#1301
Sahih
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ وسق سے کم میں عرایا کے بیچنے کی اجازت دی ہے یا ایسے ہی کچھ آپ نے فرمایا۔ راوی کو شک ہے کہ حدیث کے یہی الفاظ ہیں یا کچھ فرق ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔
#1302
Sahih
Narrated Ibn 'Umar: From Zaid bin Thabit that the Messenger of Allah (ﷺ) permitted selling in Al-'Araya by estimating it. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. The Hadith of Abu Hurairah is Hasan Sahih. And this is acted upon according to some of the people of knowledge. Among them Ash-Shafi'i, Ahmad and Ishaq. They said Al-'Araya is an exception from the general scope of the prohibition of the Prophet (ﷺ) when he prohibited Al-Muhaqalah and Al-Muzabanah. They argued using this Hadith of Zaid bin Thabit and the Hadith of Abu Hurairah. They said that he may buy what is less than five Wasq. According to some of the people of knowledge, this means that the Prophet (ﷺ) wanted to make less restriction for them on this matter because they complained to him saying: "We dont by anything with dried dates except fruit." So he permitted them to buy less than five Wasq worth so they could eat fresh dates
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندازہ لگا کر عرایا کو بیچنے کی اجازت دی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ جس میں شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی میں شامل ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے من جملہ جن چیزوں سے منع فرمایا ہے اس سے عرایا مستثنیٰ ہے، اس لیے کہ آپ نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ ان لوگوں نے زید بن ثابت اور ابوہریرہ کی حدیث سے استدلال کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس کے لیے پانچ وسق سے کم خریدنا جائز ہے، ۳- بعض اہل علم کے نزدیک اس کا مفہوم یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر اس سلسلہ میں توسع اور گنجائش دینا ہے، اس لیے کہ عرایا والوں نے آپ سے شکایت کی اور عرض کیا کہ خشک کھجور کے سوا ہمیں کوئی اور چیز میسر نہیں جس سے ہم تازہ کھجور خرید سکیں۔ تو آپ نے انہیں پانچ وسق سے کم میں خریدنے کی اجازت دے دی تاکہ وہ تازہ کھجور کھا سکیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ وَقَالُوا إِنَّ الْعَرَايَا مُسْتَثْنَاةٌ مِنْ جُمْلَةِ نَهْىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَحَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَالُوا لَهُ أَنْ يَشْتَرِيَ مَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ . وَمَعْنَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَرَادَ التَّوْسِعَةَ عَلَيْهِمْ فِي هَذَا لأَنَّهُمْ شَكَوْا إِلَيْهِ وَقَالُوا لاَ نَجِدُ مَا نَشْتَرِي مِنَ الثَّمَرِ إِلاَّ بِالتَّمْرِ فَرَخَّصَ لَهُمْ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَنْ يَشْتَرُوهَا فَيَأْكُلُوهَا رُطَبًا .
#1303
Sahih
Narrated Bushair bin Yasar, the freed slave of Banu Harithah: Rafi' bin Khadij and Sahl bin Abi Hathmah narrated to him that the Messenger of Allah (ﷺ) prohibited Al-Muzabanah sales, (buying) fruits with dried dates, except for those who practice Al-'Araya - for he permitted it for them - and from buying grapes with raisins, and from every fruit by its estimation. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih Gharib from this route
رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ رضی الله عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ یعنی سوکھی کھجوروں کے عوض درخت پر لگی کھجور بیچنے سے منع فرمایا، البتہ آپ نے عرایا والوں کو اجازت دی، اور خشک انگور کے عوض تر انگور بیچنے سے اور اندازہ لگا کر کوئی بھی پھل بیچنے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس طریق سے حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ، مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ، حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ إِلاَّ لأَصْحَابِ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ قَدْ أَذِنَ لَهُمْ وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ بِالزَّبِيبِ وَعَنْ كُلِّ ثَمَرٍ بِخَرْصِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
#1304
Sahih
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not practice An-Najsh." [He said:] There are narrations on this topic from Ibn 'Umar and Anas. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Abu Hurairah is a Hasan Sahih Hadith. This is acted upon according to the people of knowledge, they disliked An-Najsh. [Abu 'Eisa said:] An-Najsh is when a man who knows about the goods comes to the owner of the goods to offer him more than what it is worth, doing so in the presence of the buyer. He intends to seduce the buyer while he himself does not want to buy it, rather he only wants to deceive the buyer with his offer. And this is type of deceit. Ash-Shafi'i said: "If a man commits An-Najsh the he has sinned due to what he has done, but the sale is permissible, because the buyer did not commit An-Najsh
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نجش نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان لوگوں نے «نجش» کو ناجائز کہا ہے، ۴- «نجش» یہ ہے کہ ایسا آدمی جو سامان کے اچھے برے کی تمیز رکھتا ہو سامان والے کے پاس آئے اور اصل قیمت سے بڑھا کر سامان کی قیمت لگائے اور یہ ایسے وقت ہو جب خریدار اس کے پاس موجود ہو، مقصد صرف یہ ہو کہ اس سے خریدار دھوکہ کھا جائے اور وہ ( دام بڑھا چڑھا کر لگانے والا ) خریدنے کا خیال نہ رکھتا ہو بلکہ صرف یہ چاہتا ہو کہ اس کی قیمت لگانے کی وجہ سے خریدار دھوکہ کھا جائے۔ یہ دھوکہ ہی کی ایک قسم ہے، ۵- شافعی کہتے ہیں: اگر کوئی آدمی «نجش» کرتا ہے تو اپنے اس فعل کی وجہ سے وہ یعنی «نجش» کرنے والا گنہگار ہو گا اور بیع جائز ہو گی، اس لیے کہ بیچنے والا تو «نجش» نہیں کر رہا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ قُتَيْبَةُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَنَاجَشُوا " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَنَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ . كَرِهُوا النَّجْشَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَالنَّجْشُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ الَّذِي يَفْصِلُ السِّلْعَةَ إِلَى صَاحِبِ السِّلْعَةِ فَيَسْتَامُ بِأَكْثَرَ مِمَّا تَسْوَى وَذَلِكَ عِنْدَمَا يَحْضُرُهُ الْمُشْتَرِي يُرِيدُ أَنْ يَغْتَرَّ الْمُشْتَرِي بِهِ وَلَيْسَ مِنْ رَأْيِهِ الشِّرَاءُ إِنَّمَا يُرِيدُ أَنْ يَخْدَعَ الْمُشْتَرِيَ بِمَا يَسْتَامُ وَهَذَا ضَرْبٌ مِنَ الْخَدِيعَةِ . قَالَ الشَّافِعِيُّ وَإِنْ نَجَشَ رَجُلٌ فَالنَّاجِشُ آثِمٌ فِيمَا يَصْنَعُ وَالْبَيْعُ جَائِزٌ لأَنَّ الْبَائِعَ غَيْرُ النَّاجِشِ .
#1305
Sahih
Narrated Suwaid bin Qais: "Makhrafah Al-'Abdi and I brought linens from Hajar. The Prophet (ﷺ) came to us in bargain with us with some pants. There was someone with me who weighed (the goods) to determine the value. So the the Prophet (ﷺ) said to the one weighing: 'Weigh and add more.'" [He said:] There are narrations on this topic from Jabir and Abu Hurairah. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Suwaid is a Hasan Sahih Hadith. The people of knowledge consider it recommended to add more when weighing. Shu'bah reported this Hadith from Simak, so he said: "From Abu Safwan" and he mentioned the narration
سوید بن قیس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اور مخرمہ عبدی دونوں مقام ہجر سے ایک کپڑا لے آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ نے ہم سے ایک پائجامے کا مول بھاؤ کیا۔ میرے پاس ایک تولنے ولا تھا جو اجرت لے کر تولتا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تولنے والے سے فرمایا: ”جھکا کر تول“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سوید رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم جھکا کر تولنے کو مستحب سمجھتے ہیں، ۳- اس باب میں جابر اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اور شعبہ نے بھی اس حدیث کو سماک سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے «عن سوید بن قیس» کی جگہ «عن ابی صفوان» کہا ہے پھر آگے حدیث ذکر کی ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَفَةُ الْعَبْدِيُّ، بَزًّا مِنْ هَجَرَ فَجَاءَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَسَاوَمَنَا بِسَرَاوِيلَ وَعِنْدِي وَزَّانٌ يَزِنُ بِالأَجْرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِلْوَزَّانِ " زِنْ وَأَرْجِحْ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سُوَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَأَهْلُ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ الرُّجْحَانَ فِي الْوَزْنِ . وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سِمَاكٍ فَقَالَ عَنْ أَبِي صَفْوَانَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
#1306
Sahih
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever grants respite to an indigent or alleviates it for him, Allah will shade him on the Day of Judgement under His Throne, a Day in which there is no shade except His shade." [He said:] There are narrations on this topic from Abu Al-Yasar, Abu Qatadah, Hudhaifah, Abu Mas'ud, 'Ubadah, and Jabir. [Abu 'Eisa said:] The Hadith if Abu Hurairah is a Hasan Sahih Gharib Hadith from this route
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی تنگ دست ( قرض دار ) کو مہلت دے یا اس کا کچھ قرض معاف کر دے، تو اللہ اسے قیامت کے دن اپنے عرش کے سایہ کے نیچے جگہ دے گا جس دن اس کے سایہ کے علاوہ کوئی اور سایہ نہ ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابویسر ( کعب بن عمرو ) ، ابوقتادہ، حذیفہ، ابن مسعود، عبادہ اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ أَظَلَّهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَحْتَ ظِلِّ عَرْشِهِ يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّهُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي الْيَسَرِ وَأَبِي قَتَادَةَ وَحُذَيْفَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَعُبَادَةَ وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
#1307
Sahih
Narrated Abu Mas'ud: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "A man among those before you was called to reckon and nothing good was found with him. Except that he was a wealthy man so he used to mix with the pople and he would tell his servant to be lenient with the insolvent. So Allah, Mighty and Sublime is He, said: 'We are more worthy of that than him, so be lenient with him.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Abu Al-Yasar is Ka'b bin 'Amr
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلی امتوں میں سے ایک آدمی کا حساب ( اس کی موت کے بعد ) لیا گیا، تو اس کے پاس کوئی نیکی نہیں ملی، سوائے اس کے کہ وہ ایک مالدار آدمی تھا، لوگوں سے لین دین کرتا تھا اور اپنے خادموں کو حکم دیتا تھا کہ ( تقاضے کے وقت ) تنگ دست سے درگزر کریں، تو اللہ تعالیٰ نے ( فرشتوں سے ) فرمایا: ہم اس سے زیادہ اس کے ( درگزر کے ) حقدار ہیں، تم لوگ اسے معاف کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مِنَ الْخَيْرِ شَيْءٌ إِلاَّ أَنَّهُ كَانَ رَجُلاً مُوسِرًا وَكَانَ يُخَالِطُ النَّاسَ وَكَانَ يَأْمُرُ غِلْمَانَهُ أَنْ يَتَجَاوَزُوا عَنِ الْمُعْسِرِ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ تَجَاوَزُوا عَنْهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَأَبُو الْيَسَرِ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو .
#1308
Sahih
Narrated Abu Hurairah: That the Prophet (ﷺ) said: "Procrastination (in paying a debt) by a rich person is oppression. So if your debt is transferred from your debtor to a rich debtor, you should agree." He said: There are narrations on this topic from Ibn 'Umar, and Ash-Sharid bin Suwaid Ath-Thaqafi
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”مالدار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ۱؎ اور جب تم میں سے کوئی کسی مالدار کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی اسے قبول کرے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابن عمر اور شرید بن سوید ثقفی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيٍّ فَلْيَتْبَعْ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَالشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ .
#1309
Hasan Sahih
Narrated Ibn 'Umar: That the Prophet (ﷺ) said: "Procrastination (in paying a debt) by a rich person is oppression. So if your debt is transfered from your debtor you should agree, and do not make two sales in one sale." [Abu 'Eisa said:] The Hadith is the Abu Hurairah (no. 1308) is a Hasan Sahih Hadith. And its meaning is that when the debt of one of you is transferred then agree. Some of the people of knowledge said when a man is offered to transfer his debt to a rich man and he does so, then the transferor is free of it, he is not to seek its return from the transferor. This is the view of Ash-Shafi'i, Ahmad, and Ishaq. Some of the people of knowledge said: "When this wealth could not be collected due to bankruptcy of the one it was transferred to, then he may seek its return to the first one." They argue this view with the saying of 'Uthman and others, when they said: "There is nothing due on a Muslim's wealth that is lost." Ishaq said: "The meaning of this Hadith: 'There is nothing due on a Muslim's wealth that is lost' this is when a man transfers it to another whom he thinks is wealthy, then he becomes bankrupt, so there is nothing due on the Muslim's wealth that is lost
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مالدار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ اور جب تم کسی مالدار کے حوالے کئے جاؤ تو اسے قبول کر لو، اور ایک بیع میں دو بیع نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تم میں سے کوئی قرض وصول کرنے میں کسی مالدار کے حوالے کیا جائے تو اسے قبول کرنا چاہیئے، ۳- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب آدمی کو کسی مالدار کے حوالے کیا جائے اور وہ حوالہ قبول کر لے تو حوالے کرنے والا بری ہو جائے گا اور قرض خواہ کے لیے درست نہیں کہ پھر حوالے کرنے والے کی طرف پلٹے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں: کہ «محتال علیہ» ”جس آدمی کی طرف تحویل کیا گیا ہے“، کے مفلس ہو جانے کی وجہ سے اس کے مال کے ڈوب جانے کا خطرہ ہو تو قرض خواہ کے لیے جائز ہو گا کہ وہ پہلے کی طرف لوٹ جائے، ان لوگوں نے اس بات پر عثمان رضی الله عنہ وغیرہ کے قول سے استدلال کیا ہے کہ مسلمان کا مال ضائع نہیں ہوتا ہے، ۵- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: اس حدیث «ليس على مال مسلم توي» ”مسلمان کا مال ضائع نہیں ہوتا ہے“، کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی قرض خواہ کسی کے حوالے کیا گیا اور اسے مالدار سمجھ رہا ہو لیکن درحقیقت وہ غریب ہو تو ایسی صورت میں مسلمان کا مال ضائع نہ ہو گا ( اور وہ اصل قرض دار سے اپنا مال طلب کر سکتا ہے ) ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرَوِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُحِلْتَ عَلَى مَلِيءٍ فَاتْبَعْهُ وَلاَ تَبِعْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَمَعْنَاهُ أَنَّهُ إِذَا أُحِيلَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيٍّ فَلْيَتْبَعْ . فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا أُحِيلَ الرَّجُلُ عَلَى مَلِيٍّ فَاحْتَالَهُ فَقَدْ بَرِئَ الْمُحِيلُ وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ عَلَى الْمُحِيلِ . وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا تَوِيَ مَالُ هَذَا بِإِفْلاَسِ الْمُحَالِ عَلَيْهِ فَلَهُ أَنْ يَرْجِعَ عَلَى الأَوَّلِ . وَاحْتَجُّوا بِقَوْلِ عُثْمَانَ وَغَيْرِهِ حِينَ قَالُوا لَيْسَ عَلَى مَالِ مُسْلِمٍ تَوًى . قَالَ إِسْحَاقُ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ " لَيْسَ عَلَى مَالِ مُسْلِمٍ تَوًى " . هَذَا إِذَا أُحِيلَ الرَّجُلُ عَلَى آخَرَ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ مَلِيٌّ فَإِذَا هُوَ مُعْدِمٌ فَلَيْسَ عَلَى مَالِ مُسْلِمٍ تَوًى .
#1310
Sahih
Narrated Abu Hurairah: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited sales of Al-Munabadhah and Al-Mulamasah." He said: There are narrations on this topic from Abu Sa'eed and Ibn 'Umar. [Abu 'Eisa said:] The Hadith is Abu Hurairah is a Hasan Sahih Hadith. And the meaning of (Munabadhah) in this Hadith is when it is said: "When I throw something to you then the sale between you and I is concluded." And Al-Mulamasah is that he says: "When you touch something then the sale is concluded." Even if he did not see it at all, like if it was inside of a bag or something else. There are merely sales practices of the people of Jahiliyyah so they were prohibited
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع منابذہ اور بیع ملامسہ سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوسعید اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص یہ کہے: جب میں تمہاری طرف یہ چیز پھینک دوں تو میرے اور تمہارے درمیان بیع واجب ہو جائے گی۔ ( یہ منابذہ کی صورت ہے ) اور ملامسہ یہ ہے کہ کوئی شخص یہ کہے: جب میں یہ چیز چھولوں تو بیع واجب ہو جائے گی اگرچہ وہ سامان کو بالکل نہ دیکھ رہا ہو۔ مثلاً تھیلے وغیرہ میں ہو۔ یہ دونوں جاہلیت کی مروج بیعوں میں سے تھیں لہٰذا آپ نے اس سے منع فرمایا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الْمُنَابَذَةِ وَالْمُلاَمَسَةِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ أَنْ يَقُولَ إِذَا نَبَذْتُ إِلَيْكَ الشَّىْءَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ . وَالْمُلاَمَسَةُ أَنْ يَقُولَ إِذَا لَمَسْتَ الشَّىْءَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ وَإِنْ كَانَ لاَ يَرَى مِنْهُ شَيْئًا مِثْلَ مَا يَكُونُ فِي الْجِرَابِ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا مِنْ بُيُوعِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ .
#1311
Sahih
Narrated Ibn 'Abbas: "When the Prophet (ﷺ) arrived in Al-Madinah, they were paying in advance for fruits. So he said: 'Whoever pays in advance, then let him pay in advance for known measurements (of dates), and known weights for a specified period of time.'" He said: There are narrations on this topic from Ibn Abi Awfa and 'Abdur-Rahman bin Abza. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Ibn 'Abbas is a Hasan Sahih Hadith. This is acted upon according to the people of knowledge among the Companions of the Prophet (ﷺ) and others. They allow for advanced payments on food, garments and other things in which the limits and description are known. They differed over delay in delivery of animals. Some of the people of knowledge among the Companions of the Prophet (ﷺ) and others thought that delay in delivery of animals is allowed. This is the view of Ash-Shafi'i, Ahmad and Ishaq. Some of the people of knowledge among the Companions of the Prophet (ﷺ) and others, disliked delay in delivery of animals. This is the saying of Sufyan and the people of Al-Kufah. And Abu Al-Minhal's (a narrator) name is 'Abdur-Rahman bin Mut'im
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور اہل مدینہ پھلوں میں سلف کیا کرتے تھے یعنی قیمت پہلے ادا کر دیتے تھے، آپ نے فرمایا: ”جو سلف کرے وہ متعین ناپ تول اور متعین مدت میں سلف کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن ابی اوفی اور عبدالرحمٰن بن ابزی رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ غلہ، کپڑا، اور جن چیزوں کی حد اور صفت معلوم ہو اس کی خریداری کے لیے پیشگی رقم دینے کو جائز کہتے ہیں، ۴- جانور خریدنے کے لیے پیشگی رقم دینے میں اختلاف ہے، ۵- بعض اہل علم جانور خریدنے کے لیے پیشگی رقم دینے کو جائز کہتے ہیں۔ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔ اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے جانور خریدنے کے لیے پیشگی دینے کو مکروہ سمجھا ہے۔ سفیان اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثَّمَرِ فَقَالَ " مَنْ أَسْلَفَ فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ أَجَازُوا السَّلَفَ فِي الطَّعَامِ وَالثِّيَابِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِمَّا يُعْرَفُ حَدُّهُ وَصِفَتُهُ وَاخْتَلَفُوا فِي السَّلَمِ فِي الْحَيَوَانِ فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمُ السَّلَمَ فِي الْحَيَوَانِ جَائِزًا . وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَكَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمُ السَّلَمَ فِي الْحَيَوَانِ . وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ . أَبُو الْمِنْهَالِ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُطْعِمٍ .
#1312
Sahih
Narrated Jabir bin ‘Abdullah : That Allah's Prophet (ﷺ) said: "Whoever has a partner in an orchard, then he is not to sell his share of that until he proposes that to his partner." [Abu 'Eisa said:] The chain of this Hadith is not connected. I heard Muhammad bin Isma'il saying: It is said that "Sulaiman Al-Yashkuri died during the lifetime of Jabir bin 'Abdullah." He said: "And Qatadah did not hear from him, nor did Abu Bishr." Muhammad said: "We do not know of any of them hearing from Sulaiman Al-Yashkuri except that 'Amr bin Dinar possibly heard from his during the lifetome of Jabir bin 'Abdullah." He said: "Qatadah only narrated from a writing of Sulaiman Al-Yashkuri, and he has a book from Jabir bin 'Abdullah." Abu Bakr Al-'Attar 'Abdul Quddus narrates to us, he said: " 'Ali bin Al-Madini said: 'Yahya bin Sa'eed said: "Sulaiman At-Taymi said: 'They went with the book of Jabir bin 'Abdullah to Al-Hasan Al-Basri and he took it' - or he said - 'and they reported it. Then they took it to Qatadah and reported it, so they gave it to me but I did not report it [he said: 'I refused it'] This was narrated to us by Abu Bakr Al-'Attar from 'Ali bin Al-Madini
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی کے باغ میں کوئی ساجھی دار ہو تو وہ اپنا حصہ اس وقت تک نہ بیچے جب تک کہ اسے اپنے ساجھی دار پر پیش نہ کر لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: سلیمان یشکری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جابر بن عبداللہ کی زندگی ہی میں مر گئے تھے، ان سے قتادہ اور ابوبشر کا سماع نہیں ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: میں نہیں جانتا ہوں کہ ان میں سے کسی نے سلیمان یشکری سے کچھ سنا ہو سوائے عمرو بن دینار کے، شاید انہوں نے جابر بن عبداللہ کی زندگی ہی میں سلیمان یشکری سے حدیث سنی ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ قتادہ، سلیمان یشکری کی کتاب سے حدیث روایت کرتے تھے، سلیمان کے پاس ایک کتاب تھی جس میں جابر بن عبداللہ سے مروی احادیث لکھی تھیں، ۳- سلیمان تمیمی کہتے ہیں: لوگ جابر بن عبداللہ کی کتاب حسن بصری کے پاس لے گئے تو انہوں نے اسے لیا یا اس کی روایت کی۔ اور لوگ اسے قتادہ کے پاس لے گئے تو انہوں نے بھی اس کی روایت کی اور میرے پاس لے کر آئے تو میں نے اس کی روایت نہیں کی میں نے اسے رد کر دیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِي حَائِطٍ فَلاَ يَبِيعُ نَصِيبَهُ مِنْ ذَلِكَ حَتَّى يَعْرِضَهُ عَلَى شَرِيكِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ . سَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ سُلَيْمَانُ الْيَشْكُرِيُّ يُقَالُ إِنَّهُ مَاتَ فِي حَيَاةِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . قَالَ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ قَتَادَةُ وَلاَ أَبُو بِشْرٍ . قَالَ مُحَمَّدٌ وَلاَ نَعْرِفُ لأَحَدٍ مِنْهُمْ سَمَاعًا مِنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ فَلَعَلَّهُ سَمِعَ مِنْهُ فِي حَيَاةِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . قَالَ وَإِنَّمَا يُحَدِّثُ قَتَادَةُ عَنْ صَحِيفَةِ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ وَكَانَ لَهُ كِتَابٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْعَطَّارُ عَبْدُ الْقُدُّوسِ قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ذَهَبُوا بِصَحِيفَةِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ فَأَخَذَهَا أَوْ قَالَ فَرَوَاهَا وَذَهَبُوا بِهَا إِلَى قَتَادَةَ فَرَوَاهَا وَأَتَوْنِي بِهَا فَلَمْ أَرْوِهَا . يَقُولُ رَدَدْتُهَا .
#1313
Sahih
Narrated Abu Az-Zubair: From Jabir that the Prophet (ﷺ) prohibited Al-Muhaqalah, Al-Muzabanah, Al-Mukhabarah, and Al-Mu'awamah, and he permitted it in the case of Al-'Araya. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ، مزابنہ ۱؎، مخابرہ ۲؎ اور معاومہ ۳؎ سے منع فرمایا، اور آپ نے عرایا ۴؎ کی اجازت دی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَالْمُعَاوَمَةِ وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1314
Sahih
Narrated Anas: "Prices became excessive during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), so they said: 'O Messenger of Allah! Set prices for us!' So he said: 'Indeed Allah is Al-Musa'ir, Al-Qabid, Al-Basir, Ar-Razzaq. And I am hopeful that I meet my Lord and none of you are seeking (recompense from) me for an injustice involving blood or wealth.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( غلہ وغیرہ کا ) نرخ بڑھ گیا، تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمارے لیے نرخ مقرر کر دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے، وہی روزی تنگ کرنے والا، کشادہ کرنے والا اور کھولنے والا اور بہت روزی دینے والا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنے رب سے اس حال میں ملوں کہ تم میں سے کوئی مجھ سے جان و مال کے سلسلے میں کسی ظلم ( کے بدلے ) کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَثَابِتٍ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ غَلاَ السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ سَعِّرْ لَنَا . فَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّزَّاقُ وَإِنِّي لأَرْجُو أَنْ أَلْقَى رَبِّي وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَطْلُبُنِي بِمَظْلَمَةٍ فِي دَمٍ وَلاَ مَالٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1315
Sahih
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) passed by a pile of food. He put his fingers in it and felt wetness. He said: 'O owner of the food! What is this ?' He replied: 'It was rained upon O Messenger of Allah.' He said: 'Why not put it on top of the food so the people can see it?' Then he said: 'Whoever cheats, he is not one of us.'" He said: There are narrations on this topic from Ibn 'Umar, Abu Al-Hamra', Ibn 'Abbas, Buraidah, Abu Burdah bin Niyar, and Hudhaifah bin Al-Yaman. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Abu Hurairah is Hasan Sahih Hadith. This is acted upon according to the people of knowledge. They dislike cheating and they say that cheating is unlawful
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غلہ کے ڈھیر سے گزرے، تو آپ نے اس کے اندر اپنا ہاتھ داخل کر دیا، آپ کی انگلیاں تر ہو گئیں تو آپ نے فرمایا: ”غلہ والے! یہ کیا معاملہ ہے؟“ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بارش سے بھیگ گیا ہے، آپ نے فرمایا: ”اسے اوپر کیوں نہیں کر دیا تاکہ لوگ دیکھ سکیں“، پھر آپ نے فرمایا: ”جو دھوکہ دے ۱؎، ہم میں سے نہیں ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲ – اس باب میں ابن عمر، ابوحمراء، ابن عباس، بریدہ، ابوبردہ بن دینار اور حذیفہ بن یمان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ دھوکہ دھڑی کو ناپسند کرتے ہیں اور اسے حرام کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ عَلَى صُبْرَةٍ مِنْ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلاً فَقَالَ " يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ مَا هَذَا " . قَالَ أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " أَفَلاَ جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ " . ثُمَّ قَالَ " مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّا " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي الْحَمْرَاءِ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَبُرَيْدَةَ وَأَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا الْغِشَّ وَقَالُوا الْغِشُّ حَرَامٌ .
#1316
Sahih
Narrated Abu Hurairah: "The Messenger of Allah (ﷺ) took a camel of a particular age on loan. He gave back to him a camel of a better age than the one he was given. He said: 'The best among you is the best in repaying.'" He said: There is something on this topic from Abu Rafi'. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Abu Hurairah is a Hasan Sahih Hadith. Shu'bah and Sufyan reported it from Salamah. This is acted upon according to some of the people of knowledge, they saw no harm is taking a camel of a particular age as a loan. This is the view of Ash-Shafi'i, Ahmad, and Ishaq. But some of them disliked that
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوان اونٹ قرض لیا اور آپ نے اسے اس سے بہتر اونٹ دیا اور فرمایا: ”تم میں سے بہتر وہ لوگ ہیں جو قرض کی ادائیگی میں بہتر ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے شعبہ اور سفیان نے بھی سلمہ سے روایت کیا ہے، ۳- اس باب میں ابورافع رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۴- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کسی بھی عمر کا اونٹ قرض لینے کو مکروہ نہیں سمجھتے ہیں، ۵- اور بعض لوگوں نے اسے مکروہ جانا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ اسْتَقْرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِنًّا فَأَعْطَاهُ سِنًّا خَيْرًا مِنْ سِنِّهِ وَقَالَ " خِيَارُكُمْ أَحَاسِنُكُمْ قَضَاءً " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَمْ يَرَوْا بِاسْتِقْرَاضِ السِّنِّ بَأْسًا مِنَ الإِبِلِ . وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَكَرِهَ بَعْضُهُمْ ذَلِكَ .
#1317
Sahih
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( قرض کا ) تقاضہ کیا اور سختی کی، صحابہ نے اسے دفع کرنے کا قصد کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، کیونکہ حقدار کو کہنے کا حق ہے“، پھر آپ نے فرمایا: ”اسے ایک اونٹ خرید کر دے دو“، لوگوں نے تلاش کیا تو انہیں ایسا ہی اونٹ ملا جو اس کے اونٹ سے بہتر تھا، آپ نے فرمایا: ”اسی کو خرید کر دے دو، کیونکہ تم میں بہتر وہ لوگ ہیں جو قرض کی ادائیگی میں بہتر ہوں“۔
#1318
Sahih
Narrated Abu Rafi', the freed slave of the Messenger of Allah (ﷺ): "The Messenger of Allah got a camel in advance. Some camels from the charity." Abu Rafi' said: "So the Messenger of Allah (ﷺ) told me to pay the man back for his camel. I said: 'I did not find among the camels but a superior selection of Raba'. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Give it to him, for indeed the base of people is the best of them in repaying.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
ابورافع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوان اونٹ قرض لیا، پھر آپ کے پاس صدقے کا اونٹ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس آدمی کا اونٹ ادا کر دوں، میں نے آپ سے عرض کیا: مجھے چار دانتوں والے ایک عمدہ اونٹ کے علاوہ کوئی اور اونٹ نہیں مل رہا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”اسے اسی کو دے دو، کیونکہ لوگوں میں سب سے اچھے وہ ہیں جو قرض کی ادائیگی میں سب سے اچھے ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَكْرًا فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَةِ . قَالَ أَبُو رَافِعٍ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ . فَقُلْتُ لاَ أَجِدُ فِي الإِبِلِ إِلاَّ جَمَلاً خِيَارًا رَبَاعِيًّا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَعْطِهِ إِيَّاهُ فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1319
Sahih
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed Allah loves tolerance in selling, tolerance in buying, and tolerance in repaying." He said: There is something on this topic from Jabir. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib. Some of them reported this Hadith from Yunus, from Sa'eed Al-Maqburi, from Abu Hurairah
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ بیچنے، خریدنے اور قرض کے مطالبہ میں نرمی و آسانی کو پسند کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- بعض لوگوں نے اس حدیث کو بسند «عن يونس عن سعيد المقبري عن أبي هريرة» روایت کی ہے، ۳- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ سَمْحَ الْبَيْعِ سَمْحَ الشِّرَاءِ سَمْحَ الْقَضَاءِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يُونُسَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
#1320
Sahih
Narrated Jabir: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah forgave a man who was before you: He was tolerant when selling, tolerant when purchasing, and tolerant when repaying." He said: This Hadith is Gharib Sahih Hasan from this route
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو جو تم سے پہلے تھا بخش دیا، جو نرمی کرنے والا تھا جب بیچتا اور جب خریدتا اور جب قرض کا مطالبہ کرتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس طریق سے حسن، صحیح، غریب ہے۔
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " غَفَرَ اللَّهُ لِرَجُلٍ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانَ سَهْلاً إِذَا بَاعَ سَهْلاً إِذَا اشْتَرَى سَهْلاً إِذَا اقْتَضَى " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
#1321
Sahih
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When you see someone selling or buying in the Masjid then say: 'May Allah not profit your business.' And when you see someone announcing about something lost then say: 'May Allah not return it to you.'" The Hadith of Abu Hurairah is Hasan Gharib. This is acted upon according to some of the people of knowledge. They dislike selling and buying in the Masjid. This is the view of Ahmad and Ishaq. Some of the people of knowledge permitted selling and buying in the Masjid
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں خرید و فروخت کر رہا ہو تو کہو: اللہ تعالیٰ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے، اور جب ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں گمشدہ چیز ( کا اعلان کرتے ہوئے اسے ) تلاش کرتا ہو تو کہو: اللہ تمہاری چیز تمہیں نہ لوٹائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ مسجد میں خرید و فروخت ناجائز سمجھتے ہیں۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۳- بعض اہل علم نے اس میں خرید و فروخت کی رخصت دی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا عَارِمٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَبِيعُ أَوْ يَبْتَاعُ فِي الْمَسْجِدِ فَقُولُوا لاَ أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ وَإِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَنْشُدُ فِيهِ ضَالَّةً فَقُولُوا لاَ رَدَّ اللَّهُ عَلَيْكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا الْبَيْعَ وَالشِّرَاءَ فِي الْمَسْجِدِ . وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ فِي الْمَسْجِدِ
#1322
Daif
عبداللہ بن موہب کہتے ہیں کہ عثمان رضی الله عنہ نے ابن عمر رضی الله عنہما سے کہا: جاؤ ( قاضی بن کر ) لوگوں کے درمیان فیصلے کرو، انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ مجھے معاف رکھیں گے، عثمان رضی الله عنہ نے کہا: ”تم اسے کیوں برا سمجھتے ہو، تمہارے باپ تو فیصلے کیا کرتے تھے؟“ اس پر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو قاضی ہوا اور اس نے عدل انصاف کے ساتھ فیصلے کئے تو لائق ہے کہ وہ اس سے برابر سرابر چھوٹ جائے“ ( یعنی نہ ثواب کا مستحق ہو نہ عقاب کا ) ، اس کے بعد میں ( بھلائی کی ) کیا امید رکھوں، حدیث میں ایک قصہ بھی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث غریب ہے، میرے نزدیک اس کی سند متصل نہیں ہے۔ اور عبدالملک جس سے معتمر نے اسے روایت کیا ہے عبدالملک بن ابی جمیلہ ہیں، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
#1323
Daif
Anas bin Malik narrated that the Messenger of Allah (sallAllahu Alayhi wa sallam) said:"Whoever asks for a position as a judge, then he left on his own. And whoever is forced onto it, Allah sends an angel down to him so that he can be correct." (Daif)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قضاء کا مطالبہ کرتا ہے وہ اپنی ذات کے حوالے کر دیا جاتا ہے ( اللہ کی مدد اس کے شامل حال نہیں ہوتی ) اور جس کو جبراً قاضی بنایا جاتا ہے، اللہ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اسے راہ راست پر رکھتا ہے“۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ بِلاَلِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ سَأَلَ الْقَضَاءَ وُكِلَ إِلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أُجْبِرَ عَلَيْهِ يُنْزِلُ اللَّهُ عَلَيْهِ مَلَكًا فَيُسَدِّدُهُ " .
#1324
Daif
Anas narrated that the Prophet (ﷺ) said:"Whoever seeks to be a judge, and asks others to intercede for him with it, then he will be left on his own. And whoever is coerced into it, Allah sends an angel down to him so that he can be correct." (Daif)
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قضاء کا طالب ہوتا ہے اور اس کے لیے سفارشی ڈھونڈتا ہے، وہ اپنی ذات کے سپرد کر دیا جاتا ہے، اور جس کو جبراً قاضی بنایا گیا ہے، اللہ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کو راہ راست پر رکھتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور یہ اسرائیل کی ( سابقہ ) روایت سے جسے انہوں نے عبدالاعلیٰ سے روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ، عَنْ بِلاَلِ بْنِ مِرْدَاسٍ الْفَزَارِيِّ، عَنْ خَيْثَمَةَ، وَهُوَ الْبَصْرِيُّ عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ ابْتَغَى الْقَضَاءَ وَسَأَلَ فِيهِ شُفَعَاءَ وُكِلَ إِلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أُكْرِهَ عَلَيْهِ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى .
#1325
Sahih
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Whoever takes the responsibility of judge, or is appointed as judge between the people, then he has been slaughtered without a knife
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو منصب قضاء پر فائز کیا گیا یا جو لوگوں کا قاضی بنایا گیا، ( گویا ) وہ بغیر چھری کے ذبح کیا گیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے، ۲- اور یہ اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ابوہریرہ سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ وَلِيَ الْقَضَاءَ أَوْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَقَدْ رُوِيَ أَيْضًا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .