#1576
Very Daif
Narrated 'Ali: From the Prophet (ﷺ), that Kisra sent him a gift so he accepted, and that kings gave him gifts and he accepted them. There is something about this from Jabir. This is a Hasan Gharib Hadith. Thuwair (a narrator in the chain) is Ibn Abi Fakhitah, whose name was Sa'eed bin 'Illaqah, and Thuwair's Kunyah was Abu Jahm
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فارس کے بادشاہ کسریٰ نے آپ کے لیے تحفہ بھیجا تو آپ نے اسے قبول کر لیا، ( کچھ ) اور بادشاہوں نے آپ کے لیے تحفہ بھیجا تو آپ نے ان کے تحفے قبول کئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- راوی ثویر ابوفاختہ کے بیٹے ہیں، ابوفاختہ کا نام سعید بن علاقہ ہے اور ثویر کی کنیت ابوجہم ہے، ۳- اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ كِسْرَى أَهْدَى إِلَيْهِ فَقَبِلَ مِنْهُ وَأَنَّ الْمُلُوكَ أَهْدَوْا إِلَيْهِ فَقَبِلَ مِنْهُمْ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَثُوَيْرٌ هُوَ ابْنُ أَبِي فَاخِتَةَ وَأَبُو فَاخِتَةَ اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ عِلاَقَةَ وَثُوَيْرٌ يُكْنَى أَبَا جَهْمٍ .
#1577
Hasan Sahih
Narrated 'Iyad bin Himar: That he gave the Prophet (ﷺ) a gift or a camel, so the Prophet (ﷺ) said: "Have you accepted Islam?" He said: "No." He said: "Then I have been prohibited from the Zabd (gift) of the idolaters." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. And the meaning of his saying: "I haven been prohibited from the Zabd (gifts) of the idolaters" is their gifts. It has been reported about the Messenger (ﷺ) that he used to accept the gifts of the idolaters while a dislike for that is mentioned in this Hadith. And the implication is that this was after he used to accept from them, and then he later forbade their gifts
عیاض بن حمار رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ( اسلام لانے سے قبل ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک تحفہ دیا یا اونٹنی ہدیہ کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم اسلام لا چکے ہو؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”مجھے تو مشرکوں کے تحفہ سے منع کیا گیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «إني نهيت عن زبد المشركين» کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ان کے تحفوں سے منع کیا گیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ مشرکوں کے تحفے قبول فرماتے تھے، جب کہ اس حدیث میں کراہت کا بیان ہے، احتمال ہے کہ یہ بعد کا عمل ہے، آپ پہلے ان کے تحفے قبول فرماتے تھے، پھر آپ نے اس سے منع فرما دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، هُوَ ابْنُ الشِّخِّيرِ عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، أَنَّهُ أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَدِيَّةً لَهُ أَوْ نَاقَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَسْلَمْتَ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَإِنِّي نُهِيتُ عَنْ زَبْدِ الْمُشْرِكِينَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَمَعْنَى قَوْلِهِ " إِنِّي نُهِيتُ عَنْ زَبْدِ الْمُشْرِكِينَ " . يَعْنِي هَدَايَاهُمْ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَقْبَلُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ هَدَايَاهُمْ وَذُكِرَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ الْكَرَاهِيَةُ وَاحْتُمِلَ أَنْ يَكُونَ هَذَا بَعْدَ مَا كَانَ يَقْبَلُ مِنْهُمْ ثُمَّ نَهَى عَنْ هَدَايَاهُمْ .
#1578
Hasan
Narrated Abu Bakrah: "The Prophet (ﷺ) was met by some affair that made him happy, so he prostrated to Allah." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib, we do not know of it except from this route, as a narration of Bakkar bin 'Abdul-'Aziz. This is acted upon according to most of the people of knowledge, they held the view that one could perform the prostration of gratitude. And Bakkar bin 'Adbul-'Aziz bin Abi Bakrah is Muqarib (average) in Hadith
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خبر آئی، آپ اس سے خوش ہوئے اور اللہ کے سامنے سجدہ میں گر گئے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اس کو صرف اسی سند سے بکار بن عبدالعزیز کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- بکار بن عبدالعزیز بن ابی بکرہ مقارب الحدیث ہیں، ۴- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ سجدہ شکر کو درست سمجھتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَتَاهُ أَمْرٌ فَسُرَّ بِهِ فَخَرَّ لِلَّهِ سَاجِدًا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ بَكَّارِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ رَأَوْا سَجْدَةَ الشُّكْرِ . وَبَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ .
#1579
Hasan
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان عورت کسی کو پناہ دے سکتی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے، ۳- کثیر بن زید نے ولید بن رباح سے سنا ہے اور ولید بن رباح نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے سنا ہے اور وہ مقارب الحدیث ہیں، ۴- اس باب میں ام ہانی رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
#1580
Sahih
Narrated Abu Al-Faid: "I heard Sulaim bin 'Amir saying: 'There was a treaty between Mu'awiyah and the people of Rome. He was making an expedition into their lands so that when the period of the treaty was expires he would attack them. So when a man upon an animal' - or - 'upon a horse said: "Allahu Akbar! Fulfillment not betrayal!" - and it turned out to be 'Amr bin 'Abasah - Mu'awiyah asked him about that. He said: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever has a treaty between himself and a people, then let him not violate the treaty nor try to change it until its time has passed, or , in retribution for a similar offense.'" He said: "So Mu'awiyah returned with the people." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
سلیم بن عامر کہتے ہیں کہ معاویہ رضی الله عنہ اور اہل روم کے درمیان ( کچھ مدت تک کے لیے ) عہد و پیمان تھا، معاویہ رضی الله عنہ ان کے شہروں میں جاتے تھے تاکہ جب عہد کی مدت تمام ہو تو ان پر حملہ کر دیں، اچانک ایک آدمی کو اپنی سواری یا گھوڑے پر: اللہ اکبر! ”تمہاری طرف سے ایفائے عہد ہونا چاہیئے نہ کہ بدعہدی“، کہتے ہوئے دیکھا وہ عمرو بن عبسہ رضی الله عنہ تھے، تو معاویہ رضی الله عنہ نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جس آدمی کے اور کسی قوم کے درمیان عہد و پیمان ہو تو جب تک اس کی مدت ختم نہ ہو جائے یا اس عہد کو ان تک برابری کے ساتھ واپس نہ کر دے، ہرگز عہد نہ توڑے اور نہ نیا عہد کرے“، معاویہ رضی الله عنہ لوگوں کو لے کر واپس لوٹ آئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الْفَيْضِ، قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ كَانَ بَيْنَ مُعَاوِيَةَ وَبَيْنَ أَهْلِ الرُّومِ عَهْدٌ وَكَانَ يَسِيرُ فِي بِلاَدِهِمْ حَتَّى إِذَا انْقَضَى الْعَهْدُ أَغَارَ عَلَيْهِمْ فَإِذَا رَجُلٌ عَلَى دَابَّةٍ أَوْ عَلَى فَرَسٍ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَفَاءٌ لاَ غَدْرٌ . وَإِذَا هُوَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ فَسَأَلَهُ مُعَاوِيَةُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ فَلاَ يَحُلَّنَّ عَهْدًا وَلاَ يَشُدَّنَّهُ حَتَّى يَمْضِيَ أَمَدُهُ أَوْ يَنْبِذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ " . قَالَ فَرَجَعَ مُعَاوِيَةُ بِالنَّاسِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1581
Sahih
Narrated Ibn 'Umar: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed the one who betrays will have a banner erected for him on the Day of Judgement." [He said:] There are narrations on this topic from 'Ali, 'Abdullah bin Mas'ud, Abu Sa'eed Al-Khudri, and Anas. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. I asked Muhammad about the Hadith of Suwaid, from Abu Ishaq, from 'Umarah bin 'Umair, from 'Ali, from the Prophet (ﷺ) who said: "For every person who betrays there will be banner." He said: "I do not know of this Hadith being Marfu
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”بیشک بدعہدی کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- میں نے محمد سے سوید کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا جسے وہ ابواسحاق سبیعی سے، ابواسحاق نے عمارہ بن عمیر سے، عمارہ نے علی رضی الله عنہ سے اور علی رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”ہر عہد توڑنے والے کے لیے ایک جھنڈا ہو گا“، محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا: میرے علم میں یہ حدیث مرفوع نہیں ہے، ۳- اس باب میں علی، عبداللہ بن مسعود، ابو سعید خدری اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنِي صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ الْغَادِرَ يُنْصَبُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَنَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ حَدِيثِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ " . فَقَالَ لاَ أَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ مَرْفُوعًا .
#1582
Sahih
Narrated Jabir:"On the day of (the battle of) Al-Ahzab, Sa'd bin Mu'adh was struck by an arrow such that the upper vein or lower vein of his forearm was severed. So the Messenger of Allah (ﷺ) tried to stop it with fire, but it made his arm bleed profusely so he left it. Then he did it another time but it caused it to bleed profusely. Upon seeing that he said: 'O Allah! Do not allow my soul depart until my eyes are comforted by elimination of Banu Quraizah.' He pressed his vein closed and it did not bleed a drop before they surrendered to the arbitration of Sa'd bin Mu'adh. He (the Prophet (ﷺ)) sent to him (Sa'd) who judged that their men should be killed, their women should be spared, and that the Muslims may share them among themselves. With this, the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'You have judged according to Allah's judgement for them.' And they were four hundred. Then when he finished killing them, his vein opened up and he died." [He said:] There are narrations on this topic from Abu Sa'eed and 'Atiyyah Al-Qurazi. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ احزاب میں سعد بن معاذ رضی الله عنہ کو تیر لگا، کفار نے ان کی رگ اکحل یا رگ ابجل ( بازو کی ایک رگ ) کاٹ دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آگ سے داغا تو ان کا ہاتھ سوج گیا، لہٰذا آپ نے اسے چھوڑ دیا، پھر خون بہنے لگا، چنانچہ آپ نے دوبارہ داغا پھر ان کا ہاتھ سوج گیا، جب سعد بن معاذ رضی الله عنہ نے یہ دیکھا تو انہوں نے دعا کی: اے اللہ! میری جان اس وقت تک نہ نکالنا جب تک بنو قریظہ ( کی ہلاکت اور ذلت سے ) میری آنکھ ٹھنڈی نہ ہو جائے، پس ان کی رگ رک گئی اور خون کا ایک قطرہ بھی اس سے نہ ٹپکا، یہاں تک کہ بنو قریظہ سعد بن معاذ رضی الله عنہ کے حکم پر ( قلعہ سے ) نیچے اترے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد کو بلایا انہوں نے آ کر فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے اور عورتوں کو زندہ رکھا جائے جن سے مسلمان خدمت لیں ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ان کے بارے میں اللہ کے فیصلہ کے موافق فیصلہ کیا ہے، ان کی تعداد چار سو تھی، جب آپ ان کے قتل سے فارغ ہوئے تو سعد کی رگ کھل گئی اور وہ انتقال کر گئے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری اور عطیہ قرظی رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ رُمِيَ يَوْمَ الأَحْزَابِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَطَعُوا أَكْحَلَهُ أَوْ أَبْجَلَهُ فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالنَّارِ فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ فَتَرَكَهُ فَنَزَفَهُ الدَّمُ فَحَسَمَهُ أُخْرَى فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ اللَّهُمَّ لاَ تُخْرِجْ نَفْسِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ . فَاسْتَمْسَكَ عِرْقُهُ فَمَا قَطَرَ قَطْرَةً حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَحَكَمَ أَنْ يُقْتَلَ رِجَالُهُمْ وَيُسْتَحْيَى نِسَاؤُهُمْ يَسْتَعِينُ بِهِنَّ الْمُسْلِمُونَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَصَبْتَ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ " . وَكَانُوا أَرْبَعَمِائَةٍ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَتْلِهِمُ انْفَتَقَ عِرْقُهُ فَمَاتَ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَعَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1583
Daif
Narrated Samurah bin Jundab: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Kill the elder men among the idolaters and spare the Sharkh amont them." And the Sharkh are the boys who did not begin to grow pubic hair. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Hajjaj bin Artah narrated similarly from Qatadah
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرکین کے مردوں کو قتل کر دو اور ان کے لڑکوں میں سے جو بلوغت کی عمر کو نہ پہنچے ہوں انہیں کو چھوڑ دو“، «شرخ» وہ لڑکے ہیں جن کے زیر ناف کے بال نہ نکلے ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- حجاج بن ارطاۃ نے قتادہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اقْتُلُوا شُيُوخَ الْمُشْرِكِينَ وَاسْتَحْيُوا شَرْخَهُمْ " . وَالشَّرْخُ الْغِلْمَانُ الَّذِينَ لَمْ يُنْبِتُوا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ . وَرَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ قَتَادَةَ نَحْوَهُ .
#1584
Sahih
Narrated 'Atiyyah Al-Qurazi: "We were presented to the Messenger of Allah (ﷺ) on the day of (the battle of) Quraizah. Whoever had pubic hair was killed and whoever did not was left to his way. I was of those who did not have pubic hair so I was left to my way." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. This is acted upon according to some of the people of knowledge. They consider pubic hair an indication of the age of responsibility, if it is not known whether he has had a wet dream, or his age. This is the view of Ahmad and Ishaq
عطیہ قرظی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں قریظہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، تو جس کے ( زیر ناف کے ) بال نکلے ہوئے تھے اسے قتل کر دیا جاتا اور جس کے نہیں نکلے ہوتے اسے چھوڑ دیا جاتا، چنانچہ میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں نکلے تھے، لہٰذا مجھے چھوڑ دیا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اگر بلوغت اور عمر معلوم نہ ہو تو وہ لوگ ( زیر ناف کے ) بال نکلنے ہی کو بلوغت سمجھتے تھے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قَالَ عُرِضْنَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَكَانَ مَنْ أَنْبَتَ قُتِلَ وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ خُلِّيَ سَبِيلُهُ فَكُنْتُ مِمَّنْ لَمْ يُنْبِتْ فَخُلِّيَ سَبِيلِي . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُمْ يَرَوْنَ الإِنْبَاتَ بُلُوغًا إِنْ لَمْ يُعْرَفِ احْتِلاَمُهُ وَلاَ سِنُّهُ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ .
#1585
Hasan
Narrated 'Amr bin Shu'aib: From his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) said during his Khutbah: "Fulfill the allegiances sworn in Jahiliyyah for it" - meaning Islam - "does not add to them except in gravity. And do not initiate new allegiances in Islam." [He said:] There are narration on this topic from 'Abdur-Rahman bin 'Awf, Umm Salamah, Jubair bin Mut'im, Abu Hurairah, Ibn 'Abbas, and Qais bin 'Asim. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا: ”جاہلیت کے حلف ( معاہدہ تعاون ) کو پورا کرو ۱؎، اس لیے کہ اس سے اسلام کی مضبوطی میں اضافہ ہی ہوتا ہے اور اب اسلام میں کوئی نیا معاہدہ تعاون نہ کرو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف، ام سلمہ، جبیر بن مطعم، ابوہریرہ، ابن عباس اور قیس بن عاصم رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي خُطْبَتِهِ " أَوْفُوا بِحِلْفِ الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّهُ لاَ يَزِيدُهُ يَعْنِي الإِسْلاَمَ إِلاَّ شِدَّةً وَلاَ تُحْدِثُوا حِلْفًا فِي الإِسْلاَمِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَقَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1586
Sahih
Narrated Bajalah bin 'Abdah : "I was a scribe for Jaz' bin Mu'awiyah at Manadhir when 'Umar's letter came to us (saying): 'Inspect the Zoroastrians around you to take the Jizyah from them. For indeed 'Abdur-Rahman bin 'Awf informed me that the Messenger of Allah (ﷺ) took the Jizyah from the Zoroastrians of Hajar.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan
بجالہ بن عبدہ کہتے ہیں کہ میں مقام مناذر میں جزء بن معاویہ کا منشی تھا، ہمارے پاس عمر رضی الله عنہ کا خط آیا کہ تمہاری طرف جو مجوس ہوں ان کو دیکھو اور ان سے جزیہ لو کیونکہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے مجھے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ بَجَالَةَ بْنِ عَبْدَةَ، قَالَ كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَلَى مَنَاذِرَ فَجَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ انْظُرْ مَجُوسَ مَنْ قِبَلَكَ فَخُذْ مِنْهُمُ الْجِزْيَةَ فَإِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
#1587
Sahih
Narrated Bajalah: That 'Umar would not take the Jizyah from the Zoroastrians until 'Abdur-Rahman bin 'Awf informed him that the Prophet (ﷺ) took Jizyah from the Zoroastrians of Hajar." There is more dialogue in the Hadith than this. And this Hadith is Hasan Sahih
بجالہ بن عبدہ سے روایت ہے کہ عمر رضی الله عنہ مجوس سے جزیہ نہیں لیتے تھے یہاں تک کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ان کو خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا، اس حدیث میں اس سے زیادہ تفصیل ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ بَجَالَةَ، أَنَّ عُمَرَ، كَانَ لاَ يَأْخُذُ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ حَتَّى أَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ . وَفِي الْحَدِيثِ كَلاَمٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1588
Hasan
Narrated Malik :From Az-Zuhri, that Sa'ib bin Yazid said: "The Messenger of Allah (ﷺ) took the Jizyah from the Zoroastrians of Bahrain, and 'Umar took it in Persia, and 'Uthman took it from the Persians." I asked Muhammad about this, so he said: "It is: 'Malik from Az-Zuhri from the Prophet (ﷺ)
سائب بن یزید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین کے مجوسیوں سے، اور عمر اور عثمان رضی الله عنہما نے فارس کے مجوسیوں سے جزیہ لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ مالک روایت کرتے ہیں زہری سے اور زہری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْجِزْيَةَ مِنْ مَجُوسِ الْبَحْرَيْنِ وَأَخَذَهَا عُمَرُ مِنْ فَارِسَ وَأَخَذَهَا عُثْمَانُ مِنَ الْفُرْسِ . وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا فَقَالَ هُوَ مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#1589
Sahih
Narrated 'Uqbah bin 'Amir: "I said: 'O Messenger of Allah! We come across a people and they do not host us, and they do not give us our rights, and we do not take anything from them. So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'If they refuse such that you can only take by force, then take.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan. It has been reported by Al-Laith bin Sa'd from Yazid bin Abi Habib as well. This Hadith only means that they would go out for battles and they would pass a people among whom they would not find any food to buy for a price. So the Prophet (ﷺ) told them: If they refuse to sell you, such that you have to take it forcefully, then take it. This is how the explanation has been related in some of the Ahadith. And it has been related that 'Umar bin Al-Khattab, may Allah be please with him, would order similarly
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم ایسے لوگوں کے پاس سے گزرتے ہیں جو نہ ہماری مہمانی کرتے ہیں، نہ ان پر جو ہمارا حق ہے اسے ادا کرتے ہیں، اور ہم ان سے کچھ نہیں لیتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ نہ دیں سوائے اس کے کہ تم زبردستی ان سے لو، تو زبردستی لے لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اسے لیث بن سعد نے بھی یزید بن ابی حبیب سے روایت کیا ہے ( جیسا کہ بخاری کی سند میں ہے ) ، ۳- اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ صحابہ جہاد کے لیے نکلتے تھے تو وہ ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرتے، جہاں کھانا نہیں پاتے تھے، کہ قیمت سے خریدیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ( کھانا ) فروخت کرنے سے انکار کریں سوائے اس کے کہ تم زبردستی لو تو زبردستی لے لو، ۴- ایک حدیث میں اسی طرح کی وضاحت آئی ہے، عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے مروی ہے، وہ بھی اسی طرح کا حکم دیا کرتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَمُرُّ بِقَوْمٍ فَلاَ هُمْ يُضَيِّفُونَا وَلاَ هُمْ يُؤَدُّونَ مَا لَنَا عَلَيْهِمْ مِنَ الْحَقِّ وَلاَ نَحْنُ نَأْخُذُ مِنْهُمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ أَبَوْا إِلاَّ أَنْ تَأْخُذُوا كَرْهًا فَخُذُوا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدْ رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَيْضًا . وَإِنَّمَا مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُمْ كَانُوا يَخْرُجُونَ فِي الْغَزْوِ فَيَمُرُّونَ بِقَوْمٍ وَلاَ يَجِدُونَ مِنَ الطَّعَامِ مَا يَشْتَرُونَ بِالثَّمَنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنْ أَبَوْا أَنْ يَبِيعُوا إِلاَّ أَنْ تَأْخُذُوا كَرْهًا فَخُذُوا " . هَكَذَا رُوِيَ فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ مُفَسَّرًا وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضى الله عنه أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِنَحْوِ هَذَا .
#1590
Sahih
Narrated Ibn 'Abbas: That on the day of Conquest of Makkah, the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no Hijrah after the conquest, there is only Jihad and intention, and when you are called to go forth (for battle), then go." [He said:] There are narrations on this topic from Abu Sa'eed, 'Abdullah bin 'Amr, and 'Abdullah bin Hubshi. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Sufyan Ath-Thawri reported it similarly from Mansur bin Al-Mu'tamir
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے لیکن جہاد اور نیت باقی ہے، اور جب تم کو جہاد کے لیے طلب کیا جائے تو نکل پڑو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- سفیان ثوری نے بھی منصور بن معتمر سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابوسعید، عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن حبشی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ " لاَ هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ نَحْوَ هَذَا .
#1591
Sahih
Narrated Yahya bin Abi Kathir: From Abu Salamah, from Jabir bin Abdullah about the statement of Allah, most High: Allah was pleased with the believers when they gave the pledge to you under the tree (48:18). that Jabir said: "We pledged to the Messenger of Allah (ﷺ) that we would not flee, and we did not pledge to him for death." [He said:] There are narration on this topic from Salamah bin Al-Akwa', Ibn 'Umar, 'Ubadah, and Jarir bin 'Abdullah. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is been reported from 'Eisa bin Yunus, from Al-Awza'i, from Yahya bin Abi Kathir who said: "Jabir bin 'Abdullah said" and he did not mention Abu Salamah on it
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے آیت کریمہ: «لقد رضي الله عن المؤمنين إذ يبايعونك تحت الشجرة» ”اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے“۔ ( الفتح: ۱۸ ) کے بارے میں روایت ہے، جابر کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرار نہ ہونے کی بیعت کی تھی، ہم نے آپ سے موت کے اوپر بیعت نہیں کی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث بسند «عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن جابر بن عبد الله» مروی ہے، اس میں یحییٰ بن ابی کثیر اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کے درمیان ابوسلمہ کے واسطے کا ذکر نہیں ہے، ۲- اس باب میں سلمہ بن الاکوع، ابن عمر، عبادہ اور جریر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: (لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ) قَالَ جَابِرٌ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى أَنْ لاَ نَفِرَّ وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ وَابْنِ عُمَرَ وَعُبَادَةَ وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَلَمْ يُذْكَرْ فِيهِ أَبُو سَلَمَةَ .
#1592
Sahih
Narrated Yazid bin Abi 'Ubaid: "I said to Salamah bin Al-Akwa': "For what did you pledge to the Messenger of Allah (ﷺ) on the Day of Al-Hudaibiyyah?" He said: "For death." This Hadith is Hasan Sahih
یزید بن ابی عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ سے پوچھا: حدیبیہ کے دن آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس بات پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے کہا: موت پر ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ عَلَى أَىِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ عَلَى الْمَوْتِ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1593
Sahih
Narrated Ibn 'Umar: "We used to pledge to the Messenger of Allah (ﷺ) to hear and obey." So he would say to us: "As much as you are able." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمع و طاعت ( یعنی آپ کے حکم سننے اور آپ کی اطاعت کرنے ) پر بیعت کرتے تھے، پھر آپ ہم سے فرماتے: ”جتنا تم سے ہو سکے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- حدیث جابر اور حدیث سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہما دونوں حدیثوں کا معنی صحیح ہے، ( ان میں تعارض نہیں ہے ) بعض صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے موت پر بیعت کی تھی، ان لوگوں نے کہا تھا: ہم آپ کے سامنے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ قتل کر دیئے جائیں، اور دوسرے لوگوں نے آپ سے بیعت کرتے ہوئے کہا تھا: ہم نہیں بھاگیں گے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنَّا نُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فَيَقُولُ لَنَا " فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ كِلاَهُمَا .
#1594
Sahih
Narrated Jabir bin ‘Abdullah : "We did not pledge to the Messenger of Allah (ﷺ) for death, but only that we would not flee." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih, meaning both of the Ahadith are Sahih. Some of his Companions pledged to him for death, they said only: "We will not leave from in front of you as long as we are not killed." While others pledged him by saying: "We will not flee
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے موت پر بیعت نہیں کی تھی، ہم نے تو آپ سے بیعت کی تھی کہ نہیں بھاگیں گے ( چاہے اس کا انجام کبھی موت ہی کیوں نہ ہو جائے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمْ نُبَايِعْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمَوْتِ إِنَّمَا بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لاَ نَفِرَّ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَمَعْنَى كِلاَ الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ قَدْ بَايَعَهُ قَوْمٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى الْمَوْتِ وَإِنَّمَا قَالُوا لاَ نَزَالُ بَيْنَ يَدَيْكَ حَتَّى نُقْتَلَ وَبَايَعَهُ آخَرُونَ فَقَالُوا لاَ نَفِرُّ .
#1595
Sahih
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Three will not be spoken to by Allah on the Day of Judgement, nor will they be purified, and for them is a painful torment: A man that gave a pledge to an Imam, and if he gives to him he fulfills it, and if he does not give to him he does not fulfill not fulfill it." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمیوں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بات نہیں کرے گا نہ ہی ان کو گناہوں سے پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے: ایک وہ آدمی جس نے کسی امام سے بیعت کی پھر اگر امام نے اسے ( اس کی مرضی کے مطابق ) دیا تو اس نے بیعت پوری کی اور اگر نہیں دیا تو بیعت پوری نہیں کی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے اور بلا اختلاف اسی کے موافق حکم ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ثَلاَثَةٌ لاَ يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ رَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا فَإِنْ أَعْطَاهُ وَفَى لَهُ وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يَفِ لَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَعَلَى ذَلِكَ الْأَمْرُ بِلَا اخْتِلَافٍ.
#1596
Sahih
Narrated Jabir: "A slave came to give the pledge to the Prophet (ﷺ) for Hijrah, but the Prophet (ﷺ) did not realize that he was a slave. So his master came, and the Prophet (ﷺ) said: 'Sell him to me.' So he purchased him for two black slaves. After this he (ﷺ) would not take the pledge from anyone until he asked him if he was a slave." [He said:] There is something on this topic from Ibn 'Abbas. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Jabir is Hasan Gharib Sahih, we do not know of it except as a narration of Abu Az-Zubair
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک غلام آیا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں جانتے تھے کہ وہ غلام ہے، اتنے میں اس کا مالک آ گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اسے بیچ دو“، پھر آپ نے اس کو دو کالے غلام دے کر خرید لیا، اس کے بعد آپ نے کسی سے بیعت نہیں لی جب تک اس سے یہ نہ پوچھ لیتے کہ کیا وہ غلام ہے؟ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ہم اس کو صرف ابوالزبیر کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْهِجْرَةِ وَلاَ يَشْعُرُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ عَبْدٌ فَجَاءَ سَيِّدُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " بِعْنِيهِ " . فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ وَلَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ أَعَبْدٌ هُوَ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الزُّبَيْرِ .
#1597
Sahih
Ibn Al-Munkadir heard Umaimah bin Ruqaiqah saying:"I pledged to the Messenger of Allah (ﷺ) along with some women. He said to us: 'In as much as you are able and capable.' I said: 'Allah and His Messenger are more merciful to us than we are to ourselves,' then I said: 'O Messenger of Allah take the pledge from us.'" - Sufyan (one of the narrators) said: meaning: 'shake (hands) on it with us' - "so the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'My statement to one hundred women is like my statement to one.'" [He said:] There are narrations on this topic from 'Aishah, from 'Abdullah bin 'Umar, and Asma' bint Yazid. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih, we do not know of it except as a narration of Muhammad bin Al-Munkadir. Sufyan Ath-Thawri, Malik bin Anas, and others reported this Hadith from Muhammad bin Al-Munkadir similarly. He said: I asked Muhammad about this Hadith and he said: "I am not aware of a Hadith other than this from Umaimah bint Ruqaiqah." There is another woman named Umaimah who narrated from the Messenger of Allah (ﷺ)
امیمہ بنت رقیقہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کئی عورتوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، آپ نے ہم سے فرمایا: ”اطاعت اس میں لازم ہے جو تم سے ہو سکے اور جس کی تمہیں طاقت ہو“، میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہم پر خود ہم سے زیادہ مہربان ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سے بیعت لیجئے ( سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: ان کا مطلب تھا مصافحہ کیجئے ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سو عورتوں کے لیے میرا قول میرے اس قول جیسا ہے جو ایک عورت کے لیے ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف محمد بن منکدر ہی کی روایت سے جانتے ہیں، سفیان ثوری، مالک بن انس اور کئی لوگوں نے محمد بن منکدر سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں امیمہ بنت رقیقہ کی اس کے علاوہ دوسری کوئی حدیث نہیں جانتا ہوں، ۳- امیمہ نام کی ایک دوسری عورت بھی ہیں جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث آئی ہے۔ ۴- اس باب میں عائشہ، عبداللہ بن عمر اور اسماء بنت یزید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ أُمَيْمَةَ بِنْتَ رُقَيْقَةَ، تَقُولُ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نِسْوَةٍ فَقَالَ لَنَا " فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ " . قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنَّا بِأَنْفُسِنَا . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْنَا . قَالَ سُفْيَانُ تَعْنِي صَافِحْنَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا قَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ كَقَوْلِي لاِمْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَأَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ . وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ نَحْوَهُ . قَالَ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ لاَ أَعْرِفُ لأُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ . وَأُمَيْمَةُ امْرَأَةٌ أُخْرَى لَهَا حَدِيثٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#1598
Sahih
Narrated Al-Bara' : "We used to say that the participants of Badr on the Day of Badr were like the number of companions of Talut, three hundred and thirteen men." [He said:] There is something on this topic from Ibn 'Abbas. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Ath-Thawri and others reported it from Abu Ishaq
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ کہا کرتے تھے کہ غزوہ بدر کے دن بدری لوگ تعداد میں طالوت کے ساتھیوں کے برابر تین سو تیرہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ثوری اور دوسرے لوگوں نے بھی ابواسحاق سبیعی سے اس کی روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ أَصْحَابَ، بَدْرٍ يَوْمَ بَدْرٍ كَعِدَّةِ أَصْحَابِ طَالُوتَ ثَلاَثِمِائَةٍ وَثَلاَثَةَ عَشَرَ رَجُلاً . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ .
#1599
Sahih
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد عبدالقیس سے فرمایا: ”میں تم لوگوں کو حکم دیتا ہوں کہ مال غنیمت سے خمس ( یعنی پانچواں حصہ ) ادا کرو، امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث میں ایک قصہ ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
#1600
Sahih
Narrated 'Abayah bin Rifa'ah: From his father, from his grandfather Rafi' bin Khadij, who said: "We were with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey, when the hasty people went rushing ahead to the sheep to cook them, while the Messenger of Allah (ﷺ) was in the rear of the people. Then he passed the kettled and ordered that they be weighed, then he distributed it between them and equated a camel to ten sheep." [Abu 'Eisa said:] Sufyan Ath-Thawri reported it from his father, from 'Abayah, from his grandfather Rafi' bin Khadij, and he did not mention "from his father" in it. This was narrated to us by Mahmud bin Ghailan (who said:) "Waki' narrated it to us from Sufyan." And this is more correct. 'Abayah bin Rifa'ah heard from his grandfather Rafi' bin Khadij. He said: There are narrations on this topic from Tha'labah bin Al-Hakam, Anas, Abu Rihanah, Abu Ad-Darda, 'Abdur-Rahman bin Samurah, Zaid bin Khalid, Jabir, Abu Hurairah, and Abu Ayyub
رافع بن خدیج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، جلد باز لوگ آگے بڑھے اور غنیمت سے ( کھانے پکانے کی چیزیں ) جلدی لیا اور ( تقسیم سے پہلے اسے ) پکانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پیچھے آنے والے لوگوں کے ساتھ تھے، آپ ہانڈیوں کے قریب سے گزرے تو آپ نے حکم دیا اور وہ الٹ دی گئیں، پھر آپ نے ان کے درمیان مال غنیمت تقسیم کیا، آپ نے ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سفیان ثوری نے یہ حدیث بطریق: «عن أبيه سعيد، عن عباية، عن جده رافع بن خديج» روایت کی ہے، اس سند میں عبایہ نے اپنے باپ کے واسطے کا نہیں ذکر کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم سے اس حدیث کو محمود بن غیلان نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: ہم سے وکیع نے بیان کیا، اور وکیع سفیان سے روایت کرتے ہیں۔ یہ روایت زیادہ صحیح ہے، عبایہ بن رفاعہ کا سماع ان کے دادا رافع بن خدیج سے ثابت ہے، ۲- اس باب میں ثعلبہ بن حکم، انس، ابوریحانہ، ابوالدرداء، عبدالرحمٰن بن سمرہ، زید بن خالد، جابر، ابوہریرہ اور ابوایوب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَتَقَدَّمَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَتَعَجَّلُوا مِنَ الْغَنَائِمِ فَاطَّبَخُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أُخْرَى النَّاسِ فَمَرَّ بِالْقُدُورِ فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ ثُمَّ قَسَمَ بَيْنَهُمْ فَعَدَلَ بَعِيرًا بِعَشْرِ شِيَاهٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ، عَنْ جَدِّهِ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَبِيهِ . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ، مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، . وَهَذَا أَصَحُّ وَعَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ سَمِعَ مِنْ، جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ الْحَكَمِ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي، رَيْحَانَةَ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَجَابِرٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي أَيُّوبَ .