#151
Sahih
Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "Indeed for (the time of) Salat (there is a) beginning and an end. The beginning of the time for the Zuhr prayer is when the sun passes the zenith, and the end of its time is when the time for Asr enters. The beginning of the time for the Asr [prayer] is when its time enters, and the end of its time is when the sun yellows (turns pale). The beginning of the time of Maghrib is when the sun as set, and the end of its time is when the twilight has vanished (i.e., the horizon is invisible because of darkness). The beginning of the time for Isha, the later one, is when the horizon has vanished, and the end of its time is when the night is at its half. The beginning of the time for Fajr is when Fajr begins, and its end is when the sun rises
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کا ایک اول وقت ہے اور ایک آخری وقت، ظہر کا اول وقت وہ ہے جب سورج ڈھل جائے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب عصر کا وقت شروع ہو جائے، اور عصر کا اول وقت وہ ہے جب عصر کا وقت ( ایک مثل سے ) شروع ہو جائے اور آخری وقت وہ ہے جب سورج پیلا ہو جائے، اور مغرب کا اول وقت وہ ہے جب سورج ڈوب جائے اور آخری وقت وہ ہے جب شفق ۱؎ غائب ہو جائے، اور عشاء کا اول وقت وہ ہے جب شفق غائب ہو جائے اور اس کا آخر وقت وہ ہے جب آدھی رات ہو جائے ۲؎، اور فجر کا اول وقت وہ ہے جب فجر ( صادق ) طلوع ہو جائے اور آخری وقت وہ ہے جب سورج نکل جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت آئی ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ اوقات کے سلسلہ میں اعمش کی مجاہد سے روایت محمد بن فضیل کی اعمش سے روایت سے زیادہ صحیح ہے، محمد بن فضیل کی حدیث غلط ہے اس میں محمد بن فضیل سے چوک ہوئی ہے ۳؎، اس روایت کو ابواسحاق فزاری نے اعمش سے اور اعمش نے مجاہد سے روایت کیا ہے، مجاہد کہتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ نماز کا ایک اول وقت ہے اور ایک آخر وقت ہے، پھر محمد بن فضیل والی سابقہ حدیث کی طرح اسی کے ہم معنی کی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ لِلصَّلاَةِ أَوَّلاً وَآخِرًا وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ صَلاَةِ الظُّهْرِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَآخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُ الْعَصْرِ وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ صَلاَةِ الْعَصْرِ حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُهَا وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَصْفَرُّ الشَّمْسُ وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَغِيبُ الأُفُقُ وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ حِينَ يَغِيبُ الأُفُقُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَنْتَصِفُ اللَّيْلُ وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْفَجْرِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو . قَالَ أَبُو عِيسَى وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ حَدِيثُ الأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ فِي الْمَوَاقِيتِ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ عَنِ الأَعْمَشِ وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ خَطَأٌ أَخْطَأَ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ . حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ كَانَ يُقَالُ إِنَّ لِلصَّلاَةِ أَوَّلاً وَآخِرًا فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ عَنِ الأَعْمَشِ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ .
#152
Sahih
Sulaiman bin Buraidah narrated that his father said:"A man came to the Prophet to ask him about the times for Salat. So he said: 'Stay with us, In sha Allah.' So he ordered Bilal to call the Iqamah when Fajr began, then he ordered him to call the Iqamah when the Sun passed the zenith, then he prayed Zuhr. Then he ordered him to call the Iqamah to pray Asr while the sun was elevated and white. Then he ordered him (to call the Iqamah for) Maghrib when the (top) edge of the sun had set. Then he ordered him to call the Iqamah for Isha when the horizon (twilight) had vanished. Then he ordered him in the morning (to give the call for Fajr prayer), when the light of Fajr glowed. Then he ordered (him to call the Iqamah for) Zuhr, so he waited well until it had cooled. Then he ordered (him to call the Iqamah for) Asr, so he calIed the Iqamah while the sun was later in its position than what it was (the day before). Then he ordered him to delay Maghrib until right before the twilight had disappeared. Then he ordered (him to call the Iqamah for) Isha, so he called the Iqamah when a third of the night had passed. Then he said: 'Where is the one who asked about he times for the Salat?' So the man said, 'It is I.' So he said: 'The times [or the Salat are what are between these two]
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، اس نے آپ سے اوقات نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: تم ہمارے ساتھ قیام کرو ( تمہیں نماز کے اوقات معلوم ہو جائیں گے ) ان شاءاللہ، پھر آپ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی جب فجر ( صادق ) طلوع ہو گئی پھر آپ نے حکم دیا تو انہوں نے سورج ڈھلنے کے بعد اقامت کہی تو آپ نے ظہر پڑھی، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی آپ نے عصر پڑھی اس وقت سورج روشن اور بلند تھا، پھر جب سورج ڈوب گیا تو آپ نے انہیں مغرب کا حکم دیا، پھر جب شفق غائب ہو گئی تو آپ نے انہیں عشاء کا حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی، پھر دوسرے دن انہیں حکم دیا تو انہوں نے فجر کو خوب اجالا کر کے پڑھا، پھر آپ نے انہیں ظہر کا حکم دیا تو انہوں نے ٹھنڈا کیا، اور خوب ٹھنڈا کیا، پھر آپ نے انہیں عصر کا حکم دیا اور انہوں نے اقامت کہی تو اس وقت سورج اس کے آخر وقت میں اس سے زیادہ تھا جتنا پہلے دن تھا ( یعنی دوسرے دن عصر میں تاخیر ہوئی ) ، پھر آپ نے انہیں مغرب میں دیر کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے مغرب کو شفق کے ڈوبنے سے کچھ پہلے تک مؤخر کیا، پھر آپ نے انہیں عشاء کا حکم دیا تو انہوں نے جب تہائی رات ختم ہو گئی تو اقامت کہی، پھر آپ نے فرمایا: ”نماز کے اوقات کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے؟“ تو اس آدمی نے عرض کیا: میں ہوں، آپ نے فرمایا: ”نماز کے اوقات انہیں دونوں کے بیچ میں ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن، غریب صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْمَعْنَى، وَاحِدٌ، قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ فَقَالَ " أَقِمْ مَعَنَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُرْتَفِعَةٌ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَقَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعِشَاءِ فَأَقَامَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَمَرَهُ مِنَ الْغَدِ فَنَوَّرَ بِالْفَجْرِ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالظُّهْرِ فَأَبْرَدَ وَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَصْرِ فَأَقَامَ وَالشَّمْسُ آخِرَ وَقْتِهَا فَوْقَ مَا كَانَتْ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ إِلَى قُبَيْلِ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعِشَاءِ فَأَقَامَ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ قَالَ " أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ " . فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا . فَقَالَ " مَوَاقِيتُ الصَّلاَةِ كَمَا بَيْنَ هَذَيْنِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ . قَالَ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ أَيْضًا .
#153
Sahih
Aishah narrated:"Allah's Messenger would pray Subh (at such time that) the women would leave (after the prayer)" - AI-AnsarI (one of the narrators) said - the women would pass by wrapped in their Mirts and they would not be recognizable due to the darkness." And Qutaibah said: "covered." (instead of "wrapped)
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جب فجر پڑھا لیتے تو پھر عورتیں چادروں میں لپٹی ہوئی لوٹتیں وہ اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، انس، اور قیلہ بنت مخرمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اسی کو صحابہ کرام جن میں ابوبکر و عمر رضی الله عنہما بھی شامل ہیں اور ان کے بعد کے تابعین میں سے بہت سے اہل علم نے پسند کیا ہے، اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ فجر «غلس» ( اندھیرے ) میں پڑھنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ وَحَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ قَالَ الأَنْصَارِيُّ فَيَمُرُّ النِّسَاءُ مُتَلَفِّفَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ . وَقَالَ قُتَيْبَةُ مُتَلَفِّعَاتٍ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَنَسٍ وَقَيْلَةَ بِنْتِ مَخْرَمَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ . وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ يَسْتَحِبُّونَ التَّغْلِيسَ بِصَلاَةِ الْفَجْرِ .
#154
Sahih
Rafi bin Khadlj said:"I heard Allah's Messenger saying: 'Perform Fajr at AI-Isfar, for indeed its reward is greater
رافع بن خدیج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”فجر خوب اجالا کر کے پڑھو، کیونکہ اس میں زیادہ ثواب ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- رافع بن خدیج کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبرزہ اسلمی، جابر اور بلال رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم کی رائے نماز فجر اجالا ہونے پر پڑھنے کی ہے۔ یہی سفیان ثوری بھی کہتے ہیں۔ اور شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ «اسفار» ”اجالا ہونے“ کا مطلب یہ ہے کہ فجر واضح ہو جائے اور اس کے طلوع میں کوئی شک نہ رہے، «اسفار» کا یہ مطلب نہیں کہ نماز تاخیر ( دیر ) سے ادا کی جائے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، - هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلأَجْرِ " . قَالَ وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ . قَالَ وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ أَيْضًا عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ وَجَابِرٍ وَبِلاَلٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَأَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ الإِسْفَارَ بِصَلاَةِ الْفَجْرِ . وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ . وَقَالَ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ مَعْنَى الإِسْفَارِ أَنْ يَضِحَ الْفَجْرُ فَلاَ يُشَكَّ فِيهِ وَلَمْ يَرَوْا أَنَّ مَعْنَى الإِسْفَارِ تَأْخِيرُ الصَّلاَةِ .
#155
Daif Isnaad
Aishah narrated:"I have not seen anyone who hastened Zuhr more than Allah's Messenger nor Abu Bakr, nor Umar
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ظہر کو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے بڑھ کر جلدی کرنے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا، اور نہ ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما سے بڑھ کر جلدی کرنے والا کسی کو دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں جابر بن عبداللہ، خباب، ابوبرزہ، ابن مسعود، زید بن ثابت، انس اور جابر بن سمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں اور عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن ہے، ۲- اور اسی کو صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں اہل علم نے اختیار کیا ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشَدَّ تَعْجِيلاً لِلظُّهْرِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ وَلاَ مِنْ عُمَرَ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَخَبَّابٍ وَأَبِي بَرْزَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأَنَسٍ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمْ . قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَقَدْ تَكَلَّمَ شُعْبَةُ فِي حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ مِنْ أَجْلِ حَدِيثِهِ الَّذِي رَوَى عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ " . قَالَ يَحْيَى وَرَوَى لَهُ سُفْيَانُ وَزَائِدَةُ وَلَمْ يَرَ يَحْيَى بِحَدِيثِهِ بَأْسًا . قَالَ مُحَمَّدٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي تَعْجِيلِ الظُّهْرِ .
#156
Sahih
Anas bin Malik narrated:"Allah's Messenger prayed Zuhr when the sun had passed the zenith
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے نماز ظہر اس وقت پڑھی جس وقت سورج ڈھل گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے اور یہ اس باب میں سب سے اچھی حدیث ہے، ۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی حدیث آئی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ . وَهُوَ أَحْسَنُ حَدِيثٍ فِي هَذَا الْبَابِ . وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ .
#157
Sahih
Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "In very hot weather, delay the (Zuhr) prayer until it becomes (a bit) cooler, because the severity of heat is from the raging of the Hell
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈا ہونے پر پڑھو ۱؎ کیونکہ گرمی کی تیزی جہنم کی بھاپ سے ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوسعید، ابوذر، ابن عمر، مغیرہ، اور قاسم بن صفوان کے باپ ابوموسیٰ، ابن عباس اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اس سلسلے میں عمر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، ۴- اہل علم میں کچھ لوگوں نے سخت گرمی میں ظہر تاخیر سے پڑھنے کو پسند کیا ہے۔ یہی ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ شافعی کہتے ہیں: ظہر ٹھنڈا کر کے پڑھنے کی بات اس وقت کی ہے جب مسجد والے دور سے آتے ہوں، رہا اکیلے نماز پڑھنے والا اور وہ شخص جو اپنے ہی لوگوں کی مسجد میں نماز پڑھتا ہو تو میں اس کے لیے یہی پسند کرتا ہوں کہ وہ سخت گرمی میں بھی نماز کو دیر سے نہ پڑھے، ۵- جو لوگ گرمی کی شدت میں ظہر کو دیر سے پڑھنے کی طرف گئے ہیں ان کا مذہب زیادہ بہتر اور اتباع کے زیادہ لائق ہے، رہی وہ بات جس کی طرف شافعی کا رجحان ہے کہ یہ رخصت اس کے لیے ہے جو دور سے آتا ہوتا کہ لوگوں کو پریشانی نہ ہو تو ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث میں کچھ ایسی باتیں ہیں جو اس چیز پر دلالت کرتی ہیں جو امام شافعی کے قول کے خلاف ہیں۔ ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے، بلال رضی اللہ عنہ نے نماز ظہر کے لیے اذان دی، تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال! ٹھنڈا ہو جانے دو، ٹھنڈا ہو جانے دو“ ( یہ حدیث آگے آ رہی ہے ) ، اب اگر بات ایسی ہوتی جس کی طرف شافعی گئے ہیں، تو اس وقت ٹھنڈا کرنے کا کوئی مطلب نہ ہوتا، اس لیے کہ سفر میں سب لوگ اکٹھا تھے، انہیں دور سے آنے کی ضرورت نہ تھی۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي ذَرٍّ وَابْنِ عُمَرَ وَالْمُغِيرَةِ وَالْقَاسِمِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ أَبِيهِ وَأَبِي مُوسَى وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَنَسٍ . قَالَ وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا وَلاَ يَصِحُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدِ اخْتَارَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ تَأْخِيرَ صَلاَةِ الظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . قَالَ الشَّافِعِيُّ إِنَّمَا الإِبْرَادُ بِصَلاَةِ الظُّهْرِ إِذَا كَانَ مَسْجِدًا يَنْتَابُ أَهْلُهُ مِنَ الْبُعْدِ فَأَمَّا الْمُصَلِّي وَحْدَهُ وَالَّذِي يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ قَوْمِهِ فَالَّذِي أُحِبُّ لَهُ أَنْ لاَ يُؤَخِّرَ الصَّلاَةَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَمَعْنَى مَنْ ذَهَبَ إِلَى تَأْخِيرِ الظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ هُوَ أَوْلَى وَأَشْبَهُ بِالاِتِّبَاعِ وَأَمَّا مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ أَنَّ الرُّخْصَةَ لِمَنْ يَنْتَابُ مِنَ الْبُعْدِ وَالْمَشَقَّةِ عَلَى النَّاسِ فَإِنَّ فِي حَدِيثِ أَبِي ذَرٍّ مَا يَدُلُّ عَلَى خِلاَفِ مَا قَالَ الشَّافِعِيُّ . قَالَ أَبُو ذَرٍّ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَأَذَّنَ بِلاَلٌ بِصَلاَةِ الظُّهْرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا بِلاَلُ أَبْرِدْ ثُمَّ أَبْرِدْ " . فَلَوْ كَانَ الأَمْرُ عَلَى مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ لَمْ يَكُنْ لِلإِبْرَادِ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ مَعْنًى لاِجْتِمَاعِهِمْ فِي السَّفَرِ وَكَانُوا لاَ يَحْتَاجُونَ أَنْ يَنْتَابُوا مِنَ الْبُعْدِ .
#158
Sahih
Abu Dharr narrated:"Allah's Messenger was on a journey and Bilal was with him. So he wanted to call for the prayer, but he (the Prophet) said: 'Let it get cooler.' Then he wanted to call for the prayer, so Allah's Messenger said: 'Let it get to the cooler time of Zuhr.'" He (i.e., Abu Dharr) said: "Until we saw the shadows of the hillocks, then he commanded that the Iqamah be called and then led the people in prayer. Allah's Messenger said: 'The severity of heat is from the raging of Hell, so wait until it becomes cooler for the (Zuhr) prayer
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، ساتھ میں بلال رضی الله عنہ بھی تھے۔ بلال رضی الله عنہ نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا: ”ٹھنڈا ہو جانے دو“۔ انہوں نے پھر اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھ“۔ وہ کہتے ہیں ( ظہر تاخیر سے پڑھی گئی ) یہاں تک کہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھ لیا تب انہوں نے اقامت کہی پھر آپ نے نماز پڑھی، پھر فرمایا: ”گرمی کی تیزی جہنم کی بھاپ سے ہے۔ لہٰذا نماز ٹھنڈے میں پڑھا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ فِي سَفَرٍ وَمَعَهُ بِلاَلٌ فَأَرَادَ بِلاَلٌ أَنْ يُقِيمَ فَقَالَ " أَبْرِدْ " . ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَبْرِدْ فِي الظُّهْرِ " . قَالَ حَتَّى رَأَيْنَا فَىْءَ التُّلُولِ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#159
Sahih
Urwah narrated from Aishah:"Allah's Messenger prayed Asr while the sun was (shining) in her chamber, (and) no shadow appeared in her chamber
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے عصر پڑھی اس حال میں کہ دھوپ ان کے کمرے میں تھی، ان کے کمرے کے اندر کا سایہ پورب والی دیوار پر نہیں چڑھا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس، ابوارویٰ، جابر اور رافع بن خدیج رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ( اور رافع رضی الله عنہ سے عصر کو مؤخر کرنے کی بھی روایت کی جاتی ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ لیکن یہ صحیح نہیں ہے، ۳- صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم نے جن میں عمر، عبداللہ بن مسعود، عائشہ اور انس رضی الله عنہم بھی شامل ہیں اور تابعین میں سے کئی لوگوں نے اسی کو اختیار کیا ہے کہ عصر جلدی پڑھی جائے اور اس میں تاخیر کرنے کو ان لوگوں نے مکروہ سمجھا ہے اسی کے قائل عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی ہیں۔)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا لَمْ يَظْهَرِ الْفَىْءُ مِنْ حُجْرَتِهَا . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَأَبِي أَرْوَى وَجَابِرٍ وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ . قَالَ وَيُرْوَى عَنْ رَافِعٍ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي تَأْخِيرِ الْعَصْرِ وَلاَ يَصِحُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ عُمَرُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَعَائِشَةُ وَأَنَسٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ التَّابِعِينَ تَعْجِيلُ صَلاَةِ الْعَصْرِ وَكَرِهُوا تَأْخِيرَهَا . وَبِهِ يَقُولُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ .
#160
Sahih
Al-Ala bin Abdur-Raman narrated that :he visited Anas bin Malik in his home in Al Basrah after finishing Zuhr, and his home was next to the Masjid. So he said: 'Stand to pray Asr." He (Al-Ala) said: "So we stood to pray. When we were finished he (Anas) said: 'I heard Allah's Messenger saying: "That is the prayer of the hypocrite. He sits watching the sun, until when it is between the horns of the Shaitan he stands and pecks out four (units of prayer), not remembering Allah in them but a little
علاء بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ وہ بصرہ میں جس وقت ظہر پڑھ کر لوٹے تو وہ انس بن مالک رضی الله عنہ کے پاس ان کے گھر آئے، ان کا گھر مسجد کے بغل ہی میں تھا۔ انس بن مالک نے کہا: اٹھو چلو عصر پڑھو، تو ہم نے اٹھ کر نماز پڑھی، جب پڑھ چکے تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھا سورج کو دیکھتا رہے، یہاں تک کہ جب وہ شیطان کی دونوں سینگوں کے درمیان آ جائے تو اٹھے اور چار ٹھونگیں مار لے، اور ان میں اللہ کو تھوڑا ہی یاد کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ بِالْبَصْرَةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الظُّهْرِ وَدَارُهُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ قُومُوا فَصَلُّوا الْعَصْرَ . قَالَ فَقُمْنَا فَصَلَّيْنَا فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " تِلْكَ صَلاَةُ الْمُنَافِقِ يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَىِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لاَ يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلاَّ قَلِيلاً " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#161
Sahih
Umm Salamah narrated:"Allah's Messenger would hasten Zuhr more than you (people), while you (people) hasten Asr more than him
ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ظہر میں تم لوگوں سے زیادہ جلدی کرتے تھے اور تم لوگ عصر میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے زیادہ جلدی کرتے ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَشَدَّ تَعْجِيلاً لِلظُّهْرِ مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ أَشَدُّ تَعْجِيلاً لِلْعَصْرِ مِنْهُ .
#162
Sahih
Narrator not mentioned:[And I have in my book: "Ali bin Hujr informed me from lsma'il bin Ibrahim, from Ibn Juraij]
امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث اسماعیل بن علیہ سے بطریق «ابن جريج عن ابن أبي مليكة عن أم سلمة» اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ اور مجھے اپنی کتاب میں اس کی سند یوں ملی کہ مجھے علی بن حجر نے خبر دی انہوں نے اسماعیل بن ابراہیم سے اور اسماعیل نے ابن جریج سے روایت کی ہے۔
قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، نَحْوَهُ . وَوَجَدْتُ فِي كِتَابِي أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، .
#163
Sahih
Similar narration is reported by Bishr ibn Mu'adh Al-Bari who said that :Isma'il ibn Ulayyah narrated to him from Ibn Juraij. This latter chain is more correct
اسماعیل بن علیہ کی ابن جریج سے روایت زیادہ صحیح ہے ۱؎۔
وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْبَصْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ . وَهَذَا أَصَحُّ .
#164
Sahih
Salmah bin AI-Akwa narrated:"Allah's Messenger prayed Maghrib when the sun had set and it (the sun) had hidden in the veil (of darkness)
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج ڈوب جاتا اور پردے میں چھپ جاتا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سلمہ بن الاکوع والی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، صنابحی، زید بن خالد، انس، رافع بن خدیج، ابوایوب، ام حبیبہ، عباس بن عبدالمطلب اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- عباس رضی الله عنہ کی حدیث ان سے موقوفاً روایت کی گئی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے، ۴- اور صنابحی نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے نہیں سنا ہے، وہ تو ابوبکر رضی الله عنہ کے دور کے ہیں، ۵- اور یہی قول صحابہ کرام اور ان کے بعد تابعین میں سے اکثر اہل علم کا ہے، ان لوگوں نے نماز مغرب جلدی پڑھنے کو پسند کیا ہے اور اسے مؤخر کرنے کو مکروہ سمجھا ہے، یہاں تک کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مغرب کا ایک ہی وقت ہے ۲؎، یہ تمام حضرات نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی اس حدیث کی طرف گئے ہیں جس میں ہے کہ جبرائیل نے آپ کو نماز پڑھائی اور یہی ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَتَوَارَتْ بِالْحِجَابِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَالصُّنَابِحِيِّ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَأَنَسٍ وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَأَبِي أَيُّوبَ وَأُمِّ حَبِيبَةَ وَعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَابْنِ عَبَّاسٍ . وَحَدِيثُ الْعَبَّاسِ قَدْ رُوِيَ مَوْقُوفًا عَنْهُ وَهُوَ أَصَحُّ . وَالصُّنَابِحِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ صَاحِبُ أَبِي بَكْرٍ رضى الله عنه . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ اخْتَارُوا تَعْجِيلَ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ وَكَرِهُوا تَأْخِيرَهَا حَتَّى قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لَيْسَ لِصَلاَةِ الْمَغْرِبِ إِلاَّ وَقْتٌ وَاحِدٌ وَذَهَبُوا إِلَى حَدِيثِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَيْثُ صَلَّى بِهِ جِبْرِيلُ . وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ .
#165
Sahih
An-Nu'man bin Bashir said:"I am the most knowledgeable among the people about the prescribed time of this prayer: Allah's Messenger would pray it when the moon set on the third (of the month)
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ اس نماز عشاء کے وقت کو لوگوں میں سب سے زیادہ میں جانتا ہوں، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اسے تیسری تاریخ کا چاند ڈوبنے کے وقت پڑھتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ، بِوَقْتِ هَذِهِ الصَّلاَةِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ " .
#166
Isnaad Sahih
An-Nu'man bin Bashir said:A similar narration (from another chain linking to) this chain is also reported
اس طریق سے بھی ابو عوانہ سے اسی سند سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی نے پہلے ابو عوانہ کا طریق ذکر کیا پھر ہشیم کے طریق کا اور فرمایا: ابو عوانہ والی حدیث ہمارے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ، هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، . وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ هُشَيْمٌ عَنْ بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ، . وَحَدِيثُ أَبِي عَوَانَةَ أَصَحُّ عِنْدَنَا لأَنَّ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ رَوَى عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، نَحْوَ رِوَايَةِ أَبِي عَوَانَةَ .
#167
Sahih
Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "If it were not that it would be a hardship on my Ummah, then I would have ordered you to delay Isha until the third of the night, or its half
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اپنی امت پر دشوار نہ سمجھتا تو میں عشاء کو تہائی رات یا آدھی رات تک دیر کر کے پڑھنے کا حکم دیتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر بن سمرہ، جابر بن عبداللہ، ابوبرزہ، ابن عباس، ابو سعید خدری، زید بن خالد اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اسی کو صحابہ کرام اور تابعین وغیرہم میں سے اکثر اہل علم نے پسند کیا ہے، ان کی رائے ہے کہ عشاء تاخیر سے پڑھی جائے، اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُؤَخِّرُوا الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِهِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي بَرْزَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ رَأَوْا تَأْخِيرَ صَلاَةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ .
#168
Sahih
Abu Barzah narrated:"The Prophet would dislike to sleep before Isha and to talk after it
ابوبرزہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند فرماتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوبرزہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، عبداللہ بن مسعود اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اکثر اہل علم نے نماز عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات کرنے کو مکروہ کہا ہے، اور بعض نے اس کی اجازت دی ہے، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: اکثر حدیثیں کراہت پر دلالت کرنے والی ہیں، اور بعض لوگوں نے رمضان میں عشاء سے پہلے سونے کی اجازت دی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، قَالَ أَحْمَدُ وَحَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، هُوَ الْمُهَلَّبِيُّ وَإِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ جَمِيعًا عَنْ عَوْفٍ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلاَمَةَ، هُوَ أَبُو الْمِنْهَالِ الرِّيَاحِيُّ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَنَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي بَرْزَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ كَرِهَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ النَّوْمَ قَبْلَ صَلاَةِ الْعِشَاءِ وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا وَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ بَعْضُهُمْ . وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَكْثَرُ الأَحَادِيثِ عَلَى الْكَرَاهِيَةِ . وَرَخَّصَ بَعْضُهُمْ فِي النَّوْمِ قَبْلَ صَلاَةِ الْعِشَاءِ فِي رَمَضَانَ . وَسَيَّارُ بْنُ سَلاَمَةَ هُوَ أَبُو الْمِنْهَالِ الرِّيَاحِيُّ .
#169
Sahih
Umar bin Al-Khattab narrated:"Allah's Messenger would talk during the night with Abu Bakr about matters concerning the Muslims while I was with them
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم مسلمانوں کے بعض معاملات میں سے ابوبکر رضی الله عنہ کے ساتھ رات میں گفتگو کرتے اور میں ان دونوں کے ساتھ ہوتا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمر رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، اوس بن حذیفہ اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام اور تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم نے عشاء کے بعد بات کرنے کے سلسلہ میں اختلاف کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے عشاء کے بعد بات کرنے کو مکروہ جانا ہے اور کچھ لوگوں نے اس کی رخصت دی ہے، بشرطیکہ یہ کوئی علمی گفتگو ہو یا کوئی ایسی ضرورت ہو جس کے بغیر چارہ نہ ہو ۱؎ اور اکثر احادیث رخصت کے بیان میں ہیں، نیز نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”بات صرف وہ کر سکتا ہے جو نماز عشاء کا منتظر ہو یا مسافر ہو“۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْمُرُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فِي الأَمْرِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ وَأَنَا مَعَهُمَا . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُعْفِيٍّ يُقَالُ لَهُ قَيْسٌ أَوِ ابْنُ قَيْسٍ عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَذَا الْحَدِيثَ فِي قِصَّةٍ طَوِيلَةٍ . وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ فِي السَّمَرِ بَعْدَ صَلاَةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ فَكَرِهَ قَوْمٌ مِنْهُمُ السَّمَرَ بَعْدَ صَلاَةِ الْعِشَاءِ وَرَخَّصَ بَعْضُهُمْ إِذَا كَانَ فِي مَعْنَى الْعِلْمِ وَمَا لاَ بُدَّ مِنْهُ مِنَ الْحَوَائِجِ وَأَكْثَرُ الْحَدِيثِ عَلَى الرُّخْصَةِ . وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ سَمَرَ إِلاَّ لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ " .
#170
Sahih
Umm Farwah - and she was one of those who gave pledge of allegiance to the Prophet - narrated:"The Prophet was asked: 'Which deed is the best?' So he said: 'Salat in the beginning of its time
قاسم بن غنام کی پھوپھی ام فروہ رضی الله عنہا (جنہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے بیعت کی تھی) کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”اول وقت میں نماز پڑھنا“۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ، عَنْ عَمَّتِهِ أُمِّ فَرْوَةَ، وَكَانَتْ، مِمَّنْ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ " الصَّلاَةُ لأَوَّلِ وَقْتِهَا " .
#171
Daif
Ali bin AbI Talib narrated that :the Prophet said to him: 'Ali! Three are not to be delayed: Salat when its time comes, a funeral whet it (a prepared body) is present, and the (marriage of a) single woman when there is an equal for her
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”علی! تین چیزوں میں دیر نہ کرو: نماز کو جب اس کا وقت ہو جائے، جنازہ کو جب آ جائے، اور بیوہ عورت ( کے نکاح کو ) جب تمہیں اس کا کوئی کفو ( ہمسر ) مل جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ " يَا عَلِيُّ ثَلاَثٌ لاَ تُؤَخِّرْهَا الصَّلاَةُ إِذَا آنَتْ وَالْجَنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ وَالأَيِّمُ إِذَا وَجَدْتَ لَهَا كُفْؤًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ .
#172
Mawdu
Ibn Umar narrated that :Allah's Messenger said: "The beginning of the time for Salat is pleasing to Allah, and the end of its time is pardoned by Allah
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز اول وقت میں اللہ کی رضا مندی کا موجب ہے اور آخری وقت میں اللہ کی معافی کا موجب ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ابن عباس رضی الله عنہ نے بھی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- اور اس باب میں علی، ابن عمر، عائشہ اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- ام فروہ کی ( اوپر والی ) حدیث ( نمبر: ۱۷۰ ) عبداللہ بن عمر عمری ہی سے روایت کی جاتی ہے اور یہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں، اس حدیث میں لوگ ان سے روایت کرنے میں اضطراب کا شکار ہیں اور وہ صدوق ہیں، یحییٰ بن سعید نے ان کے حفظ کے تعلق سے ان پر کلام کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ الْوَلِيدِ الْمَدَنِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْوَقْتُ الأَوَّلُ مِنَ الصَّلاَةِ رِضْوَانُ اللَّهِ وَالْوَقْتُ الآخِرُ عَفْوُ اللَّهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ رَوَى ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عُمَرَ وَعَائِشَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أُمِّ فَرْوَةَ لاَ يُرْوَى إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَاضْطَرَبُوا عَنْهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَهُوَ صَدُوقٌ وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ .
#173
Sahih
Abu Amr Ash-Shaibani narrated:"A man said to Ibn Mas'ud: 'Which deed is most virtuous?' He said: 'I asked Allah's Messenger (that). He said: "Salat at the beginning of its time." I asked him: "What is after that O Messenger of Allah?" He said: "Being dutiful to one's parents." I said: "What is after that [O Messenger of Allah]?" He said: "Jihad in the Way of Allah
ابوعمرو شیبانی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ابن مسعود رضی الله عنہ سے پوچھا: کون سا عمل سب سے اچھا ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا“۔ میں نے عرض کیا: اور کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا“، میں نے عرض کیا: ( اس کے بعد ) اور کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنِ الْوَليِدِ بْنِ الْعَيْزَارِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ لاِبْنِ مَسْعُودٍ أَىُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " الصَّلاَةُ عَلَى مَوَاقِيتِهَا " . قُلْتُ وَمَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ " . قُلْتُ وَمَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَى الْمَسْعُودِيُّ وَشُعْبَةُ وَسُلَيْمَانُ هُوَ أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ هَذَا الْحَدِيثَ .
#174
Hasan
Aishah narrated:"Allah's Messenger did not pray any Salat at the end of its time two times, until Allah took him
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے کوئی نماز اس کے آخری وقت میں دو بار نہیں پڑھی یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو وفات دے دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند متصل نہیں ہے، ۲- شافعی کہتے ہیں: نماز کا اول وقت افضل ہے اور جو چیزیں اول وقت کی افضیلت پر دلالت کرتی ہیں من جملہ انہیں میں سے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم، ابوبکر، اور عمر رضی الله عنہما کا اسے پسند فرمانا ہے۔ یہ لوگ اسی چیز کو معمول بناتے تھے جو افضل ہو اور افضل چیز کو نہیں چھوڑتے تھے۔ اور یہ لوگ نماز کو اول وقت میں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةً لِوَقْتِهَا الآخِرِ مَرَّتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ . قَالَ الشَّافِعِيُّ وَالْوَقْتُ الأَوَّلُ مِنَ الصَّلاَةِ أَفْضَلُ . وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى فَضْلِ أَوَّلِ الْوَقْتِ عَلَى آخِرِهِ اخْتِيَارُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَلَمْ يَكُونُوا يَخْتَارُونَ إِلاَّ مَا هُوَ أَفْضَلُ وَلَمْ يَكُونُوا يَدَعُونَ الْفَضْلَ وَكَانُوا يُصَلُّونَ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ . قَالَ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو الْوَلِيدِ الْمَكِّيُّ عَنِ الشَّافِعِيِّ .
#175
Sahih
Ibn Umar narrated that :the Prophet said: "Whoever misses the Asr prayer, then it is as if he was robbed of his family and his property
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے عصر فوت ہو گئی گویا اس کا گھر اور مال لٹ گیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں بریدہ اور نوفل بن معاویہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الَّذِي تَفُوتُهُ صَلاَةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ بُرَيْدَةَ وَنَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ أَيْضًا عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .