#2251
Sahih
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar, that he said:"The Messenger of Allah(s.a.w) led us in Salat one night for Salat Al-'Isha' during the end of his life. When he said the Taslim he stood and said: 'Do you see this night of yours, upon the head of one hundred years from it there shall not remain anyone who is upon the surface of the earth today.' Ibn 'Umar said: 'So, people misunderstood the saying of the Messenger of Allah(s.a.w), in what they say based on these Ahadith about one hundred years. The Messenger of Allah(s.a.w) only said: 'There shall not remain anyone who is upon the surface today.' Meaning, that generation would end
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری عمر میں ایک رات ہمیں عشاء پڑھائی، جب آپ سلام پھیر چکے تو کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم نے اپنی اس رات کو دیکھا اس وقت جتنے بھی آدمی اس روئے زمین پر ہیں سو سال گزر جانے کے بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا“۔ ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: یہ سن کر لوگ مغالطے میں پڑ گئے کہ یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی حدیث بیان کرتے ہیں کہ سو سال کے بعد قیامت آ جائے گی، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ جو آج باقی ہیں ان میں سے کوئی روئے زمین پر باقی نہیں رہے گا، یعنی اس نسل اور قرن کے لوگ ختم ہو جائیں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي، بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ صَلاَةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ " أَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ عَلَى رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لاَ يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَحَدٌ " . قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَوَهَلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تِلْكَ فِيمَا يَتَحَدَّثُونَهُ مِنْ هَذِهِ الأَحَادِيثِ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَحَدٌ " . يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنْ يَنْخَرِمَ ذَلِكَ الْقَرْنُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
#2252
Sahih
It was narrated from Ubayy bin Ka'b that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"Do not curse the wind. When you see what you dislike, then say: 'Allahumma inna nas-aluka min khairi hadhihir-rih, wa khairi ma fiha wa khairi ma umirat bihi wa na'udhu bika min sharri hadhihir-rih wa sharri ma fiha wa sharri ma umirat bihi' ('O Allah! Indeed we ask you of the good of this wind, and the good of what is in it, and the good of what it has been commanded. And we seek refuge in You from the evil of this wind, and the evil of what is in it, and the evil of what it has been commanded)
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہوا کو گالی مت دو، اگر اس میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھو تو یہ دعا پڑھو «اللهم إنا نسألك من خير هذه الريح وخير ما فيها وخير ما أمرت به ونعوذ بك من شر هذه الريح وشر ما فيها وشر ما أمرت به» ”یعنی اے اللہ! ہم تجھ سے اس ہوا کی بہتری مانگتے ہیں اور وہ بہتری جو اس میں ہے اور وہ بہتری جس کی یہ مامور ہے، اور تیری پناہ مانگتے ہیں اس ہوا کی شر سے اور اس شر سے جو اس میں ہے اور اس شر سے جس کی یہ مامور ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، ابوہریرہ، عثمان، انس، ابن عباس اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَسُبُّوا الرِّيحَ فَإِذَا رَأَيْتُمْ مَا تَكْرَهُونَ فَقُولُوا اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الرِّيحِ وَخَيْرِ مَا فِيهَا وَخَيْرِ مَا أُمِرَتْ بِهِ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ الرِّيحِ وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُمِرَتْ بِهِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِي وَأَنَسٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2253
Sahih
Fatimah bint Qais narrated that Allah's Prophet(s.a.w) ascended the Minbar, he laughed, and said:"Verily, Tamim Ad-Dari narrated a story to me, and it made me happy, so I wanted to narrate it to you[what he narrated to me]. Some people among the inhabitants of Palestine traveled by boat in the sea, taking them here and there, until it cast them on an island among the islands at sea. There they found a beast, clothed with its hair flowing out. They said: 'What are you?' It said: 'I am Al-Jassasah.' They said: 'Give us some news.' It said: 'I shall not give you any news, nor do I want any of your news. But go to the furthest village, for there is someone who will give you news and seek your news.' So we went to the furthest village, and there was a man fettered with chains. He said: 'Inform me about the spring of Zughar.' We said: ' It is full and flowing.' He said: 'Inform me about Al-Buhairah.' We said,'It is full and flowing.' He said: 'Inform me about the date groves of Baysan which is between Jordan and Palestine, do they produce food?' We said: 'Yes.' He said: 'Inform me about the Prophet, has he been sent?' We said: 'Yes.' He said: 'Inform me how the people came to him.' We said: 'Quickly.' He leaped up to try and escape.' We said: 'What are you?' He said: 'I am the Dajjal.'" (The Prophet(s.a.w) said) "He will enter all of the lands except At-Taibah, and At-Taibah is Al-Madinah
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے، ہنسے پھر فرمایا: ”تمیم داری نے مجھ سے ایک بات بیان کی ہے جس سے میں بےحد خوش ہوں اور چاہتا ہوں کہ تم سے بھی بیان کروں، انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ فلسطین کے کچھ لوگ سمندر میں ایک کشتی پر سوار ہوئے، وہ کشتی ( طوفان میں پڑنے کی وجہ سے ) کسی اور طرف چلی گئی حتیٰ کہ انہیں سمندر کے کسی جزیرہ میں ڈال دیا، اچانک ان لوگوں نے بہت کپڑے پہنے ایک رینگنے والی چیز کو دیکھا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، ان لوگوں نے پوچھا: تم کیا ہو؟ اس نے کہا: میں جساسہ ( جاسوسی کرنے والی ) ہوں، ان لوگوں نے کہا: ہمیں ( اپنے بارے میں ) بتاؤ، اس نے کہا: نہ میں تم لوگوں کو کچھ بتاؤں گی اور نہ ہی تم لوگوں سے کچھ پوچھوں گی، البتہ تم لوگ بستی کے آخر میں جاؤ وہاں ایک آدمی ہے، جو تم کو بتائے گا اور تم سے پوچھے گا، چنانچہ ہم لوگ بستی کے آخر میں آئے تو وہاں ایک آدمی زنجیر میں بندھا ہوا تھا اس نے کہا: مجھے زغر ( ملک شام کی ایک بستی کا نام ہے ) کے چشمہ کے بارے میں بتاؤ، ہم نے کہا: بھرا ہوا ہے اور چھلک رہا ہے، اس نے کہا: مجھے بیسان کی کھجوروں کے بارے میں بتاؤ جو اردن اور فلسطین کے درمیان ہے، کیا اس میں پھل آیا؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا: مجھے نبی ( آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں بتاؤ کیا وہ مبعوث ہوئے؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا: بتاؤ لوگ ان کی طرف کیسے جاتے ہیں؟ ہم نے کہا: تیزی سے، اس نے زور سے چھلانگ لگائی حتیٰ کہ آزاد ہونے کے قریب ہو گیا، ہم نے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کہا کہ وہ دجال ہے اور طیبہ کے علاوہ تمام شہروں میں داخل ہو گا، طیبہ سے مراد مدینہ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث شعبہ کے واسطہ سے قتادہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اسے کئی لوگوں نے شعبی کے واسطہ سے فاطمہ بنت قیس سے روایت کیا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَضَحِكَ فَقَالَ " إِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ حَدَّثَنِي بِحَدِيثٍ فَفَرِحْتُ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ حَدَّثَنِي أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ رَكِبُوا سَفِينَةً فِي الْبَحْرِ فَجَالَتْ بِهِمْ حَتَّى قَذَفَتْهُمْ فِي جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ فَإِذَا هُمْ بِدَابَّةٍ لَبَّاسَةٍ نَاشِرَةٍ شَعْرَهَا فَقَالُوا مَا أَنْتِ قَالَتْ أَنَا الْجَسَّاسَةُ . قَالُوا فَأَخْبِرِينَا . قَالَتْ لاَ أُخْبِرُكُمْ وَلاَ أَسْتَخْبِرُكُمْ وَلَكِنِ ائْتُوا أَقْصَى الْقَرْيَةِ فَإِنَّ ثَمَّ مَنْ يُخْبِرُكُمْ وَيَسْتَخْبِرُكُمْ . فَأَتَيْنَا أَقْصَى الْقَرْيَةِ فَإِذَا رَجُلٌ مُوثَقٌ بِسِلْسِلَةٍ فَقَالَ أَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرَ . قُلْنَا مَلأَى تَدْفُقُ . قَالَ أَخْبِرُونِي عَنِ الْبُحَيْرَةِ قُلْنَا مَلأَى تَدْفُقُ . قَالَ أَخْبِرُونِي عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ الَّذِي بَيْنَ الأُرْدُنِّ وَفِلَسْطِينَ هَلْ أَطْعَمَ قُلْنَا نَعَمْ . قَالَ أَخْبِرُونِي عَنِ النَّبِيِّ هَلْ بُعِثَ قُلْنَا نَعَمْ . قَالَ أَخْبِرُونِي كَيْفَ النَّاسُ إِلَيْهِ قُلْنَا سِرَاعٌ . قَالَ فَنَزَّ نَزْوَةً حَتَّى كَادَ . قُلْنَا فَمَا أَنْتَ قَالَ إِنَّهُ الدَّجَّالُ وَإِنَّهُ يَدْخُلُ الأَمْصَارَ كُلَّهَا إِلاَّ طَيْبَةَ . وَطَيْبَةُ الْمَدِينَةُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ عَنِ الشَّعْبِيِّ وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ .
#2254
Sahih
It was narrated from Hudhaifah, that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"It is not for the believer to humiliate himself." They said: "How does he humiliate himself?" He said: "By taking on a trial which he can not bear
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے نفس کو ذلیل کرے“، صحابہ نے عرض کیا: اپنے نفس کو کیسے ذلیل کرے گا؟ آپ نے فرمایا: ”اپنے آپ کو ایسی مصیبت سے دو چار کرے جسے جھیلنے کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جُنْدُبٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ " . قَالُوا وَكَيْفَ يُذِلُّ نَفْسَهُ . قَالَ " يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبَلاَءِ لِمَا لاَ يُطِيقُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
#2255
Sahih
It was narrated from Anas bin Malik, that the Prophet(s.a.w) said:"Help your brother whether he is an oppressor or oppressed." It was said: "O Messenger of Allah! I help him when he is oppressed. But how can I help him when he oppresses?" He said: "Prevent him from oppression, that is your help for him
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم“، صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے مظلوم ہونے کی صورت میں تو اس کی مدد کی لیکن ظالم ہونے کی صورت میں اس کی مدد کیسے کروں؟ آپ نے فرمایا: ”اسے ظلم سے باز رکھو، اس کے لیے یہی تمہاری مدد ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا " . قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَصَرْتُهُ مَظْلُومًا فَكَيْفَ أَنْصُرُهُ ظَالِمًا قَالَ " تَكُفُّهُ عَنِ الظُّلْمِ فَذَاكَ نَصْرُكَ إِيَّاهُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2256
Sahih
It was narrated from Ibn 'Abbas, that the Prophet(s.a.w) said:"Whoever resides in the deserts, he becomes ignorant, whoever follows game, he becomes heedless, and whoever comes to the door of the Sultan, he will suffer a Fitnah
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بادیہ ( صحراء و بیابان ) کی سکونت اختیار کی وہ سخت طبیعت والا ہو گیا، جس نے شکار کا پیچھا کیا وہ غافل ہو گیا اور جو بادشاہ کے دروازے پر آیا وہ فتنوں کا شکار ہو گیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابن عباس رضی الله عنہما کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف ثوری کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ سَكَنَ الْبَادِيَةَ جَفَا وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ وَمَنْ أَتَى أَبْوَابَ السَّلاَطِينِ افْتُتِنَ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ .
#2257
Sahih
Abdur-Rahman bin 'Abdullah bin Mas'ud narrated from his father, that he heard the Messenger of Allah(s.a.w) said:"Indeed you shall be aided, capturing, and victorious; so whoever among you sees that, then let him have Taqwa of Allah, and let him command the good and forbid the evil, and whoever lies about me on purpose, then let him take his seat in the Fire
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ( دشمنوں پر ) تمہاری مدد کی جائے گی، تمہیں مال و دولت ملے گی اور تمہارے لیے قلعے کے دروازے کھولے جائیں گے، پس تم میں سے جو شخص ایسا وقت پائے اسے چاہیئے کہ وہ اللہ سے ڈرے، بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے اور جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے تو اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّكُمْ مَنْصُورُونَ وَمُصِيبُونَ وَمَفْتُوحٌ لَكُمْ فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَلْيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَمَنْ كَذَبَ عَلَىَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2258
Sahih
Abu Wa'il narrated from Hudhaifah that 'Umar said:"Which of you remembers what the Messenger of Allah(s.a.w) said about the Fitnah?" So Hudhaifah said: "I do." Hudhaifah said: "A man's Fitnah is in his family, his wealth, his children, and his neighbors. It is atoned for by the Salat, fasting, charity, and by commanding good and forbidding evil." 'Umar said: "I am not asking you about this. Rather, about the Fitnah that spreads like the waves of the sea." He said: "O Commander of the Believers! Between you and it is a closed door." 'Umar said: "Will it be opened or broken?" He said: "It will be broken." He said: "Then it will never be closed until the Day of Judgement
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی الله عنہ نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنہ کے بارے میں جو فرمایا ہے اسے کس نے یاد رکھا ہے؟ حذیفہ رضی الله عنہ نے کہا: میں نے یاد رکھا ہے، حذیفہ رضی الله عنہ نے بیان کیا: ”آدمی کے لیے جو فتنہ اس کے اہل، مال، اولاد اور پڑوسی کے سلسلے میں ہو گا اسے نماز، روزہ، زکاۃ، امربالمعروف اور نہی عن المنکر مٹا دیتے ہیں“ ۱؎، عمر رضی الله عنہ نے کہا: میں تم سے اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہا ہوں، بلکہ اس فتنہ کے بارے میں پوچھ رہا ہوں جو سمندر کی موجوں کی طرح موجیں مارے گا، انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! آپ کے اور اس فتنے کے درمیان ایک بند دروازہ ہے، عمر نے پوچھا: کیا وہ دروازہ کھولا جائے گا یا توڑ دیا جائے گا؟ انہوں نے کہا: توڑ دیا جائے گا، عمر رضی الله عنہ نے کہا: تب تو قیامت تک بند نہیں ہو گا۔ حماد کی روایت میں ہے کہ ابووائل شقیق بن سلمہ نے کہا: میں نے مسروق سے کہا کہ حذیفہ سے اس دروازہ کے بارے میں پوچھو انہوں نے پوچھا تو کہا: وہ دروازہ عمر ہیں ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، وَحَمَّادٍ، وَعَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، سَمِعُوا أَبَا وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ عُمَرُ أَيُّكُمْ يَحْفَظُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْفِتْنَةِ فَقَالَ حُذَيْفَةُ أَنَا . قَالَ حُذَيْفَةُ فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ يُكَفِّرُهَا الصَّلاَةُ وَالصَّوْمُ وَالصَّدَقَةُ وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْىُ عَنِ الْمُنْكَرِ . فَقَالَ عُمَرُ لَسْتُ عَنْ هَذَا أَسْأَلُكَ وَلَكِنْ عَنِ الْفِتْنَةِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ قَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا . قَالَ عُمَرُ أَيُفْتَحُ أَمْ يُكْسَرُ قَالَ بَلْ يُكْسَرُ . قَالَ إِذًا لاَ يُغْلَقُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . قَالَ أَبُو وَائِلٍ فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ فَقُلْتُ لِمَسْرُوقٍ سَلْ حُذَيْفَةَ عَنِ الْبَابِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ عُمَرُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
#2259
Sahih
It was narrated from Ka'b bin 'Ujrah who said:"The Messenger of Allah(s.a.w) came out to us, we were made up of nine; five and four. The first of the numbers for the Arabs, and the latter for the non-Arabs. He said: 'Listen, have you heard that after me there will leaders, whoever enters upon them and condones to their lies, and supports them in their oppression, then he is not from me and I am not from him, and he shall not drink with me from the Hawd. And whoever does not enter upon them, nor help them in their oppression, nor condones to their lies, then he is from me, and I am from him, and he shall drink with me at the Hawd
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلے اور ہم لوگ نو آدمی تھے، پانچ اور چار، ان میں سے کوئی ایک گنتی والے عرب اور دوسری گنتی والے عجم تھے ۱؎ آپ نے فرمایا: ”سنو: کیا تم لوگوں نے سنا؟ میرے بعد ایسے امراء ہوں گے جو ان کے پاس جائے ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے نہیں ہے اور نہ میں اس سے ہوں اور نہ وہ میرے حوض پر آئے گا، اور جو شخص ان کے پاس نہ جائے، ان کے ظلم پر ان کی مدد نہ کرے اور نہ ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کرے، وہ مجھ سے ہے، اور میں اس سے ہوں اور وہ میرے حوض پر آئے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح غریب ہے، ۲- ہم اسے مسعر کی روایت سے اسی سند سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ تِسْعَةٌ خَمْسَةٌ وَأَرْبَعَةٌ أَحَدُ الْعَدَدَيْنِ مِنَ الْعَرَبِ وَالآخَرُ مِنَ الْعَجَمِ فَقَالَ " اسْمَعُوا هَلْ سَمِعْتُمْ أَنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَيْسَ بِوَارِدٍ عَلَىَّ الْحَوْضَ وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَارِدٌ عَلَىَّ الْحَوْضَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ مِسْعَرٍ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . قَالَ هَارُونُ فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ . قَالَ هَارُونُ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَلَيْسَ، بِالنَّخَعِيِّ عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِ مِسْعَرٍ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ حُذَيْفَةَ .
#2260
Sahih
Anas bin Malik narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"There shall come upon the people a time in which the one who is patient upon his religion will be like the one holding onto a burning ember
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں اپنے دین پر صبر کرنے والا آدمی ایسا ہو گا جیسے ہاتھ میں چنگاری پکڑنے والا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- عمر بن شاکر ایک بصریٰ شیخ ہیں، ان سے کئی اہل علم نے حدیث روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ ابْنُ بِنْتِ السُّدِّيِّ الْكُوفِيِّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَاكِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ الصَّابِرُ فِيهِمْ عَلَى دِينِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَعُمَرُ بْنُ شَاكِرٍ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ قَدْ رَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ .
#2261
Sahih
It was narrated from 'Abdullah bin Dinar, that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah(s.a.w) said: 'When my Ummah walks in a proud march, and its servants are the children of kings, children of Persians and Romans, the evilest of them will be set over the best of them
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میری امت اکڑ اکڑ کر چلنے لگے اور بادشاہوں کی اولاد یعنی فارس و روم کے بادشاہوں کی اولاد ان کی خدمت کرنے لگے تو اس وقت ان کے برے لوگ ان کے اچھے لوگوں پر مسلط کر دیئے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ابومعاویہ نے بھی اسے یحییٰ بن سعید انصاری کے واسطہ سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا مَشَتْ أُمَّتِي الْمُطَيْطِيَاءَ وَخَدَمَهَا أَبْنَاءُ الْمُلُوكِ أَبْنَاءُ فَارِسَ وَالرُّومِ سُلِّطَ شِرَارُهَا عَلَى خِيَارِهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ . وَلاَ يُعْرَفُ لِحَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَصْلٌ إِنَّمَا الْمَعْرُوفُ حَدِيثُ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ . وَقَدْ رَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ مُرْسَلاً وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ .
#2262
Sahih
Abu Bakrah said:"Allah restrained me with something that I heard from the Messenger of Allah(s.a.w). When Kisra was destroyed, he said: 'Who did they have to succeed him?' They said: 'His daughter.' So the Prophet(s.a.w) said: 'A people will never succeed who give their leadership to a woman.'" He said: "So when 'Aishah arrived - meaning in Al-Basrah - I remembered the saying of Messenger of Allah (ﷺ), so Allah restrained me by it." Abu Eisa said: This Hadith is [Hasan] Sahih
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک چیز سے بچا لیا جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا تھا، جب کسریٰ ہلاک ہو گیا تو آپ نے پوچھا: ان لوگوں نے کسے خلیفہ بنایا ہے؟ صحابہ نے کہا: اس کی لڑکی کو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتی جس نے عورت کو اپنا حاکم بنایا“، جب عائشہ رضی الله عنہا آئیں یعنی بصرہ کی طرف تو اس وقت میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث یاد کی ۱؎، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے بچا لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ عَصَمَنِي اللَّهُ بِشَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا هَلَكَ كِسْرَى قَالَ " مَنِ اسْتَخْلَفُوا " . قَالُوا ابْنَتَهُ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً " . قَالَ فَلَمَّا قَدِمَتْ عَائِشَةُ يَعْنِي الْبَصْرَةَ ذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَصَمَنِي اللَّهُ بِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
#2263
Sahih
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) came across some people who were sitting, so he said:'Shall I not inform you of the best of you from your worst?'" He said: "They became silent, so he said that three times, then a man said: 'Of course, O Messenger of Allah! Inform us of the best among us from our worst.' He said: 'The best of you is the one whose goodness is hoped for, and people are safe from his evil. And the worst of you is he whose goodness is not hoped for, and people are not safe from his evil
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس آ کر ٹھہرے اور فرمایا: ”کیا میں تمہارے اچھے لوگوں کو تمہارے برے لوگوں میں سے نہ بتا دوں؟“ لوگ خاموش رہے، آپ نے تین مرتبہ یہی فرمایا، ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! کیوں نہیں؟ آپ ہمارے اچھے لوگوں کو برے لوگوں میں سے بتا دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”تم میں بہتر وہ ہے جس سے خیر کی امید رکھی جائے اور جس کے شر سے مامون ( بےخوف ) رہا جائے اور تم میں سے برا وہ ہے جس سے خیر کی امید نہ رکھی جائے اور جس کے شر سے مامون ( بےخوف ) نہ رہا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَفَ عَلَى أُنَاسٍ جُلُوسٍ فَقَالَ " أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمْ " . قَالَ فَسَكَتُوا فَقَالَ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ رَجُلٌ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنَا بِخَيْرِنَا مِنْ شَرِّنَا . قَالَ " خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ وَشَرُّكُمْ مَنْ لاَ يُرْجَى خَيْرُهُ وَلاَ يُؤْمَنُ شَرُّهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2264
Sahih
Umar bin Al-Khattab narrated that the Prophet(s.a.w) said:"Shall I not inform you of the best of your leaders and the worst of them: The best of them are those whom you love and they love you, you supplicate for them, and they supplicate for you. And the evilest of your leaders are those who hate you, and you hate them, and they curse you and you curse them
عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں تمہارے اچھے حکمرانوں اور برے حکمرانوں کے بارے میں نہ بتا دوں؟ اچھے حکمراں وہ ہیں جن سے تم محبت کرو گے اور وہ تم سے محبت کریں گے، تم ان کے لیے دعائیں کرو گے اور وہ تمہارے لیے دعائیں کریں گے، تمہارے برے حکمراں وہ ہیں جن سے تم نفرت کرو گے اور وہ تم سے نفرت کریں گے تم ان پر لعنت بھیجو گے اور وہ تم پر لعنت بھیجیں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف محمد بن ابوحمید کی روایت سے جانتے ہیں، اور محمد بن ابوحمید حافظے کے تعلق سے ضعیف قرار دیے گئے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِ أُمَرَائِكُمْ وَشِرَارِهِمْ خِيَارُهُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ وَتَدْعُونَ لَهُمْ وَيَدْعُونَ لَكُمْ وَشِرَارُ أُمَرَائِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ . وَمُحَمَّدٌ يُضَعَّفُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ .
#2265
Sahih
Umm Salamah narrated that the Prophet(s.a.w) said:"Indeed there shall come upon you A'immah whom you like (what they do) and some (of what they do) you dislike. So whoever rejects, then he is innocent, and whoever loathes, then he is safe. But whoever is pleased and follows." It was said: "O Messenger of Allah! Shall we fight them?" He said: "No, as long as they offer Salat
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب تمہارے اوپر ایسے حکمراں ہوں گے جن کے بعض کاموں کو تم اچھا جانو گے اور بعض کاموں کو برا جانو گے، پس جو شخص ان کے برے اعمال پر نکیر کرے وہ مداہنت اور نفاق سے بری رہا اور جس نے دل سے برا جانا تو وہ محفوظ رہا، لیکن جو ان سے راضی ہو اور ان کی اتباع کرے ( وہ ہلاک ہو گیا ) “، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ان سے لڑائی نہ کریں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ تَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ فَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ بَرِئَ وَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ سَلِمَ وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ " . فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ نُقَاتِلُهُمْ قَالَ " لاَ مَا صَلَّوْا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2266
Daif
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"When your leaders are the best of you, the richest are the most generous among you, and your affairs are consulted among you, then the surface of the earth is better for you than its belly. And when your leaders are the worst of you, the richest are the stingiest among you, and your affairs are referred to your women, then the belly of the earth is better for you than its surface
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارے حکمراں، تمہارے اچھے لوگ ہوں، اور تمہارے مالدار لوگ، تمہارے سخی لوگ ہوں اور تمہارے کام باہمی مشورے سے ہوں تو زمین کی پیٹھ تمہارے لیے اس کے پیٹ سے بہتر ہے، اور جب تمہارے حکمراں تمہارے برے لوگ ہوں، اور تمہارے مالدار تمہارے بخیل لوگ ہوں اور تمہارے کام عورتوں کے ہاتھ میں چلے جائیں تو زمین کا پیٹ تمہارے لیے اس کی پیٹھ سے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف صالح المری کی روایت سے جانتے ہیں، اور صالح المری کی حدیث میں ایسے غرائب ہیں جن کی روایت کرنے میں وہ منفرد ہیں، کوئی ان کی متابعت نہیں کرتا، حالانکہ وہ بذات خود نیک آدمی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الأَشْقَرُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَهَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالاَ حَدَّثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا كَانَ أُمَرَاؤُكُمْ خِيَارَكُمْ وَأَغْنِيَاؤُكُمْ سُمَحَاءَكُمْ وَأُمُورُكُمْ شُورَى بَيْنَكُمْ فَظَهْرُ الأَرْضِ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ بَطْنِهَا وَإِذَا كَانَ أُمَرَاؤُكُمْ شِرَارَكُمْ وَأَغْنِيَاؤُكُمْ بُخَلاَءَكُمْ وَأُمُورُكُمْ إِلَى نِسَائِكُمْ فَبَطْنُ الأَرْضِ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ ظَهْرِهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ صَالِحٍ الْمُرِّيِّ . وَصَالِحٌ الْمُرِّيُّ فِي حَدِيثِهِ غَرَائِبُ يَنْفَرِدُ بِهَا لاَ يُتَابَعُ عَلَيْهَا وَهُوَ رَجُلٌ صَالِحٌ .
#2267
Daif
Abu Hurairah narrated that the Prophet(s.a.w) said:"You are in a time when whoever abandons a tenth of what he has been ordered, then he is ruined. Then, there will come a time in which whoever does a tenth of what he has been ordered shall be saved
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ایسے زمانہ میں ہو کہ جو اس کا دسواں حصہ چھوڑ دے جس کا اسے کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو وہ ہلاک ہو جائے گا، پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ تم میں سے جو اس کے دسویں حصہ پر عمل کرے جس کا اسے کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو وہ نجات پا جائے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف نعیم بن حماد کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ سفیان بن عیینہ سے روایت کرتے ہیں، ۲- اس باب میں ابوذر اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ مَنْ تَرَكَ مِنْكُمْ عُشْرَ مَا أُمِرَ بِهِ هَلَكَ ثُمَّ يَأْتِي زَمَانٌ مَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ بِعُشْرِ مَا أُمِرَ بِهِ نَجَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ نُعَيْمِ بْنِ حَمَّادٍ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَأَبِي سَعِيدٍ .
#2268
Sahih
Ibn 'Umar narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) stood on the Minbar and said:"The land of Fitan is there" and he pointed to the east, meaning: "Where the sun rises from the horn of Shaitan" or he said: "The horn of the sun
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”فتنے کی سر زمین وہاں ہے اور آپ نے مشرق ( پورب ) کی طرف اشارہ کیا یعنی جہاں سے شیطان کی شاخ یا سینگ نکلتی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ " هَا هُنَا أَرْضُ الْفِتَنِ وَأَشَارَ إِلَى الْمَشْرِقِ حَيْثُ يَطْلُعُ جِذْلُ الشَّيْطَانِ " . أَوْ قَالَ " قَرْنُ الشَّيْطَانِ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2269
Daif Isnaad
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"Black standards will come from Khurasan, nothing shall turn them back until they are planted in Jerusalem
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خراسان سے کالے جھنڈے نکلیں گے، ان جھنڈوں کو کوئی چیز پھیر نہیں سکے گی یہاں تک کہ ( فلسطین کے شہر ) ایلیاء میں یہ نصب کیے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَخْرُجُ مِنْ خُرَاسَانَ رَايَاتٌ سُودٌ لاَ يَرُدُّهَا شَيْءٌ حَتَّى تُنْصَبَ بِإِيلِيَاءَ " . هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ .
#2270
Sahih
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"When time draws near, the dreams of a believer will hardly ever fail to come true, and the most truthful of them in dreams will be the truest in speech among them. The dream of a Muslim is a portion among the forty-six portions of Prophet-hood. And dreams are of three types: The righteous dream which is good news from Allah, dreams in which the Shaithan frightens someone, and dreams about something that has happened to the man himself. So when one of you sees what he dislikes, then he should get up and spit, and not tell any of the people- he said:- and I like the fetters in a dream while I dislike the iron collar." And the interpretation of fetters is being firm in the religion
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زمانہ قریب ہو جائے گا ۱؎ تو مومن کے خواب کم ہی جھوٹے ہوں گے، ان میں سب سے زیادہ سچے خواب والا وہ ہو گا جس کی باتیں زیادہ سچی ہوں گی، مسلمان کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ۲؎ خواب تین قسم کے ہوتے ہیں، بہتر اور اچھے خواب اللہ کی طرف سے بشارت ہوتے ہیں، کچھ خواب شیطان کی طرف سے تکلیف و رنج کا باعث ہوتے ہیں، اور کچھ خواب آدمی کے دل کے خیالات ہوتے ہیں، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہے تو کھڑا ہو کر تھوکے اور اسے لوگوں سے نہ بیان کرے“، آپ نے فرمایا: ”میں خواب میں قید ( پیر میں بیڑی پہننا ) پسند کرتا ہوں اور طوق کو ناپسند کرتا ہوں ۳؎، قید سے مراد دین پر ثابت قدمی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ تَكْذِبُ وَأَصْدَقُهُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا وَرُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ وَالرُّؤْيَا ثَلاَثٌ فَالرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ وَالرُّؤْيَا مِنْ تَحْزِينِ الشَّيْطَانِ وَالرُّؤْيَا مِمَّا يُحَدِّثُ بِهَا الرَّجُلُ نَفْسَهُ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ فَلْيَقُمْ وَلْيَتْفُلْ وَلاَ يُحَدِّثْ بِهَا النَّاسَ قَالَ وَأُحِبُّ الْقَيْدَ فِي النَّوْمِ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ الْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ " . قَالَ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2271
Sahih
Ubadah bin As-Samit narrated that the Prophet (s.a.w) said:"The dreams of the believer are a portion of the forty-six portions of Prophet-hood
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبادہ کی حدیث صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابورزین عقیلی، ابو سعید خدری، عبداللہ بن عمرو، عوف بن مالک، ابن عمر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ وَأَبِي سَعِيدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَوْفِ بْنِ مَالِكٍ وَابْنِ عُمَرَ وَأَنَسٍ . قَالَ وَحَدِيثُ عُبَادَةَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
#2272
Sahih Isnaad
Anas bin Malik narrated:"The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Indeed Messenger-ship and Prophethood have been terminated, so there shall be no Messenger after me, nor a Prophet.'" He(Anas) said:"The people were concerned about that, so he (s.a.w) said: 'But there will be Mubash-shirat.' So they said: 'O Messenger of Allah! What is Mubash-shirat?' He said: 'The Muslim's dreams, for it is a portion of the portions of Prophethood
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے، لہٰذا میرے بعد کوئی رسول اور کوئی نبی نہ ہو گا“، انس کہتے ہیں: یہ بات لوگوں پر گراں گزری تو آپ نے فرمایا: ”البتہ بشارتیں باقی ہیں“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بشارتیں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”مسلمان کا خواب اور یہ نبوت کا ایک حصہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے یعنی مختار بن فلفل کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، حذیفہ بن اسید، ابن عباس، ام کرز اور ابواسید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلاَ رَسُولَ بَعْدِي وَلاَ نَبِيَّ " . قَالَ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ " لَكِنِ الْمُبَشِّرَاتُ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ قَالَ " رُؤْيَا الْمُسْلِمِ وَهِيَ جُزْءٌ مِنْ أَجْزَاءِ النُّبُوَّةِ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأُمِّ كُرْزٍ . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ .
#2273
Sahih
Ata' bin Yasar narrated from a man among the inhabitants of Egypt who said:I asked Abu Ad-Darda about the saying of Allah, Most High: 'For them are glad tidings in the life of the present world' so he said: 'No one other than you asked me about it, except for one man, since I asked the Messenger of Allah (s.a.w), he said: 'No one other than you has asked me about it since it was revealed: This Ayah refers to the righteous dreams which the Muslim sees or which are seen about him
عطاء بن یسار مصر کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو الدرداء رضی الله عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول «لهم البشرى في الحياة الدنيا» ”ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بشارت ہے“ ( یونس: ۶۴ ) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا ہے، تمہارے سوا صرف ایک آدمی نے مجھ سے پوچھا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے اس کے بارے میں تمہارے سوا کسی نے نہیں پوچھا، اس سے مراد نیک اور اچھے خواب ہیں جسے مسلمان دیکھتا ہے یا اسے دکھایا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَهْلِ مِصْرَ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: (لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ) فَقَالَ مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ غَيْرَكَ إِلاَّ رَجُلٌ وَاحِدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ غَيْرَكَ مُنْذُ أُنْزِلَتْ هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
#2274
Daif
Abu Sa'eed narrated that the Prophet (s.a.w) said:"The most truthful of dreams are in the last hours of the night
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سچے خواب وہ ہیں جو سحری ( صبح ) کے وقت آتے ہیں“۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " أَصْدَقُ الرُّؤْيَا بِالأَسْحَارِ "
#2275
Sahih
It is narrated from 'Ubadah bin As-Samit, who said:"[I asked] the Messenger of Allah (s.a.w) about For them are glad tidings in the life of the present world. He said: 'This refers to the righteous dreams which the Muslim sees or which are seen about him
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے آیت کریمہ: «لهم البشرى في الحياة الدنيا» کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد اچھے اور نیک خواب ہیں جسے مومن دیکھتا ہے یا اسے دکھایا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- حرب نے اپنی حدیث میں یحییٰ بن ابی کثیر سے «عنعنہ» کے بجائے صیغہ تحدیث «حدثني» کے صیغے کے ساتھ روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، وَعِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ نُبِّئْتُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَوْلِهِ (لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ) قَالَ " هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُؤْمِنُ أَوْ تُرَى لَهُ " . قَالَ حَرْبٌ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .