1
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ وَٱلصَّٰٓفَّٰتِ صَفًّۭا
By those [angels] lined up in rows
قسم ہے صف باندھنے والوں کی پرا جما کر
سوگند به (فرشتگان) صفکشیده (و منظّم)
Tafsir Ibn Kathir
The Virtues of Surat As-Saffat
An-Nasa'i recorded that 'Abdullah bin 'Umar, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ used to command us to make our prayers short and he used to recite As-Saffat when he lead us in prayer." This was recorded by An-Nasa'i only.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
وَالصَّافَّاتِ صَفًّا - فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا - فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرًا - إِنَّ إِلَٰهَكُمْ لَوَاحِدٌ - رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ
(1. By those ranged in ranks.)(2. By those who drive the clouds in a good way.)(3. By those who bring the Dhikr.)(4. Verily, your God is indeed One;)(5. Lord of the heavens and of the earth, and all that is between them, and Lord of every point of the sun's risings.)
The angels witness to the Oneness of Allah.It was reported that 'Abdullah bin Mas'ud, may Allah be pleased with him, said:
وَالصَّافَّاتِ صَفًّا
"(By those ranged in ranks.) – they are the angels;
فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا
(By those who drive the clouds in a good way.) they are the angels;
فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرًا
(By those who bring the Dhikr.) they are the angels." This was also the view of Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Masruq, Sa'id bin Jubayr, 'Ikrimah, Mujahid, As-Suddi, Qatadah and Ar-Rabi' bin Anas. Qatadah said, "The angels form ranks in the heavens." Muslim recorded that Hudhayfah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ: جُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ، وَجُعِلَتْ لَنَا الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا، وَجُعِلَ لَنَا تُرَابُهَا طَهُورًا، إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ
(We have been favored over the rest of mankind in three ways: our ranks have been made like the ranks of the angels; the entire earth has been made a Masjid for us; and its soil has been made a means of purification for us if we cannot find water.)"
Muslim, Abu Dawud, An-Nasa'i and Ibn Majah recorded that Jabir bin Samurah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ؟
(Will you not form ranks as the angels form ranks in the presence of their Lord?)
We said, 'How do the angels form ranks in the presence of their Lord?' He ﷺ said:
يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْمُتَقَدِّمَةَ، وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ
(They complete the rows nearer the front and they consolidate the rows.)" As-Suddi and others said that the Ayah
فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا
(By those who drive the clouds in a good way.) means that they drive the clouds.
فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرًا
(By those who bring the Dhikr.) As-Suddi said, "The angels bring the Scriptures and the Qur'an from Allah to mankind."
The One True God is Allah
إِنَّ إِلَٰهَكُمْ لَوَاحِدٌ - رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
(Verily, your God is indeed One, Lord of the heavens and the earth,) This is the One by Whom the oath is sworn, stating that there is no God worthy of worship but He, Lord of the heavens and the earth,
وَمَا بَيْنَهُمَا
(and all that is between them,) means, of created beings.
وَرَبُّ الْمَشَارِقِ
(and Lord of every point of the sun's risings.) means, He is the Sovereign Who is controlling His creation by subjugating it and all that is in it of stars, planets and heavenly bodies which appear from the east and set in the west. Mentioning the east is sufficient and there is no need for the west to be mentioned too, because it is implied in what is said. This has also been stated clearly elsewhere, in the Ayat:
فَلَا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ إِنَّا لَقَادِرُونَ
(So I swear by the Lord of all the points of sunrise and sunset in the east and the west that surely We are able.)(70:40)
رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ
((He is) the Lord of the two easts and the Lord of the two wests.)(55:17) which refers to the rising and setting points of the sun and the moon in both winter and summer. Tafsir Ibn Kathir
فرشتوں کا تذکرہ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ان تینوں قسموں سے مراد فرشتے ہیں۔ اور بھی اکثر حضرات کا یہی قول ہے۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں فرشتوں کی صفیں آسمانوں پر ہیں۔ مسلم میں حضور ﷺ فرماتے ہیں ہمیں سب لوگوں پر تین باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی کی گئی ہیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنادی گئی ہے۔ اور پانی کے نہ ملنے کے وقت زمین کی مٹی ہمارے لیے وضو کے قائم مقام کی گئی ہے۔ مسلم وغیرہ میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے ہم سے فرمایا تم اس طرح صفیں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم نے کہا وہ کس طرح ؟ آپ نے فرمایا اگلی صفوں کو وہ پورا کرتے جاتے ہیں اور صفیں بالکل ملا لیا کرتے ہیں۔ ڈانٹنے والوں سے مراد سدی ؒ وغیرہ کے نزدیک ابر اور بادل کو ڈانٹ کر احکام دے کر ادھر سے ادھر لے جانے والے فرشتے ہیں۔ ربیع بن انس وغیرہ فرماتے ہیں قرآن جس چیز سے روکتا ہے وہ اسی سے بندش کرتے ہیں۔ ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والے فرشتے وہ ہیں جو اللہ کا پیغام بندوں کے پاس لاتے ہیں جیسے فرمان ہے (فَالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا ۙ) 77۔ المرسلات :5) یعنی وحی اتارنے والے فرشتوں کی قسم جو عذر کو ٹالنے یا آگاہ کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ ان قسموں کے بعد جس چیز پر یہ قسمیں کھائی گئی ہیں اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ تم سب کا معبود برحق ایک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہی آسمان و زمین کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا مالک و متصرف ہے۔ اسی نے آسمان میں ستارے اور چاند سورج کو مسخر کر رکھا ہے، جو مشرق سے ظاہر ہوتے ہیں مغرب میں غروب ہوتے ہیں۔ مشرقوں کا ذکر کرکے مغربوں کا ذکر اس کی دلالت موجود ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا۔ دوسری آیت میں ذکر کر بھی دیا ہے فرمان ہے (رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ 17ۚ) 55۔ الرحمن :17) یعنی جاڑے گرمیوں کی طلوع و غروب کی جگہ کا رب وہی ہے۔ Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ الصَّافَّاتِ
[وَهِيَ] [[زيادة من ت، س.]] مَكِّيَّةٌ.
قَالَ النَّسَائِيُّ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ-عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ قَالَ: أخبرني بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَأْمُرُنَا [[في ت: "يأمر".]] بِالتَّخْفِيفِ، وَيَؤُمُّنَا بِالصَّافَّاتِ. تَفَرَّدَ بِهِ النَّسَائِيُّ [[سنن النسائي (٢/٩٥) .]] .
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: ﴿وَالصَّافَّاتِ صَفًّا﴾ وَهِيَ: الْمَلَائِكَةُ، ﴿فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا﴾ وَهِيَ: الْمَلَائِكَةُ، ﴿فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرًا﴾ هِيَ: الْمَلَائِكَةُ.
وَكَذَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمَسْرُوقٌ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْر، وعِكْرِمة، وَمُجَاهِدٌ، والسُّدِّيّ، وَقَتَادَةُ، وَالرَّبِيعُ بْنُ أَنَسٍ.
قَالَ قَتَادَةُ: الْمَلَائِكَةُ صُفُوفٌ فِي السَّمَاءِ.
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] مُسْلِمٌ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَة، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْل، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيّ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ "فُضِّلنا عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ: جُعلت صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ، وَجُعِلَتْ لَنَا الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا [[في س: "مسجدا وطهورا".]] وجُعلت لَنَا تُربتها [[في ت، س: "تربتها لنا".]] طَهُورًا إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ" [[صحسح مسلم برقم (٥٢٢) .]] .
وَقَدْ رَوَى مُسْلِمٌ أَيْضًا، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، عَنِ المُسَيَّب بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفة، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم "ألا تَصُفّون كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ؟ " قُلْنَا: وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ؟ قَالَ ﷺ: "يُتِمون الصُّفُوفَ الْمُتَقَدِّمَةَ ويَتَراصون فِي الصَّفِّ" [[صحيح مسلم برقم (٤٣٠) وسنن أبي داود برقم (٦٦١) وسنن النسائي (٢/٩٢) وسنن ابن ماجه برقم (٩٢٢) .]] .
وَقَالَ السُّدِّيُّ وَغَيْرُهُ: مَعْنَى قَوْلِهِ ﴿فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا﴾ أَنَّهَا تَزْجُرُ السَّحَابَ.
وَقَالَ الرَّبِيعُ بْنُ أَنَسٍ: ﴿فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا﴾ : مَا زَجَرَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْقُرْآنِ. وَكَذَا رَوَى مَالِكٌ، عَنْ زيد بن أسلم.
﴿فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرًا﴾ قَالَ السُّدِّيُّ: الْمَلَائِكَةُ يَجِيئُونَ بِالْكِتَابِ، وَالْقُرْآنِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ إِلَى النَّاسِ. وَهَذِهِ الْآيَةُ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَالْمُلْقِيَاتِ ذِكْرًا عُذْرًا أَوْ نُذْرًا﴾ [الْمُرْسَلَاتِ:٥، ٦] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ إِلَهَكُمْ لَوَاحِدٌ﴾ هَذَا هُوَ الْمُقْسَمُ عَلَيْهِ، أَنَّهُ تَعَالَى لَا إِلَهَ إلا هو ﴿رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا﴾ أَيْ: مِنَ الْمَخْلُوقَاتِ، ﴿وَرَبُّ الْمَشَارِقِ﴾ أَيْ: هُوَ الْمَالِكُ الْمُتَصَرِّفُ فِي الْخَلْقِ بِتَسْخِيرِهِ بِمَا فِيهِ مِنْ كَوَاكِبَ [[في ت: "الكواكب".]] ثَوَابِتَ، وَسَيَّارَاتٍ تَبْدُو مِنَ الْمَشْرِقِ، وَتَغْرُبُ مِنَ الْمَغْرِبِ. وَاكْتَفَى بِذِكْرِ الْمَشَارِقِ عَنِ الْمَغَارِبِ لِدَلَالَتِهَا عَلَيْهِ. وَقَدْ صَرَّحَ بِذَلِكَ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ إِنَّا لَقَادِرُونَ﴾ [الْمَعَارِجِ:٤٠] . وَقَالَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ﴾ [الرَّحْمَنِ:١٧] يَعْنِي فِي الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ، لِلشَّمْسِ وَالْقَمَرِ.