#1101
Sahih
Abu Musa narrated that :the Messenger of Allah said: "There is no marriage except with a Wali
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں عائشہ، ابن عباس، ابوہریرہ، عمران بن حصین اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ( ابوموسیٰ اشعری کی حدیث پر مولف کا مفصل کلام اگلے باب میں آ رہا ہے ) ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَأَنَسٍ .
#1102
Isnaad Sahih
Aishah narrated that:The Messenger of Allah said: "Whichever woman married without the permission of her Wali her marriage is invalid, her marriage is invalid, her marriage is invalid. If he entered into her, then the Mahr is for her in lieu of what he enjoyed from her private part. If they disagree, then the Sultan is the Wali for one who has no Wali
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اگر اس نے اس سے دخول کر لیا ہے تو اس کی شرمگاہ حلال کر لینے کے عوض اس کے لیے مہر ہے، اور اگر اولیاء میں جھگڑا ہو جائے تو جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حاکم ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یحییٰ بن سعید انصاری، یحییٰ بن ایوب، سفیان ثوری، اور کئی حفاظ حدیث نے اسی طرح ابن جریج سے روایت کی ہے، ۳- ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کی ( پچھلی ) حدیث میں اختلاف ہے، اسے اسرائیل، شریک بن عبداللہ، ابو عوانہ، زہیر بن معاویہ اور قیس بن ربیع نے بسند «أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۴- اور اسباط بن محمد اور زید بن حباب نے بسند «يونس بن أبي إسحق عن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۵- اور ابوعبیدہ حداد نے بسند «يونس بن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے، اس میں انہوں نے ابواسحاق کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، ۶- نیز یہ حدیث یونس بن ابی اسحاق سے بھی روایت کی گئی ہے انہوں نے بسند «أبي إسحق عن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۷- اور شعبہ اور سفیان ثوری بسند «أبي إسحق عن أبي بردة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے کہ ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے“، اور سفیان ثوری کے بعض تلامذہ نے بسند «سفيان عن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى» روایت کی ہے، لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ ان لوگوں کی روایت، جنہوں نے بطریق: «أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے کہ ”ولی کے بغیر نکاح نہیں“ میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے، کیونکہ ابواسحاق سبیعی سے ان لوگوں کا سماع مختلف اوقات میں ہے اگرچہ شعبہ اور ثوری ابواسحاق سے روایت کرنے والے تمام لوگوں سے زیادہ پختہ اور مضبوط حافظہ والے ہیں پھر بھی ان لوگوں ( یعنی شعبہ و ثوری کے علاوہ دوسرے رواۃ ) کی روایت اشبہ ( قریب تر ) ہے۔ اس لیے کہ شعبہ اور ثوری دونوں نے یہ حدیث ابواسحاق سے ایک ہی مجلس میں سنی ہے، ( اور ان کے علاوہ رواۃ نے مختلف اوقات میں ) اس کی دلیل شعبہ کا یہ بیان ہے کہ میں نے سفیان ثوری کو ابواسحاق سے پوچھتے سنا کہ کیا آپ نے ابوبردہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں؟“ تو انہوں نے کہا: ہاں ( سنا ہے ) ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ شعبہ اور ثوری کا مکحول سے اس حدیث کا سماع ایک ہی وقت میں ہے۔ اور ابواسحاق سبیعی سے روایت کرنے میں اسرائیل بہت ہی ثقہ راوی ہیں۔ عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں کہ مجھ سے ثوری کی روایتوں میں سے جنہیں وہ ابواسحاق سے روایت کرتے ہیں، کوئی روایت نہیں چھوٹی، مگر جو چھوٹی ہیں وہ صرف اس لیے چھوٹی ہیں کہ میں نے اس سلسلے میں اسرائیل پر بھروسہ کر لیا تھا، اس لیے کہ وہ ابواسحاق کی حدیثوں کو بطریق اتم بیان کرتے تھے۔ اور اس باب میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث: ”بغیر ولی کے نکاح نہیں“ میرے نزدیک حسن ہے۔ یہ حدیث ابن جریج نے بطریق: «سليمان بن موسى، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم»، نیز اسے حجاج بن ارطاۃ اور جعفر بن ربیعہ نے بھی بطریق: «الزهري، عن عروة، عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔ نیز زہری نے بطریق: «هشام بن عروة، عن أبيه عروة، عن عائشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی کے مثل روایت کی ہے۔ بعض محدثین نے زہری کی روایت میں ( جسے انہوں نے بطریق: «عروة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے ) کلام کیا ہے، ابن جریج کہتے ہیں: پھر میں زہری سے ملا اور میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے اس کا انکار کیا اس کی وجہ سے ان لوگوں نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ ابن جریج سے اس بات کو اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ کے علاوہ کسی اور نے نہیں نقل کیا ہے، یحییٰ بن معین کہتے ہیں: اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ کا سماع ابن جریج سے نہیں ہے، انہوں نے اپنی کتابوں کی تصحیح عبدالمجید بن عبدالعزیز بن ابی رواد کی ان کتابوں سے کی ہے جنہیں عبدالمجید نے ابن جریج سے سنی ہیں۔ یحییٰ بن معین نے اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ کی روایت کو جسے انہوں نے ابن جریج سے روایت کی ہے ضعیف قرار دیا ہے۔ ۸- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا عمل اس باب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث «لا نكاح إلا بولي» ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ”پر ہے جن میں عمر، علی، عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم وغیرہ بھی شامل ہیں، اسی طرح بعض فقہائے تابعین سے مروی ہے کہ ولی کے بغیر نکاح درست نہیں۔ ان میں سعید بن مسیب، حسن بصری، شریح، ابراہیم نخعی اور عمر بن عبدالعزیز وغیرہ ہیں۔ یہی سفیان ثوری، اوزاعی، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لاَ وَلِيَّ لَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدْ رَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ نَحْوَ هَذَا . قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ أَبِي مُوسَى حَدِيثٌ فِيهِ اخْتِلاَفٌ رَوَاهُ إِسْرَائِيلُ وَشَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبُو عَوَانَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَرَوَى أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَزَيْدُ بْنُ حُبَابٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَرَوَى أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَيْضًا . وَرَوَى شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ " . وَقَدْ ذَكَرَ بَعْضُ أَصْحَابِ سُفْيَانَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى . وَلاَ يَصِحُّ . وَرِوَايَةُ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ رَوَوْا عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ " . عِنْدِي أَصَحُّ لأَنَّ سَمَاعَهُمْ مِنْ أَبِي إِسْحَاقَ فِي أَوْقَاتٍ مُخْتَلِفَةٍ وَإِنْ كَانَ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ أَحْفَظَ وَأَثْبَتَ مِنْ جَمِيعِ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ رَوَوْا عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ هَذَا الْحَدِيثَ فَإِنَّ رِوَايَةَ هَؤُلاَءِ عِنْدِي أَشْبَهُ لأَنَّ شُعْبَةَ وَالثَّوْرِيَّ سَمِعَا هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ أَبِي إِسْحَاقَ فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ . وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ مَا حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ، يَسْأَلُ أَبَا إِسْحَاقَ أَسَمِعْتَ أَبَا بُرْدَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ " . فَقَالَ نَعَمْ . فَدَلَّ هَذَا الْحَدِيثُ عَلَى أَنَّ سَمَاعَ شُعْبَةَ وَالثَّوْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ فِي وَقْتٍ وَاحِدٍ . وَإِسْرَائِيلُ هُوَ ثِقَةٌ ثَبْتٌ فِي أَبِي إِسْحَاقَ . سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُثَنَّى يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يَقُولُ مَا فَاتَنِي مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الَّذِي فَاتَنِي إِلاَّ لَمَّا اتَّكَلْتُ بِهِ عَلَى إِسْرَائِيلَ لأَنَّهُ كَانَ يَأْتِي بِهِ أَتَمَّ . - وَحَدِيثُ عَائِشَةَ فِي هَذَا الْبَابِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ " حَدِيثٌ عِنْدِي حَسَنٌ . رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَرَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَجَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَرُوِيَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلُهُ . وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ثُمَّ لَقِيتُ الزُّهْرِيَّ فَسَأَلْتُهُ فَأَنْكَرَهُ . فَضَعَّفُوا هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ أَجْلِ هَذَا . وَذُكِرَ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ أَنَّهُ قَالَ لَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْحَرْفَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ إِلاَّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ . قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَسَمَاعُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ لَيْسَ بِذَاكَ إِنَّمَا صَحَّحَ كُتُبَهُ عَلَى كُتُبِ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ مَا سَمِعَ مِنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَضَعَّفَ يَحْيَى رِوَايَةَ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . - وَالْعَمَلُ فِي هَذَا الْبَابِ عَلَى حَدِيثِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ " . عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَغَيْرُهُمْ . وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ بَعْضِ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ أَنَّهُمْ قَالُوا لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ . مِنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَالْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ وَشُرَيْحٌ وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَغَيْرُهُمْ وَبِهَذَا يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَالأَوْزَاعِيُّ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَمَالِكٌ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ .
#1103
Daif
Ibn Abbas narrated that :the Prophet said: "The adulteresses are the ones who marry themselves without Bayyinah (proof)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زنا کار ہیں وہ عورتیں جو گواہوں کے بغیر خود نکاح کر لیتی ہیں“۔ یوسف بن حماد کہتے ہیں کہ عبدالاعلی نے اس حدیث کو کتاب التفسیر میں مرفوع بیان کیا ہے اور کتاب الطلاق میں اسے انہوں نے موقوفاً بیان کیا ہے، مرفوع نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْبَغَايَا اللاَّتِي يُنْكِحْنَ أَنْفُسَهُنَّ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ " . قَالَ يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ رَفَعَ عَبْدُ الأَعْلَى هَذَا الْحَدِيثَ فِي التَّفْسِيرِ وَأَوْقَفَهُ فِي كِتَابِ الطَّلاَقِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ .
#1104
Daif
(Another chain) from Sa'eed bin Abi Arubah, with similar (narration), :And he did not narrate it in Marfu form, and this is more correct
اس سند سے بھی سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا۔ اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غیر محفوظ ہے، ۲- ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے مرفوع کیا ہو سوائے اس کے جو عبدالاعلیٰ سے مروی ہے انہوں نے سعید بن ابی عروبہ سے اور سعید نے قتادہ سے مرفوعاً روایت کی ہے، ۳- اور عبدالاعلیٰ سے سعید بن ابی عروبہ کے واسطے سے یہ موقوفا بھی مروی ہے۔ اور صحیح وہ ہے جو ابن عباس کے قول سے مروی ہے کہ بغیر گواہ کے نکاح نہیں، خود ابن عباس کا قول ہے، ۴- اسی طرح سے اور کئی لوگوں نے بھی سعید بن ابی عروبہ سے اسی طرح کی روایت موقوفاً کی ہے، ۵- اس باب میں عمران بن حصین، انس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۶- صحابہ کرام اور تابعین وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ بغیر گواہ کے نکاح درست نہیں۔ پہلے کے لوگوں میں اس سلسلے میں کوئی اختلاف نہیں تھا لیکن متاخرین اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے اس میں اختلاف کیا ہے، ۷- اہل علم میں اس سلسلے میں اختلاف ہے جب ایک دوسرے کے بعد گواہی دے یعنی دونوں بیک وقت مجلس نکاح میں حاضر نہ ہوں تو کوفہ کے اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ نکاح اسی وقت درست ہو گا جب عقد نکاح کے وقت دونوں گواہ ایک ساتھ موجود ہوں، ۸- اور بعض اہل مدینہ کا خیال ہے کہ جب ایک کے بعد دوسرے کو گواہ بنایا گیا ہو تو بھی جائز ہے جب وہ اس کا اعلان کر دیں۔ یہ مالک بن انس وغیرہ کا قول ہے۔ اسی طرح کی بات اسحاق بن راہویہ نے بھی کہی ہے جو اہل مدینہ نے کہی ہے، ۹- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ نکاح میں ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت جائز ہے، یہ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ . وَهَذَا أَصَحُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ لاَ نَعْلَمُ أَحَدًا رَفَعَهُ إِلاَّ مَا رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ مَرْفُوعًا . وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى عَنْ سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثُ مَوْقُوفًا وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِبَيِّنَةٍ هَكَذَا رَوَى أَصْحَابُ قَتَادَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِبَيِّنَةٍ . وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ نَحْوَ هَذَا مَوْقُوفًا . وَفِي هَذَا الْبَابِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَأَنَسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ قَالُوا لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِشُهُودٍ . لَمْ يَخْتَلِفُوا فِي ذَلِكَ مَنْ مَضَى مِنْهُمْ إِلاَّ قَوْمًا مِنَ الْمُتَأَخِّرِينَ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ . وَإِنَّمَا اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا إِذَا شَهِدَ وَاحِدٌ بَعْدَ وَاحِدٍ فَقَالَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ لاَ يَجُوزُ النِّكَاحُ حَتَّى يَشْهَدَ الشَّاهِدَانِ مَعًا عِنْدَ عُقْدَةِ النِّكَاحِ . وَقَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ إِذَا أُشْهِدَ وَاحِدٌ بَعْدَ وَاحِدٍ فَإِنَّهُ جَائِزٌ إِذَا أَعْلَنُوا ذَلِكَ . وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَغَيْرِهِ . هَكَذَا قَالَ إِسْحَاقُ فِيمَا حَكَى عَنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ يَجُوزُ شَهَادَةُ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ فِي النِّكَاحِ . وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ .
#1105
Sahih
Abdullah bin Mas'ud narrated:"The Messenger of Allah taught us the Tashah-hud for Salat and the Tashah-hud for Al-Hajjah." He said: "The Tashah-hud for Salat is: (At-Tahiyyatulilah, was-walawtu wat-tayyibatu. As-Salamu alaika ayyuhan-Nabiyyu wa rahmatullilahi wa barakatuhu, As-Salamu alina wa ala ibadillahis-salihin. Ashahadu an la ilaha illallah, wa ashhadu anna Muhammadan abduha wa Raduluh.) 'All greetings, prayers, and pure words are for Allah. Peace be upon you O Prophet, and Allah's mercy and His blessings. Peace be upon us and all of the righteous worshippers of Allah. I testify that none has the right to be worshiped but Allah. and I testify that Muhammad is His slave and His Messenger."And the Tashah-hud for Al-Hajjah is: 'Indeed all praise is due to Allah, we seek His aid, and we seek His forgiveness, and we seek refuge with Allah from the evils of our souls and the mischief of our deeds. (Innal-Hamdlillahi nasta'inuhu, wa nastaghfirhu, wa na'udhu billahi min sharuri anfusina, wa sayy'ita a'malina, man yahdihi, sala mudilla lahu, wa manyudlil, fala Hadiya lahu, wa ashadu an la ilaha illallah wa ashadu anna Muhammadan abduhu wa Rasuluh) 'Whoever He guides - meaning Allah - then here is none to lead him astray, and whomever He misleads, then there is no guide for him. I testify that none has the right to be worshipped but Allah, and I testify that Muhammad is His worshipper and Messenger.'" He said: "And he recited three Ayat
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز کے تشہد اور حاجت کے تشہد کو ( الگ الگ ) سکھایا، وہ کہتے ہیں صلاۃ کا تشہد یہ ہے: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اے نبی: سلامتی ہو آپ پر اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں“، اور حاجت کا تشہد یہ ہے: «إن الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا فمن يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، ہم اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں، ہم اپنے دلوں کی شرارتوں اور برے اعمال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دیدے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں“۔ اور پھر آپ تین آیتیں پڑھتے۔ عبثر ( راوی حدیث ) کہتے ہیں: تو ہمیں سفیان ثوری نے بتایا کہ وہ تینوں آیتیں یہ تھی: «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا ڈرنے کا حق ہے اور حالت اسلام ہی میں مرو“ ( آل عمران: ۱۰۲ ) ، «واتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام إن الله كان عليكم رقيبا» ”اللہ سے ڈرو، جس کے نام سے تم سوال کرتے ہو اور جس کے واسطے سے ناطے جوڑتے ہو، بلاشبہ اللہ تمہارا نگہبان ہے“ ( النساء: ۱ ) ، «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وقولوا قولا سديدا» ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور راست اور پکی بات کہو“ ( الأحزاب: ۷۰ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اسے اعمش نے بطریق: «أبي إسحق عن أبي الأحوص عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے۔ نیز اسے شعبہ نے بطریق: «أبي إسحق عن أبي عبيدة عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اور یہ دونوں طریق صحیح ہیں، اس لیے کہ اسرائیل نے دونوں کو جمع کر دیا ہے، یعنی «عن أبي إسحق عن أبي الأحوص وأبي عبيدة عن عبد الله بن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم»، ۳- اس باب میں عدی بن حاتم رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۴- اہل علم نے کہا ہے کہ نکاح بغیر خطبے کے بھی جائز ہے۔ اہل علم میں سے سفیان ثوری وغیرہ کا یہی قول ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم التَّشَهُّدَ فِي الصَّلاَةِ وَالتَّشَهُّدَ فِي الْحَاجَةِ قَالَ " التَّشَهُّدُ فِي الصَّلاَةِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . وَالتَّشَهُّدُ فِي الْحَاجَةِ " إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَسَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا فَمَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . وَيَقْرَأُ ثَلاَثَ آيَاتٍ . قَالَ عَبْثَرٌ فَفَسَّرَهُ لَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ : (اتَّقوا الله حقَّ تقاتهِ ولا تموتنَّ إلاَّ وأنتمْ مسلمونَ). (اتّقوا الله الَّذي تساءلونَ بهِ والأرحامَ إنَّ اللهَ كانَ عليكُم رقيباً). (اتَّقوا الله وقولوا قولاً سديداً). قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ رَوَاهُ الأَعْمَشُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَكِلاَ الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ لأَنَّ إِسْرَائِيلَ جَمَعَهُمَا فَقَالَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ وَأَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِنَّ النِّكَاحَ جَائِزٌ بِغَيْرِ خُطْبَةٍ . وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَغَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ .
#1106
Sahih
Abu Hurairah narrated that:The Messenger of Allah said: "Every Khutbah that does not have the Tashah-hud in it, then it is like a severed hand
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے سبھی خطبے جس میں تشہد نہ ہو اس ہاتھ کی طرح ہیں جس میں کوڑھ ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ خُطْبَةٍ لَيْسَ فِيهَا تَشَهُّدٌ فَهِيَ كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ [صَحِيحٌ] غَرِيبٌ .
#1107
Sahih
Abu Hurairah narrated that:The Prophet said: "A matron should not be given in marriage until she is consulted, and a virgin should not be given in marriage until her permission is sought, and her silence is her permission
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «ثیبہ» ( شوہر دیدہ عورت خواہ بیوہ ہو یا مطلقہ ) کا نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ اس کی رضا مندی ۱؎ حاصل نہ کر لی جائے، اور کنواری ۲؎ عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ اس کی اجازت نہ لے لی جائے اور اس کی اجازت خاموشی ہے“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، ابن عباس، عائشہ اور عرس بن عمیرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ «ثیبہ» ( شوہر دیدہ ) کا نکاح اس کی رضا مندی حاصل کیے بغیر نہیں کیا جائے گا۔ اگر اس کے باپ نے اس کی شادی اس کی رضا مندی کے بغیر کر دی اور اسے وہ ناپسند ہو تو تمام اہل علم کے نزدیک وہ نکاح منسوخ ہو جائے گا، ۴- کنواری لڑکیوں کے باپ ان کی شادی ان کی اجازت کے بغیر کر دیں تو اہل علم کا اختلاف ہے۔ کوفہ وغیرہ کے اکثر اہل علم کا خیال ہے کہ باپ اگر کنواری لڑکی کی شادی اس کی اجازت کے بغیر کر دے اور وہ بالغ ہو اور پھر وہ اپنے والد کی شادی پر راضی نہ ہو تو نکاح منسوخ ہو جائے گا ۴؎، ۵- اور بعض اہل مدینہ کہتے ہیں کہ کنواری کی شادی اگر باپ نے کر دی ہو تو درست ہے گو وہ اسے ناپسند ہو، یہ مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ۵؎۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُنْكَحُ الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ وَلاَ تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ وَإِذْنُهَا الصُّمُوتُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ وَالْعُرْسِ بْنِ عَمِيرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الثَّيِّبَ لاَ تُزَوَّجُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ وَإِنْ زَوَّجَهَا الأَبُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَسْتَأْمِرَهَا فَكَرِهَتْ ذَلِكَ فَالنِّكَاحُ مَفْسُوخٌ عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ . وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي تَزْوِيجِ الأَبْكَارِ إِذَا زَوَّجَهُنَّ الآبَاءُ فَرَأَى أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ أَنَّ الأَبَ إِذَا زَوَّجَ الْبِكْرَ وَهِيَ بَالِغَةٌ بِغَيْرِ أَمْرِهَا فَلَمْ تَرْضَ بِتَزْوِيجِ الأَبِ فَالنِّكَاحُ مَفْسُوخٌ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ تَزْوِيجُ الأَبِ عَلَى الْبِكْرِ جَائِزٌ وَإِنْ كَرِهَتْ ذَلِكَ . وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ .
#1108
Sahih
Ibn Abbas narrated that:The Messenger of Allah said: "The matron has more right to herself than her Wali, and the virgin is to give permission for herself, and her silence is her permission
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ «ثیبہ» ( شوہر دیدہ ) عورت اپنے آپ پر اپنے ولی سے زیادہ استحقاق رکھتی ہے ۱؎ اور کنواری سے بھی اجازت طلب کی جائے گی اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ اور ثوری نے اسے مالک بن انس سے روایت کیا ہے، ۳- بعض لوگوں نے بغیر ولی کے نکاح کے جواز پر اسی حدیث سے دلیل لی ہے۔ حالانکہ اس حدیث میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو اس کی دلیل بنے۔ اس لیے کہ ابن عباس سے کئی اور طرق سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح درست نہیں“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابن عباس نے بھی یہی فتویٰ دیا کہ ولی کے بغیر نکاح درست نہیں، ۴- اور «الأيم أحق بنفسها من وليها» کا مطلب اکثر اہل علم کے نزدیک یہ ہے کہ ولی ثیبہ کا نکاح اس کی رضا مندی اور اس سے مشورہ کے بغیر نہ کرے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو خنساء بنت خدام کی حدیث کی رو سے نکاح فسح ہو جائے گا۔ ان کے والد نے ان کی شادی کر دی، اور وہ شوہر دیدہ عورت تھیں، انہیں یہ شادی ناپسند ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نکاح کو فسخ کر دیا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ . وَقَدِ احْتَجَّ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِجَازَةِ النِّكَاحِ بِغَيْرِ وَلِيٍّ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَيْسَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مَا احْتَجُّوا بِهِ لأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ " وَهَكَذَا أَفْتَى بِهِ ابْنُ عَبَّاسٍ بَعْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ . وَإِنَّمَا مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا " . عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْوَلِيَّ لاَ يُزَوِّجُهَا إِلاَّ بِرِضَاهَا وَأَمْرِهَا فَإِنْ زَوَّجَهَا فَالنِّكَاحُ مَفْسُوخٌ عَلَى حَدِيثِ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ حَيْثُ زَوَّجَهَا أَبُوهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ فَرَدَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم نِكَاحَهُ .
#1109
Hasan Sahih
Abu Hurairah narrated that:The Messenger of Allah said: "An orphan is to be consulted about herself, then if she is silent that is her permission, and if she refuses, then do not authorize it (the marriage) for her" (meaning: when she attains the age of puberty and refuses it)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یتیم لڑکی سے اس کی رضا مندی حاصل کی جائے گی، اگر وہ خاموش رہی تو یہی اس کی رضا مندی ہے، اور اگر اس نے انکار کیا تو اس پر ( زبردستی کرنے کا ) کوئی جواز نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابوموسیٰ، ابن عمر، اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- یتیم لڑکی کی شادی کے سلسلے میں اہل علم نے اختلاف کیا ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے: یتیم لڑکی کی جب شادی کر دی جائے تو نکاح موقوف رہے گا۔ یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے۔ جب وہ بالغ ہو جائے گی، تو اسے نکاح کو باقی رکھنے یا اسے فسخ کر دینے کا اختیار ہو گا۔ یہی بعض تابعین اور دیگر علماء کا بھی قول ہے، ۴- اور بعض کہتے ہیں: یتیم لڑکی کا نکاح جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے، درست نہیں اور نکاح میں «خیار» جائز نہیں، اور اہل علم میں سے سفیان ثوری، شافعی وغیرہم کا یہی قول ہے، ۵- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ جب یتیم لڑکی نو سال کی ہو جائے اور اس کا نکاح کر دیا جائے، اور وہ اس پر راضی ہو تو نکاح درست ہے اور بالغ ہونے کے بعد اسے اختیار نہیں ہو گا۔ ان دونوں نے عائشہ کی اس حدیث سے دلیل لی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے ساتھ شب زفاف منائی، تو وہ نو برس کی تھیں۔ اور عائشہ رضی الله عنہا کا قول ہے کہ لڑکی جب نو برس کی ہو جائے تو وہ عورت ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا فَإِنْ صَمَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا وَإِنْ أَبَتْ فَلاَ جَوَازَ عَلَيْهَا " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي مُوسَى وَابْنِ عُمَرَ وَعَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي تَزْوِيجِ الْيَتِيمَةِ فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْيَتِيمَةَ إِذَا زُوِّجَتْ فَالنِّكَاحُ مَوْقُوفٌ حَتَّى تَبْلُغَ فَإِذَا بَلَغَتْ فَلَهَا الْخِيَارُ فِي إِجَازَةِ النِّكَاحِ أَوْ فَسْخِهِ . وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ يَجُوزُ نِكَاحُ الْيَتِيمَةِ حَتَّى تَبْلُغَ . وَلاَ يَجُوزُ الْخِيَارُ فِي النِّكَاحِ . وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَالشَّافِعِيِّ وَغَيْرِهِمَا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ . وَقَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ إِذَا بَلَغَتِ الْيَتِيمَةُ تِسْعَ سِنِينَ فَزُوِّجَتْ فَرَضِيَتْ فَالنِّكَاحُ جَائِزٌ وَلاَ خِيَارَ لَهَا إِذَا أَدْرَكَتْ . وَاحْتَجَّا بِحَدِيثِ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ . وَقَدْ قَالَتْ عَائِشَةُ إِذَا بَلَغَتِ الْجَارِيَةُ تِسْعَ سِنِينَ فَهِيَ امْرَأَةٌ .
#1110
Daif
Samurah bin Jundab narrated that:The Messenger of Allah said: "Whichever woman is given in marriage by two Wali, then her case is in accordance with the first of them, and whoever sells something to two men, then it is for the first of them
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت کی شادی دو ولی الگ الگ جگہ کر دیں تو وہ ان میں سے پہلے کے لیے ہو گی، اور جو شخص کوئی چیز دو آدمیوں سے بیچ دے تو وہ بھی ان میں سے پہلے کی ہوئی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں علماء کے درمیان کسی اختلاف کا علم نہیں ہے۔ دو ولی میں سے ایک ولی جب دوسرے سے پہلے شادی کر دے تو پہلے کا نکاح جائز ہو گا، اور دوسرے کا نکاح فسخ قرار دیا جائے گا، اور جب دونوں نے ایک ساتھ نکاح ( دو الگ الگ شخصوں سے ) کیا ہو تو دونوں کا نکاح فسخ ہو جائے گا۔ یہی ثوری، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلأَوَّلِ مِنْهُمَا وَمَنْ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلأَوَّلِ مِنْهُمَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ نَعْلَمُ بَيْنَهُمْ فِي ذَلِكَ اخْتِلاَفًا إِذَا زَوَّجَ أَحَدُ الْوَلِيَّيْنِ قَبْلَ الآخَرِ فَنِكَاحُ الأَوَّلِ جَائِزٌ وَنِكَاحُ الآخَرِ مَفْسُوخٌ وَإِذَا زَوَّجَا جَمِيعًا فَنِكَاحُهُمَا جَمِيعًا مَفْسُوخٌ . وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ .
#1111
Hasan
Jabir bin Abdullah narrated that:The Prophet said: "Whichever slave gets married without the permission of his owner, then he is a fornicator
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر شادی کر لے، وہ زانی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر کی حدیث حسن ہے، ۲- بعض نے اس حدیث کو بسند «عبد الله بن محمد بن عقيل عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اور یہ صحیح نہیں ہے، صحیح یہ ہے کہ عبداللہ بن محمد بن عقیل نے جابر سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی حدیث آئی ہے، ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ مالک کی اجازت کے بغیر غلام کا نکاح کرنا جائز نہیں۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ وغیرہ کا بھی قول ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ فَهُوَ عَاهِرٌ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَلاَ يَصِحُّ وَالصَّحِيحُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ أَنَّ نِكَاحَ الْعَبْدِ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ لاَ يَجُوزُ . وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ وَغَيْرِهِمَا بِلَا اخْتِلَافٍ
#1112
Hasan
(Another chain) Jabir bin Abdullah narrated that:Abdullah narrated that the Prophet said: "Whichever slave gets married without the permission of his owner, then he is a fornicator
اس سند سے بھی جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس غلام نے اپنے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کی وہ زانی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ فَهُوَ عَاهِرٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1113
Daif
Abdullah bin Amr bin Rabi'ah narrated from his father:"A woman from Banu Fazarah was married for (the dowry of) two sandals. So the Messenger of Allah said to her: 'Do you approve of (exchanging) yourself and your wealth for two sandals?' She said: 'Yes.'" He said: "So he permitted it
عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنی فزارہ کی ایک عورت نے دو جوتی مہر پر نکاح کر لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تو اپنی جان و مال سے دو جوتی مہر پر راضی ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں راضی ہوں۔ وہ کہتے ہیں: تو آپ نے اس نکاح کو درست قرار دے دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، ابوہریرہ، سہل بن سعد، ابو سعید خدری، انس، عائشہ، جابر اور ابوحدرد اسلمی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا مہر کے سلسلے میں اختلاف ہے۔ بعض اہل علم کہتے ہیں: مہر اس قدر ہو کہ جس پر میاں بیوی راضی ہوں۔ یہ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ۴- مالک بن انس کہتے ہیں: مہر ایک چوتھائی دینار سے کم نہیں ہونا چاہیئے، ۵- بعض اہل کوفہ کہتے ہیں: مہر دس درہم سے کم نہیں ہونا چاہیئے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنْ بَنِي فَزَارَةَ تَزَوَّجَتْ عَلَى نَعْلَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَرَضِيتِ مِنْ نَفْسِكِ وَمَالِكِ بِنَعْلَيْنِ " . قَالَتْ نَعَمْ . قَالَ فَأَجَازَهُ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَنَسٍ وَعَائِشَةَ وَجَابِرٍ وَأَبِي حَدْرَدٍ الأَسْلَمِيِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْمَهْرِ فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْمَهْرُ عَلَى مَا تَرَاضَوْا عَلَيْهِ . وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ لاَ يَكُونُ الْمَهْرُ أَقَلَّ مِنْ رُبْعِ دِينَارٍ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْكُوفَةِ لاَ يَكُونُ الْمَهْرُ أَقَلَّ مِنْ عَشْرَةِ دَرَاهِمَ .
#1114
Abu Al-Ajfa (As-Salami) said:"Umar bin Al-Khattab said: 'Do not exaggerate in the dowries of women. If doing so was honorable in the world or Taqwa before Allah then Allah's Prophet would have been the first of you to do it. I do not know of the Messenger of Allah marrying any of his women, nor giving any of his daughters in marriage, for more than twelve Uqiyah
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ، قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَلاَ لاَ تُغَالُوا صَدُقَةَ النِّسَاءِ فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا أَوْ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ لَكَانَ أَوْلاَكُمْ بِهَا نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَكَحَ شَيْئًا مِنْ نِسَائِهِ وَلاَ أَنْكَحَ شَيْئًا مِنْ بَنَاتِهِ عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَأَبُو الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيُّ اسْمُهُ هَرَمٌ . وَالأُوقِيَّةُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا وَثِنْتَا عَشْرَةَ أُوقِيَّةً أَرْبَعُمِائَةٍ وَثَمَانُونَ دِرْهَمًا .
#1115
Sahih
Anas bin Malik narrated:"The Messenger of Allah emancipated Safiyyah and he made her emancipation her dowry
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں صفیہ رضی الله عنہا سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ۴- اور بعض اہل علم نے اس کی آزادی کو اس کا مہر قرار دینے کو مکروہ کہا ہے، یہاں تک کہ اس کا مہر آزادی کے علاوہ کسی اور چیز کو مقرر کیا جائے۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ صَفِيَّةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَكَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُجْعَلَ عِتْقُهَا صَدَاقَهَا حَتَّى يَجْعَلَ لَهَا مَهْرًا سِوَى الْعِتْقِ . وَالْقَوْلُ الأَوَّلُ أَصَحُّ .
#1116
Sahih
Abu Burdah bin Abi Musa narrated from his father that the Messenger of Allah said:"Three will receive their reward twice: A slave who fulfills the rights of Allah and the rights of his owners, then he will be given his reward twice. And a man who has a beautiful slave girl, so he teaches her good manners, then he frees her, then he married her seeking the Face of Allah by that; then he will be given his reward twice. And a man who believed in an earlier Book, then another Book came to him and he believed in it; then he will be given his reward twice
ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین لوگ ہیں جنہیں دہرا اجر دیا جاتا ہے: ایک وہ بندہ جو اللہ کا حق ادا کرے اور اپنے مالک کا حق بھی، اسے دہرا اجر دیا جاتا ہے، اور دوسرا وہ شخص جس کی ملکیت میں کوئی خوبصورت لونڈی ہو، وہ اس کی تربیت کرے اور اچھی تربیت کرے پھر اسے آزاد کر دے، پھر اس سے نکاح کر لے اور یہ سب اللہ کی رضا کی طلب میں کرے، تو اسے دہرا اجر دیا جاتا ہے۔ اور تیسرا وہ شخص جو پہلے کتاب ( تورات و انجیل ) پر ایمان لایا ہو پھر جب دوسری کتاب ( قرآن مجید ) آئی تو اس پر بھی ایمان لایا تو اسے بھی دہرا اجر دیا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ثَلاَثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ عَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ فَذَلِكَ يُؤْتَى أَجْرَهُ مَرَّتَيْنِ وَرَجُلٌ كَانَتْ عِنْدَهُ جَارِيَةٌ وَضِيئَةٌ فَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ أَدَبَهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا ثُمَّ تَزَوَّجَهَا يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ فَذَلِكَ يُؤْتَى أَجْرَهُ مَرَّتَيْنِ وَرَجُلٌ آمَنَ بِالْكِتَابِ الأَوَّلِ ثُمَّ جَاءَ الْكِتَابُ الآخَرُ فَآمَنَ بِهِ فَذَلِكَ يُؤْتَى أَجْرَهُ مَرَّتَيْنِ " . حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ، وَهُوَ ابْنُ حَىٍّ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي مُوسَى حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَأَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى اسْمُهُ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ . وَرَوَى شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحِ بْنِ حَىٍّ . وَصَالِحُ بْنُ صَالِحِ بْنِ حَىٍّ هُوَ وَالِدُ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحِ بْنِ حَىٍّ .
#1117
Daif
Amr bin Shu'aib narrated from his father, from his grandfather that:The Prophet said: "Whichever man married a woman and entered into her, then it is not lawful for him to marry her daughter. If he did not enter into her then he may marry her daughter. And whichever man married a woman and he entered into her, or he did not enter into her, then it is not lawful for him to marry her mother
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس کے ساتھ دخول کیا تو اس کے لیے اس کی بیٹی سے نکاح کرنا درست نہیں ہے، اور اگر اس نے اس کے ساتھ دخول نہیں کیا ہے تو وہ اس کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے، اور جس مرد نے کسی عورت سے نکاح کیا تو اس نے اس سے دخول کیا ہو یا نہ کیا ہو اس کے لیے اس کی ماں سے نکاح کرنا حلال نہیں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے، اسے صرف ابن لہیعہ اور مثنی بن صالح نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا ہے۔ اور مثنی بن صالح اور ابن لہیعہ حدیث کے سلسلے میں ضعیف قرار دیے جاتے ہیں۔ ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی کسی کی ماں سے شادی کر لے اور پھر اسے دخول سے پہلے طلاق دیدے تو اس کے لیے اس کی بیٹی سے نکاح جائز ہے، اور جب آدمی کسی کی بیٹی سے نکاح کرے اور اسے دخول سے پہلے طلاق دیدے تو اس کے لیے اس کی ماں سے نکاح جائز نہیں ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «وأمهات نسائكم» ( النساء: ۲۳ ) ، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً فَدَخَلَ بِهَا فَلاَ يَحِلُّ لَهُ نِكَاحُ ابْنَتِهَا فَإِنْ لَمْ يَكُنْ دَخَلَ بِهَا فَلْيَنْكِحِ ابْنَتَهَا وَأَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً فَدَخَلَ بِهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَلاَ يَحِلُّ لَهُ نِكَاحُ أُمِّهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لاَ يَصِحُّ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ وَإِنَّمَا رَوَاهُ ابْنُ لَهِيعَةَ وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ . وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ وَابْنُ لَهِيعَةَ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ امْرَأَةً ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا حَلَّ لَهُ أَنْ يَنْكِحَ ابْنَتَهَا وَإِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الاِبْنَةَ فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا لَمْ يَحِلَّ لَهُ نِكَاحُ أُمِّهَا لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى (وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ ) وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ .
#1118
Sahih
Aishah narrated:"The wife of Rifa'ah Al-Qurzi came to the Messenger of Allah and said: 'I was with Rifa'ah and he divorced me irrevocably. Then I married Abdur-Rahman bin Az-Zubair, but he only has the likes of the fringe of a garment.' So he said: 'Perhaps you want me to return to Rifa'ah? No, not until you taste his sweetness, and he tastes your sweetness
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میں رفاعہ کے نکاح میں تھی۔ انہوں نے مجھے طلاق دے دی اور میری طلاق طلاق بتہ ہوئی ہے۔ پھر میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی، ان کے پاس صرف کپڑے کے پلو کے سوا کچھ نہیں ہے ۱؎، آپ نے فرمایا: ”تو کیا تم رفاعہ کے پاس لوٹ جانا چاہتی ہو؟ ایسا نہیں ہو سکتا جب تک کہ تم ان ( عبدالرحمٰن ) کی لذت نہ چکھ لو اور وہ تمہاری لذت نہ چکھ لیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، انس، رمیصاء، یا غمیصاء اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی جب اپنی بیوی کو تین طلاق دیدے پھر وہ کسی اور سے شادی کر لے اور وہ دوسرا شخص دخول سے پہلے اسے طلاق دیدے تو اس کے لیے پہلے شوہر سے نکاح درست نہیں جب تک کہ دوسرے شوہر نے اس سے جماع نہ کر لیا ہو۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلاَقِي فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَمَا مَعَهُ إِلاَّ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ . فَقَالَ " أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لاَ حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَنَسٍ وَالرُّمَيْصَاءِ أَوِ الْغُمَيْصَاءِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَنَّهَا لاَ تَحِلُّ لِلزَّوْجِ الأَوَّلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ جَامَعَ الزَّوْجُ الآخَرُ .
#1119
Sahih
Jabir bin Abdullah and Ali narrated:"The Messenger of Allah cursed the Muhill and the one the Muhallal was done for
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے اور کرانے والے پر لعنت بھیجی ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی اور جابر رضی الله عنہما کی حدیث معلول ہے، ۲- اسی طرح اشعث بن عبدالرحمٰن نے بسند «مجالد عن عامر هو الشعبي عن الحارث عن علي» روایت کی ہے۔ اور عامر الشعبی نے بسند «جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۳- اس حدیث کی سند کچھ زیادہ درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ مجالد بن سعید کو بعض اہل علم نے ضعیف گردانا ہے۔ انہی میں سے احمد بن حنبل ہیں، ۴- نیز عبداللہ بن نمیر نے اس حدیث کو بسند «مجالد عن عامر عن جابر بن عبد الله عن علي» روایت کی ہے، اس میں ابن نمیر کو وہم ہوا ہے۔ پہلی حدیث زیادہ صحیح ہے، ۵- اور اسے مغیرہ، ابن ابی خالد اور کئی اور لوگوں نے بسند «الشعبی عن الحارث عن علی» روایت کی ہے، ۶- اس باب میں ابن مسعود، ابوہریرہ، عقبہ بن عامر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زُبَيْدٍ الأَيَامِيُّ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالاَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَعَنَ الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابِنْ مَسْعُودٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَلِيٍّ وَجَابِرٍ حَدِيثٌ مَعْلُولٌ . هَكَذَا رَوَى أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُجَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ هُوَ الشَّعْبِيُّ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ وَعَامِرٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَهَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَائِمِ لأَنَّ مُجَالِدَ بْنَ سَعِيدٍ قَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ . وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُجَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَلِيٍّ . وَهَذَا قَدْ وَهِمَ فِيهِ ابْنُ نُمَيْرٍ وَالْحَدِيثُ الأَوَّلُ أَصَحُّ . وَقَدْ رَوَاهُ مُغِيرَةُ وَابْنُ أَبِي خَالِدٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ .
#1120
Sahih
Abdullah bin Mas'ud narrated:"The Messenger of Allah cursed the Muhill and the one the Muhallal was done for
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور کرانے والے ( دونوں ) پر لعنت بھیجی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی اور طرق سے بھی روایت کی گئی ہے، ۳- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔ جن میں عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، عبداللہ بن عمر وغیرہم رضی الله عنہم بھی شامل ہیں۔ یہی تابعین میں سے فقہاء کا بھی قول ہے اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، وکیع نے بھی یہی کہا ہے، ۴- نیز وکیع کہتے ہیں: اصحاب رائے کے قول کو پھینک دینا ہی مناسب ہو گا ۱؎، ۵- سفیان ثوری کہتے ہیں: آدمی جب عورت سے نکاح اس نیت سے کرے کہ وہ اسے ( پہلے شوہر کے لیے ) حلال کرے گا پھر اسے اس عورت کو اپنی زوجیت میں رکھ لینا ہی بھلا معلوم ہو تو وہ اسے اپنی زوجیت میں نہیں رکھ سکتا جب تک کہ اس سے نئے نکاح کے ذریعے سے شادی نہ کرے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَأَبُو قَيْسٍ الأَوْدِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَرْوَانَ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَغَيْرُهُمْ وَهُوَ قَوْلُ الْفُقَهَاءِ مِنَ التَّابِعِينَ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . قَالَ وَسَمِعْتُ الْجَارُودَ بْنَ مُعَاذٍ يَذْكُرُ عَنْ وَكِيعٍ أَنَّهُ قَالَ بِهَذَا وَقَالَ يَنْبَغِي أَنْ يُرْمَى بِهَذَا الْبَابِ مِنْ قَوْلِ أَصْحَابِ الرَّأْىِ . قَالَ جَارُودٌ قَالَ وَكِيعٌ وَقَالَ سُفْيَانُ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ لِيُحَلِّلَهَا ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يُمْسِكَهَا فَلاَ يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُمْسِكَهَا حَتَّى يَتَزَوَّجَهَا بِنِكَاحٍ جَدِيدٍ .
#1121
Sahih
Ali bin Abi Talib narrated:"The Prophet prohibited the Mut'ah with women, and the meat of domestic donkeys during (the campaign of) Khaibar
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی فتح کے وقت عورتوں سے متعہ ۱؎ کرنے سے اور گھریلو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سبرہ جہنی اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، البتہ ابن عباس سے کسی قدر متعہ کی اجازت بھی روایت کی گئی ہے، پھر انہوں نے اس سے رجوع کر لیا جب انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس کی خبر دی گئی۔ اکثر اہل علم کا معاملہ متعہ کی حرمت کا ہے، یہی ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِ، ابْنَىْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ زَمَنَ خَيْبَرَ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ وَإِنَّمَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ شَيْءٌ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي الْمُتْعَةِ ثُمَّ رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ حَيْثُ أُخْبِرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَمْرُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى تَحْرِيمِ الْمُتْعَةِ وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ .
#1122
Daif
Muhammad bin Ka'b narrated that:Ibn Abbas said: "Mut'ah was only during the beginning of Islam. A man would arrive in a land that he was not familiar with so he would marry a woman for the extent of time that he thought he would remain there. So his Mut'ah was upheld and his case was fine until the (following) Ayah was revealed: Except their wives or what their right hands possess. Then every private part other than those became unlawful
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ متعہ ابتدائے اسلام میں تھا۔ آدمی جب کسی ایسے شہر میں جاتا جہاں اس کی جان پہچان نہ ہوتی تو وہ اپنے قیام کی مدت تک کے لیے کسی عورت سے شادی کر لیتا۔ وہ اس کے سامان کی حفاظت کرتی۔ اس کی چیزیں درست کر کے رکھتی۔ یہاں تک کہ جب آیت کریمہ «إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم» ”لوگ اپنی شرمگاہوں کو صرف دو ہی جگہ کھول سکتے ہیں، ایک اپنی بیویوں پر، دوسرے اپنی ماتحت لونڈیوں پر“، نازل ہوئی تو ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: ان دو کے علاوہ باقی تمام شرمگاہیں حرام ہو گئیں۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُقْبَةَ، أَخُو قَبِيصَةَ بْنِ عُقْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ إِنَّمَا كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي أَوَّلِ الإِسْلاَمِ كَانَ الرَّجُلُ يَقْدَمُ الْبَلْدَةَ لَيْسَ لَهُ بِهَا مَعْرِفَةٌ فَيَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ بِقَدْرِ مَا يَرَى أَنَّهُ يُقِيمُ فَتَحْفَظُ لَهُ مَتَاعَهُ وَتُصْلِحُ لَهُ شَيْئَهُ حَتَّى إِذَا نَزَلَتِ الآيَةُ : ( إِلاَّ عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ ) قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَكُلُّ فَرْجٍ سِوَى هَذَيْنِ فَهُوَ حَرَامٌ .
#1123
Sahih
Imran bin Husain narrated that :The Prophet said: "There is no Jalab, no Janab, and no Shighar in Islam. And whoever takes some property by force, then he is not from us
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں نہ «جلب» ہے، نہ «جنب» ۱؎ اور نہ ہی «شغار»، اور جو کسی کی کوئی چیز اچک لے، وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس، ابوریحانہ، ابن عمر، جابر، معاویہ، ابوہریرہ، اور وائل بن حجر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، وَهُوَ الطَّوِيلُ قَالَ حَدَّثَ الْحَسَنُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ جَلَبَ وَلاَ جَنَبَ وَلاَ شِغَارَ فِي الإِسْلاَمِ وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَأَبِي رَيْحَانَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَجَابِرٍ وَمُعَاوِيَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ .
#1124
Sahih
Ibn Umar narrated:"The Prophet prohibited Shighar
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ نکاح شغار کو درست نہیں سمجھتے، ۳- شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا نکاح کسی سے اس شرط پر کرے کہ وہ بھی اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح اس سے کر دے گا اور ان کے درمیان کوئی مہر مقرر نہ ہو، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: نکاح شغار فسخ کر دیا جائے گا اور وہ حلال نہیں، اگرچہ بعد میں ان کے درمیان مہر مقرر کر لیا جائے۔ یہ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ۵- لیکن عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ وہ اپنے نکاح پر قائم رہیں گے البتہ ان کے درمیان مہر مثل مقرر کر دیا جائے گا، اور یہی اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الشِّغَارِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ يَرَوْنَ نِكَاحَ الشِّغَارِ . وَالشِّغَارُ أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الآخَرُ ابْنَتَهُ أَوْ أُخْتَهُ وَلاَ صَدَاقَ بَيْنَهُمَا . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ نِكَاحُ الشِّغَارِ مَفْسُوخٌ وَلاَ يَحِلُّ وَإِنْ جُعِلَ لَهُمَا صَدَاقًا . وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَرُوِيَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ قَالَ يُقَرَّانِ عَلَى نِكَاحِهِمَا وَيُجْعَلُ لَهُمَا صَدَاقُ الْمِثْلِ . وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْكُوفَةِ .
#1125
Sahih
Ibn Abbas narrated:"The Prophet prohibited marrying a woman along with her paternal aunt or along with her maternal aunt
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کسی عورت سے شادی کی جائے اور اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ ( پہلے سے ) نکاح میں ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوحریز کا نام عبداللہ بن حسین ہے –
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ تُزَوَّجَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ عَلَى خَالَتِهَا . وَأَبُو حَرِيزٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُسَيْنٍ . حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عُمَرَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي أُمَامَةَ وَجَابِرٍ وَعَائِشَةَ وَأَبِي مُوسَى وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ .