#3501
Daif
Anas narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever says in the morning: ‘O Allah we have reached morning, calling You to witness, and calling the carriers of Your Throne to witness, and Your angels, and all of Your creation, that You are Allah, none has the right to be worshipped but You, Alone, without partner, and that Muhammad (ﷺ) is Your slave and Your Messenger. (Allāhumma aṣbaḥnā nush-hiduka wa nush-hidu ḥamalata `arshika wa malā’ikataka wa jamī`a khalqika bi-annaka Allāh, lā ilāha illā anta, waḥdaka lā sharīka laka, wa anna Muḥammadan `abduka wa rasūluk)’ Allah will forgive him for whatever he does that day, and if he says it in the evening, Allah will forgive him for whatever sin he commits that night.”
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح میں یہ کلمات کہے گا: «اللهم أصبحنا نشهدك ونشهد حملة عرشك وملائكتك وجميع خلقك بأنك الله لا إله إلا أنت الله وحدك لا شريك لك وأن محمدا عبدك ورسولك» ”اے اللہ! ہم نے صبح کی اور ہم تجھے گواہ بناتے ہیں اور تیرا عرش اٹھائے رہنے والوں، تیرے فرشتوں کو تیری ساری مخلوقات کو گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ تو ہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، تو اکیلا اللہ ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں“، تو اس دن اس سے جتنے بھی گناہ ہوں گے انہیں اللہ بخش دے گا اور اگر وہ یہ دعا شام کے وقت پڑھے گا تو اس رات اس سے جتنے بھی گناہ سرزد ہوں گے اللہ انہیں بخش دے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْحِمْصِيُّ عَنْ بَقِيَّةَ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ اللَّهُمَّ أَصْبَحْنَا نُشْهِدُكَ وَنُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ وَمَلاَئِكَتَكَ وَجَمِيعَ خَلْقِكَ بِأَنَّكَ الله لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ وَحْدَكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ . إِلاَّ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا أَصَابَ فِي يَوْمِهِ ذَلِكَ وَإِنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا أَصَابَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ مِنْ ذَنْبٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ .
#3502
Hasan
Ibn `Umar said:“Rarely would the Messenger of Allah (ﷺ) stand from a sitting until he supplicated with these words for his Companions: ‘O Allah, apportion for us, fear of You, that shall come between us and disobedience of You, and of obedience to You, which shall cause us to obtain Your Paradise, and of certainty, which shall make the afflictions of the world easy for us, and enjoyment of our hearing, and our seeing, and our strength as long as You keep us alive, and make it the inheritor of us. And let our vengeance be upon those who have wronged us, and aid us against those who show enmity towards us, and do not make our affliction in our religion, and do not make this world our greatest concern, nor the limit of our knowledge, and do not give power over us to those who will not have mercy on us. (Allāhumma-qsim lanā min khashyatika mā yaḥūlu, bainanā wa baina ma`āṣīka wa min ṭā`atika mā tuballighuna bihī jannatak, wa minal-yaqīni mā tuhawwinu bihī `alainā muṣībatid-dunyā, wa matti`na bi-asmā`inā wa abṣārina wa quwwatina mā aḥyaytanā, waj`alhul-wāritha minnā, waj`al tha’ranā `alā man ẓalamanā, wanṣurna `alā man `ādānā, wa lā taj`al muṣībatanā fī dīninā, wa lā taj`alid-dunyā akbara hamminā wa lā mablagha `ilminā, wa lā tusalliṭ `alainā man lā yarḥamunā).’”
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ کم ہی ایسا ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی مجلس سے اپنے صحابہ کے لیے یہ دعا کیے بغیر اٹھے ہوں: «اللهم اقسم لنا من خشيتك ما يحول بيننا وبين معاصيك ومن طاعتك ما تبلغنا به جنتك ومن اليقين ما تهون به علينا مصيبات الدنيا ومتعنا بأسماعنا وأبصارنا وقوتنا ما أحييتنا واجعله الوارث منا واجعل ثأرنا على من ظلمنا وانصرنا على من عادانا ولا تجعل مصيبتنا في ديننا ولا تجعل الدنيا أكبر همنا ولا مبلغ علمنا ولا تسلط علينا من لا يرحمنا» ”اے اللہ! ہمارے درمیان تو اپنا اتنا خوف بانٹ دے جو ہمارے اور ہمارے گناہوں کے درمیان حائل ہو جائے، اور ہمارے درمیان اپنی اطاعت و فرماں برداری کا اتنا جذبہ پھیلا دے جو ہمیں تیری جنت تک پہنچا دے، اور ہمیں اتنا یقین دیدے جس کے سہارے دنیا کی مصیبتیں ہیچ اور آسان ہو جائیں، اور جب تک تو زندہ رکھ ہمیں اپنے کانوں اپنی آنکھوں اور اپنی قوتوں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دیتا رہ، اور ان سب کو ( ہماری موت تک ) باقی رکھ، اور ہمارا قصاص اور ہمارا بدلہ ان سے لے جو ہم پر ظلم کرے، اور جو ہم سے دشمنی کرے اس کے مقابل میں ہماری مدد فرما، اور دنیا کو ہمارا برا مقصد نہ بنا دے، اور نہ ہمارے علم کی انتہا بنا ( کہ ہمارا سارا سیکھنا سکھانا صرف دنیا کی خاطر ہو ) اور ہم پر کسی ایسے شخص کو مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، بعض محدثین نے یہ حدیث خالد بن ابوعمران سے اور خالد نے نافع کے واسطہ سے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ قَلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُومُ مِنْ مَجْلِسٍ حَتَّى يَدْعُوَ بِهَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ لأَصْحَابِهِ " اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ جَنَّتَكَ وَمِنَ الْيَقِينِ مَا تُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنَا مُصِيبَاتِ الدُّنْيَا وَمَتِّعْنَا بِأَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَا أَحْيَيْتَنَا وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنَّا وَاجْعَلْ ثَأْرَنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى مَنْ عَادَانَا وَلاَ تَجْعَلْ مُصِيبَتَنَا فِي دِينِنَا وَلاَ تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَلاَ مَبْلَغَ عِلْمِنَا وَلاَ تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لاَ يَرْحَمُنَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ .
#3503
Sahih Isnaad
Muslim bin Abi Bakrah said:“My father heard me while I was saying: “O Allah, I seek refuge in You from sadness and laziness and the punishment of the grave (Allāhumma, innī a`ūdhu bika minal-hammi wal-kasali wa `adhābil-qabr).’ He said: ‘O my son, from who did you hear this?’” He said: “I said: ‘I heard you saying them.’ He said: ‘Stick to them, for indeed, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying them.’”
مسلم بن ابوبکرہ کہتے ہیں کہ میرے باپ نے مجھے: «اللهم إني أعوذ بك من الهم والكسل وعذاب القبر» ”اے اللہ میں غم و فکر اور سستی و کاہلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں“، پڑھتے ہوئے سنا تو کہا: اے بیٹے تو نے یہ دعا کس سے سنی؟ میں نے کہا: میں نے آپ کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنی ہے، انہوں نے کہا: انہیں پابندی سے پڑھتے رہا کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ، حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ سَمِعَنِي أَبِي، وَأَنَا أَقُولُ اللَّهُمَّ، إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْكَسَلِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ . قَالَ يَا بُنَىَّ مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا قَالَ قُلْتُ سَمِعْتُكَ تَقُولُهُنَّ . قَالَ الْزَمْهُنَّ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُهُنَّ . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ [صَحِيحٌ][غَرِيبٌ] .
#3504
Daif
Ali [may Allah be pleased with him] said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: ‘Should I not teach you some words that if you say them, Allah will forgive you, even if you were already forgiven?’ He said: ‘Say: None has the right to be worshipped by Allah, the Most High, the Magnificent. None has the right to be worshipped by Allah, the Forbearing, the Generous. None has the right to be worshipped but Allah. Glory to Allah, the Lord of the Magnificent Throne. (Lā ilāha illallāhul-`aliyul-`aẓīm, lā ilāha illallāhul-ḥalīmul-karīm, lā ilāha illallāh, subḥān Allāhi rabbil-`arshil-`aẓīm.)’”
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا میں تم کو ایسے کلمات نہ سکھا دوں کہ ان کلمات کو جب تم کہو گے تو تمہارے گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا، اگرچہ تم ان لوگوں میں سے ہو جن کے گناہ پہلے ہی معاف کئے جا چکے ہیں“، آپ نے فرمایا: ”کہو: «لا إله إلا الله العلي العظيم لا إله إلا الله الحليم الكريم لا إله إلا الله سبحان الله رب العرش العظيم» ”اللہ جو بلند و بالا ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، حلیم و کریم ( بردبار مہربان ) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے، پاک ہے اللہ جو عرش عظیم کا رب ہے“۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَإِنْ كُنْتَ مَغْفُورًا لَكَ " . قَالَ " قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ " . قَالَ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، بِمِثْلِ ذَلِكَ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهَا " الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ .
#3505
Sahih
Ibrahim bin Muhammad bin Sa`d narrated from his father, from Sa`d that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The supplication of Dhun-Nun (Prophet Yunus) when he supplicated, while in the belly of the whale was: ‘There is none worthy of worship except You, Glory to You, Indeed, I have been of the transgressors. (Lā ilāha illā anta subḥānaka innī kuntu minaẓ-ẓālimīn)’ So indeed, no Muslim man supplicates with it for anything, ever, except Allah responds to him.”
سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذوالنون ( یونس علیہ السلام ) کی دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے دوران کی تھی وہ یہ تھی: «لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين» ”تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو پاک ہے، میں ہی ظالم ( خطاکار ) ہوں“، کیونکہ یہ ایسی دعا ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان شخص اسے پڑھ کر دعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- محمد بن یحییٰ نے کہا: محمد بن یوسف کبھی ابراہیم بن محمد بن سعد کے واسطہ سے سعد سے روایت کرتے ہیں اور اس میں «عن أبيه» کا ذکر نہیں کرتے، ۲- دوسرے راویوں نے یہ حدیث یونس بن ابواسحاق سے، اور یونس نے ابراہیم بن محمد بن سعد کے واسطہ سے سعد سے روایت کی ہے، اور اس روایت میں انہوں نے «عن أبيه» کا ذکر نہیں کیا ہے، ۳- بعض نے یونس بن ابواسحاق سے روایت کی ہے، اور ان لوگوں نے ابن یوسف کی روایت کی طرح ابراہیم بن محمد بن سعد سے روایت کرتے ہوئے «عن أبيه عن سعد» کہا ہے اور یونس بن ابواسحاق کی عادت تھی کہ کبھی تو وہ اس حدیث میں «عن أبيه» کہہ کر روایت کرتے اور کبھی «عن أبيه» کا ذکر نہیں کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " دَعْوَةُ ذِي النُّونِ إِذْ دَعَا وَهُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ . فَإِنَّهُ لَمْ يَدْعُ بِهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلاَّ اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ " . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ مَرَّةً عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَوَى غَيْرُ، وَاحِدٍ، هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أَبِيهِ، . وَرَوَى بَعْضُهُمْ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، فَقَالُوا عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، وَكَانَ، يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ رُبَّمَا ذَكَرَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَبِيهِ، وَرُبَّمَا، لَمْ يَذْكُرْهُ .
#3506
Sahih
Abu Hurairah [may Allah be pleased with him] narrated the the Prophet said:“Indeed Allah has ninety-nine Names, one hundred less one, whoever counts them shall enter Paradise.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے ۱؎ نام ہیں، سو میں ایک کم، جو انہیں یاد رکھے وہ جنت میں داخل ہو گا“ ۲؎۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً غَيْرَ وَاحِدٍ مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " . قَالَ يُوسُفُ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
#3507
Daif
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Indeed, Allah has ninety-nine Names, one hundred less one, whoever counts them shall enter Paradise. He is Allah, the one whom there is none worthy of worship except for Him (Allāhu Lā Ilāha Illā Huwa), the Most Merciful (to the creation) (Ar-Raḥmān), the Most Beneficent (to the believers) (Ar-Raḥīm), the King (Al-Malik), the Free of Deficiencies (Al-Quddūs), the Granter of Safety (As-Salām), the Granter of Security (Al-Mu’min), the Watcher (Al-Muhaimin), the Mighty (Al-`Azīz), the Compeller (Al-Jabbār), the Supreme (Al-Mutakabbir), the Creator (Al-Khāliq), the Originator (Al-Bāri’), the Fashioner (Al-Muṣawwir), the Pardoner (Al-Ghaffār), the Overwhelming (Al-Qahhār), the Giving (Al-Wahhāb), the Provider (Ar-Razzāq), the Opener (Al-Fattāḥ), the Knowing (Al-`Alīm), the Taker (Al-Qābiḍ), the Giver (Al-Bāsiṭ), the Abaser (Al-Khāfiḍ), the Exalter (Ar-Rāfi`), the One who grants honor (Al-Mu`izz), the One who humiliates (Al-Mudhil), the Hearing (As-Samī`), the Seeing (Al-Baṣīr), the Judge (Al-Ḥakam), the Just (Al-`Adl), the Kind (Al-Laṭīf), the Aware (Al-Khabīr), the Forbearing (Al-Ḥalīm), the Magnificent (Al-`Aẓīm), the Oft-Forgiving (Al-Ghafūr), the Grateful (Ash-Shakūr), the Most High (Al-`Aliyy), the Great (Al-Kabīr), the Guardian (Al-Ḥafīẓ), the Powerful (Al-Muqīt), the Reckoner (Al-Ḥasīb), the Glorious (Al-Jalīl), the Generous (Al-Karīm), the Watcher (Ar-Raqīb), the Responder (Al-Mujīb), the Liberal Giver (Al-Wāsi`), the Wise (Al-Ḥakīm), the Loving (Al-Wadūd), the Majestic (Al-Majīd), the Reviver (Al-Bā`ith), the Witness (Ash-Shahīd), the Truth (Al-Ḥaqq), the Guarantor (Al-Wakīl), the Strong (Al-Qawiyy), the Firm (Al-Matīn), the One Who Aids (Al-Waliyy), the Praiseworthy (Al-Ḥamīd), the Encompasser (Al-Muḥṣi), the One Who Begins things (Al-Mubdi’), the One Who brings things back (Al-Mu`īd), the One Who gives life (Al-Muḥyi), the One Who causes death (Al-Mumīt), the Living (Al-Ḥayyu), the Self-Sufficient (Al-Qayyūm), the One Who brings into existence (Al-Wājid), the Illustrious (Al-Mājid), the One (Al-Wāḥid), the Master (Aṣ-Ṣamad), the Able (Al-Qādir), the Powerful (Al-Muqtadir), the One who hastens (Al-Muqaddim), the One who delays (Al-Mu’akhkhir), the First (Al-Awwal), the Last (Al-Ākhir), the Apparent (Aẓ-Ẓāhir), the Inner (Al-Bāṭin), the Owner (Al-Wāli), the Exalted (Al-Muta`āli), the Doer of Good (Al-Barr), the Acceptor of repentance (At-Tawwāb), the Avenger (Al-Muntaqim), the Pardoning (Al-`Afuww), the Kind (Ar-Ra’ūf), the Owner of Dominion (Mālikul-Mulk), the Possessor of Glory and Generosity (Dhul Jalāli wal Ikrām), the One who does justice (Al-Muqsiṭ), the Gatherer (Al-Jāmi`), the Rich (Al-Ghaniyy), the Enricher (Al-Mughni), the Preventer (Al-Māni`), the Harmer (Aḍ-Ḍār), the One who benefits (An-Nāfi`), the Light (An-Nūr), the Guide (Al-Hādi), the Originator (Al-Badī`), the Lasting (Al-Bāqi), the Inheritor (Al-Wārith), the Guide (Ar-Rashīd), the Tolerant (Aṣ-Ṣabūr).”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے ( ۹۹ ) نام ہیں جو انہیں شمار کرے ( گنے ) گا وہ جنت میں جائے گا، اور اللہ کے ننانوے ( ۹۹ ) نام یہ ہیں: «الله» اسم ذات سب ناموں سے اشرف و اعلی، «الرحمن» ”بہت رحم کرنے والا“، «الرحيم» ”مہربان“، «الملك» ”بادشاہ“، «القدوس» ”نہایت پاک“، «السلام» ”سلامتی دینے والا“، «المؤمن» ”یقین والا“، «المهيمن» ”نگہبان“، «العزيز» ”غالب“، «الجبار» ”تسلط والا“، «المتكبر» ”بڑائی والا“، «الخالق» ”پیدا کرنے والا“، «البارئ» ”پیدا کرنے والا“، «المصور» ”صورت بنانے والا“، «الغفار» ”بہت بخشنے والا ‘، «القهار» ”قہر والا“، «الوهاب» ”بہت دینے والا“، «الرزاق» ”روزی دینے والا“، «الفتاح» ”فیصلہ چکانے والا“، «العليم» ”جاننے والا“، «القابض» ”روکنے والا“، «الباسط» ”چھوڑ دینے والا، پھیلانے والا“، «الخافض» ”پست کرنے والا“، «الرافع» ”بلند کرنے والا“، «المعز» ”عزت دینے والا“، «المذل» ”ذلت دینے والا“، «السميع» ”سننے والا“، «البصير» ”دیکھنے والا“، «الحكم» ”فیصلہ کرنے والا“، «العدل» ”انصاف والا“، «اللطيف» ”بندوں پر شفقت کرنے والا“، «الخبير» ”خبر رکھنے والا“، «الحليم» ”بردبار“، «العظيم» ”بزرگی والا“، «الغفور» ”بہت بخشنے والا“، «الشكور» ”قدر کرنے والا“، «العلي» ”اونچا“، «الكبير» ”بڑا“، «الحفيظ» ”نگہبان“، «المقيت» ”طاقت و قوت والا“، «الحسيب» ”حساب لینے والا“، «الجليل» ”بزرگ“، «الكريم» ”کرم والا“، «الرقيب» ”مطلع رہنے والا“، «المجيب» ”قبول کرنے والا“، «الواسع» ”کشادگی اور وسعت والا“، «الحكيم» ”حکمت والا“، «الودود» ”بہت چاہنے والا“، «المجيد» ”بزرگی والا“، «الباعث» ”زندہ کر کے اٹھانے والا“، «الشهيد» ”نگراں، حاضر“، «الحق» ”سچا“، «الوكيل» ”کار ساز“، «القوي» ”طاقتور“، «المتين» ”مضبوط“، «الولي» ”مددگار و محافظ“، «الحميد»، «المحصي»، «المبدئ» ”پہلے پہل پیدا کرنے والا“، «المعيد» ”دوبارہ پیدا کرنے والا“، «المحيي» ”زندہ کرنے والا“، «المميت» ”مارنے والا“، «الحي» ”زندہ“، «القيوم» ”قائم رہنے و قائم رکھنے والا“، «الواجد» ”پانے والا“، «الماجد» ”بزرگی والا“، «الواحد» ”اکیلا“، «الصمد» ”بے نیاز“، «القادر» ”قدرت والا“، «المقتدر» ”طاقتور پکڑنے والا“، «المقدم» ”پہلا“، «المؤخر» ”پچھلا“، «الأول» ”پہلا“، «الآخر» ”پچھلا“، «الظاهر» ”ظاہر“، «الباطن» ”پوشیدہ، مخفی“، «الوالي» ”مالک مختار، حکومت کرنے والا“، «المتعالي» ”برتر“، «البر» ”بھلائی والا“، «التواب» ”توبہ قبول کرنے والا“، «المنتقم» ”انتقام لینے والا“، «العفو» ”درگذر کرنے والا“، «الرءوف» ”شفقت والا، مہربان“، «مالك الملك» ”تمام جہاں کا مالک“، «ذو الجلال والإكرام» ”عزت و جلال والا“، «المقسط» ”انصاف کرنے والا“، «الجامع» ”جمع کرنے والا“، «الغني» ”تونگر و بے نیاز“، «المغني» ”بے نیاز“، «المانع» ”روکنے والا“، «الضار» ”نقصان پہنچانے والا“، «النافع» ”نفع پہنچانے والا“، «النور» ”روشن، ظاہر“، «الهادي» ”ہدایت بخشنے والا“، «البديع» ”از سر نو پیدا کرنے والا“، «الباقي» ”قائم رہنے والا“، «الوارث» ”وارث“، «الرشيد» ”خیر و بھلائی والا“، «الصبور» ”بردبار“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم سے کئی راویوں نے یہ حدیث صفوان بن ابوصالح کے واسطے سے بیان کی ہے، اور یہ حدیث ہم صرف صفوان بن صالح کی روایت سے جانتے ہیں اور صفوان بن صالح محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں، ۳- یہ حدیث کئی اور سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، اور ہم اکثر و بیشتر روایات کو جن میں اسماء الٰہی کا ذکر ہے، اس حدیث کے سوا کسی حدیث کو سند کے اعتبار سے صحیح نہیں پاتے، ۴- آدم ابن ابی ایاس نے یہ حدیث اس سند کے علاوہ دو سری سند سے ابوہریرہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور اس میں اسماء ( الٰہی ) کا ذکر کیا ہے، لیکن اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً غَيْرَ وَاحِدَةٍ مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ هُوَ اللَّهُ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلاَمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ الْغَفَّارُ الْقَهَّارُ الْوَهَّابُ الرَّزَّاقُ الْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الْخَافِضُ الرَّافِعُ الْمُعِزُّ الْمُذِلُّ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ الْحَكَمُ الْعَدْلُ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ الْحَلِيمُ الْعَظِيمُ الْغَفُورُ الشَّكُورُ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ الْحَفِيظُ الْمُقِيتُ الْحَسِيبُ الْجَلِيلُ الْكَرِيمُ الرَّقِيبُ الْمُجِيبُ الْوَاسِعُ الْحَكِيمُ الْوَدُودُ الْمَجِيدُ الْبَاعِثُ الشَّهِيدُ الْحَقُّ الْوَكِيلُ الْقَوِيُّ الْمَتِينُ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ الْمُحْصِي الْمُبْدِئُ الْمُعِيدُ الْمُحْيِي الْمُمِيتُ الْحَىُّ الْقَيُّومُ الْوَاجِدُ الْمَاجِدُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ الْقَادِرُ الْمُقْتَدِرُ الْمُقَدِّمُ الْمُؤَخِّرُ الأَوَّلُ الآخِرُ الظَّاهِرُ الْبَاطِنُ الْوَالِي الْمُتَعَالِي الْبَرُّ التَّوَّابُ الْمُنْتَقِمُ الْعَفُوُّ الرَّءُوفُ مَالِكُ الْمُلْكِ ذُو الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ الْمُقْسِطُ الْجَامِعُ الْغَنِيُّ الْمُغْنِي الْمَانِعُ الضَّارُّ النَّافِعُ النُّورُ الْهَادِي الْبَدِيعُ الْبَاقِي الْوَارِثُ الرَّشِيدُ الصَّبُورُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَدَّثَنَا بِهِ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ صَالِحٍ . وَلاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ صَفْوَانَ بْنِ صَالِحٍ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ نَعْلَمُ - فِي كَبِيرِ شَيْءٍ مِنَ الرِّوَايَاتِ لَهُ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ ذِكْرَ الأَسْمَاءِ إِلاَّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ . وَقَدْ رَوَى آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ هَذَا الْحَدِيثَ بِإِسْنَادٍ غَيْرِ هَذَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَذَكَرَ فِيهِ الأَسْمَاءَ وَلَيْسَ لَهُ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ .
#3508
Sahih
Abu Hurairah narrated that the Prophet said:“Indeed, Allah has ninety-nine Names, whoever counts them shall enter Paradise.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے ( ۹۹ ) نام ہیں جس نے انہیں شمار کیا ( یاد رکھا ) وہ جنت میں جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث میں اسماء ( الٰہی ) کا ذکر نہیں ہے، ۳- اسے ابوالیمان نے شعیب بن ابی حمزہ کے واسطہ سے ابوالزناد سے روایت کیا ہے اور اس میں اسمائے حسنیٰ کا ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " . قَالَ وَلَيْسَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ذِكْرُ الأَسْمَاءِ . قَالَ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . رَوَاهُ أَبُو الْيَمَانِ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الأَسْمَاءَ .
#3509
Daif
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When you pass by the gardens of Paradise, then feast.” I said: “O Messenger of Allah, and what are the gardens of Paradise?” He said, “The Masajid.” I said: “And what is feasting, O Messenger of Allah?” He said: “‘Glory is to Allah, (Subḥān Allāh)’ and ‘All praise is due to Allah, (Al-Ḥamdulillāh)’ and ‘None has the right to be worshipped but Allah, (Lā Ilāha Illallāh)’ and ‘Allah is the Greatest (Allāhu Akbar).’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنت کے باغوں میں سے کسی باغ کے پاس سے گزرو تو کچھ چر چگ لیا کرو“، میں پوچھا: اللہ کے رسول! «رياض الجنة» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” «رياض الجنة» مساجد ہیں“، میں نے کہا اور «الرتع» کیا ہے، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ” «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہنا «الرتع» ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، أَنَّ حُمَيْدًا الْمَكِّيَّ، مَوْلَى ابْنِ عَلْقَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوا " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ قَالَ " الْمَسَاجِدُ " . قُلْتُ وَمَا الرَّتْعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
#3510
Hasan
Anas bin Malik [may Allah be pleased with him] narrated that the Messenger of Allah said:“When you pass by the gardens of Paradise, them feast.” They said: “And what are the gardens of Paradise?” He said: “The circles of remembrance.”
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنت کے باغوں سے گزرو تو تم ( کچھ ) چر، چگ لیا کرو ۱؎ لوگوں نے پوچھا «رياض الجنة» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ذکر کے حلقے اور ذکر کی مجلسیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے جسے ثابت نے انس سے روایت کی ہے حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْبُنَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوا " . قَالَ وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ قَالَ " حِلَقُ الذِّكْرِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ .
#3511
Sahih Isnaad
Umar bin Abu Salamah narrated from his mother, Umm Salamah, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When a calamity strikes one of you, then let him say: ‘Indeed, to Allah we belong and to Him we shall return. O Allah, I seek reward with You for my affliction, so reward me for it, and replace it for me with something better (Innā lillāhi wa innā ilaihi rāji`ūn, Allāhumma `indaka aḥtasibu muṣībatī fa’jurnī fīhā wa abdilnī minhā khair).’” When the time of death was near Abu Salamah, he said: ‘O Allah, replace me for my wife, with better than me.” So when he died, Umm Salamah said: “Indeed, to Allah we belong and to Him we shall return. I seek reward with Allah for my affliction, so reward me for it.”
ابوسلمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت لاحق ہو تو اسے: «إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم عندك احتسبت مصيبتي فأجرني فيها وأبدلني منها خيرا» ”ہم سب اللہ کے لیے ہیں اور ہم اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ! میں اپنی مصیبتوں کا اجر تجھ سے چاہتا ہوں مجھے تو ان پر ( صبر کرنے کا ) اچھا اجر دے، اور ان مصیبتوں کے بدلے مجھے ان سے اچھا دے“، پڑھنا چاہیئے، پھر جب ابوسلمہ رضی الله عنہ کی موت کا وقت آ گیا تو انہوں نے دعا کی: «اللهم اخلف في أهلي خيرا مني» ”اے اللہ! میرے گھر والوں میں مجھ سے بہتر ذات کو میرا خلیفہ و جانشیں بنا دے“، اور جب ان کی موت واقع ہو گئی تو ام سلمہ رضی الله عنہا نے کہا: «إنا لله وإنا إليه راجعون عند الله احتسبت مصيبتي فأجرني فيها» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ام سلمہ رضی الله عنہا کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے ۳- اور ابوسلمہ رضی الله عنہ کا نام عبداللہ بن عبدالاسد ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ فَلْيَقُلْ : ( إنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ) اللَّهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا وَأَبْدِلْنِي مِنْهَا خَيْرًا " . فَلَمَّا احْتُضِرَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ اللَّهُمَّ اخْلُفْ فِي أَهْلِي خَيْرًا مِنِّي فَلَمَّا قُبِضَ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : ( إنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ) عِنْدَ اللَّهِ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو سَلَمَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الأَسَدِ .
#3512
Daif
Anas bin Malik narrated that a man came to the Prophet (ﷺ) and said:“O Messenger of Allah, which supplication is the best?” He (ﷺ) said: “Ask Your Lord For Al-`Āfiyah and Al-Mu`āfāh in this world and in the Hereafter.” Then he came to him on the second day and said: “O Messenger of Allah, which supplication is the best?” So he (ﷺ) said to him similar to that. Then he came to him on the third day, so he (ﷺ) said to him similar to that. He (ﷺ) said: “So when you have been given Al-`Āfiyah in this world, and you have been given it in the Hereafter, then you have succeeded.”
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی دعا افضل ( سب سے اچھی ) ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اپنے رب سے دنیا و آخرت میں بلاؤں و مصیبتوں سے بچا دینے کی دعا کرو“، پھر آپ کے پاس وہی شخص دوسرے دن بھی آیا، اور آپ سے پھر پوچھا: ”کون سی دعا افضل ہے؟“ آپ نے اسے ویسا ہی جواب دیا جیسا پہلے جواب دیا تھا، وہ شخص تیسرے دن بھی آپ کے پاس حاضر ہوا، اس دن بھی آپ نے اسے ویسا ہی جواب دیا، مزید فرمایا: ”جب تمہیں دنیا و آخرت میں عافیت مل جائے تو سمجھ لو کہ تم نے کامیابی حاصل کر لی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف سلمہ بن وردان کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ قَالَ " سَلْ رَبَّكَ الْعَافِيَةَ وَالْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ " . ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ . قَالَ " فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَأُعْطِيتَهَا فِي الآخِرَةِ فَقَدْ أَفْلَحْتَ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ وَرْدَانَ .
#3513
Sahih
Aishah narrated:“I said: ‘O Messenger of Allah, what is your view if I know when the Night of Al-Qadr is, then what should I say in it?” He said: ‘Say: “O Allah, indeed You are Pardoning, [Generous,] You love pardon, so pardon me (Allāhumma innaka `Afuwwun [Karīmun], tuḥibbul-`afwa fa`fu `annī).’”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے تو میں اس میں کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: ”پڑھو «اللهم إنك عفو كريم تحب العفو فاعف عني» ”اے اللہ! تو عفو و درگزر کرنے والا مہربان ہے، اور عفو و درگزر کرنے کو تو پسند کرتا ہے، اس لیے تو ہمیں معاف و درگزر کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ عَلِمْتُ أَىُّ لَيْلَةٍ لَيْلَةُ الْقَدْرِ مَا أَقُولُ فِيهَا قَالَ " قُولِي اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ كَرِيمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3514
Sahih
Al-`Abbas bin `Abdul-Muttalib said:“I said: ‘O Messenger of Allah, teach me something that I may ask Allah, [Mighty and Sublime] for.’ He (ﷺ) said: ‘Ask Allah for Al-`Āfiyah.’ Then I remained for a day, then I came and said: ‘O Messenger of Allah, teach me something that I may ask Allah for.’ So he (ﷺ) said to me: “O Abbas, O uncle of the Messenger of Allah! Ask Allah for Al-`Āfiyah in the world and in the Hereafter.”
عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز سکھائیے جسے میں اللہ رب العزت سے مانگتا رہوں، آپ نے فرمایا: ”اللہ سے عافیت مانگو“، پھر کچھ دن رک کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے میں اللہ سے مانگتا رہوں، آپ نے فرمایا: ”اے عباس! اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا! دنیا و آخرت میں عافیت طلب کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- عبداللہ بن حارث بن نوفل نے عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ سے سنا ہے ( یعنی ان کا ان سے سماع ثابت ہے ) ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَسْأَلُهُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ . قَالَ " سَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ " . فَمَكَثْتُ أَيَّامًا ثُمَّ جِئْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَسْأَلُهُ اللَّهَ . فَقَالَ لِي " يَا عَبَّاسُ يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ سَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ . وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَدْ سَمِعَ مِنَ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ .
#3515
Daif
Ibn Umar narrated that the Messenger of Allah said (ﷺ):“Allah has not been asked for anything more beloved to Him than being asked for Al-`Āfiyah
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے جو بھی چیزیں مانگی گئی ہیں ان میں اللہ کو سب سے زیادہ پسند یہ ہے کہ اس سے عافیت ( دنیا و آخرت کی مصیبتوں سے نجات ) مانگی جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اور ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن ابوبکر ملیکی کی روایت سے جانتے ہیں، ( اور یہ ضعیف ہیں ) ۔
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكُوفِيُّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَهُوَ الْمُلَيْكِيُّ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا سُئِلَ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يُسْأَلَ الْعَافِيَةَ " . هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُلَيْكِيِّ .
#3516
Daif
Aishah narrated from Abu Bakr As-Siddiq,:that whenever the Prophet (ﷺ) wanted to do a matter, he would say: “O Allah, make it good for me and choose for me. (Allāhumma khir lī wakhtar lī)”
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کام کا ارادہ کرتے تو یہ دعا فرماتے: «اللهم خر لي واختر لي» ”اے اللہ! میرے لیے بہتر کا انتخاب فرما اور میرے لیے بہتر پسند فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے ۲- اور ہم اسے زنفل کی روایت کے سوا اور کسی سند سے نہیں جانتے، اور یہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، اور انہیں زنفل بن عبداللہ عرفی بھی کہتے ہیں، وہ عرفات میں رہتے تھے، وہ اس حدیث میں منفرد ہیں، یعنی یہ روایت صرف انہوں نے ہی بیان کی ہے ( کسی اور نے نہیں ) اور کسی نے بھی ان کی متابعت نہیں کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا زَنْفَلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَرَادَ أَمْرًا قَالَ " اللَّهُمَّ خِرْ لِي وَاخْتَرْ لِي " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ زَنْفَلٍ . وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَيُقَالُ لَهُ زَنْفَلٌ الْعَرَفِيُّ وَكَانَ سَكَنَ عَرَفَاتٍ وَتَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلاَ يُتَابَعُ عَلَيْهِ .
#3517
Sahih
Abu Malik Al-Ash`ari narrated that the Messenger of Allah said:“Al-Wudu is half of faith, and All praise is due to Allah (Al-Ḥamdulillāh) fills the Scale, and Glory is to Allah and all praise is to Allah (Subḥān Allāh wal-Ḥamdulillāh)’ fill” - or - “fills what is between the heavens and the earth, and Salat is light and charity is an evidence, and patience is an illumination, and the Quran is a proof for you or against you. And all people shall come to the morning selling their souls, either setting it free or destroying it.”
ابو مالک اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو آدھا ایمان ہے، اور «الحمد لله» ( اللہ کی حمد ) میزان کو ثواب سے بھر دے گا اور «سبحان الله» اور «الحمد لله» یہ دونوں بھر دیں گے آسمانوں اور زمین کے درمیان کی جگہ کو یا ان میں سے ہر ایک بھر دے گا آسمانوں اور زمین کے درمیان کی ساری خلا کو ( اجر و ثواب سے ) «صلاة» نور ہے، اور «صدقة» دلیل اور کسوٹی ہے ( ایمان کی ) اور «صبر» روشنی ہے اور «قرآن» تمہارے حق میں حجت و دلیل ہے یا اور تمہارے خلاف حجت ہے۔ ہر انسان صبح اٹھ کر اپنے نفس کو فروخت کرتا ہے چنانچہ یا تو ( اللہ کے یہاں فروخت کر کے ) اس کو ( جہنم سے ) آزاد کرا لیتا ہے، یا ( شیطان کے ہاں فروخت کر کے ) اس کو ہلاکت میں ڈال دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ زَيْدَ بْنَ سَلاَّمٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلاَّمٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْوُضُوءُ شَطْرُ الإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلأُ الْمِيزَانَ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلآنِ أَوْ تَمْلأُ مَا بَيْنَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَالصَّلاَةُ نُورٌ وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3518
Daif
Abdullah bin Amr narrated that the Messenger of Allah said:“At-Tasbīḥ is half of the Scale, and All praise is due to Allah (Al-Ḥamdulillāh)’ fills it, and (as for) None has the right to be worshipped but Allah (Lā Ilāha Illallāh)’ - there is no barrier to it from Allah until it reaches Him.”
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «تسبيح» ( سبحان اللہ کہنے سے ) نصف میزان ( آدھا پلڑا ) بھر جائے گا، اور «الحمد لله» میزان ( پلڑے کے باقی خالی حصے ) کو پورا بھر دے گا، اور «لا إله إلا الله» کے تو اللہ تک پہنچنے میں کوئی حجاب و رکاوٹ ہے ہی نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور اس کی سند قوی نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " التَّسْبِيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَؤُهُ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ لَيْسَ لَهَا دُونَ اللَّهِ حِجَابٌ حَتَّى تَخْلُصَ إِلَيْهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ . وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ هُوَ الإِفْرِيقِيُّ وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ هُوَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ .
#3519
Daif
A man from Banu Sulaim narrated:“The Messenger of Allah (ﷺ) counted them out in my hand” - or - “in his hand: ‘At-Tasbīḥ is half of the Scale, and “All praise is due to Allah (Al-Ḥamdulillāh)” fills it, and At-Takbīr (Allāhu Akbar) fills what is between the sky and the earth, and fasting is half of patience, and purification is half of faith.”
بنی سلیم کے ایک شخص کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ کی انگلیوں یا اپنے ہاتھ کی انگلیوں پر گن کر بتایا کہ «سبحان الله» نصف میزان رہے گا اور «الحمد لله» اس پورے پلڑے کو بھر دے گا اور «الله أكبر» آسمان و زمین کے درمیان کی ساری جگہوں کو بھر دے گا، روزہ آدھا ہے، اور پاکی نصف ایمان ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور اس حدیث کو شعبہ اور سفیان ثوری نے ابواسحاق سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ جُرَىٍّ النَّهْدِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ عَدَّهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي يَدِي أَوْ فِي يَدِهِ " التَّسْبِيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ وَالْحَمْدُ يَمْلَؤُهُ وَالتَّكْبِيرُ يَمْلأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ وَالطُّهُورُ نِصْفُ الإِيمَانِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ .
#3520
Daif
Ali bin Abi Talib said:“The most of what the Messenger of Allah (ﷺ) supplicated with during the afternoon at Arafat while standing was: ‘O Allah to You is the praise like the one You say, and better than what we say. O Allah, for You is all my Salat, my sacrifice, my living and my dying. And to You is my return, and to You, my Lord, belongs my inheritance. O Allah, indeed, I seek refuge in You from the punishment of the grave, the whispering of the chest, and the dividing of the affair. O Allah, indeed, I seek refuge in You from the evil of what the wind brings (Allāhumma lakal-ḥamdu, kalladhī taqūlu, wa khairan mimmā naqūl. Allāhumma laka ṣalātī wa nusukī, wa maḥyāya wa mamātī, ilaika ma’ābī, wa laka, rabbi, turāthī. Allāhumma innī a`ūdhu bika min `adhābil-qabri, wa waswasatiṣ-ṣadri, wa shatātil-amr. Allāhumma innī a`ūdhu bika min sharri mā tajī’u bihir-rīḥ).”
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وقوف عرفہ کے دوران عرفہ کی شام اکثر جو دعا مانگا کرتے تھے وہ یہ تھی: «اللهم لك الحمد كالذي نقول وخيرا مما نقول اللهم لك صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي وإليك مآبي ولك رب تراثي اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر ووسوسة الصدر وشتات الأمر اللهم إني أعوذ بك من شر ما تجيء به الريح» ”اے اللہ! تیرے لیے ہی ہیں سب تعریفیں جیسی کہ تو نے ہمیں بتائی ہیں اور اس سے بہتر جیسی کہ ہم تیری تعریف کر سکتے ہیں، اے اللہ! تیرے لیے ہی ہے میری صلاۃ، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت، اور تیری ہی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے، اے میرے رب! تیرے لیے ہی ہے میری میراث، اے اللہ میں عذاب قبر سے، سینے کے وسوسہ سے اور متفرق و پراگندہ کام سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر اس شر سے جسے ہوا لے کر آتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَكَانَ، مِنْ بَنِي أَسَدٍ عَنِ الأَغَرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ أَكْثَرُ مَا دَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فِي الْمَوْقِفِ " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كَالَّذِي تَقُولُ وَخَيْرًا مِمَّا نَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِي وَإِلَيْكَ مَآبِي وَلَكَ رَبِّ تُرَاثِي اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَوَسْوَسَةِ الصَّدْرِ وَشَتَاتِ الأَمْرِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَجِيءُ بِهِ الرِّيحُ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ .
#3521
Daif
Abu Umamah narrated:“The Messenger of Allah (ﷺ) supplicated with many supplications of which we did not preserve a thing. We said: ‘O Messenger of Allah, you supplicated with many supplications of which we did not preserve a thing.’ He (ﷺ) said: ‘Should I not direct you to what will include all of that? That you say: O Allah, we ask You from the good of what Your Prophet Muhammad (ﷺ) asked You for, and we seek refuge in You from the evil of that which Your Prophet Muhammad (ﷺ) sought refuge in You from, and You are the one from Whom aid is sought, and it is for You to fulfill, and there is no might or power except by Allah (Allāhumma innā nas’aluka min khairi mā sa’alaka minhu nabiyyuka Muḥammad, ṣallallāhu `alaihi wa sallam, wa na`ūdhu bika min sharri masta`ādha minhu nabiyyuka Muḥammad, ṣallallāhu `alaihi wa sallam, wa antal-musta`ānu wa `alaikal-balāgh, wa lā ḥawla wa lā quwwata illā billāh).’”
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ساری دعائیں کیں، مگر مجھے ان میں سے کوئی دعا یاد نہ رہی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! دعائیں تو آپ نے بہت سی کیں مگر میں کوئی دعا یاد نہ رکھ سکا، آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتا دوں جو ان سب چیزوں ( دعاؤں ) کی جامع ہو، کہو: «اللهم إنا نسألك من خير ما سألك منه نبيك محمد صلى الله عليه وسلم ونعوذ بك من شر ما استعاذ منه نبيك محمد صلى الله عليه وسلم وأنت المستعان وعليك البلاغ ولا حول ولا قوة إلا بالله» ”اے اللہ! ہم تجھ سے وہ بھلائی ( خیر ) مانگتے ہیں جو تجھ سے تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگی ہے اور ہم تیری پناہ چاہتے ہیں اس شر ( برائی ) سے جس سے تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ مانگی ہے، تو ہی مددگار ہے، اور تیرے ہی اختیار میں ہے ( خیر و شر کا ) پہچانا، اور گناہ سے بچنے کی طاقت اور عبادت کرنے کی قوت اللہ کے سہارے کے بغیر ممکن نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ابْنُ أُخْتِ، سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِدُعَاءٍ كَثِيرٍ لَمْ نَحْفَظْ مِنْهُ شَيْئًا قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعَوْتَ بِدُعَاءٍ كَثِيرٍ لَمْ نَحْفَظْ مِنْهُ شَيْئًا . فَقَالَ " أَلاَ أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَجْمَعُ ذَلِكَ كُلَّهُ تَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ بِكَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْبَلاَغُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
#3522
Sahih
Shahr bin Hawshab said:“I said to Umm Salamah: ‘O Mother of the Believers! What was the supplication that the Messenger of Allah (ﷺ) said most frequently when he was with you?” She said: ‘The supplication he said most frequently was: “O Changer of the hearts, make my heart firm upon Your religion (Yā Muqallibal-qulūb, thabbit qalbī `alā dīnik).’” She said: ‘So I said: “O Messenger of Allah, why do you supplicate so frequently: ‘O Changer of the hearts, make my heart firm upon Your religion.’ He said: ‘O Umm Salamah! Verily, there is no human being except that his heart is between Two Fingers of the Fingers of Allah, so whomsoever He wills He makes steadfast, and whomever He wills He causes to deviate.’”
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ رضی الله عنہا سے پوچھا: ام المؤمنین! جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام آپ کے یہاں ہوتا تو آپ کی زیادہ تر دعا کیا ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: آپ زیادہ تر: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» ”اے دلوں کے پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر جما دے“، پڑھتے تھے، خود میں نے بھی آپ سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ اکثر یہ دعا: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» کیوں پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جس کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے اس کی دو انگلیوں کے درمیان نہ ہو، تو اللہ جسے چاہتا ہے ( دین حق پر ) قائم و ثابت قدم رکھتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس کا دل ٹیڑھا کر دیتا ہے پھر ( راوی حدیث ) معاذ نے آیت: «ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هديتنا» ”اے ہمارے پروردگار! ہمیں ہدایت دے دینے کے بعد ہمارے دلوں میں کجی ( گمراہی ) نہ پیدا کر“ ( آل عمران: ۸ ) ، پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، نواس بن سمعان، انس، جابر، عبداللہ بن عمرو اور نعیم بن عمار رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِي كَعْبٍ، صَاحِبِ الْحَرِيرِ حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، قَالَ قُلْتُ لأُمِّ سَلَمَةَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا كَانَ عِنْدَكِ قَالَتْ كَانَ أَكْثَرُ دُعَائِهِ " يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ " . قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لأَكْثَرِ دُعَائِكَ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ قَالَ " يَا أُمَّ سَلَمَةَ إِنَّهُ لَيْسَ آدَمِيٌّ إِلاَّ وَقَلْبُهُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ فَمَنْ شَاءَ أَقَامَ وَمَنْ شَاءَ أَزَاغَ " . فَتَلاَ مُعَاذٌ : ( ربَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا ) قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَالنَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ وَأَنَسٍ وَجَابِرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَنُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ . قَالَ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
#3523
Daif
Sulaiman bin Buraidah narrated that his father said:“Khalid bin Al-Walid al Makhzumi complained to the Prophet (ﷺ) saying: ‘O Messenger of Allah, I do not sleep at night due to insomnia.’ So Allah’s Prophet (ﷺ) said: ‘When you go to your bed, say: O Allah, Lord of the Seven Heavens and what they have shaded, Lord of the earths and what they carry, Lord of the Shayatin and those they have misguided, be for me a Protector against the evil of Your creation, all of them together, so that none of them should transgress against me, or oppress me, mighty is the one who seeks protection in You, and glorified is Your praise, and there is none worthy of worship other than You, and there is none worthy of worship except You. (Allāhumma rabbas-samāwātis-sab`i wa mā aẓallat, wa rabbal-arḍīna wa mā aqallat, wa rabbash-shayāṭīni wa mā aḍallat, kun lī jāran min sharri khalqika kullihim jamī`an an yafruṭa `alayya aḥadun minhum, aw an yabghiya `alayya, `azza jāruka wa jalla thanā’uka, wa lā ilāha ghairuka wa lā ilāha illā anta).”
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ خالد بن ولید مخزومی رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کرتے ہوئے کہا: اللہ کے رسول! میں رات بھر نیند نہ آنے کی وجہ سے سو نہیں پاتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے بسترے پر سونے کے لیے جاؤ تو پڑھو: «اللهم رب السموات السبع وما أظلت ورب الأرضين وما أقلت ورب الشياطين وما أضلت كن لي جارا من شر خلقك كلهم جميعا أن يفرط علي أحد منهم أو أن يبغي عز جارك وجل ثناؤك ولا إله غيرك لا إله إلا أنت» ”اے اللہ! ساتوں آسمانوں، اور جن پر وہ سایہ فگن ہیں ان سب کے رب! ساری زمینوں اور ان ساری چیزوں کے رب جن کا وہ بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں اور اے شیاطین اور جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہے ان سب کے رب! اپنی ساری مخلوق کے شر سے بچانے کے لیے میرا پڑوسی بن جا، تاکہ ان میں سے کوئی مجھ پر نہ ظلم و زیادتی کر سکے، اور نہ ہی بغاوت و سرکشی کا مرتکب ہو، تیرا پڑوسی باعزت ہو، اور تیری ثنا ( و تعریف ) بڑھ چڑھ کر ہو، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں معبود تو بس تو ہی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے، ۲- حکم بن ظہیر جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں، بعض محدثین ان کی بیان کردہ حدیث نہیں لیتے، ۳- یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دوسری سند سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ شَكَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْمَخْزُومِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَنَامُ اللَّيْلَ مِنَ الأَرَقِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَقُلِ اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ وَرَبَّ الأَرَضِينَ وَمَا أَقَلَّتْ وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ خَلْقِكَ كُلِّهِمْ جَمِيعًا أَنْ يَفْرُطَ عَلَىَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَوْ أَنْ يَبْغِيَ عَلَىَّ عَزَّ جَارُكَ وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ . وَالْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ قَدْ تَرَكَ حَدِيثَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَيُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ .
#3524
Hasan
Anas bin Malik said:“Whenever a matter would distress him, the Prophet (ﷺ) would say: ‘O Living, O Self-Sustaining Sustainer! In Your Mercy do I seek relief (Yā Ḥayyu yā Qayyūm, bi-raḥmatika astaghīth).’” And with this chain, that he said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Be constant with: “O Possessor of Majesty and Honor (Yā Dhal-Jalāli wal-Ikrām).’”
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ڈال دیتا تو آپ یہ دعا پڑھتے: «يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث» ”اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں“۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنِ الرُّحَيْلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، أَخِي زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنِ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا كَرَبَهُ أَمْرٌ قَالَ " يَا حَىُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ " . وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلِظُّوا بِيَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَنَسٍ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ .
#3525
Sahih
Anas narrated that the Prophet (ﷺ) said:“Be constant with: ‘O Possessor of Majesty and Honor (Yā Dhal-Jalāli wal-Ikrām).’”
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يا ذا الجلال والإكرام» کو لازم پکڑو ( یعنی: اپنی دعاؤں میں برابر پڑھتے رہا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، محفوظ نہیں ہے، ۲- یہ حدیث حماد بن سلمہ نے حمید سے، انہوں نے حسن بصری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( مرسلاً ) روایت کی ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ اور مومل سے اس میں غلطی ہوئی ہے، چنانچہ انہوں نے «عن حميد عن أنس» دیا، جبکہ اس میں ان کا کوئی متابع نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا الْمُؤَمِّلُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلِظُّوا بِيَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ . وَإِنَّمَا يُرْوَى هَذَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهَذَا أَصَحُّ وَمُؤَمِّلٌ غَلِطَ فِيهِ فَقَالَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ وَلاَ يُتَابَعُ فِيهِ .