#176
Sahih
Abu Dharr narrated that :the Prophet said: "O Abu Dharr! There will be leaders after me who cause the Salat to die; so perform the Salat during its time. If you pray (with them) during its time, then that will be voluntary Salat for you, if not, then you will have attained your Salat
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر! میرے بعد کچھ ایسے امراء ( حکام ) ہوں گے جو نماز کو مار ڈالیں گے ۱؎، تو تم نماز کو اس کے وقت پر پڑھ لینا ۲؎ نماز اپنے وقت پر پڑھ لی گئی تو امامت والی نماز تمہارے لیے نفل ہو گی، ورنہ تم نے اپنی نماز محفوظ کر ہی لی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن مسعود اور عبادہ بن صامت رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۳- یہی اہل علم میں سے کئی لوگوں کا قول ہے، یہ لوگ مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی نماز اپنے وقت پر پڑھ لے جب امام اسے مؤخر کرے، پھر وہ امام کے ساتھ بھی پڑھے اور پہلی نماز ہی اکثر اہل علم کے نزدیک فرض ہو گی ۳؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا ذَرٍّ أُمَرَاءُ يَكُونُونَ بَعْدِي يُمِيتُونَ الصَّلاَةَ فَصَلِّ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ صُلِّيَتْ لِوَقْتِهَا كَانَتْ لَكَ نَافِلَةً وَإِلاَّ كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلاَتَكَ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ الصَّلاَةَ لِمِيقَاتِهَا إِذَا أَخَّرَهَا الإِمَامُ ثُمَّ يُصَلِّي مَعَ الإِمَامِ وَالصَّلاَةُ الأُولَى هِيَ الْمَكْتُوبَةُ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ . وَأَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَبِيبٍ .
#177
Sahih
Abu Qatadah narrated:"They asked the Prophet about when they sIept past the Salat. He said: 'There is no negligence in sleep, negligence is only while one is awake. So when one of you forgets a Salat, or sleeps through it, then let him pray it when he remembers it
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے نماز سے اپنے سو جانے کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”سو جانے میں قصور اور کمی نہیں۔ قصور اور کمی تو جاگنے میں ہے، ( کہ جاگتا رہے اور نہ پڑھے ) لہٰذا تم میں سے کوئی جب نماز بھول جائے، یا نماز سے سو جائے، تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوقتادہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابومریم، عمران بن حصین، جبیر بن مطعم، ابوجحیفہ، ابوسعید، عمرو بن امیہ ضمری اور ذومخمر ( جنہیں ذومخبر بھی کہا جاتا ہے، اور یہ نجاشی کے بھتیجے ہیں ) رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کے درمیان اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے کہ جو نماز سے سو جائے یا اسے بھول جائے اور ایسے وقت میں جاگے یا اسے یاد آئے جو نماز کا وقت نہیں مثلاً سورج نکل رہا ہو یا ڈوب رہا ہو تو بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسے پڑھ لے جب جاگے یا یاد آئے گو سورج نکلنے کا یا ڈوبنے کا وقت ہو، یہی احمد، اسحاق بن راہویہ، شافعی اور مالک کا قول ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ جب تک سورج نکل نہ جائے یا ڈوب نہ جائے نہ پڑھے۔ پہلا قول ہی راجح ہے، کیونکہ یہ نماز سبب والی ( قضاء ) ہے اور سبب والی میں وقت کی پابندی نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ ذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَوْمَهُمْ عَنِ الصَّلاَةِ فَقَالَ " إِنَّهُ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلاَةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا " . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي مَرْيَمَ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ وَأَبِي جُحَيْفَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ وَذِي مِخْبَرٍ وَيُقَالُ ذِي مِخْمَرٍ وَهُوَ ابْنُ أَخِي النَّجَاشِيِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الرَّجُلِ يَنَامُ عَنِ الصَّلاَةِ أَوْ يَنْسَاهَا فَيَسْتَيْقِظُ أَوْ يَذْكُرُ وَهُوَ فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلاَةٍ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ أَوْ عِنْدَ غُرُوبِهَا . فَقَالَ بَعْضُهُمْ يُصَلِّيهَا إِذَا اسْتَيْقَظَ أَوْ ذَكَرَ وَإِنْ كَانَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ أَوْ عِنْدَ غُرُوبِهَا . وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ وَالشَّافِعِيِّ وَمَالِكٍ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ يُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَوْ تَغْرُبَ .
#178
Sahih
Anas (bin Malik) narrated that :Allah's Messenger said: "Whoever forgets a Salat then he is to pray it when he remembers it
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نماز بھول جائے تو چاہیئے کہ جب یاد آئے پڑھ لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سمرہ اور ابوقتادہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت کی جاتی ہے کہ انہوں نے اس شخص کے بارے میں جو نماز بھول جائے کہا کہ وہ پڑھ لے جب بھی اسے یاد آئے خواہ وقت ہو یا نہ ہو۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، اور ابوبکرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ وہ عصر میں سو گئے اور سورج ڈوبنے کے وقت اٹھے، تو انہوں نے نماز نہیں پڑھی جب تک کہ سورج ڈوب نہیں گیا۔ اہل کوفہ کے کچھ لوگ اسی طرف گئے ہیں۔ رہے ہمارے اصحاب یعنی محدثین تو وہ علی بن ابی طالب رضی الله عنہ ہی کے قول کی طرف گئے ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ نَسِيَ صَلاَةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا " . وَفِي الْبَابِ عَنْ سَمُرَةَ وَأَبِي قَتَادَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَيُرْوَى عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَالَ فِي الرَّجُلِ يَنْسَى الصَّلاَةَ قَالَ يُصَلِّيهَا مَتَى مَا ذَكَرَهَا فِي وَقْتٍ أَوْ فِي غَيْرِ وَقْتٍ . وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَإِسْحَاقَ . وَيُرْوَى عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُ نَامَ عَنْ صَلاَةِ الْعَصْرِ فَاسْتَيْقَظَ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ . وَقَدْ ذَهَبَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ إِلَى هَذَا وَأَمَّا أَصْحَابُنَا فَذَهَبُوا إِلَى قَوْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
#179
Daif
Abdullah (bin Mas'ud] narrated:"The idolaters kept Allah's Messenger distracted from four prayers on the Day of Al-Khandaq (the battle of the Trench) until as much as Allah willed of the night had passed. So he ordered Bilal to call the Adhan, then he called the Iqamah to Zuhr, then he called the Iqamah to pray Asr, then he called the Iqamah to pray Maghrib, then he called the Iqamah to pray Isha
ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے کہا: مشرکین نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو خندق کے دن چار نمازوں سے روک دیا۔ یہاں تک کہ رات جتنی اللہ نے چاہی گزر گئی، پھر آپ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اذان کہی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے ظہر پڑھی، پھر بلال رضی الله عنہ نے اقامت کہی تو آپ نے عصر پڑھی، پھر بلال رضی الله عنہ نے اقامت کہی تو آپ نے مغرب پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے عشاء پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوسعید اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث کی سند میں کوئی برائی نہیں ہے سوائے اس کے کہ ابوعبیدہ نے اپنے باپ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے، ۳- اور چھوٹی ہوئی نمازوں کے سلسلے میں بعض اہل علم نے اسی کو پسند کیا ہے کہ آدمی جب ان کی قضاء کرے تو ہر نماز کے لیے الگ الگ اقامت کہے ۱؎ اور اگر وہ الگ الگ اقامت نہ کہے تو بھی وہ اسے کافی ہو گا، اور یہی شافعی کا قول ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ شَغَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ لَيْسَ بِإِسْنَادِهِ بَأْسٌ إِلاَّ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ . وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْفَوَائِتِ أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ لِكُلِّ صَلاَةٍ إِذَا قَضَاهَا وَإِنْ لَمْ يُقِمْ أَجْزَأَهُ . وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ .
#180
Sahih
Jabir bin Abdullah narrated:"On the Day of Al-Khandaq (the battle of the Trench), Umar bin Al-Khattab came cursing the disbelievers of Quraish and said: 'O Allah's Messenger! I could not offer he Asr prayer until the sun was about to set.' The Prophet said: 'By Allah! I too have not offered the Salat.'" So he said: "We descended into Buthan, Allah's Messenger performed Wudu and we too performed Wudu. Allah's Messenger prayed Asr after the sun had set, then after it he prayed Maghrib
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے خندق کے روز کفار قریش کو برا بھلا کہتے ہوئے کہا کہ اللہ کے رسول! میں عصر نہیں پڑھ سکا یہاں تک کہ سورج ڈوبنے کے قریب ہو گیا، تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے اسے ( اب بھی ) نہیں پڑھی ہے“، وہ کہتے ہیں: پھر ہم وادی بطحان میں اترے تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے وضو کیا اور ہم نے بھی وضو کیا، پھر رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے سورج ڈوب جانے کے بعد پہلے عصر پڑھی پھر اس کے بعد مغرب پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے ۱؎۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَجَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كِدْتُ أُصَلِّي الْعَصْرَ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَاللَّهِ إِنْ صَلَّيْتُهَا " . قَالَ فَنَزَلْنَا بُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَوَضَّأْنَا فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#181
Sahih
Abdullah bin Mas'ud narrated that :Allah's Messenger said: "Salatul-Wusta is the Asr prayer
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صلاة وسطیٰ» عصر کی صلاۃ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، وَأَبُو النَّضْرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " صَلاَةُ الْوُسْطَى صَلاَةُ الْعَصْرِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#182
Sahih Lighairihi
Smurah bin Jundub narrated that :the Prophet said: "Salatul-wusta is the Asr prayer
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صلاة وسطیٰ» عصر کی صلاۃ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- «صلاة وسطیٰ» کے سلسلہ میں سمرہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں علی، عبداللہ بن مسعود، زید بن ثابت، عائشہ، حفصہ، ابوہریرہ اور ابوہاشم بن عقبہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ علی بن عبداللہ ( ابن المدینی ) کا کہنا ہے: حسن بصری کی حدیث جسے انہوں نے سمرہ بن جندب سے روایت کیا ہے، صحیح حدیث ہے، جسے انہوں نے سمرۃ سے سنا ہے، ۴- صحابہ کرام اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، زید بن ثابت اور عائشہ رضی الله عنہا کا کہنا ہے کہ «صلاة وسطیٰ» ظہر کی صلاۃ ہے، ابن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم کہتے ہیں کہ «صلاة وسطیٰ» صبح کی صلاۃ ( یعنی فجر ) ہے ۲؎، ۵- وہ حبیب بن شہید کہتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن سیرین نے کہا کہ تم حسن بصری سے پوچھو کہ انہوں نے عقیقہ کی حدیث کس سے سنی ہے؟ تو میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے اسے سمرہ بن جندب سے سنا ہے، ۶- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ علی ابن المدینی نے کہا ہے کہ سمرہ رضی الله عنہ سے حسن کا سماع صحیح ہے اور انہوں نے اسی حدیث سے دلیل پکڑی ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " صَلاَةُ الْوُسْطَى صَلاَةُ الْعَصْرِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثُ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَقَدْ سَمِعَ مِنْهُ . وَقَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سَمُرَةَ فِي صَلاَةِ الْوُسْطَى حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ . وَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَعَائِشَةُ صَلاَةُ الْوُسْطَى صَلاَةُ الظُّهْرِ . وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ عُمَرَ صَلاَةُ الْوُسْطَى صَلاَةُ الصُّبْحِ . حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ قَالَ قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ سَلِ الْحَسَنَ مِمَّنْ سَمِعَ حَدِيثَ الْعَقِيقَةِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ سَمِعْتُهُ مِنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَدِينِيِّ عَنْ قُرَيْشِ بْنِ أَنَسٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ . قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ عَلِيٌّ وَسَمَاعُ الْحَسَنِ مِنْ سَمُرَةَ صَحِيحٌ . وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ .
#183
Sahih
Ibn Abbas narrated:"I head more than one of the Companions of the Prophet; Umar bin Al-Khattab among, and he was one of the most beloved among them to me - (narrating) that Allah's Messenger prohibited the Salat after Fajr until the sun had risen, and the Salat after Asr until the sun had set
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے صحابہ کرام رضی الله عنہم میں سے کئی لوگوں سے ( جن میں عمر بن خطاب بھی ہیں اور وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں ) سنا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فجر کے بعد جب تک کہ سورج نکل نہ آئے ۱؎ اور عصر کے بعد جب تک کہ ڈوب نہ جائے نماز ۲؎ پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث جسے انہوں نے عمر سے روایت کی ہے، حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابن مسعود، عقبہ بن عامر، ابوہریرہ، ابن عمر، سمرہ بن جندب، عبداللہ بن عمرو، معاذ بن عفراء، صنابحی ( نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے انہوں نے نہیں سنا ہے ) سلمہ بن اکوع، زید بن ثابت، عائشہ، کعب بن مرہ، ابوامامہ، عمرو بن عبسہ، یعلیٰ ابن امیہ اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر فقہاء کا یہی قول ہے کہ انہوں نے فجر کے بعد سورج نکلنے تک اور عصر کے بعد سورج ڈوبنے تک نماز پڑھنے کو مکروہ جانا ہے، رہیں فوت شدہ نمازیں تو انہیں عصر کے بعد یا فجر کے بعد قضاء کرنے میں کوئی حرج نہیں، ۴- شعبہ کہتے ہیں کہ قتادہ نے ابوالعالیہ سے صرف تین چیزیں سنی ہیں۔ ایک عمر رضی الله عنہ کی حدیث جس میں ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ سورج نہ ڈوب جائے، اور فجر کے بعد بھی جب تک کہ سورج نکل نہ آئے، اور ( دوسری ) ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث جسے انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ یہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں اور ( تیسری ) علی رضی الله عنہ کی حدیث کہ قاضی تین قسم کے ہوتے ہیں“۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ، وَهُوَ ابْنُ زَاذَانَ عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَمِعْتُ غَيْرَ، وَاحِدٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَكَانَ مِنْ أَحَبِّهِمْ إِلَىَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَعَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَمُعَاذِ بْنِ عَفْرَاءَ وَالصُّنَابِحِيِّ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَعَائِشَةَ وَكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ وَأَبِي أُمَامَةَ وَعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ وَيَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ وَمُعَاوِيَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمْ أَنَّهُمْ كَرِهُوا الصَّلاَةَ بَعْدَ صَلاَةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ صَلاَةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَأَمَّا الصَّلَوَاتُ الْفَوَائِتُ فَلاَ بَأْسَ أَنْ تُقْضَى بَعْدَ الْعَصْرِ وَبَعْدَ الصُّبْحِ . قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ شُعْبَةُ لَمْ يَسْمَعْ قَتَادَةُ مِنْ أَبِي الْعَالِيَةِ إِلاَّ ثَلاَثَةَ أَشْيَاءَ حَدِيثَ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَحَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لا يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى " . وَحَدِيثَ عَلِيٍّ " الْقُضَاةُ ثَلاَثَةٌ " .
#184
Daif Isnaad
Ibn Abbas narrated:"The Prophet only performed the two rak'ah (units of prayer) after Asr because some wealth came to him which distracted him from the two rak'ah after Zuhr, so he prayed them after Asr, then he did not repeat that
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، اس لیے کہ آپ کے پاس کچھ مال آیا تھا، جس کی وجہ سے آپ کو ظہر کے بعد کی دونوں رکعتیں پڑھنے کا موقع نہیں مل سکا تھا تو آپ نے انہیں عصر کے بعد پڑھا پھر آپ نے انہیں دوبارہ نہیں پڑھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، ام سلمہ، میمونہ اور ابوموسیٰ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- دیگر کئی لوگوں نے بھی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے عصر بعد دو رکعتیں پڑھیں یہ اس چیز کے خلاف ہے جو آپ سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے عصر کے بعد جب تک سورج ڈوب نہ جائے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے، ۴- ابن عباس والی حدیث جس میں ہے کہ آپ نے دوبارہ ایسا نہیں کیا، سب سے زیادہ صحیح ہے، ۵- زید بن ثابت سے بھی ابن عباس ہی کی حدیث کی طرح مروی ہے، ۶- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی کئی حدیثیں مروی ہیں، نیز ان سے یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب بھی ان کے یہاں عصر کے بعد آتے دو رکعتیں پڑھتے، ۷- نیز انہوں نے ام سلمہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ عصر کے بعد جب تک سورج ڈوب نہ جائے اور فجر کے بعد جب تک نکل نہ آئے نماز پڑھنے سے منع فرماتے تھے۔ ۸- اکثر اہل علم کا اتفاق بھی اسی پر ہے کہ عصر کے بعد جب تک سورج ڈوب نہ جائے اور فجر کے بعد جب تک نکل نہ آئے نماز پڑھنا مکروہ ہے سوائے ان نمازوں کے جو اس سے مستثنیٰ ہیں مثلاً مکہ میں عصر کے بعد طواف کی دونوں رکعتیں پڑھنا یہاں تک سورج ڈوب جائے اور فجر کے بعد یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اس سلسلے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے رخصت مروی ہے، صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے یہی کہا ہے۔ اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں، صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے بعض اہل علم نے عصر اور فجر کے بعد مکہ میں بھی نماز پڑھنے کو مکروہ جانا ہے، سفیان ثوری، مالک بن انس اور بعض اہل کوفہ اسی کے قائل ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ إِنَّمَا صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ لأَنَّهُ أَتَاهُ مَالٌ فَشَغَلَهُ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَصَلاَّهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ ثُمَّ لَمْ يَعُدْ لَهُمَا . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَمَيْمُونَةَ وَأَبِي مُوسَى . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ . وَهَذَا خِلاَفُ مَا رُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ " . وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ أَصَحُّ حَيْثُ قَالَ لَمْ يَعُدْ لَهُمَا . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ نَحْوُ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ فِي هَذَا الْبَابِ رِوَايَاتٌ رُوِيَ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَا دَخَلَ عَلَيْهَا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلاَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَرُوِيَ عَنْهَا عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ . وَالَّذِي اجْتَمَعَ عَلَيْهِ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى كَرَاهِيَةِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ إِلاَّ مَا اسْتُثْنِيَ مِنْ ذَلِكَ مِثْلُ الصَّلاَةِ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ بَعْدَ الطَّوَافِ فَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رُخْصَةٌ فِي ذَلِكَ . وَقَدْ قَالَ بِهِ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمْ . وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمُ الصَّلاَةَ بِمَكَّةَ أَيْضًا بَعْدَ الْعَصْرِ وَبَعْدَ الصُّبْحِ . وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَبَعْضُ أَهْلِ الْكُوفَةِ .
#185
Sahih
Abdullah bin Mughaffal narrated that :the Prophet said: "Between every two calls (to prayer) there is a Salat for whoever wills
عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نفلی نماز پڑھنا چاہے اس کے لیے ہر دو اذان ۱؎ کے درمیان نماز ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- صحابہ کرام کے درمیان مغرب سے پہلے کی نماز کے سلسلہ میں اختلاف پایا جاتا ہے، ان میں سے بعض کے نزدیک مغرب سے پہلے نماز نہیں، اور صحابہ میں سے کئی لوگوں سے مروی ہے کہ وہ لوگ مغرب سے پہلے اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے، ۴- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی انہیں پڑھے تو بہتر ہے، اور یہ ان دونوں کے نزدیک مستحب ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ لِمَنْ شَاءَ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدِ اخْتَلَفَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الصَّلاَةِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ فَلَمْ يَرَ بَعْضُهُمُ الصَّلاَةَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ قَبْلَ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ . وَقَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ إِنْ صَلاَّهُمَا فَحَسَنٌ . وَهَذَا عِنْدَهُمَا عَلَى الاِسْتِحْبَابِ .
#186
Sahih
Abu Hurairah narrated that :the Prophet said: "Whoever catches a Rak'ah of Subh before the sun has risen, then he has caught Subh. Whoever catches a Rak'ah of Asr before the sun has set, then he has caught Asr
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے فجر پالی، اور جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی تو اس نے عصر پالی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ہمارے اصحاب، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، یہ حدیث ان کے نزدیک صاحب عذر کے لیے ہے مثلاً ایسے شخص کے لیے جو نماز سے سو گیا اور سورج نکلنے یا ڈوبنے کے وقت بیدار ہوا ہو یا اسے بھول گیا ہو اور وہ سورج نکلنے یا ڈوبنے کے وقت اسے نماز یاد آئی ہو۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، وَعَنِ الأَعْرَجِ، يُحَدِّثُونَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصُّبْحِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ وَمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَبِهِ يَقُولُ أَصْحَابُنَا وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَهُمْ لِصَاحِبِ الْعُذْرِ مِثْلُ الرَّجُلِ يَنَامُ عَنِ الصَّلاَةِ أَوْ يَنْسَاهَا فَيَسْتَيْقِظُ وَيَذْكُرُ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَعِنْدَ غُرُوبِهَا .
#187
Sahih
Ibn Abbas said:"Allah's Messenger combined the Zuhr and Asr (prayers), and the Maghrib and Isha (prayers) in Al-Madinah, without being in a state of fear, nor due to rain
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر خوف اور بارش ۱؎ کے مدینے میں ظہر اور عصر کو ایک ساتھ اور مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کیا ۲؎۔ ابن عباس رضی الله عنہما سے پوچھا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے کیا منشأ تھی؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منشأ یہ تھی کہ آپ اپنی امت کو کسی پریشانی میں نہ ڈالیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۲- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے، ابن عباس رضی الله عنہما سے اس کے خلاف بھی مرفوعاً مروی ہے ۳؎۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ وَلاَ مَطَرٍ . قَالَ فَقِيلَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا أَرَادَ بِذَلِكَ قَالَ أَرَادَ أَنْ لاَ يُحْرِجَ أُمَّتَهُ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ قَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ رَوَاهُ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيُّ . وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ هَذَا .
#188
Very Daif
Ibn Abbas narrated that :the Prophet said: "Whoever combines two prayers without any excuse then he has committed something from the major sins
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بغیر عذر کے دو نمازیں ایک ساتھ پڑھیں وہ کبیرہ گناہوں کے دروازوں سے میں ایک دروازے میں داخل ہوا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حنش ہی ابوعلی رحبی ہیں اور وہی حسین بن قیس بھی ہے۔ یہ محدّثین کے نزدیک ضعیف ہے، احمد وغیرہ نے اس کی تضعیف کی ہے، ۲- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ سفر یا عرفہ کے سوا دو نمازیں ایک ساتھ نہ پڑھی جائیں، ۳- تابعین میں سے بعض اہل علم نے مریض کو دو نمازیں ایک ساتھ جمع کرنے کی رخصت دی ہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ بارش کے سبب بھی دو نمازیں جمع کی جا سکتی ہیں۔ شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔ البتہ شافعی مریض کے لیے دو نمازیں ایک ساتھ جمع کرنے کو درست قرار نہیں دیتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَقَدْ أَتَى بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْكَبَائِرِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَنَشٌ هَذَا هُوَ أَبُو عَلِيٍّ الرَّحَبِيُّ وَهُوَ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ لاَ يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ إِلاَّ فِي السَّفَرِ أَوْ بِعَرَفَةَ . وَرَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ لِلْمَرِيضِ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ يَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ فِي الْمَطَرِ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . وَلَمْ يَرَ الشَّافِعِيُّ لِلْمَرِيضِ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ .
#189
Hasan
Albdullah bin Zaid narrated:"When we awoke, we went to Allah's Messenger to inform him of the dream. He said: 'Indeed this dream is true. So go to Bilal, for he has a better and louder voice than you. Convey to him what was said to you, so that he may call (to the prayer) with that.'" He said: "When Umar bin Al-Khattab heard Bilal calling for the prayer he went to Allah's Messenger, and he was dragging his Izar, (as he was hurrying) saying: 'O Allah's Messenger! By the One Who sent you with the truth! I dreamt the same as what he said.''' He said: "So Allah's Messenger said: 'To Allah is the praise, so that confirms it even more
عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نے ( مدینہ منورہ میں ایک رات ) صبح کی تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور میں نے آپ کو اپنا خواب بتایا ۱؎ تو آپ نے فرمایا: ”یہ ایک سچا خواب ہے، تم اٹھو بلال کے ساتھ جاؤ وہ تم سے اونچی اور لمبی آواز والے ہیں۔ اور جو تمہیں بتایا گیا ہے، وہ ان پر پیش کرو، وہ اسے زور سے پکار کر کہیں“، جب عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے بلال رضی الله عنہ کی اذان سنی تو اپنا تہ بند کھینچتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے، میں نے ( بھی ) اسی طرح دیکھا ہے جو انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا شکر ہے، یہ بات اور پکی ہو گئی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- اور ابراہیم بن سعد نے یہ حدیث محمد بن اسحاق سے اس سے بھی زیادہ کامل اور زیادہ لمبی روایت کی ہے۔ اور اس میں انہوں نے اذان کے کلمات کو دو دو بار اور اقامت کے کلمات کو ایک ایک بار کہنے کا واقعہ ذکر کیا ہے، ۴- عبداللہ بن زید ہی ابن عبدربہ ہیں اور انہیں ابن عبدرب بھی کہا جاتا ہے، سوائے اذان کے سلسلے کی اس ایک حدیث کے ہمیں نہیں معلوم کہ ان کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی اور بھی حدیث صحیح ہے، البتہ عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی کی کئی حدیثیں ہیں جنہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، اور یہ عباد بن تمیم کے چچا ہیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا أَصْبَحْنَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ بِالرُّؤْيَا فَقَالَ " إِنَّ هَذِهِ لَرُؤْيَا حَقٍّ فَقُمْ مَعَ بِلاَلٍ فَإِنَّهُ أَنْدَى وَأَمَدُّ صَوْتًا مِنْكَ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا قِيلَ لَكَ وَلْيُنَادِ بِذَلِكَ " . قَالَ فَلَمَّا سَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نِدَاءَ بِلاَلٍ بِالصَّلاَةِ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَجُرُّ إِزَارَهُ وَهُوَ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ الَّذِي قَالَ . قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَلِلَّهِ الْحَمْدُ فَذَلِكَ أَثْبَتُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ أَتَمَّ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ وَأَطْوَلَ وَذَكَرَ فِيهِ قِصَّةَ الأَذَانِ مَثْنَى مَثْنَى وَالإِقَامَةِ مَرَّةً مَرَّةً . وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ هُوَ ابْنُ عَبْدِ رَبِّهِ وَيُقَالُ ابْنُ عَبْدِ رَبٍّ وَلاَ نَعْرِفُ لَهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا يَصِحُّ إِلاَّ هَذَا الْحَدِيثَ الْوَاحِدَ فِي الأَذَانِ . وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيُّ لَهُ أَحَادِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَمُّ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ .
#190
Sahih
Ibn Umar narrated:"When the Muslims arrived in AI-Madinah, they used to assemble for the Salat, and guess the time for it there was no one who called for it (the prayer). One day they discussed that and some of them said that they should use a bell like the bell the Christians use. Others said they should use a trumpet like the horn the Jews use. But Umar [bin Al-Khattab] said: 'Wouldn't it better if we had a man call for the prayer?'" He said: "So Allah's Messenger said: 'O Bilal! Stand up and call for the Salat
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جس وقت مسلمان مدینہ آئے تو وہ اکٹھے ہو کر اوقات نماز کا اندازہ لگاتے تھے، کوئی نماز کے لیے پکار نہ لگاتا تھا، ایک دن ان لوگوں نے اس سلسلے میں گفتگو کی ۱؎ چنانچہ ان میں سے بعض لوگوں نے کہا: نصاریٰ کے ناقوس کی طرح کوئی ناقوس بنا لو، بعض نے کہا کہ تم یہودیوں کے قرن کی طرح کوئی قرن ( یعنی کسی جانور کا سینگ ) بنا لو۔ ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: اس پر عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: کیا تم کوئی آدمی نہیں بھیج سکتے جو نماز کے لیے پکارے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال اٹھو جاؤ نماز کے لیے پکارو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابن عمر رضی الله عنہما کی ( اس ) روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔ ( جسے بخاری و مسلم اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے ) ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَوَاتِ وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ فَقَالَ بَعْضُهُمُ اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى . وَقَالَ بَعْضُهُمُ اتَّخِذُوا قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ . قَالَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَوَلاَ تَبْعَثُونَ رَجُلاً يُنَادِي بِالصَّلاَةِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا بِلاَلُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلاَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ .
#191
Sahih
Abu Mahdhurah narrated that :Allah's Messenger sat with him and taught him the Adhan word for word. Ibrahim said, "It is the same as our Adhan." Bishr said: "So I said to him, 'Repeat it to me.' So he described the Adhan with At-Tarjl
ابو محذورہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بٹھا کر اذان کا ایک ایک لفظ سکھایا۔ ابراہیم بن عبدالعزیز بن عبدالملک بن ابی محذورہ کہتے ہیں: اس طرح جیسے ہماری اذان ہے۔ بشر کہتے ہیں تو میں نے ان سے یعنی ابراہیم سے کہا: اسے مجھ پر دہرائیے تو انہوں نے ترجیع ۱؎ کے ساتھ اذان کا ذکر کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اذان کے سلسلے میں ابو محذورہ والی حدیث صحیح ہے، کئی سندوں سے مروی ہے، ۲- اور اسی پر مکہ میں عمل ہے اور یہی شافعی کا قول ہے ۲؎۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي وَجَدِّي، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقْعَدَهُ وَأَلْقَى عَلَيْهِ الأَذَانَ حَرْفًا حَرْفًا . قَالَ إِبْرَاهِيمُ مِثْلَ أَذَانِنَا . قَالَ بِشْرٌ فَقُلْتُ لَهُ أَعِدْ عَلَىَّ . فَوَصَفَ الأَذَانَ بِالتَّرْجِيعِ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي مَحْذُورَةَ فِي الأَذَانِ حَدِيثٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ . وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ بِمَكَّةَ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ .
#192
Hasan Sahih
Abu Mahdhurah narrated that :the Prophet taught him the Adhan with nineteen phrases, and the Iqamah with seventeen phrases
ابو محذورہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اذان کے انیس کلمات ۱؎ اور اقامت کے سترہ کلمات سکھائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم اذان کے سلسلے میں اسی طرف گئے ہیں، ۳- ابو محذورہ سے یہ بھی روایت ہے کہ وہ اقامت اکہری کہتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ الأَحْوَلِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَلَّمَهُ الأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً وَالإِقَامَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَأَبُو مَحْذُورَةَ اسْمُهُ سَمُرَةُ بْنُ مِعْيَرٍ . وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا فِي الأَذَانِ . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ أَنَّهُ كَانَ يُفْرِدُ الإِقَامَةَ .
#193
Sahih
Anas bin Malik narrated:"Bilal was ordered to make the phrases of the Adhan even, and the phrases of the Iqamah odd
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی الله عنہ کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اذان دہری اور اقامت اکہری کہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- صحابہ کرام اور تابعین میں سے بعض اہل علم کا یہی قول ہے، اور مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ يَشْفَعَ، الأَذَانَ وَيُوتِرَ الإِقَامَةَ " . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَبِهِ يَقُولُ مَالِكٌ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ .
#194
Daif Isnaad
Abdullah bin Zaid said:"Allah's Messenger would say each phrase of the call (for prayer) two times, for the Adhan and the Iqamah
عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اذان اور اقامت دونوں دہری ہوتی تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن زید کی حدیث کو وکیع نے بطریق «الأعمش عن عمرو بن مرة عن عبدالرحمٰن بن أبي ليلى» روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن زید نے خواب میں اذان ( کا واقعہ ) دیکھا، اور شعبہ نے بطریق «عمرو بن مرة عن عبدالرحمٰن بن أبي ليلى» یہ روایت کی ہے کہ محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے ہم سے بیان کیا ہے کہ عبداللہ بن زید نے خواب میں اذان ( کا واقعہ ) دیکھا، ۲- یہ ابن ابی لیلیٰ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۱؎، عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے عبداللہ بن زید سے نہیں سنا ہے، ۳- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اذان اور اقامت دونوں دہری ہیں یہی سفیان ثوری، ابن مبارک اور اہل کوفہ کا قول ہے، ۴- ابن ابی لیلیٰ سے مراد محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ ہیں۔ وہ کوفہ کے قاضی تھے، انہوں نے اپنے والد سے نہیں سنا ہے البتہ وہ ایک شخص سے روایت کرتے ہیں اور وہ ان کے والد سے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ كَانَ أَذَانُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَفْعًا شَفْعًا فِي الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَوَاهُ وَكِيعٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ رَأَى الأَذَانَ فِي الْمَنَامِ . وَقَالَ شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ رَأَى الأَذَانَ فِي الْمَنَامِ . وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى . وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الأَذَانُ مَثْنَى مَثْنَى وَالإِقَامَةُ مَثْنَى مَثْنَى . وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَأَهْلُ الْكُوفَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى ابْنُ أَبِي لَيْلَى هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى كَانَ قَاضِيَ الْكُوفَةِ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ شَيْئًا إِلاَّ أَنَّهُ يَرْوِي عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِيهِ .
#195
Very Daif
Jabir [bin Abdullah] narrated:"Allah's Messenger said to Bilal: "O Bilal! When you call the Adhan then do so deliberately and slowly, and when you call the Iqamah then be quick. Allow enough time between your Adhan and Iqamah for the person eating to finish what he is eating, the person drinking to finish what he is drinking, and the one who needs time to relive himself, and do not stand until you see me
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی الله عنہ سے فرمایا: ”بلال! جب تم اذان دو تو ٹھہر ٹھہر کر دو اور جب اقامت کہو تو جلدی جلدی کہو، اور اپنی اذان و اقامت کے درمیان اس قدر وقفہ رکھو کہ کھانے پینے والا اپنے کھانے پینے سے اور پاخانہ پیشاب کی حاجت محسوس کرنے والا اپنی حاجت سے فارغ ہو جائے اور اس وقت تک ( اقامت کہنے کے لیے ) کھڑے نہ ہو جب تک کہ مجھے نہ دیکھ لو۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُنْعِمِ، هُوَ صَاحِبُ السِّقَاءِ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِبِلاَلٍ " يَا بِلاَلُ إِذَا أَذَّنْتَ فَتَرَسَّلْ فِي أَذَانِكَ وَإِذَا أَقَمْتَ فَاحْدُرْ وَاجْعَلْ بَيْنَ أَذَانِكَ وَإِقَامَتِكَ قَدْرَ مَا يَفْرُغُ الآكِلُ مِنْ أَكْلِهِ وَالشَّارِبُ مِنْ شُرْبِهِ وَالْمُعْتَصِرُ إِذَا دَخَلَ لِقَضَاءِ حَاجَتِهِ وَلاَ تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي " .
#196
Daif
Jabir [bin Abdullah] narrated:(Another chain for) a similar narration (as no)
اس سند سے بھی عبدالمنعم سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: جابر رضی الله عنہ کی حدیث کو ہم صرف اسی سند سے یعنی عبدالمنعم ہی کی روایت سے جانتے ہیں، اور یہ مجہول سند ہے، عبدالمنعم بصرہ کے شیخ ہیں ( یعنی ضعیف راوی ہیں ) ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمُنْعِمِ، نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ هَذَا حَدِيثٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمُنْعِمِ وَهُوَ إِسْنَادٌ مَجْهُولٌ وَعَبْدُ الْمُنْعِمِ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ .
#197
Sahih
Abu Juhaifah narrated:"I saw Bilal calling the Adhan, and turning, and his (face) was following here and there, and his (index) fingers were in his ears, and Allah's Messenger was in a small red tent" - "I think," he (one of the narrators) said, "it was made from a hide" - so Bilal went out in front of him with an Anazah which he planted (in the ground) at Batha. Allah's Messenger prayed facing it, and a dog and a donkey passed in front of him; he was wearing a red Hullah, and it is as if I am now looking at the radiance of his shins." Sufyan said: "We think that it was a Hibrah
ابوجحیفہ (وہب بن عبداللہ) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے بلال کو اذان دیتے دیکھا، وہ گھوم رہے تھے ۱؎ اپنا چہرہ ادھر اور ادھر پھیر رہے تھے اور ان کی انگلیاں ان کے دونوں کانوں میں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سرخ خیمے میں تھے، وہ چمڑے کا تھا، بلال آپ کے سامنے سے نیزہ لے کر نکلے اور اسے بطحاء ( میدان ) میں گاڑ دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھائی۔ اس نیزے کے آگے سے ۲؎ کتے اور گدھے گزر رہے تھے۔ آپ ایک سرخ چادر پہنے ہوئے تھے، میں گویا آپ کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔ سفیان کہتے ہیں: ہمارا خیال ہے وہ چادر یمنی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوجحیفہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ اس چیز کو مستحب سمجھتے ہیں کہ مؤذن اذان میں اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں داخل کرے، ۳- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ وہ اقامت میں بھی اپنی دونوں انگلیاں دونوں کانوں میں داخل کرے گا، یہی اوزاعی کا قول ہے ۳؎۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ وَيَدُورُ وَيُتْبِعُ فَاهُ هَا هُنَا وَهَا هُنَا وَإِصْبَعَاهُ فِي أُذُنَيْهِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَاءَ أُرَاهُ قَالَ مِنْ أَدَمٍ فَخَرَجَ بِلاَلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ بِالْعَنَزَةِ فَرَكَزَهَا بِالْبَطْحَاءِ فَصَلَّى إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَرِيقِ سَاقَيْهِ . قَالَ سُفْيَانُ نُرَاهُ حِبَرَةً . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي جُحَيْفَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يُدْخِلَ الْمُؤَذِّنُ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ فِي الأَذَانِ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ وَفِي الإِقَامَةِ أَيْضًا يُدْخِلُ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ . وَهُوَ قَوْلُ الأَوْزَاعِيِّ . وَأَبُو جُحَيْفَةَ اسْمُهُ وَهْبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السُّوَائِيُّ .
#198
Daif
Bilal narrated:"Allah's Messenger said [to me]: 'Do not say the Tathwib for any prayer except the Fajr prayer.'" [He said:] There is something on this topic from Abu Mahdhurah. Abu `Eisa said: We do not know of the Hadith of Bilal except as a narration of Abu Isra'il Al-Mula'i. Abu Isra'il did not hear this Hadith from Al-Hakam bin `Utaibah. He said: He only reported it from Al-Hasan bin `Umarah, from Al-Hakam bin `Utaibah. Abu Isra'il's name is [Isma`il bin Abi Ishaq, and he is not strong according to the people of Hadith. The people of knowledge have differed over the interpretation of At-Tathwib. Some of them say that At-Tathwib is when one says "As-Salatu Khairummin An-Nawm, (prayer is better than sleep)" for the Adhan of Fajr. This is the saying of Ibn Al-Mubarak and Ahmad. Ishaq said something different about At-Tathwib, he said: "[The disliked Tathwib] is something that the people started after the Prophet; when the Mu'adh-dhin calls the Adhan and the people are slow in coming, so between the Adhan and the Iqamah he says: 'Qad Qamatis-Salat, Hayya `Alasalat, Hayya `AlalFalah. (Prayer is ready, come to prayer, come to success.)" [He said:] This Tathwib, which Ishaq mentioned, is the one that the people of knowledge dislike, which they innovated after the Prophet. But Ibn Al-Mubarak and Ahmad explained that At-Tathwib is when the Mu'adh-dhin says: "As-Salatu Khairum minan-Nawm, (prayer is better than sleep)" for the Adhan of Fajr. And this is the correct saying, and it is called At-Tathawwub as well, and this is the one chosen by the people of knowledge, and it is their opinion. It has been reported from `Abdullah bin `Umar that he would say: "As-Salatu Khairum-minan-Nawm, (prayer is better than sleep)" for Fajr. It has been reported from Mujahid that he said: "I entered a Masjid with `Abdullah bin `Umar in which the Adhan was called, and we wanted to pray in it. Then the Mu'adh-dhin said the Tathwib. So `Abdullah bin `Umar left the Masjid and said: 'Let us leave the place of this innovator' And he did not pray in it." [He said:] `Abdullah only disliked the Tathwib that the people invented later on
بلال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فجر کے سوا کسی بھی نماز میں تثویب ۱؎ نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابو محذورہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۲- بلال رضی الله عنہ کی حدیث کو ہم صرف ابواسرائیل ملائی کی سند سے جانتے ہیں۔ اور ابواسرائیل نے یہ حدیث حکم بن عتیبہ سے نہیں سنی۔ بلکہ انہوں نے اسے حسن بن عمارہ سے اور حسن نے حکم بن عتیبہ سے روایت کیا ہے، ۳- ابواسرائیل کا نام اسماعیل بن ابی اسحاق ہے، اور وہ اہل الحدیث کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں، ۴- اہل علم کا تثویب کی تفسیر کے سلسلے میں اختلاف ہے ؛ بعض کہتے ہیں: تثویب فجر کی اذان میں «الصلاة خير من النوم» ”نماز نیند سے بہتر ہے“ کہنے کا نام ہے ابن مبارک اور احمد کا یہی قول ہے، اسحاق کہتے ہیں: تثویب اس کے علاوہ ہے، تثویب مکروہ ہے، یہ ایسی چیز ہے جسے لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایجاد کی ہے، جب مؤذن اذان دیتا اور لوگ تاخیر کرتے تو وہ اذان اور اقامت کے درمیان: «قد قامت الصلاة، حي على الصلاة، حي على الفلاح» کہتا، ۵- اور جو اسحاق بن راہویہ نے کہا ہے دراصل یہی وہ تثویب ہے جسے اہل علم نے ناپسند کیا ہے اور اسی کو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایجاد کیا ہے، ابن مبارک اور احمد کی جو تفسیر ہے کہ تثویب یہ ہے کہ مؤذن فجر کی اذان میں: «الصلاة خير من النوم» کہے تو یہ کہنا صحیح ہے، اسے بھی تثویب کہا جاتا ہے اور یہ وہ تثویب ہے جسے اہل علم نے پسند کیا اور درست جانا ہے، عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ وہ فجر میں «الصلاة خير من النوم» کہتے تھے، اور مجاہد سے مروی ہے کہ میں عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے ساتھ ایک مسجد میں داخل ہوا جس میں اذان دی جا چکی تھی۔ ہم اس میں نماز پڑھنا چاہ رہے تھے۔ اتنے میں مؤذن نے تثویب کی، تو عبداللہ بن عمر مسجد سے باہر نکلے اور کہا: اس بدعتی کے پاس سے ہمارے ساتھ نکل چلو، اور اس مسجد میں انہوں نے نماز نہیں پڑھی، عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما نے اس تثویب کو جسے لوگوں نے بعد میں ایجاد کر لیا تھا ناپسند کیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ بِلاَلٍ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُثَوِّبَنَّ فِي شَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ إِلاَّ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ بِلاَلٍ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْرَائِيلَ الْمُلاَئِيِّ . وَأَبُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنَ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ قَالَ إِنَّمَا رَوَاهُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ . وَأَبُو إِسْرَائِيلَ اسْمُهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَلَيْسَ هُوَ بِذَاكَ الْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ . وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي تَفْسِيرِ التَّثْوِيبِ فَقَالَ بَعْضُهُمُ التَّثْوِيبُ أَنْ يَقُولَ فِي أَذَانِ الْفَجْرِ الصَّلاَةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدَ . وَقَالَ إِسْحَاقُ فِي التَّثْوِيبِ غَيْرَ هَذَا قَالَ التَّثْوِيبُ الْمَكْرُوهُ هُوَ شَيْءٌ أَحْدَثَهُ النَّاسُ بَعْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَاسْتَبْطَأَ الْقَوْمَ قَالَ بَيْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ . قَالَ وَهَذَا الَّذِي قَالَ إِسْحَاقُ هُوَ التَّثْوِيبُ الَّذِي قَدْ كَرِهَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ وَالَّذِي أَحْدَثُوهُ بَعْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَالَّذِي فَسَّرَ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدُ أَنَّ التَّثْوِيبَ أَنْ يَقُولَ الْمُؤَذِّنُ فِي أَذَانِ الْفَجْرِ الصَّلاَةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ وَهُوَ قَوْلٌ صَحِيحٌ وَيُقَالُ لَهُ التَّثْوِيبُ أَيْضًا وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ وَرَأَوْهُ . وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ الصَّلاَةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ . وَرُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ مَسْجِدًا وَقَدْ أُذِّنَ فِيهِ وَنَحْنُ نُرِيدُ أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِ فَثَوَّبَ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مِنَ الْمَسْجِدِ وَقَالَ اخْرُجْ بِنَا مِنْ عِنْدِ هَذَا الْمُبْتَدِعِ . وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ . قَالَ وَإِنَّمَا كَرِهَ عَبْدُ اللَّهِ التَّثْوِيبَ الَّذِي أَحْدَثَهُ النَّاسُ بَعْدُ .
#199
Daif
Ziyad bin Al-Harith As-Suda'i narrated:"Allah's Messenger ordered me to call the Adhan for the Fajr prayer. I called the Adhan, then Bilal wanted to call the lqamah. Allah's Messenger said: 'Indeed the brother from Suda' has called the Adhan, and whoever calls the Adhan he calls the Iqamah
زیاد بن حارث صدائی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فجر کی اذان دینے کا حکم دیا تو میں نے اذان دی، پھر بلال رضی الله عنہ نے اقامت کہنی چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبیلہ صداء کے ایک شخص نے اذان دی ہے اور جس نے اذان دی ہے وہی اقامت کہے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۲- زیاد رضی الله عنہ کی روایت کو ہم صرف افریقی کی سند سے جانتے ہیں اور افریقی محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔ یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے۔ احمد کہتے ہیں: میں افریقی کی حدیث نہیں لکھتا، لیکن میں نے محمد بن اسماعیل کو دیکھا وہ ان کے معاملے کو قوی قرار دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ مقارب الحدیث ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جو اذان دے وہی اقامت کہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ الإِفْرِيقِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ، قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أُؤَذِّنَ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ فَأَذَّنْتُ فَأَرَادَ بِلاَلٌ أَنْ يُقِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ قَدْ أَذَّنَ وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ زِيَادٍ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الإِفْرِيقِيِّ وَالإِفْرِيقِيُّ هُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ قَالَ أَحْمَدُ لاَ أَكْتُبُ حَدِيثَ الإِفْرِيقِيِّ . قَالَ وَرَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يُقَوِّي أَمْرَهُ وَيَقُولُ هُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ مَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ .
#200
Daif
Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "None should call the Adhan except for one with Wudu
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذان وہی دے جو باوضو ہو“ ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى الصَّدَفِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يُؤَذِّنُ إِلاَّ مُتَوَضِّئٌ " .