#3476
Sahih
Fadalah bin `Ubaid narrated:“While the Messenger of Allah (ﷺ) was seated, a man entered and performed Salat, and he said: ‘O Allah, forgive me, and have mercy upon me.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘You have rushed, O praying person. When you perform Salat and then sit, then praise Allah with what He is deserving of, and send Salat upon me, then call upon Him.’” He said: “Then another man performed Salat after that, so he praised Allah and sent Salat upon the Prophet (ﷺ). The Prophet (ﷺ) said to him: ‘O praying person! Supplicate, and you shall be answered.’”
فضالہ بن عبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کے ساتھ ( مسجد میں ) تشریف فرما تھے، اس وقت ایک شخص مسجد میں آیا، اس نے نماز پڑھی، اور یہ دعا کی: اے اللہ! میری مغفرت کر دے اور مجھ پر رحم فرما، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نمازی! تو نے جلدی کی، جب تو نماز پڑھ کر بیٹھے تو اللہ کے شایان شان اس کی حمد بیان کر اور پھر مجھ پر صلاۃ ( درود ) بھیج، پھر اللہ سے دعا کر“، کہتے ہیں: اس کے بعد پھر ایک اور شخص نے نماز پڑھی، اس نے اللہ کی حمد بیان کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نمازی! دعا کر، تیری دعا قبول کی جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس حدیث کو حیوہ بن شریح نے ابوہانی خولانی سے روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْجَنْبِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاعِدًا إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى فَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهَ صلى الله عليه وسلم " عَجِلْتَ أَيُّهَا الْمُصَلِّي إِذَا صَلَّيْتَ فَقَعَدْتَ فَاحْمَدِ اللَّهَ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ وَصَلِّ عَلَىَّ ثُمَّ ادْعُهُ " . قَالَ ثُمَّ صَلَّى رَجُلٌ آخَرُ بَعْدَ ذَلِكَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَيُّهَا الْمُصَلِّي ادْعُ تُجَبْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ رَوَاهُ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِي هَانِئٍ الْخَوْلاَنِيِّ وَأَبُو هَانِئٍ اسْمُهُ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ وَأَبُو عَلِيٍّ الْجَنْبِيُّ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ .
#3477
Sahih
Amr bin Malik Al-Janbi narrated that he heard Fadalah bin `Ubaid saying:“The Prophet (ﷺ) heard a man supplicating in his Salat but he did not send Salat upon the Prophet (ﷺ), so the Prophet (ﷺ) said: ‘This one has rushed.’ Then he called him and said to him, or to someone other than him: ‘When one of you performs Salat, then let him begin by expressing gratitude to Allah and praising Him. Then, let him send Salat upon the Prophet (ﷺ), then let him supplicate after that, whatever he wishes.’”
فضالہ بن عبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز کے اندر ۱؎ دعا کرتے ہوئے سنا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ ( درود ) نہ بھیجا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے جلدی کی“، پھر آپ نے اسے بلایا، اور اس سے اور اس کے علاوہ دوسروں کو خطاب کر کے فرمایا، ”جب تم میں سے کوئی بھی نماز پڑھ چکے ۲؎ تو اسے چاہیئے کہ وہ پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ ( درود ) بھیجے، پھر اس کے بعد وہ جو چاہے دعا مانگے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلاَنِيُّ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، يَقُولُ سَمِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يَدْعُو فِي صَلاَتِهِ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَجِلَ هَذَا " . ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِتَحْمِيدِ اللَّهِ وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ ثُمَّ لِيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ لِيَدْعُ بَعْدُ بِمَا شَاءَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3478
Hasan
Asma bint Yazid narrated that the Prophet (ﷺ) said:“Allah's greatest name is in these two Ayah: ‘And your deity is One deity, there is none who has the right to be worshipped but He, Ar-Raḥmān, Ar-Raḥīm.’ And the Opening of Al-`Imrān: ‘Alif. Lām. Mīm. Allah, None has the right to be worshipped but He, the Ever living, the Sustainer.’”
اسماء بنت یزید سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے ( ایک آیت ) «وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم» ”تم سب کا معبود ایک ہی معبود برحق ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ رحمن، رحیم ہے“ ( البقرہ: ۱۶۳ ) ، اور ( دوسری آیت ) آل عمران کی شروع کی آیت «الم الله لا إله إلا هو الحي القيوم» ہے ” «الم»، اللہ تعالیٰ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جو «حی» زندہ اور «قیوم» سب کا نگہبان ہے“ ( آل عمران: ۱-۲ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ الْقَدَّاحِ، كَذَا قَالَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اسْمُ اللَّهِ الأَعْظَمُ فِي هَاتَيْنِ الآيَتَيْنِِ : ( وإلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ ) وَفَاتِحَةِ آلِ عِمْرَانَ (الم * اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ ) " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3479
Hasan
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Call upon Allah while being certain of being answered, and know that Allah does not respond to a supplication from the heart of one heedless and occupied by play.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ سے دعا مانگو اور اس یقین کے ساتھ مانگو کہ تمہاری دعا ضرور قبول ہو گی، اور ( اچھی طرح ) جان لو کہ اللہ تعالیٰ بےپرواہی اور بے توجہی سے مانگی ہوئی غفلت اور لہو و لعب میں مبتلا دل کی دعا قبول نہیں کرتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- میں نے عباس عنبری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ عبداللہ بن معاویہ جمحی کی بیان کردہ روایتیں لکھ لو کیونکہ وہ ثقہ راوی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، - وَهُوَ رَجُلٌ صَالِحٌ حَدَّثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ادْعُوا اللَّهَ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالإِجَابَةِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ لاَ يَسْتَجِيبُ دُعَاءً مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لاَهٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . سَمِعْتُ عَبَّاسًا الْعَنْبَرِيَّ يَقُولُ اكْتُبُوا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيِّ فَإِنَّهُ ثِقَةٌ .
#3480
Daif Isnaad
Aishah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say:“O Allah, grant me health in my body, and grant me health in my sight, and make it the inheritor from me, there is none has the right to be worshipped but Allah, the Forbearing, the Generous, Glory is to Allah, the Lord of the Magnificent Throne, and all praise is due to Allah, the Lord of all that exists (Allāhumma `āfinī fī jasadi, wa `āfinī fī baṣarī, waj`alhul-wāritha minnī, lā ilāha illāllah, al-ḥalīmul-karīm, subḥān Allāhi rabbil-`arshil-aẓīm, wal-ḥamdulillāhi rabbil-`alamīn).”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللهم عافني في جسدي وعافني في بصري واجعله الوارث مني لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم والحمد لله رب العالمين» ”اے اللہ! تو مجھے میرے جسم میں عافیت عطا کر ( یعنی مجھے صحت دے ) اور مجھے عافیت دے میری نگاہوں میں ( یعنی میری بینائی صحیح سالم رکھ ) اور اسے ( یعنی میری نگاہ کو ) آخری وقت تک ( یعنی بصارت کو باقی و قائم رکھ چاہے اور کسی چیز میں اضم حلال اور زوال آ جائے تو آ جائے ) کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ کے جو حلیم اور کریم ہے، پاک ہے اللہ عرش عظیم والا اور تمام تعریفیں اس اللہ کے ہیں جو سارے جہان کا رب ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ حبیب بن ابی ثابت نے عروہ بن زبیر سے کچھ بھی نہیں سنا ہے، اللہ بہتر جانتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي جَسَدِي وَعَافِنِي فِي بَصَرِي وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنِّي لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ شَيْئًا وَحَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ هُوَ حَبِيبُ بْنُ قَيْسِ بْنِ دِينَارٍ وَقَدْ أَدْرَكَ عُمَرَ وَابْنَ عَبَّاسٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
#3481
Sahih
Abu Hurairah narrated that:Fatimah came to the Prophet (ﷺ), asking him for a servant. So he (ﷺ) said to her: “Say: ‘O Allah, Lord of the Seven Heavens and the Lord of the Magnificent Throne, our Lord, and the Lord of everything, Revealer of the Tawrah, the Injil, and the Quran, Splitter of the seed-grain and the date-stone, I seek refuge in You from the evil of everything that You are holding by the forelock, You are the First, for there is nothing above You, and You are the Last, for there is nothing after you. And you are az-Zahir, for there is nothing above you. And you are Al-Batin, for there is nothing below You. Relieve me from debt, and enrich me from poverty (Allāhumma rabbas samāwātis-sab`i wa rabbal-`arshil-`aẓīm, rabbana, wa rabba kulli shai’in, munzilat-Tawrāti wal-Injīli wal-Qur’ān, fāliqal-habbi wan-nawā, a`ūdhu bika min sharri kulli shai’in anta ākhidhun bināṣiyatihi, antal-awwalu falaisa qablaka shai’un, wa antal-ākhiru falaisa ba`daka shai’un, wa antaẓ-ẓāhiru falaisa fawqaka shai’un, wa antal-bāṭinu falaisa dūnaka shai’un, iqḍi `anni-daina wa aghnini minal-faqr).”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ ( بنت رسول ) رضی الله عنہا آپ کے پاس ایک خادم مانگنے آئیں، آپ نے ان سے کہا: تم یہ دعا پڑھتی رہو: «اللهم رب السموات السبع ورب العرش العظيم ربنا ورب كل شيء منزل التوراة والإنجيل والقرآن فالق الحب والنوى أعوذ بك من شر كل شيء أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» ”اے اللہ! تو ساتوں آسمانوں کا رب، عرش عظیم کا رب، اے ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب، توراۃ، انجیل اور قرآن کے نازل کرنے والے، زمین پھاڑ کر دانے اگانے اور اکھوے نکالنے والے، میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر چیز کے شر سے، جس کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، تو پہلا ہے ( شروع سے ہے ) تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ہے، تو سب سے آخر ہے تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو سب سے ظاہر ( یعنی اوپر ہے ) ، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے، تو پوشیدہ ہے سب کی نظروں سے، لیکن تم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے، اے اللہ! تو میرے اوپر سے قرض اتار دے، اور مجھے محتاجی سے نکال کر مالدار کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، اور اعمش کے بعض شاگردوں نے اعمش سے ایسے ہی روایت کی ہے، ۲- ایسے ہی بعض راویوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوصالح سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے، اور انہوں نے اپنی روایت میں ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَسْأَلُهُ خَادِمًا فَقَالَ لَهَا " قُولِي اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ أَنْتَ الأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَهَكَذَا رَوَى بَعْضُ أَصْحَابِ الأَعْمَشِ عَنِ الأَعْمَشِ نَحْوَ هَذَا . وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ مُرْسَلٌ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
#3482
Sahih
Abdullah bin `Amr narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) used to say: “O Allah, I seek refuge in You from a heart that does not humble itself, and from a supplication that is not heard, and from a soul that is never satisfied, and from knowledge that does not benefit, I seek refuge in You from these four (Allāhumma innī a`ūdhu bika min qalbin lā yakhsha`u, wa min du`ā’in lā yusma`u, wa min nafsin lā tashba`u, wa min `ilmin lā yanfa`u, a`ūdhu bika min hā’ula’il-arba`).”
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من قلب لا يخشع ومن دعا لا يسمع ومن نفس لا تشبع ومن علم لا ينفع أعوذ بك من هؤلاء الأربع» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے دل سے جو ڈرتا نہ ہو ( یعنی جس میں خوف الٰہی نہ ہو ) ، اور ایسی دعا سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سنی نہ جائے، اور اس نفس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سیر نہ ہو، اور ایسے علم سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں جو فائدہ نہ پہنچائے، اے اللہ! میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے ( یعنی ) عبداللہ بن عمرو کی روایت حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں جابر، ابوہریرہ اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ الأَقْمَرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ قَلْبٍ لاَ يَخْشَعُ وَدُعَاءٍ لاَ يُسْمَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لاَ تَشْبَعُ وَمِنْ عِلْمٍ لاَ يَنْفَعُ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلاَءِ الأَرْبَعِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ . قَالَ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو .
#3483
Daif
Imran bin Husain narrated:“The Prophet (ﷺ) said to my father: ‘O Husain, how many deities do you worship now?‘ He said: ‘Seven. Six in the earth, and one above the heavens.’ He said: ‘So which of them do you take for your ardent requests and fears?’ He said: ‘The one above the heavens.’ He said: ‘O Husain, if you would but accept Islam, I would teach you two phrases that would benefit you.’” He said: “So when Husain accepted Islam, he said: ‘O Messenger of Allah, teach me the two phrases you promised me.’ So he (ﷺ) said: “Say: O Allah, inspire me with my guidance, and protect me from the evil of my soul (Allāhumma alhimnī rushdī, wa a`idhnī min sharri nafsī).’”
عمران بن حصین کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے باپ سے پوچھا: ”اے حصین! آج کل تم کتنے معبودوں کو پوجتے ہو؟“ میرے باپ نے جواب دیا سات کو چھ زمین میں ( رہتے ہیں ) اور ایک آسمان میں، آپ نے پوچھا: ”ان میں سے کس کی سب سے زیادہ رغبت دلچسپی، امید اور خوف و ڈر کے ساتھ عبادت کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اس کی جو آسمان میں ہے، آپ نے فرمایا: ”اے حصین! سنو، اگر تم اسلام لے آتے تو میں تمہیں دو کلمے سکھا دیتا وہ دونوں تمہیں برابر نفع پہنچاتے رہتے“، پھر جب حصین اسلام لے آئے تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وہ دونوں کلمے سکھا دیجئیے جنہیں سکھانے کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا، آپ نے فرمایا: ”کہو «اللهم ألهمني رشدي وأعذني من شر نفسي» ”اے اللہ! تو مجھے میری بھلائی کی باتیں سکھا دے، اور میرے نفس کے شر سے مجھے بچا لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث عمران بن حصین سے اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لأَبِي " يَا حُصَيْنُ كَمْ تَعْبُدُ الْيَوْمَ إِلَهًا " . قَالَ أَبِي سَبْعَةً سِتًّا فِي الأَرْضِ وَوَاحِدًا فِي السَّمَاءِ . قَالَ " فَأَيُّهُمْ تَعُدُّ لِرَغْبَتِكَ وَرَهْبَتِكَ " . قَالَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ . قَالَ " يَا حُصَيْنُ أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَسْلَمْتَ عَلَّمْتُكَ كَلِمَتَيْنِ تَنْفَعَانِكَ " . قَالَ فَلَمَّا أَسْلَمَ حُصَيْنٌ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي الْكَلِمَتَيْنِ اللَّتَيْنِ وَعَدْتَنِي . فَقَالَ " قُلِ اللَّهُمَّ أَلْهِمْنِي رُشْدِي وَأَعِذْنِي مِنْ شَرِّ نَفْسِي " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ .
#3484
Sahih
Anas bin Mallik [may Allah be pleased with him] narrates, saying:“I used to often hear the Prophet (ﷺ) supplicating with these words: ‘O Allah, I seek refuge in You from sadness, grief, helplessness, laziness, being stingy, overwhelming debt, and the overpowering of men (Allāhumma innī a`ūdhu bika minal-hammi wal-ḥazani wal-`ajzi wal-kasali wal-bukhli wa ḍala`id-dain wa ghalabatir-rijāl).’”
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر و بیشتر ان الفاظ سے دعا مانگتے سنتا تھا: «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن والعجز والكسل والبخل وضلع الدين وغلبة الرجال» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں فکرو غم سے، عاجزی سے اور کاہلی سے اور بخیلی سے اور قرض کے غلبہ سے اور لوگوں کے قہر و ظلم و زیادتی سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے یعنی عمرو بن ابی عمرو کی روایت سے حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رضى الله عنه قَالَ كَثِيرًا مَا كُنْتُ أَسْمَعُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَدْعُو بِهَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو .
#3485
Sahih
Anas narrated that :The Prophet (ﷺ) used to supplicate, saying: “O Allah, indeed, I seek refuge in You from laziness, weakness of old age, cowardice, stinginess, the trial of Al-Masih, and the punishment of the grave (Allāhumma innī a`ūdhu bika minal-kasali wal-harami wal-jubni wal-bukhli wa fitnatil-masīḥi wa `adhabil-qabr).”
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والجبن والبخل وفتنة المسيح وعذاب القبر» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں سستی و کاہلی سے، اور انتہائی بڑھاپے سے ( جس میں آدمی ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے ) بزدلی و بخالت سے اور مسیح ( دجال ) کے فتنہ سے اور عذاب قبر سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْعُو يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3486
Sahih
Abdullah bin Amr narrated:“I saw the Prophet counting the Tasbih on his hand.”
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح کا شمار اپنے ہاتھ کی انگلیوں پر کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، یعنی اعمش کی روایت سے جسے وہ عطاء بن سائب سے روایت کرتے ہیں، ۲- شعبہ اور ثوری نے یہ پوری حدیث عطاء بن سائب سے روایت کی ہے، ۲- اس باب میں یسیرہ بنت یاسر رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! تم تسبیحات کا شمار انگلیوں کے پوروں سے کر لیا کرو، کیونکہ ان سے پوچھا جائے گا اور انہیں گویائی عطا کی جائے گی“۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، - بَصْرِيٌّ - حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَعْقِدُ التَّسْبِيحَ . وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ الأَعْمَشِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ . وَرَوَى شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ بِطُولِهِ . وَفِي الْبَابِ عَنْ يُسَيْرَةَ بِنْتِ يَاسِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ اعْقِدْنَ بِالأَنَامِلِ فَإِنَّهُنَّ مَسْئُولاَتٌ مُسْتَنْطَقَاتٌ " .
#3487
Sahih
Anas bin Malik narrated that:The Prophet (ﷺ) visited a man who was so emaciated that he had become like a baby bird. He (ﷺ) said to him: “And did you not used to supplicate? Did you not used to ask Your Lord for sound health?” He said: “I used to say: “O Allah, whatever You are going to punish me with in the Hereafter, then hasten it for me in this world.” So the Prophet (ﷺ) said: “Glory is to Allah, you are not capable of that” – or – “you are not able to stand that. Would you not say: ‘O Allah, give us good in this world, and good in the Hereafter, and spare us the punishment of the Fire (Allāhumma ātinā fid-dunyā ḥasanatan wa fil ākhirati ḥasanatan wa qinā `adhāban-nār).’”
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کی جو بیماری سے سخت لاغر اور سوکھ کر چڑیا کے بچے کی طرح ہو گئے تھے عیادت کی، آپ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم اپنے رب سے اپنی صحت و عافیت کی دعا نہیں کرتے تھے؟“ انہوں نے کہا: میں دعا کرتا تھا کہ اے اللہ! جو سزا تو مجھے آخرت میں دینے والا تھا وہ سزا مجھے تو دنیا ہی میں پہلے ہی دیدے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! پاک ہے اللہ کی ذات، تو اس سزا کو کاٹنے اور جھیلنے کی طاقت و استطاعت نہیں رکھتا، تم یہ کیوں نہیں کہا کرتے تھے: «اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» ”اے اللہ! تو ہمیں دنیا میں بھی نیکی، اچھائی و بھلائی دے اور آخرت میں بھی حسنہ، نیکی بھلائی و اچھائی دے، اور بچا لے تو ہمیں جہنم کے عذاب سے“ ( البقرہ: ۲۰۱ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث انس بن مالک کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دیگر کئی اور سندوں سے بھی آئی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَادَ رَجُلاً قَدْ جُهِدَ حَتَّى صَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ فَقَالَ لَهُ " أَمَا كُنْتَ تَدْعُو أَمَا كُنْتَ تَسْأَلُ رَبَّكَ الْعَافِيَةَ " . قَالَ كُنْتُ أَقُولُ اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الآخِرَةِ فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّكَ لاَ تُطِيقُهُ - أَوْ لاَ تَسْتَطِيعُهُ أَفَلاَ كُنْتَ تَقُولُ اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#3488
Daif
Hisham bin Hassan narrated from Al-Hasan :concerning the saying of Allah: O our Lord, give us good in this world, and good in the Hereafter. He said: “Knowledge and worship in this world, and Paradise in the Hereafter.”
اللہ تعالیٰ کی اس آیت: «ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة» کے بارے میں حسن سے مروی ہے، دنیا میں «حسنہ» سے مراد علم اور عبادت ہے، اور آخرت میں «حسنہ» سے مراد جنت ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِهِ : ( ربَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً ) قَالَ فِي الدُّنْيَا الْعِلْمَ وَالْعِبَادَةَ وَفِي الآخِرَةِ الْجَنَّةَ .
#3489
Sahih
Abdullah narrated that :the Prophet (ﷺ) used to supplicate: “O Allah, indeed, I ask You for guidance, piety, chastity, and sufficiency (Allāhumma innī as’alukal-hudā wat-tuqā, wal-`afāfa wal-ghinā).”
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «اللهم إني أسألك الهدى والتقى والعفاف والغنى» ”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت کا طالب ہوں، تقویٰ کا طلب گار ہوں، پاکدامنی کا خواہشمند ہوں، مالداری اور بے نیازی چاہتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الأَحْوَصِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْعُو " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3490
Daif
Abu Ad-Darda’ narrated that :the Messenger of Allah (ﷺ) said: “It used to be from the supplication of Dawud that he would say: ‘O Allah, indeed, I ask You for Your love and the love of those who love You, and for the action that will cause me to attain Your love, O Allah, make Your love more beloved to me than myself, my family and cold water (Allāhumma innī as’aluka ḥubbaka wa ḥubba man yuḥibbuka wal-`amalalladhī yuballighunī ḥubbak. Allāhummaj`al ḥubbaka aḥabba ilaiyya min nafsī, wa ahlī wa minal-mā’il-bārid) He said: “And when the Prophet (ﷺ) would mention Dawud, he would narrate about him, saying: “He was the best in worship out of all men.”
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”داود علیہ السلام کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ تھی: «اللهم إني أسألك حبك وحب من يحبك والعمل الذي يبلغني حبك اللهم اجعل حبك أحب إلي من نفسي وأهلي ومن الماء البارد» ”اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں، اور میں اس شخص کی بھی تجھ سے محبت مانگتا ہوں جو تجھ سے محبت کرتا ہے، اور ایسا عمل چاہتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے، اے اللہ! تو اپنی محبت کو مجھے میری جان اور میرے گھر والوں سے زیادہ محبوب بنا دے، اے اللہ! اپنی محبت کو ٹھنڈے پانی کی محبت سے بھی زیادہ کر دے“، ( راوی ) کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب داود علیہ السلام کا ذکر کرتے تو ان کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے: وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ الدِّمَشْقِيِّ، حَدَّثَنَا عَائِذُ اللَّهِ أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيُّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَانَ مِنْ دُعَاءِ دَاوُدَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَىَّ مِنْ نَفْسِي وَأَهْلِي وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ " . قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا ذَكَرَ دَاوُدَ يُحَدِّثُ عَنْهُ قَالَ " كَانَ أَعْبَدَ الْبَشَرِ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
#3491
Daif
Abdullah bin Yazid Al-Khatmi Al-Ansari narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say in his supplication:“O Allah grant me Your love and the love of those whose love will benefit me with You. O Allah, whatever you have provided me of that which I love, then make it strength for me for that which You love. O Allah, and what you have kept from me of that which I love, then make it for me a period of rest in that which You love. (Allāhummarzuqnī ḥubbuka, wa ḥubba man yanfa`unī ḥubbuhū `indak. Allāhumma mā razaqtanī mimmā uḥibbu faj`alhu quwwatan lī fīmā tuḥibb. Allāhumma wa mā zawaita `annī mimmā uḥibbu faj`alhu farāghan lī fīmā tuḥibb). “
عبداللہ بن یزید اخطمی انصاری سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں کہتے تھے: «اللهم ارزقني حبك وحب من ينفعني حبه عندك اللهم ما رزقتني مما أحب فاجعله قوة لي فيما تحب اللهم وما زويت عني مما أحب فاجعله فراغا لي فيما تحب» ”اے اللہ! تو مجھے اپنی محبت عطا کر، اور مجھے اس شخص کی بھی محبت عطا کر جس کی محبت مجھے تیرے دربار میں فائدہ دے، اے اللہ! جو بھی تو مجھے میری پسندیدہ و پاکیزہ رزق عطا کرے اس رزق کو اپنی پسندیدہ چیزوں میں استعمال کے لیے قوت و طاقت کا ذریعہ بنا دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ " اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يَنْفَعُنِي حُبُّهُ عِنْدَكَ اللَّهُمَّ مَا رَزَقْتَنِي مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ قُوَّةً لِي فِيمَا تُحِبُّ اللَّهُمَّ وَمَا زَوَيْتَ عَنِّي مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ لِي فَرَاغًا فِيمَا تُحِبُّ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَأَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ اسْمُهُ عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُمَاشَةَ .
#3492
Sahih
Shakal bin Humaid said:"I came to the Prophet and said: 'O Messenger of Allah, teach me a way of seeking refuge so that I may seek refuge by it." He said: "So he took my hand and said: 'Say: O Allah, indeed I seek refuge in You from the evil of my hearing and the evil of my sight, and the evil of my tongue and the evil of my heart, and the evil of my semen (Allāhumma innī a`ūdhu bika min sharri sam`ī wa min sharri baṣarī, wa min sharri lisānī, wa min sharri qalbī, wa min sharri maniyyī)
شکل بن حمید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا تعویذ ( پناہ لینے کی دعا ) سکھا دیجئیے جسے پڑھ کر میں اللہ کی پناہ حاصل کر لیا کروں، تو آپ نے میرا کندھا پکڑا اور کہا: کہو ( پڑھو ) : «اللهم إني أعوذ بك من شر سمعي ومن شر بصري ومن شر لساني ومن شر قلبي ومن شر منيي يعني فرجه» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے کان کے شر سے، اپنی آنکھ کے شر سے، اپنی زبان کے شر سے، اپنے دل کے شر سے، اور اپنی شرمگاہ کے شر سے“ ( منی سے مراد شرمگاہ ہے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور ہم اس حدیث کو صرف اسی سند یعنی «سعد بن أوس عن بلال بن يحيى» کے طریق سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ، عَنْ بِلاَلِ بْنِ يَحْيَى الْعَبْسِيِّ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ أَبِيهِ، شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي تَعَوُّذًا أَتَعَوَّذُ بِهِ . قَالَ فَأَخَذَ بِكَتِفِي فَقَالَ " قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي " . يَعْنِي فَرْجَهُ . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ بِلاَلِ بْنِ يَحْيَى .
#3493
Sahih
Aishah narrated:“I was sleeping at the side of the Messenger of Allah (ﷺ), then I lost him during the night. So I felt around for him, and my hand fell upon his feet while he was prostrating, and he was saying: ‘I seek refuge in Your pleasure from Your anger, and in Your pardon from Your punishment. I cannot count Your praises. You are as You have praised Yourself (A`ūdhu biriḍāka min sakhaṭika wa bi mu`āfātika min `uqūbatika, lā uḥṣi thanā’an `alaika anta kamā athnaita `alā nafsik).’”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں سوئی ہوئی تھی، رات میں نے آپ کو اپنی جگہ نہ پا کر آپ کو ادھر ادھر تلاش کیا، ٹٹولا، میرا ہاتھ آپ کے قدموں پر پڑا، اس وقت آپ سجدے میں تھے، اور یہ دعا پڑھ رہے تھے: «أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» ”اے اللہ! میں تیری رضا و خوشنودی کے ذریعہ تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں، اور تیرے عفو درگزر کے سہارے تیری سزا و عذاب سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری ثناء، تیری تعریف کی گنتی اور اس کا احصاء و احاطہٰ نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود آپ اپنی ذات کی تعریف کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے اور یہ حدیث کئی سندوں سے عائشہ رضی الله عنہا سے آئی ہے۔
حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ نَائِمَةً إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَفَقَدْتُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَسْتُهُ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى قَدَمَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ وَهُوَ يَقُولُ " أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ لاَ أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَائِشَةَ . حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ . وَزَادَ فِيهِ " وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لاَ أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ " .
#3494
Sahih
Abdullah bin `Abbas narrated:that the Messenger of Allah (ﷺ) used [to teach them this supplication as he used] to teach them a Surat of the Quran: “O Allah, indeed, I seek refuge in you from the punishment of Hell, and from the punishment of the grave, and I seek refuge in You from the trial of the false Masih, and I seek refuge in You from the trial of living and dying. (Allāhumma innī a`ūdhu bika min `adhābi jahannam, wa min `adhābil-qabr, wa a`ūdhu bika min fitnatil-masīḥid-dajjāl, wa a`ūdhu bika min fitnatil-maḥyā wal-mamāt)”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ( صحابہ کو ) یہ دعا سکھایا کرتے تھے جیسا کہ انہیں قرآن کی سورت سکھایا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم ومن عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں مسیح دجال کے فتنہ سے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں حیات و موت کے فتنے ( کشمکش ) سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ [غَرِيبٌ] .
#3495
Sahih
Aishah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) used to supplicate with these words:“O Allah, indeed, I seek refuge in You from the trial of the Fire, and the punishment of the Fire, and the punishment of the grave, and the trial of the grave, and from the evil of the trial of the grave, and from the evil of the trials of riches, and from the evils of the trials of poverty, and from the evil of the trial of the false Masih. O Allah, wash my sins with water of ice and hail, and cleanse my heart of sins, as You cleansed a white garment of filth, and distance me and my sins as You distanced between the east and the west. O Allah, indeed, I seek refuge in You from laziness, senility, sin and debt. (Allāhumma innī a`ūdhu bika min fitnatin-nār, wa `adhābin-nār, wa `adhābil-qabr, wa fitnatil-qabr, wa min sharri fitnatil-ghinā, wa min sharri fitnatil-faqr, wa min sharri fitnatil- masīḥid-dajjāl. Allāhummaghsil khaṭāyāya bi-mā’ith-thalji wal-bardi, wa anqi qalbī minal-khaṭāyā kamā anqaitath-thawbal-abyaḍa minad-danas, wa bā`id bainī wa baina khaṭāyāya kama bā`adta bainal-mashriqi wal maghrib, Allāhumma innī a`ūdhu bika min al-kasali wal-harami wal-ma’thami wal-maghram).”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من فتنة النار وعذاب النار وفتنة القبر وعذاب القبر ومن شر فتنة الغنى ومن شر فتنة الفقر ومن شر فتنة المسيح الدجال اللهم اغسل خطاياي بماء الثلج والبرد وأنق قلبي من الخطايا كما أنقيت الثوب الأبيض من الدنس وباعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والمأثم والمغرم» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے فتنے سے، ( جہنم میں لے جانے والے اعمال سے ) جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے، اور قبر کے فتنہ سے، ( منکر نکیر کے سوال سے جس کا جواب نہ پڑے ) مالداری کے فتنے کے شر سے ( تکبر اور کسب حرام سے ) اور محتاجی کے فتنے کے شر سے، ( حسد اور طمع سے ) اور مسیح دجال کے شر سے، اے اللہ! ہمارے گناہوں کو دھل دے برف اور اولوں کے پانی سے، اور میرے دل کو گناہوں سے صاف کر دے جس طرح کہ تو سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کرتا ہے، اور میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری پیدا کر دے جتنی دوری تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان پیدا کر دی ہے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کاہلی سے، بڑھاپے سے، گناہ سے اور تاوان و قرض کے بوجھ سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْعُو بِهَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَاىَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَأَنْقِ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا أَنْقَيْتَ الثَّوْبَ الأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَاىَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3496
Sahih
Aishah said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying at his death: ‘O Allah, forgive me and have mercy on me, and join me with the Highest Company (Allāhummaghfirlī warḥamnī wa alḥiqnī bir-rafīqil a`lā).’”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وفات کے وقت ( یہ دعا ) پڑھتے ہوئے سنا ہے: «اللهم اغفر لي وارحمني وألحقني بالرفيق الأعلى» ”اے اللہ! بخش دے مجھ کو اور رحم فرما مجھ پر اور مجھ کو رفیق اعلیٰ ( انبیاء و ملائکہ ) سے ملا دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ عِنْدَ وَفَاتِهِ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الأَعْلَى " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3497
Sahih
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said:“None of you should say: ‘O Allah forgive me if You wish. O Allah have mercy on me if You wish.’ Let him be firm in asking, for there is none that can compel Him to do things.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( کوئی شخص دعا مانگے تو ) اس طرح نہ کہے: ”اے اللہ! تو چاہے تو ہمیں بخش دے، اے اللہ! تو چاہے تو ہم پر رحم فرما“ ۱؎ بلکہ زور دار طریقے سے مانگے، اس لیے کہ اللہ کو کوئی مجبور کرنے والا تو ہے نہیں ( کہ کہا جائے: اگر تو چاہے ) ، امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَقُولُ أَحَدُكُمُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ فَإِنَّهُ لاَ مُكْرِهَ لَهُ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3498
Sahih
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said:“Our Lord descends every night to the nearest heaven, until the last third of the night remains, so He says: ‘Who is calling upon Me so that I may answer him? Who is asking from Me so that I may give him? And who is seeking forgiveness from Me, so that I may forgive him.’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا رب ہر رات آسمان دنیا پر آخری تہائی رات میں اترتا ہے اور کہتا ہے: ”کون ہے جو مجھے پکارے کہ میں اس کی دعا قبول کر لوں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے کہ میں اسے عطا کر دوں؟ اور کون ہے جو مجھ سے مغفرت مانگے کہ میں اسے بخش دوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۲- اور ابوعبداللہ الاغر کا نام سلمان ہے، ۳- اس باب میں علی، عبداللہ بن مسعود، ابوسعید، جبیر بن مطعم، رفاعہ جہنی، ابودرداء اور عثمان بن ابوالعاص رضی الله عنہم سے بھی روایتیں ہیں۔
حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَنْزِلُ رَبُّنَا كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ فَيَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ وَمَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ وَمَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرُّ اسْمُهُ سَلْمَانُ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ وَرِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِي .
#3499
Hasan
Abu Umamah narrated:“It was said: ‘O Messenger of Allah, which supplication is most likely to be listened to?’ He said: ‘(During) the last part of the night, and at the end of the obligatory prayers.’”
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”آدھی رات کے آخر کی دعا ( یعنی تہائی رات میں مانگی ہوئی دعا ) اور فرض نمازوں کے اخیر میں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوذر اور ابن عمر رضی الله عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”رات کے آخری حصہ میں دعا سب سے بہتر ہے، یا اس کے قبول ہونے کی امیدیں زیادہ ہیں یا اسی جیسی کوئی اور بات آپ نے فرمائی“۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الثَّقَفِيُّ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الدُّعَاءِ أَسْمَعُ قَالَ " جَوْفُ اللَّيْلِ الآخِرُ وَدُبُرَ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " جَوْفُ اللَّيْلِ الآخِرُ الدُّعَاءُ فِيهِ أَفْضَلُ أَوْ أَرْجَى " . أَوْ نَحْوَ هَذَا .
#3500
Daif
Abu Hurairah narrated that a man said:“O Messenger of Allah, I heard your supplication last night, and the part of it that reached me of it, was that you said: ‘O Allah, forgive me my sin, and expand for me my abode, and bless for me that which You have provided me’ (Allāhummaghfirlī dhanbī, wa wassi` lī fī dārī, wa bārik lī fīmā razaqtanī). He said: ‘Do you see that they leave off anything?’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے آج رات آپ کی دعا سنی، میں نے آپ کی جو دعا سنی وہ یہ تھی: «اللهم اغفر لي ذنبي ووسع لي في داري وبارك لي فيما رزقتني» ”اے اللہ! میرے گناہ بخش دے اور میرے گھر میں کشادگی دے، اور میرے رزق میں برکت دے“، آپ نے فرمایا: ”کیا ان دعائیہ کلمات نے کچھ چھوڑا؟ ( یعنی ان میں دین دنیا کی سبھی بھلائیاں آ گئی ہیں ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عُمَرَ الْهِلاَلِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِعْتُ دُعَاءَكَ اللَّيْلَةَ فَكَانَ الَّذِي وَصَلَ إِلَىَّ مِنْهُ أَنَّكَ تَقُولُ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَوَسِّعْ لِي فِي رِزْقِي وَبَارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي " . قَالَ " فَهَلْ تَرَاهُنَّ تَرَكْنَ شَيْئًا " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . وَأَبُو السَّلِيلِ اسْمُهُ ضُرَيْبُ بْنُ نُفَيْرٍ وَيُقَالُ ابْنُ نُقَيْرٍ .