#1276
Sahih
Narrated Abu Mas'ud Al-Ansari: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited the price of a dog, the earnings of the fornicator (from harlotry), and the news of the fortune-teller." This Hadith is Hasan Sahih
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کی کمائی اور کاہن کی مٹھائی سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1277
Sahih
Narrated Ibn Muhayyisah of Banu Harithah: From his father, that he sought permission from the Prophet (ﷺ) to take the wages for cupping and he (ﷺ) forbade him from it. He continued asking him and seeking his permission until he said: "Use it to give fodder to your water-carrying camels, and to feed your slaves." [He said:] There are narrations on this topic from Rafi' bin Khadij, Abu Juhaifah, Jabir, and As-Sa'ib bin Yazid. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Muhayyisah is a Hasan Sahih Hadith. This is acted upon according to some of the people of knowledge. Ahmad said: "If I am asked for something by cupper then I deny him, acting upon this Hadith
محیصہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنا لگانے والے کی اجرت کی اجازت طلب کی، تو آپ نے انہیں اس سے منع فرمایا ۱؎ لیکن وہ باربار آپ سے پوچھتے اور اجازت طلب کرتے رہے یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ”اسے اپنے اونٹ کے چارہ پر خرچ کرو یا اپنے غلام کو کھلا دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- محیصہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں رافع بن خدیج، جحیفہ، جابر اور سائب بن یزید سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- احمد کہتے ہیں: اگر مجھ سے کوئی پچھنا لگانے والا مزدوری طلب کرے تو میں نہیں دوں گا اور دلیل میں یہی حدیث پیش کروں گا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ مُحَيِّصَةَ، أَخِي بَنِي حَارِثَةَ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي إِجَارَةِ الْحَجَّامِ فَنَهَاهُ عَنْهَا فَلَمْ يَزَلْ يَسْأَلُهُ وَيَسْتَأْذِنُهُ حَتَّى قَالَ " اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ وَأَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَأَبِي جُحَيْفَةَ وَجَابِرٍ وَالسَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ مُحَيِّصَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ . وَقَالَ أَحْمَدُ إِنْ سَأَلَنِي حَجَّامٌ نَهَيْتُهُ وَآخُذُ بِهَذَا الْحَدِيثِ .
#1278
Sahih
Narrated Anas: "The Messenger of Allah (ﷺ) was cupped. Abu Talhah did the cupping. So he ordered that he be given two Sa' of food, and he spoke to his masters to reduce his taxes. He said: 'The most virtuous of what you treat with is cupping.' Or, he said: 'The best of your treatments is cupping.'" [He said:] There are narrations on this topic from 'Ali, Ibn 'Abbas, and Ibn 'Umar. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Anas is a Hasan Sahih. Some of the people of knowledge among the Companions of the Prophet (ﷺ), and others permitted paying the cupper. This is the view of Ash-Shafi'i
حمید کہتے ہیں کہ انس رضی الله عنہ سے پچھنا لگانے والے کی کمائی کے بارے میں پوچھا گیا تو انس رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا، اور آپ کو پچھنا لگانے والے ابوطیبہ تھے، تو آپ نے انہیں دو صاع غلہ دینے کا حکم دیا اور ان کے مالکوں سے بات کی، تو انہوں نے ابوطیبہ کے خراج میں کمی کر دی اور آپ نے فرمایا: ”جن چیزوں سے تم دوا کرتے ہو ان میں سب سے افضل پچھنا ہے“ یا فرمایا: ”تمہاری بہتر دواؤں میں سے پچھنا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳ – صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے پچھنا لگانے والے کی اجرت کو جائز قرار دیا ہے۔ یہی شافعی کا بھی قول ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ، فَقَالَ أَنَسٌ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَكَلَّمَ أَهْلَهُ فَوَضَعُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ وَقَالَ " إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ " . أَوْ " إِنَّ مِنْ أَمْثَلِ دَوَائِكُمُ الْحِجَامَةَ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ فِي كَسْبِ الْحَجَّامِ . وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ .
#1279
Sahih
Narrated Jabir: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited the price of the dog and the cat." [Abu 'Eisa said:] There is some confusion (Idtirab) in the chain for this Hadith. The price of a cat is not correct. This Hadith has been reported from Al-A'mash, from some of his companions, from Jabir, and they caused some confusion for Al-A'mash in this narration. There are those among the people of knowledge who disliked the price of a cat, and some of them permitted it. This is the view of Ahmad and Ishaq. It has been reported from Ibn Al-Fudail, from Al-A'mash, from Abu Hazim, from Abu Hurairah from the Prophet (ﷺ), through other than this route
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے اور بلی کی قیمت سے منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند میں اضطراب ہے۔ بلی کی قیمت کے بارے میں یہ صحیح نہیں ہے، ۲- یہ حدیث اعمش سے مروی ہے انہوں نے اپنے بعض اصحاب سے روایت کی ہے اور اس نے جابر سے، یہ لوگ اعمش سے اس حدیث کی روایت میں اضطراب کا شکار ہیں، ۳- اور ابن فضل نے اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بطریق: «الأعمش، عن أبي حازم، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۴- اہل علم کی ایک جماعت نے بلی کی قیمت کو ناجائز کہا ہے، ۵- اور بعض لوگوں نے اس کی رخصت دی ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالاَ أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ فِي إِسْنَادِهِ اضْطِرَابٌ وَلاَ يَصِحُّ فِي ثَمَنِ السِّنَّوْرِ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ عَنْ جَابِرٍ . وَاضْطَرَبُوا عَلَى الأَعْمَشِ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ . وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ثَمَنَ الْهِرِّ وَرَخَّصَ فِيهِ بَعْضُهُمْ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَرَوَى ابْنُ فُضَيْلٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ .
#1280
Daif
Narrated Jabir: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited eating the cat and from its price." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib. We do not know of any major (known) narrators who reports from 'Umar bin Zaid (one of the narrators) besides 'Abdur-Razzaq
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی اور اس کی قیمت کھانے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اور ہم عبدالرزاق کے علاوہ کسی بڑے محدث کو نہیں جانتے جس نے عمرو بن زید سے روایت کی ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ زَيْدٍ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَكْلِ الْهِرِّ وَثَمَنِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . وَعُمَرُ بْنُ زَيْدٍ لاَ نَعْرِفُ كَبِيرَ أَحَدٍ رَوَى عَنْهُ غَيْرَ عَبْدِ الرَّزَّاقِ .
#1281
Hasan
Narrated Abu Al-Muhazzim: From Abu Hurairah who said: "The price of a dog was prohibited, except for the hunting dog." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is not correct from this route. Abu Al-Muhazzim's name is Yazid bin Sufyan, and Shu'bah bin Al-Hajjaj criticized him and graded him weak. Similar to this has been reported from Jabir, from the Prophet (ﷺ), but its chain is also not correct
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کتے کی قیمت سے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) منع فرمایا ہے سوائے شکاری کتے کی قیمت کے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس طریق سے صحیح نہیں ہے، ۲- ابومہزم کا نام یزید بن سفیان ہے، ان کے سلسلہ میں شعبہ بن حجاج نے کلام کیا ہے اور ان کی تضعیف کی ہے، ۳- اور جابر سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، اور اس کی سند بھی صحیح نہیں ہے ( دیکھئیے الصحیحۃ رقم: ۲۹۷۱ ) ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، إِلاَّ كَلْبَ الصَّيْدِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لاَ يَصِحُّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَأَبُو الْمُهَزِّمِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ وَتَكَلَّمَ فِيهِ شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ وَضَعَّفَهُ . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوُ هَذَا وَلاَ يَصِحُّ إِسْنَادُهُ أَيْضًا .
#1282
Hasan
Narrated Abu Umamah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not sell the (slave) female singers, not purchase them, nor teach them (to sing). And there is no good in trading in them, and their prices are unlawful. It was about the likes of this that this Ayah was revealed: And among mankind is he who purchases idle talk to divert from the way of Allah." [He said:] There is narration about this from 'Umar bin Al-Khattab. [Abu 'Eisa said:] We only know of the Hadith of Abu Umamah, like this, from this route. Some of the people of knowledge have criticized 'Ali bin Yazid (one of the narrators) and graded him weak, and he is from Ash-Sham
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانے والی لونڈیوں کو نہ بیچو اور نہ انہیں خریدو، اور نہ انہیں ( گانا ) سکھاؤ ۱؎، ان کی تجارت میں خیر و برکت نہیں ہے اور ان کی قیمت حرام ہے۔ اور اسی جیسی چیزوں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے: «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» ”اور بعض لوگ ایسے ہیں جو لغو باتوں کو خرید لیتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں“ ( لقمان: ۶ ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوامامہ کی حدیث کو ہم اس طرح صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، اور بعض اہل علم نے علی بن یزید کے بارے میں کلام کیا ہے اور ان کی تضعیف کی ہے۔ اور یہ شام کے رہنے والے ہیں، ۲- اس باب میں عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَبِيعُوا الْقَيْنَاتِ وَلاَ تَشْتَرُوهُنَّ وَلاَ تُعَلِّمُوهُنَّ وَلاَ خَيْرَ فِي تِجَارَةٍ فِيهِنَّ وَثَمَنُهُنَّ حَرَامٌ فِي مِثْلِ هَذَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : ( وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ) إِلَى آخِرِ الآيَةِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِثْلَ هَذَا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ وَضَعَّفَهُ وَهُوَ شَامِيٌّ .
#1283
Hasan
Narrated Abu Ayyub: "I narrated heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: 'Whoever seperates a mother from her child, Allah seperates him and his most beloved on the Day of Judgement.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص ماں اور اس کے بچے کے درمیان جدائی ڈالے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے اور اس کے دوستوں کے درمیان جدائی ڈال دے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُيَىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحِبَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
#1284
Daif
Narrated 'Ali : "The Messenger of Allah (ﷺ) gave me two boys who were brothers, so I sold one of them, and the Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'O, 'Ali! What happened to your boy?' So I informed him, and he said: 'Return him, return him.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib. Some of the people of knowledge among the Companions of the Prophet (ﷺ) and others, disliked separating between the captives when selling them. Some of the people of knowledge permitted separating the children that were born in the land of Islam, but the first view is more correct. It has been related that Ibrahim An-Nakha'i seperated a mother and her child in a sale, so he was asked about that. He said: "I sought her permission for that and she approved
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو غلام دیئے جو آپس میں بھائی تھے، میں نے ان میں سے ایک کو بیچ دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”علی! تمہارا غلام کیا ہوا؟“، میں نے آپ کو بتایا ( کہ میں نے ایک کو بیچ دیا ہے ) تو آپ نے فرمایا: ”اسے واپس لوٹا لو، اسے واپس لوٹا لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم بیچتے وقت ( رشتہ دار ) قیدیوں کے درمیان جدائی ڈالنے کو ناجائز کہا ہے، ۳- اور بعض اہل علم نے ان لڑکوں کے درمیان جدائی کو جائز قرار دیا ہے جو سر زمین اسلام میں پیدا ہوئے ہیں۔ پہلا قول ہی زیادہ صحیح ہے، ۴- ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ انہوں نے بیچتے وقت ماں اور اس کے لڑکے کے درمیان تفریق، چنانچہ ان پر یہ اعتراض کیا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے اس کی ماں سے اس کی اجازت مانگی تو وہ اس پر راضی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ وَهَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غُلاَمَيْنِ أَخَوَيْنِ فَبِعْتُ أَحَدَهُمَا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَلِيُّ مَا فَعَلَ غُلاَمُكَ " . فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ " رُدَّهُ رُدَّهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ كَرِهَ بَعْض�� أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمُ التَّفْرِيقَ بَيْنَ السَّبْىِ فِي الْبَيْعِ وَيُكْرَهُ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا وَبَيْنَ الْوَالِدِ وَالْوَلَدِ وَبَيْنَ الإِخْوَةِ وَالأَخَوَاتِ فِي الْبَيْعِ . وَرَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي التَّفْرِيقِ بَيْنَ الْمُوَلَّدَاتِ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي أَرْضِ الإِسْلاَمِ . وَالْقَوْلُ الأَوَّلُ أَصَحُّ . وَرُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ فَرَّقَ بَيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا فِي الْبَيْعِ فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ إِنِّي قَدِ اسْتَأْذَنْتُهَا بِذَلِكَ فَرَضِيَتْ .
#1285
Hasan
Narrated 'Aishah: That the Messenger of Allah (ﷺ) judged: "The produce is for the responsible one." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. This Hadith has been reported through routes other than this, and this acted upon according to the people of knowledge
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ فائدے کا استحقاق ضامن ہونے کی بنیاد پر ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ اور بھی سندوں سے مروی ہے، ۳ – اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ .
#1286
Hasan
Narrated 'Aishah: "The Prophet (ﷺ) judged that the produce is produce is for the responsible one." [He said:] This Hadith is Hasan Sahih, Gharib as a Hadith of Hisham bin 'Urwah (a narrator). [Abu 'Eisa said:] Muslim bin Khalid Az-Zanji reported this Hadith from Hisham, from 'Urwah. Jarir reported it from Hisham as well. It is said that the narration of Jarir has Tadlis in in it, that Jarir committed the Tadlis, he did not hear it from Hisham bin 'Urwah. As for the meaning of "the produce is for the responsible one," he is the man who purchased the slave then the slave produced for him, and he found some defect in him so he returned him to the seller. Then the produce (of his work) is the purchaser's. In cases similar to this, the produce is for the responsible one. [Abu 'Eisa said:] Muhammad bin Isma'il called this Hadith Gharib, as a narration of 'Umar bin 'Ali (one of the narrators). I said: "Do you think that he committed Tadlis?" He said:"No
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ فائدہ کا استحقاق ضامن ہونے کی بنیاد پر ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ہشام بن عروہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- امام ترمذی کہتے ہیں: محمد بن اسماعیل نے اس حدیث کو عمر بن علی کی روایت سے غریب جانا ہے۔ میں نے پوچھا: کیا آپ کی نظر میں اس میں تدلیس ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، ۳- مسلم بن خالد زنجی نے اس حدیث کو ہشام بن عروہ سے روایت کیا ہے۔ ۴- جریر نے بھی اسے ہشام سے روایت کیا ہے، ۵- اور کہا جاتا ہے کہ جریر کی حدیث میں تدلیس ہے، اس میں جریر نے تدلیس کی ہے، انہوں نے اسے ہشام بن عروہ سے نہیں سنا ہے، ۶- «الخراج بالضمان» کی تفسیر یہ ہے کہ آدمی غلام خریدے اور اس سے مزدوری کرائے پھر اس میں کوئی عیب دیکھے اور اس کو بیچنے والے کے پاس لوٹا دے، تو غلام کی جو مزدوری اور فائدہ ہے وہ خریدنے والے کا ہو گا۔ اس لیے کہ اگر غلام ہلاک ہو جاتا تو مشتری ( خریدار ) کا مال ہلاک ہوتا۔ یہ اور اس طرح کے مسائل میں فائدہ کا استحقاق ضامن ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى اسْتَغْرَبَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ . قُلْتُ تَرَاهُ تَدْلِيسًا قَالَ لاَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَوَى مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ وَرَوَاهُ جَرِيرٌ عَنْ هِشَامٍ أَيْضًا . وَحَدِيثُ جَرِيرٍ يُقَالُ تَدْلِيسٌ دَلَّسَ فِيهِ جَرِيرٌ . لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ . وَتَفْسِيرُ الْخَرَاجِ بِالضَّمَانِ هُوَ الرَّجُلُ يَشْتَرِي الْعَبْدَ فَيَسْتَغِلُّهُ ثُمَّ يَجِدُ بِهِ عَيْبًا فَيَرُدُّهُ عَلَى الْبَائِعِ فَالْغَلَّةُ لِلْمُشْتَرِي لأَنَّ الْعَبْدَ لَوْ هَلَكَ هَلَكَ مِنْ مَالِ الْمُشْتَرِي . وَنَحْوُ هَذَا مِنَ الْمَسَائِلِ يَكُونُ فِيهِ الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ . قَالَ أَبُو عِيسَى اسْتَغْرَبَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ قُلْتُ تَرَاهُ تَدْلِيسًا قَالَ لَا
#1287
Sahih
Narrated Ibn 'Umar: That the Prophet (ﷺ) said: "Whoever enters an orchard then let him eat, but not take any in his garment." [He said:] There are narrations on this topic from 'Abdullah bin 'Amr, 'Abbad bin Shurahbil, Rafi' bin 'Amr, 'Umair the freed slave of Abi Al-Lahm, and Abu Hurairah. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Ibn 'Umar is Gharib Hadith. We do not know of it from this route except from Yahya bin Sulaim. Some of the people of knowledge have permitted the wayfarer to eat from the fruits, and some of them disliked it without paying
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی باغ میں داخل ہو تو ( پھل ) کھائے، کپڑوں میں باندھ کر نہ لے جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث غریب ہے۔ ہم اسے اس طریق سے صرف یحییٰ بن سلیم ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، عباد بن شرحبیل، رافع بن عمرو، عمیر مولی آبی اللحم اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم نے راہ گیر کے لیے پھل کھانے کی رخصت دی ہے۔ اور بعض نے اسے ناجائز کہا ہے، الا یہ کہ قیمت ادا کر کے ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ دَخَلَ حَائِطًا فَلْيَأْكُلْ وَلاَ يَتَّخِذْ خُبْنَةً " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَبَّادِ بْنِ شُرَحْبِيلَ وَرَافِعِ بْنِ عَمْرٍو وَعُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ . وَقَدْ رَخَّصَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لاِبْنِ السَّبِيلِ فِي أَكْلِ الثِّمَارِ وَكَرِهَهُ بَعْضُهُمْ إِلاَّ بِالثَّمَنِ .
#1288
Daif
Narrated Rafi' bin 'Amr: "I was throwing stones at a date-palm belonging to some of the Ansar. They took me along with them to the Prophet (ﷺ). He said: "O Rafi'! Why were you throwing stones at their date-palm?'" He said: "I said: 'Out of hunger, O Messenger of Allah! He said: 'Do not throw stones at them, eat what falls. May Allah fill you and quench your thirst.'" This Hadith is Hasan Gharib Sahih
رافع بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں انصار کے کھجور کے درختوں پر پتھر مارتا تھا، ان لوگوں نے مجھے پکڑ لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے آپ نے پوچھا: ”رافع! تم ان کے کھجور کے درختوں پر پتھر کیوں مارتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بھوک کی وجہ سے، آپ نے فرمایا: ”پتھر مت مارو، جو خودبخود گر جائے اسے کھاؤ اللہ تمہیں آسودہ اور سیراب کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ كُنْتُ أَرْمِي نَخْلَ الأَنْصَارِ فَأَخَذُونِي فَذَهَبُوا بِي إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَا رَافِعُ لِمَ تَرْمِي نَخْلَهُمْ " . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْجُوعُ . قَالَ " لاَ تَرْمِ وَكُلْ مَا وَقَعَ أَشْبَعَكَ اللَّهُ وَأَرْوَاكَ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
#1289
Hasan
Narrated 'Amr bin Shu'aib: From his father, from his grandfather, that the Prophet (ﷺ) was asked about hanging fruits (on the trees), so he said: "Whoever is in need and picks some of it without taking any in his garment, then there is no sin upon him." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لٹکے ہوئے پھل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”جو ضرورت مند اس میں سے ( ضرورت کے مطابق ) لے لے اور کپڑے میں جمع کرنے والا نہ ہو تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ فَقَالَ " مَنْ أَصَابَ مِنْهُ مِنْ ذِي حَاجَةٍ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً فَلاَ شَىْءَ عَلَيْهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
#1290
Sahih
Narrated Jabir: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited Al-Muhaqalah, Al-Muzabanah, Al-Mukhabarah, and making an exception (in a sale) unless it is made known." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih, Gharib from this route as narration of Yunus bin 'Ubaid, from 'Ata, from Jabir
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ، مزابنہ ۱؎ مخابرہ ۲؎ اور بیع میں کچھ چیزوں کو مستثنیٰ کرنے سے منع فرمایا ۳؎ الا یہ کہ استثناء کی ہوئی چیز معلوم ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس طریق سے بروایت یونس بن عبید جسے یونس نے عطاء سے اور عطاء نے جابر سے روایت کی ہے حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَغْدَادِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، قَالَ أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَالثُّنْيَا إِلاَّ أَنْ تُعْلَمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ .
#1291
Sahih
Narrated Ibn 'Abbas: That the Prophet (ﷺ) said: "Whoever buys food, then he is not to sell it until he takes possession of it." Ibn 'Abbas said: "All things are considered the same (in this regard)." [He said:] There are narrations on this topic from Jabir, Ibn 'Umar, and Abu Hurairah. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Ibn 'Abbas is a Hasan Sahih Hadith
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص غلہ خریدے تو اسے نہ بیچے جب تک کہ اس پر قبضہ نہ کر لے“ ۱؎، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: میں ہر چیز کو غلے ہی کے مثل سمجھتا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، ابن عمر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان لوگوں نے غلہ کی بیع کو ناجائز کہا ہے۔ جب تک مشتری اس پر قبضہ نہ کر لے، ۴- اور بعض اہل علم نے قبضہ سے پہلے اس شخص کو بیچنے کی رخصت دی ہے جو کوئی ایسی چیز خریدے جو ناپی اور تولی نہ جاتی ہو اور نہ کھائی اور پی جاتی ہو، ۵- اہل علم کے نزدیک سختی غلے کے سلسلے میں ہے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلاَ يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ " . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ مِثْلَهُ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا بَيْعَ الطَّعَامِ حَتَّى يَقْبِضَهُ الْمُشْتَرِي . وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِيمَنِ ابْتَاعَ شَيْئًا مِمَّا لاَ يُكَالُ وَلاَ يُوزَنُ مِمَّا لاَ يُؤْكَلُ وَلاَ يُشْرَبُ أَنْ يَبِيعَهُ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفِيَهُ . وَإِنَّمَا التَّشْدِيدُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الطَّعَامِ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ .
#1292
Sahih
Narrated Ibn 'Umar: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "None of you is to sell over the sale of others, nor to propose over the proposal of others." [He said:] There are narration on this topic from Abu Hurairah and Samurah. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Ibn 'Umar is a Hasan Sahih Hadith. And it has been reported from the Prophet (ﷺ) that he said: "Do not haggle in competition with your brother's haggling." And the meaning of sale in this Hadith of the Prophet (ﷺ), according to some of the people of knowledge is to haggle
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے ۱؎ اور نہ کوئی کسی کے شادی کے پیغام پر پیغام دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور سمرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا آدمی اپنے بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ کرے۔ ۴- اور بعض اہل علم کے نزدیک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی اس حدیث میں بیع سے مراد بھاؤ تاؤ اور مول تول ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَبِيعُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَلاَ يَخْطُبُ بَعْضُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ بَعْضٍ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَسَمُرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " لاَ يَسُومُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ " . وَمَعْنَى الْبَيْعِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ هُوَ السَّوْمُ .
#1293
Hasan
Narrated Anas: From Abu Talhah that he said: "O Prophet of Allah! I had purchased some wine for the orphans under my care. He said: 'Spill out the wine, and break the jugs.'" [He said:] There are narrations on this topic from Jabir, 'Aishah, Abu Sa'eed, Ibn Mas'ud, Ibn 'Umar, and Anas. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Abu Talhah, Ath-Thawri reported this Hadith from As-Suddi, from Yahya bin 'Abbad, from Anas: "That Abu Talhah was with him" and this is more correct than the narration of Al-laith (no)
ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں نے ان یتیموں کے لیے شراب خریدی تھی جو میری پرورش میں ہیں۔ ( اس کا کیا حکم ہے؟ ) آپ نے فرمایا: ”شراب بہا دو اور مٹکے توڑ دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوطلحہ رضی الله عنہ کی اس حدیث کو ثوری نے بطریق: «السدي، عن يحيى بن عباد، عن أنس» روایت کیا ہے کہ ابوطلحہ آپ کے پاس تھے ۱؎، اور یہ لیث کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، عائشہ، ابوسعید، ابن مسعود، ابن عمر، اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ لَيْثًا، يُحَدِّثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي اشْتَرَيْتُ خَمْرًا لأَيْتَامٍ فِي حِجْرِي . قَالَ " أَهْرِقِ الْخَمْرَ وَاكْسِرِ الدِّنَانَ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَعَائِشَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عُمَرَ وَأَنَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي طَلْحَةَ رَوَى الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ السُّدِّيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ كَانَ عِنْدَهُ . وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ .
#1294
Sahih
Narrated Anas bin Malik: "I asked the Messenger of Allah (ﷺ) 'Can wine be used for vinegar?' He said: 'No'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا شراب کا سرکہ بنایا جا سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَيُتَّخَذُ الْخَمْرُ خَلاًّ قَالَ " لاَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1295
Hasan Sahih
Narrated Anas bin Malik: "The Messenger of Allah (ﷺ) cursed ten involved in wine: The one who presses it, the one who has it pressed, its drinker, its carrier, and the one it is carried to, its server, its seller, the consumption of its price, the one who purchases it and the one it was purchased for." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib as a narration of Anas. Similar to this has been reported from Ibn 'Abbas, Ibn Mas'ud, and Ibn 'Umar, from the Prophet (ﷺ)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کی وجہ سے ”دس آدمیوں پر لعنت بھیجی: اس کے نچوڑوانے والے پر، اس کے پینے والے پر، اس کے لے جانے والے پر، اس کے منگوانے والے پر، اور جس کے لیے لے جائی جائے اس پر، اس کے پلانے والے پر، اور اس کے بیچنے والے پر، اس کی قیمت کھانے والے پر، اس کو خریدنے والے پر اور جس کے لیے خریدی گئی ہو اس پر“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث انس رضی الله عنہ کی روایت سے غریب ہے، ۲- اور اسی حدیث کی طرح ابن عباس، ابن مسعود اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی مروی ہے جسے یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَاصِمٍ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْخَمْرِ عَشَرَةً عَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَشَارِبَهَا وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ وَسَاقِيَهَا وَبَائِعَهَا وَآكِلَ ثَمَنِهَا وَالْمُشْتَرِيَ لَهَا وَالْمُشْتَرَاةَ لَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ . وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#1296
Sahih
Narrated Samurah bin Jundab: That the Prophet (ﷺ) said: "When one of you comes upon livestock, if its owner is with it then seek his permission. If he permits him then let him milk it and drink. If there is no one with it then call out three times, if someone answers then seek his permission. If no one answers then let him milk it and drink without carrying (any of it away)." [He said:] There are narrations on this topic from Ibn 'Umar and Abu Sa'eed. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Samurah is a Hasan Gharib Sahih Hadith. This is acted upon according to some of the people of knowledge, and it is the view of Ahmad and Ishaq. [Abu 'Eisa said:] 'Ali bin Al-Madini said: "It is correct that Al-Hasan heard this from Samurah." Some of the people of Hadith criticized the narrations of Al-Hasan from Samurah, they said that he only narrated from a writing of Samurah
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کسی ریوڑ کے پاس ( دودھ پینے ) آئے تو اگر ان میں ان کا مالک موجود ہو تو اس سے اجازت لے، اگر وہ اجازت دیدے تو دودھ پی لے۔ اگر ان میں کوئی نہ ہو تو تین بار آواز لگائے، اگر کوئی جواب دے تو اس سے اجازت لے لے، اور اگر کوئی جواب نہ دے تو دودھ پی لے لیکن ساتھ نہ لے جائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سمرہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں عمر اور ابو سعید خدری سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں، ۴- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ سمرہ سے حسن کا سماع ثابت ہے، ۵- بعض محدثین نے حسن کی روایت میں جسے انہوں نے سمرہ سے روایت کی ہے کلام کیا ہے، وہ لوگ کہتے ہیں کہ حسن سمرہ کے صحیفہ سے حدیث روایت کرتے تھے ۲؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى مَاشِيَةٍ فَإِنْ كَانَ فِيهَا صَاحِبُهَا فَلْيَسْتَأْذِنْهُ فَإِنْ أَذِنَ لَهُ فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلاَ يَحْمِلْ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا أَحَدٌ فَلْيُصَوِّتْ ثَلاَثًا فَإِنْ أَجَابَهُ أَحَدٌ فَلْيَسْتَأْذِنْهُ فَإِنْ لَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلاَ يَحْمِلْ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَأَبِي سَعِيدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ سَمَاعُ الْحَسَنِ مِنْ سَمُرَةَ صَحِيحٌ . وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي رِوَايَةِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ وَقَالُوا إِنَّمَا يُحَدِّثُ عَنْ صَحِيفَةِ سَمُرَةَ .
#1297
Sahih
Narrated Jabir bin ‘Abdullah : That during the Year of the Conquest, while he was in Makkah, he heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: "Indeed Allah and His Messenger unlawful the sale of wine, dead carcasses, the pig, and idols." They said: "O Messenger of Allah! What about the fat of carcasses? For indeed it is used to coat the ships, skins are oiled with it, and people use it for lamps?" He said: "No. It is unlawful." Then, with that, the Messenger of Allah (ﷺ) said: "May Allah fight (curse) the Jews! Indeed Allah made the fat unlawful for them, they melted it, sold it, and consumed its price." [He said:] There are narrations of this topic from 'Umar and Ibn 'Abbas. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Jabir is Hasan Sahih Hadith. This is acted upon according to the people of knowledge
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال مکہ کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام قرار دیا ہے“، عرض کیا گیا، اللہ کے رسول! مجھے مردار کی چربی کے بارے میں بتائیے، اسے کشتیوں پہ ملا جاتا ہے، چمڑوں پہ لگایا جاتا ہے، اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، یہ جائز نہیں، یہ حرام ہے“، پھر آپ نے اسی وقت فرمایا: ”یہود پر اللہ کی مار ہو، اللہ نے ان کے لیے چربی حرام قرار دے دی، تو انہوں نے اس کو پگھلایا پھر اسے بیچا اور اس کی قیمت کھائی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ يَقُولُ " إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالأَصْنَامِ " . فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ فَإِنَّهُ يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ قَالَ " لاَ هُوَ حَرَامٌ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ ذَلِكَ " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ فَأَجْمَلُوهُ ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ .
#1298
Sahih
Narrated Ibn 'Abbas: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Ours is not a bad example: The one who takes back his gift is like the dog who takes back his vomit." [He said:] On this topic, there is the narration from Ibn 'Umar from the Prophet (ﷺ) that he said: "It is not lawful for anyone that has given a gift to take it back, except for a father who gives something to his son
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بری مثال ہمارے لیے مناسب نہیں، ہدیہ دے کر واپس لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹتا ہے“ ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " لاَ يَحِلُّ لأَحَدٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً فَيَرْجِعَ فِيهَا إِلاَّ الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ " .
#1299
Sahih
Narrated 'Amr bin Shu'aib: That he heard Tawus narrating from Ibn 'Umar and Ibn 'Abbas, and they both narrated this Hadith from the Prophet (ﷺ). (A Hadith similar to no. 1298). [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Ibn 'Abbas (ra), is a Hasan Sahih Hadith. This Hadith is acted upon according to soe of the people of knowledge among the Companions of the Prophet (ﷺ). They said whoever gives a gift to a closely related relative, then he is not to take back his gift. And whoever gives a gift to someone other then a close relative, then he may take it back as long as it has not been reciprocated. This is the view of Ath-Thawri. Ash-Shafi'i said: "It is not lawful for any that has given a gift to take it back except for what the father gave to his son." Ash-Shafi'i argued with the Hadith of 'Abdullah bin 'Umar from the Prophet (ﷺ): "It is not lawful for anyone that has given a gift to take it back, except for a father who give something to his son
عبداللہ بن عمر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کے لیے جائز نہیں کہ کوئی عطیہ دے کر اسے واپس لے سوائے باپ کے جو اپنے بیٹے کو دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ جو کسی ذی محرم کو کوئی چیز بطور ہبہ دے تو پھر اسے واپس لینے کا اختیار نہیں، اور جو کسی غیر ذی محرم کو کوئی چیز بطور ہبہ دے تو اس کے لیے اسے واپس لینا جائز ہے جب اسے اس کا بدلہ نہ دیا گیا ہو، یہی ثوری کا قول ہے، ۳- اور شافعی کہتے ہیں: کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کو کوئی عطیہ دے پھر اسے واپس لے، سوائے باپ کے جو اپنے بیٹے کو دے، شافعی نے عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کی حدیث سے استدلال کیا ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”کسی کے لیے جائز نہیں کہ کوئی عطیہ دے کر اسے واپس لے سوائے باپ کے جو اپنے بیٹے کو دے“۔
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ يَرْفَعَانِ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ رضى الله عنهما حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ قَالُوا مَنْ وَهَبَ هِبَةً لِذِي رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ فِيهَا وَمَنْ وَهَبَ هِبَةً لِغَيْرِ ذِي رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَلَهُ أَنْ يَرْجِعَ فِيهَا مَا لَمْ يُثَبْ مِنْهَا . وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ . وَقَالَ الشَّافِعِيُّ لاَ يَحِلُّ لأَحَدٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً فَيَرْجِعَ فِيهَا إِلاَّ الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ . وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ بِحَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحِلُّ لأَحَدٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً فَيَرْجِعَ فِيهَا إِلاَّ الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ " .
#1300
Sahih
Narrated Ibn 'Umar: From Zaid bin Thabit that the Prophet (ﷺ) prohibited Al-Muhalaqah and Al-Muzabanah, except that he permitted those practice Al-'Araya to sell it for a like estimation. [He said:] There are narrations on this topic from Abu Hurairah and Jabir. [Abu 'Eisa said:] The Hadith if Zaid bin Thabit: This is how Muhammad bin Ishaq reported this Hadith. Ayyub, 'Ubaidullah bin 'Umar, and Malik bin Anas reported it from Nafi', from 'Ibn Umar: "The Prophet (ﷺ) prohibited Al-Muhalaqah and Al-Muzabanah." With this chain of narration, it has been reported from Ibn 'Umar, from Zaid bin Thabit, from the Prophet (ﷺ) that he permitted Al-'Araya in cases less that five Wasq. This is more correct than the narration of Muhammad bin Ishaq
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا، البتہ آپ نے عرایا والوں کو اندازہ لگا کر اسے اتنی ہی کھجور میں بیچنے کی اجازت دی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- زید بن ثابت رضی الله عنہ کی حدیث کو محمد بن اسحاق نے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اور ایوب، عبیداللہ بن عمر اور مالک بن انس نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اور اسی سند سے ابن عمر نے زید بن ثابت سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے بیع عرایا کی اجازت دی۔ اور یہ محمد بن اسحاق کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۲؎۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ إِلاَّ أَنَّهُ قَدْ أَذِنَ لأَهْلِ الْعَرَايَا أَنْ يَبِيعُوهَا بِمِثْلِ خَرْصِهَا . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ هَكَذَا رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ هَذَا الْحَدِيثَ . وَرَوَى أَيُّوبُ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ . وَبِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا . وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ .