#1601
Sahih
Narrated Anas: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever plunders then he is not of us." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih Gharib as a Hadith of Anas
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوٹ پاٹ مچائے وہ ہم میں سے نہیں ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث انس کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ .
#1602
Sahih
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not precede the Jews and the Christians with the Salam. And if one you meets one of them in the path, then force him to its narrow portion." [He said:] There are narrations on this topic from Ibn 'Umar, Anas, and Abu Basrah Al-Ghifari the Companion of the Prophet (ﷺ). [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. And regarding the meaning of this Hadith: "Do not precede the Jews and the Christians": Some of the poeple of knowledge said that it only means that it is disliked because it would be honoring them, and the Muslims were ordered to humiliate them. For this reason, when one of them is met on the path, then the path is not yielded for him, because doing so would amount to honoring them
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود و نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور ان میں سے جب کسی سے تمہارا آمنا سامنا ہو جائے تو اسے تنگ راستے کی جانب جانے پر مجبور کر دو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، انس رضی الله عنہم اور ابو بصرہ غفاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ تم خود ان سے سلام نہ کرو ( بلکہ ان کے سلام کرنے پر صرف جواب دو ) ، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: یہ اس لیے ناپسند ہے کہ پہلے سلام کرنے سے ان کی تعظیم ہو گی جب کہ مسلمانوں کو انہیں تذلیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح راستے میں آمنا سامنا ہو جانے پر ان کے لیے راستہ نہ چھوڑے کیونکہ اس سے بھی ان کی تعظیم ہو گی ( جو صحیح نہیں ہے ) ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى بِالسَّلاَمِ وَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَنَسٍ وَأَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ " لاَ تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى " . قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِنَّمَا مَعْنَى الْكَرَاهِيَةِ لأَنَّهُ يَكُونُ تَعْظِيمًا لَهُ وَإِنَّمَا أُمِرَ الْمُسْلِمُونَ بِتَذْلِيلِهِمْ وَكَذَلِكَ إِذَا لَقِيَ أَحَدَهُمْ فِي الطَّرِيقِ فَلاَ يَتْرُكُ الطَّرِيقَ عَلَيْهِ لأَنَّ فِيهِ تَعْظِيمًا لَهُمْ .
#1603
Sahih
Narrated Ibn 'Umar: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed when a Jew gives Salam to one of you, then he is only saying: 'As-Samu 'Alaikum' (Death be upon you) so say: "Alaik (And upon you).'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود میں سے کوئی جب تم لوگوں کو سلام کرتا ہے تو وہ کہتا ہے: «السام عليک» ( یعنی تم پر موت ہو ) ، اس لیے تم جواب میں صرف «عليک» کہو ( یعنی تم پر موت ہو ) “۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدُهُمْ فَإِنَّمَا يَقُولُ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقُلْ عَلَيْكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1604
Sahih
Narrated Qais bin Abu Hazim: From Jarir bin 'Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) sent a military expedition to Khath'am. So some people (living there) sought safety by prostrating, but they were met quickly and killed. News of this reached the Prophet (ﷺ) upon which he commanded that they be given half of the 'Aql (blood money). And he said: "I am free from every Muslim that lives among the idolaters." They said:"O Messenger of Allah: How is that ?" He said: "They should not see each other's campfires
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ خثعم کی طرف ایک سریہ روانہ کیا، ( کافروں کے درمیان رہنے والے مسلمانوں میں سے ) کچھ لوگوں نے سجدہ کے ذریعہ پناہ چاہی، پھر بھی انہیں قتل کرنے میں جلدی کی گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ملی تو آپ نے ان کو آدھی دیت دینے کا حکم دیا اور فرمایا: ”میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرکوں کے درمیان رہتا ہے“، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آخر کیوں؟ آپ نے فرمایا: ” ( مسلمان کو کافروں سے اتنی دوری پر سکونت پذیر ہونا چاہیئے کہ ) وہ دونوں ایک دوسرے ( کے کھانا پکانے ) کی آگ نہ دیکھ سکیں“ ۱؎۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ سَرِيَّةً إِلَى خَثْعَمٍ فَاعْتَصَمَ نَاسٌ بِالسُّجُودِ فَأَسْرَعَ فِيهِمُ الْقَتْلُ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ لَهُمْ بِنِصْفِ الْعَقْلِ وَقَالَ " أَنَا بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ يُقِيمُ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلِمَ قَالَ " لاَ تَرَايَا نَارَاهُمَا " .
#1605
Daif
Narrated Qais bin Abu Hazim: Similar to the narration of Abu Mu'aqiyah (no. 1604) but he did not mention in it: "from Jarir" in it, and that is more correct. There is something on this topic from Samurah. [Abu 'Eisa said:] Most of the companions of Isma'il said: "From Isma'il, from Qais bin Abu Hazim, that the Messenger of Allah (ﷺ) sent a military expedition." and they did not mention: "from Jarir" in it. Hammad bin Salamah reported similar to the narration of Abu Mu'awiyah, from Al-Hajjaj bin Artah, from Isma'il bin Abi Khalid, from Qais from Jarir [He said:] I heard Muhammad saying: "What is correct is the narration of Qais from the Prophet (ﷺ) in Mursal form." Samurah bin Jundab repoted that the Prophet (ﷺ) said: "Do not live among the idolaters, and do not assemble with them, for whoever lives among them or assembles with them then he is similar to them
عبدہ نے یہ حدیث بطریق: «إسمعيل بن أبي خالد عن قيس ابن أبي عن النبي صلى الله عليه وسلم» ( مرسلاً ) ابومعاویہ کے مثل حدیث روایت کی ہے، اس میں انہوں ( عبدہ ) نے جریر کے واسطے کا ذکر نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ روایت زیادہ صحیح ہے، ۲- اسماعیل بن ابی خالد کے اکثر شاگرد اسماعیل کے واسطہ سے قیس بن ابی حازم سے ( مرسلاً ) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ روانہ کیا، ان لوگوں نے اس میں جریر کے واسطے کا ذکر نہیں کیا، اور حماد بن سلمہ نے بطریق: «الحجاج بن أرطاة عن إسمعيل بن أبي خالد عن قيس عن جرير» ( مرفوعاً ) ابومعاویہ کے مثل اس کی روایت کی ہے، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: صحیح یہ ہے کہ قیس کی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل ہے، نیز سمرہ بن جندب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا: ”مشرکوں کے ساتھ نہ رہو اور نہ ان کی ہم نشینی اختیار کرو، جو ان کے ساتھ رہے گا یا ان کی ہم نشینی اختیار کرے گا وہ بھی انہیں میں سے مانا جائے گا، ۳- اس باب میں سمرہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ جَرِيرٍ، . وَهَذَا أَصَحُّ . وَفِي الْبَابِ عَنْ سَمُرَةَ، . قَالَ أَبُو عِيسَى وَأَكْثَرُ أَصْحَابِ إِسْمَاعِيلَ قَالُوا عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ سَرِيَّةً وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ جَرِيرٍ. وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسٍ عَنْ جَرِيرٍ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ وَسَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ الصَّحِيحُ حَدِيثُ قَيْسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ وَرَوَى سَمُرَةُ بْنُ جُنْدَبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُسَاكِنُوا الْمُشْرِكِينَ وَلَا تُجَامِعُوهُمْ فَمَنْ سَاكَنَهُمْ أَوْ جَامَعَهُمْ فَهُوَ مِثْلُهُمْ
#1606
Sahih
Narrated 'Umar bin Al-Khattab:That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "If I live - if Allah wills - I will expel the Jews and the Christians from the Arabian Peninsula
عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں زندہ رہا تو ان شاءاللہ جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو نکال باہر کر دوں گا“ ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ " .
#1607
Sahih
Narrated Jabir bin ‘Abdullah : "Umar bin Al-Khattab informed me that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'I will expel the Jews and the Christians from the Arabian Peninsula, and I will not leave anyone in it except a Muslim." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میں جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو ضرور نکالوں گا اور اس میں صرف مسلمان کو باقی رکھوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ فَلاَ أَتْرُكُ فِيهَا إِلاَّ مُسْلِمًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1608
Sahih
Narrated Abu Hurairah: "Fatimah came to Abu Bakr and said: 'Who will inherit from you?' He said: 'My family and my son.' She said: 'So what about me? I do not get inheritance from my father?' So Abu Bakr said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'We are not inherited from' but I support those whom the Messenger of Allah (ﷺ) used to support, and I spend upon those whom the Messenger of Allah (ﷺ) spent upon." [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from 'Umar, Talhah, Az-Zubair, 'Abdur-Rahman bin 'Awf, Sa'd and 'Aishah. The Hadith of Abu Hurairah is Hasan Gharib from this route. It is only reported with a chain by Hammad bin Salamah and 'Abdul Wahhab bin 'Ata, from Muhammad bin 'Amr, from Abu Salamah, from Abu Hurairah. I asked Muhammad about this Hadith and he said: "No one is known to have reported it from Muhammad bin 'Amr, from Abu Salamah, from Abu Hurairah except from Hammad bin Salamah. 'Abdul Wahhab bin 'Ata reported it from Muhammad bib 'Amr, from Abu Salamah, and from Abu Hurairah and it is similar to the narration of Hammad bin Salamah. And this Hadith has been reported through other routes from Abu Bakr As-Siddiq, from the Prophet (ﷺ)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ رضی الله عنہا نے ابوبکر رضی الله عنہ کے پاس آ کر کہا: آپ کی وفات کے بعد آپ کا وارث کون ہو گا؟ انہوں نے کہا: میرے گھر والے اور میری اولاد، فاطمہ رضی الله عنہا نے کہا: پھر کیا وجہ ہے کہ میں اپنے باپ کی وارث نہ بنوں؟ ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ”ہم ( انبیاء ) کا کوئی وارث نہیں ہوتا“ ( پھر ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا ) لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس کی کفالت کرتے تھے ہم بھی اس کی کفالت کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس پر خرچ کرتے تھے ہم بھی اس پر خرچ کریں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اسے حماد بن سلمہ اور عبدالوہاب بن عطاء نے مسنداً روایت کیا ہے یہ دونوں اور محمد بن عمر سے اور محمد ابوسلمہ سے، اور ابوسلمہ ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں کہا: میں حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا ہوں جس نے اس حدیث کو محمد بن عمرو سے محمد نے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے ابوہریرہ سے ( مرفوعاً ) روایت کی ہو۔ ( ترمذی کہتے ہیں: ہاں ) عبدالوہاب بن عطاء نے بھی محمد بن عمرو سے اور محمد نے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے ابوہریرہ سے حماد بن سلمہ کی روایت کی طرح روایت کی ہے، ۳- اس باب میں عمر، طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَتْ مَنْ يَرِثُكَ قَالَ أَهْلِي وَوَلَدِي . قَالَتْ فَمَا لِي لاَ أَرِثُ أَبِي فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ نُورَثُ " . وَلَكِنِّي أَعُولُ مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعُولُهُ وَأُنْفِقُ عَلَى مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُنْفِقُ عَلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَطَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَسَعْدٍ وَعَائِشَةَ . وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ إِنَّمَا أَسْنَدَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ لاَ أَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلاَّ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ . وَرَوَى عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ نَحْوَ رِوَايَةِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ .
#1609
Isnaad Hasan
Narrated Abu Hurairah: That Fatimah came to Abu Bakr and 'Umar may Allah be pleased with them both, to ask them about her inheritance from the Messenger of Allah (ﷺ). They said: "We heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'I am not inherited from.'" So she said: 'By Allah! I will never talk to you two again.' So she died having not talked to them." 'Ali bin 'Eisa said: "The meaning of not speaking to you two is: 'Never again regarding this inheritance, because you two are truthful
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ فاطمہ رضی الله عنہا ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث سے اپنا حصہ طلب کرنے آئیں، ان دونوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”میرا کوئی وارث نہیں ہو گا“، فاطمہ رضی الله عنہ بولیں: اللہ کی قسم! میں تم دونوں سے کبھی بات نہیں کروں گی، چنانچہ وہ انتقال کر گئیں، لیکن ان دونوں سے بات نہیں کی۔ راوی علی بن عیسیٰ کہتے ہیں: «لا أكلمكما» کا مفہوم یہ ہے کہ میں اس میراث کے سلسلے میں کبھی بھی آپ دونوں سے بات نہیں کروں گی، آپ دونوں سچے ہیں۔ ( امام ترمذی کہتے ہیں ) یہ حدیث کئی سندوں سے ابوبکر رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ، عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْبَغْدَادِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ، جَاءَتْ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رضى الله عنهما تَسْأَلُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالاَ سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنِّي لاَ أُورَثُ " . قَالَتْ وَاللَّهِ لاَ أُكَلِّمُكُمَا أَبَدًا . فَمَاتَتْ وَلاَ تُكَلِّمُهُمَا . قَالَ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى مَعْنَى لاَ أُكَلِّمُكُمَا تَعْنِي فِي هَذَا الْمِيرَاثِ أَبَدًا أَنْتُمَا صَادِقَانِ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#1610
Sahih
Narrated Malik bin Aws bin Al-Hadathan: "I entered upon 'Umar bin Al-Khattab. (Then) Uthman bin 'Affan, Az-Zubair, 'Abdur-Rahman bin Awf, and Sa'd bin Abi Waqqas entered. Then 'Ali and Al-'Abbas came disputing. 'Umar said to them: ' I ask you, by Allah the One by Whose Will the heavens and the earth are maintained, do you know that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "We are not inherited from, what we leave is charity?" They said: 'Yes.' 'Umar said: 'When the Messenger of Allah (ﷺ) died, Abu Bakr said: "I am the caretaker of the Messenger of Allah (ﷺ)" So you and he went to Abu Bakr and you sought your inheritance from the son of your brother, and he sought the inheritance of his wife from her father. So Abu Bakr said that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "We are not inherited from, what we leave is charity." And Allah knows that he is truthful, innocent, instructing and following the truth.'" [Abu 'Eisa said:] There is a lengthy story along with the Hadith. And this Hadith is Hasan Sahih Gharib as a narration of Malik bin Anas
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے پاس گیا، اسی دوران ان کے پاس عثمان بن عفان، زبیر بن عوام، عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہم بھی پہنچے، پھر علی اور عباس رضی الله عنہما جھگڑتے ہوئے آئے، عمر رضی الله عنہ نے ان سے کہا: میں تم لوگوں کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہے، تم لوگ جانتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”ہمارا ( یعنی انبیاء کا ) کوئی وارث نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے“، لوگوں نے کہا: ہاں! عمر رضی الله عنہ نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشین ہوں، پھر تم اپنے بھتیجے کی میراث میں سے اپنا حصہ طلب کرنے اور یہ اپنی بیوی کے باپ کی میراث طلب کرنے کے لیے ابوبکر رضی الله عنہ کے پاس آئے، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا ( یعنی انبیاء کا ) کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے“، ( عمر رضی الله عنہ نے کہا ) اللہ خوب جانتا ہے ابوبکر سچے، نیک، بھلے اور حق کی پیروی کرنے والے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث میں تفصیل ہے، یہ حدیث مالک بن اوس ۱؎ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَدَخَلَ عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ وَالْعَبَّاسُ يَخْتَصِمَانِ فَقَالَ عُمَرُ لَهُمْ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ " . قَالُوا نَعَمْ . قَالَ عُمَرُ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَجِئْتَ أَنْتَ وَهَذَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَطْلُبُ أَنْتَ مِيرَاثَكَ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ " . وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ .
#1611
Sahih
Narrated Al-Harith bin Malik bin Al-Barsa': "On the day of the Conquest of Makkah, I heard the Prophet (ﷺ) saying: 'This is not to be battled over after today, until the Day of Judgement.'" [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Ibn 'Abbas, Sulaiman bin Surad, and Muti' This Hadith is Hasan Sahih, and it is a narration of Zakariyya bin Abi Za'idah from Ash-Sha'bi, we do not know of it except from his narration
حارث بن مالک بن برصاء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”مکہ میں آج کے بعد قیامت تک ( کافروں سے ) جہاد نہیں کیا جائے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ یعنی زکریا بن ابی زائدہ کی حدیث جو شعبی کے واسطہ سے آئی ہے، ۲- ہم اس حدیث کو صرف ان ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں ابن عباس، سلیمان بن صرد اور مطیع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْبَرْصَاءِ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ يَقُولُ " لاَ تُغْزَى هَذِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَسُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ وَمُطِيعٍ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ حَدِيثُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنِ الشَّعْبِيِّ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِهِ .
#1612
Daif
Narrated An-Nu'man bin Muqarrin : "I fought along with the Prophet (ﷺ), and if Fajr had begun he would wait until the sun rose, and when it rose he would fight. And if it was the middle of the daytime, he would wait until the sun passed the zenit, and when it passed the zenith he would fight until 'Asr. Then he would wait until he prayed 'Asr, then he would fight." He said: "And it is used to be said during that (time) the the wind of victory was raging, and the believers would supplicate for their armies in their Salat." [Abu 'Eisa said:] This Hadith has been reported from An-Nu'man bin Muqarrin through a chain that is more connected that this. Qatadah did not see An-Nu'man bin Muqarrin. An-Nu'man died during the Khilafah of 'Umar
نعمان بن مقرن رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا، جب فجر طلوع ہوتی تو آپ ( قتال سے ) ٹھہر جاتے یہاں تک کہ سورج نکل جاتا، جب سورج نکل جاتا تو آپ جہاد میں لگ جاتے، پھر جب دوپہر ہوتی آپ رک جاتے یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا، جب سورج ڈھل جاتا تو آپ عصر تک جہاد کرتے، پھر ٹھہر جاتے یہاں تک کہ عصر پڑھ لیتے، پھر جہاد ( شروع ) کرتے۔ کہا جاتا تھا کہ اس وقت نصرت الٰہی کی ہوا چلتی ہے اور مومن اپنے مجاہدین کے لیے نماز میں دعائیں کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: نعمان بن مقرن رضی الله عنہ سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے جو موصول ہے، قتادہ کی ملاقات نعمان سے نہیں ہے، نعمان بن مقرن کی وفات عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے دورِ خلافت میں ہوئی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، قَالَ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ أَمْسَكَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ قَاتَلَ فَإِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ أَمْسَكَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ قَاتَلَ حَتَّى الْعَصْرِ ثُمَّ أَمْسَكَ حَتَّى يُصَلِّيَ الْعَصْرَ ثُمَّ يُقَاتِلُ . قَالَ وَكَانَ يُقَالُ عِنْدَ ذَلِكَ تَهِيجُ رِيَاحُ النَّصْرِ وَيَدْعُو الْمُؤْمِنُونَ لِجُيُوشِهِمْ فِي صَلاَتِهِمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ بِإِسْنَادٍ أَوْصَلَ مِنْ هَذَا . وَقَتَادَةُ لَمْ يُدْرِكِ النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ وَمَاتَ النُّعْمَانُ بْنُ مُقَرِّنٍ فِي خِلاَفَةِ عُمَرَ .
#1613
Sahih
Narrated Ma'qil bin Yasar: "Umar bin Al-Khattab sent An-Nu'man bin Muqarrin to Al-Hurmuzan." And he mentioned the Hadith in its entirety. An-Nu'man bin Muqarrin said: "I participated (in battles) with the Messenger of Allah (ﷺ). So when he did not fight in the beginning if the daytime, he would wait until the sun passed the zenith, and the wind of victory would rage, and victory would descent upon them." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. 'Alqamah bin 'Abdullah (one of the narrators) is the brother of Bakr bin 'Abdullah Al-Muzani
معقل بن یسار رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ بن خطاب نے نعمان بن مقرن رضی الله عنہ کو ہرمز ان کے پاس بھیجا، پھر انہوں نے مکمل حدیث بیان کی، نعمان بن مقرن رضی الله عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( کسی غزوہ میں ) حاضر ہوا، جب آپ دن کے شروع حصہ میں نہیں لڑتے تو انتظار کرتے یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا، ہوا چلنے لگتی اور نصرت الٰہی کا نزول ہوتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، بَعَثَ النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ إِلَى الْهُرْمُزَانِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فَقَالَ النُّعْمَانُ بْنُ مُقَرِّنٍ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَانَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ أَوَّلَ النَّهَارِ انْتَظَرَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ وَتَهُبَّ الرِّيَاحُ وَيَنْزِلَ النَّصْرُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَعَلْقَمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ أَخُو بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ .
#1614
Sahih
Narrated 'Abdullah bin Mas'ud: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "At-Tiyarah is from Shirk, and none among us (it influences) except that Allah will remove it with Tawakkul (reliance)." [Abu 'Eisa said:] I heard Muhammad bin Isma'il saying: "Sulaiman bin Harb used to say about this Hadith: 'And none among us (it influences) except that Allah will remove it with Tawakkul (reliance)' - Sulaiman would say: 'To me, this is a saying of 'Abdullah bin Mas'ud.'" There are narrations on this topic from Sa'd, Abu Hurairah, Habis At-Tamimi, 'Aishah and Ibn 'Umar. This Hadith is Hasan Sahih, we do not know of it except as a narration of Salamah bin Khuail. Shu'bah also reported this Hadith from Salamah
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدفالی شرک ہے“ ۱؎۔ ( ابن مسعود کہتے ہیں ) ہم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس کے دل میں اس کا وہم و خیال نہ پیدا ہو، لیکن اللہ تعالیٰ اس وہم و خیال کو توکل کی وجہ سے زائل کر دیتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف سلمہ بن کہیل کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- شعبہ نے بھی سلمہ سے اس حدیث کی روایت کی ہے، امام ترمذی کہتے ہیں: ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: سلیمان بن حرب اس حدیث میں «وما منا ولكن الله يذهبه بالتوكل» کی بابت کہتے تھے کہ «وما منا» میرے نزدیک عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کا قول ہے، ۴- اس باب میں ابوہریرہ، حابس تمیمی، عائشہ، ابن عمر اور سعد رضی الله عنہم سے بھی روایتیں ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الطِّيَرَةُ مِنَ الشِّرْكِ " . وَمَا مِنَّا إِلاَّ وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَحَابِسٍ التَّمِيمِيِّ وَعَائِشَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَسَعْدٍ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَرَوَى شُعْبَةُ أَيْضًا عَنْ سَلَمَةَ هَذَا الْحَدِيثَ . قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ كَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ " وَمَا مِنَّا إِلاَّ وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ " . قَالَ سُلَيْمَانُ هَذَا عِنْدِي قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَمَا مِنَّا.
#1615
Sahih
Narrated Anas: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no 'Adwa and no Tiyarah, and I like Fa'l." They said: "O Messenger of Allah! What is Fa'l?" He said: "A good statement." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جانے اور بدفالی و بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۱؎ اور مجھ کو فال نیک پسند ہے“، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! فال نیک کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اچھی بات“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَأُحِبُّ الْفَأْلَ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْفَأْلُ قَالَ " الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1616
Sahih
Narrated Anas bin Malik: That the Prophet (ﷺ) used to like it when he set out upon an affair if he heard: "O directed one, O successful one." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih Gharib
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سننا اچھا لگتا تھا کہ جب کسی ضرورت سے نکلیں تو کوئی یا راشد یا نجیح کہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُعْجِبُهُ إِذَا خَرَجَ لِحَاجَةٍ أَنْ يَسْمَعَ يَا رَاشِدُ يَا نَجِيحُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
#1617
Sahih
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر پر امیر مقرر کرتے تو اسے خاص اپنے نفس کے بارے میں سے اللہ سے ڈرنے اور جو مسلمان ان کے ساتھ ہوتے ان کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت کرتے تھے، اس کے بعد آپ فرماتے: اللہ کے نام سے اور اس کے راستے میں جہاد کرو، ان لوگوں سے جو اللہ کا انکار کرنے والے ہیں، مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، عہد نہ توڑو، مثلہ نہ کرو، بچوں کو قتل نہ کرو اور جب تم اپنے مشرک دشمنوں کے سامنے جاؤ تو ان کو تین میں سے کسی ایک بات کی دعوت دو ان میں سے جسے وہ مان لیں قبول کر لو اور ان کے ساتھ لڑائی سے باز رہو: ان کو اسلام لانے اور اپنے وطن سے مہاجرین کے وطن کی طرف ہجرت کرنے کی دعوت دو، اور ان کو بتا دو کہ اگر انہوں نے ایسا کر لیا تو ان کے لیے وہی حقوق ہیں جو مہاجرین کے لیے ہیں اور ان کے اوپر وہی ذمہ داریاں ہیں جو مہاجرین پر ہیں، اور اگر وہ ہجرت کرنے سے انکار کریں تو ان کو بتا دو کہ وہ بدوی مسلمانوں کی طرح ہوں گے، ان کے اوپر وہی احکام جاری ہوں گے جو بدوی مسلمانوں پر جاری ہوتے ہیں: مال غنیمت اور فئی میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے مگر یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں، پھر اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کریں تو ان پر فتح یاب ہونے کے لیے اللہ سے مدد طلب کرو اور ان سے جہاد شروع کر دو، جب تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور وہ چاہیں کہ تم ان کو اللہ اور اس کے نبی کی پناہ دو تو تم ان کو اللہ اور اس کے نبی کی پناہ نہ دو، بلکہ تم اپنی اور اپنے ساتھیوں کی پناہ دو، ( اس کے خلاف نہ کرنا ) اس لیے کہ اگر تم اپنا اور اپنے ساتھیوں کا عہد توڑتے ہو تو یہ زیادہ بہتر ہے اس سے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کا عہد توڑو، اور جب تم کسی قلعے والے کا محاصرہ کرو اور وہ چاہیں کہ تم ان کو اللہ کے فیصلہ پر اتارو تو ان کو اللہ کے فیصلہ پر مت اتارو بلکہ اپنے فیصلہ پر اتارو، اس لیے کہ تم نہیں جانتے کہ ان کے سلسلے میں اللہ کے فیصلہ پر پہنچ سکو گے یا نہیں“، آپ نے اسی طرح کچھ اور بھی فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بریدہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں نعمان بن مقرن رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
#1618
Sahih
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے وقت ہی حملہ کرتے تھے، اگر آپ اذان سن لیتے تو رک جاتے ورنہ حملہ کر دیتے، ایک دن آپ نے کان لگایا تو ایک آدمی کو کہتے سنا: «الله أكبر الله أكبر»، آپ نے فرمایا: ”فطرت ( دین اسلام ) پر ہے، جب اس نے «أشهد أن لا إله إلا الله» کہا، تو آپ نے فرمایا: ”تو جہنم سے نکل گیا“۔ حسن کہتے ہیں: ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے حماد بن سلمہ نے اسی سند سے اسی کے مثل بیان کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
#1619
Sahih
Narrated Abu Hurairah: "It was said, 'O Messenger of Allah, what equals Jihad?' He said: 'Verily, you (people) are not capable of it.' So they repeated it to him two or three times, each time he said, 'You (people) are not capable of it.' Then he said the third time: 'The example of the Mujahid in the path of Allah is like the one who fasts and stands (in prayer) and does not slacken from Salat, nor fasting, until the Mujahid in the cause of Allah returns.'" There are narrations on this topic from Ash-Shifa', 'Abdullah bin Hubshi, Abu Musa', Abu Sa'eed, Umm Malik Al-Bahziyyah, and Anas. This Hadith is a Hasan Sahih. And it has been reported through more than one route from Abu Hurairah from the Prophet (ﷺ)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کہا گیا: اللہ کے رسول! کون سا عمل ( اجر و ثواب میں ) جہاد کے برابر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تم لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے“، صحابہ نے دو یا تین مرتبہ آپ کے سامنے یہی سوال دہرایا، آپ ہر مرتبہ کہتے: ”تم لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے“، تیسری مرتبہ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس نمازی اور روزہ دار کی ہے جو نماز اور روزے سے نہیں رکتا ( یہ دونوں عمل مسلسل کرتا ہی چلا جاتا ) ہے یہاں تک کہ اللہ کی راہ کا مجاہد واپس آ جائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے ابوہریرہ کے واسطے سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے، ۳- اس باب میں شفاء، عبداللہ بن حبشی، ابوموسیٰ، ابوسعید، ام مالک بہز یہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَعْدِلُ الْجِهَادَ قَالَ " لاَ تَسْتَطِيعُونَهُ " . فَرَدُّوا عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ " لاَ تَسْتَطِيعُونَهُ " . فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ " مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَثَلُ الْقَائِمِ الصَّائِمِ الَّذِي لاَ يَفْتُرُ مِنْ صَلاَةٍ وَلاَ صِيَامٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنِ الشَّفَاءِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ وَأَبِي مُوسَى وَأَبِي سَعِيدٍ وَأُمِّ مَالِكٍ الْبَهْزِيَّةِ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#1620
Sahih
Narrated Anas bin Malik: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: meaning: Allah Mighty and Sublime is He says: 'The Mujahid in My cause, he has guarantee fro Me. If I I seize him, I cause him to inherit Paradise, and if I return him, I return him with a reward or spoils of war.'" [He said:] This Hadith is Gharib Sahih from this route
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کا ضامن میں ہوں، اگر میں اس کی روح قبض کروں تو اس کو جنت کا وارث بناؤں گا، اور اگر میں اسے ( اس کے گھر ) واپس بھیجوں تو اجر یا غنیمت کے ساتھ واپس بھیجوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي مَرْزُوقٌ أَبُو بَكْرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْنِي " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ هُوَ عَلَىَّ ضَامِنٌ إِنْ قَبَضْتُهُ أَوْرَثْتُهُ الْجَنَّةَ وَإِنْ رَجَعْتُهُ رَجَعْتُهُ بِأَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ " . قَالَ هُوَ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ
#1621
Sahih
Narrated Fadalah bin 'Ubaid: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The deeds of everyone who dies are sealed. Except for the one who dies guarding the frontier from the enemy, in the cause of Allah. For indeed his actions are increased for him until the Day of Judgement, and he is secure from the tribulation of the grave." And I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: "The Mujahid is one who strives against his own soul." [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from 'Uqbah bin 'Amir and Jabir. The Hadith is Fadalah is a Hasan Sahih Hadith
فضالہ بن عبید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر میت کے عمل کا سلسلہ بند کر دیا جاتا ہے سوائے اس شخص کے جو اللہ کے راستے میں سرحد کی پاسبانی کرتے ہوئے مرے، تو اس کا عمل قیامت کے دن تک بڑھایا جاتا رہے گا اور وہ قبر کے فتنہ سے مامون رہے گا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا: مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- فضالہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عقبہ بن عامر اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلاَنِيُّ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهِ إِلاَّ الَّذِي مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يُنْمَى لَهُ عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَيَأْمَنُ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ " . وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَجَابِرٍ . وَحَدِيثُ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1622
Sahih
Narrated Abu Al-Aswad : From 'Urwah [bin Az-Zubair], and Sulaiman bin Yasar, that they reported to him from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said: "Whoever fasts a day in the cause of Allah, Allah shall distance him from the Fire by seventy autumns." One of them said "seventy" and the other said: "forty". [Abu 'Eisa said:] This Hadith is a Gharib Hadith from this route. Abu Al-Aswad's name is Muhammad bin 'Abdur-Rahman bin Nawfal Al-Asadi Al-Madani. There are narrations on this topic from Abu Sa'eed, Anas, 'Uqbah bin 'Amir, and Abu Umamah
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جہاد کرتے وقت ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اسے ستر سال کی مسافت تک جہنم سے دور کرے گا“ ۱؎۔ عروہ بن زبیر اور سلیمان بن یسار میں سے ایک نے ”ستر برس“ کہا ہے اور دوسرے نے ”چالیس برس“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱ – یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- راوی ابوالاسود کا نام محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل اسدی مدنی ہے، ۳- اس باب میں ابوسعید، انس، عقبہ بن عامر اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ زَحْزَحَهُ اللَّهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " . أَحَدُهُمَا يَقُولُ سَبْعِينَ وَالآخَرُ يَقُولُ أَرْبَعِينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَأَبُو الأَسْوَدِ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الأَسَدِيُّ الْمَدَنِيُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَنَسٍ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَأَبِي أُمَامَةَ .
#1623
Sahih
Narrated Abu Sa’id Al Khudri : That the Prophet (ﷺ) said: "A worshipper does not fast a day in the cause of Allah except that, that day (of fasting) distances the Fire from his face by seventy autumns." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راہ جہاد میں کوئی بندہ ایک دن بھی روزہ رکھتا ہے تو وہ دن اس کے چہرے سے ستر سال کی مسافت تک جہنم کی آگ کو دور کر دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، قَالَ وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَصُومُ عَبْدٌ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلاَّ بَاعَدَ ذَلِكَ الْيَوْمُ النَّارَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1624
Hasan Sahih
Narrated Abu Umamah Al-Bahili: That the Prophet (ﷺ) said, "Whoever fasts a day in the cause of Allah, Allah shall put between him and the Fire a trench whose distance is like that between the heavens and the earth." This Hadith is Gharib as a narration of Abu Umamah
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد میں جو شخص ایک دن روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس کے اور آگ کے درمیان اسی طرح کی ایک خندق بنا دے گا جیسی زمین و آسمان کے درمیان ہے“۔ یہ حدیث ابوامامہ کی روایت سے غریب ہے۔
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جَمِيلٍ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ جَعَلَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ خَنْدَقًا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ " . هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُمَامَةَ .
#1625
Sahih
Narrated Khuraim bin Fatik: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever spends a sum in the cause of Allah, it is recorded for him seven-hundred fold." [Abu 'Eisa said:] There are something on this topic from Abu Hurairah. This Hadith is Hasan, we only know of it from the narration of Ar-Rukain bin Ar-Rabi' (a narrator in the chain of this Hadith)
خریم بن فاتک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے راستے ( جہاد ) میں کچھ خرچ کیا اس کے لیے سات سو گنا ( ثواب ) لکھ لیا گیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، اس حدیث کو ہم رکین بن ربیع ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمِيلَةَ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كُتِبَتْ لَهُ بِسَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ .