#2226
Sahih
Sa'eed bin Jumhan narrated:"Safinah narrated to me, he said: 'The Messenger of Allah(s.a.w) said: "Al-Khilafah will be in my Ummah for thirty years, then there will be monarchy after that."' Then Safinah said to me: 'Count the Khilafah of Abu Bakr,' then he said: 'Count the Khilafah of 'Umar and the Khilafah of 'Uthman.' Then he said to me: 'Count the Khilafah of 'Ali."' He said: "So we found that they add up to thirty years." Sa'eed said: "I said to him: 'Banu Umaiyyah claim that the Khilafah is among them.' He said: 'Banu Az-Zarqa' lie, rather they are a monarchy, among the worst of monarchies
سعید بن جمہان کہتے ہیں کہ ہم سے سفینہ رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں تیس سال تک خلافت رہے گی، پھر اس کے بعد ملوکیت آ جائے گی“، پھر مجھ سے سفینہ رضی الله عنہ نے کہا: ابوبکر رضی الله عنہ کی خلافت، عمر رضی الله عنہ کی خلافت، عثمان رضی الله عنہ کی خلافت اور علی رضی الله عنہ کی خلافت، شمار کرو ۱؎، راوی حشرج بن نباتہ کہتے ہیں کہ ہم نے اسے تیس سال پایا، سعید بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے سفینہ رضی الله عنہ سے کہا: بنو امیہ یہ سمجھتے ہیں کہ خلافت ان میں ہے؟ کہا: بنو زرقاء جھوٹ اور غلط کہتے ہیں، بلکہ ان کا شمار تو بدترین بادشاہوں میں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- کئی لوگوں نے یہ حدیث سعید بن جمہان سے روایت کی ہے، ہم اسے صرف سعید بن جمہان ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں عمر اور علی رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت کے بارے میں کسی چیز کی وصیت نہیں فرمائی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي سَفِينَةُ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْخِلاَفَةُ فِي أُمَّتِي ثَلاَثُونَ سَنَةً ثُمَّ مُلْكٌ بَعْدَ ذَلِكَ " . ثُمَّ قَالَ لِي سَفِينَةُ أَمْسِكْ خِلاَفَةَ أَبِي بَكْرٍ وَخِلاَفَةَ عُمَرَ وَخِلاَفَةَ عُثْمَانَ . ثُمَّ قَالَ لِي أَمْسِكْ خِلاَفَةَ عَلِيٍّ . قَالَ فَوَجَدْنَاهَا ثَلاَثِينَ سَنَةً . قَالَ سَعِيدٌ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ بَنِي أُمَيَّةَ يَزْعُمُونَ أَنَّ الْخِلاَفَةَ فِيهِمْ . قَالَ كَذَبُوا بَنُو الزَّرْقَاءِ بَلْ هُمْ مُلُوكٌ مِنْ شَرِّ الْمُلُوكِ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ قَالاَ لَمْ يَعْهَدِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي الْخِلاَفَةِ شَيْئًا . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ قَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ وَلاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ .
#2227
Sahih
Abdullah bin Abi Al-Hudhail said:" There were some people from(the tribe of) Rabiah with 'Amr bin Al-'As, so a man from(the tribe of) Bakr bin Wa'il said: "Either the Quraish will stop, or Allah will place this matter among the masses of the Arabs other than them.' So 'Amr bin Al-'As said: 'You have lied, I heard the Messenger of Allah(s.a.w) saying: "The Quraish are the leaders of the people, in the good and the bad, until the Day of Judgement
عبداللہ بن ابی ہذیل کہتے ہیں کہ قبیلہ ربیعہ کے کچھ لوگ عمرو بن العاص رضی الله عنہ کے پاس تھے، قبیلہ بکر بن وائل کے ایک آدمی نے کہا: قریش باز رہیں ۱؎، ورنہ اللہ تعالیٰ خلافت کو ان کے علاوہ جمہور عرب میں کر دے گا، عمرو بن العاص رضی الله عنہ نے کہا: تم جھوٹ اور غلط کہہ رہے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قریش قیامت تک خیر ( اسلام ) و شر ( جاہلیت ) میں لوگوں کے حاکم ہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابن عمر اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ، يَقُولُ كَانَ نَاسٌ مِنْ رَبِيعَةَ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ لَتَنْتَهِيَنَّ قُرَيْشٌ أَوْ لَيَجْعَلَنَّ اللَّهُ هَذَا الأَمْرَ فِي جُمْهُورٍ مِنَ الْعَرَبِ غَيْرِهِمْ . فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِي كَذَبْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " قُرَيْشٌ وُلاَةُ النَّاسِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عُمَرَ وَجَابِرٍ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
#2228
Sahih
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"The night and the day shall not go away until a man called Jahjah among the Mawali reigns
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات اور دن اس وقت تک باقی رہیں گے ( یعنی قیامت نہیں آئے گی ) یہاں تک کہ جہجاہ نامی ایک غلام بادشاہت کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَذْهَبُ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِنَ الْمَوَالِي يُقَالُ لَهُ جَهْجَاهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
#2229
Sahih
Thawban narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"I only fear for my Ummah from the misguiding A'immah." He said that the Messenger of Allah(s.a.w) said: "There will never cease to be a group from my Ummah manifest upon the truth, they will not be harmed by those who forsake them until Allah's Decree comes
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنی امت پر گمراہ کن اماموں ( حاکموں ) سے ڈرتا ہوں“ ۱؎، نیز فرمایا: ”میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر غالب رہے گی، ان کی مدد نہ کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم ( قیامت ) آ جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ میں نے علی بن مدینی کو کہتے سنا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ”میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر غالب رہے گی“ ذکر کی اور کہا: وہ اہل حدیث ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ " . قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ لاَ يَضُرُّهُمْ مَنْ يَخْذُلُهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ يَقُولُ وَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ " . فَقَالَ عَلِيٌّ هُمْ أَهْلُ الْحَدِيثِ .
#2230
Hasan Sahih
Abdullah narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"The world shall not pass away until a man from the people of my family rules the Arabs whose name agrees with my name
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک کہ میرے گھرانے کا ایک آدمی جو میرا ہم نام ہو گا عرب کا بادشاہ نہ بن جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابو سعید خدری، ام سلمہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ الْكُوفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2231
Hasan Sahih
Asim narrated from Zirr, from 'Abdullah, from the Prophet(s.a.w) who said:"A man is coming from the people of my family whose name agrees with my name." 'Asim said: "Abu Salih narrated to us from Abu Hurairah, who said: 'If there did not remain in the world but one day, then Allah would extend that day until he comes
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے گھرانے کا ایک آدمی جو میرا ہم نام ہو گا حکومت کرے گا“۔ ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: اگر دنیا کا صرف ایک دن بھی باقی رہے تو اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دے گا یہاں تک کہ وہ آدمی حکومت کر لے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَلِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي " . قَالَ عَاصِمٌ وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلاَّ يَوْمٌ لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ حَتَّى يَلِيَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2232
Hasan
Zaid bin Al-'Ammi said:"I heard Abu As-Siddiq An-Naji narrate a Hadith from Abu Sa'eed Al-Khudri who said: 'We feared events to occur after our Prophet, so we asked Allah's Prophet(s.a.w), and he said: "Indeed there will be a Mahdi who comes in my Ummah (ruling) living for five, or seven, or nine."- Zaid was the one in doubt- He said: "We said: What is that?" He said: "Years." He said: "A man will come to him and say: O Mahdi! 'Give to me, give to me! So he will fill in his garment whatever he is able to carry
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم اس بات سے ڈرے کہ ہمارے نبی کے بعد کچھ حادثات پیش آئیں، لہٰذا ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ”میری امت میں مہدی ہیں جو نکلیں گے اور پانچ، سات یا نو تک زندہ رہیں گے، ( اس گنتی میں زیدالعمی کی طرف سے شک ہوا ہے“، راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کیا: ان گنتیوں سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: سال ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ان کے پاس ایک آدمی آئے گا اور کہے گا: مہدی! مجھے دیجئیے، مجھے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”وہ اس آدمی کے کپڑے میں ( دینار و درہم ) اتنا رکھ دیں گے کہ وہ اٹھا نہ سکے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابو سعید خدری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی سندوں سے یہ حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ زَيْدًا الْعَمِّيَّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الصِّدِّيقِ النَّاجِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ خَشِينَا أَنْ يَكُونَ، بَعْدَ نَبِيِّنَا حَدَثٌ فَسَأَلْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّ فِي أُمَّتِي الْمَهْدِيَّ يَخْرُجُ يَعِيشُ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ تِسْعًا " . زَيْدٌ الشَّاكُّ . قَالَ قُلْنَا وَمَا ذَاكَ قَالَ " سِنِينَ " . قَالَ " فَيَجِيءُ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَيَقُولُ يَا مَهْدِيُّ أَعْطِنِي أَعْطِنِي " . قَالَ " فَيَحْثِي لَهُ فِي ثَوْبِهِ مَا اسْتَطَاعَ أَنْ يَحْمِلَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَأَبُو الصِّدِّيقِ النَّاجِيُّ اسْمُهُ بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو وَيُقَالُ بَكْرُ بْنُ قَيْسٍ .
#2233
Sahih
Abu Hurairah narrated that the Prophet(s.a.w) said:"By the One in Whose Hand is my soul! Ibn Mariam shall soon descend among you, judging justly. He shall break the cross, kill the pig, remove the Jizyah, and wealth will be so bountiful that there will be none to accept it
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! عنقریب تمہارے درمیان عیسیٰ بن مریم حاکم اور منصف بن کر اتریں گے، وہ صلیب کو توڑیں گے، سور کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے، اور مال کی زیادتی اس طرح ہو جائے گی کہ اسے کوئی قبول کرنے والا نہ ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّى لاَ يَقْبَلَهُ أَحَدٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2234
Daif
Abu 'Ubaidah bin Al-Jarrah said:"I heard the Messenger of Allah(s.a.w): 'There was never a Prophet after Nuh but that he warned his people about the Dajjal, and indeed I shall warn you of him.' Then the Messenger of Allah(s.a.w) described him for us, and he said: "Perhaps some of you who see me, or hear my words shall live to see him." They said: "O Messenger of Allah! How will our hearts be on that day?" He said: "The same – that is, as today – or better.” (Hasan)
ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”نوح علیہ السلام کے بعد کوئی نبی ایسا نہیں ہے جس نے اپنی امت کو دجال سے نہ ڈرایا ہو اور میں بھی تمہیں اس سے ڈرا رہا ہوں“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس کا حال بیان کیا اور فرمایا: ”ہو سکتا ہے مجھے دیکھنے والے یا میری بات سننے والے کچھ لوگ اسے پا لیں“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس دن ہمارے دل کیسے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”آج کی طرح یا اس سے بہتر“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابوعبیدہ بن جراح کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن بسر، عبداللہ بن حارث بن جزی، عبداللہ بن مغفل اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ بَعْدَ نُوحٍ إِلاَّ قَدْ أَنْذَرَ الدَّجَّالَ قَوْمَهُ وَإِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ " . فَوَصَفَهُ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لَعَلَّهُ سَيُدْرِكُهُ بَعْضُ مَنْ رَآنِي أَوْ سَمِعَ كَلاَمِي " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ قُلُوبُنَا يَوْمَئِذٍ قَالَ " مِثْلُهَا يَعْنِي الْيَوْمَ أَوْ خَيْرٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جُزَىٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ أَيْضًا عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ . وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ اسْمُهُ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجَرَّاحِ .
#2235
Sahih
Az-Zuhri narrated from Salim from Ibn 'Umar who said:"The Messengers of Allah(s.a.w)stood among the people,he praised Allah as is due to Him, then he mentioned the Dajjal and he said: 'Indeed I warn you of him. There has not been a Prophet except that he warned his people, and Nuh indeed warned his people – but I am to say something about him that no Prophet has said to his people: You should know that he is one-eyed, and Allah is certainly not one-eyed.'” Az-Zuhri said: “ `Umar bin Thabit Al-Ansari informed me that some of the Companions of the Prophet(s.a.w) informed him, that one day, the Prophet(s.a.w) was cautioning them against Fitnah and he said: 'You must know that not one of you will ever see his Lord until he dies. And indeed, he(the Dajjal) has “Kafir” written between his eyes; everyone who is averse to his behavior shall read it.'” (Sahih)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور اللہ کی شان کے لائق اس کی تعریف کی پھر دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: ”میں تمہیں دجال سے ڈرا رہا ہوں اور تمام نبیوں نے اس سے اپنی قوم کو ڈرایا ہے، نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے، لیکن میں اس کے بارے میں تم سے ایک ایسی بات کہہ رہا ہوں جسے کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہی، تم لوگ اچھی طرح جان لو گے کہ وہ کانا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں“، زہری کہتے ہیں: ہمیں عمر بن ثابت انصاری نے خبر دی کہ انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس دن لوگوں کو دجال کے فتنے سے ڈرا رہے تھے ( اس دن ) آپ نے فرمایا: ”تم جانتے ہو کہ کوئی آدمی اپنے رب کو مرنے سے پہلے نہیں دیکھ سکتا، اور اس کی آنکھوں کے درمیان ”ک، ف، ر“ لکھا ہو گا، اس کے عمل کو ناپسند سمجھنے والے اسے پڑھ لیں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ " إِنِّي لأُنْذِرُكُمُوهُ وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ وَقَدْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ وَلَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ وَلَكِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلاً لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ " . قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيُّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ، أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَوْمَئِذٍ لِلنَّاسِ وَهُوَ يُحَذِّرُهُمْ فِتْنَتَهُ " تَعْلَمُونَ أَنَّهُ لَنْ يَرَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رَبَّهُ حَتَّى يَمُوتَ وَإِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر يَقْرَأُهُ مَنْ كَرِهَ عَمَلَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
#2236
Sahih
Ibn 'Umar narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"You shall fight the Jews. You will gain such control over them, that a rock will say: 'O Muslim! This Jew is behind me so kill him
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود تم سے لڑیں گے اور تم ان پر غالب ہو جاؤ گے یہاں تک کہ پتھر کہے گا: اے مسلمان! میرے پیچھے یہ یہودی ہے اسے قتل کر دو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تُقَاتِلُكُمُ الْيَهُودُ فَتُسَلَّطُونَ عَلَيْهِمْ حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2237
Sahih
Abu Bakr As-Siddiq said:"The Messenger of Allah(s.a.w) narrated to us, saying: 'The Dajjal shall emerge from a land in the east called Khurasan. He is followed by a people whom appear as if their f aces are shields coated with leather
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا: ”دجال مشرق ( پورب ) میں ایک جگہ سے نکلے گا جسے خراسان کہا جاتا ہے، اس کے پیچھے ایسے لوگ ہوں گے جن کے چہرے تہ بہ تہ ڈھال کی طرح ہوں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- عبداللہ بن شوذب اور کئی لوگوں نے اسے ابوالتیاح سے روایت کیا ہے، ہم اسے صرف ابوتیاح کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں ابوہریرہ اور عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سُبَيْعٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الدَّجَّالُ يَخْرُجُ مِنْ أَرْضٍ بِالْمَشْرِقِ يُقَالُ لَهَا خُرَاسَانُ يَتْبَعُهُ أَقْوَامٌ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ وَلاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي التَّيَّاحِ .
#2238
Daif
Abu Bahriyyah, a Companion of Mu'adh bin Jabal narrated that the Prophet(s.a.w) said:"The great Malhamah, the conquest of Constantinople, and the coming of the Dajjal occur in (the span of) seven months
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ملحمہ عظمی ( بڑی لڑائی ) ، فتح قسطنطنیہ اور خروج دجال ( یہ تینوں واقعات ) سات مہینے کے اندر ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں صعب بن جثامہ، عبداللہ بن بسر، عبداللہ بن مسعود اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُطَيْبٍ السَّكُونِيِّ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ، صَاحِبِ مُعَاذٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمَلْحَمَةُ الْعُظْمَى وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ وَخُرُوجُ الدَّجَّالِ فِي سَبْعَةِ أَشْهُرٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
#2239
Sahih Isnaad Mauquf
Anas bin Malik said:"Constantinople will be conquered with the coming of the Hour
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قسطنطنیہ قیامت کے قریب فتح ہو گا۔ محمود بن غیلان کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ فَتْحُ الْقُسْطُنْطِينِيَّةِ مَعَ قِيَامِ السَّاعَةِ . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . وَالْقُسْطَنْطِينِيَّةُ هِيَ مَدِينَةُ الرُّومِ تُفْتَحُ عِنْدَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ وَالْقُسْطَنْطِينِيَّةُ قَدْ فُتِحَتْ فِي زَمَانِ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#2240
Sahih
It was narrated from An-Nawwas bin Sam'an, who said:"The Messenger of Allah(s.a.w) mentioned the Dajjal one morning, he belittled him and mentioned his importance until we thought that he might be amidst a cluster of date-palms." He said: "We departed from the presence of the Messenger of Allah(s.a.w), then we returned to him, and he noticed that(concern) in us. So he said: 'What is wrong with you?'" We said: 'O Messenger of Allah! You mentioned the Dajjal this morning, belittling him, and mentioning his importance until we thought that he might be amidst a cluster of the date-palms.' He said: 'It is not the Dajjal that I fear for you. If he were to appear while I am among you, then I will be his adversary on your behalf. And if he appears and I am not among you, then each man will have to fend for himself. And Allah will take care of every Muslim after me. He is young, with curly hair, his eyes protruding, resembling someone from 'Abdul-Uzza bin Qatan. Whoever among you sees him, then let him recite the beginning of Surah Ashab Al-Kahf.'"He said: 'He will appear from what is between Ash-Sham and Al-'Iraq, causing devastation toward the right and toward the left. O worshippers of Allah! Hold fast!'" We said: 'O Messenger of Allah! How long will he linger on the earth?' He said: 'Forty days, a day like a year, a day like a month, a day like a week, and the remainder of his days are like your days.'" We said: 'O Messenger of Allah! Do you think that during the day that is like a year, the Salat of one day will be sufficient for us?' He said: 'No. You will have to estimate it.' We said: 'O Messenger of Allah! How fast will he move through the earth.' He said: 'Like a rain storm driven by the wind. He will come upon a people and call them, and they will deny him, and reject his claims. Then he will leave them, and their wealth will follow him. They will awaken in the morning with nothing left. Then he will come upon a people and call them, and they will respond to him, believing in him. So he will order the Heavens to bring rain, and it shall rain, and he will order the land to sprout, and it will sprout. Their cattle will return to them with their coats the longest, their udders the fullest and their stomachs the fattest.' He said: 'Then he will come upon some ruins, saying to it: "Bring me your treasures!" He will turn to leave it, and it will follow him, like drone bees. Then he will call a young man, full of youth, and he will strike him with the sword cutting him into two pieces. Then he will call him, and he will come forward with his face beaming and laughing. So while he is doing that, 'Eisa bin Mariam, peace be upon him, will descend in eastern Damascus at the white minaret, between two Mahrud, with his hands on the wings of two angels. When he lowers his head, drops fall, and when raises it, gems like pearls drop from him.' He said: 'His (the Dajjal's) breath does not reach anyone but he dies, and his breath reaches as far as his sight.' He said: 'So he pursues him(the Dajjal) and he catches up with him at the gate of Ludd where he kills him.' He said: 'So he remains there as long as Allah wills.' He said: 'Then Allah reveals to him: "Take my slaves to At-Tur, for I have sent down some creatures of Mine which no one shall be able to kill.'" He said: 'Allah dispatches Ya'juj and Ma'juj, and they are as Allah said: They swoop down from every mount.' "He said: 'The first of them pass by the lake of Tiberias, drinking what is in it. Then the last of them pass by it saying: "There was water here at one time." They travel until they reach a mountain at Bait Al-Maqdis. They will say: "We have killed whoever was in the earth. Come! Let us kill whoever is in the skies." They will shoot their arrows into the Heavens, so Allah will return their arrows to them red with blood. Eisa bin Mariam and his Companions be surrounded, until the head of a bull on that day would be better to them than a hundred Dinar to one of you today.' "He (s.a.w) said: "Eisa will beseech Allah, as will his companions.' He said: 'So Allah will send An-Naghaf down upon their necks. In the morning they will find that they have all died like the death of a single soul.' He said: " 'Eisa and his companions will come down, and no spot nor hand-span can be found, except that it is filled with their stench, decay and blood. So 'Eisa will beseech Allah, as will his companions.' So Allah will send upon them birds like the necks of Bukht(milch)camels.' They will carry them off and cast them into an abyss. The Muslims will burn their bows, arrows and quivers for seventy years.' "He(s.a.w) said: 'Allah will send upon them a rain which no house of hide nor mud will bear. The earth will be washed, leaving it like a mirror. Then it will be said to the earth: "bring forth your fruits and return your blessings." So on that day, a whole troop would eat a pomegranate and seek shade under its skin. Milk will be so blessed that a large group of people will be sufficed by one milking of a camel. And that a tribe will be sufficed by one milking of a cow, and that a group will be sufficed by the milking of sheep. While it is like that, Allah will send a wind which grabs the soul of every believer, leaving the remainder of the people copulating publicly like the copulation of donkeys. Upon them the Hour shall begin
نواس بن سمعان کلابی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صبح دجال کا ذکر کیا، تو آپ نے ( اس کی حقارت اور اس کے فتنے کی سنگینی بیان کرتے ہوئے دوران گفتگو ) آواز کو بلند اور پست کیا ۱؎ حتیٰ کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ ( مدینہ کی ) کھجوروں کے جھنڈ میں ہے، پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے واپس آ گئے، ( جب بعد میں ) پھر آپ کے پاس گئے تو آپ نے ہم پر دجال کے خوف کا اثر جان لیا اور فرمایا: ”کیا معاملہ ہے؟“ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے صبح دجال کا ذکر کرتے ہوئے ( اس کی حقارت اور سنگینی بیان کرتے ہوئے ) اپنی آواز کو بلند اور پست کیا یہاں تک کہ ہمیں گمان ہونے لگا کہ وہ کھجوروں کے درمیان ہے۔ آپ نے فرمایا: ”دجال کے علاوہ دوسری چیزوں سے میں تم پر زیادہ ڈرتا ہوں، اگر وہ نکلے اور میں تمہارے بیچ موجود ہوں تو میں تمہاری جگہ خود اس سے نمٹ لوں گا، اور اگر وہ نکلے اور میں تمہارے بیچ موجود نہ رہوں تو ہر آدمی خود اپنے نفس کا دفاع کرے گا، اور اللہ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ( جانشیں ) ہے ۲؎، دجال گھونگھریالے بالوں والا جوان ہو گا، اس کی ایک آنکھ انگور کی طرح ابھری ہوئی ہو گی تو ان میں اسے عبدالعزیٰ بن قطن سے تشبیہ دیتا ہوں، پس تم میں سے جو شخص اسے پا لے اسے چاہیئے کہ وہ سورۃ الکہف کی ابتدائی آیات پڑھے، وہ شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا اور دائیں بائیں فساد پھیلائے گا، اللہ کے بندو! ثابت قدم رہنا“۔ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! روئے زمین پر ٹھہرنے کی اس کی مدت کیا ہو گی؟ آپ نے فرمایا: ”چالیس دن، ایک دن ایک سال کے برابر ہو گا، ایک دن ایک مہینہ کے برابر ہو گا، ایک دن ہفتہ کے برابر ہو گا اور باقی دن تمہارے دنوں کی طرح ہوں گے“، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بتائیے وہ ایک دن جو ایک سال کے برابر ہو گا کیا اس میں ایک دن کی نماز کافی ہو گی؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں بلکہ اس کا اندازہ کر کے پڑھنا“۔ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! زمین میں وہ کتنی تیزی سے اپنا کام کرے گا؟ آپ نے فرمایا: ”اس بارش کی طرح کہ جس کے پیچھے ہوا لگی ہوتی ہے ( اور وہ بارش کو نہایت تیزی سے پورے علاقے میں پھیلا دیتی ہے ) ، وہ کچھ لوگوں کے پاس آئے گا، انہیں دعوت دے گا تو وہ اس کو جھٹلائیں گے اور اس کی بات رد کر دیں گے، لہٰذا وہ ان کے پاس سے چلا جائے گا مگر اس کے پیچھے پیچھے ان ( انکار کرنے والوں ) کے مال بھی چلے جائیں گے، ان کا حال یہ ہو گا کہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں رہے، پھر وہ کچھ دوسرے لوگوں کے پاس جائے گا، انہیں دعوت دے گا، اور اس کی دعوت قبول کریں گے اور اس کی تصدیق کریں گے، تب وہ آسمان کو بارش برسانے کا حکم دے گا۔ آسمان بارش برسائے گا، وہ زمین کو غلہ اگانے کا حکم دے گا، زمین غلہ اگائے گی، ان کے چرنے والے جانور شام کو جب ( چراگاہ سے ) واپس آئیں گے، تو ان کے کوہان پہلے سے کہیں زیادہ لمبے ہوں گے، ان کی کوکھیں زیادہ کشادہ ہوں گی اور ان کے تھن کامل طور پر ( دودھ سے ) بھرے ہوں گے، پھر وہ کسی ویران جگہ میں آئے گا اور اس سے کہے گا: اپنا خزانہ نکال، پھر وہاں سے واپس ہو گا تو اس زمین کے خزانے شہد کی مکھیوں کے سرداروں کی طرح اس کے پیچھے لگ جائیں گے، پھر وہ ایک بھرپور اور مکمل جوان کو بلائے گا اور تلوار سے مار کر اس کے دو ٹکڑے کر دے گا۔ پھر اسے بلائے گا اور وہ روشن چہرے کے ساتھ ہنستا ہوا آ جائے گا، پس دجال اسی حالت میں ہو گا کہ اسی دوران عیسیٰ بن مریم علیہما السلام دمشق کی مشرقی جانب سفید مینار پر زرد کپڑوں میں ملبوس دو فرشتوں کے بازو پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے، جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو پانی ٹپکے گا اور جب اٹھائیں گے تو اس سے موتی کی طرح چاندی کی بوندیں گریں گی، ان کی سانس کی بھاپ جس کافر کو بھی پہنچے گی وہ مر جائے گا اور ان کی سانس کی بھاپ ان کی حد نگاہ تک محسوس کی جائے گی، وہ دجال کو ڈھونڈیں گے یہاں تک کہ اسے باب لد ۳؎ کے پاس پا لیں گے اور اسے قتل کر دیں گے۔ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ جتنا چاہے گا عیسیٰ علیہ السلام ٹھہریں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس وحی بھیجے گا کہ میرے بندوں کو طور کی طرف لے جاؤ، اس لیے کہ میں نے کچھ ایسے بندے اتارے ہیں جن سے لڑنے کی کسی میں تاب نہیں ہے، ”اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا اور وہ ویسے ہی ہوں گے جیسا اللہ تعالیٰ نے کہا ہے: «من كل حدب ينسلون» ”ہر بلندی سے پھیل پڑیں گے“ ( الأنبياء: ۹۶ ) ان کا پہلا گروہ ( شام کی ) بحیرہ طبریہ ( نامی جھیل ) سے گزرے گا اور اس کا تمام پانی پی جائے گا، پھر اس سے ان کا دوسرا گروہ گزرے گا تو کہے گا: اس میں کبھی پانی تھا ہی نہیں، پھر وہ لوگ چلتے رہیں گے یہاں تک کہ جبل بیت المقدس تک پہنچیں گے تو کہیں گے: ہم نے زمین والوں کو قتل کر دیا اب آؤ آسمان والوں کو قتل کریں، چنانچہ وہ لوگ آسمان کی طرف اپنے تیر چلائیں گے چنانچہ اللہ تعالیٰ ان کو خون سے سرخ کر کے ان کے پاس واپس کر دے گا، ( اس عرصے میں ) عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اور ان کے ساتھی گھرے رہیں گے، یہاں تک کہ ( شدید قحط سالی کی وجہ سے ) اس وقت بیل کی ایک سری ان کے لیے تمہارے سو دینار سے بہتر معلوم ہو گی ( چیزیں اس قدر مہنگی ہوں گی ) ، پھر عیسیٰ بن مریم اور ان کے ساتھی اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے، تو اللہ تعالیٰ یاجوج و ماجوج کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کر دے گا، جس سے وہ سب دفعتاً ایک جان کی طرح مر جائیں گے، عیسیٰ اور ان کے ساتھی ( پہاڑ سے ) اتریں گے تو ایک بالشت بھی ایسی جگہ نہ ہو گی جو ان کی لاشوں کی گندگی، سخت بدبو اور خون سے بھری ہوئی نہ ہو، پھر عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ایسے بڑے پرندوں کو بھیجے گا جن کی گردنیں بختی اونٹوں کی گردنوں کی طرح ہوں گی، وہ لاشوں کو اٹھا کر گڈھوں میں پھینک دیں گے، مسلمان ان کے کمان، تیر اور ترکش سے سات سال تک ایندھن جلائیں گے ۴؎۔ پھر اللہ تعالیٰ ان پر ایسی بارش برسائے گا جسے کوئی کچا اور پکا گھر نہیں روک پائے گا، یہ بارش زمین کو دھو دے گی اور اسے آئینہ کی طرح صاف شفاف کر دے گی، پھر زمین سے کہا جائے گا: اپنا پھل نکال اور اپنی برکت واپس لا، چنانچہ اس وقت ایک انار ایک جماعت کے لیے کافی ہو گا، اس کے چھلکے سے یہ جماعت سایہ حاصل کرے گی، اور دودھ میں ایسی برکت ہو گی کہ لوگوں کی ایک بڑی جماعت کے لیے ایک دودھ دینے والی اونٹنی کافی ہو گی، اور دودھ دینے والی ایک گائے لوگوں کے ایک قبیلے کو کافی ہو گی اور دودھ دینے والی ایک بکری لوگوں میں سے ایک گھرانے کو کافی ہو گی، لوگ اسی حال میں ( کئی سالوں تک ) رہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہوا بھیجے گا جو سارے مومنوں کی روح قبض کر لے گی اور باقی لوگ گدھوں کی طرح کھلے عام زنا کریں گے، پھر انہیں لوگوں پر قیامت ہو گی“ ۵؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف عبدالرحمٰن یزید بن جابر کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، دَخَلَ حَدِيثُ أَحَدِهِمَا فِي حَدِيثِ الآخَرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْكِلاَبِيِّ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الدَّجَّالَ ذَاتَ غَدَاةٍ فَخَفَّضَ فِيهِ وَرَفَّعَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ . قَالَ فَانْصَرَفْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَيْهِ فَعَرَفَ ذَلِكَ فِينَا فَقَالَ " مَا شَأْنُكُمْ " . قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ الْغَدَاةَ فَخَفَّضْتَ فِيهِ وَرَفَّعْتَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ . قَالَ " غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ لِي عَلَيْكُمْ إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ إِنَّهُ شَابٌّ قَطَطٌ عَيْنُهُ قَائِمَةٌ شَبِيهٌ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ فَمَنْ رَآهُ مِنْكُمْ فَلْيَقْرَأْ فَوَاتِحَ سُورَةِ أَصْحَابِ الْكَهْفِ قَالَ يَخْرُجُ مَا بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ فَعَاثَ يَمِينًا وَشِمَالاً يَا عِبَادَ اللَّهِ اثْبُتُوا " . قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا لُبْثُهُ فِي الأَرْضِ قَالَ " أَرْبَعِينَ يَوْمًا يَوْمٌ كَسَنَةٍ وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ وَسَائِرُ أَيَّامِهُ كَأَيَّامِكُمْ " . قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الْيَوْمَ الَّذِي كَالسَّنَةِ أَتَكْفِينَا فِيهِ صَلاَةُ يَوْمٍ قَالَ " لاَ وَلَكِنِ اقْدُرُوا لَهُ " . قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا سُرْعَتُهُ فِي الأَرْضِ قَالَ " كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ فَيَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيُكَذِّبُونَهُ وَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَيَنْصَرِفُ عَنْهُمْ فَتَتْبَعُهُ أَمْوَالُهُمْ فَيُصْبِحُونَ لَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ ثُمَّ يَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ وَيُصَدِّقُونَهُ فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ أَنْ تُمْطِرَ فَتُمْطِرَ وَيَأْمُرُ الأَرْضَ أَنْ تُنْبِتَ فَتُنْبِتَ فَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ كَأَطْوَلِ مَا كَانَتْ ذُرًى وَأَمَدِّهِ خَوَاصِرَ وَأَدَرِّهِ ضُرُوعًا قَالَ ثُمَّ يَأْتِي الْخَرِبَةَ فَيَقُولُ لَهَا أَخْرِجِي كُنُوزَكِ فَيَنْصَرِفُ مِنْهَا فَتَتْبَعُهُ كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ ثُمَّ يَدْعُو رَجُلاً شَابًّا مُمْتَلِئًا شَبَابًا فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جِزْلَتَيْنِ ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَضْحَكُ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ هَبَطَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ بِشَرْقِيِّ دِمَشْقَ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ إِذَا طَأْطَأَ رَأْسَهُ قَطَرَ وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ جُمَانٌ كَاللُّؤْلُؤِ قَالَ وَلاَ يَجِدُ رِيحَ نَفَسِهِ يَعْنِي أَحَدٌ إِلاَّ مَاتَ وَرِيحُ نَفَسِهِ مُنْتَهَى بَصَرِهِ قَالَ فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَابِ لُدٍّ فَيَقْتُلَهُ قَالَ فَيَلْبَثُ كَذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ . قَالَ ثُمَّ يُوحِي اللَّهُ إِلَيْهِ أَنْ حَرِّزْ عِبَادِي إِلَى الطُّورِ فَإِنِّي قَدْ أَنْزَلْتُ عِبَادًا لِي لاَ يَدَانِ لأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ . قَالَ وَيَبْعَثُ اللَّهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَهُمْ كَمَا قَالَ اللَّهُ: ( مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ ) . قَالَ فَيَمُرُّ أَوَّلُهُمْ بِبُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ فَيَشْرَبُ مَا فِيهَا ثُمَّ يَمُرُّ بِهَا آخِرُهُمْ فَيَقُولُ لَقَدْ كَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَاءٌ ثُمَّ يَسِيرُونَ حَتَّى يَنْتَهُوا إِلَى جَبَلِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَيَقُولُونَ لَقَدْ قَتَلْنَا مَنْ فِي الأَرْضِ هَلُمَّ فَلْنَقْتُلْ مَنْ فِي السَّمَاءِ . فَيَرْمُونَ بِنُشَّابِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرُدُّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ نُشَّابَهُمْ مُحْمَرًّا دَمًا وَيُحَاصَرُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى يَكُونَ رَأْسُ الثَّوْرِ يَوْمَئِذٍ خَيْرًا لأَحَدِهِمْ مِنْ مِائَةِ دِينَارٍ لأَحَدِكُمُ الْيَوْمَ . قَالَ فَيَرْغَبُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ إِلَى اللَّهِ وَأَصْحَابُهُ قَالَ فَيُرْسِلُ اللَّهُ إِلَيْهِمُ النَّغَفَ فِي رِقَابِهِمْ فَيُصْبِحُونَ فَرْسَى مَوْتَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ قَالَ وَيَهْبِطُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ فَلاَ يَجِدُ مَوْضِعَ شِبْرٍ إِلاَّ وَقَدْ مَلأَتْهُ زَهَمَتُهُمْ وَنَتَنُهُمْ وَدِمَاؤُهُمْ قَالَ فَيَرْغَب�� عِيسَى إِلَى اللَّهِ وَأَصْحَابُهُ قَالَ فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ قَالَ فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ بِالْمَهْبِلِ وَيَسْتَوْقِدُ الْمُسْلِمُونَ مِنْ قِسِيِّهِمْ وَنُشَّابِهِمْ وَجِعَابِهِمْ سَبْعَ سِنِينَ قَالَ وَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مَطَرًا لاَ يَكُنُّ مِنْهُ بَيْتُ وَبَرٍ وَلاَ مَدَرٍ قَالَ فَيَغْسِلُ الأَرْضَ فَيَتْرُكُهَا كَالزَّلَفَةِ قَالَ ثُمَّ يُقَالُ لِلأَرْضِ أَخْرِجِي ثَمَرَتَكِ وَرُدِّي بَرَكَتَكِ . فَيَوْمَئِذٍ تَأْكُلُ الْعِصَابَةُ مِنَ الرُّمَّانَةِ وَيَسْتَظِلُّونَ بِقِحْفِهَا وَيُبَارَكُ فِي الرِّسْلِ حَتَّى إِنَّ الْفِئَامَ مِنَ النَّاسِ لَيَكْتَفُونَ بِاللَّقْحَةِ مِنَ الإِبِلِ وَإِنَّ الْقَبِيلَةَ لَيَكْتَفُونَ بِاللَّقْحَةِ مِنَ الْبَقَرِ وَإِنَّ الْفَخِذَ لَيَكْتَفُونَ بِاللَّقْحَةِ مِنَ الْغَنَمِ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ رِيحًا فَقَبَضَتْ رُوحَ كُلِّ مُؤْمِنٍ وَيَبْقَى سَائِرُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ كَمَا تَتَهَارَجُ الْحُمُرُ فَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ .
#2241
Sahih
Ibn 'Umar narrated that the Prophet(s.a.w) was asked about the Dajjal, so he said:"Lo! Indeed your Lord is not blind in one eye, and indeed he is blind in one eye; his right eye is as if it is a floating grape
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”سنو! تمہارا رب کانا نہیں ہے جب کہ دجال کانا ہے، اس کی داہنی آنکھ انگور کی طرح ابھری ہوئی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث عبداللہ بن عمر کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں سعد، حذیفہ، ابوہریرہ، اسماء، جابر بن عبداللہ، ابوبکرہ، عائشہ، انس، ابن عباس اور فلتان بن عاصم رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الدَّجَّالِ فَقَالَ " أَلاَ إِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ أَلاَ وَإِنَّهُ أَعْوَرُ عَيْنُهُ الْيُمْنَى كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ وَحُذَيْفَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَسْمَاءَ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي بَكْرَةَ وَعَائِشَةَ وَأَنَسٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَالْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ .
#2242
Sahih
Anas narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"The Dajjal will come to Al-Madinah to find the angels have surrounded it. Neither the plague nor the Dajjal will enter it, if Allah wills
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال مدینہ ( کے قریب ) آئے گا تو فرشتوں کو اس کی نگرانی کرتے ہوئے پائے گا، اللہ نے چاہا تو اس میں دجال اور طاعون نہیں داخل ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، فاطمہ بنت قیس، اسامہ بن زید، سمرہ بن جندب اور محجن رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَأْتِي الدَّجَّالُ الْمَدِينَةَ فَيَجِدُ الْمَلاَئِكَةَ يَحْرُسُونَهَا فَلاَ يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلاَ الدَّجَّالُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ وَمِحْجَنٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
#2243
Sahih
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"Faith is Yemeni, and disbelief is from the direction of the east. Tranquility is for the people of sheep, and wickedness and Riya is in those who boast among the people of horses and the people of camels. Al-Masih – that is Ad-Dajjal- will come, and when he reaches behind Uhud, the angels will turn his face to the direction of Ash-Sham, and is there that he will be destroyed.” (Sahih)
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان یمن کی طرف سے نکلا ہے اور کفر مشرق ( پورب ) کی طرف سے، سکون و اطمینان والی زندگی بکری والوں کی ہے، اور فخر و ریاکاری فدادین یعنی گھوڑے اور اونٹ والوں میں ہے، جب مسیح دجال احد کے پیچھے آئے گا تو فرشتے اس کا رخ شام کی طرف پھیر دیں گے اور شام ہی میں وہ ہلاک ہو جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْكُفْرُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ وَالسَّكِينَةُ لأَهْلِ الْغَنَمِ وَالْفَخْرُ وَالرِّيَاءُ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْخَيْلِ وَأَهْلِ الْوَبَرِ يَأْتِي الْمَسِيحُ إِذَا جَاءَ دُبُرَ أُحُدٍ صَرَفَتِ الْمَلاَئِكَةُ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ وَهُنَالِكَ يَهْلِكُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2244
Sahih
Mujammi' bin Jariyah Al-Ansari said:"I heard the Messenger of Allah(s.a.w) saying: 'Eisa bin Maryam will kill the Dajjal at the gate of Ludd
مجمع بن جاریہ انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”ابن مریم علیہما السلام دجال کو باب لد کے پاس قتل کریں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمران بن حصین، نافع بن عتبہ، ابوبرزہ، حذیفہ بن اسید، ابوہریرہ، کیسان، عثمان، جابر، ابوامامہ، ابن مسعود، عبداللہ بن عمرو، سمرہ بن جندب، نواس بن سمعان، عمرو بن عوف اور حذیفہ بن یمان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الأَنْصَارِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيِّ، مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَمِّي، مُجَمِّعَ بْنَ جَارِيَةَ الأَنْصَارِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَقْتُلُ ابْنُ مَرْيَمَ الدَّجَّالَ بِبَابِ لُدٍّ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَنَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ وَأَبِي بَرْزَةَ وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَكَيْسَانَ وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِي وَجَابِرٍ وَأَبِي أُمَامَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ وَالنَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ وَعَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2245
Sahih
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah(s.a.w) said: 'There was no Prophet except that he warned his Ummah of the liar who is blind in one eye. Lo! He is blind in one eye, and your Lord is not blind in one eye. Written between his eyes is: Kafir
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی نبی ایسا نہیں تھا جس نے اپنی امت کو کانے اور جھوٹے ( دجال ) سے نہ ڈرایا ہو، سنو! وہ کانا ہے، جب کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ ” «ک»، «ف»، «ر» “ لکھا ہوا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الأَعْوَرَ الْكَذَّابَ أَلاَ إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2246
Sahih
Abu Sa'eed said:"I was accompanied by Ibn Sa'eed- either performing Hajj or 'Umrah - the people departed, and he and I were left. When I was alone with him I trembled and felt frightened of him because of what the people were saying about him. When I halted I said to him: 'Put your belongings near that tree.'" "he saw a sheep, took out a cup, and went to milk, it. Then he came to me with some milk and said to me: 'Drink Abu Sa'eed!' But I loathed drinking anything from his hand because of what the people were saying about him. So I said to him: 'It is very hot today, and I would not like to drink milk.' So he said to me: 'O Abu Sa'eed, I think I should take a rope, tie it to the tree, then hang myself because of what the people are saying about me. You see those who may be unaware of some narrations, while you are not unaware of them. You people are the most knowledgeable among the people of the Ahadith of the Messenger of Allah, O people of the Ansar! Did the Messenger of Allah not say: "He is a disbeliever" while I am a Muslim? Did the Messenger of Allah not said: "He is sterile, having no children" while I have left my children behind in Al-Madinah? Did the Messenger of Allah not say: "[He will not enter or] Makkah [and Al-Madinah] are not lawful for him" and am I not from the inhabitants of Al-Madinah, and who is the one who accompanied you to Makkah?'" "By Allah, he continued talking like this until I said: 'Perhaps he has been falsely accused' then he said: 'O Abu Sa'eed! By Allah, I can inform you of some information that is true, by Allah! Verily, I know him, I know his father, [and I know] where he is at this time in the land.' So I said: 'May the rest of your day be but grief
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حج یا عمرہ میں ابن صائد ( ابن صیاد ) میرے ساتھ تھا، لوگ آگے چلے گئے اور ہم دونوں پیچھے رہ گئے، جب میں اس کے ساتھ اکیلے رہ گیا تو لوگ اس کے بارے میں جو کہتے تھے اس کی وجہ سے میرے رونگٹے کھڑے ہونے لگے اور اس سے مجھے خوف محسوس ہونے لگا، چنانچہ جب میں سواری سے اترا تو اس سے کہا: اس درخت کے پاس اپنا سامان رکھ دو، پھر اس نے کچھ بکریوں کو دیکھا تو پیالہ لیا اور جا کر دودھ نکال لایا، پھر میرے پاس دودھ لے آیا اور مجھ سے کہا: ابوسعید! پیو، لیکن میں نے اس کے ہاتھ کا کچھ بھی پینا پسند نہیں کیا، اس وجہ سے جو لوگ اس کے بارے میں کچھ کہتے تھے ( یعنی دجال ہے ) چنانچہ میں نے اس سے کہا: آج کا دن سخت گرمی کا ہے اس لیے میں آج دودھ پینا بہتر نہیں سمجھتا، اس نے کہا: ابوسعید! میں نے ارادہ کیا ہے کہ ایک رسی سے اپنے آپ کو اس درخت سے باندھ لوں اور گلا گھونٹ کر مر جاؤں یہ اس وجہ سے کہ لوگ جو میرے بارے میں کہتے ہیں، بدگمانی کرتے ہیں، آپ بتائیے لوگوں سے میری باتیں بھلے ہی چھپی ہوں مگر آپ سے تو نہیں چھپی ہیں؟ انصار کی جماعت! کیا آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے سب سے بڑے جانکار نہیں ہیں؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دجال کے بارے میں ) یہ نہیں فرمایا ہے کہ وہ کافر ہے؟ جب کہ میں مسلمان ہوں، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ بانجھ ہے؟ اس کی اولاد نہیں ہو گی، جب کہ میں نے مدینہ میں اپنی اولاد چھوڑی ہے، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ مدینہ اور مکہ میں داخل نہیں ہو گا؟ کیا میں مدینہ کا نہیں ہوں؟ اور اب آپ کے ساتھ چل کر مکہ جا رہا ہوں، ابو سعید خدری کہتے ہیں: اللہ کی قسم! وہ ایسی ہی دلیلیں پیش کرتا رہا یہاں تک کہ میں کہنے لگا: شاید لوگ اس کے متعلق جھوٹ بولتے ہیں، پھر اس نے کہا: ابوسعید! اللہ کی قسم! اس کے بارے میں آپ کو سچی بات بتاؤں؟ اللہ کی قسم! میں دجال کو جانتا ہوں، اس کے باپ کو جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ اس وقت زمین کے کس خطہٰ میں ہے تب میں نے کہا: تمہارے لیے تمام دن تباہی ہو ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ صَحِبَنِي ابْنُ صَائِدٍ إِمَّا حُجَّاجًا وَإِمَّا مُعْتَمِرِينَ فَانْطَلَقَ النَّاسُ وَتُرِكْتُ أَنَا وَهُوَ فَلَمَّا خَلَصْتُ بِهِ اقْشَعْرَرْتُ مِنْهُ وَاسْتَوْحَشْتُ مِنْهُ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ فِيهِ فَلَمَّا نَزَلْتُ قُلْتُ لَهُ ضَعْ مَتَاعَكَ حَيْثُ تِلْكَ الشَّجَرَةِ . قَالَ فَأَبْصَرَ غَنَمًا فَأَخَذَ الْقَدَحَ فَانْطَلَقَ فَاسْتَحْلَبَ ثُمَّ أَتَانِي بِلَبَنٍ فَقَالَ لِي يَا أَبَا سَعِيدٍ اشْرَبْ . فَكَرِهْتُ أَنْ أَشْرَبَ مِنْ يَدِهِ شَيْئًا لِمَا يَقُولُ النَّاسُ فِيهِ فَقُلْتُ لَهُ هَذَا الْيَوْمُ يَوْمٌ صَائِفٌ وَإِنِّي أَكْرَهُ فِيهِ اللَّبَنَ . قَالَ لِي يَا أَبَا سَعِيدٍ هَمَمْتُ أَنْ آخُذَ حَبْلاً فَأُوثِقَهُ إِلَى شَجَرَةٍ ثُمَّ أَخْتَنِقُ لِمَا يَقُولُ النَّاسُ لِي وَفِيَّ أَرَأَيْتَ مَنْ خَفِيَ عَلَيْهِ حَدِيثِي فَلَنْ يَخْفَى عَلَيْكُمْ أَلَسْتُمْ أَعْلَمَ النَّاسِ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّهُ كَافِرٌ وَأَنَا مُسْلِمٌ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّهُ عَقِيمٌ لاَ يُولَدُ لَهُ وَقَدْ خَلَّفْتُ وَلَدِي بِالْمَدِينَةِ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَدْخُلُ أَوْ لاَ تَحِلُّ لَهُ مَكَّةُ وَالْمَدِينَةُ أَلَسْتُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ ذَا أَنْطَلِقُ مَعَكَ إِلَى مَكَّةَ . فَوَاللَّهِ مَا زَالَ يَجِيءُ بِهَذَا حَتَّى قُلْتُ فَلَعَلَّهُ مَكْذُوبٌ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ وَاللَّهِ لأُخْبِرَنَّكَ خَبَرًا حَقًّا وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْرِفُهُ وَأَعْرِفُ وَالِدَهُ وَأَعْرِفُ أَيْنَ هُوَ السَّاعَةَ مِنَ الأَرْضِ . فَقُلْتُ تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
#2247
Sahih
It was narrated that Abu Sa'eed said:"The Messenger of Allah(s.a.w) met Ibn Sa'eed on one of the streets of Al-Madinah, so he stopped him- and he was a Jewish boy with locks- and Abu Bakr and 'Umar were with him. So the Messenger of Allah(s.a.w) said to him: 'Do you testify that I am the Messenger of Allah?' So he replied: 'Do you testify that I am Allah's Messenger?' So the Prophet(s.a.w) said: 'I believe in Allah, His Angels, His Books, His Messengers, and the Last Day.'Then the Prophet(s.a.w) said to him: 'What do you see?' He said: 'I see a throne above the water.' So the Prophet(s.a.w) said: 'He sees the throne of Iblis above the sea.' He said: 'What else do you see?' He said: 'I see a truthful one,and two liars- or two truthful ones and a liar.' So the Prophet (s.a.w)said:"He has been confounded. So leave him
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن صائد سے مدینہ کے کسی راستہ میں ملے، آپ نے اسے پکڑ لیا، وہ ایک یہودی لڑکا تھا، اس کے سر پر ایک چوٹی تھی، اس وقت آپ کے ساتھ ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما بھی تھے، آپ نے فرمایا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“، اس نے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لایا ہوں“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم کیا دیکھتے ہو؟“ ۱؎ اس نے کہا: پانی کے اوپر ایک عرش دیکھتا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سمندر کے اوپر ابلیس کا عرش دیکھتے ہو“، آپ نے فرمایا: ”اور بھی کچھ دیکھتے ہو؟“ اس نے کہا: ایک سچا اور دو جھوٹے یا دو جھوٹے اور ایک سچے کو دیکھتا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر معاملہ مشتبہ ہو گیا ہے“، پھر آپ نے اسے چھوڑ دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عمر، حسین بن علی، ابن عمر، ابوذر، ابن مسعود، جابر اور حفصہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ابْنَ صَائِدٍ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَاحْتَبَسَهُ وَهُوَ غُلاَمٌ يَهُودِيٌّ وَلَهُ ذُؤَابَةٌ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ " . فَقَالَ أَتَشْهَدُ أَنْتَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ " . قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا تَرَى " . قَالَ أَرَى عَرْشًا فَوْقَ الْمَاءِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " تَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ فَوْقَ الْبَحْرِ . قَالَ " فَمَا تَرَى " . قَالَ أَرَى صَادِقًا وَكَاذِبَيْنِ أَوْ صَادِقَيْنِ وَكَاذِبًا . قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لُبِّسَ عَلَيْهِ " . فَدَعَاهُ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي ذَرٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَجَابِرٍ وَحَفْصَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
#2248
Daif
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Abi Bakrah from his father who said:"The Messenger of Allah(s.a.w) said: 'The father of the Dajjal and hid mother, will abide for thirty years without bearing a son. Then a boy shall be born to them, having one eye in which there is some defect, providing little use. His eyes sleep but his heart does not sleep.' Then the Messenger of Allah(s.a.w) described his parents for us: 'His father is tall, with little fat, with a nose as if it were a beak. His mother is a bulky woman with long breasts.'" So Abu Bakrah said: "I heard about a child being born to some Jews in Al-Madinah. So Az-Zubair bin Al-'Awwam and I went until we entered upon his parents. They appeared as the Messenger of Allah(s.a.w) had described them. We said: 'Do you have any children?' They said: 'We remained for thirty years without any children being born to us, then we bore a boy, having one eye in which there is some defect, providing little use. His eyes sleep but his heart does not sleep.'" He said: "So we were leaving them, when he appeared, glittering in the sunlight in a velvet garment, murmuring something. He uncovered his head and said: 'What were you saying?' We said: 'Did you hear what we were saying?' He said: 'Yes, that my eyes sleep but my heart does not sleep
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال کے باپ اور ماں تیس سال تک اس حال میں رہیں گے کہ ان کے ہاں کوئی لڑکا پیدا نہیں ہو گا، پھر ایک کانا لڑکا پیدا ہو گا جس میں نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہو گا، اس کی آنکھیں سوئیں گی مگر دل نہیں سوئے گا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے والدین کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”اس کا باپ دراز قد اور دبلا ہو گا اور اس کی ناک چونچ کی طرح ہو گی، اس کی ماں بھاری بھر کم اور لمبے ہاتھ والی ہو گی“، ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم نے مدینہ کے اندر یہود میں ایک ایسے ہی لڑکے کے بارے میں سنا، چنانچہ میں اور زبیر بن عوام چلے یہاں تک کہ اس کے والدین کے پاس گئے تو وہ ویسے ہی تھے، جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا، ہم نے پوچھا: کیا تمہارا کوئی لڑکا ہے؟ انہوں نے کہا: ہمارے ہاں تیس سال تک کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوا، پھر ہم سے ایک لڑکا پیدا ہوا جس میں نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہے، اس کی آنکھیں سوتی ہیں مگر اس کا دل نہیں سوتا، ہم ان کے پاس سے نکلے تو وہ لڑکا دھوپ میں ایک موٹی چادر پر لیٹا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا، پھر اس نے اپنے سر سے کپڑے ہٹایا اور پوچھا: تم دونوں نے کیا کہا ہے؟ ہم نے کہا: ہم نے جو کہا ہے کیا تم نے اسے سن لیا؟ اس نے کہا: ہاں، میری آنکھیں سوتی ہیں، مگر دل نہیں سوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَمْكُثُ أَبُو الدَّجَّالِ وَأُمُّهُ ثَلاَثِينَ عَامًا لاَ يُولَدُ لَهُمَا وَلَدٌ ثُمَّ يُولَدُ لَهُمَا غُلاَمٌ أَعْوَرُ أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ مَنْفَعَةً تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلاَ يَنَامُ قَلْبُهُ " . ثُمَّ نَعَتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَوَيْهِ فَقَالَ " أَبُوهُ طِوَالٌ ضَرْبُ اللَّحْمِ كَأَنَّ أَنْفَهُ مِنْقَارٌ وَأُمُّهُ امْرَأَةٌ فَرْضَاخِيَّةٌ طَوِيلَةُ الْيَدَيْنِ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ فَسَمِعْنَا بِمَوْلُودٍ فِي الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ فَذَهَبْتُ أَنَا وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبَوَيْهِ فَإِذَا نَعْتُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهِمَا فَقُلْنَا هَلْ لَكُمَا وَلَدٌ فَقَالاَ مَكَثْنَا ثَلاَثِينَ عَامًا لاَ يُولَدُ لَنَا وَلَدٌ ثُمَّ وُلِدَ لَنَا غُلاَمٌ أَعْوَرُ أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ مَنْفَعَةً تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلاَ يَنَامُ قَلْبُهُ . قَالَ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِمَا فَإِذَا هُوَ مُنْجَدِلٌ فِي الشَّمْسِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ وَلَهُ هَمْهَمَةٌ فَكَشَفَ عَنْ رَأْسِهِ فَقَالَ مَا قُلْتُمَا قُلْنَا وَهَلْ سَمِعْتَ مَا قُلْنَا قَالَ نَعَمْ تَنَامُ عَيْنَاىَ وَلاَ يَنَامُ قَلْبِي . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ .
#2249
Sahih
It was narrated from Ibn 'Umar, that the Messenger of Allah(s.a.w) passed by Ibn Sayyad with a group of his Companions – among them `Umar bin Al-Khattab – while he was playing with two boys at the fort of Banu Maghalah, and he was a boy. He did not realize until the Messenger of Allah(s.a.w) struck him with his hand on his back, then he said:“Do you testify that I am the Messenger of Allah?” So Ibn Sayyad looked at him, and said: 'I testify that you are the Messenger to the illiterates.'” He said: “Then Ibn Sayyad said to the Prophet(s.a.w): 'Do you testify that I am the Messenger of Allah?' So the Prophet(s.a.w) said: 'I believe in Allah and His Messengers.' Then the Prophet(s.a.w) said: 'Who has come to you?' Ibn Sayyad said: 'A truthful one and a liar came to me.' So the Prophet(s.a.w) said: 'The matter has been confused for you.' Then the Messenger of Allah(s.a.w) said: 'I have concealed something from you.' And he had concealed (the verse): The day when the sky will bring forth a visible smoke. Ibn Sayyad said: 'It is, “Ad-Dukh.'” So the Messenger of Allah(s.a.w) said: 'Beat it! You can never surpass your ability.' `Umar said: 'O Messenger of Allah! Permit me to chop off his head!' The Messenger of Allah(s.a.w) said: 'If he is indeed him, then you will never overpower him, and if he is not, then there is no good in you killing him.'” (Sahih)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ جس میں عمر بن خطاب بھی تھے ابن صیاد کے پاس سے گزرے، اس وقت وہ بچوں کے ساتھ بنی مغالہ کے ٹیلوں کے پاس کھیل رہا تھا، وہ ایک چھوٹا بچہ تھا اس لیے اسے آپ کی آمد کا احساس اس وقت تک نہ ہو سکا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کی پیٹھ پر مارا، پھر فرمایا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھ کر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں، پھر ابن صیاد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ہوں“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہارے پاس ( غیب کی ) کون سی چیز آتی ہے؟“ ابن صیاد نے کہا: میرے پاس ایک سچا اور ایک جھوٹا آتا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اوپر تیرا معاملہ مشتبہ ہو گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے لیے ( دل میں ) ایک بات چھپاتا ہوں“ اور آپ نے آیت: «يوم تأتي السماء بدخان مبين» ۱؎ چھپا لی، ابن صیاد نے کہا: وہ ( چھپی ہوئی چیز ) «دخ» ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھٹکار ہو تجھ پر تو اپنی حد سے آگے نہیں بڑھ سکے گا“، عمر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے میں اس کی گردن اڑا دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ حقیقی دجال ہے تو تم اس پر غالب نہیں آ سکتے اور اگر وہ نہیں ہے تو اسے قتل کرنے میں کوئی بھلائی نہیں ہے“۔ عبدالرزاق کہتے ہیں: «حقا» سے آپ کی مراد دجال ہے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَهُوَ غُلاَمٌ فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ " . فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الأُمِّيِّينَ . ثُمَّ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَتَشْهَدُ أَنْتَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ " . ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا يَأْتِيكَ " . قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " خُلِّطَ عَلَيْكَ الأَمْرُ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا " . وَخَبَأَ لَهُ : (يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ ) فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ هُوَ الدُّخُّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ " . قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ يَكُ حَقًّا فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ وَإِنْ لاَ يَكُنْهُ فَلاَ خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ " . قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ يَعْنِي الدَّجَّالَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2250
Sahih
It was narrated from Jabir, that the Prophet(s.a.w) said:"There is no soul born upon the earth – meaning today – upon whom will come one hundred years." (Sahih)
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج روئے زمین پر جو بھی زندہ ہے سو سال بعد نہیں رہے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابو سعید خدری اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا عَلَى الأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ - يَعْنِي الْيَوْمَ تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَبُرَيْدَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .