#51
Sahih
Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "Shall I tell you that for which Allah will wipe out your sins, and raise your ranks?" They said, "Of course Allah's Messenger!" He said: "Performing Wudu well in difficulty, and taking many steps to the Masajid, and waiting for Salat after Salat, That is the Ribat
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیزیں نہ بتاؤں جن سے اللہ گناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند کرتا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیوں نہیں، آپ ضرور بتائیں، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”ناگواری کے باوجود مکمل وضو کرنا ۱؎ اور مسجدوں کی طرف زیادہ چل کر جانا ۲؎ اور نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا، یہی سرحد کی حقیقی پاسبانی ہے“ ۳؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلاَ أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ " . قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ " .
#52
Sahih
Qutaibah said in his narration:"For that is the Ribat, that is the Ribat, that is the Ribat" three times
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اس طرح روایت ہے، لیکن قتیبہ نے اپنی روایت میں «فذلكم الرباط فذلكم الرباط فذلكم الرباط» تین بار کہا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اس باب میں حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، عبداللہ بن عمرو، ابن عباس، عبیدہ – یا۔ ۔ ۔ عبیدہ بن عمرو – عائشہ، عبدالرحمٰن بن عائش الحضرمی اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلاَءِ، نَحْوَهُ . وَقَالَ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ " فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ " . ثَلاَثًا . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَبِيدَةَ وَيُقَالُ عُبَيْدَةُ بْنِ عَمْرٍو وَعَائِشَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ الْحَضْرَمِيِّ وَأَنَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ يَعْقُوبَ الْجُهَنِيُّ الْحُرَقِيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ .
#53
Daif
Aishah narrated:"Allah's Messenger had a cloth that he would use to dry off with after Wudu
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس ایک کپڑا تھا جس سے آپ وضو کے بعد اپنا بدن پونچھتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی روایت درست نہیں ہے، نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے اس باب میں کوئی بھی روایت صحیح نہیں ہے، ابومعاذ سلیمان بن ارقم محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، ۲- اس باب میں معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خِرْقَةٌ يُنَشِّفُ بِهَا بَعْدَ الْوُضُوءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ لَيْسَ بِالْقَائِمِ وَلاَ يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْبَابِ شَيْءٌ . وَأَبُو مُعَاذٍ يَقُولُونَ هُوَ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ .
#54
Daif Isnaad
Muadh bin Jabal narrated:"I saw the Prophet when he performed Wudu, he wiped his face with the edge of his garment." Abu Eisa said: This Hadith is gharib, and its chain is weak. Rishdin bin Sa'd and Abdur- Rahman bin Ziyad bin An'um Al Ifriqi [narrators in the chain of this Hadith] are weak in Hadith. Some people of knowledge among the Companions of the Prophet and those after them, permitted using a towel after Wudu. Those who disliked it, only disliked it from the view of the saying: "Wudu is weighed." That as reported from Sa'eed bin Al- Musayyab and Az-Zuhri. Muhammad bin Humaid [Ar-Razi] narrated to us, Jarir narrated to us, he said: Ali bin Mujahid narrated to me, and he is trustworthy to me, from me, from: Tha'labah from Az-Zuhri, he said: "The towel is only disliked after Wudu because Wudu is weighed
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ وضو کرتے تو چہرے کو اپنے کپڑے کے کنارے سے پونچھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند ضعیف ہے، رشدین بن سعد اور عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم الافریقی دونوں حدیث میں ضعیف قرار دیئے جاتے ہیں، ۲- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کے ایک گروہ نے وضو کے بعد رومال سے پونچھنے کی اجازت دی ہے، اور جن لوگوں نے اسے مکروہ کہا ہے تو محض اس وجہ سے کہا ہے کہ کہا جاتا ہے: وضو کو ( قیامت کے دن ) تولا جائے گا، یہ بات سعید بن مسیب اور زہری سے روایت کی گئی ہے، ۳- زہری کہتے ہیں کہ وضو کے بعد تولیہ کا استعمال اس لیے مکروہ ہے کہ وضو کا پانی ( قیامت کے روز ) تولا جائے گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَىٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم إِذَا تَوَضَّأَ مَسَحَ وَجْهَهُ بِطَرَفِ ثَوْبِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ . وَرِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ الإِفْرِيقِيُّ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ . وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمْ فِي التَّمَنْدُلِ بَعْدَ الْوُضُوءِ وَمَنْ كَرِهَهُ إِنَّمَا كَرِهَهُ مِنْ قِبَلِ أَنَّهُ قِيلَ إِنَّ الْوَضُوءَ يُوزَنُ . وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَالزُّهْرِيِّ . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ قَالَ حَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ مُجَاهِدٍ عَنِّي وَهُوَ عِنْدِي ثِقَةٌ عَنْ ثَعْلَبَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ إِنَّمَا كُرِهَ الْمِنْدِيلُ بَعْدَ الْوُضُوءِ لأَنَّ الْوَضُوءَ يُوزَنُ .
#55
Sahih
Umar bin Al-Khattab narrated that :Allah's Messenger said: 'Whoever performs Wudu, making Wudu well, then says: (Ashhadu an la ilaha illallah, wahdahu la sharika lahu, wa ashhadu anna Muhammadan-abduhu wa rasuluhu, Allahummajalni minat tawwabin, waj'alni minal mutatahhirin) 'I testify that none has the right to be worshipped but Allah Alone, there are no partners for Him. And I testify that Muhammad is His servant and Messenger. O Allah! Make me among the repentant, and make me among those who purify themselves.' Then eight gates of Paradise are opened for him, that may enter by whichever of them wishes
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وضو کرے اور اچھی طرح کرے پھر یوں کہے: «أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اے اللہ! مجھے توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں میں سے بنا دے“ تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے وہ جس سے بھی چاہے جنت میں داخل ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں انس اور عقبہ بن عامر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- امام ترمذی نے عمر رضی الله عنہ کی حدیث کے طرق ۱؎ ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اس حدیث کی سند میں اضطراب ہے، ۳- اس باب میں زیادہ تر چیزیں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے صحیح ثابت نہیں ہیں ۲؎۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الثَّعْلَبِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، وَأَبِي، عُثْمَانَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عُمَرَ قَدْ خُولِفَ زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ . قَالَ وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَغَيْرُهُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ عُمَرَ . وَعَنْ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ عُمَرَ . وَهَذَا حَدِيثٌ فِي إِسْنَادِهِ اضْطِرَابٌ وَلاَ يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْبَابِ كَبِيرُ شَيْءٍ . قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَبُو إِدْرِيسَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ شَيْئًا .
#56
Sahih
Safinah narrated:"The Prophet would perform Wudu with a Mudd, and he would perform Ghusl with a Sa
سفینہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ایک مد پانی سے وضو اور ایک صاع پانی سے غسل فرماتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سفینہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، جابر اور انس بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کی رائے یہی ہے کہ ایک مد پانی سے وضو کیا جائے اور ایک صاع پانی سے غسل، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کا مقصود تحدید نہیں ہے کہ اس سے زیادہ یا کم جائز نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ یہ مقدار ایسی ہے جو کافی ہوتی ہے ۲؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ، عَنْ سَفِينَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَجَابِرٍ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سَفِينَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَأَبُو رَيْحَانَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَطَرٍ . وَهَكَذَا رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْوُضُوءَ بِالْمُدِّ وَالْغُسْلَ بِالصَّاعِ . وَقَالَ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ لَيْسَ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عَلَى التَّوْقِيتِ أَنَّهُ لاَ يَجُوزُ أَكْثَرُ مِنْهُ وَلاَ أَقَلُّ مِنْهُ وَهُوَ قَدْرُ مَا يَكْفِي .
#57
Very Daif
Ubayy bin Ka'b narrated that :the Prophet said: "Indeed there is a Shaitan for Wudu' who is called "AI-Walahan." So beware of having misgivings about water
ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کے لیے ایک شیطان ہے، اسے ولہان کہا جاتا ہے، تم اس کے وسوسوں کے سبب پانی زیادہ خرچ کرنے سے بچو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابی بن کعب کی حدیث غریب ہے، ۳- اس کی سند محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے اس لیے کہ ہم نہیں جانتے کہ خارجہ کے علاوہ کسی اور نے اسے مسنداً روایت کیا ہو، یہ حدیث دوسری اور سندوں سے حسن ( بصریٰ ) سے موقوفاً مروی ہے ( یعنی اسے حسن ہی کا قول قرار دیا گیا ہے ) اور اس باب میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے کوئی چیز صحیح نہیں اور خارجہ ہمارے اصحاب ۱؎ کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں، ابن مبارک نے ان کی تضعیف کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُتَىِّ بْنِ ضَمْرَةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ لِلْوُضُوءِ شَيْطَانًا يُقَالُ لَهُ الْوَلْهَانُ فَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَاءِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَالصَّحِيحِ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ لأَنَّا لاَ نَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهُ غَيْرَ خَارِجَةَ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ الْحَسَنِ قَوْلَهُ وَلاَ يَصِحُّ فِي هَذَا الْبَابِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم شَيْءٌ . وَخَارِجَةُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَصْحَابِنَا وَضَعَّفَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ .
#58
Daif
Anas narrated that :"The Prophet would perform wudu for every Salat, whether he was in state of purity or not in a state of purity
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے باوضو ہوتے یا بے وضو۔ حمید کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی الله عنہ سے پوچھا: آپ لوگ کیسے کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم ایک ہی وضو کرتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حمید کی حدیث بواسطہ انس اس سند سے غریب ہے، اور محدثین کے نزدیک مشہور عمرو بن عامر والی حدیث ہے جو بواسطہ انس مروی ہے، اور بعض اہل علم ۲؎ کی رائے ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو مستحب ہے نہ کہ واجب۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاَةٍ طَاهِرًا أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ . قَالَ قُلْتُ لأَنَسٍ فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ أَنْتُمْ قَالَ كُنَّا نَتَوَضَّأُ وُضُوءًا وَاحِدًا . قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَالْمَشْهُورُ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الأَنْصَارِيِّ عَنْ أَنَسٍ . وَقَدْ كَانَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ يَرَى الْوُضُوءَ لِكُلِّ صَلاَةٍ اسْتِحْبَابًا لاَ عَلَى الْوُجُوبِ .
#59
Daif
It has been related in a narration from Ibn Umar that :the Prophet said: "Whoever performs Wudu while in a state of purity, Allah writes for him on account of it ten good merits
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وضو پر وضو کرے گا اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث افریقی نے ابوغطیف سے اور ابوغطیف نے ابن عمر سے اور ابن عمر نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ہم سے اسے حسین بن حریث مروزی نے محمد بن یزید واسطی کے واسطے سے بیان کیا ہے اور محمد بن یزید نے افریقی سے روایت کی ہے اور یہ سند ضعیف ہے، ۲- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید القطان کہتے ہیں: انہوں نے اس حدیث کا ذکر ہشام بن عروہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ سند مشرقی ہے ۱؎، ۳- میں نے احمد بن حسن کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا ہے: میں نے اپنی آنکھ سے یحییٰ بن سعید القطان کے مثل کسی کو نہیں دیکھا۔
وَقَدْ رُوِيَ فِي، حَدِيثٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " مَنْ تَوَضَّأَ عَلَى طُهْرٍ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ " . قَالَ وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الإِفْرِيقِيُّ عَنْ أَبِي غُطَيْفٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ عَنِ الإِفْرِيقِيِّ . وَهُوَ إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ . قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ذُكِرَ لِهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ هَذَا الْحَدِيثُ فَقَالَ هَذَا إِسْنَادٌ مَشْرِقِيٌّ . قَالَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ مَا رَأَيْتُ بِعَيْنِي مِثْلَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ .
#60
Sahih
Amr bin Amir Al-Ansari narrated that he heard Anas bin Malik saying:"The Prophet would perform Wudu for every Salat." I said, "So what about you, what would you do?" He said I wouId pray all of the prayers with one Wudu, as long as we had not committed Hadath (anything that invalidates Wudu)
عمرو بن عامر انصاری کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک کو یہ کہتے ہوئے سنا: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، میں نے ( انس سے ) پوچھا: پھر آپ لوگ کیسے کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ جب تک ہم «حدث» نہ کرتے ساری نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور حمید کی حدیث جو انس سے مروی ہے جید غریب حسن ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، هُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ . قُلْتُ فَأَنْتُمْ مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ مَا لَمْ نُحْدِثْ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#61
Sahih
Sulaiman bin Buraidah narrated that his father said:"The Prophet would perform Wudu for every Salat. So during the year of the Conquest, he performed all of the prayers with one Wudu, and he wiped over his Khuff. So Umar said, 'You did something that you have not done before?' He replied: "I did it on purpose
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، اور جب فتح مکہ کا سال ہوا تو آپ نے کئی نمازیں ایک وضو سے ادا کیں اور اپنے موزوں پر مسح کیا، عمر رضی الله عنہ نے عرض کیا کہ آپ نے ایک ایسی چیز کی ہے جسے کبھی نہیں کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے اسے جان بوجھ کر کیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اس حدیث کو علی بن قادم نے بھی سفیان ثوری سے روایت کیا ہے اور انہوں نے اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ ”آپ نے اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھویا“، ۳- سفیان ثوری نے بسند «محارب بن دثار عن سلیمان بن بریدہ» ( مرسلاً روایت کیا ہے ) کہ ”نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے“، ۴- اور اسے وکیع نے بسند «سفیان عن محارب عن سلیمان بن بریدہ عن بریدہ» سے روایت کیا ہے، ۵- نیز اسے عبدالرحمٰن بن مھدی وغیرہ نے بسند «سفیان عن محارب بن دثار عن سلیمان بن بریدہ» مرسلاً روایت کیا ہے، اور یہ روایت وکیع کی روایت سے زیادہ صحیح ہے ۱؎، ۶- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کی جا سکتی ہیں، جب تک «حدث» نہ ہو، ۷- بعض اہل علم استحباب اور فضیلت کے ارادہ سے ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، ۸- نیز عبدالرحمٰن افریقی نے بسند «ابی غطیفعن ابن عمر» روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وضو پر وضو کرے گا تو اس کی وجہ سے اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا“ اس حدیث کی سند ضعیف ہے، ۹- اس باب میں جابر بن عبداللہ سے بھی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ایک وضو سے ظہر اور عصر دونوں پڑھیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاَةٍ فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ صَلَّى الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ . فَقَالَ عُمَرُ إِنَّكَ فَعَلْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ فَعَلْتَهُ . قَالَ " عَمْدًا فَعَلْتُهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَزَادَ فِيهِ " تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً " . قَالَ وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاَةٍ . وَرَوَاهُ وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ . قَالَ وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَغَيْرُهُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ مَا لَمْ يُحْدِثْ وَكَانَ بَعْضُهُمْ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاَةٍ اسْتِحْبَابًا وَإِرَادَةَ الْفَضْلِ . وَيُرْوَى عَنِ الإِفْرِيقِيِّ عَنْ أَبِي غُطَيْفٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ تَوَضَّأَ عَلَى طُهْرٍ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ " . وَهَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ .
#62
Sahih
Maimunah said:"I and Allah's Messenger would perform Ghusl for Janabah from one vessel
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے میمونہ رضی الله عنہا نے بیان کیا کہ میں اور رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم دونوں ایک ہی برتن سے غسل جنابت کرتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر فقہاء کا یہی قول ہے کہ مرد اور عورت کے ایک ہی برتن سے غسل کرنے میں کوئی حرج نہیں، ۳- اس باب میں علی، عائشہ، انس، ام ہانی، ام حبیبہ، ام سلمہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ، قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ، صلى الله عليه وسلم مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ الْفُقَهَاءِ أَنْ لاَ بَأْسَ أَنْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ وَأَنَسٍ وَأُمِّ هَانِئٍ وَأُمِّ صُبَيَّةَ الْجُهَنِيَّةِ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَأَبُو الشَّعْثَاءِ اسْمُهُ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ .
#63
Sahih
Abu Hajib narrated from a man from Banu Ghifar who said:"The Prophet prohibited using the leftover (water) of a woman's Purification
قبیلہ بنی غفار کے ایک آدمی (حکم بن عمرو) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے ( وضو کرنے سے ) منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن سرجس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۲- بعض فقہاء نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ان دونوں نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کو مکروہ کہا ہے لیکن اس کے جھوٹے کے استعمال میں ان دونوں نے کوئی حرج نہیں جانا۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي حَاجِبٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي غِفَارٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ فَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَكَرِهَ بَعْضُ الْفُقَهَاءِ الْوُضُوءَ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ . وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ كَرِهَا فَضْلَ طَهُورِهَا وَلَمْ يَرَيَا بِفَضْلِ سُؤْرِهَا بَأْسًا .
#64
Sahih
A1-Hakim bin Amr AI-Ghifari narrated that:"The Prophet forbade that a man should perform Wudu with the leftover (water) from a woman's purifcation." Or, he said: "from her drinking
حکم بن عمرو غفاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کو منع فرمایا ہے، یا فرمایا: عورت کے جھوٹے سے وضو کرے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور محمد بن بشار اپنی حدیث میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ مرد عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے ۱؎، اور محمد بن بشار نے اس روایت میں – «أو بسؤرها» والا شک بیان نہیں کیا ۲؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَاجِبٍ، يُحَدِّثُ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ . أَوْ قَالَ " بِسُؤْرِهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَأَبُو حَاجِبٍ اسْمُهُ سَوَادَةُ بْنُ عَاصِمٍ . وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ . وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ .
#65
Sahih
[Ibn Abbas narrated:"One of the wives of the Prophet performed Ghusl with a bowl. Allah's Messenger wanted to perform Wudu with it, so she said: 'O Messenger of Allah! Indeed I am ]unub.' So he said: 'Indeed, water does not become Junub
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی ایک بیوی نے ایک لگن ( ٹب ) سے ( پانی لے کر ) غسل کیا، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اس ( بچے ہوئے پانی ) سے وضو کرنا چاہا، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ناپاک تھی، آپ نے فرمایا: پانی جنبی نہیں ہوتا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہی سفیان ثوری، مالک اور شافعی کا قول ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي جَفْنَةٍ فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَتَوَضَّأَ مِنْهُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا . فَقَالَ " إِنَّ الْمَاءَ لاَ يُجْنِبُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَمَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ .
#66
Sahih
Abu Sa'eed AI-Khudri narrated:"It was said, 'O Allah's Messenger! Shall we use the water of Buda'ah well to perform ablution while it is a well in which menstruation rags, flesh of dogs and the putrid are dumped?" Allah's Messenger said: 'Indeed water is pure, nothing makes it impure
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم بضاعہ نامی کنویں ۱؎ سے وضو کریں اور حال یہ ہے وہ ایک ایسا کنواں ہے جس میں حیض کے کپڑے، کتوں کے گوشت اور بدبودار چیزیں آ کر گرتی ہیں؟ ۔ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پاک ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بئر بضاعہ والی ابو سعید خدری کی یہ حدیث جس عمدگی کے ساتھ ابواسامہ نے روایت کی ہے کسی اور نے روایت نہیں کی ہے ۳؎، ۳- یہ حدیث کئی اور طریق سے ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے مروی ہے، ۴- اس باب میں ابن عباس اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ بِئْرٌ يُلْقَى فِيهَا الْحِيَضُ وَلُحُومُ الْكِلاَبِ وَالنَّتْنُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ لاَ يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدْ جَوَّدَ أَبُو أُسَامَةَ هَذَا الْحَدِيثَ فَلَمْ يَرْوِ أَحَدٌ حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ فِي بِئْرِ بُضَاعَةَ أَحْسَنَ مِمَّا رَوَى أَبُو أُسَامَةَ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ .
#67
Sahih
Ibn Umar narrated:"I heard AlIah's Messenger while he was being asked about water in open areas of the land, and predators and beasts come to it." He said: 'So Allah's Messenger said: 'When the water is two Qullah it does not carry filth
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے سنا، آپ سے اس پانی کے بارے میں پوچھا جا رہا تھا جو میدان میں ہوتا ہے اور جس پر درندے اور چوپائے آتے جاتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”جب پانی دو قلہ ۱؎ ہو تو وہ گندگی کو اثر انداز ہونے نہیں دے گا، اسے دفع کر دے گا“ ۲؎۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں: قلہ سے مراد گھڑے ہیں اور قلہ وہ ( ڈول ) بھی ہے جس سے کھیتوں اور باغات کی سینچائی کی جاتی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہی قول شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جب پانی دو قلہ ہو تو اسے کوئی چیز نجس نہیں کر سکتی جب تک کہ اس کی بویا مزہ بدل نہ جائے، اور ان لوگوں کا کہنا ہے کہ دو قلہ پانچ مشک کے قریب ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُسْأَلُ عَنِ الْمَاءِ يَكُونُ فِي الْفَلاَةِ مِنَ الأَرْضِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ السِّبَاعِ وَالدَّوَابِّ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ " . قَالَ عَبْدَةُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقُلَّةُ هِيَ الْجِرَارُ وَالْقُلَّةُ الَّتِي يُسْتَقَى فِيهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ قَالُوا إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ مَا لَمْ يَتَغَيَّرْ رِيحُهُ أَوْ طَعْمُهُ وَقَالُوا يَكُونُ نَحْوًا مِنْ خَمْسِ قِرَبٍ .
#68
Sahih
Abu Hurairah narrated that :the Prophet said: "Let none of you urinate [in still water, then perform Wudu with it]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی آدمی ٹھہرے ہوئے پانی ۱؎ میں پیشاب نہ کرے پھر اس سے وضو کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ .
#69
Sahih
Abu Hurairah narrated:"A man asked Allah's Messenger 'O Messenger of Allah! We sail the seas, and we only carry a little water with us. If we use it for Wudu then we will go thirsty. So shall we perform Wudu from the (water of the) sea?' Allah's Messenger said: 'Its water is pure, and its dead are lawful
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سمندر کا سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو کر لیں تو پیاسے رہ جائیں گے، تو کیا ایسی صورت میں ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”سمندر کا پانی پاک ۱؎ ہے، اور اس کا مردار حلال ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر بن عبداللہ اور فراسی رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے، ۳- اور یہی صحابہ کرام رضی الله عنہم میں سے اکثر فقہاء کا قول ہے جن میں ابوبکر، عمر اور ابن عباس بھی ہیں کہ سمندر کے پانی سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں، بعض صحابہ کرام نے سمندر کے پانی سے وضو کو مکروہ جانا ہے، انہیں میں ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو ہیں عبداللہ بن عمرو کا کہنا ہے کہ سمندر کا پانی آگ ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، مِنْ آلِ ابْنِ الأَزْرَقِ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ، وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَالْفِرَاسِيِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ يَرَوْا بَأْسًا بِمَاءِ الْبَحْرِ . وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْوُضُوءَ بِمَاءِ الْبَحْرِ مِنْهُمُ ابْنُ عُمَرَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو . وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو هُوَ نَارٌ .
#70
Sahih
Ibn Abbas narrated:"The Prophet passed by two graves. He said: 'These two are being punished. And they are not being punished for something major. As for this one, he would not protect himself from his urine. As for this one, he used to spread Namimah (slander)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا تو آپ نے فرمایا: ”یہ دونوں قبر والے عذاب دیئے جا رہے ہیں، اور کسی بڑی چیز میں عذاب نہیں دیئے جا رہے ( کہ جس سے بچنا مشکل ہوتا ) رہا یہ تو یہ اپنے پیشاب سے بچتا نہیں تھا ۱؎ اور رہا یہ تو یہ چغلی کیا کرتا تھا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابوموسیٰ، عبدالرحمٰن بن حسنہ، زید بن ثابت، اور ابوبکرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَقُتَيْبَةُ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يُحَدِّثُ عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ عَلَى قَبْرَيْنِ فَقَالَ " إِنَّهُمَا يُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ أَمَّا هَذَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ وَأَمَّا هَذَا فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي مُوسَى وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأَبِي بَكْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَرَوَى مَنْصُورٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ طَاوُسٍ . وَرِوَايَةُ الأَعْمَشِ أَصَحُّ . قَالَ وَسَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبَانَ الْبَلْخِيَّ مُسْتَمْلِي وَكِيعٍ يَقُولُ سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ الأَعْمَشُ أَحْفَظُ لإِسْنَادِ إِبْرَاهِيمَ مِنْ مَنْصُورٍ .
#71
Sahih
Umm Qais bin Mihsan narrated:"I entered upon the Prophet with a son of mine who was not yet eating food. He urinated on him, so he called for water which he sprinkled over it
ام قیس بنت محصن رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئی، وہ ابھی تک کھانا نہیں کھاتا تھا ۱؎، اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگوایا اور اسے اس پر چھڑک لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی، عائشہ، زینب، فضل بن عباس کی والدہ لبابہ بنت حارث، ابوالسمح، عبداللہ بن عمرو، ابولیلیٰ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- صحابہ کرام، تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں کا یہی قول ہے کہ بچے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے اور بچی کا پیشاب دھویا جائے، اور یہ حکم اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ دونوں کھانا نہ کھانے لگ جائیں، اور جب وہ کھانا کھانے لگ جائیں تو بالاتفاق دونوں کا پیشاب دھویا جائے گا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّهُ عَلَيْهِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ وَزَيْنَبَ وَلُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهِيَ أُمُّ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبِي السَّمْحِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَبِي لَيْلَى وَابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِثْلِ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ قَالُوا يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلاَمِ وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ وَهَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا فَإِذَا طَعِمَا غُسِلاَ جَمِيعًا .
#72
Sahih
Anas narrated:"Some people from Urainah arrived in Al-Madinah, and they were uncomfortable (and ill from the climate). So Allah's Messenger sent them some camels from charity. He told them: "Drink from their milk and urine." So they killed the camel driver that Allah's Messenger sent, and they violently drove off the camels, and apostatized from Islam. So the Prophet came to them, he cut off their hands and feet on opposite side, and branded their eyes, and threw them in Al-Harrah." Anas said, "So I saw one of them working over the ground with his mouth, until they died
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ آئے، انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی، چنانچہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے انہیں زکاۃ کے اونٹوں میں بھیج دیا اور فرمایا: ”تم ان کے دودھ اور پیشاب پیو“ ( وہ وہاں گئے اور کھا پی کر موٹے ہو گئے ) تو ان لوگوں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کے چرواہے کو مار ڈالا، اونٹوں کو ہانک لے گئے، اور اسلام سے مرتد ہو گئے، انہیں ( پکڑ کر ) نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ نے ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دیئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دیں اور گرم تپتی ہوئی زمین میں انہیں پھینک دیا۔ انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا تھا کہ ( وہ پیاس بجھانے کے لیے ) اپنے منہ سے زمین چاٹ رہا تھا یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مر گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور کئی سندوں سے انس سے مروی ہے، ۲- اکثر اہل علم کا یہی قول ہے کہ جس جانور کا گوشت کھایا جاتا ہو اس کے پیشاب میں کوئی حرج نہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، وَقَتَادَةُ، وَثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَاسًا، مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْهَا فَبَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ وَقَالَ " اشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا " . فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاسْتَاقُوا الإِبِلَ وَارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلاَمِ فَأُتِيَ بِهِمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلاَفٍ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَأَلْقَاهُمْ بِالْحَرَّةِ . قَالَ أَنَسٌ فَكُنْتُ أَرَى أَحَدَهُمْ يَكُدُّ الأَرْضَ بِفِيهِ حَتَّى مَاتُوا . وَرُبَّمَا قَالَ حَمَّادٌ يَكْدُمُ الأَرْضَ بِفِيهِ حَتَّى مَاتُوا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ . وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا لاَ بَأْسَ بِبَوْلِ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ .
#73
Sahih
Anas bin Malik narrated:"Allah's Messenger only poked out their eyes because they had poked out the eyes of the camel driver." Abu 'Eisa said: This Hadfth is Gharib. We do not know anyone who mentioned it other than this shaikh, from Yazid bin Zurai. And it is in accordance with the meaning of Allah's saying: "And wounds equal for equal" It has been reported that Muhammad bin Sirin said: "The Prophet only did this to them before the legislated punishments were revealed
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں اس لیے پھیریں کہ ان لوگوں نے بھی چرواہوں کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اور اللہ تعالیٰ کے فرمان «والجروح قصاص» کا یہی مفہوم ہے، محمد بن سیرین سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ان کے ساتھ یہ معاملہ حدود ( سزاؤں ) کے نازل ہونے سے پہلے کیا تھا۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الأَعْرَجُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ إِنَّمَا سَمَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَعْيُنَهُمْ لأَنَّهُمْ سَمَلُوا أَعْيُنَ الرُّعَاةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْلَمُ أَحَدًا ذَكَرَهُ غَيْرَ هَذَا الشَّيْخِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ . وَهُوَ مَعْنَى قَوْلِهِ : ( وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ ) . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ إِنَّمَا فَعَلَ بِهِمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم هَذَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ .
#74
Sahih
Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "There no Wudu except for a sound or a smell
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو واجب نہیں جب تک آواز نہ ہو یا بو نہ آئے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَهَنَّادٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ وُضُوءَ إِلاَّ مِنْ صَوْتٍ أَوْ رِيحٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#75
Sahih
Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "When one of you is in the Masjid, and he senses wind between his buttocks then he should not exit until he hears a sound or smells an odor
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہو اور وہ اپنی سرین سے ہوا نکلنے کا شبہ پائے تو وہ ( مسجد سے ) نہ نکلے جب تک کہ وہ ہوا کے خارج ہونے کی آواز نہ سن لے، یا بغیر آواز کے پیٹ سے خارج ہونے والی ہوا کی بو نہ محسوس کر لے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن زید، علی بن طلق، عائشہ، ابن عباس، ابن مسعود اور ابو سعید خدری سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور یہی علماء کا قول ہے کہ وضو «حدث» ہی سے واجب ہوتا ہے کہ وہ «حدث» کی آواز سن لے یا بو محسوس کر لے، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ جب «حدث» میں شک ہو تو وضو واجب نہیں ہوتا، جب تک کہ ایسا یقین نہ ہو جائے کہ اس پر قسم کھا سکے، نیز کہتے ہیں کہ جب عورت کی اگلی شرمگاہ سے ہوا خارج ہو تو اس پر وضو واجب ہو جاتا ہے، یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ رِيحًا بَيْنَ أَلْيَتَيْهِ فَلاَ يَخْرُجْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَعَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ وَعَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي سَعِيدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهُوَ قَوْلُ الْعُلَمَاءِ أَنْ لاَ يَجِبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ إِلاَّ مِنْ حَدَثٍ يَسْمَعُ صَوْتًا أَوْ يَجِدُ رِيحًا . وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ إِذَا شَكَّ فِي الْحَدَثِ فَإِنَّهُ لاَ يَجِبُ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ حَتَّى يَسْتَيْقِنَ اسْتِيقَانًا يَقْدِرُ أَنْ يَحْلِفَ عَلَيْهِ . وَقَالَ إِذَا خَرَجَ مِنْ قُبُلِ الْمَرْأَةِ الرِّيحُ وَجَبَ عَلَيْهَا الْوُضُوءُ . وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَإِسْحَاقَ .