) means, among them were some whom he used to build high rooms, images, basins as large as reservoirs, and cauldrons fixed (in their places), and other difficult tasks which humans were unable to do. And there was another group, who dived into the sea recovering pearls, jewels and other precious things which cannot be found anywhere else.
وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
(And also others bound in fetters.) means, tied up in chains. These were the ones who had rebelled and refused to work, or else their work was bad and they were wrongdoers.
هَٰذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ
([Allah said to Sulayman]: "This is Our Gift, so spend you or withhold, no account will be asked of you.") means, 'this that We have given to you of kingship and perfect power, as you asked for, you may give to whomsoever you wish and deny to whomsoever you wish, and you will not be brought to account. Whatever you do is permissible for you, so however you judge, it will be right.' It was reported in the Two Sahihs that when the Messenger of Allah ﷺ was given the choice between being a servant and a Messenger – who does what he is commanded to do and distributes things among the people as Allah commands him to do – or being a Prophet and a king, who can give to whomever he wishes and withhold from whomever he wishes without being held accountable for anything, he chose the former. He consulted with Jibril, peace be upon him, who said, "Be humble." So he chose the former because it has a greater value before Allah and brings a higher status in the Hereafter, even though the second option, prophethood combined with kingship, is also a great thing both in this world and in the Hereafter, when Allah tells us what He gave to Sulayman, peace be upon him, in this world, He tells us that he will have a great share with Allah on the Day of Resurrection. He says:
وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ
(And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return.) meaning, in this world and the Hereafter.
Tafsir Ibn Kathir
سلیمان ؑ کا تفصیلی تذکرہ۔ہم نے حضرت سلیمان کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ ؓ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہرچند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتاسکتا ہے آپ نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر میں ملتا تھا ہر ساتویں دن اس میں لبالب پانی آجاتا تھا اور یہی پانی یہ شیطان پیتا تھا۔ اس کا پانی نکال دیا گیا اور بالکل خالی کر کے پانی کو بند کر کے اس کے آنے والے دن اسے شراب سے پر کردیا گیا جب شیطان آیا اور یہ حال دیکھا تو کہنے لگا یہ تو مزے کی چیز ہے لیکن عقل کی دشمن جہالت کو ترقی دینے والی چیز ہے۔ چناچہ وہ پیاسا ہی چلا گیا۔ جب پیاس کی شدت ہوئی تو مجبوراً یہ سب کچھ کہتے ہوئے پینا ہی پڑا۔ اب عقل جاتی رہی اور اسے حضرت سلیمان کی انگوٹھی دکھائی گئی یا مونڈھوں کے درمیان سے مہر لگا دی گئی۔ یہ بےبس ہوگیا حضرت سلیمان کی حکومت اسی انگوٹھی کی وجہ سے تھی۔ جب یہ حضرت سلیمان کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے یہ کام سر انجام دینے کا حکم دیا یہ ہدہد کے انڈے لے آیا اور انہیں جمع کر کے ان پر شیشہ رکھ دیا۔ ہدہد آیا اس نے اپنے انڈے دیکھے چاروں طرف گھوما لیکن دیکھا کہ ہاتھ نہیں آسکتے اڑ کر واپس چلا گیا اور الماس لے آیا اور اسے اس شیشے پر رکھ کر شیشے کو کاٹنا شروع کردیا آخر وہ کٹ گیا اور ہدہد اپنے انڈے لے گیا اور اس الماس کو بھی لے لیا گیا اور اسی سے پتھر کاٹ کاٹ کر عمارت شروع ہوئی حضرت سلیمان ؑ جب بیت الخلا میں یا حمام میں جاتے تو انگوٹھی اتار جاتے ایک دن حمام میں جانا تھا اور یہ شیطان آپ کے ساتھ تھا آپ اس وقت فرضی غسل کے لئے جا رہے تھے انگوٹھی اسی کو سونپ دی اور چلے گئے اس نے انگوٹھی سمندر میں پھینک دی اور شیطان پر حضرت سلیمان کی شکل ڈال دی گئی اور آپ سے تخت و تاج چھن گیا۔ سب چیزوں پر شیطان نے قبضہ کرلیا سوائے آپ کی بیویوں کے۔ اب اس سے بہت سی غیر معروف باتیں ظہور میں آنے لگیں اس زمانہ میں ایک صاحب تھے جو ایسے ہی تھے جیسے حضور ﷺ کے زمانہ میں حضرت فاروق ؓ۔ اس نے کہا آزمائش کرنی چاہئے مجھے تو یہ شخص سلیمان معلوم نہیں ہوتا۔ چناچہ ایک روز اس نے کہا کیوں جناب اگر کوئی شخص رات کو جنبی ہوجائے اور موسم ذرا ٹھنڈا ہو اور وہ سورج طلوع ہونے تک غسل نہ کرے تو کوئی حرج تو نہیں ؟ اس نے کہا ہرگز نہیں۔ چالیس دن تک یہ تخت سلیمان پر رہا پھر آپ کی مچھلی کے پیٹ سے انگوٹھی مل گئی ہاتھ میں ڈالتے ہی پھر تمام چیزیں آپ کی مطیع ہوگئیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ سدی فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ کی ایک سو بیویاں تھیں آپ کو سب سے زیادہ اعتبار ان میں سے ایک بیوی پر تھا جن کا نام جراوہ تھا۔ جب جنبی ہونے یا پاخانے جاتے تو اپنی انگوٹھی انہی کو سونپ جاتے۔ ایک مرتبہ آپ پاخانے گئے پیچھے سے ایک شیطان آپ ہی کی صورت بنا کر آیا اور بیوی صاحبہ سے انگوٹھی طلب کی آپ نے دے دی یہ آتے ہی تخت پر بیٹھ گیا جب حضرت سلیمان آئے اور انگوٹھی طلب کی تو بیوی صاحبہ نے فرمایا آپ انگوٹھی تو لے گئے۔ آپ سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے نہایت پریشان حال سے محل سے نکل گئے اس شیطان نے چالیس دن تک حکومت کی لیکن احکام کی تبدیلی کو دیکھ کر علماء نے سمجھ لیا کہ یہ سلیمان نہیں۔ چناچہ ان کی جماعت آپ کی بیویوں کے پاس آئی اور ان سے کہا یہ کیا معاملہ ہے ہمیں سلیمان کی ذات میں شک پڑگیا۔ اگر یہ سچ مچ سلیمان ہے تو اس کی عقل جاتی رہی ہے یا یہ کہ یہ سلیمان ہی نہیں۔ ورنہ ایسے خلاف شرع احکام نہ دیتا۔ عورتیں یہ سن کر رونے لگیں۔ یہ یہاں سے واپس آگئے اور تخت کے اردگرد اسے گھیر کر بٹھ گئے اور تورات کھول کر اس کی تلاوت شروع کردی۔ یہ خبیث شیطان کلام اللہ سے بھاگا اور انگوٹھی سمندر میں پھینک دی جسے ایک مچھلی نگل گئی۔ حضرت سلیمان یونہی اپنے دن گذارتے تھے ایک مرتبہ سمندر کے کنارے نکل گئے بھوک بہت لگی ہوئی تھی ماہی گیروں کو مچھلیاں پکڑتے ہوئے دیکھ کر ان کے پاس آ کر ان سے ایک مچھلی مانگی اور اپنا نام بھی بتایا، اس پر بعض لوگوں کو بڑا طیش آیا کہ دیکھو بھیک مناگنے والا اپنے تئیں سلیمان بتاتا ہے انہوں نے آپ کو مارنا پیٹنا شروع کیا آپ زخمی ہو کر کنارے جا کر اپنے زخم کا خون دھونے لگے۔ بعض ماہی گیروں کو رحم آگیا کہ ایک سائل کو خواہ مخواہ مارا۔ جاؤ بھئی اسے دو مچھلیاں دے آؤ بھوکا ہے بھون کھائے گا۔ چناچہ و مچھلیاں آپ کو دے آئے بھوک کی وجہ سے آپ اپنے زخم کو اور خون کو تو بھول گئے اور جلدی سے مچھلی کا پیٹ چاک کرنے بیٹھ گئے۔ قدرت اللہ سے اس کے پیٹ سے وہ انگوٹھی نکلی آپ نے اللہ کی تعریف بیان کی اور انگوٹھی انگلی میں ڈالی اس وقت پرندوں نے آ کر آپ پر سایہ کرلیا اور لوگوں نے آپ کو پہچان لیا اور آپ سے معذرت کرنے لگے آپ نے فرمایا یہ سب امر اللہ تھا اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا۔ آپ آئے اپنے تخت پر بیٹھ گئے اور حکم دیا کہ اس شیطان کو جہاں بھی وہ ہو گرفتار کر لاؤ چناچہ اسے قید کرلیا گیا آپ نے اسے ایک لوہے کے صندوق میں بند کیا اور قفل لگا کر اس پر اپنی مہر لگا دی اور سمندر میں پھنکوا دیا جو قیامت تک وہیں قید رہے گا۔ اس کا نام حقیق تھا۔ آپ کی یہ دعا کہ مجھے ایسا ملک عطا فرمایا جائے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو یہ بھی پوری ہوئی اور آپ کے تابع ہوائیں کردی گئیں۔ مجاہد سے مروی ہے کہ ایک شیطان سے جس کا نام آصف تھا ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ نے پوچھا کہ تم لوگوں کو کس طرح فتنے میں ڈالتے ہو ؟ اس نے کہا ذرا مجھے انگوٹھی دکھاؤ میں ابھی آپ کو دکھا دیتا ہوں آپ نے انگوٹھی دے دی اس نے اسے سمندر میں پھینک دیا تخت و تاج کا مالک بن بیٹھا اور آپ کے لباس میں لوگوں کو راہ اللہ سے ہٹانے لگا۔ " یاد رہے کہ یہ سب واقعات بنی اسرائیل کے بیان کردہ ہیں " اور ان سب سے زیادہ منکر واقعہ وہ ہے۔ جو ابن ابی حاتم میں ہے جس کا اوپر بیان ہوا۔ جس میں آپ کی بیوی صاحبہ حضرت جراوہ کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آخر نبوت یہاں تک پہنچی تھی کہ لڑکے آپ کو پتھر مارتے تھے۔ آپ کی بیویوں سے جب علماء نے معاملہ کی تفتیش کی تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہمیں بھی اس کے سلیمان ہونے سے انکار ہے کیونکہ وہ حالت حیض میں ہمارے پاس آتا ہے۔ شیطان کو جب یہ معلوم ہوگیا کہ راز کھل گیا ہے تو اس نے جادو اور کفر کی کتابیں لکھوا کر کرسی تلے دفن کردیا اور پھر لوگوں کے سامنے انہیں نکلوا کر ان سے کہا دیکھو ان کتابوں کی بدولت سلیمان تم پر حکومت کر رہا تھا چناچہ لوگوں نے آپ کو کافر کہنا شروع کردیا۔ حضرت سلیمان سمندر کے کنارے مزدوری کرتے تھے ایک مرتبہ ایک شخص نے بہت سی مچھلیاں خریدیں مزدور کو بلایا آپ پہنچے اس نے کہا یہ اٹھالو پوچھا مزدوری کیا دو گے ؟ اس نے کہا اس میں سے ایک مچھلی تمہیں دے دوں گا آپ نے ٹوکرا سر پر رکھا اس کے ہاں پہنچایا اس نے ایک مچھلی دے دی آپ نے اس کا پیٹ چاک کیا پیٹ چاک کرتے ہی وہ انگوٹھی نکل پڑی پہنتے ہی کل شیاطین جن انسان پھر تابع ہوگئے اور جھرمٹ باندھ کر حاضر ہوگئے آپ نے ملک پر قبضہ کیا اور اس شیطان کو سخت سزا دی۔ پس ثم اناب سے مراد شیطان جو مسلط کیا گیا تھا اس کا لوٹنا ہے۔ اس کی اسناد حضرت ابن عباس تک ہے۔ ہے تو قوی لیکن یہ ظاہر ہے کہ اسے حضرت ابن عباس نے اہل کتاب سے لیا ہے، یہ بھی اس وقت جبکہ اسے ابن عباس کا قول مان لیں۔ اہل کتاب کی ایک جماعت حضرت سلیمان کو نہیں مانتی تھی تو عجب نہیں کہ یہ بیہودہ قصہ اسی خبیث جماعت کا گھڑا ہوا ہو۔ اس میں تو وہ چیزیں بھی ہیں جو بالکل ہی منکر ہیں خصوصاً اس شیطان کا آپ کی عورتوں کے پاس جانا اور آئمہ نے بھی ایسے ہی قصے بیان تو کئے ہیں لیکن اس بات کا سب نے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ جن ان کے پاس نہیں جاسکا اور نبی کے گھرانے کی عورتوں کی عصمت و شرافت کا تقاضا بھی یہی ہے اور بھی بہت سے لوگوں نے ان واقعات کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن سب کی اصل یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے لئے گئے ہیں۔ واللہ اعلم۔ شیبانی فرماتے ہیں آپ نے اپنی انگوٹھی عسقلان میں پائی تھی اور بیت المقدس تک تواضعاً آپ پیدل چلے تھے۔ امام ابن بی حاتم نے صفت سلیمان میں حضرت کعب احبار سے ایک عجیب خبر روایت کی ہے۔ ابو اسحاق مصری کہتے ہیں کہ جب (اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۽) 89۔ الفجر :7) کے قصے سے حضرت کعب نے فراغت حاصل کی تو حضرت معاویہ نے کہا ابو اسحاق آپ حضرت سلیمان کی کرسی کا ذکر بھی کیجئے فرمایا کہ وہ ہاتھی دانت کی تھی اور یاقوت زبرجد اور لولو سے مرصع تھی اور اس کے چاروں طرف سونے کے کھجور کے درخت بنے ہوئے تھے جن کے خوشے بھی موتیوں کے تھے ان میں سے جو دائیں جانب تھے ان کے سرے پر سونے کے مور تھے اور بائیں طرف والوں پر سونے کے گدھ تھے۔ اس کرسی کے پہلے درجے پر دائیں جانب سونے کے دو درخت صنوبر کے تھے اور بائیں جانب سونے کے دو شیر بن ہوئے تھے۔ ان کے سروں پر زبر جد کے دوستون تھے اور کرسی کے دونوں جانب انگور کی سنہری بیلیں تھیں جو کرسی کو ڈھانپے ہوئے تھیں اس کے خوشے بھی سرخ موتی کے تھے پھر کرسی کے اعلیٰ درجے پر دو شیر بہت بڑے سونے کے بنے ہوئے تھے جن کے اندر خول تھا ان میں مشک و عنبر بھرا رہتا تھا۔ جب حضرت سلیمان کرسی پر آتے تو یہ شیر حرکت کرتے اور ان کے گھومنے سے ان کے اندر سے مشک و عنبر چاروں طرف چھڑک دیا جاتا پھر دو منبر سونے کے بچھا دئے جاتے۔ ایک آپ کے وزیر کا اور ایک اس وقت کے سب سے بڑے عالم کا۔ پھر کرسی کے سامنے ستر منبر سونے کے اور بچھائے جاتے جن پر بنو اسرائیل کے قاضی ان کے علماء اور ان کے سردار بیٹھتے۔ ان کے پیچھے پینتیس منبر سونے کے اور ہوتے تھے جو خالی رہا کرتے تھے۔ حضرت سلیمان جب تشریف لاتے پہلے زینے پر قدم رکھتے ہی کرسی ان تمام چیزوں سمیت گھوم جاتی شیر اپن داہنا قدم آگے بڑھا دیتا اور گدھ اپنا بایاں پر پھیلا دیتا۔ جب دوسرے درجے پر قدم رکھتے تو شیر اپنا بایاں پاؤں پھیلا دیتا اور گدھ اپنا دایاں پر جب آپ تیسرے درجے پر چڑھ جاتے اور کرسی پر بیٹھ جاتے تو ایک بڑا گدھ آپ کا تاج لے کر آپ کے سر پر رکھتا پھر کرسی زور زور سے گھومتی۔ حضرت معاوضہ نے پوچھا آخر اس کی کیا وجہ ؟ فرمایا وہ ایک سونے کی لاٹ پر تھی جسے صخر جن نے بنایا تھا۔ اس کے گھومتے ہی نیچے والے مور گدھ وغیرہ سب اوپر آجاتے اور سر جھکاتے پر پھڑ پھڑاتے جس سے آپ کے جسم پر مشک و عنبر کا چھڑکاؤ ہوجاتا پھر ایک سونے کا کبوتر تورات اٹھا کر آپ کے ہاتھ میں دیتا جسے آپ تلاوت فرماتے۔ لیکن یہ روایت بالکل غریب ہے۔ حضرت سلیمان ؑ کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایسا ملک دے کہ مجھ سے کوئی اور چھین نہ سکے جیسے کہ اس جسم کا واقعہ ہوا جو آپ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ دوسروں کے لئے ایسے ملک کے نہ ملنے کی دعا کرتے ہوں۔ لیکن جن بعض لوگوں نے یہ معنی لئے ہیں وہ کچھ ٹھیک نظر نہیں آتے، بلکہ صحیح مطلب یہی ہے کہ آپ کی دعا کا یہی مطلب تھا کہ مجھے ایسا ملک اور سلطنت دی جائے کہ میرے بعد پھر کسی اور شخص کو ایسی سلطنت نہ ملے۔ یہی آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے اور یہی احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا ایک سرکش جن نے گزشتہ شب مجھ پر زیادتی کی اور میری نماز بگاڑ دینا چاہی لیکن اللہ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے اس ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھو لیکن اسی وقت مجھے میرے بھائی حضرت سلیمان (علیہ الصلوۃ والسلام) کی دعا یاد آگئی۔ راوی حدیث حضرت روح فرماتے ہیں پھر حضور ﷺ نے اسے ذلیل و خوار کر کے چھوڑ دیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نماز میں کھڑے ہوئے تو ہم نے سنا کہ آپ نے فرمایا اعوذ باللہ منک پھر آپ نے تین بار فرمایا العنک بلعنتہ اللہ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا کہ گویا آپ کسی چیز کو لینا چاہتے ہیں۔ جب فارغ ہوئے تو ہم نے آپ سے ان دونوں باتوں کی وجہ پوچھی آپ نے فرمایا اللہ کا دشمن ابلیس آگ لے کر میرے منہ میں ڈالنے کے لئے آیا تو میں نے تین مرتبہ اعوذ پڑھی پھر تین مرتبہ اس پر لعنت بھیجی لیکن وہ پھر بھی نہ ہٹا پھر میں نے چاہا کہ اسے پکڑ کر باندھ دوں تاکہ مدینے کے لڑکے اس سے کھیلیں اگر ہمارے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو میں یہی کرتا۔ حضرت عطا بن یزید لیثی نماز پڑھ رہے تھے جو ابو عبید نے ان کے سامنے سے گذرنا چاہا انہوں نے انہیں اپنے ہاتھ سے روک دیا پھر فرمایا مجھ سے حضرت ابو سعید خدری نے حدیث بیان کی کہ حضور ﷺ صبح کی نماز پڑھا رہے تھے یہ بھی آپ کے پیچھے تھے قرأت آپ پر خلط ملط ہوگئی فارغ ہو کر فرمایا کاش تم دیکھتے کہ میں نے ابلیس کو پکڑ لیا تھا اور اس قدر اس کا گلا گھونٹا کہ اس کے منہ کی جھاگ میری شہادت کی اور بیج کی انگلی پر پڑی اگر میرے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح ہوتے اس مسجد کے ستون سے بندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اسے ستاتے تم سے جہاں تک ہو سکے اس بات کا خیال رکھو کہ نماز کی حالت میں تمہارے سامنے سے کوئی گذرنے نہ پائے (مسند احمد) مسند کی اور حدیث میں ہے ربعیہ بن یزید عبداللہ ویلمی کہتے ہیں میں حضرت عمرو بن عاص ؓ کے پاس طائف کے ایک باغ میں گیا جس کا ام ربط تھا آپ اس وقت ایک قریشی کا محاصرہ کئے ہوئے تھے جو زانی اور شرابی تھا۔ میں نے ان سے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ یہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ جو ایک گھونٹ شراب پئے گا اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہ فرمائے گا اور برا آدمی وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی برا ہوگیا ہے جو شخص صرف نماز ہی کی نیت سے بیت المقدس کی مسجد میں جائے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا۔ وہ شرابی جسے حضرت عبداللہ پکڑے ہوئے تھے وہ شراب کا ذکر سنتے ہی جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا۔ اب حضرت عبداللہ نے فرمایا کسی کو حلال نہیں کہ میرے ذمے وہ بات کرے جو میں نے نہ کی۔ میں نے حضور ﷺ سے یوں سنا ہے جو شخص شراب کا ایک گھونٹ بھی پی لے اس کی چالیس دن کی نماز نامقبول ہے۔ اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ پھر اگر دوبارہ لوٹے تو پھر چالیس دن تک کی نمازیں نامقبول ہیں پھر اگر توبہ کرلے تو توبہ مقبول ہے مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ میں فرمایا کہ پھر اگر لوٹے گا تو یقینا اللہ تعالیٰ اسے جہنمیوں کے بدن کا خون، پیپ، پیشاب وغیرہ قیامت کے دن پلائے گا اور حضور ﷺ سے میں نے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا جس پر وہ نور اس دن پڑگیا وہ تو ہدایت والا ہوگیا اور جس تک وہ نور نہ پہنچا وہ بھٹک گیا۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل چکا اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کی جن میں سے دو تو انہیں مل گئیں اور ہمیں امید ہے کہ تیسری ہمارے لئے ہو (1) مجھے ایسا حکم دے جو تیرے حکم کے موافق ہو (2) مجھے ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لئے لائق نہ ہو۔ تیسری دعا یہ تھی کہ جو شخص اپنے گھر سے اس مسجد کی نماز کے ارادے ہی سے نکلے تو جب وہ لوٹے تو ایسا ہوجائے گویا آج پیدا ہوا پس ہمیں اللہ سے امید ہے کہ یہ ہمارے لئے اللہ نے دی ہو۔ طبرانی میں ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ عزوجل نے حضرت داؤد ؑ کو اپنے لئے ایک گھر بنانے کا حکم دیا حضرت داؤد نے پہلے اپنا گھر بنا لیا اس پر وحی آئی کہ تم نے اپنا گھر میرے گھر سے پہلے بنایا آپ نے عرض کیا پروردگار یہی فیصلہ کیا گیا تھا پھر مسجد بنانی شروع کی دیواریں پوری ہوگئیں تو اتفاقاً تہائی حصہ گرگیا آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جواب ملا کہ تو میرا گھر نہیں بنا سکتا۔ پوچھا کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ تیرے ہاتھوں سے خون بہا ہے۔ عرض کیا اللہ تعالیٰ وہ بھی تیری ہی محبت میں فرمایا ہاں لیکن وہ میرے بندے تھے میں ان پر رحم کرتا ہوں۔ آپ کو یہ کلام سن کر سخت پریشانی ہوئی۔ پھر وحی آئی کہ غمگین نہ ہو میں اسے تیرے لڑکے سلیمان کے ہاتھوں پورا کراؤں گا۔ چناچہ آپ کے انتقال کے بعد حضرت سلیمان نے اسے بنانا شروع کیا جب پورا کرچکے تو بڑی بڑی قربانیاں کیں اور ذبیحہ ذبح کئے اور بنو اسرائیل کو جمع کر کے خوب کھلایا پلایا اللہ کی وحی آئی کہ تو نے یہ سب کچھ میرے حکم کی تعمیل کی خوشی میں کیا ہے تو مجھ سے مانگ جو مانگے گا پائے گا۔ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ میرے تین سوال ہیں مجھے ایسا فیصلہ سمجھا جو تیرے فیصلے کے مطابق ہو اور ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو اور جو اس گھر میں آئے صرف نماز کے ارادے سے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا آزاد ہوجائے جیسے آج پیدا ہوا۔ ان میں سے دو چیزیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرما دیں اور مھے امید ہے کہ تیسری بھی دے دی گئی ہو۔ رسول اللہ ﷺ اپنی ہر دعا کو ان لفظوں سے شروع فرماتے (سبحان اللہ ربی الاعلی العلی الوہاب) (مستند احمد) اور روایت میں ہے کہ حضرت داؤد کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان سے فرمایا مجھ سے اپنی حاجت طلب کرو آپ نے عرض کیا اللہ تعالیٰ مجھے ایسا دل دے جو تجھ سے ڈرتا رہے جیسا کہ میرے والد کا دل تجھ سے خوف کیا کرتا تھا اور میرے دل میں اپنی محبت ڈال دے جیسے کہ میرے والد کے دل میں تیری محبت تھی اس پر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا کہ میرا بندہ میری عین عطا کے وقت بھی مجھ سے ڈرا اور میری محبت طلب کرتا ہے مجھے اپنی قسم میں اسے اتنی بڑی سلطنت دوں گا جو اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی ماتحتی میں ہوائیں کردیں اور جنات کو بھی ان کا ماتحت بنادیا اور اسی قدر ملک و مال پر بھی، انہیں حساب قیامت سے آزاد کردیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے دعا کی کہ باری تعالیٰ سلیمان کے ساتھ بھی اسی لطف و کرم سے پیش آنا جیسا آج لطف و کرم تیرا مجھ پر رہا تو وحی آئی کہ سلیمان سے کہہ دو وہ بھی اسی طرح میرا رہے جس طرح تو میرا تھا، تو میں بھی اس کے ساتھ ہو خوبصورت پیارے وفادار تیز رو گھوڑوں کو کاٹ ڈالا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ان کے عوض ان سے بہتر عطا فرمائے۔ یعنی ہوا کو ان کے تابع فرمان کردیا جو مہینے بھر کی راہ کو صبح کی ایک گھڑی میں طے کردیتی تھی اور اسی طرح شام کو جہاں کا ارادہ کرتے ذرا سی دیر میں پہنچا دیتی۔ جنات کو بھی حضرت سلیمان ؑ کے تابع کردیا ان میں سے بعض بڑی اونچی لمبی سنگین پختہ عمارت کے بنانے کے کام سر انجام دیتے جو انسانی طاقت سے باہر تھا اور بعض غوطہ خور تھے جو سمندر کی تہ میں سے لولو جواہر اور دیگر قسم قسم کی نفیس و نادر چیزیں لا دیتے تھے۔ پھر اور کچھ تھے جو بھاری بھاری بیڑیوں میں جکڑے رہتے تھے۔ یہ یا تو وہ تھے جو حکومت سے سرتابی کرتے تھے یا کام کاج میں شرارت اور کمی کرتے تھے یا لوگوں کو ستاتے اور ایذاء دیتے تھے۔ یہ ہے ہماری مہربانی اور ہماری بخشش اور ہمارا انعام اور ہمارا عطیہ اب تجھے اختیار ہے جس سے جو چاہے سلوک کر سب بےحساب ہے کسی پر پکڑ نہیں۔ جو تیری زبان سے نکلے گا وہ حق ہوگا۔ صحیح حدیث میں ہے جب رسول اللہ ﷺ کو اختیار دیا گیا کہ اگر چاہیں عبد و رسول رہیں یعنی جو حکم کیا جائے بجا لاتے رہیں اللہ کے فرمان کے مطابق تقسیم کرتے رہیں اور اگر چاہیں نبی اور بادشاہ بنا دیئے جائیں جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں اور اس کا کوئی حساب اللہ کے ہاں نہ لیا جائے تو آپ نے حضرت جبرائیل ؑ سے مشورہ لیا اور آپ کے مشورے سے پہلی بات قبول فرمائی کیونکہ فضیلت کے لحاظ سے اولیٰ اور اعلیٰ وہی ہے۔ گو نبوت و سلطنت بھی بڑی چیز ہے۔ اسی لئے حضرت سلیمان کا دنیوی عزو جاہ بیان کرتے ہی فرمایا کہ وہ دار آخرت میں بھی ہمارے پاس بڑے مرتبے اور بہترین بزرگی اور اعلیٰ تر قریب والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ﴾ أَيِ: اخْتَبَرْنَاهُ بِأَنْ سَلَبْنَاهُ الْمُلْكَ مَرَّةً، ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَالْحَسَنُ وَقَتَادَةُ وَغَيْرُهُمْ: يَعْنِي شَيْطَانًا. ﴿ثُمَّ أَنَابَ﴾ أَيْ: [[في ت، س: "ثم".]] رَجَعَ إِلَى مُلْكِهِ وَسُلْطَانِهِ وَأُبَّهَتِهِ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَكَانَ اسْمُ ذَلِكَ الشَّيْطَانِ صَخْرًا. قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَقَتَادَةُ. وَقِيلَ: آصِفُ. قَالَهُ مُجَاهِدٌ وَقِيلَ: آصِرُوا. قَالَهُ مُجَاهِدٌ أَيْضًا. وَقِيلَ: حبقيقُ. قَالَهُ السُّدِّيُّ. وَقَدْ ذَكَرُوا هَذِهِ الْقِصَّةَ مَبْسُوطَةً وَمُخْتَصَرَةً.
وَقَدْ قَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبة عَنْ قَتَادَةَ: قَالَ أَمَرَ سُلَيْمَانُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ بِبِنَاءِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقِيلَ لَهُ: ابْنِهِ وَلَا يُسمَعُ فِيهِ صَوْتُ حَدِيدٍ. فَقَالَ: فَطَلَبَ ذَلِكَ فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهِ. فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ شَيْطَانًا فِي الْبَحْرِ يُقَالُ لَهُ: "صَخْرٌ" شِبْهُ الْمَارِدِ. قَالَ: فَطَلَبَهُ وَكَانَتْ عَيْنٌ فِي الْبَحْرِ يَردهُا فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ مَرَّةً فَنُزِحَ مَاؤُهَا وَجُعِلَ فِيهَا خَمْرٌ، فَجَاءَ يَوْمَ ورْده فَإِذَا هُوَ بِالْخَمْرِ فَقَالَ: إِنَّكِ لَشَرَابٌ طَيِّبٌ إِلَّا أَنَّكِ تُصْبِينَ الْحَلِيمَ، وَتَزِيدِينَ الْجَاهِلَ جَهْلًا. ثُمَّ رَجَعَ حَتَّى عَطِشَ عَطَشًا شَدِيدًا ثُمَّ أَتَاهَا [[في أ: "أتاه".]] فَقَالَ: إِنَّكِ لَشَرَابٌ طَيِّبٌ إِلَّا أَنَّكِ تُصْبِينَ الْحَلِيمَ، وَتَزِيدِينَ الْجَاهِلَ جَهْلًا. ثُمَّ شَرِبَهَا حَتَّى غَلَبَتْ عَلَى عَقْلِهِ، قَالَ: فَأُرِيَ الْخَاتَمَ أَوْ خُتِمَ بِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَذَلَّ. قَالَ: وَكَانَ مُلْكُهُ فِي خَاتَمِهِ فأتي به سليمان فقال: إنه قَدْ أُمِرْنَا بِبِنَاءِ هَذَا الْبَيْتِ وَقِيلَ لَنَا: لَا يُسْمَعَنَّ فِيهِ صَوْتُ حَدِيدٍ. قَالَ: فَأَتَى بِبَيْضِ الْهُدْهُدِ فَجَعَلَ عَلَيْهِ زُجَاجَةً فَجَاءَ الْهُدْهُدُ فَدَارَ حَوْلَهَا، فَجَعَلَ يَرَى بَيْضَهُ وَلَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ فَذَهَبَ فَجَاءَ بِالْمَاسِ فَوَضَعَهُ عَلَيْهِ فَقَطَعَهَا بِهِ حَتَّى أَفْضَى إِلَى بَيْضِهِ. فَأَخَذَ الْمَاسَ فَجَعَلُوا يَقْطَعُونَ بِهِ الْحِجَارَةَ. وَكَانَ سُلَيْمَانُ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ الْخَلَاءَ -أَوِ: الْحَمَّامَ-لَمْ يَدْخُلْ بِخَاتَمِهِ فَانْطَلَقَ يَوْمًا إِلَى الْحَمَّامِ وَذَلِكَ الشَّيْطَانُ صَخْرٌ مَعَهُ، وَذَلِكَ عِنْدَ مُقَارَفَةٍ قَارَفَ فِيهِ [[في ت: "فيها".]] بَعْضَ نِسَائِهِ. قَالَ: فَدَخَلَ الْحَمَّامَ وَأَعْطَى الشَّيْطَانَ خَاتَمَهُ فَأَلْقَاهُ فِي الْبَحْرِ فَالْتَقَمَتْهُ سَمَكَةٌ، وَنُزِعَ مُلك سُلَيْمَانَ مِنْهُ وَأُلْقِيَ عَلَى الشَّيْطَانِ شَبَه سُلَيْمَانَ. قَالَ: فَجَاءَ فَقَعَدَ عَلَى كُرْسِيِّهِ وَسَرِيرِهِ وسُلِّط عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ كُلِّهِ غَيْرَ نِسَائِهِ. قَالَ: فَجَعَلَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ، وَجَعَلُوا يُنْكِرُونَ مِنْهُ أَشْيَاءَ حَتَّى قَالُوا: لَقَدْ فُتِنَ نَبِيُّ اللَّهِ. وَكَانَ فِيهِمْ رَجُلٌ يُشَبِّهُونَهُ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي الْقُوَّةِ فَقَالَ: وَاللَّهُ لَأُجَرِّبَنَّهُ. قَالَ: فَقَالَ: يَا نَبِيَّ [[في أ: "أنبي".]] اللَّهِ -وَهُوَ لَا يَرَى إِلَّا أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ-أَحَدُنَا تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ فِي اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ فَيَدَعُ الْغُسْلَ عَمْدًا حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَتُرَى [[في ت: "ترى".]] عَلَيْهِ بَأْسًا؟ فَقَالَ: [[في ت، س: "قال".]] لَا. قَالَ: فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً حَتَّى وَجَدَ نَبِيُّ اللَّهِ خَاتَمَهُ فِي بَطْنِ سَمَكَةٍ فَأَقْبَلَ فَجَعَلَ لَا يَسْتَقْبِلُهُ جِنِّيٌّ وَلَا طَيْرٌ إِلَّا سَجَدَ لَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ، ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ: هُوَ الشَّيْطَانُ صَخْرٌ [[تفسير الطبري (٢٣/١٠١) .]]
وَقَالَ السُّدِّيُّ: ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ﴾ أَيِ: ابْتَلَيْنَا سُلَيْمَانَ، ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ: جَلَسَ الشَّيْطَانُ عَلَى كُرْسِيِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا. قَالَ: وَكَانَ لِسُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِائَةُ امْرَأَةٍ وَكَانَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ يُقَالُ لَهَا: "جَرَادَةُ"، وَهِيَ آثَرُ نِسَائِهِ وَآمَنُهُنَّ عِنْدَهُ وَكَانَ إِذَا أَجْنَبَ أَوْ أَتَى حَاجَةً [[في أ: "حاجته".]] نَزَعَ خَاتَمَهُ وَلَمْ يَأْتَمِنْ [[في ت: "يأمن".]] عَلَيْهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ غَيْرَهَا فَأَعْطَاهَا يَوْمًا خَاتَمَهُ وَدَخَلَ الْخَلَاءَ فَخَرَجَ الشَّيْطَانُ فِي صُورَتِهِ فَقَالَ: هَاتِي الْخَاتَمَ. فَأَعْطَتْهُ فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى مَجْلِسِ سُلَيْمَانَ وَخَرَجَ سُلَيْمَانُ بَعْدَ ذَلِكَ فَسَأَلَهَا أَنْ تُعْطِيَهِ خَاتَمَهُ، فَقَالَتْ: أَلَمْ تَأْخُذْهُ قَبْلُ؟ قَالَ: لَا. وَخَرَجَ مَكَانَهُ تَائِهًا. قَالَ: وَمَكَثَ الشَّيْطَانُ يُحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، قَالَ: فَأَنْكَرَ النَّاسُ أَحْكَامَهُ فَاجْتَمَعَ قُرَّاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَعُلَمَاؤُهُمْ فَجَاءُوا حَتَّى دَخَلُوا عَلَى نِسَائِهِ فَقَالُوا: إِنَّا قَدْ أَنْكَرْنَا هَذَا فَإِنْ كَانَ سُلَيْمَانَ فَقَدْ ذَهَبَ عَقْلُهُ وَأَنْكَرْنَا أَحْكَامَهُ. قَالَ: فَبَكَى النِّسَاءُ عِنْدَ ذَلِكَ قَالَ: فَأَقْبَلُوا يَمْشُونَ حَتَّى أَتَوْا [[في أ: "أتوه".]] فَأَحْدَقُوا بِهِ ثُمَّ نَشَرُوا التَّوْرَاةَ فَقَرَءُوا. قَالَ: فَطَارَ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ حَتَّى وَقَعَ عَلَى شُرْفَةٍ وَالْخَاتَمُ مَعَهُ. ثُمَّ طَارَ حَتَّى ذَهَبَ إِلَى الْبَحْرِ فَوَقَعَ الْخَاتَمُ مِنْهُ فِي الْبَحْرِ فَابْتَلَعَهُ حُوتٌ مِنْ حِيتَانِ الْبَحْرِ. قَالَ: وَأَقْبَلَ سُلَيْمَانُ فِي حَالِهِ الَّتِي كَانَ فِيهَا حَتَّى انْتَهَى إِلَى صَيَّادٍ مِنْ صَيَّادِي [[في ت، س، أ: "صيادين".]] الْبَحْرِ وَهُوَ جَائِعٌ وَقَدِ اشْتَدَّ جُوعُهُ. فَاسْتَطْعَمَهُمْ مِنْ صَيْدِهِمْ وَقَالَ: إِنِّي أَنَا سُلَيْمَانُ. فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُهُمْ فَضَرَبَهُ بِعَصًا فَشَجَّهُ فَجَعَلَ يَغْسِلُ دَمَهُ وَهُوَ عَلَى شَاطِئِ الْبَحْرِ فَلَامَ الصَّيَّادُونَ صَاحِبَهُمُ الَّذِي ضَرَبَهُ فَقَالُوا بِئْسَ مَا صَنَعْتَ حيث ضربته. قال: إنه زَعَمَ أَنَّهُ سُلَيْمَانُ. قَالَ: فَأَعْطَوْهُ سَمَكَتَيْنِ مِمَّا قَدْ مَذِرَ عِنْدَهُمْ فَلَمْ يَشْغَلْهُ مَا كَانَ بِهِ مِنَ الضَّرْبِ حَتَّى قَامَ إِلَى شَطِّ الْبَحْرِ فَشَقَّ بُطُونَهُمَا فَجَعَلَ يَغْسِلُ [دَمَهُ] [[زيادة من أ.]] فَوَجَدَ خَاتَمَهُ فِي بَطْنِ إِحْدَاهُمَا فَأَخَذَهُ فَلَبِسَهُ فَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ بَهَاءَهُ وَمُلْكَهُ، وَجَاءَتِ الطَّيْرُ حَتَّى حَامَتْ عَلَيْهِ فَعَرَفَ الْقَوْمُ أَنَّهُ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَامَ الْقَوْمُ يَعْتَذِرُونَ مِمَّا صَنَعُوا [بِهِ] [[زيادة من أ.]] فَقَالَ: مَا أَحْمَدُكُمْ عَلَى عُذْرِكُمْ وَلَا أَلُومُكُمْ عَلَى مَا كَانَ مِنْكُمْ، كَانَ هَذَا الْأَمْرُ لَا بُدَّ مِنْهُ. قَالَ: فَجَاءَ حَتَّى أَتَى مُلْكَهُ وَأَرْسَلَ إِلَى الشَّيْطَانِ فَجِيءَ بِهِ فَأَمَرَ بِهِ فَجُعِلَ فِي صُنْدُوقٍ مِنْ حَدِيدٍ، ثُمَّ أَطْبَقَ عَلَيْهِ وَقَفَلَ عَلَيْهِ بِقُفْلٍ وَخَتَمَ عَلَيْهِ بِخَاتَمِهِ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَأُلْقِي فِي الْبَحْرِ فَهُوَ فِيهِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ. وَكَانَ اسْمُهُ حبقيقُ قَالَ: وَسَخَّرَ [[في ت، أ: "وسخرت".]] لَهُ الرِّيحَ وَلَمْ تَكُنْ سُخِّرَتْ لَهُ قَبْلَ ذَلِكَ وَهُوَ قَوْلُهُ: ﴿وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لأحَدٍ مِنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ [[تفسير الطبري (٢٣/١٠١) .]]
وَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَوْلُهُ: ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ: شَيْطَانًا يُقَالُ لَهُ: آصِفُ. فَقَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ: كَيْفَ تَفْتِنُونَ النَّاسَ؟ قَالَ: أَرِنِي خَاتَمَكَ أُخْبِرْكَ. فَلَمَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ نَبَذَهُ آصِفُ فِي الْبَحْرِ فَسَاحَ سُلَيْمَانُ وَذَهَبَ مُلْكُهُ، وَقَعَدَ آصِفُ عَلَى كُرْسِيِّهِ وَمَنَعَهُ اللَّهُ نِسَاءَ سُلَيْمَانَ فَلَمْ يَقْرَبْهُنَّ -وَلَمْ يَقْرَبْنَهُ وَأَنْكَرْنَهُ. قَالَ: فَكَانَ سُلَيْمَانُ يَسْتَطْعِمُ فَيَقُولُ: أَتَعْرِفُونِي؟ أَطْعِمُونِي أَنَا سُلَيْمَانُ فَيُكَذِّبُونَهُ، حَتَّى أَعْطَتْهُ امْرَأَةٌ يَوْمًا حُوتًا فَجَعَلَ يُطَيِّبُ بَطْنَهُ، فَوَجَدَ خَاتَمَهُ فِي بَطْنِهِ فَرَجَعَ إِلَيْهِ مُلْكُهُ وَفَرَّ آصِفُ فَدَخَلَ الْبَحْرَ فَارًّا.
وَهَذِهِ كُلُّهَا مِنَ الْإِسْرَائِيلِيَّاتِ وَمِنْ أَنْكَرِهَا مَا قَالَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ:
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشِ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ﴾ قَالَ: أَرَادَ سُلَيْمَانُ أَنْ يَدْخُلَ الْخَلَاءَ فَأَعْطَى الْجَرَادَةَ خَاتَمَهُ -وَكَانَتِ الْجَرَادَةُ [[في ت: "جرادة".]] امْرَأَتَهُ وَكَانَتْ أَحَبَّ نِسَائِهِ إِلَيْهِ-فَجَاءَ الشَّيْطَانُ فِي صُورَةِ سُلَيْمَانَ فَقَالَ لَهَا: هَاتِي خَاتَمِي. فَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ. فَلَمَّا لَبِسَهُ دَانَتْ لَهُ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ [[في أ: "والجن والطير".]] وَالشَّيَاطِينُ فَلَمَّا خَرَجَ سُلَيْمَانُ مِنَ الْخَلَاءِ قَالَ لَهَا: هَاتِي خَاتَمِي. قَالَتْ: قَدْ أَعْطَيْتُهُ سُلَيْمَانَ. قَالَ: أَنَا سُلَيْمَانُ. قَالَتْ: كَذَبْتَ لَسْتَ سُلَيْمَانَ [[في ت: "بسليمان".]] فَجَعَلَ لَا يَأْتِي أَحَدًا يَقُولُ لَهُ: "أَنَا سُلَيْمَانُ"، إِلَّا كَذَّبَهُ حَتَّى جَعَلَ [[في أ: "جاء".]] الصِّبْيَانُ يَرْمُونَهُ بِالْحِجَارَةِ. فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَرَف أَنَّهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ: وَقَامَ الشَّيْطَانُ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ فَلَمَّا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَى سُلَيْمَانَ سُلْطَانَهُ أَلْقَى فِي قُلُوبِ النَّاسِ إِنْكَارَ ذَلِكَ الشَّيْطَانِ. قَالَ: فَأَرْسَلُوا إِلَى نِسَاءِ سُلَيْمَانَ فَقَالُوا لَهُنَّ: أَتُنْكِرْنَ مِنْ سُلَيْمَانَ شَيْئًا؟ قُلْنَ: نَعَمْ إِنَّهُ يَأْتِينَا وَنَحْنُ حُيَّضٌ وَمَا كَانَ يَأْتِينَا قَبْلَ ذَلِكَ. فَلَمَّا رَأَى الشَّيْطَانُ أَنَّهُ قَدْ فَطِنَ لَهُ [[في ت: "أنه فطن له".]] ظَنَّ أَنَّ أَمْرَهُ قَدِ انْقَطَعَ فَكَتَبُوا كُتُبًا فِيهَا سِحْرٌ وَكُفْرٌ، فَدَفَنُوهَا تَحْتَ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ ثُمَّ أَثَارُوهَا وقرءوها على الناس. وقالوا: بِهَذَا كَانَ يَظْهَرُ سُلَيْمَانُ عَلَى النَّاسِ [وَيَغْلِبُهُمْ] [[زيادة من أ.]] فَأَكْفَرَ النَّاسُ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَلَمْ يَزَالُوا يُكَفِّرُونَهُ وَبَعَثَ ذَلِكَ الشيطانُ بِالْخَاتَمِ فَطَرَحَهُ فِي الْبَحْرِ فَتَلَقَّتْهُ سَمَكَةٌ فَأَخَذَتْهُ. وَكَانَ سُلَيْمَانُ يَحْمِلُ عَلَى شَطِّ الْبَحْرِ بِالْأَجْرِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَاشْتَرَى سَمَكًا فِيهِ تِلْكَ السَّمَكَةُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا الْخَاتَمُ فَدَعَا سُلَيْمَانُ فَقَالَ: تَحْمِلُ لِي هَذَا السَّمَكَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ. قَالَ: بِكَمْ؟ قَالَ بِسَمَكَةٍ مِنْ هَذَا السَّمَكِ. قَالَ: فَحَمَلَ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلَامُ السَّمَكَ ثُمَّ انْطَلَقَ بِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ فَلَمَّا انْتَهَى الرَّجُلُ إِلَى بَابِهِ أَعْطَاهُ تِلْكَ السَّمَكَةَ الَّتِي فِي بَطْنِهَا الْخَاتَمُ فَأَخَذَهَا سُلَيْمَانُ فَشَقَّ بَطْنَهَا، فَإِذَا الْخَاتَمُ فِي جَوْفِهَا فَأَخَذَهُ فَلَبِسَهُ. قَالَ: فَلَمَّا لَبِسَهُ دَانَتْ لَهُ الْجِنُّ وَالْإِنْسُ وَالشَّيَاطِينُ وَعَادَ إِلَى حَالِهِ وَهَرب الشَّيْطَانُ حَتَّى دَخَلَ جَزِيرَةً [[في ت: "لحق بجزيرة".]] مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ فَأَرْسَلَ سُلَيْمَانُ فِي طَلَبِهِ وَكَانَ شَيْطَانًا مَرِيدًا فَجَعَلُوا يَطْلُبُونَهُ وَلَا يَقْدِرُونَ عَلَيْهِ حَتَّى وَجَدُوهُ يَوْمًا نَائِمًا فَجَاءُوا فَبَنَوْا عَلَيْهِ بُنْيَانًا مِنْ رَصَاصٍ فَاسْتَيْقَظَ فَوَثَبَ فَجَعَلَ لَا يَثِبُ فِي مَكَانٍ من البيت إلا أنماط معه من الرَّصَاصُ قَالَ: فَأَخَذُوهُ فَأَوْثَقُوهُ وَجَاءُوا بِهِ إِلَى سُلَيْمَانَ، فَأَمَرَ بِهِ فَنُقِرَ [[في ت: "فثقب".]] لَهُ تَخْتٌ مِنْ رُخَامٍ ثُمَّ أُدْخِلَ فِي جَوْفِهِ ثُمَّ سُدَّ بِالنُّحَاسِ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَطُرِحَ فِي الْبَحْرِ فَذَلِكَ قَوْلُهُ: ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ﴾ قَالَ: يَعْنِي الشَّيْطَانَ الَّذِي كَانَ سُلِّطَ عَلَيْهِ.
إِسْنَادُهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَوِيٌّ وَلَكِنَّ الظَّاهِرَ أَنَّهُ إِنَّمَا تَلَقَّاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ -إِنْ صَحَّ عَنْهُ-مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَفِيهِمْ طَائِفَةٌ لَا يَعْتَقِدُونَ نُبُوَّةَ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَالظَّاهِرُ أَنَّهُمْ يَكْذِبُونَ عَلَيْهِ وَلِهَذَا كَانَ فِي السِّيَاقِ مُنْكَرَاتٌ مِنْ أَشَدِّهَا ذِكْرُ النِّسَاءِ فَإِنَّ الْمَشْهُورَ أَنَّ [[في أ: "فإن المشهور عن مجاهد وغير واحد من السلف أن".]] ذَلِكَ الْجِنِّيَّ لَمْ يُسَلَّطْ عَلَى نِسَاءِ سُلَيْمَانَ بَلْ عَصَمَهُنَّ اللَّهُ مِنْهُ تَشْرِيفًا وَتَكْرِيمًا لِنَبِيِّهِ ﷺ، وَقَدْ رُوِيَتْ هَذِهِ الْقِصَّةُ مُطَوَّلَةً عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ السَّلَفِ، كَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَجَمَاعَةٍ آخَرِينَ وَكُلُّهَا متُلقًّاة مِنْ قَصَصِ أَهْلِ الْكِتَابِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ.
وَقَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ: وَجَدَ سُلَيْمَانُ خَاتَمَهُ فِي عَسْقَلَانَ، فَمَشَى فِي خِرْقَةٍ [[في أ: "بحرقة".]] إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ تَوَاضُعًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَقَدْ رَوَى ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ فِي صِفَةِ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ خَبَرًا عَجِيبًا فَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاقَ الْمِصْرِيُّ عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ؛ أَنَّهُ لَمَّا فَرَغَ مِنْ حَدِيثِ "إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ" قَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ أَخْبِرْنِي عَنْ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ وَمَا كَانَ عَلَيْهِ؛ وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ هُوَ؟ فَقَالَ: كَانَ كُرْسِيُّ سُلَيْمَانَ مِنْ أَنْيَابِ الْفِيَلَةِ مُفَصّصاً بِالدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ وَالزَّبَرْجَدِ وَاللُّؤْلُؤِ. وَقَدْ جُعل لَهُ دَرَجَةً مِنْهَا مُفَصّصة بِالدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ وَالزَّبَرْجَدِ ثُمَّ أَمَرَ بِالْكُرْسِيِّ فحُفّ مِنْ جَانِبَيْهِ بِالنَّخْلِ، نَخْلٌ مِنْ ذَهَبٍ شَمَارِيخُهَا مِنْ يَاقُوتٍ وَزَبَرْجَدٍ وَلُؤْلُؤٍ. وَجُعِلَ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ الَّتِي عَنْ يَمِينِ الْكُرْسِيِّ طَوَاوِيسُ مَنْ ذَهَبٍ، ثُمَّ جُعِلَ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ الَّتِي عَلَى يَسَارِ الْكُرْسِيِّ نُسُورٌ مَنْ ذَهَبٍ مُقَابَلَةَ الطَّوَاوِيسِ، وَجُعِلَ على يمين الدرجة الأولى شَجَرَتَا صَنَوْبَرٍ مَنْ ذَهَبٍ، وَعَنْ يَسَارِهَا أَسَدَانِ مَنْ ذَهَبٍ وَعَلَى رُءُوسِ الْأَسَدَيْنِ عَمُودَانِ مِنْ زَبَرْجَدٍ وَجُعِلَ مِنْ جَانِبَيِ الْكُرْسِيِّ شَجَرَتَا كَرْمٍ مَنْ ذَهَبٍ قَدْ أَظَلَّتَا الْكُرْسِيَّ وَجُعِلَ عَنَاقِيدُهُمَا دُرًّا وَيَاقُوتًا أَحْمَرَ. ثُمَّ جُعل فَوْقَ دَرَج الْكُرْسِيِّ أسَدَان عَظِيمَانِ مِنْ ذَهَبٍ مُجَوَّفَانِ مَحْشُوَّانِ مِسْكًا وَعَنْبَرًا. فَإِذَا أَرَادَ سُلَيْمَانُ أَنْ يَصْعَدَ عَلَى كُرْسِيِّهِ اسْتَدَارَ الْأَسَدَانِ سَاعَةً ثُمَّ يَقَعَانِ [[في ت: "يقفان".]] فَيَنْضَحَانِ مَا فِي أَجْوَافِهِمَا مِنَ الْمِسْكِ وَالْعَنْبَرِ حَوْلَ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، ثُمَّ يُوضَعُ مِنْبَرَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَاحِدٌ لِخَلِيفَتِهِ وَالْآخِرُ لِرَئِيسِ أَحْبَارِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ذَلِكَ الزَّمَانِ. ثُمَّ يُوضَعُ أَمَامَ كُرْسِيِّهِ سَبْعُونَ مِنْبَرًا مِنْ ذَهَبٍ يَقْعُدُ عَلَيْهَا سَبْعُونَ قَاضِيًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَعُلَمَائِهِمْ وَأَهْلِ الشَّرَفِ مِنْهُمْ وَالطَوْلِ وَمِنْ خَلْفِ تِلْكَ الْمَنَابِرِ كُلِّهَا خَمْسَةٌ وَثَلَاثُونَ مِنْبَرًا مِنْ ذَهَبٍ لَيْسَ عَلَيْهَا أَحَدٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَصْعَدَ عَلَى كُرْسِيِّهِ وَضَعَ قَدَمَيْهِ عَلَى الدَّرَجَةِ السُّفْلَى فَاسْتَدَارَ الْكُرْسِيُّ كُلُّهُ بِمَا فِيهِ وَمَا عَلَيْهِ، وَيَبْسُطُ الْأَسَدُ يَدَهُ الْيُمْنَى وَيَنْشُرُ النَّسْرُ جَنَاحَهُ الْأَيْسَرَ ثُمَّ يَصْعَدُ [سُلَيْمَانُ] [[زيادة من ت، أ.]] عَلَى الدَّرَجَةِ الثَّانِيَةِ فَيَبْسُطُ الْأَسَدُ يَدَهُ الْيُسْرَى وَيَنْشُرُ النَّسْرُ جَنَاحَهُ الْأَيْمَنَ فَإِذَا اسْتَوَى سُلَيْمَانُ عَلَى الدَّرَجَةِ الثَّالِثَةِ وَقَعَدَ عَلَى الْكُرْسِيِّ أَخَذَ نَسْرٌ مِنْ تِلْكَ النُّسُورِ عَظِيمٌ تَاجَ سُلَيْمَانَ فَوَضَعَهُ عَلَى رَأْسِهِ فَإِذَا وَضَعَهُ عَلَى رَأْسِهِ اسْتَدَارَ الْكُرْسِيُّ بِمَا فِيهِ كَمَا تَدُورُ الرَّحَى الْمُسْرِعَةُ. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَمَا الَّذِي يُدِيرُهُ يَا أَبَا إِسْحَاقَ؟ قَالَ: تِنِّينٌ مِنْ ذَهَبِ ذَلِكَ الْكُرْسِيِّ عَلَيْهِ وَهُوَ عَظِيمٌ مِمَّا عَمِلَهُ صَخْرٌ الْجِنِّيُّ فَإِذَا أَحَسَّتْ بِدَوَرَانِهِ تِلْكَ النُّسُورُ والأسْدُ وَالطَّوَاوِيسُ الَّتِي فِي أَسْفَلِ الْكُرْسِيِّ دُرْنَ إِلَى أَعْلَاهُ فَإِذَا وَقَفَ وَقَفْنَ كُلُّهُنَّ مُنَكِّسَاتٍ رُءُوسَهُنَّ عَلَى رَأْسِ سُلَيْمَانَ [ابْنِ دَاوُدَ] [[زيادة من أ.]] عَلَيْهِ [[في أ: "عليهما".]] السَّلَامُ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ يَنْضَحْنَ جَمِيعًا مَا فِي أَجْوَافِهِنَّ مِنَ الْمِسْكِ وَالْعَنْبَرِ عَلَى رَأْسِ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ. ثُمَّ تَتَنَاوَلُ حَمَامَةٌ مَنْ ذَهَبٍ وَاقِفَةٌ عَلَى عَمُودٍ مِنْ جَوْهَرٍ التوراةَ فَتَجْعَلُهَا فِي يَدِهِ فَيَقْرَؤُهَا سُلَيْمَانُ عَلَى النَّاسِ.
وَذَكَرَ تَمَامَ الْخَبَرِ [[في ت: "الحديث".]] وَهُوَ غَرِيبٌ جِدًّا.
﴿قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لأحَدٍ مِنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ قَالَ بَعْضُهُمْ: مَعْنَاهُ: لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي أَيْ: لَا يَصْلُحُ لِأَحَدٍ أَنْ يَسْلُبَنِيهِ كَمَا كَانَ مِنْ قَضِيَّةِ [[في ت: "في قصة"، وفي أ: "من قصة".]] الْجَسَدِ الَّذِي أُلْقِيَ عَلَى كُرْسِيِّهِ لَا أَنَّهُ يَحْجُرُ عَلَى مَنْ بَعْدَهُ مِنَ النَّاسِ. وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ سَأَلَ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى مُلْكًا لَا يَكُونُ لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ مِنَ الْبَشَرِ مِثْلُهُ، وَهَذَا هُوَ ظَاهِرُ السِّيَاقِ مِنَ الْآيَةِ وَبِهِ [[في ت، س، أ: "وبذلك".]] وَرَدَتِ الْأَحَادِيثُ الصَّحِيحَةُ مِنْ طُرُقٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ.
قَالَ [[في ت: "فروى".]] الْبُخَارِيُّ عِنْدَ تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا رَوْحٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّت عَلَيَّ الْبَارِحَةَ -أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا-لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصبحوا وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ: ﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لأحَدٍ مِنْ بَعْدِي﴾
قَالَ رَوْحٌ: فَرَدَّهُ خَاسِئًا [[صحيح البخاري برقم (٤٨٠٨) .]]
وَكَذَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ بِهِ [[صحيح مسلم برقم (٥٤١) والنسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٤٠) .]]
وَقَالَ مُسْلِمٌ فِي صَحِيحِهِ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ المُرَادي حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ حَدَّثَنِي رَبِيعَةَ بْنِ يَزيد عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي فَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ: "أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ". ثُمَّ قَالَ: "أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ" -ثَلَاثًا-وَبَسَطَ يَدَه كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُهُ قَبْلَ ذَلِكَ وَرَأَيْنَاكَ بَسَطَتْ يَدَكَ؟ قَالَ: "إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ -ثَلَاثَ مَرَّاتٍ-ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ التَّامَّةِ. فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أخْذَه وَاللَّهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا يَلْعَبُ بِهِ صِبْيَانُ [[في ت، س، أ: "ولدان".]] أَهْلِ الْمَدِينَةِ" [[صحيح مسلم برقم (٥٤٢) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ حَاجِبُ سُلَيْمَانَ قَالَ: رَأَيْتُ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ قَائِمًا يُصَلِّي، فَذَهَبْتُ أَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَرَدَّنِي ثُمَّ قَالَ [[في ت: "بإسناده".]] حَدَّثَنِي [[في ت: "عن".]] أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَامَ يُصَلِّي [[في ت: "فصلى".]] صَلَاةَ الصُّبْحِ وَهُوَ خَلْفُهُ فَقَرَأَ فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صِلَاتِهِ قَالَ: "لَوْ رَأَيْتُمُونِي وَإِبْلِيسَ فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي فَمَا زِلْتُ أَخْنُقُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ لُعَابِهِ بَيْنَ أُصْبُعَيَّ هَاتَيْنِ -الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا-وَلَوْلَا دَعْوَةُ أَخِي سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ [[في ت: "أصبح".]] مَرْبُوطًا بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، يَتَلَاعَبُ بِهِ صِبْيَانُ الْمَدِينَةِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَلَّا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ أَحَدٌ فَلْيَفْعَلْ".
وَقَدْ رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ: "مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَلَّا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ أَحَدٌ فَلْيَفْعَلْ" عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيج عَنْ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيِّ بِهِ [[المسند (٣/٨٣) وسنن أبي داود برقم (٦٩٩) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَهُوَ فِي حَائِطٍ لَهُ بِالطَّائِفِ يُقَالُ لَهُ: "الْوَهْطُ"، وَهُوَ مُخَاصر فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ يُزَنّ بشُرْب الْخَمْرِ، فَقُلْتُ: بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثٌ أَنَّهُ "مِنْ شَرِبِ شَرْبَةَ خَمْر لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ -عَزَّ وَجَلَّ-لَهُ تَوبَةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، وَإِنَّ الشَّقِيَّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَإِنَّهُ مَنْ أَتَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ لا يَنْهَزه إلا الصلاة فيه، خرج مِنْ خَطِيئَتِهِ مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، فَلَمَّا سَمِعَ الْفَتَى ذَكْرَ الْخَمْرِ اجْتَذَبَ يَدَهُ مِنْ يَدِهِ ثُمَّ انْطَلَقَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو [[في أ: "عمرو رضي الله عنهما".]] إِنِّي لَا أُحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ عَلَيّ مَا لَمْ أَقُلْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "مَنْ شَرِبَ مِنَ الْخَمْرِ شَرْبَةً لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ [[في أ: "وإن".]] عَادَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ. فَإِنْ عَادَ -قَالَ فَلَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ-فَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ رَدْغَة الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" قَالَ: وَسَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ ثُمَّ أَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ نُورِهِ يَوْمَئِذٍ اهْتَدَى وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ فَلِذَلِكَ [[في أ: "ولذلك".]] أَقُولُ جَفَّ الْقَلَمُ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" وَسَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "إِنَّ سُلَيْمَانَ سَأَلَ اللَّهَ تَعَالَى ثَلَاثًا فَأَعْطَاهُ اثْنَتَيْنِ وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ تَكُونَ لَنَا الثَّالِثَةُ: سَأَلَهُ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَسَأَلَهُ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَسَأَلَهُ أَيُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ مَنْ بَيْتِهِ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ [[في ت، س، أ: "مثل يوم".]] وَلَدَتْهُ أُمُّهُ فَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللَّهُ تَعَالَى [[في ت، س، أ: "عز وجل".]] قَدْ أَعْطَانَا إِيَّاهَا" [[المسند (٢/١٧٦) .]]
وَقَدْ رَوَى هَذَا الْفَصْلَ الْأَخِيرَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ مِنْ طُرُقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَيْرُوزَ الدَّيْلِمِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ سُلَيْمَانَ لَمَّا بَنَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ سَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خِلَالًا ثَلَاثًا ... " وَذَكَرَهُ [[سنن النسائي (٢/٤٣) وسنن ابن ماجة برقم (١٤٠٨) .]]
وَقَدْ رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ رَافِعِ بْنِ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، بِإِسْنَادٍ وَسِيَاقٍ غَرِيبَيْنِ فَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبة الْعَسْقَلَانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ سُوَيْد حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَة عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ [[في ت: "وروى الطبراني بإسناده".]] عَنْ رَافِعِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِدَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ابْنِ لِي بَيْتًا فِي الْأَرْضِ. فَبَنَى دَاوُدُ [[في ت: "داود عليه السلام".]] بَيْتًا لِنَفْسِهِ قَبْلَ الْبَيْتِ الَّذِي أُمِرَ بِهِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: يَا دَاوُدُ نَصَبْتَ بَيْتَكَ قَبْلَ بَيْتِي؟ قَالَ: يَا رَبِّ هَكَذَا قَضَيْتَ [[في ت، س، أ: "هكذا قلت فيما قضيت".]] مَنْ مَلَكَ اسْتَأْثَرَ ثُمَّ أَخَذَ فِي بِنَاءِ الْمَسْجِدِ فَلَمَّا تَمَّ السُّورَ سَقَطَ ثَلَاثًا فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ: يَا دَاوُدُ [[في ت، أ: "فأوحى الله إليه"]] إِنَّكَ لَا تَصْلُحُ أَنْ تَبْنِيَ لِي بَيْتًا قَالَ: وَلِمَ يَا رَبِّ؟ قَالَ: لِمَا جَرَى عَلَى يَدَيْكَ مِنَ الدِّمَاءِ. قَالَ: يَا رَبِّ أَوْ مَا كَانَ [[في ت، س، أ: "أو لم يكن".]] ذَلِكَ فِي هَوَاكَ وَمَحَبَّتِكَ؟ قَالَ: بَلَى وَلَكِنَّهُمْ عِبَادِي وَأَنَا أَرْحَمُهُمْ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: لَا تَحْزَنْ فَإِنِّي سَأَقْضِي بِنَاءَهُ عَلَى يَدَيِ ابْنِكَ سُلَيْمَانَ. فَلَمَّا مَاتَ دَاوُدُ أَخْذَ سُلَيْمَانُ فِي بِنَائِهِ فَلَمَّا تَمَّ قَرَّبَ الْقَرَابِينَ وَذَبَحَ الذَّبَائِحَ وَجَمَعَ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: قَدْ أَرَى سرورَك بِبُنْيَانِ بَيْتِي فَسَلْنِي أُعْطِكَ. قَالَ: أَسْأَلُكَ ثَلَاثَ خِصَالٍ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَكَ وَمُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي وَمَنْ أَتَى هَذَا الْبَيْتَ لَا يُرِيدُ إلا الصلاة فيه خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أما ثِنْتَانِ فَقَدْ أُعْطِيَهُمَا وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أُعْطِيَ الثَّالِثَةَ" [[المعجم الكبير (٥/٢٤) قال الهيثمي في المجمع (٤/٨) : "فيه محمد بن أيوب بن سويد الرملي وهو متهم بالوضع".]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عُمَر بْنُ رَاشِدٍ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ دَعَا دُعَاءً إِلَّا اسْتَفْتَحَهُ بِـ "سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّي الْأَعْلَى الْعَلِيِّ الْوَهَّابِ" [[المسند (٤/٥٤) قال الهيثمي في المجمع (١٠/١٥٦) : "فيه عمر بن راشد اليمامي وثقه غير واحد، وبقية رجاله رجال الصحيح".]]
وَقَدْ قَالَ [[في ت: "وروى".]] أَبُو عَبِيدٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بَرْقان عَنْ صَالِحِ بْنِ مِسْمَارٍ قَالَ: لَمَّا مَاتَ نَبِيُّ اللَّهِ دَاوُدُ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى ابْنِهِ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِمَا [[في ت، أ: "عليه".]] السَّلَامُ: أَنْ سَلْنِي حَاجَتَكَ. قَالَ: أَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ لِي قَلْبًا يَخْشَاكَ كَمَا كَانَ قَلْبُ أَبِي وَأَنْ تَجْعَلَ قَلْبِي يُحِبُّكَ كَمَا كَانَ قَلْبُ أَبِي. فَقَالَ اللَّهُ: أَرْسَلْتُ إِلَى عَبْدِي وَسَأَلَتْهُ [[في ت، س: "أسأله".]] حَاجَتَهُ فَكَانَتْ [حَاجَتُهُ] [[زيادة من ت، س.]] أَنْ أَجْعَلَ قَلْبَهُ يَخْشَانِي وَأَنْ أَجْعَلَ قَلْبَهُ يُحِبُّنِي لأهَبَنّ لَهُ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ﴾ وَالَّتِي بَعْدَهَا، قَالَ: فَأَعْطَاهُ [اللَّهُ] [[زيادة من أ.]] مَا أَعْطَاهُ وَفِي الْآخِرَةِ لَا حِسَابَ عَلَيْهِ.
هَكَذَا أَوْرَدَهُ أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ عَسَاكِرَ فِي تَرْجَمَةِ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي تَارِيخِهِ [[تاريخ دمشق (٧/٥٦٩) "القسم المخطوط".]]
وَرُوِيَ عَنْ بَعْضِ السَّلَفِ أَنَّهُ قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ دَاوُدَ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ت، س، أ.]] أَنَّهُ قَالَ: "إِلَهِي كُنْ لِسُلَيْمَانَ كَمَا كُنْتَ لِي": فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: أَنْ قُلْ لِسُلَيْمَانَ: يَكُونُ لِي كَمَا كُنْتَ لِي، أَكُونُ لَهُ كَمَا كنتُ لَكَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ﴾ قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَمَّا عَقَرَ سُلَيْمَانُ الْخَيْلَ غَضَبًا لِلَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ عَوَّضَهُ اللَّهُ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا وَأَسْرَعُ الرِّيحُ الَّتِي غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿حَيْثُ أَصَابَ﴾ أَيْ: حَيْثُ أَرَادَ مِنَ الْبِلَادِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ﴾ أَيْ: مِنْهُمْ مَنْ هُوَ مُسْتَعْمَلٌ فِي الْأَبْنِيَةِ الْهَائِلَةِ مِنْ مَحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجَفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَاسِيَاتٍ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَعْمَالِ الشَّاقَّةِ الَّتِي لَا يَقْدِرُ عَلَيْهَا الْبَشَرُ وَطَائِفَةٌ غَوَّاصُونَ فِي الْبِحَارِ يَسْتَخْرِجُونَ مِمَّا [[في ت: "ما".]] فِيهَا مِنَ اللَّآلِئِ وَالْجَوَاهِرِ وَالْأَشْيَاءِ النَّفِيسَةِ الَّتِي لَا تُوجَدُ إِلَّا فِيهَا ﴿وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الأصْفَادِ﴾ أَيْ: مُوثَقُونَ فِي الْأَغْلَالِ وَالْأَكْبَالِ مِمَّنْ قَدْ تَمَرّد وَعَصَى وَامْتَنَعَ مِنَ الْعَمَلِ وَأَبَى أَوْ قَدْ أَسَاءَ فِي صنيعه واعتدى.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿هَذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ أَيْ: هَذَا الَّذِي أَعْطَيْنَاكَ مِنَ الْمُلْكِ التَّامِّ وَالسُّلْطَانِ الْكَامِلِ كَمَا سَأَلْتَنَا فَأَعْطِ مَنْ شِئْتَ وَاحْرِمْ مَنْ شِئْتَ، لَا حِسَابَ عَلَيْكَ، أَيْ: مَهْمَا فعلتَ فَهُوَ جَائِزٌ لَكَ احْكُمْ بِمَا شِئْتَ فَهُوَ صَوَابٌ. وَقَدْ ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ [[في أ: "الصحيح".]] أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لَمَّا خُيِّر بَيْنَ أَنْ يَكُونَ عَبْدًا رَسُولًا -وَهُوَ الَّذِي يَفْعَلُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ وَإِنَّمَا هُوَ قَاسِمٌ يَقْسِمُ بَيْنَ النَّاسِ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ بِهِ-وَبَيْنَ أَنْ يَكُونَ مَلِكًا نَبِيًّا يُعْطِي مَنْ يَشَاءُ وَيَمْنَعُ مَنْ يَشَاءُ بِلَا حِسَابٍ وَلَا جُنَاحٍ، اخْتَارَ الْمَنْزِلَةَ الْأُولَى بَعْدَ مَا اسْتَشَارَ جِبْرِيلَ فَقَالَ لَهُ: تَوَاضَعْ فَاخْتَارَ الْمَنْزِلَةَ الْأُولَى لِأَنَّهَا أَرْفَعُ قَدْرًا عِنْدَ اللَّهِ وَأَعْلَى مَنْزِلَةً فِي الْمَعَادِ وَإِنْ كَانَتِ الْمَنْزِلَةُ الثَّانِيَةُ وَهِيَ النُّبُوَّةُ مَعَ الْمُلْكِ عَظِيمَةً أَيْضًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلِهَذَا لَمَّا ذَكَرَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَا أَعْطَى سُلَيْمَانَ فِي الدُّنْيَا نَبَّهَ عَلَى أَنَّهُ ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْضًا، فَقَالَ: ﴿وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ﴾ أَيْ: فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ.
فَسَخَّرْنَا لَهُ ٱلرِّيحَ تَجْرِى بِأَمْرِهِۦ رُخَآءً حَيْثُ أَصَابَ
So We subjected to him the wind blowing by his command, gently, wherever he directed,
پھر ہم نے ہوا کو ان کے زیرفرمان کردیا کہ جہاں وہ پہنچنا چاہتے ان کے حکم سے نرم نرم چلنے لگتی
پس ما باد را مسخّر او ساختیم تا به فرمانش بنرمی حرکت کند و به هر جا او میخواهد برود!
Tafsir Ibn Kathir
And indeed, We tried Sulayman and We placed on his throne Jasad (a body), and he returned (34)He said: "My Lord! Forgive me, and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me. Verily, You are the Bestower. (35)So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order wherever he willed (36)And the Shayatin, from every kind of builder and diver (37)And also others bound in fetters (38)[Allah said to Sulayman]: "This is Our gift, so spend you or withhold, no account will be asked of you. (39)And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return (40)
How Allah tested Sulayman then made Things easy for Him
Allah says,
وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ
(And indeed, We tried Sulayman) meaning, 'We tested him.'
وَأَلْقَيْنَا عَلَىٰ كُرْسِيِّهِ جَسَدًا
(and We placed on his throne Jasad (a body)).
ثُمَّ أَنَابَ
(and he returned.) means, after this test, he turned back to Him and asked for forgiveness and to be given a kingdom such as shall not belong to any other after him.
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
(He said: "My Lord! Forgive me, and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me. Verily, You are the Bestower.")
Some of them said, "No one after me will have the right to ask Allah for such a kingdom." This is the apparent meaning from the context of the Ayah, and several Hadiths with a similar meaning have been narrated from the Messenger of Allah ﷺ.
In his Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet ﷺ said:
إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ، وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنَ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتّٰى تُصْبِحُوا،وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي
(An 'Ifrit from among the Jinn came and bothered me last night – or he said something similar – trying to stop me from praying. Allah enabled me to overpower him, and I wanted to tie him to one of the pillars in the Masjid so that you could see him this morning. Then I remembered what my brother Sulayman said, (My Lord! Forgive me and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me))
Rawh said, "so he let him go, humiliated." ) This was also recorded by Muslim and An-Nasa'i. In his Sahih, Muslim recorded that Abu Ad-Darda', may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ stood up to pray and we heard him say,
أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ
(I seek refuge with Allah from you.) Then he said,
أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ
(I curse you with the curse of Allah.) three times, and he stretched out his hand as if he was reaching out to take something. When he finished his prayer, we said, 'O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer which we have never heard you say before, and we saw you stretching out your hand.' He ﷺ said:
إِنَّ عَدُوَّ اللهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ التَّامَّةِ، فَلَمْ يَتَأَخَّرْ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ،وَاللهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا، يَلْعَبُ بِهِ صِبْيَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ
(The enemy of Allah Iblis came with a flame of fire to throw in my face, so I said, "I seek refuge with Allah from you" three times, then I said, "I curse you with the complete curse of Allah," but he did not back off. I said it three times. Then I wanted to seize him. By Allah, if it were not for the words of our brother Sulayman, he would have been chained up and he would have become a plaything for the children of the people of Al-Madinah.)" Allah says:
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ
(So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order wherever he willed.) Al-Hasan Al-Basri, may Allah have mercy on him, said, "When Sulayman, peace be upon him, slaughtered the horses out of anger for the sake of Allah, Allah compensated him with something better and swifter, the wind whose morning was a month's (journey), and its afternoon was a month's (journey)."
حَيْثُ أَصَابَ
(wherever he willed.) means, wherever in the world he wanted.
وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ
(And also the Shayatin, from every kind of builder and diver,) means, among them were some whom he used to build high rooms, images, basins as large as reservoirs, and cauldrons fixed (in their places), and other difficult tasks which humans were unable to do. And there was another group, who dived into the sea recovering pearls, jewels and other precious things which cannot be found anywhere else.
وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
(And also others bound in fetters.) means, tied up in chains. These were the ones who had rebelled and refused to work, or else their work was bad and they were wrongdoers.
هَٰذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ
([Allah said to Sulayman]: "This is Our Gift, so spend you or withhold, no account will be asked of you.") means, 'this that We have given to you of kingship and perfect power, as you asked for, you may give to whomsoever you wish and deny to whomsoever you wish, and you will not be brought to account. Whatever you do is permissible for you, so however you judge, it will be right.' It was reported in the Two Sahihs that when the Messenger of Allah ﷺ was given the choice between being a servant and a Messenger – who does what he is commanded to do and distributes things among the people as Allah commands him to do – or being a Prophet and a king, who can give to whomever he wishes and withhold from whomever he wishes without being held accountable for anything, he chose the former. He consulted with Jibril, peace be upon him, who said, "Be humble." So he chose the former because it has a greater value before Allah and brings a higher status in the Hereafter, even though the second option, prophethood combined with kingship, is also a great thing both in this world and in the Hereafter, when Allah tells us what He gave to Sulayman, peace be upon him, in this world, He tells us that he will have a great share with Allah on the Day of Resurrection. He says:
وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ
(And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return.) meaning, in this world and the Hereafter.
Tafsir Ibn Kathir
سلیمان ؑ کا تفصیلی تذکرہ۔ہم نے حضرت سلیمان کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ ؓ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہرچند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتاسکتا ہے آپ نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر میں ملتا تھا ہر ساتویں دن اس میں لبالب پانی آجاتا تھا اور یہی پانی یہ شیطان پیتا تھا۔ اس کا پانی نکال دیا گیا اور بالکل خالی کر کے پانی کو بند کر کے اس کے آنے والے دن اسے شراب سے پر کردیا گیا جب شیطان آیا اور یہ حال دیکھا تو کہنے لگا یہ تو مزے کی چیز ہے لیکن عقل کی دشمن جہالت کو ترقی دینے والی چیز ہے۔ چناچہ وہ پیاسا ہی چلا گیا۔ جب پیاس کی شدت ہوئی تو مجبوراً یہ سب کچھ کہتے ہوئے پینا ہی پڑا۔ اب عقل جاتی رہی اور اسے حضرت سلیمان کی انگوٹھی دکھائی گئی یا مونڈھوں کے درمیان سے مہر لگا دی گئی۔ یہ بےبس ہوگیا حضرت سلیمان کی حکومت اسی انگوٹھی کی وجہ سے تھی۔ جب یہ حضرت سلیمان کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے یہ کام سر انجام دینے کا حکم دیا یہ ہدہد کے انڈے لے آیا اور انہیں جمع کر کے ان پر شیشہ رکھ دیا۔ ہدہد آیا اس نے اپنے انڈے دیکھے چاروں طرف گھوما لیکن دیکھا کہ ہاتھ نہیں آسکتے اڑ کر واپس چلا گیا اور الماس لے آیا اور اسے اس شیشے پر رکھ کر شیشے کو کاٹنا شروع کردیا آخر وہ کٹ گیا اور ہدہد اپنے انڈے لے گیا اور اس الماس کو بھی لے لیا گیا اور اسی سے پتھر کاٹ کاٹ کر عمارت شروع ہوئی حضرت سلیمان ؑ جب بیت الخلا میں یا حمام میں جاتے تو انگوٹھی اتار جاتے ایک دن حمام میں جانا تھا اور یہ شیطان آپ کے ساتھ تھا آپ اس وقت فرضی غسل کے لئے جا رہے تھے انگوٹھی اسی کو سونپ دی اور چلے گئے اس نے انگوٹھی سمندر میں پھینک دی اور شیطان پر حضرت سلیمان کی شکل ڈال دی گئی اور آپ سے تخت و تاج چھن گیا۔ سب چیزوں پر شیطان نے قبضہ کرلیا سوائے آپ کی بیویوں کے۔ اب اس سے بہت سی غیر معروف باتیں ظہور میں آنے لگیں اس زمانہ میں ایک صاحب تھے جو ایسے ہی تھے جیسے حضور ﷺ کے زمانہ میں حضرت فاروق ؓ۔ اس نے کہا آزمائش کرنی چاہئے مجھے تو یہ شخص سلیمان معلوم نہیں ہوتا۔ چناچہ ایک روز اس نے کہا کیوں جناب اگر کوئی شخص رات کو جنبی ہوجائے اور موسم ذرا ٹھنڈا ہو اور وہ سورج طلوع ہونے تک غسل نہ کرے تو کوئی حرج تو نہیں ؟ اس نے کہا ہرگز نہیں۔ چالیس دن تک یہ تخت سلیمان پر رہا پھر آپ کی مچھلی کے پیٹ سے انگوٹھی مل گئی ہاتھ میں ڈالتے ہی پھر تمام چیزیں آپ کی مطیع ہوگئیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ سدی فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ کی ایک سو بیویاں تھیں آپ کو سب سے زیادہ اعتبار ان میں سے ایک بیوی پر تھا جن کا نام جراوہ تھا۔ جب جنبی ہونے یا پاخانے جاتے تو اپنی انگوٹھی انہی کو سونپ جاتے۔ ایک مرتبہ آپ پاخانے گئے پیچھے سے ایک شیطان آپ ہی کی صورت بنا کر آیا اور بیوی صاحبہ سے انگوٹھی طلب کی آپ نے دے دی یہ آتے ہی تخت پر بیٹھ گیا جب حضرت سلیمان آئے اور انگوٹھی طلب کی تو بیوی صاحبہ نے فرمایا آپ انگوٹھی تو لے گئے۔ آپ سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے نہایت پریشان حال سے محل سے نکل گئے اس شیطان نے چالیس دن تک حکومت کی لیکن احکام کی تبدیلی کو دیکھ کر علماء نے سمجھ لیا کہ یہ سلیمان نہیں۔ چناچہ ان کی جماعت آپ کی بیویوں کے پاس آئی اور ان سے کہا یہ کیا معاملہ ہے ہمیں سلیمان کی ذات میں شک پڑگیا۔ اگر یہ سچ مچ سلیمان ہے تو اس کی عقل جاتی رہی ہے یا یہ کہ یہ سلیمان ہی نہیں۔ ورنہ ایسے خلاف شرع احکام نہ دیتا۔ عورتیں یہ سن کر رونے لگیں۔ یہ یہاں سے واپس آگئے اور تخت کے اردگرد اسے گھیر کر بٹھ گئے اور تورات کھول کر اس کی تلاوت شروع کردی۔ یہ خبیث شیطان کلام اللہ سے بھاگا اور انگوٹھی سمندر میں پھینک دی جسے ایک مچھلی نگل گئی۔ حضرت سلیمان یونہی اپنے دن گذارتے تھے ایک مرتبہ سمندر کے کنارے نکل گئے بھوک بہت لگی ہوئی تھی ماہی گیروں کو مچھلیاں پکڑتے ہوئے دیکھ کر ان کے پاس آ کر ان سے ایک مچھلی مانگی اور اپنا نام بھی بتایا، اس پر بعض لوگوں کو بڑا طیش آیا کہ دیکھو بھیک مناگنے والا اپنے تئیں سلیمان بتاتا ہے انہوں نے آپ کو مارنا پیٹنا شروع کیا آپ زخمی ہو کر کنارے جا کر اپنے زخم کا خون دھونے لگے۔ بعض ماہی گیروں کو رحم آگیا کہ ایک سائل کو خواہ مخواہ مارا۔ جاؤ بھئی اسے دو مچھلیاں دے آؤ بھوکا ہے بھون کھائے گا۔ چناچہ و مچھلیاں آپ کو دے آئے بھوک کی وجہ سے آپ اپنے زخم کو اور خون کو تو بھول گئے اور جلدی سے مچھلی کا پیٹ چاک کرنے بیٹھ گئے۔ قدرت اللہ سے اس کے پیٹ سے وہ انگوٹھی نکلی آپ نے اللہ کی تعریف بیان کی اور انگوٹھی انگلی میں ڈالی اس وقت پرندوں نے آ کر آپ پر سایہ کرلیا اور لوگوں نے آپ کو پہچان لیا اور آپ سے معذرت کرنے لگے آپ نے فرمایا یہ سب امر اللہ تھا اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا۔ آپ آئے اپنے تخت پر بیٹھ گئے اور حکم دیا کہ اس شیطان کو جہاں بھی وہ ہو گرفتار کر لاؤ چناچہ اسے قید کرلیا گیا آپ نے اسے ایک لوہے کے صندوق میں بند کیا اور قفل لگا کر اس پر اپنی مہر لگا دی اور سمندر میں پھنکوا دیا جو قیامت تک وہیں قید رہے گا۔ اس کا نام حقیق تھا۔ آپ کی یہ دعا کہ مجھے ایسا ملک عطا فرمایا جائے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو یہ بھی پوری ہوئی اور آپ کے تابع ہوائیں کردی گئیں۔ مجاہد سے مروی ہے کہ ایک شیطان سے جس کا نام آصف تھا ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ نے پوچھا کہ تم لوگوں کو کس طرح فتنے میں ڈالتے ہو ؟ اس نے کہا ذرا مجھے انگوٹھی دکھاؤ میں ابھی آپ کو دکھا دیتا ہوں آپ نے انگوٹھی دے دی اس نے اسے سمندر میں پھینک دیا تخت و تاج کا مالک بن بیٹھا اور آپ کے لباس میں لوگوں کو راہ اللہ سے ہٹانے لگا۔ " یاد رہے کہ یہ سب واقعات بنی اسرائیل کے بیان کردہ ہیں " اور ان سب سے زیادہ منکر واقعہ وہ ہے۔ جو ابن ابی حاتم میں ہے جس کا اوپر بیان ہوا۔ جس میں آپ کی بیوی صاحبہ حضرت جراوہ کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آخر نبوت یہاں تک پہنچی تھی کہ لڑکے آپ کو پتھر مارتے تھے۔ آپ کی بیویوں سے جب علماء نے معاملہ کی تفتیش کی تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہمیں بھی اس کے سلیمان ہونے سے انکار ہے کیونکہ وہ حالت حیض میں ہمارے پاس آتا ہے۔ شیطان کو جب یہ معلوم ہوگیا کہ راز کھل گیا ہے تو اس نے جادو اور کفر کی کتابیں لکھوا کر کرسی تلے دفن کردیا اور پھر لوگوں کے سامنے انہیں نکلوا کر ان سے کہا دیکھو ان کتابوں کی بدولت سلیمان تم پر حکومت کر رہا تھا چناچہ لوگوں نے آپ کو کافر کہنا شروع کردیا۔ حضرت سلیمان سمندر کے کنارے مزدوری کرتے تھے ایک مرتبہ ایک شخص نے بہت سی مچھلیاں خریدیں مزدور کو بلایا آپ پہنچے اس نے کہا یہ اٹھالو پوچھا مزدوری کیا دو گے ؟ اس نے کہا اس میں سے ایک مچھلی تمہیں دے دوں گا آپ نے ٹوکرا سر پر رکھا اس کے ہاں پہنچایا اس نے ایک مچھلی دے دی آپ نے اس کا پیٹ چاک کیا پیٹ چاک کرتے ہی وہ انگوٹھی نکل پڑی پہنتے ہی کل شیاطین جن انسان پھر تابع ہوگئے اور جھرمٹ باندھ کر حاضر ہوگئے آپ نے ملک پر قبضہ کیا اور اس شیطان کو سخت سزا دی۔ پس ثم اناب سے مراد شیطان جو مسلط کیا گیا تھا اس کا لوٹنا ہے۔ اس کی اسناد حضرت ابن عباس تک ہے۔ ہے تو قوی لیکن یہ ظاہر ہے کہ اسے حضرت ابن عباس نے اہل کتاب سے لیا ہے، یہ بھی اس وقت جبکہ اسے ابن عباس کا قول مان لیں۔ اہل کتاب کی ایک جماعت حضرت سلیمان کو نہیں مانتی تھی تو عجب نہیں کہ یہ بیہودہ قصہ اسی خبیث جماعت کا گھڑا ہوا ہو۔ اس میں تو وہ چیزیں بھی ہیں جو بالکل ہی منکر ہیں خصوصاً اس شیطان کا آپ کی عورتوں کے پاس جانا اور آئمہ نے بھی ایسے ہی قصے بیان تو کئے ہیں لیکن اس بات کا سب نے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ جن ان کے پاس نہیں جاسکا اور نبی کے گھرانے کی عورتوں کی عصمت و شرافت کا تقاضا بھی یہی ہے اور بھی بہت سے لوگوں نے ان واقعات کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن سب کی اصل یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے لئے گئے ہیں۔ واللہ اعلم۔ شیبانی فرماتے ہیں آپ نے اپنی انگوٹھی عسقلان میں پائی تھی اور بیت المقدس تک تواضعاً آپ پیدل چلے تھے۔ امام ابن بی حاتم نے صفت سلیمان میں حضرت کعب احبار سے ایک عجیب خبر روایت کی ہے۔ ابو اسحاق مصری کہتے ہیں کہ جب (اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۽) 89۔ الفجر :7) کے قصے سے حضرت کعب نے فراغت حاصل کی تو حضرت معاویہ نے کہا ابو اسحاق آپ حضرت سلیمان کی کرسی کا ذکر بھی کیجئے فرمایا کہ وہ ہاتھی دانت کی تھی اور یاقوت زبرجد اور لولو سے مرصع تھی اور اس کے چاروں طرف سونے کے کھجور کے درخت بنے ہوئے تھے جن کے خوشے بھی موتیوں کے تھے ان میں سے جو دائیں جانب تھے ان کے سرے پر سونے کے مور تھے اور بائیں طرف والوں پر سونے کے گدھ تھے۔ اس کرسی کے پہلے درجے پر دائیں جانب سونے کے دو درخت صنوبر کے تھے اور بائیں جانب سونے کے دو شیر بن ہوئے تھے۔ ان کے سروں پر زبر جد کے دوستون تھے اور کرسی کے دونوں جانب انگور کی سنہری بیلیں تھیں جو کرسی کو ڈھانپے ہوئے تھیں اس کے خوشے بھی سرخ موتی کے تھے پھر کرسی کے اعلیٰ درجے پر دو شیر بہت بڑے سونے کے بنے ہوئے تھے جن کے اندر خول تھا ان میں مشک و عنبر بھرا رہتا تھا۔ جب حضرت سلیمان کرسی پر آتے تو یہ شیر حرکت کرتے اور ان کے گھومنے سے ان کے اندر سے مشک و عنبر چاروں طرف چھڑک دیا جاتا پھر دو منبر سونے کے بچھا دئے جاتے۔ ایک آپ کے وزیر کا اور ایک اس وقت کے سب سے بڑے عالم کا۔ پھر کرسی کے سامنے ستر منبر سونے کے اور بچھائے جاتے جن پر بنو اسرائیل کے قاضی ان کے علماء اور ان کے سردار بیٹھتے۔ ان کے پیچھے پینتیس منبر سونے کے اور ہوتے تھے جو خالی رہا کرتے تھے۔ حضرت سلیمان جب تشریف لاتے پہلے زینے پر قدم رکھتے ہی کرسی ان تمام چیزوں سمیت گھوم جاتی شیر اپن داہنا قدم آگے بڑھا دیتا اور گدھ اپنا بایاں پر پھیلا دیتا۔ جب دوسرے درجے پر قدم رکھتے تو شیر اپنا بایاں پاؤں پھیلا دیتا اور گدھ اپنا دایاں پر جب آپ تیسرے درجے پر چڑھ جاتے اور کرسی پر بیٹھ جاتے تو ایک بڑا گدھ آپ کا تاج لے کر آپ کے سر پر رکھتا پھر کرسی زور زور سے گھومتی۔ حضرت معاوضہ نے پوچھا آخر اس کی کیا وجہ ؟ فرمایا وہ ایک سونے کی لاٹ پر تھی جسے صخر جن نے بنایا تھا۔ اس کے گھومتے ہی نیچے والے مور گدھ وغیرہ سب اوپر آجاتے اور سر جھکاتے پر پھڑ پھڑاتے جس سے آپ کے جسم پر مشک و عنبر کا چھڑکاؤ ہوجاتا پھر ایک سونے کا کبوتر تورات اٹھا کر آپ کے ہاتھ میں دیتا جسے آپ تلاوت فرماتے۔ لیکن یہ روایت بالکل غریب ہے۔ حضرت سلیمان ؑ کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایسا ملک دے کہ مجھ سے کوئی اور چھین نہ سکے جیسے کہ اس جسم کا واقعہ ہوا جو آپ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ دوسروں کے لئے ایسے ملک کے نہ ملنے کی دعا کرتے ہوں۔ لیکن جن بعض لوگوں نے یہ معنی لئے ہیں وہ کچھ ٹھیک نظر نہیں آتے، بلکہ صحیح مطلب یہی ہے کہ آپ کی دعا کا یہی مطلب تھا کہ مجھے ایسا ملک اور سلطنت دی جائے کہ میرے بعد پھر کسی اور شخص کو ایسی سلطنت نہ ملے۔ یہی آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے اور یہی احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا ایک سرکش جن نے گزشتہ شب مجھ پر زیادتی کی اور میری نماز بگاڑ دینا چاہی لیکن اللہ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے اس ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھو لیکن اسی وقت مجھے میرے بھائی حضرت سلیمان (علیہ الصلوۃ والسلام) کی دعا یاد آگئی۔ راوی حدیث حضرت روح فرماتے ہیں پھر حضور ﷺ نے اسے ذلیل و خوار کر کے چھوڑ دیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نماز میں کھڑے ہوئے تو ہم نے سنا کہ آپ نے فرمایا اعوذ باللہ منک پھر آپ نے تین بار فرمایا العنک بلعنتہ اللہ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا کہ گویا آپ کسی چیز کو لینا چاہتے ہیں۔ جب فارغ ہوئے تو ہم نے آپ سے ان دونوں باتوں کی وجہ پوچھی آپ نے فرمایا اللہ کا دشمن ابلیس آگ لے کر میرے منہ میں ڈالنے کے لئے آیا تو میں نے تین مرتبہ اعوذ پڑھی پھر تین مرتبہ اس پر لعنت بھیجی لیکن وہ پھر بھی نہ ہٹا پھر میں نے چاہا کہ اسے پکڑ کر باندھ دوں تاکہ مدینے کے لڑکے اس سے کھیلیں اگر ہمارے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو میں یہی کرتا۔ حضرت عطا بن یزید لیثی نماز پڑھ رہے تھے جو ابو عبید نے ان کے سامنے سے گذرنا چاہا انہوں نے انہیں اپنے ہاتھ سے روک دیا پھر فرمایا مجھ سے حضرت ابو سعید خدری نے حدیث بیان کی کہ حضور ﷺ صبح کی نماز پڑھا رہے تھے یہ بھی آپ کے پیچھے تھے قرأت آپ پر خلط ملط ہوگئی فارغ ہو کر فرمایا کاش تم دیکھتے کہ میں نے ابلیس کو پکڑ لیا تھا اور اس قدر اس کا گلا گھونٹا کہ اس کے منہ کی جھاگ میری شہادت کی اور بیج کی انگلی پر پڑی اگر میرے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح ہوتے اس مسجد کے ستون سے بندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اسے ستاتے تم سے جہاں تک ہو سکے اس بات کا خیال رکھو کہ نماز کی حالت میں تمہارے سامنے سے کوئی گذرنے نہ پائے (مسند احمد) مسند کی اور حدیث میں ہے ربعیہ بن یزید عبداللہ ویلمی کہتے ہیں میں حضرت عمرو بن عاص ؓ کے پاس طائف کے ایک باغ میں گیا جس کا ام ربط تھا آپ اس وقت ایک قریشی کا محاصرہ کئے ہوئے تھے جو زانی اور شرابی تھا۔ میں نے ان سے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ یہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ جو ایک گھونٹ شراب پئے گا اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہ فرمائے گا اور برا آدمی وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی برا ہوگیا ہے جو شخص صرف نماز ہی کی نیت سے بیت المقدس کی مسجد میں جائے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا۔ وہ شرابی جسے حضرت عبداللہ پکڑے ہوئے تھے وہ شراب کا ذکر سنتے ہی جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا۔ اب حضرت عبداللہ نے فرمایا کسی کو حلال نہیں کہ میرے ذمے وہ بات کرے جو میں نے نہ کی۔ میں نے حضور ﷺ سے یوں سنا ہے جو شخص شراب کا ایک گھونٹ بھی پی لے اس کی چالیس دن کی نماز نامقبول ہے۔ اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ پھر اگر دوبارہ لوٹے تو پھر چالیس دن تک کی نمازیں نامقبول ہیں پھر اگر توبہ کرلے تو توبہ مقبول ہے مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ میں فرمایا کہ پھر اگر لوٹے گا تو یقینا اللہ تعالیٰ اسے جہنمیوں کے بدن کا خون، پیپ، پیشاب وغیرہ قیامت کے دن پلائے گا اور حضور ﷺ سے میں نے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا جس پر وہ نور اس دن پڑگیا وہ تو ہدایت والا ہوگیا اور جس تک وہ نور نہ پہنچا وہ بھٹک گیا۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل چکا اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کی جن میں سے دو تو انہیں مل گئیں اور ہمیں امید ہے کہ تیسری ہمارے لئے ہو (1) مجھے ایسا حکم دے جو تیرے حکم کے موافق ہو (2) مجھے ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لئے لائق نہ ہو۔ تیسری دعا یہ تھی کہ جو شخص اپنے گھر سے اس مسجد کی نماز کے ارادے ہی سے نکلے تو جب وہ لوٹے تو ایسا ہوجائے گویا آج پیدا ہوا پس ہمیں اللہ سے امید ہے کہ یہ ہمارے لئے اللہ نے دی ہو۔ طبرانی میں ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ عزوجل نے حضرت داؤد ؑ کو اپنے لئے ایک گھر بنانے کا حکم دیا حضرت داؤد نے پہلے اپنا گھر بنا لیا اس پر وحی آئی کہ تم نے اپنا گھر میرے گھر سے پہلے بنایا آپ نے عرض کیا پروردگار یہی فیصلہ کیا گیا تھا پھر مسجد بنانی شروع کی دیواریں پوری ہوگئیں تو اتفاقاً تہائی حصہ گرگیا آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جواب ملا کہ تو میرا گھر نہیں بنا سکتا۔ پوچھا کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ تیرے ہاتھوں سے خون بہا ہے۔ عرض کیا اللہ تعالیٰ وہ بھی تیری ہی محبت میں فرمایا ہاں لیکن وہ میرے بندے تھے میں ان پر رحم کرتا ہوں۔ آپ کو یہ کلام سن کر سخت پریشانی ہوئی۔ پھر وحی آئی کہ غمگین نہ ہو میں اسے تیرے لڑکے سلیمان کے ہاتھوں پورا کراؤں گا۔ چناچہ آپ کے انتقال کے بعد حضرت سلیمان نے اسے بنانا شروع کیا جب پورا کرچکے تو بڑی بڑی قربانیاں کیں اور ذبیحہ ذبح کئے اور بنو اسرائیل کو جمع کر کے خوب کھلایا پلایا اللہ کی وحی آئی کہ تو نے یہ سب کچھ میرے حکم کی تعمیل کی خوشی میں کیا ہے تو مجھ سے مانگ جو مانگے گا پائے گا۔ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ میرے تین سوال ہیں مجھے ایسا فیصلہ سمجھا جو تیرے فیصلے کے مطابق ہو اور ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو اور جو اس گھر میں آئے صرف نماز کے ارادے سے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا آزاد ہوجائے جیسے آج پیدا ہوا۔ ان میں سے دو چیزیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرما دیں اور مھے امید ہے کہ تیسری بھی دے دی گئی ہو۔ رسول اللہ ﷺ اپنی ہر دعا کو ان لفظوں سے شروع فرماتے (سبحان اللہ ربی الاعلی العلی الوہاب) (مستند احمد) اور روایت میں ہے کہ حضرت داؤد کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان سے فرمایا مجھ سے اپنی حاجت طلب کرو آپ نے عرض کیا اللہ تعالیٰ مجھے ایسا دل دے جو تجھ سے ڈرتا رہے جیسا کہ میرے والد کا دل تجھ سے خوف کیا کرتا تھا اور میرے دل میں اپنی محبت ڈال دے جیسے کہ میرے والد کے دل میں تیری محبت تھی اس پر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا کہ میرا بندہ میری عین عطا کے وقت بھی مجھ سے ڈرا اور میری محبت طلب کرتا ہے مجھے اپنی قسم میں اسے اتنی بڑی سلطنت دوں گا جو اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی ماتحتی میں ہوائیں کردیں اور جنات کو بھی ان کا ماتحت بنادیا اور اسی قدر ملک و مال پر بھی، انہیں حساب قیامت سے آزاد کردیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے دعا کی کہ باری تعالیٰ سلیمان کے ساتھ بھی اسی لطف و کرم سے پیش آنا جیسا آج لطف و کرم تیرا مجھ پر رہا تو وحی آئی کہ سلیمان سے کہہ دو وہ بھی اسی طرح میرا رہے جس طرح تو میرا تھا، تو میں بھی اس کے ساتھ ہو خوبصورت پیارے وفادار تیز رو گھوڑوں کو کاٹ ڈالا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ان کے عوض ان سے بہتر عطا فرمائے۔ یعنی ہوا کو ان کے تابع فرمان کردیا جو مہینے بھر کی راہ کو صبح کی ایک گھڑی میں طے کردیتی تھی اور اسی طرح شام کو جہاں کا ارادہ کرتے ذرا سی دیر میں پہنچا دیتی۔ جنات کو بھی حضرت سلیمان ؑ کے تابع کردیا ان میں سے بعض بڑی اونچی لمبی سنگین پختہ عمارت کے بنانے کے کام سر انجام دیتے جو انسانی طاقت سے باہر تھا اور بعض غوطہ خور تھے جو سمندر کی تہ میں سے لولو جواہر اور دیگر قسم قسم کی نفیس و نادر چیزیں لا دیتے تھے۔ پھر اور کچھ تھے جو بھاری بھاری بیڑیوں میں جکڑے رہتے تھے۔ یہ یا تو وہ تھے جو حکومت سے سرتابی کرتے تھے یا کام کاج میں شرارت اور کمی کرتے تھے یا لوگوں کو ستاتے اور ایذاء دیتے تھے۔ یہ ہے ہماری مہربانی اور ہماری بخشش اور ہمارا انعام اور ہمارا عطیہ اب تجھے اختیار ہے جس سے جو چاہے سلوک کر سب بےحساب ہے کسی پر پکڑ نہیں۔ جو تیری زبان سے نکلے گا وہ حق ہوگا۔ صحیح حدیث میں ہے جب رسول اللہ ﷺ کو اختیار دیا گیا کہ اگر چاہیں عبد و رسول رہیں یعنی جو حکم کیا جائے بجا لاتے رہیں اللہ کے فرمان کے مطابق تقسیم کرتے رہیں اور اگر چاہیں نبی اور بادشاہ بنا دیئے جائیں جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں اور اس کا کوئی حساب اللہ کے ہاں نہ لیا جائے تو آپ نے حضرت جبرائیل ؑ سے مشورہ لیا اور آپ کے مشورے سے پہلی بات قبول فرمائی کیونکہ فضیلت کے لحاظ سے اولیٰ اور اعلیٰ وہی ہے۔ گو نبوت و سلطنت بھی بڑی چیز ہے۔ اسی لئے حضرت سلیمان کا دنیوی عزو جاہ بیان کرتے ہی فرمایا کہ وہ دار آخرت میں بھی ہمارے پاس بڑے مرتبے اور بہترین بزرگی اور اعلیٰ تر قریب والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ﴾ أَيِ: اخْتَبَرْنَاهُ بِأَنْ سَلَبْنَاهُ الْمُلْكَ مَرَّةً، ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَالْحَسَنُ وَقَتَادَةُ وَغَيْرُهُمْ: يَعْنِي شَيْطَانًا. ﴿ثُمَّ أَنَابَ﴾ أَيْ: [[في ت، س: "ثم".]] رَجَعَ إِلَى مُلْكِهِ وَسُلْطَانِهِ وَأُبَّهَتِهِ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَكَانَ اسْمُ ذَلِكَ الشَّيْطَانِ صَخْرًا. قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَقَتَادَةُ. وَقِيلَ: آصِفُ. قَالَهُ مُجَاهِدٌ وَقِيلَ: آصِرُوا. قَالَهُ مُجَاهِدٌ أَيْضًا. وَقِيلَ: حبقيقُ. قَالَهُ السُّدِّيُّ. وَقَدْ ذَكَرُوا هَذِهِ الْقِصَّةَ مَبْسُوطَةً وَمُخْتَصَرَةً.
وَقَدْ قَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبة عَنْ قَتَادَةَ: قَالَ أَمَرَ سُلَيْمَانُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ بِبِنَاءِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقِيلَ لَهُ: ابْنِهِ وَلَا يُسمَعُ فِيهِ صَوْتُ حَدِيدٍ. فَقَالَ: فَطَلَبَ ذَلِكَ فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهِ. فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ شَيْطَانًا فِي الْبَحْرِ يُقَالُ لَهُ: "صَخْرٌ" شِبْهُ الْمَارِدِ. قَالَ: فَطَلَبَهُ وَكَانَتْ عَيْنٌ فِي الْبَحْرِ يَردهُا فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ مَرَّةً فَنُزِحَ مَاؤُهَا وَجُعِلَ فِيهَا خَمْرٌ، فَجَاءَ يَوْمَ ورْده فَإِذَا هُوَ بِالْخَمْرِ فَقَالَ: إِنَّكِ لَشَرَابٌ طَيِّبٌ إِلَّا أَنَّكِ تُصْبِينَ الْحَلِيمَ، وَتَزِيدِينَ الْجَاهِلَ جَهْلًا. ثُمَّ رَجَعَ حَتَّى عَطِشَ عَطَشًا شَدِيدًا ثُمَّ أَتَاهَا [[في أ: "أتاه".]] فَقَالَ: إِنَّكِ لَشَرَابٌ طَيِّبٌ إِلَّا أَنَّكِ تُصْبِينَ الْحَلِيمَ، وَتَزِيدِينَ الْجَاهِلَ جَهْلًا. ثُمَّ شَرِبَهَا حَتَّى غَلَبَتْ عَلَى عَقْلِهِ، قَالَ: فَأُرِيَ الْخَاتَمَ أَوْ خُتِمَ بِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَذَلَّ. قَالَ: وَكَانَ مُلْكُهُ فِي خَاتَمِهِ فأتي به سليمان فقال: إنه قَدْ أُمِرْنَا بِبِنَاءِ هَذَا الْبَيْتِ وَقِيلَ لَنَا: لَا يُسْمَعَنَّ فِيهِ صَوْتُ حَدِيدٍ. قَالَ: فَأَتَى بِبَيْضِ الْهُدْهُدِ فَجَعَلَ عَلَيْهِ زُجَاجَةً فَجَاءَ الْهُدْهُدُ فَدَارَ حَوْلَهَا، فَجَعَلَ يَرَى بَيْضَهُ وَلَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ فَذَهَبَ فَجَاءَ بِالْمَاسِ فَوَضَعَهُ عَلَيْهِ فَقَطَعَهَا بِهِ حَتَّى أَفْضَى إِلَى بَيْضِهِ. فَأَخَذَ الْمَاسَ فَجَعَلُوا يَقْطَعُونَ بِهِ الْحِجَارَةَ. وَكَانَ سُلَيْمَانُ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ الْخَلَاءَ -أَوِ: الْحَمَّامَ-لَمْ يَدْخُلْ بِخَاتَمِهِ فَانْطَلَقَ يَوْمًا إِلَى الْحَمَّامِ وَذَلِكَ الشَّيْطَانُ صَخْرٌ مَعَهُ، وَذَلِكَ عِنْدَ مُقَارَفَةٍ قَارَفَ فِيهِ [[في ت: "فيها".]] بَعْضَ نِسَائِهِ. قَالَ: فَدَخَلَ الْحَمَّامَ وَأَعْطَى الشَّيْطَانَ خَاتَمَهُ فَأَلْقَاهُ فِي الْبَحْرِ فَالْتَقَمَتْهُ سَمَكَةٌ، وَنُزِعَ مُلك سُلَيْمَانَ مِنْهُ وَأُلْقِيَ عَلَى الشَّيْطَانِ شَبَه سُلَيْمَانَ. قَالَ: فَجَاءَ فَقَعَدَ عَلَى كُرْسِيِّهِ وَسَرِيرِهِ وسُلِّط عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ كُلِّهِ غَيْرَ نِسَائِهِ. قَالَ: فَجَعَلَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ، وَجَعَلُوا يُنْكِرُونَ مِنْهُ أَشْيَاءَ حَتَّى قَالُوا: لَقَدْ فُتِنَ نَبِيُّ اللَّهِ. وَكَانَ فِيهِمْ رَجُلٌ يُشَبِّهُونَهُ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي الْقُوَّةِ فَقَالَ: وَاللَّهُ لَأُجَرِّبَنَّهُ. قَالَ: فَقَالَ: يَا نَبِيَّ [[في أ: "أنبي".]] اللَّهِ -وَهُوَ لَا يَرَى إِلَّا أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ-أَحَدُنَا تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ فِي اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ فَيَدَعُ الْغُسْلَ عَمْدًا حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَتُرَى [[في ت: "ترى".]] عَلَيْهِ بَأْسًا؟ فَقَالَ: [[في ت، س: "قال".]] لَا. قَالَ: فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً حَتَّى وَجَدَ نَبِيُّ اللَّهِ خَاتَمَهُ فِي بَطْنِ سَمَكَةٍ فَأَقْبَلَ فَجَعَلَ لَا يَسْتَقْبِلُهُ جِنِّيٌّ وَلَا طَيْرٌ إِلَّا سَجَدَ لَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ، ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ: هُوَ الشَّيْطَانُ صَخْرٌ [[تفسير الطبري (٢٣/١٠١) .]]
وَقَالَ السُّدِّيُّ: ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ﴾ أَيِ: ابْتَلَيْنَا سُلَيْمَانَ، ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ: جَلَسَ الشَّيْطَانُ عَلَى كُرْسِيِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا. قَالَ: وَكَانَ لِسُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِائَةُ امْرَأَةٍ وَكَانَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ يُقَالُ لَهَا: "جَرَادَةُ"، وَهِيَ آثَرُ نِسَائِهِ وَآمَنُهُنَّ عِنْدَهُ وَكَانَ إِذَا أَجْنَبَ أَوْ أَتَى حَاجَةً [[في أ: "حاجته".]] نَزَعَ خَاتَمَهُ وَلَمْ يَأْتَمِنْ [[في ت: "يأمن".]] عَلَيْهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ غَيْرَهَا فَأَعْطَاهَا يَوْمًا خَاتَمَهُ وَدَخَلَ الْخَلَاءَ فَخَرَجَ الشَّيْطَانُ فِي صُورَتِهِ فَقَالَ: هَاتِي الْخَاتَمَ. فَأَعْطَتْهُ فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى مَجْلِسِ سُلَيْمَانَ وَخَرَجَ سُلَيْمَانُ بَعْدَ ذَلِكَ فَسَأَلَهَا أَنْ تُعْطِيَهِ خَاتَمَهُ، فَقَالَتْ: أَلَمْ تَأْخُذْهُ قَبْلُ؟ قَالَ: لَا. وَخَرَجَ مَكَانَهُ تَائِهًا. قَالَ: وَمَكَثَ الشَّيْطَانُ يُحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، قَالَ: فَأَنْكَرَ النَّاسُ أَحْكَامَهُ فَاجْتَمَعَ قُرَّاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَعُلَمَاؤُهُمْ فَجَاءُوا حَتَّى دَخَلُوا عَلَى نِسَائِهِ فَقَالُوا: إِنَّا قَدْ أَنْكَرْنَا هَذَا فَإِنْ كَانَ سُلَيْمَانَ فَقَدْ ذَهَبَ عَقْلُهُ وَأَنْكَرْنَا أَحْكَامَهُ. قَالَ: فَبَكَى النِّسَاءُ عِنْدَ ذَلِكَ قَالَ: فَأَقْبَلُوا يَمْشُونَ حَتَّى أَتَوْا [[في أ: "أتوه".]] فَأَحْدَقُوا بِهِ ثُمَّ نَشَرُوا التَّوْرَاةَ فَقَرَءُوا. قَالَ: فَطَارَ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ حَتَّى وَقَعَ عَلَى شُرْفَةٍ وَالْخَاتَمُ مَعَهُ. ثُمَّ طَارَ حَتَّى ذَهَبَ إِلَى الْبَحْرِ فَوَقَعَ الْخَاتَمُ مِنْهُ فِي الْبَحْرِ فَابْتَلَعَهُ حُوتٌ مِنْ حِيتَانِ الْبَحْرِ. قَالَ: وَأَقْبَلَ سُلَيْمَانُ فِي حَالِهِ الَّتِي كَانَ فِيهَا حَتَّى انْتَهَى إِلَى صَيَّادٍ مِنْ صَيَّادِي [[في ت، س، أ: "صيادين".]] الْبَحْرِ وَهُوَ جَائِعٌ وَقَدِ اشْتَدَّ جُوعُهُ. فَاسْتَطْعَمَهُمْ مِنْ صَيْدِهِمْ وَقَالَ: إِنِّي أَنَا سُلَيْمَانُ. فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُهُمْ فَضَرَبَهُ بِعَصًا فَشَجَّهُ فَجَعَلَ يَغْسِلُ دَمَهُ وَهُوَ عَلَى شَاطِئِ الْبَحْرِ فَلَامَ الصَّيَّادُونَ صَاحِبَهُمُ الَّذِي ضَرَبَهُ فَقَالُوا بِئْسَ مَا صَنَعْتَ حيث ضربته. قال: إنه زَعَمَ أَنَّهُ سُلَيْمَانُ. قَالَ: فَأَعْطَوْهُ سَمَكَتَيْنِ مِمَّا قَدْ مَذِرَ عِنْدَهُمْ فَلَمْ يَشْغَلْهُ مَا كَانَ بِهِ مِنَ الضَّرْبِ حَتَّى قَامَ إِلَى شَطِّ الْبَحْرِ فَشَقَّ بُطُونَهُمَا فَجَعَلَ يَغْسِلُ [دَمَهُ] [[زيادة من أ.]] فَوَجَدَ خَاتَمَهُ فِي بَطْنِ إِحْدَاهُمَا فَأَخَذَهُ فَلَبِسَهُ فَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ بَهَاءَهُ وَمُلْكَهُ، وَجَاءَتِ الطَّيْرُ حَتَّى حَامَتْ عَلَيْهِ فَعَرَفَ الْقَوْمُ أَنَّهُ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَامَ الْقَوْمُ يَعْتَذِرُونَ مِمَّا صَنَعُوا [بِهِ] [[زيادة من أ.]] فَقَالَ: مَا أَحْمَدُكُمْ عَلَى عُذْرِكُمْ وَلَا أَلُومُكُمْ عَلَى مَا كَانَ مِنْكُمْ، كَانَ هَذَا الْأَمْرُ لَا بُدَّ مِنْهُ. قَالَ: فَجَاءَ حَتَّى أَتَى مُلْكَهُ وَأَرْسَلَ إِلَى الشَّيْطَانِ فَجِيءَ بِهِ فَأَمَرَ بِهِ فَجُعِلَ فِي صُنْدُوقٍ مِنْ حَدِيدٍ، ثُمَّ أَطْبَقَ عَلَيْهِ وَقَفَلَ عَلَيْهِ بِقُفْلٍ وَخَتَمَ عَلَيْهِ بِخَاتَمِهِ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَأُلْقِي فِي الْبَحْرِ فَهُوَ فِيهِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ. وَكَانَ اسْمُهُ حبقيقُ قَالَ: وَسَخَّرَ [[في ت، أ: "وسخرت".]] لَهُ الرِّيحَ وَلَمْ تَكُنْ سُخِّرَتْ لَهُ قَبْلَ ذَلِكَ وَهُوَ قَوْلُهُ: ﴿وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لأحَدٍ مِنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ [[تفسير الطبري (٢٣/١٠١) .]]
وَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَوْلُهُ: ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ: شَيْطَانًا يُقَالُ لَهُ: آصِفُ. فَقَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ: كَيْفَ تَفْتِنُونَ النَّاسَ؟ قَالَ: أَرِنِي خَاتَمَكَ أُخْبِرْكَ. فَلَمَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ نَبَذَهُ آصِفُ فِي الْبَحْرِ فَسَاحَ سُلَيْمَانُ وَذَهَبَ مُلْكُهُ، وَقَعَدَ آصِفُ عَلَى كُرْسِيِّهِ وَمَنَعَهُ اللَّهُ نِسَاءَ سُلَيْمَانَ فَلَمْ يَقْرَبْهُنَّ -وَلَمْ يَقْرَبْنَهُ وَأَنْكَرْنَهُ. قَالَ: فَكَانَ سُلَيْمَانُ يَسْتَطْعِمُ فَيَقُولُ: أَتَعْرِفُونِي؟ أَطْعِمُونِي أَنَا سُلَيْمَانُ فَيُكَذِّبُونَهُ، حَتَّى أَعْطَتْهُ امْرَأَةٌ يَوْمًا حُوتًا فَجَعَلَ يُطَيِّبُ بَطْنَهُ، فَوَجَدَ خَاتَمَهُ فِي بَطْنِهِ فَرَجَعَ إِلَيْهِ مُلْكُهُ وَفَرَّ آصِفُ فَدَخَلَ الْبَحْرَ فَارًّا.
وَهَذِهِ كُلُّهَا مِنَ الْإِسْرَائِيلِيَّاتِ وَمِنْ أَنْكَرِهَا مَا قَالَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ:
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشِ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ﴾ قَالَ: أَرَادَ سُلَيْمَانُ أَنْ يَدْخُلَ الْخَلَاءَ فَأَعْطَى الْجَرَادَةَ خَاتَمَهُ -وَكَانَتِ الْجَرَادَةُ [[في ت: "جرادة".]] امْرَأَتَهُ وَكَانَتْ أَحَبَّ نِسَائِهِ إِلَيْهِ-فَجَاءَ الشَّيْطَانُ فِي صُورَةِ سُلَيْمَانَ فَقَالَ لَهَا: هَاتِي خَاتَمِي. فَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ. فَلَمَّا لَبِسَهُ دَانَتْ لَهُ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ [[في أ: "والجن والطير".]] وَالشَّيَاطِينُ فَلَمَّا خَرَجَ سُلَيْمَانُ مِنَ الْخَلَاءِ قَالَ لَهَا: هَاتِي خَاتَمِي. قَالَتْ: قَدْ أَعْطَيْتُهُ سُلَيْمَانَ. قَالَ: أَنَا سُلَيْمَانُ. قَالَتْ: كَذَبْتَ لَسْتَ سُلَيْمَانَ [[في ت: "بسليمان".]] فَجَعَلَ لَا يَأْتِي أَحَدًا يَقُولُ لَهُ: "أَنَا سُلَيْمَانُ"، إِلَّا كَذَّبَهُ حَتَّى جَعَلَ [[في أ: "جاء".]] الصِّبْيَانُ يَرْمُونَهُ بِالْحِجَارَةِ. فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَرَف أَنَّهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ: وَقَامَ الشَّيْطَانُ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ فَلَمَّا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَى سُلَيْمَانَ سُلْطَانَهُ أَلْقَى فِي قُلُوبِ النَّاسِ إِنْكَارَ ذَلِكَ الشَّيْطَانِ. قَالَ: فَأَرْسَلُوا إِلَى نِسَاءِ سُلَيْمَانَ فَقَالُوا لَهُنَّ: أَتُنْكِرْنَ مِنْ سُلَيْمَانَ شَيْئًا؟ قُلْنَ: نَعَمْ إِنَّهُ يَأْتِينَا وَنَحْنُ حُيَّضٌ وَمَا كَانَ يَأْتِينَا قَبْلَ ذَلِكَ. فَلَمَّا رَأَى الشَّيْطَانُ أَنَّهُ قَدْ فَطِنَ لَهُ [[في ت: "أنه فطن له".]] ظَنَّ أَنَّ أَمْرَهُ قَدِ انْقَطَعَ فَكَتَبُوا كُتُبًا فِيهَا سِحْرٌ وَكُفْرٌ، فَدَفَنُوهَا تَحْتَ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ ثُمَّ أَثَارُوهَا وقرءوها على الناس. وقالوا: بِهَذَا كَانَ يَظْهَرُ سُلَيْمَانُ عَلَى النَّاسِ [وَيَغْلِبُهُمْ] [[زيادة من أ.]] فَأَكْفَرَ النَّاسُ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَلَمْ يَزَالُوا يُكَفِّرُونَهُ وَبَعَثَ ذَلِكَ الشيطانُ بِالْخَاتَمِ فَطَرَحَهُ فِي الْبَحْرِ فَتَلَقَّتْهُ سَمَكَةٌ فَأَخَذَتْهُ. وَكَانَ سُلَيْمَانُ يَحْمِلُ عَلَى شَطِّ الْبَحْرِ بِالْأَجْرِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَاشْتَرَى سَمَكًا فِيهِ تِلْكَ السَّمَكَةُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا الْخَاتَمُ فَدَعَا سُلَيْمَانُ فَقَالَ: تَحْمِلُ لِي هَذَا السَّمَكَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ. قَالَ: بِكَمْ؟ قَالَ بِسَمَكَةٍ مِنْ هَذَا السَّمَكِ. قَالَ: فَحَمَلَ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلَامُ السَّمَكَ ثُمَّ انْطَلَقَ بِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ فَلَمَّا انْتَهَى الرَّجُلُ إِلَى بَابِهِ أَعْطَاهُ تِلْكَ السَّمَكَةَ الَّتِي فِي بَطْنِهَا الْخَاتَمُ فَأَخَذَهَا سُلَيْمَانُ فَشَقَّ بَطْنَهَا، فَإِذَا الْخَاتَمُ فِي جَوْفِهَا فَأَخَذَهُ فَلَبِسَهُ. قَالَ: فَلَمَّا لَبِسَهُ دَانَتْ لَهُ الْجِنُّ وَالْإِنْسُ وَالشَّيَاطِينُ وَعَادَ إِلَى حَالِهِ وَهَرب الشَّيْطَانُ حَتَّى دَخَلَ جَزِيرَةً [[في ت: "لحق بجزيرة".]] مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ فَأَرْسَلَ سُلَيْمَانُ فِي طَلَبِهِ وَكَانَ شَيْطَانًا مَرِيدًا فَجَعَلُوا يَطْلُبُونَهُ وَلَا يَقْدِرُونَ عَلَيْهِ حَتَّى وَجَدُوهُ يَوْمًا نَائِمًا فَجَاءُوا فَبَنَوْا عَلَيْهِ بُنْيَانًا مِنْ رَصَاصٍ فَاسْتَيْقَظَ فَوَثَبَ فَجَعَلَ لَا يَثِبُ فِي مَكَانٍ من البيت إلا أنماط معه من الرَّصَاصُ قَالَ: فَأَخَذُوهُ فَأَوْثَقُوهُ وَجَاءُوا بِهِ إِلَى سُلَيْمَانَ، فَأَمَرَ بِهِ فَنُقِرَ [[في ت: "فثقب".]] لَهُ تَخْتٌ مِنْ رُخَامٍ ثُمَّ أُدْخِلَ فِي جَوْفِهِ ثُمَّ سُدَّ بِالنُّحَاسِ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَطُرِحَ فِي الْبَحْرِ فَذَلِكَ قَوْلُهُ: ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ﴾ قَالَ: يَعْنِي الشَّيْطَانَ الَّذِي كَانَ سُلِّطَ عَلَيْهِ.
إِسْنَادُهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَوِيٌّ وَلَكِنَّ الظَّاهِرَ أَنَّهُ إِنَّمَا تَلَقَّاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ -إِنْ صَحَّ عَنْهُ-مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَفِيهِمْ طَائِفَةٌ لَا يَعْتَقِدُونَ نُبُوَّةَ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَالظَّاهِرُ أَنَّهُمْ يَكْذِبُونَ عَلَيْهِ وَلِهَذَا كَانَ فِي السِّيَاقِ مُنْكَرَاتٌ مِنْ أَشَدِّهَا ذِكْرُ النِّسَاءِ فَإِنَّ الْمَشْهُورَ أَنَّ [[في أ: "فإن المشهور عن مجاهد وغير واحد من السلف أن".]] ذَلِكَ الْجِنِّيَّ لَمْ يُسَلَّطْ عَلَى نِسَاءِ سُلَيْمَانَ بَلْ عَصَمَهُنَّ اللَّهُ مِنْهُ تَشْرِيفًا وَتَكْرِيمًا لِنَبِيِّهِ ﷺ، وَقَدْ رُوِيَتْ هَذِهِ الْقِصَّةُ مُطَوَّلَةً عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ السَّلَفِ، كَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَجَمَاعَةٍ آخَرِينَ وَكُلُّهَا متُلقًّاة مِنْ قَصَصِ أَهْلِ الْكِتَابِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ.
وَقَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ: وَجَدَ سُلَيْمَانُ خَاتَمَهُ فِي عَسْقَلَانَ، فَمَشَى فِي خِرْقَةٍ [[في أ: "بحرقة".]] إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ تَوَاضُعًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَقَدْ رَوَى ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ فِي صِفَةِ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ خَبَرًا عَجِيبًا فَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاقَ الْمِصْرِيُّ عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ؛ أَنَّهُ لَمَّا فَرَغَ مِنْ حَدِيثِ "إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ" قَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ أَخْبِرْنِي عَنْ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ وَمَا كَانَ عَلَيْهِ؛ وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ هُوَ؟ فَقَالَ: كَانَ كُرْسِيُّ سُلَيْمَانَ مِنْ أَنْيَابِ الْفِيَلَةِ مُفَصّصاً بِالدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ وَالزَّبَرْجَدِ وَاللُّؤْلُؤِ. وَقَدْ جُعل لَهُ دَرَجَةً مِنْهَا مُفَصّصة بِالدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ وَالزَّبَرْجَدِ ثُمَّ أَمَرَ بِالْكُرْسِيِّ فحُفّ مِنْ جَانِبَيْهِ بِالنَّخْلِ، نَخْلٌ مِنْ ذَهَبٍ شَمَارِيخُهَا مِنْ يَاقُوتٍ وَزَبَرْجَدٍ وَلُؤْلُؤٍ. وَجُعِلَ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ الَّتِي عَنْ يَمِينِ الْكُرْسِيِّ طَوَاوِيسُ مَنْ ذَهَبٍ، ثُمَّ جُعِلَ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ الَّتِي عَلَى يَسَارِ الْكُرْسِيِّ نُسُورٌ مَنْ ذَهَبٍ مُقَابَلَةَ الطَّوَاوِيسِ، وَجُعِلَ على يمين الدرجة الأولى شَجَرَتَا صَنَوْبَرٍ مَنْ ذَهَبٍ، وَعَنْ يَسَارِهَا أَسَدَانِ مَنْ ذَهَبٍ وَعَلَى رُءُوسِ الْأَسَدَيْنِ عَمُودَانِ مِنْ زَبَرْجَدٍ وَجُعِلَ مِنْ جَانِبَيِ الْكُرْسِيِّ شَجَرَتَا كَرْمٍ مَنْ ذَهَبٍ قَدْ أَظَلَّتَا الْكُرْسِيَّ وَجُعِلَ عَنَاقِيدُهُمَا دُرًّا وَيَاقُوتًا أَحْمَرَ. ثُمَّ جُعل فَوْقَ دَرَج الْكُرْسِيِّ أسَدَان عَظِيمَانِ مِنْ ذَهَبٍ مُجَوَّفَانِ مَحْشُوَّانِ مِسْكًا وَعَنْبَرًا. فَإِذَا أَرَادَ سُلَيْمَانُ أَنْ يَصْعَدَ عَلَى كُرْسِيِّهِ اسْتَدَارَ الْأَسَدَانِ سَاعَةً ثُمَّ يَقَعَانِ [[في ت: "يقفان".]] فَيَنْضَحَانِ مَا فِي أَجْوَافِهِمَا مِنَ الْمِسْكِ وَالْعَنْبَرِ حَوْلَ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، ثُمَّ يُوضَعُ مِنْبَرَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَاحِدٌ لِخَلِيفَتِهِ وَالْآخِرُ لِرَئِيسِ أَحْبَارِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ذَلِكَ الزَّمَانِ. ثُمَّ يُوضَعُ أَمَامَ كُرْسِيِّهِ سَبْعُونَ مِنْبَرًا مِنْ ذَهَبٍ يَقْعُدُ عَلَيْهَا سَبْعُونَ قَاضِيًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَعُلَمَائِهِمْ وَأَهْلِ الشَّرَفِ مِنْهُمْ وَالطَوْلِ وَمِنْ خَلْفِ تِلْكَ الْمَنَابِرِ كُلِّهَا خَمْسَةٌ وَثَلَاثُونَ مِنْبَرًا مِنْ ذَهَبٍ لَيْسَ عَلَيْهَا أَحَدٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَصْعَدَ عَلَى كُرْسِيِّهِ وَضَعَ قَدَمَيْهِ عَلَى الدَّرَجَةِ السُّفْلَى فَاسْتَدَارَ الْكُرْسِيُّ كُلُّهُ بِمَا فِيهِ وَمَا عَلَيْهِ، وَيَبْسُطُ الْأَسَدُ يَدَهُ الْيُمْنَى وَيَنْشُرُ النَّسْرُ جَنَاحَهُ الْأَيْسَرَ ثُمَّ يَصْعَدُ [سُلَيْمَانُ] [[زيادة من ت، أ.]] عَلَى الدَّرَجَةِ الثَّانِيَةِ فَيَبْسُطُ الْأَسَدُ يَدَهُ الْيُسْرَى وَيَنْشُرُ النَّسْرُ جَنَاحَهُ الْأَيْمَنَ فَإِذَا اسْتَوَى سُلَيْمَانُ عَلَى الدَّرَجَةِ الثَّالِثَةِ وَقَعَدَ عَلَى الْكُرْسِيِّ أَخَذَ نَسْرٌ مِنْ تِلْكَ النُّسُورِ عَظِيمٌ تَاجَ سُلَيْمَانَ فَوَضَعَهُ عَلَى رَأْسِهِ فَإِذَا وَضَعَهُ عَلَى رَأْسِهِ اسْتَدَارَ الْكُرْسِيُّ بِمَا فِيهِ كَمَا تَدُورُ الرَّحَى الْمُسْرِعَةُ. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَمَا الَّذِي يُدِيرُهُ يَا أَبَا إِسْحَاقَ؟ قَالَ: تِنِّينٌ مِنْ ذَهَبِ ذَلِكَ الْكُرْسِيِّ عَلَيْهِ وَهُوَ عَظِيمٌ مِمَّا عَمِلَهُ صَخْرٌ الْجِنِّيُّ فَإِذَا أَحَسَّتْ بِدَوَرَانِهِ تِلْكَ النُّسُورُ والأسْدُ وَالطَّوَاوِيسُ الَّتِي فِي أَسْفَلِ الْكُرْسِيِّ دُرْنَ إِلَى أَعْلَاهُ فَإِذَا وَقَفَ وَقَفْنَ كُلُّهُنَّ مُنَكِّسَاتٍ رُءُوسَهُنَّ عَلَى رَأْسِ سُلَيْمَانَ [ابْنِ دَاوُدَ] [[زيادة من أ.]] عَلَيْهِ [[في أ: "عليهما".]] السَّلَامُ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ يَنْضَحْنَ جَمِيعًا مَا فِي أَجْوَافِهِنَّ مِنَ الْمِسْكِ وَالْعَنْبَرِ عَلَى رَأْسِ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ. ثُمَّ تَتَنَاوَلُ حَمَامَةٌ مَنْ ذَهَبٍ وَاقِفَةٌ عَلَى عَمُودٍ مِنْ جَوْهَرٍ التوراةَ فَتَجْعَلُهَا فِي يَدِهِ فَيَقْرَؤُهَا سُلَيْمَانُ عَلَى النَّاسِ.
وَذَكَرَ تَمَامَ الْخَبَرِ [[في ت: "الحديث".]] وَهُوَ غَرِيبٌ جِدًّا.
﴿قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لأحَدٍ مِنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ قَالَ بَعْضُهُمْ: مَعْنَاهُ: لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي أَيْ: لَا يَصْلُحُ لِأَحَدٍ أَنْ يَسْلُبَنِيهِ كَمَا كَانَ مِنْ قَضِيَّةِ [[في ت: "في قصة"، وفي أ: "من قصة".]] الْجَسَدِ الَّذِي أُلْقِيَ عَلَى كُرْسِيِّهِ لَا أَنَّهُ يَحْجُرُ عَلَى مَنْ بَعْدَهُ مِنَ النَّاسِ. وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ سَأَلَ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى مُلْكًا لَا يَكُونُ لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ مِنَ الْبَشَرِ مِثْلُهُ، وَهَذَا هُوَ ظَاهِرُ السِّيَاقِ مِنَ الْآيَةِ وَبِهِ [[في ت، س، أ: "وبذلك".]] وَرَدَتِ الْأَحَادِيثُ الصَّحِيحَةُ مِنْ طُرُقٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ.
قَالَ [[في ت: "فروى".]] الْبُخَارِيُّ عِنْدَ تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا رَوْحٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّت عَلَيَّ الْبَارِحَةَ -أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا-لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصبحوا وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ: ﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لأحَدٍ مِنْ بَعْدِي﴾
قَالَ رَوْحٌ: فَرَدَّهُ خَاسِئًا [[صحيح البخاري برقم (٤٨٠٨) .]]
وَكَذَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ بِهِ [[صحيح مسلم برقم (٥٤١) والنسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٤٠) .]]
وَقَالَ مُسْلِمٌ فِي صَحِيحِهِ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ المُرَادي حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ حَدَّثَنِي رَبِيعَةَ بْنِ يَزيد عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي فَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ: "أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ". ثُمَّ قَالَ: "أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ" -ثَلَاثًا-وَبَسَطَ يَدَه كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُهُ قَبْلَ ذَلِكَ وَرَأَيْنَاكَ بَسَطَتْ يَدَكَ؟ قَالَ: "إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ -ثَلَاثَ مَرَّاتٍ-ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ التَّامَّةِ. فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أخْذَه وَاللَّهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا يَلْعَبُ بِهِ صِبْيَانُ [[في ت، س، أ: "ولدان".]] أَهْلِ الْمَدِينَةِ" [[صحيح مسلم برقم (٥٤٢) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ حَاجِبُ سُلَيْمَانَ قَالَ: رَأَيْتُ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ قَائِمًا يُصَلِّي، فَذَهَبْتُ أَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَرَدَّنِي ثُمَّ قَالَ [[في ت: "بإسناده".]] حَدَّثَنِي [[في ت: "عن".]] أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَامَ يُصَلِّي [[في ت: "فصلى".]] صَلَاةَ الصُّبْحِ وَهُوَ خَلْفُهُ فَقَرَأَ فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صِلَاتِهِ قَالَ: "لَوْ رَأَيْتُمُونِي وَإِبْلِيسَ فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي فَمَا زِلْتُ أَخْنُقُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ لُعَابِهِ بَيْنَ أُصْبُعَيَّ هَاتَيْنِ -الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا-وَلَوْلَا دَعْوَةُ أَخِي سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ [[في ت: "أصبح".]] مَرْبُوطًا بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، يَتَلَاعَبُ بِهِ صِبْيَانُ الْمَدِينَةِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَلَّا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ أَحَدٌ فَلْيَفْعَلْ".
وَقَدْ رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ: "مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَلَّا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ أَحَدٌ فَلْيَفْعَلْ" عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيج عَنْ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيِّ بِهِ [[المسند (٣/٨٣) وسنن أبي داود برقم (٦٩٩) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَهُوَ فِي حَائِطٍ لَهُ بِالطَّائِفِ يُقَالُ لَهُ: "الْوَهْطُ"، وَهُوَ مُخَاصر فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ يُزَنّ بشُرْب الْخَمْرِ، فَقُلْتُ: بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثٌ أَنَّهُ "مِنْ شَرِبِ شَرْبَةَ خَمْر لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ -عَزَّ وَجَلَّ-لَهُ تَوبَةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، وَإِنَّ الشَّقِيَّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَإِنَّهُ مَنْ أَتَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ لا يَنْهَزه إلا الصلاة فيه، خرج مِنْ خَطِيئَتِهِ مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، فَلَمَّا سَمِعَ الْفَتَى ذَكْرَ الْخَمْرِ اجْتَذَبَ يَدَهُ مِنْ يَدِهِ ثُمَّ انْطَلَقَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو [[في أ: "عمرو رضي الله عنهما".]] إِنِّي لَا أُحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ عَلَيّ مَا لَمْ أَقُلْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "مَنْ شَرِبَ مِنَ الْخَمْرِ شَرْبَةً لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ [[في أ: "وإن".]] عَادَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ. فَإِنْ عَادَ -قَالَ فَلَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ-فَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ رَدْغَة الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" قَالَ: وَسَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ ثُمَّ أَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ نُورِهِ يَوْمَئِذٍ اهْتَدَى وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ فَلِذَلِكَ [[في أ: "ولذلك".]] أَقُولُ جَفَّ الْقَلَمُ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" وَسَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "إِنَّ سُلَيْمَانَ سَأَلَ اللَّهَ تَعَالَى ثَلَاثًا فَأَعْطَاهُ اثْنَتَيْنِ وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ تَكُونَ لَنَا الثَّالِثَةُ: سَأَلَهُ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَسَأَلَهُ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَسَأَلَهُ أَيُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ مَنْ بَيْتِهِ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ [[في ت، س، أ: "مثل يوم".]] وَلَدَتْهُ أُمُّهُ فَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللَّهُ تَعَالَى [[في ت، س، أ: "عز وجل".]] قَدْ أَعْطَانَا إِيَّاهَا" [[المسند (٢/١٧٦) .]]
وَقَدْ رَوَى هَذَا الْفَصْلَ الْأَخِيرَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ مِنْ طُرُقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَيْرُوزَ الدَّيْلِمِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ سُلَيْمَانَ لَمَّا بَنَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ سَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خِلَالًا ثَلَاثًا ... " وَذَكَرَهُ [[سنن النسائي (٢/٤٣) وسنن ابن ماجة برقم (١٤٠٨) .]]
وَقَدْ رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ رَافِعِ بْنِ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، بِإِسْنَادٍ وَسِيَاقٍ غَرِيبَيْنِ فَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبة الْعَسْقَلَانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ سُوَيْد حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَة عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ [[في ت: "وروى الطبراني بإسناده".]] عَنْ رَافِعِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِدَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ابْنِ لِي بَيْتًا فِي الْأَرْضِ. فَبَنَى دَاوُدُ [[في ت: "داود عليه السلام".]] بَيْتًا لِنَفْسِهِ قَبْلَ الْبَيْتِ الَّذِي أُمِرَ بِهِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: يَا دَاوُدُ نَصَبْتَ بَيْتَكَ قَبْلَ بَيْتِي؟ قَالَ: يَا رَبِّ هَكَذَا قَضَيْتَ [[في ت، س، أ: "هكذا قلت فيما قضيت".]] مَنْ مَلَكَ اسْتَأْثَرَ ثُمَّ أَخَذَ فِي بِنَاءِ الْمَسْجِدِ فَلَمَّا تَمَّ السُّورَ سَقَطَ ثَلَاثًا فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ: يَا دَاوُدُ [[في ت، أ: "فأوحى الله إليه"]] إِنَّكَ لَا تَصْلُحُ أَنْ تَبْنِيَ لِي بَيْتًا قَالَ: وَلِمَ يَا رَبِّ؟ قَالَ: لِمَا جَرَى عَلَى يَدَيْكَ مِنَ الدِّمَاءِ. قَالَ: يَا رَبِّ أَوْ مَا كَانَ [[في ت، س، أ: "أو لم يكن".]] ذَلِكَ فِي هَوَاكَ وَمَحَبَّتِكَ؟ قَالَ: بَلَى وَلَكِنَّهُمْ عِبَادِي وَأَنَا أَرْحَمُهُمْ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: لَا تَحْزَنْ فَإِنِّي سَأَقْضِي بِنَاءَهُ عَلَى يَدَيِ ابْنِكَ سُلَيْمَانَ. فَلَمَّا مَاتَ دَاوُدُ أَخْذَ سُلَيْمَانُ فِي بِنَائِهِ فَلَمَّا تَمَّ قَرَّبَ الْقَرَابِينَ وَذَبَحَ الذَّبَائِحَ وَجَمَعَ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: قَدْ أَرَى سرورَك بِبُنْيَانِ بَيْتِي فَسَلْنِي أُعْطِكَ. قَالَ: أَسْأَلُكَ ثَلَاثَ خِصَالٍ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَكَ وَمُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي وَمَنْ أَتَى هَذَا الْبَيْتَ لَا يُرِيدُ إلا الصلاة فيه خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أما ثِنْتَانِ فَقَدْ أُعْطِيَهُمَا وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أُعْطِيَ الثَّالِثَةَ" [[المعجم الكبير (٥/٢٤) قال الهيثمي في المجمع (٤/٨) : "فيه محمد بن أيوب بن سويد الرملي وهو متهم بالوضع".]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عُمَر بْنُ رَاشِدٍ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ دَعَا دُعَاءً إِلَّا اسْتَفْتَحَهُ بِـ "سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّي الْأَعْلَى الْعَلِيِّ الْوَهَّابِ" [[المسند (٤/٥٤) قال الهيثمي في المجمع (١٠/١٥٦) : "فيه عمر بن راشد اليمامي وثقه غير واحد، وبقية رجاله رجال الصحيح".]]
وَقَدْ قَالَ [[في ت: "وروى".]] أَبُو عَبِيدٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بَرْقان عَنْ صَالِحِ بْنِ مِسْمَارٍ قَالَ: لَمَّا مَاتَ نَبِيُّ اللَّهِ دَاوُدُ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى ابْنِهِ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِمَا [[في ت، أ: "عليه".]] السَّلَامُ: أَنْ سَلْنِي حَاجَتَكَ. قَالَ: أَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ لِي قَلْبًا يَخْشَاكَ كَمَا كَانَ قَلْبُ أَبِي وَأَنْ تَجْعَلَ قَلْبِي يُحِبُّكَ كَمَا كَانَ قَلْبُ أَبِي. فَقَالَ اللَّهُ: أَرْسَلْتُ إِلَى عَبْدِي وَسَأَلَتْهُ [[في ت، س: "أسأله".]] حَاجَتَهُ فَكَانَتْ [حَاجَتُهُ] [[زيادة من ت، س.]] أَنْ أَجْعَلَ قَلْبَهُ يَخْشَانِي وَأَنْ أَجْعَلَ قَلْبَهُ يُحِبُّنِي لأهَبَنّ لَهُ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ﴾ وَالَّتِي بَعْدَهَا، قَالَ: فَأَعْطَاهُ [اللَّهُ] [[زيادة من أ.]] مَا أَعْطَاهُ وَفِي الْآخِرَةِ لَا حِسَابَ عَلَيْهِ.
هَكَذَا أَوْرَدَهُ أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ عَسَاكِرَ فِي تَرْجَمَةِ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي تَارِيخِهِ [[تاريخ دمشق (٧/٥٦٩) "القسم المخطوط".]]
وَرُوِيَ عَنْ بَعْضِ السَّلَفِ أَنَّهُ قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ دَاوُدَ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ت، س، أ.]] أَنَّهُ قَالَ: "إِلَهِي كُنْ لِسُلَيْمَانَ كَمَا كُنْتَ لِي": فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: أَنْ قُلْ لِسُلَيْمَانَ: يَكُونُ لِي كَمَا كُنْتَ لِي، أَكُونُ لَهُ كَمَا كنتُ لَكَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ﴾ قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَمَّا عَقَرَ سُلَيْمَانُ الْخَيْلَ غَضَبًا لِلَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ عَوَّضَهُ اللَّهُ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا وَأَسْرَعُ الرِّيحُ الَّتِي غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿حَيْثُ أَصَابَ﴾ أَيْ: حَيْثُ أَرَادَ مِنَ الْبِلَادِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ﴾ أَيْ: مِنْهُمْ مَنْ هُوَ مُسْتَعْمَلٌ فِي الْأَبْنِيَةِ الْهَائِلَةِ مِنْ مَحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجَفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَاسِيَاتٍ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَعْمَالِ الشَّاقَّةِ الَّتِي لَا يَقْدِرُ عَلَيْهَا الْبَشَرُ وَطَائِفَةٌ غَوَّاصُونَ فِي الْبِحَارِ يَسْتَخْرِجُونَ مِمَّا [[في ت: "ما".]] فِيهَا مِنَ اللَّآلِئِ وَالْجَوَاهِرِ وَالْأَشْيَاءِ النَّفِيسَةِ الَّتِي لَا تُوجَدُ إِلَّا فِيهَا ﴿وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الأصْفَادِ﴾ أَيْ: مُوثَقُونَ فِي الْأَغْلَالِ وَالْأَكْبَالِ مِمَّنْ قَدْ تَمَرّد وَعَصَى وَامْتَنَعَ مِنَ الْعَمَلِ وَأَبَى أَوْ قَدْ أَسَاءَ فِي صنيعه واعتدى.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿هَذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ أَيْ: هَذَا الَّذِي أَعْطَيْنَاكَ مِنَ الْمُلْكِ التَّامِّ وَالسُّلْطَانِ الْكَامِلِ كَمَا سَأَلْتَنَا فَأَعْطِ مَنْ شِئْتَ وَاحْرِمْ مَنْ شِئْتَ، لَا حِسَابَ عَلَيْكَ، أَيْ: مَهْمَا فعلتَ فَهُوَ جَائِزٌ لَكَ احْكُمْ بِمَا شِئْتَ فَهُوَ صَوَابٌ. وَقَدْ ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ [[في أ: "الصحيح".]] أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لَمَّا خُيِّر بَيْنَ أَنْ يَكُونَ عَبْدًا رَسُولًا -وَهُوَ الَّذِي يَفْعَلُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ وَإِنَّمَا هُوَ قَاسِمٌ يَقْسِمُ بَيْنَ النَّاسِ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ بِهِ-وَبَيْنَ أَنْ يَكُونَ مَلِكًا نَبِيًّا يُعْطِي مَنْ يَشَاءُ وَيَمْنَعُ مَنْ يَشَاءُ بِلَا حِسَابٍ وَلَا جُنَاحٍ، اخْتَارَ الْمَنْزِلَةَ الْأُولَى بَعْدَ مَا اسْتَشَارَ جِبْرِيلَ فَقَالَ لَهُ: تَوَاضَعْ فَاخْتَارَ الْمَنْزِلَةَ الْأُولَى لِأَنَّهَا أَرْفَعُ قَدْرًا عِنْدَ اللَّهِ وَأَعْلَى مَنْزِلَةً فِي الْمَعَادِ وَإِنْ كَانَتِ الْمَنْزِلَةُ الثَّانِيَةُ وَهِيَ النُّبُوَّةُ مَعَ الْمُلْكِ عَظِيمَةً أَيْضًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلِهَذَا لَمَّا ذَكَرَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَا أَعْطَى سُلَيْمَانَ فِي الدُّنْيَا نَبَّهَ عَلَى أَنَّهُ ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْضًا، فَقَالَ: ﴿وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ﴾ أَيْ: فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ.
وَٱلشَّيَٰطِينَ كُلَّ بَنَّآءٍۢ وَغَوَّاصٍۢ
And [also] the devils [of jinn] - every builder and diver
اَور دیووں کو بھی (ان کے زیرفرمان کیا) وہ سب عمارتیں بنانے والے اور غوطہ مارنے والے تھے
و شیاطین را مسخّر او کردیم، هر بنّا و غوّاصی از آنها را!
Tafsir Ibn Kathir
And indeed, We tried Sulayman and We placed on his throne Jasad (a body), and he returned (34)He said: "My Lord! Forgive me, and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me. Verily, You are the Bestower. (35)So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order wherever he willed (36)And the Shayatin, from every kind of builder and diver (37)And also others bound in fetters (38)[Allah said to Sulayman]: "This is Our gift, so spend you or withhold, no account will be asked of you. (39)And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return (40)
How Allah tested Sulayman then made Things easy for Him
Allah says,
وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ
(And indeed, We tried Sulayman) meaning, 'We tested him.'
وَأَلْقَيْنَا عَلَىٰ كُرْسِيِّهِ جَسَدًا
(and We placed on his throne Jasad (a body)).
ثُمَّ أَنَابَ
(and he returned.) means, after this test, he turned back to Him and asked for forgiveness and to be given a kingdom such as shall not belong to any other after him.
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
(He said: "My Lord! Forgive me, and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me. Verily, You are the Bestower.")
Some of them said, "No one after me will have the right to ask Allah for such a kingdom." This is the apparent meaning from the context of the Ayah, and several Hadiths with a similar meaning have been narrated from the Messenger of Allah ﷺ.
In his Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet ﷺ said:
إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ، وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنَ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتّٰى تُصْبِحُوا،وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي
(An 'Ifrit from among the Jinn came and bothered me last night – or he said something similar – trying to stop me from praying. Allah enabled me to overpower him, and I wanted to tie him to one of the pillars in the Masjid so that you could see him this morning. Then I remembered what my brother Sulayman said, (My Lord! Forgive me and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me))
Rawh said, "so he let him go, humiliated." ) This was also recorded by Muslim and An-Nasa'i. In his Sahih, Muslim recorded that Abu Ad-Darda', may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ stood up to pray and we heard him say,
أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ
(I seek refuge with Allah from you.) Then he said,
أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ
(I curse you with the curse of Allah.) three times, and he stretched out his hand as if he was reaching out to take something. When he finished his prayer, we said, 'O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer which we have never heard you say before, and we saw you stretching out your hand.' He ﷺ said:
إِنَّ عَدُوَّ اللهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ التَّامَّةِ، فَلَمْ يَتَأَخَّرْ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ،وَاللهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا، يَلْعَبُ بِهِ صِبْيَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ
(The enemy of Allah Iblis came with a flame of fire to throw in my face, so I said, "I seek refuge with Allah from you" three times, then I said, "I curse you with the complete curse of Allah," but he did not back off. I said it three times. Then I wanted to seize him. By Allah, if it were not for the words of our brother Sulayman, he would have been chained up and he would have become a plaything for the children of the people of Al-Madinah.)" Allah says:
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ
(So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order wherever he willed.) Al-Hasan Al-Basri, may Allah have mercy on him, said, "When Sulayman, peace be upon him, slaughtered the horses out of anger for the sake of Allah, Allah compensated him with something better and swifter, the wind whose morning was a month's (journey), and its afternoon was a month's (journey)."
حَيْثُ أَصَابَ
(wherever he willed.) means, wherever in the world he wanted.
وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ
(And also the Shayatin, from every kind of builder and diver,) means, among them were some whom he used to build high rooms, images, basins as large as reservoirs, and cauldrons fixed (in their places), and other difficult tasks which humans were unable to do. And there was another group, who dived into the sea recovering pearls, jewels and other precious things which cannot be found anywhere else.
وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
(And also others bound in fetters.) means, tied up in chains. These were the ones who had rebelled and refused to work, or else their work was bad and they were wrongdoers.
هَٰذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ
([Allah said to Sulayman]: "This is Our Gift, so spend you or withhold, no account will be asked of you.") means, 'this that We have given to you of kingship and perfect power, as you asked for, you may give to whomsoever you wish and deny to whomsoever you wish, and you will not be brought to account. Whatever you do is permissible for you, so however you judge, it will be right.' It was reported in the Two Sahihs that when the Messenger of Allah ﷺ was given the choice between being a servant and a Messenger – who does what he is commanded to do and distributes things among the people as Allah commands him to do – or being a Prophet and a king, who can give to whomever he wishes and withhold from whomever he wishes without being held accountable for anything, he chose the former. He consulted with Jibril, peace be upon him, who said, "Be humble." So he chose the former because it has a greater value before Allah and brings a higher status in the Hereafter, even though the second option, prophethood combined with kingship, is also a great thing both in this world and in the Hereafter, when Allah tells us what He gave to Sulayman, peace be upon him, in this world, He tells us that he will have a great share with Allah on the Day of Resurrection. He says:
وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ
(And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return.) meaning, in this world and the Hereafter.
Tafsir Ibn Kathir
سلیمان ؑ کا تفصیلی تذکرہ۔ہم نے حضرت سلیمان کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ ؓ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہرچند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتاسکتا ہے آپ نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر میں ملتا تھا ہر ساتویں دن اس میں لبالب پانی آجاتا تھا اور یہی پانی یہ شیطان پیتا تھا۔ اس کا پانی نکال دیا گیا اور بالکل خالی کر کے پانی کو بند کر کے اس کے آنے والے دن اسے شراب سے پر کردیا گیا جب شیطان آیا اور یہ حال دیکھا تو کہنے لگا یہ تو مزے کی چیز ہے لیکن عقل کی دشمن جہالت کو ترقی دینے والی چیز ہے۔ چناچہ وہ پیاسا ہی چلا گیا۔ جب پیاس کی شدت ہوئی تو مجبوراً یہ سب کچھ کہتے ہوئے پینا ہی پڑا۔ اب عقل جاتی رہی اور اسے حضرت سلیمان کی انگوٹھی دکھائی گئی یا مونڈھوں کے درمیان سے مہر لگا دی گئی۔ یہ بےبس ہوگیا حضرت سلیمان کی حکومت اسی انگوٹھی کی وجہ سے تھی۔ جب یہ حضرت سلیمان کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے یہ کام سر انجام دینے کا حکم دیا یہ ہدہد کے انڈے لے آیا اور انہیں جمع کر کے ان پر شیشہ رکھ دیا۔ ہدہد آیا اس نے اپنے انڈے دیکھے چاروں طرف گھوما لیکن دیکھا کہ ہاتھ نہیں آسکتے اڑ کر واپس چلا گیا اور الماس لے آیا اور اسے اس شیشے پر رکھ کر شیشے کو کاٹنا شروع کردیا آخر وہ کٹ گیا اور ہدہد اپنے انڈے لے گیا اور اس الماس کو بھی لے لیا گیا اور اسی سے پتھر کاٹ کاٹ کر عمارت شروع ہوئی حضرت سلیمان ؑ جب بیت الخلا میں یا حمام میں جاتے تو انگوٹھی اتار جاتے ایک دن حمام میں جانا تھا اور یہ شیطان آپ کے ساتھ تھا آپ اس وقت فرضی غسل کے لئے جا رہے تھے انگوٹھی اسی کو سونپ دی اور چلے گئے اس نے انگوٹھی سمندر میں پھینک دی اور شیطان پر حضرت سلیمان کی شکل ڈال دی گئی اور آپ سے تخت و تاج چھن گیا۔ سب چیزوں پر شیطان نے قبضہ کرلیا سوائے آپ کی بیویوں کے۔ اب اس سے بہت سی غیر معروف باتیں ظہور میں آنے لگیں اس زمانہ میں ایک صاحب تھے جو ایسے ہی تھے جیسے حضور ﷺ کے زمانہ میں حضرت فاروق ؓ۔ اس نے کہا آزمائش کرنی چاہئے مجھے تو یہ شخص سلیمان معلوم نہیں ہوتا۔ چناچہ ایک روز اس نے کہا کیوں جناب اگر کوئی شخص رات کو جنبی ہوجائے اور موسم ذرا ٹھنڈا ہو اور وہ سورج طلوع ہونے تک غسل نہ کرے تو کوئی حرج تو نہیں ؟ اس نے کہا ہرگز نہیں۔ چالیس دن تک یہ تخت سلیمان پر رہا پھر آپ کی مچھلی کے پیٹ سے انگوٹھی مل گئی ہاتھ میں ڈالتے ہی پھر تمام چیزیں آپ کی مطیع ہوگئیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ سدی فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ کی ایک سو بیویاں تھیں آپ کو سب سے زیادہ اعتبار ان میں سے ایک بیوی پر تھا جن کا نام جراوہ تھا۔ جب جنبی ہونے یا پاخانے جاتے تو اپنی انگوٹھی انہی کو سونپ جاتے۔ ایک مرتبہ آپ پاخانے گئے پیچھے سے ایک شیطان آپ ہی کی صورت بنا کر آیا اور بیوی صاحبہ سے انگوٹھی طلب کی آپ نے دے دی یہ آتے ہی تخت پر بیٹھ گیا جب حضرت سلیمان آئے اور انگوٹھی طلب کی تو بیوی صاحبہ نے فرمایا آپ انگوٹھی تو لے گئے۔ آپ سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے نہایت پریشان حال سے محل سے نکل گئے اس شیطان نے چالیس دن تک حکومت کی لیکن احکام کی تبدیلی کو دیکھ کر علماء نے سمجھ لیا کہ یہ سلیمان نہیں۔ چناچہ ان کی جماعت آپ کی بیویوں کے پاس آئی اور ان سے کہا یہ کیا معاملہ ہے ہمیں سلیمان کی ذات میں شک پڑگیا۔ اگر یہ سچ مچ سلیمان ہے تو اس کی عقل جاتی رہی ہے یا یہ کہ یہ سلیمان ہی نہیں۔ ورنہ ایسے خلاف شرع احکام نہ دیتا۔ عورتیں یہ سن کر رونے لگیں۔ یہ یہاں سے واپس آگئے اور تخت کے اردگرد اسے گھیر کر بٹھ گئے اور تورات کھول کر اس کی تلاوت شروع کردی۔ یہ خبیث شیطان کلام اللہ سے بھاگا اور انگوٹھی سمندر میں پھینک دی جسے ایک مچھلی نگل گئی۔ حضرت سلیمان یونہی اپنے دن گذارتے تھے ایک مرتبہ سمندر کے کنارے نکل گئے بھوک بہت لگی ہوئی تھی ماہی گیروں کو مچھلیاں پکڑتے ہوئے دیکھ کر ان کے پاس آ کر ان سے ایک مچھلی مانگی اور اپنا نام بھی بتایا، اس پر بعض لوگوں کو بڑا طیش آیا کہ دیکھو بھیک مناگنے والا اپنے تئیں سلیمان بتاتا ہے انہوں نے آپ کو مارنا پیٹنا شروع کیا آپ زخمی ہو کر کنارے جا کر اپنے زخم کا خون دھونے لگے۔ بعض ماہی گیروں کو رحم آگیا کہ ایک سائل کو خواہ مخواہ مارا۔ جاؤ بھئی اسے دو مچھلیاں دے آؤ بھوکا ہے بھون کھائے گا۔ چناچہ و مچھلیاں آپ کو دے آئے بھوک کی وجہ سے آپ اپنے زخم کو اور خون کو تو بھول گئے اور جلدی سے مچھلی کا پیٹ چاک کرنے بیٹھ گئے۔ قدرت اللہ سے اس کے پیٹ سے وہ انگوٹھی نکلی آپ نے اللہ کی تعریف بیان کی اور انگوٹھی انگلی میں ڈالی اس وقت پرندوں نے آ کر آپ پر سایہ کرلیا اور لوگوں نے آپ کو پہچان لیا اور آپ سے معذرت کرنے لگے آپ نے فرمایا یہ سب امر اللہ تھا اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا۔ آپ آئے اپنے تخت پر بیٹھ گئے اور حکم دیا کہ اس شیطان کو جہاں بھی وہ ہو گرفتار کر لاؤ چناچہ اسے قید کرلیا گیا آپ نے اسے ایک لوہے کے صندوق میں بند کیا اور قفل لگا کر اس پر اپنی مہر لگا دی اور سمندر میں پھنکوا دیا جو قیامت تک وہیں قید رہے گا۔ اس کا نام حقیق تھا۔ آپ کی یہ دعا کہ مجھے ایسا ملک عطا فرمایا جائے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو یہ بھی پوری ہوئی اور آپ کے تابع ہوائیں کردی گئیں۔ مجاہد سے مروی ہے کہ ایک شیطان سے جس کا نام آصف تھا ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ نے پوچھا کہ تم لوگوں کو کس طرح فتنے میں ڈالتے ہو ؟ اس نے کہا ذرا مجھے انگوٹھی دکھاؤ میں ابھی آپ کو دکھا دیتا ہوں آپ نے انگوٹھی دے دی اس نے اسے سمندر میں پھینک دیا تخت و تاج کا مالک بن بیٹھا اور آپ کے لباس میں لوگوں کو راہ اللہ سے ہٹانے لگا۔ " یاد رہے کہ یہ سب واقعات بنی اسرائیل کے بیان کردہ ہیں " اور ان سب سے زیادہ منکر واقعہ وہ ہے۔ جو ابن ابی حاتم میں ہے جس کا اوپر بیان ہوا۔ جس میں آپ کی بیوی صاحبہ حضرت جراوہ کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آخر نبوت یہاں تک پہنچی تھی کہ لڑکے آپ کو پتھر مارتے تھے۔ آپ کی بیویوں سے جب علماء نے معاملہ کی تفتیش کی تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہمیں بھی اس کے سلیمان ہونے سے انکار ہے کیونکہ وہ حالت حیض میں ہمارے پاس آتا ہے۔ شیطان کو جب یہ معلوم ہوگیا کہ راز کھل گیا ہے تو اس نے جادو اور کفر کی کتابیں لکھوا کر کرسی تلے دفن کردیا اور پھر لوگوں کے سامنے انہیں نکلوا کر ان سے کہا دیکھو ان کتابوں کی بدولت سلیمان تم پر حکومت کر رہا تھا چناچہ لوگوں نے آپ کو کافر کہنا شروع کردیا۔ حضرت سلیمان سمندر کے کنارے مزدوری کرتے تھے ایک مرتبہ ایک شخص نے بہت سی مچھلیاں خریدیں مزدور کو بلایا آپ پہنچے اس نے کہا یہ اٹھالو پوچھا مزدوری کیا دو گے ؟ اس نے کہا اس میں سے ایک مچھلی تمہیں دے دوں گا آپ نے ٹوکرا سر پر رکھا اس کے ہاں پہنچایا اس نے ایک مچھلی دے دی آپ نے اس کا پیٹ چاک کیا پیٹ چاک کرتے ہی وہ انگوٹھی نکل پڑی پہنتے ہی کل شیاطین جن انسان پھر تابع ہوگئے اور جھرمٹ باندھ کر حاضر ہوگئے آپ نے ملک پر قبضہ کیا اور اس شیطان کو سخت سزا دی۔ پس ثم اناب سے مراد شیطان جو مسلط کیا گیا تھا اس کا لوٹنا ہے۔ اس کی اسناد حضرت ابن عباس تک ہے۔ ہے تو قوی لیکن یہ ظاہر ہے کہ اسے حضرت ابن عباس نے اہل کتاب سے لیا ہے، یہ بھی اس وقت جبکہ اسے ابن عباس کا قول مان لیں۔ اہل کتاب کی ایک جماعت حضرت سلیمان کو نہیں مانتی تھی تو عجب نہیں کہ یہ بیہودہ قصہ اسی خبیث جماعت کا گھڑا ہوا ہو۔ اس میں تو وہ چیزیں بھی ہیں جو بالکل ہی منکر ہیں خصوصاً اس شیطان کا آپ کی عورتوں کے پاس جانا اور آئمہ نے بھی ایسے ہی قصے بیان تو کئے ہیں لیکن اس بات کا سب نے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ جن ان کے پاس نہیں جاسکا اور نبی کے گھرانے کی عورتوں کی عصمت و شرافت کا تقاضا بھی یہی ہے اور بھی بہت سے لوگوں نے ان واقعات کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن سب کی اصل یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے لئے گئے ہیں۔ واللہ اعلم۔ شیبانی فرماتے ہیں آپ نے اپنی انگوٹھی عسقلان میں پائی تھی اور بیت المقدس تک تواضعاً آپ پیدل چلے تھے۔ امام ابن بی حاتم نے صفت سلیمان میں حضرت کعب احبار سے ایک عجیب خبر روایت کی ہے۔ ابو اسحاق مصری کہتے ہیں کہ جب (اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۽) 89۔ الفجر :7) کے قصے سے حضرت کعب نے فراغت حاصل کی تو حضرت معاویہ نے کہا ابو اسحاق آپ حضرت سلیمان کی کرسی کا ذکر بھی کیجئے فرمایا کہ وہ ہاتھی دانت کی تھی اور یاقوت زبرجد اور لولو سے مرصع تھی اور اس کے چاروں طرف سونے کے کھجور کے درخت بنے ہوئے تھے جن کے خوشے بھی موتیوں کے تھے ان میں سے جو دائیں جانب تھے ان کے سرے پر سونے کے مور تھے اور بائیں طرف والوں پر سونے کے گدھ تھے۔ اس کرسی کے پہلے درجے پر دائیں جانب سونے کے دو درخت صنوبر کے تھے اور بائیں جانب سونے کے دو شیر بن ہوئے تھے۔ ان کے سروں پر زبر جد کے دوستون تھے اور کرسی کے دونوں جانب انگور کی سنہری بیلیں تھیں جو کرسی کو ڈھانپے ہوئے تھیں اس کے خوشے بھی سرخ موتی کے تھے پھر کرسی کے اعلیٰ درجے پر دو شیر بہت بڑے سونے کے بنے ہوئے تھے جن کے اندر خول تھا ان میں مشک و عنبر بھرا رہتا تھا۔ جب حضرت سلیمان کرسی پر آتے تو یہ شیر حرکت کرتے اور ان کے گھومنے سے ان کے اندر سے مشک و عنبر چاروں طرف چھڑک دیا جاتا پھر دو منبر سونے کے بچھا دئے جاتے۔ ایک آپ کے وزیر کا اور ایک اس وقت کے سب سے بڑے عالم کا۔ پھر کرسی کے سامنے ستر منبر سونے کے اور بچھائے جاتے جن پر بنو اسرائیل کے قاضی ان کے علماء اور ان کے سردار بیٹھتے۔ ان کے پیچھے پینتیس منبر سونے کے اور ہوتے تھے جو خالی رہا کرتے تھے۔ حضرت سلیمان جب تشریف لاتے پہلے زینے پر قدم رکھتے ہی کرسی ان تمام چیزوں سمیت گھوم جاتی شیر اپن داہنا قدم آگے بڑھا دیتا اور گدھ اپنا بایاں پر پھیلا دیتا۔ جب دوسرے درجے پر قدم رکھتے تو شیر اپنا بایاں پاؤں پھیلا دیتا اور گدھ اپنا دایاں پر جب آپ تیسرے درجے پر چڑھ جاتے اور کرسی پر بیٹھ جاتے تو ایک بڑا گدھ آپ کا تاج لے کر آپ کے سر پر رکھتا پھر کرسی زور زور سے گھومتی۔ حضرت معاوضہ نے پوچھا آخر اس کی کیا وجہ ؟ فرمایا وہ ایک سونے کی لاٹ پر تھی جسے صخر جن نے بنایا تھا۔ اس کے گھومتے ہی نیچے والے مور گدھ وغیرہ سب اوپر آجاتے اور سر جھکاتے پر پھڑ پھڑاتے جس سے آپ کے جسم پر مشک و عنبر کا چھڑکاؤ ہوجاتا پھر ایک سونے کا کبوتر تورات اٹھا کر آپ کے ہاتھ میں دیتا جسے آپ تلاوت فرماتے۔ لیکن یہ روایت بالکل غریب ہے۔ حضرت سلیمان ؑ کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایسا ملک دے کہ مجھ سے کوئی اور چھین نہ سکے جیسے کہ اس جسم کا واقعہ ہوا جو آپ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ دوسروں کے لئے ایسے ملک کے نہ ملنے کی دعا کرتے ہوں۔ لیکن جن بعض لوگوں نے یہ معنی لئے ہیں وہ کچھ ٹھیک نظر نہیں آتے، بلکہ صحیح مطلب یہی ہے کہ آپ کی دعا کا یہی مطلب تھا کہ مجھے ایسا ملک اور سلطنت دی جائے کہ میرے بعد پھر کسی اور شخص کو ایسی سلطنت نہ ملے۔ یہی آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے اور یہی احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا ایک سرکش جن نے گزشتہ شب مجھ پر زیادتی کی اور میری نماز بگاڑ دینا چاہی لیکن اللہ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے اس ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھو لیکن اسی وقت مجھے میرے بھائی حضرت سلیمان (علیہ الصلوۃ والسلام) کی دعا یاد آگئی۔ راوی حدیث حضرت روح فرماتے ہیں پھر حضور ﷺ نے اسے ذلیل و خوار کر کے چھوڑ دیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نماز میں کھڑے ہوئے تو ہم نے سنا کہ آپ نے فرمایا اعوذ باللہ منک پھر آپ نے تین بار فرمایا العنک بلعنتہ اللہ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا کہ گویا آپ کسی چیز کو لینا چاہتے ہیں۔ جب فارغ ہوئے تو ہم نے آپ سے ان دونوں باتوں کی وجہ پوچھی آپ نے فرمایا اللہ کا دشمن ابلیس آگ لے کر میرے منہ میں ڈالنے کے لئے آیا تو میں نے تین مرتبہ اعوذ پڑھی پھر تین مرتبہ اس پر لعنت بھیجی لیکن وہ پھر بھی نہ ہٹا پھر میں نے چاہا کہ اسے پکڑ کر باندھ دوں تاکہ مدینے کے لڑکے اس سے کھیلیں اگر ہمارے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو میں یہی کرتا۔ حضرت عطا بن یزید لیثی نماز پڑھ رہے تھے جو ابو عبید نے ان کے سامنے سے گذرنا چاہا انہوں نے انہیں اپنے ہاتھ سے روک دیا پھر فرمایا مجھ سے حضرت ابو سعید خدری نے حدیث بیان کی کہ حضور ﷺ صبح کی نماز پڑھا رہے تھے یہ بھی آپ کے پیچھے تھے قرأت آپ پر خلط ملط ہوگئی فارغ ہو کر فرمایا کاش تم دیکھتے کہ میں نے ابلیس کو پکڑ لیا تھا اور اس قدر اس کا گلا گھونٹا کہ اس کے منہ کی جھاگ میری شہادت کی اور بیج کی انگلی پر پڑی اگر میرے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح ہوتے اس مسجد کے ستون سے بندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اسے ستاتے تم سے جہاں تک ہو سکے اس بات کا خیال رکھو کہ نماز کی حالت میں تمہارے سامنے سے کوئی گذرنے نہ پائے (مسند احمد) مسند کی اور حدیث میں ہے ربعیہ بن یزید عبداللہ ویلمی کہتے ہیں میں حضرت عمرو بن عاص ؓ کے پاس طائف کے ایک باغ میں گیا جس کا ام ربط تھا آپ اس وقت ایک قریشی کا محاصرہ کئے ہوئے تھے جو زانی اور شرابی تھا۔ میں نے ان سے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ یہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ جو ایک گھونٹ شراب پئے گا اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہ فرمائے گا اور برا آدمی وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی برا ہوگیا ہے جو شخص صرف نماز ہی کی نیت سے بیت المقدس کی مسجد میں جائے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا۔ وہ شرابی جسے حضرت عبداللہ پکڑے ہوئے تھے وہ شراب کا ذکر سنتے ہی جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا۔ اب حضرت عبداللہ نے فرمایا کسی کو حلال نہیں کہ میرے ذمے وہ بات کرے جو میں نے نہ کی۔ میں نے حضور ﷺ سے یوں سنا ہے جو شخص شراب کا ایک گھونٹ بھی پی لے اس کی چالیس دن کی نماز نامقبول ہے۔ اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ پھر اگر دوبارہ لوٹے تو پھر چالیس دن تک کی نمازیں نامقبول ہیں پھر اگر توبہ کرلے تو توبہ مقبول ہے مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ میں فرمایا کہ پھر اگر لوٹے گا تو یقینا اللہ تعالیٰ اسے جہنمیوں کے بدن کا خون، پیپ، پیشاب وغیرہ قیامت کے دن پلائے گا اور حضور ﷺ سے میں نے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا جس پر وہ نور اس دن پڑگیا وہ تو ہدایت والا ہوگیا اور جس تک وہ نور نہ پہنچا وہ بھٹک گیا۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل چکا اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کی جن میں سے دو تو انہیں مل گئیں اور ہمیں امید ہے کہ تیسری ہمارے لئے ہو (1) مجھے ایسا حکم دے جو تیرے حکم کے موافق ہو (2) مجھے ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لئے لائق نہ ہو۔ تیسری دعا یہ تھی کہ جو شخص اپنے گھر سے اس مسجد کی نماز کے ارادے ہی سے نکلے تو جب وہ لوٹے تو ایسا ہوجائے گویا آج پیدا ہوا پس ہمیں اللہ سے امید ہے کہ یہ ہمارے لئے اللہ نے دی ہو۔ طبرانی میں ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ عزوجل نے حضرت داؤد ؑ کو اپنے لئے ایک گھر بنانے کا حکم دیا حضرت داؤد نے پہلے اپنا گھر بنا لیا اس پر وحی آئی کہ تم نے اپنا گھر میرے گھر سے پہلے بنایا آپ نے عرض کیا پروردگار یہی فیصلہ کیا گیا تھا پھر مسجد بنانی شروع کی دیواریں پوری ہوگئیں تو اتفاقاً تہائی حصہ گرگیا آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جواب ملا کہ تو میرا گھر نہیں بنا سکتا۔ پوچھا کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ تیرے ہاتھوں سے خون بہا ہے۔ عرض کیا اللہ تعالیٰ وہ بھی تیری ہی محبت میں فرمایا ہاں لیکن وہ میرے بندے تھے میں ان پر رحم کرتا ہوں۔ آپ کو یہ کلام سن کر سخت پریشانی ہوئی۔ پھر وحی آئی کہ غمگین نہ ہو میں اسے تیرے لڑکے سلیمان کے ہاتھوں پورا کراؤں گا۔ چناچہ آپ کے انتقال کے بعد حضرت سلیمان نے اسے بنانا شروع کیا جب پورا کرچکے تو بڑی بڑی قربانیاں کیں اور ذبیحہ ذبح کئے اور بنو اسرائیل کو جمع کر کے خوب کھلایا پلایا اللہ کی وحی آئی کہ تو نے یہ سب کچھ میرے حکم کی تعمیل کی خوشی میں کیا ہے تو مجھ سے مانگ جو مانگے گا پائے گا۔ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ میرے تین سوال ہیں مجھے ایسا فیصلہ سمجھا جو تیرے فیصلے کے مطابق ہو اور ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو اور جو اس گھر میں آئے صرف نماز کے ارادے سے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا آزاد ہوجائے جیسے آج پیدا ہوا۔ ان میں سے دو چیزیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرما دیں اور مھے امید ہے کہ تیسری بھی دے دی گئی ہو۔ رسول اللہ ﷺ اپنی ہر دعا کو ان لفظوں سے شروع فرماتے (سبحان اللہ ربی الاعلی العلی الوہاب) (مستند احمد) اور روایت میں ہے کہ حضرت داؤد کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان سے فرمایا مجھ سے اپنی حاجت طلب کرو آپ نے عرض کیا اللہ تعالیٰ مجھے ایسا دل دے جو تجھ سے ڈرتا رہے جیسا کہ میرے والد کا دل تجھ سے خوف کیا کرتا تھا اور میرے دل میں اپنی محبت ڈال دے جیسے کہ میرے والد کے دل میں تیری محبت تھی اس پر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا کہ میرا بندہ میری عین عطا کے وقت بھی مجھ سے ڈرا اور میری محبت طلب کرتا ہے مجھے اپنی قسم میں اسے اتنی بڑی سلطنت دوں گا جو اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی ماتحتی میں ہوائیں کردیں اور جنات کو بھی ان کا ماتحت بنادیا اور اسی قدر ملک و مال پر بھی، انہیں حساب قیامت سے آزاد کردیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے دعا کی کہ باری تعالیٰ سلیمان کے ساتھ بھی اسی لطف و کرم سے پیش آنا جیسا آج لطف و کرم تیرا مجھ پر رہا تو وحی آئی کہ سلیمان سے کہہ دو وہ بھی اسی طرح میرا رہے جس طرح تو میرا تھا، تو میں بھی اس کے ساتھ ہو خوبصورت پیارے وفادار تیز رو گھوڑوں کو کاٹ ڈالا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ان کے عوض ان سے بہتر عطا فرمائے۔ یعنی ہوا کو ان کے تابع فرمان کردیا جو مہینے بھر کی راہ کو صبح کی ایک گھڑی میں طے کردیتی تھی اور اسی طرح شام کو جہاں کا ارادہ کرتے ذرا سی دیر میں پہنچا دیتی۔ جنات کو بھی حضرت سلیمان ؑ کے تابع کردیا ان میں سے بعض بڑی اونچی لمبی سنگین پختہ عمارت کے بنانے کے کام سر انجام دیتے جو انسانی طاقت سے باہر تھا اور بعض غوطہ خور تھے جو سمندر کی تہ میں سے لولو جواہر اور دیگر قسم قسم کی نفیس و نادر چیزیں لا دیتے تھے۔ پھر اور کچھ تھے جو بھاری بھاری بیڑیوں میں جکڑے رہتے تھے۔ یہ یا تو وہ تھے جو حکومت سے سرتابی کرتے تھے یا کام کاج میں شرارت اور کمی کرتے تھے یا لوگوں کو ستاتے اور ایذاء دیتے تھے۔ یہ ہے ہماری مہربانی اور ہماری بخشش اور ہمارا انعام اور ہمارا عطیہ اب تجھے اختیار ہے جس سے جو چاہے سلوک کر سب بےحساب ہے کسی پر پکڑ نہیں۔ جو تیری زبان سے نکلے گا وہ حق ہوگا۔ صحیح حدیث میں ہے جب رسول اللہ ﷺ کو اختیار دیا گیا کہ اگر چاہیں عبد و رسول رہیں یعنی جو حکم کیا جائے بجا لاتے رہیں اللہ کے فرمان کے مطابق تقسیم کرتے رہیں اور اگر چاہیں نبی اور بادشاہ بنا دیئے جائیں جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں اور اس کا کوئی حساب اللہ کے ہاں نہ لیا جائے تو آپ نے حضرت جبرائیل ؑ سے مشورہ لیا اور آپ کے مشورے سے پہلی بات قبول فرمائی کیونکہ فضیلت کے لحاظ سے اولیٰ اور اعلیٰ وہی ہے۔ گو نبوت و سلطنت بھی بڑی چیز ہے۔ اسی لئے حضرت سلیمان کا دنیوی عزو جاہ بیان کرتے ہی فرمایا کہ وہ دار آخرت میں بھی ہمارے پاس بڑے مرتبے اور بہترین بزرگی اور اعلیٰ تر قریب والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ﴾ أَيِ: اخْتَبَرْنَاهُ بِأَنْ سَلَبْنَاهُ الْمُلْكَ مَرَّةً، ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَالْحَسَنُ وَقَتَادَةُ وَغَيْرُهُمْ: يَعْنِي شَيْطَانًا. ﴿ثُمَّ أَنَابَ﴾ أَيْ: [[في ت، س: "ثم".]] رَجَعَ إِلَى مُلْكِهِ وَسُلْطَانِهِ وَأُبَّهَتِهِ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَكَانَ اسْمُ ذَلِكَ الشَّيْطَانِ صَخْرًا. قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَقَتَادَةُ. وَقِيلَ: آصِفُ. قَالَهُ مُجَاهِدٌ وَقِيلَ: آصِرُوا. قَالَهُ مُجَاهِدٌ أَيْضًا. وَقِيلَ: حبقيقُ. قَالَهُ السُّدِّيُّ. وَقَدْ ذَكَرُوا هَذِهِ الْقِصَّةَ مَبْسُوطَةً وَمُخْتَصَرَةً.
وَقَدْ قَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبة عَنْ قَتَادَةَ: قَالَ أَمَرَ سُلَيْمَانُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ بِبِنَاءِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقِيلَ لَهُ: ابْنِهِ وَلَا يُسمَعُ فِيهِ صَوْتُ حَدِيدٍ. فَقَالَ: فَطَلَبَ ذَلِكَ فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهِ. فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ شَيْطَانًا فِي الْبَحْرِ يُقَالُ لَهُ: "صَخْرٌ" شِبْهُ الْمَارِدِ. قَالَ: فَطَلَبَهُ وَكَانَتْ عَيْنٌ فِي الْبَحْرِ يَردهُا فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ مَرَّةً فَنُزِحَ مَاؤُهَا وَجُعِلَ فِيهَا خَمْرٌ، فَجَاءَ يَوْمَ ورْده فَإِذَا هُوَ بِالْخَمْرِ فَقَالَ: إِنَّكِ لَشَرَابٌ طَيِّبٌ إِلَّا أَنَّكِ تُصْبِينَ الْحَلِيمَ، وَتَزِيدِينَ الْجَاهِلَ جَهْلًا. ثُمَّ رَجَعَ حَتَّى عَطِشَ عَطَشًا شَدِيدًا ثُمَّ أَتَاهَا [[في أ: "أتاه".]] فَقَالَ: إِنَّكِ لَشَرَابٌ طَيِّبٌ إِلَّا أَنَّكِ تُصْبِينَ الْحَلِيمَ، وَتَزِيدِينَ الْجَاهِلَ جَهْلًا. ثُمَّ شَرِبَهَا حَتَّى غَلَبَتْ عَلَى عَقْلِهِ، قَالَ: فَأُرِيَ الْخَاتَمَ أَوْ خُتِمَ بِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَذَلَّ. قَالَ: وَكَانَ مُلْكُهُ فِي خَاتَمِهِ فأتي به سليمان فقال: إنه قَدْ أُمِرْنَا بِبِنَاءِ هَذَا الْبَيْتِ وَقِيلَ لَنَا: لَا يُسْمَعَنَّ فِيهِ صَوْتُ حَدِيدٍ. قَالَ: فَأَتَى بِبَيْضِ الْهُدْهُدِ فَجَعَلَ عَلَيْهِ زُجَاجَةً فَجَاءَ الْهُدْهُدُ فَدَارَ حَوْلَهَا، فَجَعَلَ يَرَى بَيْضَهُ وَلَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ فَذَهَبَ فَجَاءَ بِالْمَاسِ فَوَضَعَهُ عَلَيْهِ فَقَطَعَهَا بِهِ حَتَّى أَفْضَى إِلَى بَيْضِهِ. فَأَخَذَ الْمَاسَ فَجَعَلُوا يَقْطَعُونَ بِهِ الْحِجَارَةَ. وَكَانَ سُلَيْمَانُ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ الْخَلَاءَ -أَوِ: الْحَمَّامَ-لَمْ يَدْخُلْ بِخَاتَمِهِ فَانْطَلَقَ يَوْمًا إِلَى الْحَمَّامِ وَذَلِكَ الشَّيْطَانُ صَخْرٌ مَعَهُ، وَذَلِكَ عِنْدَ مُقَارَفَةٍ قَارَفَ فِيهِ [[في ت: "فيها".]] بَعْضَ نِسَائِهِ. قَالَ: فَدَخَلَ الْحَمَّامَ وَأَعْطَى الشَّيْطَانَ خَاتَمَهُ فَأَلْقَاهُ فِي الْبَحْرِ فَالْتَقَمَتْهُ سَمَكَةٌ، وَنُزِعَ مُلك سُلَيْمَانَ مِنْهُ وَأُلْقِيَ عَلَى الشَّيْطَانِ شَبَه سُلَيْمَانَ. قَالَ: فَجَاءَ فَقَعَدَ عَلَى كُرْسِيِّهِ وَسَرِيرِهِ وسُلِّط عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ كُلِّهِ غَيْرَ نِسَائِهِ. قَالَ: فَجَعَلَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ، وَجَعَلُوا يُنْكِرُونَ مِنْهُ أَشْيَاءَ حَتَّى قَالُوا: لَقَدْ فُتِنَ نَبِيُّ اللَّهِ. وَكَانَ فِيهِمْ رَجُلٌ يُشَبِّهُونَهُ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي الْقُوَّةِ فَقَالَ: وَاللَّهُ لَأُجَرِّبَنَّهُ. قَالَ: فَقَالَ: يَا نَبِيَّ [[في أ: "أنبي".]] اللَّهِ -وَهُوَ لَا يَرَى إِلَّا أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ-أَحَدُنَا تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ فِي اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ فَيَدَعُ الْغُسْلَ عَمْدًا حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَتُرَى [[في ت: "ترى".]] عَلَيْهِ بَأْسًا؟ فَقَالَ: [[في ت، س: "قال".]] لَا. قَالَ: فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً حَتَّى وَجَدَ نَبِيُّ اللَّهِ خَاتَمَهُ فِي بَطْنِ سَمَكَةٍ فَأَقْبَلَ فَجَعَلَ لَا يَسْتَقْبِلُهُ جِنِّيٌّ وَلَا طَيْرٌ إِلَّا سَجَدَ لَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ، ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ: هُوَ الشَّيْطَانُ صَخْرٌ [[تفسير الطبري (٢٣/١٠١) .]]
وَقَالَ السُّدِّيُّ: ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ﴾ أَيِ: ابْتَلَيْنَا سُلَيْمَانَ، ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ: جَلَسَ الشَّيْطَانُ عَلَى كُرْسِيِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا. قَالَ: وَكَانَ لِسُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِائَةُ امْرَأَةٍ وَكَانَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ يُقَالُ لَهَا: "جَرَادَةُ"، وَهِيَ آثَرُ نِسَائِهِ وَآمَنُهُنَّ عِنْدَهُ وَكَانَ إِذَا أَجْنَبَ أَوْ أَتَى حَاجَةً [[في أ: "حاجته".]] نَزَعَ خَاتَمَهُ وَلَمْ يَأْتَمِنْ [[في ت: "يأمن".]] عَلَيْهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ غَيْرَهَا فَأَعْطَاهَا يَوْمًا خَاتَمَهُ وَدَخَلَ الْخَلَاءَ فَخَرَجَ الشَّيْطَانُ فِي صُورَتِهِ فَقَالَ: هَاتِي الْخَاتَمَ. فَأَعْطَتْهُ فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى مَجْلِسِ سُلَيْمَانَ وَخَرَجَ سُلَيْمَانُ بَعْدَ ذَلِكَ فَسَأَلَهَا أَنْ تُعْطِيَهِ خَاتَمَهُ، فَقَالَتْ: أَلَمْ تَأْخُذْهُ قَبْلُ؟ قَالَ: لَا. وَخَرَجَ مَكَانَهُ تَائِهًا. قَالَ: وَمَكَثَ الشَّيْطَانُ يُحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، قَالَ: فَأَنْكَرَ النَّاسُ أَحْكَامَهُ فَاجْتَمَعَ قُرَّاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَعُلَمَاؤُهُمْ فَجَاءُوا حَتَّى دَخَلُوا عَلَى نِسَائِهِ فَقَالُوا: إِنَّا قَدْ أَنْكَرْنَا هَذَا فَإِنْ كَانَ سُلَيْمَانَ فَقَدْ ذَهَبَ عَقْلُهُ وَأَنْكَرْنَا أَحْكَامَهُ. قَالَ: فَبَكَى النِّسَاءُ عِنْدَ ذَلِكَ قَالَ: فَأَقْبَلُوا يَمْشُونَ حَتَّى أَتَوْا [[في أ: "أتوه".]] فَأَحْدَقُوا بِهِ ثُمَّ نَشَرُوا التَّوْرَاةَ فَقَرَءُوا. قَالَ: فَطَارَ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ حَتَّى وَقَعَ عَلَى شُرْفَةٍ وَالْخَاتَمُ مَعَهُ. ثُمَّ طَارَ حَتَّى ذَهَبَ إِلَى الْبَحْرِ فَوَقَعَ الْخَاتَمُ مِنْهُ فِي الْبَحْرِ فَابْتَلَعَهُ حُوتٌ مِنْ حِيتَانِ الْبَحْرِ. قَالَ: وَأَقْبَلَ سُلَيْمَانُ فِي حَالِهِ الَّتِي كَانَ فِيهَا حَتَّى انْتَهَى إِلَى صَيَّادٍ مِنْ صَيَّادِي [[في ت، س، أ: "صيادين".]] الْبَحْرِ وَهُوَ جَائِعٌ وَقَدِ اشْتَدَّ جُوعُهُ. فَاسْتَطْعَمَهُمْ مِنْ صَيْدِهِمْ وَقَالَ: إِنِّي أَنَا سُلَيْمَانُ. فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُهُمْ فَضَرَبَهُ بِعَصًا فَشَجَّهُ فَجَعَلَ يَغْسِلُ دَمَهُ وَهُوَ عَلَى شَاطِئِ الْبَحْرِ فَلَامَ الصَّيَّادُونَ صَاحِبَهُمُ الَّذِي ضَرَبَهُ فَقَالُوا بِئْسَ مَا صَنَعْتَ حيث ضربته. قال: إنه زَعَمَ أَنَّهُ سُلَيْمَانُ. قَالَ: فَأَعْطَوْهُ سَمَكَتَيْنِ مِمَّا قَدْ مَذِرَ عِنْدَهُمْ فَلَمْ يَشْغَلْهُ مَا كَانَ بِهِ مِنَ الضَّرْبِ حَتَّى قَامَ إِلَى شَطِّ الْبَحْرِ فَشَقَّ بُطُونَهُمَا فَجَعَلَ يَغْسِلُ [دَمَهُ] [[زيادة من أ.]] فَوَجَدَ خَاتَمَهُ فِي بَطْنِ إِحْدَاهُمَا فَأَخَذَهُ فَلَبِسَهُ فَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ بَهَاءَهُ وَمُلْكَهُ، وَجَاءَتِ الطَّيْرُ حَتَّى حَامَتْ عَلَيْهِ فَعَرَفَ الْقَوْمُ أَنَّهُ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَامَ الْقَوْمُ يَعْتَذِرُونَ مِمَّا صَنَعُوا [بِهِ] [[زيادة من أ.]] فَقَالَ: مَا أَحْمَدُكُمْ عَلَى عُذْرِكُمْ وَلَا أَلُومُكُمْ عَلَى مَا كَانَ مِنْكُمْ، كَانَ هَذَا الْأَمْرُ لَا بُدَّ مِنْهُ. قَالَ: فَجَاءَ حَتَّى أَتَى مُلْكَهُ وَأَرْسَلَ إِلَى الشَّيْطَانِ فَجِيءَ بِهِ فَأَمَرَ بِهِ فَجُعِلَ فِي صُنْدُوقٍ مِنْ حَدِيدٍ، ثُمَّ أَطْبَقَ عَلَيْهِ وَقَفَلَ عَلَيْهِ بِقُفْلٍ وَخَتَمَ عَلَيْهِ بِخَاتَمِهِ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَأُلْقِي فِي الْبَحْرِ فَهُوَ فِيهِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ. وَكَانَ اسْمُهُ حبقيقُ قَالَ: وَسَخَّرَ [[في ت، أ: "وسخرت".]] لَهُ الرِّيحَ وَلَمْ تَكُنْ سُخِّرَتْ لَهُ قَبْلَ ذَلِكَ وَهُوَ قَوْلُهُ: ﴿وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لأحَدٍ مِنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ [[تفسير الطبري (٢٣/١٠١) .]]
وَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَوْلُهُ: ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ: شَيْطَانًا يُقَالُ لَهُ: آصِفُ. فَقَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ: كَيْفَ تَفْتِنُونَ النَّاسَ؟ قَالَ: أَرِنِي خَاتَمَكَ أُخْبِرْكَ. فَلَمَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ نَبَذَهُ آصِفُ فِي الْبَحْرِ فَسَاحَ سُلَيْمَانُ وَذَهَبَ مُلْكُهُ، وَقَعَدَ آصِفُ عَلَى كُرْسِيِّهِ وَمَنَعَهُ اللَّهُ نِسَاءَ سُلَيْمَانَ فَلَمْ يَقْرَبْهُنَّ -وَلَمْ يَقْرَبْنَهُ وَأَنْكَرْنَهُ. قَالَ: فَكَانَ سُلَيْمَانُ يَسْتَطْعِمُ فَيَقُولُ: أَتَعْرِفُونِي؟ أَطْعِمُونِي أَنَا سُلَيْمَانُ فَيُكَذِّبُونَهُ، حَتَّى أَعْطَتْهُ امْرَأَةٌ يَوْمًا حُوتًا فَجَعَلَ يُطَيِّبُ بَطْنَهُ، فَوَجَدَ خَاتَمَهُ فِي بَطْنِهِ فَرَجَعَ إِلَيْهِ مُلْكُهُ وَفَرَّ آصِفُ فَدَخَلَ الْبَحْرَ فَارًّا.
وَهَذِهِ كُلُّهَا مِنَ الْإِسْرَائِيلِيَّاتِ وَمِنْ أَنْكَرِهَا مَا قَالَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ:
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشِ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ﴾ قَالَ: أَرَادَ سُلَيْمَانُ أَنْ يَدْخُلَ الْخَلَاءَ فَأَعْطَى الْجَرَادَةَ خَاتَمَهُ -وَكَانَتِ الْجَرَادَةُ [[في ت: "جرادة".]] امْرَأَتَهُ وَكَانَتْ أَحَبَّ نِسَائِهِ إِلَيْهِ-فَجَاءَ الشَّيْطَانُ فِي صُورَةِ سُلَيْمَانَ فَقَالَ لَهَا: هَاتِي خَاتَمِي. فَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ. فَلَمَّا لَبِسَهُ دَانَتْ لَهُ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ [[في أ: "والجن والطير".]] وَالشَّيَاطِينُ فَلَمَّا خَرَجَ سُلَيْمَانُ مِنَ الْخَلَاءِ قَالَ لَهَا: هَاتِي خَاتَمِي. قَالَتْ: قَدْ أَعْطَيْتُهُ سُلَيْمَانَ. قَالَ: أَنَا سُلَيْمَانُ. قَالَتْ: كَذَبْتَ لَسْتَ سُلَيْمَانَ [[في ت: "بسليمان".]] فَجَعَلَ لَا يَأْتِي أَحَدًا يَقُولُ لَهُ: "أَنَا سُلَيْمَانُ"، إِلَّا كَذَّبَهُ حَتَّى جَعَلَ [[في أ: "جاء".]] الصِّبْيَانُ يَرْمُونَهُ بِالْحِجَارَةِ. فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَرَف أَنَّهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ: وَقَامَ الشَّيْطَانُ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ فَلَمَّا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَى سُلَيْمَانَ سُلْطَانَهُ أَلْقَى فِي قُلُوبِ النَّاسِ إِنْكَارَ ذَلِكَ الشَّيْطَانِ. قَالَ: فَأَرْسَلُوا إِلَى نِسَاءِ سُلَيْمَانَ فَقَالُوا لَهُنَّ: أَتُنْكِرْنَ مِنْ سُلَيْمَانَ شَيْئًا؟ قُلْنَ: نَعَمْ إِنَّهُ يَأْتِينَا وَنَحْنُ حُيَّضٌ وَمَا كَانَ يَأْتِينَا قَبْلَ ذَلِكَ. فَلَمَّا رَأَى الشَّيْطَانُ أَنَّهُ قَدْ فَطِنَ لَهُ [[في ت: "أنه فطن له".]] ظَنَّ أَنَّ أَمْرَهُ قَدِ انْقَطَعَ فَكَتَبُوا كُتُبًا فِيهَا سِحْرٌ وَكُفْرٌ، فَدَفَنُوهَا تَحْتَ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ ثُمَّ أَثَارُوهَا وقرءوها على الناس. وقالوا: بِهَذَا كَانَ يَظْهَرُ سُلَيْمَانُ عَلَى النَّاسِ [وَيَغْلِبُهُمْ] [[زيادة من أ.]] فَأَكْفَرَ النَّاسُ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَلَمْ يَزَالُوا يُكَفِّرُونَهُ وَبَعَثَ ذَلِكَ الشيطانُ بِالْخَاتَمِ فَطَرَحَهُ فِي الْبَحْرِ فَتَلَقَّتْهُ سَمَكَةٌ فَأَخَذَتْهُ. وَكَانَ سُلَيْمَانُ يَحْمِلُ عَلَى شَطِّ الْبَحْرِ بِالْأَجْرِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَاشْتَرَى سَمَكًا فِيهِ تِلْكَ السَّمَكَةُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا الْخَاتَمُ فَدَعَا سُلَيْمَانُ فَقَالَ: تَحْمِلُ لِي هَذَا السَّمَكَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ. قَالَ: بِكَمْ؟ قَالَ بِسَمَكَةٍ مِنْ هَذَا السَّمَكِ. قَالَ: فَحَمَلَ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلَامُ السَّمَكَ ثُمَّ انْطَلَقَ بِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ فَلَمَّا انْتَهَى الرَّجُلُ إِلَى بَابِهِ أَعْطَاهُ تِلْكَ السَّمَكَةَ الَّتِي فِي بَطْنِهَا الْخَاتَمُ فَأَخَذَهَا سُلَيْمَانُ فَشَقَّ بَطْنَهَا، فَإِذَا الْخَاتَمُ فِي جَوْفِهَا فَأَخَذَهُ فَلَبِسَهُ. قَالَ: فَلَمَّا لَبِسَهُ دَانَتْ لَهُ الْجِنُّ وَالْإِنْسُ وَالشَّيَاطِينُ وَعَادَ إِلَى حَالِهِ وَهَرب الشَّيْطَانُ حَتَّى دَخَلَ جَزِيرَةً [[في ت: "لحق بجزيرة".]] مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ فَأَرْسَلَ سُلَيْمَانُ فِي طَلَبِهِ وَكَانَ شَيْطَانًا مَرِيدًا فَجَعَلُوا يَطْلُبُونَهُ وَلَا يَقْدِرُونَ عَلَيْهِ حَتَّى وَجَدُوهُ يَوْمًا نَائِمًا فَجَاءُوا فَبَنَوْا عَلَيْهِ بُنْيَانًا مِنْ رَصَاصٍ فَاسْتَيْقَظَ فَوَثَبَ فَجَعَلَ لَا يَثِبُ فِي مَكَانٍ من البيت إلا أنماط معه من الرَّصَاصُ قَالَ: فَأَخَذُوهُ فَأَوْثَقُوهُ وَجَاءُوا بِهِ إِلَى سُلَيْمَانَ، فَأَمَرَ بِهِ فَنُقِرَ [[في ت: "فثقب".]] لَهُ تَخْتٌ مِنْ رُخَامٍ ثُمَّ أُدْخِلَ فِي جَوْفِهِ ثُمَّ سُدَّ بِالنُّحَاسِ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَطُرِحَ فِي الْبَحْرِ فَذَلِكَ قَوْلُهُ: ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ﴾ قَالَ: يَعْنِي الشَّيْطَانَ الَّذِي كَانَ سُلِّطَ عَلَيْهِ.
إِسْنَادُهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَوِيٌّ وَلَكِنَّ الظَّاهِرَ أَنَّهُ إِنَّمَا تَلَقَّاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ -إِنْ صَحَّ عَنْهُ-مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَفِيهِمْ طَائِفَةٌ لَا يَعْتَقِدُونَ نُبُوَّةَ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَالظَّاهِرُ أَنَّهُمْ يَكْذِبُونَ عَلَيْهِ وَلِهَذَا كَانَ فِي السِّيَاقِ مُنْكَرَاتٌ مِنْ أَشَدِّهَا ذِكْرُ النِّسَاءِ فَإِنَّ الْمَشْهُورَ أَنَّ [[في أ: "فإن المشهور عن مجاهد وغير واحد من السلف أن".]] ذَلِكَ الْجِنِّيَّ لَمْ يُسَلَّطْ عَلَى نِسَاءِ سُلَيْمَانَ بَلْ عَصَمَهُنَّ اللَّهُ مِنْهُ تَشْرِيفًا وَتَكْرِيمًا لِنَبِيِّهِ ﷺ، وَقَدْ رُوِيَتْ هَذِهِ الْقِصَّةُ مُطَوَّلَةً عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ السَّلَفِ، كَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَجَمَاعَةٍ آخَرِينَ وَكُلُّهَا متُلقًّاة مِنْ قَصَصِ أَهْلِ الْكِتَابِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ.
وَقَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ: وَجَدَ سُلَيْمَانُ خَاتَمَهُ فِي عَسْقَلَانَ، فَمَشَى فِي خِرْقَةٍ [[في أ: "بحرقة".]] إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ تَوَاضُعًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَقَدْ رَوَى ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ فِي صِفَةِ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ خَبَرًا عَجِيبًا فَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاقَ الْمِصْرِيُّ عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ؛ أَنَّهُ لَمَّا فَرَغَ مِنْ حَدِيثِ "إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ" قَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ أَخْبِرْنِي عَنْ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ وَمَا كَانَ عَلَيْهِ؛ وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ هُوَ؟ فَقَالَ: كَانَ كُرْسِيُّ سُلَيْمَانَ مِنْ أَنْيَابِ الْفِيَلَةِ مُفَصّصاً بِالدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ وَالزَّبَرْجَدِ وَاللُّؤْلُؤِ. وَقَدْ جُعل لَهُ دَرَجَةً مِنْهَا مُفَصّصة بِالدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ وَالزَّبَرْجَدِ ثُمَّ أَمَرَ بِالْكُرْسِيِّ فحُفّ مِنْ جَانِبَيْهِ بِالنَّخْلِ، نَخْلٌ مِنْ ذَهَبٍ شَمَارِيخُهَا مِنْ يَاقُوتٍ وَزَبَرْجَدٍ وَلُؤْلُؤٍ. وَجُعِلَ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ الَّتِي عَنْ يَمِينِ الْكُرْسِيِّ طَوَاوِيسُ مَنْ ذَهَبٍ، ثُمَّ جُعِلَ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ الَّتِي عَلَى يَسَارِ الْكُرْسِيِّ نُسُورٌ مَنْ ذَهَبٍ مُقَابَلَةَ الطَّوَاوِيسِ، وَجُعِلَ على يمين الدرجة الأولى شَجَرَتَا صَنَوْبَرٍ مَنْ ذَهَبٍ، وَعَنْ يَسَارِهَا أَسَدَانِ مَنْ ذَهَبٍ وَعَلَى رُءُوسِ الْأَسَدَيْنِ عَمُودَانِ مِنْ زَبَرْجَدٍ وَجُعِلَ مِنْ جَانِبَيِ الْكُرْسِيِّ شَجَرَتَا كَرْمٍ مَنْ ذَهَبٍ قَدْ أَظَلَّتَا الْكُرْسِيَّ وَجُعِلَ عَنَاقِيدُهُمَا دُرًّا وَيَاقُوتًا أَحْمَرَ. ثُمَّ جُعل فَوْقَ دَرَج الْكُرْسِيِّ أسَدَان عَظِيمَانِ مِنْ ذَهَبٍ مُجَوَّفَانِ مَحْشُوَّانِ مِسْكًا وَعَنْبَرًا. فَإِذَا أَرَادَ سُلَيْمَانُ أَنْ يَصْعَدَ عَلَى كُرْسِيِّهِ اسْتَدَارَ الْأَسَدَانِ سَاعَةً ثُمَّ يَقَعَانِ [[في ت: "يقفان".]] فَيَنْضَحَانِ مَا فِي أَجْوَافِهِمَا مِنَ الْمِسْكِ وَالْعَنْبَرِ حَوْلَ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، ثُمَّ يُوضَعُ مِنْبَرَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَاحِدٌ لِخَلِيفَتِهِ وَالْآخِرُ لِرَئِيسِ أَحْبَارِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ذَلِكَ الزَّمَانِ. ثُمَّ يُوضَعُ أَمَامَ كُرْسِيِّهِ سَبْعُونَ مِنْبَرًا مِنْ ذَهَبٍ يَقْعُدُ عَلَيْهَا سَبْعُونَ قَاضِيًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَعُلَمَائِهِمْ وَأَهْلِ الشَّرَفِ مِنْهُمْ وَالطَوْلِ وَمِنْ خَلْفِ تِلْكَ الْمَنَابِرِ كُلِّهَا خَمْسَةٌ وَثَلَاثُونَ مِنْبَرًا مِنْ ذَهَبٍ لَيْسَ عَلَيْهَا أَحَدٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَصْعَدَ عَلَى كُرْسِيِّهِ وَضَعَ قَدَمَيْهِ عَلَى الدَّرَجَةِ السُّفْلَى فَاسْتَدَارَ الْكُرْسِيُّ كُلُّهُ بِمَا فِيهِ وَمَا عَلَيْهِ، وَيَبْسُطُ الْأَسَدُ يَدَهُ الْيُمْنَى وَيَنْشُرُ النَّسْرُ جَنَاحَهُ الْأَيْسَرَ ثُمَّ يَصْعَدُ [سُلَيْمَانُ] [[زيادة من ت، أ.]] عَلَى الدَّرَجَةِ الثَّانِيَةِ فَيَبْسُطُ الْأَسَدُ يَدَهُ الْيُسْرَى وَيَنْشُرُ النَّسْرُ جَنَاحَهُ الْأَيْمَنَ فَإِذَا اسْتَوَى سُلَيْمَانُ عَلَى الدَّرَجَةِ الثَّالِثَةِ وَقَعَدَ عَلَى الْكُرْسِيِّ أَخَذَ نَسْرٌ مِنْ تِلْكَ النُّسُورِ عَظِيمٌ تَاجَ سُلَيْمَانَ فَوَضَعَهُ عَلَى رَأْسِهِ فَإِذَا وَضَعَهُ عَلَى رَأْسِهِ اسْتَدَارَ الْكُرْسِيُّ بِمَا فِيهِ كَمَا تَدُورُ الرَّحَى الْمُسْرِعَةُ. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَمَا الَّذِي يُدِيرُهُ يَا أَبَا إِسْحَاقَ؟ قَالَ: تِنِّينٌ مِنْ ذَهَبِ ذَلِكَ الْكُرْسِيِّ عَلَيْهِ وَهُوَ عَظِيمٌ مِمَّا عَمِلَهُ صَخْرٌ الْجِنِّيُّ فَإِذَا أَحَسَّتْ بِدَوَرَانِهِ تِلْكَ النُّسُورُ والأسْدُ وَالطَّوَاوِيسُ الَّتِي فِي أَسْفَلِ الْكُرْسِيِّ دُرْنَ إِلَى أَعْلَاهُ فَإِذَا وَقَفَ وَقَفْنَ كُلُّهُنَّ مُنَكِّسَاتٍ رُءُوسَهُنَّ عَلَى رَأْسِ سُلَيْمَانَ [ابْنِ دَاوُدَ] [[زيادة من أ.]] عَلَيْهِ [[في أ: "عليهما".]] السَّلَامُ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ يَنْضَحْنَ جَمِيعًا مَا فِي أَجْوَافِهِنَّ مِنَ الْمِسْكِ وَالْعَنْبَرِ عَلَى رَأْسِ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ. ثُمَّ تَتَنَاوَلُ حَمَامَةٌ مَنْ ذَهَبٍ وَاقِفَةٌ عَلَى عَمُودٍ مِنْ جَوْهَرٍ التوراةَ فَتَجْعَلُهَا فِي يَدِهِ فَيَقْرَؤُهَا سُلَيْمَانُ عَلَى النَّاسِ.
وَذَكَرَ تَمَامَ الْخَبَرِ [[في ت: "الحديث".]] وَهُوَ غَرِيبٌ جِدًّا.
﴿قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لأحَدٍ مِنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ قَالَ بَعْضُهُمْ: مَعْنَاهُ: لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي أَيْ: لَا يَصْلُحُ لِأَحَدٍ أَنْ يَسْلُبَنِيهِ كَمَا كَانَ مِنْ قَضِيَّةِ [[في ت: "في قصة"، وفي أ: "من قصة".]] الْجَسَدِ الَّذِي أُلْقِيَ عَلَى كُرْسِيِّهِ لَا أَنَّهُ يَحْجُرُ عَلَى مَنْ بَعْدَهُ مِنَ النَّاسِ. وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ سَأَلَ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى مُلْكًا لَا يَكُونُ لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ مِنَ الْبَشَرِ مِثْلُهُ، وَهَذَا هُوَ ظَاهِرُ السِّيَاقِ مِنَ الْآيَةِ وَبِهِ [[في ت، س، أ: "وبذلك".]] وَرَدَتِ الْأَحَادِيثُ الصَّحِيحَةُ مِنْ طُرُقٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ.
قَالَ [[في ت: "فروى".]] الْبُخَارِيُّ عِنْدَ تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا رَوْحٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّت عَلَيَّ الْبَارِحَةَ -أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا-لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصبحوا وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ: ﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لأحَدٍ مِنْ بَعْدِي﴾
قَالَ رَوْحٌ: فَرَدَّهُ خَاسِئًا [[صحيح البخاري برقم (٤٨٠٨) .]]
وَكَذَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ بِهِ [[صحيح مسلم برقم (٥٤١) والنسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٤٠) .]]
وَقَالَ مُسْلِمٌ فِي صَحِيحِهِ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ المُرَادي حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ حَدَّثَنِي رَبِيعَةَ بْنِ يَزيد عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي فَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ: "أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ". ثُمَّ قَالَ: "أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ" -ثَلَاثًا-وَبَسَطَ يَدَه كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُهُ قَبْلَ ذَلِكَ وَرَأَيْنَاكَ بَسَطَتْ يَدَكَ؟ قَالَ: "إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ -ثَلَاثَ مَرَّاتٍ-ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ التَّامَّةِ. فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أخْذَه وَاللَّهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا يَلْعَبُ بِهِ صِبْيَانُ [[في ت، س، أ: "ولدان".]] أَهْلِ الْمَدِينَةِ" [[صحيح مسلم برقم (٥٤٢) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ حَاجِبُ سُلَيْمَانَ قَالَ: رَأَيْتُ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ قَائِمًا يُصَلِّي، فَذَهَبْتُ أَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَرَدَّنِي ثُمَّ قَالَ [[في ت: "بإسناده".]] حَدَّثَنِي [[في ت: "عن".]] أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَامَ يُصَلِّي [[في ت: "فصلى".]] صَلَاةَ الصُّبْحِ وَهُوَ خَلْفُهُ فَقَرَأَ فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صِلَاتِهِ قَالَ: "لَوْ رَأَيْتُمُونِي وَإِبْلِيسَ فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي فَمَا زِلْتُ أَخْنُقُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ لُعَابِهِ بَيْنَ أُصْبُعَيَّ هَاتَيْنِ -الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا-وَلَوْلَا دَعْوَةُ أَخِي سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ [[في ت: "أصبح".]] مَرْبُوطًا بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، يَتَلَاعَبُ بِهِ صِبْيَانُ الْمَدِينَةِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَلَّا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ أَحَدٌ فَلْيَفْعَلْ".
وَقَدْ رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ: "مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَلَّا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ أَحَدٌ فَلْيَفْعَلْ" عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيج عَنْ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيِّ بِهِ [[المسند (٣/٨٣) وسنن أبي داود برقم (٦٩٩) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَهُوَ فِي حَائِطٍ لَهُ بِالطَّائِفِ يُقَالُ لَهُ: "الْوَهْطُ"، وَهُوَ مُخَاصر فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ يُزَنّ بشُرْب الْخَمْرِ، فَقُلْتُ: بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثٌ أَنَّهُ "مِنْ شَرِبِ شَرْبَةَ خَمْر لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ -عَزَّ وَجَلَّ-لَهُ تَوبَةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، وَإِنَّ الشَّقِيَّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَإِنَّهُ مَنْ أَتَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ لا يَنْهَزه إلا الصلاة فيه، خرج مِنْ خَطِيئَتِهِ مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، فَلَمَّا سَمِعَ الْفَتَى ذَكْرَ الْخَمْرِ اجْتَذَبَ يَدَهُ مِنْ يَدِهِ ثُمَّ انْطَلَقَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو [[في أ: "عمرو رضي الله عنهما".]] إِنِّي لَا أُحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ عَلَيّ مَا لَمْ أَقُلْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "مَنْ شَرِبَ مِنَ الْخَمْرِ شَرْبَةً لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ [[في أ: "وإن".]] عَادَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ. فَإِنْ عَادَ -قَالَ فَلَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ-فَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ رَدْغَة الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" قَالَ: وَسَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ ثُمَّ أَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ نُورِهِ يَوْمَئِذٍ اهْتَدَى وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ فَلِذَلِكَ [[في أ: "ولذلك".]] أَقُولُ جَفَّ الْقَلَمُ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" وَسَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "إِنَّ سُلَيْمَانَ سَأَلَ اللَّهَ تَعَالَى ثَلَاثًا فَأَعْطَاهُ اثْنَتَيْنِ وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ تَكُونَ لَنَا الثَّالِثَةُ: سَأَلَهُ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَسَأَلَهُ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَسَأَلَهُ أَيُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ مَنْ بَيْتِهِ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ [[في ت، س، أ: "مثل يوم".]] وَلَدَتْهُ أُمُّهُ فَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللَّهُ تَعَالَى [[في ت، س، أ: "عز وجل".]] قَدْ أَعْطَانَا إِيَّاهَا" [[المسند (٢/١٧٦) .]]
وَقَدْ رَوَى هَذَا الْفَصْلَ الْأَخِيرَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ مِنْ طُرُقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَيْرُوزَ الدَّيْلِمِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ سُلَيْمَانَ لَمَّا بَنَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ سَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خِلَالًا ثَلَاثًا ... " وَذَكَرَهُ [[سنن النسائي (٢/٤٣) وسنن ابن ماجة برقم (١٤٠٨) .]]
وَقَدْ رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ رَافِعِ بْنِ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، بِإِسْنَادٍ وَسِيَاقٍ غَرِيبَيْنِ فَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبة الْعَسْقَلَانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ سُوَيْد حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَة عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ [[في ت: "وروى الطبراني بإسناده".]] عَنْ رَافِعِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِدَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ابْنِ لِي بَيْتًا فِي الْأَرْضِ. فَبَنَى دَاوُدُ [[في ت: "داود عليه السلام".]] بَيْتًا لِنَفْسِهِ قَبْلَ الْبَيْتِ الَّذِي أُمِرَ بِهِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: يَا دَاوُدُ نَصَبْتَ بَيْتَكَ قَبْلَ بَيْتِي؟ قَالَ: يَا رَبِّ هَكَذَا قَضَيْتَ [[في ت، س، أ: "هكذا قلت فيما قضيت".]] مَنْ مَلَكَ اسْتَأْثَرَ ثُمَّ أَخَذَ فِي بِنَاءِ الْمَسْجِدِ فَلَمَّا تَمَّ السُّورَ سَقَطَ ثَلَاثًا فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ: يَا دَاوُدُ [[في ت، أ: "فأوحى الله إليه"]] إِنَّكَ لَا تَصْلُحُ أَنْ تَبْنِيَ لِي بَيْتًا قَالَ: وَلِمَ يَا رَبِّ؟ قَالَ: لِمَا جَرَى عَلَى يَدَيْكَ مِنَ الدِّمَاءِ. قَالَ: يَا رَبِّ أَوْ مَا كَانَ [[في ت، س، أ: "أو لم يكن".]] ذَلِكَ فِي هَوَاكَ وَمَحَبَّتِكَ؟ قَالَ: بَلَى وَلَكِنَّهُمْ عِبَادِي وَأَنَا أَرْحَمُهُمْ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: لَا تَحْزَنْ فَإِنِّي سَأَقْضِي بِنَاءَهُ عَلَى يَدَيِ ابْنِكَ سُلَيْمَانَ. فَلَمَّا مَاتَ دَاوُدُ أَخْذَ سُلَيْمَانُ فِي بِنَائِهِ فَلَمَّا تَمَّ قَرَّبَ الْقَرَابِينَ وَذَبَحَ الذَّبَائِحَ وَجَمَعَ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: قَدْ أَرَى سرورَك بِبُنْيَانِ بَيْتِي فَسَلْنِي أُعْطِكَ. قَالَ: أَسْأَلُكَ ثَلَاثَ خِصَالٍ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَكَ وَمُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي وَمَنْ أَتَى هَذَا الْبَيْتَ لَا يُرِيدُ إلا الصلاة فيه خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أما ثِنْتَانِ فَقَدْ أُعْطِيَهُمَا وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أُعْطِيَ الثَّالِثَةَ" [[المعجم الكبير (٥/٢٤) قال الهيثمي في المجمع (٤/٨) : "فيه محمد بن أيوب بن سويد الرملي وهو متهم بالوضع".]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عُمَر بْنُ رَاشِدٍ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ دَعَا دُعَاءً إِلَّا اسْتَفْتَحَهُ بِـ "سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّي الْأَعْلَى الْعَلِيِّ الْوَهَّابِ" [[المسند (٤/٥٤) قال الهيثمي في المجمع (١٠/١٥٦) : "فيه عمر بن راشد اليمامي وثقه غير واحد، وبقية رجاله رجال الصحيح".]]
وَقَدْ قَالَ [[في ت: "وروى".]] أَبُو عَبِيدٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بَرْقان عَنْ صَالِحِ بْنِ مِسْمَارٍ قَالَ: لَمَّا مَاتَ نَبِيُّ اللَّهِ دَاوُدُ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى ابْنِهِ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِمَا [[في ت، أ: "عليه".]] السَّلَامُ: أَنْ سَلْنِي حَاجَتَكَ. قَالَ: أَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ لِي قَلْبًا يَخْشَاكَ كَمَا كَانَ قَلْبُ أَبِي وَأَنْ تَجْعَلَ قَلْبِي يُحِبُّكَ كَمَا كَانَ قَلْبُ أَبِي. فَقَالَ اللَّهُ: أَرْسَلْتُ إِلَى عَبْدِي وَسَأَلَتْهُ [[في ت، س: "أسأله".]] حَاجَتَهُ فَكَانَتْ [حَاجَتُهُ] [[زيادة من ت، س.]] أَنْ أَجْعَلَ قَلْبَهُ يَخْشَانِي وَأَنْ أَجْعَلَ قَلْبَهُ يُحِبُّنِي لأهَبَنّ لَهُ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ﴾ وَالَّتِي بَعْدَهَا، قَالَ: فَأَعْطَاهُ [اللَّهُ] [[زيادة من أ.]] مَا أَعْطَاهُ وَفِي الْآخِرَةِ لَا حِسَابَ عَلَيْهِ.
هَكَذَا أَوْرَدَهُ أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ عَسَاكِرَ فِي تَرْجَمَةِ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي تَارِيخِهِ [[تاريخ دمشق (٧/٥٦٩) "القسم المخطوط".]]
وَرُوِيَ عَنْ بَعْضِ السَّلَفِ أَنَّهُ قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ دَاوُدَ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ت، س، أ.]] أَنَّهُ قَالَ: "إِلَهِي كُنْ لِسُلَيْمَانَ كَمَا كُنْتَ لِي": فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: أَنْ قُلْ لِسُلَيْمَانَ: يَكُونُ لِي كَمَا كُنْتَ لِي، أَكُونُ لَهُ كَمَا كنتُ لَكَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ﴾ قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَمَّا عَقَرَ سُلَيْمَانُ الْخَيْلَ غَضَبًا لِلَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ عَوَّضَهُ اللَّهُ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا وَأَسْرَعُ الرِّيحُ الَّتِي غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿حَيْثُ أَصَابَ﴾ أَيْ: حَيْثُ أَرَادَ مِنَ الْبِلَادِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ﴾ أَيْ: مِنْهُمْ مَنْ هُوَ مُسْتَعْمَلٌ فِي الْأَبْنِيَةِ الْهَائِلَةِ مِنْ مَحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجَفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَاسِيَاتٍ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَعْمَالِ الشَّاقَّةِ الَّتِي لَا يَقْدِرُ عَلَيْهَا الْبَشَرُ وَطَائِفَةٌ غَوَّاصُونَ فِي الْبِحَارِ يَسْتَخْرِجُونَ مِمَّا [[في ت: "ما".]] فِيهَا مِنَ اللَّآلِئِ وَالْجَوَاهِرِ وَالْأَشْيَاءِ النَّفِيسَةِ الَّتِي لَا تُوجَدُ إِلَّا فِيهَا ﴿وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الأصْفَادِ﴾ أَيْ: مُوثَقُونَ فِي الْأَغْلَالِ وَالْأَكْبَالِ مِمَّنْ قَدْ تَمَرّد وَعَصَى وَامْتَنَعَ مِنَ الْعَمَلِ وَأَبَى أَوْ قَدْ أَسَاءَ فِي صنيعه واعتدى.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿هَذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ أَيْ: هَذَا الَّذِي أَعْطَيْنَاكَ مِنَ الْمُلْكِ التَّامِّ وَالسُّلْطَانِ الْكَامِلِ كَمَا سَأَلْتَنَا فَأَعْطِ مَنْ شِئْتَ وَاحْرِمْ مَنْ شِئْتَ، لَا حِسَابَ عَلَيْكَ، أَيْ: مَهْمَا فعلتَ فَهُوَ جَائِزٌ لَكَ احْكُمْ بِمَا شِئْتَ فَهُوَ صَوَابٌ. وَقَدْ ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ [[في أ: "الصحيح".]] أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لَمَّا خُيِّر بَيْنَ أَنْ يَكُونَ عَبْدًا رَسُولًا -وَهُوَ الَّذِي يَفْعَلُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ وَإِنَّمَا هُوَ قَاسِمٌ يَقْسِمُ بَيْنَ النَّاسِ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ بِهِ-وَبَيْنَ أَنْ يَكُونَ مَلِكًا نَبِيًّا يُعْطِي مَنْ يَشَاءُ وَيَمْنَعُ مَنْ يَشَاءُ بِلَا حِسَابٍ وَلَا جُنَاحٍ، اخْتَارَ الْمَنْزِلَةَ الْأُولَى بَعْدَ مَا اسْتَشَارَ جِبْرِيلَ فَقَالَ لَهُ: تَوَاضَعْ فَاخْتَارَ الْمَنْزِلَةَ الْأُولَى لِأَنَّهَا أَرْفَعُ قَدْرًا عِنْدَ اللَّهِ وَأَعْلَى مَنْزِلَةً فِي الْمَعَادِ وَإِنْ كَانَتِ الْمَنْزِلَةُ الثَّانِيَةُ وَهِيَ النُّبُوَّةُ مَعَ الْمُلْكِ عَظِيمَةً أَيْضًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلِهَذَا لَمَّا ذَكَرَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَا أَعْطَى سُلَيْمَانَ فِي الدُّنْيَا نَبَّهَ عَلَى أَنَّهُ ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْضًا، فَقَالَ: ﴿وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ﴾ أَيْ: فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ.
وَءَاخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِى ٱلْأَصْفَادِ
And others bound together in shackles.
اور اَوروں کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے
و گروه دیگری (از شیاطین) را در غل و زنجیر (تحت سلطه او) قرار دادیم،
Tafsir Ibn Kathir
And indeed, We tried Sulayman and We placed on his throne Jasad (a body), and he returned (34)He said: "My Lord! Forgive me, and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me. Verily, You are the Bestower. (35)So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order wherever he willed (36)And the Shayatin, from every kind of builder and diver (37)And also others bound in fetters (38)[Allah said to Sulayman]: "This is Our gift, so spend you or withhold, no account will be asked of you. (39)And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return (40)
How Allah tested Sulayman then made Things easy for Him
Allah says,
وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ
(And indeed, We tried Sulayman) meaning, 'We tested him.'
وَأَلْقَيْنَا عَلَىٰ كُرْسِيِّهِ جَسَدًا
(and We placed on his throne Jasad (a body)).
ثُمَّ أَنَابَ
(and he returned.) means, after this test, he turned back to Him and asked for forgiveness and to be given a kingdom such as shall not belong to any other after him.
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
(He said: "My Lord! Forgive me, and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me. Verily, You are the Bestower.")
Some of them said, "No one after me will have the right to ask Allah for such a kingdom." This is the apparent meaning from the context of the Ayah, and several Hadiths with a similar meaning have been narrated from the Messenger of Allah ﷺ.
In his Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet ﷺ said:
إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ، وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنَ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتّٰى تُصْبِحُوا،وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي
(An 'Ifrit from among the Jinn came and bothered me last night – or he said something similar – trying to stop me from praying. Allah enabled me to overpower him, and I wanted to tie him to one of the pillars in the Masjid so that you could see him this morning. Then I remembered what my brother Sulayman said, (My Lord! Forgive me and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me))
Rawh said, "so he let him go, humiliated." ) This was also recorded by Muslim and An-Nasa'i. In his Sahih, Muslim recorded that Abu Ad-Darda', may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ stood up to pray and we heard him say,
أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ
(I seek refuge with Allah from you.) Then he said,
أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ
(I curse you with the curse of Allah.) three times, and he stretched out his hand as if he was reaching out to take something. When he finished his prayer, we said, 'O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer which we have never heard you say before, and we saw you stretching out your hand.' He ﷺ said:
إِنَّ عَدُوَّ اللهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ التَّامَّةِ، فَلَمْ يَتَأَخَّرْ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ،وَاللهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا، يَلْعَبُ بِهِ صِبْيَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ
(The enemy of Allah Iblis came with a flame of fire to throw in my face, so I said, "I seek refuge with Allah from you" three times, then I said, "I curse you with the complete curse of Allah," but he did not back off. I said it three times. Then I wanted to seize him. By Allah, if it were not for the words of our brother Sulayman, he would have been chained up and he would have become a plaything for the children of the people of Al-Madinah.)" Allah says:
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ
(So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order wherever he willed.) Al-Hasan Al-Basri, may Allah have mercy on him, said, "When Sulayman, peace be upon him, slaughtered the horses out of anger for the sake of Allah, Allah compensated him with something better and swifter, the wind whose morning was a month's (journey), and its afternoon was a month's (journey)."
حَيْثُ أَصَابَ
(wherever he willed.) means, wherever in the world he wanted.
وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ
(And also the Shayatin, from every kind of builder and diver,) means, among them were some whom he used to build high rooms, images, basins as large as reservoirs, and cauldrons fixed (in their places), and other difficult tasks which humans were unable to do. And there was another group, who dived into the sea recovering pearls, jewels and other precious things which cannot be found anywhere else.
وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
(And also others bound in fetters.) means, tied up in chains. These were the ones who had rebelled and refused to work, or else their work was bad and they were wrongdoers.
هَٰذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ
([Allah said to Sulayman]: "This is Our Gift, so spend you or withhold, no account will be asked of you.") means, 'this that We have given to you of kingship and perfect power, as you asked for, you may give to whomsoever you wish and deny to whomsoever you wish, and you will not be brought to account. Whatever you do is permissible for you, so however you judge, it will be right.' It was reported in the Two Sahihs that when the Messenger of Allah ﷺ was given the choice between being a servant and a Messenger – who does what he is commanded to do and distributes things among the people as Allah commands him to do – or being a Prophet and a king, who can give to whomever he wishes and withhold from whomever he wishes without being held accountable for anything, he chose the former. He consulted with Jibril, peace be upon him, who said, "Be humble." So he chose the former because it has a greater value before Allah and brings a higher status in the Hereafter, even though the second option, prophethood combined with kingship, is also a great thing both in this world and in the Hereafter, when Allah tells us what He gave to Sulayman, peace be upon him, in this world, He tells us that he will have a great share with Allah on the Day of Resurrection. He says:
وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ
(And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return.) meaning, in this world and the Hereafter.
Tafsir Ibn Kathir
سلیمان ؑ کا تفصیلی تذکرہ۔ہم نے حضرت سلیمان کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ ؓ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہرچند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتاسکتا ہے آپ نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر میں ملتا تھا ہر ساتویں دن اس میں لبالب پانی آجاتا تھا اور یہی پانی یہ شیطان پیتا تھا۔ اس کا پانی نکال دیا گیا اور بالکل خالی کر کے پانی کو بند کر کے اس کے آنے والے دن اسے شراب سے پر کردیا گیا جب شیطان آیا اور یہ حال دیکھا تو کہنے لگا یہ تو مزے کی چیز ہے لیکن عقل کی دشمن جہالت کو ترقی دینے والی چیز ہے۔ چناچہ وہ پیاسا ہی چلا گیا۔ جب پیاس کی شدت ہوئی تو مجبوراً یہ سب کچھ کہتے ہوئے پینا ہی پڑا۔ اب عقل جاتی رہی اور اسے حضرت سلیمان کی انگوٹھی دکھائی گئی یا مونڈھوں کے درمیان سے مہر لگا دی گئی۔ یہ بےبس ہوگیا حضرت سلیمان کی حکومت اسی انگوٹھی کی وجہ سے تھی۔ جب یہ حضرت سلیمان کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے یہ کام سر انجام دینے کا حکم دیا یہ ہدہد کے انڈے لے آیا اور انہیں جمع کر کے ان پر شیشہ رکھ دیا۔ ہدہد آیا اس نے اپنے انڈے دیکھے چاروں طرف گھوما لیکن دیکھا کہ ہاتھ نہیں آسکتے اڑ کر واپس چلا گیا اور الماس لے آیا اور اسے اس شیشے پر رکھ کر شیشے کو کاٹنا شروع کردیا آخر وہ کٹ گیا اور ہدہد اپنے انڈے لے گیا اور اس الماس کو بھی لے لیا گیا اور اسی سے پتھر کاٹ کاٹ کر عمارت شروع ہوئی حضرت سلیمان ؑ جب بیت الخلا میں یا حمام میں جاتے تو انگوٹھی اتار جاتے ایک دن حمام میں جانا تھا اور یہ شیطان آپ کے ساتھ تھا آپ اس وقت فرضی غسل کے لئے جا رہے تھے انگوٹھی اسی کو سونپ دی اور چلے گئے اس نے انگوٹھی سمندر میں پھینک دی اور شیطان پر حضرت سلیمان کی شکل ڈال دی گئی اور آپ سے تخت و تاج چھن گیا۔ سب چیزوں پر شیطان نے قبضہ کرلیا سوائے آپ کی بیویوں کے۔ اب اس سے بہت سی غیر معروف باتیں ظہور میں آنے لگیں اس زمانہ میں ایک صاحب تھے جو ایسے ہی تھے جیسے حضور ﷺ کے زمانہ میں حضرت فاروق ؓ۔ اس نے کہا آزمائش کرنی چاہئے مجھے تو یہ شخص سلیمان معلوم نہیں ہوتا۔ چناچہ ایک روز اس نے کہا کیوں جناب اگر کوئی شخص رات کو جنبی ہوجائے اور موسم ذرا ٹھنڈا ہو اور وہ سورج طلوع ہونے تک غسل نہ کرے تو کوئی حرج تو نہیں ؟ اس نے کہا ہرگز نہیں۔ چالیس دن تک یہ تخت سلیمان پر رہا پھر آپ کی مچھلی کے پیٹ سے انگوٹھی مل گئی ہاتھ میں ڈالتے ہی پھر تمام چیزیں آپ کی مطیع ہوگئیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ سدی فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ کی ایک سو بیویاں تھیں آپ کو سب سے زیادہ اعتبار ان میں سے ایک بیوی پر تھا جن کا نام جراوہ تھا۔ جب جنبی ہونے یا پاخانے جاتے تو اپنی انگوٹھی انہی کو سونپ جاتے۔ ایک مرتبہ آپ پاخانے گئے پیچھے سے ایک شیطان آپ ہی کی صورت بنا کر آیا اور بیوی صاحبہ سے انگوٹھی طلب کی آپ نے دے دی یہ آتے ہی تخت پر بیٹھ گیا جب حضرت سلیمان آئے اور انگوٹھی طلب کی تو بیوی صاحبہ نے فرمایا آپ انگوٹھی تو لے گئے۔ آپ سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے نہایت پریشان حال سے محل سے نکل گئے اس شیطان نے چالیس دن تک حکومت کی لیکن احکام کی تبدیلی کو دیکھ کر علماء نے سمجھ لیا کہ یہ سلیمان نہیں۔ چناچہ ان کی جماعت آپ کی بیویوں کے پاس آئی اور ان سے کہا یہ کیا معاملہ ہے ہمیں سلیمان کی ذات میں شک پڑگیا۔ اگر یہ سچ مچ سلیمان ہے تو اس کی عقل جاتی رہی ہے یا یہ کہ یہ سلیمان ہی نہیں۔ ورنہ ایسے خلاف شرع احکام نہ دیتا۔ عورتیں یہ سن کر رونے لگیں۔ یہ یہاں سے واپس آگئے اور تخت کے اردگرد اسے گھیر کر بٹھ گئے اور تورات کھول کر اس کی تلاوت شروع کردی۔ یہ خبیث شیطان کلام اللہ سے بھاگا اور انگوٹھی سمندر میں پھینک دی جسے ایک مچھلی نگل گئی۔ حضرت سلیمان یونہی اپنے دن گذارتے تھے ایک مرتبہ سمندر کے کنارے نکل گئے بھوک بہت لگی ہوئی تھی ماہی گیروں کو مچھلیاں پکڑتے ہوئے دیکھ کر ان کے پاس آ کر ان سے ایک مچھلی مانگی اور اپنا نام بھی بتایا، اس پر بعض لوگوں کو بڑا طیش آیا کہ دیکھو بھیک مناگنے والا اپنے تئیں سلیمان بتاتا ہے انہوں نے آپ کو مارنا پیٹنا شروع کیا آپ زخمی ہو کر کنارے جا کر اپنے زخم کا خون دھونے لگے۔ بعض ماہی گیروں کو رحم آگیا کہ ایک سائل کو خواہ مخواہ مارا۔ جاؤ بھئی اسے دو مچھلیاں دے آؤ بھوکا ہے بھون کھائے گا۔ چناچہ و مچھلیاں آپ کو دے آئے بھوک کی وجہ سے آپ اپنے زخم کو اور خون کو تو بھول گئے اور جلدی سے مچھلی کا پیٹ چاک کرنے بیٹھ گئے۔ قدرت اللہ سے اس کے پیٹ سے وہ انگوٹھی نکلی آپ نے اللہ کی تعریف بیان کی اور انگوٹھی انگلی میں ڈالی اس وقت پرندوں نے آ کر آپ پر سایہ کرلیا اور لوگوں نے آپ کو پہچان لیا اور آپ سے معذرت کرنے لگے آپ نے فرمایا یہ سب امر اللہ تھا اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا۔ آپ آئے اپنے تخت پر بیٹھ گئے اور حکم دیا کہ اس شیطان کو جہاں بھی وہ ہو گرفتار کر لاؤ چناچہ اسے قید کرلیا گیا آپ نے اسے ایک لوہے کے صندوق میں بند کیا اور قفل لگا کر اس پر اپنی مہر لگا دی اور سمندر میں پھنکوا دیا جو قیامت تک وہیں قید رہے گا۔ اس کا نام حقیق تھا۔ آپ کی یہ دعا کہ مجھے ایسا ملک عطا فرمایا جائے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو یہ بھی پوری ہوئی اور آپ کے تابع ہوائیں کردی گئیں۔ مجاہد سے مروی ہے کہ ایک شیطان سے جس کا نام آصف تھا ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ نے پوچھا کہ تم لوگوں کو کس طرح فتنے میں ڈالتے ہو ؟ اس نے کہا ذرا مجھے انگوٹھی دکھاؤ میں ابھی آپ کو دکھا دیتا ہوں آپ نے انگوٹھی دے دی اس نے اسے سمندر میں پھینک دیا تخت و تاج کا مالک بن بیٹھا اور آپ کے لباس میں لوگوں کو راہ اللہ سے ہٹانے لگا۔ " یاد رہے کہ یہ سب واقعات بنی اسرائیل کے بیان کردہ ہیں " اور ان سب سے زیادہ منکر واقعہ وہ ہے۔ جو ابن ابی حاتم میں ہے جس کا اوپر بیان ہوا۔ جس میں آپ کی بیوی صاحبہ حضرت جراوہ کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آخر نبوت یہاں تک پہنچی تھی کہ لڑکے آپ کو پتھر مارتے تھے۔ آپ کی بیویوں سے جب علماء نے معاملہ کی تفتیش کی تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہمیں بھی اس کے سلیمان ہونے سے انکار ہے کیونکہ وہ حالت حیض میں ہمارے پاس آتا ہے۔ شیطان کو جب یہ معلوم ہوگیا کہ راز کھل گیا ہے تو اس نے جادو اور کفر کی کتابیں لکھوا کر کرسی تلے دفن کردیا اور پھر لوگوں کے سامنے انہیں نکلوا کر ان سے کہا دیکھو ان کتابوں کی بدولت سلیمان تم پر حکومت کر رہا تھا چناچہ لوگوں نے آپ کو کافر کہنا شروع کردیا۔ حضرت سلیمان سمندر کے کنارے مزدوری کرتے تھے ایک مرتبہ ایک شخص نے بہت سی مچھلیاں خریدیں مزدور کو بلایا آپ پہنچے اس نے کہا یہ اٹھالو پوچھا مزدوری کیا دو گے ؟ اس نے کہا اس میں سے ایک مچھلی تمہیں دے دوں گا آپ نے ٹوکرا سر پر رکھا اس کے ہاں پہنچایا اس نے ایک مچھلی دے دی آپ نے اس کا پیٹ چاک کیا پیٹ چاک کرتے ہی وہ انگوٹھی نکل پڑی پہنتے ہی کل شیاطین جن انسان پھر تابع ہوگئے اور جھرمٹ باندھ کر حاضر ہوگئے آپ نے ملک پر قبضہ کیا اور اس شیطان کو سخت سزا دی۔ پس ثم اناب سے مراد شیطان جو مسلط کیا گیا تھا اس کا لوٹنا ہے۔ اس کی اسناد حضرت ابن عباس تک ہے۔ ہے تو قوی لیکن یہ ظاہر ہے کہ اسے حضرت ابن عباس نے اہل کتاب سے لیا ہے، یہ بھی اس وقت جبکہ اسے ابن عباس کا قول مان لیں۔ اہل کتاب کی ایک جماعت حضرت سلیمان کو نہیں مانتی تھی تو عجب نہیں کہ یہ بیہودہ قصہ اسی خبیث جماعت کا گھڑا ہوا ہو۔ اس میں تو وہ چیزیں بھی ہیں جو بالکل ہی منکر ہیں خصوصاً اس شیطان کا آپ کی عورتوں کے پاس جانا اور آئمہ نے بھی ایسے ہی قصے بیان تو کئے ہیں لیکن اس بات کا سب نے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ جن ان کے پاس نہیں جاسکا اور نبی کے گھرانے کی عورتوں کی عصمت و شرافت کا تقاضا بھی یہی ہے اور بھی بہت سے لوگوں نے ان واقعات کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن سب کی اصل یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے لئے گئے ہیں۔ واللہ اعلم۔ شیبانی فرماتے ہیں آپ نے اپنی انگوٹھی عسقلان میں پائی تھی اور بیت المقدس تک تواضعاً آپ پیدل چلے تھے۔ امام ابن بی حاتم نے صفت سلیمان میں حضرت کعب احبار سے ایک عجیب خبر روایت کی ہے۔ ابو اسحاق مصری کہتے ہیں کہ جب (اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۽) 89۔ الفجر :7) کے قصے سے حضرت کعب نے فراغت حاصل کی تو حضرت معاویہ نے کہا ابو اسحاق آپ حضرت سلیمان کی کرسی کا ذکر بھی کیجئے فرمایا کہ وہ ہاتھی دانت کی تھی اور یاقوت زبرجد اور لولو سے مرصع تھی اور اس کے چاروں طرف سونے کے کھجور کے درخت بنے ہوئے تھے جن کے خوشے بھی موتیوں کے تھے ان میں سے جو دائیں جانب تھے ان کے سرے پر سونے کے مور تھے اور بائیں طرف والوں پر سونے کے گدھ تھے۔ اس کرسی کے پہلے درجے پر دائیں جانب سونے کے دو درخت صنوبر کے تھے اور بائیں جانب سونے کے دو شیر بن ہوئے تھے۔ ان کے سروں پر زبر جد کے دوستون تھے اور کرسی کے دونوں جانب انگور کی سنہری بیلیں تھیں جو کرسی کو ڈھانپے ہوئے تھیں اس کے خوشے بھی سرخ موتی کے تھے پھر کرسی کے اعلیٰ درجے پر دو شیر بہت بڑے سونے کے بنے ہوئے تھے جن کے اندر خول تھا ان میں مشک و عنبر بھرا رہتا تھا۔ جب حضرت سلیمان کرسی پر آتے تو یہ شیر حرکت کرتے اور ان کے گھومنے سے ان کے اندر سے مشک و عنبر چاروں طرف چھڑک دیا جاتا پھر دو منبر سونے کے بچھا دئے جاتے۔ ایک آپ کے وزیر کا اور ایک اس وقت کے سب سے بڑے عالم کا۔ پھر کرسی کے سامنے ستر منبر سونے کے اور بچھائے جاتے جن پر بنو اسرائیل کے قاضی ان کے علماء اور ان کے سردار بیٹھتے۔ ان کے پیچھے پینتیس منبر سونے کے اور ہوتے تھے جو خالی رہا کرتے تھے۔ حضرت سلیمان جب تشریف لاتے پہلے زینے پر قدم رکھتے ہی کرسی ان تمام چیزوں سمیت گھوم جاتی شیر اپن داہنا قدم آگے بڑھا دیتا اور گدھ اپنا بایاں پر پھیلا دیتا۔ جب دوسرے درجے پر قدم رکھتے تو شیر اپنا بایاں پاؤں پھیلا دیتا اور گدھ اپنا دایاں پر جب آپ تیسرے درجے پر چڑھ جاتے اور کرسی پر بیٹھ جاتے تو ایک بڑا گدھ آپ کا تاج لے کر آپ کے سر پر رکھتا پھر کرسی زور زور سے گھومتی۔ حضرت معاوضہ نے پوچھا آخر اس کی کیا وجہ ؟ فرمایا وہ ایک سونے کی لاٹ پر تھی جسے صخر جن نے بنایا تھا۔ اس کے گھومتے ہی نیچے والے مور گدھ وغیرہ سب اوپر آجاتے اور سر جھکاتے پر پھڑ پھڑاتے جس سے آپ کے جسم پر مشک و عنبر کا چھڑکاؤ ہوجاتا پھر ایک سونے کا کبوتر تورات اٹھا کر آپ کے ہاتھ میں دیتا جسے آپ تلاوت فرماتے۔ لیکن یہ روایت بالکل غریب ہے۔ حضرت سلیمان ؑ کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایسا ملک دے کہ مجھ سے کوئی اور چھین نہ سکے جیسے کہ اس جسم کا واقعہ ہوا جو آپ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ دوسروں کے لئے ایسے ملک کے نہ ملنے کی دعا کرتے ہوں۔ لیکن جن بعض لوگوں نے یہ معنی لئے ہیں وہ کچھ ٹھیک نظر نہیں آتے، بلکہ صحیح مطلب یہی ہے کہ آپ کی دعا کا یہی مطلب تھا کہ مجھے ایسا ملک اور سلطنت دی جائے کہ میرے بعد پھر کسی اور شخص کو ایسی سلطنت نہ ملے۔ یہی آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے اور یہی احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا ایک سرکش جن نے گزشتہ شب مجھ پر زیادتی کی اور میری نماز بگاڑ دینا چاہی لیکن اللہ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے اس ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھو لیکن اسی وقت مجھے میرے بھائی حضرت سلیمان (علیہ الصلوۃ والسلام) کی دعا یاد آگئی۔ راوی حدیث حضرت روح فرماتے ہیں پھر حضور ﷺ نے اسے ذلیل و خوار کر کے چھوڑ دیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نماز میں کھڑے ہوئے تو ہم نے سنا کہ آپ نے فرمایا اعوذ باللہ منک پھر آپ نے تین بار فرمایا العنک بلعنتہ اللہ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا کہ گویا آپ کسی چیز کو لینا چاہتے ہیں۔ جب فارغ ہوئے تو ہم نے آپ سے ان دونوں باتوں کی وجہ پوچھی آپ نے فرمایا اللہ کا دشمن ابلیس آگ لے کر میرے منہ میں ڈالنے کے لئے آیا تو میں نے تین مرتبہ اعوذ پڑھی پھر تین مرتبہ اس پر لعنت بھیجی لیکن وہ پھر بھی نہ ہٹا پھر میں نے چاہا کہ اسے پکڑ کر باندھ دوں تاکہ مدینے کے لڑکے اس سے کھیلیں اگر ہمارے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو میں یہی کرتا۔ حضرت عطا بن یزید لیثی نماز پڑھ رہے تھے جو ابو عبید نے ان کے سامنے سے گذرنا چاہا انہوں نے انہیں اپنے ہاتھ سے روک دیا پھر فرمایا مجھ سے حضرت ابو سعید خدری نے حدیث بیان کی کہ حضور ﷺ صبح کی نماز پڑھا رہے تھے یہ بھی آپ کے پیچھے تھے قرأت آپ پر خلط ملط ہوگئی فارغ ہو کر فرمایا کاش تم دیکھتے کہ میں نے ابلیس کو پکڑ لیا تھا اور اس قدر اس کا گلا گھونٹا کہ اس کے منہ کی جھاگ میری شہادت کی اور بیج کی انگلی پر پڑی اگر میرے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح ہوتے اس مسجد کے ستون سے بندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اسے ستاتے تم سے جہاں تک ہو سکے اس بات کا خیال رکھو کہ نماز کی حالت میں تمہارے سامنے سے کوئی گذرنے نہ پائے (مسند احمد) مسند کی اور حدیث میں ہے ربعیہ بن یزید عبداللہ ویلمی کہتے ہیں میں حضرت عمرو بن عاص ؓ کے پاس طائف کے ایک باغ میں گیا جس کا ام ربط تھا آپ اس وقت ایک قریشی کا محاصرہ کئے ہوئے تھے جو زانی اور شرابی تھا۔ میں نے ان سے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ یہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ جو ایک گھونٹ شراب پئے گا اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہ فرمائے گا اور برا آدمی وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی برا ہوگیا ہے جو شخص صرف نماز ہی کی نیت سے بیت المقدس کی مسجد میں جائے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا۔ وہ شرابی جسے حضرت عبداللہ پکڑے ہوئے تھے وہ شراب کا ذکر سنتے ہی جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا۔ اب حضرت عبداللہ نے فرمایا کسی کو حلال نہیں کہ میرے ذمے وہ بات کرے جو میں نے نہ کی۔ میں نے حضور ﷺ سے یوں سنا ہے جو شخص شراب کا ایک گھونٹ بھی پی لے اس کی چالیس دن کی نماز نامقبول ہے۔ اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ پھر اگر دوبارہ لوٹے تو پھر چالیس دن تک کی نمازیں نامقبول ہیں پھر اگر توبہ کرلے تو توبہ مقبول ہے مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ میں فرمایا کہ پھر اگر لوٹے گا تو یقینا اللہ تعالیٰ اسے جہنمیوں کے بدن کا خون، پیپ، پیشاب وغیرہ قیامت کے دن پلائے گا اور حضور ﷺ سے میں نے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا جس پر وہ نور اس دن پڑگیا وہ تو ہدایت والا ہوگیا اور جس تک وہ نور نہ پہنچا وہ بھٹک گیا۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل چکا اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کی جن میں سے دو تو انہیں مل گئیں اور ہمیں امید ہے کہ تیسری ہمارے لئے ہو (1) مجھے ایسا حکم دے جو تیرے حکم کے موافق ہو (2) مجھے ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لئے لائق نہ ہو۔ تیسری دعا یہ تھی کہ جو شخص اپنے گھر سے اس مسجد کی نماز کے ارادے ہی سے نکلے تو جب وہ لوٹے تو ایسا ہوجائے گویا آج پیدا ہوا پس ہمیں اللہ سے امید ہے کہ یہ ہمارے لئے اللہ نے دی ہو۔ طبرانی میں ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ عزوجل نے حضرت داؤد ؑ کو اپنے لئے ایک گھر بنانے کا حکم دیا حضرت داؤد نے پہلے اپنا گھر بنا لیا اس پر وحی آئی کہ تم نے اپنا گھر میرے گھر سے پہلے بنایا آپ نے عرض کیا پروردگار یہی فیصلہ کیا گیا تھا پھر مسجد بنانی شروع کی دیواریں پوری ہوگئیں تو اتفاقاً تہائی حصہ گرگیا آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جواب ملا کہ تو میرا گھر نہیں بنا سکتا۔ پوچھا کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ تیرے ہاتھوں سے خون بہا ہے۔ عرض کیا اللہ تعالیٰ وہ بھی تیری ہی محبت میں فرمایا ہاں لیکن وہ میرے بندے تھے میں ان پر رحم کرتا ہوں۔ آپ کو یہ کلام سن کر سخت پریشانی ہوئی۔ پھر وحی آئی کہ غمگین نہ ہو میں اسے تیرے لڑکے سلیمان کے ہاتھوں پورا کراؤں گا۔ چناچہ آپ کے انتقال کے بعد حضرت سلیمان نے اسے بنانا شروع کیا جب پورا کرچکے تو بڑی بڑی قربانیاں کیں اور ذبیحہ ذبح کئے اور بنو اسرائیل کو جمع کر کے خوب کھلایا پلایا اللہ کی وحی آئی کہ تو نے یہ سب کچھ میرے حکم کی تعمیل کی خوشی میں کیا ہے تو مجھ سے مانگ جو مانگے گا پائے گا۔ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ میرے تین سوال ہیں مجھے ایسا فیصلہ سمجھا جو تیرے فیصلے کے مطابق ہو اور ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو اور جو اس گھر میں آئے صرف نماز کے ارادے سے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا آزاد ہوجائے جیسے آج پیدا ہوا۔ ان میں سے دو چیزیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرما دیں اور مھے امید ہے کہ تیسری بھی دے دی گئی ہو۔ رسول اللہ ﷺ اپنی ہر دعا کو ان لفظوں سے شروع فرماتے (سبحان اللہ ربی الاعلی العلی الوہاب) (مستند احمد) اور روایت میں ہے کہ حضرت داؤد کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان سے فرمایا مجھ سے اپنی حاجت طلب کرو آپ نے عرض کیا اللہ تعالیٰ مجھے ایسا دل دے جو تجھ سے ڈرتا رہے جیسا کہ میرے والد کا دل تجھ سے خوف کیا کرتا تھا اور میرے دل میں اپنی محبت ڈال دے جیسے کہ میرے والد کے دل میں تیری محبت تھی اس پر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا کہ میرا بندہ میری عین عطا کے وقت بھی مجھ سے ڈرا اور میری محبت طلب کرتا ہے مجھے اپنی قسم میں اسے اتنی بڑی سلطنت دوں گا جو اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی ماتحتی میں ہوائیں کردیں اور جنات کو بھی ان کا ماتحت بنادیا اور اسی قدر ملک و مال پر بھی، انہیں حساب قیامت سے آزاد کردیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے دعا کی کہ باری تعالیٰ سلیمان کے ساتھ بھی اسی لطف و کرم سے پیش آنا جیسا آج لطف و کرم تیرا مجھ پر رہا تو وحی آئی کہ سلیمان سے کہہ دو وہ بھی اسی طرح میرا رہے جس طرح تو میرا تھا، تو میں بھی اس کے ساتھ ہو خوبصورت پیارے وفادار تیز رو گھوڑوں کو کاٹ ڈالا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ان کے عوض ان سے بہتر عطا فرمائے۔ یعنی ہوا کو ان کے تابع فرمان کردیا جو مہینے بھر کی راہ کو صبح کی ایک گھڑی میں طے کردیتی تھی اور اسی طرح شام کو جہاں کا ارادہ کرتے ذرا سی دیر میں پہنچا دیتی۔ جنات کو بھی حضرت سلیمان ؑ کے تابع کردیا ان میں سے بعض بڑی اونچی لمبی سنگین پختہ عمارت کے بنانے کے کام سر انجام دیتے جو انسانی طاقت سے باہر تھا اور بعض غوطہ خور تھے جو سمندر کی تہ میں سے لولو جواہر اور دیگر قسم قسم کی نفیس و نادر چیزیں لا دیتے تھے۔ پھر اور کچھ تھے جو بھاری بھاری بیڑیوں میں جکڑے رہتے تھے۔ یہ یا تو وہ تھے جو حکومت سے سرتابی کرتے تھے یا کام کاج میں شرارت اور کمی کرتے تھے یا لوگوں کو ستاتے اور ایذاء دیتے تھے۔ یہ ہے ہماری مہربانی اور ہماری بخشش اور ہمارا انعام اور ہمارا عطیہ اب تجھے اختیار ہے جس سے جو چاہے سلوک کر سب بےحساب ہے کسی پر پکڑ نہیں۔ جو تیری زبان سے نکلے گا وہ حق ہوگا۔ صحیح حدیث میں ہے جب رسول اللہ ﷺ کو اختیار دیا گیا کہ اگر چاہیں عبد و رسول رہیں یعنی جو حکم کیا جائے بجا لاتے رہیں اللہ کے فرمان کے مطابق تقسیم کرتے رہیں اور اگر چاہیں نبی اور بادشاہ بنا دیئے جائیں جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں اور اس کا کوئی حساب اللہ کے ہاں نہ لیا جائے تو آپ نے حضرت جبرائیل ؑ سے مشورہ لیا اور آپ کے مشورے سے پہلی بات قبول فرمائی کیونکہ فضیلت کے لحاظ سے اولیٰ اور اعلیٰ وہی ہے۔ گو نبوت و سلطنت بھی بڑی چیز ہے۔ اسی لئے حضرت سلیمان کا دنیوی عزو جاہ بیان کرتے ہی فرمایا کہ وہ دار آخرت میں بھی ہمارے پاس بڑے مرتبے اور بہترین بزرگی اور اعلیٰ تر قریب والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ﴾ أَيِ: اخْتَبَرْنَاهُ بِأَنْ سَلَبْنَاهُ الْمُلْكَ مَرَّةً، ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَالْحَسَنُ وَقَتَادَةُ وَغَيْرُهُمْ: يَعْنِي شَيْطَانًا. ﴿ثُمَّ أَنَابَ﴾ أَيْ: [[في ت، س: "ثم".]] رَجَعَ إِلَى مُلْكِهِ وَسُلْطَانِهِ وَأُبَّهَتِهِ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَكَانَ اسْمُ ذَلِكَ الشَّيْطَانِ صَخْرًا. قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَقَتَادَةُ. وَقِيلَ: آصِفُ. قَالَهُ مُجَاهِدٌ وَقِيلَ: آصِرُوا. قَالَهُ مُجَاهِدٌ أَيْضًا. وَقِيلَ: حبقيقُ. قَالَهُ السُّدِّيُّ. وَقَدْ ذَكَرُوا هَذِهِ الْقِصَّةَ مَبْسُوطَةً وَمُخْتَصَرَةً.
وَقَدْ قَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبة عَنْ قَتَادَةَ: قَالَ أَمَرَ سُلَيْمَانُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ بِبِنَاءِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقِيلَ لَهُ: ابْنِهِ وَلَا يُسمَعُ فِيهِ صَوْتُ حَدِيدٍ. فَقَالَ: فَطَلَبَ ذَلِكَ فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهِ. فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ شَيْطَانًا فِي الْبَحْرِ يُقَالُ لَهُ: "صَخْرٌ" شِبْهُ الْمَارِدِ. قَالَ: فَطَلَبَهُ وَكَانَتْ عَيْنٌ فِي الْبَحْرِ يَردهُا فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ مَرَّةً فَنُزِحَ مَاؤُهَا وَجُعِلَ فِيهَا خَمْرٌ، فَجَاءَ يَوْمَ ورْده فَإِذَا هُوَ بِالْخَمْرِ فَقَالَ: إِنَّكِ لَشَرَابٌ طَيِّبٌ إِلَّا أَنَّكِ تُصْبِينَ الْحَلِيمَ، وَتَزِيدِينَ الْجَاهِلَ جَهْلًا. ثُمَّ رَجَعَ حَتَّى عَطِشَ عَطَشًا شَدِيدًا ثُمَّ أَتَاهَا [[في أ: "أتاه".]] فَقَالَ: إِنَّكِ لَشَرَابٌ طَيِّبٌ إِلَّا أَنَّكِ تُصْبِينَ الْحَلِيمَ، وَتَزِيدِينَ الْجَاهِلَ جَهْلًا. ثُمَّ شَرِبَهَا حَتَّى غَلَبَتْ عَلَى عَقْلِهِ، قَالَ: فَأُرِيَ الْخَاتَمَ أَوْ خُتِمَ بِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَذَلَّ. قَالَ: وَكَانَ مُلْكُهُ فِي خَاتَمِهِ فأتي به سليمان فقال: إنه قَدْ أُمِرْنَا بِبِنَاءِ هَذَا الْبَيْتِ وَقِيلَ لَنَا: لَا يُسْمَعَنَّ فِيهِ صَوْتُ حَدِيدٍ. قَالَ: فَأَتَى بِبَيْضِ الْهُدْهُدِ فَجَعَلَ عَلَيْهِ زُجَاجَةً فَجَاءَ الْهُدْهُدُ فَدَارَ حَوْلَهَا، فَجَعَلَ يَرَى بَيْضَهُ وَلَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ فَذَهَبَ فَجَاءَ بِالْمَاسِ فَوَضَعَهُ عَلَيْهِ فَقَطَعَهَا بِهِ حَتَّى أَفْضَى إِلَى بَيْضِهِ. فَأَخَذَ الْمَاسَ فَجَعَلُوا يَقْطَعُونَ بِهِ الْحِجَارَةَ. وَكَانَ سُلَيْمَانُ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ الْخَلَاءَ -أَوِ: الْحَمَّامَ-لَمْ يَدْخُلْ بِخَاتَمِهِ فَانْطَلَقَ يَوْمًا إِلَى الْحَمَّامِ وَذَلِكَ الشَّيْطَانُ صَخْرٌ مَعَهُ، وَذَلِكَ عِنْدَ مُقَارَفَةٍ قَارَفَ فِيهِ [[في ت: "فيها".]] بَعْضَ نِسَائِهِ. قَالَ: فَدَخَلَ الْحَمَّامَ وَأَعْطَى الشَّيْطَانَ خَاتَمَهُ فَأَلْقَاهُ فِي الْبَحْرِ فَالْتَقَمَتْهُ سَمَكَةٌ، وَنُزِعَ مُلك سُلَيْمَانَ مِنْهُ وَأُلْقِيَ عَلَى الشَّيْطَانِ شَبَه سُلَيْمَانَ. قَالَ: فَجَاءَ فَقَعَدَ عَلَى كُرْسِيِّهِ وَسَرِيرِهِ وسُلِّط عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ كُلِّهِ غَيْرَ نِسَائِهِ. قَالَ: فَجَعَلَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ، وَجَعَلُوا يُنْكِرُونَ مِنْهُ أَشْيَاءَ حَتَّى قَالُوا: لَقَدْ فُتِنَ نَبِيُّ اللَّهِ. وَكَانَ فِيهِمْ رَجُلٌ يُشَبِّهُونَهُ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي الْقُوَّةِ فَقَالَ: وَاللَّهُ لَأُجَرِّبَنَّهُ. قَالَ: فَقَالَ: يَا نَبِيَّ [[في أ: "أنبي".]] اللَّهِ -وَهُوَ لَا يَرَى إِلَّا أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ-أَحَدُنَا تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ فِي اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ فَيَدَعُ الْغُسْلَ عَمْدًا حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَتُرَى [[في ت: "ترى".]] عَلَيْهِ بَأْسًا؟ فَقَالَ: [[في ت، س: "قال".]] لَا. قَالَ: فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً حَتَّى وَجَدَ نَبِيُّ اللَّهِ خَاتَمَهُ فِي بَطْنِ سَمَكَةٍ فَأَقْبَلَ فَجَعَلَ لَا يَسْتَقْبِلُهُ جِنِّيٌّ وَلَا طَيْرٌ إِلَّا سَجَدَ لَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ، ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ: هُوَ الشَّيْطَانُ صَخْرٌ [[تفسير الطبري (٢٣/١٠١) .]]
وَقَالَ السُّدِّيُّ: ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ﴾ أَيِ: ابْتَلَيْنَا سُلَيْمَانَ، ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ: جَلَسَ الشَّيْطَانُ عَلَى كُرْسِيِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا. قَالَ: وَكَانَ لِسُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِائَةُ امْرَأَةٍ وَكَانَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ يُقَالُ لَهَا: "جَرَادَةُ"، وَهِيَ آثَرُ نِسَائِهِ وَآمَنُهُنَّ عِنْدَهُ وَكَانَ إِذَا أَجْنَبَ أَوْ أَتَى حَاجَةً [[في أ: "حاجته".]] نَزَعَ خَاتَمَهُ وَلَمْ يَأْتَمِنْ [[في ت: "يأمن".]] عَلَيْهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ غَيْرَهَا فَأَعْطَاهَا يَوْمًا خَاتَمَهُ وَدَخَلَ الْخَلَاءَ فَخَرَجَ الشَّيْطَانُ فِي صُورَتِهِ فَقَالَ: هَاتِي الْخَاتَمَ. فَأَعْطَتْهُ فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى مَجْلِسِ سُلَيْمَانَ وَخَرَجَ سُلَيْمَانُ بَعْدَ ذَلِكَ فَسَأَلَهَا أَنْ تُعْطِيَهِ خَاتَمَهُ، فَقَالَتْ: أَلَمْ تَأْخُذْهُ قَبْلُ؟ قَالَ: لَا. وَخَرَجَ مَكَانَهُ تَائِهًا. قَالَ: وَمَكَثَ الشَّيْطَانُ يُحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، قَالَ: فَأَنْكَرَ النَّاسُ أَحْكَامَهُ فَاجْتَمَعَ قُرَّاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَعُلَمَاؤُهُمْ فَجَاءُوا حَتَّى دَخَلُوا عَلَى نِسَائِهِ فَقَالُوا: إِنَّا قَدْ أَنْكَرْنَا هَذَا فَإِنْ كَانَ سُلَيْمَانَ فَقَدْ ذَهَبَ عَقْلُهُ وَأَنْكَرْنَا أَحْكَامَهُ. قَالَ: فَبَكَى النِّسَاءُ عِنْدَ ذَلِكَ قَالَ: فَأَقْبَلُوا يَمْشُونَ حَتَّى أَتَوْا [[في أ: "أتوه".]] فَأَحْدَقُوا بِهِ ثُمَّ نَشَرُوا التَّوْرَاةَ فَقَرَءُوا. قَالَ: فَطَارَ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ حَتَّى وَقَعَ عَلَى شُرْفَةٍ وَالْخَاتَمُ مَعَهُ. ثُمَّ طَارَ حَتَّى ذَهَبَ إِلَى الْبَحْرِ فَوَقَعَ الْخَاتَمُ مِنْهُ فِي الْبَحْرِ فَابْتَلَعَهُ حُوتٌ مِنْ حِيتَانِ الْبَحْرِ. قَالَ: وَأَقْبَلَ سُلَيْمَانُ فِي حَالِهِ الَّتِي كَانَ فِيهَا حَتَّى انْتَهَى إِلَى صَيَّادٍ مِنْ صَيَّادِي [[في ت، س، أ: "صيادين".]] الْبَحْرِ وَهُوَ جَائِعٌ وَقَدِ اشْتَدَّ جُوعُهُ. فَاسْتَطْعَمَهُمْ مِنْ صَيْدِهِمْ وَقَالَ: إِنِّي أَنَا سُلَيْمَانُ. فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُهُمْ فَضَرَبَهُ بِعَصًا فَشَجَّهُ فَجَعَلَ يَغْسِلُ دَمَهُ وَهُوَ عَلَى شَاطِئِ الْبَحْرِ فَلَامَ الصَّيَّادُونَ صَاحِبَهُمُ الَّذِي ضَرَبَهُ فَقَالُوا بِئْسَ مَا صَنَعْتَ حيث ضربته. قال: إنه زَعَمَ أَنَّهُ سُلَيْمَانُ. قَالَ: فَأَعْطَوْهُ سَمَكَتَيْنِ مِمَّا قَدْ مَذِرَ عِنْدَهُمْ فَلَمْ يَشْغَلْهُ مَا كَانَ بِهِ مِنَ الضَّرْبِ حَتَّى قَامَ إِلَى شَطِّ الْبَحْرِ فَشَقَّ بُطُونَهُمَا فَجَعَلَ يَغْسِلُ [دَمَهُ] [[زيادة من أ.]] فَوَجَدَ خَاتَمَهُ فِي بَطْنِ إِحْدَاهُمَا فَأَخَذَهُ فَلَبِسَهُ فَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ بَهَاءَهُ وَمُلْكَهُ، وَجَاءَتِ الطَّيْرُ حَتَّى حَامَتْ عَلَيْهِ فَعَرَفَ الْقَوْمُ أَنَّهُ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَامَ الْقَوْمُ يَعْتَذِرُونَ مِمَّا صَنَعُوا [بِهِ] [[زيادة من أ.]] فَقَالَ: مَا أَحْمَدُكُمْ عَلَى عُذْرِكُمْ وَلَا أَلُومُكُمْ عَلَى مَا كَانَ مِنْكُمْ، كَانَ هَذَا الْأَمْرُ لَا بُدَّ مِنْهُ. قَالَ: فَجَاءَ حَتَّى أَتَى مُلْكَهُ وَأَرْسَلَ إِلَى الشَّيْطَانِ فَجِيءَ بِهِ فَأَمَرَ بِهِ فَجُعِلَ فِي صُنْدُوقٍ مِنْ حَدِيدٍ، ثُمَّ أَطْبَقَ عَلَيْهِ وَقَفَلَ عَلَيْهِ بِقُفْلٍ وَخَتَمَ عَلَيْهِ بِخَاتَمِهِ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَأُلْقِي فِي الْبَحْرِ فَهُوَ فِيهِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ. وَكَانَ اسْمُهُ حبقيقُ قَالَ: وَسَخَّرَ [[في ت، أ: "وسخرت".]] لَهُ الرِّيحَ وَلَمْ تَكُنْ سُخِّرَتْ لَهُ قَبْلَ ذَلِكَ وَهُوَ قَوْلُهُ: ﴿وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لأحَدٍ مِنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ [[تفسير الطبري (٢٣/١٠١) .]]
وَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَوْلُهُ: ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ: شَيْطَانًا يُقَالُ لَهُ: آصِفُ. فَقَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ: كَيْفَ تَفْتِنُونَ النَّاسَ؟ قَالَ: أَرِنِي خَاتَمَكَ أُخْبِرْكَ. فَلَمَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ نَبَذَهُ آصِفُ فِي الْبَحْرِ فَسَاحَ سُلَيْمَانُ وَذَهَبَ مُلْكُهُ، وَقَعَدَ آصِفُ عَلَى كُرْسِيِّهِ وَمَنَعَهُ اللَّهُ نِسَاءَ سُلَيْمَانَ فَلَمْ يَقْرَبْهُنَّ -وَلَمْ يَقْرَبْنَهُ وَأَنْكَرْنَهُ. قَالَ: فَكَانَ سُلَيْمَانُ يَسْتَطْعِمُ فَيَقُولُ: أَتَعْرِفُونِي؟ أَطْعِمُونِي أَنَا سُلَيْمَانُ فَيُكَذِّبُونَهُ، حَتَّى أَعْطَتْهُ امْرَأَةٌ يَوْمًا حُوتًا فَجَعَلَ يُطَيِّبُ بَطْنَهُ، فَوَجَدَ خَاتَمَهُ فِي بَطْنِهِ فَرَجَعَ إِلَيْهِ مُلْكُهُ وَفَرَّ آصِفُ فَدَخَلَ الْبَحْرَ فَارًّا.
وَهَذِهِ كُلُّهَا مِنَ الْإِسْرَائِيلِيَّاتِ وَمِنْ أَنْكَرِهَا مَا قَالَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ:
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشِ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ﴾ قَالَ: أَرَادَ سُلَيْمَانُ أَنْ يَدْخُلَ الْخَلَاءَ فَأَعْطَى الْجَرَادَةَ خَاتَمَهُ -وَكَانَتِ الْجَرَادَةُ [[في ت: "جرادة".]] امْرَأَتَهُ وَكَانَتْ أَحَبَّ نِسَائِهِ إِلَيْهِ-فَجَاءَ الشَّيْطَانُ فِي صُورَةِ سُلَيْمَانَ فَقَالَ لَهَا: هَاتِي خَاتَمِي. فَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ. فَلَمَّا لَبِسَهُ دَانَتْ لَهُ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ [[في أ: "والجن والطير".]] وَالشَّيَاطِينُ فَلَمَّا خَرَجَ سُلَيْمَانُ مِنَ الْخَلَاءِ قَالَ لَهَا: هَاتِي خَاتَمِي. قَالَتْ: قَدْ أَعْطَيْتُهُ سُلَيْمَانَ. قَالَ: أَنَا سُلَيْمَانُ. قَالَتْ: كَذَبْتَ لَسْتَ سُلَيْمَانَ [[في ت: "بسليمان".]] فَجَعَلَ لَا يَأْتِي أَحَدًا يَقُولُ لَهُ: "أَنَا سُلَيْمَانُ"، إِلَّا كَذَّبَهُ حَتَّى جَعَلَ [[في أ: "جاء".]] الصِّبْيَانُ يَرْمُونَهُ بِالْحِجَارَةِ. فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَرَف أَنَّهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ: وَقَامَ الشَّيْطَانُ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ فَلَمَّا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَى سُلَيْمَانَ سُلْطَانَهُ أَلْقَى فِي قُلُوبِ النَّاسِ إِنْكَارَ ذَلِكَ الشَّيْطَانِ. قَالَ: فَأَرْسَلُوا إِلَى نِسَاءِ سُلَيْمَانَ فَقَالُوا لَهُنَّ: أَتُنْكِرْنَ مِنْ سُلَيْمَانَ شَيْئًا؟ قُلْنَ: نَعَمْ إِنَّهُ يَأْتِينَا وَنَحْنُ حُيَّضٌ وَمَا كَانَ يَأْتِينَا قَبْلَ ذَلِكَ. فَلَمَّا رَأَى الشَّيْطَانُ أَنَّهُ قَدْ فَطِنَ لَهُ [[في ت: "أنه فطن له".]] ظَنَّ أَنَّ أَمْرَهُ قَدِ انْقَطَعَ فَكَتَبُوا كُتُبًا فِيهَا سِحْرٌ وَكُفْرٌ، فَدَفَنُوهَا تَحْتَ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ ثُمَّ أَثَارُوهَا وقرءوها على الناس. وقالوا: بِهَذَا كَانَ يَظْهَرُ سُلَيْمَانُ عَلَى النَّاسِ [وَيَغْلِبُهُمْ] [[زيادة من أ.]] فَأَكْفَرَ النَّاسُ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَلَمْ يَزَالُوا يُكَفِّرُونَهُ وَبَعَثَ ذَلِكَ الشيطانُ بِالْخَاتَمِ فَطَرَحَهُ فِي الْبَحْرِ فَتَلَقَّتْهُ سَمَكَةٌ فَأَخَذَتْهُ. وَكَانَ سُلَيْمَانُ يَحْمِلُ عَلَى شَطِّ الْبَحْرِ بِالْأَجْرِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَاشْتَرَى سَمَكًا فِيهِ تِلْكَ السَّمَكَةُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا الْخَاتَمُ فَدَعَا سُلَيْمَانُ فَقَالَ: تَحْمِلُ لِي هَذَا السَّمَكَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ. قَالَ: بِكَمْ؟ قَالَ بِسَمَكَةٍ مِنْ هَذَا السَّمَكِ. قَالَ: فَحَمَلَ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلَامُ السَّمَكَ ثُمَّ انْطَلَقَ بِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ فَلَمَّا انْتَهَى الرَّجُلُ إِلَى بَابِهِ أَعْطَاهُ تِلْكَ السَّمَكَةَ الَّتِي فِي بَطْنِهَا الْخَاتَمُ فَأَخَذَهَا سُلَيْمَانُ فَشَقَّ بَطْنَهَا، فَإِذَا الْخَاتَمُ فِي جَوْفِهَا فَأَخَذَهُ فَلَبِسَهُ. قَالَ: فَلَمَّا لَبِسَهُ دَانَتْ لَهُ الْجِنُّ وَالْإِنْسُ وَالشَّيَاطِينُ وَعَادَ إِلَى حَالِهِ وَهَرب الشَّيْطَانُ حَتَّى دَخَلَ جَزِيرَةً [[في ت: "لحق بجزيرة".]] مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ فَأَرْسَلَ سُلَيْمَانُ فِي طَلَبِهِ وَكَانَ شَيْطَانًا مَرِيدًا فَجَعَلُوا يَطْلُبُونَهُ وَلَا يَقْدِرُونَ عَلَيْهِ حَتَّى وَجَدُوهُ يَوْمًا نَائِمًا فَجَاءُوا فَبَنَوْا عَلَيْهِ بُنْيَانًا مِنْ رَصَاصٍ فَاسْتَيْقَظَ فَوَثَبَ فَجَعَلَ لَا يَثِبُ فِي مَكَانٍ من البيت إلا أنماط معه من الرَّصَاصُ قَالَ: فَأَخَذُوهُ فَأَوْثَقُوهُ وَجَاءُوا بِهِ إِلَى سُلَيْمَانَ، فَأَمَرَ بِهِ فَنُقِرَ [[في ت: "فثقب".]] لَهُ تَخْتٌ مِنْ رُخَامٍ ثُمَّ أُدْخِلَ فِي جَوْفِهِ ثُمَّ سُدَّ بِالنُّحَاسِ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَطُرِحَ فِي الْبَحْرِ فَذَلِكَ قَوْلُهُ: ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ﴾ قَالَ: يَعْنِي الشَّيْطَانَ الَّذِي كَانَ سُلِّطَ عَلَيْهِ.
إِسْنَادُهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَوِيٌّ وَلَكِنَّ الظَّاهِرَ أَنَّهُ إِنَّمَا تَلَقَّاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ -إِنْ صَحَّ عَنْهُ-مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَفِيهِمْ طَائِفَةٌ لَا يَعْتَقِدُونَ نُبُوَّةَ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَالظَّاهِرُ أَنَّهُمْ يَكْذِبُونَ عَلَيْهِ وَلِهَذَا كَانَ فِي السِّيَاقِ مُنْكَرَاتٌ مِنْ أَشَدِّهَا ذِكْرُ النِّسَاءِ فَإِنَّ الْمَشْهُورَ أَنَّ [[في أ: "فإن المشهور عن مجاهد وغير واحد من السلف أن".]] ذَلِكَ الْجِنِّيَّ لَمْ يُسَلَّطْ عَلَى نِسَاءِ سُلَيْمَانَ بَلْ عَصَمَهُنَّ اللَّهُ مِنْهُ تَشْرِيفًا وَتَكْرِيمًا لِنَبِيِّهِ ﷺ، وَقَدْ رُوِيَتْ هَذِهِ الْقِصَّةُ مُطَوَّلَةً عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ السَّلَفِ، كَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَجَمَاعَةٍ آخَرِينَ وَكُلُّهَا متُلقًّاة مِنْ قَصَصِ أَهْلِ الْكِتَابِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ.
وَقَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ: وَجَدَ سُلَيْمَانُ خَاتَمَهُ فِي عَسْقَلَانَ، فَمَشَى فِي خِرْقَةٍ [[في أ: "بحرقة".]] إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ تَوَاضُعًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَقَدْ رَوَى ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ فِي صِفَةِ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ خَبَرًا عَجِيبًا فَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاقَ الْمِصْرِيُّ عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ؛ أَنَّهُ لَمَّا فَرَغَ مِنْ حَدِيثِ "إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ" قَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ أَخْبِرْنِي عَنْ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ وَمَا كَانَ عَلَيْهِ؛ وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ هُوَ؟ فَقَالَ: كَانَ كُرْسِيُّ سُلَيْمَانَ مِنْ أَنْيَابِ الْفِيَلَةِ مُفَصّصاً بِالدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ وَالزَّبَرْجَدِ وَاللُّؤْلُؤِ. وَقَدْ جُعل لَهُ دَرَجَةً مِنْهَا مُفَصّصة بِالدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ وَالزَّبَرْجَدِ ثُمَّ أَمَرَ بِالْكُرْسِيِّ فحُفّ مِنْ جَانِبَيْهِ بِالنَّخْلِ، نَخْلٌ مِنْ ذَهَبٍ شَمَارِيخُهَا مِنْ يَاقُوتٍ وَزَبَرْجَدٍ وَلُؤْلُؤٍ. وَجُعِلَ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ الَّتِي عَنْ يَمِينِ الْكُرْسِيِّ طَوَاوِيسُ مَنْ ذَهَبٍ، ثُمَّ جُعِلَ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ الَّتِي عَلَى يَسَارِ الْكُرْسِيِّ نُسُورٌ مَنْ ذَهَبٍ مُقَابَلَةَ الطَّوَاوِيسِ، وَجُعِلَ على يمين الدرجة الأولى شَجَرَتَا صَنَوْبَرٍ مَنْ ذَهَبٍ، وَعَنْ يَسَارِهَا أَسَدَانِ مَنْ ذَهَبٍ وَعَلَى رُءُوسِ الْأَسَدَيْنِ عَمُودَانِ مِنْ زَبَرْجَدٍ وَجُعِلَ مِنْ جَانِبَيِ الْكُرْسِيِّ شَجَرَتَا كَرْمٍ مَنْ ذَهَبٍ قَدْ أَظَلَّتَا الْكُرْسِيَّ وَجُعِلَ عَنَاقِيدُهُمَا دُرًّا وَيَاقُوتًا أَحْمَرَ. ثُمَّ جُعل فَوْقَ دَرَج الْكُرْسِيِّ أسَدَان عَظِيمَانِ مِنْ ذَهَبٍ مُجَوَّفَانِ مَحْشُوَّانِ مِسْكًا وَعَنْبَرًا. فَإِذَا أَرَادَ سُلَيْمَانُ أَنْ يَصْعَدَ عَلَى كُرْسِيِّهِ اسْتَدَارَ الْأَسَدَانِ سَاعَةً ثُمَّ يَقَعَانِ [[في ت: "يقفان".]] فَيَنْضَحَانِ مَا فِي أَجْوَافِهِمَا مِنَ الْمِسْكِ وَالْعَنْبَرِ حَوْلَ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، ثُمَّ يُوضَعُ مِنْبَرَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَاحِدٌ لِخَلِيفَتِهِ وَالْآخِرُ لِرَئِيسِ أَحْبَارِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ذَلِكَ الزَّمَانِ. ثُمَّ يُوضَعُ أَمَامَ كُرْسِيِّهِ سَبْعُونَ مِنْبَرًا مِنْ ذَهَبٍ يَقْعُدُ عَلَيْهَا سَبْعُونَ قَاضِيًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَعُلَمَائِهِمْ وَأَهْلِ الشَّرَفِ مِنْهُمْ وَالطَوْلِ وَمِنْ خَلْفِ تِلْكَ الْمَنَابِرِ كُلِّهَا خَمْسَةٌ وَثَلَاثُونَ مِنْبَرًا مِنْ ذَهَبٍ لَيْسَ عَلَيْهَا أَحَدٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَصْعَدَ عَلَى كُرْسِيِّهِ وَضَعَ قَدَمَيْهِ عَلَى الدَّرَجَةِ السُّفْلَى فَاسْتَدَارَ الْكُرْسِيُّ كُلُّهُ بِمَا فِيهِ وَمَا عَلَيْهِ، وَيَبْسُطُ الْأَسَدُ يَدَهُ الْيُمْنَى وَيَنْشُرُ النَّسْرُ جَنَاحَهُ الْأَيْسَرَ ثُمَّ يَصْعَدُ [سُلَيْمَانُ] [[زيادة من ت، أ.]] عَلَى الدَّرَجَةِ الثَّانِيَةِ فَيَبْسُطُ الْأَسَدُ يَدَهُ الْيُسْرَى وَيَنْشُرُ النَّسْرُ جَنَاحَهُ الْأَيْمَنَ فَإِذَا اسْتَوَى سُلَيْمَانُ عَلَى الدَّرَجَةِ الثَّالِثَةِ وَقَعَدَ عَلَى الْكُرْسِيِّ أَخَذَ نَسْرٌ مِنْ تِلْكَ النُّسُورِ عَظِيمٌ تَاجَ سُلَيْمَانَ فَوَضَعَهُ عَلَى رَأْسِهِ فَإِذَا وَضَعَهُ عَلَى رَأْسِهِ اسْتَدَارَ الْكُرْسِيُّ بِمَا فِيهِ كَمَا تَدُورُ الرَّحَى الْمُسْرِعَةُ. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَمَا الَّذِي يُدِيرُهُ يَا أَبَا إِسْحَاقَ؟ قَالَ: تِنِّينٌ مِنْ ذَهَبِ ذَلِكَ الْكُرْسِيِّ عَلَيْهِ وَهُوَ عَظِيمٌ مِمَّا عَمِلَهُ صَخْرٌ الْجِنِّيُّ فَإِذَا أَحَسَّتْ بِدَوَرَانِهِ تِلْكَ النُّسُورُ والأسْدُ وَالطَّوَاوِيسُ الَّتِي فِي أَسْفَلِ الْكُرْسِيِّ دُرْنَ إِلَى أَعْلَاهُ فَإِذَا وَقَفَ وَقَفْنَ كُلُّهُنَّ مُنَكِّسَاتٍ رُءُوسَهُنَّ عَلَى رَأْسِ سُلَيْمَانَ [ابْنِ دَاوُدَ] [[زيادة من أ.]] عَلَيْهِ [[في أ: "عليهما".]] السَّلَامُ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ يَنْضَحْنَ جَمِيعًا مَا فِي أَجْوَافِهِنَّ مِنَ الْمِسْكِ وَالْعَنْبَرِ عَلَى رَأْسِ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ. ثُمَّ تَتَنَاوَلُ حَمَامَةٌ مَنْ ذَهَبٍ وَاقِفَةٌ عَلَى عَمُودٍ مِنْ جَوْهَرٍ التوراةَ فَتَجْعَلُهَا فِي يَدِهِ فَيَقْرَؤُهَا سُلَيْمَانُ عَلَى النَّاسِ.
وَذَكَرَ تَمَامَ الْخَبَرِ [[في ت: "الحديث".]] وَهُوَ غَرِيبٌ جِدًّا.
﴿قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لأحَدٍ مِنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ قَالَ بَعْضُهُمْ: مَعْنَاهُ: لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي أَيْ: لَا يَصْلُحُ لِأَحَدٍ أَنْ يَسْلُبَنِيهِ كَمَا كَانَ مِنْ قَضِيَّةِ [[في ت: "في قصة"، وفي أ: "من قصة".]] الْجَسَدِ الَّذِي أُلْقِيَ عَلَى كُرْسِيِّهِ لَا أَنَّهُ يَحْجُرُ عَلَى مَنْ بَعْدَهُ مِنَ النَّاسِ. وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ سَأَلَ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى مُلْكًا لَا يَكُونُ لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ مِنَ الْبَشَرِ مِثْلُهُ، وَهَذَا هُوَ ظَاهِرُ السِّيَاقِ مِنَ الْآيَةِ وَبِهِ [[في ت، س، أ: "وبذلك".]] وَرَدَتِ الْأَحَادِيثُ الصَّحِيحَةُ مِنْ طُرُقٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ.
قَالَ [[في ت: "فروى".]] الْبُخَارِيُّ عِنْدَ تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا رَوْحٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّت عَلَيَّ الْبَارِحَةَ -أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا-لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصبحوا وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ: ﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لأحَدٍ مِنْ بَعْدِي﴾
قَالَ رَوْحٌ: فَرَدَّهُ خَاسِئًا [[صحيح البخاري برقم (٤٨٠٨) .]]
وَكَذَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ بِهِ [[صحيح مسلم برقم (٥٤١) والنسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٤٠) .]]
وَقَالَ مُسْلِمٌ فِي صَحِيحِهِ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ المُرَادي حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ حَدَّثَنِي رَبِيعَةَ بْنِ يَزيد عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي فَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ: "أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ". ثُمَّ قَالَ: "أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ" -ثَلَاثًا-وَبَسَطَ يَدَه كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُهُ قَبْلَ ذَلِكَ وَرَأَيْنَاكَ بَسَطَتْ يَدَكَ؟ قَالَ: "إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ -ثَلَاثَ مَرَّاتٍ-ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ التَّامَّةِ. فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أخْذَه وَاللَّهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا يَلْعَبُ بِهِ صِبْيَانُ [[في ت، س، أ: "ولدان".]] أَهْلِ الْمَدِينَةِ" [[صحيح مسلم برقم (٥٤٢) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ حَاجِبُ سُلَيْمَانَ قَالَ: رَأَيْتُ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ قَائِمًا يُصَلِّي، فَذَهَبْتُ أَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَرَدَّنِي ثُمَّ قَالَ [[في ت: "بإسناده".]] حَدَّثَنِي [[في ت: "عن".]] أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَامَ يُصَلِّي [[في ت: "فصلى".]] صَلَاةَ الصُّبْحِ وَهُوَ خَلْفُهُ فَقَرَأَ فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صِلَاتِهِ قَالَ: "لَوْ رَأَيْتُمُونِي وَإِبْلِيسَ فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي فَمَا زِلْتُ أَخْنُقُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ لُعَابِهِ بَيْنَ أُصْبُعَيَّ هَاتَيْنِ -الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا-وَلَوْلَا دَعْوَةُ أَخِي سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ [[في ت: "أصبح".]] مَرْبُوطًا بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، يَتَلَاعَبُ بِهِ صِبْيَانُ الْمَدِينَةِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَلَّا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ أَحَدٌ فَلْيَفْعَلْ".
وَقَدْ رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ: "مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَلَّا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ أَحَدٌ فَلْيَفْعَلْ" عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيج عَنْ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيِّ بِهِ [[المسند (٣/٨٣) وسنن أبي داود برقم (٦٩٩) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَهُوَ فِي حَائِطٍ لَهُ بِالطَّائِفِ يُقَالُ لَهُ: "الْوَهْطُ"، وَهُوَ مُخَاصر فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ يُزَنّ بشُرْب الْخَمْرِ، فَقُلْتُ: بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثٌ أَنَّهُ "مِنْ شَرِبِ شَرْبَةَ خَمْر لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ -عَزَّ وَجَلَّ-لَهُ تَوبَةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، وَإِنَّ الشَّقِيَّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَإِنَّهُ مَنْ أَتَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ لا يَنْهَزه إلا الصلاة فيه، خرج مِنْ خَطِيئَتِهِ مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، فَلَمَّا سَمِعَ الْفَتَى ذَكْرَ الْخَمْرِ اجْتَذَبَ يَدَهُ مِنْ يَدِهِ ثُمَّ انْطَلَقَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو [[في أ: "عمرو رضي الله عنهما".]] إِنِّي لَا أُحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ عَلَيّ مَا لَمْ أَقُلْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "مَنْ شَرِبَ مِنَ الْخَمْرِ شَرْبَةً لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ [[في أ: "وإن".]] عَادَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ. فَإِنْ عَادَ -قَالَ فَلَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ-فَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ رَدْغَة الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" قَالَ: وَسَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ ثُمَّ أَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ نُورِهِ يَوْمَئِذٍ اهْتَدَى وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ فَلِذَلِكَ [[في أ: "ولذلك".]] أَقُولُ جَفَّ الْقَلَمُ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" وَسَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "إِنَّ سُلَيْمَانَ سَأَلَ اللَّهَ تَعَالَى ثَلَاثًا فَأَعْطَاهُ اثْنَتَيْنِ وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ تَكُونَ لَنَا الثَّالِثَةُ: سَأَلَهُ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَسَأَلَهُ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَسَأَلَهُ أَيُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ مَنْ بَيْتِهِ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ [[في ت، س، أ: "مثل يوم".]] وَلَدَتْهُ أُمُّهُ فَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللَّهُ تَعَالَى [[في ت، س، أ: "عز وجل".]] قَدْ أَعْطَانَا إِيَّاهَا" [[المسند (٢/١٧٦) .]]
وَقَدْ رَوَى هَذَا الْفَصْلَ الْأَخِيرَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ مِنْ طُرُقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَيْرُوزَ الدَّيْلِمِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ سُلَيْمَانَ لَمَّا بَنَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ سَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خِلَالًا ثَلَاثًا ... " وَذَكَرَهُ [[سنن النسائي (٢/٤٣) وسنن ابن ماجة برقم (١٤٠٨) .]]
وَقَدْ رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ رَافِعِ بْنِ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، بِإِسْنَادٍ وَسِيَاقٍ غَرِيبَيْنِ فَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبة الْعَسْقَلَانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ سُوَيْد حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَة عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ [[في ت: "وروى الطبراني بإسناده".]] عَنْ رَافِعِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِدَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ابْنِ لِي بَيْتًا فِي الْأَرْضِ. فَبَنَى دَاوُدُ [[في ت: "داود عليه السلام".]] بَيْتًا لِنَفْسِهِ قَبْلَ الْبَيْتِ الَّذِي أُمِرَ بِهِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: يَا دَاوُدُ نَصَبْتَ بَيْتَكَ قَبْلَ بَيْتِي؟ قَالَ: يَا رَبِّ هَكَذَا قَضَيْتَ [[في ت، س، أ: "هكذا قلت فيما قضيت".]] مَنْ مَلَكَ اسْتَأْثَرَ ثُمَّ أَخَذَ فِي بِنَاءِ الْمَسْجِدِ فَلَمَّا تَمَّ السُّورَ سَقَطَ ثَلَاثًا فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ: يَا دَاوُدُ [[في ت، أ: "فأوحى الله إليه"]] إِنَّكَ لَا تَصْلُحُ أَنْ تَبْنِيَ لِي بَيْتًا قَالَ: وَلِمَ يَا رَبِّ؟ قَالَ: لِمَا جَرَى عَلَى يَدَيْكَ مِنَ الدِّمَاءِ. قَالَ: يَا رَبِّ أَوْ مَا كَانَ [[في ت، س، أ: "أو لم يكن".]] ذَلِكَ فِي هَوَاكَ وَمَحَبَّتِكَ؟ قَالَ: بَلَى وَلَكِنَّهُمْ عِبَادِي وَأَنَا أَرْحَمُهُمْ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: لَا تَحْزَنْ فَإِنِّي سَأَقْضِي بِنَاءَهُ عَلَى يَدَيِ ابْنِكَ سُلَيْمَانَ. فَلَمَّا مَاتَ دَاوُدُ أَخْذَ سُلَيْمَانُ فِي بِنَائِهِ فَلَمَّا تَمَّ قَرَّبَ الْقَرَابِينَ وَذَبَحَ الذَّبَائِحَ وَجَمَعَ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: قَدْ أَرَى سرورَك بِبُنْيَانِ بَيْتِي فَسَلْنِي أُعْطِكَ. قَالَ: أَسْأَلُكَ ثَلَاثَ خِصَالٍ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَكَ وَمُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي وَمَنْ أَتَى هَذَا الْبَيْتَ لَا يُرِيدُ إلا الصلاة فيه خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أما ثِنْتَانِ فَقَدْ أُعْطِيَهُمَا وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أُعْطِيَ الثَّالِثَةَ" [[المعجم الكبير (٥/٢٤) قال الهيثمي في المجمع (٤/٨) : "فيه محمد بن أيوب بن سويد الرملي وهو متهم بالوضع".]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عُمَر بْنُ رَاشِدٍ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ دَعَا دُعَاءً إِلَّا اسْتَفْتَحَهُ بِـ "سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّي الْأَعْلَى الْعَلِيِّ الْوَهَّابِ" [[المسند (٤/٥٤) قال الهيثمي في المجمع (١٠/١٥٦) : "فيه عمر بن راشد اليمامي وثقه غير واحد، وبقية رجاله رجال الصحيح".]]
وَقَدْ قَالَ [[في ت: "وروى".]] أَبُو عَبِيدٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بَرْقان عَنْ صَالِحِ بْنِ مِسْمَارٍ قَالَ: لَمَّا مَاتَ نَبِيُّ اللَّهِ دَاوُدُ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى ابْنِهِ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِمَا [[في ت، أ: "عليه".]] السَّلَامُ: أَنْ سَلْنِي حَاجَتَكَ. قَالَ: أَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ لِي قَلْبًا يَخْشَاكَ كَمَا كَانَ قَلْبُ أَبِي وَأَنْ تَجْعَلَ قَلْبِي يُحِبُّكَ كَمَا كَانَ قَلْبُ أَبِي. فَقَالَ اللَّهُ: أَرْسَلْتُ إِلَى عَبْدِي وَسَأَلَتْهُ [[في ت، س: "أسأله".]] حَاجَتَهُ فَكَانَتْ [حَاجَتُهُ] [[زيادة من ت، س.]] أَنْ أَجْعَلَ قَلْبَهُ يَخْشَانِي وَأَنْ أَجْعَلَ قَلْبَهُ يُحِبُّنِي لأهَبَنّ لَهُ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ﴾ وَالَّتِي بَعْدَهَا، قَالَ: فَأَعْطَاهُ [اللَّهُ] [[زيادة من أ.]] مَا أَعْطَاهُ وَفِي الْآخِرَةِ لَا حِسَابَ عَلَيْهِ.
هَكَذَا أَوْرَدَهُ أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ عَسَاكِرَ فِي تَرْجَمَةِ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي تَارِيخِهِ [[تاريخ دمشق (٧/٥٦٩) "القسم المخطوط".]]
وَرُوِيَ عَنْ بَعْضِ السَّلَفِ أَنَّهُ قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ دَاوُدَ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ت، س، أ.]] أَنَّهُ قَالَ: "إِلَهِي كُنْ لِسُلَيْمَانَ كَمَا كُنْتَ لِي": فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: أَنْ قُلْ لِسُلَيْمَانَ: يَكُونُ لِي كَمَا كُنْتَ لِي، أَكُونُ لَهُ كَمَا كنتُ لَكَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ﴾ قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَمَّا عَقَرَ سُلَيْمَانُ الْخَيْلَ غَضَبًا لِلَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ عَوَّضَهُ اللَّهُ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا وَأَسْرَعُ الرِّيحُ الَّتِي غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿حَيْثُ أَصَابَ﴾ أَيْ: حَيْثُ أَرَادَ مِنَ الْبِلَادِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ﴾ أَيْ: مِنْهُمْ مَنْ هُوَ مُسْتَعْمَلٌ فِي الْأَبْنِيَةِ الْهَائِلَةِ مِنْ مَحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجَفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَاسِيَاتٍ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَعْمَالِ الشَّاقَّةِ الَّتِي لَا يَقْدِرُ عَلَيْهَا الْبَشَرُ وَطَائِفَةٌ غَوَّاصُونَ فِي الْبِحَارِ يَسْتَخْرِجُونَ مِمَّا [[في ت: "ما".]] فِيهَا مِنَ اللَّآلِئِ وَالْجَوَاهِرِ وَالْأَشْيَاءِ النَّفِيسَةِ الَّتِي لَا تُوجَدُ إِلَّا فِيهَا ﴿وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الأصْفَادِ﴾ أَيْ: مُوثَقُونَ فِي الْأَغْلَالِ وَالْأَكْبَالِ مِمَّنْ قَدْ تَمَرّد وَعَصَى وَامْتَنَعَ مِنَ الْعَمَلِ وَأَبَى أَوْ قَدْ أَسَاءَ فِي صنيعه واعتدى.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿هَذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ أَيْ: هَذَا الَّذِي أَعْطَيْنَاكَ مِنَ الْمُلْكِ التَّامِّ وَالسُّلْطَانِ الْكَامِلِ كَمَا سَأَلْتَنَا فَأَعْطِ مَنْ شِئْتَ وَاحْرِمْ مَنْ شِئْتَ، لَا حِسَابَ عَلَيْكَ، أَيْ: مَهْمَا فعلتَ فَهُوَ جَائِزٌ لَكَ احْكُمْ بِمَا شِئْتَ فَهُوَ صَوَابٌ. وَقَدْ ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ [[في أ: "الصحيح".]] أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لَمَّا خُيِّر بَيْنَ أَنْ يَكُونَ عَبْدًا رَسُولًا -وَهُوَ الَّذِي يَفْعَلُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ وَإِنَّمَا هُوَ قَاسِمٌ يَقْسِمُ بَيْنَ النَّاسِ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ بِهِ-وَبَيْنَ أَنْ يَكُونَ مَلِكًا نَبِيًّا يُعْطِي مَنْ يَشَاءُ وَيَمْنَعُ مَنْ يَشَاءُ بِلَا حِسَابٍ وَلَا جُنَاحٍ، اخْتَارَ الْمَنْزِلَةَ الْأُولَى بَعْدَ مَا اسْتَشَارَ جِبْرِيلَ فَقَالَ لَهُ: تَوَاضَعْ فَاخْتَارَ الْمَنْزِلَةَ الْأُولَى لِأَنَّهَا أَرْفَعُ قَدْرًا عِنْدَ اللَّهِ وَأَعْلَى مَنْزِلَةً فِي الْمَعَادِ وَإِنْ كَانَتِ الْمَنْزِلَةُ الثَّانِيَةُ وَهِيَ النُّبُوَّةُ مَعَ الْمُلْكِ عَظِيمَةً أَيْضًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلِهَذَا لَمَّا ذَكَرَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَا أَعْطَى سُلَيْمَانَ فِي الدُّنْيَا نَبَّهَ عَلَى أَنَّهُ ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْضًا، فَقَالَ: ﴿وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ﴾ أَيْ: فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ.
هَٰذَا عَطَآؤُنَا فَٱمْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍۢ
[We said], "This is Our gift, so grant or withhold without account."
(ہم نے کہا) یہ ہماری بخشش ہے (چاہو) تو احسان کرو یا (چاہو تو) رکھ چھوڑو (تم سے) کچھ حساب نہیں ہے
(و به او گفتیم:) این عطای ما است، به هر کس میخواهی (و صلاح میبینی) ببخش، و از هر کس میخواهی امساک کن، و حسابی بر تو نیست (تو امین هستی)!
Tafsir Ibn Kathir
And indeed, We tried Sulayman and We placed on his throne Jasad (a body), and he returned (34)He said: "My Lord! Forgive me, and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me. Verily, You are the Bestower. (35)So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order wherever he willed (36)And the Shayatin, from every kind of builder and diver (37)And also others bound in fetters (38)[Allah said to Sulayman]: "This is Our gift, so spend you or withhold, no account will be asked of you. (39)And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return (40)
How Allah tested Sulayman then made Things easy for Him
Allah says,
وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ
(And indeed, We tried Sulayman) meaning, 'We tested him.'
وَأَلْقَيْنَا عَلَىٰ كُرْسِيِّهِ جَسَدًا
(and We placed on his throne Jasad (a body)).
ثُمَّ أَنَابَ
(and he returned.) means, after this test, he turned back to Him and asked for forgiveness and to be given a kingdom such as shall not belong to any other after him.
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
(He said: "My Lord! Forgive me, and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me. Verily, You are the Bestower.")
Some of them said, "No one after me will have the right to ask Allah for such a kingdom." This is the apparent meaning from the context of the Ayah, and several Hadiths with a similar meaning have been narrated from the Messenger of Allah ﷺ.
In his Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet ﷺ said:
إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ، وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنَ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتّٰى تُصْبِحُوا،وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي
(An 'Ifrit from among the Jinn came and bothered me last night – or he said something similar – trying to stop me from praying. Allah enabled me to overpower him, and I wanted to tie him to one of the pillars in the Masjid so that you could see him this morning. Then I remembered what my brother Sulayman said, (My Lord! Forgive me and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me))
Rawh said, "so he let him go, humiliated." ) This was also recorded by Muslim and An-Nasa'i. In his Sahih, Muslim recorded that Abu Ad-Darda', may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ stood up to pray and we heard him say,
أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ
(I seek refuge with Allah from you.) Then he said,
أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ
(I curse you with the curse of Allah.) three times, and he stretched out his hand as if he was reaching out to take something. When he finished his prayer, we said, 'O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer which we have never heard you say before, and we saw you stretching out your hand.' He ﷺ said:
إِنَّ عَدُوَّ اللهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ التَّامَّةِ، فَلَمْ يَتَأَخَّرْ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ،وَاللهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا، يَلْعَبُ بِهِ صِبْيَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ
(The enemy of Allah Iblis came with a flame of fire to throw in my face, so I said, "I seek refuge with Allah from you" three times, then I said, "I curse you with the complete curse of Allah," but he did not back off. I said it three times. Then I wanted to seize him. By Allah, if it were not for the words of our brother Sulayman, he would have been chained up and he would have become a plaything for the children of the people of Al-Madinah.)" Allah says:
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ
(So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order wherever he willed.) Al-Hasan Al-Basri, may Allah have mercy on him, said, "When Sulayman, peace be upon him, slaughtered the horses out of anger for the sake of Allah, Allah compensated him with something better and swifter, the wind whose morning was a month's (journey), and its afternoon was a month's (journey)."
حَيْثُ أَصَابَ
(wherever he willed.) means, wherever in the world he wanted.
وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ
(And also the Shayatin, from every kind of builder and diver,) means, among them were some whom he used to build high rooms, images, basins as large as reservoirs, and cauldrons fixed (in their places), and other difficult tasks which humans were unable to do. And there was another group, who dived into the sea recovering pearls, jewels and other precious things which cannot be found anywhere else.
وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
(And also others bound in fetters.) means, tied up in chains. These were the ones who had rebelled and refused to work, or else their work was bad and they were wrongdoers.
هَٰذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ
([Allah said to Sulayman]: "This is Our Gift, so spend you or withhold, no account will be asked of you.") means, 'this that We have given to you of kingship and perfect power, as you asked for, you may give to whomsoever you wish and deny to whomsoever you wish, and you will not be brought to account. Whatever you do is permissible for you, so however you judge, it will be right.' It was reported in the Two Sahihs that when the Messenger of Allah ﷺ was given the choice between being a servant and a Messenger – who does what he is commanded to do and distributes things among the people as Allah commands him to do – or being a Prophet and a king, who can give to whomever he wishes and withhold from whomever he wishes without being held accountable for anything, he chose the former. He consulted with Jibril, peace be upon him, who said, "Be humble." So he chose the former because it has a greater value before Allah and brings a higher status in the Hereafter, even though the second option, prophethood combined with kingship, is also a great thing both in this world and in the Hereafter, when Allah tells us what He gave to Sulayman, peace be upon him, in this world, He tells us that he will have a great share with Allah on the Day of Resurrection. He says:
وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ
(And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return.) meaning, in this world and the Hereafter.
Tafsir Ibn Kathir
سلیمان ؑ کا تفصیلی تذکرہ۔ہم نے حضرت سلیمان کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ ؓ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہرچند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتاسکتا ہے آپ نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر میں ملتا تھا ہر ساتویں دن اس میں لبالب پانی آجاتا تھا اور یہی پانی یہ شیطان پیتا تھا۔ اس کا پانی نکال دیا گیا اور بالکل خالی کر کے پانی کو بند کر کے اس کے آنے والے دن اسے شراب سے پر کردیا گیا جب شیطان آیا اور یہ حال دیکھا تو کہنے لگا یہ تو مزے کی چیز ہے لیکن عقل کی دشمن جہالت کو ترقی دینے والی چیز ہے۔ چناچہ وہ پیاسا ہی چلا گیا۔ جب پیاس کی شدت ہوئی تو مجبوراً یہ سب کچھ کہتے ہوئے پینا ہی پڑا۔ اب عقل جاتی رہی اور اسے حضرت سلیمان کی انگوٹھی دکھائی گئی یا مونڈھوں کے درمیان سے مہر لگا دی گئی۔ یہ بےبس ہوگیا حضرت سلیمان کی حکومت اسی انگوٹھی کی وجہ سے تھی۔ جب یہ حضرت سلیمان کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے یہ کام سر انجام دینے کا حکم دیا یہ ہدہد کے انڈے لے آیا اور انہیں جمع کر کے ان پر شیشہ رکھ دیا۔ ہدہد آیا اس نے اپنے انڈے دیکھے چاروں طرف گھوما لیکن دیکھا کہ ہاتھ نہیں آسکتے اڑ کر واپس چلا گیا اور الماس لے آیا اور اسے اس شیشے پر رکھ کر شیشے کو کاٹنا شروع کردیا آخر وہ کٹ گیا اور ہدہد اپنے انڈے لے گیا اور اس الماس کو بھی لے لیا گیا اور اسی سے پتھر کاٹ کاٹ کر عمارت شروع ہوئی حضرت سلیمان ؑ جب بیت الخلا میں یا حمام میں جاتے تو انگوٹھی اتار جاتے ایک دن حمام میں جانا تھا اور یہ شیطان آپ کے ساتھ تھا آپ اس وقت فرضی غسل کے لئے جا رہے تھے انگوٹھی اسی کو سونپ دی اور چلے گئے اس نے انگوٹھی سمندر میں پھینک دی اور شیطان پر حضرت سلیمان کی شکل ڈال دی گئی اور آپ سے تخت و تاج چھن گیا۔ سب چیزوں پر شیطان نے قبضہ کرلیا سوائے آپ کی بیویوں کے۔ اب اس سے بہت سی غیر معروف باتیں ظہور میں آنے لگیں اس زمانہ میں ایک صاحب تھے جو ایسے ہی تھے جیسے حضور ﷺ کے زمانہ میں حضرت فاروق ؓ۔ اس نے کہا آزمائش کرنی چاہئے مجھے تو یہ شخص سلیمان معلوم نہیں ہوتا۔ چناچہ ایک روز اس نے کہا کیوں جناب اگر کوئی شخص رات کو جنبی ہوجائے اور موسم ذرا ٹھنڈا ہو اور وہ سورج طلوع ہونے تک غسل نہ کرے تو کوئی حرج تو نہیں ؟ اس نے کہا ہرگز نہیں۔ چالیس دن تک یہ تخت سلیمان پر رہا پھر آپ کی مچھلی کے پیٹ سے انگوٹھی مل گئی ہاتھ میں ڈالتے ہی پھر تمام چیزیں آپ کی مطیع ہوگئیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ سدی فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ کی ایک سو بیویاں تھیں آپ کو سب سے زیادہ اعتبار ان میں سے ایک بیوی پر تھا جن کا نام جراوہ تھا۔ جب جنبی ہونے یا پاخانے جاتے تو اپنی انگوٹھی انہی کو سونپ جاتے۔ ایک مرتبہ آپ پاخانے گئے پیچھے سے ایک شیطان آپ ہی کی صورت بنا کر آیا اور بیوی صاحبہ سے انگوٹھی طلب کی آپ نے دے دی یہ آتے ہی تخت پر بیٹھ گیا جب حضرت سلیمان آئے اور انگوٹھی طلب کی تو بیوی صاحبہ نے فرمایا آپ انگوٹھی تو لے گئے۔ آپ سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے نہایت پریشان حال سے محل سے نکل گئے اس شیطان نے چالیس دن تک حکومت کی لیکن احکام کی تبدیلی کو دیکھ کر علماء نے سمجھ لیا کہ یہ سلیمان نہیں۔ چناچہ ان کی جماعت آپ کی بیویوں کے پاس آئی اور ان سے کہا یہ کیا معاملہ ہے ہمیں سلیمان کی ذات میں شک پڑگیا۔ اگر یہ سچ مچ سلیمان ہے تو اس کی عقل جاتی رہی ہے یا یہ کہ یہ سلیمان ہی نہیں۔ ورنہ ایسے خلاف شرع احکام نہ دیتا۔ عورتیں یہ سن کر رونے لگیں۔ یہ یہاں سے واپس آگئے اور تخت کے اردگرد اسے گھیر کر بٹھ گئے اور تورات کھول کر اس کی تلاوت شروع کردی۔ یہ خبیث شیطان کلام اللہ سے بھاگا اور انگوٹھی سمندر میں پھینک دی جسے ایک مچھلی نگل گئی۔ حضرت سلیمان یونہی اپنے دن گذارتے تھے ایک مرتبہ سمندر کے کنارے نکل گئے بھوک بہت لگی ہوئی تھی ماہی گیروں کو مچھلیاں پکڑتے ہوئے دیکھ کر ان کے پاس آ کر ان سے ایک مچھلی مانگی اور اپنا نام بھی بتایا، اس پر بعض لوگوں کو بڑا طیش آیا کہ دیکھو بھیک مناگنے والا اپنے تئیں سلیمان بتاتا ہے انہوں نے آپ کو مارنا پیٹنا شروع کیا آپ زخمی ہو کر کنارے جا کر اپنے زخم کا خون دھونے لگے۔ بعض ماہی گیروں کو رحم آگیا کہ ایک سائل کو خواہ مخواہ مارا۔ جاؤ بھئی اسے دو مچھلیاں دے آؤ بھوکا ہے بھون کھائے گا۔ چناچہ و مچھلیاں آپ کو دے آئے بھوک کی وجہ سے آپ اپنے زخم کو اور خون کو تو بھول گئے اور جلدی سے مچھلی کا پیٹ چاک کرنے بیٹھ گئے۔ قدرت اللہ سے اس کے پیٹ سے وہ انگوٹھی نکلی آپ نے اللہ کی تعریف بیان کی اور انگوٹھی انگلی میں ڈالی اس وقت پرندوں نے آ کر آپ پر سایہ کرلیا اور لوگوں نے آپ کو پہچان لیا اور آپ سے معذرت کرنے لگے آپ نے فرمایا یہ سب امر اللہ تھا اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا۔ آپ آئے اپنے تخت پر بیٹھ گئے اور حکم دیا کہ اس شیطان کو جہاں بھی وہ ہو گرفتار کر لاؤ چناچہ اسے قید کرلیا گیا آپ نے اسے ایک لوہے کے صندوق میں بند کیا اور قفل لگا کر اس پر اپنی مہر لگا دی اور سمندر میں پھنکوا دیا جو قیامت تک وہیں قید رہے گا۔ اس کا نام حقیق تھا۔ آپ کی یہ دعا کہ مجھے ایسا ملک عطا فرمایا جائے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو یہ بھی پوری ہوئی اور آپ کے تابع ہوائیں کردی گئیں۔ مجاہد سے مروی ہے کہ ایک شیطان سے جس کا نام آصف تھا ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ نے پوچھا کہ تم لوگوں کو کس طرح فتنے میں ڈالتے ہو ؟ اس نے کہا ذرا مجھے انگوٹھی دکھاؤ میں ابھی آپ کو دکھا دیتا ہوں آپ نے انگوٹھی دے دی اس نے اسے سمندر میں پھینک دیا تخت و تاج کا مالک بن بیٹھا اور آپ کے لباس میں لوگوں کو راہ اللہ سے ہٹانے لگا۔ " یاد رہے کہ یہ سب واقعات بنی اسرائیل کے بیان کردہ ہیں " اور ان سب سے زیادہ منکر واقعہ وہ ہے۔ جو ابن ابی حاتم میں ہے جس کا اوپر بیان ہوا۔ جس میں آپ کی بیوی صاحبہ حضرت جراوہ کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آخر نبوت یہاں تک پہنچی تھی کہ لڑکے آپ کو پتھر مارتے تھے۔ آپ کی بیویوں سے جب علماء نے معاملہ کی تفتیش کی تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہمیں بھی اس کے سلیمان ہونے سے انکار ہے کیونکہ وہ حالت حیض میں ہمارے پاس آتا ہے۔ شیطان کو جب یہ معلوم ہوگیا کہ راز کھل گیا ہے تو اس نے جادو اور کفر کی کتابیں لکھوا کر کرسی تلے دفن کردیا اور پھر لوگوں کے سامنے انہیں نکلوا کر ان سے کہا دیکھو ان کتابوں کی بدولت سلیمان تم پر حکومت کر رہا تھا چناچہ لوگوں نے آپ کو کافر کہنا شروع کردیا۔ حضرت سلیمان سمندر کے کنارے مزدوری کرتے تھے ایک مرتبہ ایک شخص نے بہت سی مچھلیاں خریدیں مزدور کو بلایا آپ پہنچے اس نے کہا یہ اٹھالو پوچھا مزدوری کیا دو گے ؟ اس نے کہا اس میں سے ایک مچھلی تمہیں دے دوں گا آپ نے ٹوکرا سر پر رکھا اس کے ہاں پہنچایا اس نے ایک مچھلی دے دی آپ نے اس کا پیٹ چاک کیا پیٹ چاک کرتے ہی وہ انگوٹھی نکل پڑی پہنتے ہی کل شیاطین جن انسان پھر تابع ہوگئے اور جھرمٹ باندھ کر حاضر ہوگئے آپ نے ملک پر قبضہ کیا اور اس شیطان کو سخت سزا دی۔ پس ثم اناب سے مراد شیطان جو مسلط کیا گیا تھا اس کا لوٹنا ہے۔ اس کی اسناد حضرت ابن عباس تک ہے۔ ہے تو قوی لیکن یہ ظاہر ہے کہ اسے حضرت ابن عباس نے اہل کتاب سے لیا ہے، یہ بھی اس وقت جبکہ اسے ابن عباس کا قول مان لیں۔ اہل کتاب کی ایک جماعت حضرت سلیمان کو نہیں مانتی تھی تو عجب نہیں کہ یہ بیہودہ قصہ اسی خبیث جماعت کا گھڑا ہوا ہو۔ اس میں تو وہ چیزیں بھی ہیں جو بالکل ہی منکر ہیں خصوصاً اس شیطان کا آپ کی عورتوں کے پاس جانا اور آئمہ نے بھی ایسے ہی قصے بیان تو کئے ہیں لیکن اس بات کا سب نے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ جن ان کے پاس نہیں جاسکا اور نبی کے گھرانے کی عورتوں کی عصمت و شرافت کا تقاضا بھی یہی ہے اور بھی بہت سے لوگوں نے ان واقعات کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن سب کی اصل یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے لئے گئے ہیں۔ واللہ اعلم۔ شیبانی فرماتے ہیں آپ نے اپنی انگوٹھی عسقلان میں پائی تھی اور بیت المقدس تک تواضعاً آپ پیدل چلے تھے۔ امام ابن بی حاتم نے صفت سلیمان میں حضرت کعب احبار سے ایک عجیب خبر روایت کی ہے۔ ابو اسحاق مصری کہتے ہیں کہ جب (اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۽) 89۔ الفجر :7) کے قصے سے حضرت کعب نے فراغت حاصل کی تو حضرت معاویہ نے کہا ابو اسحاق آپ حضرت سلیمان کی کرسی کا ذکر بھی کیجئے فرمایا کہ وہ ہاتھی دانت کی تھی اور یاقوت زبرجد اور لولو سے مرصع تھی اور اس کے چاروں طرف سونے کے کھجور کے درخت بنے ہوئے تھے جن کے خوشے بھی موتیوں کے تھے ان میں سے جو دائیں جانب تھے ان کے سرے پر سونے کے مور تھے اور بائیں طرف والوں پر سونے کے گدھ تھے۔ اس کرسی کے پہلے درجے پر دائیں جانب سونے کے دو درخت صنوبر کے تھے اور بائیں جانب سونے کے دو شیر بن ہوئے تھے۔ ان کے سروں پر زبر جد کے دوستون تھے اور کرسی کے دونوں جانب انگور کی سنہری بیلیں تھیں جو کرسی کو ڈھانپے ہوئے تھیں اس کے خوشے بھی سرخ موتی کے تھے پھر کرسی کے اعلیٰ درجے پر دو شیر بہت بڑے سونے کے بنے ہوئے تھے جن کے اندر خول تھا ان میں مشک و عنبر بھرا رہتا تھا۔ جب حضرت سلیمان کرسی پر آتے تو یہ شیر حرکت کرتے اور ان کے گھومنے سے ان کے اندر سے مشک و عنبر چاروں طرف چھڑک دیا جاتا پھر دو منبر سونے کے بچھا دئے جاتے۔ ایک آپ کے وزیر کا اور ایک اس وقت کے سب سے بڑے عالم کا۔ پھر کرسی کے سامنے ستر منبر سونے کے اور بچھائے جاتے جن پر بنو اسرائیل کے قاضی ان کے علماء اور ان کے سردار بیٹھتے۔ ان کے پیچھے پینتیس منبر سونے کے اور ہوتے تھے جو خالی رہا کرتے تھے۔ حضرت سلیمان جب تشریف لاتے پہلے زینے پر قدم رکھتے ہی کرسی ان تمام چیزوں سمیت گھوم جاتی شیر اپن داہنا قدم آگے بڑھا دیتا اور گدھ اپنا بایاں پر پھیلا دیتا۔ جب دوسرے درجے پر قدم رکھتے تو شیر اپنا بایاں پاؤں پھیلا دیتا اور گدھ اپنا دایاں پر جب آپ تیسرے درجے پر چڑھ جاتے اور کرسی پر بیٹھ جاتے تو ایک بڑا گدھ آپ کا تاج لے کر آپ کے سر پر رکھتا پھر کرسی زور زور سے گھومتی۔ حضرت معاوضہ نے پوچھا آخر اس کی کیا وجہ ؟ فرمایا وہ ایک سونے کی لاٹ پر تھی جسے صخر جن نے بنایا تھا۔ اس کے گھومتے ہی نیچے والے مور گدھ وغیرہ سب اوپر آجاتے اور سر جھکاتے پر پھڑ پھڑاتے جس سے آپ کے جسم پر مشک و عنبر کا چھڑکاؤ ہوجاتا پھر ایک سونے کا کبوتر تورات اٹھا کر آپ کے ہاتھ میں دیتا جسے آپ تلاوت فرماتے۔ لیکن یہ روایت بالکل غریب ہے۔ حضرت سلیمان ؑ کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایسا ملک دے کہ مجھ سے کوئی اور چھین نہ سکے جیسے کہ اس جسم کا واقعہ ہوا جو آپ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ دوسروں کے لئے ایسے ملک کے نہ ملنے کی دعا کرتے ہوں۔ لیکن جن بعض لوگوں نے یہ معنی لئے ہیں وہ کچھ ٹھیک نظر نہیں آتے، بلکہ صحیح مطلب یہی ہے کہ آپ کی دعا کا یہی مطلب تھا کہ مجھے ایسا ملک اور سلطنت دی جائے کہ میرے بعد پھر کسی اور شخص کو ایسی سلطنت نہ ملے۔ یہی آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے اور یہی احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا ایک سرکش جن نے گزشتہ شب مجھ پر زیادتی کی اور میری نماز بگاڑ دینا چاہی لیکن اللہ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے اس ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھو لیکن اسی وقت مجھے میرے بھائی حضرت سلیمان (علیہ الصلوۃ والسلام) کی دعا یاد آگئی۔ راوی حدیث حضرت روح فرماتے ہیں پھر حضور ﷺ نے اسے ذلیل و خوار کر کے چھوڑ دیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نماز میں کھڑے ہوئے تو ہم نے سنا کہ آپ نے فرمایا اعوذ باللہ منک پھر آپ نے تین بار فرمایا العنک بلعنتہ اللہ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا کہ گویا آپ کسی چیز کو لینا چاہتے ہیں۔ جب فارغ ہوئے تو ہم نے آپ سے ان دونوں باتوں کی وجہ پوچھی آپ نے فرمایا اللہ کا دشمن ابلیس آگ لے کر میرے منہ میں ڈالنے کے لئے آیا تو میں نے تین مرتبہ اعوذ پڑھی پھر تین مرتبہ اس پر لعنت بھیجی لیکن وہ پھر بھی نہ ہٹا پھر میں نے چاہا کہ اسے پکڑ کر باندھ دوں تاکہ مدینے کے لڑکے اس سے کھیلیں اگر ہمارے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو میں یہی کرتا۔ حضرت عطا بن یزید لیثی نماز پڑھ رہے تھے جو ابو عبید نے ان کے سامنے سے گذرنا چاہا انہوں نے انہیں اپنے ہاتھ سے روک دیا پھر فرمایا مجھ سے حضرت ابو سعید خدری نے حدیث بیان کی کہ حضور ﷺ صبح کی نماز پڑھا رہے تھے یہ بھی آپ کے پیچھے تھے قرأت آپ پر خلط ملط ہوگئی فارغ ہو کر فرمایا کاش تم دیکھتے کہ میں نے ابلیس کو پکڑ لیا تھا اور اس قدر اس کا گلا گھونٹا کہ اس کے منہ کی جھاگ میری شہادت کی اور بیج کی انگلی پر پڑی اگر میرے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح ہوتے اس مسجد کے ستون سے بندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اسے ستاتے تم سے جہاں تک ہو سکے اس بات کا خیال رکھو کہ نماز کی حالت میں تمہارے سامنے سے کوئی گذرنے نہ پائے (مسند احمد) مسند کی اور حدیث میں ہے ربعیہ بن یزید عبداللہ ویلمی کہتے ہیں میں حضرت عمرو بن عاص ؓ کے پاس طائف کے ایک باغ میں گیا جس کا ام ربط تھا آپ اس وقت ایک قریشی کا محاصرہ کئے ہوئے تھے جو زانی اور شرابی تھا۔ میں نے ان سے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ یہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ جو ایک گھونٹ شراب پئے گا اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہ فرمائے گا اور برا آدمی وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی برا ہوگیا ہے جو شخص صرف نماز ہی کی نیت سے بیت المقدس کی مسجد میں جائے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا۔ وہ شرابی جسے حضرت عبداللہ پکڑے ہوئے تھے وہ شراب کا ذکر سنتے ہی جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا۔ اب حضرت عبداللہ نے فرمایا کسی کو حلال نہیں کہ میرے ذمے وہ بات کرے جو میں نے نہ کی۔ میں نے حضور ﷺ سے یوں سنا ہے جو شخص شراب کا ایک گھونٹ بھی پی لے اس کی چالیس دن کی نماز نامقبول ہے۔ اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ پھر اگر دوبارہ لوٹے تو پھر چالیس دن تک کی نمازیں نامقبول ہیں پھر اگر توبہ کرلے تو توبہ مقبول ہے مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ میں فرمایا کہ پھر اگر لوٹے گا تو یقینا اللہ تعالیٰ اسے جہنمیوں کے بدن کا خون، پیپ، پیشاب وغیرہ قیامت کے دن پلائے گا اور حضور ﷺ سے میں نے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا جس پر وہ نور اس دن پڑگیا وہ تو ہدایت والا ہوگیا اور جس تک وہ نور نہ پہنچا وہ بھٹک گیا۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل چکا اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کی جن میں سے دو تو انہیں مل گئیں اور ہمیں امید ہے کہ تیسری ہمارے لئے ہو (1) مجھے ایسا حکم دے جو تیرے حکم کے موافق ہو (2) مجھے ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لئے لائق نہ ہو۔ تیسری دعا یہ تھی کہ جو شخص اپنے گھر سے اس مسجد کی نماز کے ارادے ہی سے نکلے تو جب وہ لوٹے تو ایسا ہوجائے گویا آج پیدا ہوا پس ہمیں اللہ سے امید ہے کہ یہ ہمارے لئے اللہ نے دی ہو۔ طبرانی میں ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ عزوجل نے حضرت داؤد ؑ کو اپنے لئے ایک گھر بنانے کا حکم دیا حضرت داؤد نے پہلے اپنا گھر بنا لیا اس پر وحی آئی کہ تم نے اپنا گھر میرے گھر سے پہلے بنایا آپ نے عرض کیا پروردگار یہی فیصلہ کیا گیا تھا پھر مسجد بنانی شروع کی دیواریں پوری ہوگئیں تو اتفاقاً تہائی حصہ گرگیا آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جواب ملا کہ تو میرا گھر نہیں بنا سکتا۔ پوچھا کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ تیرے ہاتھوں سے خون بہا ہے۔ عرض کیا اللہ تعالیٰ وہ بھی تیری ہی محبت میں فرمایا ہاں لیکن وہ میرے بندے تھے میں ان پر رحم کرتا ہوں۔ آپ کو یہ کلام سن کر سخت پریشانی ہوئی۔ پھر وحی آئی کہ غمگین نہ ہو میں اسے تیرے لڑکے سلیمان کے ہاتھوں پورا کراؤں گا۔ چناچہ آپ کے انتقال کے بعد حضرت سلیمان نے اسے بنانا شروع کیا جب پورا کرچکے تو بڑی بڑی قربانیاں کیں اور ذبیحہ ذبح کئے اور بنو اسرائیل کو جمع کر کے خوب کھلایا پلایا اللہ کی وحی آئی کہ تو نے یہ سب کچھ میرے حکم کی تعمیل کی خوشی میں کیا ہے تو مجھ سے مانگ جو مانگے گا پائے گا۔ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ میرے تین سوال ہیں مجھے ایسا فیصلہ سمجھا جو تیرے فیصلے کے مطابق ہو اور ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو اور جو اس گھر میں آئے صرف نماز کے ارادے سے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا آزاد ہوجائے جیسے آج پیدا ہوا۔ ان میں سے دو چیزیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرما دیں اور مھے امید ہے کہ تیسری بھی دے دی گئی ہو۔ رسول اللہ ﷺ اپنی ہر دعا کو ان لفظوں سے شروع فرماتے (سبحان اللہ ربی الاعلی العلی الوہاب) (مستند احمد) اور روایت میں ہے کہ حضرت داؤد کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان سے فرمایا مجھ سے اپنی حاجت طلب کرو آپ نے عرض کیا اللہ تعالیٰ مجھے ایسا دل دے جو تجھ سے ڈرتا رہے جیسا کہ میرے والد کا دل تجھ سے خوف کیا کرتا تھا اور میرے دل میں اپنی محبت ڈال دے جیسے کہ میرے والد کے دل میں تیری محبت تھی اس پر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا کہ میرا بندہ میری عین عطا کے وقت بھی مجھ سے ڈرا اور میری محبت طلب کرتا ہے مجھے اپنی قسم میں اسے اتنی بڑی سلطنت دوں گا جو اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی ماتحتی میں ہوائیں کردیں اور جنات کو بھی ان کا ماتحت بنادیا اور اسی قدر ملک و مال پر بھی، انہیں حساب قیامت سے آزاد کردیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے دعا کی کہ باری تعالیٰ سلیمان کے ساتھ بھی اسی لطف و کرم سے پیش آنا جیسا آج لطف و کرم تیرا مجھ پر رہا تو وحی آئی کہ سلیمان سے کہہ دو وہ بھی اسی طرح میرا رہے جس طرح تو میرا تھا، تو میں بھی اس کے ساتھ ہو خوبصورت پیارے وفادار تیز رو گھوڑوں کو کاٹ ڈالا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ان کے عوض ان سے بہتر عطا فرمائے۔ یعنی ہوا کو ان کے تابع فرمان کردیا جو مہینے بھر کی راہ کو صبح کی ایک گھڑی میں طے کردیتی تھی اور اسی طرح شام کو جہاں کا ارادہ کرتے ذرا سی دیر میں پہنچا دیتی۔ جنات کو بھی حضرت سلیمان ؑ کے تابع کردیا ان میں سے بعض بڑی اونچی لمبی سنگین پختہ عمارت کے بنانے کے کام سر انجام دیتے جو انسانی طاقت سے باہر تھا اور بعض غوطہ خور تھے جو سمندر کی تہ میں سے لولو جواہر اور دیگر قسم قسم کی نفیس و نادر چیزیں لا دیتے تھے۔ پھر اور کچھ تھے جو بھاری بھاری بیڑیوں میں جکڑے رہتے تھے۔ یہ یا تو وہ تھے جو حکومت سے سرتابی کرتے تھے یا کام کاج میں شرارت اور کمی کرتے تھے یا لوگوں کو ستاتے اور ایذاء دیتے تھے۔ یہ ہے ہماری مہربانی اور ہماری بخشش اور ہمارا انعام اور ہمارا عطیہ اب تجھے اختیار ہے جس سے جو چاہے سلوک کر سب بےحساب ہے کسی پر پکڑ نہیں۔ جو تیری زبان سے نکلے گا وہ حق ہوگا۔ صحیح حدیث میں ہے جب رسول اللہ ﷺ کو اختیار دیا گیا کہ اگر چاہیں عبد و رسول رہیں یعنی جو حکم کیا جائے بجا لاتے رہیں اللہ کے فرمان کے مطابق تقسیم کرتے رہیں اور اگر چاہیں نبی اور بادشاہ بنا دیئے جائیں جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں اور اس کا کوئی حساب اللہ کے ہاں نہ لیا جائے تو آپ نے حضرت جبرائیل ؑ سے مشورہ لیا اور آپ کے مشورے سے پہلی بات قبول فرمائی کیونکہ فضیلت کے لحاظ سے اولیٰ اور اعلیٰ وہی ہے۔ گو نبوت و سلطنت بھی بڑی چیز ہے۔ اسی لئے حضرت سلیمان کا دنیوی عزو جاہ بیان کرتے ہی فرمایا کہ وہ دار آخرت میں بھی ہمارے پاس بڑے مرتبے اور بہترین بزرگی اور اعلیٰ تر قریب والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ﴾ أَيِ: اخْتَبَرْنَاهُ بِأَنْ سَلَبْنَاهُ الْمُلْكَ مَرَّةً، ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَالْحَسَنُ وَقَتَادَةُ وَغَيْرُهُمْ: يَعْنِي شَيْطَانًا. ﴿ثُمَّ أَنَابَ﴾ أَيْ: [[في ت، س: "ثم".]] رَجَعَ إِلَى مُلْكِهِ وَسُلْطَانِهِ وَأُبَّهَتِهِ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَكَانَ اسْمُ ذَلِكَ الشَّيْطَانِ صَخْرًا. قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَقَتَادَةُ. وَقِيلَ: آصِفُ. قَالَهُ مُجَاهِدٌ وَقِيلَ: آصِرُوا. قَالَهُ مُجَاهِدٌ أَيْضًا. وَقِيلَ: حبقيقُ. قَالَهُ السُّدِّيُّ. وَقَدْ ذَكَرُوا هَذِهِ الْقِصَّةَ مَبْسُوطَةً وَمُخْتَصَرَةً.
وَقَدْ قَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبة عَنْ قَتَادَةَ: قَالَ أَمَرَ سُلَيْمَانُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ بِبِنَاءِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقِيلَ لَهُ: ابْنِهِ وَلَا يُسمَعُ فِيهِ صَوْتُ حَدِيدٍ. فَقَالَ: فَطَلَبَ ذَلِكَ فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهِ. فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ شَيْطَانًا فِي الْبَحْرِ يُقَالُ لَهُ: "صَخْرٌ" شِبْهُ الْمَارِدِ. قَالَ: فَطَلَبَهُ وَكَانَتْ عَيْنٌ فِي الْبَحْرِ يَردهُا فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ مَرَّةً فَنُزِحَ مَاؤُهَا وَجُعِلَ فِيهَا خَمْرٌ، فَجَاءَ يَوْمَ ورْده فَإِذَا هُوَ بِالْخَمْرِ فَقَالَ: إِنَّكِ لَشَرَابٌ طَيِّبٌ إِلَّا أَنَّكِ تُصْبِينَ الْحَلِيمَ، وَتَزِيدِينَ الْجَاهِلَ جَهْلًا. ثُمَّ رَجَعَ حَتَّى عَطِشَ عَطَشًا شَدِيدًا ثُمَّ أَتَاهَا [[في أ: "أتاه".]] فَقَالَ: إِنَّكِ لَشَرَابٌ طَيِّبٌ إِلَّا أَنَّكِ تُصْبِينَ الْحَلِيمَ، وَتَزِيدِينَ الْجَاهِلَ جَهْلًا. ثُمَّ شَرِبَهَا حَتَّى غَلَبَتْ عَلَى عَقْلِهِ، قَالَ: فَأُرِيَ الْخَاتَمَ أَوْ خُتِمَ بِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَذَلَّ. قَالَ: وَكَانَ مُلْكُهُ فِي خَاتَمِهِ فأتي به سليمان فقال: إنه قَدْ أُمِرْنَا بِبِنَاءِ هَذَا الْبَيْتِ وَقِيلَ لَنَا: لَا يُسْمَعَنَّ فِيهِ صَوْتُ حَدِيدٍ. قَالَ: فَأَتَى بِبَيْضِ الْهُدْهُدِ فَجَعَلَ عَلَيْهِ زُجَاجَةً فَجَاءَ الْهُدْهُدُ فَدَارَ حَوْلَهَا، فَجَعَلَ يَرَى بَيْضَهُ وَلَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ فَذَهَبَ فَجَاءَ بِالْمَاسِ فَوَضَعَهُ عَلَيْهِ فَقَطَعَهَا بِهِ حَتَّى أَفْضَى إِلَى بَيْضِهِ. فَأَخَذَ الْمَاسَ فَجَعَلُوا يَقْطَعُونَ بِهِ الْحِجَارَةَ. وَكَانَ سُلَيْمَانُ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ الْخَلَاءَ -أَوِ: الْحَمَّامَ-لَمْ يَدْخُلْ بِخَاتَمِهِ فَانْطَلَقَ يَوْمًا إِلَى الْحَمَّامِ وَذَلِكَ الشَّيْطَانُ صَخْرٌ مَعَهُ، وَذَلِكَ عِنْدَ مُقَارَفَةٍ قَارَفَ فِيهِ [[في ت: "فيها".]] بَعْضَ نِسَائِهِ. قَالَ: فَدَخَلَ الْحَمَّامَ وَأَعْطَى الشَّيْطَانَ خَاتَمَهُ فَأَلْقَاهُ فِي الْبَحْرِ فَالْتَقَمَتْهُ سَمَكَةٌ، وَنُزِعَ مُلك سُلَيْمَانَ مِنْهُ وَأُلْقِيَ عَلَى الشَّيْطَانِ شَبَه سُلَيْمَانَ. قَالَ: فَجَاءَ فَقَعَدَ عَلَى كُرْسِيِّهِ وَسَرِيرِهِ وسُلِّط عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ كُلِّهِ غَيْرَ نِسَائِهِ. قَالَ: فَجَعَلَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ، وَجَعَلُوا يُنْكِرُونَ مِنْهُ أَشْيَاءَ حَتَّى قَالُوا: لَقَدْ فُتِنَ نَبِيُّ اللَّهِ. وَكَانَ فِيهِمْ رَجُلٌ يُشَبِّهُونَهُ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي الْقُوَّةِ فَقَالَ: وَاللَّهُ لَأُجَرِّبَنَّهُ. قَالَ: فَقَالَ: يَا نَبِيَّ [[في أ: "أنبي".]] اللَّهِ -وَهُوَ لَا يَرَى إِلَّا أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ-أَحَدُنَا تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ فِي اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ فَيَدَعُ الْغُسْلَ عَمْدًا حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَتُرَى [[في ت: "ترى".]] عَلَيْهِ بَأْسًا؟ فَقَالَ: [[في ت، س: "قال".]] لَا. قَالَ: فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً حَتَّى وَجَدَ نَبِيُّ اللَّهِ خَاتَمَهُ فِي بَطْنِ سَمَكَةٍ فَأَقْبَلَ فَجَعَلَ لَا يَسْتَقْبِلُهُ جِنِّيٌّ وَلَا طَيْرٌ إِلَّا سَجَدَ لَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ، ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ: هُوَ الشَّيْطَانُ صَخْرٌ [[تفسير الطبري (٢٣/١٠١) .]]
وَقَالَ السُّدِّيُّ: ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ﴾ أَيِ: ابْتَلَيْنَا سُلَيْمَانَ، ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ: جَلَسَ الشَّيْطَانُ عَلَى كُرْسِيِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا. قَالَ: وَكَانَ لِسُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِائَةُ امْرَأَةٍ وَكَانَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ يُقَالُ لَهَا: "جَرَادَةُ"، وَهِيَ آثَرُ نِسَائِهِ وَآمَنُهُنَّ عِنْدَهُ وَكَانَ إِذَا أَجْنَبَ أَوْ أَتَى حَاجَةً [[في أ: "حاجته".]] نَزَعَ خَاتَمَهُ وَلَمْ يَأْتَمِنْ [[في ت: "يأمن".]] عَلَيْهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ غَيْرَهَا فَأَعْطَاهَا يَوْمًا خَاتَمَهُ وَدَخَلَ الْخَلَاءَ فَخَرَجَ الشَّيْطَانُ فِي صُورَتِهِ فَقَالَ: هَاتِي الْخَاتَمَ. فَأَعْطَتْهُ فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى مَجْلِسِ سُلَيْمَانَ وَخَرَجَ سُلَيْمَانُ بَعْدَ ذَلِكَ فَسَأَلَهَا أَنْ تُعْطِيَهِ خَاتَمَهُ، فَقَالَتْ: أَلَمْ تَأْخُذْهُ قَبْلُ؟ قَالَ: لَا. وَخَرَجَ مَكَانَهُ تَائِهًا. قَالَ: وَمَكَثَ الشَّيْطَانُ يُحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، قَالَ: فَأَنْكَرَ النَّاسُ أَحْكَامَهُ فَاجْتَمَعَ قُرَّاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَعُلَمَاؤُهُمْ فَجَاءُوا حَتَّى دَخَلُوا عَلَى نِسَائِهِ فَقَالُوا: إِنَّا قَدْ أَنْكَرْنَا هَذَا فَإِنْ كَانَ سُلَيْمَانَ فَقَدْ ذَهَبَ عَقْلُهُ وَأَنْكَرْنَا أَحْكَامَهُ. قَالَ: فَبَكَى النِّسَاءُ عِنْدَ ذَلِكَ قَالَ: فَأَقْبَلُوا يَمْشُونَ حَتَّى أَتَوْا [[في أ: "أتوه".]] فَأَحْدَقُوا بِهِ ثُمَّ نَشَرُوا التَّوْرَاةَ فَقَرَءُوا. قَالَ: فَطَارَ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ حَتَّى وَقَعَ عَلَى شُرْفَةٍ وَالْخَاتَمُ مَعَهُ. ثُمَّ طَارَ حَتَّى ذَهَبَ إِلَى الْبَحْرِ فَوَقَعَ الْخَاتَمُ مِنْهُ فِي الْبَحْرِ فَابْتَلَعَهُ حُوتٌ مِنْ حِيتَانِ الْبَحْرِ. قَالَ: وَأَقْبَلَ سُلَيْمَانُ فِي حَالِهِ الَّتِي كَانَ فِيهَا حَتَّى انْتَهَى إِلَى صَيَّادٍ مِنْ صَيَّادِي [[في ت، س، أ: "صيادين".]] الْبَحْرِ وَهُوَ جَائِعٌ وَقَدِ اشْتَدَّ جُوعُهُ. فَاسْتَطْعَمَهُمْ مِنْ صَيْدِهِمْ وَقَالَ: إِنِّي أَنَا سُلَيْمَانُ. فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُهُمْ فَضَرَبَهُ بِعَصًا فَشَجَّهُ فَجَعَلَ يَغْسِلُ دَمَهُ وَهُوَ عَلَى شَاطِئِ الْبَحْرِ فَلَامَ الصَّيَّادُونَ صَاحِبَهُمُ الَّذِي ضَرَبَهُ فَقَالُوا بِئْسَ مَا صَنَعْتَ حيث ضربته. قال: إنه زَعَمَ أَنَّهُ سُلَيْمَانُ. قَالَ: فَأَعْطَوْهُ سَمَكَتَيْنِ مِمَّا قَدْ مَذِرَ عِنْدَهُمْ فَلَمْ يَشْغَلْهُ مَا كَانَ بِهِ مِنَ الضَّرْبِ حَتَّى قَامَ إِلَى شَطِّ الْبَحْرِ فَشَقَّ بُطُونَهُمَا فَجَعَلَ يَغْسِلُ [دَمَهُ] [[زيادة من أ.]] فَوَجَدَ خَاتَمَهُ فِي بَطْنِ إِحْدَاهُمَا فَأَخَذَهُ فَلَبِسَهُ فَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ بَهَاءَهُ وَمُلْكَهُ، وَجَاءَتِ الطَّيْرُ حَتَّى حَامَتْ عَلَيْهِ فَعَرَفَ الْقَوْمُ أَنَّهُ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَامَ الْقَوْمُ يَعْتَذِرُونَ مِمَّا صَنَعُوا [بِهِ] [[زيادة من أ.]] فَقَالَ: مَا أَحْمَدُكُمْ عَلَى عُذْرِكُمْ وَلَا أَلُومُكُمْ عَلَى مَا كَانَ مِنْكُمْ، كَانَ هَذَا الْأَمْرُ لَا بُدَّ مِنْهُ. قَالَ: فَجَاءَ حَتَّى أَتَى مُلْكَهُ وَأَرْسَلَ إِلَى الشَّيْطَانِ فَجِيءَ بِهِ فَأَمَرَ بِهِ فَجُعِلَ فِي صُنْدُوقٍ مِنْ حَدِيدٍ، ثُمَّ أَطْبَقَ عَلَيْهِ وَقَفَلَ عَلَيْهِ بِقُفْلٍ وَخَتَمَ عَلَيْهِ بِخَاتَمِهِ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَأُلْقِي فِي الْبَحْرِ فَهُوَ فِيهِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ. وَكَانَ اسْمُهُ حبقيقُ قَالَ: وَسَخَّرَ [[في ت، أ: "وسخرت".]] لَهُ الرِّيحَ وَلَمْ تَكُنْ سُخِّرَتْ لَهُ قَبْلَ ذَلِكَ وَهُوَ قَوْلُهُ: ﴿وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لأحَدٍ مِنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ [[تفسير الطبري (٢٣/١٠١) .]]
وَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَوْلُهُ: ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ: شَيْطَانًا يُقَالُ لَهُ: آصِفُ. فَقَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ: كَيْفَ تَفْتِنُونَ النَّاسَ؟ قَالَ: أَرِنِي خَاتَمَكَ أُخْبِرْكَ. فَلَمَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ نَبَذَهُ آصِفُ فِي الْبَحْرِ فَسَاحَ سُلَيْمَانُ وَذَهَبَ مُلْكُهُ، وَقَعَدَ آصِفُ عَلَى كُرْسِيِّهِ وَمَنَعَهُ اللَّهُ نِسَاءَ سُلَيْمَانَ فَلَمْ يَقْرَبْهُنَّ -وَلَمْ يَقْرَبْنَهُ وَأَنْكَرْنَهُ. قَالَ: فَكَانَ سُلَيْمَانُ يَسْتَطْعِمُ فَيَقُولُ: أَتَعْرِفُونِي؟ أَطْعِمُونِي أَنَا سُلَيْمَانُ فَيُكَذِّبُونَهُ، حَتَّى أَعْطَتْهُ امْرَأَةٌ يَوْمًا حُوتًا فَجَعَلَ يُطَيِّبُ بَطْنَهُ، فَوَجَدَ خَاتَمَهُ فِي بَطْنِهِ فَرَجَعَ إِلَيْهِ مُلْكُهُ وَفَرَّ آصِفُ فَدَخَلَ الْبَحْرَ فَارًّا.
وَهَذِهِ كُلُّهَا مِنَ الْإِسْرَائِيلِيَّاتِ وَمِنْ أَنْكَرِهَا مَا قَالَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ:
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشِ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ﴾ قَالَ: أَرَادَ سُلَيْمَانُ أَنْ يَدْخُلَ الْخَلَاءَ فَأَعْطَى الْجَرَادَةَ خَاتَمَهُ -وَكَانَتِ الْجَرَادَةُ [[في ت: "جرادة".]] امْرَأَتَهُ وَكَانَتْ أَحَبَّ نِسَائِهِ إِلَيْهِ-فَجَاءَ الشَّيْطَانُ فِي صُورَةِ سُلَيْمَانَ فَقَالَ لَهَا: هَاتِي خَاتَمِي. فَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ. فَلَمَّا لَبِسَهُ دَانَتْ لَهُ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ [[في أ: "والجن والطير".]] وَالشَّيَاطِينُ فَلَمَّا خَرَجَ سُلَيْمَانُ مِنَ الْخَلَاءِ قَالَ لَهَا: هَاتِي خَاتَمِي. قَالَتْ: قَدْ أَعْطَيْتُهُ سُلَيْمَانَ. قَالَ: أَنَا سُلَيْمَانُ. قَالَتْ: كَذَبْتَ لَسْتَ سُلَيْمَانَ [[في ت: "بسليمان".]] فَجَعَلَ لَا يَأْتِي أَحَدًا يَقُولُ لَهُ: "أَنَا سُلَيْمَانُ"، إِلَّا كَذَّبَهُ حَتَّى جَعَلَ [[في أ: "جاء".]] الصِّبْيَانُ يَرْمُونَهُ بِالْحِجَارَةِ. فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَرَف أَنَّهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ: وَقَامَ الشَّيْطَانُ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ فَلَمَّا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَى سُلَيْمَانَ سُلْطَانَهُ أَلْقَى فِي قُلُوبِ النَّاسِ إِنْكَارَ ذَلِكَ الشَّيْطَانِ. قَالَ: فَأَرْسَلُوا إِلَى نِسَاءِ سُلَيْمَانَ فَقَالُوا لَهُنَّ: أَتُنْكِرْنَ مِنْ سُلَيْمَانَ شَيْئًا؟ قُلْنَ: نَعَمْ إِنَّهُ يَأْتِينَا وَنَحْنُ حُيَّضٌ وَمَا كَانَ يَأْتِينَا قَبْلَ ذَلِكَ. فَلَمَّا رَأَى الشَّيْطَانُ أَنَّهُ قَدْ فَطِنَ لَهُ [[في ت: "أنه فطن له".]] ظَنَّ أَنَّ أَمْرَهُ قَدِ انْقَطَعَ فَكَتَبُوا كُتُبًا فِيهَا سِحْرٌ وَكُفْرٌ، فَدَفَنُوهَا تَحْتَ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ ثُمَّ أَثَارُوهَا وقرءوها على الناس. وقالوا: بِهَذَا كَانَ يَظْهَرُ سُلَيْمَانُ عَلَى النَّاسِ [وَيَغْلِبُهُمْ] [[زيادة من أ.]] فَأَكْفَرَ النَّاسُ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَلَمْ يَزَالُوا يُكَفِّرُونَهُ وَبَعَثَ ذَلِكَ الشيطانُ بِالْخَاتَمِ فَطَرَحَهُ فِي الْبَحْرِ فَتَلَقَّتْهُ سَمَكَةٌ فَأَخَذَتْهُ. وَكَانَ سُلَيْمَانُ يَحْمِلُ عَلَى شَطِّ الْبَحْرِ بِالْأَجْرِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَاشْتَرَى سَمَكًا فِيهِ تِلْكَ السَّمَكَةُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا الْخَاتَمُ فَدَعَا سُلَيْمَانُ فَقَالَ: تَحْمِلُ لِي هَذَا السَّمَكَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ. قَالَ: بِكَمْ؟ قَالَ بِسَمَكَةٍ مِنْ هَذَا السَّمَكِ. قَالَ: فَحَمَلَ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلَامُ السَّمَكَ ثُمَّ انْطَلَقَ بِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ فَلَمَّا انْتَهَى الرَّجُلُ إِلَى بَابِهِ أَعْطَاهُ تِلْكَ السَّمَكَةَ الَّتِي فِي بَطْنِهَا الْخَاتَمُ فَأَخَذَهَا سُلَيْمَانُ فَشَقَّ بَطْنَهَا، فَإِذَا الْخَاتَمُ فِي جَوْفِهَا فَأَخَذَهُ فَلَبِسَهُ. قَالَ: فَلَمَّا لَبِسَهُ دَانَتْ لَهُ الْجِنُّ وَالْإِنْسُ وَالشَّيَاطِينُ وَعَادَ إِلَى حَالِهِ وَهَرب الشَّيْطَانُ حَتَّى دَخَلَ جَزِيرَةً [[في ت: "لحق بجزيرة".]] مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ فَأَرْسَلَ سُلَيْمَانُ فِي طَلَبِهِ وَكَانَ شَيْطَانًا مَرِيدًا فَجَعَلُوا يَطْلُبُونَهُ وَلَا يَقْدِرُونَ عَلَيْهِ حَتَّى وَجَدُوهُ يَوْمًا نَائِمًا فَجَاءُوا فَبَنَوْا عَلَيْهِ بُنْيَانًا مِنْ رَصَاصٍ فَاسْتَيْقَظَ فَوَثَبَ فَجَعَلَ لَا يَثِبُ فِي مَكَانٍ من البيت إلا أنماط معه من الرَّصَاصُ قَالَ: فَأَخَذُوهُ فَأَوْثَقُوهُ وَجَاءُوا بِهِ إِلَى سُلَيْمَانَ، فَأَمَرَ بِهِ فَنُقِرَ [[في ت: "فثقب".]] لَهُ تَخْتٌ مِنْ رُخَامٍ ثُمَّ أُدْخِلَ فِي جَوْفِهِ ثُمَّ سُدَّ بِالنُّحَاسِ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَطُرِحَ فِي الْبَحْرِ فَذَلِكَ قَوْلُهُ: ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ﴾ قَالَ: يَعْنِي الشَّيْطَانَ الَّذِي كَانَ سُلِّطَ عَلَيْهِ.
إِسْنَادُهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَوِيٌّ وَلَكِنَّ الظَّاهِرَ أَنَّهُ إِنَّمَا تَلَقَّاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ -إِنْ صَحَّ عَنْهُ-مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَفِيهِمْ طَائِفَةٌ لَا يَعْتَقِدُونَ نُبُوَّةَ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَالظَّاهِرُ أَنَّهُمْ يَكْذِبُونَ عَلَيْهِ وَلِهَذَا كَانَ فِي السِّيَاقِ مُنْكَرَاتٌ مِنْ أَشَدِّهَا ذِكْرُ النِّسَاءِ فَإِنَّ الْمَشْهُورَ أَنَّ [[في أ: "فإن المشهور عن مجاهد وغير واحد من السلف أن".]] ذَلِكَ الْجِنِّيَّ لَمْ يُسَلَّطْ عَلَى نِسَاءِ سُلَيْمَانَ بَلْ عَصَمَهُنَّ اللَّهُ مِنْهُ تَشْرِيفًا وَتَكْرِيمًا لِنَبِيِّهِ ﷺ، وَقَدْ رُوِيَتْ هَذِهِ الْقِصَّةُ مُطَوَّلَةً عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ السَّلَفِ، كَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَجَمَاعَةٍ آخَرِينَ وَكُلُّهَا متُلقًّاة مِنْ قَصَصِ أَهْلِ الْكِتَابِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ.
وَقَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ: وَجَدَ سُلَيْمَانُ خَاتَمَهُ فِي عَسْقَلَانَ، فَمَشَى فِي خِرْقَةٍ [[في أ: "بحرقة".]] إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ تَوَاضُعًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَقَدْ رَوَى ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ فِي صِفَةِ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ خَبَرًا عَجِيبًا فَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاقَ الْمِصْرِيُّ عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ؛ أَنَّهُ لَمَّا فَرَغَ مِنْ حَدِيثِ "إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ" قَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ أَخْبِرْنِي عَنْ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ وَمَا كَانَ عَلَيْهِ؛ وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ هُوَ؟ فَقَالَ: كَانَ كُرْسِيُّ سُلَيْمَانَ مِنْ أَنْيَابِ الْفِيَلَةِ مُفَصّصاً بِالدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ وَالزَّبَرْجَدِ وَاللُّؤْلُؤِ. وَقَدْ جُعل لَهُ دَرَجَةً مِنْهَا مُفَصّصة بِالدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ وَالزَّبَرْجَدِ ثُمَّ أَمَرَ بِالْكُرْسِيِّ فحُفّ مِنْ جَانِبَيْهِ بِالنَّخْلِ، نَخْلٌ مِنْ ذَهَبٍ شَمَارِيخُهَا مِنْ يَاقُوتٍ وَزَبَرْجَدٍ وَلُؤْلُؤٍ. وَجُعِلَ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ الَّتِي عَنْ يَمِينِ الْكُرْسِيِّ طَوَاوِيسُ مَنْ ذَهَبٍ، ثُمَّ جُعِلَ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ الَّتِي عَلَى يَسَارِ الْكُرْسِيِّ نُسُورٌ مَنْ ذَهَبٍ مُقَابَلَةَ الطَّوَاوِيسِ، وَجُعِلَ على يمين الدرجة الأولى شَجَرَتَا صَنَوْبَرٍ مَنْ ذَهَبٍ، وَعَنْ يَسَارِهَا أَسَدَانِ مَنْ ذَهَبٍ وَعَلَى رُءُوسِ الْأَسَدَيْنِ عَمُودَانِ مِنْ زَبَرْجَدٍ وَجُعِلَ مِنْ جَانِبَيِ الْكُرْسِيِّ شَجَرَتَا كَرْمٍ مَنْ ذَهَبٍ قَدْ أَظَلَّتَا الْكُرْسِيَّ وَجُعِلَ عَنَاقِيدُهُمَا دُرًّا وَيَاقُوتًا أَحْمَرَ. ثُمَّ جُعل فَوْقَ دَرَج الْكُرْسِيِّ أسَدَان عَظِيمَانِ مِنْ ذَهَبٍ مُجَوَّفَانِ مَحْشُوَّانِ مِسْكًا وَعَنْبَرًا. فَإِذَا أَرَادَ سُلَيْمَانُ أَنْ يَصْعَدَ عَلَى كُرْسِيِّهِ اسْتَدَارَ الْأَسَدَانِ سَاعَةً ثُمَّ يَقَعَانِ [[في ت: "يقفان".]] فَيَنْضَحَانِ مَا فِي أَجْوَافِهِمَا مِنَ الْمِسْكِ وَالْعَنْبَرِ حَوْلَ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، ثُمَّ يُوضَعُ مِنْبَرَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَاحِدٌ لِخَلِيفَتِهِ وَالْآخِرُ لِرَئِيسِ أَحْبَارِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ذَلِكَ الزَّمَانِ. ثُمَّ يُوضَعُ أَمَامَ كُرْسِيِّهِ سَبْعُونَ مِنْبَرًا مِنْ ذَهَبٍ يَقْعُدُ عَلَيْهَا سَبْعُونَ قَاضِيًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَعُلَمَائِهِمْ وَأَهْلِ الشَّرَفِ مِنْهُمْ وَالطَوْلِ وَمِنْ خَلْفِ تِلْكَ الْمَنَابِرِ كُلِّهَا خَمْسَةٌ وَثَلَاثُونَ مِنْبَرًا مِنْ ذَهَبٍ لَيْسَ عَلَيْهَا أَحَدٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَصْعَدَ عَلَى كُرْسِيِّهِ وَضَعَ قَدَمَيْهِ عَلَى الدَّرَجَةِ السُّفْلَى فَاسْتَدَارَ الْكُرْسِيُّ كُلُّهُ بِمَا فِيهِ وَمَا عَلَيْهِ، وَيَبْسُطُ الْأَسَدُ يَدَهُ الْيُمْنَى وَيَنْشُرُ النَّسْرُ جَنَاحَهُ الْأَيْسَرَ ثُمَّ يَصْعَدُ [سُلَيْمَانُ] [[زيادة من ت، أ.]] عَلَى الدَّرَجَةِ الثَّانِيَةِ فَيَبْسُطُ الْأَسَدُ يَدَهُ الْيُسْرَى وَيَنْشُرُ النَّسْرُ جَنَاحَهُ الْأَيْمَنَ فَإِذَا اسْتَوَى سُلَيْمَانُ عَلَى الدَّرَجَةِ الثَّالِثَةِ وَقَعَدَ عَلَى الْكُرْسِيِّ أَخَذَ نَسْرٌ مِنْ تِلْكَ النُّسُورِ عَظِيمٌ تَاجَ سُلَيْمَانَ فَوَضَعَهُ عَلَى رَأْسِهِ فَإِذَا وَضَعَهُ عَلَى رَأْسِهِ اسْتَدَارَ الْكُرْسِيُّ بِمَا فِيهِ كَمَا تَدُورُ الرَّحَى الْمُسْرِعَةُ. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَمَا الَّذِي يُدِيرُهُ يَا أَبَا إِسْحَاقَ؟ قَالَ: تِنِّينٌ مِنْ ذَهَبِ ذَلِكَ الْكُرْسِيِّ عَلَيْهِ وَهُوَ عَظِيمٌ مِمَّا عَمِلَهُ صَخْرٌ الْجِنِّيُّ فَإِذَا أَحَسَّتْ بِدَوَرَانِهِ تِلْكَ النُّسُورُ والأسْدُ وَالطَّوَاوِيسُ الَّتِي فِي أَسْفَلِ الْكُرْسِيِّ دُرْنَ إِلَى أَعْلَاهُ فَإِذَا وَقَفَ وَقَفْنَ كُلُّهُنَّ مُنَكِّسَاتٍ رُءُوسَهُنَّ عَلَى رَأْسِ سُلَيْمَانَ [ابْنِ دَاوُدَ] [[زيادة من أ.]] عَلَيْهِ [[في أ: "عليهما".]] السَّلَامُ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ يَنْضَحْنَ جَمِيعًا مَا فِي أَجْوَافِهِنَّ مِنَ الْمِسْكِ وَالْعَنْبَرِ عَلَى رَأْسِ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ. ثُمَّ تَتَنَاوَلُ حَمَامَةٌ مَنْ ذَهَبٍ وَاقِفَةٌ عَلَى عَمُودٍ مِنْ جَوْهَرٍ التوراةَ فَتَجْعَلُهَا فِي يَدِهِ فَيَقْرَؤُهَا سُلَيْمَانُ عَلَى النَّاسِ.
وَذَكَرَ تَمَامَ الْخَبَرِ [[في ت: "الحديث".]] وَهُوَ غَرِيبٌ جِدًّا.
﴿قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لأحَدٍ مِنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ قَالَ بَعْضُهُمْ: مَعْنَاهُ: لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي أَيْ: لَا يَصْلُحُ لِأَحَدٍ أَنْ يَسْلُبَنِيهِ كَمَا كَانَ مِنْ قَضِيَّةِ [[في ت: "في قصة"، وفي أ: "من قصة".]] الْجَسَدِ الَّذِي أُلْقِيَ عَلَى كُرْسِيِّهِ لَا أَنَّهُ يَحْجُرُ عَلَى مَنْ بَعْدَهُ مِنَ النَّاسِ. وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ سَأَلَ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى مُلْكًا لَا يَكُونُ لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ مِنَ الْبَشَرِ مِثْلُهُ، وَهَذَا هُوَ ظَاهِرُ السِّيَاقِ مِنَ الْآيَةِ وَبِهِ [[في ت، س، أ: "وبذلك".]] وَرَدَتِ الْأَحَادِيثُ الصَّحِيحَةُ مِنْ طُرُقٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ.
قَالَ [[في ت: "فروى".]] الْبُخَارِيُّ عِنْدَ تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا رَوْحٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّت عَلَيَّ الْبَارِحَةَ -أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا-لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصبحوا وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ: ﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لأحَدٍ مِنْ بَعْدِي﴾
قَالَ رَوْحٌ: فَرَدَّهُ خَاسِئًا [[صحيح البخاري برقم (٤٨٠٨) .]]
وَكَذَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ بِهِ [[صحيح مسلم برقم (٥٤١) والنسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٤٠) .]]
وَقَالَ مُسْلِمٌ فِي صَحِيحِهِ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ المُرَادي حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ حَدَّثَنِي رَبِيعَةَ بْنِ يَزيد عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي فَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ: "أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ". ثُمَّ قَالَ: "أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ" -ثَلَاثًا-وَبَسَطَ يَدَه كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُهُ قَبْلَ ذَلِكَ وَرَأَيْنَاكَ بَسَطَتْ يَدَكَ؟ قَالَ: "إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ -ثَلَاثَ مَرَّاتٍ-ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ التَّامَّةِ. فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أخْذَه وَاللَّهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا يَلْعَبُ بِهِ صِبْيَانُ [[في ت، س، أ: "ولدان".]] أَهْلِ الْمَدِينَةِ" [[صحيح مسلم برقم (٥٤٢) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ حَاجِبُ سُلَيْمَانَ قَالَ: رَأَيْتُ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ قَائِمًا يُصَلِّي، فَذَهَبْتُ أَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَرَدَّنِي ثُمَّ قَالَ [[في ت: "بإسناده".]] حَدَّثَنِي [[في ت: "عن".]] أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَامَ يُصَلِّي [[في ت: "فصلى".]] صَلَاةَ الصُّبْحِ وَهُوَ خَلْفُهُ فَقَرَأَ فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صِلَاتِهِ قَالَ: "لَوْ رَأَيْتُمُونِي وَإِبْلِيسَ فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي فَمَا زِلْتُ أَخْنُقُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ لُعَابِهِ بَيْنَ أُصْبُعَيَّ هَاتَيْنِ -الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا-وَلَوْلَا دَعْوَةُ أَخِي سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ [[في ت: "أصبح".]] مَرْبُوطًا بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، يَتَلَاعَبُ بِهِ صِبْيَانُ الْمَدِينَةِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَلَّا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ أَحَدٌ فَلْيَفْعَلْ".
وَقَدْ رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ: "مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَلَّا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ أَحَدٌ فَلْيَفْعَلْ" عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيج عَنْ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيِّ بِهِ [[المسند (٣/٨٣) وسنن أبي داود برقم (٦٩٩) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَهُوَ فِي حَائِطٍ لَهُ بِالطَّائِفِ يُقَالُ لَهُ: "الْوَهْطُ"، وَهُوَ مُخَاصر فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ يُزَنّ بشُرْب الْخَمْرِ، فَقُلْتُ: بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثٌ أَنَّهُ "مِنْ شَرِبِ شَرْبَةَ خَمْر لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ -عَزَّ وَجَلَّ-لَهُ تَوبَةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، وَإِنَّ الشَّقِيَّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَإِنَّهُ مَنْ أَتَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ لا يَنْهَزه إلا الصلاة فيه، خرج مِنْ خَطِيئَتِهِ مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، فَلَمَّا سَمِعَ الْفَتَى ذَكْرَ الْخَمْرِ اجْتَذَبَ يَدَهُ مِنْ يَدِهِ ثُمَّ انْطَلَقَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو [[في أ: "عمرو رضي الله عنهما".]] إِنِّي لَا أُحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ عَلَيّ مَا لَمْ أَقُلْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "مَنْ شَرِبَ مِنَ الْخَمْرِ شَرْبَةً لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ [[في أ: "وإن".]] عَادَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ. فَإِنْ عَادَ -قَالَ فَلَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ-فَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ رَدْغَة الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" قَالَ: وَسَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ ثُمَّ أَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ نُورِهِ يَوْمَئِذٍ اهْتَدَى وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ فَلِذَلِكَ [[في أ: "ولذلك".]] أَقُولُ جَفَّ الْقَلَمُ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" وَسَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "إِنَّ سُلَيْمَانَ سَأَلَ اللَّهَ تَعَالَى ثَلَاثًا فَأَعْطَاهُ اثْنَتَيْنِ وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ تَكُونَ لَنَا الثَّالِثَةُ: سَأَلَهُ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَسَأَلَهُ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَسَأَلَهُ أَيُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ مَنْ بَيْتِهِ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ [[في ت، س، أ: "مثل يوم".]] وَلَدَتْهُ أُمُّهُ فَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللَّهُ تَعَالَى [[في ت، س، أ: "عز وجل".]] قَدْ أَعْطَانَا إِيَّاهَا" [[المسند (٢/١٧٦) .]]
وَقَدْ رَوَى هَذَا الْفَصْلَ الْأَخِيرَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ مِنْ طُرُقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَيْرُوزَ الدَّيْلِمِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ سُلَيْمَانَ لَمَّا بَنَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ سَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خِلَالًا ثَلَاثًا ... " وَذَكَرَهُ [[سنن النسائي (٢/٤٣) وسنن ابن ماجة برقم (١٤٠٨) .]]
وَقَدْ رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ رَافِعِ بْنِ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، بِإِسْنَادٍ وَسِيَاقٍ غَرِيبَيْنِ فَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبة الْعَسْقَلَانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ سُوَيْد حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَة عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ [[في ت: "وروى الطبراني بإسناده".]] عَنْ رَافِعِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِدَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ابْنِ لِي بَيْتًا فِي الْأَرْضِ. فَبَنَى دَاوُدُ [[في ت: "داود عليه السلام".]] بَيْتًا لِنَفْسِهِ قَبْلَ الْبَيْتِ الَّذِي أُمِرَ بِهِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: يَا دَاوُدُ نَصَبْتَ بَيْتَكَ قَبْلَ بَيْتِي؟ قَالَ: يَا رَبِّ هَكَذَا قَضَيْتَ [[في ت، س، أ: "هكذا قلت فيما قضيت".]] مَنْ مَلَكَ اسْتَأْثَرَ ثُمَّ أَخَذَ فِي بِنَاءِ الْمَسْجِدِ فَلَمَّا تَمَّ السُّورَ سَقَطَ ثَلَاثًا فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ: يَا دَاوُدُ [[في ت، أ: "فأوحى الله إليه"]] إِنَّكَ لَا تَصْلُحُ أَنْ تَبْنِيَ لِي بَيْتًا قَالَ: وَلِمَ يَا رَبِّ؟ قَالَ: لِمَا جَرَى عَلَى يَدَيْكَ مِنَ الدِّمَاءِ. قَالَ: يَا رَبِّ أَوْ مَا كَانَ [[في ت، س، أ: "أو لم يكن".]] ذَلِكَ فِي هَوَاكَ وَمَحَبَّتِكَ؟ قَالَ: بَلَى وَلَكِنَّهُمْ عِبَادِي وَأَنَا أَرْحَمُهُمْ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: لَا تَحْزَنْ فَإِنِّي سَأَقْضِي بِنَاءَهُ عَلَى يَدَيِ ابْنِكَ سُلَيْمَانَ. فَلَمَّا مَاتَ دَاوُدُ أَخْذَ سُلَيْمَانُ فِي بِنَائِهِ فَلَمَّا تَمَّ قَرَّبَ الْقَرَابِينَ وَذَبَحَ الذَّبَائِحَ وَجَمَعَ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: قَدْ أَرَى سرورَك بِبُنْيَانِ بَيْتِي فَسَلْنِي أُعْطِكَ. قَالَ: أَسْأَلُكَ ثَلَاثَ خِصَالٍ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَكَ وَمُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي وَمَنْ أَتَى هَذَا الْبَيْتَ لَا يُرِيدُ إلا الصلاة فيه خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أما ثِنْتَانِ فَقَدْ أُعْطِيَهُمَا وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أُعْطِيَ الثَّالِثَةَ" [[المعجم الكبير (٥/٢٤) قال الهيثمي في المجمع (٤/٨) : "فيه محمد بن أيوب بن سويد الرملي وهو متهم بالوضع".]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عُمَر بْنُ رَاشِدٍ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ دَعَا دُعَاءً إِلَّا اسْتَفْتَحَهُ بِـ "سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّي الْأَعْلَى الْعَلِيِّ الْوَهَّابِ" [[المسند (٤/٥٤) قال الهيثمي في المجمع (١٠/١٥٦) : "فيه عمر بن راشد اليمامي وثقه غير واحد، وبقية رجاله رجال الصحيح".]]
وَقَدْ قَالَ [[في ت: "وروى".]] أَبُو عَبِيدٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بَرْقان عَنْ صَالِحِ بْنِ مِسْمَارٍ قَالَ: لَمَّا مَاتَ نَبِيُّ اللَّهِ دَاوُدُ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى ابْنِهِ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِمَا [[في ت، أ: "عليه".]] السَّلَامُ: أَنْ سَلْنِي حَاجَتَكَ. قَالَ: أَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ لِي قَلْبًا يَخْشَاكَ كَمَا كَانَ قَلْبُ أَبِي وَأَنْ تَجْعَلَ قَلْبِي يُحِبُّكَ كَمَا كَانَ قَلْبُ أَبِي. فَقَالَ اللَّهُ: أَرْسَلْتُ إِلَى عَبْدِي وَسَأَلَتْهُ [[في ت، س: "أسأله".]] حَاجَتَهُ فَكَانَتْ [حَاجَتُهُ] [[زيادة من ت، س.]] أَنْ أَجْعَلَ قَلْبَهُ يَخْشَانِي وَأَنْ أَجْعَلَ قَلْبَهُ يُحِبُّنِي لأهَبَنّ لَهُ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ﴾ وَالَّتِي بَعْدَهَا، قَالَ: فَأَعْطَاهُ [اللَّهُ] [[زيادة من أ.]] مَا أَعْطَاهُ وَفِي الْآخِرَةِ لَا حِسَابَ عَلَيْهِ.
هَكَذَا أَوْرَدَهُ أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ عَسَاكِرَ فِي تَرْجَمَةِ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي تَارِيخِهِ [[تاريخ دمشق (٧/٥٦٩) "القسم المخطوط".]]
وَرُوِيَ عَنْ بَعْضِ السَّلَفِ أَنَّهُ قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ دَاوُدَ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ت، س، أ.]] أَنَّهُ قَالَ: "إِلَهِي كُنْ لِسُلَيْمَانَ كَمَا كُنْتَ لِي": فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: أَنْ قُلْ لِسُلَيْمَانَ: يَكُونُ لِي كَمَا كُنْتَ لِي، أَكُونُ لَهُ كَمَا كنتُ لَكَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ﴾ قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَمَّا عَقَرَ سُلَيْمَانُ الْخَيْلَ غَضَبًا لِلَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ عَوَّضَهُ اللَّهُ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا وَأَسْرَعُ الرِّيحُ الَّتِي غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿حَيْثُ أَصَابَ﴾ أَيْ: حَيْثُ أَرَادَ مِنَ الْبِلَادِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ﴾ أَيْ: مِنْهُمْ مَنْ هُوَ مُسْتَعْمَلٌ فِي الْأَبْنِيَةِ الْهَائِلَةِ مِنْ مَحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجَفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَاسِيَاتٍ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَعْمَالِ الشَّاقَّةِ الَّتِي لَا يَقْدِرُ عَلَيْهَا الْبَشَرُ وَطَائِفَةٌ غَوَّاصُونَ فِي الْبِحَارِ يَسْتَخْرِجُونَ مِمَّا [[في ت: "ما".]] فِيهَا مِنَ اللَّآلِئِ وَالْجَوَاهِرِ وَالْأَشْيَاءِ النَّفِيسَةِ الَّتِي لَا تُوجَدُ إِلَّا فِيهَا ﴿وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الأصْفَادِ﴾ أَيْ: مُوثَقُونَ فِي الْأَغْلَالِ وَالْأَكْبَالِ مِمَّنْ قَدْ تَمَرّد وَعَصَى وَامْتَنَعَ مِنَ الْعَمَلِ وَأَبَى أَوْ قَدْ أَسَاءَ فِي صنيعه واعتدى.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿هَذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ أَيْ: هَذَا الَّذِي أَعْطَيْنَاكَ مِنَ الْمُلْكِ التَّامِّ وَالسُّلْطَانِ الْكَامِلِ كَمَا سَأَلْتَنَا فَأَعْطِ مَنْ شِئْتَ وَاحْرِمْ مَنْ شِئْتَ، لَا حِسَابَ عَلَيْكَ، أَيْ: مَهْمَا فعلتَ فَهُوَ جَائِزٌ لَكَ احْكُمْ بِمَا شِئْتَ فَهُوَ صَوَابٌ. وَقَدْ ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ [[في أ: "الصحيح".]] أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لَمَّا خُيِّر بَيْنَ أَنْ يَكُونَ عَبْدًا رَسُولًا -وَهُوَ الَّذِي يَفْعَلُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ وَإِنَّمَا هُوَ قَاسِمٌ يَقْسِمُ بَيْنَ النَّاسِ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ بِهِ-وَبَيْنَ أَنْ يَكُونَ مَلِكًا نَبِيًّا يُعْطِي مَنْ يَشَاءُ وَيَمْنَعُ مَنْ يَشَاءُ بِلَا حِسَابٍ وَلَا جُنَاحٍ، اخْتَارَ الْمَنْزِلَةَ الْأُولَى بَعْدَ مَا اسْتَشَارَ جِبْرِيلَ فَقَالَ لَهُ: تَوَاضَعْ فَاخْتَارَ الْمَنْزِلَةَ الْأُولَى لِأَنَّهَا أَرْفَعُ قَدْرًا عِنْدَ اللَّهِ وَأَعْلَى مَنْزِلَةً فِي الْمَعَادِ وَإِنْ كَانَتِ الْمَنْزِلَةُ الثَّانِيَةُ وَهِيَ النُّبُوَّةُ مَعَ الْمُلْكِ عَظِيمَةً أَيْضًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلِهَذَا لَمَّا ذَكَرَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَا أَعْطَى سُلَيْمَانَ فِي الدُّنْيَا نَبَّهَ عَلَى أَنَّهُ ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْضًا، فَقَالَ: ﴿وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ﴾ أَيْ: فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ.
وَإِنَّ لَهُۥ عِندَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَـَٔابٍۢ
And indeed, for him is nearness to Us and a good place of return.
اور بےشک ان کے لئے ہمارے ہاں قُرب اور عمدہ مقام ہے
و برای او [= سلیمان] نزد ما مقامی ارجمند و سرانجامی نیکوست!
Tafsir Ibn Kathir
And indeed, We tried Sulayman and We placed on his throne Jasad (a body), and he returned (34)He said: "My Lord! Forgive me, and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me. Verily, You are the Bestower. (35)So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order wherever he willed (36)And the Shayatin, from every kind of builder and diver (37)And also others bound in fetters (38)[Allah said to Sulayman]: "This is Our gift, so spend you or withhold, no account will be asked of you. (39)And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return (40)
How Allah tested Sulayman then made Things easy for Him
Allah says,
وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ
(And indeed, We tried Sulayman) meaning, 'We tested him.'
وَأَلْقَيْنَا عَلَىٰ كُرْسِيِّهِ جَسَدًا
(and We placed on his throne Jasad (a body)).
ثُمَّ أَنَابَ
(and he returned.) means, after this test, he turned back to Him and asked for forgiveness and to be given a kingdom such as shall not belong to any other after him.
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
(He said: "My Lord! Forgive me, and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me. Verily, You are the Bestower.")
Some of them said, "No one after me will have the right to ask Allah for such a kingdom." This is the apparent meaning from the context of the Ayah, and several Hadiths with a similar meaning have been narrated from the Messenger of Allah ﷺ.
In his Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet ﷺ said:
إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ، وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنَ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتّٰى تُصْبِحُوا،وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي
(An 'Ifrit from among the Jinn came and bothered me last night – or he said something similar – trying to stop me from praying. Allah enabled me to overpower him, and I wanted to tie him to one of the pillars in the Masjid so that you could see him this morning. Then I remembered what my brother Sulayman said, (My Lord! Forgive me and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me))
Rawh said, "so he let him go, humiliated." ) This was also recorded by Muslim and An-Nasa'i. In his Sahih, Muslim recorded that Abu Ad-Darda', may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ stood up to pray and we heard him say,
أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ
(I seek refuge with Allah from you.) Then he said,
أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ
(I curse you with the curse of Allah.) three times, and he stretched out his hand as if he was reaching out to take something. When he finished his prayer, we said, 'O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer which we have never heard you say before, and we saw you stretching out your hand.' He ﷺ said:
إِنَّ عَدُوَّ اللهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ التَّامَّةِ، فَلَمْ يَتَأَخَّرْ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ،وَاللهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا، يَلْعَبُ بِهِ صِبْيَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ
(The enemy of Allah Iblis came with a flame of fire to throw in my face, so I said, "I seek refuge with Allah from you" three times, then I said, "I curse you with the complete curse of Allah," but he did not back off. I said it three times. Then I wanted to seize him. By Allah, if it were not for the words of our brother Sulayman, he would have been chained up and he would have become a plaything for the children of the people of Al-Madinah.)" Allah says:
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ
(So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order wherever he willed.) Al-Hasan Al-Basri, may Allah have mercy on him, said, "When Sulayman, peace be upon him, slaughtered the horses out of anger for the sake of Allah, Allah compensated him with something better and swifter, the wind whose morning was a month's (journey), and its afternoon was a month's (journey)."
حَيْثُ أَصَابَ
(wherever he willed.) means, wherever in the world he wanted.
وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ
(And also the Shayatin, from every kind of builder and diver,) means, among them were some whom he used to build high rooms, images, basins as large as reservoirs, and cauldrons fixed (in their places), and other difficult tasks which humans were unable to do. And there was another group, who dived into the sea recovering pearls, jewels and other precious things which cannot be found anywhere else.
وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
(And also others bound in fetters.) means, tied up in chains. These were the ones who had rebelled and refused to work, or else their work was bad and they were wrongdoers.
هَٰذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ
([Allah said to Sulayman]: "This is Our Gift, so spend you or withhold, no account will be asked of you.") means, 'this that We have given to you of kingship and perfect power, as you asked for, you may give to whomsoever you wish and deny to whomsoever you wish, and you will not be brought to account. Whatever you do is permissible for you, so however you judge, it will be right.' It was reported in the Two Sahihs that when the Messenger of Allah ﷺ was given the choice between being a servant and a Messenger – who does what he is commanded to do and distributes things among the people as Allah commands him to do – or being a Prophet and a king, who can give to whomever he wishes and withhold from whomever he wishes without being held accountable for anything, he chose the former. He consulted with Jibril, peace be upon him, who said, "Be humble." So he chose the former because it has a greater value before Allah and brings a higher status in the Hereafter, even though the second option, prophethood combined with kingship, is also a great thing both in this world and in the Hereafter, when Allah tells us what He gave to Sulayman, peace be upon him, in this world, He tells us that he will have a great share with Allah on the Day of Resurrection. He says:
وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ
(And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return.) meaning, in this world and the Hereafter.
Tafsir Ibn Kathir
سلیمان ؑ کا تفصیلی تذکرہ۔ہم نے حضرت سلیمان کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ ؓ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہرچند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتاسکتا ہے آپ نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر میں ملتا تھا ہر ساتویں دن اس میں لبالب پانی آجاتا تھا اور یہی پانی یہ شیطان پیتا تھا۔ اس کا پانی نکال دیا گیا اور بالکل خالی کر کے پانی کو بند کر کے اس کے آنے والے دن اسے شراب سے پر کردیا گیا جب شیطان آیا اور یہ حال دیکھا تو کہنے لگا یہ تو مزے کی چیز ہے لیکن عقل کی دشمن جہالت کو ترقی دینے والی چیز ہے۔ چناچہ وہ پیاسا ہی چلا گیا۔ جب پیاس کی شدت ہوئی تو مجبوراً یہ سب کچھ کہتے ہوئے پینا ہی پڑا۔ اب عقل جاتی رہی اور اسے حضرت سلیمان کی انگوٹھی دکھائی گئی یا مونڈھوں کے درمیان سے مہر لگا دی گئی۔ یہ بےبس ہوگیا حضرت سلیمان کی حکومت اسی انگوٹھی کی وجہ سے تھی۔ جب یہ حضرت سلیمان کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے یہ کام سر انجام دینے کا حکم دیا یہ ہدہد کے انڈے لے آیا اور انہیں جمع کر کے ان پر شیشہ رکھ دیا۔ ہدہد آیا اس نے اپنے انڈے دیکھے چاروں طرف گھوما لیکن دیکھا کہ ہاتھ نہیں آسکتے اڑ کر واپس چلا گیا اور الماس لے آیا اور اسے اس شیشے پر رکھ کر شیشے کو کاٹنا شروع کردیا آخر وہ کٹ گیا اور ہدہد اپنے انڈے لے گیا اور اس الماس کو بھی لے لیا گیا اور اسی سے پتھر کاٹ کاٹ کر عمارت شروع ہوئی حضرت سلیمان ؑ جب بیت الخلا میں یا حمام میں جاتے تو انگوٹھی اتار جاتے ایک دن حمام میں جانا تھا اور یہ شیطان آپ کے ساتھ تھا آپ اس وقت فرضی غسل کے لئے جا رہے تھے انگوٹھی اسی کو سونپ دی اور چلے گئے اس نے انگوٹھی سمندر میں پھینک دی اور شیطان پر حضرت سلیمان کی شکل ڈال دی گئی اور آپ سے تخت و تاج چھن گیا۔ سب چیزوں پر شیطان نے قبضہ کرلیا سوائے آپ کی بیویوں کے۔ اب اس سے بہت سی غیر معروف باتیں ظہور میں آنے لگیں اس زمانہ میں ایک صاحب تھے جو ایسے ہی تھے جیسے حضور ﷺ کے زمانہ میں حضرت فاروق ؓ۔ اس نے کہا آزمائش کرنی چاہئے مجھے تو یہ شخص سلیمان معلوم نہیں ہوتا۔ چناچہ ایک روز اس نے کہا کیوں جناب اگر کوئی شخص رات کو جنبی ہوجائے اور موسم ذرا ٹھنڈا ہو اور وہ سورج طلوع ہونے تک غسل نہ کرے تو کوئی حرج تو نہیں ؟ اس نے کہا ہرگز نہیں۔ چالیس دن تک یہ تخت سلیمان پر رہا پھر آپ کی مچھلی کے پیٹ سے انگوٹھی مل گئی ہاتھ میں ڈالتے ہی پھر تمام چیزیں آپ کی مطیع ہوگئیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ سدی فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ کی ایک سو بیویاں تھیں آپ کو سب سے زیادہ اعتبار ان میں سے ایک بیوی پر تھا جن کا نام جراوہ تھا۔ جب جنبی ہونے یا پاخانے جاتے تو اپنی انگوٹھی انہی کو سونپ جاتے۔ ایک مرتبہ آپ پاخانے گئے پیچھے سے ایک شیطان آپ ہی کی صورت بنا کر آیا اور بیوی صاحبہ سے انگوٹھی طلب کی آپ نے دے دی یہ آتے ہی تخت پر بیٹھ گیا جب حضرت سلیمان آئے اور انگوٹھی طلب کی تو بیوی صاحبہ نے فرمایا آپ انگوٹھی تو لے گئے۔ آپ سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے نہایت پریشان حال سے محل سے نکل گئے اس شیطان نے چالیس دن تک حکومت کی لیکن احکام کی تبدیلی کو دیکھ کر علماء نے سمجھ لیا کہ یہ سلیمان نہیں۔ چناچہ ان کی جماعت آپ کی بیویوں کے پاس آئی اور ان سے کہا یہ کیا معاملہ ہے ہمیں سلیمان کی ذات میں شک پڑگیا۔ اگر یہ سچ مچ سلیمان ہے تو اس کی عقل جاتی رہی ہے یا یہ کہ یہ سلیمان ہی نہیں۔ ورنہ ایسے خلاف شرع احکام نہ دیتا۔ عورتیں یہ سن کر رونے لگیں۔ یہ یہاں سے واپس آگئے اور تخت کے اردگرد اسے گھیر کر بٹھ گئے اور تورات کھول کر اس کی تلاوت شروع کردی۔ یہ خبیث شیطان کلام اللہ سے بھاگا اور انگوٹھی سمندر میں پھینک دی جسے ایک مچھلی نگل گئی۔ حضرت سلیمان یونہی اپنے دن گذارتے تھے ایک مرتبہ سمندر کے کنارے نکل گئے بھوک بہت لگی ہوئی تھی ماہی گیروں کو مچھلیاں پکڑتے ہوئے دیکھ کر ان کے پاس آ کر ان سے ایک مچھلی مانگی اور اپنا نام بھی بتایا، اس پر بعض لوگوں کو بڑا طیش آیا کہ دیکھو بھیک مناگنے والا اپنے تئیں سلیمان بتاتا ہے انہوں نے آپ کو مارنا پیٹنا شروع کیا آپ زخمی ہو کر کنارے جا کر اپنے زخم کا خون دھونے لگے۔ بعض ماہی گیروں کو رحم آگیا کہ ایک سائل کو خواہ مخواہ مارا۔ جاؤ بھئی اسے دو مچھلیاں دے آؤ بھوکا ہے بھون کھائے گا۔ چناچہ و مچھلیاں آپ کو دے آئے بھوک کی وجہ سے آپ اپنے زخم کو اور خون کو تو بھول گئے اور جلدی سے مچھلی کا پیٹ چاک کرنے بیٹھ گئے۔ قدرت اللہ سے اس کے پیٹ سے وہ انگوٹھی نکلی آپ نے اللہ کی تعریف بیان کی اور انگوٹھی انگلی میں ڈالی اس وقت پرندوں نے آ کر آپ پر سایہ کرلیا اور لوگوں نے آپ کو پہچان لیا اور آپ سے معذرت کرنے لگے آپ نے فرمایا یہ سب امر اللہ تھا اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا۔ آپ آئے اپنے تخت پر بیٹھ گئے اور حکم دیا کہ اس شیطان کو جہاں بھی وہ ہو گرفتار کر لاؤ چناچہ اسے قید کرلیا گیا آپ نے اسے ایک لوہے کے صندوق میں بند کیا اور قفل لگا کر اس پر اپنی مہر لگا دی اور سمندر میں پھنکوا دیا جو قیامت تک وہیں قید رہے گا۔ اس کا نام حقیق تھا۔ آپ کی یہ دعا کہ مجھے ایسا ملک عطا فرمایا جائے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو یہ بھی پوری ہوئی اور آپ کے تابع ہوائیں کردی گئیں۔ مجاہد سے مروی ہے کہ ایک شیطان سے جس کا نام آصف تھا ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ نے پوچھا کہ تم لوگوں کو کس طرح فتنے میں ڈالتے ہو ؟ اس نے کہا ذرا مجھے انگوٹھی دکھاؤ میں ابھی آپ کو دکھا دیتا ہوں آپ نے انگوٹھی دے دی اس نے اسے سمندر میں پھینک دیا تخت و تاج کا مالک بن بیٹھا اور آپ کے لباس میں لوگوں کو راہ اللہ سے ہٹانے لگا۔ " یاد رہے کہ یہ سب واقعات بنی اسرائیل کے بیان کردہ ہیں " اور ان سب سے زیادہ منکر واقعہ وہ ہے۔ جو ابن ابی حاتم میں ہے جس کا اوپر بیان ہوا۔ جس میں آپ کی بیوی صاحبہ حضرت جراوہ کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آخر نبوت یہاں تک پہنچی تھی کہ لڑکے آپ کو پتھر مارتے تھے۔ آپ کی بیویوں سے جب علماء نے معاملہ کی تفتیش کی تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہمیں بھی اس کے سلیمان ہونے سے انکار ہے کیونکہ وہ حالت حیض میں ہمارے پاس آتا ہے۔ شیطان کو جب یہ معلوم ہوگیا کہ راز کھل گیا ہے تو اس نے جادو اور کفر کی کتابیں لکھوا کر کرسی تلے دفن کردیا اور پھر لوگوں کے سامنے انہیں نکلوا کر ان سے کہا دیکھو ان کتابوں کی بدولت سلیمان تم پر حکومت کر رہا تھا چناچہ لوگوں نے آپ کو کافر کہنا شروع کردیا۔ حضرت سلیمان سمندر کے کنارے مزدوری کرتے تھے ایک مرتبہ ایک شخص نے بہت سی مچھلیاں خریدیں مزدور کو بلایا آپ پہنچے اس نے کہا یہ اٹھالو پوچھا مزدوری کیا دو گے ؟ اس نے کہا اس میں سے ایک مچھلی تمہیں دے دوں گا آپ نے ٹوکرا سر پر رکھا اس کے ہاں پہنچایا اس نے ایک مچھلی دے دی آپ نے اس کا پیٹ چاک کیا پیٹ چاک کرتے ہی وہ انگوٹھی نکل پڑی پہنتے ہی کل شیاطین جن انسان پھر تابع ہوگئے اور جھرمٹ باندھ کر حاضر ہوگئے آپ نے ملک پر قبضہ کیا اور اس شیطان کو سخت سزا دی۔ پس ثم اناب سے مراد شیطان جو مسلط کیا گیا تھا اس کا لوٹنا ہے۔ اس کی اسناد حضرت ابن عباس تک ہے۔ ہے تو قوی لیکن یہ ظاہر ہے کہ اسے حضرت ابن عباس نے اہل کتاب سے لیا ہے، یہ بھی اس وقت جبکہ اسے ابن عباس کا قول مان لیں۔ اہل کتاب کی ایک جماعت حضرت سلیمان کو نہیں مانتی تھی تو عجب نہیں کہ یہ بیہودہ قصہ اسی خبیث جماعت کا گھڑا ہوا ہو۔ اس میں تو وہ چیزیں بھی ہیں جو بالکل ہی منکر ہیں خصوصاً اس شیطان کا آپ کی عورتوں کے پاس جانا اور آئمہ نے بھی ایسے ہی قصے بیان تو کئے ہیں لیکن اس بات کا سب نے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ جن ان کے پاس نہیں جاسکا اور نبی کے گھرانے کی عورتوں کی عصمت و شرافت کا تقاضا بھی یہی ہے اور بھی بہت سے لوگوں نے ان واقعات کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن سب کی اصل یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے لئے گئے ہیں۔ واللہ اعلم۔ شیبانی فرماتے ہیں آپ نے اپنی انگوٹھی عسقلان میں پائی تھی اور بیت المقدس تک تواضعاً آپ پیدل چلے تھے۔ امام ابن بی حاتم نے صفت سلیمان میں حضرت کعب احبار سے ایک عجیب خبر روایت کی ہے۔ ابو اسحاق مصری کہتے ہیں کہ جب (اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۽) 89۔ الفجر :7) کے قصے سے حضرت کعب نے فراغت حاصل کی تو حضرت معاویہ نے کہا ابو اسحاق آپ حضرت سلیمان کی کرسی کا ذکر بھی کیجئے فرمایا کہ وہ ہاتھی دانت کی تھی اور یاقوت زبرجد اور لولو سے مرصع تھی اور اس کے چاروں طرف سونے کے کھجور کے درخت بنے ہوئے تھے جن کے خوشے بھی موتیوں کے تھے ان میں سے جو دائیں جانب تھے ان کے سرے پر سونے کے مور تھے اور بائیں طرف والوں پر سونے کے گدھ تھے۔ اس کرسی کے پہلے درجے پر دائیں جانب سونے کے دو درخت صنوبر کے تھے اور بائیں جانب سونے کے دو شیر بن ہوئے تھے۔ ان کے سروں پر زبر جد کے دوستون تھے اور کرسی کے دونوں جانب انگور کی سنہری بیلیں تھیں جو کرسی کو ڈھانپے ہوئے تھیں اس کے خوشے بھی سرخ موتی کے تھے پھر کرسی کے اعلیٰ درجے پر دو شیر بہت بڑے سونے کے بنے ہوئے تھے جن کے اندر خول تھا ان میں مشک و عنبر بھرا رہتا تھا۔ جب حضرت سلیمان کرسی پر آتے تو یہ شیر حرکت کرتے اور ان کے گھومنے سے ان کے اندر سے مشک و عنبر چاروں طرف چھڑک دیا جاتا پھر دو منبر سونے کے بچھا دئے جاتے۔ ایک آپ کے وزیر کا اور ایک اس وقت کے سب سے بڑے عالم کا۔ پھر کرسی کے سامنے ستر منبر سونے کے اور بچھائے جاتے جن پر بنو اسرائیل کے قاضی ان کے علماء اور ان کے سردار بیٹھتے۔ ان کے پیچھے پینتیس منبر سونے کے اور ہوتے تھے جو خالی رہا کرتے تھے۔ حضرت سلیمان جب تشریف لاتے پہلے زینے پر قدم رکھتے ہی کرسی ان تمام چیزوں سمیت گھوم جاتی شیر اپن داہنا قدم آگے بڑھا دیتا اور گدھ اپنا بایاں پر پھیلا دیتا۔ جب دوسرے درجے پر قدم رکھتے تو شیر اپنا بایاں پاؤں پھیلا دیتا اور گدھ اپنا دایاں پر جب آپ تیسرے درجے پر چڑھ جاتے اور کرسی پر بیٹھ جاتے تو ایک بڑا گدھ آپ کا تاج لے کر آپ کے سر پر رکھتا پھر کرسی زور زور سے گھومتی۔ حضرت معاوضہ نے پوچھا آخر اس کی کیا وجہ ؟ فرمایا وہ ایک سونے کی لاٹ پر تھی جسے صخر جن نے بنایا تھا۔ اس کے گھومتے ہی نیچے والے مور گدھ وغیرہ سب اوپر آجاتے اور سر جھکاتے پر پھڑ پھڑاتے جس سے آپ کے جسم پر مشک و عنبر کا چھڑکاؤ ہوجاتا پھر ایک سونے کا کبوتر تورات اٹھا کر آپ کے ہاتھ میں دیتا جسے آپ تلاوت فرماتے۔ لیکن یہ روایت بالکل غریب ہے۔ حضرت سلیمان ؑ کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایسا ملک دے کہ مجھ سے کوئی اور چھین نہ سکے جیسے کہ اس جسم کا واقعہ ہوا جو آپ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ دوسروں کے لئے ایسے ملک کے نہ ملنے کی دعا کرتے ہوں۔ لیکن جن بعض لوگوں نے یہ معنی لئے ہیں وہ کچھ ٹھیک نظر نہیں آتے، بلکہ صحیح مطلب یہی ہے کہ آپ کی دعا کا یہی مطلب تھا کہ مجھے ایسا ملک اور سلطنت دی جائے کہ میرے بعد پھر کسی اور شخص کو ایسی سلطنت نہ ملے۔ یہی آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے اور یہی احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا ایک سرکش جن نے گزشتہ شب مجھ پر زیادتی کی اور میری نماز بگاڑ دینا چاہی لیکن اللہ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے اس ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھو لیکن اسی وقت مجھے میرے بھائی حضرت سلیمان (علیہ الصلوۃ والسلام) کی دعا یاد آگئی۔ راوی حدیث حضرت روح فرماتے ہیں پھر حضور ﷺ نے اسے ذلیل و خوار کر کے چھوڑ دیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نماز میں کھڑے ہوئے تو ہم نے سنا کہ آپ نے فرمایا اعوذ باللہ منک پھر آپ نے تین بار فرمایا العنک بلعنتہ اللہ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا کہ گویا آپ کسی چیز کو لینا چاہتے ہیں۔ جب فارغ ہوئے تو ہم نے آپ سے ان دونوں باتوں کی وجہ پوچھی آپ نے فرمایا اللہ کا دشمن ابلیس آگ لے کر میرے منہ میں ڈالنے کے لئے آیا تو میں نے تین مرتبہ اعوذ پڑھی پھر تین مرتبہ اس پر لعنت بھیجی لیکن وہ پھر بھی نہ ہٹا پھر میں نے چاہا کہ اسے پکڑ کر باندھ دوں تاکہ مدینے کے لڑکے اس سے کھیلیں اگر ہمارے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو میں یہی کرتا۔ حضرت عطا بن یزید لیثی نماز پڑھ رہے تھے جو ابو عبید نے ان کے سامنے سے گذرنا چاہا انہوں نے انہیں اپنے ہاتھ سے روک دیا پھر فرمایا مجھ سے حضرت ابو سعید خدری نے حدیث بیان کی کہ حضور ﷺ صبح کی نماز پڑھا رہے تھے یہ بھی آپ کے پیچھے تھے قرأت آپ پر خلط ملط ہوگئی فارغ ہو کر فرمایا کاش تم دیکھتے کہ میں نے ابلیس کو پکڑ لیا تھا اور اس قدر اس کا گلا گھونٹا کہ اس کے منہ کی جھاگ میری شہادت کی اور بیج کی انگلی پر پڑی اگر میرے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح ہوتے اس مسجد کے ستون سے بندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اسے ستاتے تم سے جہاں تک ہو سکے اس بات کا خیال رکھو کہ نماز کی حالت میں تمہارے سامنے سے کوئی گذرنے نہ پائے (مسند احمد) مسند کی اور حدیث میں ہے ربعیہ بن یزید عبداللہ ویلمی کہتے ہیں میں حضرت عمرو بن عاص ؓ کے پاس طائف کے ایک باغ میں گیا جس کا ام ربط تھا آپ اس وقت ایک قریشی کا محاصرہ کئے ہوئے تھے جو زانی اور شرابی تھا۔ میں نے ان سے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ یہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ جو ایک گھونٹ شراب پئے گا اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہ فرمائے گا اور برا آدمی وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی برا ہوگیا ہے جو شخص صرف نماز ہی کی نیت سے بیت المقدس کی مسجد میں جائے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا۔ وہ شرابی جسے حضرت عبداللہ پکڑے ہوئے تھے وہ شراب کا ذکر سنتے ہی جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا۔ اب حضرت عبداللہ نے فرمایا کسی کو حلال نہیں کہ میرے ذمے وہ بات کرے جو میں نے نہ کی۔ میں نے حضور ﷺ سے یوں سنا ہے جو شخص شراب کا ایک گھونٹ بھی پی لے اس کی چالیس دن کی نماز نامقبول ہے۔ اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ پھر اگر دوبارہ لوٹے تو پھر چالیس دن تک کی نمازیں نامقبول ہیں پھر اگر توبہ کرلے تو توبہ مقبول ہے مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ میں فرمایا کہ پھر اگر لوٹے گا تو یقینا اللہ تعالیٰ اسے جہنمیوں کے بدن کا خون، پیپ، پیشاب وغیرہ قیامت کے دن پلائے گا اور حضور ﷺ سے میں نے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا جس پر وہ نور اس دن پڑگیا وہ تو ہدایت والا ہوگیا اور جس تک وہ نور نہ پہنچا وہ بھٹک گیا۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل چکا اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کی جن میں سے دو تو انہیں مل گئیں اور ہمیں امید ہے کہ تیسری ہمارے لئے ہو (1) مجھے ایسا حکم دے جو تیرے حکم کے موافق ہو (2) مجھے ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لئے لائق نہ ہو۔ تیسری دعا یہ تھی کہ جو شخص اپنے گھر سے اس مسجد کی نماز کے ارادے ہی سے نکلے تو جب وہ لوٹے تو ایسا ہوجائے گویا آج پیدا ہوا پس ہمیں اللہ سے امید ہے کہ یہ ہمارے لئے اللہ نے دی ہو۔ طبرانی میں ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ عزوجل نے حضرت داؤد ؑ کو اپنے لئے ایک گھر بنانے کا حکم دیا حضرت داؤد نے پہلے اپنا گھر بنا لیا اس پر وحی آئی کہ تم نے اپنا گھر میرے گھر سے پہلے بنایا آپ نے عرض کیا پروردگار یہی فیصلہ کیا گیا تھا پھر مسجد بنانی شروع کی دیواریں پوری ہوگئیں تو اتفاقاً تہائی حصہ گرگیا آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جواب ملا کہ تو میرا گھر نہیں بنا سکتا۔ پوچھا کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ تیرے ہاتھوں سے خون بہا ہے۔ عرض کیا اللہ تعالیٰ وہ بھی تیری ہی محبت میں فرمایا ہاں لیکن وہ میرے بندے تھے میں ان پر رحم کرتا ہوں۔ آپ کو یہ کلام سن کر سخت پریشانی ہوئی۔ پھر وحی آئی کہ غمگین نہ ہو میں اسے تیرے لڑکے سلیمان کے ہاتھوں پورا کراؤں گا۔ چناچہ آپ کے انتقال کے بعد حضرت سلیمان نے اسے بنانا شروع کیا جب پورا کرچکے تو بڑی بڑی قربانیاں کیں اور ذبیحہ ذبح کئے اور بنو اسرائیل کو جمع کر کے خوب کھلایا پلایا اللہ کی وحی آئی کہ تو نے یہ سب کچھ میرے حکم کی تعمیل کی خوشی میں کیا ہے تو مجھ سے مانگ جو مانگے گا پائے گا۔ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ میرے تین سوال ہیں مجھے ایسا فیصلہ سمجھا جو تیرے فیصلے کے مطابق ہو اور ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو اور جو اس گھر میں آئے صرف نماز کے ارادے سے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا آزاد ہوجائے جیسے آج پیدا ہوا۔ ان میں سے دو چیزیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرما دیں اور مھے امید ہے کہ تیسری بھی دے دی گئی ہو۔ رسول اللہ ﷺ اپنی ہر دعا کو ان لفظوں سے شروع فرماتے (سبحان اللہ ربی الاعلی العلی الوہاب) (مستند احمد) اور روایت میں ہے کہ حضرت داؤد کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان سے فرمایا مجھ سے اپنی حاجت طلب کرو آپ نے عرض کیا اللہ تعالیٰ مجھے ایسا دل دے جو تجھ سے ڈرتا رہے جیسا کہ میرے والد کا دل تجھ سے خوف کیا کرتا تھا اور میرے دل میں اپنی محبت ڈال دے جیسے کہ میرے والد کے دل میں تیری محبت تھی اس پر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا کہ میرا بندہ میری عین عطا کے وقت بھی مجھ سے ڈرا اور میری محبت طلب کرتا ہے مجھے اپنی قسم میں اسے اتنی بڑی سلطنت دوں گا جو اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی ماتحتی میں ہوائیں کردیں اور جنات کو بھی ان کا ماتحت بنادیا اور اسی قدر ملک و مال پر بھی، انہیں حساب قیامت سے آزاد کردیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے دعا کی کہ باری تعالیٰ سلیمان کے ساتھ بھی اسی لطف و کرم سے پیش آنا جیسا آج لطف و کرم تیرا مجھ پر رہا تو وحی آئی کہ سلیمان سے کہہ دو وہ بھی اسی طرح میرا رہے جس طرح تو میرا تھا، تو میں بھی اس کے ساتھ ہو خوبصورت پیارے وفادار تیز رو گھوڑوں کو کاٹ ڈالا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ان کے عوض ان سے بہتر عطا فرمائے۔ یعنی ہوا کو ان کے تابع فرمان کردیا جو مہینے بھر کی راہ کو صبح کی ایک گھڑی میں طے کردیتی تھی اور اسی طرح شام کو جہاں کا ارادہ کرتے ذرا سی دیر میں پہنچا دیتی۔ جنات کو بھی حضرت سلیمان ؑ کے تابع کردیا ان میں سے بعض بڑی اونچی لمبی سنگین پختہ عمارت کے بنانے کے کام سر انجام دیتے جو انسانی طاقت سے باہر تھا اور بعض غوطہ خور تھے جو سمندر کی تہ میں سے لولو جواہر اور دیگر قسم قسم کی نفیس و نادر چیزیں لا دیتے تھے۔ پھر اور کچھ تھے جو بھاری بھاری بیڑیوں میں جکڑے رہتے تھے۔ یہ یا تو وہ تھے جو حکومت سے سرتابی کرتے تھے یا کام کاج میں شرارت اور کمی کرتے تھے یا لوگوں کو ستاتے اور ایذاء دیتے تھے۔ یہ ہے ہماری مہربانی اور ہماری بخشش اور ہمارا انعام اور ہمارا عطیہ اب تجھے اختیار ہے جس سے جو چاہے سلوک کر سب بےحساب ہے کسی پر پکڑ نہیں۔ جو تیری زبان سے نکلے گا وہ حق ہوگا۔ صحیح حدیث میں ہے جب رسول اللہ ﷺ کو اختیار دیا گیا کہ اگر چاہیں عبد و رسول رہیں یعنی جو حکم کیا جائے بجا لاتے رہیں اللہ کے فرمان کے مطابق تقسیم کرتے رہیں اور اگر چاہیں نبی اور بادشاہ بنا دیئے جائیں جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں اور اس کا کوئی حساب اللہ کے ہاں نہ لیا جائے تو آپ نے حضرت جبرائیل ؑ سے مشورہ لیا اور آپ کے مشورے سے پہلی بات قبول فرمائی کیونکہ فضیلت کے لحاظ سے اولیٰ اور اعلیٰ وہی ہے۔ گو نبوت و سلطنت بھی بڑی چیز ہے۔ اسی لئے حضرت سلیمان کا دنیوی عزو جاہ بیان کرتے ہی فرمایا کہ وہ دار آخرت میں بھی ہمارے پاس بڑے مرتبے اور بہترین بزرگی اور اعلیٰ تر قریب والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ﴾ أَيِ: اخْتَبَرْنَاهُ بِأَنْ سَلَبْنَاهُ الْمُلْكَ مَرَّةً، ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَالْحَسَنُ وَقَتَادَةُ وَغَيْرُهُمْ: يَعْنِي شَيْطَانًا. ﴿ثُمَّ أَنَابَ﴾ أَيْ: [[في ت، س: "ثم".]] رَجَعَ إِلَى مُلْكِهِ وَسُلْطَانِهِ وَأُبَّهَتِهِ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَكَانَ اسْمُ ذَلِكَ الشَّيْطَانِ صَخْرًا. قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَقَتَادَةُ. وَقِيلَ: آصِفُ. قَالَهُ مُجَاهِدٌ وَقِيلَ: آصِرُوا. قَالَهُ مُجَاهِدٌ أَيْضًا. وَقِيلَ: حبقيقُ. قَالَهُ السُّدِّيُّ. وَقَدْ ذَكَرُوا هَذِهِ الْقِصَّةَ مَبْسُوطَةً وَمُخْتَصَرَةً.
وَقَدْ قَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبة عَنْ قَتَادَةَ: قَالَ أَمَرَ سُلَيْمَانُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ بِبِنَاءِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقِيلَ لَهُ: ابْنِهِ وَلَا يُسمَعُ فِيهِ صَوْتُ حَدِيدٍ. فَقَالَ: فَطَلَبَ ذَلِكَ فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهِ. فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ شَيْطَانًا فِي الْبَحْرِ يُقَالُ لَهُ: "صَخْرٌ" شِبْهُ الْمَارِدِ. قَالَ: فَطَلَبَهُ وَكَانَتْ عَيْنٌ فِي الْبَحْرِ يَردهُا فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ مَرَّةً فَنُزِحَ مَاؤُهَا وَجُعِلَ فِيهَا خَمْرٌ، فَجَاءَ يَوْمَ ورْده فَإِذَا هُوَ بِالْخَمْرِ فَقَالَ: إِنَّكِ لَشَرَابٌ طَيِّبٌ إِلَّا أَنَّكِ تُصْبِينَ الْحَلِيمَ، وَتَزِيدِينَ الْجَاهِلَ جَهْلًا. ثُمَّ رَجَعَ حَتَّى عَطِشَ عَطَشًا شَدِيدًا ثُمَّ أَتَاهَا [[في أ: "أتاه".]] فَقَالَ: إِنَّكِ لَشَرَابٌ طَيِّبٌ إِلَّا أَنَّكِ تُصْبِينَ الْحَلِيمَ، وَتَزِيدِينَ الْجَاهِلَ جَهْلًا. ثُمَّ شَرِبَهَا حَتَّى غَلَبَتْ عَلَى عَقْلِهِ، قَالَ: فَأُرِيَ الْخَاتَمَ أَوْ خُتِمَ بِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَذَلَّ. قَالَ: وَكَانَ مُلْكُهُ فِي خَاتَمِهِ فأتي به سليمان فقال: إنه قَدْ أُمِرْنَا بِبِنَاءِ هَذَا الْبَيْتِ وَقِيلَ لَنَا: لَا يُسْمَعَنَّ فِيهِ صَوْتُ حَدِيدٍ. قَالَ: فَأَتَى بِبَيْضِ الْهُدْهُدِ فَجَعَلَ عَلَيْهِ زُجَاجَةً فَجَاءَ الْهُدْهُدُ فَدَارَ حَوْلَهَا، فَجَعَلَ يَرَى بَيْضَهُ وَلَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ فَذَهَبَ فَجَاءَ بِالْمَاسِ فَوَضَعَهُ عَلَيْهِ فَقَطَعَهَا بِهِ حَتَّى أَفْضَى إِلَى بَيْضِهِ. فَأَخَذَ الْمَاسَ فَجَعَلُوا يَقْطَعُونَ بِهِ الْحِجَارَةَ. وَكَانَ سُلَيْمَانُ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ الْخَلَاءَ -أَوِ: الْحَمَّامَ-لَمْ يَدْخُلْ بِخَاتَمِهِ فَانْطَلَقَ يَوْمًا إِلَى الْحَمَّامِ وَذَلِكَ الشَّيْطَانُ صَخْرٌ مَعَهُ، وَذَلِكَ عِنْدَ مُقَارَفَةٍ قَارَفَ فِيهِ [[في ت: "فيها".]] بَعْضَ نِسَائِهِ. قَالَ: فَدَخَلَ الْحَمَّامَ وَأَعْطَى الشَّيْطَانَ خَاتَمَهُ فَأَلْقَاهُ فِي الْبَحْرِ فَالْتَقَمَتْهُ سَمَكَةٌ، وَنُزِعَ مُلك سُلَيْمَانَ مِنْهُ وَأُلْقِيَ عَلَى الشَّيْطَانِ شَبَه سُلَيْمَانَ. قَالَ: فَجَاءَ فَقَعَدَ عَلَى كُرْسِيِّهِ وَسَرِيرِهِ وسُلِّط عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ كُلِّهِ غَيْرَ نِسَائِهِ. قَالَ: فَجَعَلَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ، وَجَعَلُوا يُنْكِرُونَ مِنْهُ أَشْيَاءَ حَتَّى قَالُوا: لَقَدْ فُتِنَ نَبِيُّ اللَّهِ. وَكَانَ فِيهِمْ رَجُلٌ يُشَبِّهُونَهُ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي الْقُوَّةِ فَقَالَ: وَاللَّهُ لَأُجَرِّبَنَّهُ. قَالَ: فَقَالَ: يَا نَبِيَّ [[في أ: "أنبي".]] اللَّهِ -وَهُوَ لَا يَرَى إِلَّا أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ-أَحَدُنَا تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ فِي اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ فَيَدَعُ الْغُسْلَ عَمْدًا حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَتُرَى [[في ت: "ترى".]] عَلَيْهِ بَأْسًا؟ فَقَالَ: [[في ت، س: "قال".]] لَا. قَالَ: فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً حَتَّى وَجَدَ نَبِيُّ اللَّهِ خَاتَمَهُ فِي بَطْنِ سَمَكَةٍ فَأَقْبَلَ فَجَعَلَ لَا يَسْتَقْبِلُهُ جِنِّيٌّ وَلَا طَيْرٌ إِلَّا سَجَدَ لَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ، ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ: هُوَ الشَّيْطَانُ صَخْرٌ [[تفسير الطبري (٢٣/١٠١) .]]
وَقَالَ السُّدِّيُّ: ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ﴾ أَيِ: ابْتَلَيْنَا سُلَيْمَانَ، ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ: جَلَسَ الشَّيْطَانُ عَلَى كُرْسِيِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا. قَالَ: وَكَانَ لِسُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِائَةُ امْرَأَةٍ وَكَانَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ يُقَالُ لَهَا: "جَرَادَةُ"، وَهِيَ آثَرُ نِسَائِهِ وَآمَنُهُنَّ عِنْدَهُ وَكَانَ إِذَا أَجْنَبَ أَوْ أَتَى حَاجَةً [[في أ: "حاجته".]] نَزَعَ خَاتَمَهُ وَلَمْ يَأْتَمِنْ [[في ت: "يأمن".]] عَلَيْهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ غَيْرَهَا فَأَعْطَاهَا يَوْمًا خَاتَمَهُ وَدَخَلَ الْخَلَاءَ فَخَرَجَ الشَّيْطَانُ فِي صُورَتِهِ فَقَالَ: هَاتِي الْخَاتَمَ. فَأَعْطَتْهُ فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى مَجْلِسِ سُلَيْمَانَ وَخَرَجَ سُلَيْمَانُ بَعْدَ ذَلِكَ فَسَأَلَهَا أَنْ تُعْطِيَهِ خَاتَمَهُ، فَقَالَتْ: أَلَمْ تَأْخُذْهُ قَبْلُ؟ قَالَ: لَا. وَخَرَجَ مَكَانَهُ تَائِهًا. قَالَ: وَمَكَثَ الشَّيْطَانُ يُحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، قَالَ: فَأَنْكَرَ النَّاسُ أَحْكَامَهُ فَاجْتَمَعَ قُرَّاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَعُلَمَاؤُهُمْ فَجَاءُوا حَتَّى دَخَلُوا عَلَى نِسَائِهِ فَقَالُوا: إِنَّا قَدْ أَنْكَرْنَا هَذَا فَإِنْ كَانَ سُلَيْمَانَ فَقَدْ ذَهَبَ عَقْلُهُ وَأَنْكَرْنَا أَحْكَامَهُ. قَالَ: فَبَكَى النِّسَاءُ عِنْدَ ذَلِكَ قَالَ: فَأَقْبَلُوا يَمْشُونَ حَتَّى أَتَوْا [[في أ: "أتوه".]] فَأَحْدَقُوا بِهِ ثُمَّ نَشَرُوا التَّوْرَاةَ فَقَرَءُوا. قَالَ: فَطَارَ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ حَتَّى وَقَعَ عَلَى شُرْفَةٍ وَالْخَاتَمُ مَعَهُ. ثُمَّ طَارَ حَتَّى ذَهَبَ إِلَى الْبَحْرِ فَوَقَعَ الْخَاتَمُ مِنْهُ فِي الْبَحْرِ فَابْتَلَعَهُ حُوتٌ مِنْ حِيتَانِ الْبَحْرِ. قَالَ: وَأَقْبَلَ سُلَيْمَانُ فِي حَالِهِ الَّتِي كَانَ فِيهَا حَتَّى انْتَهَى إِلَى صَيَّادٍ مِنْ صَيَّادِي [[في ت، س، أ: "صيادين".]] الْبَحْرِ وَهُوَ جَائِعٌ وَقَدِ اشْتَدَّ جُوعُهُ. فَاسْتَطْعَمَهُمْ مِنْ صَيْدِهِمْ وَقَالَ: إِنِّي أَنَا سُلَيْمَانُ. فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُهُمْ فَضَرَبَهُ بِعَصًا فَشَجَّهُ فَجَعَلَ يَغْسِلُ دَمَهُ وَهُوَ عَلَى شَاطِئِ الْبَحْرِ فَلَامَ الصَّيَّادُونَ صَاحِبَهُمُ الَّذِي ضَرَبَهُ فَقَالُوا بِئْسَ مَا صَنَعْتَ حيث ضربته. قال: إنه زَعَمَ أَنَّهُ سُلَيْمَانُ. قَالَ: فَأَعْطَوْهُ سَمَكَتَيْنِ مِمَّا قَدْ مَذِرَ عِنْدَهُمْ فَلَمْ يَشْغَلْهُ مَا كَانَ بِهِ مِنَ الضَّرْبِ حَتَّى قَامَ إِلَى شَطِّ الْبَحْرِ فَشَقَّ بُطُونَهُمَا فَجَعَلَ يَغْسِلُ [دَمَهُ] [[زيادة من أ.]] فَوَجَدَ خَاتَمَهُ فِي بَطْنِ إِحْدَاهُمَا فَأَخَذَهُ فَلَبِسَهُ فَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ بَهَاءَهُ وَمُلْكَهُ، وَجَاءَتِ الطَّيْرُ حَتَّى حَامَتْ عَلَيْهِ فَعَرَفَ الْقَوْمُ أَنَّهُ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَامَ الْقَوْمُ يَعْتَذِرُونَ مِمَّا صَنَعُوا [بِهِ] [[زيادة من أ.]] فَقَالَ: مَا أَحْمَدُكُمْ عَلَى عُذْرِكُمْ وَلَا أَلُومُكُمْ عَلَى مَا كَانَ مِنْكُمْ، كَانَ هَذَا الْأَمْرُ لَا بُدَّ مِنْهُ. قَالَ: فَجَاءَ حَتَّى أَتَى مُلْكَهُ وَأَرْسَلَ إِلَى الشَّيْطَانِ فَجِيءَ بِهِ فَأَمَرَ بِهِ فَجُعِلَ فِي صُنْدُوقٍ مِنْ حَدِيدٍ، ثُمَّ أَطْبَقَ عَلَيْهِ وَقَفَلَ عَلَيْهِ بِقُفْلٍ وَخَتَمَ عَلَيْهِ بِخَاتَمِهِ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَأُلْقِي فِي الْبَحْرِ فَهُوَ فِيهِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ. وَكَانَ اسْمُهُ حبقيقُ قَالَ: وَسَخَّرَ [[في ت، أ: "وسخرت".]] لَهُ الرِّيحَ وَلَمْ تَكُنْ سُخِّرَتْ لَهُ قَبْلَ ذَلِكَ وَهُوَ قَوْلُهُ: ﴿وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لأحَدٍ مِنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ [[تفسير الطبري (٢٣/١٠١) .]]
وَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَوْلُهُ: ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا﴾ قَالَ: شَيْطَانًا يُقَالُ لَهُ: آصِفُ. فَقَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ: كَيْفَ تَفْتِنُونَ النَّاسَ؟ قَالَ: أَرِنِي خَاتَمَكَ أُخْبِرْكَ. فَلَمَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ نَبَذَهُ آصِفُ فِي الْبَحْرِ فَسَاحَ سُلَيْمَانُ وَذَهَبَ مُلْكُهُ، وَقَعَدَ آصِفُ عَلَى كُرْسِيِّهِ وَمَنَعَهُ اللَّهُ نِسَاءَ سُلَيْمَانَ فَلَمْ يَقْرَبْهُنَّ -وَلَمْ يَقْرَبْنَهُ وَأَنْكَرْنَهُ. قَالَ: فَكَانَ سُلَيْمَانُ يَسْتَطْعِمُ فَيَقُولُ: أَتَعْرِفُونِي؟ أَطْعِمُونِي أَنَا سُلَيْمَانُ فَيُكَذِّبُونَهُ، حَتَّى أَعْطَتْهُ امْرَأَةٌ يَوْمًا حُوتًا فَجَعَلَ يُطَيِّبُ بَطْنَهُ، فَوَجَدَ خَاتَمَهُ فِي بَطْنِهِ فَرَجَعَ إِلَيْهِ مُلْكُهُ وَفَرَّ آصِفُ فَدَخَلَ الْبَحْرَ فَارًّا.
وَهَذِهِ كُلُّهَا مِنَ الْإِسْرَائِيلِيَّاتِ وَمِنْ أَنْكَرِهَا مَا قَالَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ:
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشِ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] ﴿وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ﴾ قَالَ: أَرَادَ سُلَيْمَانُ أَنْ يَدْخُلَ الْخَلَاءَ فَأَعْطَى الْجَرَادَةَ خَاتَمَهُ -وَكَانَتِ الْجَرَادَةُ [[في ت: "جرادة".]] امْرَأَتَهُ وَكَانَتْ أَحَبَّ نِسَائِهِ إِلَيْهِ-فَجَاءَ الشَّيْطَانُ فِي صُورَةِ سُلَيْمَانَ فَقَالَ لَهَا: هَاتِي خَاتَمِي. فَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ. فَلَمَّا لَبِسَهُ دَانَتْ لَهُ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ [[في أ: "والجن والطير".]] وَالشَّيَاطِينُ فَلَمَّا خَرَجَ سُلَيْمَانُ مِنَ الْخَلَاءِ قَالَ لَهَا: هَاتِي خَاتَمِي. قَالَتْ: قَدْ أَعْطَيْتُهُ سُلَيْمَانَ. قَالَ: أَنَا سُلَيْمَانُ. قَالَتْ: كَذَبْتَ لَسْتَ سُلَيْمَانَ [[في ت: "بسليمان".]] فَجَعَلَ لَا يَأْتِي أَحَدًا يَقُولُ لَهُ: "أَنَا سُلَيْمَانُ"، إِلَّا كَذَّبَهُ حَتَّى جَعَلَ [[في أ: "جاء".]] الصِّبْيَانُ يَرْمُونَهُ بِالْحِجَارَةِ. فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَرَف أَنَّهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ: وَقَامَ الشَّيْطَانُ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ فَلَمَّا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَى سُلَيْمَانَ سُلْطَانَهُ أَلْقَى فِي قُلُوبِ النَّاسِ إِنْكَارَ ذَلِكَ الشَّيْطَانِ. قَالَ: فَأَرْسَلُوا إِلَى نِسَاءِ سُلَيْمَانَ فَقَالُوا لَهُنَّ: أَتُنْكِرْنَ مِنْ سُلَيْمَانَ شَيْئًا؟ قُلْنَ: نَعَمْ إِنَّهُ يَأْتِينَا وَنَحْنُ حُيَّضٌ وَمَا كَانَ يَأْتِينَا قَبْلَ ذَلِكَ. فَلَمَّا رَأَى الشَّيْطَانُ أَنَّهُ قَدْ فَطِنَ لَهُ [[في ت: "أنه فطن له".]] ظَنَّ أَنَّ أَمْرَهُ قَدِ انْقَطَعَ فَكَتَبُوا كُتُبًا فِيهَا سِحْرٌ وَكُفْرٌ، فَدَفَنُوهَا تَحْتَ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ ثُمَّ أَثَارُوهَا وقرءوها على الناس. وقالوا: بِهَذَا كَانَ يَظْهَرُ سُلَيْمَانُ عَلَى النَّاسِ [وَيَغْلِبُهُمْ] [[زيادة من أ.]] فَأَكْفَرَ النَّاسُ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَلَمْ يَزَالُوا يُكَفِّرُونَهُ وَبَعَثَ ذَلِكَ الشيطانُ بِالْخَاتَمِ فَطَرَحَهُ فِي الْبَحْرِ فَتَلَقَّتْهُ سَمَكَةٌ فَأَخَذَتْهُ. وَكَانَ سُلَيْمَانُ يَحْمِلُ عَلَى شَطِّ الْبَحْرِ بِالْأَجْرِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَاشْتَرَى سَمَكًا فِيهِ تِلْكَ السَّمَكَةُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا الْخَاتَمُ فَدَعَا سُلَيْمَانُ فَقَالَ: تَحْمِلُ لِي هَذَا السَّمَكَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ. قَالَ: بِكَمْ؟ قَالَ بِسَمَكَةٍ مِنْ هَذَا السَّمَكِ. قَالَ: فَحَمَلَ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلَامُ السَّمَكَ ثُمَّ انْطَلَقَ بِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ فَلَمَّا انْتَهَى الرَّجُلُ إِلَى بَابِهِ أَعْطَاهُ تِلْكَ السَّمَكَةَ الَّتِي فِي بَطْنِهَا الْخَاتَمُ فَأَخَذَهَا سُلَيْمَانُ فَشَقَّ بَطْنَهَا، فَإِذَا الْخَاتَمُ فِي جَوْفِهَا فَأَخَذَهُ فَلَبِسَهُ. قَالَ: فَلَمَّا لَبِسَهُ دَانَتْ لَهُ الْجِنُّ وَالْإِنْسُ وَالشَّيَاطِينُ وَعَادَ إِلَى حَالِهِ وَهَرب الشَّيْطَانُ حَتَّى دَخَلَ جَزِيرَةً [[في ت: "لحق بجزيرة".]] مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ فَأَرْسَلَ سُلَيْمَانُ فِي طَلَبِهِ وَكَانَ شَيْطَانًا مَرِيدًا فَجَعَلُوا يَطْلُبُونَهُ وَلَا يَقْدِرُونَ عَلَيْهِ حَتَّى وَجَدُوهُ يَوْمًا نَائِمًا فَجَاءُوا فَبَنَوْا عَلَيْهِ بُنْيَانًا مِنْ رَصَاصٍ فَاسْتَيْقَظَ فَوَثَبَ فَجَعَلَ لَا يَثِبُ فِي مَكَانٍ من البيت إلا أنماط معه من الرَّصَاصُ قَالَ: فَأَخَذُوهُ فَأَوْثَقُوهُ وَجَاءُوا بِهِ إِلَى سُلَيْمَانَ، فَأَمَرَ بِهِ فَنُقِرَ [[في ت: "فثقب".]] لَهُ تَخْتٌ مِنْ رُخَامٍ ثُمَّ أُدْخِلَ فِي جَوْفِهِ ثُمَّ سُدَّ بِالنُّحَاسِ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَطُرِحَ فِي الْبَحْرِ فَذَلِكَ قَوْلُهُ: ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ﴾ قَالَ: يَعْنِي الشَّيْطَانَ الَّذِي كَانَ سُلِّطَ عَلَيْهِ.
إِسْنَادُهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَوِيٌّ وَلَكِنَّ الظَّاهِرَ أَنَّهُ إِنَّمَا تَلَقَّاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ -إِنْ صَحَّ عَنْهُ-مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَفِيهِمْ طَائِفَةٌ لَا يَعْتَقِدُونَ نُبُوَّةَ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَالظَّاهِرُ أَنَّهُمْ يَكْذِبُونَ عَلَيْهِ وَلِهَذَا كَانَ فِي السِّيَاقِ مُنْكَرَاتٌ مِنْ أَشَدِّهَا ذِكْرُ النِّسَاءِ فَإِنَّ الْمَشْهُورَ أَنَّ [[في أ: "فإن المشهور عن مجاهد وغير واحد من السلف أن".]] ذَلِكَ الْجِنِّيَّ لَمْ يُسَلَّطْ عَلَى نِسَاءِ سُلَيْمَانَ بَلْ عَصَمَهُنَّ اللَّهُ مِنْهُ تَشْرِيفًا وَتَكْرِيمًا لِنَبِيِّهِ ﷺ، وَقَدْ رُوِيَتْ هَذِهِ الْقِصَّةُ مُطَوَّلَةً عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ السَّلَفِ، كَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَجَمَاعَةٍ آخَرِينَ وَكُلُّهَا متُلقًّاة مِنْ قَصَصِ أَهْلِ الْكِتَابِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ.
وَقَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ: وَجَدَ سُلَيْمَانُ خَاتَمَهُ فِي عَسْقَلَانَ، فَمَشَى فِي خِرْقَةٍ [[في أ: "بحرقة".]] إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ تَوَاضُعًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَقَدْ رَوَى ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ فِي صِفَةِ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ خَبَرًا عَجِيبًا فَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاقَ الْمِصْرِيُّ عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ؛ أَنَّهُ لَمَّا فَرَغَ مِنْ حَدِيثِ "إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ" قَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ أَخْبِرْنِي عَنْ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ وَمَا كَانَ عَلَيْهِ؛ وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ هُوَ؟ فَقَالَ: كَانَ كُرْسِيُّ سُلَيْمَانَ مِنْ أَنْيَابِ الْفِيَلَةِ مُفَصّصاً بِالدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ وَالزَّبَرْجَدِ وَاللُّؤْلُؤِ. وَقَدْ جُعل لَهُ دَرَجَةً مِنْهَا مُفَصّصة بِالدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ وَالزَّبَرْجَدِ ثُمَّ أَمَرَ بِالْكُرْسِيِّ فحُفّ مِنْ جَانِبَيْهِ بِالنَّخْلِ، نَخْلٌ مِنْ ذَهَبٍ شَمَارِيخُهَا مِنْ يَاقُوتٍ وَزَبَرْجَدٍ وَلُؤْلُؤٍ. وَجُعِلَ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ الَّتِي عَنْ يَمِينِ الْكُرْسِيِّ طَوَاوِيسُ مَنْ ذَهَبٍ، ثُمَّ جُعِلَ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ الَّتِي عَلَى يَسَارِ الْكُرْسِيِّ نُسُورٌ مَنْ ذَهَبٍ مُقَابَلَةَ الطَّوَاوِيسِ، وَجُعِلَ على يمين الدرجة الأولى شَجَرَتَا صَنَوْبَرٍ مَنْ ذَهَبٍ، وَعَنْ يَسَارِهَا أَسَدَانِ مَنْ ذَهَبٍ وَعَلَى رُءُوسِ الْأَسَدَيْنِ عَمُودَانِ مِنْ زَبَرْجَدٍ وَجُعِلَ مِنْ جَانِبَيِ الْكُرْسِيِّ شَجَرَتَا كَرْمٍ مَنْ ذَهَبٍ قَدْ أَظَلَّتَا الْكُرْسِيَّ وَجُعِلَ عَنَاقِيدُهُمَا دُرًّا وَيَاقُوتًا أَحْمَرَ. ثُمَّ جُعل فَوْقَ دَرَج الْكُرْسِيِّ أسَدَان عَظِيمَانِ مِنْ ذَهَبٍ مُجَوَّفَانِ مَحْشُوَّانِ مِسْكًا وَعَنْبَرًا. فَإِذَا أَرَادَ سُلَيْمَانُ أَنْ يَصْعَدَ عَلَى كُرْسِيِّهِ اسْتَدَارَ الْأَسَدَانِ سَاعَةً ثُمَّ يَقَعَانِ [[في ت: "يقفان".]] فَيَنْضَحَانِ مَا فِي أَجْوَافِهِمَا مِنَ الْمِسْكِ وَالْعَنْبَرِ حَوْلَ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، ثُمَّ يُوضَعُ مِنْبَرَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَاحِدٌ لِخَلِيفَتِهِ وَالْآخِرُ لِرَئِيسِ أَحْبَارِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ذَلِكَ الزَّمَانِ. ثُمَّ يُوضَعُ أَمَامَ كُرْسِيِّهِ سَبْعُونَ مِنْبَرًا مِنْ ذَهَبٍ يَقْعُدُ عَلَيْهَا سَبْعُونَ قَاضِيًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَعُلَمَائِهِمْ وَأَهْلِ الشَّرَفِ مِنْهُمْ وَالطَوْلِ وَمِنْ خَلْفِ تِلْكَ الْمَنَابِرِ كُلِّهَا خَمْسَةٌ وَثَلَاثُونَ مِنْبَرًا مِنْ ذَهَبٍ لَيْسَ عَلَيْهَا أَحَدٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَصْعَدَ عَلَى كُرْسِيِّهِ وَضَعَ قَدَمَيْهِ عَلَى الدَّرَجَةِ السُّفْلَى فَاسْتَدَارَ الْكُرْسِيُّ كُلُّهُ بِمَا فِيهِ وَمَا عَلَيْهِ، وَيَبْسُطُ الْأَسَدُ يَدَهُ الْيُمْنَى وَيَنْشُرُ النَّسْرُ جَنَاحَهُ الْأَيْسَرَ ثُمَّ يَصْعَدُ [سُلَيْمَانُ] [[زيادة من ت، أ.]] عَلَى الدَّرَجَةِ الثَّانِيَةِ فَيَبْسُطُ الْأَسَدُ يَدَهُ الْيُسْرَى وَيَنْشُرُ النَّسْرُ جَنَاحَهُ الْأَيْمَنَ فَإِذَا اسْتَوَى سُلَيْمَانُ عَلَى الدَّرَجَةِ الثَّالِثَةِ وَقَعَدَ عَلَى الْكُرْسِيِّ أَخَذَ نَسْرٌ مِنْ تِلْكَ النُّسُورِ عَظِيمٌ تَاجَ سُلَيْمَانَ فَوَضَعَهُ عَلَى رَأْسِهِ فَإِذَا وَضَعَهُ عَلَى رَأْسِهِ اسْتَدَارَ الْكُرْسِيُّ بِمَا فِيهِ كَمَا تَدُورُ الرَّحَى الْمُسْرِعَةُ. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَمَا الَّذِي يُدِيرُهُ يَا أَبَا إِسْحَاقَ؟ قَالَ: تِنِّينٌ مِنْ ذَهَبِ ذَلِكَ الْكُرْسِيِّ عَلَيْهِ وَهُوَ عَظِيمٌ مِمَّا عَمِلَهُ صَخْرٌ الْجِنِّيُّ فَإِذَا أَحَسَّتْ بِدَوَرَانِهِ تِلْكَ النُّسُورُ والأسْدُ وَالطَّوَاوِيسُ الَّتِي فِي أَسْفَلِ الْكُرْسِيِّ دُرْنَ إِلَى أَعْلَاهُ فَإِذَا وَقَفَ وَقَفْنَ كُلُّهُنَّ مُنَكِّسَاتٍ رُءُوسَهُنَّ عَلَى رَأْسِ سُلَيْمَانَ [ابْنِ دَاوُدَ] [[زيادة من أ.]] عَلَيْهِ [[في أ: "عليهما".]] السَّلَامُ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ يَنْضَحْنَ جَمِيعًا مَا فِي أَجْوَافِهِنَّ مِنَ الْمِسْكِ وَالْعَنْبَرِ عَلَى رَأْسِ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ. ثُمَّ تَتَنَاوَلُ حَمَامَةٌ مَنْ ذَهَبٍ وَاقِفَةٌ عَلَى عَمُودٍ مِنْ جَوْهَرٍ التوراةَ فَتَجْعَلُهَا فِي يَدِهِ فَيَقْرَؤُهَا سُلَيْمَانُ عَلَى النَّاسِ.
وَذَكَرَ تَمَامَ الْخَبَرِ [[في ت: "الحديث".]] وَهُوَ غَرِيبٌ جِدًّا.
﴿قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لأحَدٍ مِنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ قَالَ بَعْضُهُمْ: مَعْنَاهُ: لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي أَيْ: لَا يَصْلُحُ لِأَحَدٍ أَنْ يَسْلُبَنِيهِ كَمَا كَانَ مِنْ قَضِيَّةِ [[في ت: "في قصة"، وفي أ: "من قصة".]] الْجَسَدِ الَّذِي أُلْقِيَ عَلَى كُرْسِيِّهِ لَا أَنَّهُ يَحْجُرُ عَلَى مَنْ بَعْدَهُ مِنَ النَّاسِ. وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ سَأَلَ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى مُلْكًا لَا يَكُونُ لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ مِنَ الْبَشَرِ مِثْلُهُ، وَهَذَا هُوَ ظَاهِرُ السِّيَاقِ مِنَ الْآيَةِ وَبِهِ [[في ت، س، أ: "وبذلك".]] وَرَدَتِ الْأَحَادِيثُ الصَّحِيحَةُ مِنْ طُرُقٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ.
قَالَ [[في ت: "فروى".]] الْبُخَارِيُّ عِنْدَ تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا رَوْحٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّت عَلَيَّ الْبَارِحَةَ -أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا-لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصبحوا وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ: ﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لأحَدٍ مِنْ بَعْدِي﴾
قَالَ رَوْحٌ: فَرَدَّهُ خَاسِئًا [[صحيح البخاري برقم (٤٨٠٨) .]]
وَكَذَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ بِهِ [[صحيح مسلم برقم (٥٤١) والنسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٤٠) .]]
وَقَالَ مُسْلِمٌ فِي صَحِيحِهِ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ المُرَادي حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ حَدَّثَنِي رَبِيعَةَ بْنِ يَزيد عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي فَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ: "أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ". ثُمَّ قَالَ: "أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ" -ثَلَاثًا-وَبَسَطَ يَدَه كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُهُ قَبْلَ ذَلِكَ وَرَأَيْنَاكَ بَسَطَتْ يَدَكَ؟ قَالَ: "إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ -ثَلَاثَ مَرَّاتٍ-ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ التَّامَّةِ. فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أخْذَه وَاللَّهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا يَلْعَبُ بِهِ صِبْيَانُ [[في ت، س، أ: "ولدان".]] أَهْلِ الْمَدِينَةِ" [[صحيح مسلم برقم (٥٤٢) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ حَاجِبُ سُلَيْمَانَ قَالَ: رَأَيْتُ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ قَائِمًا يُصَلِّي، فَذَهَبْتُ أَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَرَدَّنِي ثُمَّ قَالَ [[في ت: "بإسناده".]] حَدَّثَنِي [[في ت: "عن".]] أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَامَ يُصَلِّي [[في ت: "فصلى".]] صَلَاةَ الصُّبْحِ وَهُوَ خَلْفُهُ فَقَرَأَ فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صِلَاتِهِ قَالَ: "لَوْ رَأَيْتُمُونِي وَإِبْلِيسَ فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي فَمَا زِلْتُ أَخْنُقُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ لُعَابِهِ بَيْنَ أُصْبُعَيَّ هَاتَيْنِ -الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا-وَلَوْلَا دَعْوَةُ أَخِي سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ [[في ت: "أصبح".]] مَرْبُوطًا بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، يَتَلَاعَبُ بِهِ صِبْيَانُ الْمَدِينَةِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَلَّا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ أَحَدٌ فَلْيَفْعَلْ".
وَقَدْ رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ: "مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَلَّا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ أَحَدٌ فَلْيَفْعَلْ" عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيج عَنْ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيِّ بِهِ [[المسند (٣/٨٣) وسنن أبي داود برقم (٦٩٩) .]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَهُوَ فِي حَائِطٍ لَهُ بِالطَّائِفِ يُقَالُ لَهُ: "الْوَهْطُ"، وَهُوَ مُخَاصر فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ يُزَنّ بشُرْب الْخَمْرِ، فَقُلْتُ: بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثٌ أَنَّهُ "مِنْ شَرِبِ شَرْبَةَ خَمْر لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ -عَزَّ وَجَلَّ-لَهُ تَوبَةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، وَإِنَّ الشَّقِيَّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَإِنَّهُ مَنْ أَتَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ لا يَنْهَزه إلا الصلاة فيه، خرج مِنْ خَطِيئَتِهِ مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، فَلَمَّا سَمِعَ الْفَتَى ذَكْرَ الْخَمْرِ اجْتَذَبَ يَدَهُ مِنْ يَدِهِ ثُمَّ انْطَلَقَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو [[في أ: "عمرو رضي الله عنهما".]] إِنِّي لَا أُحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ عَلَيّ مَا لَمْ أَقُلْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "مَنْ شَرِبَ مِنَ الْخَمْرِ شَرْبَةً لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ [[في أ: "وإن".]] عَادَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ. فَإِنْ عَادَ -قَالَ فَلَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ-فَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ رَدْغَة الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" قَالَ: وَسَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ ثُمَّ أَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ نُورِهِ يَوْمَئِذٍ اهْتَدَى وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ فَلِذَلِكَ [[في أ: "ولذلك".]] أَقُولُ جَفَّ الْقَلَمُ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" وَسَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "إِنَّ سُلَيْمَانَ سَأَلَ اللَّهَ تَعَالَى ثَلَاثًا فَأَعْطَاهُ اثْنَتَيْنِ وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ تَكُونَ لَنَا الثَّالِثَةُ: سَأَلَهُ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَسَأَلَهُ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَسَأَلَهُ أَيُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ مَنْ بَيْتِهِ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ [[في ت، س، أ: "مثل يوم".]] وَلَدَتْهُ أُمُّهُ فَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللَّهُ تَعَالَى [[في ت، س، أ: "عز وجل".]] قَدْ أَعْطَانَا إِيَّاهَا" [[المسند (٢/١٧٦) .]]
وَقَدْ رَوَى هَذَا الْفَصْلَ الْأَخِيرَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ مِنْ طُرُقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَيْرُوزَ الدَّيْلِمِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ سُلَيْمَانَ لَمَّا بَنَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ سَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خِلَالًا ثَلَاثًا ... " وَذَكَرَهُ [[سنن النسائي (٢/٤٣) وسنن ابن ماجة برقم (١٤٠٨) .]]
وَقَدْ رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ رَافِعِ بْنِ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، بِإِسْنَادٍ وَسِيَاقٍ غَرِيبَيْنِ فَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبة الْعَسْقَلَانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ سُوَيْد حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَة عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ [[في ت: "وروى الطبراني بإسناده".]] عَنْ رَافِعِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِدَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ابْنِ لِي بَيْتًا فِي الْأَرْضِ. فَبَنَى دَاوُدُ [[في ت: "داود عليه السلام".]] بَيْتًا لِنَفْسِهِ قَبْلَ الْبَيْتِ الَّذِي أُمِرَ بِهِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: يَا دَاوُدُ نَصَبْتَ بَيْتَكَ قَبْلَ بَيْتِي؟ قَالَ: يَا رَبِّ هَكَذَا قَضَيْتَ [[في ت، س، أ: "هكذا قلت فيما قضيت".]] مَنْ مَلَكَ اسْتَأْثَرَ ثُمَّ أَخَذَ فِي بِنَاءِ الْمَسْجِدِ فَلَمَّا تَمَّ السُّورَ سَقَطَ ثَلَاثًا فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ: يَا دَاوُدُ [[في ت، أ: "فأوحى الله إليه"]] إِنَّكَ لَا تَصْلُحُ أَنْ تَبْنِيَ لِي بَيْتًا قَالَ: وَلِمَ يَا رَبِّ؟ قَالَ: لِمَا جَرَى عَلَى يَدَيْكَ مِنَ الدِّمَاءِ. قَالَ: يَا رَبِّ أَوْ مَا كَانَ [[في ت، س، أ: "أو لم يكن".]] ذَلِكَ فِي هَوَاكَ وَمَحَبَّتِكَ؟ قَالَ: بَلَى وَلَكِنَّهُمْ عِبَادِي وَأَنَا أَرْحَمُهُمْ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: لَا تَحْزَنْ فَإِنِّي سَأَقْضِي بِنَاءَهُ عَلَى يَدَيِ ابْنِكَ سُلَيْمَانَ. فَلَمَّا مَاتَ دَاوُدُ أَخْذَ سُلَيْمَانُ فِي بِنَائِهِ فَلَمَّا تَمَّ قَرَّبَ الْقَرَابِينَ وَذَبَحَ الذَّبَائِحَ وَجَمَعَ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: قَدْ أَرَى سرورَك بِبُنْيَانِ بَيْتِي فَسَلْنِي أُعْطِكَ. قَالَ: أَسْأَلُكَ ثَلَاثَ خِصَالٍ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَكَ وَمُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي وَمَنْ أَتَى هَذَا الْبَيْتَ لَا يُرِيدُ إلا الصلاة فيه خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أما ثِنْتَانِ فَقَدْ أُعْطِيَهُمَا وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أُعْطِيَ الثَّالِثَةَ" [[المعجم الكبير (٥/٢٤) قال الهيثمي في المجمع (٤/٨) : "فيه محمد بن أيوب بن سويد الرملي وهو متهم بالوضع".]]
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عُمَر بْنُ رَاشِدٍ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ دَعَا دُعَاءً إِلَّا اسْتَفْتَحَهُ بِـ "سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّي الْأَعْلَى الْعَلِيِّ الْوَهَّابِ" [[المسند (٤/٥٤) قال الهيثمي في المجمع (١٠/١٥٦) : "فيه عمر بن راشد اليمامي وثقه غير واحد، وبقية رجاله رجال الصحيح".]]
وَقَدْ قَالَ [[في ت: "وروى".]] أَبُو عَبِيدٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بَرْقان عَنْ صَالِحِ بْنِ مِسْمَارٍ قَالَ: لَمَّا مَاتَ نَبِيُّ اللَّهِ دَاوُدُ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى ابْنِهِ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِمَا [[في ت، أ: "عليه".]] السَّلَامُ: أَنْ سَلْنِي حَاجَتَكَ. قَالَ: أَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ لِي قَلْبًا يَخْشَاكَ كَمَا كَانَ قَلْبُ أَبِي وَأَنْ تَجْعَلَ قَلْبِي يُحِبُّكَ كَمَا كَانَ قَلْبُ أَبِي. فَقَالَ اللَّهُ: أَرْسَلْتُ إِلَى عَبْدِي وَسَأَلَتْهُ [[في ت، س: "أسأله".]] حَاجَتَهُ فَكَانَتْ [حَاجَتُهُ] [[زيادة من ت، س.]] أَنْ أَجْعَلَ قَلْبَهُ يَخْشَانِي وَأَنْ أَجْعَلَ قَلْبَهُ يُحِبُّنِي لأهَبَنّ لَهُ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ﴾ وَالَّتِي بَعْدَهَا، قَالَ: فَأَعْطَاهُ [اللَّهُ] [[زيادة من أ.]] مَا أَعْطَاهُ وَفِي الْآخِرَةِ لَا حِسَابَ عَلَيْهِ.
هَكَذَا أَوْرَدَهُ أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ عَسَاكِرَ فِي تَرْجَمَةِ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي تَارِيخِهِ [[تاريخ دمشق (٧/٥٦٩) "القسم المخطوط".]]
وَرُوِيَ عَنْ بَعْضِ السَّلَفِ أَنَّهُ قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ دَاوُدَ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ت، س، أ.]] أَنَّهُ قَالَ: "إِلَهِي كُنْ لِسُلَيْمَانَ كَمَا كُنْتَ لِي": فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: أَنْ قُلْ لِسُلَيْمَانَ: يَكُونُ لِي كَمَا كُنْتَ لِي، أَكُونُ لَهُ كَمَا كنتُ لَكَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ﴾ قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَمَّا عَقَرَ سُلَيْمَانُ الْخَيْلَ غَضَبًا لِلَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ عَوَّضَهُ اللَّهُ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا وَأَسْرَعُ الرِّيحُ الَّتِي غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿حَيْثُ أَصَابَ﴾ أَيْ: حَيْثُ أَرَادَ مِنَ الْبِلَادِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ﴾ أَيْ: مِنْهُمْ مَنْ هُوَ مُسْتَعْمَلٌ فِي الْأَبْنِيَةِ الْهَائِلَةِ مِنْ مَحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجَفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَاسِيَاتٍ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَعْمَالِ الشَّاقَّةِ الَّتِي لَا يَقْدِرُ عَلَيْهَا الْبَشَرُ وَطَائِفَةٌ غَوَّاصُونَ فِي الْبِحَارِ يَسْتَخْرِجُونَ مِمَّا [[في ت: "ما".]] فِيهَا مِنَ اللَّآلِئِ وَالْجَوَاهِرِ وَالْأَشْيَاءِ النَّفِيسَةِ الَّتِي لَا تُوجَدُ إِلَّا فِيهَا ﴿وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الأصْفَادِ﴾ أَيْ: مُوثَقُونَ فِي الْأَغْلَالِ وَالْأَكْبَالِ مِمَّنْ قَدْ تَمَرّد وَعَصَى وَامْتَنَعَ مِنَ الْعَمَلِ وَأَبَى أَوْ قَدْ أَسَاءَ فِي صنيعه واعتدى.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿هَذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ أَيْ: هَذَا الَّذِي أَعْطَيْنَاكَ مِنَ الْمُلْكِ التَّامِّ وَالسُّلْطَانِ الْكَامِلِ كَمَا سَأَلْتَنَا فَأَعْطِ مَنْ شِئْتَ وَاحْرِمْ مَنْ شِئْتَ، لَا حِسَابَ عَلَيْكَ، أَيْ: مَهْمَا فعلتَ فَهُوَ جَائِزٌ لَكَ احْكُمْ بِمَا شِئْتَ فَهُوَ صَوَابٌ. وَقَدْ ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ [[في أ: "الصحيح".]] أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لَمَّا خُيِّر بَيْنَ أَنْ يَكُونَ عَبْدًا رَسُولًا -وَهُوَ الَّذِي يَفْعَلُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ وَإِنَّمَا هُوَ قَاسِمٌ يَقْسِمُ بَيْنَ النَّاسِ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ بِهِ-وَبَيْنَ أَنْ يَكُونَ مَلِكًا نَبِيًّا يُعْطِي مَنْ يَشَاءُ وَيَمْنَعُ مَنْ يَشَاءُ بِلَا حِسَابٍ وَلَا جُنَاحٍ، اخْتَارَ الْمَنْزِلَةَ الْأُولَى بَعْدَ مَا اسْتَشَارَ جِبْرِيلَ فَقَالَ لَهُ: تَوَاضَعْ فَاخْتَارَ الْمَنْزِلَةَ الْأُولَى لِأَنَّهَا أَرْفَعُ قَدْرًا عِنْدَ اللَّهِ وَأَعْلَى مَنْزِلَةً فِي الْمَعَادِ وَإِنْ كَانَتِ الْمَنْزِلَةُ الثَّانِيَةُ وَهِيَ النُّبُوَّةُ مَعَ الْمُلْكِ عَظِيمَةً أَيْضًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلِهَذَا لَمَّا ذَكَرَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَا أَعْطَى سُلَيْمَانَ فِي الدُّنْيَا نَبَّهَ عَلَى أَنَّهُ ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْضًا، فَقَالَ: ﴿وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ﴾ أَيْ: فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ.
وَٱذْكُرْ عَبْدَنَآ أَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُۥٓ أَنِّى مَسَّنِىَ ٱلشَّيْطَٰنُ بِنُصْبٍۢ وَعَذَابٍ
And remember Our servant Job, when he called to his Lord, "Indeed, Satan has touched me with hardship and torment."
اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ (بار الہٰا) شیطان نے مجھ کو ایذا اور تکلیف دے رکھی ہے
و به خاطر بیاور بنده ما ایّوب را، هنگامی که پروردگارش را خواند (و گفت: پروردگارا!) شیطان مرا به رنج و عذاب افکنده است.
Tafsir Ibn Kathir
And remember Our servant Ayyub, when he invoked his Lord (saying): "Verily, Shaytan has afflicted me with distress and torment! (41)(Allah said to him): "Strike the ground with your foot. This is (a spring of) water to wash in, cool and a drink. (42)And We gave him (back) his family, and along with them the like thereof, as a mercy from Us, and a reminder for those who understand (43)"And take in your hand a bundle of thin grass and strike therewith (your wife), and break not your oath." Truly, We found him patient. How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)(44)
Ayyub
Here Allah tells us about His servant and Messenger Ayyub (Job) and how He tested him. These tests afflicted his body, his wealth and his children, until there was no part of his body that was healthy except his heart. Then he had nothing left in this world which he could use to help him deal with his sickness or the predicament he was in, besides his wife, who retained her devotion to him because of her faith in Allah and His Messenger. She used to work for people as a paid servant, and she fed and served him (Ayyub) for nearly eighteen years. Before that, he was very rich and had many children, being well off in worldly terms. All of that had been taken away until he ended up being thrown into the city dump where he stayed all this time, shunned by relatives and strangers alike, with the exception of his wife – may Allah be pleased with her. She did not leave him, morning and evening, except for when she was serving people, then she would come straight back to him. When this had gone on for a long time, and things had gotten very bad, and the time allotted by divine decree had come to an end, Ayyub prayed to the Lord of the worlds, the God of the Messengers, and said:
أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
(Verily, distress has seized me, and You are the Most Merciful of all those who show mercy.)(21:83). And according to this Ayah:
وَاذْكُرْ عَبْدَنَا أَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ
(And remember Our servant Ayyub, when he invoked his Lord (saying): "Verily, Shaytan has afflicted me with distress and torment!") It was said that "distress" referred to bodily afflictions and "torment" referred to the loss of his wealth and children. Then the Most Merciful of those who show mercy responded to him, telling him to stand up and strike the ground with his foot. He did this, and Allah caused a spring of water to flow. He commanded him to wash in it, and all the pain and affliction in his body disappeared. Then He commanded him to strike the ground in a different place, and Allah caused another spring to flow, and Ayyub was commanded to drink from it. Then all his internal problems disappeared, and he became healthy again, inside and out. Allah says:
ارْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ
(Strike the ground with your foot. This is (a spring of) water to wash in, cool and a (refreshing) drink.) Ibn Jarir and Ibn Abi Hatim recorded that Anas bin Malik, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
إِنَّ نَبِيَّ اللهِ أَيُّوبَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لَبِثَ بِهِ بَلَاؤُهُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَرَفَضَهُ الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ، إِلَّا رَجُلَيْنِ كَانَا مِنْ أَخَصِّ إِخْوَانِهِ بِهِ، كَانَا يَغْدُوَانِ إِلَيْهِ وَيَرُوحَانِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: تَعْلَمُ وَاللهِ لَقَدْ أَذْنَبَ أَيُّوبُ ذَنْبًا مَا أَذْنَبَهُ أَحَدٌ مِنَ الْعَالَمِينَ، قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: مُنْذُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً لَمْ يَرْحَمْهُ اللهُ فَيَكْشِفَ مَا بِهِ، فَلَمَّا رَاحَا إِلَيْهِ لَمْ يَصْبِرِ الرَّجُلُ حَتّٰى ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ أَيُّوبُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: لَا أَدْرِي مَا تَقُولُ، غَيْرَ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ أَمُرُّ عَلَى الرَّجُلَيْنِ يَتَنَازَعَانِ فَيَذْكُرَانِ اللهَ تَعَالَى، فَأَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَأُكَفِّرُ عَنْهُمَا كَرَاهِيَةَ أَنْ يُذْكَرَ اللهُ تَعَالَى إِلَّا فِي حَقٍّ، قَالَ: وَكَانَ يَخْرُجُ إِلَى حَاجَتِهِ،فَإِذَا قَضَاهَا أَمْسَكَتِ امْرَأَتُهُ بِيَدِهِ حَتّٰى يَبْلُغَ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأَ عَلَيْهَا، فَأَوْحَى اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى أَيُّوبَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَن ارْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ فَاسْتَبْطَأَتْهُ (فَتَلَقَّتْهُ) تَنْظُرُ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا وَقَدْ أَذْهَبَ اللهُ مَا بِهِ مِنَ الْبَلَاءِ وَهُوَ عَلَى أَحْسَنِ مَا كَانَ، فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ: أَيْ بَارَكَ اللهُ فِيكَ، هَلْ رَأَيْتَ نَبِيَّ اللهِ هَذَا الْمُبْتَلَى، فَوَاللهِ عَلَى ذَلِكَ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشْبَهَ بِهِ مِنْكَ إِذْ كَانَ صَحِيحًا. قَالَ: فَإِنِّي أَنَا هُوَ، قَالَ: وَكَانَ لَهُ أَنْدَرَانِ: أَنْدَرٌ لِلْقَمْحِ وَأَنْدَرٌ لِلشَّعِيرِ، فَبَعَثَ اللهُ تَعَالَى سَحَابَتَيْنِ فَلَمَّا كَانَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى أَنْدَرِ الْقَمْحِ، أَفْرَغَتْ فِيهِ الذَّهَبَ حَتّٰى فَاضَ، وَأَفْرَغَتِ الْأُخْرَى فِي أَنْدَرِ الشَّعِيرِ حَتّٰى فَاضَ
(Allah's Prophet Ayyub, peace be upon him, suffered for eighteen years from his affliction and was shunned by relatives and strangers alike, besides two men who were the closest of his brothers to him. They used to visit him every morning and every evening. One of them said to his companion, "You know, by Allah, that Ayyub committed a great sin which nobody in the world ever committed." His companion said, "Why are you saying that?" He said, "For eighteen years he has been suffering and Allah has not had mercy on him and relieve his suffering." When he went to him the next morning, the (second) man could not wait to tell this to Ayyub. Ayyub, peace be upon him, said, "I do not know what you are talking about, but Allah knows if I passed by two men who were arguing and they mentioned the Name of Allah, I would go back home and offer expiation lest they had mentioned the Name of Allah in an improper manner. " Whenever he went out to answer the call of nature, when he finished, his wife would take his hand until he came back home. One day he took a long time, and Allah had revealed to Ayyub, (Strike the ground with your foot. This is (a spring of) water to wash in, cool and a (refreshing) drink.) She thought that he had taken too long, so she turned to look at him, and saw that Allah had taken away the afflictions he had been suffering, and he looked better than he had ever looked. When she saw him, she said, "May Allah bless you! Have you seen Allah's Prophet, the one who is sorely tested? By Allah, I have never seen a man who looks more like him than you, if he were healthy." He said, "I am he." He had two threshing floors, one for wheat and one for barley. Allah sent two clouds, and when one of them reached the threshing floor of the wheat, it rained gold until it was full. The other rained gold on the threshing floor of the barley until it was full.) This is the wording of Ibn Jarir, may Allah have mercy on him.
Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ أَيُّوبُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يَحْثُو فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَاهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لَا غِنٰى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ
(While Ayyub was bathing naked, locusts of gold fell upon him. Ayyub, peace be upon him, began gathering them in his garment. Then his Lord called to him, "O Ayyub, have I not made you so rich that you have no need of what you see?" He, peace be upon him, said, "Yes, O Lord! But I cannot do without Your blessing!") This was only recorded by Al-Bukhari.
وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ رَحْمَةً مِنَّا وَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ
(And We gave him (back) his family, and along with them the like thereof, as a mercy from Us, and a reminder for those who understand.) Al-Hasan and Qatadah said, "Allah brought his family themselves back to life, and added others like them."
رَحْمَةً مِنَّا
(as a mercy from Us,) means, in return for his patience, steadfastness, repentance, humility and constant turning to Allah.
وَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ
(and a reminder for those who understand.) means, for those who understand that the consequence of patience is a solution and a way out.
وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلَا تَحْنَثْ ۗ
(And take in your hand a bundle of thin grass and strike therewith (your wife), and break not your oath.) Ayyub, peace be upon him, got angry with his wife and was upset about something she had done, so he swore an oath that if Allah healed him, he would strike her with one hundred blows. When Allah healed him, how could her service, mercy, compassion and kindness be repaid with a beating? So Allah showed him a way out, which was to take a bundle of thin grass, with one hundred stems, and hit her with it once. Thus he fulfilled his oath and avoided breaking his vow. This was the solution and way out for one who had Taqwa of Allah and turned to Him in repentance. Allah says:
إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا ۚ نِعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ
(Truly, We found him patient. How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)!) Allah praised and commanded him, saying,
نِعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ
(How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)!) Allah says:
وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا - وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ ۚ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا
(And whosoever has Taqwa of Allah, He will make a way for him to get out (from every difficulty). And He will provide him from (sources) he never could imagine. And whosoever puts his trust in Allah, then He will suffice him. Verily, Allah will accomplish his purpose. Indeed Allah has set a measure for all things.)(65:2-3)
Tafsir Ibn Kathir
حضرت ایوب ؑ اور ان کا صبر۔ حضرت ایوب ؑ کا ذکر ہو رہا ہے اور ان کے صبر اور امتحان میں پاس ہونے کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ مال برباد ہوگیا اولادیں مرگئیں جسم مریض ہوگیا یہاں تک کہ سوئی کے ناکے کے برابر سارے جسم میں ایسی جگہ نہ تھی جہاں بیماری نہ ہو صرف دل سلامت رہ گیا اور پھر فقیری اور مفلسی کا یہ حال تھا کہ ایک وقت کا کھانا پاس نہ تھا کوئی نہ تھا جو خبر گیر ہوتا سوائے ایک بیوی صاحبہ ؓ کے جن کے دل میں خوف اللہ تھا اور اپنے خاوند اللہ کے رسول ﷺ کی محبت تھی۔ لوگوں کا کام کاج کر کے اپنا اور اپنے میاں کا پیٹ پالتی تھیں آٹھ سال تک یہی حال رہا حالانکہ اس سے پہلے ان سے بڑھ کر مالدار کوئی نہ تھا۔ اولاد بھی بکثرت تھی اور دنیا کی ہر راحت موجود تھی۔ اب ہر چیز چھین لی گئی تھی اور شہر کا کوڑا کرکٹ جہاں ڈالا جاتا تھا وہیں آپ کو لا بٹھایا تھا۔ اسی حال میں ایک دو دن نہیں سال دو سال نہیں آٹھ سال کامل گذارے اپنے اور غیر سب نے منہ پھیرلیا تھا۔ خیریت پوچھنے والا بھی کوئی نہ تھا۔ صرف آپ کی یہی ایک بیوی صاحبہ تھیں جو ہر وقت دن اور رات آپ کی خدمت میں کمر بستہ تھیں۔ ہاں پیٹ پالنے کے لئے محنت مزدوری کے وقت آپ کے پاس سے چلی جاتی تھیں یہاں تک کہ دن پھرے اور اچھا وقت آگیا تو رب العالمین الہ المرسلین کی طرف تضرع وزاری کی اور کپکپاتے ہوئے کلیجے سے دل سے دعا کی کہ اے میرے پالنہار اللہ مجھے دکھ نے تڑپا دیا ہے اور تو ارحم الراحمین ہے یہاں جو دعا ہے اس میں جسمانی تکلیف اور مال و اولاد کے دکھ درد کا ذکر کیا۔ اسی وقت رحیم و کریم اللہ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور حکم ہوا کہ زمین پر اپنا پاؤں مارو۔ پاؤں کے لگتے ہی وہاں ایک چشمہ ابلنے لگا حکم ہوا کہ اس پانی سے غسل کرلو۔ غسل کرتے ہی بدن کی تمام بیماری اس طرح جاتی رہی گویا تھی ہی نہیں۔ پھر حکم ہوا کہ اور جگہ ایڑی لگاؤ وہاں پاؤں مارتے ہی دوسرا چشمہ جاری ہوگیا حکم ہوا کہ اس کا پانی پی لو اس پانی کے پیتے ہی اندرونی بیماریاں بھی جاتی رہیں اور ظاہر و باطن کی عافیت اور کامل تندرستی حاصل ہوگئی۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اٹھارہ سال تک اللہ کے یہ پیغمبر ﷺ دکھ درد میں مبتلا رہے اپنے اور غیر سب نے چھوڑ دیا ہاں آپ کے مخلص دوست صبح شام خیریت خبر کے لئے آ جایا کرتے تھے ایک مرتبہ ایک نے دوسرے سے کہا میرا خیال یہ ہے کہ ایوب نے اللہ کی کوئی بڑی نافرمانی کی ہے کہ اٹھارہ سال سے اس بلا میں پڑا ہوا ہے اور اللہ اس پر رحم کرے اس دوسرے شخص نے شام کو حضرت ایوب ؑ سے اس کی یہ بات ذکر کردی۔ آپ کو سخت رنج ہوا اور فرمایا میں نہیں جانتا کہ وہ ایسا کیوں کہتے ہیں۔ اللہ خوب جانتا ہے میری یہ حالت تھی کہ جب دو شخصوں کو آپس میں جھگڑتے دیکھا اور دونوں اللہ کو بیچ میں لاتے تو مجھ سے یہ نہ دیکھا جاتا کہ اللہ تعالیٰ کے عزیز نام کی اس طرح یاد کی جائے کیونکہ دو میں سے ایک تو ضرور مجرم ہوگا اور دونوں اللہ کا نام لے رہے ہیں تو میں اپنے پاس سے دے دلا کر ان کے جھگڑے کو ختم کردیتا کہ نام اللہ کی بےادبی نہ ہو۔ آپ سے اس وقت چلا بھرا بلکہ اٹھا بیٹھا بھی نہیں جاتا تھا پاخانے کے بعد آپ کی بیوی صاحبہ آپ کو اٹھا کر لاتی تھیں۔ ایک مرتبہ وہ نہیں تھیں آپ کو بہت تکلیف ہوئی اور دعا کی اور اللہ کی طرف سے وحی ہوئی کہ زمین پر لات مار دو۔ بہت دیر کے بعد جب آپ کی بیوی صاحبہ آئیں تو دیکھا کہ مریض تو ہے نہیں کوئی اور شخص تندرست نورانی چہرے والا بیٹھا ہوا ہے پہچان نہ سکیں اور دریافت کرنے لگیں کہ اے اللہ کے نیک بندے یہاں اللہ کے ایک نبی جو درد دکھ میں مبتلا تھے انہیں دیکھا ہے ؟ واللہ کہ جب وہ تندرست تھے تو قریب قریب تم جیسے ہی تھے، تب آپ نے فرمایا وہ میں ہی ہوں۔ راوی کہتا ہے آپ کی دو کوٹھیاں تھیں ایک گیہوں کیلئے اور ایک جو کے لئے۔ اللہ تعالیٰ نے دو ابر بھیجے ایک میں سونا برسا اور ایک کوٹھی اناج کی اس سے بھر گئی دوسرے میں سے بھی سونا برسا اور دوسری کوٹھی اس سے بھر گئی (ابن جریر) صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں حضرت ایوب ؑ ننگے ہو کر نہا رہے تھے جو آسمان سے سونے کی ٹٹڈیاں برسنے لگیں آپ نے جلدی جلدی انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنی شروع کیں تو اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ اے ایوب کیا میں نے تمہیں غنی اور بےپرواہ نہیں کر رکھا ؟ آپ نے جواب دیا ہاں الٰہی بیشک تو نے مجھے بہت کچھ دے رکھا ہے میں سب سے غنی اور بےنیاز ہوں لیکن تیری رحمت سے بےنیاز نہیں ہوں بلکہ اس کا تو پورا محتاج ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس صابر پیغمبر ﷺ کو نیک بدلہ اور بہتر جزائیں عطا فرمائیں۔ اولاد بھی دی اور اسی کے مثل اور بھی دی بلکہ حضرت حسن اور قتادہ سے منقول ہے کہ مردہ اولاد اللہ نے زندہ کردی اور اتنی ہی اور نئی دی۔ یہ تھا اللہ کا رحم جو ان کے صبر و استقلال رجوع الی اللہ تواضع اور انکساری کے بدلے اللہ نے انہیں دیا اور عقلمندوں کے لئے نصیحت و عبرت ہے وہ جان لیتے ہیں کہ صبر کا انجام کشادگی ہے اور رحمت و راحت ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ حضرت ایوب ؑ اپنی بیوی کے کسی کام کی وجہ سے ان پر ناراض ہوگئے تھے بعض کہتے ہیں وہ اپنے بالوں کی ایک لٹ بیچ کر ان کے لئے کھانا لائی تھیں اس پر آپ ناراض ہوئے تھے اور قسم کھائی تھی کہ شفا کے بعد سو کوڑے ماریں گے دوسروں نے وجہ ناراضگی اور بیان کی ہے۔ جبکہ آپ تندرست اور صحیح سالم ہوگئے تو ارادہ کیا کہ اپنی قسم کو پورا کریں لیکن ایسی نیک صفت عورت اس سزا کے لائق نہ تھیں جو حضرت ایوب نے طے کر رکھی تھی جس عورت نے اس وقت خدمت کی جبکہ کوئی ساتھ نہ تھا اسی لئے رب العالمین ارحم الراحمین نے ان پر رحم کیا اور اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ قسم پوری کرنے کے لئے کھجور کا ایک خوشہ لے لو جس میں ایک سو سیخیں ہوں اور ایک انہیں مار دو اس صورت میں قسم کا خلاف نہ ہوگا اور ایک ایسی صابرہ شاکرہ نیک بیوی پر سزا بھی نہ ہوگی۔ یہی دستور الٰہی ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو جو اس سے ڈرتے رہتے ہیں برائیوں اور بدیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت ایوب کی ثناء و صفت بیان فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بڑا صابر و ضابط پایا وہ بڑا نیک اور اچھا بندہ ثابت ہوا۔ اس کے دل میں ہماری سچی محبت تھی وہ ہماری ہی طرف جھکتا رہا اور ہمیں سے لو لگائے رہا، اسی لئے فرمان اللہ ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا رہتا ہے اللہ اس کے لئے چھٹکارے کی صورت نکال دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی پہنچاتا ہے جو اس کے خیال میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر توکل رکھنے والوں کو اللہ کافی ہے۔ اللہ اپنے کام میں پورا اترتا ہے اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ سمجھدار علماء کرام نے اس آیت سے بہت سے ایمانی مسائل اخذ کئے ہیں واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
يَذْكُرُ تَعَالَى عَبْدَهُ وَرَسُولَهُ أَيُّوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَمَا كَانَ ابْتَلَاهُ تَعَالَى بِهِ مِنَ الضُّرِّ فِي جَسَدِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مَنْ جَسَدِهِ مَغْرز إِبْرَةٍ سَلِيمًا سِوَى قَلْبِهِ وَلَمْ يَبْقَ لَهُ مَنْ حَالِ الدُّنْيَا شَيْءٌ يَسْتَعِينُ بِهِ عَلَى مَرَضِهِ وَمَا هُوَ فِيهِ غَيْرَ أَنَّ زَوْجَتَهُ حَفِظَتْ وِدَّهُ لِإِيمَانِهَا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَكَانَتْ تَخْدُمُ النَّاسَ بِالْأُجْرَةِ [[في أ: "بالأجر".]] وَتُطْعِمُهُ وَتَخْدُمُهُ نَحْوًا مِنْ ثَمَانِي عَشْرَةَ سَنَةٍ. وَقَدْ كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ فِي مَالٍ جَزِيلٍ وَأَوْلَادٍ وَسَعَةٍ طَائِلَةٍ مِنَ الدُّنْيَا فَسُلبَ جَمِيعَ ذَلِكَ حَتَّى آلَ بِهِ الْحَالُ إِلَى أَنْ أُلْقِيَ عَلَى مَزْبَلَةٍ مِنْ مَزَابِلِ الْبَلْدَةِ هَذِهِ الْمُدَّةَ بِكَمَالِهَا وَرَفَضَهُ الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ سِوَى زَوْجَتِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَإِنَّهَا كَانَتْ لَا تُفَارِقُهُ صَبَاحًا وَ [لَا] [[زيادة من أ.]] مَسَاءً إِلَّا بِسَبَبِ خِدْمَةِ النَّاسِ ثُمَّ تَعُودُ إِلَيْهِ قَرِيبًا. فَلَمَّا طَالَ الْمَطَالُ وَاشْتَدَّ الْحَالُ وَانْتَهَى الْقَدَرُ الْمَقْدُورُ وَتَمَّ الْأَجَلُ الْمُقَدَّرُ تَضَرَّعَ [[في ت، س: "ضرع".]] إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ وَإِلَهِ الْمُرْسَلِينَ فَقَالَ: ﴿أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ: ٨٣] وَفِي هَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ قَالَ: رَبِّ إِنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ، قِيلَ: بِنُصْبٍ فِي بَدَنِي وَعَذَابٍ فِي مَالِي وَوَلَدِي. فَعِنْدَ ذَلِكَ اسْتَجَابَ لَهُ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ مِنْ مَقَامِهِ وَأَنْ يَرْكُضَ الْأَرْضَ بِرِجْلِهِ. فَفَعَلَ فَأَنْبَعَ اللَّهُ عَيْنًا وَأَمَرَهُ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنْهَا فَأَذْهَبَ جَمِيعَ مَا كَانَ فِي بَدَنِهِ مِنَ الْأَذَى [[في ت، س: "ما كان به من الأذى".]] ثُمَّ أَمَرَهُ فَضَرَبَ الْأَرْضَ فِي مَكَانٍ آخَرَ فَأَنْبَعَ لَهُ عَيْنًا أُخْرَى وَأَمَرَهُ أَنْ يَشْرَبَ مِنْهَا فَأَذْهَبَتْ مَا كَانَ فِي بَاطِنِهِ [[في أ: "بباطنه".]] مِنَ السُّوءِ وَتَكَامَلَتِ الْعَافِيَةُ ظَاهِرًا وَبَاطِنًا وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ﴾
قَالَ [[في ت: "روى".]] ابْنُ جَرِيرٍ، وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ جَمِيعًا: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ [[في ت: "بسندهما".]] عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ أَيُّوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَبِثَ بِهِ بَلَاؤُهُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً فَرَفَضَهُ الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ إِلَّا رَجُلَيْنِ كَانَا مِنْ أَخَصِّ إِخْوَانِهِ بِهِ كَانَا يَغْدُوَانِ إِلَيْهِ وَيَرُوحَانِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: تَعَلَّمْ -وَاللَّهِ-لَقَدْ أَذْنَبَ أَيُّوبُ ذَنْبًا مَا أَذْنَبَهُ أَحَدٌ مِنَ الْعَالَمِينَ. قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: مِنْ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً لَمْ يَرْحَمْهُ اللَّهُ، فيكشفَ مَا بِهِ [[في أ: "ما به من مرضه".]] فَلَمَّا رَاحَا إِلَيْهِ لَمْ يَصْبِرِ الرَّجُلُ حَتَّى ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ. فَقَالَ أَيُّوبُ: لَا أَدْرِي مَا تَقُولُ غَيْرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ أَمُرُّ عَلَى الرَّجُلَيْنِ يَتَنَازَعَانِ فَيَذْكُرَانِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَأُكَفِّرُ عَنْهُمَا، كَرَاهِيَةَ أَنْ يَذْكُرَا اللَّهَ إِلَّا فِي حَقٍّ. قَالَ: وَكَانَ [[في أ: "وكان أيوب".]] يَخْرُجُ إِلَى حَاجَتِهِ فَإِذَا قَضَاهَا أَمْسَكَتِ امْرَأَتُهُ بِيَدِهِ حَتَّى يَبْلُغَ فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأَ عَلَيْهَا وَأَوْحَى اللَّهُ تَعَالَى إِلَى أَيُّوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنِ ﴿ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ﴾ فَاسْتَبْطَأَتْهُ فَتَلَقَّتْهُ تَنْظُرُ فَأَقْبَلَ [[في أ: "وأقبل".]] عَلَيْهَا قَدْ أَذْهَبَ اللَّهُ مَا بِهِ مِنَ الْبَلَاءِ وَهُوَ عَلَى أَحْسَنِ مَا كَانَ. فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ: أَيْ بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ هَلْ رَأَيْتَ نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا الْمُبْتَلَى. فَوَاللَّهِ عَلَى ذَلِكَ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشْبَهَ بِهِ مِنْكَ إِذْ كَانَ صَحِيحًا. قَالَ: فَإِنِّي [[في أ: "فقال إني".]] أَنَا هُوَ. قَالَ: وَكَانَ لَهُ أَنْدَرَانِ أَنْدَرُ لِلْقَمْحِ وَأَنْدَرُ لِلشَّعِيرِ فَبَعَثَ اللَّهُ سَحَابَتَيْنِ فَلَمَّا كَانَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى أَنْدَرِ الْقَمْحِ أَفْرَغَتْ فِيهِ الذَّهَبَ حَتَّى فَاضَ وَأَفْرَغَتِ الْأُخْرَى فِي أَنْدَرِ الشَّعِيرِ حَتَّى فَاضَ. هَذَا لَفْظُ ابْنُ جَرِيرٍ رَحِمَهُ اللَّهُ [[تفسير الطبري (٢٣/١٠٧) ورواه البزار في مسنده (٢٣٥٧) "كشف الأستار" وأبو نعيم في الحلية (٣/٣٧٤) من طريق سعيد ابن أبي مريم عن نافع بن يزيد به. قال البزار: "لا نعلم رواه عن الزهري عن أنس إلا عقيل، ولا عنه إلا نافع ورواه عن نافع غير واحد" وقال الهيثمي في المجمع (٨/٢٠٨) : "رجال البزار رجال الصحيح".]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَر عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّه قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا [[في ت: "وروى القاري".]] أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ أَيُّوبُ يَحْثُو فِي ثَوْبِهِ فَنَادَاهُ رَبُّهُ [[في ت، س، أ: "ربه عز وجل".]] يَا أَيُّوبُ أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى؟ قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ وَلَكِنْ لَا غِنَى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ".
انْفَرَدَ بِإِخْرَاجِهِ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ بِهِ [[المسند (٢/٣١٤) وصحيح البخاري برقم (٢٧٨) .]]
وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ رَحْمَةً مِنَّا وَذِكْرَى لأولِي الألْبَابِ﴾ قَالَ الْحَسَنُ وَقَتَادَةُ: أَحْيَاهُمُ اللَّهُ تَعَالَى لَهُ بِأَعْيَانِهِمْ وَزَادَهُمْ مِثْلَهُمْ مَعَهُمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿رَحْمَةً مِنَّا﴾ أَيْ: بِهِ عَلَى صَبْرِهِ وَثَبَاتِهِ وَإِنَابَتِهِ وَتَوَاضُعِهِ وَاسْتِكَانَتِهِ ﴿وَذِكْرَى لأولِي الألْبَابِ﴾ أَيْ: لِذَوِي الْعُقُولِ لِيَعْلَمُوا أَنَّ عاقبةَ الصَّبْرِ الفرجُ والمخرجُ والراحة.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلا تَحْنَثْ﴾ وَذَلِكَ أَنَّ أَيُّوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ قَدْ غَضِبَ عَلَى زَوْجَتِهِ وَوَجَدَ عَلَيْهَا فِي أَمْرٍ فَعَلَتْهُ. قِيلَ: [إِنَّهَا] [[زيادة من ت، أ.]] بَاعَتْ ضَفِيرَتَهَا [[في أ: "ضفيرتيها".]] بِخُبْزٍ فَأَطْعَمَتْهُ إِيَّاهُ فَلَامَهَا عَلَى ذَلِكَ وَحَلِفَ إِنْ شَفَاهُ اللَّهُ لَيَضْرِبَنَّهَا مِائَةَ جِلْدَةٍ. وَقِيلَ: لِغَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَسْبَابِ. فَلَمَّا شَفَاهُ اللَّهُ وَعَافَاهُ مَا كَانَ جَزَاؤُهَا مَعَ هَذِهِ الْخِدْمَةِ التَّامَّةِ وَالرَّحْمَةِ وَالشَّفَقَةِ وَالْإِحْسَانِ أَنْ تُقَابَلَ بِالضَّرْبِ فَأَفْتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَأْخُذَ ضِغْثًا -وَهُوَ: الشِّمراخ-فِيهِ مِائَةُ قَضِيبٍ فَيَضْرِبُهَا بِهِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً وَقَدْ بَرّت يَمِينُهُ وَخَرَجَ مِنْ حِنْثِهِ وَوَفَى بِنَذْرِهِ وَهَذَا مِنَ الْفَرَجِ وَالْمَخْرَجِ لِمَنِ اتَّقَى اللَّهَ وَأَنَابَ إِلَيْهِ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾ أَثْنَى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَمَدَحَهُ بِأَنَّهُ ﴿نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾ أَيْ: رَجَّاع مُنِيبٌ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾ [الطَّلَاقِ: ٢، ٣]
وَقَدِ اسْتَدَلَّ كَثِيرٌ مِنَ الْفُقَهَاءِ بِهَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ عَلَى مَسَائِلَ فِي الْأَيْمَانِ وَغَيْرِهَا وَأَخَذُوهَا [[في ت، س: "وأخذوا".]] بِمُقْتَضَاهَا [وَمَنَعَتْ طَائِفَةٌ أُخْرَى مِنَ الْفُقَهَاءِ مِنْ ذَلِكَ، وَقَالُوا: لَمْ يَثْبُتْ أَنَّ الْكَفَّارَةَ كَانَتْ مَشْرُوعَةً فِي شَرْعِ أَيُّوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَلِذَلِكَ رَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ، وَقَدْ أَغْنَى اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِالْكَفَّارَةِ] [[زيادة من ت، أ.]]
ٱرْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌۭ وَشَرَابٌۭ
[So he was told], "Strike [the ground] with your foot; this is a [spring for] a cool bath and drink."
(ہم نے کہا کہ زمین پر) لات مارو (دیکھو) یہ (چشمہ نکل آیا) نہانے کو ٹھنڈا اور پینے کو (شیریں)
(به او گفتیم:) پای خود را بر زمین بکوب! این چشمه آبی خنک برای شستشو و نوشیدن است!
Tafsir Ibn Kathir
And remember Our servant Ayyub, when he invoked his Lord (saying): "Verily, Shaytan has afflicted me with distress and torment! (41)(Allah said to him): "Strike the ground with your foot. This is (a spring of) water to wash in, cool and a drink. (42)And We gave him (back) his family, and along with them the like thereof, as a mercy from Us, and a reminder for those who understand (43)"And take in your hand a bundle of thin grass and strike therewith (your wife), and break not your oath." Truly, We found him patient. How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)(44)
Ayyub
Here Allah tells us about His servant and Messenger Ayyub (Job) and how He tested him. These tests afflicted his body, his wealth and his children, until there was no part of his body that was healthy except his heart. Then he had nothing left in this world which he could use to help him deal with his sickness or the predicament he was in, besides his wife, who retained her devotion to him because of her faith in Allah and His Messenger. She used to work for people as a paid servant, and she fed and served him (Ayyub) for nearly eighteen years. Before that, he was very rich and had many children, being well off in worldly terms. All of that had been taken away until he ended up being thrown into the city dump where he stayed all this time, shunned by relatives and strangers alike, with the exception of his wife – may Allah be pleased with her. She did not leave him, morning and evening, except for when she was serving people, then she would come straight back to him. When this had gone on for a long time, and things had gotten very bad, and the time allotted by divine decree had come to an end, Ayyub prayed to the Lord of the worlds, the God of the Messengers, and said:
أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
(Verily, distress has seized me, and You are the Most Merciful of all those who show mercy.)(21:83). And according to this Ayah:
وَاذْكُرْ عَبْدَنَا أَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ
(And remember Our servant Ayyub, when he invoked his Lord (saying): "Verily, Shaytan has afflicted me with distress and torment!") It was said that "distress" referred to bodily afflictions and "torment" referred to the loss of his wealth and children. Then the Most Merciful of those who show mercy responded to him, telling him to stand up and strike the ground with his foot. He did this, and Allah caused a spring of water to flow. He commanded him to wash in it, and all the pain and affliction in his body disappeared. Then He commanded him to strike the ground in a different place, and Allah caused another spring to flow, and Ayyub was commanded to drink from it. Then all his internal problems disappeared, and he became healthy again, inside and out. Allah says:
ارْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ
(Strike the ground with your foot. This is (a spring of) water to wash in, cool and a (refreshing) drink.) Ibn Jarir and Ibn Abi Hatim recorded that Anas bin Malik, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
إِنَّ نَبِيَّ اللهِ أَيُّوبَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لَبِثَ بِهِ بَلَاؤُهُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَرَفَضَهُ الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ، إِلَّا رَجُلَيْنِ كَانَا مِنْ أَخَصِّ إِخْوَانِهِ بِهِ، كَانَا يَغْدُوَانِ إِلَيْهِ وَيَرُوحَانِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: تَعْلَمُ وَاللهِ لَقَدْ أَذْنَبَ أَيُّوبُ ذَنْبًا مَا أَذْنَبَهُ أَحَدٌ مِنَ الْعَالَمِينَ، قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: مُنْذُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً لَمْ يَرْحَمْهُ اللهُ فَيَكْشِفَ مَا بِهِ، فَلَمَّا رَاحَا إِلَيْهِ لَمْ يَصْبِرِ الرَّجُلُ حَتّٰى ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ أَيُّوبُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: لَا أَدْرِي مَا تَقُولُ، غَيْرَ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ أَمُرُّ عَلَى الرَّجُلَيْنِ يَتَنَازَعَانِ فَيَذْكُرَانِ اللهَ تَعَالَى، فَأَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَأُكَفِّرُ عَنْهُمَا كَرَاهِيَةَ أَنْ يُذْكَرَ اللهُ تَعَالَى إِلَّا فِي حَقٍّ، قَالَ: وَكَانَ يَخْرُجُ إِلَى حَاجَتِهِ،فَإِذَا قَضَاهَا أَمْسَكَتِ امْرَأَتُهُ بِيَدِهِ حَتّٰى يَبْلُغَ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأَ عَلَيْهَا، فَأَوْحَى اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى أَيُّوبَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَن ارْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ فَاسْتَبْطَأَتْهُ (فَتَلَقَّتْهُ) تَنْظُرُ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا وَقَدْ أَذْهَبَ اللهُ مَا بِهِ مِنَ الْبَلَاءِ وَهُوَ عَلَى أَحْسَنِ مَا كَانَ، فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ: أَيْ بَارَكَ اللهُ فِيكَ، هَلْ رَأَيْتَ نَبِيَّ اللهِ هَذَا الْمُبْتَلَى، فَوَاللهِ عَلَى ذَلِكَ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشْبَهَ بِهِ مِنْكَ إِذْ كَانَ صَحِيحًا. قَالَ: فَإِنِّي أَنَا هُوَ، قَالَ: وَكَانَ لَهُ أَنْدَرَانِ: أَنْدَرٌ لِلْقَمْحِ وَأَنْدَرٌ لِلشَّعِيرِ، فَبَعَثَ اللهُ تَعَالَى سَحَابَتَيْنِ فَلَمَّا كَانَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى أَنْدَرِ الْقَمْحِ، أَفْرَغَتْ فِيهِ الذَّهَبَ حَتّٰى فَاضَ، وَأَفْرَغَتِ الْأُخْرَى فِي أَنْدَرِ الشَّعِيرِ حَتّٰى فَاضَ
(Allah's Prophet Ayyub, peace be upon him, suffered for eighteen years from his affliction and was shunned by relatives and strangers alike, besides two men who were the closest of his brothers to him. They used to visit him every morning and every evening. One of them said to his companion, "You know, by Allah, that Ayyub committed a great sin which nobody in the world ever committed." His companion said, "Why are you saying that?" He said, "For eighteen years he has been suffering and Allah has not had mercy on him and relieve his suffering." When he went to him the next morning, the (second) man could not wait to tell this to Ayyub. Ayyub, peace be upon him, said, "I do not know what you are talking about, but Allah knows if I passed by two men who were arguing and they mentioned the Name of Allah, I would go back home and offer expiation lest they had mentioned the Name of Allah in an improper manner. " Whenever he went out to answer the call of nature, when he finished, his wife would take his hand until he came back home. One day he took a long time, and Allah had revealed to Ayyub, (Strike the ground with your foot. This is (a spring of) water to wash in, cool and a (refreshing) drink.) She thought that he had taken too long, so she turned to look at him, and saw that Allah had taken away the afflictions he had been suffering, and he looked better than he had ever looked. When she saw him, she said, "May Allah bless you! Have you seen Allah's Prophet, the one who is sorely tested? By Allah, I have never seen a man who looks more like him than you, if he were healthy." He said, "I am he." He had two threshing floors, one for wheat and one for barley. Allah sent two clouds, and when one of them reached the threshing floor of the wheat, it rained gold until it was full. The other rained gold on the threshing floor of the barley until it was full.) This is the wording of Ibn Jarir, may Allah have mercy on him.
Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ أَيُّوبُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يَحْثُو فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَاهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لَا غِنٰى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ
(While Ayyub was bathing naked, locusts of gold fell upon him. Ayyub, peace be upon him, began gathering them in his garment. Then his Lord called to him, "O Ayyub, have I not made you so rich that you have no need of what you see?" He, peace be upon him, said, "Yes, O Lord! But I cannot do without Your blessing!") This was only recorded by Al-Bukhari.
وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ رَحْمَةً مِنَّا وَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ
(And We gave him (back) his family, and along with them the like thereof, as a mercy from Us, and a reminder for those who understand.) Al-Hasan and Qatadah said, "Allah brought his family themselves back to life, and added others like them."
رَحْمَةً مِنَّا
(as a mercy from Us,) means, in return for his patience, steadfastness, repentance, humility and constant turning to Allah.
وَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ
(and a reminder for those who understand.) means, for those who understand that the consequence of patience is a solution and a way out.
وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلَا تَحْنَثْ ۗ
(And take in your hand a bundle of thin grass and strike therewith (your wife), and break not your oath.) Ayyub, peace be upon him, got angry with his wife and was upset about something she had done, so he swore an oath that if Allah healed him, he would strike her with one hundred blows. When Allah healed him, how could her service, mercy, compassion and kindness be repaid with a beating? So Allah showed him a way out, which was to take a bundle of thin grass, with one hundred stems, and hit her with it once. Thus he fulfilled his oath and avoided breaking his vow. This was the solution and way out for one who had Taqwa of Allah and turned to Him in repentance. Allah says:
إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا ۚ نِعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ
(Truly, We found him patient. How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)!) Allah praised and commanded him, saying,
نِعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ
(How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)!) Allah says:
وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا - وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ ۚ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا
(And whosoever has Taqwa of Allah, He will make a way for him to get out (from every difficulty). And He will provide him from (sources) he never could imagine. And whosoever puts his trust in Allah, then He will suffice him. Verily, Allah will accomplish his purpose. Indeed Allah has set a measure for all things.)(65:2-3)
Tafsir Ibn Kathir
حضرت ایوب ؑ اور ان کا صبر۔ حضرت ایوب ؑ کا ذکر ہو رہا ہے اور ان کے صبر اور امتحان میں پاس ہونے کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ مال برباد ہوگیا اولادیں مرگئیں جسم مریض ہوگیا یہاں تک کہ سوئی کے ناکے کے برابر سارے جسم میں ایسی جگہ نہ تھی جہاں بیماری نہ ہو صرف دل سلامت رہ گیا اور پھر فقیری اور مفلسی کا یہ حال تھا کہ ایک وقت کا کھانا پاس نہ تھا کوئی نہ تھا جو خبر گیر ہوتا سوائے ایک بیوی صاحبہ ؓ کے جن کے دل میں خوف اللہ تھا اور اپنے خاوند اللہ کے رسول ﷺ کی محبت تھی۔ لوگوں کا کام کاج کر کے اپنا اور اپنے میاں کا پیٹ پالتی تھیں آٹھ سال تک یہی حال رہا حالانکہ اس سے پہلے ان سے بڑھ کر مالدار کوئی نہ تھا۔ اولاد بھی بکثرت تھی اور دنیا کی ہر راحت موجود تھی۔ اب ہر چیز چھین لی گئی تھی اور شہر کا کوڑا کرکٹ جہاں ڈالا جاتا تھا وہیں آپ کو لا بٹھایا تھا۔ اسی حال میں ایک دو دن نہیں سال دو سال نہیں آٹھ سال کامل گذارے اپنے اور غیر سب نے منہ پھیرلیا تھا۔ خیریت پوچھنے والا بھی کوئی نہ تھا۔ صرف آپ کی یہی ایک بیوی صاحبہ تھیں جو ہر وقت دن اور رات آپ کی خدمت میں کمر بستہ تھیں۔ ہاں پیٹ پالنے کے لئے محنت مزدوری کے وقت آپ کے پاس سے چلی جاتی تھیں یہاں تک کہ دن پھرے اور اچھا وقت آگیا تو رب العالمین الہ المرسلین کی طرف تضرع وزاری کی اور کپکپاتے ہوئے کلیجے سے دل سے دعا کی کہ اے میرے پالنہار اللہ مجھے دکھ نے تڑپا دیا ہے اور تو ارحم الراحمین ہے یہاں جو دعا ہے اس میں جسمانی تکلیف اور مال و اولاد کے دکھ درد کا ذکر کیا۔ اسی وقت رحیم و کریم اللہ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور حکم ہوا کہ زمین پر اپنا پاؤں مارو۔ پاؤں کے لگتے ہی وہاں ایک چشمہ ابلنے لگا حکم ہوا کہ اس پانی سے غسل کرلو۔ غسل کرتے ہی بدن کی تمام بیماری اس طرح جاتی رہی گویا تھی ہی نہیں۔ پھر حکم ہوا کہ اور جگہ ایڑی لگاؤ وہاں پاؤں مارتے ہی دوسرا چشمہ جاری ہوگیا حکم ہوا کہ اس کا پانی پی لو اس پانی کے پیتے ہی اندرونی بیماریاں بھی جاتی رہیں اور ظاہر و باطن کی عافیت اور کامل تندرستی حاصل ہوگئی۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اٹھارہ سال تک اللہ کے یہ پیغمبر ﷺ دکھ درد میں مبتلا رہے اپنے اور غیر سب نے چھوڑ دیا ہاں آپ کے مخلص دوست صبح شام خیریت خبر کے لئے آ جایا کرتے تھے ایک مرتبہ ایک نے دوسرے سے کہا میرا خیال یہ ہے کہ ایوب نے اللہ کی کوئی بڑی نافرمانی کی ہے کہ اٹھارہ سال سے اس بلا میں پڑا ہوا ہے اور اللہ اس پر رحم کرے اس دوسرے شخص نے شام کو حضرت ایوب ؑ سے اس کی یہ بات ذکر کردی۔ آپ کو سخت رنج ہوا اور فرمایا میں نہیں جانتا کہ وہ ایسا کیوں کہتے ہیں۔ اللہ خوب جانتا ہے میری یہ حالت تھی کہ جب دو شخصوں کو آپس میں جھگڑتے دیکھا اور دونوں اللہ کو بیچ میں لاتے تو مجھ سے یہ نہ دیکھا جاتا کہ اللہ تعالیٰ کے عزیز نام کی اس طرح یاد کی جائے کیونکہ دو میں سے ایک تو ضرور مجرم ہوگا اور دونوں اللہ کا نام لے رہے ہیں تو میں اپنے پاس سے دے دلا کر ان کے جھگڑے کو ختم کردیتا کہ نام اللہ کی بےادبی نہ ہو۔ آپ سے اس وقت چلا بھرا بلکہ اٹھا بیٹھا بھی نہیں جاتا تھا پاخانے کے بعد آپ کی بیوی صاحبہ آپ کو اٹھا کر لاتی تھیں۔ ایک مرتبہ وہ نہیں تھیں آپ کو بہت تکلیف ہوئی اور دعا کی اور اللہ کی طرف سے وحی ہوئی کہ زمین پر لات مار دو۔ بہت دیر کے بعد جب آپ کی بیوی صاحبہ آئیں تو دیکھا کہ مریض تو ہے نہیں کوئی اور شخص تندرست نورانی چہرے والا بیٹھا ہوا ہے پہچان نہ سکیں اور دریافت کرنے لگیں کہ اے اللہ کے نیک بندے یہاں اللہ کے ایک نبی جو درد دکھ میں مبتلا تھے انہیں دیکھا ہے ؟ واللہ کہ جب وہ تندرست تھے تو قریب قریب تم جیسے ہی تھے، تب آپ نے فرمایا وہ میں ہی ہوں۔ راوی کہتا ہے آپ کی دو کوٹھیاں تھیں ایک گیہوں کیلئے اور ایک جو کے لئے۔ اللہ تعالیٰ نے دو ابر بھیجے ایک میں سونا برسا اور ایک کوٹھی اناج کی اس سے بھر گئی دوسرے میں سے بھی سونا برسا اور دوسری کوٹھی اس سے بھر گئی (ابن جریر) صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں حضرت ایوب ؑ ننگے ہو کر نہا رہے تھے جو آسمان سے سونے کی ٹٹڈیاں برسنے لگیں آپ نے جلدی جلدی انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنی شروع کیں تو اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ اے ایوب کیا میں نے تمہیں غنی اور بےپرواہ نہیں کر رکھا ؟ آپ نے جواب دیا ہاں الٰہی بیشک تو نے مجھے بہت کچھ دے رکھا ہے میں سب سے غنی اور بےنیاز ہوں لیکن تیری رحمت سے بےنیاز نہیں ہوں بلکہ اس کا تو پورا محتاج ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس صابر پیغمبر ﷺ کو نیک بدلہ اور بہتر جزائیں عطا فرمائیں۔ اولاد بھی دی اور اسی کے مثل اور بھی دی بلکہ حضرت حسن اور قتادہ سے منقول ہے کہ مردہ اولاد اللہ نے زندہ کردی اور اتنی ہی اور نئی دی۔ یہ تھا اللہ کا رحم جو ان کے صبر و استقلال رجوع الی اللہ تواضع اور انکساری کے بدلے اللہ نے انہیں دیا اور عقلمندوں کے لئے نصیحت و عبرت ہے وہ جان لیتے ہیں کہ صبر کا انجام کشادگی ہے اور رحمت و راحت ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ حضرت ایوب ؑ اپنی بیوی کے کسی کام کی وجہ سے ان پر ناراض ہوگئے تھے بعض کہتے ہیں وہ اپنے بالوں کی ایک لٹ بیچ کر ان کے لئے کھانا لائی تھیں اس پر آپ ناراض ہوئے تھے اور قسم کھائی تھی کہ شفا کے بعد سو کوڑے ماریں گے دوسروں نے وجہ ناراضگی اور بیان کی ہے۔ جبکہ آپ تندرست اور صحیح سالم ہوگئے تو ارادہ کیا کہ اپنی قسم کو پورا کریں لیکن ایسی نیک صفت عورت اس سزا کے لائق نہ تھیں جو حضرت ایوب نے طے کر رکھی تھی جس عورت نے اس وقت خدمت کی جبکہ کوئی ساتھ نہ تھا اسی لئے رب العالمین ارحم الراحمین نے ان پر رحم کیا اور اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ قسم پوری کرنے کے لئے کھجور کا ایک خوشہ لے لو جس میں ایک سو سیخیں ہوں اور ایک انہیں مار دو اس صورت میں قسم کا خلاف نہ ہوگا اور ایک ایسی صابرہ شاکرہ نیک بیوی پر سزا بھی نہ ہوگی۔ یہی دستور الٰہی ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو جو اس سے ڈرتے رہتے ہیں برائیوں اور بدیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت ایوب کی ثناء و صفت بیان فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بڑا صابر و ضابط پایا وہ بڑا نیک اور اچھا بندہ ثابت ہوا۔ اس کے دل میں ہماری سچی محبت تھی وہ ہماری ہی طرف جھکتا رہا اور ہمیں سے لو لگائے رہا، اسی لئے فرمان اللہ ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا رہتا ہے اللہ اس کے لئے چھٹکارے کی صورت نکال دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی پہنچاتا ہے جو اس کے خیال میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر توکل رکھنے والوں کو اللہ کافی ہے۔ اللہ اپنے کام میں پورا اترتا ہے اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ سمجھدار علماء کرام نے اس آیت سے بہت سے ایمانی مسائل اخذ کئے ہیں واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
يَذْكُرُ تَعَالَى عَبْدَهُ وَرَسُولَهُ أَيُّوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَمَا كَانَ ابْتَلَاهُ تَعَالَى بِهِ مِنَ الضُّرِّ فِي جَسَدِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مَنْ جَسَدِهِ مَغْرز إِبْرَةٍ سَلِيمًا سِوَى قَلْبِهِ وَلَمْ يَبْقَ لَهُ مَنْ حَالِ الدُّنْيَا شَيْءٌ يَسْتَعِينُ بِهِ عَلَى مَرَضِهِ وَمَا هُوَ فِيهِ غَيْرَ أَنَّ زَوْجَتَهُ حَفِظَتْ وِدَّهُ لِإِيمَانِهَا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَكَانَتْ تَخْدُمُ النَّاسَ بِالْأُجْرَةِ [[في أ: "بالأجر".]] وَتُطْعِمُهُ وَتَخْدُمُهُ نَحْوًا مِنْ ثَمَانِي عَشْرَةَ سَنَةٍ. وَقَدْ كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ فِي مَالٍ جَزِيلٍ وَأَوْلَادٍ وَسَعَةٍ طَائِلَةٍ مِنَ الدُّنْيَا فَسُلبَ جَمِيعَ ذَلِكَ حَتَّى آلَ بِهِ الْحَالُ إِلَى أَنْ أُلْقِيَ عَلَى مَزْبَلَةٍ مِنْ مَزَابِلِ الْبَلْدَةِ هَذِهِ الْمُدَّةَ بِكَمَالِهَا وَرَفَضَهُ الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ سِوَى زَوْجَتِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَإِنَّهَا كَانَتْ لَا تُفَارِقُهُ صَبَاحًا وَ [لَا] [[زيادة من أ.]] مَسَاءً إِلَّا بِسَبَبِ خِدْمَةِ النَّاسِ ثُمَّ تَعُودُ إِلَيْهِ قَرِيبًا. فَلَمَّا طَالَ الْمَطَالُ وَاشْتَدَّ الْحَالُ وَانْتَهَى الْقَدَرُ الْمَقْدُورُ وَتَمَّ الْأَجَلُ الْمُقَدَّرُ تَضَرَّعَ [[في ت، س: "ضرع".]] إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ وَإِلَهِ الْمُرْسَلِينَ فَقَالَ: ﴿أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ: ٨٣] وَفِي هَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ قَالَ: رَبِّ إِنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ، قِيلَ: بِنُصْبٍ فِي بَدَنِي وَعَذَابٍ فِي مَالِي وَوَلَدِي. فَعِنْدَ ذَلِكَ اسْتَجَابَ لَهُ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ مِنْ مَقَامِهِ وَأَنْ يَرْكُضَ الْأَرْضَ بِرِجْلِهِ. فَفَعَلَ فَأَنْبَعَ اللَّهُ عَيْنًا وَأَمَرَهُ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنْهَا فَأَذْهَبَ جَمِيعَ مَا كَانَ فِي بَدَنِهِ مِنَ الْأَذَى [[في ت، س: "ما كان به من الأذى".]] ثُمَّ أَمَرَهُ فَضَرَبَ الْأَرْضَ فِي مَكَانٍ آخَرَ فَأَنْبَعَ لَهُ عَيْنًا أُخْرَى وَأَمَرَهُ أَنْ يَشْرَبَ مِنْهَا فَأَذْهَبَتْ مَا كَانَ فِي بَاطِنِهِ [[في أ: "بباطنه".]] مِنَ السُّوءِ وَتَكَامَلَتِ الْعَافِيَةُ ظَاهِرًا وَبَاطِنًا وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ﴾
قَالَ [[في ت: "روى".]] ابْنُ جَرِيرٍ، وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ جَمِيعًا: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ [[في ت: "بسندهما".]] عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ أَيُّوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَبِثَ بِهِ بَلَاؤُهُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً فَرَفَضَهُ الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ إِلَّا رَجُلَيْنِ كَانَا مِنْ أَخَصِّ إِخْوَانِهِ بِهِ كَانَا يَغْدُوَانِ إِلَيْهِ وَيَرُوحَانِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: تَعَلَّمْ -وَاللَّهِ-لَقَدْ أَذْنَبَ أَيُّوبُ ذَنْبًا مَا أَذْنَبَهُ أَحَدٌ مِنَ الْعَالَمِينَ. قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: مِنْ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً لَمْ يَرْحَمْهُ اللَّهُ، فيكشفَ مَا بِهِ [[في أ: "ما به من مرضه".]] فَلَمَّا رَاحَا إِلَيْهِ لَمْ يَصْبِرِ الرَّجُلُ حَتَّى ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ. فَقَالَ أَيُّوبُ: لَا أَدْرِي مَا تَقُولُ غَيْرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ أَمُرُّ عَلَى الرَّجُلَيْنِ يَتَنَازَعَانِ فَيَذْكُرَانِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَأُكَفِّرُ عَنْهُمَا، كَرَاهِيَةَ أَنْ يَذْكُرَا اللَّهَ إِلَّا فِي حَقٍّ. قَالَ: وَكَانَ [[في أ: "وكان أيوب".]] يَخْرُجُ إِلَى حَاجَتِهِ فَإِذَا قَضَاهَا أَمْسَكَتِ امْرَأَتُهُ بِيَدِهِ حَتَّى يَبْلُغَ فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأَ عَلَيْهَا وَأَوْحَى اللَّهُ تَعَالَى إِلَى أَيُّوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنِ ﴿ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ﴾ فَاسْتَبْطَأَتْهُ فَتَلَقَّتْهُ تَنْظُرُ فَأَقْبَلَ [[في أ: "وأقبل".]] عَلَيْهَا قَدْ أَذْهَبَ اللَّهُ مَا بِهِ مِنَ الْبَلَاءِ وَهُوَ عَلَى أَحْسَنِ مَا كَانَ. فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ: أَيْ بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ هَلْ رَأَيْتَ نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا الْمُبْتَلَى. فَوَاللَّهِ عَلَى ذَلِكَ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشْبَهَ بِهِ مِنْكَ إِذْ كَانَ صَحِيحًا. قَالَ: فَإِنِّي [[في أ: "فقال إني".]] أَنَا هُوَ. قَالَ: وَكَانَ لَهُ أَنْدَرَانِ أَنْدَرُ لِلْقَمْحِ وَأَنْدَرُ لِلشَّعِيرِ فَبَعَثَ اللَّهُ سَحَابَتَيْنِ فَلَمَّا كَانَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى أَنْدَرِ الْقَمْحِ أَفْرَغَتْ فِيهِ الذَّهَبَ حَتَّى فَاضَ وَأَفْرَغَتِ الْأُخْرَى فِي أَنْدَرِ الشَّعِيرِ حَتَّى فَاضَ. هَذَا لَفْظُ ابْنُ جَرِيرٍ رَحِمَهُ اللَّهُ [[تفسير الطبري (٢٣/١٠٧) ورواه البزار في مسنده (٢٣٥٧) "كشف الأستار" وأبو نعيم في الحلية (٣/٣٧٤) من طريق سعيد ابن أبي مريم عن نافع بن يزيد به. قال البزار: "لا نعلم رواه عن الزهري عن أنس إلا عقيل، ولا عنه إلا نافع ورواه عن نافع غير واحد" وقال الهيثمي في المجمع (٨/٢٠٨) : "رجال البزار رجال الصحيح".]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَر عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّه قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا [[في ت: "وروى القاري".]] أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ أَيُّوبُ يَحْثُو فِي ثَوْبِهِ فَنَادَاهُ رَبُّهُ [[في ت، س، أ: "ربه عز وجل".]] يَا أَيُّوبُ أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى؟ قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ وَلَكِنْ لَا غِنَى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ".
انْفَرَدَ بِإِخْرَاجِهِ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ بِهِ [[المسند (٢/٣١٤) وصحيح البخاري برقم (٢٧٨) .]]
وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ رَحْمَةً مِنَّا وَذِكْرَى لأولِي الألْبَابِ﴾ قَالَ الْحَسَنُ وَقَتَادَةُ: أَحْيَاهُمُ اللَّهُ تَعَالَى لَهُ بِأَعْيَانِهِمْ وَزَادَهُمْ مِثْلَهُمْ مَعَهُمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿رَحْمَةً مِنَّا﴾ أَيْ: بِهِ عَلَى صَبْرِهِ وَثَبَاتِهِ وَإِنَابَتِهِ وَتَوَاضُعِهِ وَاسْتِكَانَتِهِ ﴿وَذِكْرَى لأولِي الألْبَابِ﴾ أَيْ: لِذَوِي الْعُقُولِ لِيَعْلَمُوا أَنَّ عاقبةَ الصَّبْرِ الفرجُ والمخرجُ والراحة.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلا تَحْنَثْ﴾ وَذَلِكَ أَنَّ أَيُّوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ قَدْ غَضِبَ عَلَى زَوْجَتِهِ وَوَجَدَ عَلَيْهَا فِي أَمْرٍ فَعَلَتْهُ. قِيلَ: [إِنَّهَا] [[زيادة من ت، أ.]] بَاعَتْ ضَفِيرَتَهَا [[في أ: "ضفيرتيها".]] بِخُبْزٍ فَأَطْعَمَتْهُ إِيَّاهُ فَلَامَهَا عَلَى ذَلِكَ وَحَلِفَ إِنْ شَفَاهُ اللَّهُ لَيَضْرِبَنَّهَا مِائَةَ جِلْدَةٍ. وَقِيلَ: لِغَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَسْبَابِ. فَلَمَّا شَفَاهُ اللَّهُ وَعَافَاهُ مَا كَانَ جَزَاؤُهَا مَعَ هَذِهِ الْخِدْمَةِ التَّامَّةِ وَالرَّحْمَةِ وَالشَّفَقَةِ وَالْإِحْسَانِ أَنْ تُقَابَلَ بِالضَّرْبِ فَأَفْتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَأْخُذَ ضِغْثًا -وَهُوَ: الشِّمراخ-فِيهِ مِائَةُ قَضِيبٍ فَيَضْرِبُهَا بِهِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً وَقَدْ بَرّت يَمِينُهُ وَخَرَجَ مِنْ حِنْثِهِ وَوَفَى بِنَذْرِهِ وَهَذَا مِنَ الْفَرَجِ وَالْمَخْرَجِ لِمَنِ اتَّقَى اللَّهَ وَأَنَابَ إِلَيْهِ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾ أَثْنَى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَمَدَحَهُ بِأَنَّهُ ﴿نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾ أَيْ: رَجَّاع مُنِيبٌ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾ [الطَّلَاقِ: ٢، ٣]
وَقَدِ اسْتَدَلَّ كَثِيرٌ مِنَ الْفُقَهَاءِ بِهَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ عَلَى مَسَائِلَ فِي الْأَيْمَانِ وَغَيْرِهَا وَأَخَذُوهَا [[في ت، س: "وأخذوا".]] بِمُقْتَضَاهَا [وَمَنَعَتْ طَائِفَةٌ أُخْرَى مِنَ الْفُقَهَاءِ مِنْ ذَلِكَ، وَقَالُوا: لَمْ يَثْبُتْ أَنَّ الْكَفَّارَةَ كَانَتْ مَشْرُوعَةً فِي شَرْعِ أَيُّوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَلِذَلِكَ رَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ، وَقَدْ أَغْنَى اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِالْكَفَّارَةِ] [[زيادة من ت، أ.]]
وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ أَهْلَهُۥ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةًۭ مِّنَّا وَذِكْرَىٰ لِأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ
And We granted him his family and a like [number] with them as mercy from Us and a reminder for those of understanding.
اور ہم نے ان کو اہل و عیال اور ان کے ساتھ ان کے برابر اور بخشے۔ (یہ) ہماری طرف سے رحمت اور عقل والوں کے لئے نصیحت تھی
و خانوادهاش را به او بخشیدیم، و همانند آنها را بر آنان افزودیم، تا رحمتی از سوی ما باشد و تذکّری برای اندیشمندان.
Tafsir Ibn Kathir
And remember Our servant Ayyub, when he invoked his Lord (saying): "Verily, Shaytan has afflicted me with distress and torment! (41)(Allah said to him): "Strike the ground with your foot. This is (a spring of) water to wash in, cool and a drink. (42)And We gave him (back) his family, and along with them the like thereof, as a mercy from Us, and a reminder for those who understand (43)"And take in your hand a bundle of thin grass and strike therewith (your wife), and break not your oath." Truly, We found him patient. How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)(44)
Ayyub
Here Allah tells us about His servant and Messenger Ayyub (Job) and how He tested him. These tests afflicted his body, his wealth and his children, until there was no part of his body that was healthy except his heart. Then he had nothing left in this world which he could use to help him deal with his sickness or the predicament he was in, besides his wife, who retained her devotion to him because of her faith in Allah and His Messenger. She used to work for people as a paid servant, and she fed and served him (Ayyub) for nearly eighteen years. Before that, he was very rich and had many children, being well off in worldly terms. All of that had been taken away until he ended up being thrown into the city dump where he stayed all this time, shunned by relatives and strangers alike, with the exception of his wife – may Allah be pleased with her. She did not leave him, morning and evening, except for when she was serving people, then she would come straight back to him. When this had gone on for a long time, and things had gotten very bad, and the time allotted by divine decree had come to an end, Ayyub prayed to the Lord of the worlds, the God of the Messengers, and said:
أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
(Verily, distress has seized me, and You are the Most Merciful of all those who show mercy.)(21:83). And according to this Ayah:
وَاذْكُرْ عَبْدَنَا أَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ
(And remember Our servant Ayyub, when he invoked his Lord (saying): "Verily, Shaytan has afflicted me with distress and torment!") It was said that "distress" referred to bodily afflictions and "torment" referred to the loss of his wealth and children. Then the Most Merciful of those who show mercy responded to him, telling him to stand up and strike the ground with his foot. He did this, and Allah caused a spring of water to flow. He commanded him to wash in it, and all the pain and affliction in his body disappeared. Then He commanded him to strike the ground in a different place, and Allah caused another spring to flow, and Ayyub was commanded to drink from it. Then all his internal problems disappeared, and he became healthy again, inside and out. Allah says:
ارْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ
(Strike the ground with your foot. This is (a spring of) water to wash in, cool and a (refreshing) drink.) Ibn Jarir and Ibn Abi Hatim recorded that Anas bin Malik, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
إِنَّ نَبِيَّ اللهِ أَيُّوبَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لَبِثَ بِهِ بَلَاؤُهُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَرَفَضَهُ الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ، إِلَّا رَجُلَيْنِ كَانَا مِنْ أَخَصِّ إِخْوَانِهِ بِهِ، كَانَا يَغْدُوَانِ إِلَيْهِ وَيَرُوحَانِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: تَعْلَمُ وَاللهِ لَقَدْ أَذْنَبَ أَيُّوبُ ذَنْبًا مَا أَذْنَبَهُ أَحَدٌ مِنَ الْعَالَمِينَ، قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: مُنْذُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً لَمْ يَرْحَمْهُ اللهُ فَيَكْشِفَ مَا بِهِ، فَلَمَّا رَاحَا إِلَيْهِ لَمْ يَصْبِرِ الرَّجُلُ حَتّٰى ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ أَيُّوبُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: لَا أَدْرِي مَا تَقُولُ، غَيْرَ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ أَمُرُّ عَلَى الرَّجُلَيْنِ يَتَنَازَعَانِ فَيَذْكُرَانِ اللهَ تَعَالَى، فَأَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَأُكَفِّرُ عَنْهُمَا كَرَاهِيَةَ أَنْ يُذْكَرَ اللهُ تَعَالَى إِلَّا فِي حَقٍّ، قَالَ: وَكَانَ يَخْرُجُ إِلَى حَاجَتِهِ،فَإِذَا قَضَاهَا أَمْسَكَتِ امْرَأَتُهُ بِيَدِهِ حَتّٰى يَبْلُغَ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأَ عَلَيْهَا، فَأَوْحَى اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى أَيُّوبَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَن ارْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ فَاسْتَبْطَأَتْهُ (فَتَلَقَّتْهُ) تَنْظُرُ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا وَقَدْ أَذْهَبَ اللهُ مَا بِهِ مِنَ الْبَلَاءِ وَهُوَ عَلَى أَحْسَنِ مَا كَانَ، فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ: أَيْ بَارَكَ اللهُ فِيكَ، هَلْ رَأَيْتَ نَبِيَّ اللهِ هَذَا الْمُبْتَلَى، فَوَاللهِ عَلَى ذَلِكَ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشْبَهَ بِهِ مِنْكَ إِذْ كَانَ صَحِيحًا. قَالَ: فَإِنِّي أَنَا هُوَ، قَالَ: وَكَانَ لَهُ أَنْدَرَانِ: أَنْدَرٌ لِلْقَمْحِ وَأَنْدَرٌ لِلشَّعِيرِ، فَبَعَثَ اللهُ تَعَالَى سَحَابَتَيْنِ فَلَمَّا كَانَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى أَنْدَرِ الْقَمْحِ، أَفْرَغَتْ فِيهِ الذَّهَبَ حَتّٰى فَاضَ، وَأَفْرَغَتِ الْأُخْرَى فِي أَنْدَرِ الشَّعِيرِ حَتّٰى فَاضَ
(Allah's Prophet Ayyub, peace be upon him, suffered for eighteen years from his affliction and was shunned by relatives and strangers alike, besides two men who were the closest of his brothers to him. They used to visit him every morning and every evening. One of them said to his companion, "You know, by Allah, that Ayyub committed a great sin which nobody in the world ever committed." His companion said, "Why are you saying that?" He said, "For eighteen years he has been suffering and Allah has not had mercy on him and relieve his suffering." When he went to him the next morning, the (second) man could not wait to tell this to Ayyub. Ayyub, peace be upon him, said, "I do not know what you are talking about, but Allah knows if I passed by two men who were arguing and they mentioned the Name of Allah, I would go back home and offer expiation lest they had mentioned the Name of Allah in an improper manner. " Whenever he went out to answer the call of nature, when he finished, his wife would take his hand until he came back home. One day he took a long time, and Allah had revealed to Ayyub, (Strike the ground with your foot. This is (a spring of) water to wash in, cool and a (refreshing) drink.) She thought that he had taken too long, so she turned to look at him, and saw that Allah had taken away the afflictions he had been suffering, and he looked better than he had ever looked. When she saw him, she said, "May Allah bless you! Have you seen Allah's Prophet, the one who is sorely tested? By Allah, I have never seen a man who looks more like him than you, if he were healthy." He said, "I am he." He had two threshing floors, one for wheat and one for barley. Allah sent two clouds, and when one of them reached the threshing floor of the wheat, it rained gold until it was full. The other rained gold on the threshing floor of the barley until it was full.) This is the wording of Ibn Jarir, may Allah have mercy on him.
Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ أَيُّوبُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يَحْثُو فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَاهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لَا غِنٰى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ
(While Ayyub was bathing naked, locusts of gold fell upon him. Ayyub, peace be upon him, began gathering them in his garment. Then his Lord called to him, "O Ayyub, have I not made you so rich that you have no need of what you see?" He, peace be upon him, said, "Yes, O Lord! But I cannot do without Your blessing!") This was only recorded by Al-Bukhari.
وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ رَحْمَةً مِنَّا وَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ
(And We gave him (back) his family, and along with them the like thereof, as a mercy from Us, and a reminder for those who understand.) Al-Hasan and Qatadah said, "Allah brought his family themselves back to life, and added others like them."
رَحْمَةً مِنَّا
(as a mercy from Us,) means, in return for his patience, steadfastness, repentance, humility and constant turning to Allah.
وَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ
(and a reminder for those who understand.) means, for those who understand that the consequence of patience is a solution and a way out.
وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلَا تَحْنَثْ ۗ
(And take in your hand a bundle of thin grass and strike therewith (your wife), and break not your oath.) Ayyub, peace be upon him, got angry with his wife and was upset about something she had done, so he swore an oath that if Allah healed him, he would strike her with one hundred blows. When Allah healed him, how could her service, mercy, compassion and kindness be repaid with a beating? So Allah showed him a way out, which was to take a bundle of thin grass, with one hundred stems, and hit her with it once. Thus he fulfilled his oath and avoided breaking his vow. This was the solution and way out for one who had Taqwa of Allah and turned to Him in repentance. Allah says:
إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا ۚ نِعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ
(Truly, We found him patient. How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)!) Allah praised and commanded him, saying,
نِعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ
(How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)!) Allah says:
وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا - وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ ۚ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا
(And whosoever has Taqwa of Allah, He will make a way for him to get out (from every difficulty). And He will provide him from (sources) he never could imagine. And whosoever puts his trust in Allah, then He will suffice him. Verily, Allah will accomplish his purpose. Indeed Allah has set a measure for all things.)(65:2-3)
Tafsir Ibn Kathir
حضرت ایوب ؑ اور ان کا صبر۔ حضرت ایوب ؑ کا ذکر ہو رہا ہے اور ان کے صبر اور امتحان میں پاس ہونے کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ مال برباد ہوگیا اولادیں مرگئیں جسم مریض ہوگیا یہاں تک کہ سوئی کے ناکے کے برابر سارے جسم میں ایسی جگہ نہ تھی جہاں بیماری نہ ہو صرف دل سلامت رہ گیا اور پھر فقیری اور مفلسی کا یہ حال تھا کہ ایک وقت کا کھانا پاس نہ تھا کوئی نہ تھا جو خبر گیر ہوتا سوائے ایک بیوی صاحبہ ؓ کے جن کے دل میں خوف اللہ تھا اور اپنے خاوند اللہ کے رسول ﷺ کی محبت تھی۔ لوگوں کا کام کاج کر کے اپنا اور اپنے میاں کا پیٹ پالتی تھیں آٹھ سال تک یہی حال رہا حالانکہ اس سے پہلے ان سے بڑھ کر مالدار کوئی نہ تھا۔ اولاد بھی بکثرت تھی اور دنیا کی ہر راحت موجود تھی۔ اب ہر چیز چھین لی گئی تھی اور شہر کا کوڑا کرکٹ جہاں ڈالا جاتا تھا وہیں آپ کو لا بٹھایا تھا۔ اسی حال میں ایک دو دن نہیں سال دو سال نہیں آٹھ سال کامل گذارے اپنے اور غیر سب نے منہ پھیرلیا تھا۔ خیریت پوچھنے والا بھی کوئی نہ تھا۔ صرف آپ کی یہی ایک بیوی صاحبہ تھیں جو ہر وقت دن اور رات آپ کی خدمت میں کمر بستہ تھیں۔ ہاں پیٹ پالنے کے لئے محنت مزدوری کے وقت آپ کے پاس سے چلی جاتی تھیں یہاں تک کہ دن پھرے اور اچھا وقت آگیا تو رب العالمین الہ المرسلین کی طرف تضرع وزاری کی اور کپکپاتے ہوئے کلیجے سے دل سے دعا کی کہ اے میرے پالنہار اللہ مجھے دکھ نے تڑپا دیا ہے اور تو ارحم الراحمین ہے یہاں جو دعا ہے اس میں جسمانی تکلیف اور مال و اولاد کے دکھ درد کا ذکر کیا۔ اسی وقت رحیم و کریم اللہ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور حکم ہوا کہ زمین پر اپنا پاؤں مارو۔ پاؤں کے لگتے ہی وہاں ایک چشمہ ابلنے لگا حکم ہوا کہ اس پانی سے غسل کرلو۔ غسل کرتے ہی بدن کی تمام بیماری اس طرح جاتی رہی گویا تھی ہی نہیں۔ پھر حکم ہوا کہ اور جگہ ایڑی لگاؤ وہاں پاؤں مارتے ہی دوسرا چشمہ جاری ہوگیا حکم ہوا کہ اس کا پانی پی لو اس پانی کے پیتے ہی اندرونی بیماریاں بھی جاتی رہیں اور ظاہر و باطن کی عافیت اور کامل تندرستی حاصل ہوگئی۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اٹھارہ سال تک اللہ کے یہ پیغمبر ﷺ دکھ درد میں مبتلا رہے اپنے اور غیر سب نے چھوڑ دیا ہاں آپ کے مخلص دوست صبح شام خیریت خبر کے لئے آ جایا کرتے تھے ایک مرتبہ ایک نے دوسرے سے کہا میرا خیال یہ ہے کہ ایوب نے اللہ کی کوئی بڑی نافرمانی کی ہے کہ اٹھارہ سال سے اس بلا میں پڑا ہوا ہے اور اللہ اس پر رحم کرے اس دوسرے شخص نے شام کو حضرت ایوب ؑ سے اس کی یہ بات ذکر کردی۔ آپ کو سخت رنج ہوا اور فرمایا میں نہیں جانتا کہ وہ ایسا کیوں کہتے ہیں۔ اللہ خوب جانتا ہے میری یہ حالت تھی کہ جب دو شخصوں کو آپس میں جھگڑتے دیکھا اور دونوں اللہ کو بیچ میں لاتے تو مجھ سے یہ نہ دیکھا جاتا کہ اللہ تعالیٰ کے عزیز نام کی اس طرح یاد کی جائے کیونکہ دو میں سے ایک تو ضرور مجرم ہوگا اور دونوں اللہ کا نام لے رہے ہیں تو میں اپنے پاس سے دے دلا کر ان کے جھگڑے کو ختم کردیتا کہ نام اللہ کی بےادبی نہ ہو۔ آپ سے اس وقت چلا بھرا بلکہ اٹھا بیٹھا بھی نہیں جاتا تھا پاخانے کے بعد آپ کی بیوی صاحبہ آپ کو اٹھا کر لاتی تھیں۔ ایک مرتبہ وہ نہیں تھیں آپ کو بہت تکلیف ہوئی اور دعا کی اور اللہ کی طرف سے وحی ہوئی کہ زمین پر لات مار دو۔ بہت دیر کے بعد جب آپ کی بیوی صاحبہ آئیں تو دیکھا کہ مریض تو ہے نہیں کوئی اور شخص تندرست نورانی چہرے والا بیٹھا ہوا ہے پہچان نہ سکیں اور دریافت کرنے لگیں کہ اے اللہ کے نیک بندے یہاں اللہ کے ایک نبی جو درد دکھ میں مبتلا تھے انہیں دیکھا ہے ؟ واللہ کہ جب وہ تندرست تھے تو قریب قریب تم جیسے ہی تھے، تب آپ نے فرمایا وہ میں ہی ہوں۔ راوی کہتا ہے آپ کی دو کوٹھیاں تھیں ایک گیہوں کیلئے اور ایک جو کے لئے۔ اللہ تعالیٰ نے دو ابر بھیجے ایک میں سونا برسا اور ایک کوٹھی اناج کی اس سے بھر گئی دوسرے میں سے بھی سونا برسا اور دوسری کوٹھی اس سے بھر گئی (ابن جریر) صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں حضرت ایوب ؑ ننگے ہو کر نہا رہے تھے جو آسمان سے سونے کی ٹٹڈیاں برسنے لگیں آپ نے جلدی جلدی انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنی شروع کیں تو اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ اے ایوب کیا میں نے تمہیں غنی اور بےپرواہ نہیں کر رکھا ؟ آپ نے جواب دیا ہاں الٰہی بیشک تو نے مجھے بہت کچھ دے رکھا ہے میں سب سے غنی اور بےنیاز ہوں لیکن تیری رحمت سے بےنیاز نہیں ہوں بلکہ اس کا تو پورا محتاج ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس صابر پیغمبر ﷺ کو نیک بدلہ اور بہتر جزائیں عطا فرمائیں۔ اولاد بھی دی اور اسی کے مثل اور بھی دی بلکہ حضرت حسن اور قتادہ سے منقول ہے کہ مردہ اولاد اللہ نے زندہ کردی اور اتنی ہی اور نئی دی۔ یہ تھا اللہ کا رحم جو ان کے صبر و استقلال رجوع الی اللہ تواضع اور انکساری کے بدلے اللہ نے انہیں دیا اور عقلمندوں کے لئے نصیحت و عبرت ہے وہ جان لیتے ہیں کہ صبر کا انجام کشادگی ہے اور رحمت و راحت ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ حضرت ایوب ؑ اپنی بیوی کے کسی کام کی وجہ سے ان پر ناراض ہوگئے تھے بعض کہتے ہیں وہ اپنے بالوں کی ایک لٹ بیچ کر ان کے لئے کھانا لائی تھیں اس پر آپ ناراض ہوئے تھے اور قسم کھائی تھی کہ شفا کے بعد سو کوڑے ماریں گے دوسروں نے وجہ ناراضگی اور بیان کی ہے۔ جبکہ آپ تندرست اور صحیح سالم ہوگئے تو ارادہ کیا کہ اپنی قسم کو پورا کریں لیکن ایسی نیک صفت عورت اس سزا کے لائق نہ تھیں جو حضرت ایوب نے طے کر رکھی تھی جس عورت نے اس وقت خدمت کی جبکہ کوئی ساتھ نہ تھا اسی لئے رب العالمین ارحم الراحمین نے ان پر رحم کیا اور اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ قسم پوری کرنے کے لئے کھجور کا ایک خوشہ لے لو جس میں ایک سو سیخیں ہوں اور ایک انہیں مار دو اس صورت میں قسم کا خلاف نہ ہوگا اور ایک ایسی صابرہ شاکرہ نیک بیوی پر سزا بھی نہ ہوگی۔ یہی دستور الٰہی ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو جو اس سے ڈرتے رہتے ہیں برائیوں اور بدیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت ایوب کی ثناء و صفت بیان فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بڑا صابر و ضابط پایا وہ بڑا نیک اور اچھا بندہ ثابت ہوا۔ اس کے دل میں ہماری سچی محبت تھی وہ ہماری ہی طرف جھکتا رہا اور ہمیں سے لو لگائے رہا، اسی لئے فرمان اللہ ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا رہتا ہے اللہ اس کے لئے چھٹکارے کی صورت نکال دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی پہنچاتا ہے جو اس کے خیال میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر توکل رکھنے والوں کو اللہ کافی ہے۔ اللہ اپنے کام میں پورا اترتا ہے اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ سمجھدار علماء کرام نے اس آیت سے بہت سے ایمانی مسائل اخذ کئے ہیں واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
يَذْكُرُ تَعَالَى عَبْدَهُ وَرَسُولَهُ أَيُّوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَمَا كَانَ ابْتَلَاهُ تَعَالَى بِهِ مِنَ الضُّرِّ فِي جَسَدِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مَنْ جَسَدِهِ مَغْرز إِبْرَةٍ سَلِيمًا سِوَى قَلْبِهِ وَلَمْ يَبْقَ لَهُ مَنْ حَالِ الدُّنْيَا شَيْءٌ يَسْتَعِينُ بِهِ عَلَى مَرَضِهِ وَمَا هُوَ فِيهِ غَيْرَ أَنَّ زَوْجَتَهُ حَفِظَتْ وِدَّهُ لِإِيمَانِهَا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَكَانَتْ تَخْدُمُ النَّاسَ بِالْأُجْرَةِ [[في أ: "بالأجر".]] وَتُطْعِمُهُ وَتَخْدُمُهُ نَحْوًا مِنْ ثَمَانِي عَشْرَةَ سَنَةٍ. وَقَدْ كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ فِي مَالٍ جَزِيلٍ وَأَوْلَادٍ وَسَعَةٍ طَائِلَةٍ مِنَ الدُّنْيَا فَسُلبَ جَمِيعَ ذَلِكَ حَتَّى آلَ بِهِ الْحَالُ إِلَى أَنْ أُلْقِيَ عَلَى مَزْبَلَةٍ مِنْ مَزَابِلِ الْبَلْدَةِ هَذِهِ الْمُدَّةَ بِكَمَالِهَا وَرَفَضَهُ الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ سِوَى زَوْجَتِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَإِنَّهَا كَانَتْ لَا تُفَارِقُهُ صَبَاحًا وَ [لَا] [[زيادة من أ.]] مَسَاءً إِلَّا بِسَبَبِ خِدْمَةِ النَّاسِ ثُمَّ تَعُودُ إِلَيْهِ قَرِيبًا. فَلَمَّا طَالَ الْمَطَالُ وَاشْتَدَّ الْحَالُ وَانْتَهَى الْقَدَرُ الْمَقْدُورُ وَتَمَّ الْأَجَلُ الْمُقَدَّرُ تَضَرَّعَ [[في ت، س: "ضرع".]] إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ وَإِلَهِ الْمُرْسَلِينَ فَقَالَ: ﴿أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ: ٨٣] وَفِي هَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ قَالَ: رَبِّ إِنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ، قِيلَ: بِنُصْبٍ فِي بَدَنِي وَعَذَابٍ فِي مَالِي وَوَلَدِي. فَعِنْدَ ذَلِكَ اسْتَجَابَ لَهُ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ مِنْ مَقَامِهِ وَأَنْ يَرْكُضَ الْأَرْضَ بِرِجْلِهِ. فَفَعَلَ فَأَنْبَعَ اللَّهُ عَيْنًا وَأَمَرَهُ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنْهَا فَأَذْهَبَ جَمِيعَ مَا كَانَ فِي بَدَنِهِ مِنَ الْأَذَى [[في ت، س: "ما كان به من الأذى".]] ثُمَّ أَمَرَهُ فَضَرَبَ الْأَرْضَ فِي مَكَانٍ آخَرَ فَأَنْبَعَ لَهُ عَيْنًا أُخْرَى وَأَمَرَهُ أَنْ يَشْرَبَ مِنْهَا فَأَذْهَبَتْ مَا كَانَ فِي بَاطِنِهِ [[في أ: "بباطنه".]] مِنَ السُّوءِ وَتَكَامَلَتِ الْعَافِيَةُ ظَاهِرًا وَبَاطِنًا وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ﴾
قَالَ [[في ت: "روى".]] ابْنُ جَرِيرٍ، وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ جَمِيعًا: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ [[في ت: "بسندهما".]] عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ أَيُّوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَبِثَ بِهِ بَلَاؤُهُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً فَرَفَضَهُ الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ إِلَّا رَجُلَيْنِ كَانَا مِنْ أَخَصِّ إِخْوَانِهِ بِهِ كَانَا يَغْدُوَانِ إِلَيْهِ وَيَرُوحَانِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: تَعَلَّمْ -وَاللَّهِ-لَقَدْ أَذْنَبَ أَيُّوبُ ذَنْبًا مَا أَذْنَبَهُ أَحَدٌ مِنَ الْعَالَمِينَ. قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: مِنْ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً لَمْ يَرْحَمْهُ اللَّهُ، فيكشفَ مَا بِهِ [[في أ: "ما به من مرضه".]] فَلَمَّا رَاحَا إِلَيْهِ لَمْ يَصْبِرِ الرَّجُلُ حَتَّى ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ. فَقَالَ أَيُّوبُ: لَا أَدْرِي مَا تَقُولُ غَيْرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ أَمُرُّ عَلَى الرَّجُلَيْنِ يَتَنَازَعَانِ فَيَذْكُرَانِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَأُكَفِّرُ عَنْهُمَا، كَرَاهِيَةَ أَنْ يَذْكُرَا اللَّهَ إِلَّا فِي حَقٍّ. قَالَ: وَكَانَ [[في أ: "وكان أيوب".]] يَخْرُجُ إِلَى حَاجَتِهِ فَإِذَا قَضَاهَا أَمْسَكَتِ امْرَأَتُهُ بِيَدِهِ حَتَّى يَبْلُغَ فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأَ عَلَيْهَا وَأَوْحَى اللَّهُ تَعَالَى إِلَى أَيُّوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنِ ﴿ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ﴾ فَاسْتَبْطَأَتْهُ فَتَلَقَّتْهُ تَنْظُرُ فَأَقْبَلَ [[في أ: "وأقبل".]] عَلَيْهَا قَدْ أَذْهَبَ اللَّهُ مَا بِهِ مِنَ الْبَلَاءِ وَهُوَ عَلَى أَحْسَنِ مَا كَانَ. فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ: أَيْ بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ هَلْ رَأَيْتَ نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا الْمُبْتَلَى. فَوَاللَّهِ عَلَى ذَلِكَ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشْبَهَ بِهِ مِنْكَ إِذْ كَانَ صَحِيحًا. قَالَ: فَإِنِّي [[في أ: "فقال إني".]] أَنَا هُوَ. قَالَ: وَكَانَ لَهُ أَنْدَرَانِ أَنْدَرُ لِلْقَمْحِ وَأَنْدَرُ لِلشَّعِيرِ فَبَعَثَ اللَّهُ سَحَابَتَيْنِ فَلَمَّا كَانَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى أَنْدَرِ الْقَمْحِ أَفْرَغَتْ فِيهِ الذَّهَبَ حَتَّى فَاضَ وَأَفْرَغَتِ الْأُخْرَى فِي أَنْدَرِ الشَّعِيرِ حَتَّى فَاضَ. هَذَا لَفْظُ ابْنُ جَرِيرٍ رَحِمَهُ اللَّهُ [[تفسير الطبري (٢٣/١٠٧) ورواه البزار في مسنده (٢٣٥٧) "كشف الأستار" وأبو نعيم في الحلية (٣/٣٧٤) من طريق سعيد ابن أبي مريم عن نافع بن يزيد به. قال البزار: "لا نعلم رواه عن الزهري عن أنس إلا عقيل، ولا عنه إلا نافع ورواه عن نافع غير واحد" وقال الهيثمي في المجمع (٨/٢٠٨) : "رجال البزار رجال الصحيح".]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَر عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّه قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا [[في ت: "وروى القاري".]] أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ أَيُّوبُ يَحْثُو فِي ثَوْبِهِ فَنَادَاهُ رَبُّهُ [[في ت، س، أ: "ربه عز وجل".]] يَا أَيُّوبُ أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى؟ قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ وَلَكِنْ لَا غِنَى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ".
انْفَرَدَ بِإِخْرَاجِهِ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ بِهِ [[المسند (٢/٣١٤) وصحيح البخاري برقم (٢٧٨) .]]
وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ رَحْمَةً مِنَّا وَذِكْرَى لأولِي الألْبَابِ﴾ قَالَ الْحَسَنُ وَقَتَادَةُ: أَحْيَاهُمُ اللَّهُ تَعَالَى لَهُ بِأَعْيَانِهِمْ وَزَادَهُمْ مِثْلَهُمْ مَعَهُمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿رَحْمَةً مِنَّا﴾ أَيْ: بِهِ عَلَى صَبْرِهِ وَثَبَاتِهِ وَإِنَابَتِهِ وَتَوَاضُعِهِ وَاسْتِكَانَتِهِ ﴿وَذِكْرَى لأولِي الألْبَابِ﴾ أَيْ: لِذَوِي الْعُقُولِ لِيَعْلَمُوا أَنَّ عاقبةَ الصَّبْرِ الفرجُ والمخرجُ والراحة.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلا تَحْنَثْ﴾ وَذَلِكَ أَنَّ أَيُّوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ قَدْ غَضِبَ عَلَى زَوْجَتِهِ وَوَجَدَ عَلَيْهَا فِي أَمْرٍ فَعَلَتْهُ. قِيلَ: [إِنَّهَا] [[زيادة من ت، أ.]] بَاعَتْ ضَفِيرَتَهَا [[في أ: "ضفيرتيها".]] بِخُبْزٍ فَأَطْعَمَتْهُ إِيَّاهُ فَلَامَهَا عَلَى ذَلِكَ وَحَلِفَ إِنْ شَفَاهُ اللَّهُ لَيَضْرِبَنَّهَا مِائَةَ جِلْدَةٍ. وَقِيلَ: لِغَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَسْبَابِ. فَلَمَّا شَفَاهُ اللَّهُ وَعَافَاهُ مَا كَانَ جَزَاؤُهَا مَعَ هَذِهِ الْخِدْمَةِ التَّامَّةِ وَالرَّحْمَةِ وَالشَّفَقَةِ وَالْإِحْسَانِ أَنْ تُقَابَلَ بِالضَّرْبِ فَأَفْتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَأْخُذَ ضِغْثًا -وَهُوَ: الشِّمراخ-فِيهِ مِائَةُ قَضِيبٍ فَيَضْرِبُهَا بِهِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً وَقَدْ بَرّت يَمِينُهُ وَخَرَجَ مِنْ حِنْثِهِ وَوَفَى بِنَذْرِهِ وَهَذَا مِنَ الْفَرَجِ وَالْمَخْرَجِ لِمَنِ اتَّقَى اللَّهَ وَأَنَابَ إِلَيْهِ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾ أَثْنَى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَمَدَحَهُ بِأَنَّهُ ﴿نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾ أَيْ: رَجَّاع مُنِيبٌ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾ [الطَّلَاقِ: ٢، ٣]
وَقَدِ اسْتَدَلَّ كَثِيرٌ مِنَ الْفُقَهَاءِ بِهَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ عَلَى مَسَائِلَ فِي الْأَيْمَانِ وَغَيْرِهَا وَأَخَذُوهَا [[في ت، س: "وأخذوا".]] بِمُقْتَضَاهَا [وَمَنَعَتْ طَائِفَةٌ أُخْرَى مِنَ الْفُقَهَاءِ مِنْ ذَلِكَ، وَقَالُوا: لَمْ يَثْبُتْ أَنَّ الْكَفَّارَةَ كَانَتْ مَشْرُوعَةً فِي شَرْعِ أَيُّوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَلِذَلِكَ رَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ، وَقَدْ أَغْنَى اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِالْكَفَّارَةِ] [[زيادة من ت، أ.]]
وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًۭا فَٱضْرِب بِّهِۦ وَلَا تَحْنَثْ ۗ إِنَّا وَجَدْنَٰهُ صَابِرًۭا ۚ نِّعْمَ ٱلْعَبْدُ ۖ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌۭ
[We said], "And take in your hand a bunch [of grass] and strike with it and do not break your oath." Indeed, We found him patient, an excellent servant. Indeed, he was one repeatedly turning back [to Allah].
اور اپنے ہاتھ میں جھاڑو لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو۔ بےشک ہم نے ان کو ثابت قدم پایا۔ بہت خوب بندے تھے بےشک وہ رجوع کرنے والے تھے
(و به او گفتیم:) بستهای از ساقههای گندم (یا مانند آن) را برگیر و با آن (همسرت را) بزن و سوگند خود را مشکن! ما او را شکیبا یافتیم؛ چه بنده خوبی که بسیار بازگشتکننده (به سوی خدا) بود!
Tafsir Ibn Kathir
And remember Our servant Ayyub, when he invoked his Lord (saying): "Verily, Shaytan has afflicted me with distress and torment! (41)(Allah said to him): "Strike the ground with your foot. This is (a spring of) water to wash in, cool and a drink. (42)And We gave him (back) his family, and along with them the like thereof, as a mercy from Us, and a reminder for those who understand (43)"And take in your hand a bundle of thin grass and strike therewith (your wife), and break not your oath." Truly, We found him patient. How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)(44)
Ayyub
Here Allah tells us about His servant and Messenger Ayyub (Job) and how He tested him. These tests afflicted his body, his wealth and his children, until there was no part of his body that was healthy except his heart. Then he had nothing left in this world which he could use to help him deal with his sickness or the predicament he was in, besides his wife, who retained her devotion to him because of her faith in Allah and His Messenger. She used to work for people as a paid servant, and she fed and served him (Ayyub) for nearly eighteen years. Before that, he was very rich and had many children, being well off in worldly terms. All of that had been taken away until he ended up being thrown into the city dump where he stayed all this time, shunned by relatives and strangers alike, with the exception of his wife – may Allah be pleased with her. She did not leave him, morning and evening, except for when she was serving people, then she would come straight back to him. When this had gone on for a long time, and things had gotten very bad, and the time allotted by divine decree had come to an end, Ayyub prayed to the Lord of the worlds, the God of the Messengers, and said:
أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
(Verily, distress has seized me, and You are the Most Merciful of all those who show mercy.)(21:83). And according to this Ayah:
وَاذْكُرْ عَبْدَنَا أَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ
(And remember Our servant Ayyub, when he invoked his Lord (saying): "Verily, Shaytan has afflicted me with distress and torment!") It was said that "distress" referred to bodily afflictions and "torment" referred to the loss of his wealth and children. Then the Most Merciful of those who show mercy responded to him, telling him to stand up and strike the ground with his foot. He did this, and Allah caused a spring of water to flow. He commanded him to wash in it, and all the pain and affliction in his body disappeared. Then He commanded him to strike the ground in a different place, and Allah caused another spring to flow, and Ayyub was commanded to drink from it. Then all his internal problems disappeared, and he became healthy again, inside and out. Allah says:
ارْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ
(Strike the ground with your foot. This is (a spring of) water to wash in, cool and a (refreshing) drink.) Ibn Jarir and Ibn Abi Hatim recorded that Anas bin Malik, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
إِنَّ نَبِيَّ اللهِ أَيُّوبَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لَبِثَ بِهِ بَلَاؤُهُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَرَفَضَهُ الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ، إِلَّا رَجُلَيْنِ كَانَا مِنْ أَخَصِّ إِخْوَانِهِ بِهِ، كَانَا يَغْدُوَانِ إِلَيْهِ وَيَرُوحَانِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: تَعْلَمُ وَاللهِ لَقَدْ أَذْنَبَ أَيُّوبُ ذَنْبًا مَا أَذْنَبَهُ أَحَدٌ مِنَ الْعَالَمِينَ، قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: مُنْذُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً لَمْ يَرْحَمْهُ اللهُ فَيَكْشِفَ مَا بِهِ، فَلَمَّا رَاحَا إِلَيْهِ لَمْ يَصْبِرِ الرَّجُلُ حَتّٰى ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ أَيُّوبُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: لَا أَدْرِي مَا تَقُولُ، غَيْرَ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ أَمُرُّ عَلَى الرَّجُلَيْنِ يَتَنَازَعَانِ فَيَذْكُرَانِ اللهَ تَعَالَى، فَأَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَأُكَفِّرُ عَنْهُمَا كَرَاهِيَةَ أَنْ يُذْكَرَ اللهُ تَعَالَى إِلَّا فِي حَقٍّ، قَالَ: وَكَانَ يَخْرُجُ إِلَى حَاجَتِهِ،فَإِذَا قَضَاهَا أَمْسَكَتِ امْرَأَتُهُ بِيَدِهِ حَتّٰى يَبْلُغَ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأَ عَلَيْهَا، فَأَوْحَى اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى أَيُّوبَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَن ارْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ فَاسْتَبْطَأَتْهُ (فَتَلَقَّتْهُ) تَنْظُرُ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا وَقَدْ أَذْهَبَ اللهُ مَا بِهِ مِنَ الْبَلَاءِ وَهُوَ عَلَى أَحْسَنِ مَا كَانَ، فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ: أَيْ بَارَكَ اللهُ فِيكَ، هَلْ رَأَيْتَ نَبِيَّ اللهِ هَذَا الْمُبْتَلَى، فَوَاللهِ عَلَى ذَلِكَ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشْبَهَ بِهِ مِنْكَ إِذْ كَانَ صَحِيحًا. قَالَ: فَإِنِّي أَنَا هُوَ، قَالَ: وَكَانَ لَهُ أَنْدَرَانِ: أَنْدَرٌ لِلْقَمْحِ وَأَنْدَرٌ لِلشَّعِيرِ، فَبَعَثَ اللهُ تَعَالَى سَحَابَتَيْنِ فَلَمَّا كَانَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى أَنْدَرِ الْقَمْحِ، أَفْرَغَتْ فِيهِ الذَّهَبَ حَتّٰى فَاضَ، وَأَفْرَغَتِ الْأُخْرَى فِي أَنْدَرِ الشَّعِيرِ حَتّٰى فَاضَ
(Allah's Prophet Ayyub, peace be upon him, suffered for eighteen years from his affliction and was shunned by relatives and strangers alike, besides two men who were the closest of his brothers to him. They used to visit him every morning and every evening. One of them said to his companion, "You know, by Allah, that Ayyub committed a great sin which nobody in the world ever committed." His companion said, "Why are you saying that?" He said, "For eighteen years he has been suffering and Allah has not had mercy on him and relieve his suffering." When he went to him the next morning, the (second) man could not wait to tell this to Ayyub. Ayyub, peace be upon him, said, "I do not know what you are talking about, but Allah knows if I passed by two men who were arguing and they mentioned the Name of Allah, I would go back home and offer expiation lest they had mentioned the Name of Allah in an improper manner. " Whenever he went out to answer the call of nature, when he finished, his wife would take his hand until he came back home. One day he took a long time, and Allah had revealed to Ayyub, (Strike the ground with your foot. This is (a spring of) water to wash in, cool and a (refreshing) drink.) She thought that he had taken too long, so she turned to look at him, and saw that Allah had taken away the afflictions he had been suffering, and he looked better than he had ever looked. When she saw him, she said, "May Allah bless you! Have you seen Allah's Prophet, the one who is sorely tested? By Allah, I have never seen a man who looks more like him than you, if he were healthy." He said, "I am he." He had two threshing floors, one for wheat and one for barley. Allah sent two clouds, and when one of them reached the threshing floor of the wheat, it rained gold until it was full. The other rained gold on the threshing floor of the barley until it was full.) This is the wording of Ibn Jarir, may Allah have mercy on him.
Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ أَيُّوبُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يَحْثُو فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَاهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لَا غِنٰى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ
(While Ayyub was bathing naked, locusts of gold fell upon him. Ayyub, peace be upon him, began gathering them in his garment. Then his Lord called to him, "O Ayyub, have I not made you so rich that you have no need of what you see?" He, peace be upon him, said, "Yes, O Lord! But I cannot do without Your blessing!") This was only recorded by Al-Bukhari.
وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ رَحْمَةً مِنَّا وَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ
(And We gave him (back) his family, and along with them the like thereof, as a mercy from Us, and a reminder for those who understand.) Al-Hasan and Qatadah said, "Allah brought his family themselves back to life, and added others like them."
رَحْمَةً مِنَّا
(as a mercy from Us,) means, in return for his patience, steadfastness, repentance, humility and constant turning to Allah.
وَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ
(and a reminder for those who understand.) means, for those who understand that the consequence of patience is a solution and a way out.
وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلَا تَحْنَثْ ۗ
(And take in your hand a bundle of thin grass and strike therewith (your wife), and break not your oath.) Ayyub, peace be upon him, got angry with his wife and was upset about something she had done, so he swore an oath that if Allah healed him, he would strike her with one hundred blows. When Allah healed him, how could her service, mercy, compassion and kindness be repaid with a beating? So Allah showed him a way out, which was to take a bundle of thin grass, with one hundred stems, and hit her with it once. Thus he fulfilled his oath and avoided breaking his vow. This was the solution and way out for one who had Taqwa of Allah and turned to Him in repentance. Allah says:
إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا ۚ نِعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ
(Truly, We found him patient. How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)!) Allah praised and commanded him, saying,
نِعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ
(How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)!) Allah says:
وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا - وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ ۚ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا
(And whosoever has Taqwa of Allah, He will make a way for him to get out (from every difficulty). And He will provide him from (sources) he never could imagine. And whosoever puts his trust in Allah, then He will suffice him. Verily, Allah will accomplish his purpose. Indeed Allah has set a measure for all things.)(65:2-3)
Tafsir Ibn Kathir
حضرت ایوب ؑ اور ان کا صبر۔ حضرت ایوب ؑ کا ذکر ہو رہا ہے اور ان کے صبر اور امتحان میں پاس ہونے کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ مال برباد ہوگیا اولادیں مرگئیں جسم مریض ہوگیا یہاں تک کہ سوئی کے ناکے کے برابر سارے جسم میں ایسی جگہ نہ تھی جہاں بیماری نہ ہو صرف دل سلامت رہ گیا اور پھر فقیری اور مفلسی کا یہ حال تھا کہ ایک وقت کا کھانا پاس نہ تھا کوئی نہ تھا جو خبر گیر ہوتا سوائے ایک بیوی صاحبہ ؓ کے جن کے دل میں خوف اللہ تھا اور اپنے خاوند اللہ کے رسول ﷺ کی محبت تھی۔ لوگوں کا کام کاج کر کے اپنا اور اپنے میاں کا پیٹ پالتی تھیں آٹھ سال تک یہی حال رہا حالانکہ اس سے پہلے ان سے بڑھ کر مالدار کوئی نہ تھا۔ اولاد بھی بکثرت تھی اور دنیا کی ہر راحت موجود تھی۔ اب ہر چیز چھین لی گئی تھی اور شہر کا کوڑا کرکٹ جہاں ڈالا جاتا تھا وہیں آپ کو لا بٹھایا تھا۔ اسی حال میں ایک دو دن نہیں سال دو سال نہیں آٹھ سال کامل گذارے اپنے اور غیر سب نے منہ پھیرلیا تھا۔ خیریت پوچھنے والا بھی کوئی نہ تھا۔ صرف آپ کی یہی ایک بیوی صاحبہ تھیں جو ہر وقت دن اور رات آپ کی خدمت میں کمر بستہ تھیں۔ ہاں پیٹ پالنے کے لئے محنت مزدوری کے وقت آپ کے پاس سے چلی جاتی تھیں یہاں تک کہ دن پھرے اور اچھا وقت آگیا تو رب العالمین الہ المرسلین کی طرف تضرع وزاری کی اور کپکپاتے ہوئے کلیجے سے دل سے دعا کی کہ اے میرے پالنہار اللہ مجھے دکھ نے تڑپا دیا ہے اور تو ارحم الراحمین ہے یہاں جو دعا ہے اس میں جسمانی تکلیف اور مال و اولاد کے دکھ درد کا ذکر کیا۔ اسی وقت رحیم و کریم اللہ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور حکم ہوا کہ زمین پر اپنا پاؤں مارو۔ پاؤں کے لگتے ہی وہاں ایک چشمہ ابلنے لگا حکم ہوا کہ اس پانی سے غسل کرلو۔ غسل کرتے ہی بدن کی تمام بیماری اس طرح جاتی رہی گویا تھی ہی نہیں۔ پھر حکم ہوا کہ اور جگہ ایڑی لگاؤ وہاں پاؤں مارتے ہی دوسرا چشمہ جاری ہوگیا حکم ہوا کہ اس کا پانی پی لو اس پانی کے پیتے ہی اندرونی بیماریاں بھی جاتی رہیں اور ظاہر و باطن کی عافیت اور کامل تندرستی حاصل ہوگئی۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اٹھارہ سال تک اللہ کے یہ پیغمبر ﷺ دکھ درد میں مبتلا رہے اپنے اور غیر سب نے چھوڑ دیا ہاں آپ کے مخلص دوست صبح شام خیریت خبر کے لئے آ جایا کرتے تھے ایک مرتبہ ایک نے دوسرے سے کہا میرا خیال یہ ہے کہ ایوب نے اللہ کی کوئی بڑی نافرمانی کی ہے کہ اٹھارہ سال سے اس بلا میں پڑا ہوا ہے اور اللہ اس پر رحم کرے اس دوسرے شخص نے شام کو حضرت ایوب ؑ سے اس کی یہ بات ذکر کردی۔ آپ کو سخت رنج ہوا اور فرمایا میں نہیں جانتا کہ وہ ایسا کیوں کہتے ہیں۔ اللہ خوب جانتا ہے میری یہ حالت تھی کہ جب دو شخصوں کو آپس میں جھگڑتے دیکھا اور دونوں اللہ کو بیچ میں لاتے تو مجھ سے یہ نہ دیکھا جاتا کہ اللہ تعالیٰ کے عزیز نام کی اس طرح یاد کی جائے کیونکہ دو میں سے ایک تو ضرور مجرم ہوگا اور دونوں اللہ کا نام لے رہے ہیں تو میں اپنے پاس سے دے دلا کر ان کے جھگڑے کو ختم کردیتا کہ نام اللہ کی بےادبی نہ ہو۔ آپ سے اس وقت چلا بھرا بلکہ اٹھا بیٹھا بھی نہیں جاتا تھا پاخانے کے بعد آپ کی بیوی صاحبہ آپ کو اٹھا کر لاتی تھیں۔ ایک مرتبہ وہ نہیں تھیں آپ کو بہت تکلیف ہوئی اور دعا کی اور اللہ کی طرف سے وحی ہوئی کہ زمین پر لات مار دو۔ بہت دیر کے بعد جب آپ کی بیوی صاحبہ آئیں تو دیکھا کہ مریض تو ہے نہیں کوئی اور شخص تندرست نورانی چہرے والا بیٹھا ہوا ہے پہچان نہ سکیں اور دریافت کرنے لگیں کہ اے اللہ کے نیک بندے یہاں اللہ کے ایک نبی جو درد دکھ میں مبتلا تھے انہیں دیکھا ہے ؟ واللہ کہ جب وہ تندرست تھے تو قریب قریب تم جیسے ہی تھے، تب آپ نے فرمایا وہ میں ہی ہوں۔ راوی کہتا ہے آپ کی دو کوٹھیاں تھیں ایک گیہوں کیلئے اور ایک جو کے لئے۔ اللہ تعالیٰ نے دو ابر بھیجے ایک میں سونا برسا اور ایک کوٹھی اناج کی اس سے بھر گئی دوسرے میں سے بھی سونا برسا اور دوسری کوٹھی اس سے بھر گئی (ابن جریر) صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں حضرت ایوب ؑ ننگے ہو کر نہا رہے تھے جو آسمان سے سونے کی ٹٹڈیاں برسنے لگیں آپ نے جلدی جلدی انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنی شروع کیں تو اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ اے ایوب کیا میں نے تمہیں غنی اور بےپرواہ نہیں کر رکھا ؟ آپ نے جواب دیا ہاں الٰہی بیشک تو نے مجھے بہت کچھ دے رکھا ہے میں سب سے غنی اور بےنیاز ہوں لیکن تیری رحمت سے بےنیاز نہیں ہوں بلکہ اس کا تو پورا محتاج ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس صابر پیغمبر ﷺ کو نیک بدلہ اور بہتر جزائیں عطا فرمائیں۔ اولاد بھی دی اور اسی کے مثل اور بھی دی بلکہ حضرت حسن اور قتادہ سے منقول ہے کہ مردہ اولاد اللہ نے زندہ کردی اور اتنی ہی اور نئی دی۔ یہ تھا اللہ کا رحم جو ان کے صبر و استقلال رجوع الی اللہ تواضع اور انکساری کے بدلے اللہ نے انہیں دیا اور عقلمندوں کے لئے نصیحت و عبرت ہے وہ جان لیتے ہیں کہ صبر کا انجام کشادگی ہے اور رحمت و راحت ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ حضرت ایوب ؑ اپنی بیوی کے کسی کام کی وجہ سے ان پر ناراض ہوگئے تھے بعض کہتے ہیں وہ اپنے بالوں کی ایک لٹ بیچ کر ان کے لئے کھانا لائی تھیں اس پر آپ ناراض ہوئے تھے اور قسم کھائی تھی کہ شفا کے بعد سو کوڑے ماریں گے دوسروں نے وجہ ناراضگی اور بیان کی ہے۔ جبکہ آپ تندرست اور صحیح سالم ہوگئے تو ارادہ کیا کہ اپنی قسم کو پورا کریں لیکن ایسی نیک صفت عورت اس سزا کے لائق نہ تھیں جو حضرت ایوب نے طے کر رکھی تھی جس عورت نے اس وقت خدمت کی جبکہ کوئی ساتھ نہ تھا اسی لئے رب العالمین ارحم الراحمین نے ان پر رحم کیا اور اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ قسم پوری کرنے کے لئے کھجور کا ایک خوشہ لے لو جس میں ایک سو سیخیں ہوں اور ایک انہیں مار دو اس صورت میں قسم کا خلاف نہ ہوگا اور ایک ایسی صابرہ شاکرہ نیک بیوی پر سزا بھی نہ ہوگی۔ یہی دستور الٰہی ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو جو اس سے ڈرتے رہتے ہیں برائیوں اور بدیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت ایوب کی ثناء و صفت بیان فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بڑا صابر و ضابط پایا وہ بڑا نیک اور اچھا بندہ ثابت ہوا۔ اس کے دل میں ہماری سچی محبت تھی وہ ہماری ہی طرف جھکتا رہا اور ہمیں سے لو لگائے رہا، اسی لئے فرمان اللہ ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا رہتا ہے اللہ اس کے لئے چھٹکارے کی صورت نکال دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی پہنچاتا ہے جو اس کے خیال میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر توکل رکھنے والوں کو اللہ کافی ہے۔ اللہ اپنے کام میں پورا اترتا ہے اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ سمجھدار علماء کرام نے اس آیت سے بہت سے ایمانی مسائل اخذ کئے ہیں واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
يَذْكُرُ تَعَالَى عَبْدَهُ وَرَسُولَهُ أَيُّوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَمَا كَانَ ابْتَلَاهُ تَعَالَى بِهِ مِنَ الضُّرِّ فِي جَسَدِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مَنْ جَسَدِهِ مَغْرز إِبْرَةٍ سَلِيمًا سِوَى قَلْبِهِ وَلَمْ يَبْقَ لَهُ مَنْ حَالِ الدُّنْيَا شَيْءٌ يَسْتَعِينُ بِهِ عَلَى مَرَضِهِ وَمَا هُوَ فِيهِ غَيْرَ أَنَّ زَوْجَتَهُ حَفِظَتْ وِدَّهُ لِإِيمَانِهَا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَكَانَتْ تَخْدُمُ النَّاسَ بِالْأُجْرَةِ [[في أ: "بالأجر".]] وَتُطْعِمُهُ وَتَخْدُمُهُ نَحْوًا مِنْ ثَمَانِي عَشْرَةَ سَنَةٍ. وَقَدْ كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ فِي مَالٍ جَزِيلٍ وَأَوْلَادٍ وَسَعَةٍ طَائِلَةٍ مِنَ الدُّنْيَا فَسُلبَ جَمِيعَ ذَلِكَ حَتَّى آلَ بِهِ الْحَالُ إِلَى أَنْ أُلْقِيَ عَلَى مَزْبَلَةٍ مِنْ مَزَابِلِ الْبَلْدَةِ هَذِهِ الْمُدَّةَ بِكَمَالِهَا وَرَفَضَهُ الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ سِوَى زَوْجَتِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَإِنَّهَا كَانَتْ لَا تُفَارِقُهُ صَبَاحًا وَ [لَا] [[زيادة من أ.]] مَسَاءً إِلَّا بِسَبَبِ خِدْمَةِ النَّاسِ ثُمَّ تَعُودُ إِلَيْهِ قَرِيبًا. فَلَمَّا طَالَ الْمَطَالُ وَاشْتَدَّ الْحَالُ وَانْتَهَى الْقَدَرُ الْمَقْدُورُ وَتَمَّ الْأَجَلُ الْمُقَدَّرُ تَضَرَّعَ [[في ت، س: "ضرع".]] إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ وَإِلَهِ الْمُرْسَلِينَ فَقَالَ: ﴿أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ: ٨٣] وَفِي هَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ قَالَ: رَبِّ إِنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ، قِيلَ: بِنُصْبٍ فِي بَدَنِي وَعَذَابٍ فِي مَالِي وَوَلَدِي. فَعِنْدَ ذَلِكَ اسْتَجَابَ لَهُ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ مِنْ مَقَامِهِ وَأَنْ يَرْكُضَ الْأَرْضَ بِرِجْلِهِ. فَفَعَلَ فَأَنْبَعَ اللَّهُ عَيْنًا وَأَمَرَهُ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنْهَا فَأَذْهَبَ جَمِيعَ مَا كَانَ فِي بَدَنِهِ مِنَ الْأَذَى [[في ت، س: "ما كان به من الأذى".]] ثُمَّ أَمَرَهُ فَضَرَبَ الْأَرْضَ فِي مَكَانٍ آخَرَ فَأَنْبَعَ لَهُ عَيْنًا أُخْرَى وَأَمَرَهُ أَنْ يَشْرَبَ مِنْهَا فَأَذْهَبَتْ مَا كَانَ فِي بَاطِنِهِ [[في أ: "بباطنه".]] مِنَ السُّوءِ وَتَكَامَلَتِ الْعَافِيَةُ ظَاهِرًا وَبَاطِنًا وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ﴾
قَالَ [[في ت: "روى".]] ابْنُ جَرِيرٍ، وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ جَمِيعًا: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ [[في ت: "بسندهما".]] عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ أَيُّوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَبِثَ بِهِ بَلَاؤُهُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً فَرَفَضَهُ الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ إِلَّا رَجُلَيْنِ كَانَا مِنْ أَخَصِّ إِخْوَانِهِ بِهِ كَانَا يَغْدُوَانِ إِلَيْهِ وَيَرُوحَانِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: تَعَلَّمْ -وَاللَّهِ-لَقَدْ أَذْنَبَ أَيُّوبُ ذَنْبًا مَا أَذْنَبَهُ أَحَدٌ مِنَ الْعَالَمِينَ. قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: مِنْ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً لَمْ يَرْحَمْهُ اللَّهُ، فيكشفَ مَا بِهِ [[في أ: "ما به من مرضه".]] فَلَمَّا رَاحَا إِلَيْهِ لَمْ يَصْبِرِ الرَّجُلُ حَتَّى ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ. فَقَالَ أَيُّوبُ: لَا أَدْرِي مَا تَقُولُ غَيْرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ أَمُرُّ عَلَى الرَّجُلَيْنِ يَتَنَازَعَانِ فَيَذْكُرَانِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَأُكَفِّرُ عَنْهُمَا، كَرَاهِيَةَ أَنْ يَذْكُرَا اللَّهَ إِلَّا فِي حَقٍّ. قَالَ: وَكَانَ [[في أ: "وكان أيوب".]] يَخْرُجُ إِلَى حَاجَتِهِ فَإِذَا قَضَاهَا أَمْسَكَتِ امْرَأَتُهُ بِيَدِهِ حَتَّى يَبْلُغَ فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأَ عَلَيْهَا وَأَوْحَى اللَّهُ تَعَالَى إِلَى أَيُّوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنِ ﴿ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ﴾ فَاسْتَبْطَأَتْهُ فَتَلَقَّتْهُ تَنْظُرُ فَأَقْبَلَ [[في أ: "وأقبل".]] عَلَيْهَا قَدْ أَذْهَبَ اللَّهُ مَا بِهِ مِنَ الْبَلَاءِ وَهُوَ عَلَى أَحْسَنِ مَا كَانَ. فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ: أَيْ بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ هَلْ رَأَيْتَ نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا الْمُبْتَلَى. فَوَاللَّهِ عَلَى ذَلِكَ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشْبَهَ بِهِ مِنْكَ إِذْ كَانَ صَحِيحًا. قَالَ: فَإِنِّي [[في أ: "فقال إني".]] أَنَا هُوَ. قَالَ: وَكَانَ لَهُ أَنْدَرَانِ أَنْدَرُ لِلْقَمْحِ وَأَنْدَرُ لِلشَّعِيرِ فَبَعَثَ اللَّهُ سَحَابَتَيْنِ فَلَمَّا كَانَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى أَنْدَرِ الْقَمْحِ أَفْرَغَتْ فِيهِ الذَّهَبَ حَتَّى فَاضَ وَأَفْرَغَتِ الْأُخْرَى فِي أَنْدَرِ الشَّعِيرِ حَتَّى فَاضَ. هَذَا لَفْظُ ابْنُ جَرِيرٍ رَحِمَهُ اللَّهُ [[تفسير الطبري (٢٣/١٠٧) ورواه البزار في مسنده (٢٣٥٧) "كشف الأستار" وأبو نعيم في الحلية (٣/٣٧٤) من طريق سعيد ابن أبي مريم عن نافع بن يزيد به. قال البزار: "لا نعلم رواه عن الزهري عن أنس إلا عقيل، ولا عنه إلا نافع ورواه عن نافع غير واحد" وقال الهيثمي في المجمع (٨/٢٠٨) : "رجال البزار رجال الصحيح".]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَر عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّه قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا [[في ت: "وروى القاري".]] أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ أَيُّوبُ يَحْثُو فِي ثَوْبِهِ فَنَادَاهُ رَبُّهُ [[في ت، س، أ: "ربه عز وجل".]] يَا أَيُّوبُ أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى؟ قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ وَلَكِنْ لَا غِنَى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ".
انْفَرَدَ بِإِخْرَاجِهِ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ بِهِ [[المسند (٢/٣١٤) وصحيح البخاري برقم (٢٧٨) .]]
وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ رَحْمَةً مِنَّا وَذِكْرَى لأولِي الألْبَابِ﴾ قَالَ الْحَسَنُ وَقَتَادَةُ: أَحْيَاهُمُ اللَّهُ تَعَالَى لَهُ بِأَعْيَانِهِمْ وَزَادَهُمْ مِثْلَهُمْ مَعَهُمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿رَحْمَةً مِنَّا﴾ أَيْ: بِهِ عَلَى صَبْرِهِ وَثَبَاتِهِ وَإِنَابَتِهِ وَتَوَاضُعِهِ وَاسْتِكَانَتِهِ ﴿وَذِكْرَى لأولِي الألْبَابِ﴾ أَيْ: لِذَوِي الْعُقُولِ لِيَعْلَمُوا أَنَّ عاقبةَ الصَّبْرِ الفرجُ والمخرجُ والراحة.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلا تَحْنَثْ﴾ وَذَلِكَ أَنَّ أَيُّوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ قَدْ غَضِبَ عَلَى زَوْجَتِهِ وَوَجَدَ عَلَيْهَا فِي أَمْرٍ فَعَلَتْهُ. قِيلَ: [إِنَّهَا] [[زيادة من ت، أ.]] بَاعَتْ ضَفِيرَتَهَا [[في أ: "ضفيرتيها".]] بِخُبْزٍ فَأَطْعَمَتْهُ إِيَّاهُ فَلَامَهَا عَلَى ذَلِكَ وَحَلِفَ إِنْ شَفَاهُ اللَّهُ لَيَضْرِبَنَّهَا مِائَةَ جِلْدَةٍ. وَقِيلَ: لِغَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَسْبَابِ. فَلَمَّا شَفَاهُ اللَّهُ وَعَافَاهُ مَا كَانَ جَزَاؤُهَا مَعَ هَذِهِ الْخِدْمَةِ التَّامَّةِ وَالرَّحْمَةِ وَالشَّفَقَةِ وَالْإِحْسَانِ أَنْ تُقَابَلَ بِالضَّرْبِ فَأَفْتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَأْخُذَ ضِغْثًا -وَهُوَ: الشِّمراخ-فِيهِ مِائَةُ قَضِيبٍ فَيَضْرِبُهَا بِهِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً وَقَدْ بَرّت يَمِينُهُ وَخَرَجَ مِنْ حِنْثِهِ وَوَفَى بِنَذْرِهِ وَهَذَا مِنَ الْفَرَجِ وَالْمَخْرَجِ لِمَنِ اتَّقَى اللَّهَ وَأَنَابَ إِلَيْهِ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾ أَثْنَى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَمَدَحَهُ بِأَنَّهُ ﴿نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾ أَيْ: رَجَّاع مُنِيبٌ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾ [الطَّلَاقِ: ٢، ٣]
وَقَدِ اسْتَدَلَّ كَثِيرٌ مِنَ الْفُقَهَاءِ بِهَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ عَلَى مَسَائِلَ فِي الْأَيْمَانِ وَغَيْرِهَا وَأَخَذُوهَا [[في ت، س: "وأخذوا".]] بِمُقْتَضَاهَا [وَمَنَعَتْ طَائِفَةٌ أُخْرَى مِنَ الْفُقَهَاءِ مِنْ ذَلِكَ، وَقَالُوا: لَمْ يَثْبُتْ أَنَّ الْكَفَّارَةَ كَانَتْ مَشْرُوعَةً فِي شَرْعِ أَيُّوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَلِذَلِكَ رَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ، وَقَدْ أَغْنَى اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِالْكَفَّارَةِ] [[زيادة من ت، أ.]]
وَٱذْكُرْ عِبَٰدَنَآ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ أُو۟لِى ٱلْأَيْدِى وَٱلْأَبْصَٰرِ
And remember Our servants, Abraham, Isaac and Jacob - those of strength and [religious] vision.
اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد کرو جو ہاتھوں والے اور آنکھوں والے تھے
و به خاطر بیاور بندگان ما ابراهیم و اسحاق و یعقوب را، صاحبان دستها (ی نیرومند) و چشمها (ی بینا)!
Tafsir Ibn Kathir
And remember Our servants, Ibrahim, Ishaq, and Ya'qub, Ulil-Aydi wal-Absar (45)Verily, We did choose them by granting them the remembrance of the Abode (46)And they are with Us, verily, of the chosen and the best (47)And remember Isma'il, Al-Yasa', and Dhul-Kifl, all are among the best (48)This is a Reminder.. ()
The Chosen and the Best among the Prophets
Allah tells us about the virtues of His servants the Messengers and His Prophets:
وَاذْكُرْ عِبَادَنَا إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ أُولِي الْأَيْدِي وَالْأَبْصَارِ
(And remember Our servants, Ibrahim, Ishaq, and Ya'qub, Ulil-Aydi wal-Absar.) meaning, righteous deeds, beneficial knowledge, strength in worship and insight. 'Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said:
أُولِي الْأَيْدِي
(Ulil-Aydi) "Of great strength and worship;
وَالْأَبْصَارِ
(wal-Absar) means, understanding of the religion." Qatadah and As-Suddi said, "They were given strength in worship and understanding of the religion."
إِنَّا أَخْلَصْنَاهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ
(Verily, We did choose them by granting them the remembrance of the Abode.) Mujahid said, "This means: We made them strive for the Hereafter, and there is nothing else for them besides that." As-Suddi also said, "The remembrance of the Hereafter and striving for it." Malik bin Dinar said, "Allah removed the love of this world from their hearts, and singled them out for land remembrance of the Hereafter." Qatadah said, "They used to remind the people about the Abode of the Hereafter and to strive for it."
وَإِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْأَخْيَارِ
(And they are with Us, verily, of the chosen and the best!) means, they are among those who have been elected and chosen, and they are the best and the chosen ones.
وَاذْكُرْ إِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ ۖ وَكُلٌّ مِنَ الْأَخْيَارِ
(And remember Isma'il, Al-Yasa', and Dhul-Kifl, all are among the best.) We have already discussed their characteristics and stories in detail in Surat Al-Anbiya', may peace be upon them, and there is no need to repeat it here.
هَٰذَا ذِكْرٌ ۚ
(This is a Reminder) means, a reminder to those who will be reminded. As-Suddi said, "This means the Holy Qur'an."
Tafsir Ibn Kathir
اللہ تعالیٰ اپنے عابد بندوں اور رسولوں کی فضیلتوں کو بیان فرما رہا ہے اور ان کے نام گنوا رہا ہے ابراہیم اسحاق اور یعقوب صلواۃ اللہ وسلامہ علیہم اجمعین اور فرماتا ہے کہ ان کے اعمال بہت بہتر تھے اور صحیح علم بھی ان میں تھا۔ ساتھ ہی عبادت الٰہی میں قوی تھے اور قدرت کی طرف سے انہیں بصیرت عطا فرمائی گئی تھی۔ دین میں سمجھدار تھے اطاعت اللہ میں قوی تھے حق کے دیکھنے والے تھے۔ ان کے نزدیک دنیا کی کوئی اہمیت نہ تھی صرف آخرت کا ہی ہر وقت خیال بندھا رہتا تھا۔ ہر عمل آخرت کے لئے ہی ہوتا تھا۔ دنیا کی محبت سے وہ الگ تھے، آخرت کے ذکر میں ہر وقت مشغول رہتے تھے۔ وہ اعمال کرتے تھے جو جنت دلوائیں، لوگوں کو بھی نیک اعمال کی ترغیب دیتے تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن بہترین بدلے اور افضل مقامات عطا فرمائے گا۔ یہ بزرگان دین اللہ کے چیدہ مخلص اور خاص الخاص بندے ہیں۔ اسماعیل اور ذوالکفل صلوات وسلامہ علیہم اجمعین بھی پسندیدہ اور خاص بندوں میں تھے۔ ان کے بیانات سورة انبیاء میں گذر چکے ہیں اس لئے ہم نے یہاں بیان نہیں کئے۔ ان فضائل کے بیان میں ان کے لئے نصیحت ہے جو پند و نصیحت حاصل کرنے کے لئے عادی ہیں اور یہ مطلب بھی ہے کہ یہ قرآن عظیم ذکر یعنی نصیحت ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ فَضَائِلَ عِبَادِهِ الْمُرْسَلِينَ وَأَنْبِيَائِهِ الْعَابِدِينَ: ﴿وَاذْكُرْ عِبَادَنَا إبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ أُولِي الأيْدِي وَالأبْصَارِ﴾ يَعْنِي بِذَلِكَ: الْعَمَلَ الصَّالِحَ وَالْعِلْمَ النَّافِعَ وَالْقُوَّةَ فِي الْعِبَادَةِ وَالْبَصِيرَةَ النَّافِذَةَ.
قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿أُولِي الأيْدِي﴾ يَقُولُ: أُولِي الْقُوَّةِ ﴿وَالأبْصَارِ﴾ يَقُولُ: الْفِقْهِ فِي الدِّينِ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: ﴿أُولِي الأيْدِي﴾ يَعْنِي: الْقُوَّةَ فِي طَاعَةِ اللَّهِ ﴿وَالأبْصَارِ﴾ يَعْنِي: الْبَصَرَ [[في أ: "البصير".]] فِي الْحَقِّ.
وَقَالَ قَتَادَةُ وَالسُّدِّيُّ: أعطُوا قُوَّةً فِي الْعِبَادَةِ وبَصرًا فِي الدِّينِ.
[وَقَوْلُهُ] [[زيادة من ت، س، أ.]] ﴿إِنَّا أَخْلَصْنَاهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ: أَيْ جَعَلْنَاهُمْ يَعْمَلُونَ لِلْآخِرَةِ لَيْسَ لَهُمْ هَمّ غَيْرُهَا. وَكَذَا قَالَ السُّدِّيُّ: ذِكْرُهُمْ لِلْآخِرَةِ وَعَمَلُهُمْ لَهَا.
وَقَالَ مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ: نَزَعَ اللَّهُ مِنْ قُلُوبِهِمْ حُبَّ الدُّنْيَا وَذِكْرَهَا وَأَخْلَصَهُمْ بِحُبِّ الْآخِرَةِ وَذَكَرِهَا. وَكَذَا قال عطاء الخراساني.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْر: يَعْنِي بِالدَّارِ الْجَنَّةَ يَقُولُ: أَخْلَصْنَاهَا لَهُمْ بِذِكْرِهِمْ لَهَا [[في ت: "أخلصناهم بذكرهم لها".]] وَقَالَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: ﴿ذِكْرَى الدَّارِ﴾ عُقْبَى الدَّارِ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: كَانُوا يذَكّرون النَّاسَ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَالْعَمَلَ لَهَا.
وَقَالَ ابْنُ زَيْدٍ: جُعِلَ لَهُمْ [[في ت: "لها".]] خَاصَّةً أَفْضَلُ شَيْءٍ فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الأخْيَارِ﴾ أَيْ: لَمِنَ الْمُخْتَارِينَ الْمُجْتَبِينَ الْأَخْيَارِ فَهُمْ أَخْيَارٌ مُخْتَارُونَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَاذْكُرْ إِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ وَكُلٌّ مِنَ الأخْيَارِ﴾ قَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَى قَصَصِهِمْ وَأَخْبَارِهِمْ مُسْتَقْصَاةً فِي سُورَةِ "الْأَنْبِيَاءِ" بِمَا أَغْنَى عَنْ إِعَادَتِهِ هَاهُنَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿هَذَا ذِكْرٌ﴾ أَيْ: هَذَا فَصْلٌ فِيهِ ذِكْرٌ لِمَنْ يَتَذَكَّرُ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: يَعْنِي الْقُرْآنَ.
إِنَّآ أَخْلَصْنَٰهُم بِخَالِصَةٍۢ ذِكْرَى ٱلدَّارِ
Indeed, We chose them for an exclusive quality: remembrance of the home [of the Hereafter].
ہم نے ان کو ایک (صفت) خاص (آخرت کے) گھر کی یاد سے ممتاز کیا تھا
ما آنها را با خلوص ویژهای خالص کردیم، و آن یادآوری سرای آخرت بود!
Tafsir Ibn Kathir
And remember Our servants, Ibrahim, Ishaq, and Ya'qub, Ulil-Aydi wal-Absar (45)Verily, We did choose them by granting them the remembrance of the Abode (46)And they are with Us, verily, of the chosen and the best (47)And remember Isma'il, Al-Yasa', and Dhul-Kifl, all are among the best (48)This is a Reminder.. ()
The Chosen and the Best among the Prophets
Allah tells us about the virtues of His servants the Messengers and His Prophets:
وَاذْكُرْ عِبَادَنَا إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ أُولِي الْأَيْدِي وَالْأَبْصَارِ
(And remember Our servants, Ibrahim, Ishaq, and Ya'qub, Ulil-Aydi wal-Absar.) meaning, righteous deeds, beneficial knowledge, strength in worship and insight. 'Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said:
أُولِي الْأَيْدِي
(Ulil-Aydi) "Of great strength and worship;
وَالْأَبْصَارِ
(wal-Absar) means, understanding of the religion." Qatadah and As-Suddi said, "They were given strength in worship and understanding of the religion."
إِنَّا أَخْلَصْنَاهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ
(Verily, We did choose them by granting them the remembrance of the Abode.) Mujahid said, "This means: We made them strive for the Hereafter, and there is nothing else for them besides that." As-Suddi also said, "The remembrance of the Hereafter and striving for it." Malik bin Dinar said, "Allah removed the love of this world from their hearts, and singled them out for land remembrance of the Hereafter." Qatadah said, "They used to remind the people about the Abode of the Hereafter and to strive for it."
وَإِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْأَخْيَارِ
(And they are with Us, verily, of the chosen and the best!) means, they are among those who have been elected and chosen, and they are the best and the chosen ones.
وَاذْكُرْ إِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ ۖ وَكُلٌّ مِنَ الْأَخْيَارِ
(And remember Isma'il, Al-Yasa', and Dhul-Kifl, all are among the best.) We have already discussed their characteristics and stories in detail in Surat Al-Anbiya', may peace be upon them, and there is no need to repeat it here.
هَٰذَا ذِكْرٌ ۚ
(This is a Reminder) means, a reminder to those who will be reminded. As-Suddi said, "This means the Holy Qur'an."
Tafsir Ibn Kathir
اللہ تعالیٰ اپنے عابد بندوں اور رسولوں کی فضیلتوں کو بیان فرما رہا ہے اور ان کے نام گنوا رہا ہے ابراہیم اسحاق اور یعقوب صلواۃ اللہ وسلامہ علیہم اجمعین اور فرماتا ہے کہ ان کے اعمال بہت بہتر تھے اور صحیح علم بھی ان میں تھا۔ ساتھ ہی عبادت الٰہی میں قوی تھے اور قدرت کی طرف سے انہیں بصیرت عطا فرمائی گئی تھی۔ دین میں سمجھدار تھے اطاعت اللہ میں قوی تھے حق کے دیکھنے والے تھے۔ ان کے نزدیک دنیا کی کوئی اہمیت نہ تھی صرف آخرت کا ہی ہر وقت خیال بندھا رہتا تھا۔ ہر عمل آخرت کے لئے ہی ہوتا تھا۔ دنیا کی محبت سے وہ الگ تھے، آخرت کے ذکر میں ہر وقت مشغول رہتے تھے۔ وہ اعمال کرتے تھے جو جنت دلوائیں، لوگوں کو بھی نیک اعمال کی ترغیب دیتے تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن بہترین بدلے اور افضل مقامات عطا فرمائے گا۔ یہ بزرگان دین اللہ کے چیدہ مخلص اور خاص الخاص بندے ہیں۔ اسماعیل اور ذوالکفل صلوات وسلامہ علیہم اجمعین بھی پسندیدہ اور خاص بندوں میں تھے۔ ان کے بیانات سورة انبیاء میں گذر چکے ہیں اس لئے ہم نے یہاں بیان نہیں کئے۔ ان فضائل کے بیان میں ان کے لئے نصیحت ہے جو پند و نصیحت حاصل کرنے کے لئے عادی ہیں اور یہ مطلب بھی ہے کہ یہ قرآن عظیم ذکر یعنی نصیحت ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ فَضَائِلَ عِبَادِهِ الْمُرْسَلِينَ وَأَنْبِيَائِهِ الْعَابِدِينَ: ﴿وَاذْكُرْ عِبَادَنَا إبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ أُولِي الأيْدِي وَالأبْصَارِ﴾ يَعْنِي بِذَلِكَ: الْعَمَلَ الصَّالِحَ وَالْعِلْمَ النَّافِعَ وَالْقُوَّةَ فِي الْعِبَادَةِ وَالْبَصِيرَةَ النَّافِذَةَ.
قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿أُولِي الأيْدِي﴾ يَقُولُ: أُولِي الْقُوَّةِ ﴿وَالأبْصَارِ﴾ يَقُولُ: الْفِقْهِ فِي الدِّينِ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: ﴿أُولِي الأيْدِي﴾ يَعْنِي: الْقُوَّةَ فِي طَاعَةِ اللَّهِ ﴿وَالأبْصَارِ﴾ يَعْنِي: الْبَصَرَ [[في أ: "البصير".]] فِي الْحَقِّ.
وَقَالَ قَتَادَةُ وَالسُّدِّيُّ: أعطُوا قُوَّةً فِي الْعِبَادَةِ وبَصرًا فِي الدِّينِ.
[وَقَوْلُهُ] [[زيادة من ت، س، أ.]] ﴿إِنَّا أَخْلَصْنَاهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ: أَيْ جَعَلْنَاهُمْ يَعْمَلُونَ لِلْآخِرَةِ لَيْسَ لَهُمْ هَمّ غَيْرُهَا. وَكَذَا قَالَ السُّدِّيُّ: ذِكْرُهُمْ لِلْآخِرَةِ وَعَمَلُهُمْ لَهَا.
وَقَالَ مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ: نَزَعَ اللَّهُ مِنْ قُلُوبِهِمْ حُبَّ الدُّنْيَا وَذِكْرَهَا وَأَخْلَصَهُمْ بِحُبِّ الْآخِرَةِ وَذَكَرِهَا. وَكَذَا قال عطاء الخراساني.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْر: يَعْنِي بِالدَّارِ الْجَنَّةَ يَقُولُ: أَخْلَصْنَاهَا لَهُمْ بِذِكْرِهِمْ لَهَا [[في ت: "أخلصناهم بذكرهم لها".]] وَقَالَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: ﴿ذِكْرَى الدَّارِ﴾ عُقْبَى الدَّارِ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: كَانُوا يذَكّرون النَّاسَ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَالْعَمَلَ لَهَا.
وَقَالَ ابْنُ زَيْدٍ: جُعِلَ لَهُمْ [[في ت: "لها".]] خَاصَّةً أَفْضَلُ شَيْءٍ فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الأخْيَارِ﴾ أَيْ: لَمِنَ الْمُخْتَارِينَ الْمُجْتَبِينَ الْأَخْيَارِ فَهُمْ أَخْيَارٌ مُخْتَارُونَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَاذْكُرْ إِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ وَكُلٌّ مِنَ الأخْيَارِ﴾ قَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَى قَصَصِهِمْ وَأَخْبَارِهِمْ مُسْتَقْصَاةً فِي سُورَةِ "الْأَنْبِيَاءِ" بِمَا أَغْنَى عَنْ إِعَادَتِهِ هَاهُنَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿هَذَا ذِكْرٌ﴾ أَيْ: هَذَا فَصْلٌ فِيهِ ذِكْرٌ لِمَنْ يَتَذَكَّرُ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: يَعْنِي الْقُرْآنَ.
وَإِنَّهُمْ عِندَنَا لَمِنَ ٱلْمُصْطَفَيْنَ ٱلْأَخْيَارِ
And indeed they are, to Us, among the chosen and outstanding.
اور ہمارے نزدیک منتخب اور نیک لوگوں میں سے تھے
و آنها نزد ما از برگزیدگان و نیکانند!
Tafsir Ibn Kathir
And remember Our servants, Ibrahim, Ishaq, and Ya'qub, Ulil-Aydi wal-Absar (45)Verily, We did choose them by granting them the remembrance of the Abode (46)And they are with Us, verily, of the chosen and the best (47)And remember Isma'il, Al-Yasa', and Dhul-Kifl, all are among the best (48)This is a Reminder.. ()
The Chosen and the Best among the Prophets
Allah tells us about the virtues of His servants the Messengers and His Prophets:
وَاذْكُرْ عِبَادَنَا إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ أُولِي الْأَيْدِي وَالْأَبْصَارِ
(And remember Our servants, Ibrahim, Ishaq, and Ya'qub, Ulil-Aydi wal-Absar.) meaning, righteous deeds, beneficial knowledge, strength in worship and insight. 'Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said:
أُولِي الْأَيْدِي
(Ulil-Aydi) "Of great strength and worship;
وَالْأَبْصَارِ
(wal-Absar) means, understanding of the religion." Qatadah and As-Suddi said, "They were given strength in worship and understanding of the religion."
إِنَّا أَخْلَصْنَاهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ
(Verily, We did choose them by granting them the remembrance of the Abode.) Mujahid said, "This means: We made them strive for the Hereafter, and there is nothing else for them besides that." As-Suddi also said, "The remembrance of the Hereafter and striving for it." Malik bin Dinar said, "Allah removed the love of this world from their hearts, and singled them out for land remembrance of the Hereafter." Qatadah said, "They used to remind the people about the Abode of the Hereafter and to strive for it."
وَإِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْأَخْيَارِ
(And they are with Us, verily, of the chosen and the best!) means, they are among those who have been elected and chosen, and they are the best and the chosen ones.
وَاذْكُرْ إِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ ۖ وَكُلٌّ مِنَ الْأَخْيَارِ
(And remember Isma'il, Al-Yasa', and Dhul-Kifl, all are among the best.) We have already discussed their characteristics and stories in detail in Surat Al-Anbiya', may peace be upon them, and there is no need to repeat it here.
هَٰذَا ذِكْرٌ ۚ
(This is a Reminder) means, a reminder to those who will be reminded. As-Suddi said, "This means the Holy Qur'an."
Tafsir Ibn Kathir
اللہ تعالیٰ اپنے عابد بندوں اور رسولوں کی فضیلتوں کو بیان فرما رہا ہے اور ان کے نام گنوا رہا ہے ابراہیم اسحاق اور یعقوب صلواۃ اللہ وسلامہ علیہم اجمعین اور فرماتا ہے کہ ان کے اعمال بہت بہتر تھے اور صحیح علم بھی ان میں تھا۔ ساتھ ہی عبادت الٰہی میں قوی تھے اور قدرت کی طرف سے انہیں بصیرت عطا فرمائی گئی تھی۔ دین میں سمجھدار تھے اطاعت اللہ میں قوی تھے حق کے دیکھنے والے تھے۔ ان کے نزدیک دنیا کی کوئی اہمیت نہ تھی صرف آخرت کا ہی ہر وقت خیال بندھا رہتا تھا۔ ہر عمل آخرت کے لئے ہی ہوتا تھا۔ دنیا کی محبت سے وہ الگ تھے، آخرت کے ذکر میں ہر وقت مشغول رہتے تھے۔ وہ اعمال کرتے تھے جو جنت دلوائیں، لوگوں کو بھی نیک اعمال کی ترغیب دیتے تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن بہترین بدلے اور افضل مقامات عطا فرمائے گا۔ یہ بزرگان دین اللہ کے چیدہ مخلص اور خاص الخاص بندے ہیں۔ اسماعیل اور ذوالکفل صلوات وسلامہ علیہم اجمعین بھی پسندیدہ اور خاص بندوں میں تھے۔ ان کے بیانات سورة انبیاء میں گذر چکے ہیں اس لئے ہم نے یہاں بیان نہیں کئے۔ ان فضائل کے بیان میں ان کے لئے نصیحت ہے جو پند و نصیحت حاصل کرنے کے لئے عادی ہیں اور یہ مطلب بھی ہے کہ یہ قرآن عظیم ذکر یعنی نصیحت ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ فَضَائِلَ عِبَادِهِ الْمُرْسَلِينَ وَأَنْبِيَائِهِ الْعَابِدِينَ: ﴿وَاذْكُرْ عِبَادَنَا إبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ أُولِي الأيْدِي وَالأبْصَارِ﴾ يَعْنِي بِذَلِكَ: الْعَمَلَ الصَّالِحَ وَالْعِلْمَ النَّافِعَ وَالْقُوَّةَ فِي الْعِبَادَةِ وَالْبَصِيرَةَ النَّافِذَةَ.
قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿أُولِي الأيْدِي﴾ يَقُولُ: أُولِي الْقُوَّةِ ﴿وَالأبْصَارِ﴾ يَقُولُ: الْفِقْهِ فِي الدِّينِ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: ﴿أُولِي الأيْدِي﴾ يَعْنِي: الْقُوَّةَ فِي طَاعَةِ اللَّهِ ﴿وَالأبْصَارِ﴾ يَعْنِي: الْبَصَرَ [[في أ: "البصير".]] فِي الْحَقِّ.
وَقَالَ قَتَادَةُ وَالسُّدِّيُّ: أعطُوا قُوَّةً فِي الْعِبَادَةِ وبَصرًا فِي الدِّينِ.
[وَقَوْلُهُ] [[زيادة من ت، س، أ.]] ﴿إِنَّا أَخْلَصْنَاهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ: أَيْ جَعَلْنَاهُمْ يَعْمَلُونَ لِلْآخِرَةِ لَيْسَ لَهُمْ هَمّ غَيْرُهَا. وَكَذَا قَالَ السُّدِّيُّ: ذِكْرُهُمْ لِلْآخِرَةِ وَعَمَلُهُمْ لَهَا.
وَقَالَ مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ: نَزَعَ اللَّهُ مِنْ قُلُوبِهِمْ حُبَّ الدُّنْيَا وَذِكْرَهَا وَأَخْلَصَهُمْ بِحُبِّ الْآخِرَةِ وَذَكَرِهَا. وَكَذَا قال عطاء الخراساني.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْر: يَعْنِي بِالدَّارِ الْجَنَّةَ يَقُولُ: أَخْلَصْنَاهَا لَهُمْ بِذِكْرِهِمْ لَهَا [[في ت: "أخلصناهم بذكرهم لها".]] وَقَالَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: ﴿ذِكْرَى الدَّارِ﴾ عُقْبَى الدَّارِ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: كَانُوا يذَكّرون النَّاسَ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَالْعَمَلَ لَهَا.
وَقَالَ ابْنُ زَيْدٍ: جُعِلَ لَهُمْ [[في ت: "لها".]] خَاصَّةً أَفْضَلُ شَيْءٍ فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الأخْيَارِ﴾ أَيْ: لَمِنَ الْمُخْتَارِينَ الْمُجْتَبِينَ الْأَخْيَارِ فَهُمْ أَخْيَارٌ مُخْتَارُونَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَاذْكُرْ إِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ وَكُلٌّ مِنَ الأخْيَارِ﴾ قَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَى قَصَصِهِمْ وَأَخْبَارِهِمْ مُسْتَقْصَاةً فِي سُورَةِ "الْأَنْبِيَاءِ" بِمَا أَغْنَى عَنْ إِعَادَتِهِ هَاهُنَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿هَذَا ذِكْرٌ﴾ أَيْ: هَذَا فَصْلٌ فِيهِ ذِكْرٌ لِمَنْ يَتَذَكَّرُ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: يَعْنِي الْقُرْآنَ.
وَٱذْكُرْ إِسْمَٰعِيلَ وَٱلْيَسَعَ وَذَا ٱلْكِفْلِ ۖ وَكُلٌّۭ مِّنَ ٱلْأَخْيَارِ
And remember Ishmael, Elisha and Dhul-Kifl, and all are among the outstanding.
اور اسمٰعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو یاد کرو۔ وہ سب نیک لوگوں میں سے تھے
و به خاطر بیاور «اسماعیل» و «الیسع» و «ذا الکفل» را که همه از نیکان بودند!
Tafsir Ibn Kathir
And remember Our servants, Ibrahim, Ishaq, and Ya'qub, Ulil-Aydi wal-Absar (45)Verily, We did choose them by granting them the remembrance of the Abode (46)And they are with Us, verily, of the chosen and the best (47)And remember Isma'il, Al-Yasa', and Dhul-Kifl, all are among the best (48)This is a Reminder.. ()
The Chosen and the Best among the Prophets
Allah tells us about the virtues of His servants the Messengers and His Prophets:
وَاذْكُرْ عِبَادَنَا إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ أُولِي الْأَيْدِي وَالْأَبْصَارِ
(And remember Our servants, Ibrahim, Ishaq, and Ya'qub, Ulil-Aydi wal-Absar.) meaning, righteous deeds, beneficial knowledge, strength in worship and insight. 'Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said:
أُولِي الْأَيْدِي
(Ulil-Aydi) "Of great strength and worship;
وَالْأَبْصَارِ
(wal-Absar) means, understanding of the religion." Qatadah and As-Suddi said, "They were given strength in worship and understanding of the religion."
إِنَّا أَخْلَصْنَاهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ
(Verily, We did choose them by granting them the remembrance of the Abode.) Mujahid said, "This means: We made them strive for the Hereafter, and there is nothing else for them besides that." As-Suddi also said, "The remembrance of the Hereafter and striving for it." Malik bin Dinar said, "Allah removed the love of this world from their hearts, and singled them out for land remembrance of the Hereafter." Qatadah said, "They used to remind the people about the Abode of the Hereafter and to strive for it."
وَإِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْأَخْيَارِ
(And they are with Us, verily, of the chosen and the best!) means, they are among those who have been elected and chosen, and they are the best and the chosen ones.
وَاذْكُرْ إِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ ۖ وَكُلٌّ مِنَ الْأَخْيَارِ
(And remember Isma'il, Al-Yasa', and Dhul-Kifl, all are among the best.) We have already discussed their characteristics and stories in detail in Surat Al-Anbiya', may peace be upon them, and there is no need to repeat it here.
هَٰذَا ذِكْرٌ ۚ
(This is a Reminder) means, a reminder to those who will be reminded. As-Suddi said, "This means the Holy Qur'an."
Tafsir Ibn Kathir
اللہ تعالیٰ اپنے عابد بندوں اور رسولوں کی فضیلتوں کو بیان فرما رہا ہے اور ان کے نام گنوا رہا ہے ابراہیم اسحاق اور یعقوب صلواۃ اللہ وسلامہ علیہم اجمعین اور فرماتا ہے کہ ان کے اعمال بہت بہتر تھے اور صحیح علم بھی ان میں تھا۔ ساتھ ہی عبادت الٰہی میں قوی تھے اور قدرت کی طرف سے انہیں بصیرت عطا فرمائی گئی تھی۔ دین میں سمجھدار تھے اطاعت اللہ میں قوی تھے حق کے دیکھنے والے تھے۔ ان کے نزدیک دنیا کی کوئی اہمیت نہ تھی صرف آخرت کا ہی ہر وقت خیال بندھا رہتا تھا۔ ہر عمل آخرت کے لئے ہی ہوتا تھا۔ دنیا کی محبت سے وہ الگ تھے، آخرت کے ذکر میں ہر وقت مشغول رہتے تھے۔ وہ اعمال کرتے تھے جو جنت دلوائیں، لوگوں کو بھی نیک اعمال کی ترغیب دیتے تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن بہترین بدلے اور افضل مقامات عطا فرمائے گا۔ یہ بزرگان دین اللہ کے چیدہ مخلص اور خاص الخاص بندے ہیں۔ اسماعیل اور ذوالکفل صلوات وسلامہ علیہم اجمعین بھی پسندیدہ اور خاص بندوں میں تھے۔ ان کے بیانات سورة انبیاء میں گذر چکے ہیں اس لئے ہم نے یہاں بیان نہیں کئے۔ ان فضائل کے بیان میں ان کے لئے نصیحت ہے جو پند و نصیحت حاصل کرنے کے لئے عادی ہیں اور یہ مطلب بھی ہے کہ یہ قرآن عظیم ذکر یعنی نصیحت ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ فَضَائِلَ عِبَادِهِ الْمُرْسَلِينَ وَأَنْبِيَائِهِ الْعَابِدِينَ: ﴿وَاذْكُرْ عِبَادَنَا إبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ أُولِي الأيْدِي وَالأبْصَارِ﴾ يَعْنِي بِذَلِكَ: الْعَمَلَ الصَّالِحَ وَالْعِلْمَ النَّافِعَ وَالْقُوَّةَ فِي الْعِبَادَةِ وَالْبَصِيرَةَ النَّافِذَةَ.
قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿أُولِي الأيْدِي﴾ يَقُولُ: أُولِي الْقُوَّةِ ﴿وَالأبْصَارِ﴾ يَقُولُ: الْفِقْهِ فِي الدِّينِ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: ﴿أُولِي الأيْدِي﴾ يَعْنِي: الْقُوَّةَ فِي طَاعَةِ اللَّهِ ﴿وَالأبْصَارِ﴾ يَعْنِي: الْبَصَرَ [[في أ: "البصير".]] فِي الْحَقِّ.
وَقَالَ قَتَادَةُ وَالسُّدِّيُّ: أعطُوا قُوَّةً فِي الْعِبَادَةِ وبَصرًا فِي الدِّينِ.
[وَقَوْلُهُ] [[زيادة من ت، س، أ.]] ﴿إِنَّا أَخْلَصْنَاهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ: أَيْ جَعَلْنَاهُمْ يَعْمَلُونَ لِلْآخِرَةِ لَيْسَ لَهُمْ هَمّ غَيْرُهَا. وَكَذَا قَالَ السُّدِّيُّ: ذِكْرُهُمْ لِلْآخِرَةِ وَعَمَلُهُمْ لَهَا.
وَقَالَ مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ: نَزَعَ اللَّهُ مِنْ قُلُوبِهِمْ حُبَّ الدُّنْيَا وَذِكْرَهَا وَأَخْلَصَهُمْ بِحُبِّ الْآخِرَةِ وَذَكَرِهَا. وَكَذَا قال عطاء الخراساني.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْر: يَعْنِي بِالدَّارِ الْجَنَّةَ يَقُولُ: أَخْلَصْنَاهَا لَهُمْ بِذِكْرِهِمْ لَهَا [[في ت: "أخلصناهم بذكرهم لها".]] وَقَالَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: ﴿ذِكْرَى الدَّارِ﴾ عُقْبَى الدَّارِ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: كَانُوا يذَكّرون النَّاسَ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَالْعَمَلَ لَهَا.
وَقَالَ ابْنُ زَيْدٍ: جُعِلَ لَهُمْ [[في ت: "لها".]] خَاصَّةً أَفْضَلُ شَيْءٍ فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الأخْيَارِ﴾ أَيْ: لَمِنَ الْمُخْتَارِينَ الْمُجْتَبِينَ الْأَخْيَارِ فَهُمْ أَخْيَارٌ مُخْتَارُونَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَاذْكُرْ إِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ وَكُلٌّ مِنَ الأخْيَارِ﴾ قَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَى قَصَصِهِمْ وَأَخْبَارِهِمْ مُسْتَقْصَاةً فِي سُورَةِ "الْأَنْبِيَاءِ" بِمَا أَغْنَى عَنْ إِعَادَتِهِ هَاهُنَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿هَذَا ذِكْرٌ﴾ أَيْ: هَذَا فَصْلٌ فِيهِ ذِكْرٌ لِمَنْ يَتَذَكَّرُ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: يَعْنِي الْقُرْآنَ.
هَٰذَا ذِكْرٌۭ ۚ وَإِنَّ لِلْمُتَّقِينَ لَحُسْنَ مَـَٔابٍۢ
This is a reminder. And indeed, for the righteous is a good place of return
یہ نصیحت ہے اور پرہیزگاروں کے لئے تو عمدہ مقام ہے
این یک یادآوری است، و برای پرهیزکاران فرجام نیکویی است:
Tafsir Ibn Kathir
And verily, for those who have Taqwa is a good final return (49)'Adn Paradise, whose doors will be opened for them (50)Therein they will recline; therein they will call for fruits in abundance and drinks (51)And beside them will be Qasirat-at-Tarf, (and) of equal ages (52)This it is what you are promised for the Day of Reckoning (53)(It will be said to them)! Verily, this is Our provision which will never finish (54)
The Final Return of the Blessed
Allah tells us that His blessed, believing servants will have a good final return in the Hereafter, which means their ultimate destination. Then He explains it further, as He says:
جَنَّاتِ عَدْنٍ
('Adn Gardens) meaning, eternal gardens (of Paradise),
مُفَتَّحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ
(whose doors will be opened for them.) means, when they come to them (these gardens), their gates will open for them.
مُتَّكِئِينَ فِيهَا
(Therein they will recline;) It was said that this means that they will sit cross-legged on chairs beneath canopies.
يَدْعُونَ فِيهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ
(therein they will call for fruits in abundance) means, whatever they ask for, they will find it, and it will be prepared just as they wanted it.
وَشَرَابٍ
(and drinks;) means, whatever kind of drink they want, the servants will bring it to them,
بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ
(With cups, and jugs, and a glass of flowing wine.)(56: 18).
وَعِنْدَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ
(And beside them will be Qasirat-at-Tarf (chaste females)) means, they restrain their glances from anyone except their husbands, and do not turn to anyone else.
أَتْرَابٌ
((and) of equal ages.) means, they will all be of the same age. This is the understanding of Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa'id bin Jubayr, Muhammad bin Ka'b and As-Suddi.
هَٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ الْحِسَابِ
(This it is what you are promised for the Day of Reckoning!) means, 'this that We have mentioned of the features of Paradise is what He has prepared for His pious servants who will reach it after they have been resurrected from their graves and been saved from the Fire.' Then Allah tells us that Paradise will never come to an end or disappear or cease to be. He says:
إِنَّ هَٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُ مِنْ نَفَادٍ
(Verily, this is Our provision which will never finish.) This is like the Ayat:
مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ ۖ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ ۗ
(Whatever is with you, will be exhausted, and whatever is with Allah will remain)(16:96).
عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(a gift without an end.)(11:108)
لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ
(for them is a reward that will never come to an end.)(84:25).
أُكُلُهَا دَائِمٌ وَظِلُّهَا ۚ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَوْا ۖ وَعُقْبَى الْكَافِرِينَ النَّارُ
(its provision is eternal and so is its shade; this is the end of those who have Taqwa, and the end (final destination) of the disbelievers is Fire.)(13:35). And there are many similar Ayat.
Tafsir Ibn Kathir
صالحین کے لئے اجر۔نیکو کار تقوے والوں کے لئے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے ؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لئے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے (ابن ابی حاتم) اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بےفکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام باسلیقہ حاضر کردیں گے۔ ان کے پاس ان کی بیویاں ہوں گی جو عفیفہ، پاک دامن، نیچی نگاہوں والی اور ان سے محبت و عشق رکھنے والی ہوں گی جن کی نگاہیں کبھی دوسرے کی طرف نہ اٹھی ہیں نہ اٹھیں نہ اٹھ سکیں۔ ان کی ہم عمر ہوں گی ان کی عمروں کے لائق ہوں گی۔ ان صفات والی جنت کا وعدہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے بندوں سے ہے، قیامت کے دن یہ اس کے وارث ومالک ہوں گے جبکہ قبروں سے اٹھ کر آگ سے نجات پا کر حساب سے فارغ ہو کر یہاں آ کر بہ آرام بسیں گے۔ یہ ہے ہمارے انعام جس میں نہ کبھی کمی آئے گی نہ یہ منقطع ہوگا۔ جیسے فرمایا (مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ 96) 16۔ النحل :96) تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہوجاتا ہے اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں ہے اور جگہ غیر ممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں غیرجذوذ ہے اور جگہ غیرممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی اور گھاٹا آئے نہ کبھی وہ ختم اور فنا ہو۔ جیسے ارشاد ہے) اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ 35۔) 13۔ الرعد :35) ، اس کے میوے اور کھانے پینے اور اس کے سائے دائمی ہیں۔ پرہیزگاروں کا انجام یہی ہے اور کافروں کا انجام جہنم ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ السُّعَدَاءِ أَنَّ لَهُمْ فِي [الدَّارِ] [[زيادة من س، أ.]] الْآخِرَةِ ﴿لَحُسْنَ مَآبٍ﴾ وَهُوَ: الْمُرْجِعُ وَالْمُنْقَلَبُ. ثُمَّ فَسَّرَهُ بِقَوْلِهِ: ﴿جَنَّاتِ عَدْنٍ﴾ أَيْ: جَنَّاتِ إِقَامَةٍ مُفَتَّحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ.
وَالْأَلِفُ وَاللَّامُ هُنَا [[في ت: "هاهنا".]] بِمَعْنَى الْإِضَافَةِ كَأَنَّهُ يَقُولُ: "مُفَتَّحَةً لَهُمْ أَبْوَابُهَا" أَيْ: إِذَا جَاءُوهَا فُتِحَتْ لَهُمْ أَبْوَابُهَا.
قَالَ [[في ت: "روى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوَابٍ الهَبَّاري حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْر، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ -يَعْنِي: ابْنَ هُرْمُزَ-عَنِ ابْنِ سَابِطٍ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم: "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ قَصْرًا يُقَالُ لَهُ: "عَدْنٌ" حَوْلَهُ الْبُرُوجُ وَالْمُرُوجُ لَهُ خَمْسَةُ آلَافِ بَابٍ عِنْدَ كُلِّ بَابٍ خَمْسَةُ آلَافِ حبَرَة لَا يَدْخُلُهُ -أَوْ: لَا يَسْكُنُهُ-إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ أَوْ إِمَامٌ عَدْلٌ". [[ورواه البزار في مسنده برقم (١٥٩١) "كشف الأستار" من طريق محمد بن ثواب به، وقال الهيثمي في المجمع (٥/١٩٦) : "فيه عبد الله بن مسلم بن هرمز وهو ضعيف".]]
وَقَدْ وَرَدَ فِي [ذِكْرِ] [[زيادة من ت، أ.]] أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ مِنْ وُجُوهٍ عَدِيدَةٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿مُتَّكِئِينَ فِيهَا﴾ قِيلَ: مُتَرَبِّعِينَ فِيهَا عَلَى سُرُرٍ [[في أ: " سرير".]] تَحْتَ الْحِجَالِ ﴿يَدْعُونَ فِيهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ﴾
أَيْ: مَهْمَا طَلَبُوا وَجَدُوا وَحَضَرَ كَمَا أَرَادُوا. ﴿وَشَرَابٍ﴾ أَيْ: مِنْ أَيِّ أَنْوَاعِهِ شَاءُوا أَتَتْهُمْ بِهِ الْخُدَّامُ ﴿بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ﴾ [الْوَاقِعَةِ: ١٨]
﴿وَعِنْدَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ﴾ أَيْ: عَنْ غَيْرِ أَزْوَاجِهِنَّ فَلَا يَلْتَفِتْنَ إِلَى غَيْرِ بُعُولَتِهِنَّ ﴿أَتْرَابٌ﴾ أَيْ: مُتَسَاوِيَاتٌ فِي السِّنِّ وَالْعُمُرِ. هَذَا مَعْنَى قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٍ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ وَالسُّدِّيِّ.
﴿هَذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ الْحِسَابِ﴾ أَيْ: هَذَا الَّذِي ذَكَرْنَا مِنْ صِفَةِ الْجَنَّةِ الَّتِي [[في ت، س، أ: "الجنة هي التي".]] وَعَدَهَا لِعِبَادِهِ الْمُتَّقِينَ الَّتِي [[في أ: "الذين".]] يَصِيرُونَ إِلَيْهَا بَعْدَ نُشُورِهِمْ وَقِيَامِهِمْ مِنْ قُبُورِهِمْ وَسَلَامَتِهِمْ مِنَ النَّارِ.
ثُمَّ أَخْبَرَ عَنِ الْجَنَّةِ أَنَّهُ لَا فَرَاغَ لَهَا وَلَا انْقِضَاءَ وَلَا زَوَالَ وَلَا انْتِهَاءَ فَقَالَ: ﴿إِنَّ هَذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُ مِنْ نَفَادٍ﴾ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ﴾ [النَّحْلِ: ٩٦] وَكَقَوْلِهِ ﴿عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ﴾ [هُودٍ: ١٠٨] وَكَقَوْلِهِ ﴿لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ﴾ [فُصِّلَتْ: ٨] أَيْ: غَيْرُ مَقْطُوعٍ وَكَقَوْلِهِ: ﴿أُكُلُهَا دَائِمٌ وَظِلُّهَا تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَوْا وَعُقْبَى الْكَافِرِينَ النَّارُ﴾ [الرَّعْدِ: ٣٥] وَالْآيَاتُ فِي هَذَا كَثِيرَةٌ جِدًّا.
جَنَّٰتِ عَدْنٍۢ مُّفَتَّحَةًۭ لَّهُمُ ٱلْأَبْوَٰبُ
Gardens of perpetual residence, whose doors will be opened to them.
ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے
باغهای جاویدان بهشتی که درهایش به روی آنان گشوده است،
Tafsir Ibn Kathir
And verily, for those who have Taqwa is a good final return (49)'Adn Paradise, whose doors will be opened for them (50)Therein they will recline; therein they will call for fruits in abundance and drinks (51)And beside them will be Qasirat-at-Tarf, (and) of equal ages (52)This it is what you are promised for the Day of Reckoning (53)(It will be said to them)! Verily, this is Our provision which will never finish (54)
The Final Return of the Blessed
Allah tells us that His blessed, believing servants will have a good final return in the Hereafter, which means their ultimate destination. Then He explains it further, as He says:
جَنَّاتِ عَدْنٍ
('Adn Gardens) meaning, eternal gardens (of Paradise),
مُفَتَّحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ
(whose doors will be opened for them.) means, when they come to them (these gardens), their gates will open for them.
مُتَّكِئِينَ فِيهَا
(Therein they will recline;) It was said that this means that they will sit cross-legged on chairs beneath canopies.
يَدْعُونَ فِيهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ
(therein they will call for fruits in abundance) means, whatever they ask for, they will find it, and it will be prepared just as they wanted it.
وَشَرَابٍ
(and drinks;) means, whatever kind of drink they want, the servants will bring it to them,
بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ
(With cups, and jugs, and a glass of flowing wine.)(56: 18).
وَعِنْدَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ
(And beside them will be Qasirat-at-Tarf (chaste females)) means, they restrain their glances from anyone except their husbands, and do not turn to anyone else.
أَتْرَابٌ
((and) of equal ages.) means, they will all be of the same age. This is the understanding of Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa'id bin Jubayr, Muhammad bin Ka'b and As-Suddi.
هَٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ الْحِسَابِ
(This it is what you are promised for the Day of Reckoning!) means, 'this that We have mentioned of the features of Paradise is what He has prepared for His pious servants who will reach it after they have been resurrected from their graves and been saved from the Fire.' Then Allah tells us that Paradise will never come to an end or disappear or cease to be. He says:
إِنَّ هَٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُ مِنْ نَفَادٍ
(Verily, this is Our provision which will never finish.) This is like the Ayat:
مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ ۖ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ ۗ
(Whatever is with you, will be exhausted, and whatever is with Allah will remain)(16:96).
عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(a gift without an end.)(11:108)
لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ
(for them is a reward that will never come to an end.)(84:25).
أُكُلُهَا دَائِمٌ وَظِلُّهَا ۚ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَوْا ۖ وَعُقْبَى الْكَافِرِينَ النَّارُ
(its provision is eternal and so is its shade; this is the end of those who have Taqwa, and the end (final destination) of the disbelievers is Fire.)(13:35). And there are many similar Ayat.
Tafsir Ibn Kathir
صالحین کے لئے اجر۔نیکو کار تقوے والوں کے لئے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے ؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لئے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے (ابن ابی حاتم) اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بےفکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام باسلیقہ حاضر کردیں گے۔ ان کے پاس ان کی بیویاں ہوں گی جو عفیفہ، پاک دامن، نیچی نگاہوں والی اور ان سے محبت و عشق رکھنے والی ہوں گی جن کی نگاہیں کبھی دوسرے کی طرف نہ اٹھی ہیں نہ اٹھیں نہ اٹھ سکیں۔ ان کی ہم عمر ہوں گی ان کی عمروں کے لائق ہوں گی۔ ان صفات والی جنت کا وعدہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے بندوں سے ہے، قیامت کے دن یہ اس کے وارث ومالک ہوں گے جبکہ قبروں سے اٹھ کر آگ سے نجات پا کر حساب سے فارغ ہو کر یہاں آ کر بہ آرام بسیں گے۔ یہ ہے ہمارے انعام جس میں نہ کبھی کمی آئے گی نہ یہ منقطع ہوگا۔ جیسے فرمایا (مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ 96) 16۔ النحل :96) تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہوجاتا ہے اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں ہے اور جگہ غیر ممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں غیرجذوذ ہے اور جگہ غیرممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی اور گھاٹا آئے نہ کبھی وہ ختم اور فنا ہو۔ جیسے ارشاد ہے) اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ 35۔) 13۔ الرعد :35) ، اس کے میوے اور کھانے پینے اور اس کے سائے دائمی ہیں۔ پرہیزگاروں کا انجام یہی ہے اور کافروں کا انجام جہنم ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ السُّعَدَاءِ أَنَّ لَهُمْ فِي [الدَّارِ] [[زيادة من س، أ.]] الْآخِرَةِ ﴿لَحُسْنَ مَآبٍ﴾ وَهُوَ: الْمُرْجِعُ وَالْمُنْقَلَبُ. ثُمَّ فَسَّرَهُ بِقَوْلِهِ: ﴿جَنَّاتِ عَدْنٍ﴾ أَيْ: جَنَّاتِ إِقَامَةٍ مُفَتَّحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ.
وَالْأَلِفُ وَاللَّامُ هُنَا [[في ت: "هاهنا".]] بِمَعْنَى الْإِضَافَةِ كَأَنَّهُ يَقُولُ: "مُفَتَّحَةً لَهُمْ أَبْوَابُهَا" أَيْ: إِذَا جَاءُوهَا فُتِحَتْ لَهُمْ أَبْوَابُهَا.
قَالَ [[في ت: "روى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوَابٍ الهَبَّاري حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْر، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ -يَعْنِي: ابْنَ هُرْمُزَ-عَنِ ابْنِ سَابِطٍ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم: "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ قَصْرًا يُقَالُ لَهُ: "عَدْنٌ" حَوْلَهُ الْبُرُوجُ وَالْمُرُوجُ لَهُ خَمْسَةُ آلَافِ بَابٍ عِنْدَ كُلِّ بَابٍ خَمْسَةُ آلَافِ حبَرَة لَا يَدْخُلُهُ -أَوْ: لَا يَسْكُنُهُ-إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ أَوْ إِمَامٌ عَدْلٌ". [[ورواه البزار في مسنده برقم (١٥٩١) "كشف الأستار" من طريق محمد بن ثواب به، وقال الهيثمي في المجمع (٥/١٩٦) : "فيه عبد الله بن مسلم بن هرمز وهو ضعيف".]]
وَقَدْ وَرَدَ فِي [ذِكْرِ] [[زيادة من ت، أ.]] أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ مِنْ وُجُوهٍ عَدِيدَةٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿مُتَّكِئِينَ فِيهَا﴾ قِيلَ: مُتَرَبِّعِينَ فِيهَا عَلَى سُرُرٍ [[في أ: " سرير".]] تَحْتَ الْحِجَالِ ﴿يَدْعُونَ فِيهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ﴾
أَيْ: مَهْمَا طَلَبُوا وَجَدُوا وَحَضَرَ كَمَا أَرَادُوا. ﴿وَشَرَابٍ﴾ أَيْ: مِنْ أَيِّ أَنْوَاعِهِ شَاءُوا أَتَتْهُمْ بِهِ الْخُدَّامُ ﴿بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ﴾ [الْوَاقِعَةِ: ١٨]
﴿وَعِنْدَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ﴾ أَيْ: عَنْ غَيْرِ أَزْوَاجِهِنَّ فَلَا يَلْتَفِتْنَ إِلَى غَيْرِ بُعُولَتِهِنَّ ﴿أَتْرَابٌ﴾ أَيْ: مُتَسَاوِيَاتٌ فِي السِّنِّ وَالْعُمُرِ. هَذَا مَعْنَى قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٍ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ وَالسُّدِّيِّ.
﴿هَذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ الْحِسَابِ﴾ أَيْ: هَذَا الَّذِي ذَكَرْنَا مِنْ صِفَةِ الْجَنَّةِ الَّتِي [[في ت، س، أ: "الجنة هي التي".]] وَعَدَهَا لِعِبَادِهِ الْمُتَّقِينَ الَّتِي [[في أ: "الذين".]] يَصِيرُونَ إِلَيْهَا بَعْدَ نُشُورِهِمْ وَقِيَامِهِمْ مِنْ قُبُورِهِمْ وَسَلَامَتِهِمْ مِنَ النَّارِ.
ثُمَّ أَخْبَرَ عَنِ الْجَنَّةِ أَنَّهُ لَا فَرَاغَ لَهَا وَلَا انْقِضَاءَ وَلَا زَوَالَ وَلَا انْتِهَاءَ فَقَالَ: ﴿إِنَّ هَذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُ مِنْ نَفَادٍ﴾ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ﴾ [النَّحْلِ: ٩٦] وَكَقَوْلِهِ ﴿عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ﴾ [هُودٍ: ١٠٨] وَكَقَوْلِهِ ﴿لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ﴾ [فُصِّلَتْ: ٨] أَيْ: غَيْرُ مَقْطُوعٍ وَكَقَوْلِهِ: ﴿أُكُلُهَا دَائِمٌ وَظِلُّهَا تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَوْا وَعُقْبَى الْكَافِرِينَ النَّارُ﴾ [الرَّعْدِ: ٣٥] وَالْآيَاتُ فِي هَذَا كَثِيرَةٌ جِدًّا.
مُتَّكِـِٔينَ فِيهَا يَدْعُونَ فِيهَا بِفَٰكِهَةٍۢ كَثِيرَةٍۢ وَشَرَابٍۢ
Reclining within them, they will call therein for abundant fruit and drink.
ان میں تکیٴے لگائے بیٹھے ہوں گے اور (کھانے پینے کے لئے) بہت سے میوے اور شراب منگواتے رہیں گے
در حالی که در آن بر تختها تکیه کردهاند و میوههای بسیار و نوشیدنیها در اختیار آنان است!
Tafsir Ibn Kathir
And verily, for those who have Taqwa is a good final return (49)'Adn Paradise, whose doors will be opened for them (50)Therein they will recline; therein they will call for fruits in abundance and drinks (51)And beside them will be Qasirat-at-Tarf, (and) of equal ages (52)This it is what you are promised for the Day of Reckoning (53)(It will be said to them)! Verily, this is Our provision which will never finish (54)
The Final Return of the Blessed
Allah tells us that His blessed, believing servants will have a good final return in the Hereafter, which means their ultimate destination. Then He explains it further, as He says:
جَنَّاتِ عَدْنٍ
('Adn Gardens) meaning, eternal gardens (of Paradise),
مُفَتَّحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ
(whose doors will be opened for them.) means, when they come to them (these gardens), their gates will open for them.
مُتَّكِئِينَ فِيهَا
(Therein they will recline;) It was said that this means that they will sit cross-legged on chairs beneath canopies.
يَدْعُونَ فِيهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ
(therein they will call for fruits in abundance) means, whatever they ask for, they will find it, and it will be prepared just as they wanted it.
وَشَرَابٍ
(and drinks;) means, whatever kind of drink they want, the servants will bring it to them,
بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ
(With cups, and jugs, and a glass of flowing wine.)(56: 18).
وَعِنْدَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ
(And beside them will be Qasirat-at-Tarf (chaste females)) means, they restrain their glances from anyone except their husbands, and do not turn to anyone else.
أَتْرَابٌ
((and) of equal ages.) means, they will all be of the same age. This is the understanding of Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa'id bin Jubayr, Muhammad bin Ka'b and As-Suddi.
هَٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ الْحِسَابِ
(This it is what you are promised for the Day of Reckoning!) means, 'this that We have mentioned of the features of Paradise is what He has prepared for His pious servants who will reach it after they have been resurrected from their graves and been saved from the Fire.' Then Allah tells us that Paradise will never come to an end or disappear or cease to be. He says:
إِنَّ هَٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُ مِنْ نَفَادٍ
(Verily, this is Our provision which will never finish.) This is like the Ayat:
مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ ۖ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ ۗ
(Whatever is with you, will be exhausted, and whatever is with Allah will remain)(16:96).
عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(a gift without an end.)(11:108)
لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ
(for them is a reward that will never come to an end.)(84:25).
أُكُلُهَا دَائِمٌ وَظِلُّهَا ۚ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَوْا ۖ وَعُقْبَى الْكَافِرِينَ النَّارُ
(its provision is eternal and so is its shade; this is the end of those who have Taqwa, and the end (final destination) of the disbelievers is Fire.)(13:35). And there are many similar Ayat.
Tafsir Ibn Kathir
صالحین کے لئے اجر۔نیکو کار تقوے والوں کے لئے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے ؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لئے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے (ابن ابی حاتم) اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بےفکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام باسلیقہ حاضر کردیں گے۔ ان کے پاس ان کی بیویاں ہوں گی جو عفیفہ، پاک دامن، نیچی نگاہوں والی اور ان سے محبت و عشق رکھنے والی ہوں گی جن کی نگاہیں کبھی دوسرے کی طرف نہ اٹھی ہیں نہ اٹھیں نہ اٹھ سکیں۔ ان کی ہم عمر ہوں گی ان کی عمروں کے لائق ہوں گی۔ ان صفات والی جنت کا وعدہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے بندوں سے ہے، قیامت کے دن یہ اس کے وارث ومالک ہوں گے جبکہ قبروں سے اٹھ کر آگ سے نجات پا کر حساب سے فارغ ہو کر یہاں آ کر بہ آرام بسیں گے۔ یہ ہے ہمارے انعام جس میں نہ کبھی کمی آئے گی نہ یہ منقطع ہوگا۔ جیسے فرمایا (مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ 96) 16۔ النحل :96) تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہوجاتا ہے اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں ہے اور جگہ غیر ممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں غیرجذوذ ہے اور جگہ غیرممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی اور گھاٹا آئے نہ کبھی وہ ختم اور فنا ہو۔ جیسے ارشاد ہے) اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ 35۔) 13۔ الرعد :35) ، اس کے میوے اور کھانے پینے اور اس کے سائے دائمی ہیں۔ پرہیزگاروں کا انجام یہی ہے اور کافروں کا انجام جہنم ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ السُّعَدَاءِ أَنَّ لَهُمْ فِي [الدَّارِ] [[زيادة من س، أ.]] الْآخِرَةِ ﴿لَحُسْنَ مَآبٍ﴾ وَهُوَ: الْمُرْجِعُ وَالْمُنْقَلَبُ. ثُمَّ فَسَّرَهُ بِقَوْلِهِ: ﴿جَنَّاتِ عَدْنٍ﴾ أَيْ: جَنَّاتِ إِقَامَةٍ مُفَتَّحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ.
وَالْأَلِفُ وَاللَّامُ هُنَا [[في ت: "هاهنا".]] بِمَعْنَى الْإِضَافَةِ كَأَنَّهُ يَقُولُ: "مُفَتَّحَةً لَهُمْ أَبْوَابُهَا" أَيْ: إِذَا جَاءُوهَا فُتِحَتْ لَهُمْ أَبْوَابُهَا.
قَالَ [[في ت: "روى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوَابٍ الهَبَّاري حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْر، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ -يَعْنِي: ابْنَ هُرْمُزَ-عَنِ ابْنِ سَابِطٍ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم: "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ قَصْرًا يُقَالُ لَهُ: "عَدْنٌ" حَوْلَهُ الْبُرُوجُ وَالْمُرُوجُ لَهُ خَمْسَةُ آلَافِ بَابٍ عِنْدَ كُلِّ بَابٍ خَمْسَةُ آلَافِ حبَرَة لَا يَدْخُلُهُ -أَوْ: لَا يَسْكُنُهُ-إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ أَوْ إِمَامٌ عَدْلٌ". [[ورواه البزار في مسنده برقم (١٥٩١) "كشف الأستار" من طريق محمد بن ثواب به، وقال الهيثمي في المجمع (٥/١٩٦) : "فيه عبد الله بن مسلم بن هرمز وهو ضعيف".]]
وَقَدْ وَرَدَ فِي [ذِكْرِ] [[زيادة من ت، أ.]] أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ مِنْ وُجُوهٍ عَدِيدَةٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿مُتَّكِئِينَ فِيهَا﴾ قِيلَ: مُتَرَبِّعِينَ فِيهَا عَلَى سُرُرٍ [[في أ: " سرير".]] تَحْتَ الْحِجَالِ ﴿يَدْعُونَ فِيهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ﴾
أَيْ: مَهْمَا طَلَبُوا وَجَدُوا وَحَضَرَ كَمَا أَرَادُوا. ﴿وَشَرَابٍ﴾ أَيْ: مِنْ أَيِّ أَنْوَاعِهِ شَاءُوا أَتَتْهُمْ بِهِ الْخُدَّامُ ﴿بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ﴾ [الْوَاقِعَةِ: ١٨]
﴿وَعِنْدَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ﴾ أَيْ: عَنْ غَيْرِ أَزْوَاجِهِنَّ فَلَا يَلْتَفِتْنَ إِلَى غَيْرِ بُعُولَتِهِنَّ ﴿أَتْرَابٌ﴾ أَيْ: مُتَسَاوِيَاتٌ فِي السِّنِّ وَالْعُمُرِ. هَذَا مَعْنَى قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٍ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ وَالسُّدِّيِّ.
﴿هَذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ الْحِسَابِ﴾ أَيْ: هَذَا الَّذِي ذَكَرْنَا مِنْ صِفَةِ الْجَنَّةِ الَّتِي [[في ت، س، أ: "الجنة هي التي".]] وَعَدَهَا لِعِبَادِهِ الْمُتَّقِينَ الَّتِي [[في أ: "الذين".]] يَصِيرُونَ إِلَيْهَا بَعْدَ نُشُورِهِمْ وَقِيَامِهِمْ مِنْ قُبُورِهِمْ وَسَلَامَتِهِمْ مِنَ النَّارِ.
ثُمَّ أَخْبَرَ عَنِ الْجَنَّةِ أَنَّهُ لَا فَرَاغَ لَهَا وَلَا انْقِضَاءَ وَلَا زَوَالَ وَلَا انْتِهَاءَ فَقَالَ: ﴿إِنَّ هَذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُ مِنْ نَفَادٍ﴾ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ﴾ [النَّحْلِ: ٩٦] وَكَقَوْلِهِ ﴿عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ﴾ [هُودٍ: ١٠٨] وَكَقَوْلِهِ ﴿لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ﴾ [فُصِّلَتْ: ٨] أَيْ: غَيْرُ مَقْطُوعٍ وَكَقَوْلِهِ: ﴿أُكُلُهَا دَائِمٌ وَظِلُّهَا تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَوْا وَعُقْبَى الْكَافِرِينَ النَّارُ﴾ [الرَّعْدِ: ٣٥] وَالْآيَاتُ فِي هَذَا كَثِيرَةٌ جِدًّا.
۞ وَعِندَهُمْ قَٰصِرَٰتُ ٱلطَّرْفِ أَتْرَابٌ
And with them will be women limiting [their] glances and of equal age.
اور ان کے پاس نیچی نگاہ رکھنے والی (اور) ہم عمر (عورتیں) ہوں گی
و نزد آنان همسرانی است که تنها چشم به شوهرانشان دوختهاند، و همسن و سالند!
Tafsir Ibn Kathir
And verily, for those who have Taqwa is a good final return (49)'Adn Paradise, whose doors will be opened for them (50)Therein they will recline; therein they will call for fruits in abundance and drinks (51)And beside them will be Qasirat-at-Tarf, (and) of equal ages (52)This it is what you are promised for the Day of Reckoning (53)(It will be said to them)! Verily, this is Our provision which will never finish (54)
The Final Return of the Blessed
Allah tells us that His blessed, believing servants will have a good final return in the Hereafter, which means their ultimate destination. Then He explains it further, as He says:
جَنَّاتِ عَدْنٍ
('Adn Gardens) meaning, eternal gardens (of Paradise),
مُفَتَّحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ
(whose doors will be opened for them.) means, when they come to them (these gardens), their gates will open for them.
مُتَّكِئِينَ فِيهَا
(Therein they will recline;) It was said that this means that they will sit cross-legged on chairs beneath canopies.
يَدْعُونَ فِيهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ
(therein they will call for fruits in abundance) means, whatever they ask for, they will find it, and it will be prepared just as they wanted it.
وَشَرَابٍ
(and drinks;) means, whatever kind of drink they want, the servants will bring it to them,
بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ
(With cups, and jugs, and a glass of flowing wine.)(56: 18).
وَعِنْدَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ
(And beside them will be Qasirat-at-Tarf (chaste females)) means, they restrain their glances from anyone except their husbands, and do not turn to anyone else.
أَتْرَابٌ
((and) of equal ages.) means, they will all be of the same age. This is the understanding of Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa'id bin Jubayr, Muhammad bin Ka'b and As-Suddi.
هَٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ الْحِسَابِ
(This it is what you are promised for the Day of Reckoning!) means, 'this that We have mentioned of the features of Paradise is what He has prepared for His pious servants who will reach it after they have been resurrected from their graves and been saved from the Fire.' Then Allah tells us that Paradise will never come to an end or disappear or cease to be. He says:
إِنَّ هَٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُ مِنْ نَفَادٍ
(Verily, this is Our provision which will never finish.) This is like the Ayat:
مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ ۖ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ ۗ
(Whatever is with you, will be exhausted, and whatever is with Allah will remain)(16:96).
عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(a gift without an end.)(11:108)
لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ
(for them is a reward that will never come to an end.)(84:25).
أُكُلُهَا دَائِمٌ وَظِلُّهَا ۚ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَوْا ۖ وَعُقْبَى الْكَافِرِينَ النَّارُ
(its provision is eternal and so is its shade; this is the end of those who have Taqwa, and the end (final destination) of the disbelievers is Fire.)(13:35). And there are many similar Ayat.
Tafsir Ibn Kathir
صالحین کے لئے اجر۔نیکو کار تقوے والوں کے لئے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے ؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لئے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے (ابن ابی حاتم) اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بےفکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام باسلیقہ حاضر کردیں گے۔ ان کے پاس ان کی بیویاں ہوں گی جو عفیفہ، پاک دامن، نیچی نگاہوں والی اور ان سے محبت و عشق رکھنے والی ہوں گی جن کی نگاہیں کبھی دوسرے کی طرف نہ اٹھی ہیں نہ اٹھیں نہ اٹھ سکیں۔ ان کی ہم عمر ہوں گی ان کی عمروں کے لائق ہوں گی۔ ان صفات والی جنت کا وعدہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے بندوں سے ہے، قیامت کے دن یہ اس کے وارث ومالک ہوں گے جبکہ قبروں سے اٹھ کر آگ سے نجات پا کر حساب سے فارغ ہو کر یہاں آ کر بہ آرام بسیں گے۔ یہ ہے ہمارے انعام جس میں نہ کبھی کمی آئے گی نہ یہ منقطع ہوگا۔ جیسے فرمایا (مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ 96) 16۔ النحل :96) تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہوجاتا ہے اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں ہے اور جگہ غیر ممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں غیرجذوذ ہے اور جگہ غیرممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی اور گھاٹا آئے نہ کبھی وہ ختم اور فنا ہو۔ جیسے ارشاد ہے) اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ 35۔) 13۔ الرعد :35) ، اس کے میوے اور کھانے پینے اور اس کے سائے دائمی ہیں۔ پرہیزگاروں کا انجام یہی ہے اور کافروں کا انجام جہنم ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ السُّعَدَاءِ أَنَّ لَهُمْ فِي [الدَّارِ] [[زيادة من س، أ.]] الْآخِرَةِ ﴿لَحُسْنَ مَآبٍ﴾ وَهُوَ: الْمُرْجِعُ وَالْمُنْقَلَبُ. ثُمَّ فَسَّرَهُ بِقَوْلِهِ: ﴿جَنَّاتِ عَدْنٍ﴾ أَيْ: جَنَّاتِ إِقَامَةٍ مُفَتَّحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ.
وَالْأَلِفُ وَاللَّامُ هُنَا [[في ت: "هاهنا".]] بِمَعْنَى الْإِضَافَةِ كَأَنَّهُ يَقُولُ: "مُفَتَّحَةً لَهُمْ أَبْوَابُهَا" أَيْ: إِذَا جَاءُوهَا فُتِحَتْ لَهُمْ أَبْوَابُهَا.
قَالَ [[في ت: "روى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوَابٍ الهَبَّاري حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْر، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ -يَعْنِي: ابْنَ هُرْمُزَ-عَنِ ابْنِ سَابِطٍ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم: "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ قَصْرًا يُقَالُ لَهُ: "عَدْنٌ" حَوْلَهُ الْبُرُوجُ وَالْمُرُوجُ لَهُ خَمْسَةُ آلَافِ بَابٍ عِنْدَ كُلِّ بَابٍ خَمْسَةُ آلَافِ حبَرَة لَا يَدْخُلُهُ -أَوْ: لَا يَسْكُنُهُ-إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ أَوْ إِمَامٌ عَدْلٌ". [[ورواه البزار في مسنده برقم (١٥٩١) "كشف الأستار" من طريق محمد بن ثواب به، وقال الهيثمي في المجمع (٥/١٩٦) : "فيه عبد الله بن مسلم بن هرمز وهو ضعيف".]]
وَقَدْ وَرَدَ فِي [ذِكْرِ] [[زيادة من ت، أ.]] أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ مِنْ وُجُوهٍ عَدِيدَةٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿مُتَّكِئِينَ فِيهَا﴾ قِيلَ: مُتَرَبِّعِينَ فِيهَا عَلَى سُرُرٍ [[في أ: " سرير".]] تَحْتَ الْحِجَالِ ﴿يَدْعُونَ فِيهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ﴾
أَيْ: مَهْمَا طَلَبُوا وَجَدُوا وَحَضَرَ كَمَا أَرَادُوا. ﴿وَشَرَابٍ﴾ أَيْ: مِنْ أَيِّ أَنْوَاعِهِ شَاءُوا أَتَتْهُمْ بِهِ الْخُدَّامُ ﴿بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ﴾ [الْوَاقِعَةِ: ١٨]
﴿وَعِنْدَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ﴾ أَيْ: عَنْ غَيْرِ أَزْوَاجِهِنَّ فَلَا يَلْتَفِتْنَ إِلَى غَيْرِ بُعُولَتِهِنَّ ﴿أَتْرَابٌ﴾ أَيْ: مُتَسَاوِيَاتٌ فِي السِّنِّ وَالْعُمُرِ. هَذَا مَعْنَى قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٍ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ وَالسُّدِّيِّ.
﴿هَذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ الْحِسَابِ﴾ أَيْ: هَذَا الَّذِي ذَكَرْنَا مِنْ صِفَةِ الْجَنَّةِ الَّتِي [[في ت، س، أ: "الجنة هي التي".]] وَعَدَهَا لِعِبَادِهِ الْمُتَّقِينَ الَّتِي [[في أ: "الذين".]] يَصِيرُونَ إِلَيْهَا بَعْدَ نُشُورِهِمْ وَقِيَامِهِمْ مِنْ قُبُورِهِمْ وَسَلَامَتِهِمْ مِنَ النَّارِ.
ثُمَّ أَخْبَرَ عَنِ الْجَنَّةِ أَنَّهُ لَا فَرَاغَ لَهَا وَلَا انْقِضَاءَ وَلَا زَوَالَ وَلَا انْتِهَاءَ فَقَالَ: ﴿إِنَّ هَذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُ مِنْ نَفَادٍ﴾ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ﴾ [النَّحْلِ: ٩٦] وَكَقَوْلِهِ ﴿عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ﴾ [هُودٍ: ١٠٨] وَكَقَوْلِهِ ﴿لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ﴾ [فُصِّلَتْ: ٨] أَيْ: غَيْرُ مَقْطُوعٍ وَكَقَوْلِهِ: ﴿أُكُلُهَا دَائِمٌ وَظِلُّهَا تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَوْا وَعُقْبَى الْكَافِرِينَ النَّارُ﴾ [الرَّعْدِ: ٣٥] وَالْآيَاتُ فِي هَذَا كَثِيرَةٌ جِدًّا.
هَٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ ٱلْحِسَابِ
This is what you, [the righteous], are promised for the Day of Account.
یہ وہ چیزیں ہیں جن کا حساب کے دن کے لئے تم سے وعدہ کیا جاتا تھا
این همان است که برای روز حساب به شما وعده داده میشود (وعدهای تخلّف ناپذیر)!
Tafsir Ibn Kathir
And verily, for those who have Taqwa is a good final return (49)'Adn Paradise, whose doors will be opened for them (50)Therein they will recline; therein they will call for fruits in abundance and drinks (51)And beside them will be Qasirat-at-Tarf, (and) of equal ages (52)This it is what you are promised for the Day of Reckoning (53)(It will be said to them)! Verily, this is Our provision which will never finish (54)
The Final Return of the Blessed
Allah tells us that His blessed, believing servants will have a good final return in the Hereafter, which means their ultimate destination. Then He explains it further, as He says:
جَنَّاتِ عَدْنٍ
('Adn Gardens) meaning, eternal gardens (of Paradise),
مُفَتَّحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ
(whose doors will be opened for them.) means, when they come to them (these gardens), their gates will open for them.
مُتَّكِئِينَ فِيهَا
(Therein they will recline;) It was said that this means that they will sit cross-legged on chairs beneath canopies.
يَدْعُونَ فِيهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ
(therein they will call for fruits in abundance) means, whatever they ask for, they will find it, and it will be prepared just as they wanted it.
وَشَرَابٍ
(and drinks;) means, whatever kind of drink they want, the servants will bring it to them,
بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ
(With cups, and jugs, and a glass of flowing wine.)(56: 18).
وَعِنْدَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ
(And beside them will be Qasirat-at-Tarf (chaste females)) means, they restrain their glances from anyone except their husbands, and do not turn to anyone else.
أَتْرَابٌ
((and) of equal ages.) means, they will all be of the same age. This is the understanding of Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa'id bin Jubayr, Muhammad bin Ka'b and As-Suddi.
هَٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ الْحِسَابِ
(This it is what you are promised for the Day of Reckoning!) means, 'this that We have mentioned of the features of Paradise is what He has prepared for His pious servants who will reach it after they have been resurrected from their graves and been saved from the Fire.' Then Allah tells us that Paradise will never come to an end or disappear or cease to be. He says:
إِنَّ هَٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُ مِنْ نَفَادٍ
(Verily, this is Our provision which will never finish.) This is like the Ayat:
مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ ۖ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ ۗ
(Whatever is with you, will be exhausted, and whatever is with Allah will remain)(16:96).
عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(a gift without an end.)(11:108)
لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ
(for them is a reward that will never come to an end.)(84:25).
أُكُلُهَا دَائِمٌ وَظِلُّهَا ۚ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَوْا ۖ وَعُقْبَى الْكَافِرِينَ النَّارُ
(its provision is eternal and so is its shade; this is the end of those who have Taqwa, and the end (final destination) of the disbelievers is Fire.)(13:35). And there are many similar Ayat.
Tafsir Ibn Kathir
صالحین کے لئے اجر۔نیکو کار تقوے والوں کے لئے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے ؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لئے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے (ابن ابی حاتم) اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بےفکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام باسلیقہ حاضر کردیں گے۔ ان کے پاس ان کی بیویاں ہوں گی جو عفیفہ، پاک دامن، نیچی نگاہوں والی اور ان سے محبت و عشق رکھنے والی ہوں گی جن کی نگاہیں کبھی دوسرے کی طرف نہ اٹھی ہیں نہ اٹھیں نہ اٹھ سکیں۔ ان کی ہم عمر ہوں گی ان کی عمروں کے لائق ہوں گی۔ ان صفات والی جنت کا وعدہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے بندوں سے ہے، قیامت کے دن یہ اس کے وارث ومالک ہوں گے جبکہ قبروں سے اٹھ کر آگ سے نجات پا کر حساب سے فارغ ہو کر یہاں آ کر بہ آرام بسیں گے۔ یہ ہے ہمارے انعام جس میں نہ کبھی کمی آئے گی نہ یہ منقطع ہوگا۔ جیسے فرمایا (مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ 96) 16۔ النحل :96) تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہوجاتا ہے اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں ہے اور جگہ غیر ممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں غیرجذوذ ہے اور جگہ غیرممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی اور گھاٹا آئے نہ کبھی وہ ختم اور فنا ہو۔ جیسے ارشاد ہے) اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ 35۔) 13۔ الرعد :35) ، اس کے میوے اور کھانے پینے اور اس کے سائے دائمی ہیں۔ پرہیزگاروں کا انجام یہی ہے اور کافروں کا انجام جہنم ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ السُّعَدَاءِ أَنَّ لَهُمْ فِي [الدَّارِ] [[زيادة من س، أ.]] الْآخِرَةِ ﴿لَحُسْنَ مَآبٍ﴾ وَهُوَ: الْمُرْجِعُ وَالْمُنْقَلَبُ. ثُمَّ فَسَّرَهُ بِقَوْلِهِ: ﴿جَنَّاتِ عَدْنٍ﴾ أَيْ: جَنَّاتِ إِقَامَةٍ مُفَتَّحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ.
وَالْأَلِفُ وَاللَّامُ هُنَا [[في ت: "هاهنا".]] بِمَعْنَى الْإِضَافَةِ كَأَنَّهُ يَقُولُ: "مُفَتَّحَةً لَهُمْ أَبْوَابُهَا" أَيْ: إِذَا جَاءُوهَا فُتِحَتْ لَهُمْ أَبْوَابُهَا.
قَالَ [[في ت: "روى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوَابٍ الهَبَّاري حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْر، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ -يَعْنِي: ابْنَ هُرْمُزَ-عَنِ ابْنِ سَابِطٍ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم: "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ قَصْرًا يُقَالُ لَهُ: "عَدْنٌ" حَوْلَهُ الْبُرُوجُ وَالْمُرُوجُ لَهُ خَمْسَةُ آلَافِ بَابٍ عِنْدَ كُلِّ بَابٍ خَمْسَةُ آلَافِ حبَرَة لَا يَدْخُلُهُ -أَوْ: لَا يَسْكُنُهُ-إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ أَوْ إِمَامٌ عَدْلٌ". [[ورواه البزار في مسنده برقم (١٥٩١) "كشف الأستار" من طريق محمد بن ثواب به، وقال الهيثمي في المجمع (٥/١٩٦) : "فيه عبد الله بن مسلم بن هرمز وهو ضعيف".]]
وَقَدْ وَرَدَ فِي [ذِكْرِ] [[زيادة من ت، أ.]] أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ مِنْ وُجُوهٍ عَدِيدَةٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿مُتَّكِئِينَ فِيهَا﴾ قِيلَ: مُتَرَبِّعِينَ فِيهَا عَلَى سُرُرٍ [[في أ: " سرير".]] تَحْتَ الْحِجَالِ ﴿يَدْعُونَ فِيهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ﴾
أَيْ: مَهْمَا طَلَبُوا وَجَدُوا وَحَضَرَ كَمَا أَرَادُوا. ﴿وَشَرَابٍ﴾ أَيْ: مِنْ أَيِّ أَنْوَاعِهِ شَاءُوا أَتَتْهُمْ بِهِ الْخُدَّامُ ﴿بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ﴾ [الْوَاقِعَةِ: ١٨]
﴿وَعِنْدَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ﴾ أَيْ: عَنْ غَيْرِ أَزْوَاجِهِنَّ فَلَا يَلْتَفِتْنَ إِلَى غَيْرِ بُعُولَتِهِنَّ ﴿أَتْرَابٌ﴾ أَيْ: مُتَسَاوِيَاتٌ فِي السِّنِّ وَالْعُمُرِ. هَذَا مَعْنَى قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٍ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ وَالسُّدِّيِّ.
﴿هَذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ الْحِسَابِ﴾ أَيْ: هَذَا الَّذِي ذَكَرْنَا مِنْ صِفَةِ الْجَنَّةِ الَّتِي [[في ت، س، أ: "الجنة هي التي".]] وَعَدَهَا لِعِبَادِهِ الْمُتَّقِينَ الَّتِي [[في أ: "الذين".]] يَصِيرُونَ إِلَيْهَا بَعْدَ نُشُورِهِمْ وَقِيَامِهِمْ مِنْ قُبُورِهِمْ وَسَلَامَتِهِمْ مِنَ النَّارِ.
ثُمَّ أَخْبَرَ عَنِ الْجَنَّةِ أَنَّهُ لَا فَرَاغَ لَهَا وَلَا انْقِضَاءَ وَلَا زَوَالَ وَلَا انْتِهَاءَ فَقَالَ: ﴿إِنَّ هَذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُ مِنْ نَفَادٍ﴾ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ﴾ [النَّحْلِ: ٩٦] وَكَقَوْلِهِ ﴿عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ﴾ [هُودٍ: ١٠٨] وَكَقَوْلِهِ ﴿لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ﴾ [فُصِّلَتْ: ٨] أَيْ: غَيْرُ مَقْطُوعٍ وَكَقَوْلِهِ: ﴿أُكُلُهَا دَائِمٌ وَظِلُّهَا تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَوْا وَعُقْبَى الْكَافِرِينَ النَّارُ﴾ [الرَّعْدِ: ٣٥] وَالْآيَاتُ فِي هَذَا كَثِيرَةٌ جِدًّا.
إِنَّ هَٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُۥ مِن نَّفَادٍ
Indeed, this is Our provision; for it there is no depletion.
یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا
این روزی ما است که هرگز آن را پایانی نیست!
Tafsir Ibn Kathir
And verily, for those who have Taqwa is a good final return (49)'Adn Paradise, whose doors will be opened for them (50)Therein they will recline; therein they will call for fruits in abundance and drinks (51)And beside them will be Qasirat-at-Tarf, (and) of equal ages (52)This it is what you are promised for the Day of Reckoning (53)(It will be said to them)! Verily, this is Our provision which will never finish (54)
The Final Return of the Blessed
Allah tells us that His blessed, believing servants will have a good final return in the Hereafter, which means their ultimate destination. Then He explains it further, as He says:
جَنَّاتِ عَدْنٍ
('Adn Gardens) meaning, eternal gardens (of Paradise),
مُفَتَّحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ
(whose doors will be opened for them.) means, when they come to them (these gardens), their gates will open for them.
مُتَّكِئِينَ فِيهَا
(Therein they will recline;) It was said that this means that they will sit cross-legged on chairs beneath canopies.
يَدْعُونَ فِيهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ
(therein they will call for fruits in abundance) means, whatever they ask for, they will find it, and it will be prepared just as they wanted it.
وَشَرَابٍ
(and drinks;) means, whatever kind of drink they want, the servants will bring it to them,
بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ
(With cups, and jugs, and a glass of flowing wine.)(56: 18).
وَعِنْدَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ
(And beside them will be Qasirat-at-Tarf (chaste females)) means, they restrain their glances from anyone except their husbands, and do not turn to anyone else.
أَتْرَابٌ
((and) of equal ages.) means, they will all be of the same age. This is the understanding of Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa'id bin Jubayr, Muhammad bin Ka'b and As-Suddi.
هَٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ الْحِسَابِ
(This it is what you are promised for the Day of Reckoning!) means, 'this that We have mentioned of the features of Paradise is what He has prepared for His pious servants who will reach it after they have been resurrected from their graves and been saved from the Fire.' Then Allah tells us that Paradise will never come to an end or disappear or cease to be. He says:
إِنَّ هَٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُ مِنْ نَفَادٍ
(Verily, this is Our provision which will never finish.) This is like the Ayat:
مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ ۖ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ ۗ
(Whatever is with you, will be exhausted, and whatever is with Allah will remain)(16:96).
عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(a gift without an end.)(11:108)
لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ
(for them is a reward that will never come to an end.)(84:25).
أُكُلُهَا دَائِمٌ وَظِلُّهَا ۚ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَوْا ۖ وَعُقْبَى الْكَافِرِينَ النَّارُ
(its provision is eternal and so is its shade; this is the end of those who have Taqwa, and the end (final destination) of the disbelievers is Fire.)(13:35). And there are many similar Ayat.
Tafsir Ibn Kathir
صالحین کے لئے اجر۔نیکو کار تقوے والوں کے لئے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے ؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لئے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے (ابن ابی حاتم) اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بےفکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام باسلیقہ حاضر کردیں گے۔ ان کے پاس ان کی بیویاں ہوں گی جو عفیفہ، پاک دامن، نیچی نگاہوں والی اور ان سے محبت و عشق رکھنے والی ہوں گی جن کی نگاہیں کبھی دوسرے کی طرف نہ اٹھی ہیں نہ اٹھیں نہ اٹھ سکیں۔ ان کی ہم عمر ہوں گی ان کی عمروں کے لائق ہوں گی۔ ان صفات والی جنت کا وعدہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے بندوں سے ہے، قیامت کے دن یہ اس کے وارث ومالک ہوں گے جبکہ قبروں سے اٹھ کر آگ سے نجات پا کر حساب سے فارغ ہو کر یہاں آ کر بہ آرام بسیں گے۔ یہ ہے ہمارے انعام جس میں نہ کبھی کمی آئے گی نہ یہ منقطع ہوگا۔ جیسے فرمایا (مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ 96) 16۔ النحل :96) تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہوجاتا ہے اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں ہے اور جگہ غیر ممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں غیرجذوذ ہے اور جگہ غیرممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی اور گھاٹا آئے نہ کبھی وہ ختم اور فنا ہو۔ جیسے ارشاد ہے) اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ 35۔) 13۔ الرعد :35) ، اس کے میوے اور کھانے پینے اور اس کے سائے دائمی ہیں۔ پرہیزگاروں کا انجام یہی ہے اور کافروں کا انجام جہنم ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ السُّعَدَاءِ أَنَّ لَهُمْ فِي [الدَّارِ] [[زيادة من س، أ.]] الْآخِرَةِ ﴿لَحُسْنَ مَآبٍ﴾ وَهُوَ: الْمُرْجِعُ وَالْمُنْقَلَبُ. ثُمَّ فَسَّرَهُ بِقَوْلِهِ: ﴿جَنَّاتِ عَدْنٍ﴾ أَيْ: جَنَّاتِ إِقَامَةٍ مُفَتَّحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ.
وَالْأَلِفُ وَاللَّامُ هُنَا [[في ت: "هاهنا".]] بِمَعْنَى الْإِضَافَةِ كَأَنَّهُ يَقُولُ: "مُفَتَّحَةً لَهُمْ أَبْوَابُهَا" أَيْ: إِذَا جَاءُوهَا فُتِحَتْ لَهُمْ أَبْوَابُهَا.
قَالَ [[في ت: "روى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوَابٍ الهَبَّاري حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْر، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ -يَعْنِي: ابْنَ هُرْمُزَ-عَنِ ابْنِ سَابِطٍ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم: "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ قَصْرًا يُقَالُ لَهُ: "عَدْنٌ" حَوْلَهُ الْبُرُوجُ وَالْمُرُوجُ لَهُ خَمْسَةُ آلَافِ بَابٍ عِنْدَ كُلِّ بَابٍ خَمْسَةُ آلَافِ حبَرَة لَا يَدْخُلُهُ -أَوْ: لَا يَسْكُنُهُ-إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ أَوْ إِمَامٌ عَدْلٌ". [[ورواه البزار في مسنده برقم (١٥٩١) "كشف الأستار" من طريق محمد بن ثواب به، وقال الهيثمي في المجمع (٥/١٩٦) : "فيه عبد الله بن مسلم بن هرمز وهو ضعيف".]]
وَقَدْ وَرَدَ فِي [ذِكْرِ] [[زيادة من ت، أ.]] أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ مِنْ وُجُوهٍ عَدِيدَةٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿مُتَّكِئِينَ فِيهَا﴾ قِيلَ: مُتَرَبِّعِينَ فِيهَا عَلَى سُرُرٍ [[في أ: " سرير".]] تَحْتَ الْحِجَالِ ﴿يَدْعُونَ فِيهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ﴾
أَيْ: مَهْمَا طَلَبُوا وَجَدُوا وَحَضَرَ كَمَا أَرَادُوا. ﴿وَشَرَابٍ﴾ أَيْ: مِنْ أَيِّ أَنْوَاعِهِ شَاءُوا أَتَتْهُمْ بِهِ الْخُدَّامُ ﴿بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ﴾ [الْوَاقِعَةِ: ١٨]
﴿وَعِنْدَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ﴾ أَيْ: عَنْ غَيْرِ أَزْوَاجِهِنَّ فَلَا يَلْتَفِتْنَ إِلَى غَيْرِ بُعُولَتِهِنَّ ﴿أَتْرَابٌ﴾ أَيْ: مُتَسَاوِيَاتٌ فِي السِّنِّ وَالْعُمُرِ. هَذَا مَعْنَى قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٍ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ وَالسُّدِّيِّ.
﴿هَذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ الْحِسَابِ﴾ أَيْ: هَذَا الَّذِي ذَكَرْنَا مِنْ صِفَةِ الْجَنَّةِ الَّتِي [[في ت، س، أ: "الجنة هي التي".]] وَعَدَهَا لِعِبَادِهِ الْمُتَّقِينَ الَّتِي [[في أ: "الذين".]] يَصِيرُونَ إِلَيْهَا بَعْدَ نُشُورِهِمْ وَقِيَامِهِمْ مِنْ قُبُورِهِمْ وَسَلَامَتِهِمْ مِنَ النَّارِ.
ثُمَّ أَخْبَرَ عَنِ الْجَنَّةِ أَنَّهُ لَا فَرَاغَ لَهَا وَلَا انْقِضَاءَ وَلَا زَوَالَ وَلَا انْتِهَاءَ فَقَالَ: ﴿إِنَّ هَذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُ مِنْ نَفَادٍ﴾ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ﴾ [النَّحْلِ: ٩٦] وَكَقَوْلِهِ ﴿عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ﴾ [هُودٍ: ١٠٨] وَكَقَوْلِهِ ﴿لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ﴾ [فُصِّلَتْ: ٨] أَيْ: غَيْرُ مَقْطُوعٍ وَكَقَوْلِهِ: ﴿أُكُلُهَا دَائِمٌ وَظِلُّهَا تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَوْا وَعُقْبَى الْكَافِرِينَ النَّارُ﴾ [الرَّعْدِ: ٣٥] وَالْآيَاتُ فِي هَذَا كَثِيرَةٌ جِدًّا.
هَٰذَا ۚ وَإِنَّ لِلطَّٰغِينَ لَشَرَّ مَـَٔابٍۢ
This [is so]. But indeed, for the transgressors is an evil place of return -
یہ (نعمتیں تو فرمانبرداروں کے لئے ہیں) اور سرکشوں کے لئے برا ٹھکانا ہے
این (پاداش پرهیزگاران است)، و برای طغیانگران بدترین محل بازگشت است:
Tafsir Ibn Kathir
This is so! And for the Taghin will be an evil final return (55)Hell! Where they will enter it, and worst (indeed) is that place to rest (56)This is so! Then let them taste it - Hamim and Ghassaq (57)And other of similar kind - all together (58)This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire (59)(The followers will say to those who misled): "Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us, so evil is this place to stay in! (60)They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire! (61)And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? (62)"Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them? (63)Verily, that is the very truth – the mutual dispute of the people of the Fire (64)
The Final Return of the Doomed
Having mentioned the final of the blessed, Allah follows that with mention of the final return of the doomed when they are resurrected and brought to account. Allah says:
هَٰذَا ۚ وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ
(This is so! And for the Taghin), which refers to those who disobey Allah, may He be glorified, and oppose the Messengers of Allah, peace be upon them,
لَشَرَّ مَآبٍ
(will be an evil final return.) means, the worst final return. Then Allah explains it by saying,
جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا
(Hell! Where they will enter) means, they will enter it and it will overwhelm them on all sides.
فَبِئْسَ الْمِهَادُ - هَٰذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ
(and worst (indeed) is that place to rest! This is so! Then let them taste it – Hamim and Ghassaq.) Hamim is something that has been heated to the ultimate degree, and Ghassaq is the opposite, something that is so intensely cold that it is unbearable. Allah says:
وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ
(And other of similar kind (oppasite pairs) – all together!) means, and other things of this kind, a thing and its opposite, serving as punishments. Al-Hasan Al-Basri said, concerning the Ayah:
وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ
(And other of similar kind – all together!) "Different kinds of punishments." Others said, such as intense cold and intense heat, and drinking Hamim and eating the bitter tree of Az-Zaqqum, and being lifted up and thrown down, and other kinds of paired opposites, all of which are means of punishment.
The Disputes of the People of Hell
هَٰذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ ۖ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ ۚ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) Here Allah tells us what the people of Hell will say to one another. This is like the Ayah:
كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ
(Every time a new nation enters, it curses its sister nation (that went before))(7:38), which means, instead of greeting one another, they will curse one another, accuse one another of being liars and reject one another. When a new group arrives, the keepers of Hell will say,
هَٰذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ ۖ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ ۚ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) meaning, because they are of the people of Hell.
قَالُوا بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ ۖ
(Nay, you (too)! No welcome for you!) means, those who are coming in will say,
بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ ۖ أَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا
(Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us,) meaning, 'you called us to that which led us to this fate.'
فَبِئْسَ الْقَرَارُ
(so evil is this place to stay in!) means, evil is this abode and this destination.
قَالُوا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هَٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ
(They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire!"). This is like the Ayah,
قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لِأُولَاهُمْ رَبَّنَا هَٰؤُلَاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَٰكِنْ لَا تَعْلَمُونَ
(The last of them will say to the first of them: "Our Lord! These misled us, so give them a double torment of the Fire." He will say: "For each one there is double (torment), but you know not.")(7:38), which means that each of them will be punished as he deserves.
وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ - أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ
(And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them?")
Here Allah tells us that when they are in Hell, the disbelievers will notice that they do not see people who they thought were misguided, while they thought of themselves as believers. They will say, 'why do we not see them with us in the Fire?' Mujahid said, "This is what Abu Jahl will say; he will say, 'what is the matter with me that I do not see Bilal and 'Ammar and Suhayb and so-and-so...?' This is an example; all the disbelievers are like this, they think that the believers will go to Hell, so when the disbelievers enter Hell, they will wonder why they do not see them there, and they will say,
مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ - أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا
(What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? Did we take them as an object of mockery,) means, in this world,
أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ
(or have (our) eyes failed to perceive them?) means, they will try to console themselves with this wishful thinking, so they will say, perhaps they are here in Hell with us, but we have not laid eyes on them. Then they will find out that they (the believers) are in the lofty levels of Paradise, as Allah says:
وَنَادَىٰ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۖ قَالُوا نَعَمْ ۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَنْ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ
(And the dwellers of Paradise will call out to the dwellers of the Fire (saying): "We have indeed found true what our Lord had promised us; have you also found true what your Lord promised (warned)?" They shall say: "Yes." Then a crier will proclaim between them: "The curse of Allah is on the wrongdoers.") until:
ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ
(Enter Paradise, no fear shall be on you, nor shall you grieve.)(7:44-49)
إِنَّ ذَٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth – the mutual dispute of the people of the Fire!) means, 'this that We have told you, O Muhammad, about the dispute among the people of Hell and their cursing one another, is true and there is no doubt concerning it.'
Tafsir Ibn Kathir
اہل نار کے احوال۔ اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔ حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو دار ہوجائیں۔ حضرت کعب احبار فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو (ابن ابی حاتم) غرض سردی کا عذاب الگ ہوگا گرمی کا الگ ہوگا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا 38) 7۔ الاعراف :38) ، ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لئے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لئے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لئے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے (قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ، یعنی پچھلے پہلوں کے لئے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کردیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لئے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لئے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لئے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے ؟ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو جہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں ؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق میں اڑاتے تھے ؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو ! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے ؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ (وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ 44ۙ) 7۔ الاعراف :44) ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى مَآلَ السُّعَدَاءِ ثَنّى بِذِكْرِ حَالِ الْأَشْقِيَاءِ وَمَرْجِعِهِمْ وَمَآبِهِمْ فِي دَارِ مَعَادِهِمْ وَحِسَابِهِمْ فَقَالَ: ﴿هَذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ﴾ وَهُمُ: الْخَارِجُونَ عَنْ طَاعَةِ اللَّهِ الْمُخَالِفُونَ لِرُسُلِ اللَّهِ ﴿لَشَرَّ مَآبٍ﴾ أَيْ: لَسُوءَ مُنْقَلَبٍ وَمَرْجِعٍ. ثُمَّ فَسَّرَهُ بِقَوْلِهِ: ﴿جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا﴾ أَيْ: يَدْخُلُونَهَا فَتَغْمُرُهُمْ مِنْ جَمِيعِ جَوَانِبِهِمْ ﴿فَبِئْسَ الْمِهَادُ. هَذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ﴾ أَمَّا الْحَمِيمُ فَهُوَ: الْحَارُّ الَّذِي قَدِ انْتَهَى حَرُّهُ وَأَمَّا الغَسَّاق فَهُوَ: ضِدُّهُ، وَهُوَ الْبَارِدُ الَّذِي لَا يُسْتَطَاعُ مِنْ شِدَّةِ بَرْدِهِ الْمُؤْلِمِ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ﴾ أَيْ: وَأَشْيَاءُ مِنْ هَذَا الْقَبِيلِ، الشَّيْءُ وَضِدُّهُ يُعَاقَبُونَ بِهَا.
قَالَ [[في ت: "روى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة حَدَّثَنَا دَرّاج عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ [[في ت: "بسنده".]] عَنْ أَبِي سَعِيدٍ [[في أ: "سعيد رضي الله عنه".]] عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "لَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاق يُهَرَاقُ فِي الدُّنْيَا لأنتن أهل الدنيا" [[المسند (٣/٢٨) .]] وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ سُوَيْد بْنِ نَصْرٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ رِشْدين بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ دَرّاج بِهِ. ثُمَّ قَالَ: "لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ" [[سنن الترمذي برقم (٢٥٨٤) .]] كَذَا قَالَ: وَقَدْ تَقَدَّمَ مِنْ غَيْرِ حَدِيثِهِ وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنِ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بِهِ [[تفسير الطبري (٢٣/١١٤) .]]
وَقَالَ كَعْبُ الْأَحْبَارِ: غَسَّاقٌ: عَيْنٌ فِي جَهَنَّمَ يَسِيلُ إِلَيْهَا حُمَة كُلِّ ذَاتِ حُمَة مِنْ حَيَّةٍ وَعَقْرَبٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ فَيَسْتَنْقِعُ فَيُؤْتَى بِالْآدَمِيِّ فَيُغْمَسُ فِيهَا غَمْسَةً وَاحِدَةً فَيَخْرُجُ وَقَدْ سَقَطَ جِلْدُهُ وَلَحْمُهُ عَنِ الْعِظَامِ وَيَتَعَلَّقُ جِلْدُهُ وَلَحْمُهُ فِي كَعْبَيْهِ وَعَقِبَيْهِ ويُجَر لَحْمَهُ كَمَا يَجُر الرَّجُلُ ثَوْبَهُ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ﴾ أَلْوَانٌ مِنَ الْعَذَابِ.
وَقَالَ غَيْرُهُ: كَالزَّمْهَرِيرِ وَالسَّمُومِ وَشُرْبِ الْحَمِيمِ وَأَكْلِ الزَّقُّومِ وَالصُّعُودِ وَالْهُوِيُّ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَشْيَاءِ الْمُخْتَلِفَةِ وَالْمُتَضَادَّةِ [[في ت، س: "المتضاضة والمتخالفة".]] وَالْجَمِيعُ مِمَّا يُعَذَّبُونَ بِهِ وَيُهَانُونَ بِسَبَبِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿هَذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ﴾ هَذَا إِخْبَارٌ عَنْ قِيلِ أَهْلِ النَّارِ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا﴾ [الْأَعْرَافِ: ٣٨] يَعْنِي بَدَلَ السَّلَامِ يَتَلَاعَنُونَ وَيَتَكَاذَبُونَ [[في ت: "ويتجاذبون".]] وَيَكْفُرُ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ فَتَقُولُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَدْخُلُ قَبْلَ الْأُخْرَى إِذَا أَقْبَلَتِ الَّتِي بَعْدَهَا مَعَ الْخَزَنَةِ مِنَ الزَّبَانِيَةِ: ﴿هَذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ﴾ أَيْ: دَاخِلٌ مَعَكُمْ ﴿لَا مَرْحَبًا بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ﴾ [أَيْ] [[زيادة من ت، س.]] لِأَنَّهُمْ مِنْ أَهْلِ جَهَنَّمَ [[في ت: "النار".]] ﴿قَالُوا بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ﴾ أَيْ: فَيَقُولُ لَهُمُ الدَّاخِلُونَ: ﴿بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ أَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا﴾ أَيْ: أَنْتُمْ دَعَوْتُمُونَا إِلَى مَا أَفْضَى بِنَا إِلَى هَذَا الْمَصِيرِ ﴿فَبِئْسَ الْقَرَارُ﴾ أَيْ: فَبِئْسَ الْمَنْزِلُ وَالْمُسْتَقَرُّ وَالْمَصِيرُ. ﴿قَالُوا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هَذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ﴾ كَمَا قَالَ عَزَّ وَجَلَّ [[في ت، س: "تعالى".]] ﴿قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لأولاهُمْ رَبَّنَا هَؤُلاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَكِنْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٣٨] أَيْ: لِكُلٍّ مِنْكُمْ عَذَابٌ بِحَسَبِهِ ﴿وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَى رِجَالا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الأشْرَارِ أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ هَذَا إِخْبَارٌ عَنِ الْكُفَّارِ فِي النَّارِ أَنَّهُمْ يَفْقِدُونَ رِجَالًا كَانُوا يَعْتَقِدُونَ أَنَّهُمْ عَلَى الضَّلَالَةِ وَهُمُ الْمُؤْمِنُونَ فِي زَعْمِهِمْ قَالُوا: مَا لَنَا لَا نَرَاهُمْ مَعَنَا فِي النَّارِ؟.
قَالَ [[في ت: "وقال".]] مُجَاهِدٌ: هَذَا قَوْلُ أَبِي جَهْلٍ يَقُولُ: مَا لِي لَا أَرَى بِلَالًا وَعَمَّارًا وَصُهَيْبًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا. وَهَذَا مَثَلٌ ضُرِبَ، وَإِلَّا فَكُلُّ الْكُفَّارِ هَذَا حَالُهُمْ: يَعْتَقِدُونَ أَنَّ الْمُؤْمِنِينَ يَدْخُلُونَ النَّارَ فَلَمَّا دَخَلَ الْكُفَّارُ النَّارَ افْتَقَدُوهُمْ فَلَمْ يَجِدُوهُمْ فَقَالُوا: ﴿مَا لَنَا لَا نَرَى رِجَالا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الأشْرَارِ أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ أَيْ: فِي الدُّنْيَا [[في أ: "دار الدنيا".]] ﴿أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ يُسَلُّونَ أَنْفُسَهُمْ بِالْمُحَالِ يقولون: أو لعلهم مَعَنَا فِي جَهَنَّمَ وَلَكِنْ لَمْ يَقَعْ بَصَرُنَا عَلَيْهِمْ. فَعِنْدَ ذَلِكَ يَعْرِفُونَ أَنَّهُمْ فِي الدَّرَجَاتِ الْعَالِيَاتِ [[في ت: "العلا".]] وَهُوَ [[في أ: "وهي".]] قَوْلُهُ: ﴿وَنَادَى أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُوا نَعَمْ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَنْ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿ [وَنَادَى أَصْحَابُ الأعْرَافِ رِجَالا يَعْرِفُونَهُمْ بِسِيمَاهُمْ قَالُوا مَا أَغْنَى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ. أَهَؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ] ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٤٤ -٤٩] [[زيادة من ت، س.]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ﴾ أَيْ: إِنَّ هَذَا الَّذِي أَخْبَرْنَاكَ بِهِ يَا مُحَمَّدُ مِنْ تَخَاصُمِ أَهْلِ النَّارِ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ وَلَعْنِ بَعْضِهِمْ لِبَعْضٍ لَحَقٌّ لَا مِرْيَةَ فِيهِ وَلَا شَكَّ.
جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ ٱلْمِهَادُ
Hell, which they will [enter to] burn, and wretched is the resting place.
(یعنی) دوزخ۔ جس میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بری آرام گاہ ہے
دوزخ، که در آن وارد میشوند؛ و چه بستر بدی است!
Tafsir Ibn Kathir
This is so! And for the Taghin will be an evil final return (55)Hell! Where they will enter it, and worst (indeed) is that place to rest (56)This is so! Then let them taste it - Hamim and Ghassaq (57)And other of similar kind - all together (58)This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire (59)(The followers will say to those who misled): "Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us, so evil is this place to stay in! (60)They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire! (61)And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? (62)"Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them? (63)Verily, that is the very truth – the mutual dispute of the people of the Fire (64)
The Final Return of the Doomed
Having mentioned the final of the blessed, Allah follows that with mention of the final return of the doomed when they are resurrected and brought to account. Allah says:
هَٰذَا ۚ وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ
(This is so! And for the Taghin), which refers to those who disobey Allah, may He be glorified, and oppose the Messengers of Allah, peace be upon them,
لَشَرَّ مَآبٍ
(will be an evil final return.) means, the worst final return. Then Allah explains it by saying,
جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا
(Hell! Where they will enter) means, they will enter it and it will overwhelm them on all sides.
فَبِئْسَ الْمِهَادُ - هَٰذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ
(and worst (indeed) is that place to rest! This is so! Then let them taste it – Hamim and Ghassaq.) Hamim is something that has been heated to the ultimate degree, and Ghassaq is the opposite, something that is so intensely cold that it is unbearable. Allah says:
وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ
(And other of similar kind (oppasite pairs) – all together!) means, and other things of this kind, a thing and its opposite, serving as punishments. Al-Hasan Al-Basri said, concerning the Ayah:
وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ
(And other of similar kind – all together!) "Different kinds of punishments." Others said, such as intense cold and intense heat, and drinking Hamim and eating the bitter tree of Az-Zaqqum, and being lifted up and thrown down, and other kinds of paired opposites, all of which are means of punishment.
The Disputes of the People of Hell
هَٰذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ ۖ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ ۚ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) Here Allah tells us what the people of Hell will say to one another. This is like the Ayah:
كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ
(Every time a new nation enters, it curses its sister nation (that went before))(7:38), which means, instead of greeting one another, they will curse one another, accuse one another of being liars and reject one another. When a new group arrives, the keepers of Hell will say,
هَٰذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ ۖ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ ۚ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) meaning, because they are of the people of Hell.
قَالُوا بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ ۖ
(Nay, you (too)! No welcome for you!) means, those who are coming in will say,
بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ ۖ أَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا
(Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us,) meaning, 'you called us to that which led us to this fate.'
فَبِئْسَ الْقَرَارُ
(so evil is this place to stay in!) means, evil is this abode and this destination.
قَالُوا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هَٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ
(They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire!"). This is like the Ayah,
قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لِأُولَاهُمْ رَبَّنَا هَٰؤُلَاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَٰكِنْ لَا تَعْلَمُونَ
(The last of them will say to the first of them: "Our Lord! These misled us, so give them a double torment of the Fire." He will say: "For each one there is double (torment), but you know not.")(7:38), which means that each of them will be punished as he deserves.
وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ - أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ
(And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them?")
Here Allah tells us that when they are in Hell, the disbelievers will notice that they do not see people who they thought were misguided, while they thought of themselves as believers. They will say, 'why do we not see them with us in the Fire?' Mujahid said, "This is what Abu Jahl will say; he will say, 'what is the matter with me that I do not see Bilal and 'Ammar and Suhayb and so-and-so...?' This is an example; all the disbelievers are like this, they think that the believers will go to Hell, so when the disbelievers enter Hell, they will wonder why they do not see them there, and they will say,
مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ - أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا
(What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? Did we take them as an object of mockery,) means, in this world,
أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ
(or have (our) eyes failed to perceive them?) means, they will try to console themselves with this wishful thinking, so they will say, perhaps they are here in Hell with us, but we have not laid eyes on them. Then they will find out that they (the believers) are in the lofty levels of Paradise, as Allah says:
وَنَادَىٰ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۖ قَالُوا نَعَمْ ۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَنْ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ
(And the dwellers of Paradise will call out to the dwellers of the Fire (saying): "We have indeed found true what our Lord had promised us; have you also found true what your Lord promised (warned)?" They shall say: "Yes." Then a crier will proclaim between them: "The curse of Allah is on the wrongdoers.") until:
ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ
(Enter Paradise, no fear shall be on you, nor shall you grieve.)(7:44-49)
إِنَّ ذَٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth – the mutual dispute of the people of the Fire!) means, 'this that We have told you, O Muhammad, about the dispute among the people of Hell and their cursing one another, is true and there is no doubt concerning it.'
Tafsir Ibn Kathir
اہل نار کے احوال۔ اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔ حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو دار ہوجائیں۔ حضرت کعب احبار فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو (ابن ابی حاتم) غرض سردی کا عذاب الگ ہوگا گرمی کا الگ ہوگا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا 38) 7۔ الاعراف :38) ، ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لئے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لئے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لئے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے (قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ، یعنی پچھلے پہلوں کے لئے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کردیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لئے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لئے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لئے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے ؟ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو جہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں ؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق میں اڑاتے تھے ؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو ! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے ؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ (وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ 44ۙ) 7۔ الاعراف :44) ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى مَآلَ السُّعَدَاءِ ثَنّى بِذِكْرِ حَالِ الْأَشْقِيَاءِ وَمَرْجِعِهِمْ وَمَآبِهِمْ فِي دَارِ مَعَادِهِمْ وَحِسَابِهِمْ فَقَالَ: ﴿هَذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ﴾ وَهُمُ: الْخَارِجُونَ عَنْ طَاعَةِ اللَّهِ الْمُخَالِفُونَ لِرُسُلِ اللَّهِ ﴿لَشَرَّ مَآبٍ﴾ أَيْ: لَسُوءَ مُنْقَلَبٍ وَمَرْجِعٍ. ثُمَّ فَسَّرَهُ بِقَوْلِهِ: ﴿جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا﴾ أَيْ: يَدْخُلُونَهَا فَتَغْمُرُهُمْ مِنْ جَمِيعِ جَوَانِبِهِمْ ﴿فَبِئْسَ الْمِهَادُ. هَذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ﴾ أَمَّا الْحَمِيمُ فَهُوَ: الْحَارُّ الَّذِي قَدِ انْتَهَى حَرُّهُ وَأَمَّا الغَسَّاق فَهُوَ: ضِدُّهُ، وَهُوَ الْبَارِدُ الَّذِي لَا يُسْتَطَاعُ مِنْ شِدَّةِ بَرْدِهِ الْمُؤْلِمِ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ﴾ أَيْ: وَأَشْيَاءُ مِنْ هَذَا الْقَبِيلِ، الشَّيْءُ وَضِدُّهُ يُعَاقَبُونَ بِهَا.
قَالَ [[في ت: "روى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة حَدَّثَنَا دَرّاج عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ [[في ت: "بسنده".]] عَنْ أَبِي سَعِيدٍ [[في أ: "سعيد رضي الله عنه".]] عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "لَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاق يُهَرَاقُ فِي الدُّنْيَا لأنتن أهل الدنيا" [[المسند (٣/٢٨) .]] وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ سُوَيْد بْنِ نَصْرٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ رِشْدين بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ دَرّاج بِهِ. ثُمَّ قَالَ: "لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ" [[سنن الترمذي برقم (٢٥٨٤) .]] كَذَا قَالَ: وَقَدْ تَقَدَّمَ مِنْ غَيْرِ حَدِيثِهِ وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنِ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بِهِ [[تفسير الطبري (٢٣/١١٤) .]]
وَقَالَ كَعْبُ الْأَحْبَارِ: غَسَّاقٌ: عَيْنٌ فِي جَهَنَّمَ يَسِيلُ إِلَيْهَا حُمَة كُلِّ ذَاتِ حُمَة مِنْ حَيَّةٍ وَعَقْرَبٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ فَيَسْتَنْقِعُ فَيُؤْتَى بِالْآدَمِيِّ فَيُغْمَسُ فِيهَا غَمْسَةً وَاحِدَةً فَيَخْرُجُ وَقَدْ سَقَطَ جِلْدُهُ وَلَحْمُهُ عَنِ الْعِظَامِ وَيَتَعَلَّقُ جِلْدُهُ وَلَحْمُهُ فِي كَعْبَيْهِ وَعَقِبَيْهِ ويُجَر لَحْمَهُ كَمَا يَجُر الرَّجُلُ ثَوْبَهُ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ﴾ أَلْوَانٌ مِنَ الْعَذَابِ.
وَقَالَ غَيْرُهُ: كَالزَّمْهَرِيرِ وَالسَّمُومِ وَشُرْبِ الْحَمِيمِ وَأَكْلِ الزَّقُّومِ وَالصُّعُودِ وَالْهُوِيُّ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَشْيَاءِ الْمُخْتَلِفَةِ وَالْمُتَضَادَّةِ [[في ت، س: "المتضاضة والمتخالفة".]] وَالْجَمِيعُ مِمَّا يُعَذَّبُونَ بِهِ وَيُهَانُونَ بِسَبَبِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿هَذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ﴾ هَذَا إِخْبَارٌ عَنْ قِيلِ أَهْلِ النَّارِ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا﴾ [الْأَعْرَافِ: ٣٨] يَعْنِي بَدَلَ السَّلَامِ يَتَلَاعَنُونَ وَيَتَكَاذَبُونَ [[في ت: "ويتجاذبون".]] وَيَكْفُرُ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ فَتَقُولُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَدْخُلُ قَبْلَ الْأُخْرَى إِذَا أَقْبَلَتِ الَّتِي بَعْدَهَا مَعَ الْخَزَنَةِ مِنَ الزَّبَانِيَةِ: ﴿هَذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ﴾ أَيْ: دَاخِلٌ مَعَكُمْ ﴿لَا مَرْحَبًا بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ﴾ [أَيْ] [[زيادة من ت، س.]] لِأَنَّهُمْ مِنْ أَهْلِ جَهَنَّمَ [[في ت: "النار".]] ﴿قَالُوا بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ﴾ أَيْ: فَيَقُولُ لَهُمُ الدَّاخِلُونَ: ﴿بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ أَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا﴾ أَيْ: أَنْتُمْ دَعَوْتُمُونَا إِلَى مَا أَفْضَى بِنَا إِلَى هَذَا الْمَصِيرِ ﴿فَبِئْسَ الْقَرَارُ﴾ أَيْ: فَبِئْسَ الْمَنْزِلُ وَالْمُسْتَقَرُّ وَالْمَصِيرُ. ﴿قَالُوا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هَذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ﴾ كَمَا قَالَ عَزَّ وَجَلَّ [[في ت، س: "تعالى".]] ﴿قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لأولاهُمْ رَبَّنَا هَؤُلاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَكِنْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٣٨] أَيْ: لِكُلٍّ مِنْكُمْ عَذَابٌ بِحَسَبِهِ ﴿وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَى رِجَالا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الأشْرَارِ أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ هَذَا إِخْبَارٌ عَنِ الْكُفَّارِ فِي النَّارِ أَنَّهُمْ يَفْقِدُونَ رِجَالًا كَانُوا يَعْتَقِدُونَ أَنَّهُمْ عَلَى الضَّلَالَةِ وَهُمُ الْمُؤْمِنُونَ فِي زَعْمِهِمْ قَالُوا: مَا لَنَا لَا نَرَاهُمْ مَعَنَا فِي النَّارِ؟.
قَالَ [[في ت: "وقال".]] مُجَاهِدٌ: هَذَا قَوْلُ أَبِي جَهْلٍ يَقُولُ: مَا لِي لَا أَرَى بِلَالًا وَعَمَّارًا وَصُهَيْبًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا. وَهَذَا مَثَلٌ ضُرِبَ، وَإِلَّا فَكُلُّ الْكُفَّارِ هَذَا حَالُهُمْ: يَعْتَقِدُونَ أَنَّ الْمُؤْمِنِينَ يَدْخُلُونَ النَّارَ فَلَمَّا دَخَلَ الْكُفَّارُ النَّارَ افْتَقَدُوهُمْ فَلَمْ يَجِدُوهُمْ فَقَالُوا: ﴿مَا لَنَا لَا نَرَى رِجَالا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الأشْرَارِ أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ أَيْ: فِي الدُّنْيَا [[في أ: "دار الدنيا".]] ﴿أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ يُسَلُّونَ أَنْفُسَهُمْ بِالْمُحَالِ يقولون: أو لعلهم مَعَنَا فِي جَهَنَّمَ وَلَكِنْ لَمْ يَقَعْ بَصَرُنَا عَلَيْهِمْ. فَعِنْدَ ذَلِكَ يَعْرِفُونَ أَنَّهُمْ فِي الدَّرَجَاتِ الْعَالِيَاتِ [[في ت: "العلا".]] وَهُوَ [[في أ: "وهي".]] قَوْلُهُ: ﴿وَنَادَى أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُوا نَعَمْ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَنْ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿ [وَنَادَى أَصْحَابُ الأعْرَافِ رِجَالا يَعْرِفُونَهُمْ بِسِيمَاهُمْ قَالُوا مَا أَغْنَى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ. أَهَؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ] ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٤٤ -٤٩] [[زيادة من ت، س.]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ﴾ أَيْ: إِنَّ هَذَا الَّذِي أَخْبَرْنَاكَ بِهِ يَا مُحَمَّدُ مِنْ تَخَاصُمِ أَهْلِ النَّارِ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ وَلَعْنِ بَعْضِهِمْ لِبَعْضٍ لَحَقٌّ لَا مِرْيَةَ فِيهِ وَلَا شَكَّ.
هَٰذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌۭ وَغَسَّاقٌۭ
This - so let them taste it - is scalding water and [foul] purulence.
یہ کھولتا ہوا گرم پانی اور پیپ (ہے) اب اس کے مزے چکھیں
این نوشابه «حمیم» و «غسّاق» است [= دو مایع سوزان و تیره رنگ] که باید از آن بچشند!
Tafsir Ibn Kathir
This is so! And for the Taghin will be an evil final return (55)Hell! Where they will enter it, and worst (indeed) is that place to rest (56)This is so! Then let them taste it - Hamim and Ghassaq (57)And other of similar kind - all together (58)This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire (59)(The followers will say to those who misled): "Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us, so evil is this place to stay in! (60)They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire! (61)And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? (62)"Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them? (63)Verily, that is the very truth – the mutual dispute of the people of the Fire (64)
The Final Return of the Doomed
Having mentioned the final of the blessed, Allah follows that with mention of the final return of the doomed when they are resurrected and brought to account. Allah says:
هَٰذَا ۚ وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ
(This is so! And for the Taghin), which refers to those who disobey Allah, may He be glorified, and oppose the Messengers of Allah, peace be upon them,
لَشَرَّ مَآبٍ
(will be an evil final return.) means, the worst final return. Then Allah explains it by saying,
جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا
(Hell! Where they will enter) means, they will enter it and it will overwhelm them on all sides.
فَبِئْسَ الْمِهَادُ - هَٰذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ
(and worst (indeed) is that place to rest! This is so! Then let them taste it – Hamim and Ghassaq.) Hamim is something that has been heated to the ultimate degree, and Ghassaq is the opposite, something that is so intensely cold that it is unbearable. Allah says:
وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ
(And other of similar kind (oppasite pairs) – all together!) means, and other things of this kind, a thing and its opposite, serving as punishments. Al-Hasan Al-Basri said, concerning the Ayah:
وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ
(And other of similar kind – all together!) "Different kinds of punishments." Others said, such as intense cold and intense heat, and drinking Hamim and eating the bitter tree of Az-Zaqqum, and being lifted up and thrown down, and other kinds of paired opposites, all of which are means of punishment.
The Disputes of the People of Hell
هَٰذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ ۖ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ ۚ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) Here Allah tells us what the people of Hell will say to one another. This is like the Ayah:
كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ
(Every time a new nation enters, it curses its sister nation (that went before))(7:38), which means, instead of greeting one another, they will curse one another, accuse one another of being liars and reject one another. When a new group arrives, the keepers of Hell will say,
هَٰذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ ۖ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ ۚ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) meaning, because they are of the people of Hell.
قَالُوا بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ ۖ
(Nay, you (too)! No welcome for you!) means, those who are coming in will say,
بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ ۖ أَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا
(Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us,) meaning, 'you called us to that which led us to this fate.'
فَبِئْسَ الْقَرَارُ
(so evil is this place to stay in!) means, evil is this abode and this destination.
قَالُوا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هَٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ
(They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire!"). This is like the Ayah,
قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لِأُولَاهُمْ رَبَّنَا هَٰؤُلَاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَٰكِنْ لَا تَعْلَمُونَ
(The last of them will say to the first of them: "Our Lord! These misled us, so give them a double torment of the Fire." He will say: "For each one there is double (torment), but you know not.")(7:38), which means that each of them will be punished as he deserves.
وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ - أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ
(And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them?")
Here Allah tells us that when they are in Hell, the disbelievers will notice that they do not see people who they thought were misguided, while they thought of themselves as believers. They will say, 'why do we not see them with us in the Fire?' Mujahid said, "This is what Abu Jahl will say; he will say, 'what is the matter with me that I do not see Bilal and 'Ammar and Suhayb and so-and-so...?' This is an example; all the disbelievers are like this, they think that the believers will go to Hell, so when the disbelievers enter Hell, they will wonder why they do not see them there, and they will say,
مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ - أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا
(What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? Did we take them as an object of mockery,) means, in this world,
أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ
(or have (our) eyes failed to perceive them?) means, they will try to console themselves with this wishful thinking, so they will say, perhaps they are here in Hell with us, but we have not laid eyes on them. Then they will find out that they (the believers) are in the lofty levels of Paradise, as Allah says:
وَنَادَىٰ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۖ قَالُوا نَعَمْ ۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَنْ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ
(And the dwellers of Paradise will call out to the dwellers of the Fire (saying): "We have indeed found true what our Lord had promised us; have you also found true what your Lord promised (warned)?" They shall say: "Yes." Then a crier will proclaim between them: "The curse of Allah is on the wrongdoers.") until:
ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ
(Enter Paradise, no fear shall be on you, nor shall you grieve.)(7:44-49)
إِنَّ ذَٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth – the mutual dispute of the people of the Fire!) means, 'this that We have told you, O Muhammad, about the dispute among the people of Hell and their cursing one another, is true and there is no doubt concerning it.'
Tafsir Ibn Kathir
اہل نار کے احوال۔ اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔ حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو دار ہوجائیں۔ حضرت کعب احبار فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو (ابن ابی حاتم) غرض سردی کا عذاب الگ ہوگا گرمی کا الگ ہوگا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا 38) 7۔ الاعراف :38) ، ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لئے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لئے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لئے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے (قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ، یعنی پچھلے پہلوں کے لئے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کردیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لئے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لئے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لئے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے ؟ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو جہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں ؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق میں اڑاتے تھے ؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو ! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے ؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ (وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ 44ۙ) 7۔ الاعراف :44) ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى مَآلَ السُّعَدَاءِ ثَنّى بِذِكْرِ حَالِ الْأَشْقِيَاءِ وَمَرْجِعِهِمْ وَمَآبِهِمْ فِي دَارِ مَعَادِهِمْ وَحِسَابِهِمْ فَقَالَ: ﴿هَذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ﴾ وَهُمُ: الْخَارِجُونَ عَنْ طَاعَةِ اللَّهِ الْمُخَالِفُونَ لِرُسُلِ اللَّهِ ﴿لَشَرَّ مَآبٍ﴾ أَيْ: لَسُوءَ مُنْقَلَبٍ وَمَرْجِعٍ. ثُمَّ فَسَّرَهُ بِقَوْلِهِ: ﴿جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا﴾ أَيْ: يَدْخُلُونَهَا فَتَغْمُرُهُمْ مِنْ جَمِيعِ جَوَانِبِهِمْ ﴿فَبِئْسَ الْمِهَادُ. هَذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ﴾ أَمَّا الْحَمِيمُ فَهُوَ: الْحَارُّ الَّذِي قَدِ انْتَهَى حَرُّهُ وَأَمَّا الغَسَّاق فَهُوَ: ضِدُّهُ، وَهُوَ الْبَارِدُ الَّذِي لَا يُسْتَطَاعُ مِنْ شِدَّةِ بَرْدِهِ الْمُؤْلِمِ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ﴾ أَيْ: وَأَشْيَاءُ مِنْ هَذَا الْقَبِيلِ، الشَّيْءُ وَضِدُّهُ يُعَاقَبُونَ بِهَا.
قَالَ [[في ت: "روى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة حَدَّثَنَا دَرّاج عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ [[في ت: "بسنده".]] عَنْ أَبِي سَعِيدٍ [[في أ: "سعيد رضي الله عنه".]] عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "لَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاق يُهَرَاقُ فِي الدُّنْيَا لأنتن أهل الدنيا" [[المسند (٣/٢٨) .]] وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ سُوَيْد بْنِ نَصْرٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ رِشْدين بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ دَرّاج بِهِ. ثُمَّ قَالَ: "لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ" [[سنن الترمذي برقم (٢٥٨٤) .]] كَذَا قَالَ: وَقَدْ تَقَدَّمَ مِنْ غَيْرِ حَدِيثِهِ وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنِ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بِهِ [[تفسير الطبري (٢٣/١١٤) .]]
وَقَالَ كَعْبُ الْأَحْبَارِ: غَسَّاقٌ: عَيْنٌ فِي جَهَنَّمَ يَسِيلُ إِلَيْهَا حُمَة كُلِّ ذَاتِ حُمَة مِنْ حَيَّةٍ وَعَقْرَبٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ فَيَسْتَنْقِعُ فَيُؤْتَى بِالْآدَمِيِّ فَيُغْمَسُ فِيهَا غَمْسَةً وَاحِدَةً فَيَخْرُجُ وَقَدْ سَقَطَ جِلْدُهُ وَلَحْمُهُ عَنِ الْعِظَامِ وَيَتَعَلَّقُ جِلْدُهُ وَلَحْمُهُ فِي كَعْبَيْهِ وَعَقِبَيْهِ ويُجَر لَحْمَهُ كَمَا يَجُر الرَّجُلُ ثَوْبَهُ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ﴾ أَلْوَانٌ مِنَ الْعَذَابِ.
وَقَالَ غَيْرُهُ: كَالزَّمْهَرِيرِ وَالسَّمُومِ وَشُرْبِ الْحَمِيمِ وَأَكْلِ الزَّقُّومِ وَالصُّعُودِ وَالْهُوِيُّ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَشْيَاءِ الْمُخْتَلِفَةِ وَالْمُتَضَادَّةِ [[في ت، س: "المتضاضة والمتخالفة".]] وَالْجَمِيعُ مِمَّا يُعَذَّبُونَ بِهِ وَيُهَانُونَ بِسَبَبِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿هَذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ﴾ هَذَا إِخْبَارٌ عَنْ قِيلِ أَهْلِ النَّارِ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا﴾ [الْأَعْرَافِ: ٣٨] يَعْنِي بَدَلَ السَّلَامِ يَتَلَاعَنُونَ وَيَتَكَاذَبُونَ [[في ت: "ويتجاذبون".]] وَيَكْفُرُ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ فَتَقُولُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَدْخُلُ قَبْلَ الْأُخْرَى إِذَا أَقْبَلَتِ الَّتِي بَعْدَهَا مَعَ الْخَزَنَةِ مِنَ الزَّبَانِيَةِ: ﴿هَذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ﴾ أَيْ: دَاخِلٌ مَعَكُمْ ﴿لَا مَرْحَبًا بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ﴾ [أَيْ] [[زيادة من ت، س.]] لِأَنَّهُمْ مِنْ أَهْلِ جَهَنَّمَ [[في ت: "النار".]] ﴿قَالُوا بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ﴾ أَيْ: فَيَقُولُ لَهُمُ الدَّاخِلُونَ: ﴿بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ أَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا﴾ أَيْ: أَنْتُمْ دَعَوْتُمُونَا إِلَى مَا أَفْضَى بِنَا إِلَى هَذَا الْمَصِيرِ ﴿فَبِئْسَ الْقَرَارُ﴾ أَيْ: فَبِئْسَ الْمَنْزِلُ وَالْمُسْتَقَرُّ وَالْمَصِيرُ. ﴿قَالُوا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هَذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ﴾ كَمَا قَالَ عَزَّ وَجَلَّ [[في ت، س: "تعالى".]] ﴿قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لأولاهُمْ رَبَّنَا هَؤُلاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَكِنْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٣٨] أَيْ: لِكُلٍّ مِنْكُمْ عَذَابٌ بِحَسَبِهِ ﴿وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَى رِجَالا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الأشْرَارِ أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ هَذَا إِخْبَارٌ عَنِ الْكُفَّارِ فِي النَّارِ أَنَّهُمْ يَفْقِدُونَ رِجَالًا كَانُوا يَعْتَقِدُونَ أَنَّهُمْ عَلَى الضَّلَالَةِ وَهُمُ الْمُؤْمِنُونَ فِي زَعْمِهِمْ قَالُوا: مَا لَنَا لَا نَرَاهُمْ مَعَنَا فِي النَّارِ؟.
قَالَ [[في ت: "وقال".]] مُجَاهِدٌ: هَذَا قَوْلُ أَبِي جَهْلٍ يَقُولُ: مَا لِي لَا أَرَى بِلَالًا وَعَمَّارًا وَصُهَيْبًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا. وَهَذَا مَثَلٌ ضُرِبَ، وَإِلَّا فَكُلُّ الْكُفَّارِ هَذَا حَالُهُمْ: يَعْتَقِدُونَ أَنَّ الْمُؤْمِنِينَ يَدْخُلُونَ النَّارَ فَلَمَّا دَخَلَ الْكُفَّارُ النَّارَ افْتَقَدُوهُمْ فَلَمْ يَجِدُوهُمْ فَقَالُوا: ﴿مَا لَنَا لَا نَرَى رِجَالا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الأشْرَارِ أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ أَيْ: فِي الدُّنْيَا [[في أ: "دار الدنيا".]] ﴿أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ يُسَلُّونَ أَنْفُسَهُمْ بِالْمُحَالِ يقولون: أو لعلهم مَعَنَا فِي جَهَنَّمَ وَلَكِنْ لَمْ يَقَعْ بَصَرُنَا عَلَيْهِمْ. فَعِنْدَ ذَلِكَ يَعْرِفُونَ أَنَّهُمْ فِي الدَّرَجَاتِ الْعَالِيَاتِ [[في ت: "العلا".]] وَهُوَ [[في أ: "وهي".]] قَوْلُهُ: ﴿وَنَادَى أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُوا نَعَمْ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَنْ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿ [وَنَادَى أَصْحَابُ الأعْرَافِ رِجَالا يَعْرِفُونَهُمْ بِسِيمَاهُمْ قَالُوا مَا أَغْنَى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ. أَهَؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ] ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٤٤ -٤٩] [[زيادة من ت، س.]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ﴾ أَيْ: إِنَّ هَذَا الَّذِي أَخْبَرْنَاكَ بِهِ يَا مُحَمَّدُ مِنْ تَخَاصُمِ أَهْلِ النَّارِ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ وَلَعْنِ بَعْضِهِمْ لِبَعْضٍ لَحَقٌّ لَا مِرْيَةَ فِيهِ وَلَا شَكَّ.
وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِۦٓ أَزْوَٰجٌ
And other [punishments] of its type [in various] kinds.
اور اسی طرح کے اور بہت سے (عذاب ہوں گے)
و جز اینها کیفرهای دیگری همانند آن دارند!
Tafsir Ibn Kathir
This is so! And for the Taghin will be an evil final return (55)Hell! Where they will enter it, and worst (indeed) is that place to rest (56)This is so! Then let them taste it - Hamim and Ghassaq (57)And other of similar kind - all together (58)This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire (59)(The followers will say to those who misled): "Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us, so evil is this place to stay in! (60)They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire! (61)And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? (62)"Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them? (63)Verily, that is the very truth – the mutual dispute of the people of the Fire (64)
The Final Return of the Doomed
Having mentioned the final of the blessed, Allah follows that with mention of the final return of the doomed when they are resurrected and brought to account. Allah says:
هَٰذَا ۚ وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ
(This is so! And for the Taghin), which refers to those who disobey Allah, may He be glorified, and oppose the Messengers of Allah, peace be upon them,
لَشَرَّ مَآبٍ
(will be an evil final return.) means, the worst final return. Then Allah explains it by saying,
جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا
(Hell! Where they will enter) means, they will enter it and it will overwhelm them on all sides.
فَبِئْسَ الْمِهَادُ - هَٰذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ
(and worst (indeed) is that place to rest! This is so! Then let them taste it – Hamim and Ghassaq.) Hamim is something that has been heated to the ultimate degree, and Ghassaq is the opposite, something that is so intensely cold that it is unbearable. Allah says:
وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ
(And other of similar kind (oppasite pairs) – all together!) means, and other things of this kind, a thing and its opposite, serving as punishments. Al-Hasan Al-Basri said, concerning the Ayah:
وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ
(And other of similar kind – all together!) "Different kinds of punishments." Others said, such as intense cold and intense heat, and drinking Hamim and eating the bitter tree of Az-Zaqqum, and being lifted up and thrown down, and other kinds of paired opposites, all of which are means of punishment.
The Disputes of the People of Hell
هَٰذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ ۖ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ ۚ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) Here Allah tells us what the people of Hell will say to one another. This is like the Ayah:
كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ
(Every time a new nation enters, it curses its sister nation (that went before))(7:38), which means, instead of greeting one another, they will curse one another, accuse one another of being liars and reject one another. When a new group arrives, the keepers of Hell will say,
هَٰذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ ۖ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ ۚ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) meaning, because they are of the people of Hell.
قَالُوا بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ ۖ
(Nay, you (too)! No welcome for you!) means, those who are coming in will say,
بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ ۖ أَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا
(Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us,) meaning, 'you called us to that which led us to this fate.'
فَبِئْسَ الْقَرَارُ
(so evil is this place to stay in!) means, evil is this abode and this destination.
قَالُوا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هَٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ
(They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire!"). This is like the Ayah,
قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لِأُولَاهُمْ رَبَّنَا هَٰؤُلَاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَٰكِنْ لَا تَعْلَمُونَ
(The last of them will say to the first of them: "Our Lord! These misled us, so give them a double torment of the Fire." He will say: "For each one there is double (torment), but you know not.")(7:38), which means that each of them will be punished as he deserves.
وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ - أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ
(And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them?")
Here Allah tells us that when they are in Hell, the disbelievers will notice that they do not see people who they thought were misguided, while they thought of themselves as believers. They will say, 'why do we not see them with us in the Fire?' Mujahid said, "This is what Abu Jahl will say; he will say, 'what is the matter with me that I do not see Bilal and 'Ammar and Suhayb and so-and-so...?' This is an example; all the disbelievers are like this, they think that the believers will go to Hell, so when the disbelievers enter Hell, they will wonder why they do not see them there, and they will say,
مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ - أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا
(What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? Did we take them as an object of mockery,) means, in this world,
أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ
(or have (our) eyes failed to perceive them?) means, they will try to console themselves with this wishful thinking, so they will say, perhaps they are here in Hell with us, but we have not laid eyes on them. Then they will find out that they (the believers) are in the lofty levels of Paradise, as Allah says:
وَنَادَىٰ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۖ قَالُوا نَعَمْ ۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَنْ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ
(And the dwellers of Paradise will call out to the dwellers of the Fire (saying): "We have indeed found true what our Lord had promised us; have you also found true what your Lord promised (warned)?" They shall say: "Yes." Then a crier will proclaim between them: "The curse of Allah is on the wrongdoers.") until:
ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ
(Enter Paradise, no fear shall be on you, nor shall you grieve.)(7:44-49)
إِنَّ ذَٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth – the mutual dispute of the people of the Fire!) means, 'this that We have told you, O Muhammad, about the dispute among the people of Hell and their cursing one another, is true and there is no doubt concerning it.'
Tafsir Ibn Kathir
اہل نار کے احوال۔ اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔ حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو دار ہوجائیں۔ حضرت کعب احبار فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو (ابن ابی حاتم) غرض سردی کا عذاب الگ ہوگا گرمی کا الگ ہوگا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا 38) 7۔ الاعراف :38) ، ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لئے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لئے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لئے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے (قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ، یعنی پچھلے پہلوں کے لئے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کردیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لئے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لئے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لئے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے ؟ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو جہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں ؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق میں اڑاتے تھے ؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو ! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے ؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ (وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ 44ۙ) 7۔ الاعراف :44) ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى مَآلَ السُّعَدَاءِ ثَنّى بِذِكْرِ حَالِ الْأَشْقِيَاءِ وَمَرْجِعِهِمْ وَمَآبِهِمْ فِي دَارِ مَعَادِهِمْ وَحِسَابِهِمْ فَقَالَ: ﴿هَذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ﴾ وَهُمُ: الْخَارِجُونَ عَنْ طَاعَةِ اللَّهِ الْمُخَالِفُونَ لِرُسُلِ اللَّهِ ﴿لَشَرَّ مَآبٍ﴾ أَيْ: لَسُوءَ مُنْقَلَبٍ وَمَرْجِعٍ. ثُمَّ فَسَّرَهُ بِقَوْلِهِ: ﴿جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا﴾ أَيْ: يَدْخُلُونَهَا فَتَغْمُرُهُمْ مِنْ جَمِيعِ جَوَانِبِهِمْ ﴿فَبِئْسَ الْمِهَادُ. هَذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ﴾ أَمَّا الْحَمِيمُ فَهُوَ: الْحَارُّ الَّذِي قَدِ انْتَهَى حَرُّهُ وَأَمَّا الغَسَّاق فَهُوَ: ضِدُّهُ، وَهُوَ الْبَارِدُ الَّذِي لَا يُسْتَطَاعُ مِنْ شِدَّةِ بَرْدِهِ الْمُؤْلِمِ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ﴾ أَيْ: وَأَشْيَاءُ مِنْ هَذَا الْقَبِيلِ، الشَّيْءُ وَضِدُّهُ يُعَاقَبُونَ بِهَا.
قَالَ [[في ت: "روى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة حَدَّثَنَا دَرّاج عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ [[في ت: "بسنده".]] عَنْ أَبِي سَعِيدٍ [[في أ: "سعيد رضي الله عنه".]] عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "لَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاق يُهَرَاقُ فِي الدُّنْيَا لأنتن أهل الدنيا" [[المسند (٣/٢٨) .]] وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ سُوَيْد بْنِ نَصْرٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ رِشْدين بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ دَرّاج بِهِ. ثُمَّ قَالَ: "لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ" [[سنن الترمذي برقم (٢٥٨٤) .]] كَذَا قَالَ: وَقَدْ تَقَدَّمَ مِنْ غَيْرِ حَدِيثِهِ وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنِ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بِهِ [[تفسير الطبري (٢٣/١١٤) .]]
وَقَالَ كَعْبُ الْأَحْبَارِ: غَسَّاقٌ: عَيْنٌ فِي جَهَنَّمَ يَسِيلُ إِلَيْهَا حُمَة كُلِّ ذَاتِ حُمَة مِنْ حَيَّةٍ وَعَقْرَبٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ فَيَسْتَنْقِعُ فَيُؤْتَى بِالْآدَمِيِّ فَيُغْمَسُ فِيهَا غَمْسَةً وَاحِدَةً فَيَخْرُجُ وَقَدْ سَقَطَ جِلْدُهُ وَلَحْمُهُ عَنِ الْعِظَامِ وَيَتَعَلَّقُ جِلْدُهُ وَلَحْمُهُ فِي كَعْبَيْهِ وَعَقِبَيْهِ ويُجَر لَحْمَهُ كَمَا يَجُر الرَّجُلُ ثَوْبَهُ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ﴾ أَلْوَانٌ مِنَ الْعَذَابِ.
وَقَالَ غَيْرُهُ: كَالزَّمْهَرِيرِ وَالسَّمُومِ وَشُرْبِ الْحَمِيمِ وَأَكْلِ الزَّقُّومِ وَالصُّعُودِ وَالْهُوِيُّ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَشْيَاءِ الْمُخْتَلِفَةِ وَالْمُتَضَادَّةِ [[في ت، س: "المتضاضة والمتخالفة".]] وَالْجَمِيعُ مِمَّا يُعَذَّبُونَ بِهِ وَيُهَانُونَ بِسَبَبِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿هَذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ﴾ هَذَا إِخْبَارٌ عَنْ قِيلِ أَهْلِ النَّارِ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا﴾ [الْأَعْرَافِ: ٣٨] يَعْنِي بَدَلَ السَّلَامِ يَتَلَاعَنُونَ وَيَتَكَاذَبُونَ [[في ت: "ويتجاذبون".]] وَيَكْفُرُ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ فَتَقُولُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَدْخُلُ قَبْلَ الْأُخْرَى إِذَا أَقْبَلَتِ الَّتِي بَعْدَهَا مَعَ الْخَزَنَةِ مِنَ الزَّبَانِيَةِ: ﴿هَذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ﴾ أَيْ: دَاخِلٌ مَعَكُمْ ﴿لَا مَرْحَبًا بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ﴾ [أَيْ] [[زيادة من ت، س.]] لِأَنَّهُمْ مِنْ أَهْلِ جَهَنَّمَ [[في ت: "النار".]] ﴿قَالُوا بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ﴾ أَيْ: فَيَقُولُ لَهُمُ الدَّاخِلُونَ: ﴿بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ أَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا﴾ أَيْ: أَنْتُمْ دَعَوْتُمُونَا إِلَى مَا أَفْضَى بِنَا إِلَى هَذَا الْمَصِيرِ ﴿فَبِئْسَ الْقَرَارُ﴾ أَيْ: فَبِئْسَ الْمَنْزِلُ وَالْمُسْتَقَرُّ وَالْمَصِيرُ. ﴿قَالُوا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هَذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ﴾ كَمَا قَالَ عَزَّ وَجَلَّ [[في ت، س: "تعالى".]] ﴿قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لأولاهُمْ رَبَّنَا هَؤُلاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَكِنْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٣٨] أَيْ: لِكُلٍّ مِنْكُمْ عَذَابٌ بِحَسَبِهِ ﴿وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَى رِجَالا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الأشْرَارِ أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ هَذَا إِخْبَارٌ عَنِ الْكُفَّارِ فِي النَّارِ أَنَّهُمْ يَفْقِدُونَ رِجَالًا كَانُوا يَعْتَقِدُونَ أَنَّهُمْ عَلَى الضَّلَالَةِ وَهُمُ الْمُؤْمِنُونَ فِي زَعْمِهِمْ قَالُوا: مَا لَنَا لَا نَرَاهُمْ مَعَنَا فِي النَّارِ؟.
قَالَ [[في ت: "وقال".]] مُجَاهِدٌ: هَذَا قَوْلُ أَبِي جَهْلٍ يَقُولُ: مَا لِي لَا أَرَى بِلَالًا وَعَمَّارًا وَصُهَيْبًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا. وَهَذَا مَثَلٌ ضُرِبَ، وَإِلَّا فَكُلُّ الْكُفَّارِ هَذَا حَالُهُمْ: يَعْتَقِدُونَ أَنَّ الْمُؤْمِنِينَ يَدْخُلُونَ النَّارَ فَلَمَّا دَخَلَ الْكُفَّارُ النَّارَ افْتَقَدُوهُمْ فَلَمْ يَجِدُوهُمْ فَقَالُوا: ﴿مَا لَنَا لَا نَرَى رِجَالا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الأشْرَارِ أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ أَيْ: فِي الدُّنْيَا [[في أ: "دار الدنيا".]] ﴿أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ يُسَلُّونَ أَنْفُسَهُمْ بِالْمُحَالِ يقولون: أو لعلهم مَعَنَا فِي جَهَنَّمَ وَلَكِنْ لَمْ يَقَعْ بَصَرُنَا عَلَيْهِمْ. فَعِنْدَ ذَلِكَ يَعْرِفُونَ أَنَّهُمْ فِي الدَّرَجَاتِ الْعَالِيَاتِ [[في ت: "العلا".]] وَهُوَ [[في أ: "وهي".]] قَوْلُهُ: ﴿وَنَادَى أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُوا نَعَمْ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَنْ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿ [وَنَادَى أَصْحَابُ الأعْرَافِ رِجَالا يَعْرِفُونَهُمْ بِسِيمَاهُمْ قَالُوا مَا أَغْنَى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ. أَهَؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ] ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٤٤ -٤٩] [[زيادة من ت، س.]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ﴾ أَيْ: إِنَّ هَذَا الَّذِي أَخْبَرْنَاكَ بِهِ يَا مُحَمَّدُ مِنْ تَخَاصُمِ أَهْلِ النَّارِ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ وَلَعْنِ بَعْضِهِمْ لِبَعْضٍ لَحَقٌّ لَا مِرْيَةَ فِيهِ وَلَا شَكَّ.
هَٰذَا فَوْجٌۭ مُّقْتَحِمٌۭ مَّعَكُمْ ۖ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ ۚ إِنَّهُمْ صَالُوا۟ ٱلنَّارِ
[Its inhabitants will say], "This is a company bursting in with you. No welcome for them. Indeed, they will burn in the Fire."
یہ ایک فوج ہے جو تمہارے ساتھ داخل ہوگی۔ ان کو خوشی نہ ہو یہ دوزخ میں جانے والے ہیں
(به آنان گفته میشود:) این گروهی است که همراه شما وارد دوزخ میشوند (اینها همان سران گمراهیند)؛ خوشامد بر آنها مباد، همگی در آتش خواهند سوخت!
Tafsir Ibn Kathir
This is so! And for the Taghin will be an evil final return (55)Hell! Where they will enter it, and worst (indeed) is that place to rest (56)This is so! Then let them taste it - Hamim and Ghassaq (57)And other of similar kind - all together (58)This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire (59)(The followers will say to those who misled): "Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us, so evil is this place to stay in! (60)They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire! (61)And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? (62)"Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them? (63)Verily, that is the very truth – the mutual dispute of the people of the Fire (64)
The Final Return of the Doomed
Having mentioned the final of the blessed, Allah follows that with mention of the final return of the doomed when they are resurrected and brought to account. Allah says:
هَٰذَا ۚ وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ
(This is so! And for the Taghin), which refers to those who disobey Allah, may He be glorified, and oppose the Messengers of Allah, peace be upon them,
لَشَرَّ مَآبٍ
(will be an evil final return.) means, the worst final return. Then Allah explains it by saying,
جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا
(Hell! Where they will enter) means, they will enter it and it will overwhelm them on all sides.
فَبِئْسَ الْمِهَادُ - هَٰذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ
(and worst (indeed) is that place to rest! This is so! Then let them taste it – Hamim and Ghassaq.) Hamim is something that has been heated to the ultimate degree, and Ghassaq is the opposite, something that is so intensely cold that it is unbearable. Allah says:
وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ
(And other of similar kind (oppasite pairs) – all together!) means, and other things of this kind, a thing and its opposite, serving as punishments. Al-Hasan Al-Basri said, concerning the Ayah:
وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ
(And other of similar kind – all together!) "Different kinds of punishments." Others said, such as intense cold and intense heat, and drinking Hamim and eating the bitter tree of Az-Zaqqum, and being lifted up and thrown down, and other kinds of paired opposites, all of which are means of punishment.
The Disputes of the People of Hell
هَٰذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ ۖ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ ۚ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) Here Allah tells us what the people of Hell will say to one another. This is like the Ayah:
كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ
(Every time a new nation enters, it curses its sister nation (that went before))(7:38), which means, instead of greeting one another, they will curse one another, accuse one another of being liars and reject one another. When a new group arrives, the keepers of Hell will say,
هَٰذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ ۖ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ ۚ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) meaning, because they are of the people of Hell.
قَالُوا بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ ۖ
(Nay, you (too)! No welcome for you!) means, those who are coming in will say,
بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ ۖ أَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا
(Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us,) meaning, 'you called us to that which led us to this fate.'
فَبِئْسَ الْقَرَارُ
(so evil is this place to stay in!) means, evil is this abode and this destination.
قَالُوا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هَٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ
(They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire!"). This is like the Ayah,
قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لِأُولَاهُمْ رَبَّنَا هَٰؤُلَاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَٰكِنْ لَا تَعْلَمُونَ
(The last of them will say to the first of them: "Our Lord! These misled us, so give them a double torment of the Fire." He will say: "For each one there is double (torment), but you know not.")(7:38), which means that each of them will be punished as he deserves.
وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ - أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ
(And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them?")
Here Allah tells us that when they are in Hell, the disbelievers will notice that they do not see people who they thought were misguided, while they thought of themselves as believers. They will say, 'why do we not see them with us in the Fire?' Mujahid said, "This is what Abu Jahl will say; he will say, 'what is the matter with me that I do not see Bilal and 'Ammar and Suhayb and so-and-so...?' This is an example; all the disbelievers are like this, they think that the believers will go to Hell, so when the disbelievers enter Hell, they will wonder why they do not see them there, and they will say,
مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ - أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا
(What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? Did we take them as an object of mockery,) means, in this world,
أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ
(or have (our) eyes failed to perceive them?) means, they will try to console themselves with this wishful thinking, so they will say, perhaps they are here in Hell with us, but we have not laid eyes on them. Then they will find out that they (the believers) are in the lofty levels of Paradise, as Allah says:
وَنَادَىٰ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۖ قَالُوا نَعَمْ ۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَنْ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ
(And the dwellers of Paradise will call out to the dwellers of the Fire (saying): "We have indeed found true what our Lord had promised us; have you also found true what your Lord promised (warned)?" They shall say: "Yes." Then a crier will proclaim between them: "The curse of Allah is on the wrongdoers.") until:
ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ
(Enter Paradise, no fear shall be on you, nor shall you grieve.)(7:44-49)
إِنَّ ذَٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth – the mutual dispute of the people of the Fire!) means, 'this that We have told you, O Muhammad, about the dispute among the people of Hell and their cursing one another, is true and there is no doubt concerning it.'
Tafsir Ibn Kathir
اہل نار کے احوال۔ اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔ حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو دار ہوجائیں۔ حضرت کعب احبار فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو (ابن ابی حاتم) غرض سردی کا عذاب الگ ہوگا گرمی کا الگ ہوگا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا 38) 7۔ الاعراف :38) ، ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لئے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لئے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لئے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے (قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ، یعنی پچھلے پہلوں کے لئے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کردیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لئے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لئے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لئے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے ؟ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو جہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں ؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق میں اڑاتے تھے ؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو ! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے ؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ (وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ 44ۙ) 7۔ الاعراف :44) ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى مَآلَ السُّعَدَاءِ ثَنّى بِذِكْرِ حَالِ الْأَشْقِيَاءِ وَمَرْجِعِهِمْ وَمَآبِهِمْ فِي دَارِ مَعَادِهِمْ وَحِسَابِهِمْ فَقَالَ: ﴿هَذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ﴾ وَهُمُ: الْخَارِجُونَ عَنْ طَاعَةِ اللَّهِ الْمُخَالِفُونَ لِرُسُلِ اللَّهِ ﴿لَشَرَّ مَآبٍ﴾ أَيْ: لَسُوءَ مُنْقَلَبٍ وَمَرْجِعٍ. ثُمَّ فَسَّرَهُ بِقَوْلِهِ: ﴿جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا﴾ أَيْ: يَدْخُلُونَهَا فَتَغْمُرُهُمْ مِنْ جَمِيعِ جَوَانِبِهِمْ ﴿فَبِئْسَ الْمِهَادُ. هَذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ﴾ أَمَّا الْحَمِيمُ فَهُوَ: الْحَارُّ الَّذِي قَدِ انْتَهَى حَرُّهُ وَأَمَّا الغَسَّاق فَهُوَ: ضِدُّهُ، وَهُوَ الْبَارِدُ الَّذِي لَا يُسْتَطَاعُ مِنْ شِدَّةِ بَرْدِهِ الْمُؤْلِمِ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ﴾ أَيْ: وَأَشْيَاءُ مِنْ هَذَا الْقَبِيلِ، الشَّيْءُ وَضِدُّهُ يُعَاقَبُونَ بِهَا.
قَالَ [[في ت: "روى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة حَدَّثَنَا دَرّاج عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ [[في ت: "بسنده".]] عَنْ أَبِي سَعِيدٍ [[في أ: "سعيد رضي الله عنه".]] عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "لَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاق يُهَرَاقُ فِي الدُّنْيَا لأنتن أهل الدنيا" [[المسند (٣/٢٨) .]] وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ سُوَيْد بْنِ نَصْرٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ رِشْدين بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ دَرّاج بِهِ. ثُمَّ قَالَ: "لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ" [[سنن الترمذي برقم (٢٥٨٤) .]] كَذَا قَالَ: وَقَدْ تَقَدَّمَ مِنْ غَيْرِ حَدِيثِهِ وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنِ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بِهِ [[تفسير الطبري (٢٣/١١٤) .]]
وَقَالَ كَعْبُ الْأَحْبَارِ: غَسَّاقٌ: عَيْنٌ فِي جَهَنَّمَ يَسِيلُ إِلَيْهَا حُمَة كُلِّ ذَاتِ حُمَة مِنْ حَيَّةٍ وَعَقْرَبٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ فَيَسْتَنْقِعُ فَيُؤْتَى بِالْآدَمِيِّ فَيُغْمَسُ فِيهَا غَمْسَةً وَاحِدَةً فَيَخْرُجُ وَقَدْ سَقَطَ جِلْدُهُ وَلَحْمُهُ عَنِ الْعِظَامِ وَيَتَعَلَّقُ جِلْدُهُ وَلَحْمُهُ فِي كَعْبَيْهِ وَعَقِبَيْهِ ويُجَر لَحْمَهُ كَمَا يَجُر الرَّجُلُ ثَوْبَهُ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ﴾ أَلْوَانٌ مِنَ الْعَذَابِ.
وَقَالَ غَيْرُهُ: كَالزَّمْهَرِيرِ وَالسَّمُومِ وَشُرْبِ الْحَمِيمِ وَأَكْلِ الزَّقُّومِ وَالصُّعُودِ وَالْهُوِيُّ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَشْيَاءِ الْمُخْتَلِفَةِ وَالْمُتَضَادَّةِ [[في ت، س: "المتضاضة والمتخالفة".]] وَالْجَمِيعُ مِمَّا يُعَذَّبُونَ بِهِ وَيُهَانُونَ بِسَبَبِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿هَذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ﴾ هَذَا إِخْبَارٌ عَنْ قِيلِ أَهْلِ النَّارِ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا﴾ [الْأَعْرَافِ: ٣٨] يَعْنِي بَدَلَ السَّلَامِ يَتَلَاعَنُونَ وَيَتَكَاذَبُونَ [[في ت: "ويتجاذبون".]] وَيَكْفُرُ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ فَتَقُولُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَدْخُلُ قَبْلَ الْأُخْرَى إِذَا أَقْبَلَتِ الَّتِي بَعْدَهَا مَعَ الْخَزَنَةِ مِنَ الزَّبَانِيَةِ: ﴿هَذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ﴾ أَيْ: دَاخِلٌ مَعَكُمْ ﴿لَا مَرْحَبًا بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ﴾ [أَيْ] [[زيادة من ت، س.]] لِأَنَّهُمْ مِنْ أَهْلِ جَهَنَّمَ [[في ت: "النار".]] ﴿قَالُوا بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ﴾ أَيْ: فَيَقُولُ لَهُمُ الدَّاخِلُونَ: ﴿بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ أَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا﴾ أَيْ: أَنْتُمْ دَعَوْتُمُونَا إِلَى مَا أَفْضَى بِنَا إِلَى هَذَا الْمَصِيرِ ﴿فَبِئْسَ الْقَرَارُ﴾ أَيْ: فَبِئْسَ الْمَنْزِلُ وَالْمُسْتَقَرُّ وَالْمَصِيرُ. ﴿قَالُوا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هَذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ﴾ كَمَا قَالَ عَزَّ وَجَلَّ [[في ت، س: "تعالى".]] ﴿قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لأولاهُمْ رَبَّنَا هَؤُلاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَكِنْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٣٨] أَيْ: لِكُلٍّ مِنْكُمْ عَذَابٌ بِحَسَبِهِ ﴿وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَى رِجَالا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الأشْرَارِ أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ هَذَا إِخْبَارٌ عَنِ الْكُفَّارِ فِي النَّارِ أَنَّهُمْ يَفْقِدُونَ رِجَالًا كَانُوا يَعْتَقِدُونَ أَنَّهُمْ عَلَى الضَّلَالَةِ وَهُمُ الْمُؤْمِنُونَ فِي زَعْمِهِمْ قَالُوا: مَا لَنَا لَا نَرَاهُمْ مَعَنَا فِي النَّارِ؟.
قَالَ [[في ت: "وقال".]] مُجَاهِدٌ: هَذَا قَوْلُ أَبِي جَهْلٍ يَقُولُ: مَا لِي لَا أَرَى بِلَالًا وَعَمَّارًا وَصُهَيْبًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا. وَهَذَا مَثَلٌ ضُرِبَ، وَإِلَّا فَكُلُّ الْكُفَّارِ هَذَا حَالُهُمْ: يَعْتَقِدُونَ أَنَّ الْمُؤْمِنِينَ يَدْخُلُونَ النَّارَ فَلَمَّا دَخَلَ الْكُفَّارُ النَّارَ افْتَقَدُوهُمْ فَلَمْ يَجِدُوهُمْ فَقَالُوا: ﴿مَا لَنَا لَا نَرَى رِجَالا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الأشْرَارِ أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ أَيْ: فِي الدُّنْيَا [[في أ: "دار الدنيا".]] ﴿أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ يُسَلُّونَ أَنْفُسَهُمْ بِالْمُحَالِ يقولون: أو لعلهم مَعَنَا فِي جَهَنَّمَ وَلَكِنْ لَمْ يَقَعْ بَصَرُنَا عَلَيْهِمْ. فَعِنْدَ ذَلِكَ يَعْرِفُونَ أَنَّهُمْ فِي الدَّرَجَاتِ الْعَالِيَاتِ [[في ت: "العلا".]] وَهُوَ [[في أ: "وهي".]] قَوْلُهُ: ﴿وَنَادَى أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُوا نَعَمْ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَنْ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿ [وَنَادَى أَصْحَابُ الأعْرَافِ رِجَالا يَعْرِفُونَهُمْ بِسِيمَاهُمْ قَالُوا مَا أَغْنَى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ. أَهَؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ] ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٤٤ -٤٩] [[زيادة من ت، س.]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ﴾ أَيْ: إِنَّ هَذَا الَّذِي أَخْبَرْنَاكَ بِهِ يَا مُحَمَّدُ مِنْ تَخَاصُمِ أَهْلِ النَّارِ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ وَلَعْنِ بَعْضِهِمْ لِبَعْضٍ لَحَقٌّ لَا مِرْيَةَ فِيهِ وَلَا شَكَّ.
قَالُوا۟ بَلْ أَنتُمْ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ ۖ أَنتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا ۖ فَبِئْسَ ٱلْقَرَارُ
They will say, "Nor you! No welcome for you. You, [our leaders], brought this upon us, and wretched is the settlement."
کہیں گے بلکہ تم ہی کو خوشی نہ ہو۔ تم ہی تو یہ (بلا) ہمارے سامنے لائے سو (یہ) برا ٹھکانا ہے
آنها (به رؤسای خود) میگویند: «بلکه خوشامد بر شما مباد که این عذاب را شما برای ما فراهم ساختید! چه بد قرارگاهی است اینجا!»
Tafsir Ibn Kathir
This is so! And for the Taghin will be an evil final return (55)Hell! Where they will enter it, and worst (indeed) is that place to rest (56)This is so! Then let them taste it - Hamim and Ghassaq (57)And other of similar kind - all together (58)This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire (59)(The followers will say to those who misled): "Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us, so evil is this place to stay in! (60)They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire! (61)And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? (62)"Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them? (63)Verily, that is the very truth – the mutual dispute of the people of the Fire (64)
The Final Return of the Doomed
Having mentioned the final of the blessed, Allah follows that with mention of the final return of the doomed when they are resurrected and brought to account. Allah says:
هَٰذَا ۚ وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ
(This is so! And for the Taghin), which refers to those who disobey Allah, may He be glorified, and oppose the Messengers of Allah, peace be upon them,
لَشَرَّ مَآبٍ
(will be an evil final return.) means, the worst final return. Then Allah explains it by saying,
جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا
(Hell! Where they will enter) means, they will enter it and it will overwhelm them on all sides.
فَبِئْسَ الْمِهَادُ - هَٰذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ
(and worst (indeed) is that place to rest! This is so! Then let them taste it – Hamim and Ghassaq.) Hamim is something that has been heated to the ultimate degree, and Ghassaq is the opposite, something that is so intensely cold that it is unbearable. Allah says:
وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ
(And other of similar kind (oppasite pairs) – all together!) means, and other things of this kind, a thing and its opposite, serving as punishments. Al-Hasan Al-Basri said, concerning the Ayah:
وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ
(And other of similar kind – all together!) "Different kinds of punishments." Others said, such as intense cold and intense heat, and drinking Hamim and eating the bitter tree of Az-Zaqqum, and being lifted up and thrown down, and other kinds of paired opposites, all of which are means of punishment.
The Disputes of the People of Hell
هَٰذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ ۖ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ ۚ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) Here Allah tells us what the people of Hell will say to one another. This is like the Ayah:
كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ
(Every time a new nation enters, it curses its sister nation (that went before))(7:38), which means, instead of greeting one another, they will curse one another, accuse one another of being liars and reject one another. When a new group arrives, the keepers of Hell will say,
هَٰذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ ۖ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ ۚ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) meaning, because they are of the people of Hell.
قَالُوا بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ ۖ
(Nay, you (too)! No welcome for you!) means, those who are coming in will say,
بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ ۖ أَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا
(Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us,) meaning, 'you called us to that which led us to this fate.'
فَبِئْسَ الْقَرَارُ
(so evil is this place to stay in!) means, evil is this abode and this destination.
قَالُوا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هَٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ
(They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire!"). This is like the Ayah,
قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لِأُولَاهُمْ رَبَّنَا هَٰؤُلَاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَٰكِنْ لَا تَعْلَمُونَ
(The last of them will say to the first of them: "Our Lord! These misled us, so give them a double torment of the Fire." He will say: "For each one there is double (torment), but you know not.")(7:38), which means that each of them will be punished as he deserves.
وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ - أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ
(And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them?")
Here Allah tells us that when they are in Hell, the disbelievers will notice that they do not see people who they thought were misguided, while they thought of themselves as believers. They will say, 'why do we not see them with us in the Fire?' Mujahid said, "This is what Abu Jahl will say; he will say, 'what is the matter with me that I do not see Bilal and 'Ammar and Suhayb and so-and-so...?' This is an example; all the disbelievers are like this, they think that the believers will go to Hell, so when the disbelievers enter Hell, they will wonder why they do not see them there, and they will say,
مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ - أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا
(What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? Did we take them as an object of mockery,) means, in this world,
أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ
(or have (our) eyes failed to perceive them?) means, they will try to console themselves with this wishful thinking, so they will say, perhaps they are here in Hell with us, but we have not laid eyes on them. Then they will find out that they (the believers) are in the lofty levels of Paradise, as Allah says:
وَنَادَىٰ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۖ قَالُوا نَعَمْ ۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَنْ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ
(And the dwellers of Paradise will call out to the dwellers of the Fire (saying): "We have indeed found true what our Lord had promised us; have you also found true what your Lord promised (warned)?" They shall say: "Yes." Then a crier will proclaim between them: "The curse of Allah is on the wrongdoers.") until:
ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ
(Enter Paradise, no fear shall be on you, nor shall you grieve.)(7:44-49)
إِنَّ ذَٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth – the mutual dispute of the people of the Fire!) means, 'this that We have told you, O Muhammad, about the dispute among the people of Hell and their cursing one another, is true and there is no doubt concerning it.'
Tafsir Ibn Kathir
اہل نار کے احوال۔ اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔ حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو دار ہوجائیں۔ حضرت کعب احبار فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو (ابن ابی حاتم) غرض سردی کا عذاب الگ ہوگا گرمی کا الگ ہوگا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا 38) 7۔ الاعراف :38) ، ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لئے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لئے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لئے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے (قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ، یعنی پچھلے پہلوں کے لئے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کردیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لئے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لئے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لئے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے ؟ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو جہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں ؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق میں اڑاتے تھے ؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو ! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے ؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ (وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ 44ۙ) 7۔ الاعراف :44) ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى مَآلَ السُّعَدَاءِ ثَنّى بِذِكْرِ حَالِ الْأَشْقِيَاءِ وَمَرْجِعِهِمْ وَمَآبِهِمْ فِي دَارِ مَعَادِهِمْ وَحِسَابِهِمْ فَقَالَ: ﴿هَذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ﴾ وَهُمُ: الْخَارِجُونَ عَنْ طَاعَةِ اللَّهِ الْمُخَالِفُونَ لِرُسُلِ اللَّهِ ﴿لَشَرَّ مَآبٍ﴾ أَيْ: لَسُوءَ مُنْقَلَبٍ وَمَرْجِعٍ. ثُمَّ فَسَّرَهُ بِقَوْلِهِ: ﴿جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا﴾ أَيْ: يَدْخُلُونَهَا فَتَغْمُرُهُمْ مِنْ جَمِيعِ جَوَانِبِهِمْ ﴿فَبِئْسَ الْمِهَادُ. هَذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ﴾ أَمَّا الْحَمِيمُ فَهُوَ: الْحَارُّ الَّذِي قَدِ انْتَهَى حَرُّهُ وَأَمَّا الغَسَّاق فَهُوَ: ضِدُّهُ، وَهُوَ الْبَارِدُ الَّذِي لَا يُسْتَطَاعُ مِنْ شِدَّةِ بَرْدِهِ الْمُؤْلِمِ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ﴾ أَيْ: وَأَشْيَاءُ مِنْ هَذَا الْقَبِيلِ، الشَّيْءُ وَضِدُّهُ يُعَاقَبُونَ بِهَا.
قَالَ [[في ت: "روى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة حَدَّثَنَا دَرّاج عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ [[في ت: "بسنده".]] عَنْ أَبِي سَعِيدٍ [[في أ: "سعيد رضي الله عنه".]] عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "لَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاق يُهَرَاقُ فِي الدُّنْيَا لأنتن أهل الدنيا" [[المسند (٣/٢٨) .]] وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ سُوَيْد بْنِ نَصْرٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ رِشْدين بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ دَرّاج بِهِ. ثُمَّ قَالَ: "لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ" [[سنن الترمذي برقم (٢٥٨٤) .]] كَذَا قَالَ: وَقَدْ تَقَدَّمَ مِنْ غَيْرِ حَدِيثِهِ وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنِ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بِهِ [[تفسير الطبري (٢٣/١١٤) .]]
وَقَالَ كَعْبُ الْأَحْبَارِ: غَسَّاقٌ: عَيْنٌ فِي جَهَنَّمَ يَسِيلُ إِلَيْهَا حُمَة كُلِّ ذَاتِ حُمَة مِنْ حَيَّةٍ وَعَقْرَبٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ فَيَسْتَنْقِعُ فَيُؤْتَى بِالْآدَمِيِّ فَيُغْمَسُ فِيهَا غَمْسَةً وَاحِدَةً فَيَخْرُجُ وَقَدْ سَقَطَ جِلْدُهُ وَلَحْمُهُ عَنِ الْعِظَامِ وَيَتَعَلَّقُ جِلْدُهُ وَلَحْمُهُ فِي كَعْبَيْهِ وَعَقِبَيْهِ ويُجَر لَحْمَهُ كَمَا يَجُر الرَّجُلُ ثَوْبَهُ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ﴾ أَلْوَانٌ مِنَ الْعَذَابِ.
وَقَالَ غَيْرُهُ: كَالزَّمْهَرِيرِ وَالسَّمُومِ وَشُرْبِ الْحَمِيمِ وَأَكْلِ الزَّقُّومِ وَالصُّعُودِ وَالْهُوِيُّ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَشْيَاءِ الْمُخْتَلِفَةِ وَالْمُتَضَادَّةِ [[في ت، س: "المتضاضة والمتخالفة".]] وَالْجَمِيعُ مِمَّا يُعَذَّبُونَ بِهِ وَيُهَانُونَ بِسَبَبِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿هَذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ﴾ هَذَا إِخْبَارٌ عَنْ قِيلِ أَهْلِ النَّارِ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا﴾ [الْأَعْرَافِ: ٣٨] يَعْنِي بَدَلَ السَّلَامِ يَتَلَاعَنُونَ وَيَتَكَاذَبُونَ [[في ت: "ويتجاذبون".]] وَيَكْفُرُ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ فَتَقُولُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَدْخُلُ قَبْلَ الْأُخْرَى إِذَا أَقْبَلَتِ الَّتِي بَعْدَهَا مَعَ الْخَزَنَةِ مِنَ الزَّبَانِيَةِ: ﴿هَذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ﴾ أَيْ: دَاخِلٌ مَعَكُمْ ﴿لَا مَرْحَبًا بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ﴾ [أَيْ] [[زيادة من ت، س.]] لِأَنَّهُمْ مِنْ أَهْلِ جَهَنَّمَ [[في ت: "النار".]] ﴿قَالُوا بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ﴾ أَيْ: فَيَقُولُ لَهُمُ الدَّاخِلُونَ: ﴿بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ أَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا﴾ أَيْ: أَنْتُمْ دَعَوْتُمُونَا إِلَى مَا أَفْضَى بِنَا إِلَى هَذَا الْمَصِيرِ ﴿فَبِئْسَ الْقَرَارُ﴾ أَيْ: فَبِئْسَ الْمَنْزِلُ وَالْمُسْتَقَرُّ وَالْمَصِيرُ. ﴿قَالُوا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هَذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ﴾ كَمَا قَالَ عَزَّ وَجَلَّ [[في ت، س: "تعالى".]] ﴿قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لأولاهُمْ رَبَّنَا هَؤُلاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَكِنْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٣٨] أَيْ: لِكُلٍّ مِنْكُمْ عَذَابٌ بِحَسَبِهِ ﴿وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَى رِجَالا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الأشْرَارِ أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ هَذَا إِخْبَارٌ عَنِ الْكُفَّارِ فِي النَّارِ أَنَّهُمْ يَفْقِدُونَ رِجَالًا كَانُوا يَعْتَقِدُونَ أَنَّهُمْ عَلَى الضَّلَالَةِ وَهُمُ الْمُؤْمِنُونَ فِي زَعْمِهِمْ قَالُوا: مَا لَنَا لَا نَرَاهُمْ مَعَنَا فِي النَّارِ؟.
قَالَ [[في ت: "وقال".]] مُجَاهِدٌ: هَذَا قَوْلُ أَبِي جَهْلٍ يَقُولُ: مَا لِي لَا أَرَى بِلَالًا وَعَمَّارًا وَصُهَيْبًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا. وَهَذَا مَثَلٌ ضُرِبَ، وَإِلَّا فَكُلُّ الْكُفَّارِ هَذَا حَالُهُمْ: يَعْتَقِدُونَ أَنَّ الْمُؤْمِنِينَ يَدْخُلُونَ النَّارَ فَلَمَّا دَخَلَ الْكُفَّارُ النَّارَ افْتَقَدُوهُمْ فَلَمْ يَجِدُوهُمْ فَقَالُوا: ﴿مَا لَنَا لَا نَرَى رِجَالا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الأشْرَارِ أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ أَيْ: فِي الدُّنْيَا [[في أ: "دار الدنيا".]] ﴿أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ يُسَلُّونَ أَنْفُسَهُمْ بِالْمُحَالِ يقولون: أو لعلهم مَعَنَا فِي جَهَنَّمَ وَلَكِنْ لَمْ يَقَعْ بَصَرُنَا عَلَيْهِمْ. فَعِنْدَ ذَلِكَ يَعْرِفُونَ أَنَّهُمْ فِي الدَّرَجَاتِ الْعَالِيَاتِ [[في ت: "العلا".]] وَهُوَ [[في أ: "وهي".]] قَوْلُهُ: ﴿وَنَادَى أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُوا نَعَمْ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَنْ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿ [وَنَادَى أَصْحَابُ الأعْرَافِ رِجَالا يَعْرِفُونَهُمْ بِسِيمَاهُمْ قَالُوا مَا أَغْنَى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ. أَهَؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ] ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٤٤ -٤٩] [[زيادة من ت، س.]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ﴾ أَيْ: إِنَّ هَذَا الَّذِي أَخْبَرْنَاكَ بِهِ يَا مُحَمَّدُ مِنْ تَخَاصُمِ أَهْلِ النَّارِ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ وَلَعْنِ بَعْضِهِمْ لِبَعْضٍ لَحَقٌّ لَا مِرْيَةَ فِيهِ وَلَا شَكَّ.
قَالُوا۟ رَبَّنَا مَن قَدَّمَ لَنَا هَٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًۭا ضِعْفًۭا فِى ٱلنَّارِ
They will say, "Our Lord, whoever brought this upon us - increase for him double punishment in the Fire."
وہ کہیں گے اے پروردگار جو اس کو ہمارے سامنے لایا ہے اس کو دوزخ میں دونا عذاب دے
(سپس) میگویند: «پروردگارا! هر کس این عذاب را برای ما فراهم ساخته، عذابی مضاعف در آتش بر او بیفزا!»
Tafsir Ibn Kathir
This is so! And for the Taghin will be an evil final return (55)Hell! Where they will enter it, and worst (indeed) is that place to rest (56)This is so! Then let them taste it - Hamim and Ghassaq (57)And other of similar kind - all together (58)This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire (59)(The followers will say to those who misled): "Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us, so evil is this place to stay in! (60)They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire! (61)And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? (62)"Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them? (63)Verily, that is the very truth – the mutual dispute of the people of the Fire (64)
The Final Return of the Doomed
Having mentioned the final of the blessed, Allah follows that with mention of the final return of the doomed when they are resurrected and brought to account. Allah says:
هَٰذَا ۚ وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ
(This is so! And for the Taghin), which refers to those who disobey Allah, may He be glorified, and oppose the Messengers of Allah, peace be upon them,
لَشَرَّ مَآبٍ
(will be an evil final return.) means, the worst final return. Then Allah explains it by saying,
جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا
(Hell! Where they will enter) means, they will enter it and it will overwhelm them on all sides.
فَبِئْسَ الْمِهَادُ - هَٰذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ
(and worst (indeed) is that place to rest! This is so! Then let them taste it – Hamim and Ghassaq.) Hamim is something that has been heated to the ultimate degree, and Ghassaq is the opposite, something that is so intensely cold that it is unbearable. Allah says:
وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ
(And other of similar kind (oppasite pairs) – all together!) means, and other things of this kind, a thing and its opposite, serving as punishments. Al-Hasan Al-Basri said, concerning the Ayah:
وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ
(And other of similar kind – all together!) "Different kinds of punishments." Others said, such as intense cold and intense heat, and drinking Hamim and eating the bitter tree of Az-Zaqqum, and being lifted up and thrown down, and other kinds of paired opposites, all of which are means of punishment.
The Disputes of the People of Hell
هَٰذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ ۖ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ ۚ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) Here Allah tells us what the people of Hell will say to one another. This is like the Ayah:
كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ
(Every time a new nation enters, it curses its sister nation (that went before))(7:38), which means, instead of greeting one another, they will curse one another, accuse one another of being liars and reject one another. When a new group arrives, the keepers of Hell will say,
هَٰذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ ۖ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ ۚ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) meaning, because they are of the people of Hell.
قَالُوا بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ ۖ
(Nay, you (too)! No welcome for you!) means, those who are coming in will say,
بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ ۖ أَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا
(Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us,) meaning, 'you called us to that which led us to this fate.'
فَبِئْسَ الْقَرَارُ
(so evil is this place to stay in!) means, evil is this abode and this destination.
قَالُوا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هَٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ
(They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire!"). This is like the Ayah,
قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لِأُولَاهُمْ رَبَّنَا هَٰؤُلَاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَٰكِنْ لَا تَعْلَمُونَ
(The last of them will say to the first of them: "Our Lord! These misled us, so give them a double torment of the Fire." He will say: "For each one there is double (torment), but you know not.")(7:38), which means that each of them will be punished as he deserves.
وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ - أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ
(And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them?")
Here Allah tells us that when they are in Hell, the disbelievers will notice that they do not see people who they thought were misguided, while they thought of themselves as believers. They will say, 'why do we not see them with us in the Fire?' Mujahid said, "This is what Abu Jahl will say; he will say, 'what is the matter with me that I do not see Bilal and 'Ammar and Suhayb and so-and-so...?' This is an example; all the disbelievers are like this, they think that the believers will go to Hell, so when the disbelievers enter Hell, they will wonder why they do not see them there, and they will say,
مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ - أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا
(What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? Did we take them as an object of mockery,) means, in this world,
أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ
(or have (our) eyes failed to perceive them?) means, they will try to console themselves with this wishful thinking, so they will say, perhaps they are here in Hell with us, but we have not laid eyes on them. Then they will find out that they (the believers) are in the lofty levels of Paradise, as Allah says:
وَنَادَىٰ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۖ قَالُوا نَعَمْ ۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَنْ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ
(And the dwellers of Paradise will call out to the dwellers of the Fire (saying): "We have indeed found true what our Lord had promised us; have you also found true what your Lord promised (warned)?" They shall say: "Yes." Then a crier will proclaim between them: "The curse of Allah is on the wrongdoers.") until:
ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ
(Enter Paradise, no fear shall be on you, nor shall you grieve.)(7:44-49)
إِنَّ ذَٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth – the mutual dispute of the people of the Fire!) means, 'this that We have told you, O Muhammad, about the dispute among the people of Hell and their cursing one another, is true and there is no doubt concerning it.'
Tafsir Ibn Kathir
اہل نار کے احوال۔ اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔ حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو دار ہوجائیں۔ حضرت کعب احبار فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو (ابن ابی حاتم) غرض سردی کا عذاب الگ ہوگا گرمی کا الگ ہوگا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا 38) 7۔ الاعراف :38) ، ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لئے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لئے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لئے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے (قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ، یعنی پچھلے پہلوں کے لئے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کردیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لئے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لئے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لئے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے ؟ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو جہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں ؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق میں اڑاتے تھے ؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو ! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے ؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ (وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ 44ۙ) 7۔ الاعراف :44) ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى مَآلَ السُّعَدَاءِ ثَنّى بِذِكْرِ حَالِ الْأَشْقِيَاءِ وَمَرْجِعِهِمْ وَمَآبِهِمْ فِي دَارِ مَعَادِهِمْ وَحِسَابِهِمْ فَقَالَ: ﴿هَذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ﴾ وَهُمُ: الْخَارِجُونَ عَنْ طَاعَةِ اللَّهِ الْمُخَالِفُونَ لِرُسُلِ اللَّهِ ﴿لَشَرَّ مَآبٍ﴾ أَيْ: لَسُوءَ مُنْقَلَبٍ وَمَرْجِعٍ. ثُمَّ فَسَّرَهُ بِقَوْلِهِ: ﴿جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا﴾ أَيْ: يَدْخُلُونَهَا فَتَغْمُرُهُمْ مِنْ جَمِيعِ جَوَانِبِهِمْ ﴿فَبِئْسَ الْمِهَادُ. هَذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ﴾ أَمَّا الْحَمِيمُ فَهُوَ: الْحَارُّ الَّذِي قَدِ انْتَهَى حَرُّهُ وَأَمَّا الغَسَّاق فَهُوَ: ضِدُّهُ، وَهُوَ الْبَارِدُ الَّذِي لَا يُسْتَطَاعُ مِنْ شِدَّةِ بَرْدِهِ الْمُؤْلِمِ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ﴾ أَيْ: وَأَشْيَاءُ مِنْ هَذَا الْقَبِيلِ، الشَّيْءُ وَضِدُّهُ يُعَاقَبُونَ بِهَا.
قَالَ [[في ت: "روى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة حَدَّثَنَا دَرّاج عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ [[في ت: "بسنده".]] عَنْ أَبِي سَعِيدٍ [[في أ: "سعيد رضي الله عنه".]] عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "لَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاق يُهَرَاقُ فِي الدُّنْيَا لأنتن أهل الدنيا" [[المسند (٣/٢٨) .]] وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ سُوَيْد بْنِ نَصْرٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ رِشْدين بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ دَرّاج بِهِ. ثُمَّ قَالَ: "لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ" [[سنن الترمذي برقم (٢٥٨٤) .]] كَذَا قَالَ: وَقَدْ تَقَدَّمَ مِنْ غَيْرِ حَدِيثِهِ وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنِ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بِهِ [[تفسير الطبري (٢٣/١١٤) .]]
وَقَالَ كَعْبُ الْأَحْبَارِ: غَسَّاقٌ: عَيْنٌ فِي جَهَنَّمَ يَسِيلُ إِلَيْهَا حُمَة كُلِّ ذَاتِ حُمَة مِنْ حَيَّةٍ وَعَقْرَبٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ فَيَسْتَنْقِعُ فَيُؤْتَى بِالْآدَمِيِّ فَيُغْمَسُ فِيهَا غَمْسَةً وَاحِدَةً فَيَخْرُجُ وَقَدْ سَقَطَ جِلْدُهُ وَلَحْمُهُ عَنِ الْعِظَامِ وَيَتَعَلَّقُ جِلْدُهُ وَلَحْمُهُ فِي كَعْبَيْهِ وَعَقِبَيْهِ ويُجَر لَحْمَهُ كَمَا يَجُر الرَّجُلُ ثَوْبَهُ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ﴾ أَلْوَانٌ مِنَ الْعَذَابِ.
وَقَالَ غَيْرُهُ: كَالزَّمْهَرِيرِ وَالسَّمُومِ وَشُرْبِ الْحَمِيمِ وَأَكْلِ الزَّقُّومِ وَالصُّعُودِ وَالْهُوِيُّ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَشْيَاءِ الْمُخْتَلِفَةِ وَالْمُتَضَادَّةِ [[في ت، س: "المتضاضة والمتخالفة".]] وَالْجَمِيعُ مِمَّا يُعَذَّبُونَ بِهِ وَيُهَانُونَ بِسَبَبِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿هَذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ﴾ هَذَا إِخْبَارٌ عَنْ قِيلِ أَهْلِ النَّارِ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا﴾ [الْأَعْرَافِ: ٣٨] يَعْنِي بَدَلَ السَّلَامِ يَتَلَاعَنُونَ وَيَتَكَاذَبُونَ [[في ت: "ويتجاذبون".]] وَيَكْفُرُ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ فَتَقُولُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَدْخُلُ قَبْلَ الْأُخْرَى إِذَا أَقْبَلَتِ الَّتِي بَعْدَهَا مَعَ الْخَزَنَةِ مِنَ الزَّبَانِيَةِ: ﴿هَذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ﴾ أَيْ: دَاخِلٌ مَعَكُمْ ﴿لَا مَرْحَبًا بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ﴾ [أَيْ] [[زيادة من ت، س.]] لِأَنَّهُمْ مِنْ أَهْلِ جَهَنَّمَ [[في ت: "النار".]] ﴿قَالُوا بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ﴾ أَيْ: فَيَقُولُ لَهُمُ الدَّاخِلُونَ: ﴿بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ أَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا﴾ أَيْ: أَنْتُمْ دَعَوْتُمُونَا إِلَى مَا أَفْضَى بِنَا إِلَى هَذَا الْمَصِيرِ ﴿فَبِئْسَ الْقَرَارُ﴾ أَيْ: فَبِئْسَ الْمَنْزِلُ وَالْمُسْتَقَرُّ وَالْمَصِيرُ. ﴿قَالُوا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هَذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ﴾ كَمَا قَالَ عَزَّ وَجَلَّ [[في ت، س: "تعالى".]] ﴿قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لأولاهُمْ رَبَّنَا هَؤُلاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَكِنْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٣٨] أَيْ: لِكُلٍّ مِنْكُمْ عَذَابٌ بِحَسَبِهِ ﴿وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَى رِجَالا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الأشْرَارِ أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ هَذَا إِخْبَارٌ عَنِ الْكُفَّارِ فِي النَّارِ أَنَّهُمْ يَفْقِدُونَ رِجَالًا كَانُوا يَعْتَقِدُونَ أَنَّهُمْ عَلَى الضَّلَالَةِ وَهُمُ الْمُؤْمِنُونَ فِي زَعْمِهِمْ قَالُوا: مَا لَنَا لَا نَرَاهُمْ مَعَنَا فِي النَّارِ؟.
قَالَ [[في ت: "وقال".]] مُجَاهِدٌ: هَذَا قَوْلُ أَبِي جَهْلٍ يَقُولُ: مَا لِي لَا أَرَى بِلَالًا وَعَمَّارًا وَصُهَيْبًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا. وَهَذَا مَثَلٌ ضُرِبَ، وَإِلَّا فَكُلُّ الْكُفَّارِ هَذَا حَالُهُمْ: يَعْتَقِدُونَ أَنَّ الْمُؤْمِنِينَ يَدْخُلُونَ النَّارَ فَلَمَّا دَخَلَ الْكُفَّارُ النَّارَ افْتَقَدُوهُمْ فَلَمْ يَجِدُوهُمْ فَقَالُوا: ﴿مَا لَنَا لَا نَرَى رِجَالا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الأشْرَارِ أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ أَيْ: فِي الدُّنْيَا [[في أ: "دار الدنيا".]] ﴿أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ يُسَلُّونَ أَنْفُسَهُمْ بِالْمُحَالِ يقولون: أو لعلهم مَعَنَا فِي جَهَنَّمَ وَلَكِنْ لَمْ يَقَعْ بَصَرُنَا عَلَيْهِمْ. فَعِنْدَ ذَلِكَ يَعْرِفُونَ أَنَّهُمْ فِي الدَّرَجَاتِ الْعَالِيَاتِ [[في ت: "العلا".]] وَهُوَ [[في أ: "وهي".]] قَوْلُهُ: ﴿وَنَادَى أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُوا نَعَمْ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَنْ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿ [وَنَادَى أَصْحَابُ الأعْرَافِ رِجَالا يَعْرِفُونَهُمْ بِسِيمَاهُمْ قَالُوا مَا أَغْنَى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ. أَهَؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ] ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٤٤ -٤٩] [[زيادة من ت، س.]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ﴾ أَيْ: إِنَّ هَذَا الَّذِي أَخْبَرْنَاكَ بِهِ يَا مُحَمَّدُ مِنْ تَخَاصُمِ أَهْلِ النَّارِ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ وَلَعْنِ بَعْضِهِمْ لِبَعْضٍ لَحَقٌّ لَا مِرْيَةَ فِيهِ وَلَا شَكَّ.
وَقَالُوا۟ مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًۭا كُنَّا نَعُدُّهُم مِّنَ ٱلْأَشْرَارِ
And they will say, "Why do we not see men whom we used to count among the worst?
اور کہیں گے کیا سبب ہے کہ (یہاں) ہم ان شخصوں کو نہیں دیکھتے جن کو بروں میں شمار کرتے تھے
آنها میگویند: «چرا مردانی را که ما از اشرار میشمردیم (در اینجا، در آتش دوزخ) نمیبینیم؟!
Tafsir Ibn Kathir
This is so! And for the Taghin will be an evil final return (55)Hell! Where they will enter it, and worst (indeed) is that place to rest (56)This is so! Then let them taste it - Hamim and Ghassaq (57)And other of similar kind - all together (58)This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire (59)(The followers will say to those who misled): "Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us, so evil is this place to stay in! (60)They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire! (61)And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? (62)"Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them? (63)Verily, that is the very truth – the mutual dispute of the people of the Fire (64)
The Final Return of the Doomed
Having mentioned the final of the blessed, Allah follows that with mention of the final return of the doomed when they are resurrected and brought to account. Allah says:
هَٰذَا ۚ وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ
(This is so! And for the Taghin), which refers to those who disobey Allah, may He be glorified, and oppose the Messengers of Allah, peace be upon them,
لَشَرَّ مَآبٍ
(will be an evil final return.) means, the worst final return. Then Allah explains it by saying,
جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا
(Hell! Where they will enter) means, they will enter it and it will overwhelm them on all sides.
فَبِئْسَ الْمِهَادُ - هَٰذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ
(and worst (indeed) is that place to rest! This is so! Then let them taste it – Hamim and Ghassaq.) Hamim is something that has been heated to the ultimate degree, and Ghassaq is the opposite, something that is so intensely cold that it is unbearable. Allah says:
وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ
(And other of similar kind (oppasite pairs) – all together!) means, and other things of this kind, a thing and its opposite, serving as punishments. Al-Hasan Al-Basri said, concerning the Ayah:
وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ
(And other of similar kind – all together!) "Different kinds of punishments." Others said, such as intense cold and intense heat, and drinking Hamim and eating the bitter tree of Az-Zaqqum, and being lifted up and thrown down, and other kinds of paired opposites, all of which are means of punishment.
The Disputes of the People of Hell
هَٰذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ ۖ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ ۚ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) Here Allah tells us what the people of Hell will say to one another. This is like the Ayah:
كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ
(Every time a new nation enters, it curses its sister nation (that went before))(7:38), which means, instead of greeting one another, they will curse one another, accuse one another of being liars and reject one another. When a new group arrives, the keepers of Hell will say,
هَٰذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ ۖ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ ۚ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) meaning, because they are of the people of Hell.
قَالُوا بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ ۖ
(Nay, you (too)! No welcome for you!) means, those who are coming in will say,
بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ ۖ أَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا
(Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us,) meaning, 'you called us to that which led us to this fate.'
فَبِئْسَ الْقَرَارُ
(so evil is this place to stay in!) means, evil is this abode and this destination.
قَالُوا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هَٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ
(They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire!"). This is like the Ayah,
قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لِأُولَاهُمْ رَبَّنَا هَٰؤُلَاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَٰكِنْ لَا تَعْلَمُونَ
(The last of them will say to the first of them: "Our Lord! These misled us, so give them a double torment of the Fire." He will say: "For each one there is double (torment), but you know not.")(7:38), which means that each of them will be punished as he deserves.
وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ - أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ
(And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them?")
Here Allah tells us that when they are in Hell, the disbelievers will notice that they do not see people who they thought were misguided, while they thought of themselves as believers. They will say, 'why do we not see them with us in the Fire?' Mujahid said, "This is what Abu Jahl will say; he will say, 'what is the matter with me that I do not see Bilal and 'Ammar and Suhayb and so-and-so...?' This is an example; all the disbelievers are like this, they think that the believers will go to Hell, so when the disbelievers enter Hell, they will wonder why they do not see them there, and they will say,
مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ - أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا
(What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? Did we take them as an object of mockery,) means, in this world,
أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ
(or have (our) eyes failed to perceive them?) means, they will try to console themselves with this wishful thinking, so they will say, perhaps they are here in Hell with us, but we have not laid eyes on them. Then they will find out that they (the believers) are in the lofty levels of Paradise, as Allah says:
وَنَادَىٰ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۖ قَالُوا نَعَمْ ۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَنْ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ
(And the dwellers of Paradise will call out to the dwellers of the Fire (saying): "We have indeed found true what our Lord had promised us; have you also found true what your Lord promised (warned)?" They shall say: "Yes." Then a crier will proclaim between them: "The curse of Allah is on the wrongdoers.") until:
ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ
(Enter Paradise, no fear shall be on you, nor shall you grieve.)(7:44-49)
إِنَّ ذَٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth – the mutual dispute of the people of the Fire!) means, 'this that We have told you, O Muhammad, about the dispute among the people of Hell and their cursing one another, is true and there is no doubt concerning it.'
Tafsir Ibn Kathir
اہل نار کے احوال۔ اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔ حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو دار ہوجائیں۔ حضرت کعب احبار فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو (ابن ابی حاتم) غرض سردی کا عذاب الگ ہوگا گرمی کا الگ ہوگا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا 38) 7۔ الاعراف :38) ، ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لئے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لئے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لئے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے (قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ، یعنی پچھلے پہلوں کے لئے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کردیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لئے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لئے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لئے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے ؟ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو جہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں ؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق میں اڑاتے تھے ؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو ! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے ؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ (وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ 44ۙ) 7۔ الاعراف :44) ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى مَآلَ السُّعَدَاءِ ثَنّى بِذِكْرِ حَالِ الْأَشْقِيَاءِ وَمَرْجِعِهِمْ وَمَآبِهِمْ فِي دَارِ مَعَادِهِمْ وَحِسَابِهِمْ فَقَالَ: ﴿هَذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ﴾ وَهُمُ: الْخَارِجُونَ عَنْ طَاعَةِ اللَّهِ الْمُخَالِفُونَ لِرُسُلِ اللَّهِ ﴿لَشَرَّ مَآبٍ﴾ أَيْ: لَسُوءَ مُنْقَلَبٍ وَمَرْجِعٍ. ثُمَّ فَسَّرَهُ بِقَوْلِهِ: ﴿جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا﴾ أَيْ: يَدْخُلُونَهَا فَتَغْمُرُهُمْ مِنْ جَمِيعِ جَوَانِبِهِمْ ﴿فَبِئْسَ الْمِهَادُ. هَذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ﴾ أَمَّا الْحَمِيمُ فَهُوَ: الْحَارُّ الَّذِي قَدِ انْتَهَى حَرُّهُ وَأَمَّا الغَسَّاق فَهُوَ: ضِدُّهُ، وَهُوَ الْبَارِدُ الَّذِي لَا يُسْتَطَاعُ مِنْ شِدَّةِ بَرْدِهِ الْمُؤْلِمِ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ﴾ أَيْ: وَأَشْيَاءُ مِنْ هَذَا الْقَبِيلِ، الشَّيْءُ وَضِدُّهُ يُعَاقَبُونَ بِهَا.
قَالَ [[في ت: "روى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة حَدَّثَنَا دَرّاج عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ [[في ت: "بسنده".]] عَنْ أَبِي سَعِيدٍ [[في أ: "سعيد رضي الله عنه".]] عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "لَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاق يُهَرَاقُ فِي الدُّنْيَا لأنتن أهل الدنيا" [[المسند (٣/٢٨) .]] وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ سُوَيْد بْنِ نَصْرٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ رِشْدين بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ دَرّاج بِهِ. ثُمَّ قَالَ: "لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ" [[سنن الترمذي برقم (٢٥٨٤) .]] كَذَا قَالَ: وَقَدْ تَقَدَّمَ مِنْ غَيْرِ حَدِيثِهِ وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنِ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بِهِ [[تفسير الطبري (٢٣/١١٤) .]]
وَقَالَ كَعْبُ الْأَحْبَارِ: غَسَّاقٌ: عَيْنٌ فِي جَهَنَّمَ يَسِيلُ إِلَيْهَا حُمَة كُلِّ ذَاتِ حُمَة مِنْ حَيَّةٍ وَعَقْرَبٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ فَيَسْتَنْقِعُ فَيُؤْتَى بِالْآدَمِيِّ فَيُغْمَسُ فِيهَا غَمْسَةً وَاحِدَةً فَيَخْرُجُ وَقَدْ سَقَطَ جِلْدُهُ وَلَحْمُهُ عَنِ الْعِظَامِ وَيَتَعَلَّقُ جِلْدُهُ وَلَحْمُهُ فِي كَعْبَيْهِ وَعَقِبَيْهِ ويُجَر لَحْمَهُ كَمَا يَجُر الرَّجُلُ ثَوْبَهُ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ﴾ أَلْوَانٌ مِنَ الْعَذَابِ.
وَقَالَ غَيْرُهُ: كَالزَّمْهَرِيرِ وَالسَّمُومِ وَشُرْبِ الْحَمِيمِ وَأَكْلِ الزَّقُّومِ وَالصُّعُودِ وَالْهُوِيُّ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَشْيَاءِ الْمُخْتَلِفَةِ وَالْمُتَضَادَّةِ [[في ت، س: "المتضاضة والمتخالفة".]] وَالْجَمِيعُ مِمَّا يُعَذَّبُونَ بِهِ وَيُهَانُونَ بِسَبَبِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿هَذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ﴾ هَذَا إِخْبَارٌ عَنْ قِيلِ أَهْلِ النَّارِ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا﴾ [الْأَعْرَافِ: ٣٨] يَعْنِي بَدَلَ السَّلَامِ يَتَلَاعَنُونَ وَيَتَكَاذَبُونَ [[في ت: "ويتجاذبون".]] وَيَكْفُرُ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ فَتَقُولُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَدْخُلُ قَبْلَ الْأُخْرَى إِذَا أَقْبَلَتِ الَّتِي بَعْدَهَا مَعَ الْخَزَنَةِ مِنَ الزَّبَانِيَةِ: ﴿هَذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ﴾ أَيْ: دَاخِلٌ مَعَكُمْ ﴿لَا مَرْحَبًا بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ﴾ [أَيْ] [[زيادة من ت، س.]] لِأَنَّهُمْ مِنْ أَهْلِ جَهَنَّمَ [[في ت: "النار".]] ﴿قَالُوا بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ﴾ أَيْ: فَيَقُولُ لَهُمُ الدَّاخِلُونَ: ﴿بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ أَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا﴾ أَيْ: أَنْتُمْ دَعَوْتُمُونَا إِلَى مَا أَفْضَى بِنَا إِلَى هَذَا الْمَصِيرِ ﴿فَبِئْسَ الْقَرَارُ﴾ أَيْ: فَبِئْسَ الْمَنْزِلُ وَالْمُسْتَقَرُّ وَالْمَصِيرُ. ﴿قَالُوا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هَذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ﴾ كَمَا قَالَ عَزَّ وَجَلَّ [[في ت، س: "تعالى".]] ﴿قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لأولاهُمْ رَبَّنَا هَؤُلاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَكِنْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٣٨] أَيْ: لِكُلٍّ مِنْكُمْ عَذَابٌ بِحَسَبِهِ ﴿وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَى رِجَالا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الأشْرَارِ أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ هَذَا إِخْبَارٌ عَنِ الْكُفَّارِ فِي النَّارِ أَنَّهُمْ يَفْقِدُونَ رِجَالًا كَانُوا يَعْتَقِدُونَ أَنَّهُمْ عَلَى الضَّلَالَةِ وَهُمُ الْمُؤْمِنُونَ فِي زَعْمِهِمْ قَالُوا: مَا لَنَا لَا نَرَاهُمْ مَعَنَا فِي النَّارِ؟.
قَالَ [[في ت: "وقال".]] مُجَاهِدٌ: هَذَا قَوْلُ أَبِي جَهْلٍ يَقُولُ: مَا لِي لَا أَرَى بِلَالًا وَعَمَّارًا وَصُهَيْبًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا. وَهَذَا مَثَلٌ ضُرِبَ، وَإِلَّا فَكُلُّ الْكُفَّارِ هَذَا حَالُهُمْ: يَعْتَقِدُونَ أَنَّ الْمُؤْمِنِينَ يَدْخُلُونَ النَّارَ فَلَمَّا دَخَلَ الْكُفَّارُ النَّارَ افْتَقَدُوهُمْ فَلَمْ يَجِدُوهُمْ فَقَالُوا: ﴿مَا لَنَا لَا نَرَى رِجَالا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الأشْرَارِ أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ أَيْ: فِي الدُّنْيَا [[في أ: "دار الدنيا".]] ﴿أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ يُسَلُّونَ أَنْفُسَهُمْ بِالْمُحَالِ يقولون: أو لعلهم مَعَنَا فِي جَهَنَّمَ وَلَكِنْ لَمْ يَقَعْ بَصَرُنَا عَلَيْهِمْ. فَعِنْدَ ذَلِكَ يَعْرِفُونَ أَنَّهُمْ فِي الدَّرَجَاتِ الْعَالِيَاتِ [[في ت: "العلا".]] وَهُوَ [[في أ: "وهي".]] قَوْلُهُ: ﴿وَنَادَى أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُوا نَعَمْ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَنْ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿ [وَنَادَى أَصْحَابُ الأعْرَافِ رِجَالا يَعْرِفُونَهُمْ بِسِيمَاهُمْ قَالُوا مَا أَغْنَى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ. أَهَؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ] ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٤٤ -٤٩] [[زيادة من ت، س.]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ﴾ أَيْ: إِنَّ هَذَا الَّذِي أَخْبَرْنَاكَ بِهِ يَا مُحَمَّدُ مِنْ تَخَاصُمِ أَهْلِ النَّارِ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ وَلَعْنِ بَعْضِهِمْ لِبَعْضٍ لَحَقٌّ لَا مِرْيَةَ فِيهِ وَلَا شَكَّ.
أَتَّخَذْنَٰهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ ٱلْأَبْصَٰرُ
Is it [because] we took them in ridicule, or has [our] vision turned away from them?"
کیا ہم نے ان سے ٹھٹھا کیا ہے یا (ہماری) آنکھیں ان (کی طرف) سے پھر گئی ہیں؟
آیا ما آنان را به مسخره گرفتیم یا (به اندازهای حقیرند که) چشمها آنها را نمیبیند؟!
Tafsir Ibn Kathir
This is so! And for the Taghin will be an evil final return (55)Hell! Where they will enter it, and worst (indeed) is that place to rest (56)This is so! Then let them taste it - Hamim and Ghassaq (57)And other of similar kind - all together (58)This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire (59)(The followers will say to those who misled): "Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us, so evil is this place to stay in! (60)They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire! (61)And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? (62)"Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them? (63)Verily, that is the very truth – the mutual dispute of the people of the Fire (64)
The Final Return of the Doomed
Having mentioned the final of the blessed, Allah follows that with mention of the final return of the doomed when they are resurrected and brought to account. Allah says:
هَٰذَا ۚ وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ
(This is so! And for the Taghin), which refers to those who disobey Allah, may He be glorified, and oppose the Messengers of Allah, peace be upon them,
لَشَرَّ مَآبٍ
(will be an evil final return.) means, the worst final return. Then Allah explains it by saying,
جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا
(Hell! Where they will enter) means, they will enter it and it will overwhelm them on all sides.
فَبِئْسَ الْمِهَادُ - هَٰذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ
(and worst (indeed) is that place to rest! This is so! Then let them taste it – Hamim and Ghassaq.) Hamim is something that has been heated to the ultimate degree, and Ghassaq is the opposite, something that is so intensely cold that it is unbearable. Allah says:
وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ
(And other of similar kind (oppasite pairs) – all together!) means, and other things of this kind, a thing and its opposite, serving as punishments. Al-Hasan Al-Basri said, concerning the Ayah:
وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ
(And other of similar kind – all together!) "Different kinds of punishments." Others said, such as intense cold and intense heat, and drinking Hamim and eating the bitter tree of Az-Zaqqum, and being lifted up and thrown down, and other kinds of paired opposites, all of which are means of punishment.
The Disputes of the People of Hell
هَٰذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ ۖ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ ۚ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) Here Allah tells us what the people of Hell will say to one another. This is like the Ayah:
كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ
(Every time a new nation enters, it curses its sister nation (that went before))(7:38), which means, instead of greeting one another, they will curse one another, accuse one another of being liars and reject one another. When a new group arrives, the keepers of Hell will say,
هَٰذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ ۖ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ ۚ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) meaning, because they are of the people of Hell.
قَالُوا بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ ۖ
(Nay, you (too)! No welcome for you!) means, those who are coming in will say,
بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ ۖ أَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا
(Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us,) meaning, 'you called us to that which led us to this fate.'
فَبِئْسَ الْقَرَارُ
(so evil is this place to stay in!) means, evil is this abode and this destination.
قَالُوا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هَٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ
(They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire!"). This is like the Ayah,
قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لِأُولَاهُمْ رَبَّنَا هَٰؤُلَاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَٰكِنْ لَا تَعْلَمُونَ
(The last of them will say to the first of them: "Our Lord! These misled us, so give them a double torment of the Fire." He will say: "For each one there is double (torment), but you know not.")(7:38), which means that each of them will be punished as he deserves.
وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ - أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ
(And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them?")
Here Allah tells us that when they are in Hell, the disbelievers will notice that they do not see people who they thought were misguided, while they thought of themselves as believers. They will say, 'why do we not see them with us in the Fire?' Mujahid said, "This is what Abu Jahl will say; he will say, 'what is the matter with me that I do not see Bilal and 'Ammar and Suhayb and so-and-so...?' This is an example; all the disbelievers are like this, they think that the believers will go to Hell, so when the disbelievers enter Hell, they will wonder why they do not see them there, and they will say,
مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ - أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا
(What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? Did we take them as an object of mockery,) means, in this world,
أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ
(or have (our) eyes failed to perceive them?) means, they will try to console themselves with this wishful thinking, so they will say, perhaps they are here in Hell with us, but we have not laid eyes on them. Then they will find out that they (the believers) are in the lofty levels of Paradise, as Allah says:
وَنَادَىٰ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۖ قَالُوا نَعَمْ ۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَنْ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ
(And the dwellers of Paradise will call out to the dwellers of the Fire (saying): "We have indeed found true what our Lord had promised us; have you also found true what your Lord promised (warned)?" They shall say: "Yes." Then a crier will proclaim between them: "The curse of Allah is on the wrongdoers.") until:
ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ
(Enter Paradise, no fear shall be on you, nor shall you grieve.)(7:44-49)
إِنَّ ذَٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth – the mutual dispute of the people of the Fire!) means, 'this that We have told you, O Muhammad, about the dispute among the people of Hell and their cursing one another, is true and there is no doubt concerning it.'
Tafsir Ibn Kathir
اہل نار کے احوال۔ اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔ حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو دار ہوجائیں۔ حضرت کعب احبار فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو (ابن ابی حاتم) غرض سردی کا عذاب الگ ہوگا گرمی کا الگ ہوگا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا 38) 7۔ الاعراف :38) ، ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لئے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لئے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لئے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے (قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ، یعنی پچھلے پہلوں کے لئے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کردیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لئے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لئے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لئے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے ؟ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو جہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں ؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق میں اڑاتے تھے ؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو ! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے ؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ (وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ 44ۙ) 7۔ الاعراف :44) ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى مَآلَ السُّعَدَاءِ ثَنّى بِذِكْرِ حَالِ الْأَشْقِيَاءِ وَمَرْجِعِهِمْ وَمَآبِهِمْ فِي دَارِ مَعَادِهِمْ وَحِسَابِهِمْ فَقَالَ: ﴿هَذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ﴾ وَهُمُ: الْخَارِجُونَ عَنْ طَاعَةِ اللَّهِ الْمُخَالِفُونَ لِرُسُلِ اللَّهِ ﴿لَشَرَّ مَآبٍ﴾ أَيْ: لَسُوءَ مُنْقَلَبٍ وَمَرْجِعٍ. ثُمَّ فَسَّرَهُ بِقَوْلِهِ: ﴿جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا﴾ أَيْ: يَدْخُلُونَهَا فَتَغْمُرُهُمْ مِنْ جَمِيعِ جَوَانِبِهِمْ ﴿فَبِئْسَ الْمِهَادُ. هَذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ﴾ أَمَّا الْحَمِيمُ فَهُوَ: الْحَارُّ الَّذِي قَدِ انْتَهَى حَرُّهُ وَأَمَّا الغَسَّاق فَهُوَ: ضِدُّهُ، وَهُوَ الْبَارِدُ الَّذِي لَا يُسْتَطَاعُ مِنْ شِدَّةِ بَرْدِهِ الْمُؤْلِمِ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ﴾ أَيْ: وَأَشْيَاءُ مِنْ هَذَا الْقَبِيلِ، الشَّيْءُ وَضِدُّهُ يُعَاقَبُونَ بِهَا.
قَالَ [[في ت: "روى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة حَدَّثَنَا دَرّاج عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ [[في ت: "بسنده".]] عَنْ أَبِي سَعِيدٍ [[في أ: "سعيد رضي الله عنه".]] عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "لَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاق يُهَرَاقُ فِي الدُّنْيَا لأنتن أهل الدنيا" [[المسند (٣/٢٨) .]] وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ سُوَيْد بْنِ نَصْرٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ رِشْدين بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ دَرّاج بِهِ. ثُمَّ قَالَ: "لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ" [[سنن الترمذي برقم (٢٥٨٤) .]] كَذَا قَالَ: وَقَدْ تَقَدَّمَ مِنْ غَيْرِ حَدِيثِهِ وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنِ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بِهِ [[تفسير الطبري (٢٣/١١٤) .]]
وَقَالَ كَعْبُ الْأَحْبَارِ: غَسَّاقٌ: عَيْنٌ فِي جَهَنَّمَ يَسِيلُ إِلَيْهَا حُمَة كُلِّ ذَاتِ حُمَة مِنْ حَيَّةٍ وَعَقْرَبٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ فَيَسْتَنْقِعُ فَيُؤْتَى بِالْآدَمِيِّ فَيُغْمَسُ فِيهَا غَمْسَةً وَاحِدَةً فَيَخْرُجُ وَقَدْ سَقَطَ جِلْدُهُ وَلَحْمُهُ عَنِ الْعِظَامِ وَيَتَعَلَّقُ جِلْدُهُ وَلَحْمُهُ فِي كَعْبَيْهِ وَعَقِبَيْهِ ويُجَر لَحْمَهُ كَمَا يَجُر الرَّجُلُ ثَوْبَهُ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ﴾ أَلْوَانٌ مِنَ الْعَذَابِ.
وَقَالَ غَيْرُهُ: كَالزَّمْهَرِيرِ وَالسَّمُومِ وَشُرْبِ الْحَمِيمِ وَأَكْلِ الزَّقُّومِ وَالصُّعُودِ وَالْهُوِيُّ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَشْيَاءِ الْمُخْتَلِفَةِ وَالْمُتَضَادَّةِ [[في ت، س: "المتضاضة والمتخالفة".]] وَالْجَمِيعُ مِمَّا يُعَذَّبُونَ بِهِ وَيُهَانُونَ بِسَبَبِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿هَذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ﴾ هَذَا إِخْبَارٌ عَنْ قِيلِ أَهْلِ النَّارِ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا﴾ [الْأَعْرَافِ: ٣٨] يَعْنِي بَدَلَ السَّلَامِ يَتَلَاعَنُونَ وَيَتَكَاذَبُونَ [[في ت: "ويتجاذبون".]] وَيَكْفُرُ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ فَتَقُولُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَدْخُلُ قَبْلَ الْأُخْرَى إِذَا أَقْبَلَتِ الَّتِي بَعْدَهَا مَعَ الْخَزَنَةِ مِنَ الزَّبَانِيَةِ: ﴿هَذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ﴾ أَيْ: دَاخِلٌ مَعَكُمْ ﴿لَا مَرْحَبًا بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ﴾ [أَيْ] [[زيادة من ت، س.]] لِأَنَّهُمْ مِنْ أَهْلِ جَهَنَّمَ [[في ت: "النار".]] ﴿قَالُوا بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ﴾ أَيْ: فَيَقُولُ لَهُمُ الدَّاخِلُونَ: ﴿بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ أَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا﴾ أَيْ: أَنْتُمْ دَعَوْتُمُونَا إِلَى مَا أَفْضَى بِنَا إِلَى هَذَا الْمَصِيرِ ﴿فَبِئْسَ الْقَرَارُ﴾ أَيْ: فَبِئْسَ الْمَنْزِلُ وَالْمُسْتَقَرُّ وَالْمَصِيرُ. ﴿قَالُوا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هَذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ﴾ كَمَا قَالَ عَزَّ وَجَلَّ [[في ت، س: "تعالى".]] ﴿قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لأولاهُمْ رَبَّنَا هَؤُلاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَكِنْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٣٨] أَيْ: لِكُلٍّ مِنْكُمْ عَذَابٌ بِحَسَبِهِ ﴿وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَى رِجَالا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الأشْرَارِ أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ هَذَا إِخْبَارٌ عَنِ الْكُفَّارِ فِي النَّارِ أَنَّهُمْ يَفْقِدُونَ رِجَالًا كَانُوا يَعْتَقِدُونَ أَنَّهُمْ عَلَى الضَّلَالَةِ وَهُمُ الْمُؤْمِنُونَ فِي زَعْمِهِمْ قَالُوا: مَا لَنَا لَا نَرَاهُمْ مَعَنَا فِي النَّارِ؟.
قَالَ [[في ت: "وقال".]] مُجَاهِدٌ: هَذَا قَوْلُ أَبِي جَهْلٍ يَقُولُ: مَا لِي لَا أَرَى بِلَالًا وَعَمَّارًا وَصُهَيْبًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا. وَهَذَا مَثَلٌ ضُرِبَ، وَإِلَّا فَكُلُّ الْكُفَّارِ هَذَا حَالُهُمْ: يَعْتَقِدُونَ أَنَّ الْمُؤْمِنِينَ يَدْخُلُونَ النَّارَ فَلَمَّا دَخَلَ الْكُفَّارُ النَّارَ افْتَقَدُوهُمْ فَلَمْ يَجِدُوهُمْ فَقَالُوا: ﴿مَا لَنَا لَا نَرَى رِجَالا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الأشْرَارِ أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ أَيْ: فِي الدُّنْيَا [[في أ: "دار الدنيا".]] ﴿أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ يُسَلُّونَ أَنْفُسَهُمْ بِالْمُحَالِ يقولون: أو لعلهم مَعَنَا فِي جَهَنَّمَ وَلَكِنْ لَمْ يَقَعْ بَصَرُنَا عَلَيْهِمْ. فَعِنْدَ ذَلِكَ يَعْرِفُونَ أَنَّهُمْ فِي الدَّرَجَاتِ الْعَالِيَاتِ [[في ت: "العلا".]] وَهُوَ [[في أ: "وهي".]] قَوْلُهُ: ﴿وَنَادَى أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُوا نَعَمْ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَنْ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿ [وَنَادَى أَصْحَابُ الأعْرَافِ رِجَالا يَعْرِفُونَهُمْ بِسِيمَاهُمْ قَالُوا مَا أَغْنَى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ. أَهَؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ] ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٤٤ -٤٩] [[زيادة من ت، س.]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ﴾ أَيْ: إِنَّ هَذَا الَّذِي أَخْبَرْنَاكَ بِهِ يَا مُحَمَّدُ مِنْ تَخَاصُمِ أَهْلِ النَّارِ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ وَلَعْنِ بَعْضِهِمْ لِبَعْضٍ لَحَقٌّ لَا مِرْيَةَ فِيهِ وَلَا شَكَّ.
إِنَّ ذَٰلِكَ لَحَقٌّۭ تَخَاصُمُ أَهْلِ ٱلنَّارِ
Indeed, that is truth - the quarreling of the people of the Fire.
بےشک یہ اہل دوزخ کا جھگڑنا برحق ہے
این یک واقعیت است گفتگوهای خصمانه دوزخیان!
Tafsir Ibn Kathir
This is so! And for the Taghin will be an evil final return (55)Hell! Where they will enter it, and worst (indeed) is that place to rest (56)This is so! Then let them taste it - Hamim and Ghassaq (57)And other of similar kind - all together (58)This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire (59)(The followers will say to those who misled): "Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us, so evil is this place to stay in! (60)They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire! (61)And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? (62)"Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them? (63)Verily, that is the very truth – the mutual dispute of the people of the Fire (64)
The Final Return of the Doomed
Having mentioned the final of the blessed, Allah follows that with mention of the final return of the doomed when they are resurrected and brought to account. Allah says:
هَٰذَا ۚ وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ
(This is so! And for the Taghin), which refers to those who disobey Allah, may He be glorified, and oppose the Messengers of Allah, peace be upon them,
لَشَرَّ مَآبٍ
(will be an evil final return.) means, the worst final return. Then Allah explains it by saying,
جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا
(Hell! Where they will enter) means, they will enter it and it will overwhelm them on all sides.
فَبِئْسَ الْمِهَادُ - هَٰذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ
(and worst (indeed) is that place to rest! This is so! Then let them taste it – Hamim and Ghassaq.) Hamim is something that has been heated to the ultimate degree, and Ghassaq is the opposite, something that is so intensely cold that it is unbearable. Allah says:
وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ
(And other of similar kind (oppasite pairs) – all together!) means, and other things of this kind, a thing and its opposite, serving as punishments. Al-Hasan Al-Basri said, concerning the Ayah:
وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ
(And other of similar kind – all together!) "Different kinds of punishments." Others said, such as intense cold and intense heat, and drinking Hamim and eating the bitter tree of Az-Zaqqum, and being lifted up and thrown down, and other kinds of paired opposites, all of which are means of punishment.
The Disputes of the People of Hell
هَٰذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ ۖ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ ۚ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) Here Allah tells us what the people of Hell will say to one another. This is like the Ayah:
كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ
(Every time a new nation enters, it curses its sister nation (that went before))(7:38), which means, instead of greeting one another, they will curse one another, accuse one another of being liars and reject one another. When a new group arrives, the keepers of Hell will say,
هَٰذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ ۖ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ ۚ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) meaning, because they are of the people of Hell.
قَالُوا بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ ۖ
(Nay, you (too)! No welcome for you!) means, those who are coming in will say,
بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ ۖ أَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا
(Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us,) meaning, 'you called us to that which led us to this fate.'
فَبِئْسَ الْقَرَارُ
(so evil is this place to stay in!) means, evil is this abode and this destination.
قَالُوا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هَٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ
(They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire!"). This is like the Ayah,
قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لِأُولَاهُمْ رَبَّنَا هَٰؤُلَاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَٰكِنْ لَا تَعْلَمُونَ
(The last of them will say to the first of them: "Our Lord! These misled us, so give them a double torment of the Fire." He will say: "For each one there is double (torment), but you know not.")(7:38), which means that each of them will be punished as he deserves.
وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ - أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ
(And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them?")
Here Allah tells us that when they are in Hell, the disbelievers will notice that they do not see people who they thought were misguided, while they thought of themselves as believers. They will say, 'why do we not see them with us in the Fire?' Mujahid said, "This is what Abu Jahl will say; he will say, 'what is the matter with me that I do not see Bilal and 'Ammar and Suhayb and so-and-so...?' This is an example; all the disbelievers are like this, they think that the believers will go to Hell, so when the disbelievers enter Hell, they will wonder why they do not see them there, and they will say,
مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ - أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا
(What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones? Did we take them as an object of mockery,) means, in this world,
أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ
(or have (our) eyes failed to perceive them?) means, they will try to console themselves with this wishful thinking, so they will say, perhaps they are here in Hell with us, but we have not laid eyes on them. Then they will find out that they (the believers) are in the lofty levels of Paradise, as Allah says:
وَنَادَىٰ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۖ قَالُوا نَعَمْ ۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَنْ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ
(And the dwellers of Paradise will call out to the dwellers of the Fire (saying): "We have indeed found true what our Lord had promised us; have you also found true what your Lord promised (warned)?" They shall say: "Yes." Then a crier will proclaim between them: "The curse of Allah is on the wrongdoers.") until:
ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ
(Enter Paradise, no fear shall be on you, nor shall you grieve.)(7:44-49)
إِنَّ ذَٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth – the mutual dispute of the people of the Fire!) means, 'this that We have told you, O Muhammad, about the dispute among the people of Hell and their cursing one another, is true and there is no doubt concerning it.'
Tafsir Ibn Kathir
اہل نار کے احوال۔ اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔ حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو دار ہوجائیں۔ حضرت کعب احبار فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو (ابن ابی حاتم) غرض سردی کا عذاب الگ ہوگا گرمی کا الگ ہوگا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا 38) 7۔ الاعراف :38) ، ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لئے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لئے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لئے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے (قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ، یعنی پچھلے پہلوں کے لئے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کردیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لئے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لئے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لئے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے ؟ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو جہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں ؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق میں اڑاتے تھے ؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو ! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے ؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ (وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ 44ۙ) 7۔ الاعراف :44) ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى مَآلَ السُّعَدَاءِ ثَنّى بِذِكْرِ حَالِ الْأَشْقِيَاءِ وَمَرْجِعِهِمْ وَمَآبِهِمْ فِي دَارِ مَعَادِهِمْ وَحِسَابِهِمْ فَقَالَ: ﴿هَذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ﴾ وَهُمُ: الْخَارِجُونَ عَنْ طَاعَةِ اللَّهِ الْمُخَالِفُونَ لِرُسُلِ اللَّهِ ﴿لَشَرَّ مَآبٍ﴾ أَيْ: لَسُوءَ مُنْقَلَبٍ وَمَرْجِعٍ. ثُمَّ فَسَّرَهُ بِقَوْلِهِ: ﴿جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا﴾ أَيْ: يَدْخُلُونَهَا فَتَغْمُرُهُمْ مِنْ جَمِيعِ جَوَانِبِهِمْ ﴿فَبِئْسَ الْمِهَادُ. هَذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ﴾ أَمَّا الْحَمِيمُ فَهُوَ: الْحَارُّ الَّذِي قَدِ انْتَهَى حَرُّهُ وَأَمَّا الغَسَّاق فَهُوَ: ضِدُّهُ، وَهُوَ الْبَارِدُ الَّذِي لَا يُسْتَطَاعُ مِنْ شِدَّةِ بَرْدِهِ الْمُؤْلِمِ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ﴾ أَيْ: وَأَشْيَاءُ مِنْ هَذَا الْقَبِيلِ، الشَّيْءُ وَضِدُّهُ يُعَاقَبُونَ بِهَا.
قَالَ [[في ت: "روى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة حَدَّثَنَا دَرّاج عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ [[في ت: "بسنده".]] عَنْ أَبِي سَعِيدٍ [[في أ: "سعيد رضي الله عنه".]] عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "لَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاق يُهَرَاقُ فِي الدُّنْيَا لأنتن أهل الدنيا" [[المسند (٣/٢٨) .]] وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ سُوَيْد بْنِ نَصْرٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ رِشْدين بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ دَرّاج بِهِ. ثُمَّ قَالَ: "لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ" [[سنن الترمذي برقم (٢٥٨٤) .]] كَذَا قَالَ: وَقَدْ تَقَدَّمَ مِنْ غَيْرِ حَدِيثِهِ وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنِ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بِهِ [[تفسير الطبري (٢٣/١١٤) .]]
وَقَالَ كَعْبُ الْأَحْبَارِ: غَسَّاقٌ: عَيْنٌ فِي جَهَنَّمَ يَسِيلُ إِلَيْهَا حُمَة كُلِّ ذَاتِ حُمَة مِنْ حَيَّةٍ وَعَقْرَبٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ فَيَسْتَنْقِعُ فَيُؤْتَى بِالْآدَمِيِّ فَيُغْمَسُ فِيهَا غَمْسَةً وَاحِدَةً فَيَخْرُجُ وَقَدْ سَقَطَ جِلْدُهُ وَلَحْمُهُ عَنِ الْعِظَامِ وَيَتَعَلَّقُ جِلْدُهُ وَلَحْمُهُ فِي كَعْبَيْهِ وَعَقِبَيْهِ ويُجَر لَحْمَهُ كَمَا يَجُر الرَّجُلُ ثَوْبَهُ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ﴾ أَلْوَانٌ مِنَ الْعَذَابِ.
وَقَالَ غَيْرُهُ: كَالزَّمْهَرِيرِ وَالسَّمُومِ وَشُرْبِ الْحَمِيمِ وَأَكْلِ الزَّقُّومِ وَالصُّعُودِ وَالْهُوِيُّ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَشْيَاءِ الْمُخْتَلِفَةِ وَالْمُتَضَادَّةِ [[في ت، س: "المتضاضة والمتخالفة".]] وَالْجَمِيعُ مِمَّا يُعَذَّبُونَ بِهِ وَيُهَانُونَ بِسَبَبِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿هَذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ﴾ هَذَا إِخْبَارٌ عَنْ قِيلِ أَهْلِ النَّارِ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا﴾ [الْأَعْرَافِ: ٣٨] يَعْنِي بَدَلَ السَّلَامِ يَتَلَاعَنُونَ وَيَتَكَاذَبُونَ [[في ت: "ويتجاذبون".]] وَيَكْفُرُ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ فَتَقُولُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَدْخُلُ قَبْلَ الْأُخْرَى إِذَا أَقْبَلَتِ الَّتِي بَعْدَهَا مَعَ الْخَزَنَةِ مِنَ الزَّبَانِيَةِ: ﴿هَذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ﴾ أَيْ: دَاخِلٌ مَعَكُمْ ﴿لَا مَرْحَبًا بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ﴾ [أَيْ] [[زيادة من ت، س.]] لِأَنَّهُمْ مِنْ أَهْلِ جَهَنَّمَ [[في ت: "النار".]] ﴿قَالُوا بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ﴾ أَيْ: فَيَقُولُ لَهُمُ الدَّاخِلُونَ: ﴿بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ أَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا﴾ أَيْ: أَنْتُمْ دَعَوْتُمُونَا إِلَى مَا أَفْضَى بِنَا إِلَى هَذَا الْمَصِيرِ ﴿فَبِئْسَ الْقَرَارُ﴾ أَيْ: فَبِئْسَ الْمَنْزِلُ وَالْمُسْتَقَرُّ وَالْمَصِيرُ. ﴿قَالُوا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هَذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ﴾ كَمَا قَالَ عَزَّ وَجَلَّ [[في ت، س: "تعالى".]] ﴿قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لأولاهُمْ رَبَّنَا هَؤُلاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَكِنْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٣٨] أَيْ: لِكُلٍّ مِنْكُمْ عَذَابٌ بِحَسَبِهِ ﴿وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَى رِجَالا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الأشْرَارِ أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ هَذَا إِخْبَارٌ عَنِ الْكُفَّارِ فِي النَّارِ أَنَّهُمْ يَفْقِدُونَ رِجَالًا كَانُوا يَعْتَقِدُونَ أَنَّهُمْ عَلَى الضَّلَالَةِ وَهُمُ الْمُؤْمِنُونَ فِي زَعْمِهِمْ قَالُوا: مَا لَنَا لَا نَرَاهُمْ مَعَنَا فِي النَّارِ؟.
قَالَ [[في ت: "وقال".]] مُجَاهِدٌ: هَذَا قَوْلُ أَبِي جَهْلٍ يَقُولُ: مَا لِي لَا أَرَى بِلَالًا وَعَمَّارًا وَصُهَيْبًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا. وَهَذَا مَثَلٌ ضُرِبَ، وَإِلَّا فَكُلُّ الْكُفَّارِ هَذَا حَالُهُمْ: يَعْتَقِدُونَ أَنَّ الْمُؤْمِنِينَ يَدْخُلُونَ النَّارَ فَلَمَّا دَخَلَ الْكُفَّارُ النَّارَ افْتَقَدُوهُمْ فَلَمْ يَجِدُوهُمْ فَقَالُوا: ﴿مَا لَنَا لَا نَرَى رِجَالا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الأشْرَارِ أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ أَيْ: فِي الدُّنْيَا [[في أ: "دار الدنيا".]] ﴿أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأبْصَارُ﴾ يُسَلُّونَ أَنْفُسَهُمْ بِالْمُحَالِ يقولون: أو لعلهم مَعَنَا فِي جَهَنَّمَ وَلَكِنْ لَمْ يَقَعْ بَصَرُنَا عَلَيْهِمْ. فَعِنْدَ ذَلِكَ يَعْرِفُونَ أَنَّهُمْ فِي الدَّرَجَاتِ الْعَالِيَاتِ [[في ت: "العلا".]] وَهُوَ [[في أ: "وهي".]] قَوْلُهُ: ﴿وَنَادَى أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُوا نَعَمْ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَنْ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿ [وَنَادَى أَصْحَابُ الأعْرَافِ رِجَالا يَعْرِفُونَهُمْ بِسِيمَاهُمْ قَالُوا مَا أَغْنَى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ. أَهَؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ] ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٤٤ -٤٩] [[زيادة من ت، س.]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ﴾ أَيْ: إِنَّ هَذَا الَّذِي أَخْبَرْنَاكَ بِهِ يَا مُحَمَّدُ مِنْ تَخَاصُمِ أَهْلِ النَّارِ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ وَلَعْنِ بَعْضِهِمْ لِبَعْضٍ لَحَقٌّ لَا مِرْيَةَ فِيهِ وَلَا شَكَّ.
قُلْ إِنَّمَآ أَنَا۠ مُنذِرٌۭ ۖ وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّا ٱللَّهُ ٱلْوَٰحِدُ ٱلْقَهَّارُ
Say, [O Muhammad], "I am only a warner, and there is not any deity except Allah, the One, the Prevailing.
کہہ دو کہ میں تو صرف ہدایت کرنے والا ہوں۔ اور خدائے یکتا اور غالب کے سوا کوئی معبود نہیں
بگو: «من تنها یک بیمدهندهام؛ و هیچ معبودی جز خداوند یگانه قهّار نیست!
Tafsir Ibn Kathir
Say: "I am only a warner and there is no God (worthy of worship) except Allah the One, the Irresistible, (65)"The Lord of the heavens and the earth and all that is between them, the Almighty, the Oft-Forgiving. (66)Say: "That is a great news, (67)"From which you turn away! (68)"I had no knowledge of the chiefs (angels) on high when they were disputing and discussing. (69)"Only this has been revealed to me, that I am a plain warner. (70)
The Message of the Messenger ﷺ is a Great News
Allah tells His Messenger ﷺ to say to those who disbelieved in Allah, associated others in worship with Him and denied His Messenger: 'I am a warner, I am not as you claim.'
وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ
(and there is no God (worthy of worship) except Allah, the One, the Irresistible,) means, He Alone has subjugated and controlled everything.
رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا
(The Lord of the heavens and the earth and all that is between them,) means, He is the Sovereign of all that and is in control of it.
الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ
(the Almighty, the Oft-Forgiving.) means, He is Oft-Forgiving as well as being Almighty and All-Powerful.
قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ
(Say: "That (this Qur'an) is a great news,") means, 'something very important, which is that Allah has sent me to you.
أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ
(From which you turn away!) means, 'you neglect it.'
مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ إِذْ يَخْتَصِمُونَ
(I had no knowledge of the chiefs (angels) on high when they were disputing and discussing.) meaning, 'were it not for the divine revelation, how could I have known about the dispute of the chiefs on high (the angels)?' This refers to their dispute concerning Adam, peace be upon him, and how Iblis refused to prostrate to him and argued with his Lord because He preferred him (Adam) over him. This is what Allah says:
Tafsir Ibn Kathir
نبی ؑ کا خواب۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ میری نسبت تمہارے خیالات محض غلط ہیں میں تو تمہیں ڈر کی خبر پہچانے والا ہوں۔ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں وہ اکیلا ہے وہ ہر چیز پر غالب ہے، ہر چیز اس کے ماتحت ہے۔ وہ زمین و آسمان اور ہر چیز کا مالک ہے اور سب تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں۔ وہ عزتوں والا ہے اور باوجود اس عظمت و عزت کے بڑا بخشنے والا ہے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے یعنی میرا رسول بن کر تمہاری طرف آنا پھر تم اے غافلو اس سے اعراض کر رہے ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بڑی چیز ہے یعنی قرآن کریم۔ حضرت آدم ؑ کے بارے میں فرشتوں میں جو کچھ اختلاف ہوا اگر رب کی وحی میرے پاس نہ آئی ہوتی تو مجھے اس کی بابت کیا علم ہوتا ؟ ابلیس کا آپ کو سجدہ کرنے سے منکر ہونا اور رب کے سامنے اس کی مخالفت کرنا اور اپنی بڑائی جتانا وغیرہ ان سب باتوں کو میں کیا جانوں ؟ مسند احمد میں ہے ایک دن صبح کی نماز میں حضور ﷺ نے بہت دیر لگا دی یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کا وقت آگیا پھر بہت جلدی کرتے ہوئے آئے تکبیر کہی گئی اور آپ نے ہلکی نماز پڑھائی۔ پھر ہم سے فرمایا ذرا دیر ٹھہرے رہو پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا رات کو میں تہجد کی نماز پڑھ رہا تھا جو مجھے اونگھ آنے لگی یہاں تک کہ میں جاگا میں نے دیکھا کہ گویا میں اپنے رب کے پاس ہوں میں نے اپنے پروردگار کو بہرتین عمدہ صورت میں دیکھا مجھ سے جناب باری نے دریافت فرمایا جانتے ہو عالم بالا کے فرشتے اس وقت کس امر میں گفتگو اور سوال و جواب کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا میرے رب مجھے کیا خبر ؟ تین مرتبہ کے سوال جواب کے بعد میں میں نے دیکھا کہ میرے دونوں مونڈھوں کے درمیان اللہ عزوجل نے اپنا ہاتھ رکھا یہاں تک کہ انگلیوں کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی اور مجھ پر ہر ایک چیز روشن ہوگئی پھر مجھ سے سوال کیا اب بتاؤ ملاء اعلیٰ میں کیا بات چیت ہو رہی ہے ؟ میں نے کہا گناہوں کے کفارے کی۔ فرمایا پھر تم بتاؤ کفارے کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نماز با جماعت کے لئے قدم اٹھا کر جانا۔ نمازوں کے بعد مسجدوں میں بیٹھے رہنا اور دل کے نہ چاہئے پر بھی کامل وضو کرنا۔ پھر مجھ سے میرے اللہ نے پوچھا درجے کیا ہیں ؟ میں نے کہا کھانا کھلانا۔ نرم کلامی کرنا اور راتوں کو جب لوگ سوئے پڑے ہوں نماز پڑھنا۔ اب مجھ سے میرے رب نے فرمایا مانگ کیا مانگتا ہے ؟ میں نے کہا میں نیکیوں کا کرنا برائیوں کا چھوڑنا مسکینوں سے محبت رکھنا اور تیری بخشش، تیرا رحم اور تیرا ارادہ جب کسی قوم کی آزمائش کا فتنے کے ساتھ ہو تو اسے فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے موت، تیری محبت اور تجھ سے محبت رکھنے والوں کی محبت اور ان کاموں کی چاہت جو تیری محبت سے قریب کرنے والے ہوں مانگتا ہوں اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا یہ سراسر حق ہے اسے پڑھو پڑھاؤ سیکھو سکھاؤ۔ یہ حدیث خواب کی ہے اور مشہور بھی یہی ہے بعض نے کہا ہے یہ جاگتے کا واقعہ ہے لیکن یہ غلط ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ خواب کا ہے اور یہ بھی خیال رہے کہ قرآن میں فرشتوں کی جس بات کا رد و بدل کرنا اس آیت میں مذکور ہے وہ یہ نہیں جو اس حدیث میں ہے بلکہ یہ سوال تو وہ ہے جس کا ذکر اس کے بعد ہی ہے ملاحظہ ہوں اگلی آیتیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى آمِرًا رَسُولَهُ ﷺ [[في س: "صلوات الله وسلامه عليه".]] أَنْ يَقُولَ لِلْكَفَّارِ بِاللَّهِ الْمُشْرِكِينَ بِهِ الْمُكَذِّبِينَ لِرَسُولِهِ: إِنَّمَا أَنَا مُنْذِرٌ [[في أ: "نذير مبين".]] لَسْتُ كَمَا تَزْعُمُونَ ﴿وَمَا مِنْ إِلَهٍ إِلا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ﴾ أَيْ: هُوَ [[في ت: "وهو".]] وَحْدَهُ قَدْ قَهَرَ كل شيء وغلبه. ﴿رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ﴾ أَيْ: هُوَ مَالِكٌ جَمِيعَ ذَلِكَ وَمُتَصَرِّفٌ فِيهِ ﴿الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ﴾ أَيْ: غَفَّارٌ مَعَ عِزَّتِهِ وَعَظَمَتِهِ.
﴿قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ﴾ أَيْ: خَبَرٌ عَظِيمٌ وَشَأْنٌ بَلِيغٌ وَهُوَ إِرْسَالُ اللَّهِ إِيَّايَ إِلَيْكُمْ ﴿أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ﴾ أَيْ: غَافِلُونَ.
قَالَ مُجَاهِدٌ وَشُرَيْحٌ الْقَاضِي وَالسُّدِّيُّ فِي قَوْلِهِ: ﴿قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ﴾ يَعْنِي: الْقُرْآنَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلإ الأعْلَى إِذْ يَخْتَصِمُونَ﴾ أَيْ: لَوْلَا الْوَحْيُ مِنْ أَيْنَ كُنْتُ أَدْرِي بِاخْتِلَافِ الْمَلَأِ الْأَعْلَى؟ يَعْنِي: فِي شَأْنِ آدَمَ وَامْتِنَاعِ إِبْلِيسَ مِنَ السُّجُودِ لَهُ، وَمُحَاجَّتِهِ رَبَّهُ فِي تَفْضِيلِهِ عَلَيْهِ.
فَأَمَّا الْحَدِيثُ الذِي رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ حَيْثُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا جَهْضَمٌ الْيَمَامِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: احْتَبَسَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ذَاتَ غَدَاةٍ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى كِدْنَا نَتَرَاءَى قَرْنَ الشَّمْسِ. فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ سَرِيعًا فَثَوّب بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى وتَجَوّز فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: "كَمَا أَنْتُمْ عَلَى مَصَافِّكُمْ". ثُمَّ أَقْبَلُ إِلَيْنَا فَقَالَ: "إِنِّي سَأُحَدِّثُكُمْ مَا حَبَسَنِي عَنْكُمُ الْغَدَاةَ، إِنِّي قُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّيْتُ مَا قُدّر لِي فَنَعَسْتُ فِي صَلَاتِي حَتَّى اسْتَيْقَظْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبِّي [[في ت، س، أ: "بربي عز وجل".]] فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَتَدْرِي فِيمَ يختصم الملأ الأعلى؟ قُلْتُ لَا أَدْرِي رَبِّ -أَعَادَهَا ثَلَاثًا-فَرَأَيْتُهُ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفِي حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهِ بَيْنَ صَدْرِي فَتَجَلَّى لِي كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: فِي الْكَفَّارَاتِ. قَالَ: وَمَا الْكَفَّارَاتُ؟ قُلْتُ [[في أ: "قال".]] نَقْلُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجُمُعَاتِ [[في ت، أ: "الجماعات".]] وَالْجُلُوسُ [[في ت، س، أ: "حسن صحيح".]] فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عِنْدَ الْكَرِيهَاتِ. قَالَ: وَمَا الدَّرَجَاتُ؟ قُلْتُ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَلِينُ الْكَلَامِ وَالصَّلَاةُ وَالنَّاسُ نِيَامٌ. قَالَ: سَلْ. قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً بِقَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ، وَأَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبِّكَ". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوهَا وَتَعَلَّمُوهَا" [[المسند (٥/٢٤٣) .]] فَهُوَ حَدِيثُ الْمَنَامِ الْمَشْهُورُ وَمَنْ جَعَلَهُ يَقَظَةً فَقَدْ غَلِطَ وَهُوَ فِي السُّنَنِ مِنْ طُرُقٍ.
وَهَذَا الْحَدِيثُ بِعَيْنِهِ قَدْ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مِنْ حَدِيثِ "جَهْضَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَمَامِيِّ" بِهِ. وَقَالَ: "حَسَنٌ صَحِيحٌ" [[سنن الترمذي برقم (٣٢٣٥) وقال: "سألت محمد بن إسماعيل -يعني: عن هذا الحديث- فقال: "حسن صحيح".]] وَلَيْسَ هَذَا الِاخْتِصَامُ هُوَ الِاخْتِصَامُ الْمَذْكُورُ فِي الْقُرْآنِ [[في ت: "المذكور في الآية الكريمة في القرآن".]] فَإِنَّ هَذَا قَدْ فُسِّرَ وَأَمَّا الِاخْتِصَامُ الَّذِي فِي الْقُرْآنِ فَقَدْ فُسِّرَ بَعْدَ هَذَا وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى:
رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ٱلْعَزِيزُ ٱلْغَفَّٰرُ
Lord of the heavens and the earth and whatever is between them, the Exalted in Might, the Perpetual Forgiver."
جو آسمانوں اور زمین اور جو مخلوق ان میں ہے سب کا مالک ہے غالب (اور) بخشنے والا
پروردگار آسمانها و زمین و آنچه میان آن دو است، پروردگار عزیز و غفّار!»
Tafsir Ibn Kathir
Say: "I am only a warner and there is no God (worthy of worship) except Allah the One, the Irresistible, (65)"The Lord of the heavens and the earth and all that is between them, the Almighty, the Oft-Forgiving. (66)Say: "That is a great news, (67)"From which you turn away! (68)"I had no knowledge of the chiefs (angels) on high when they were disputing and discussing. (69)"Only this has been revealed to me, that I am a plain warner. (70)
The Message of the Messenger ﷺ is a Great News
Allah tells His Messenger ﷺ to say to those who disbelieved in Allah, associated others in worship with Him and denied His Messenger: 'I am a warner, I am not as you claim.'
وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ
(and there is no God (worthy of worship) except Allah, the One, the Irresistible,) means, He Alone has subjugated and controlled everything.
رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا
(The Lord of the heavens and the earth and all that is between them,) means, He is the Sovereign of all that and is in control of it.
الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ
(the Almighty, the Oft-Forgiving.) means, He is Oft-Forgiving as well as being Almighty and All-Powerful.
قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ
(Say: "That (this Qur'an) is a great news,") means, 'something very important, which is that Allah has sent me to you.
أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ
(From which you turn away!) means, 'you neglect it.'
مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ إِذْ يَخْتَصِمُونَ
(I had no knowledge of the chiefs (angels) on high when they were disputing and discussing.) meaning, 'were it not for the divine revelation, how could I have known about the dispute of the chiefs on high (the angels)?' This refers to their dispute concerning Adam, peace be upon him, and how Iblis refused to prostrate to him and argued with his Lord because He preferred him (Adam) over him. This is what Allah says:
Tafsir Ibn Kathir
نبی ؑ کا خواب۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ میری نسبت تمہارے خیالات محض غلط ہیں میں تو تمہیں ڈر کی خبر پہچانے والا ہوں۔ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں وہ اکیلا ہے وہ ہر چیز پر غالب ہے، ہر چیز اس کے ماتحت ہے۔ وہ زمین و آسمان اور ہر چیز کا مالک ہے اور سب تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں۔ وہ عزتوں والا ہے اور باوجود اس عظمت و عزت کے بڑا بخشنے والا ہے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے یعنی میرا رسول بن کر تمہاری طرف آنا پھر تم اے غافلو اس سے اعراض کر رہے ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بڑی چیز ہے یعنی قرآن کریم۔ حضرت آدم ؑ کے بارے میں فرشتوں میں جو کچھ اختلاف ہوا اگر رب کی وحی میرے پاس نہ آئی ہوتی تو مجھے اس کی بابت کیا علم ہوتا ؟ ابلیس کا آپ کو سجدہ کرنے سے منکر ہونا اور رب کے سامنے اس کی مخالفت کرنا اور اپنی بڑائی جتانا وغیرہ ان سب باتوں کو میں کیا جانوں ؟ مسند احمد میں ہے ایک دن صبح کی نماز میں حضور ﷺ نے بہت دیر لگا دی یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کا وقت آگیا پھر بہت جلدی کرتے ہوئے آئے تکبیر کہی گئی اور آپ نے ہلکی نماز پڑھائی۔ پھر ہم سے فرمایا ذرا دیر ٹھہرے رہو پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا رات کو میں تہجد کی نماز پڑھ رہا تھا جو مجھے اونگھ آنے لگی یہاں تک کہ میں جاگا میں نے دیکھا کہ گویا میں اپنے رب کے پاس ہوں میں نے اپنے پروردگار کو بہرتین عمدہ صورت میں دیکھا مجھ سے جناب باری نے دریافت فرمایا جانتے ہو عالم بالا کے فرشتے اس وقت کس امر میں گفتگو اور سوال و جواب کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا میرے رب مجھے کیا خبر ؟ تین مرتبہ کے سوال جواب کے بعد میں میں نے دیکھا کہ میرے دونوں مونڈھوں کے درمیان اللہ عزوجل نے اپنا ہاتھ رکھا یہاں تک کہ انگلیوں کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی اور مجھ پر ہر ایک چیز روشن ہوگئی پھر مجھ سے سوال کیا اب بتاؤ ملاء اعلیٰ میں کیا بات چیت ہو رہی ہے ؟ میں نے کہا گناہوں کے کفارے کی۔ فرمایا پھر تم بتاؤ کفارے کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نماز با جماعت کے لئے قدم اٹھا کر جانا۔ نمازوں کے بعد مسجدوں میں بیٹھے رہنا اور دل کے نہ چاہئے پر بھی کامل وضو کرنا۔ پھر مجھ سے میرے اللہ نے پوچھا درجے کیا ہیں ؟ میں نے کہا کھانا کھلانا۔ نرم کلامی کرنا اور راتوں کو جب لوگ سوئے پڑے ہوں نماز پڑھنا۔ اب مجھ سے میرے رب نے فرمایا مانگ کیا مانگتا ہے ؟ میں نے کہا میں نیکیوں کا کرنا برائیوں کا چھوڑنا مسکینوں سے محبت رکھنا اور تیری بخشش، تیرا رحم اور تیرا ارادہ جب کسی قوم کی آزمائش کا فتنے کے ساتھ ہو تو اسے فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے موت، تیری محبت اور تجھ سے محبت رکھنے والوں کی محبت اور ان کاموں کی چاہت جو تیری محبت سے قریب کرنے والے ہوں مانگتا ہوں اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا یہ سراسر حق ہے اسے پڑھو پڑھاؤ سیکھو سکھاؤ۔ یہ حدیث خواب کی ہے اور مشہور بھی یہی ہے بعض نے کہا ہے یہ جاگتے کا واقعہ ہے لیکن یہ غلط ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ خواب کا ہے اور یہ بھی خیال رہے کہ قرآن میں فرشتوں کی جس بات کا رد و بدل کرنا اس آیت میں مذکور ہے وہ یہ نہیں جو اس حدیث میں ہے بلکہ یہ سوال تو وہ ہے جس کا ذکر اس کے بعد ہی ہے ملاحظہ ہوں اگلی آیتیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى آمِرًا رَسُولَهُ ﷺ [[في س: "صلوات الله وسلامه عليه".]] أَنْ يَقُولَ لِلْكَفَّارِ بِاللَّهِ الْمُشْرِكِينَ بِهِ الْمُكَذِّبِينَ لِرَسُولِهِ: إِنَّمَا أَنَا مُنْذِرٌ [[في أ: "نذير مبين".]] لَسْتُ كَمَا تَزْعُمُونَ ﴿وَمَا مِنْ إِلَهٍ إِلا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ﴾ أَيْ: هُوَ [[في ت: "وهو".]] وَحْدَهُ قَدْ قَهَرَ كل شيء وغلبه. ﴿رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ﴾ أَيْ: هُوَ مَالِكٌ جَمِيعَ ذَلِكَ وَمُتَصَرِّفٌ فِيهِ ﴿الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ﴾ أَيْ: غَفَّارٌ مَعَ عِزَّتِهِ وَعَظَمَتِهِ.
﴿قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ﴾ أَيْ: خَبَرٌ عَظِيمٌ وَشَأْنٌ بَلِيغٌ وَهُوَ إِرْسَالُ اللَّهِ إِيَّايَ إِلَيْكُمْ ﴿أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ﴾ أَيْ: غَافِلُونَ.
قَالَ مُجَاهِدٌ وَشُرَيْحٌ الْقَاضِي وَالسُّدِّيُّ فِي قَوْلِهِ: ﴿قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ﴾ يَعْنِي: الْقُرْآنَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلإ الأعْلَى إِذْ يَخْتَصِمُونَ﴾ أَيْ: لَوْلَا الْوَحْيُ مِنْ أَيْنَ كُنْتُ أَدْرِي بِاخْتِلَافِ الْمَلَأِ الْأَعْلَى؟ يَعْنِي: فِي شَأْنِ آدَمَ وَامْتِنَاعِ إِبْلِيسَ مِنَ السُّجُودِ لَهُ، وَمُحَاجَّتِهِ رَبَّهُ فِي تَفْضِيلِهِ عَلَيْهِ.
فَأَمَّا الْحَدِيثُ الذِي رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ حَيْثُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا جَهْضَمٌ الْيَمَامِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: احْتَبَسَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ذَاتَ غَدَاةٍ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى كِدْنَا نَتَرَاءَى قَرْنَ الشَّمْسِ. فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ سَرِيعًا فَثَوّب بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى وتَجَوّز فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: "كَمَا أَنْتُمْ عَلَى مَصَافِّكُمْ". ثُمَّ أَقْبَلُ إِلَيْنَا فَقَالَ: "إِنِّي سَأُحَدِّثُكُمْ مَا حَبَسَنِي عَنْكُمُ الْغَدَاةَ، إِنِّي قُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّيْتُ مَا قُدّر لِي فَنَعَسْتُ فِي صَلَاتِي حَتَّى اسْتَيْقَظْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبِّي [[في ت، س، أ: "بربي عز وجل".]] فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَتَدْرِي فِيمَ يختصم الملأ الأعلى؟ قُلْتُ لَا أَدْرِي رَبِّ -أَعَادَهَا ثَلَاثًا-فَرَأَيْتُهُ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفِي حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهِ بَيْنَ صَدْرِي فَتَجَلَّى لِي كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: فِي الْكَفَّارَاتِ. قَالَ: وَمَا الْكَفَّارَاتُ؟ قُلْتُ [[في أ: "قال".]] نَقْلُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجُمُعَاتِ [[في ت، أ: "الجماعات".]] وَالْجُلُوسُ [[في ت، س، أ: "حسن صحيح".]] فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عِنْدَ الْكَرِيهَاتِ. قَالَ: وَمَا الدَّرَجَاتُ؟ قُلْتُ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَلِينُ الْكَلَامِ وَالصَّلَاةُ وَالنَّاسُ نِيَامٌ. قَالَ: سَلْ. قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً بِقَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ، وَأَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبِّكَ". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوهَا وَتَعَلَّمُوهَا" [[المسند (٥/٢٤٣) .]] فَهُوَ حَدِيثُ الْمَنَامِ الْمَشْهُورُ وَمَنْ جَعَلَهُ يَقَظَةً فَقَدْ غَلِطَ وَهُوَ فِي السُّنَنِ مِنْ طُرُقٍ.
وَهَذَا الْحَدِيثُ بِعَيْنِهِ قَدْ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مِنْ حَدِيثِ "جَهْضَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَمَامِيِّ" بِهِ. وَقَالَ: "حَسَنٌ صَحِيحٌ" [[سنن الترمذي برقم (٣٢٣٥) وقال: "سألت محمد بن إسماعيل -يعني: عن هذا الحديث- فقال: "حسن صحيح".]] وَلَيْسَ هَذَا الِاخْتِصَامُ هُوَ الِاخْتِصَامُ الْمَذْكُورُ فِي الْقُرْآنِ [[في ت: "المذكور في الآية الكريمة في القرآن".]] فَإِنَّ هَذَا قَدْ فُسِّرَ وَأَمَّا الِاخْتِصَامُ الَّذِي فِي الْقُرْآنِ فَقَدْ فُسِّرَ بَعْدَ هَذَا وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى:
قُلْ هُوَ نَبَؤٌا۟ عَظِيمٌ
Say, "It is great news
کہہ دو کہ یہ ایک بڑی (ہولناک چیز کی) خبر ہے
بگو: «این خبری بزرگ است،
Tafsir Ibn Kathir
Say: "I am only a warner and there is no God (worthy of worship) except Allah the One, the Irresistible, (65)"The Lord of the heavens and the earth and all that is between them, the Almighty, the Oft-Forgiving. (66)Say: "That is a great news, (67)"From which you turn away! (68)"I had no knowledge of the chiefs (angels) on high when they were disputing and discussing. (69)"Only this has been revealed to me, that I am a plain warner. (70)
The Message of the Messenger ﷺ is a Great News
Allah tells His Messenger ﷺ to say to those who disbelieved in Allah, associated others in worship with Him and denied His Messenger: 'I am a warner, I am not as you claim.'
وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ
(and there is no God (worthy of worship) except Allah, the One, the Irresistible,) means, He Alone has subjugated and controlled everything.
رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا
(The Lord of the heavens and the earth and all that is between them,) means, He is the Sovereign of all that and is in control of it.
الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ
(the Almighty, the Oft-Forgiving.) means, He is Oft-Forgiving as well as being Almighty and All-Powerful.
قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ
(Say: "That (this Qur'an) is a great news,") means, 'something very important, which is that Allah has sent me to you.
أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ
(From which you turn away!) means, 'you neglect it.'
مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ إِذْ يَخْتَصِمُونَ
(I had no knowledge of the chiefs (angels) on high when they were disputing and discussing.) meaning, 'were it not for the divine revelation, how could I have known about the dispute of the chiefs on high (the angels)?' This refers to their dispute concerning Adam, peace be upon him, and how Iblis refused to prostrate to him and argued with his Lord because He preferred him (Adam) over him. This is what Allah says:
Tafsir Ibn Kathir
نبی ؑ کا خواب۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ میری نسبت تمہارے خیالات محض غلط ہیں میں تو تمہیں ڈر کی خبر پہچانے والا ہوں۔ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں وہ اکیلا ہے وہ ہر چیز پر غالب ہے، ہر چیز اس کے ماتحت ہے۔ وہ زمین و آسمان اور ہر چیز کا مالک ہے اور سب تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں۔ وہ عزتوں والا ہے اور باوجود اس عظمت و عزت کے بڑا بخشنے والا ہے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے یعنی میرا رسول بن کر تمہاری طرف آنا پھر تم اے غافلو اس سے اعراض کر رہے ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بڑی چیز ہے یعنی قرآن کریم۔ حضرت آدم ؑ کے بارے میں فرشتوں میں جو کچھ اختلاف ہوا اگر رب کی وحی میرے پاس نہ آئی ہوتی تو مجھے اس کی بابت کیا علم ہوتا ؟ ابلیس کا آپ کو سجدہ کرنے سے منکر ہونا اور رب کے سامنے اس کی مخالفت کرنا اور اپنی بڑائی جتانا وغیرہ ان سب باتوں کو میں کیا جانوں ؟ مسند احمد میں ہے ایک دن صبح کی نماز میں حضور ﷺ نے بہت دیر لگا دی یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کا وقت آگیا پھر بہت جلدی کرتے ہوئے آئے تکبیر کہی گئی اور آپ نے ہلکی نماز پڑھائی۔ پھر ہم سے فرمایا ذرا دیر ٹھہرے رہو پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا رات کو میں تہجد کی نماز پڑھ رہا تھا جو مجھے اونگھ آنے لگی یہاں تک کہ میں جاگا میں نے دیکھا کہ گویا میں اپنے رب کے پاس ہوں میں نے اپنے پروردگار کو بہرتین عمدہ صورت میں دیکھا مجھ سے جناب باری نے دریافت فرمایا جانتے ہو عالم بالا کے فرشتے اس وقت کس امر میں گفتگو اور سوال و جواب کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا میرے رب مجھے کیا خبر ؟ تین مرتبہ کے سوال جواب کے بعد میں میں نے دیکھا کہ میرے دونوں مونڈھوں کے درمیان اللہ عزوجل نے اپنا ہاتھ رکھا یہاں تک کہ انگلیوں کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی اور مجھ پر ہر ایک چیز روشن ہوگئی پھر مجھ سے سوال کیا اب بتاؤ ملاء اعلیٰ میں کیا بات چیت ہو رہی ہے ؟ میں نے کہا گناہوں کے کفارے کی۔ فرمایا پھر تم بتاؤ کفارے کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نماز با جماعت کے لئے قدم اٹھا کر جانا۔ نمازوں کے بعد مسجدوں میں بیٹھے رہنا اور دل کے نہ چاہئے پر بھی کامل وضو کرنا۔ پھر مجھ سے میرے اللہ نے پوچھا درجے کیا ہیں ؟ میں نے کہا کھانا کھلانا۔ نرم کلامی کرنا اور راتوں کو جب لوگ سوئے پڑے ہوں نماز پڑھنا۔ اب مجھ سے میرے رب نے فرمایا مانگ کیا مانگتا ہے ؟ میں نے کہا میں نیکیوں کا کرنا برائیوں کا چھوڑنا مسکینوں سے محبت رکھنا اور تیری بخشش، تیرا رحم اور تیرا ارادہ جب کسی قوم کی آزمائش کا فتنے کے ساتھ ہو تو اسے فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے موت، تیری محبت اور تجھ سے محبت رکھنے والوں کی محبت اور ان کاموں کی چاہت جو تیری محبت سے قریب کرنے والے ہوں مانگتا ہوں اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا یہ سراسر حق ہے اسے پڑھو پڑھاؤ سیکھو سکھاؤ۔ یہ حدیث خواب کی ہے اور مشہور بھی یہی ہے بعض نے کہا ہے یہ جاگتے کا واقعہ ہے لیکن یہ غلط ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ خواب کا ہے اور یہ بھی خیال رہے کہ قرآن میں فرشتوں کی جس بات کا رد و بدل کرنا اس آیت میں مذکور ہے وہ یہ نہیں جو اس حدیث میں ہے بلکہ یہ سوال تو وہ ہے جس کا ذکر اس کے بعد ہی ہے ملاحظہ ہوں اگلی آیتیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى آمِرًا رَسُولَهُ ﷺ [[في س: "صلوات الله وسلامه عليه".]] أَنْ يَقُولَ لِلْكَفَّارِ بِاللَّهِ الْمُشْرِكِينَ بِهِ الْمُكَذِّبِينَ لِرَسُولِهِ: إِنَّمَا أَنَا مُنْذِرٌ [[في أ: "نذير مبين".]] لَسْتُ كَمَا تَزْعُمُونَ ﴿وَمَا مِنْ إِلَهٍ إِلا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ﴾ أَيْ: هُوَ [[في ت: "وهو".]] وَحْدَهُ قَدْ قَهَرَ كل شيء وغلبه. ﴿رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ﴾ أَيْ: هُوَ مَالِكٌ جَمِيعَ ذَلِكَ وَمُتَصَرِّفٌ فِيهِ ﴿الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ﴾ أَيْ: غَفَّارٌ مَعَ عِزَّتِهِ وَعَظَمَتِهِ.
﴿قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ﴾ أَيْ: خَبَرٌ عَظِيمٌ وَشَأْنٌ بَلِيغٌ وَهُوَ إِرْسَالُ اللَّهِ إِيَّايَ إِلَيْكُمْ ﴿أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ﴾ أَيْ: غَافِلُونَ.
قَالَ مُجَاهِدٌ وَشُرَيْحٌ الْقَاضِي وَالسُّدِّيُّ فِي قَوْلِهِ: ﴿قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ﴾ يَعْنِي: الْقُرْآنَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلإ الأعْلَى إِذْ يَخْتَصِمُونَ﴾ أَيْ: لَوْلَا الْوَحْيُ مِنْ أَيْنَ كُنْتُ أَدْرِي بِاخْتِلَافِ الْمَلَأِ الْأَعْلَى؟ يَعْنِي: فِي شَأْنِ آدَمَ وَامْتِنَاعِ إِبْلِيسَ مِنَ السُّجُودِ لَهُ، وَمُحَاجَّتِهِ رَبَّهُ فِي تَفْضِيلِهِ عَلَيْهِ.
فَأَمَّا الْحَدِيثُ الذِي رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ حَيْثُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا جَهْضَمٌ الْيَمَامِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: احْتَبَسَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ذَاتَ غَدَاةٍ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى كِدْنَا نَتَرَاءَى قَرْنَ الشَّمْسِ. فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ سَرِيعًا فَثَوّب بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى وتَجَوّز فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: "كَمَا أَنْتُمْ عَلَى مَصَافِّكُمْ". ثُمَّ أَقْبَلُ إِلَيْنَا فَقَالَ: "إِنِّي سَأُحَدِّثُكُمْ مَا حَبَسَنِي عَنْكُمُ الْغَدَاةَ، إِنِّي قُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّيْتُ مَا قُدّر لِي فَنَعَسْتُ فِي صَلَاتِي حَتَّى اسْتَيْقَظْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبِّي [[في ت، س، أ: "بربي عز وجل".]] فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَتَدْرِي فِيمَ يختصم الملأ الأعلى؟ قُلْتُ لَا أَدْرِي رَبِّ -أَعَادَهَا ثَلَاثًا-فَرَأَيْتُهُ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفِي حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهِ بَيْنَ صَدْرِي فَتَجَلَّى لِي كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: فِي الْكَفَّارَاتِ. قَالَ: وَمَا الْكَفَّارَاتُ؟ قُلْتُ [[في أ: "قال".]] نَقْلُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجُمُعَاتِ [[في ت، أ: "الجماعات".]] وَالْجُلُوسُ [[في ت، س، أ: "حسن صحيح".]] فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عِنْدَ الْكَرِيهَاتِ. قَالَ: وَمَا الدَّرَجَاتُ؟ قُلْتُ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَلِينُ الْكَلَامِ وَالصَّلَاةُ وَالنَّاسُ نِيَامٌ. قَالَ: سَلْ. قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً بِقَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ، وَأَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبِّكَ". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوهَا وَتَعَلَّمُوهَا" [[المسند (٥/٢٤٣) .]] فَهُوَ حَدِيثُ الْمَنَامِ الْمَشْهُورُ وَمَنْ جَعَلَهُ يَقَظَةً فَقَدْ غَلِطَ وَهُوَ فِي السُّنَنِ مِنْ طُرُقٍ.
وَهَذَا الْحَدِيثُ بِعَيْنِهِ قَدْ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مِنْ حَدِيثِ "جَهْضَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَمَامِيِّ" بِهِ. وَقَالَ: "حَسَنٌ صَحِيحٌ" [[سنن الترمذي برقم (٣٢٣٥) وقال: "سألت محمد بن إسماعيل -يعني: عن هذا الحديث- فقال: "حسن صحيح".]] وَلَيْسَ هَذَا الِاخْتِصَامُ هُوَ الِاخْتِصَامُ الْمَذْكُورُ فِي الْقُرْآنِ [[في ت: "المذكور في الآية الكريمة في القرآن".]] فَإِنَّ هَذَا قَدْ فُسِّرَ وَأَمَّا الِاخْتِصَامُ الَّذِي فِي الْقُرْآنِ فَقَدْ فُسِّرَ بَعْدَ هَذَا وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى:
أَنتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ
From which you turn away.
جس کو تم دھیان میں نہیں لاتے
که شما از آن رویگردانید!
Tafsir Ibn Kathir
Say: "I am only a warner and there is no God (worthy of worship) except Allah the One, the Irresistible, (65)"The Lord of the heavens and the earth and all that is between them, the Almighty, the Oft-Forgiving. (66)Say: "That is a great news, (67)"From which you turn away! (68)"I had no knowledge of the chiefs (angels) on high when they were disputing and discussing. (69)"Only this has been revealed to me, that I am a plain warner. (70)
The Message of the Messenger ﷺ is a Great News
Allah tells His Messenger ﷺ to say to those who disbelieved in Allah, associated others in worship with Him and denied His Messenger: 'I am a warner, I am not as you claim.'
وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ
(and there is no God (worthy of worship) except Allah, the One, the Irresistible,) means, He Alone has subjugated and controlled everything.
رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا
(The Lord of the heavens and the earth and all that is between them,) means, He is the Sovereign of all that and is in control of it.
الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ
(the Almighty, the Oft-Forgiving.) means, He is Oft-Forgiving as well as being Almighty and All-Powerful.
قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ
(Say: "That (this Qur'an) is a great news,") means, 'something very important, which is that Allah has sent me to you.
أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ
(From which you turn away!) means, 'you neglect it.'
مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ إِذْ يَخْتَصِمُونَ
(I had no knowledge of the chiefs (angels) on high when they were disputing and discussing.) meaning, 'were it not for the divine revelation, how could I have known about the dispute of the chiefs on high (the angels)?' This refers to their dispute concerning Adam, peace be upon him, and how Iblis refused to prostrate to him and argued with his Lord because He preferred him (Adam) over him. This is what Allah says:
Tafsir Ibn Kathir
نبی ؑ کا خواب۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ میری نسبت تمہارے خیالات محض غلط ہیں میں تو تمہیں ڈر کی خبر پہچانے والا ہوں۔ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں وہ اکیلا ہے وہ ہر چیز پر غالب ہے، ہر چیز اس کے ماتحت ہے۔ وہ زمین و آسمان اور ہر چیز کا مالک ہے اور سب تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں۔ وہ عزتوں والا ہے اور باوجود اس عظمت و عزت کے بڑا بخشنے والا ہے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے یعنی میرا رسول بن کر تمہاری طرف آنا پھر تم اے غافلو اس سے اعراض کر رہے ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بڑی چیز ہے یعنی قرآن کریم۔ حضرت آدم ؑ کے بارے میں فرشتوں میں جو کچھ اختلاف ہوا اگر رب کی وحی میرے پاس نہ آئی ہوتی تو مجھے اس کی بابت کیا علم ہوتا ؟ ابلیس کا آپ کو سجدہ کرنے سے منکر ہونا اور رب کے سامنے اس کی مخالفت کرنا اور اپنی بڑائی جتانا وغیرہ ان سب باتوں کو میں کیا جانوں ؟ مسند احمد میں ہے ایک دن صبح کی نماز میں حضور ﷺ نے بہت دیر لگا دی یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کا وقت آگیا پھر بہت جلدی کرتے ہوئے آئے تکبیر کہی گئی اور آپ نے ہلکی نماز پڑھائی۔ پھر ہم سے فرمایا ذرا دیر ٹھہرے رہو پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا رات کو میں تہجد کی نماز پڑھ رہا تھا جو مجھے اونگھ آنے لگی یہاں تک کہ میں جاگا میں نے دیکھا کہ گویا میں اپنے رب کے پاس ہوں میں نے اپنے پروردگار کو بہرتین عمدہ صورت میں دیکھا مجھ سے جناب باری نے دریافت فرمایا جانتے ہو عالم بالا کے فرشتے اس وقت کس امر میں گفتگو اور سوال و جواب کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا میرے رب مجھے کیا خبر ؟ تین مرتبہ کے سوال جواب کے بعد میں میں نے دیکھا کہ میرے دونوں مونڈھوں کے درمیان اللہ عزوجل نے اپنا ہاتھ رکھا یہاں تک کہ انگلیوں کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی اور مجھ پر ہر ایک چیز روشن ہوگئی پھر مجھ سے سوال کیا اب بتاؤ ملاء اعلیٰ میں کیا بات چیت ہو رہی ہے ؟ میں نے کہا گناہوں کے کفارے کی۔ فرمایا پھر تم بتاؤ کفارے کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نماز با جماعت کے لئے قدم اٹھا کر جانا۔ نمازوں کے بعد مسجدوں میں بیٹھے رہنا اور دل کے نہ چاہئے پر بھی کامل وضو کرنا۔ پھر مجھ سے میرے اللہ نے پوچھا درجے کیا ہیں ؟ میں نے کہا کھانا کھلانا۔ نرم کلامی کرنا اور راتوں کو جب لوگ سوئے پڑے ہوں نماز پڑھنا۔ اب مجھ سے میرے رب نے فرمایا مانگ کیا مانگتا ہے ؟ میں نے کہا میں نیکیوں کا کرنا برائیوں کا چھوڑنا مسکینوں سے محبت رکھنا اور تیری بخشش، تیرا رحم اور تیرا ارادہ جب کسی قوم کی آزمائش کا فتنے کے ساتھ ہو تو اسے فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے موت، تیری محبت اور تجھ سے محبت رکھنے والوں کی محبت اور ان کاموں کی چاہت جو تیری محبت سے قریب کرنے والے ہوں مانگتا ہوں اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا یہ سراسر حق ہے اسے پڑھو پڑھاؤ سیکھو سکھاؤ۔ یہ حدیث خواب کی ہے اور مشہور بھی یہی ہے بعض نے کہا ہے یہ جاگتے کا واقعہ ہے لیکن یہ غلط ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ خواب کا ہے اور یہ بھی خیال رہے کہ قرآن میں فرشتوں کی جس بات کا رد و بدل کرنا اس آیت میں مذکور ہے وہ یہ نہیں جو اس حدیث میں ہے بلکہ یہ سوال تو وہ ہے جس کا ذکر اس کے بعد ہی ہے ملاحظہ ہوں اگلی آیتیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى آمِرًا رَسُولَهُ ﷺ [[في س: "صلوات الله وسلامه عليه".]] أَنْ يَقُولَ لِلْكَفَّارِ بِاللَّهِ الْمُشْرِكِينَ بِهِ الْمُكَذِّبِينَ لِرَسُولِهِ: إِنَّمَا أَنَا مُنْذِرٌ [[في أ: "نذير مبين".]] لَسْتُ كَمَا تَزْعُمُونَ ﴿وَمَا مِنْ إِلَهٍ إِلا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ﴾ أَيْ: هُوَ [[في ت: "وهو".]] وَحْدَهُ قَدْ قَهَرَ كل شيء وغلبه. ﴿رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ﴾ أَيْ: هُوَ مَالِكٌ جَمِيعَ ذَلِكَ وَمُتَصَرِّفٌ فِيهِ ﴿الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ﴾ أَيْ: غَفَّارٌ مَعَ عِزَّتِهِ وَعَظَمَتِهِ.
﴿قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ﴾ أَيْ: خَبَرٌ عَظِيمٌ وَشَأْنٌ بَلِيغٌ وَهُوَ إِرْسَالُ اللَّهِ إِيَّايَ إِلَيْكُمْ ﴿أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ﴾ أَيْ: غَافِلُونَ.
قَالَ مُجَاهِدٌ وَشُرَيْحٌ الْقَاضِي وَالسُّدِّيُّ فِي قَوْلِهِ: ﴿قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ﴾ يَعْنِي: الْقُرْآنَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلإ الأعْلَى إِذْ يَخْتَصِمُونَ﴾ أَيْ: لَوْلَا الْوَحْيُ مِنْ أَيْنَ كُنْتُ أَدْرِي بِاخْتِلَافِ الْمَلَأِ الْأَعْلَى؟ يَعْنِي: فِي شَأْنِ آدَمَ وَامْتِنَاعِ إِبْلِيسَ مِنَ السُّجُودِ لَهُ، وَمُحَاجَّتِهِ رَبَّهُ فِي تَفْضِيلِهِ عَلَيْهِ.
فَأَمَّا الْحَدِيثُ الذِي رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ حَيْثُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا جَهْضَمٌ الْيَمَامِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: احْتَبَسَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ذَاتَ غَدَاةٍ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى كِدْنَا نَتَرَاءَى قَرْنَ الشَّمْسِ. فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ سَرِيعًا فَثَوّب بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى وتَجَوّز فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: "كَمَا أَنْتُمْ عَلَى مَصَافِّكُمْ". ثُمَّ أَقْبَلُ إِلَيْنَا فَقَالَ: "إِنِّي سَأُحَدِّثُكُمْ مَا حَبَسَنِي عَنْكُمُ الْغَدَاةَ، إِنِّي قُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّيْتُ مَا قُدّر لِي فَنَعَسْتُ فِي صَلَاتِي حَتَّى اسْتَيْقَظْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبِّي [[في ت، س، أ: "بربي عز وجل".]] فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَتَدْرِي فِيمَ يختصم الملأ الأعلى؟ قُلْتُ لَا أَدْرِي رَبِّ -أَعَادَهَا ثَلَاثًا-فَرَأَيْتُهُ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفِي حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهِ بَيْنَ صَدْرِي فَتَجَلَّى لِي كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: فِي الْكَفَّارَاتِ. قَالَ: وَمَا الْكَفَّارَاتُ؟ قُلْتُ [[في أ: "قال".]] نَقْلُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجُمُعَاتِ [[في ت، أ: "الجماعات".]] وَالْجُلُوسُ [[في ت، س، أ: "حسن صحيح".]] فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عِنْدَ الْكَرِيهَاتِ. قَالَ: وَمَا الدَّرَجَاتُ؟ قُلْتُ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَلِينُ الْكَلَامِ وَالصَّلَاةُ وَالنَّاسُ نِيَامٌ. قَالَ: سَلْ. قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً بِقَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ، وَأَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبِّكَ". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوهَا وَتَعَلَّمُوهَا" [[المسند (٥/٢٤٣) .]] فَهُوَ حَدِيثُ الْمَنَامِ الْمَشْهُورُ وَمَنْ جَعَلَهُ يَقَظَةً فَقَدْ غَلِطَ وَهُوَ فِي السُّنَنِ مِنْ طُرُقٍ.
وَهَذَا الْحَدِيثُ بِعَيْنِهِ قَدْ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مِنْ حَدِيثِ "جَهْضَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَمَامِيِّ" بِهِ. وَقَالَ: "حَسَنٌ صَحِيحٌ" [[سنن الترمذي برقم (٣٢٣٥) وقال: "سألت محمد بن إسماعيل -يعني: عن هذا الحديث- فقال: "حسن صحيح".]] وَلَيْسَ هَذَا الِاخْتِصَامُ هُوَ الِاخْتِصَامُ الْمَذْكُورُ فِي الْقُرْآنِ [[في ت: "المذكور في الآية الكريمة في القرآن".]] فَإِنَّ هَذَا قَدْ فُسِّرَ وَأَمَّا الِاخْتِصَامُ الَّذِي فِي الْقُرْآنِ فَقَدْ فُسِّرَ بَعْدَ هَذَا وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى:
مَا كَانَ لِىَ مِنْ عِلْمٍۭ بِٱلْمَلَإِ ٱلْأَعْلَىٰٓ إِذْ يَخْتَصِمُونَ
I had no knowledge of the exalted assembly [of angels] when they were disputing [the creation of Adam].
مجھ کو اوپر کی مجلس (والوں) کا جب وہ جھگڑتے تھے کچھ بھی علم نہ تھا
من از ملأ اعلی (و فرشتگان عالم بالا) به هنگامی که (درباره آفرینش آدم) مخاصمه میکردند خبر ندارم!
Tafsir Ibn Kathir
Say: "I am only a warner and there is no God (worthy of worship) except Allah the One, the Irresistible, (65)"The Lord of the heavens and the earth and all that is between them, the Almighty, the Oft-Forgiving. (66)Say: "That is a great news, (67)"From which you turn away! (68)"I had no knowledge of the chiefs (angels) on high when they were disputing and discussing. (69)"Only this has been revealed to me, that I am a plain warner. (70)
The Message of the Messenger ﷺ is a Great News
Allah tells His Messenger ﷺ to say to those who disbelieved in Allah, associated others in worship with Him and denied His Messenger: 'I am a warner, I am not as you claim.'
وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ
(and there is no God (worthy of worship) except Allah, the One, the Irresistible,) means, He Alone has subjugated and controlled everything.
رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا
(The Lord of the heavens and the earth and all that is between them,) means, He is the Sovereign of all that and is in control of it.
الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ
(the Almighty, the Oft-Forgiving.) means, He is Oft-Forgiving as well as being Almighty and All-Powerful.
قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ
(Say: "That (this Qur'an) is a great news,") means, 'something very important, which is that Allah has sent me to you.
أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ
(From which you turn away!) means, 'you neglect it.'
مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ إِذْ يَخْتَصِمُونَ
(I had no knowledge of the chiefs (angels) on high when they were disputing and discussing.) meaning, 'were it not for the divine revelation, how could I have known about the dispute of the chiefs on high (the angels)?' This refers to their dispute concerning Adam, peace be upon him, and how Iblis refused to prostrate to him and argued with his Lord because He preferred him (Adam) over him. This is what Allah says:
Tafsir Ibn Kathir
نبی ؑ کا خواب۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ میری نسبت تمہارے خیالات محض غلط ہیں میں تو تمہیں ڈر کی خبر پہچانے والا ہوں۔ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں وہ اکیلا ہے وہ ہر چیز پر غالب ہے، ہر چیز اس کے ماتحت ہے۔ وہ زمین و آسمان اور ہر چیز کا مالک ہے اور سب تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں۔ وہ عزتوں والا ہے اور باوجود اس عظمت و عزت کے بڑا بخشنے والا ہے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے یعنی میرا رسول بن کر تمہاری طرف آنا پھر تم اے غافلو اس سے اعراض کر رہے ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بڑی چیز ہے یعنی قرآن کریم۔ حضرت آدم ؑ کے بارے میں فرشتوں میں جو کچھ اختلاف ہوا اگر رب کی وحی میرے پاس نہ آئی ہوتی تو مجھے اس کی بابت کیا علم ہوتا ؟ ابلیس کا آپ کو سجدہ کرنے سے منکر ہونا اور رب کے سامنے اس کی مخالفت کرنا اور اپنی بڑائی جتانا وغیرہ ان سب باتوں کو میں کیا جانوں ؟ مسند احمد میں ہے ایک دن صبح کی نماز میں حضور ﷺ نے بہت دیر لگا دی یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کا وقت آگیا پھر بہت جلدی کرتے ہوئے آئے تکبیر کہی گئی اور آپ نے ہلکی نماز پڑھائی۔ پھر ہم سے فرمایا ذرا دیر ٹھہرے رہو پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا رات کو میں تہجد کی نماز پڑھ رہا تھا جو مجھے اونگھ آنے لگی یہاں تک کہ میں جاگا میں نے دیکھا کہ گویا میں اپنے رب کے پاس ہوں میں نے اپنے پروردگار کو بہرتین عمدہ صورت میں دیکھا مجھ سے جناب باری نے دریافت فرمایا جانتے ہو عالم بالا کے فرشتے اس وقت کس امر میں گفتگو اور سوال و جواب کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا میرے رب مجھے کیا خبر ؟ تین مرتبہ کے سوال جواب کے بعد میں میں نے دیکھا کہ میرے دونوں مونڈھوں کے درمیان اللہ عزوجل نے اپنا ہاتھ رکھا یہاں تک کہ انگلیوں کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی اور مجھ پر ہر ایک چیز روشن ہوگئی پھر مجھ سے سوال کیا اب بتاؤ ملاء اعلیٰ میں کیا بات چیت ہو رہی ہے ؟ میں نے کہا گناہوں کے کفارے کی۔ فرمایا پھر تم بتاؤ کفارے کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نماز با جماعت کے لئے قدم اٹھا کر جانا۔ نمازوں کے بعد مسجدوں میں بیٹھے رہنا اور دل کے نہ چاہئے پر بھی کامل وضو کرنا۔ پھر مجھ سے میرے اللہ نے پوچھا درجے کیا ہیں ؟ میں نے کہا کھانا کھلانا۔ نرم کلامی کرنا اور راتوں کو جب لوگ سوئے پڑے ہوں نماز پڑھنا۔ اب مجھ سے میرے رب نے فرمایا مانگ کیا مانگتا ہے ؟ میں نے کہا میں نیکیوں کا کرنا برائیوں کا چھوڑنا مسکینوں سے محبت رکھنا اور تیری بخشش، تیرا رحم اور تیرا ارادہ جب کسی قوم کی آزمائش کا فتنے کے ساتھ ہو تو اسے فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے موت، تیری محبت اور تجھ سے محبت رکھنے والوں کی محبت اور ان کاموں کی چاہت جو تیری محبت سے قریب کرنے والے ہوں مانگتا ہوں اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا یہ سراسر حق ہے اسے پڑھو پڑھاؤ سیکھو سکھاؤ۔ یہ حدیث خواب کی ہے اور مشہور بھی یہی ہے بعض نے کہا ہے یہ جاگتے کا واقعہ ہے لیکن یہ غلط ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ خواب کا ہے اور یہ بھی خیال رہے کہ قرآن میں فرشتوں کی جس بات کا رد و بدل کرنا اس آیت میں مذکور ہے وہ یہ نہیں جو اس حدیث میں ہے بلکہ یہ سوال تو وہ ہے جس کا ذکر اس کے بعد ہی ہے ملاحظہ ہوں اگلی آیتیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى آمِرًا رَسُولَهُ ﷺ [[في س: "صلوات الله وسلامه عليه".]] أَنْ يَقُولَ لِلْكَفَّارِ بِاللَّهِ الْمُشْرِكِينَ بِهِ الْمُكَذِّبِينَ لِرَسُولِهِ: إِنَّمَا أَنَا مُنْذِرٌ [[في أ: "نذير مبين".]] لَسْتُ كَمَا تَزْعُمُونَ ﴿وَمَا مِنْ إِلَهٍ إِلا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ﴾ أَيْ: هُوَ [[في ت: "وهو".]] وَحْدَهُ قَدْ قَهَرَ كل شيء وغلبه. ﴿رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ﴾ أَيْ: هُوَ مَالِكٌ جَمِيعَ ذَلِكَ وَمُتَصَرِّفٌ فِيهِ ﴿الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ﴾ أَيْ: غَفَّارٌ مَعَ عِزَّتِهِ وَعَظَمَتِهِ.
﴿قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ﴾ أَيْ: خَبَرٌ عَظِيمٌ وَشَأْنٌ بَلِيغٌ وَهُوَ إِرْسَالُ اللَّهِ إِيَّايَ إِلَيْكُمْ ﴿أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ﴾ أَيْ: غَافِلُونَ.
قَالَ مُجَاهِدٌ وَشُرَيْحٌ الْقَاضِي وَالسُّدِّيُّ فِي قَوْلِهِ: ﴿قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ﴾ يَعْنِي: الْقُرْآنَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلإ الأعْلَى إِذْ يَخْتَصِمُونَ﴾ أَيْ: لَوْلَا الْوَحْيُ مِنْ أَيْنَ كُنْتُ أَدْرِي بِاخْتِلَافِ الْمَلَأِ الْأَعْلَى؟ يَعْنِي: فِي شَأْنِ آدَمَ وَامْتِنَاعِ إِبْلِيسَ مِنَ السُّجُودِ لَهُ، وَمُحَاجَّتِهِ رَبَّهُ فِي تَفْضِيلِهِ عَلَيْهِ.
فَأَمَّا الْحَدِيثُ الذِي رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ حَيْثُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا جَهْضَمٌ الْيَمَامِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: احْتَبَسَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ذَاتَ غَدَاةٍ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى كِدْنَا نَتَرَاءَى قَرْنَ الشَّمْسِ. فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ سَرِيعًا فَثَوّب بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى وتَجَوّز فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: "كَمَا أَنْتُمْ عَلَى مَصَافِّكُمْ". ثُمَّ أَقْبَلُ إِلَيْنَا فَقَالَ: "إِنِّي سَأُحَدِّثُكُمْ مَا حَبَسَنِي عَنْكُمُ الْغَدَاةَ، إِنِّي قُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّيْتُ مَا قُدّر لِي فَنَعَسْتُ فِي صَلَاتِي حَتَّى اسْتَيْقَظْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبِّي [[في ت، س، أ: "بربي عز وجل".]] فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَتَدْرِي فِيمَ يختصم الملأ الأعلى؟ قُلْتُ لَا أَدْرِي رَبِّ -أَعَادَهَا ثَلَاثًا-فَرَأَيْتُهُ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفِي حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهِ بَيْنَ صَدْرِي فَتَجَلَّى لِي كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: فِي الْكَفَّارَاتِ. قَالَ: وَمَا الْكَفَّارَاتُ؟ قُلْتُ [[في أ: "قال".]] نَقْلُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجُمُعَاتِ [[في ت، أ: "الجماعات".]] وَالْجُلُوسُ [[في ت، س، أ: "حسن صحيح".]] فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عِنْدَ الْكَرِيهَاتِ. قَالَ: وَمَا الدَّرَجَاتُ؟ قُلْتُ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَلِينُ الْكَلَامِ وَالصَّلَاةُ وَالنَّاسُ نِيَامٌ. قَالَ: سَلْ. قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً بِقَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ، وَأَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبِّكَ". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوهَا وَتَعَلَّمُوهَا" [[المسند (٥/٢٤٣) .]] فَهُوَ حَدِيثُ الْمَنَامِ الْمَشْهُورُ وَمَنْ جَعَلَهُ يَقَظَةً فَقَدْ غَلِطَ وَهُوَ فِي السُّنَنِ مِنْ طُرُقٍ.
وَهَذَا الْحَدِيثُ بِعَيْنِهِ قَدْ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مِنْ حَدِيثِ "جَهْضَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَمَامِيِّ" بِهِ. وَقَالَ: "حَسَنٌ صَحِيحٌ" [[سنن الترمذي برقم (٣٢٣٥) وقال: "سألت محمد بن إسماعيل -يعني: عن هذا الحديث- فقال: "حسن صحيح".]] وَلَيْسَ هَذَا الِاخْتِصَامُ هُوَ الِاخْتِصَامُ الْمَذْكُورُ فِي الْقُرْآنِ [[في ت: "المذكور في الآية الكريمة في القرآن".]] فَإِنَّ هَذَا قَدْ فُسِّرَ وَأَمَّا الِاخْتِصَامُ الَّذِي فِي الْقُرْآنِ فَقَدْ فُسِّرَ بَعْدَ هَذَا وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى:
إِن يُوحَىٰٓ إِلَىَّ إِلَّآ أَنَّمَآ أَنَا۠ نَذِيرٌۭ مُّبِينٌ
It has not been revealed to me except that I am a clear warner."
میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں
تنها چیزی که به من وحی میشود این است که من انذارکننده آشکاری هستم!»
Tafsir Ibn Kathir
Say: "I am only a warner and there is no God (worthy of worship) except Allah the One, the Irresistible, (65)"The Lord of the heavens and the earth and all that is between them, the Almighty, the Oft-Forgiving. (66)Say: "That is a great news, (67)"From which you turn away! (68)"I had no knowledge of the chiefs (angels) on high when they were disputing and discussing. (69)"Only this has been revealed to me, that I am a plain warner. (70)
The Message of the Messenger ﷺ is a Great News
Allah tells His Messenger ﷺ to say to those who disbelieved in Allah, associated others in worship with Him and denied His Messenger: 'I am a warner, I am not as you claim.'
وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ
(and there is no God (worthy of worship) except Allah, the One, the Irresistible,) means, He Alone has subjugated and controlled everything.
رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا
(The Lord of the heavens and the earth and all that is between them,) means, He is the Sovereign of all that and is in control of it.
الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ
(the Almighty, the Oft-Forgiving.) means, He is Oft-Forgiving as well as being Almighty and All-Powerful.
قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ
(Say: "That (this Qur'an) is a great news,") means, 'something very important, which is that Allah has sent me to you.
أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ
(From which you turn away!) means, 'you neglect it.'
مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ إِذْ يَخْتَصِمُونَ
(I had no knowledge of the chiefs (angels) on high when they were disputing and discussing.) meaning, 'were it not for the divine revelation, how could I have known about the dispute of the chiefs on high (the angels)?' This refers to their dispute concerning Adam, peace be upon him, and how Iblis refused to prostrate to him and argued with his Lord because He preferred him (Adam) over him. This is what Allah says:
Tafsir Ibn Kathir
نبی ؑ کا خواب۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ میری نسبت تمہارے خیالات محض غلط ہیں میں تو تمہیں ڈر کی خبر پہچانے والا ہوں۔ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں وہ اکیلا ہے وہ ہر چیز پر غالب ہے، ہر چیز اس کے ماتحت ہے۔ وہ زمین و آسمان اور ہر چیز کا مالک ہے اور سب تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں۔ وہ عزتوں والا ہے اور باوجود اس عظمت و عزت کے بڑا بخشنے والا ہے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے یعنی میرا رسول بن کر تمہاری طرف آنا پھر تم اے غافلو اس سے اعراض کر رہے ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بڑی چیز ہے یعنی قرآن کریم۔ حضرت آدم ؑ کے بارے میں فرشتوں میں جو کچھ اختلاف ہوا اگر رب کی وحی میرے پاس نہ آئی ہوتی تو مجھے اس کی بابت کیا علم ہوتا ؟ ابلیس کا آپ کو سجدہ کرنے سے منکر ہونا اور رب کے سامنے اس کی مخالفت کرنا اور اپنی بڑائی جتانا وغیرہ ان سب باتوں کو میں کیا جانوں ؟ مسند احمد میں ہے ایک دن صبح کی نماز میں حضور ﷺ نے بہت دیر لگا دی یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کا وقت آگیا پھر بہت جلدی کرتے ہوئے آئے تکبیر کہی گئی اور آپ نے ہلکی نماز پڑھائی۔ پھر ہم سے فرمایا ذرا دیر ٹھہرے رہو پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا رات کو میں تہجد کی نماز پڑھ رہا تھا جو مجھے اونگھ آنے لگی یہاں تک کہ میں جاگا میں نے دیکھا کہ گویا میں اپنے رب کے پاس ہوں میں نے اپنے پروردگار کو بہرتین عمدہ صورت میں دیکھا مجھ سے جناب باری نے دریافت فرمایا جانتے ہو عالم بالا کے فرشتے اس وقت کس امر میں گفتگو اور سوال و جواب کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا میرے رب مجھے کیا خبر ؟ تین مرتبہ کے سوال جواب کے بعد میں میں نے دیکھا کہ میرے دونوں مونڈھوں کے درمیان اللہ عزوجل نے اپنا ہاتھ رکھا یہاں تک کہ انگلیوں کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی اور مجھ پر ہر ایک چیز روشن ہوگئی پھر مجھ سے سوال کیا اب بتاؤ ملاء اعلیٰ میں کیا بات چیت ہو رہی ہے ؟ میں نے کہا گناہوں کے کفارے کی۔ فرمایا پھر تم بتاؤ کفارے کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نماز با جماعت کے لئے قدم اٹھا کر جانا۔ نمازوں کے بعد مسجدوں میں بیٹھے رہنا اور دل کے نہ چاہئے پر بھی کامل وضو کرنا۔ پھر مجھ سے میرے اللہ نے پوچھا درجے کیا ہیں ؟ میں نے کہا کھانا کھلانا۔ نرم کلامی کرنا اور راتوں کو جب لوگ سوئے پڑے ہوں نماز پڑھنا۔ اب مجھ سے میرے رب نے فرمایا مانگ کیا مانگتا ہے ؟ میں نے کہا میں نیکیوں کا کرنا برائیوں کا چھوڑنا مسکینوں سے محبت رکھنا اور تیری بخشش، تیرا رحم اور تیرا ارادہ جب کسی قوم کی آزمائش کا فتنے کے ساتھ ہو تو اسے فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے موت، تیری محبت اور تجھ سے محبت رکھنے والوں کی محبت اور ان کاموں کی چاہت جو تیری محبت سے قریب کرنے والے ہوں مانگتا ہوں اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا یہ سراسر حق ہے اسے پڑھو پڑھاؤ سیکھو سکھاؤ۔ یہ حدیث خواب کی ہے اور مشہور بھی یہی ہے بعض نے کہا ہے یہ جاگتے کا واقعہ ہے لیکن یہ غلط ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ خواب کا ہے اور یہ بھی خیال رہے کہ قرآن میں فرشتوں کی جس بات کا رد و بدل کرنا اس آیت میں مذکور ہے وہ یہ نہیں جو اس حدیث میں ہے بلکہ یہ سوال تو وہ ہے جس کا ذکر اس کے بعد ہی ہے ملاحظہ ہوں اگلی آیتیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى آمِرًا رَسُولَهُ ﷺ [[في س: "صلوات الله وسلامه عليه".]] أَنْ يَقُولَ لِلْكَفَّارِ بِاللَّهِ الْمُشْرِكِينَ بِهِ الْمُكَذِّبِينَ لِرَسُولِهِ: إِنَّمَا أَنَا مُنْذِرٌ [[في أ: "نذير مبين".]] لَسْتُ كَمَا تَزْعُمُونَ ﴿وَمَا مِنْ إِلَهٍ إِلا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ﴾ أَيْ: هُوَ [[في ت: "وهو".]] وَحْدَهُ قَدْ قَهَرَ كل شيء وغلبه. ﴿رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ﴾ أَيْ: هُوَ مَالِكٌ جَمِيعَ ذَلِكَ وَمُتَصَرِّفٌ فِيهِ ﴿الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ﴾ أَيْ: غَفَّارٌ مَعَ عِزَّتِهِ وَعَظَمَتِهِ.
﴿قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ﴾ أَيْ: خَبَرٌ عَظِيمٌ وَشَأْنٌ بَلِيغٌ وَهُوَ إِرْسَالُ اللَّهِ إِيَّايَ إِلَيْكُمْ ﴿أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ﴾ أَيْ: غَافِلُونَ.
قَالَ مُجَاهِدٌ وَشُرَيْحٌ الْقَاضِي وَالسُّدِّيُّ فِي قَوْلِهِ: ﴿قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ﴾ يَعْنِي: الْقُرْآنَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلإ الأعْلَى إِذْ يَخْتَصِمُونَ﴾ أَيْ: لَوْلَا الْوَحْيُ مِنْ أَيْنَ كُنْتُ أَدْرِي بِاخْتِلَافِ الْمَلَأِ الْأَعْلَى؟ يَعْنِي: فِي شَأْنِ آدَمَ وَامْتِنَاعِ إِبْلِيسَ مِنَ السُّجُودِ لَهُ، وَمُحَاجَّتِهِ رَبَّهُ فِي تَفْضِيلِهِ عَلَيْهِ.
فَأَمَّا الْحَدِيثُ الذِي رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ حَيْثُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا جَهْضَمٌ الْيَمَامِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: احْتَبَسَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ذَاتَ غَدَاةٍ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى كِدْنَا نَتَرَاءَى قَرْنَ الشَّمْسِ. فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ سَرِيعًا فَثَوّب بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى وتَجَوّز فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: "كَمَا أَنْتُمْ عَلَى مَصَافِّكُمْ". ثُمَّ أَقْبَلُ إِلَيْنَا فَقَالَ: "إِنِّي سَأُحَدِّثُكُمْ مَا حَبَسَنِي عَنْكُمُ الْغَدَاةَ، إِنِّي قُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّيْتُ مَا قُدّر لِي فَنَعَسْتُ فِي صَلَاتِي حَتَّى اسْتَيْقَظْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبِّي [[في ت، س، أ: "بربي عز وجل".]] فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَتَدْرِي فِيمَ يختصم الملأ الأعلى؟ قُلْتُ لَا أَدْرِي رَبِّ -أَعَادَهَا ثَلَاثًا-فَرَأَيْتُهُ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفِي حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهِ بَيْنَ صَدْرِي فَتَجَلَّى لِي كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: فِي الْكَفَّارَاتِ. قَالَ: وَمَا الْكَفَّارَاتُ؟ قُلْتُ [[في أ: "قال".]] نَقْلُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجُمُعَاتِ [[في ت، أ: "الجماعات".]] وَالْجُلُوسُ [[في ت، س، أ: "حسن صحيح".]] فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عِنْدَ الْكَرِيهَاتِ. قَالَ: وَمَا الدَّرَجَاتُ؟ قُلْتُ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَلِينُ الْكَلَامِ وَالصَّلَاةُ وَالنَّاسُ نِيَامٌ. قَالَ: سَلْ. قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً بِقَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ، وَأَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبِّكَ". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوهَا وَتَعَلَّمُوهَا" [[المسند (٥/٢٤٣) .]] فَهُوَ حَدِيثُ الْمَنَامِ الْمَشْهُورُ وَمَنْ جَعَلَهُ يَقَظَةً فَقَدْ غَلِطَ وَهُوَ فِي السُّنَنِ مِنْ طُرُقٍ.
وَهَذَا الْحَدِيثُ بِعَيْنِهِ قَدْ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مِنْ حَدِيثِ "جَهْضَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَمَامِيِّ" بِهِ. وَقَالَ: "حَسَنٌ صَحِيحٌ" [[سنن الترمذي برقم (٣٢٣٥) وقال: "سألت محمد بن إسماعيل -يعني: عن هذا الحديث- فقال: "حسن صحيح".]] وَلَيْسَ هَذَا الِاخْتِصَامُ هُوَ الِاخْتِصَامُ الْمَذْكُورُ فِي الْقُرْآنِ [[في ت: "المذكور في الآية الكريمة في القرآن".]] فَإِنَّ هَذَا قَدْ فُسِّرَ وَأَمَّا الِاخْتِصَامُ الَّذِي فِي الْقُرْآنِ فَقَدْ فُسِّرَ بَعْدَ هَذَا وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى:
إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَٰٓئِكَةِ إِنِّى خَٰلِقٌۢ بَشَرًۭا مِّن طِينٍۢ
[So mention] when your Lord said to the angels, "Indeed, I am going to create a human being from clay.
جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں
و به خاطر بیاور هنگامی را که پروردگارت به فرشتگان گفت: «من بشری را از گل میآفرینم!
Tafsir Ibn Kathir
(Remember) when your Lord said to the angels: "Truly, I am going to create man from clay. (71)"So, when I have fashioned him and breathed into him (his) soul created by Me, then you fall down prostrate to him. (72)So, the angels prostrated themselves, all of them (73)Except Iblis, he was proud and was one of the disbelievers (74)(Allah) said: "O Iblis! What prevents you from prostrating yourself to one whom I have created with Both My Hands. Are you too proud or are you one of the high exalted? (75)[Iblis] said: "I am better than he. You created me from fire, and You created him from clay. (76)(Allah) said: "Then get out from here; for verily, you are outcast. (77)"And verily, My curse is on you till the Day of Recompense. (78)[Iblis] said: "My Lord! Give me then respite till the Day the (dead) are resurrected. (79)(Allah) said: "Verily, you are of those allowed respite, (80)"Till the Day of the time appointed. (81)[Iblis] said: "By Your might, then I will surely mislead them all, (82)"Except Your true servants amongst them. (83)(Allah) said: "The truth is – the truth I say – (84)"That I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together. (85)
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A'raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) – that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed (and he said:)
لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ - إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(...I [Iblis] will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَأَيْتَكَ هَٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا
(([Iblis] said:) "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!")(17:62).
These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ ۚ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ وَكِيلًا
(Verily, My servants – you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.)(17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ - لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is – and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.)(32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) – an ample recompense.)(17:63).
Tafsir Ibn Kathir
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ الْقِصَّةُ ذَكَرَهَا اللَّهُ، تَعَالَى فِي سُورَةِ "الْبَقَرَةِ" وَفِي أَوَّلِ "الْأَعْرَافِ" وَفِي سُورَةِ "الْحِجْرِ" وَ [فِي] [[زيادة من ت.]] سُبْحَانَ" وَ "الْكَهْفِ"، وَهَاهُنَا وَهِيَ أَنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ أَعْلَمَ الْمَلَائِكَةَ قَبْلَ خَلْقِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِأَنَّهُ سَيَخْلُقُ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَأٍ مَسْنُونٍ وَتَقَدَّمَ إِلَيْهِمْ بِالْأَمْرِ مَتَى فَرَغَ مِنْ خَلْقِهِ وَتَسْوِيَتِهِ فَلْيَسْجُدُوا لَهُ إِكْرَامًا وَإِعْظَامًا وَاحْتِرَامًا وَامْتِثَالًا لِأَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَامْتَثَلَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ ذَلِكَ سِوَى إِبْلِيسَ وَلَمْ يَكُنْ مِنْهُمْ جِنْسًا كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَخَانَهُ طَبْعُهُ وَجِبِلَّتُهُ أَحْوَجَ مَا كَانَ إِلَيْهِ فَاسْتَنْكَفَ [[في أ: "فاستأنف".]] عَنِ السُّجُودِ لِآدَمَ وَخَاصَمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ وَادَّعَى [[في ت: "فادعى".]] أنه خير من آدم فإنه مخلوق مِنْ نَارٍ وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ طِينٍ وَالنَّارُ خَيْرٌ مِنَ الطِّينِ فِي زَعْمِهِ. وَقَدْ أَخْطَأَ فِي ذَلِكَ وَخَالَفَ أَمْرَ اللَّهِ، وَكَفَرَ بِذَلِكَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَأَرْغَمَ أَنْفَهُ وَطَرَدَهَ عَنْ [[في أ: "لم".]] بَابِ رَحْمَتِهِ وَمَحَلِّ أُنْسِهِ وَحَضْرَةِ قُدْسِهِ وَسَمَّاهُ "إِبْلِيسَ" إِعْلَامًا لَهُ بِأَنَّهُ قَدْ أبْلَس مِنَ الرَّحْمَةِ وَأَنْزَلَهُ مِنَ السَّمَاءِ مَذْمُومًا مَدْحُورًا إِلَى الْأَرْضِ فَسَأَلَ اللَّهَ النَّظِرَةَ إِلَى يَوْمِ الْبَعْثِ فَأَنْظَرَهُ الْحَلِيمُ الَّذِي لَا يَعْجَل عَلَى مَنْ عَصَاهُ. فَلَمَّا أَمِنَ الْهَلَاكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ تَمَرَّدَ وَطَغَى وَقَالَ: ﴿لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ. إِلا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ﴾ كَمَا قَالَ: ﴿أَرَأَيْتَكَ هَذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لأحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلا قَلِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٢] وَهَؤُلَاءِ هُمُ الْمُسْتَثْنَوْنَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى وَهِيَ [[في أ: "الله عز وجل".]] قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٥]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ. أَقُولُ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ﴾ قَرَأَ ذَلِكَ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ مُجَاهِدٌ بِرَفْعِ "الْحَقُّ" الْأَوْلَى [[في أ: "من".]] وَفَسَّرَهُ مُجَاهِدٌ بِأَنَّ مَعْنَاهُ: أَنَا الْحَقُّ، وَالْحَقُّ أَقُولُ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: الْحَقُّ مِنِّي، وَأَقُولُ الْحَقَّ.
وَقَرَأَ آخَرُونَ بِنَصْبِهِمَا.
قَالَ السُّدِّيُّ: هُوَ قَسَمٌ أَقْسَمَ اللَّهُ بِهِ.
قُلْتُ: وَهَذِهِ الْآيَةُ الْكَرِيمَةُ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ﴾ [السَّجْدَةِ: ١٣] وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٣]
فَإِذَا سَوَّيْتُهُۥ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِى فَقَعُوا۟ لَهُۥ سَٰجِدِينَ
So when I have proportioned him and breathed into him of My [created] soul, then fall down to him in prostration."
جب اس کو درست کرلوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گر پڑنا
هنگامی که آن را نظام بخشیدم و از روح خود در آن دمیدم، برای او به سجده افتید!»
Tafsir Ibn Kathir
(Remember) when your Lord said to the angels: "Truly, I am going to create man from clay. (71)"So, when I have fashioned him and breathed into him (his) soul created by Me, then you fall down prostrate to him. (72)So, the angels prostrated themselves, all of them (73)Except Iblis, he was proud and was one of the disbelievers (74)(Allah) said: "O Iblis! What prevents you from prostrating yourself to one whom I have created with Both My Hands. Are you too proud or are you one of the high exalted? (75)[Iblis] said: "I am better than he. You created me from fire, and You created him from clay. (76)(Allah) said: "Then get out from here; for verily, you are outcast. (77)"And verily, My curse is on you till the Day of Recompense. (78)[Iblis] said: "My Lord! Give me then respite till the Day the (dead) are resurrected. (79)(Allah) said: "Verily, you are of those allowed respite, (80)"Till the Day of the time appointed. (81)[Iblis] said: "By Your might, then I will surely mislead them all, (82)"Except Your true servants amongst them. (83)(Allah) said: "The truth is – the truth I say – (84)"That I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together. (85)
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A'raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) – that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed (and he said:)
لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ - إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(...I [Iblis] will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَأَيْتَكَ هَٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا
(([Iblis] said:) "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!")(17:62).
These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ ۚ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ وَكِيلًا
(Verily, My servants – you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.)(17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ - لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is – and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.)(32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) – an ample recompense.)(17:63).
Tafsir Ibn Kathir
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ الْقِصَّةُ ذَكَرَهَا اللَّهُ، تَعَالَى فِي سُورَةِ "الْبَقَرَةِ" وَفِي أَوَّلِ "الْأَعْرَافِ" وَفِي سُورَةِ "الْحِجْرِ" وَ [فِي] [[زيادة من ت.]] سُبْحَانَ" وَ "الْكَهْفِ"، وَهَاهُنَا وَهِيَ أَنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ أَعْلَمَ الْمَلَائِكَةَ قَبْلَ خَلْقِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِأَنَّهُ سَيَخْلُقُ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَأٍ مَسْنُونٍ وَتَقَدَّمَ إِلَيْهِمْ بِالْأَمْرِ مَتَى فَرَغَ مِنْ خَلْقِهِ وَتَسْوِيَتِهِ فَلْيَسْجُدُوا لَهُ إِكْرَامًا وَإِعْظَامًا وَاحْتِرَامًا وَامْتِثَالًا لِأَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَامْتَثَلَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ ذَلِكَ سِوَى إِبْلِيسَ وَلَمْ يَكُنْ مِنْهُمْ جِنْسًا كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَخَانَهُ طَبْعُهُ وَجِبِلَّتُهُ أَحْوَجَ مَا كَانَ إِلَيْهِ فَاسْتَنْكَفَ [[في أ: "فاستأنف".]] عَنِ السُّجُودِ لِآدَمَ وَخَاصَمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ وَادَّعَى [[في ت: "فادعى".]] أنه خير من آدم فإنه مخلوق مِنْ نَارٍ وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ طِينٍ وَالنَّارُ خَيْرٌ مِنَ الطِّينِ فِي زَعْمِهِ. وَقَدْ أَخْطَأَ فِي ذَلِكَ وَخَالَفَ أَمْرَ اللَّهِ، وَكَفَرَ بِذَلِكَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَأَرْغَمَ أَنْفَهُ وَطَرَدَهَ عَنْ [[في أ: "لم".]] بَابِ رَحْمَتِهِ وَمَحَلِّ أُنْسِهِ وَحَضْرَةِ قُدْسِهِ وَسَمَّاهُ "إِبْلِيسَ" إِعْلَامًا لَهُ بِأَنَّهُ قَدْ أبْلَس مِنَ الرَّحْمَةِ وَأَنْزَلَهُ مِنَ السَّمَاءِ مَذْمُومًا مَدْحُورًا إِلَى الْأَرْضِ فَسَأَلَ اللَّهَ النَّظِرَةَ إِلَى يَوْمِ الْبَعْثِ فَأَنْظَرَهُ الْحَلِيمُ الَّذِي لَا يَعْجَل عَلَى مَنْ عَصَاهُ. فَلَمَّا أَمِنَ الْهَلَاكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ تَمَرَّدَ وَطَغَى وَقَالَ: ﴿لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ. إِلا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ﴾ كَمَا قَالَ: ﴿أَرَأَيْتَكَ هَذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لأحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلا قَلِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٢] وَهَؤُلَاءِ هُمُ الْمُسْتَثْنَوْنَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى وَهِيَ [[في أ: "الله عز وجل".]] قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٥]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ. أَقُولُ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ﴾ قَرَأَ ذَلِكَ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ مُجَاهِدٌ بِرَفْعِ "الْحَقُّ" الْأَوْلَى [[في أ: "من".]] وَفَسَّرَهُ مُجَاهِدٌ بِأَنَّ مَعْنَاهُ: أَنَا الْحَقُّ، وَالْحَقُّ أَقُولُ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: الْحَقُّ مِنِّي، وَأَقُولُ الْحَقَّ.
وَقَرَأَ آخَرُونَ بِنَصْبِهِمَا.
قَالَ السُّدِّيُّ: هُوَ قَسَمٌ أَقْسَمَ اللَّهُ بِهِ.
قُلْتُ: وَهَذِهِ الْآيَةُ الْكَرِيمَةُ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ﴾ [السَّجْدَةِ: ١٣] وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٣]
فَسَجَدَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ
So the angels prostrated - all of them entirely.
تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا
در آن هنگام همه فرشتگان سجده کردند،
Tafsir Ibn Kathir
(Remember) when your Lord said to the angels: "Truly, I am going to create man from clay. (71)"So, when I have fashioned him and breathed into him (his) soul created by Me, then you fall down prostrate to him. (72)So, the angels prostrated themselves, all of them (73)Except Iblis, he was proud and was one of the disbelievers (74)(Allah) said: "O Iblis! What prevents you from prostrating yourself to one whom I have created with Both My Hands. Are you too proud or are you one of the high exalted? (75)[Iblis] said: "I am better than he. You created me from fire, and You created him from clay. (76)(Allah) said: "Then get out from here; for verily, you are outcast. (77)"And verily, My curse is on you till the Day of Recompense. (78)[Iblis] said: "My Lord! Give me then respite till the Day the (dead) are resurrected. (79)(Allah) said: "Verily, you are of those allowed respite, (80)"Till the Day of the time appointed. (81)[Iblis] said: "By Your might, then I will surely mislead them all, (82)"Except Your true servants amongst them. (83)(Allah) said: "The truth is – the truth I say – (84)"That I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together. (85)
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A'raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) – that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed (and he said:)
لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ - إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(...I [Iblis] will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَأَيْتَكَ هَٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا
(([Iblis] said:) "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!")(17:62).
These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ ۚ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ وَكِيلًا
(Verily, My servants – you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.)(17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ - لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is – and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.)(32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) – an ample recompense.)(17:63).
Tafsir Ibn Kathir
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ الْقِصَّةُ ذَكَرَهَا اللَّهُ، تَعَالَى فِي سُورَةِ "الْبَقَرَةِ" وَفِي أَوَّلِ "الْأَعْرَافِ" وَفِي سُورَةِ "الْحِجْرِ" وَ [فِي] [[زيادة من ت.]] سُبْحَانَ" وَ "الْكَهْفِ"، وَهَاهُنَا وَهِيَ أَنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ أَعْلَمَ الْمَلَائِكَةَ قَبْلَ خَلْقِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِأَنَّهُ سَيَخْلُقُ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَأٍ مَسْنُونٍ وَتَقَدَّمَ إِلَيْهِمْ بِالْأَمْرِ مَتَى فَرَغَ مِنْ خَلْقِهِ وَتَسْوِيَتِهِ فَلْيَسْجُدُوا لَهُ إِكْرَامًا وَإِعْظَامًا وَاحْتِرَامًا وَامْتِثَالًا لِأَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَامْتَثَلَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ ذَلِكَ سِوَى إِبْلِيسَ وَلَمْ يَكُنْ مِنْهُمْ جِنْسًا كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَخَانَهُ طَبْعُهُ وَجِبِلَّتُهُ أَحْوَجَ مَا كَانَ إِلَيْهِ فَاسْتَنْكَفَ [[في أ: "فاستأنف".]] عَنِ السُّجُودِ لِآدَمَ وَخَاصَمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ وَادَّعَى [[في ت: "فادعى".]] أنه خير من آدم فإنه مخلوق مِنْ نَارٍ وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ طِينٍ وَالنَّارُ خَيْرٌ مِنَ الطِّينِ فِي زَعْمِهِ. وَقَدْ أَخْطَأَ فِي ذَلِكَ وَخَالَفَ أَمْرَ اللَّهِ، وَكَفَرَ بِذَلِكَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَأَرْغَمَ أَنْفَهُ وَطَرَدَهَ عَنْ [[في أ: "لم".]] بَابِ رَحْمَتِهِ وَمَحَلِّ أُنْسِهِ وَحَضْرَةِ قُدْسِهِ وَسَمَّاهُ "إِبْلِيسَ" إِعْلَامًا لَهُ بِأَنَّهُ قَدْ أبْلَس مِنَ الرَّحْمَةِ وَأَنْزَلَهُ مِنَ السَّمَاءِ مَذْمُومًا مَدْحُورًا إِلَى الْأَرْضِ فَسَأَلَ اللَّهَ النَّظِرَةَ إِلَى يَوْمِ الْبَعْثِ فَأَنْظَرَهُ الْحَلِيمُ الَّذِي لَا يَعْجَل عَلَى مَنْ عَصَاهُ. فَلَمَّا أَمِنَ الْهَلَاكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ تَمَرَّدَ وَطَغَى وَقَالَ: ﴿لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ. إِلا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ﴾ كَمَا قَالَ: ﴿أَرَأَيْتَكَ هَذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لأحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلا قَلِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٢] وَهَؤُلَاءِ هُمُ الْمُسْتَثْنَوْنَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى وَهِيَ [[في أ: "الله عز وجل".]] قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٥]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ. أَقُولُ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ﴾ قَرَأَ ذَلِكَ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ مُجَاهِدٌ بِرَفْعِ "الْحَقُّ" الْأَوْلَى [[في أ: "من".]] وَفَسَّرَهُ مُجَاهِدٌ بِأَنَّ مَعْنَاهُ: أَنَا الْحَقُّ، وَالْحَقُّ أَقُولُ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: الْحَقُّ مِنِّي، وَأَقُولُ الْحَقَّ.
وَقَرَأَ آخَرُونَ بِنَصْبِهِمَا.
قَالَ السُّدِّيُّ: هُوَ قَسَمٌ أَقْسَمَ اللَّهُ بِهِ.
قُلْتُ: وَهَذِهِ الْآيَةُ الْكَرِيمَةُ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ﴾ [السَّجْدَةِ: ١٣] وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٣]
إِلَّآ إِبْلِيسَ ٱسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ ٱلْكَٰفِرِينَ
Except Iblees; he was arrogant and became among the disbelievers.
مگر شیطان اکڑ بیٹھا اور کافروں میں ہوگیا
جز ابلیس که تکبّر ورزید و از کافران بود!
Tafsir Ibn Kathir
(Remember) when your Lord said to the angels: "Truly, I am going to create man from clay. (71)"So, when I have fashioned him and breathed into him (his) soul created by Me, then you fall down prostrate to him. (72)So, the angels prostrated themselves, all of them (73)Except Iblis, he was proud and was one of the disbelievers (74)(Allah) said: "O Iblis! What prevents you from prostrating yourself to one whom I have created with Both My Hands. Are you too proud or are you one of the high exalted? (75)[Iblis] said: "I am better than he. You created me from fire, and You created him from clay. (76)(Allah) said: "Then get out from here; for verily, you are outcast. (77)"And verily, My curse is on you till the Day of Recompense. (78)[Iblis] said: "My Lord! Give me then respite till the Day the (dead) are resurrected. (79)(Allah) said: "Verily, you are of those allowed respite, (80)"Till the Day of the time appointed. (81)[Iblis] said: "By Your might, then I will surely mislead them all, (82)"Except Your true servants amongst them. (83)(Allah) said: "The truth is – the truth I say – (84)"That I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together. (85)
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A'raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) – that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed (and he said:)
لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ - إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(...I [Iblis] will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَأَيْتَكَ هَٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا
(([Iblis] said:) "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!")(17:62).
These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ ۚ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ وَكِيلًا
(Verily, My servants – you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.)(17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ - لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is – and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.)(32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) – an ample recompense.)(17:63).
Tafsir Ibn Kathir
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ الْقِصَّةُ ذَكَرَهَا اللَّهُ، تَعَالَى فِي سُورَةِ "الْبَقَرَةِ" وَفِي أَوَّلِ "الْأَعْرَافِ" وَفِي سُورَةِ "الْحِجْرِ" وَ [فِي] [[زيادة من ت.]] سُبْحَانَ" وَ "الْكَهْفِ"، وَهَاهُنَا وَهِيَ أَنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ أَعْلَمَ الْمَلَائِكَةَ قَبْلَ خَلْقِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِأَنَّهُ سَيَخْلُقُ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَأٍ مَسْنُونٍ وَتَقَدَّمَ إِلَيْهِمْ بِالْأَمْرِ مَتَى فَرَغَ مِنْ خَلْقِهِ وَتَسْوِيَتِهِ فَلْيَسْجُدُوا لَهُ إِكْرَامًا وَإِعْظَامًا وَاحْتِرَامًا وَامْتِثَالًا لِأَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَامْتَثَلَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ ذَلِكَ سِوَى إِبْلِيسَ وَلَمْ يَكُنْ مِنْهُمْ جِنْسًا كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَخَانَهُ طَبْعُهُ وَجِبِلَّتُهُ أَحْوَجَ مَا كَانَ إِلَيْهِ فَاسْتَنْكَفَ [[في أ: "فاستأنف".]] عَنِ السُّجُودِ لِآدَمَ وَخَاصَمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ وَادَّعَى [[في ت: "فادعى".]] أنه خير من آدم فإنه مخلوق مِنْ نَارٍ وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ طِينٍ وَالنَّارُ خَيْرٌ مِنَ الطِّينِ فِي زَعْمِهِ. وَقَدْ أَخْطَأَ فِي ذَلِكَ وَخَالَفَ أَمْرَ اللَّهِ، وَكَفَرَ بِذَلِكَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَأَرْغَمَ أَنْفَهُ وَطَرَدَهَ عَنْ [[في أ: "لم".]] بَابِ رَحْمَتِهِ وَمَحَلِّ أُنْسِهِ وَحَضْرَةِ قُدْسِهِ وَسَمَّاهُ "إِبْلِيسَ" إِعْلَامًا لَهُ بِأَنَّهُ قَدْ أبْلَس مِنَ الرَّحْمَةِ وَأَنْزَلَهُ مِنَ السَّمَاءِ مَذْمُومًا مَدْحُورًا إِلَى الْأَرْضِ فَسَأَلَ اللَّهَ النَّظِرَةَ إِلَى يَوْمِ الْبَعْثِ فَأَنْظَرَهُ الْحَلِيمُ الَّذِي لَا يَعْجَل عَلَى مَنْ عَصَاهُ. فَلَمَّا أَمِنَ الْهَلَاكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ تَمَرَّدَ وَطَغَى وَقَالَ: ﴿لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ. إِلا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ﴾ كَمَا قَالَ: ﴿أَرَأَيْتَكَ هَذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لأحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلا قَلِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٢] وَهَؤُلَاءِ هُمُ الْمُسْتَثْنَوْنَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى وَهِيَ [[في أ: "الله عز وجل".]] قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٥]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ. أَقُولُ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ﴾ قَرَأَ ذَلِكَ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ مُجَاهِدٌ بِرَفْعِ "الْحَقُّ" الْأَوْلَى [[في أ: "من".]] وَفَسَّرَهُ مُجَاهِدٌ بِأَنَّ مَعْنَاهُ: أَنَا الْحَقُّ، وَالْحَقُّ أَقُولُ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: الْحَقُّ مِنِّي، وَأَقُولُ الْحَقَّ.
وَقَرَأَ آخَرُونَ بِنَصْبِهِمَا.
قَالَ السُّدِّيُّ: هُوَ قَسَمٌ أَقْسَمَ اللَّهُ بِهِ.
قُلْتُ: وَهَذِهِ الْآيَةُ الْكَرِيمَةُ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ﴾ [السَّجْدَةِ: ١٣] وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٣]
قَالَ يَٰٓإِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَىَّ ۖ أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ ٱلْعَالِينَ
[Allah] said, "O Iblees, what prevented you from prostrating to that which I created with My hands? Were you arrogant [then], or were you [already] among the haughty?"
خدا نے) فرمایا کہ اے ابلیس جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اس کے آگے سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے منع کیا۔ کیا تو غرور میں آگیا یا اونچے درجے والوں میں تھا؟
گفت: «ای ابلیس! چه چیز مانع تو شد که بر مخلوقی که با قدرت خود او را آفریدم سجده کنی؟! آیا تکبّر کردی یا از برترینها بودی؟! (برتر از اینکه فرمان سجود به تو داده شود!)»
Tafsir Ibn Kathir
(Remember) when your Lord said to the angels: "Truly, I am going to create man from clay. (71)"So, when I have fashioned him and breathed into him (his) soul created by Me, then you fall down prostrate to him. (72)So, the angels prostrated themselves, all of them (73)Except Iblis, he was proud and was one of the disbelievers (74)(Allah) said: "O Iblis! What prevents you from prostrating yourself to one whom I have created with Both My Hands. Are you too proud or are you one of the high exalted? (75)[Iblis] said: "I am better than he. You created me from fire, and You created him from clay. (76)(Allah) said: "Then get out from here; for verily, you are outcast. (77)"And verily, My curse is on you till the Day of Recompense. (78)[Iblis] said: "My Lord! Give me then respite till the Day the (dead) are resurrected. (79)(Allah) said: "Verily, you are of those allowed respite, (80)"Till the Day of the time appointed. (81)[Iblis] said: "By Your might, then I will surely mislead them all, (82)"Except Your true servants amongst them. (83)(Allah) said: "The truth is – the truth I say – (84)"That I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together. (85)
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A'raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) – that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed (and he said:)
لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ - إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(...I [Iblis] will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَأَيْتَكَ هَٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا
(([Iblis] said:) "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!")(17:62).
These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ ۚ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ وَكِيلًا
(Verily, My servants – you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.)(17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ - لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is – and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.)(32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) – an ample recompense.)(17:63).
Tafsir Ibn Kathir
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ الْقِصَّةُ ذَكَرَهَا اللَّهُ، تَعَالَى فِي سُورَةِ "الْبَقَرَةِ" وَفِي أَوَّلِ "الْأَعْرَافِ" وَفِي سُورَةِ "الْحِجْرِ" وَ [فِي] [[زيادة من ت.]] سُبْحَانَ" وَ "الْكَهْفِ"، وَهَاهُنَا وَهِيَ أَنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ أَعْلَمَ الْمَلَائِكَةَ قَبْلَ خَلْقِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِأَنَّهُ سَيَخْلُقُ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَأٍ مَسْنُونٍ وَتَقَدَّمَ إِلَيْهِمْ بِالْأَمْرِ مَتَى فَرَغَ مِنْ خَلْقِهِ وَتَسْوِيَتِهِ فَلْيَسْجُدُوا لَهُ إِكْرَامًا وَإِعْظَامًا وَاحْتِرَامًا وَامْتِثَالًا لِأَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَامْتَثَلَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ ذَلِكَ سِوَى إِبْلِيسَ وَلَمْ يَكُنْ مِنْهُمْ جِنْسًا كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَخَانَهُ طَبْعُهُ وَجِبِلَّتُهُ أَحْوَجَ مَا كَانَ إِلَيْهِ فَاسْتَنْكَفَ [[في أ: "فاستأنف".]] عَنِ السُّجُودِ لِآدَمَ وَخَاصَمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ وَادَّعَى [[في ت: "فادعى".]] أنه خير من آدم فإنه مخلوق مِنْ نَارٍ وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ طِينٍ وَالنَّارُ خَيْرٌ مِنَ الطِّينِ فِي زَعْمِهِ. وَقَدْ أَخْطَأَ فِي ذَلِكَ وَخَالَفَ أَمْرَ اللَّهِ، وَكَفَرَ بِذَلِكَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَأَرْغَمَ أَنْفَهُ وَطَرَدَهَ عَنْ [[في أ: "لم".]] بَابِ رَحْمَتِهِ وَمَحَلِّ أُنْسِهِ وَحَضْرَةِ قُدْسِهِ وَسَمَّاهُ "إِبْلِيسَ" إِعْلَامًا لَهُ بِأَنَّهُ قَدْ أبْلَس مِنَ الرَّحْمَةِ وَأَنْزَلَهُ مِنَ السَّمَاءِ مَذْمُومًا مَدْحُورًا إِلَى الْأَرْضِ فَسَأَلَ اللَّهَ النَّظِرَةَ إِلَى يَوْمِ الْبَعْثِ فَأَنْظَرَهُ الْحَلِيمُ الَّذِي لَا يَعْجَل عَلَى مَنْ عَصَاهُ. فَلَمَّا أَمِنَ الْهَلَاكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ تَمَرَّدَ وَطَغَى وَقَالَ: ﴿لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ. إِلا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ﴾ كَمَا قَالَ: ﴿أَرَأَيْتَكَ هَذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لأحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلا قَلِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٢] وَهَؤُلَاءِ هُمُ الْمُسْتَثْنَوْنَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى وَهِيَ [[في أ: "الله عز وجل".]] قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٥]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ. أَقُولُ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ﴾ قَرَأَ ذَلِكَ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ مُجَاهِدٌ بِرَفْعِ "الْحَقُّ" الْأَوْلَى [[في أ: "من".]] وَفَسَّرَهُ مُجَاهِدٌ بِأَنَّ مَعْنَاهُ: أَنَا الْحَقُّ، وَالْحَقُّ أَقُولُ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: الْحَقُّ مِنِّي، وَأَقُولُ الْحَقَّ.
وَقَرَأَ آخَرُونَ بِنَصْبِهِمَا.
قَالَ السُّدِّيُّ: هُوَ قَسَمٌ أَقْسَمَ اللَّهُ بِهِ.
قُلْتُ: وَهَذِهِ الْآيَةُ الْكَرِيمَةُ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ﴾ [السَّجْدَةِ: ١٣] وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٣]
قَالَ أَنَا۠ خَيْرٌۭ مِّنْهُ ۖ خَلَقْتَنِى مِن نَّارٍۢ وَخَلَقْتَهُۥ مِن طِينٍۢ
He said, "I am better than him. You created me from fire and created him from clay."
بولا کہ میں اس سے بہتر ہوں (کہ) تو نے مجھ کو کو آگ سے پیدا کیا اور اِسے مٹی سے بنایا
گفت: «من از او بهترم؛ مرا از آتش آفریدهای و او را از گل!»
Tafsir Ibn Kathir
(Remember) when your Lord said to the angels: "Truly, I am going to create man from clay. (71)"So, when I have fashioned him and breathed into him (his) soul created by Me, then you fall down prostrate to him. (72)So, the angels prostrated themselves, all of them (73)Except Iblis, he was proud and was one of the disbelievers (74)(Allah) said: "O Iblis! What prevents you from prostrating yourself to one whom I have created with Both My Hands. Are you too proud or are you one of the high exalted? (75)[Iblis] said: "I am better than he. You created me from fire, and You created him from clay. (76)(Allah) said: "Then get out from here; for verily, you are outcast. (77)"And verily, My curse is on you till the Day of Recompense. (78)[Iblis] said: "My Lord! Give me then respite till the Day the (dead) are resurrected. (79)(Allah) said: "Verily, you are of those allowed respite, (80)"Till the Day of the time appointed. (81)[Iblis] said: "By Your might, then I will surely mislead them all, (82)"Except Your true servants amongst them. (83)(Allah) said: "The truth is – the truth I say – (84)"That I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together. (85)
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A'raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) – that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed (and he said:)
لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ - إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(...I [Iblis] will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَأَيْتَكَ هَٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا
(([Iblis] said:) "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!")(17:62).
These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ ۚ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ وَكِيلًا
(Verily, My servants – you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.)(17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ - لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is – and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.)(32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) – an ample recompense.)(17:63).
Tafsir Ibn Kathir
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ الْقِصَّةُ ذَكَرَهَا اللَّهُ، تَعَالَى فِي سُورَةِ "الْبَقَرَةِ" وَفِي أَوَّلِ "الْأَعْرَافِ" وَفِي سُورَةِ "الْحِجْرِ" وَ [فِي] [[زيادة من ت.]] سُبْحَانَ" وَ "الْكَهْفِ"، وَهَاهُنَا وَهِيَ أَنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ أَعْلَمَ الْمَلَائِكَةَ قَبْلَ خَلْقِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِأَنَّهُ سَيَخْلُقُ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَأٍ مَسْنُونٍ وَتَقَدَّمَ إِلَيْهِمْ بِالْأَمْرِ مَتَى فَرَغَ مِنْ خَلْقِهِ وَتَسْوِيَتِهِ فَلْيَسْجُدُوا لَهُ إِكْرَامًا وَإِعْظَامًا وَاحْتِرَامًا وَامْتِثَالًا لِأَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَامْتَثَلَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ ذَلِكَ سِوَى إِبْلِيسَ وَلَمْ يَكُنْ مِنْهُمْ جِنْسًا كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَخَانَهُ طَبْعُهُ وَجِبِلَّتُهُ أَحْوَجَ مَا كَانَ إِلَيْهِ فَاسْتَنْكَفَ [[في أ: "فاستأنف".]] عَنِ السُّجُودِ لِآدَمَ وَخَاصَمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ وَادَّعَى [[في ت: "فادعى".]] أنه خير من آدم فإنه مخلوق مِنْ نَارٍ وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ طِينٍ وَالنَّارُ خَيْرٌ مِنَ الطِّينِ فِي زَعْمِهِ. وَقَدْ أَخْطَأَ فِي ذَلِكَ وَخَالَفَ أَمْرَ اللَّهِ، وَكَفَرَ بِذَلِكَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَأَرْغَمَ أَنْفَهُ وَطَرَدَهَ عَنْ [[في أ: "لم".]] بَابِ رَحْمَتِهِ وَمَحَلِّ أُنْسِهِ وَحَضْرَةِ قُدْسِهِ وَسَمَّاهُ "إِبْلِيسَ" إِعْلَامًا لَهُ بِأَنَّهُ قَدْ أبْلَس مِنَ الرَّحْمَةِ وَأَنْزَلَهُ مِنَ السَّمَاءِ مَذْمُومًا مَدْحُورًا إِلَى الْأَرْضِ فَسَأَلَ اللَّهَ النَّظِرَةَ إِلَى يَوْمِ الْبَعْثِ فَأَنْظَرَهُ الْحَلِيمُ الَّذِي لَا يَعْجَل عَلَى مَنْ عَصَاهُ. فَلَمَّا أَمِنَ الْهَلَاكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ تَمَرَّدَ وَطَغَى وَقَالَ: ﴿لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ. إِلا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ﴾ كَمَا قَالَ: ﴿أَرَأَيْتَكَ هَذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لأحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلا قَلِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٢] وَهَؤُلَاءِ هُمُ الْمُسْتَثْنَوْنَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى وَهِيَ [[في أ: "الله عز وجل".]] قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٥]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ. أَقُولُ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ﴾ قَرَأَ ذَلِكَ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ مُجَاهِدٌ بِرَفْعِ "الْحَقُّ" الْأَوْلَى [[في أ: "من".]] وَفَسَّرَهُ مُجَاهِدٌ بِأَنَّ مَعْنَاهُ: أَنَا الْحَقُّ، وَالْحَقُّ أَقُولُ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: الْحَقُّ مِنِّي، وَأَقُولُ الْحَقَّ.
وَقَرَأَ آخَرُونَ بِنَصْبِهِمَا.
قَالَ السُّدِّيُّ: هُوَ قَسَمٌ أَقْسَمَ اللَّهُ بِهِ.
قُلْتُ: وَهَذِهِ الْآيَةُ الْكَرِيمَةُ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ﴾ [السَّجْدَةِ: ١٣] وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٣]
قَالَ فَٱخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌۭ
[Allah] said, "Then get out of Paradise, for indeed, you are expelled.
فرمایا یہاں سے نکل جا تو مردود ہے
فرمود: «از آسمانها (و صفوف ملائکه) خارج شو، که تو رانده درگاه منی!
Tafsir Ibn Kathir
(Remember) when your Lord said to the angels: "Truly, I am going to create man from clay. (71)"So, when I have fashioned him and breathed into him (his) soul created by Me, then you fall down prostrate to him. (72)So, the angels prostrated themselves, all of them (73)Except Iblis, he was proud and was one of the disbelievers (74)(Allah) said: "O Iblis! What prevents you from prostrating yourself to one whom I have created with Both My Hands. Are you too proud or are you one of the high exalted? (75)[Iblis] said: "I am better than he. You created me from fire, and You created him from clay. (76)(Allah) said: "Then get out from here; for verily, you are outcast. (77)"And verily, My curse is on you till the Day of Recompense. (78)[Iblis] said: "My Lord! Give me then respite till the Day the (dead) are resurrected. (79)(Allah) said: "Verily, you are of those allowed respite, (80)"Till the Day of the time appointed. (81)[Iblis] said: "By Your might, then I will surely mislead them all, (82)"Except Your true servants amongst them. (83)(Allah) said: "The truth is – the truth I say – (84)"That I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together. (85)
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A'raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) – that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed (and he said:)
لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ - إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(...I [Iblis] will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَأَيْتَكَ هَٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا
(([Iblis] said:) "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!")(17:62).
These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ ۚ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ وَكِيلًا
(Verily, My servants – you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.)(17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ - لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is – and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.)(32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) – an ample recompense.)(17:63).
Tafsir Ibn Kathir
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ الْقِصَّةُ ذَكَرَهَا اللَّهُ، تَعَالَى فِي سُورَةِ "الْبَقَرَةِ" وَفِي أَوَّلِ "الْأَعْرَافِ" وَفِي سُورَةِ "الْحِجْرِ" وَ [فِي] [[زيادة من ت.]] سُبْحَانَ" وَ "الْكَهْفِ"، وَهَاهُنَا وَهِيَ أَنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ أَعْلَمَ الْمَلَائِكَةَ قَبْلَ خَلْقِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِأَنَّهُ سَيَخْلُقُ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَأٍ مَسْنُونٍ وَتَقَدَّمَ إِلَيْهِمْ بِالْأَمْرِ مَتَى فَرَغَ مِنْ خَلْقِهِ وَتَسْوِيَتِهِ فَلْيَسْجُدُوا لَهُ إِكْرَامًا وَإِعْظَامًا وَاحْتِرَامًا وَامْتِثَالًا لِأَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَامْتَثَلَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ ذَلِكَ سِوَى إِبْلِيسَ وَلَمْ يَكُنْ مِنْهُمْ جِنْسًا كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَخَانَهُ طَبْعُهُ وَجِبِلَّتُهُ أَحْوَجَ مَا كَانَ إِلَيْهِ فَاسْتَنْكَفَ [[في أ: "فاستأنف".]] عَنِ السُّجُودِ لِآدَمَ وَخَاصَمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ وَادَّعَى [[في ت: "فادعى".]] أنه خير من آدم فإنه مخلوق مِنْ نَارٍ وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ طِينٍ وَالنَّارُ خَيْرٌ مِنَ الطِّينِ فِي زَعْمِهِ. وَقَدْ أَخْطَأَ فِي ذَلِكَ وَخَالَفَ أَمْرَ اللَّهِ، وَكَفَرَ بِذَلِكَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَأَرْغَمَ أَنْفَهُ وَطَرَدَهَ عَنْ [[في أ: "لم".]] بَابِ رَحْمَتِهِ وَمَحَلِّ أُنْسِهِ وَحَضْرَةِ قُدْسِهِ وَسَمَّاهُ "إِبْلِيسَ" إِعْلَامًا لَهُ بِأَنَّهُ قَدْ أبْلَس مِنَ الرَّحْمَةِ وَأَنْزَلَهُ مِنَ السَّمَاءِ مَذْمُومًا مَدْحُورًا إِلَى الْأَرْضِ فَسَأَلَ اللَّهَ النَّظِرَةَ إِلَى يَوْمِ الْبَعْثِ فَأَنْظَرَهُ الْحَلِيمُ الَّذِي لَا يَعْجَل عَلَى مَنْ عَصَاهُ. فَلَمَّا أَمِنَ الْهَلَاكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ تَمَرَّدَ وَطَغَى وَقَالَ: ﴿لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ. إِلا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ﴾ كَمَا قَالَ: ﴿أَرَأَيْتَكَ هَذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لأحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلا قَلِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٢] وَهَؤُلَاءِ هُمُ الْمُسْتَثْنَوْنَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى وَهِيَ [[في أ: "الله عز وجل".]] قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٥]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ. أَقُولُ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ﴾ قَرَأَ ذَلِكَ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ مُجَاهِدٌ بِرَفْعِ "الْحَقُّ" الْأَوْلَى [[في أ: "من".]] وَفَسَّرَهُ مُجَاهِدٌ بِأَنَّ مَعْنَاهُ: أَنَا الْحَقُّ، وَالْحَقُّ أَقُولُ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: الْحَقُّ مِنِّي، وَأَقُولُ الْحَقَّ.
وَقَرَأَ آخَرُونَ بِنَصْبِهِمَا.
قَالَ السُّدِّيُّ: هُوَ قَسَمٌ أَقْسَمَ اللَّهُ بِهِ.
قُلْتُ: وَهَذِهِ الْآيَةُ الْكَرِيمَةُ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ﴾ [السَّجْدَةِ: ١٣] وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٣]
وَإِنَّ عَلَيْكَ لَعْنَتِىٓ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلدِّينِ
And indeed, upon you is My curse until the Day of Recompense."
اور تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت (پڑتی) رہے گی
و مسلّماً لعنت من بر تو تا روز قیامت خواهد بود!
Tafsir Ibn Kathir
(Remember) when your Lord said to the angels: "Truly, I am going to create man from clay. (71)"So, when I have fashioned him and breathed into him (his) soul created by Me, then you fall down prostrate to him. (72)So, the angels prostrated themselves, all of them (73)Except Iblis, he was proud and was one of the disbelievers (74)(Allah) said: "O Iblis! What prevents you from prostrating yourself to one whom I have created with Both My Hands. Are you too proud or are you one of the high exalted? (75)[Iblis] said: "I am better than he. You created me from fire, and You created him from clay. (76)(Allah) said: "Then get out from here; for verily, you are outcast. (77)"And verily, My curse is on you till the Day of Recompense. (78)[Iblis] said: "My Lord! Give me then respite till the Day the (dead) are resurrected. (79)(Allah) said: "Verily, you are of those allowed respite, (80)"Till the Day of the time appointed. (81)[Iblis] said: "By Your might, then I will surely mislead them all, (82)"Except Your true servants amongst them. (83)(Allah) said: "The truth is – the truth I say – (84)"That I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together. (85)
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A'raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) – that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed (and he said:)
لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ - إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(...I [Iblis] will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَأَيْتَكَ هَٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا
(([Iblis] said:) "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!")(17:62).
These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ ۚ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ وَكِيلًا
(Verily, My servants – you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.)(17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ - لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is – and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.)(32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) – an ample recompense.)(17:63).
Tafsir Ibn Kathir
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ الْقِصَّةُ ذَكَرَهَا اللَّهُ، تَعَالَى فِي سُورَةِ "الْبَقَرَةِ" وَفِي أَوَّلِ "الْأَعْرَافِ" وَفِي سُورَةِ "الْحِجْرِ" وَ [فِي] [[زيادة من ت.]] سُبْحَانَ" وَ "الْكَهْفِ"، وَهَاهُنَا وَهِيَ أَنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ أَعْلَمَ الْمَلَائِكَةَ قَبْلَ خَلْقِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِأَنَّهُ سَيَخْلُقُ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَأٍ مَسْنُونٍ وَتَقَدَّمَ إِلَيْهِمْ بِالْأَمْرِ مَتَى فَرَغَ مِنْ خَلْقِهِ وَتَسْوِيَتِهِ فَلْيَسْجُدُوا لَهُ إِكْرَامًا وَإِعْظَامًا وَاحْتِرَامًا وَامْتِثَالًا لِأَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَامْتَثَلَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ ذَلِكَ سِوَى إِبْلِيسَ وَلَمْ يَكُنْ مِنْهُمْ جِنْسًا كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَخَانَهُ طَبْعُهُ وَجِبِلَّتُهُ أَحْوَجَ مَا كَانَ إِلَيْهِ فَاسْتَنْكَفَ [[في أ: "فاستأنف".]] عَنِ السُّجُودِ لِآدَمَ وَخَاصَمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ وَادَّعَى [[في ت: "فادعى".]] أنه خير من آدم فإنه مخلوق مِنْ نَارٍ وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ طِينٍ وَالنَّارُ خَيْرٌ مِنَ الطِّينِ فِي زَعْمِهِ. وَقَدْ أَخْطَأَ فِي ذَلِكَ وَخَالَفَ أَمْرَ اللَّهِ، وَكَفَرَ بِذَلِكَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَأَرْغَمَ أَنْفَهُ وَطَرَدَهَ عَنْ [[في أ: "لم".]] بَابِ رَحْمَتِهِ وَمَحَلِّ أُنْسِهِ وَحَضْرَةِ قُدْسِهِ وَسَمَّاهُ "إِبْلِيسَ" إِعْلَامًا لَهُ بِأَنَّهُ قَدْ أبْلَس مِنَ الرَّحْمَةِ وَأَنْزَلَهُ مِنَ السَّمَاءِ مَذْمُومًا مَدْحُورًا إِلَى الْأَرْضِ فَسَأَلَ اللَّهَ النَّظِرَةَ إِلَى يَوْمِ الْبَعْثِ فَأَنْظَرَهُ الْحَلِيمُ الَّذِي لَا يَعْجَل عَلَى مَنْ عَصَاهُ. فَلَمَّا أَمِنَ الْهَلَاكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ تَمَرَّدَ وَطَغَى وَقَالَ: ﴿لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ. إِلا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ﴾ كَمَا قَالَ: ﴿أَرَأَيْتَكَ هَذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لأحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلا قَلِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٢] وَهَؤُلَاءِ هُمُ الْمُسْتَثْنَوْنَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى وَهِيَ [[في أ: "الله عز وجل".]] قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٥]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ. أَقُولُ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ﴾ قَرَأَ ذَلِكَ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ مُجَاهِدٌ بِرَفْعِ "الْحَقُّ" الْأَوْلَى [[في أ: "من".]] وَفَسَّرَهُ مُجَاهِدٌ بِأَنَّ مَعْنَاهُ: أَنَا الْحَقُّ، وَالْحَقُّ أَقُولُ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: الْحَقُّ مِنِّي، وَأَقُولُ الْحَقَّ.
وَقَرَأَ آخَرُونَ بِنَصْبِهِمَا.
قَالَ السُّدِّيُّ: هُوَ قَسَمٌ أَقْسَمَ اللَّهُ بِهِ.
قُلْتُ: وَهَذِهِ الْآيَةُ الْكَرِيمَةُ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ﴾ [السَّجْدَةِ: ١٣] وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٣]
قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِىٓ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ
He said, "My Lord, then reprieve me until the Day they are resurrected."
کہنے لگا کہ میرے پروردگار مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے
گفت: «پروردگارا! مرا تا روزی که انسانها برانگیخته میشوند مهلت ده!»
Tafsir Ibn Kathir
(Remember) when your Lord said to the angels: "Truly, I am going to create man from clay. (71)"So, when I have fashioned him and breathed into him (his) soul created by Me, then you fall down prostrate to him. (72)So, the angels prostrated themselves, all of them (73)Except Iblis, he was proud and was one of the disbelievers (74)(Allah) said: "O Iblis! What prevents you from prostrating yourself to one whom I have created with Both My Hands. Are you too proud or are you one of the high exalted? (75)[Iblis] said: "I am better than he. You created me from fire, and You created him from clay. (76)(Allah) said: "Then get out from here; for verily, you are outcast. (77)"And verily, My curse is on you till the Day of Recompense. (78)[Iblis] said: "My Lord! Give me then respite till the Day the (dead) are resurrected. (79)(Allah) said: "Verily, you are of those allowed respite, (80)"Till the Day of the time appointed. (81)[Iblis] said: "By Your might, then I will surely mislead them all, (82)"Except Your true servants amongst them. (83)(Allah) said: "The truth is – the truth I say – (84)"That I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together. (85)
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A'raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) – that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed (and he said:)
لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ - إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(...I [Iblis] will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَأَيْتَكَ هَٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا
(([Iblis] said:) "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!")(17:62).
These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ ۚ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ وَكِيلًا
(Verily, My servants – you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.)(17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ - لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is – and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.)(32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) – an ample recompense.)(17:63).
Tafsir Ibn Kathir
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ الْقِصَّةُ ذَكَرَهَا اللَّهُ، تَعَالَى فِي سُورَةِ "الْبَقَرَةِ" وَفِي أَوَّلِ "الْأَعْرَافِ" وَفِي سُورَةِ "الْحِجْرِ" وَ [فِي] [[زيادة من ت.]] سُبْحَانَ" وَ "الْكَهْفِ"، وَهَاهُنَا وَهِيَ أَنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ أَعْلَمَ الْمَلَائِكَةَ قَبْلَ خَلْقِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِأَنَّهُ سَيَخْلُقُ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَأٍ مَسْنُونٍ وَتَقَدَّمَ إِلَيْهِمْ بِالْأَمْرِ مَتَى فَرَغَ مِنْ خَلْقِهِ وَتَسْوِيَتِهِ فَلْيَسْجُدُوا لَهُ إِكْرَامًا وَإِعْظَامًا وَاحْتِرَامًا وَامْتِثَالًا لِأَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَامْتَثَلَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ ذَلِكَ سِوَى إِبْلِيسَ وَلَمْ يَكُنْ مِنْهُمْ جِنْسًا كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَخَانَهُ طَبْعُهُ وَجِبِلَّتُهُ أَحْوَجَ مَا كَانَ إِلَيْهِ فَاسْتَنْكَفَ [[في أ: "فاستأنف".]] عَنِ السُّجُودِ لِآدَمَ وَخَاصَمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ وَادَّعَى [[في ت: "فادعى".]] أنه خير من آدم فإنه مخلوق مِنْ نَارٍ وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ طِينٍ وَالنَّارُ خَيْرٌ مِنَ الطِّينِ فِي زَعْمِهِ. وَقَدْ أَخْطَأَ فِي ذَلِكَ وَخَالَفَ أَمْرَ اللَّهِ، وَكَفَرَ بِذَلِكَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَأَرْغَمَ أَنْفَهُ وَطَرَدَهَ عَنْ [[في أ: "لم".]] بَابِ رَحْمَتِهِ وَمَحَلِّ أُنْسِهِ وَحَضْرَةِ قُدْسِهِ وَسَمَّاهُ "إِبْلِيسَ" إِعْلَامًا لَهُ بِأَنَّهُ قَدْ أبْلَس مِنَ الرَّحْمَةِ وَأَنْزَلَهُ مِنَ السَّمَاءِ مَذْمُومًا مَدْحُورًا إِلَى الْأَرْضِ فَسَأَلَ اللَّهَ النَّظِرَةَ إِلَى يَوْمِ الْبَعْثِ فَأَنْظَرَهُ الْحَلِيمُ الَّذِي لَا يَعْجَل عَلَى مَنْ عَصَاهُ. فَلَمَّا أَمِنَ الْهَلَاكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ تَمَرَّدَ وَطَغَى وَقَالَ: ﴿لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ. إِلا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ﴾ كَمَا قَالَ: ﴿أَرَأَيْتَكَ هَذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لأحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلا قَلِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٢] وَهَؤُلَاءِ هُمُ الْمُسْتَثْنَوْنَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى وَهِيَ [[في أ: "الله عز وجل".]] قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٥]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ. أَقُولُ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ﴾ قَرَأَ ذَلِكَ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ مُجَاهِدٌ بِرَفْعِ "الْحَقُّ" الْأَوْلَى [[في أ: "من".]] وَفَسَّرَهُ مُجَاهِدٌ بِأَنَّ مَعْنَاهُ: أَنَا الْحَقُّ، وَالْحَقُّ أَقُولُ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: الْحَقُّ مِنِّي، وَأَقُولُ الْحَقَّ.
وَقَرَأَ آخَرُونَ بِنَصْبِهِمَا.
قَالَ السُّدِّيُّ: هُوَ قَسَمٌ أَقْسَمَ اللَّهُ بِهِ.
قُلْتُ: وَهَذِهِ الْآيَةُ الْكَرِيمَةُ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ﴾ [السَّجْدَةِ: ١٣] وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٣]
قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ ٱلْمُنظَرِينَ
[Allah] said, "So indeed, you are of those reprieved
فرمایا کہ تجھ کو مہلت دی جاتی ہے
فرمود: «تو از مهلت دادهشدگانی،
Tafsir Ibn Kathir
(Remember) when your Lord said to the angels: "Truly, I am going to create man from clay. (71)"So, when I have fashioned him and breathed into him (his) soul created by Me, then you fall down prostrate to him. (72)So, the angels prostrated themselves, all of them (73)Except Iblis, he was proud and was one of the disbelievers (74)(Allah) said: "O Iblis! What prevents you from prostrating yourself to one whom I have created with Both My Hands. Are you too proud or are you one of the high exalted? (75)[Iblis] said: "I am better than he. You created me from fire, and You created him from clay. (76)(Allah) said: "Then get out from here; for verily, you are outcast. (77)"And verily, My curse is on you till the Day of Recompense. (78)[Iblis] said: "My Lord! Give me then respite till the Day the (dead) are resurrected. (79)(Allah) said: "Verily, you are of those allowed respite, (80)"Till the Day of the time appointed. (81)[Iblis] said: "By Your might, then I will surely mislead them all, (82)"Except Your true servants amongst them. (83)(Allah) said: "The truth is – the truth I say – (84)"That I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together. (85)
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A'raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) – that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed (and he said:)
لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ - إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(...I [Iblis] will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَأَيْتَكَ هَٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا
(([Iblis] said:) "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!")(17:62).
These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ ۚ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ وَكِيلًا
(Verily, My servants – you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.)(17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ - لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is – and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.)(32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) – an ample recompense.)(17:63).
Tafsir Ibn Kathir
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ الْقِصَّةُ ذَكَرَهَا اللَّهُ، تَعَالَى فِي سُورَةِ "الْبَقَرَةِ" وَفِي أَوَّلِ "الْأَعْرَافِ" وَفِي سُورَةِ "الْحِجْرِ" وَ [فِي] [[زيادة من ت.]] سُبْحَانَ" وَ "الْكَهْفِ"، وَهَاهُنَا وَهِيَ أَنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ أَعْلَمَ الْمَلَائِكَةَ قَبْلَ خَلْقِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِأَنَّهُ سَيَخْلُقُ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَأٍ مَسْنُونٍ وَتَقَدَّمَ إِلَيْهِمْ بِالْأَمْرِ مَتَى فَرَغَ مِنْ خَلْقِهِ وَتَسْوِيَتِهِ فَلْيَسْجُدُوا لَهُ إِكْرَامًا وَإِعْظَامًا وَاحْتِرَامًا وَامْتِثَالًا لِأَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَامْتَثَلَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ ذَلِكَ سِوَى إِبْلِيسَ وَلَمْ يَكُنْ مِنْهُمْ جِنْسًا كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَخَانَهُ طَبْعُهُ وَجِبِلَّتُهُ أَحْوَجَ مَا كَانَ إِلَيْهِ فَاسْتَنْكَفَ [[في أ: "فاستأنف".]] عَنِ السُّجُودِ لِآدَمَ وَخَاصَمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ وَادَّعَى [[في ت: "فادعى".]] أنه خير من آدم فإنه مخلوق مِنْ نَارٍ وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ طِينٍ وَالنَّارُ خَيْرٌ مِنَ الطِّينِ فِي زَعْمِهِ. وَقَدْ أَخْطَأَ فِي ذَلِكَ وَخَالَفَ أَمْرَ اللَّهِ، وَكَفَرَ بِذَلِكَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَأَرْغَمَ أَنْفَهُ وَطَرَدَهَ عَنْ [[في أ: "لم".]] بَابِ رَحْمَتِهِ وَمَحَلِّ أُنْسِهِ وَحَضْرَةِ قُدْسِهِ وَسَمَّاهُ "إِبْلِيسَ" إِعْلَامًا لَهُ بِأَنَّهُ قَدْ أبْلَس مِنَ الرَّحْمَةِ وَأَنْزَلَهُ مِنَ السَّمَاءِ مَذْمُومًا مَدْحُورًا إِلَى الْأَرْضِ فَسَأَلَ اللَّهَ النَّظِرَةَ إِلَى يَوْمِ الْبَعْثِ فَأَنْظَرَهُ الْحَلِيمُ الَّذِي لَا يَعْجَل عَلَى مَنْ عَصَاهُ. فَلَمَّا أَمِنَ الْهَلَاكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ تَمَرَّدَ وَطَغَى وَقَالَ: ﴿لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ. إِلا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ﴾ كَمَا قَالَ: ﴿أَرَأَيْتَكَ هَذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لأحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلا قَلِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٢] وَهَؤُلَاءِ هُمُ الْمُسْتَثْنَوْنَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى وَهِيَ [[في أ: "الله عز وجل".]] قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٥]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ. أَقُولُ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ﴾ قَرَأَ ذَلِكَ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ مُجَاهِدٌ بِرَفْعِ "الْحَقُّ" الْأَوْلَى [[في أ: "من".]] وَفَسَّرَهُ مُجَاهِدٌ بِأَنَّ مَعْنَاهُ: أَنَا الْحَقُّ، وَالْحَقُّ أَقُولُ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: الْحَقُّ مِنِّي، وَأَقُولُ الْحَقَّ.
وَقَرَأَ آخَرُونَ بِنَصْبِهِمَا.
قَالَ السُّدِّيُّ: هُوَ قَسَمٌ أَقْسَمَ اللَّهُ بِهِ.
قُلْتُ: وَهَذِهِ الْآيَةُ الْكَرِيمَةُ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ﴾ [السَّجْدَةِ: ١٣] وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٣]
إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْوَقْتِ ٱلْمَعْلُومِ
Until the Day of the time well-known."
اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے
ولی تا روز و زمان معیّن!»
Tafsir Ibn Kathir
(Remember) when your Lord said to the angels: "Truly, I am going to create man from clay. (71)"So, when I have fashioned him and breathed into him (his) soul created by Me, then you fall down prostrate to him. (72)So, the angels prostrated themselves, all of them (73)Except Iblis, he was proud and was one of the disbelievers (74)(Allah) said: "O Iblis! What prevents you from prostrating yourself to one whom I have created with Both My Hands. Are you too proud or are you one of the high exalted? (75)[Iblis] said: "I am better than he. You created me from fire, and You created him from clay. (76)(Allah) said: "Then get out from here; for verily, you are outcast. (77)"And verily, My curse is on you till the Day of Recompense. (78)[Iblis] said: "My Lord! Give me then respite till the Day the (dead) are resurrected. (79)(Allah) said: "Verily, you are of those allowed respite, (80)"Till the Day of the time appointed. (81)[Iblis] said: "By Your might, then I will surely mislead them all, (82)"Except Your true servants amongst them. (83)(Allah) said: "The truth is – the truth I say – (84)"That I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together. (85)
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A'raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) – that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed (and he said:)
لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ - إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(...I [Iblis] will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَأَيْتَكَ هَٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا
(([Iblis] said:) "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!")(17:62).
These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ ۚ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ وَكِيلًا
(Verily, My servants – you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.)(17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ - لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is – and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.)(32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) – an ample recompense.)(17:63).
Tafsir Ibn Kathir
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ الْقِصَّةُ ذَكَرَهَا اللَّهُ، تَعَالَى فِي سُورَةِ "الْبَقَرَةِ" وَفِي أَوَّلِ "الْأَعْرَافِ" وَفِي سُورَةِ "الْحِجْرِ" وَ [فِي] [[زيادة من ت.]] سُبْحَانَ" وَ "الْكَهْفِ"، وَهَاهُنَا وَهِيَ أَنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ أَعْلَمَ الْمَلَائِكَةَ قَبْلَ خَلْقِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِأَنَّهُ سَيَخْلُقُ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَأٍ مَسْنُونٍ وَتَقَدَّمَ إِلَيْهِمْ بِالْأَمْرِ مَتَى فَرَغَ مِنْ خَلْقِهِ وَتَسْوِيَتِهِ فَلْيَسْجُدُوا لَهُ إِكْرَامًا وَإِعْظَامًا وَاحْتِرَامًا وَامْتِثَالًا لِأَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَامْتَثَلَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ ذَلِكَ سِوَى إِبْلِيسَ وَلَمْ يَكُنْ مِنْهُمْ جِنْسًا كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَخَانَهُ طَبْعُهُ وَجِبِلَّتُهُ أَحْوَجَ مَا كَانَ إِلَيْهِ فَاسْتَنْكَفَ [[في أ: "فاستأنف".]] عَنِ السُّجُودِ لِآدَمَ وَخَاصَمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ وَادَّعَى [[في ت: "فادعى".]] أنه خير من آدم فإنه مخلوق مِنْ نَارٍ وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ طِينٍ وَالنَّارُ خَيْرٌ مِنَ الطِّينِ فِي زَعْمِهِ. وَقَدْ أَخْطَأَ فِي ذَلِكَ وَخَالَفَ أَمْرَ اللَّهِ، وَكَفَرَ بِذَلِكَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَأَرْغَمَ أَنْفَهُ وَطَرَدَهَ عَنْ [[في أ: "لم".]] بَابِ رَحْمَتِهِ وَمَحَلِّ أُنْسِهِ وَحَضْرَةِ قُدْسِهِ وَسَمَّاهُ "إِبْلِيسَ" إِعْلَامًا لَهُ بِأَنَّهُ قَدْ أبْلَس مِنَ الرَّحْمَةِ وَأَنْزَلَهُ مِنَ السَّمَاءِ مَذْمُومًا مَدْحُورًا إِلَى الْأَرْضِ فَسَأَلَ اللَّهَ النَّظِرَةَ إِلَى يَوْمِ الْبَعْثِ فَأَنْظَرَهُ الْحَلِيمُ الَّذِي لَا يَعْجَل عَلَى مَنْ عَصَاهُ. فَلَمَّا أَمِنَ الْهَلَاكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ تَمَرَّدَ وَطَغَى وَقَالَ: ﴿لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ. إِلا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ﴾ كَمَا قَالَ: ﴿أَرَأَيْتَكَ هَذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لأحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلا قَلِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٢] وَهَؤُلَاءِ هُمُ الْمُسْتَثْنَوْنَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى وَهِيَ [[في أ: "الله عز وجل".]] قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٥]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ. أَقُولُ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ﴾ قَرَأَ ذَلِكَ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ مُجَاهِدٌ بِرَفْعِ "الْحَقُّ" الْأَوْلَى [[في أ: "من".]] وَفَسَّرَهُ مُجَاهِدٌ بِأَنَّ مَعْنَاهُ: أَنَا الْحَقُّ، وَالْحَقُّ أَقُولُ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: الْحَقُّ مِنِّي، وَأَقُولُ الْحَقَّ.
وَقَرَأَ آخَرُونَ بِنَصْبِهِمَا.
قَالَ السُّدِّيُّ: هُوَ قَسَمٌ أَقْسَمَ اللَّهُ بِهِ.
قُلْتُ: وَهَذِهِ الْآيَةُ الْكَرِيمَةُ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ﴾ [السَّجْدَةِ: ١٣] وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٣]
قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ
[Iblees] said, "By your might, I will surely mislead them all
کہنے لگا کہ مجھے تیری عزت کی قسم میں ان سب کو بہکاتا رہوں گا
گفت: «به عزّتت سوگند، همه آنان را گمراه خواهم کرد،
Tafsir Ibn Kathir
(Remember) when your Lord said to the angels: "Truly, I am going to create man from clay. (71)"So, when I have fashioned him and breathed into him (his) soul created by Me, then you fall down prostrate to him. (72)So, the angels prostrated themselves, all of them (73)Except Iblis, he was proud and was one of the disbelievers (74)(Allah) said: "O Iblis! What prevents you from prostrating yourself to one whom I have created with Both My Hands. Are you too proud or are you one of the high exalted? (75)[Iblis] said: "I am better than he. You created me from fire, and You created him from clay. (76)(Allah) said: "Then get out from here; for verily, you are outcast. (77)"And verily, My curse is on you till the Day of Recompense. (78)[Iblis] said: "My Lord! Give me then respite till the Day the (dead) are resurrected. (79)(Allah) said: "Verily, you are of those allowed respite, (80)"Till the Day of the time appointed. (81)[Iblis] said: "By Your might, then I will surely mislead them all, (82)"Except Your true servants amongst them. (83)(Allah) said: "The truth is – the truth I say – (84)"That I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together. (85)
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A'raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) – that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed (and he said:)
لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ - إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(...I [Iblis] will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَأَيْتَكَ هَٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا
(([Iblis] said:) "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!")(17:62).
These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ ۚ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ وَكِيلًا
(Verily, My servants – you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.)(17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ - لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is – and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.)(32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) – an ample recompense.)(17:63).
Tafsir Ibn Kathir
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ الْقِصَّةُ ذَكَرَهَا اللَّهُ، تَعَالَى فِي سُورَةِ "الْبَقَرَةِ" وَفِي أَوَّلِ "الْأَعْرَافِ" وَفِي سُورَةِ "الْحِجْرِ" وَ [فِي] [[زيادة من ت.]] سُبْحَانَ" وَ "الْكَهْفِ"، وَهَاهُنَا وَهِيَ أَنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ أَعْلَمَ الْمَلَائِكَةَ قَبْلَ خَلْقِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِأَنَّهُ سَيَخْلُقُ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَأٍ مَسْنُونٍ وَتَقَدَّمَ إِلَيْهِمْ بِالْأَمْرِ مَتَى فَرَغَ مِنْ خَلْقِهِ وَتَسْوِيَتِهِ فَلْيَسْجُدُوا لَهُ إِكْرَامًا وَإِعْظَامًا وَاحْتِرَامًا وَامْتِثَالًا لِأَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَامْتَثَلَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ ذَلِكَ سِوَى إِبْلِيسَ وَلَمْ يَكُنْ مِنْهُمْ جِنْسًا كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَخَانَهُ طَبْعُهُ وَجِبِلَّتُهُ أَحْوَجَ مَا كَانَ إِلَيْهِ فَاسْتَنْكَفَ [[في أ: "فاستأنف".]] عَنِ السُّجُودِ لِآدَمَ وَخَاصَمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ وَادَّعَى [[في ت: "فادعى".]] أنه خير من آدم فإنه مخلوق مِنْ نَارٍ وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ طِينٍ وَالنَّارُ خَيْرٌ مِنَ الطِّينِ فِي زَعْمِهِ. وَقَدْ أَخْطَأَ فِي ذَلِكَ وَخَالَفَ أَمْرَ اللَّهِ، وَكَفَرَ بِذَلِكَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَأَرْغَمَ أَنْفَهُ وَطَرَدَهَ عَنْ [[في أ: "لم".]] بَابِ رَحْمَتِهِ وَمَحَلِّ أُنْسِهِ وَحَضْرَةِ قُدْسِهِ وَسَمَّاهُ "إِبْلِيسَ" إِعْلَامًا لَهُ بِأَنَّهُ قَدْ أبْلَس مِنَ الرَّحْمَةِ وَأَنْزَلَهُ مِنَ السَّمَاءِ مَذْمُومًا مَدْحُورًا إِلَى الْأَرْضِ فَسَأَلَ اللَّهَ النَّظِرَةَ إِلَى يَوْمِ الْبَعْثِ فَأَنْظَرَهُ الْحَلِيمُ الَّذِي لَا يَعْجَل عَلَى مَنْ عَصَاهُ. فَلَمَّا أَمِنَ الْهَلَاكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ تَمَرَّدَ وَطَغَى وَقَالَ: ﴿لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ. إِلا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ﴾ كَمَا قَالَ: ﴿أَرَأَيْتَكَ هَذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لأحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلا قَلِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٢] وَهَؤُلَاءِ هُمُ الْمُسْتَثْنَوْنَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى وَهِيَ [[في أ: "الله عز وجل".]] قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٥]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ. أَقُولُ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ﴾ قَرَأَ ذَلِكَ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ مُجَاهِدٌ بِرَفْعِ "الْحَقُّ" الْأَوْلَى [[في أ: "من".]] وَفَسَّرَهُ مُجَاهِدٌ بِأَنَّ مَعْنَاهُ: أَنَا الْحَقُّ، وَالْحَقُّ أَقُولُ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: الْحَقُّ مِنِّي، وَأَقُولُ الْحَقَّ.
وَقَرَأَ آخَرُونَ بِنَصْبِهِمَا.
قَالَ السُّدِّيُّ: هُوَ قَسَمٌ أَقْسَمَ اللَّهُ بِهِ.
قُلْتُ: وَهَذِهِ الْآيَةُ الْكَرِيمَةُ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ﴾ [السَّجْدَةِ: ١٣] وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٣]
إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ ٱلْمُخْلَصِينَ
Except, among them, Your chosen servants."
سوا ان کے جو تیرے خالص بندے ہیں
مگر بندگان خالص تو، از میان آنها!»
Tafsir Ibn Kathir
(Remember) when your Lord said to the angels: "Truly, I am going to create man from clay. (71)"So, when I have fashioned him and breathed into him (his) soul created by Me, then you fall down prostrate to him. (72)So, the angels prostrated themselves, all of them (73)Except Iblis, he was proud and was one of the disbelievers (74)(Allah) said: "O Iblis! What prevents you from prostrating yourself to one whom I have created with Both My Hands. Are you too proud or are you one of the high exalted? (75)[Iblis] said: "I am better than he. You created me from fire, and You created him from clay. (76)(Allah) said: "Then get out from here; for verily, you are outcast. (77)"And verily, My curse is on you till the Day of Recompense. (78)[Iblis] said: "My Lord! Give me then respite till the Day the (dead) are resurrected. (79)(Allah) said: "Verily, you are of those allowed respite, (80)"Till the Day of the time appointed. (81)[Iblis] said: "By Your might, then I will surely mislead them all, (82)"Except Your true servants amongst them. (83)(Allah) said: "The truth is – the truth I say – (84)"That I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together. (85)
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A'raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) – that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed (and he said:)
لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ - إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(...I [Iblis] will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَأَيْتَكَ هَٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا
(([Iblis] said:) "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!")(17:62).
These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ ۚ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ وَكِيلًا
(Verily, My servants – you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.)(17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ - لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is – and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.)(32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) – an ample recompense.)(17:63).
Tafsir Ibn Kathir
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ الْقِصَّةُ ذَكَرَهَا اللَّهُ، تَعَالَى فِي سُورَةِ "الْبَقَرَةِ" وَفِي أَوَّلِ "الْأَعْرَافِ" وَفِي سُورَةِ "الْحِجْرِ" وَ [فِي] [[زيادة من ت.]] سُبْحَانَ" وَ "الْكَهْفِ"، وَهَاهُنَا وَهِيَ أَنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ أَعْلَمَ الْمَلَائِكَةَ قَبْلَ خَلْقِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِأَنَّهُ سَيَخْلُقُ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَأٍ مَسْنُونٍ وَتَقَدَّمَ إِلَيْهِمْ بِالْأَمْرِ مَتَى فَرَغَ مِنْ خَلْقِهِ وَتَسْوِيَتِهِ فَلْيَسْجُدُوا لَهُ إِكْرَامًا وَإِعْظَامًا وَاحْتِرَامًا وَامْتِثَالًا لِأَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَامْتَثَلَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ ذَلِكَ سِوَى إِبْلِيسَ وَلَمْ يَكُنْ مِنْهُمْ جِنْسًا كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَخَانَهُ طَبْعُهُ وَجِبِلَّتُهُ أَحْوَجَ مَا كَانَ إِلَيْهِ فَاسْتَنْكَفَ [[في أ: "فاستأنف".]] عَنِ السُّجُودِ لِآدَمَ وَخَاصَمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ وَادَّعَى [[في ت: "فادعى".]] أنه خير من آدم فإنه مخلوق مِنْ نَارٍ وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ طِينٍ وَالنَّارُ خَيْرٌ مِنَ الطِّينِ فِي زَعْمِهِ. وَقَدْ أَخْطَأَ فِي ذَلِكَ وَخَالَفَ أَمْرَ اللَّهِ، وَكَفَرَ بِذَلِكَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَأَرْغَمَ أَنْفَهُ وَطَرَدَهَ عَنْ [[في أ: "لم".]] بَابِ رَحْمَتِهِ وَمَحَلِّ أُنْسِهِ وَحَضْرَةِ قُدْسِهِ وَسَمَّاهُ "إِبْلِيسَ" إِعْلَامًا لَهُ بِأَنَّهُ قَدْ أبْلَس مِنَ الرَّحْمَةِ وَأَنْزَلَهُ مِنَ السَّمَاءِ مَذْمُومًا مَدْحُورًا إِلَى الْأَرْضِ فَسَأَلَ اللَّهَ النَّظِرَةَ إِلَى يَوْمِ الْبَعْثِ فَأَنْظَرَهُ الْحَلِيمُ الَّذِي لَا يَعْجَل عَلَى مَنْ عَصَاهُ. فَلَمَّا أَمِنَ الْهَلَاكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ تَمَرَّدَ وَطَغَى وَقَالَ: ﴿لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ. إِلا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ﴾ كَمَا قَالَ: ﴿أَرَأَيْتَكَ هَذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لأحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلا قَلِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٢] وَهَؤُلَاءِ هُمُ الْمُسْتَثْنَوْنَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى وَهِيَ [[في أ: "الله عز وجل".]] قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٥]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ. أَقُولُ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ﴾ قَرَأَ ذَلِكَ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ مُجَاهِدٌ بِرَفْعِ "الْحَقُّ" الْأَوْلَى [[في أ: "من".]] وَفَسَّرَهُ مُجَاهِدٌ بِأَنَّ مَعْنَاهُ: أَنَا الْحَقُّ، وَالْحَقُّ أَقُولُ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: الْحَقُّ مِنِّي، وَأَقُولُ الْحَقَّ.
وَقَرَأَ آخَرُونَ بِنَصْبِهِمَا.
قَالَ السُّدِّيُّ: هُوَ قَسَمٌ أَقْسَمَ اللَّهُ بِهِ.
قُلْتُ: وَهَذِهِ الْآيَةُ الْكَرِيمَةُ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ﴾ [السَّجْدَةِ: ١٣] وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٣]
قَالَ فَٱلْحَقُّ وَٱلْحَقَّ أَقُولُ
[Allah] said, "The truth [is My oath], and the truth I say -
فرمایا سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں
فرمود: «به حق سوگند، و حق میگویم،
Tafsir Ibn Kathir
(Remember) when your Lord said to the angels: "Truly, I am going to create man from clay. (71)"So, when I have fashioned him and breathed into him (his) soul created by Me, then you fall down prostrate to him. (72)So, the angels prostrated themselves, all of them (73)Except Iblis, he was proud and was one of the disbelievers (74)(Allah) said: "O Iblis! What prevents you from prostrating yourself to one whom I have created with Both My Hands. Are you too proud or are you one of the high exalted? (75)[Iblis] said: "I am better than he. You created me from fire, and You created him from clay. (76)(Allah) said: "Then get out from here; for verily, you are outcast. (77)"And verily, My curse is on you till the Day of Recompense. (78)[Iblis] said: "My Lord! Give me then respite till the Day the (dead) are resurrected. (79)(Allah) said: "Verily, you are of those allowed respite, (80)"Till the Day of the time appointed. (81)[Iblis] said: "By Your might, then I will surely mislead them all, (82)"Except Your true servants amongst them. (83)(Allah) said: "The truth is – the truth I say – (84)"That I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together. (85)
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A'raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) – that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed (and he said:)
لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ - إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(...I [Iblis] will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَأَيْتَكَ هَٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا
(([Iblis] said:) "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!")(17:62).
These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ ۚ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ وَكِيلًا
(Verily, My servants – you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.)(17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ - لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is – and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.)(32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) – an ample recompense.)(17:63).
Tafsir Ibn Kathir
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ الْقِصَّةُ ذَكَرَهَا اللَّهُ، تَعَالَى فِي سُورَةِ "الْبَقَرَةِ" وَفِي أَوَّلِ "الْأَعْرَافِ" وَفِي سُورَةِ "الْحِجْرِ" وَ [فِي] [[زيادة من ت.]] سُبْحَانَ" وَ "الْكَهْفِ"، وَهَاهُنَا وَهِيَ أَنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ أَعْلَمَ الْمَلَائِكَةَ قَبْلَ خَلْقِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِأَنَّهُ سَيَخْلُقُ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَأٍ مَسْنُونٍ وَتَقَدَّمَ إِلَيْهِمْ بِالْأَمْرِ مَتَى فَرَغَ مِنْ خَلْقِهِ وَتَسْوِيَتِهِ فَلْيَسْجُدُوا لَهُ إِكْرَامًا وَإِعْظَامًا وَاحْتِرَامًا وَامْتِثَالًا لِأَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَامْتَثَلَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ ذَلِكَ سِوَى إِبْلِيسَ وَلَمْ يَكُنْ مِنْهُمْ جِنْسًا كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَخَانَهُ طَبْعُهُ وَجِبِلَّتُهُ أَحْوَجَ مَا كَانَ إِلَيْهِ فَاسْتَنْكَفَ [[في أ: "فاستأنف".]] عَنِ السُّجُودِ لِآدَمَ وَخَاصَمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ وَادَّعَى [[في ت: "فادعى".]] أنه خير من آدم فإنه مخلوق مِنْ نَارٍ وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ طِينٍ وَالنَّارُ خَيْرٌ مِنَ الطِّينِ فِي زَعْمِهِ. وَقَدْ أَخْطَأَ فِي ذَلِكَ وَخَالَفَ أَمْرَ اللَّهِ، وَكَفَرَ بِذَلِكَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَأَرْغَمَ أَنْفَهُ وَطَرَدَهَ عَنْ [[في أ: "لم".]] بَابِ رَحْمَتِهِ وَمَحَلِّ أُنْسِهِ وَحَضْرَةِ قُدْسِهِ وَسَمَّاهُ "إِبْلِيسَ" إِعْلَامًا لَهُ بِأَنَّهُ قَدْ أبْلَس مِنَ الرَّحْمَةِ وَأَنْزَلَهُ مِنَ السَّمَاءِ مَذْمُومًا مَدْحُورًا إِلَى الْأَرْضِ فَسَأَلَ اللَّهَ النَّظِرَةَ إِلَى يَوْمِ الْبَعْثِ فَأَنْظَرَهُ الْحَلِيمُ الَّذِي لَا يَعْجَل عَلَى مَنْ عَصَاهُ. فَلَمَّا أَمِنَ الْهَلَاكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ تَمَرَّدَ وَطَغَى وَقَالَ: ﴿لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ. إِلا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ﴾ كَمَا قَالَ: ﴿أَرَأَيْتَكَ هَذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لأحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلا قَلِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٢] وَهَؤُلَاءِ هُمُ الْمُسْتَثْنَوْنَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى وَهِيَ [[في أ: "الله عز وجل".]] قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٥]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ. أَقُولُ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ﴾ قَرَأَ ذَلِكَ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ مُجَاهِدٌ بِرَفْعِ "الْحَقُّ" الْأَوْلَى [[في أ: "من".]] وَفَسَّرَهُ مُجَاهِدٌ بِأَنَّ مَعْنَاهُ: أَنَا الْحَقُّ، وَالْحَقُّ أَقُولُ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: الْحَقُّ مِنِّي، وَأَقُولُ الْحَقَّ.
وَقَرَأَ آخَرُونَ بِنَصْبِهِمَا.
قَالَ السُّدِّيُّ: هُوَ قَسَمٌ أَقْسَمَ اللَّهُ بِهِ.
قُلْتُ: وَهَذِهِ الْآيَةُ الْكَرِيمَةُ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ﴾ [السَّجْدَةِ: ١٣] وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٣]
لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
[That] I will surely fill Hell with you and those of them that follow you all together."
کہ میں تجھ سے اور جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھر دوں گا
که جهنّم را از تو و هر کدام از آنان که از تو پیروی کند، پر خواهم کرد!»
Tafsir Ibn Kathir
(Remember) when your Lord said to the angels: "Truly, I am going to create man from clay. (71)"So, when I have fashioned him and breathed into him (his) soul created by Me, then you fall down prostrate to him. (72)So, the angels prostrated themselves, all of them (73)Except Iblis, he was proud and was one of the disbelievers (74)(Allah) said: "O Iblis! What prevents you from prostrating yourself to one whom I have created with Both My Hands. Are you too proud or are you one of the high exalted? (75)[Iblis] said: "I am better than he. You created me from fire, and You created him from clay. (76)(Allah) said: "Then get out from here; for verily, you are outcast. (77)"And verily, My curse is on you till the Day of Recompense. (78)[Iblis] said: "My Lord! Give me then respite till the Day the (dead) are resurrected. (79)(Allah) said: "Verily, you are of those allowed respite, (80)"Till the Day of the time appointed. (81)[Iblis] said: "By Your might, then I will surely mislead them all, (82)"Except Your true servants amongst them. (83)(Allah) said: "The truth is – the truth I say – (84)"That I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together. (85)
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A'raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) – that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed (and he said:)
لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ - إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(...I [Iblis] will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَأَيْتَكَ هَٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا
(([Iblis] said:) "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!")(17:62).
These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ ۚ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ وَكِيلًا
(Verily, My servants – you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.)(17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ - لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is – and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.)(32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) – an ample recompense.)(17:63).
Tafsir Ibn Kathir
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ الْقِصَّةُ ذَكَرَهَا اللَّهُ، تَعَالَى فِي سُورَةِ "الْبَقَرَةِ" وَفِي أَوَّلِ "الْأَعْرَافِ" وَفِي سُورَةِ "الْحِجْرِ" وَ [فِي] [[زيادة من ت.]] سُبْحَانَ" وَ "الْكَهْفِ"، وَهَاهُنَا وَهِيَ أَنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ أَعْلَمَ الْمَلَائِكَةَ قَبْلَ خَلْقِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِأَنَّهُ سَيَخْلُقُ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَأٍ مَسْنُونٍ وَتَقَدَّمَ إِلَيْهِمْ بِالْأَمْرِ مَتَى فَرَغَ مِنْ خَلْقِهِ وَتَسْوِيَتِهِ فَلْيَسْجُدُوا لَهُ إِكْرَامًا وَإِعْظَامًا وَاحْتِرَامًا وَامْتِثَالًا لِأَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَامْتَثَلَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ ذَلِكَ سِوَى إِبْلِيسَ وَلَمْ يَكُنْ مِنْهُمْ جِنْسًا كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَخَانَهُ طَبْعُهُ وَجِبِلَّتُهُ أَحْوَجَ مَا كَانَ إِلَيْهِ فَاسْتَنْكَفَ [[في أ: "فاستأنف".]] عَنِ السُّجُودِ لِآدَمَ وَخَاصَمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ وَادَّعَى [[في ت: "فادعى".]] أنه خير من آدم فإنه مخلوق مِنْ نَارٍ وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ طِينٍ وَالنَّارُ خَيْرٌ مِنَ الطِّينِ فِي زَعْمِهِ. وَقَدْ أَخْطَأَ فِي ذَلِكَ وَخَالَفَ أَمْرَ اللَّهِ، وَكَفَرَ بِذَلِكَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَأَرْغَمَ أَنْفَهُ وَطَرَدَهَ عَنْ [[في أ: "لم".]] بَابِ رَحْمَتِهِ وَمَحَلِّ أُنْسِهِ وَحَضْرَةِ قُدْسِهِ وَسَمَّاهُ "إِبْلِيسَ" إِعْلَامًا لَهُ بِأَنَّهُ قَدْ أبْلَس مِنَ الرَّحْمَةِ وَأَنْزَلَهُ مِنَ السَّمَاءِ مَذْمُومًا مَدْحُورًا إِلَى الْأَرْضِ فَسَأَلَ اللَّهَ النَّظِرَةَ إِلَى يَوْمِ الْبَعْثِ فَأَنْظَرَهُ الْحَلِيمُ الَّذِي لَا يَعْجَل عَلَى مَنْ عَصَاهُ. فَلَمَّا أَمِنَ الْهَلَاكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ تَمَرَّدَ وَطَغَى وَقَالَ: ﴿لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ. إِلا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ﴾ كَمَا قَالَ: ﴿أَرَأَيْتَكَ هَذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لأحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلا قَلِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٢] وَهَؤُلَاءِ هُمُ الْمُسْتَثْنَوْنَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى وَهِيَ [[في أ: "الله عز وجل".]] قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٥]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ. أَقُولُ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ﴾ قَرَأَ ذَلِكَ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ مُجَاهِدٌ بِرَفْعِ "الْحَقُّ" الْأَوْلَى [[في أ: "من".]] وَفَسَّرَهُ مُجَاهِدٌ بِأَنَّ مَعْنَاهُ: أَنَا الْحَقُّ، وَالْحَقُّ أَقُولُ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: الْحَقُّ مِنِّي، وَأَقُولُ الْحَقَّ.
وَقَرَأَ آخَرُونَ بِنَصْبِهِمَا.
قَالَ السُّدِّيُّ: هُوَ قَسَمٌ أَقْسَمَ اللَّهُ بِهِ.
قُلْتُ: وَهَذِهِ الْآيَةُ الْكَرِيمَةُ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ﴾ [السَّجْدَةِ: ١٣] وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٣]
قُلْ مَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍۢ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلْمُتَكَلِّفِينَ
Say, [O Muhammad], "I do not ask you for the Qur'an any payment, and I am not of the pretentious
اے پیغمبر کہہ دو کہ میں تم سے اس کا صلہ نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں ہوں
(ای پیامبر!) بگو: «من برای دعوت نبوّت هیچ پاداشی از شما نمیطلبم، و من از متکلّفین نیستم! (سخنانم روشن و همراه با دلیل است!)»
Tafsir Ibn Kathir
Say: "No wage do I ask of you for this, nor am I one of the Mutakallifin. (86)"It is only a Reminder for all the creatures. (87)"And you shall certainly know the truth of it after a while. (88)
Allah says: 'Say, O Muhammad, to these idolators: I do not ask you to give me any reward from the goods of this world in return for the Message which I convey to you and the sincere advice I offer.'
وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ
(nor am I one of the Mutakallifin.) means, 'and I do not add anything to that which Allah has told me. Whatever I am commanded to do, I do it, and I do not add anything or take anything away. By doing this I am seeking the Face of Allah and the Hereafter.'
Sufyan Ath-Thawri, narrated from Al-A'mash and Mansur from Abu Ad-Duha that Masruq said, "We went to 'Abdullah bin Mas'ud, may Allah be pleased with him. He said, 'O people! Whoever knows a thing should say it, and whoever does not know should say, 'Allah knows best.'" It is part of knowledge, when one does not know, to say "Allah knows best." For Allah said to your Prophet ﷺ:
قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ
(Say: "No wage do I ask of you for this, nor am I one of the Mutakallifin.") This was reported by Al-Bukhari and Muslim.
إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ
(It is only a Reminder for all the creatures.) means, the Qur'an is a reminder for all those who are held accountable, men and Jinn. This was the view of Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him. This Ayah is like the Ayat:
لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ
(that I may therewith warn you and whomsoever it may reach)(6:19), and
وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ ۚ
(but those of the sects that reject it, the Fire will be their promised meeting place)(11:17).
وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ
(And you shall certainly know the truth of it) means, 'you will see confirmation that what he says is true.'
بَعْدَ حِينٍ
(after a while.) means, soon. Qatadah said, "After death. 'Ikrimah said, "It means, on the Day of Resurrection." There is no contradiction between the two views, because whoever dies comes under the rulings of the Day of Resurrection.
This is the end of the Tafsir of Surah Sad. All praise and gratitude is due to Allah, and Allah may He be glorified and exalted, knows best.
Tafsir Ibn Kathir
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ لوگوں میں آپ اعلان کردیں کہ میں تبلیغ دین پر اور احکام قرآن پر تم سے کوئی اجرت و بدلہ نہیں مانگتا۔ اس سے میرا مقصود کوئی دنیوی نفع حاصل کرنا نہیں اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں کہ اللہ نے نہ اتارا ہو اور میں جوڑ لوں۔ مجھے تو جو کچھ پہنچایا ہے وہی میں تمہیں پہنچا دیتا ہوں نہ کمی کروں نہ زیادتی اور میرا مقصود اس سے صرف رضائے رب اور مرضی مولیٰ ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں لوگوں جسے کسی مسئلہ کا علم ہو وہ اسے لوگوں سے بیان کر دے اور جو نہ جانتا ہو وہ کہہ دے کہ اللہ جانے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے نبی ﷺ سے بھی یہی فرمایا کہ میں تکلف کرنے والا نہیں ہوں۔ یہ قرآن تمام انسانوں اور جنوں کے لئے نصیحت ہے جیسے اور آیت میں ہے تاکہ میں تمہیں اور جن جن لوگوں تک یہ پہنچے آگاہ اور ہوشیار کر دوں اور آیت میں ہے کہ جو شخص بھی اس سے کفر کرے وہ جہنمی ہے۔ میری باتوں کی حقیقت میرے کلام کی تصدیق میرے بیان کی سچائی میرے زبان کی صداقت تمہیں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گی یعنی مرتے ہی، قیامت کے قائم ہوتے ہی۔ موت کے وقت یقین آجائے گا اور میری کہی ہوئی خبریں اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ واللہ اعلم بالصواب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورة ص کی تفسیم ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کے انعام و احسان پر اس کا شکر ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: قُلْ يَا مُحَمَّدُ لِهَؤُلَاءِ الْمُشْرِكِينَ: مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَى هَذَا الْبَلَاغِ وَهَذَا النُّصْحِ أَجْرًا تُعْطُونِيهِ مِنْ عَرَضِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ﴿وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ أَيْ: وَمَا أَزِيدُ عَلَى مَا أَرْسَلَنِي اللَّهُ بِهِ، وَلَا أَبْتَغِي زِيَادَةً عَلَيْهِ بَلْ مَا أُمِرْتُ بِهِ أَدَّيْتُهُ لَا أَزْيَدُ عَلَيْهِ وَلَا أَنْقَصُ مِنْهُ وَإِنَّمَا أَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ.
قَالَ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنِ الْأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: أَتَيْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عَلِمَ شَيْئًا فَلْيَقُلْ بِهِ وَمَنْ لَا [[في أ: "وهو".]] يَعْلَمُ فَلْيَقُلْ: اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّ من العلم أن يقول الرجل لما لا يَعْلَمُ: اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّ اللَّهَ [[في أ: "الأول".]] قَالَ لِنَبِيِّكُمْ ﷺ: ﴿قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ أخرجاه [[في ت: "أخرجه البخاري ومسلم".]] من حديث الأعمش به [[صحيح البخاري برقم (٤٨٠٩) وصحيح مسلم برقم (٢٧٩٨) .]] وَقَوْلُهُ: ﴿إِنْ هُوَ إِلا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ﴾ يَعْنِي: الْقُرْآنُ ذِكْرٌ لِجَمِيعِ الْمُكَلَّفِينَ مِنَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ، قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ. وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ: حَدَّثَنَا قَيْسُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جبير [[في ت: "بإسناده".]] ، عَنِ [[في ت: "إلى".]] ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿لِلْعَالَمِينَ﴾ قَالَ: الْجِنُّ وَالْإِنْسُ.
وَهَذِهِ الْآيَةُ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لأنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ﴾ [الْأَنْعَامِ: ١٩] ، [وَكَقَوْلِهِ] [[زيادة من أ.]] ﴿وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الأحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ﴾ [هُودٍ: ١٧] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ﴾ أَيْ: خَبَرَهُ وَصِدْقَهُ ﴿بَعْدَ حِينٍ﴾ أَيْ: عَنْ قَرِيبٍ. قَالَ قَتَادَةُ: بَعْدَ الْمَوْتِ. وَقَالَ عِكْرِمَةُ: يَعْنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا مُنَافَاةَ بَيْنَ الْقَوْلَيْنِ؛ فَإِنَّ مَنْ مَاتَ فَقَدْ [[في ت، س، أ: "قد".]] دَخَلَ فِي حُكْمِ الْقِيَامَةِ.
وَقَالَ قَتَادَةُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعْدَ حِينٍ﴾ قَالَ الْحَسَنُ: يَا ابْنَ آدَمَ، عِنْدَ الْمَوْتِ يَأْتِيكَ الْخَبَرُ الْيَقِينُ.
آخَرُ تَفْسِيرِ سورة "ص"، ولله الحمد والمنة.
إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌۭ لِّلْعَٰلَمِينَ
It is but a reminder to the worlds.
یہ قرآن تو اہل عالم کے لئے نصیحت ہے
این (قرآن) تذکّری برای همه جهانیان است؛
Tafsir Ibn Kathir
Say: "No wage do I ask of you for this, nor am I one of the Mutakallifin. (86)"It is only a Reminder for all the creatures. (87)"And you shall certainly know the truth of it after a while. (88)
Allah says: 'Say, O Muhammad, to these idolators: I do not ask you to give me any reward from the goods of this world in return for the Message which I convey to you and the sincere advice I offer.'
وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ
(nor am I one of the Mutakallifin.) means, 'and I do not add anything to that which Allah has told me. Whatever I am commanded to do, I do it, and I do not add anything or take anything away. By doing this I am seeking the Face of Allah and the Hereafter.'
Sufyan Ath-Thawri, narrated from Al-A'mash and Mansur from Abu Ad-Duha that Masruq said, "We went to 'Abdullah bin Mas'ud, may Allah be pleased with him. He said, 'O people! Whoever knows a thing should say it, and whoever does not know should say, 'Allah knows best.'" It is part of knowledge, when one does not know, to say "Allah knows best." For Allah said to your Prophet ﷺ:
قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ
(Say: "No wage do I ask of you for this, nor am I one of the Mutakallifin.") This was reported by Al-Bukhari and Muslim.
إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ
(It is only a Reminder for all the creatures.) means, the Qur'an is a reminder for all those who are held accountable, men and Jinn. This was the view of Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him. This Ayah is like the Ayat:
لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ
(that I may therewith warn you and whomsoever it may reach)(6:19), and
وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ ۚ
(but those of the sects that reject it, the Fire will be their promised meeting place)(11:17).
وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ
(And you shall certainly know the truth of it) means, 'you will see confirmation that what he says is true.'
بَعْدَ حِينٍ
(after a while.) means, soon. Qatadah said, "After death. 'Ikrimah said, "It means, on the Day of Resurrection." There is no contradiction between the two views, because whoever dies comes under the rulings of the Day of Resurrection.
This is the end of the Tafsir of Surah Sad. All praise and gratitude is due to Allah, and Allah may He be glorified and exalted, knows best.
Tafsir Ibn Kathir
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ لوگوں میں آپ اعلان کردیں کہ میں تبلیغ دین پر اور احکام قرآن پر تم سے کوئی اجرت و بدلہ نہیں مانگتا۔ اس سے میرا مقصود کوئی دنیوی نفع حاصل کرنا نہیں اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں کہ اللہ نے نہ اتارا ہو اور میں جوڑ لوں۔ مجھے تو جو کچھ پہنچایا ہے وہی میں تمہیں پہنچا دیتا ہوں نہ کمی کروں نہ زیادتی اور میرا مقصود اس سے صرف رضائے رب اور مرضی مولیٰ ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں لوگوں جسے کسی مسئلہ کا علم ہو وہ اسے لوگوں سے بیان کر دے اور جو نہ جانتا ہو وہ کہہ دے کہ اللہ جانے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے نبی ﷺ سے بھی یہی فرمایا کہ میں تکلف کرنے والا نہیں ہوں۔ یہ قرآن تمام انسانوں اور جنوں کے لئے نصیحت ہے جیسے اور آیت میں ہے تاکہ میں تمہیں اور جن جن لوگوں تک یہ پہنچے آگاہ اور ہوشیار کر دوں اور آیت میں ہے کہ جو شخص بھی اس سے کفر کرے وہ جہنمی ہے۔ میری باتوں کی حقیقت میرے کلام کی تصدیق میرے بیان کی سچائی میرے زبان کی صداقت تمہیں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گی یعنی مرتے ہی، قیامت کے قائم ہوتے ہی۔ موت کے وقت یقین آجائے گا اور میری کہی ہوئی خبریں اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ واللہ اعلم بالصواب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورة ص کی تفسیم ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کے انعام و احسان پر اس کا شکر ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: قُلْ يَا مُحَمَّدُ لِهَؤُلَاءِ الْمُشْرِكِينَ: مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَى هَذَا الْبَلَاغِ وَهَذَا النُّصْحِ أَجْرًا تُعْطُونِيهِ مِنْ عَرَضِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ﴿وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ أَيْ: وَمَا أَزِيدُ عَلَى مَا أَرْسَلَنِي اللَّهُ بِهِ، وَلَا أَبْتَغِي زِيَادَةً عَلَيْهِ بَلْ مَا أُمِرْتُ بِهِ أَدَّيْتُهُ لَا أَزْيَدُ عَلَيْهِ وَلَا أَنْقَصُ مِنْهُ وَإِنَّمَا أَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ.
قَالَ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنِ الْأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: أَتَيْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عَلِمَ شَيْئًا فَلْيَقُلْ بِهِ وَمَنْ لَا [[في أ: "وهو".]] يَعْلَمُ فَلْيَقُلْ: اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّ من العلم أن يقول الرجل لما لا يَعْلَمُ: اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّ اللَّهَ [[في أ: "الأول".]] قَالَ لِنَبِيِّكُمْ ﷺ: ﴿قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ أخرجاه [[في ت: "أخرجه البخاري ومسلم".]] من حديث الأعمش به [[صحيح البخاري برقم (٤٨٠٩) وصحيح مسلم برقم (٢٧٩٨) .]] وَقَوْلُهُ: ﴿إِنْ هُوَ إِلا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ﴾ يَعْنِي: الْقُرْآنُ ذِكْرٌ لِجَمِيعِ الْمُكَلَّفِينَ مِنَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ، قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ. وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ: حَدَّثَنَا قَيْسُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جبير [[في ت: "بإسناده".]] ، عَنِ [[في ت: "إلى".]] ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿لِلْعَالَمِينَ﴾ قَالَ: الْجِنُّ وَالْإِنْسُ.
وَهَذِهِ الْآيَةُ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لأنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ﴾ [الْأَنْعَامِ: ١٩] ، [وَكَقَوْلِهِ] [[زيادة من أ.]] ﴿وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الأحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ﴾ [هُودٍ: ١٧] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ﴾ أَيْ: خَبَرَهُ وَصِدْقَهُ ﴿بَعْدَ حِينٍ﴾ أَيْ: عَنْ قَرِيبٍ. قَالَ قَتَادَةُ: بَعْدَ الْمَوْتِ. وَقَالَ عِكْرِمَةُ: يَعْنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا مُنَافَاةَ بَيْنَ الْقَوْلَيْنِ؛ فَإِنَّ مَنْ مَاتَ فَقَدْ [[في ت، س، أ: "قد".]] دَخَلَ فِي حُكْمِ الْقِيَامَةِ.
وَقَالَ قَتَادَةُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعْدَ حِينٍ﴾ قَالَ الْحَسَنُ: يَا ابْنَ آدَمَ، عِنْدَ الْمَوْتِ يَأْتِيكَ الْخَبَرُ الْيَقِينُ.
آخَرُ تَفْسِيرِ سورة "ص"، ولله الحمد والمنة.
وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُۥ بَعْدَ حِينٍۭ
And you will surely know [the truth of] its information after a time."
اور تم کو اس کا حال ایک وقت کے بعد معلوم ہوجائے گا
و خبر آن را بعد از مدّتی میشنوید!
Tafsir Ibn Kathir
Say: "No wage do I ask of you for this, nor am I one of the Mutakallifin. (86)"It is only a Reminder for all the creatures. (87)"And you shall certainly know the truth of it after a while. (88)
Allah says: 'Say, O Muhammad, to these idolators: I do not ask you to give me any reward from the goods of this world in return for the Message which I convey to you and the sincere advice I offer.'
وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ
(nor am I one of the Mutakallifin.) means, 'and I do not add anything to that which Allah has told me. Whatever I am commanded to do, I do it, and I do not add anything or take anything away. By doing this I am seeking the Face of Allah and the Hereafter.'
Sufyan Ath-Thawri, narrated from Al-A'mash and Mansur from Abu Ad-Duha that Masruq said, "We went to 'Abdullah bin Mas'ud, may Allah be pleased with him. He said, 'O people! Whoever knows a thing should say it, and whoever does not know should say, 'Allah knows best.'" It is part of knowledge, when one does not know, to say "Allah knows best." For Allah said to your Prophet ﷺ:
قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ
(Say: "No wage do I ask of you for this, nor am I one of the Mutakallifin.") This was reported by Al-Bukhari and Muslim.
إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ
(It is only a Reminder for all the creatures.) means, the Qur'an is a reminder for all those who are held accountable, men and Jinn. This was the view of Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him. This Ayah is like the Ayat:
لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ
(that I may therewith warn you and whomsoever it may reach)(6:19), and
وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ ۚ
(but those of the sects that reject it, the Fire will be their promised meeting place)(11:17).
وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ
(And you shall certainly know the truth of it) means, 'you will see confirmation that what he says is true.'
بَعْدَ حِينٍ
(after a while.) means, soon. Qatadah said, "After death. 'Ikrimah said, "It means, on the Day of Resurrection." There is no contradiction between the two views, because whoever dies comes under the rulings of the Day of Resurrection.
This is the end of the Tafsir of Surah Sad. All praise and gratitude is due to Allah, and Allah may He be glorified and exalted, knows best.
Tafsir Ibn Kathir
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ لوگوں میں آپ اعلان کردیں کہ میں تبلیغ دین پر اور احکام قرآن پر تم سے کوئی اجرت و بدلہ نہیں مانگتا۔ اس سے میرا مقصود کوئی دنیوی نفع حاصل کرنا نہیں اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں کہ اللہ نے نہ اتارا ہو اور میں جوڑ لوں۔ مجھے تو جو کچھ پہنچایا ہے وہی میں تمہیں پہنچا دیتا ہوں نہ کمی کروں نہ زیادتی اور میرا مقصود اس سے صرف رضائے رب اور مرضی مولیٰ ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں لوگوں جسے کسی مسئلہ کا علم ہو وہ اسے لوگوں سے بیان کر دے اور جو نہ جانتا ہو وہ کہہ دے کہ اللہ جانے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے نبی ﷺ سے بھی یہی فرمایا کہ میں تکلف کرنے والا نہیں ہوں۔ یہ قرآن تمام انسانوں اور جنوں کے لئے نصیحت ہے جیسے اور آیت میں ہے تاکہ میں تمہیں اور جن جن لوگوں تک یہ پہنچے آگاہ اور ہوشیار کر دوں اور آیت میں ہے کہ جو شخص بھی اس سے کفر کرے وہ جہنمی ہے۔ میری باتوں کی حقیقت میرے کلام کی تصدیق میرے بیان کی سچائی میرے زبان کی صداقت تمہیں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گی یعنی مرتے ہی، قیامت کے قائم ہوتے ہی۔ موت کے وقت یقین آجائے گا اور میری کہی ہوئی خبریں اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ واللہ اعلم بالصواب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورة ص کی تفسیم ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کے انعام و احسان پر اس کا شکر ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: قُلْ يَا مُحَمَّدُ لِهَؤُلَاءِ الْمُشْرِكِينَ: مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَى هَذَا الْبَلَاغِ وَهَذَا النُّصْحِ أَجْرًا تُعْطُونِيهِ مِنْ عَرَضِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ﴿وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ أَيْ: وَمَا أَزِيدُ عَلَى مَا أَرْسَلَنِي اللَّهُ بِهِ، وَلَا أَبْتَغِي زِيَادَةً عَلَيْهِ بَلْ مَا أُمِرْتُ بِهِ أَدَّيْتُهُ لَا أَزْيَدُ عَلَيْهِ وَلَا أَنْقَصُ مِنْهُ وَإِنَّمَا أَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ.
قَالَ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنِ الْأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: أَتَيْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عَلِمَ شَيْئًا فَلْيَقُلْ بِهِ وَمَنْ لَا [[في أ: "وهو".]] يَعْلَمُ فَلْيَقُلْ: اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّ من العلم أن يقول الرجل لما لا يَعْلَمُ: اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّ اللَّهَ [[في أ: "الأول".]] قَالَ لِنَبِيِّكُمْ ﷺ: ﴿قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ أخرجاه [[في ت: "أخرجه البخاري ومسلم".]] من حديث الأعمش به [[صحيح البخاري برقم (٤٨٠٩) وصحيح مسلم برقم (٢٧٩٨) .]] وَقَوْلُهُ: ﴿إِنْ هُوَ إِلا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ﴾ يَعْنِي: الْقُرْآنُ ذِكْرٌ لِجَمِيعِ الْمُكَلَّفِينَ مِنَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ، قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ. وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ: حَدَّثَنَا قَيْسُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جبير [[في ت: "بإسناده".]] ، عَنِ [[في ت: "إلى".]] ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿لِلْعَالَمِينَ﴾ قَالَ: الْجِنُّ وَالْإِنْسُ.
وَهَذِهِ الْآيَةُ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لأنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ﴾ [الْأَنْعَامِ: ١٩] ، [وَكَقَوْلِهِ] [[زيادة من أ.]] ﴿وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الأحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ﴾ [هُودٍ: ١٧] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ﴾ أَيْ: خَبَرَهُ وَصِدْقَهُ ﴿بَعْدَ حِينٍ﴾ أَيْ: عَنْ قَرِيبٍ. قَالَ قَتَادَةُ: بَعْدَ الْمَوْتِ. وَقَالَ عِكْرِمَةُ: يَعْنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا مُنَافَاةَ بَيْنَ الْقَوْلَيْنِ؛ فَإِنَّ مَنْ مَاتَ فَقَدْ [[في ت، س، أ: "قد".]] دَخَلَ فِي حُكْمِ الْقِيَامَةِ.
وَقَالَ قَتَادَةُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعْدَ حِينٍ﴾ قَالَ الْحَسَنُ: يَا ابْنَ آدَمَ، عِنْدَ الْمَوْتِ يَأْتِيكَ الْخَبَرُ الْيَقِينُ.
آخَرُ تَفْسِيرِ سورة "ص"، ولله الحمد والمنة.