#1126
Sahih
Abu Hurairah narrated:"The Messenger of Allah prohibited that a woman be married along with her paternal aunt, or the paternal aunt along with her brother's daughter, or a woman with her maternal aunt, or the maternal aunt along with her sister's daughter, and the younger is not to be married with the older, nor the older with the younger
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ عورت سے نکاح کیا جائے جب کہ اس کی پھوپھی ( پہلے سے ) نکاح میں ہو یا پھوپھی سے نکاح کیا جائے جبکہ اس کی بھتیجی ( پہلے سے ) نکاح میں ہو یا بھانجی سے نکاح کیا جائے جب کہ اس کی خالہ ( پہلے سے ) نکاح میں ہو یا خالہ سے نکاح کیا جائے جب کہ اس کی بھانجی پہلے سے نکاح میں ہو۔ اور نہ نکاح کیا جائے کسی چھوٹی سے جب کہ اس کی بڑی نکاح میں ہو اور نہ بڑی سے نکاح کیا جائے جب کہ چھوٹی نکاح میں ہو ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ہمیں ان کے درمیان اس بات میں کسی اختلاف کا علم نہیں کہ آدمی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بیک وقت کسی عورت کو اس کی پھوپھی کے ساتھ یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں رکھے۔ اگر اس نے کسی عورت سے نکاح کر لیا جب کہ اس کی پھوپھی یا خالہ بھی اس کے نکاح میں ہو یا پھوپھی سے نکاح کر لیا جب کہ اس کی بھتیجی نکاح میں ہو تو ان میں سے جو نکاح بعد میں ہوا ہے، وہ فسخ ہو گا، یہی تمام اہل علم کا قول ہے، ۳- شعبی نے ابوہریرہ کو پایا ہے اور ان سے ( براہ راست ) روایت بھی کی ہے۔ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: صحیح ہے، ۴- شعبی نے ابوہریرہ سے ایک شخص کے واسطے سے بھی روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوِ الْعَمَّةُ عَلَى ابْنَةِ أَخِيهَا أَوِ الْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا أَوِ الْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا لاَ تُنْكَحُ الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى وَلاَ الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ نَعْلَمُ بَيْنَهُمُ اخْتِلاَفًا أَنَّهُ لاَ يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا فَإِنْ نَكَحَ امْرَأَةً عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا أَوِ الْعَمَّةَ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا فَنِكَاحُ الأُخْرَى مِنْهُمَا مَفْسُوخٌ . وَبِهِ يَقُولُ عَامَّةُ أَهْلِ الْعِلْمِ . قَالَ أَبُو عِيسَى أَدْرَكَ الشَّعْبِيُّ أَبَا هُرَيْرَةَ وَرَوَى عَنْهُ . وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا فَقَالَ صَحِيحٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَى الشَّعْبِيُّ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
#1127
Sahih
Uqbah bin Amir Al-Juhani narrated that:The Messenger of Allah said: "Indeed the conditions most deserving to be fulfilled are those that make the private parts lawful among you
عقبہ بن عامر جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ پوری کیے جانے کی مستحق وہ شرطیں ہیں جن کے ذریعے تم نے شرمگاہیں حلال کی ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ انہیں میں عمر بن خطاب بھی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جب کسی شخص نے کسی عورت سے شادی کی اور یہ شرط لگائی کہ وہ اسے اس کے شہر سے باہر نہیں لے جائے گا تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اسے باہر لے جائے، یہی بعض اہل علم کا قول ہے۔ اور شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں، ۳- البتہ علی بن ابی طالب سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کی شرط یعنی اللہ کا حکم عورت کی شرط پر مقدم ہے، گویا ان کی نظر میں شوہر کے لیے اسے اس کے شہر سے باہر لے جانا درست ہے اگرچہ اس نے اپنے شوہر سے اسے باہر نہ لے جانے کی شرط لگا رکھی ہو، اور بعض اہل علم اس جانب گئے ہیں اور یہی سفیان ثوری اور بعض اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ يُوفَى بِهَا مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ " . حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ إِذَا تَزَوَّجَ رَجُلٌ امْرَأَةً وَشَرَطَ لَهَا أَنْ لاَ يُخْرِجَهَا مِنْ مِصْرِهَا فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُخْرِجَهَا . وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . وَرُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَالَ شَرْطُ اللَّهِ قَبْلَ شَرْطِهَا . كَأَنَّهُ رَأَى لِلزَّوْجِ أَنْ يُخْرِجَهَا وَإِنْ كَانَتِ اشْتَرَطَتْ عَلَى زَوْجِهَا أَنْ لاَ يُخْرِجَهَا . وَذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَبَعْضِ أَهْلِ الْكُوفَةِ .
#1128
Sahih
Ibn Umar narrated:"Ghilan bin Salamah Ath-Thaqafi accepted Islam and he had ten wives in Jahiliyyah who accepted Islam along with him. So the Prophet ordered (him) to chose four (of them)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ ۱؎ ثقفی نے اسلام قبول کیا، جاہلیت میں ان کی دس بیویاں تھیں، وہ سب بھی ان کے ساتھ اسلام لے آئیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان میں سے کسی چار کو منتخب کر لیں ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اسی طرح اسے معمر نے بسند «الزهري عن سالم بن عبدالله عن ابن عمر» روایت کیا ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ یہ حدیث غیر محفوظ ہے۔ اور صحیح وہ ہے جو شعیب بن ابی حمزہ وغیرہ نے بسند «الزهري عن محمد بن سويد الثقفي» روایت کی ہے کہ غیلان بن سلمہ نے اسلام قبول کیا تو ان کے پاس دس بیویاں تھیں۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ صحیح زہری کی حدیث ہے جسے انہوں نے سالم بن عبداللہ سے اور سالم نے اپنے والد عبداللہ بن عمر سے روایت کی ہے کہ ثقیف کے ایک شخص نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی تو عمر نے اس سے کہا: تم اپنی بیویوں سے رجوع کر لو ورنہ میں تمہاری قبر کو پتھر ماروں گا جیسے ابورغال ۳؎ کی قبر کو پتھر مارے گئے تھے۔ ۴- ہمارے اصحاب جن میں شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی شامل ہیں کے نزدیک غیلان بن سلمہ کی حدیث پر عمل ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ غَيْلاَنَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ، أَسْلَمَ وَلَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَسْلَمْنَ مَعَهُ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَتَخَيَّرَ أَرْبَعًا مِنْهُنَّ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَكَذَا رَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ . قَالَ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ وَغَيْرُهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حُدِّثْتُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ أَنَّ غَيْلاَنَ بْنَ سَلَمَةَ أَسْلَمَ وَعِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ . قَالَ مُحَمَّدٌ وَإِنَّمَا حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلاً مِنْ ثَقِيفٍ طَلَّقَ نِسَاءَهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ لَتُرَاجِعَنَّ نِسَاءَكَ أَوْ لأَرْجُمَنَّ قَبْرَكَ كَمَا رُجِمَ قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَالْعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ غَيْلاَنَ بْنِ سَلَمَةَ عِنْدَ أَصْحَابِنَا مِنْهُمُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ .
#1129
Hasan
Abu Wahb Al-Jaishani narrated that:He heard Ibn Fairuz Ad-Dhailami narrating from his father: "I went to the Prophet and said: 'O Messenger of Allah! I accepted Islam and I had two sisters (as wives).' So the Messenger of Allah said: 'Chose whichever of them you will
فیروز دیلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان دونوں میں سے جسے چاہو منتخب کر لو“۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي أُخْتَانِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اخْتَرْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ " .
#1130
Hasan
Abu Wahb Al-Jaishani narrated from Ad-Dhahhak bin Fairuz Ad-Dailami from his father:"I said: 'O Messenger of Allah! I accepted Islam and I had two sisters (as wives).' So Messenger of Allah said: 'Chose whichever of them you will
فیروز دیلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسلام قبول کیا ہے اور میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”ان دونوں میں سے جسے چاہو، منتخب کر لو“۔ ( اور دوسرے کو طلاق دے دو ) امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي أُخْتَانِ . قَالَ " اخْتَرْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَأَبُو وَهْبٍ الْجَيْشَانِيُّ اسْمُهُ الدَّيْلَمُ بْنُ هُوشَعَ .
#1131
Hasan
Ruwaifi bin Thabit narrated that :the Prophet said: "Whoever believes in Allah and the Last Day, then he does not levy his water on someone else's child
رویفع بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنی ( منی ) کسی غیر کے بچے کو نہ پلائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ اور بھی کئی طرق سے رویفع بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت کی گئی ہے، ۳- اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ یہ لوگ کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں سمجھتے کہ وہ جب کوئی حاملہ لونڈی خریدے تو وہ اس سے صحبت کرے جب تک کہ اسے وضع حمل نہ ہو جائے، ۴- اس باب میں ابو الدرداء، ابن عباس، عرباض بن ساریہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يَسْقِ مَاءَهُ وَلَدَ غَيْرِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ يَرَوْنَ لِلرَّجُلِ إِذَا اشْتَرَى جَارِيَةً وَهِيَ حَامِلٌ أَنْ يَطَأَهَا حَتَّى تَضَعَ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَالْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ .
#1132
Sahih
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated:"We got some captives on the day of Awtas, and they had husbands among their peopled. They mentioned that to the Messenger of Allah, so the following was revealed: And women who are already married, except those whom your right hands posses
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے جنگ اوطاس کے دن کچھ عورتیں قید کیں۔ اور ان کی قوم میں ان عورتوں کے شوہر موجود تھے، لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو یہ آیت نازل ہوئی «والمحصنات من النساء إلا ما ملكت أيمانكم» ”تم پر شوہر والی عورتیں بھی حرام ہیں الا یہ کہ وہ تمہاری ملکیت میں آ گئی ہوں“ ( النساء: ۲۴ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اسی طرح سے اسے ثوری نے بطریق: «عثمان البتي عن أبي الخليل عن أبي سعيد» روایت کیا ہے –
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الْبَتِّيُّ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ أَصَبْنَا سَبَايَا يَوْمَ أَوْطَاسٍ وَلَهُنَّ أَزْوَاجٌ فِي قَوْمِهِنَّ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَزَلَتْ : (وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ) . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَهَكَذَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ . وَأَبُو الْخَلِيلِ اسْمُهُ صَالِحُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ . وَرَوَى هَمَّامٌ، هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، .
#1133
Sahih
Abu Mas'ud Al-Ansari narrated:"The Messenger of Allah prohibited the price of a dog, the dowry of a fornicator, and the payment made to the fortune-teller
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت ۱؎، زانیہ کی کمائی ۲؎ اور کاہن کی مٹھائی ۳؎ سے منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں رافع بن خدیج، ابوجحیفہ، ابوہریرہ، اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَأَبِي جُحَيْفَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1134
Sahih
Abu Hurairah narrated that:The Messenger of Allah said: "A man is not to sell over his brother's sale, nor is he to propose to whom his brother has proposed
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ کوئی اپنے بھائی کے پیغام پر اپنا پیغام بھیجے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سمرہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- مالک بن انس کہتے ہیں: آدمی کے اپنے بھائی کے پیغام پر اپنا پیغام بھیجنے کی ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے کسی عورت کو پیغام دیا ہو اور وہ عورت اس سے راضی ہو گئی ہو، تو کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے پیغام پر اپنا پیغام بھیجے، ۴- شافعی کہتے ہیں کہ اس حدیث کہ آدمی اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے کا مطلب ہمارے نزدیک یہ ہے کہ جب آدمی نے کسی عورت کو پیغام بھیجا ہو اور وہ عورت اس سے راضی ہو گئی ہو اور اس کی طرف مائل ہو گئی ہو تو ایسی صورت میں کسی کے لیے درست نہیں کہ وہ اس کے پیغام پر اپنا پیغام بھیجے، لیکن اس کی رضا مندی اور اس کا میلان معلوم ہونے سے پہلے اگر وہ اسے پیغام دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس کی دلیل فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کی یہ حدیث ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ذکر کیا کہ ابوجہم بن حذیفہ اور معاویہ بن ابی سفیان نے انہیں نکاح کا پیغام دیا ہے تو آپ نے فرمایا: ”ابوجہم کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنا ڈنڈا عورتوں سے نہیں اٹھاتے ( یعنی عورتوں کو بہت مارتے ہیں ) رہے معاویہ تو وہ غریب آدمی ہیں ان کے پاس مال نہیں ہے، لہٰذا تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو“۔ ہمارے نزدیک اس حدیث کا مفہوم ( اور اللہ بہتر جانتا ہے ) یہ ہے کہ فاطمہ نے ان میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی اپنی رضا مندی کا اظہار نہیں کیا تھا اور اگر وہ اس کا اظہار کر دیتیں تو اسے چھوڑ کر آپ انہیں اسامہ رضی الله عنہ سے نکاح کا مشورہ نہ دیتے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَقُتَيْبَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قُتَيْبَةُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ أَحْمَدُ - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلاَ يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَمُرَةَ وَابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . قَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ إِنَّمَا مَعْنَى كَرَاهِيَةِ أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ إِذَا خَطَبَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ فَرَضِيَتْ بِهِ فَلَيْسَ لأَحَدٍ أَنْ يَخْطُبَ عَلَى خِطْبَتِهِ . وَقَالَ الشَّافِعِيُّ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ " لاَ يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ " . هَذَا عِنْدَنَا إِذَا خَطَبَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ فَرَضِيَتْ بِهِ وَرَكَنَتْ إِلَيْهِ فَلَيْسَ لأَحَدٍ أَنْ يَخْطُبَ عَلَى خِطْبَتِهِ فَأَمَّا قَبْلَ أَنْ يَعْلَمَ رِضَاهَا أَوْ رُكُونَهَا إِلَيْهِ فَلاَ بَأْسَ أَنْ يَخْطُبَهَا وَالْحُجَّةُ فِي ذَلِكَ حَدِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ حَيْثُ جَاءَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ لَهُ أَنَّ أَبَا جَهْمِ بْنَ حُذَيْفَةَ وَمُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ خَطَبَاهَا فَقَالَ " أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَرَجُلٌ لاَ يَرْفَعُ عَصَاهُ عَنِ النِّسَاءِ وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لاَ مَالَ لَهُ وَلَكِنِ انْكِحِي أُسَامَةَ " . فَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَنَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنَّ فَاطِمَةَ لَمْ تُخْبِرْهُ بِرِضَاهَا بِوَاحِدٍ مِنْهُمَا وَلَوْ أَخْبَرَتْهُ لَمْ يُشِرْ عَلَيْهَا بِغَيْرِ الَّذِي ذَكَرَتْ .
#1135
Sahih
Abu Bakr bin Al-Jahm narrated:"Abu Salamah bin Abdur-Rahman and I visited Fatimah bint Qais. She narrated to us that her husband had divorced her three times, and he did not leave her with anywhere to live nor any wealth. She said: 'He left ten Aqfizah for me with the son of his uncle: five were of barley, five of wheat.' She said: 'I went to the Messenger of Allah and mentioned that to him.' She said: 'He said: 'He is correct.'" (She said: ) 'So he ordered me to complete my Iddah in the home of Umm Sharik. But then the Messenger of Allah said to me: "Umm Sharik's home is visited by Muhajirun, so spend your Iddah in the home of Ibn Umm Maktum, for there you can remove your garments and he will not see you. Then when your Iddah is completed and someone proposed to you come to me." 'So when my Iddah completed. Abu Jahm and Mu'awiyah proposed to me.' She said: 'I went to the Messenger of Allah and mentioned that to him, and he said: "As for Mu'awiyah, he is a man with no wealth, and as for Abu Jahm he is a man who is harsh with women." She said: 'Then Usamah bin Zaid proposed to me, and he married me. So Allah blessed me with Usamah
ابوبکر بن ابی جہم کہتے ہیں کہ میں اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن دونوں فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کے پاس آئے انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ ان کے شوہر نے انہیں تین طلاق دے دی اور نہ ان کے لیے رہائش کا انتظام کیا اور نہ کھانے پینے کا۔ اور انہوں نے میرے لیے دس بوری غلہ، پانچ بوری جو کے اور پانچ گیہوں کے اپنے چچا زاد بھائی کے پاس رکھ دیں، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: ”انہوں نے ٹھیک کیا، اور مجھے آپ نے حکم دیا کہ میں ام شریک کے گھر میں عدت گزاروں“، پھر مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام شریک کے گھر مہاجرین آتے جاتے رہتے ہیں۔ تم ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارو“۔ وہاں یہ بھی سہولت رہے گی کہ تم ( سر وغیرہ سے ) کپڑے اتارو گی تو تمہیں وہ نہیں دیکھ پائیں گے، پھر جب تمہاری عدت پوری ہو جائے اور کوئی تمہارے پاس پیغام نکاح لے کر آئے تو مجھے بتانا، چنانچہ جب میری عدت پوری ہو گئی تو ابوجہم اور معاویہ نے مجھے پیغام بھیجا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”معاویہ تو ایسے آدمی ہیں کہ ان کے پاس مال نہیں، اور ابوجہم عورتوں کے لیے سخت واقع ہوئے ہیں“۔ پھر مجھے اسامہ بن زید رضی الله عنہ نے پیغام بھیجا اور مجھ سے شادی کر لی۔ اللہ تعالیٰ نے اسامہ میں مجھے برکت عطا فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اسے سفیان ثوری نے بھی ابوبکر بن ابی جہم سے اسی حدیث کی طرح روایت کیا ہے، اور اس میں انہوں نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسامہ سے نکاح کر لو“۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَحَدَّثَتْنَا أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلاَثًا وَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةً . قَالَتْ وَوَضَعَ لِي عَشَرَةَ أَقْفِزَةٍ عِنْدَ ابْنِ عَمٍّ لَهُ خَمْسَةً شَعِيرًا وَخَمْسَةً بُرًّا . قَالَتْ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ . قَالَتْ فَقَالَ " صَدَقَ " . قَالَتْ فَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ ثُمَّ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ بَيْتَ أُمِّ شَرِيكٍ بَيْتٌ يَغْشَاهُ الْمُهَاجِرُونَ وَلَكِنِ اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَعَسَى أَنْ تُلْقِي ثِيَابَكِ فَلاَ يَرَاكِ فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ فَجَاءَ أَحَدٌ يَخْطُبُكِ فَآذِنِينِي " . فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتِي خَطَبَنِي أَبُو جَهْمٍ وَمُعَاوِيَةُ . قَالَتْ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ لاَ مَالَ لَهُ وَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَرَجُلٌ شَدِيدٌ عَلَى النِّسَاءِ " . قَالَتْ فَخَطَبَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَتَزَوَّجَنِي فَبَارَكَ اللَّهُ لِي فِي أُسَامَةَ . هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ، نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ وَزَادَ فِيهِ فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " انْكِحِي أُسَامَةَ " . حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ بِهَذَا .
#1136
Sahih
Jabir narrated:"We said: 'O Messenger of Allah! We practice Azl, but the Jews claim that it is minor infanticide.' So he said: 'The Jews lie. When Allah wants to create it, nothing can prevent Him
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ عزل ۱؎ کرتے تھے، تو یہودیوں نے کہا: قبر میں زندہ دفن کرنے کی یہ ایک چھوٹی صورت ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہودیوں نے جھوٹ کہا۔ اللہ جب اسے پیدا کرنا چاہے گا تو اسے کوئی روک نہیں سکے گا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں عمر، براء اور ابوہریرہ، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نَعْزِلُ فَزَعَمَتِ الْيَهُودُ أَنَّهَا الْمَوْءُودَةُ الصُّغْرَى . فَقَالَ " كَذَبَتِ الْيَهُودُ إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْلُقَهُ لَمْ يَمْنَعْهُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَالْبَرَاءِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ .
#1137
Sahih
Jabir bin Abdullah narrated:"We practiced Azl while the Qur'an was being revealed
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم عزل کرتے تھے اور قرآن اتر رہا تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث اور بھی کئی طرق سے ان سے مروی ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے عزل کی اجازت دی ہے۔ مالک بن انس کا قول ہے کہ آزاد عورت سے عزل کی اجازت لی جائے گی اور لونڈی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ . وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ فِي الْعَزْلِ . وَقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ تُسْتَأْمَرُ الْحُرَّةُ فِي الْعَزْلِ وَلاَ تُسْتَأْمَرُ الأَمَةُ .
#1138
Sahih
Abu Sa'eed narrated:"Azl was mentined before the Messenger of Allah and he said: 'Why would one of you do that?
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عزل کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایسا کیوں کرتا ہے؟“۔ ابن ابی عمر نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے: ”اور آپ نے یہ نہیں کہا کہ تم میں سے کوئی ایسا نہ کرے“، اور ان دونوں نے اپنی حدیث میں یہ بھی کہا ہے کہ ”جس جان کو بھی اللہ کو پیدا کرنا ہے وہ اسے پیدا کر کے ہی رہے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ اس کے علاوہ اور بھی طرق سے ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے مروی ہے، ۳- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے عزل کو مکروہ قرار دیا ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَقُتَيْبَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ قَزَعَةَ، هُوَ ابْنُ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ ذُكِرَ الْعَزْلُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لِمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ " . زَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي حَدِيثِهِ وَلَمْ يَقُلْ لاَ يَفْعَلْ ذَاكَ أَحَدُكُمْ . قَالاَ فِي حَدِيثِهِمَا " فَإِنَّهَا لَيْسَتْ نَفْسٌ مَخْلُوقَةٌ إِلاَّ اللَّهُ خَالِقُهَا " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ . وَقَدْ كَرِهَ الْعَزْلَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ .
#1139
Sahih
Abu Qilabah narrated from Anas bin Malik, :He (Abu Qilabah) said: "If I wish, I could say: 'The Messenger of Allah said'" but he said: "The Sunnah when a man married a virgin after he already has a wife, is that he stays with her seven (nights). And when he married a matron when he already has a wife, he stays with her three (nights)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اگر میں چاہوں تو کہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن انہوں نے صرف اتنا کہا: ”سنت ۱؎ یہ ہے کہ آدمی جب اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں سات رات ٹھہرے، اور جب غیر کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں تین رات ٹھہرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے محمد بن اسحاق نے مرفوع کیا ہے، انہوں نے بسند «ایوب عن ابی قلابہ عن انس» روایت کی ہے اور بعض نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ۳- اس باب میں ام سلمہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے، ۴- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی اور کنواری سے شادی کرے، تو اس کے پاس سات رات ٹھہرے، پھر اس کے بعد ان کے درمیان باری تقسیم کرے، اور پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے جب کسی غیر کنواری ( بیوہ یا مطلقہ ) سے شادی کرے تو اس کے پاس تین رات ٹھہرے۔ مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ۵- تابعین میں سے بعض اہل علم نے کہا کہ جب کوئی اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کنواری سے شادی کرے تو وہ اس کے پاس تین رات ٹھہرے اور جب غیر کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں دو رات ٹھہرے۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَوْ شِئْتُ أَنْ أَقُولَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَكِنَّهُ قَالَ السُّنَّةُ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِكْرَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلاَثًا . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَفَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ عَنْ أَنَسٍ وَلَمْ يَرْفَعْهُ بَعْضُهُمْ . قَالَ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ امْرَأَةً بِكْرًا عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا ثُمَّ قَسَمَ بَيْنَهُمَا بَعْدُ بِالْعَدْلِ وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلاَثًا . وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلاَثًا وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا لَيْلَتَيْنِ . وَالْقَوْلُ الأَوَّلُ أَصَحُّ .
#1140
Daif
Aishah narrated that:The Prophet would divide (his time) equally between his wives and said: "O Allah! This is my division in what I have control over, so do not punish me for what You have control over which I do not have control over
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان باری تقسیم کرتے ہوئے فرماتے: ”اے اللہ! یہ میری تقسیم ہے جس پر میں قدرت رکھتا ہوں، لیکن جس کی قدرت تو رکھتا ہے، میں نہیں رکھتا، اس کے بارے میں مجھے ملامت نہ کرنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث کو اسی طرح کئی لوگوں نے بسند «حماد بن سلمة عن أيوب عن أبي قلابة عن عبد الله بن يزيد عن عائشة» روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باری تقسیم کرتے تھے جب کہ اسے حماد بن زید اور دوسرے کئی ثقات نے بسند «أيوب عن أبي قلابة» روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باری تقسیم کرتے تھے اور یہ حماد بن سلمہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اور ”جس کی قدرت تو رکھتا ہے میں نہیں رکھتا“ سے مراد محبت و مؤدّۃ ہے، اسی طرح بعض اہل علم نے اس کی تفسیر کی ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ فَيَعْدِلُ وَيَقُولُ " اللَّهُمَّ هَذِهِ قِسْمَتِي فِيمَا أَمْلِكُ فَلاَ تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلاَ أَمْلِكُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ هَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْسِمُ . وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ مُرْسَلاً أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْسِمُ . وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ . وَمَعْنَى قَوْلِهِ " لاَ تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلاَ أَمْلِكُ " . إِنَّمَا يَعْنِي بِهِ الْحُبَّ وَالْمَوَدَّةَ كَذَا فَسَّرَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ .
#1141
Sahih
Abu Hurairah narrated that:The Messenger of Allah said: "When a man has two wives and he is not just between them, he will come on the Day of Judgment with one side drooping
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی شخص کے پاس دو بیویاں ہوں اور ان کے درمیان انصاف سے کام نہ لے تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے مسنداً ۱؎ روایت کیا ہے، ۲- اور اسے ہشام دستوائی نے بھی قتادہ سے روایت کیا ہے لیکن اس روایت میں ہے کہ ایسا کہا جاتا تھا … ۳- ہم اس حدیث کو صرف ہمام ہی کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں اور ہمام ثقہ حافظ ہیں ۲؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا كَانَ عِنْدَ الرَّجُلِ امْرَأَتَانِ فَلَمْ يَعْدِلْ بَيْنَهُمَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ سَاقِطٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَإِنَّمَا أَسْنَدَ هَذَا الْحَدِيثَ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ . وَرَوَاهُ هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ كَانَ يُقَالُ . وَلاَ نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ مَرْفُوعًا إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ هَمَّامٍ وَهَمَّامٌ ثِقَةٌ حَافِظٌ
#1142
Daif
Amr bin Shu'aib narrated from his father, from his grandfather:"The Messenger of Allah returned his daughter Zainab to Abul-As bin Ar-Rabi with a new dowry and a new wedding
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لڑکی زینب کو ابوالعاص بن ربیع رضی الله عنہ کے پاس نئے مہر اور نئے نکاح کے ذریعے لوٹا دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند میں کچھ کلام ہے اور دوسری حدیث میں بھی کلام ہے، ۲- اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ عورت جب شوہر سے پہلے اسلام قبول کر لے، پھر اس کا شوہر عدت کے دوران اسلام لے آئے تو اس کا شوہر ہی اس کا زیادہ حقدار ہے جب وہ عدت میں ہو۔ یہی مالک بن انس، اوزاعی، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَهَنَّادٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِي بْنِ الرَّبِيعِ بِمَهْرٍ جَدِيدٍ وَنِكَاحٍ جَدِيدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا أَسْلَمَتْ قَبْلَ زَوْجِهَا ثُمَّ أَسْلَمَ زَوْجُهَا وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ أَنَّ زَوْجَهَا أَحَقُّ بِهَا مَا كَانَتْ فِي الْعِدَّةِ . وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَالأَوْزَاعِيِّ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ .
#1143
Sahih
Ibn Abbas narrated:"The Prophet returned his daughter Zainab to Abul-As bin Ar-Rabi after six years in the first marriage without renewing the marriage
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب کو ابوالعاص بن ربیع رضی الله عنہ کے پاس چھ سال بعد ۱؎ پہلے نکاح ہی پر واپس بھیج دیا اور پھر سے نکاح نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کی سند میں کوئی اشکال نہیں ہے، لیکن ہم اس حدیث میں نقد کی وجہ نہیں جانتے ہیں۔ شاید یہ چیز داود بن حصین کی جانب سے ان کے حفظ کی طرف سے آئی ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ رَدَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِي بْنِ الرَّبِيعِ بَعْدَ سِتِّ سِنِينَ بِالنِّكَاحِ الأَوَّلِ وَلَمْ يُحْدِثْ نِكَاحًا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ بِإِسْنَادِهِ بَأْسٌ وَلَكِنْ لاَ نَعْرِفُ وَجْهَ هَذَا الْحَدِيثِ وَلَعَلَّهُ قَدْ جَاءَ هَذَا مِنْ قِبَلِ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ .
#1144
Daif
Ibn Abbas narrated:"A man became a Muslim during the time of the Prophet, then his wife became a Muslim, so he said: 'O Messenger of Allah! She accepted Islam along with me, so return her to me.' So he returned her to him
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسلمان ہو کر آیا پھر اس کی بیوی بھی مسلمان ہو کر آ گئی تو اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس نے میرے ساتھ اسلام قبول کیا تھا۔ تو آپ اسے مجھے واپس دے دیجئیے۔ تو آپ نے اسے اسی کو واپس دے دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- حجاج نے یہ حدیث بطریق «عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده» روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب کو ابوالعاص کے ہاں نئے مہر اور نئے نکاح کے ذریعے لوٹایا، ۳- یزید بن ہارون کہتے ہیں کہ ابن عباس کی حدیث سند کے اعتبار سے سب سے اچھی ہے لیکن عمل «عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده» کی حدیث پر ہے۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ مُسْلِمًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ جَاءَتِ امْرَأَتُهُ مُسْلِمَةً فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَتْ أَسْلَمَتْ مَعِي فَرُدَّهَا عَلَىَّ . فَرَدَّهَا عَلَيْهِ . هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ . سَمِعْتُ عَبْدَ بْنَ حُمَيْدٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ، يَذْكُرُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، هَذَا الْحَدِيثَ وَحَدِيثَ الْحَجَّاجِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِي بِمَهْرٍ جَدِيدٍ وَنِكَاحٍ جَدِيدٍ . قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ أَجْوَدُ إِسْنَادًا . وَالْعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ .
#1145
Sahih
Alqamah narrated that :Ibn Mas'ud was asked about a man who married a woman and he did not stipulate the dowry for her, and he did not enter into her until he died. So Ibn Mas'ud said: "She gets the same dowry as other women, no less and no more, she has to observe the Iddah, and she gets inheritance." So Ma'qil bin Sinan Al-Ashja'I stood and said: "The Messenger of Allah judged the same as you have judged regarding Birwa bint Washiq, a woman of ours." So Ibn Mas'ud was happy about that
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے ایک عورت سے شادی کی لیکن اس نے نہ اس کا مہر مقرر کیا اور نہ اس سے صحبت کی یہاں تک کہ وہ مر گیا، تو ابن مسعود رضی الله عنہ نے کہا: اس عورت کے لیے اپنے خاندان کی عورتوں کے جیسا مہر ہو گا۔ نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ۔ اسے عدت بھی گزارنی ہو گی اور میراث میں بھی اس کا حق ہو گا۔ تو معقل بن سنان اشجعی نے کھڑے ہو کر کہا: بروع بنت واشق جو ہمارے قبیلے کی عورت تھی، کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فیصلہ فرمایا تھا جیسا آپ نے کیا ہے۔ تو اس سے ابن مسعود رضی الله عنہ خوش ہوئے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جراح سے بھی روایت ہے۔ ۳- یزید بن ہارون اور عبدالرزاق نے بسند «سفيان عن منصور» سے اسی طرح روایت کی ہے، ۴- ابن مسعود رضی الله عنہ سے یہ اور بھی طرق سے مروی ہے، ۵- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۲؎ یہی ثوری، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۶- اور صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم صحابہ کہتے ہیں: جن میں علی بن ابی طالب، زید بن ثابت، ابن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم بھی شامل ہیں کہتے ہیں کہ جب آدمی کسی عورت سے شادی کرے، اور اس نے اس سے ابھی دخول نہ کیا ہو اور نہ ہی اس کا مہر مقرر کیا ہو اور وہ مر جائے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس عورت کو میراث میں حق ملے گا، لیکن کوئی مہر نہیں ہو گا ۳؎ اور اسے عدت گزارنی ہو گی۔ یہی شافعی کا بھی قول ہے۔ وہ کہتے ہیں: اگر بروع بنت واشق کی حدیث صحیح ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہونے کی وجہ سے حجت ہو گی۔ اور شافعی سے مروی ہے کہ انہوں نے بعد میں مصر میں اس قول سے رجوع کر لیا اور بروع بنت واشق کی حدیث کے مطابق فتویٰ دیا۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ، تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا حَتَّى مَاتَ . فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ لَهَا مِثْلُ صَدَاقِ نِسَائِهَا لاَ وَكْسَ وَلاَ شَطَطَ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ . فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الأَشْجَعِيُّ فَقَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ امْرَأَةٍ مِنَّا مِثْلَ الَّذِي قَضَيْتَ . فَفَرِحَ بِهَا ابْنُ مَسْعُودٍ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ الْجَرَّاحِ . حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، كِلاَهُمَا عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ، مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ وَبِهِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ عُمَرَ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا حَتَّى مَاتَ قَالُوا لَهَا الْمِيرَاثُ وَلاَ صَدَاقَ لَهَا وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ . وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ قَالَ لَوْ ثَبَتَ حَدِيثُ بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ لَكَانَتِ الْحُجَّةُ فِيمَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَرُوِيَ عَنِ الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ رَجَعَ بِمِصْرَ بَعْدُ عَنْ هَذَا الْقَوْلِ وَقَالَ بِحَدِيثِ بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ .
#1146
Sahih
Ali (bin Abi Talib) narrated that The Messenger of Allah said:“Indeed Allah has made unlawful through suckling whatever He made unlawful through lineage.”
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے رضاعت سے بھی وہ سارے رشتے حرام کر دئیے ہیں جو نسب سے حرام ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، ابن عباس اور ام حبیبہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اس سلسلے میں ہم ان کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں جانتے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأُمِّ حَبِيبَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَلِيٍّ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1147
Sahih
Aishah narrated that the Messenger of Allah said:“Indeed Allah has made unlawful through suckling whatever He made unlawful through birth.”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام قرار دے دیئے ہیں جو ولادت ( نسب ) سے حرام ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ان کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف ہے۔
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنَ الْوِلاَدَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ لاَ نَعْلَمُ بَيْنَهُمْ فِي ذَلِكَ اخْتِلاَفًا .
#1148
Sahih
Aishah narrated:“My uncle through suckling came and asked permission (to enter) but I refused to admit him until I asked the Messenger of Allah. So the Messenger of Allah said: “Let him in since he is your uncle.’” She said: “It is only the woman who suckled me; I was not suckled by the man.’ So he said: ‘Indeed he is your uncle, so let him in.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا آئے، وہ مجھ سے اندر آنے کی اجازت مانگ رہے تھے، تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کیا یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تیرے پاس آ سکتے ہیں کیونکہ وہ تیرے چچا ہیں“، اس پر انہوں نے عرض کیا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے نہیں، تو آپ نے فرمایا: ”تیرے چچا ہیں، وہ تیرے پاس آ سکتے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے انہوں نے «لبن فحل» ( مرد کے دودھ ) کو حرام کہا ہے۔ اس باب میں اصل عائشہ کی حدیث ہے، ۳- اور بعض اہل علم نے «لبن فحل» ( مرد کے دودھ ) کی رخصت دی ہے۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ يَسْتَأْذِنُ عَلَىَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْمِرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ فَإِنَّهُ عَمُّكِ " . قَالَتْ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ . قَالَ " فَإِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ كَرِهُوا لَبَنَ الْفَحْلِ وَالأَصْلُ فِي هَذَا حَدِيثُ عَائِشَةَ وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي لَبَنِ الْفَحْلِ وَالْقَوْلُ الأَوَّلُ أَصَحُّ .
#1149
Sahih Isnaad
Amr bin Ash-Shariq narrated that Ibn Abbas was asked about the case in which a man had two slave girls, one of them suckled a girl and the other suckled a boy, is it lawful for the boy to marry the girl? She said:“No, the semen is the same.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس کے پاس دو لونڈیاں ہوں، ان میں سے ایک نے ایک لڑکی کو دودھ پلایا ہے اور دوسری نے ایک لڑکے کو۔ تو کیا اس لڑکے کے لیے جائز ہے کہ وہ اس لڑکی سے شادی کرے۔ انہوں نے ( ابن عباس رضی الله عنہما ) نے کہا: نہیں۔ اس لیے کہ «لقاح» ایک ہی ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہی اس باب میں اصل ہے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ، لَهُ جَارِيَتَانِ أَرْضَعَتْ إِحْدَاهُمَا جَارِيَةً وَالأُخْرَى غُلاَمًا أَيَحِلُّ لِلْغُلاَمِ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِالْجَارِيَةِ فَقَالَ لاَ اللِّقَاحُ وَاحِدٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا تَفْسِيرُ لَبَنِ الْفَحْلِ وَهَذَا الأَصْلُ فِي هَذَا الْبَابِ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ .
#1150
Sahih
Abdullah bin Az-Zubair narrated from Aishah from the Prophet who said:“One sip or two sips do not make a prohibition.”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بار یا دو بار چھاتی سے دودھ چوس لینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام فضل، ابوہریرہ، زبیر بن عوام اور ابن زبیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اس حدیث کو دیگر کئی لوگوں نے بطریق: «هشام بن عروة عن أبيه عن عبد الله بن الزبير عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”ایک یا دو بار دودھ چوس لینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی“۔ اور محمد بن دینار نے بطریق: «هشام بن عروة عن أبيه عن عبد الله بن الزبير عن الزبير عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اس میں محمد بن دینار بصریٰ نے زبیر کے واسطے کا اضافہ کیا ہے۔ لیکن یہ غیر محفوظ ہے، ۳- محدثین کے نزدیک صحیح ابن ابی ملیکہ کی روایت ہے جسے انہوں نے بطریق: «عبد الله بن الزبير عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، ۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: صحیح ابن زبیر کی روایت ہے جسے انہوں نے عائشہ سے روایت کی ہے اور محمد بن دینار کی روایت جس میں: زبیر کے واسطے کا اضافہ ہے وہ دراصل ہشام بن عروہ سے مروی ہے جسے انہوں نے اپنے والد عروہ سے اور انہوں نے زبیر سے روایت کی ہے، ۵- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ۶- عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قرآن میں ( پہلے ) دس رضعات والی آیت نازل کی گئی پھر اس میں سے پانچ منسوخ کر دی گئیں تو پانچ رضاعتیں باقی رہ گئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو معاملہ انہیں پانچ پر قائم رہا ۲؎، ۷- اور عائشہ رضی اللہ عنہا اور بعض دوسری ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اسی کا فتویٰ دیتی تھیں، اور یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ ۸- امام احمد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ”ایک بار یا دو بار کے چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی“ کے قائل ہیں اور انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر کوئی عائشہ رضی الله عنہا کے پانچ رضعات والے قول کی طرف جائے تو یہ قوی مذہب ہے۔ لیکن انہیں اس کا فتویٰ دینے کی ہمت نہیں ہوئی، ۹- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ رضاعت تھوڑی ہو یا زیادہ جب پیٹ تک پہنچ جائے تو اس سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔ یہی سفیان ثوری، مالک بن انس، اوزاعی، عبداللہ بن مبارک، وکیع اور اہل کوفہ کا قول ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلاَ الْمَصَّتَانِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ وَابْنِ الزُّبَيْرِ . وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلاَ الْمَصَّتَانِ " . وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ الزُّبَيْرِ عَنِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ . وَزَادَ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ الْبَصْرِيُّ عَنِ الزُّبَيْرِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ . وَالصَّحِيحُ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ حَدِيثُ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا فَقَالَ الصَّحِيحُ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ دِينَارٍ خَطَأٌ أَخْطَأَ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ وَزَادَ فِيهِ عَنِ الزُّبَيْرِ وَإِنَّمَا هُوَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الزُّبَيْرِ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ . وَقَالَتْ عَائِشَةُ أُنْزِلَ فِي الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ . فَنُسِخَ مِنْ ذَلِكَ خَمْسٌ وَصَارَ إِلَى خَمْسِ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ . فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا . وَبِهَذَا كَانَتْ عَائِشَةُ تُفْتِي وَبَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَإِسْحَاقَ . وَقَالَ أَحْمَدُ بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلاَ الْمَصَّتَانِ " . وَقَالَ إِنْ ذَهَبَ ذَاهِبٌ إِلَى قَوْلِ عَائِشَةَ فِي خَمْسِ رَضَعَاتٍ فَهُوَ مَذْهَبٌ قَوِيٌّ . وَجَبُنَ عَنْهُ أَنْ يَقُولَ فِيهِ شَيْئًا . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ يُحَرِّمُ قَلِيلُ الرَّضَاعِ وَكَثِيرُهُ إِذَا وَصَلَ إِلَى الْجَوْفِ . وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَالأَوْزَاعِيِّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ وَوَكِيعٍ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ . عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ وَيُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ قَدِ اسْتَقْضَاهُ عَلَى الطَّائِفِ وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ أَدْرَكْتُ ثَلاَثِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .