#76
Sahih
Abu Hurairah narrated that :the Prophet said: "Indeed Allah does not accept the prayer of one of you when he commits Hadath, until he performs Wudu
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں کسی کو «حدث» ہو جائے ( یعنی اس کا وضو ٹوٹ جائے ) ۱؎ تو اللہ اس کی نماز قبول نہیں کرتا جب تک کہ وہ وضو نہ کر لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ لاَ يَقْبَلُ صَلاَةَ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#77
Daif
Ibn Abbas narrated that :he saw the Prophet sleeping, while in the prostration position, until he snored or snorted. Then he stoodup to pray. So I said: "O Messenger of Allah! You were sleeping?" He said: "Wudu is not required except for sleeping while reclining. For when one reclines, joints relax
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سجدے کی حالت میں سو گئے یہاں تک کہ آپ خرانٹے لینے لگے، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ تو سو گئے تھے؟ آپ نے فرمایا: ”وضو صرف اس پر واجب ہوتا ہے جو چت لیٹ کر سوئے اس لیے کہ جب آدمی لیٹ جاتا ہے تو اس کے جوڑ ڈھیلے ہو جاتے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں عائشہ، ابن مسعود، اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، - كُوفِيٌّ - وَهَنَّادٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ الْمَعْنَى وَاحِدٌ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلاَئِيُّ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالاَنِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَامَ وَهُوَ سَاجِدٌ حَتَّى غَطَّ أَوْ نَفَخَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ قَدْ نِمْتَ قَالَ " إِنَّ الْوُضُوءَ لاَ يَجِبُ إِلاَّ عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا فَإِنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَأَبُو خَالِدٍ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ .
#78
Sahih
Anas bin Malik narrated:"The companions of Allah's Messenger would sleep, then stand to pray, They would not perform Wudu
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی الله عنہم ( بیٹھے بیٹھے ) سو جاتے، پھر اٹھ کر نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- میں نے صالح بن عبداللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عبداللہ ابن مبارک سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو بیٹھے بیٹھے سو جائے تو انہوں نے کہا کہ اس پر وضو نہیں، ۳- ابن عباس والی حدیث کو سعید بن ابی عروبہ نے بسند «قتادہ عن ابن عباس» ( موقوفاً ) روایت کیا ہے اور اس میں ابولعالیہ کا ذکر نہیں کیا ہے، ۴- نیند سے وضو کے سلسلہ میں علماء کا اختلاف ہے، اکثر اہل علم کی رائے یہی ہے کہ کوئی کھڑے کھڑے سو جائے تو اس پر وضو نہیں جب تک کہ وہ لیٹ کر نہ سوئے، یہی سفیان ثوری، ابن مبارک اور احمد کہتے ہیں، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ جب نیند اس قدر گہری ہو کہ عقل پر غالب آ جائے تو اس پر وضو واجب ہے اور یہی اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں، شافعی کا کہنا ہے کہ جو شخص بیٹھے بیٹھے سوئے اور خواب دیکھنے لگ جائے، یا نیند کے غلبہ سے اس کی سرین اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو اس پر وضو واجب ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنَامُونَ ثُمَّ يَقُومُونَ فَيُصَلُّونَ وَلاَ يَتَوَضَّئُونَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . قَالَ وَسَمِعْتُ صَالِحَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ عَمَّنْ نَامَ قَاعِدًا مُعْتَمِدًا فَقَالَ لاَ وُضُوءَ عَلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَوَى حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَبَا الْعَالِيَةِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ . وَاخْتَلَفَ الْعُلَمَاءُ فِي الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ فَرَأَى أَكْثَرُهُمْ أَنْ لاَ يَجِبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ إِذَا نَامَ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا حَتَّى يَنَامَ مُضْطَجِعًا . وَبِهِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدُ . قَالَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا نَامَ حَتَّى غُلِبَ عَلَى عَقْلِهِ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ وَبِهِ يَقُولُ إِسْحَاقُ . وَقَالَ الشَّافِعِيُّ مَنْ نَامَ قَاعِدًا فَرَأَى رُؤْيَا أَوْ زَالَتْ مَقْعَدَتُهُ لِوَسَنِ النَّوْمِ فَعَلَيْهِ الْوُضُوءُ .
#79
Hasan
Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "Wudu is (required) from what fire has touched, even if it be a piece of cheese
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ”آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو ہے اگرچہ وہ پنیر کا کوئی ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو“، اس پر ابن عباس نے ان سے کہا: ابوہریرہ رضی الله عنہ ( بتائیے ) کیا ہم گھی اور گرم پانی ( کے استعمال ) سے بھی وضو کریں؟ تو ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: بھتیجے! تم جب رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنو تو اس پر ( عمل کرو ) باتیں نہ بناؤ۔ ( اور مثالیں بیان کر کے قیاس نہ کرو ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ام حبیبہ، ام سلمہ، زید بن ثابت، ابوطلحہ، ابوایوب انصاری اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- بعض اہل علم کی رائے ہے کہ آگ سے پکی ہوئی چیز سے وضو ہے، لیکن صحابہ، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا مذہب ہے کہ اس سے وضو نہیں، ( دلیل اگلی حدیث ہے ) ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْوُضُوءُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ وَلَوْ مِنْ ثَوْرِ أَقِطٍ " . قَالَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنَتَوَضَّأُ مِنَ الدُّهْنِ أَنَتَوَضَّأُ مِنَ الْحَمِيمِ قَالَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَا ابْنَ أَخِي إِذَا سَمِعْتَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلاَ تَضْرِبْ لَهُ مَثَلاً . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأَبِي طَلْحَةَ وَأَبِي أَيُّوبَ وَأَبِي مُوسَى . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْوُضُوءَ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ وَأَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ عَلَى تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ .
#80
Hasan Sahih
Jabir narrated:"Allah's Messenger went out and I went with him. He entered upon a woman from the Ansar. She slaughtered a sheep and he ate from it; and she brought a basket with ripe dates and he ate from it. Then he performed Wudu for Zuhr and prayed. Then he finished, so she brought him something from the remainder of the sheep. So he ate it, then prayed Asr and did not perform Wudu
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ( مدینہ میں ) نکلے، میں آپ کے ساتھ تھا، آپ ایک انصاری عورت کے پاس آئے، اس نے آپ کے لیے ایک بکری ذبح کی آپ نے ( اسے ) تناول فرمایا، وہ تر کھجوروں کا ایک طبق بھی لے کر آئی تو آپ نے اس میں سے بھی کھایا، پھر ظہر کے لیے وضو کیا اور ظہر کی نماز پڑھی، آپ نے واپس پلٹنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ وہ بکری کے بچے ہوئے گوشت میں سے کچھ گوشت لے کر آئی تو آپ نے ( اسے بھی ) کھایا، پھر آپ نے عصر کی نماز پڑھی اور ( دوبارہ ) وضو نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوبکر صدیق، ابن عباس، ابوہریرہ، ابن مسعود، ابورافع، ام الحکم، عمرو بن امیہ، ام عامر، سوید بن نعمان اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ابوبکر کی وہ حدیث جسے ابن عباس نے ان سے روایت کیا ہے سنداً ضعیف ہے ابن عباس کی مرفوعاً حدیث زیادہ صحیح ہے اور حفاظ نے ایسے ہی روایت کیا ہے۔ ۲- صحابہ کرام تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم مثلاً سفیان ثوری ابن مبارک شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا اسی پر عمل ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو واجب نہیں، اور یہی رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا آخری فعل ہے، گویا یہ حدیث پہلی حدیث کی ناسخ ہے جس میں ہے کہ آگ کی پکی ہوئی چیز سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، سَمِعَ جَابِرًا، . قَالَ سُفْيَانُ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَذَبَحَتْ لَهُ شَاةً فَأَكَلَ وَأَتَتْهُ بِقِنَاعٍ مِنْ رُطَبٍ فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ تَوَضَّأَ لِلظُّهْرِ وَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَتْهُ بِعُلاَلَةٍ مِنْ عُلاَلَةِ الشَّاةِ فَأَكَلَ ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي رَافِعٍ وَأُمِّ الْحَكَمِ وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ وَأُمِّ عَامِرٍ وَسُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ وَأُمِّ سَلَمَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَلاَ يَصِحُّ حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ فِي هَذَا الْبَابِ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ إِنَّمَا رَوَاهُ حُسَامُ بْنُ مِصَكٍّ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَالصَّحِيحُ إِنَّمَا هُوَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . هَكَذَا رَوَى الْحُفَّاظُ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِثْلِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ رَأَوْا تَرْكَ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ . وَهَذَا آخِرُ الأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَكَأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ نَاسِخٌ لِلْحَدِيثِ الأَوَّلِ حَدِيثِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ .
#81
Sahih
Al-Bara bin Azib narrated:Allah's Messenger was asked about performing Wudu for camel meat. He said: "Perform Wudu for it." He Was asked about Wudu after eating goat meat. So he said: "Do not perform Wudu for it
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے اونٹ کے گوشت کے بارے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اس سے وضو کرو اور بکری کے گوشت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اس سے وضو نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں جابر بن سمرہ اور اسید بن حضیر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- یہی قول احمد، عبداللہ اور اسحاق بن راہویہ کا ہے، ۳- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اس باب میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے دو حدیثیں صحیح ہیں: ایک براء بن عازب کی ( جسے مولف نے ذکر کیا اور اس کے طرق پر بحث کی ہے ) اور دوسری جابر بن سمرہ کی، ۴- یہی قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا ہے۔ اور تابعین وغیرہم میں سے بعض اہل علم سے مروی ہے کہ ان لوگوں کی رائے ہے کہ اونٹ کے گوشت سے وضو نہیں ہے اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ فَقَالَ " تَوَضَّئُوا مِنْهَا " . وَسُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ فَقَالَ " لاَ تَتَوَضَّئُوا مِنْهَا " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَأُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَوَى الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ . وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ . وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ أَنَّهُمْ لَمْ يَرَوُا الْوُضُوءَ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ .
#82
Sahih
Busrah bint Safwan narrated that :the Prophet said: "Whoever touches his penis, then he is not to pray until he performs Wudu
بسرہ بنت صفوان رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنی شرمگاہ ( عضو تناسل ) چھوئے تو جب تک وضو نہ کر لے نماز نہ پڑھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بسرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام حبیبہ، ابوایوب، ابوہریرہ، ارویٰ بنت انیس، عائشہ، جابر، زید بن خالد اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- کئی لوگوں نے اسے اسی طرح ہشام بن عروہ سے اور ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے اور عروہ نے بسرہ سے روایت کیا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلاَ يُصَلِّ حَتَّى يَتَوَضَّأَ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ وَأَبِي أَيُّوبَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَرْوَى ابْنَةِ أُنَيْسٍ وَعَائِشَةَ وَجَابِرٍ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . قَالَ هَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِثْلَ هَذَا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بُسْرَةَ .
#83
Sahih
Busrah narrated :a similar report (as no. 82) from the Prophet
ابواسامہ اور کئی اور لوگوں نے اس حدیث کو بسند «ہشام بن عروہ عن أبیہ عن مروان بسرة عن النبی صلی الله علیہ وسلم» روایت کیا ہے۔
وَرَوَى أَبُو أُسَامَةَ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَرْوَانَ، عَنْ بُسْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ، إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، بِهَذَا .
#84
Sahih
Busrah narrated that :the Prophet said a similar Hadith
نیز اسے ابوالزناد نے «بسند عروہ عن النبی صلی الله علیہ وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے۔ ۱- یہی صحابہ اور تابعین میں سے کئی لوگوں کا قول ہے اور اسی کے قائل اوزاعی، شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ ہیں، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ بسرہ کی حدیث اس باب میں سب سے صحیح ہے، ۳- ابوزرعہ کہتے ہیں کہ ام حبیبہ رضی الله عنہا کی حدیث ۱؎ ( بھی ) اس باب میں صحیح ہے، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ مکحول کا سماع عنبسہ بن ابی سفیان سے نہیں ہے ۲؎، اور مکحول نے ایک آدمی سے اور اس آدمی نے عنبسہ سے ان کی حدیث کے علاوہ ایک دوسری حدیث روایت کی ہے، گویا امام بخاری اس حدیث کو صحیح نہیں مانتے۔
وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ بُسْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ، عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ بُسْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ . وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَبِهِ يَقُولُ الأَوْزَاعِيُّ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ بُسْرَةَ . وَقَالَ أَبُو زُرْعَةَ حَدِيثُ أُمِّ حَبِيبَةَ فِي هَذَا الْبَابِ صَحِيحٌ وَهُوَ حَدِيثُ الْعَلاَءِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ . وَقَالَ مُحَمَّدٌ لَمْ يَسْمَعْ مَكْحُولٌ مِنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَرَوَى مَكْحُولٌ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَنْبَسَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ . وَكَأَنَّهُ لَمْ يَرَ هَذَا الْحَدِيثَ صَحِيحًا .
#85
Sahih
Qais bin Talq bin Ali - [and he is] Al-Hanafi narrated from his father, that:the Prophet said: 'Is it other than a piece of his flesh?" Or: "part of him?
طلق بن علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ( عضو تناسل کے سلسلے میں ) فرمایا: ”یہ تو جسم ہی کا ایک لوتھڑا یا ٹکڑا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوامامہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۲- صحابہ کرام میں سے کئی لوگوں سے نیز بعض تابعین سے بھی مروی ہے کہ عضو تناسل کے چھونے سے وضو واجب نہیں، اور یہی اہل کوفہ اور ابن مبارک کا قول ہے، ۳- اس باب میں مروی احادیث میں سے یہ سب سے اچھی حدیث ہے، ۴- ایوب بن عتبہ اور محمد بن جابر نے بھی اس حدیث کو قیس بن طلق نے «عن أبیہ» سے روایت کیا ہے۔ بعض محدثین نے محمد بن جابر اور ایوب بن عتبہ کے سلسلے میں کلام کیا ہے، ۵- ملازم بن عمرو کی حدیث جسے انہوں نے عبداللہ بن بدر سے روایت کیا ہے، سب سے صحیح اور اچھی ہے ۲؎۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا مُلاَزِمُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ، هُوَ الْحَنَفِيُّ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَهَلْ هُوَ إِلاَّ مُضْغَةٌ مِنْهُ أَوْ بَضْعَةٌ مِنْهُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَبَعْضِ التَّابِعِينَ أَنَّهُمْ لَمْ يَرَوُا الْوُضُوءَ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَابْنِ الْمُبَارَكِ . وَهَذَا الْحَدِيثُ أَحْسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ . وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِيهِ . وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ وَأَيُّوبَ بْنِ عُتْبَةَ . وَحَدِيثُ مُلاَزِمِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ أَصَحُّ وَأَحْسَنُ .
#86
Sahih
Urwah narrated from Aishah that:"The Prophet kissed one of his wives, then he went to the prayer and did not perform Wudu." He (Urwah) said: "I said 'Who was it except you?'" [He said:] "So she laughed
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنی بیویوں میں سے کسی ایک کا بوسہ لیا، پھر آپ نماز کے لیے نکلے اور وضو نہیں کیا، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ( اپنی خالہ ام المؤمنین عائشہ سے ) کہا: وہ آپ ہی رہی ہوں گی؟ تو وہ ہنس پڑیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم سے اسی طرح مروی ہے اور یہی قول سفیان ثوری، اور اہل کوفہ کا ہے کہ بوسہ لینے سے وضو ( واجب ) نہیں ہے، مالک بن انس، اوزاعی، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ بوسہ لینے سے وضو ( واجب ) ہے، یہی قول صحابہ اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا ہے، ۲- ہمارے اصحاب نے عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث پر جو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے محض اس وجہ سے عمل نہیں کیا کہ یہ سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ۲؎، ۳- یحییٰ بن قطان نے اس حدیث کی بہت زیادہ تضعیف کی ہے اور کہا ہے کہ یہ «لاشیٔ» کے مشابہ ہے ۳؎، ۴- نیز میں نے محمد بن اسماعیل ( بخاری ) کو بھی اس حدیث کی تضعیف کرتے سنا، انہوں نے کہا کہ حبیب بن ثابت کا سماع عروۃ سے نہیں ہے، ۵- نیز ابراہیم تیمی نے بھی عائشہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ان کا بوسہ لیا اور وضو نہیں کیا۔ لیکن یہ روایت بھی صحیح نہیں کیونکہ عائشہ سے ابراہیم تیمی کے سماع کا ہمیں علم نہیں۔ اس باب میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے کوئی بھی حدیث صحیح نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَهَنَّادٌ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ وَأَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . قَالَ قُلْتُ مَنْ هِيَ إِلاَّ أَنْتِ قَالَ فَضَحِكَتْ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ . وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ قَالُوا لَيْسَ فِي الْقُبْلَةِ وُضُوءٌ . وَقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَالأَوْزَاعِيُّ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ فِي الْقُبْلَةِ وُضُوءٌ . وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ . وَإِنَّمَا تَرَكَ أَصْحَابُنَا حَدِيثَ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا لأَنَّهُ لاَ يَصِحُّ عِنْدَهُمْ لِحَالِ الإِسْنَادِ . قَالَ وَسَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ الْعَطَّارَ الْبَصْرِيَّ يَذْكُرُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ قَالَ ضَعَّفَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ هَذَا الْحَدِيثَ جِدًّا . وَقَالَ هُوَ شِبْهُ لاَ شَىْءَ . قَالَ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يُضَعِّفُ هَذَا الْحَدِيثَ وَقَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَبَّلَهَا وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . وَهَذَا لاَ يَصِحُّ أَيْضًا . وَلاَ نَعْرِفُ لإِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ سَمَاعًا مِنْ عَائِشَةَ . وَلَيْسَ يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْبَابِ شَيْءٌ .
#87
Sahih
Madan bin Abi Talhah narrated from Abu Ad-Darda that :"Allah's Messenger vomited [so he broke fast] so he performed Wudu." So I met Thawban in a Masjid in Damascus, and I mentioned that to him. He said: 'He told the truth, I poured the water for his Wudu
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے قے کی تو روزہ توڑ دیا اور وضو کیا ( معدان کہتے ہیں کہ ) پھر میں نے ثوبان رضی الله عنہ سے دمشق کی مسجد میں ملاقات کی اور میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ ابو الدرداء نے سچ کہا، میں نے ہی آپ صلی الله علیہ وسلم پر پانی ڈالا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- صحابہ اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کی رائے ہے کہ قے اور نکسیر سے وضو ( ٹوٹ جاتا ) ہے۔ اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد، اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ۱؎ اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ قے اور نکسیر سے وضو نہیں ٹوٹتا یہ مالک اور شافعی کا قول ہے ۲؎، ۲- حدیث کے طرق کو ذکر کرنے کے بعد امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حسین المعلم کی حدیث اس باب میں سب سے صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، - وَهُوَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ الْكُوفِيُّ وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ حَدَّثَنَا وَقَالَ، إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاءَ فَأَفْطَرَ فَتَوَضَّأَ . فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ صَدَقَ أَنَا صَبَبْتُ لَهُ وَضُوءَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَابْنُ أَبِي طَلْحَةَ أَصَحُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَأَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ مِنَ التَّابِعِينَ الْوُضُوءَ مِنَ الْقَىْءِ وَالرُّعَافِ . وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لَيْسَ فِي الْقَىْءِ وَالرُّعَافِ وُضُوءٌ . وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ . وَقَدْ جَوَّدَ حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ هَذَا الْحَدِيثَ . وَحَدِيثُ حُسَيْنٍ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ . وَرَوَى مَعْمَرٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ فَأَخْطَأَ فِيهِ فَقَالَ عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الأَوْزَاعِيَّ وَقَالَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ وَإِنَّمَا هُوَ مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ .
#88
Daif
Abdullah bin Mas'ud narrated:"The Prophet asked me: "What is in your Idawah (water skin)?" I said: "Nabidh." He said: "Dates are wholesome and water is pure." He said: "So he performed Wudu with it
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہارے مشکیزے میں کیا ہے؟“ تو میں نے عرض کیا: نبیذ ہے ۱؎، آپ نے فرمایا: ”کھجور بھی پاک ہے اور پانی بھی پاک ہے“ تو آپ نے اسی سے وضو کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوزید محدثین کے نزدیک مجہول آدمی ہیں اس حدیث کے علاوہ کوئی اور روایت ان سے جانی نہیں جاتی، ۲- بعض اہل علم کی رائے ہے نبیذ سے وضو جائز ہے انہیں میں سے سفیان ثوری وغیرہ ہیں، بعض اہل علم نے کہا ہے کہ نبیذ سے وضو جائز نہیں ۲؎ یہ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر کسی آدمی کو یہی کرنا پڑ جائے تو وہ نبیذ سے وضو کر کے تیمم کر لے، یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، ۳- جو لوگ نبیذ سے وضو کو جائز نہیں مانتے ان کا قول قرآن سے زیادہ قریب اور زیادہ قرین قیاس ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «فإن لم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا» ”جب تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو“ ( النساء: 43 ) پوری آیت یوں ہے: «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون ولا جنبا إلا عابري سبيل حتى تغتسلوا وإن كنتم مرضى أو على سفر أو جاء أحد منكم من الغآئط أو لامستم النساء فلم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا فامسحواء بوجوهكم وأيديكم إن الله كان عفوا غفورا»
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ سَأَلَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا فِي إِدَاوَتِكَ " . فَقُلْتُ نَبِيذٌ . فَقَالَ " تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ " . قَالَ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَإِنَّمَا رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَأَبُو زَيْدٍ رَجُلٌ مَجْهُولٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ لاَ يُعْرَفُ لَهُ رِوَايَةٌ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ . وَقَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْوُضُوءَ بِالنَّبِيذِ مِنْهُمْ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُهُ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ يُتَوَضَّأُ بِالنَّبِيذِ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَقَالَ إِسْحَاقُ إِنِ ابْتُلِيَ رَجُلٌ بِهَذَا فَتَوَضَّأَ بِالنَّبِيذِ وَتَيَمَّمَ أَحَبُّ إِلَىَّ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَوْلُ مَنْ يَقُولُ لاَ يُتَوَضَّأُ بِالنَّبِيذِ أَقْرَبُ إِلَى الْكِتَابِ وَأَشْبَهُ لأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: "فإِن لَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا ".
#89
Sahih
Ibn Abbas narrated :the Prophet drank milk. Then he called for water to rinse out his mouth. Then he said: "Indeed it has fat." [He said:] There are narrations on this topic from Sahl bin Sa'd As-Sa'idi and Umm Salamah. Abu Eisa said: [And] this Hadith is Hasan Sahih. Some of the people of knowledge held the view that one is to wash the mouth after drinking milk and this is recommended according us. Some others did not hold the view that one is to wash out the mouth after drinking milk
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے دودھ پیا تو پانی منگوا کر کلی کی اور فرمایا: ”اس میں چکنائی ہوتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سہل بن سعد ساعدی، اور ام سلمہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کی رائے ہے کہ کلی دودھ پینے سے ہے، اور یہ حکم ہمارے نزدیک مستحب ۱؎ ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم شَرِبَ لَبَنًا فَدَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ وَقَالَ " إِنَّ لَهُ دَسَمًا " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ وَأُمِّ سَلَمَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْمَضْمَضَةَ مِنَ اللَّبَنِ وَهَذَا عِنْدَنَا عَلَى الاِسْتِحْبَابِ وَلَمْ يَرَ بَعْضُهُمُ الْمَضْمَضَةَ مِنَ اللَّبَنِ .
#90
Hasan Sahih
Ibn Umar narrated:"A man greeted the Prophet (with Salam), and he was urinating, so he did not respond to him
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ پیشاب کر رہے تھے، تو آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور ہمارے نزدیک سلام کا جواب دینا اس صورت میں مکروہ قرار دیا جاتا ہے جب آدمی پاخانہ یا پیشاب کر رہا ہو، بعض اہل علم نے اس کی یہی تفسیر کی ہے ۱؎، ۲- یہ سب سے عمدہ حدیث ہے جو اس باب میں روایت کی گئی ہے، ۳- اور اس باب میں مہاجر بن قنفذ، عبداللہ بن حنظلہ، علقمہ بن شفواء، جابر اور براء بن عازب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَبُولُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَإِنَّمَا يُكْرَهُ هَذَا عِنْدَنَا إِذَا كَانَ عَلَى الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ . وَقَدْ فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ ذَلِكَ . وَهَذَا أَحْسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ وَعَلْقَمَةَ بْنِ الْفَغْوَاءِ وَجَابِرٍ وَالْبَرَاءِ .
#91
Sahih
Abu Hurairah narrated that :the Prophet said: "Wash the vessel the dog has drunk from seven times: the first or the last of them with dirt. And when the cat drinks out of it, wash it once
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن میں جب کتا منہ ڈال دے تو اسے سات بار دھویا جائے، پہلی بار یا آخری بار اسے مٹی سے دھویا جائے ۱؎، اور جب بلی منہ ڈالے تو اسے ایک بار دھویا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ ۳- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے کئی سندوں سے اسی طرح مروی ہے جن میں بلی کے منہ ڈالنے پر ایک بار دھونے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، ۳- اس باب میں عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " يُغْسَلُ الإِنَاءُ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولاَهُنَّ أَوْ أُخْرَاهُنَّ بِالتُّرَابِ وَإِذَا وَلَغَتْ فِيهِ الْهِرَّةُ غُسِلَ مَرَّةً " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذَا وَلَمْ يُذْكَرْ فِيهِ " إِذَا وَلَغَتْ فِيهِ الْهِرَّةُ غُسِلَ مَرَّةً " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ .
#92
Sahih
Humaidah bint Ubaid bin Rifa'ah narrated:"Kabshah bint Ka'b bin Malik - she was (married) with Ibn Abi Qatadah - narrated "That Abu Qatadah visited her, [so she said:] 'So I poured water for him to use for Wudu.' She said: 'A cat came to drink, so he lowered he container until it drank.' Kabshah said: 'So he saw me looking at it and said, "O my niece! Are you surprised at that?" So I said yes. He said: "Indeed Allah's Messenger said 'It is not impure, it is only one of those roam around among you
کبشہ بنت کعب (جو ابن ابوقتادہ کے نکاح میں تھیں) کہتی ہیں کہ ابوقتادہ میرے پاس آئے تو میں نے ان کے لیے ( ایک برتن ) وضو کا پانی میں ڈالا، اتنے میں ایک بلی آ کر پینے لگی تو انہوں نے برتن کو اس کے لیے جھکا دیا تاکہ وہ ( آسانی سے ) پی لے، کبشہ کہتی ہیں: ابوقتادہ نے مجھے دیکھا کہ میں ان کی طرف تعجب سے دیکھ رہی ہوں تو انہوں نے کہا: بھتیجی! کیا تم کو تعجب ہو رہا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”یہ ( بلی ) نجس نہیں، یہ تو تمہارے پاس برابر آنے جانے والوں یا آنے جانے والیوں میں سے ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عائشہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث مروی ہیں، ۲- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۳- صحابہ کرام اور تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم مثلاً شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ بلی کے جھوٹے میں کوئی حرج نہیں، اور یہ سب سے اچھی حدیث ہے جو اس باب میں روایت کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَكَانَتْ، عِنْدَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، دَخَلَ عَلَيْهَا . قَالَتْ فَسَكَبْتُ لَهُ وَضُوءًا قَالَتْ فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ فَأَصْغَى لَهَا الإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ قَالَتْ كَبْشَةُ فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ أَتَعْجَبِينَ يَا بِنْتَ أَخِي فَقُلْتُ نَعَمْ . قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ أَوِ الطَّوَّافَاتِ " . وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِثْلِ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ لَمْ يَرَوْا بِسُؤْرِ الْهِرَّةِ بَأْسًا . وَهَذَا أَحَسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ . وَقَدْ جَوَّدَ مَالِكٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ وَلَمْ يَأْتِ بِهِ أَحَدٌ أَتَمَّ مِنْ مَالِكٍ .
#93
Sahih
Hammam bin AI-Harith narrated:"Jarir bin Abdullah urinated, then he performed Wudu, wiping over his Khuff. So he was asked, 'You do this?' He replied, 'What prevents me, when I have seen Allah's Messenger doing it?" He [Ibrahim] said "And they were impressed by the narration of Jarir since he accepted Islam after the revelation Sural Al-Ma'idah." [This is the saying of lbrahim, that is, "They were impressed."] [He said:] There are narrations on this topic from Umar, Ali, Hudhaifah, AI-Mughirah, Bilil, Sa'd, Abu Ayyub, Salman, Buraidah, Amr bin Umayyah, Anas, Sahl bin Sa'd, Ya'la bin Murrah, Ubadah bin As-Samit, Usamah bin Shank, Abu Umamah, Jabir, Usamah bin Zaid, and Ibn Ubadah. They call him Ibn Imarah and Ubayy bin Imarah
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما نے پیشاب کیا پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، ان سے کہا گیا: کیا آپ ایسا کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ مجھے اس کام سے کون سی چیز روک سکتی ہے جبکہ میں نے خود رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے، ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ صحابہ کرام کو جریر رضی الله عنہ کی یہ حدیث اچھی لگتی تھی کیونکہ ان کا اسلام سورۃ المائدہ کے نزول کے بعد کا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جریر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، علی، حذیفہ، مغیرہ، بلال، ابوایوب، سلمان، بریدۃ، عمرو بن امیہ، انس، سہل بن سعد، یعلیٰ بن مرہ، عبادہ بن صامت، اسامہ بن شریک، ابوامامہ، جابر، اسامہ بن زید، ابن عبادۃ جنہیں ابن عمارہ اور ابی بن عمارہ بھی کہا جاتا ہے رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ بَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ فَقِيلَ لَهُ أَتَفْعَلُ هَذَا قَالَ وَمَا يَمْنَعُنِي وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُهُ . قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَكَانَ يُعْجِبُهُمْ حَدِيثُ جَرِيرٍ لأَنَّ إِسْلاَمَهُ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ . هَذَا قَوْلُ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي كَانَ يُعْجِبُهُمْ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ وَحُذَيْفَةَ وَالْمُغِيرَةِ وَبِلاَلٍ وَسَعْدٍ وَأَبِي أَيُّوبَ وَسَلْمَانَ وَبُرَيْدَةَ وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ وَأَنَسٍ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَيَعْلَى بْنِ مُرَّةَ وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَأُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ وَأَبِي أُمَامَةَ وَجَابِرٍ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَابْنِ عُبَادَةَ وَيُقَالُ ابْنُ عِمَارَةَ وَأُبَىُّ بْنُ عِمَارَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ جَرِيرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#94
Sahih
It has been related from Sahr bin Hawshah that he said:"I saw Jarir bin 'Abdullah performing Wudu and he wiped over his Khuff. I asked him about that. He replied, 'I saw 'I saw Allah's Messenger performing Wudu and he wiped over his Khuff.' So I said to him, before Surah AI-Ma'idah (was revealed) or after AI-Ma'idah?' So he replied, 'I did not acceot Islam until after Al-Ma'idah.'" Qutaibah narrated this to us; (saying) Khalid bin Ziyad At-Tirmidhi narrated it to us, from Muqatil bin Hayyan, from Shahr bin Hawshah, from Jarir. He said: Baqiyyah related it from Ibrahim bin Adham from Muqatil bin Hayyan, from Shahr bin Hawshah, from Jarir. This Hadith is explanatory, because some who dislike wiping over the Khuff give the interpretation that the Prophet's wiping over the two Khuff was before the revelation of Sural Al-Ma'idah. But in his Hadlth, Jarir mentions that he saw the Prophet wiping over his Khuff after the revelation of Surat Al-Ma'idah
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، میں نے جب ان سے اس سلسلے میں بات کی تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، میں نے ان سے پوچھا: آپ کا یہ عمل سورۃ المائدہ کے نزول سے پہلے کا ہے، یا بعد کا؟ تو کہا: میں تو سورۃ المائدہ اترنے کے بعد ہی اسلام لایا ہوں، یہ حدیث آیت وضو کی تفسیر کر رہی ہے اس لیے کہ جن لوگوں نے موزوں پر مسح کا انکار کیا ہے ان میں سے بعض نے یہ تاویل کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے موزوں پر جو مسح کیا تھا وہ آیت مائدہ کے نزول سے پہلے کا تھا، جبکہ جریر رضی الله عنہ نے اپنی روایت میں ذکر کیا ہے کہ انہوں نے نزول مائدہ کے بعد نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
وَيُرْوَى عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ رَأَيْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ فَقُلْتُ لَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ . فَقُلْتُ لَهُ أَقَبْلَ الْمَائِدَةِ أَمْ بَعْدَ الْمَائِدَةِ فَقَالَ مَا أَسْلَمْتُ إِلاَّ بَعْدَ الْمَائِدَةِ . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ زِيَادٍ التِّرْمِذِيُّ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ جَرِيرٍ . قَالَ وَرَوَى بَقِيَّةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَدْهَمَ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ جَرِيرٍ . وَهَذَا حَدِيثٌ مُفَسِّرٌ لأَنَّ بَعْضَ مَنْ أَنْكَرَ الْمَسْحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ تَأَوَّلَ أَنَّ مَسْحَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْخُفَّيْنِ كَانَ قَبْلَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ وَذَكَرَ جَرِيرٌ فِي حَدِيثِهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ .
#95
Sahih
Khuzaimah bin Thabit narrated:"The Prophet was asked about wiping over the Khuff. So he said: "Three (days) for the traveler, and one day for the resident
خزیمہ بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”مسافر کے لیے تین دن ہے اور مقیم کے لیے ایک دن“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یحییٰ بن معین سے منقول ہے کہ انہوں نے مسح کے سلسلہ میں خزیمہ بن ثابت کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، ۳- اس باب میں علی، ابوبکرۃ، ابوہریرہ، صفوان بن عسال، عوف بن مالک، ابن عمر اور جریر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ " لِلْمُسَافِرِ ثَلاَثَةٌ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ " . وَذُكِرَ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ أَنَّهُ صَحَّحَ حَدِيثَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ فِي الْمَسْحِ . وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ بْنُ عَبْدٍ وَيُقَالُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَأَبِي بَكْرَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَصَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ وَعَوْفِ بْنِ مَالِكٍ وَابْنِ عُمَرَ وَجَرِيرٍ .
#96
Hasan
Safwan bin Assal narrated:'When we were traveling, Allah's Messenger would order us not to remove our Khuff for three days and nights, except for Janabah, but not for defecating, urinating, and sleep
صفوان بن عسال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم مسافر ہوتے تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے کہ ہم اپنے موزے تین دن اور تین رات تک، پیشاب، پاخانہ یا نیند کی وجہ سے نہ اتاریں، الا یہ کہ جنابت لاحق ہو جائے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن اسماعیل ( بخاری ) کہتے ہیں کہ اس باب میں صفوان بن عسال مرادی کی حدیث سب سے عمدہ ہے، ۳- اکثر صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے اکثر اہل علم مثلاً: سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ مقیم ایک دن اور ایک رات موزوں پر مسح کرے، اور مسافر تین دن اور تین رات، بعض علماء سے مروی ہے کہ موزوں پر مسح کے لیے وقت کی تحدید نہیں کہ ( جب تک دل چاہے کر سکتا ہے ) یہ مالک بن انس رحمہ اللہ کا قول ہے، لیکن تحدید والا قول زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفْرًا أَنْ لاَ نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ إِلاَّ مِنْ جَنَابَةٍ وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَى الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ وَحَمَّادٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ وَلاَ يَصِحُّ . قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ شُعْبَةُ لَمْ يَسْمَعْ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ مِنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ حَدِيثَ الْمَسْحِ . وَقَالَ زَائِدَةُ عَنْ مَنْصُورٍ كُنَّا فِي حُجْرَةِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ وَمَعَنَا إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ فَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ الْفُقَهَاءِ مِثْلِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ قَالُوا يَمْسَحُ الْمُقِيمُ يَوْمًا وَلَيْلَةً وَالْمُسَافِرُ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُمْ لَمْ يُوَقِّتُوا فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَالتَّوْقِيتُ أَصَحُّ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ أَيْضًا مِنْ غَيْرِ حَدِيثِ عَاصِمٍ .
#97
Daif
AI-Mughirah bin Shu'bah narrated:"The Prophet wiped over the Khuff and its bottom
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اکرم صلی الله علیہ وسلم نے موزے کے اوپر اور نیچے دونوں جانب مسح کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے بہت سے لوگوں کا یہی قول ہے اور مالک، شافعی اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، ۲- یہ حدیث معلول ہے۔ میں نے ابوزرعہ اور محمد بن اسماعیل ( بخاری ) سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے کہا کہ یہ صحیح نہیں ہے ۲؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَسَحَ أَعْلَى الْخُفِّ وَأَسْفَلَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ الْفُقَهَاءِ وَبِهِ يَقُولُ مَالِكٌ وَالشَّافِعِيُّ وَإِسْحَاقُ . وَهَذَا حَدِيثٌ مَعْلُولٌ لَمْ يُسْنِدْهُ عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ غَيْرُ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَسَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ وَمُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالاَ لَيْسَ بِصَحِيحٍ لأَنَّ ابْنَ الْمُبَارَكِ رَوَى هَذَا عَنْ ثَوْرٍ عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ قَالَ حُدِّثْتُ عَنْ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ مُرْسَلٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْمُغِيرَةَ .
#98
Hasan Sahih
AI-Mughirah bin Shu'bah narrated:"I saw the Prophet wiping over the Khuff: on the tops of them
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے دیکھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- مغیرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- عبدالرحمٰن بن ابی الزناد کے علاوہ میں کسی اور کو نہیں جانتا جس نے بسند «عروہ عن مغیرہ» دونوں موزوں کے ”اوپری حصہ“ پر مسح کا ذکر کرتا ہو ۲؎ اور یہی کئی اہل علم کا قول ہے اور یہی سفیان ثوری اور احمد بھی کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ عَلَى ظَاهِرِهِمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَهُوَ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُرْوَةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ وَلاَ نَعْلَمُ أَحَدًا يَذْكُرُ عَنْ عُرْوَةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ " عَلَى ظَاهِرِهِمَا " . غَيْرَهُ . وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَأَحْمَدُ . قَالَ مُحَمَّدٌ وَكَانَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يُشِيرُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ .
#99
Sahih
Al-Mughirah bin Shu`bah narrated:"The Prophet performed Wudu' and wiped over his socks and sandals
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے وضو کیا اور موزوں اور جوتوں پر مسح کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- کئی اہل علم کا یہی قول ہے اور سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ پاتابوں پر مسح کرے گرچہ جوتے نہ ہوں جب کہ پاتا بے موٹے ہوں، ۳- اس باب میں ابوموسیٰ رضی الله عنہ سے بھی روایت آئی ہے، ۴- ابومقاتل سمرقندی کہتے ہیں کہ میں ابوحنیفہ کے پاس ان کی اس بیماری میں گیا جس میں ان کی وفات ہوئی تو انہوں نے پانی منگایا، اور وضو کیا، وہ پاتا بے پہنے ہوئے تھے، تو انہوں نے ان پر مسح کیا، پھر کہا: آج میں نے ایسا کام کیا ہے جو میں نہیں کرتا تھا۔ میں نے پاتابوں پر مسح کیا ہے حالانکہ میں نے جوتیاں نہیں پہن رکھیں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ قَالُوا يَمْسَحُ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ نَعْلَيْنِ إِذَا كَانَا ثَخِينَيْنِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي مُوسَى . قَالَ أَبُو عِيسَى سَمِعْتُ صَالِحَ بْنَ مُحَمَّدٍ التِّرْمِذِيَّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُقَاتِلٍ السَّمَرْقَنْدِيَّ يَقُولُ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي حَنِيفَةَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَعَلَيْهِ جَوْرَبَانِ فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا ثُمَّ قَالَ فَعَلْتُ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ أَكُنْ أَفْعَلُهُ مَسَحْتُ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَهُمَا غَيْرُ مُنَعَّلَيْنِ .
#100
Sahih
Ibn Al-Mughirah bin Shu'bah narrated from his father:"The Prophet performed Wudu and wiped over the Khuff and 'Imamah." Abu Bakr (one of the narrators) said: "And indeed I heard it from Ibn Al Mughirah
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے وضو کیا اور دونوں موزوں اور عمامے پر مسح کیا۔ محمد بن بشار نے ایک دوسری جگہ اس حدیث میں یہ ذکر کیا ہے کہ ”آپ نے اپنی پیشانی اور اپنے عمامے پر مسح کیا“، یہ حدیث اور بھی کئی سندوں سے مغیرہ بن شعبہ سے روایت کی گئی ہے، ان میں سے بعض نے پیشانی اور عمامے پر مسح کا ذکر کیا ہے اور بعض نے پیشانی کا ذکر نہیں کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمرو بن امیہ، سلمان، ثوبان اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام میں سے کئی اہل علم کا بھی یہی قول ہے۔ ان میں سے ابوبکر، عمر اور انس رضی الله عنہم ہیں اور اوزاعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ عمامہ پر مسح کرے، صحابہ کرام اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا کہنا ہے کہ عمامہ پر مسح نہیں سوائے اس صورت کے کہ عمامہ کے ساتھ ( کچھ ) سر کا بھی مسح کرے۔ سفیان ثوری، مالک بن انس، ابن مبارک اور شافعی اسی کے قائل ہیں، ۴- وکیع بن جراح کہتے ہیں کہ اگر کوئی عمامے پر مسح کر لے تو حدیث کی رو سے یہ اسے کافی ہو گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْعِمَامَةِ . قَالَ بَكْرٌ وَقَدْ سَمِعْتُ مِنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ . قَالَ وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ أَنَّهُ مَسَحَ عَلَى نَاصِيَتِهِ وَعِمَامَتِهِ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ذَكَرَ بَعْضُهُمُ الْمَسْحَ عَلَى النَّاصِيَةِ وَالْعِمَامَةِ وَلَمْ يَذْكُرْ بَعْضُهُمُ النَّاصِيَةَ . وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ مَا رَأَيْتُ بِعَيْنِي مِثْلَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ وَسَلْمَانَ وَثَوْبَانَ وَأَبِي أُمَامَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَنَسٌ . وَبِهِ يَقُولُ الأَوْزَاعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ قَالُوا يَمْسَحُ عَلَى الْعِمَامَةِ . وَقَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ لاَ يَمْسَحُ عَلَى الْعِمَامَةِ إِلاَّ أَنْ يَمْسَحَ بِرَأْسِهِ مَعَ الْعِمَامَةِ . وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَسَمِعْتُ الْجَارُودَ بْنَ مُعَاذٍ يَقُولُ سَمِعْتُ وَكِيعَ بْنَ الْجَرَّاحِ يَقُولُ إِنْ مَسَحَ عَلَى الْعِمَامَةِ يُجْزِئُهُ لِلأَثَرِ .