#326
Sahih
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that :Allah's Messenger said: "A mount is not saddled (for a journey) except to three Masajid: Al-Masjid Al-Haram, this Masjid of mine, and Masjid Al-Aqsa." [Abu `Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین مساجد کے سوا کسی اور جگہ کے لیے سفر نہ کیا جائے، ۱- مسجد الحرام کے لیے، ۲- میری اس مسجد ( مسجد نبوی ) کے لیے، ۳- مسجد الاقصیٰ کے لیے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلاَّ إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي هَذَا وَمَسْجِدِ الأَقْصَى " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#327
Sahih
Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "When the Iqamah is called for Salat do not come to it rushing, rather come to it walking, and while you have tranquility. What you catch of it then pray it, and what you missed of it, then complete it
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کی تکبیر ( اقامت ) کہہ دی جائے تو ( نماز میں سے ) اس کی طرف دوڑ کر مت آؤ، بلکہ چلتے ہوئے اس حال میں آؤ کہ تم پر سکینت طاری ہو، تو جو پاؤ اسے پڑھو اور جو چھوٹ جائے، اسے پوری کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوقتادہ، ابی بن کعب، ابوسعید، زید بن ثابت، جابر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- اہل علم کا مسجد کی طرف چل کر جانے میں اختلاف ہے: ان میں سے بعض کی رائے ہے کہ جب تکبیر تحریمہ کے فوت ہونے کا ڈر ہو، وہ دوڑے یہاں تک کہ بعض لوگوں کے بارے میں مذکور ہے کہ وہ نماز کے لیے قدرے دوڑ کر جاتے تھے اور بعض لوگوں نے دوڑ کر جانے کو مکروہ قرار دیا ہے اور آہستگی و وقار سے جانے کو پسند کیا ہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں، ان دونوں کا کہنا ہے کہ عمل ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث پر ہے۔ اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر تکبیر تحریمہ کے چھوٹ جانے کا ڈر ہو تو دوڑ کر جانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ وَلَكِنِ ائْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ وَأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَجَابِرٍ وَأَنَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْمَشْىِ إِلَى الْمَسْجِدِ فَمِنْهُمْ مَنْ رَأَى الإِسْرَاعَ إِذَا خَافَ فَوْتَ التَّكْبِيرَةِ الأُولَى حَتَّى ذُكِرَ عَنْ بَعْضِهِمْ أَنَّهُ كَانَ يُهَرْوِلُ إِلَى الصَّلاَةِ . وَمِنْهُمْ مَنْ كَرِهَ الإِسْرَاعَ وَاخْتَارَ أَنْ يَمْشِيَ عَلَى تُؤَدَةٍ وَوَقَارٍ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ وَقَالاَ الْعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَقَالَ إِسْحَاقُ إِنْ خَافَ فَوْتَ التَّكْبِيرَةِ الأُولَى فَلاَ بَأْسَ أَنْ يُسْرِعَ فِي الْمَشْىِ .
#328
Sahih
(Another chain with a similar narration) from Abu Hurairah :[from the Prophet]. And this is more correct than the Hadith of Yazid bin Zurai. (no)
اس سند سے بھی ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کے ساتھ مروی ہے جیسے ابوسلمہ کی حدیث ہے جسے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے۔ اسی طرح کہا ہے عبدالرزاق نے وہ روایت کرتے ہیں کہ سعید بن المسیب سے اور سعید بن مسیب نے بواسطہ ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور یہ یزید بن زریع کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِمَعْنَاهُ . هَكَذَا قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ .
#329
Sahih
(Another chain with a similar narration) from Abu Hurairah, :from the Prophet
اس سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
#330
Sahih
Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "One of you does not cease to be in Salat as long as he is waiting for it. And the angels do not cease praying for one of you as long as he remains in the Masjid (saying): 'Allah! Forgive him. O Allah! Have mercy upon him' - as long as he does not commit Hadath." A man from Hadramawt said: "And just what is Hadath Abu Hurairah?" He said: "Breaking wind, or passing gas
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی برابر نماز ہی میں رہتا ہے جب تک وہ اس کا انتظار کرتا ہے اور فرشتے اس کے لیے برابر دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ مسجد میں رہتا ہے، کہتے ہیں «اللهم اغفر له» ”اللہ! اسے بخش دے“ «اللهم ارحمه» ”اے اللہ! اس پر رحم فرما“ جب تک وہ «حدث» نہیں کرتا“، تو حضر موت کے ایک شخص نے پوچھا: «حدث» کیا ہے ابوہریرہ؟ تو ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: آہستہ سے یا زور سے ہوا خارج کرنا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابوسعید، انس، عبداللہ بن مسعود اور سہل بن سعد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَةٍ مَا دَامَ يَنْتَظِرُهَا وَلاَ تَزَالُ الْمَلاَئِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي الْمَسْجِدِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَمَا الْحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ فُسَاءٌ أَوْ ضُرَاطٌ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَنَسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#331
Hasan Sahih
Ibn Abbas narrated:"Allah's Messenger performed Salat on a Khumrah
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «خمرہ» ”چھوٹی چٹائی“ پر نماز پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام حبیبہ، ابن عمر، ام سلیم، عائشہ، میمونہ، ام کلثوم بنت ابی سلمہ بن عبدالاسد ( ام کلثوم بنت ابی سلمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا ہے ) اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا یہی خیال ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «خمرہ» پر نماز ثابت ہے، ۴- «خمرہ» چھوٹی چٹائی کو کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَأُمِّ سُلَيْمٍ وَعَائِشَةَ وَمَيْمُونَةَ وَأُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الأَسَدِ وَلَمْ تَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأُمِّ سَلَمَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَبِهِ يَقُولُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ . وَقَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ قَدْ ثَبَتَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الصَّلاَةُ عَلَى الْخُمْرَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَالْخُمْرَةُ هُوَ حَصِيرٌ قَصِيرٌ .
#332
Sahih
Abu Sa'eed narrated:"The Prophet performed Salat on a Hasir
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹائی پر نماز پڑھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں انس اور مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، البتہ اہل علم کی ایک جماعت نے زمین پر نماز پڑھنے کو استحباباً پسند کیا ہے۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَلَى حَصِيرٍ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ . إِلاَّ أَنَّ قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ اخْتَارُوا الصَّلاَةَ عَلَى الأَرْضِ اسْتِحْبَابًا . وَأَبُو سُفْيَانَ اسْمُهُ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ .
#333
Sahih
Anas bin Malik narrated:"Allah's Messenger used to mingle with us such that he said to my younger brother: 'O Abu Umair! What did the Nughair do?'" He (Anas) said: "A Bisat of ours would be sprinkled (with water) to perform Salat on
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے گھل مل جایا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ میرے چھوٹے بھائی سے کہتے: ابوعمیر! «ما فعل النغير» ”بلبل کا کیا ہوا؟“ ہماری چٹائی ۱؎ پر چھڑکاؤ کیا گیا پھر آپ نے اس پر نماز پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ وہ چادر اور قالین پر نماز پڑھنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُخَالِطُنَا حَتَّى إِنْ كَانَ يَقُولُ لأَخٍ لِي صَغِيرٍ " يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ " . قَالَ وَنُضِحَ بِسَاطٌ لَنَا فَصَلَّى عَلَيْهِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمْ لَمْ يَرَوْا بِالصَّلاَةِ عَلَى الْبِسَاطِ وَالطُّنْفُسَةِ بَأْسًا . وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . وَاسْمُ أَبِي التَّيَّاحِ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ .
#334
Daif
Mu'adh ibn Jabal narrated:"The Prophet liked to perform Salat in Al-Hitan
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باغات میں نماز پڑھنا پسند فرماتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حیطان سے مراد «بساتین» ”باغات“ ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: معاذ کی حدیث غریب ہے، اسے ہم حسن بن ابی جعفر ہی کی روایت سے جانتے ہیں، اور حسن بن ابی جعفر کو یحییٰ بن سعید وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَسْتَحِبُّ الصَّلاَةَ فِي الْحِيطَانِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي الْبَسَاتِينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ مُعَاذٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ . وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ قَدْ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ وَأَبُو الزُّبَيْرِ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ تَدْرُسَ وَأَبُو الطُّفَيْلِ اسْمُهُ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ .
#335
Hasan Sahih
Muba bin Talhah narrated from his father (Talhah) that :Allah's Messenger said: "When one of you placed something like the post (handle) of the camel saddle in front of him, then let him perform Salat and not concern himself with who passes beyond that
طلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سے کوئی اپنے آگے کجاوے کی پچھلی لکڑی کی مانند کوئی چیز رکھ لے تو نماز پڑھے اور اس کی پرواہ نہ کرے کہ اس کے آگے سے کون گزرا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- طلحہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، سہل بن ابی حثمہ، ابن عمر، سبرہ بن معبد جہنی، ابوجحیفہ اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَهَنَّادٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا وَضَعَ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلَ مُؤَخَّرَةِ الرَّحْلِ فَلْيُصَلِّ وَلاَ يُبَالِي مَنْ مَرَّ وَرَاءَ ذَلِكَ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَسَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَسَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ وَأَبِي جُحَيْفَةَ وَعَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ طَلْحَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَقَالُوا سُتْرَةُ الإِمَامِ سُتْرَةٌ لِمَنْ خَلْفَهُ .
#336
Sahih
Zaid bin Khalid Al-Juhni sent a message to Abu Juhaim asking him what he had heard from Allah's Messenger about passing in front of a person who was performing Salat. Abu Juhaim said :that Allah's Messenger said: "If the one who passed in front of the person performing Salat knew what he was doing, then for him to stop (and wait for forty) would be better for him than to pass in front of him
بسر بن سعید سے روایت ہے کہ زید بن خالد جہنی نے انہیں ابوجہیم رضی الله عنہ کے پاس بھیجا تاکہ وہ ان سے یہ پوچھیں کہ انہوں نے مصلی کے آگے سے گزرنے والے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے؟ تو ابوجہیم رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اگر مصلی کے آگے سے گزرنے والا جان لے کہ اس پر کیا ( گناہ ) ہے تو اس کے لیے مصلی کے آگے سے گزرنے سے چالیس … تک کھڑا رہنا بہتر ہو گا۔ ابونضر سالم کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے چالیس دن کہا، یا چالیس مہینے کہا یا چالیس سال۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوجہیم رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری، ابوہریرہ، ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کا سو سال کھڑے رہنا اس بات سے بہتر ہے کہ وہ اپنے بھائی کے سامنے سے گزرے اور وہ نماز پڑھ رہا ہو“، ۴- اہل علم کے نزدیک عمل اسی پر ہے، ان لوگوں نے نمازی کے آگے سے گزرنے کو مکروہ جانا ہے، لیکن ان کی یہ رائے نہیں کہ آدمی کی نماز کو باطل کر دے گا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ مَاذَا سَمِعَ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَىِ الْمُصَلِّي فَقَالَ أَبُو جُهَيْمٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَىِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ " . قَالَ أَبُو النَّضْرِ لاَ أَدْرِي قَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ سَنَةً قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو . قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ أَبِي جُهَيْمٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " لأَنْ يَقِفَ أَحَدُكُمْ مِائَةَ عَامٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَىْ أَخِيهِ وَهُوَ يُصَلِّي " . وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا الْمُرُورَ بَيْنَ يَدَىِ الْمُصَلِّي وَلَمْ يَرَوْا أَنَّ ذَلِكَ يَقْطَعُ صَلاَةَ الرَّجُلِ . وَاسْمُ أَبِي النَّضْرِ سَالِمٌ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ .
#337
Sahih
Ibn Abbas narrated:"I was a companion rider on a female donkey with Al-Fadl. We came while the Prophet and his Companions were performing Salat at Mina." He said: "We dismounted from it and joined the row. The donkey then passed in front of them, and this did not invalidate their Salat
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک گدھی پر ( اپنے بھائی ) فضل رضی الله عنہ کے پیچھے سوار تھا، ہم آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں صحابہ کو نماز پڑھا رہے تھے، ہم گدھی سے اترے اور صف میں مل گئے۔ اور وہ ( گدھی ) ان لوگوں کے سامنے پھرنے لگی، تو اس نے ان کی نماز باطل نہیں کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، فضل بن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ اور ان کے بعد تابعین میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ نماز کو کوئی چیز باطل نہیں کرتی، سفیان ثوری اور شافعی بھی یہی کہتے ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كُنْتُ رَدِيفَ الْفَضْلِ عَلَى أَتَانٍ فَجِئْنَا وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ بِمِنًى . قَالَ فَنَزَلْنَا عَنْهَا فَوَصَلْنَا الصَّفَّ فَمَرَّتْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ فَلَمْ تَقْطَعْ صَلاَتَهُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَالْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ قَالُوا لاَ يَقْطَعُ الصَّلاَةَ شَيْءٌ . وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَالشَّافِعِيُّ .
#338
Sahih
Abu Dharr said that :Allah's Messenger said: "When a man performs Salat, and there is nothing in front of him like the post of a saddle, or a camel saddle, then his Salat is severed by (passing of) a black dog, a woman, and a donkey." It was said to Abu Dharr: "What is the problem with the black dog rather than the red or white one?" He said: "O my nephew! I asked Allah's Messenger just as you have asked me. He said: 'The black dog is a Shaitan (devil)
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی نماز پڑھے اور اس کے سامنے کجاوے کی آخری ( لکڑی یا کہا: کجاوے کی بیچ کی لکڑی کی طرح ) کوئی چیز نہ ہو تو: کالے کتے، عورت اور گدھے کے گزرنے سے اس کی نماز باطل ہو جائے گی“ ۱؎ میں نے ابوذر سے کہا: لال، اور سفید کے مقابلے میں کالے کی کیا خصوصیت ہے؟ انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! تم نے مجھ سے ایسے ہی پوچھا ہے جیسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا تو آپ نے فرمایا: ”کالا کتا شیطان ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری، حکم بن عمرو بن غفاری، ابوہریرہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ گدھا، عورت اور کالا کتا نماز کو باطل کر دیتا ہے۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں: مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ کالا کتا نماز باطل کر دیتا ہے لیکن گدھے اور عورت کے سلسلے میں مجھے کچھ تذبذب ہے، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: کالے کتے کے سوا کوئی اور چیز نماز باطل نہیں کرتی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَمَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا صَلَّى الرَّجُلُ وَلَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ كَآخِرَةِ الرَّحْلِ أَوْ كَوَاسِطَةِ الرَّحْلِ قَطَعَ صَلاَتَهُ الْكَلْبُ الأَسْوَدُ وَالْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ " . فَقُلْتُ لأَبِي ذَرٍّ مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَحْمَرِ مِنَ الأَبْيَضِ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي سَأَلْتَنِي كَمَا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَالْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَيْهِ قَالُوا يَقْطَعُ الصَّلاَةَ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ . قَالَ أَحْمَدُ الَّذِي لاَ أَشُكُّ فِيهِ أَنَّ الْكَلْبَ الأَسْوَدَ يَقْطَعُ الصَّلاَةَ وَفِي نَفْسِي مِنَ الْحِمَارِ وَالْمَرْأَةِ شَيْءٌ . قَالَ إِسْحَاقُ لاَ يَقْطَعُهَا شَيْءٌ إِلاَّ الْكَلْبُ الأَسْوَدُ .
#339
Sahih
Umar bin Abi Salamah narrated that he saw :Allah's Messenger performing Salat in the house of Umm Salamah wrapped in one garment
عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر میں اس حال میں نماز پڑھتے دیکھا، کہ آپ ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمر بن ابی سلمہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، جابر، سلمہ بن الاکوع، انس، عمرو بن ابی اسید، عبادہ بن صامت، ابو سعید خدری، کیسان، ابن عباس، عائشہ، ام ہانی، عمار بن یاسر، طلق بن علی، اور عبادہ بن صامت انصاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ صحابہ کرام اور ان کے بعد تابعین وغیرہم سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ آدمی دو کپڑوں میں نماز پڑھے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ مُشْتَمِلاً فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرٍ وَسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ وَأَنَسٍ وَعَمْرِو بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَأَبِي سَعِيدٍ وَكَيْسَانَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ وَأُمِّ هَانِئٍ وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَطَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ وَصَامِتٍ الأَنْصَارِيِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ قَالُوا لاَ بَأْسَ بِالصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ . وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ يُصَلِّي الرَّجُلُ فِي ثَوْبَيْنِ .
#340
Sahih
Al-Bara bin Azib narrated:"When Allah's Messener arrived in Al-Madinah, he faced Bait Al-Maqdis in Salat for sixteen or seventeen months. Allah's Messenger longed to face the direction of the Ka'bah, so Allah Most High revealed: Verily! We have seen the turning of your face towards the heaven. Surely We shall turn you o a Qiblah that shall please you. So turn your face in the direction of Al-Masjid Al-Haram.So he faced the Ka'bah, and he liked that. A man performed the Asr prayer with him, then passed by some of the Ansar who were bowing in Salat for Asr while facing Bait Al-Maqdis." He told them that he had faced the direction of the Ka'bah, so they changed (their direction) while they were bowing." [He said:] There are narrations on this topic from Ibn Umar, Ibn Abbas, Umarah bin Aws, Amr bin Awf Al-Muzani and Anas
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے آئے تو سولہ یا سترہ ماہ تک آپ نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی طرف رخ کرنا پسند فرماتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے «قد نرى تقلب وجهك في السماء فلنولينك قبلة ترضاها فول وجهك شطر المسجد الحرام» ”ہم آپ کے چہرے کو باربار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اب ہم آپ کو اس قبلہ کی جانب متوجہ کریں گے جس سے آپ خوش ہو جائیں، اب آپ اپنا رخ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیجئے“ نازل فرمائی، تو آپ نے اپنا چہرہ کعبہ کی طرف پھیر لیا اور آپ یہی چاہتے بھی تھے، ایک شخص نے آپ کے ساتھ عصر پڑھی، پھر وہ انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا اور وہ لوگ عصر میں بیت المقدس کی طرف چہرہ کئے رکوع کی حالت میں تھے، اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس حال میں نماز پڑھی ہے کہ آپ اپنا رخ کعبہ کی طرف کئے ہوئے تھے، تو وہ لوگ بھی رکوع کی حالت ہی میں ( خانہ کعبہ کی طرف ) پھر گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- براء کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابن عباس، عمارہ بن اوس، عمرو بن عوف مزنی اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ صَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحِبُّ أَنْ يُوَجَّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَىْ: (قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ) فَوُجِّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ وَكَانَ يُحِبُّ ذَلِكَ فَصَلَّى رَجُلٌ مَعَهُ الْعَصْرَ ثُمَّ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلاَةِ الْعَصْرِ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ هُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَّهُ قَدْ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ . قَالَ فَانْحَرَفُوا وَهُمْ رُكُوعٌ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعُمَارَةَ بْنِ أَوْسٍ وَعَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ وَأَنَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ الْبَرَاءِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ .
#341
Sahih
Ibn Umar said:"They were bowing during the Subh (Fajr) Prayer
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں وہ لوگ نماز فجر میں رکوع میں تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانُوا رُكُوعًا فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
#342
Sahih
Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "What is between the east and the west is Qiblah
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرق ( پورب ) اور مغرب ( پچھم ) کے درمیان جو ہے سب قبلہ ہے“ ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ " .
#343
Sahih
Abu Hurairah narrated:(Another chain with a similar narration)
یحییٰ بن موسیٰ کا بیان ہے کہ ہم سے محمد بن ابی معشر نے بھی اسی کے مثل بیان کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث ان سے اور بھی کئی سندوں سے مروی ہے، ۲- بعض اہل علم نے ابومعشر کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے۔ ان کا نام نجیح ہے، وہ بنی ہاشم کے مولیٰ ہیں، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: میں ان سے کوئی روایت نہیں کرتا حالانکہ لوگوں نے ان سے روایت کی ہے نیز بخاری کہتے ہیں کہ عبداللہ بن جعفر مخرمی کی حدیث جسے انہوں نے بسند «عثمان بن محمد اخنسی عن سعید المقبری عن أبی ہریرہ» روایت کی ہے، ابومعشر کی حدیث سے زیادہ قوی اور زیادہ صحیح ہے ( یہ حدیث آگے آ رہی ہے جو اسی معنی کی ہے ) ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ، مِثْلَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ قَدْ رُوِيَ عَنْهُ، مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ . وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي أَبِي مَعْشَرٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ وَاسْمُهُ نَجِيحٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ . قَالَ مُحَمَّدٌ لاَ أَرْوِي عَنْهُ شَيْئًا وَقَدْ رَوَى عَنْهُ النَّاسُ . قَالَ مُحَمَّدٌ وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيِّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَخْنَسِيِّ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَقْوَى مِنْ حَدِيثِ أَبِي مَعْشَرٍ وَأَصَحُّ .
#344
Hasan Sahih
(Another chain narrating that) Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "What is between the east and the west is Qiblah
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرق ( پورب ) اور مغرب ( پچھم ) کے درمیان جو ہے وہ سب قبلہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- کئی صحابہ سے مروی ہے کہ مشرق و مغرب کے درمیان جو ہے سب قبلہ ہے۔ ان میں عمر بن خطاب، علی بن ابی طالب، اور ابن عباس رضی الله عنہم بھی شامل ہیں، ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: جب آپ مغرب کو دائیں طرف اور مشرق کو بائیں طرف رکھ کر قبلہ رخ کھڑے ہوں گے تو ان دونوں سمتوں کے درمیان جو ہو گا وہ قبلہ ہو گا، ابن مبارک کہتے ہیں: مشرق و مغرب کے درمیان جو ہے سب قبلہ ہے، یہ اہل مشرق ۱؎ کے لیے ہے۔ اور عبداللہ بن مبارک نے اہل مرو ۲؎ کے لیے بائیں طرف جھکنے کو پسند کیا ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بَكْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَخْنَسِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَإِنَّمَا قِيلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ لأَنَّهُ مِنْ وَلَدِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ " . مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَابْنُ عَبَّاسٍ . وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا جَعَلْتَ الْمَغْرِبَ عَنْ يَمِينِكَ وَالْمَشْرِقَ عَنْ يَسَارِكَ فَمَا بَيْنَهُمَا قِبْلَةٌ إِذَا اسْتَقْبَلْتَ الْقِبْلَةَ . وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ " مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ " . هَذَا لأَهْلِ الْمَشْرِقِ . وَاخْتَارَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ التَّيَاسُرَ لأَهْلِ مَرْوٍ .
#345
Hasan
Abdullah bin Amir bin Rabi'ah narrated from his father who said:"We were with the Prophet on a journey on a very dark night and we did not know the direction of the Qiblah. So each man among us prayed in his own direction. In the morning when we mentioned that to the Prophet, then the following was revealed: So where ever you turn, there is the Face of Allah
عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک تاریک رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے۔ تو ہم نہیں جان سکے کہ قبلہ کس طرف ہے، ہم میں سے ہر شخص نے اسی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لی جس طرف پہلے سے اس کا رخ تھا۔ جب ہم نے صبح کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا چنانچہ اس وقت آیت کریمہ «فأينما تولوا فثم وجه الله» ”تم جس طرف رخ کر لو اللہ کا منہ اسی طرف ہے“ نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے۔ ہم اسے صرف اشعث بن سمان ہی کی روایت سے جانتے ہیں، اور اشعث بن سعید ابوالربیع سمان حدیث کے معاملے میں ضعیف گردانے جاتے ہیں، ۲- اکثر اہل علم اسی کی طرف گئے ہیں کہ جب کوئی بدلی میں غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھ لے پھر نماز پڑھ لینے کے بعد پتہ چلے اس نے غیر قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی ہے تو اس کی نماز درست ہے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ السَّمَّانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ فَلَمْ نَدْرِ أَيْنَ الْقِبْلَةُ فَصَلَّى كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا عَلَى حِيَالِهِ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَنَزَلَ: (فَأَيْنَمَا تُولُّوا فَثَمَّ وَجْهُ الله) . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاكَ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ أَشْعَثَ السَّمَّانِ . وَأَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ . وَقَدْ ذَهَبَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا . قَالُوا إِذَا صَلَّى فِي الْغَيْمِ لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ ثُمَّ اسْتَبَانَ لَهُ بَعْدَ مَا صَلَّى أَنَّهُ صَلَّى لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ فَإِنَّ صَلاَتَهُ جَائِزَةٌ . وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ .
#346
Daif
Ibn Umar narrated:"The Prophet prohibited Salat from being performed in seven places: the dung heap, the slaughtering area, the graveyard, the commonly used road, the wash area, in the area that camels rest at, and above the House of Allah (the Ka'bah)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات مقامات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے: کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ میں، مذبح میں، قبرستان میں، عام راستوں پر، حمام ( غسل خانہ ) میں اونٹ باندھنے کی جگہ میں اور بیت اللہ کی چھت پر۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جَبِيرَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يُصَلَّى فِي سَبْعَةِ مَوَاطِنَ فِي الْمَزْبَلَةِ وَالْمَجْزَرَةِ وَالْمَقْبُرَةِ وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ وَفِي الْحَمَّامِ وَفِي مَعَاطِنِ الإِبِلِ وَفَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِ اللَّهِ " .
#347
Daif
Ibn Umar narrated:(Another chain with a similar narration)
اس سند سے بھی اس مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کی سند کوئی زیادہ قوی نہیں ہے، زید بن جبیرۃ کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے، ۲- زید بن جبیر کوفی ان سے زیادہ قوی اور ان سے پہلے کے ہیں انہوں نے ابن عمر رضی الله عنہما سے سنا ہے، ۳- اس باب میں ابو مرثد کناز بن حصین، جابر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- لیث بن سعد نے یہ حدیث بطریق: «عبد الله بن عمر العمري عن نافع عن ابن عمر عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے۔ داود کی حدیث جسے انہوں نے بطریق: «عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے روایت کی ہے۔ لیث بن سعد کی حدیث سے زیادہ قرین صواب اور زیادہ صحیح ہے، عبداللہ بن عمر عمری کو بعض اہل حدیث نے ان کے حفظ کے تعلق سے ضعیف گردانا ہے، انہیں میں سے یحییٰ بن سعیدالقطان بھی ہیں
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جَبِيرَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ وَجَابِرٍ وَأَنَسٍ . أَبُو مَرْثَدٍ اسْمُهُ كَنَّازُ بْنُ حُصَيْنٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاكَ الْقَوِيِّ . وَقَدْ تُكُلِّمَ فِي زَيْدِ بْنِ جَبِيرَةَ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَزَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ الْكُوفِيُّ أَثْبَتُ مِنْ هَذَا وَأَقْدَمُ وَقَدْ سَمِعَ مِنَ ابْنِ عُمَرَ . وَقَدْ رَوَى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ . وَحَدِيثُ دَاوُدَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَشْبَهُ وَأَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ مِنْهُمْ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ .
#348
Sahih
Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "Perform Salat in sheep pens but do not perform Salat in the camels' resting area
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو ۱؎ اور اونٹ باندھنے کی جگہ میں نہ پڑھو“۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَلاَ تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ " .
#349
Hasan Sahih
(Another chain) from Abu Hurairah, :from the Prophet and it is the same or similar
اس سند سے بھی اسی کے مثل یا اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ہمارے اصحاب کے نزدیک عمل اسی پر ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ۲- ابوحصین کی حدیث جسے انہوں نے بطریق: «أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے غریب ہے، ۳- اسے اسرائیل نے بطریق: «أبي حصين عن أبي صالح عن أبي هريرة» موقوفاً روایت کیا ہے، اور انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ۴- اس باب میں جابر بن سمرہ، براء، سبرہ بن معبد جہنی، عبداللہ بن مغفل، ابن عمر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ أَوْ بِنَحْوِهِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَالْبَرَاءِ وَسَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ وَابْنِ عُمَرَ وَأَنَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ أَصْحَابِنَا وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . وَحَدِيثُ أَبِي حَصِينٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَدِيثٌ غَرِيبٌ . وَرَوَاهُ إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا وَلَمْ يَرْفَعْهُ . وَاسْمُ أَبِي حَصِينٍ عُثْمَانُ بْنُ عَاصِمٍ الأَسَدِيُّ .
#350
Sahih
Anas bin Malik narrated:"The Prophet would perform Salat in sheep pens
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَأَبُو التَّيَّاحِ الضُّبَعِيُّ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ .