#301
Hasan Sahih
Qabisah bin Hulb narrated that his father said:"When Allah's Messenger would lead us in Salat he would turn (to leave) from both sides, on his right and on his left
ہلب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ہماری امامت فرماتے ( تو سلام پھیرنے کے بعد ) اپنے دونوں طرف پلٹتے تھے ( کبھی ) دائیں اور ( کبھی ) بائیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہلب رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، انس، عبداللہ بن عمرو، اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ امام اپنے جس جانب چاہے پلٹ کر بیٹھے چاہے تو دائیں طرف اور چاہے تو بائیں طرف، نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے دونوں ہی باتیں ثابت ہیں ۱؎ اور علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں اگر آپ کی ضرورت دائیں طرف ہوتی تو دائیں طرف پلٹتے اور بائیں طرف ہوتی تو بائیں طرف پلٹتے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَؤُمُّنَا فَيَنْصَرِفُ عَلَى جَانِبَيْهِ جَمِيعًا عَلَى يَمِينِهِ وَعَلَى شِمَالِهِ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَنَسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ هُلْبٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ يَنْصَرِفُ عَلَى أَىِّ جَانِبَيْهِ شَاءَ إِنْ شَاءَ عَنْ يَمِينِهِ وَإِنْ شَاءَ عَنْ يَسَارِهِ . وَقَدْ صَحَّ الأَمْرَانِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَيُرْوَى عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَالَ إِنْ كَانَتْ حَاجَتُهُ عَنْ يَمِينِهِ أَخَذَ عَنْ يَمِينِهِ وَإِنْ كَانَتْ حَاجَتُهُ عَنْ يَسَارِهِ أَخَذَ عَنْ يَسَارِهِ .
#302
Sahih
Rifa`ah bin Rafi` narrated:"One day Allah's Messenger was sitting in the Masjid" Rifa'ah said: "And we were with him. Then what appeared to be a Bedouin man entered to pray, but he performed his Salat in a very brief manner. He then got up and greeted the prophet with Salam. The Prophet said (returning the greeting): 'And upon you. Go back and perform Salat, for indeed you have no prayed.' So he returned to perform Salat then came and greeted the Prophet with Salam. So he (the Prophet) said (returning the greeting): 'And upon you. Go back and perform Salat, for indeed you have not prayed.' [He did that] two or three times, each time coming to the Prophet, greeted the Prophet with Salam and the Prophet saying: 'And upon you. Go back and perform Salat, for indeed you have not prayed.' - until the people got scared and became very worried that one whose prayer was so brief had not actually prayed. Then in the end the man said: 'Then show me, and teach me, for I am a human who has suffered and is mistaken.' So he said: 'Alright. When you stand for Salat then perform Wudu as Allah ordered you. Then say the Tashahhud, and the Iqamah as well. If you know any Quran then recite it, if not then praise Allah, mention His greatness, and the Tahlil. Then bow such that you are at rest in your bowing, then stand completely, then prostrate completely, then sit such that you are at rest while sitting them stand. When you have done that, then you have completed your Salat, and if you leave out something, then you have made your Salat deficient.' And this was easier on them than the first matter, because if some of this was deficient, It would only reduce the reward of his Salat, it would not have gone entirely
رفاعہ بن رافع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ایک دن مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، ہم بھی آپ کے ساتھ تھے، اسی دوران ایک شخص آپ کے پاس آیا جو بدوی لگ رہا تھا، اس نے آ کر نماز پڑھی اور بہت جلدی جلدی پڑھی، پھر پلٹ کر آیا اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو سلام کیا تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تم پر بھی سلام ہو، واپس جاؤ پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“، تو اس شخص نے واپس جا کر پھر سے نماز پڑھی، پھر واپس آیا اور آ کر اس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے پھر فرمایا: ”اور تمہیں بھی سلام ہو، واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“، اس طرح اس نے دو بار یا تین بار کیا ہر بار وہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو سلام کرتا اور آپ فرماتے: ”تم پر بھی سلام ہو، واپس جاؤ پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“، تو لوگ ڈرے اور ان پر یہ بات گراں گزری کہ جس نے ہلکی نماز پڑھی اس کی نماز ہی نہیں ہوئی، آخر اس آدمی نے عرض کیا، آپ ہمیں ( پڑھ کر ) دکھا دیجئیے اور مجھے سکھا دیجئیے، میں انسان ہی تو ہوں، میں صحیح بھی کرتا ہوں اور مجھ سے غلطی بھی ہو جاتی ہے، تو آپ نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہونے کا ارادہ کرو تو پہلے وضو کرو جیسے اللہ نے تمہیں وضو کرنے کا حکم دیا ہے، پھر اذان دو اور تکبیر کہو اور اگر تمہیں کچھ قرآن یاد ہو تو اسے پڑھو ورنہ «الحمد لله»، «الله أكبر» اور «لا إله إلا الله» کہو، پھر رکوع میں جاؤ اور خوب اطمینان سے رکوع کرو، اس کے بعد بالکل سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو، اور خوب اعتدال سے سجدہ کرو، پھر بیٹھو اور خوب اطمینان سے بیٹھو، پھر اٹھو، جب تم نے ایسا کر لیا تو تمہاری نماز پوری ہو گئی اور اگر تم نے اس میں کچھ کمی کی تو تم نے اتنی ہی اپنی نماز میں سے کمی کی“، راوی ( رفاعہ ) کہتے ہیں: تو یہ بات انہیں پہلے سے آسان لگی کہ جس نے اس میں سے کچھ کمی کی تو اس نے اتنی ہی اپنی نماز سے کمی کی، پوری نماز نہیں گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- رفاعہ بن رافع کی حدیث حسن ہے، رفاعہ سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور عمار بن یاسر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلاَّدِ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمًا قَالَ رِفَاعَةُ وَنَحْنُ مَعَهُ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ كَالْبَدَوِيِّ فَصَلَّى فَأَخَفَّ صَلاَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَعَلَيْكَ فَارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " . فَرَجَعَ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ " وَعَلَيْكَ فَارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " . فَفَعَلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا كُلُّ ذَلِكَ يَأْتِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَيُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَعَلَيْكَ فَارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " . فَخَافَ النَّاسُ وَكَبُرَ عَلَيْهِمْ أَنْ يَكُونَ مَنْ أَخَفَّ صَلاَتَهُ لَمْ يُصَلِّ فَقَالَ الرَّجُلُ فِي آخِرِ ذَلِكَ فَأَرِنِي وَعَلِّمْنِي فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أُصِيبُ وَأُخْطِئُ . فَقَالَ " أَجَلْ إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاَةِ فَتَوَضَّأْ كَمَا أَمَرَكَ اللَّهُ ثُمَّ تَشَهَّدْ وَأَقِمْ فَإِنْ كَانَ مَعَكَ قُرْآنٌ فَاقْرَأْ وَإِلاَّ فَاحْمَدِ اللَّهَ وَكَبِّرْهُ وَهَلِّلْهُ ثُمَّ ارْكَعْ فَاطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ اعْتَدِلْ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ فَاعْتَدِلْ سَاجِدًا ثُمَّ اجْلِسْ فَاطْمَئِنَّ جَالِسًا ثُمَّ قُمْ فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلاَتُكَ وَإِنِ انْتَقَصْتَ مِنْهُ شَيْئًا انْتَقَصْتَ مِنْ صَلاَتِكَ " . قَالَ وَكَانَ هَذَا أَهْوَنَ عَلَيْهِمْ مِنَ الأَوَّلِ أَنَّهُ مَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا انْتَقَصَ مِنْ صَلاَتِهِ وَلَمْ تَذْهَبْ ��ُلُّهَا . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ رِفَاعَةَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ .
#303
Sahih
Abu Hurairah narrated:"Allah's Messenger entered the Masjid, and a man entered and offered Salat. Then he came to give Salam to the Propet. He returned the Salam to him and said: 'Go back and perform Salat, for indeed you have not prayed.' So the man returned to pray as he had prayed. Then he came to give Salam to the Prophet. He returned Salam to him, then [Allah's Messenger] said: 'Go back and perform Salat, for indeed you have not prayed' until he had done that three times. So the man said to him: 'By the One who sent you with the Truth, I do not know any better than this, so teach me.' So he said [to him]: 'When you stand for Salat then say the Takbir, then recite what is easy for you of the Quran. Then bow until you are at rest while bowing, then rise up until you are at rest sitting. Do that in all of your Salat
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اتنے میں ایک اور شخص بھی داخل ہوا، اس نے نماز پڑھی پھر آ کر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”تم واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“، چنانچہ آدمی نے واپس جا کر نماز پڑھی، جیسے پہلے پڑھی تھی، پھر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“، یہاں تک اس نے تین بار ایسا کیا، پھر اس آدمی نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا میں اس سے بہتر نہیں پڑھ سکتا۔ لہٰذا آپ مجھے نماز پڑھنا سکھا دیجئیے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جب نماز کا ارادہ کرو تو «اللہ اکبر» کہو پھر جو تمہیں قرآن میں سے یاد ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع کی حالت میں تمہیں خوب اطمینان ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اچھی طرح کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ خوب اطمینان سے سجدہ کر لو، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ اور اسی طرح سے اپنی پوری نماز میں کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابن نمیر نے عبیداللہ بن عمر سے اسی سند سے روایت کی ہے لیکن «عن أبیہ» نہیں ذکر کیا ہے، ۳- یحییٰ القطان کی روایت میں «عبداللہ بن عمر عن سعید بن أبی المقبری عن أبیہ عن أبی ہریرہ» ہے، اور یہ زیادہ صحیح۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ فَقَالَ " ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " . فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَصَلَّى كَمَا كَانَ صَلَّى ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " . حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلاَثَ مِرَارٍ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا فَعَلِّمْنِي . فَقَالَ " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاَةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا وَافْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلاَتِكَ كُلِّهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . قَالَ وَقَدْ رَوَى ابْنُ نُمَيْرٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَرِوَايَةُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَصَحُّ . وَسَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ قَدْ سَمِعَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَرَوَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ اسْمُهُ كَيْسَانُ وَسَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ يُكْنَى أَبَا سَعْدٍ وَكَيْسَانُ عَبْدٌ كَانَ مُكَاتَبًا لِبَعْضِهِمْ .
#304
Sahih
Muhammad bin Amr bin Ata' narrated from Abu Humaid As-Saidi, :he (Muhammad) said: "I heard him saying - while he was among ten of the Companions of the Prophet, one of whom was Abu Qatadah bin Ribi - 'I am the most knowledgeable among you of the Salat of the Allah's Messenger.' They said: 'You did not precede us in his companionship, nor were you in his company more than us.' He said: 'Even still." They said: 'Go ahead.' So he said: 'When Allah's Messenger stood for Salat he would stand with his back straight and raise his hands until they were at the level of his shoulder. Then he would say: (Allahu Akbar) "Allah is Most Great" and bow. Then he would straighten (his back) so that he would not lower his head, nor raise it, and he placed his hands on his knees. Then he said: (Sami Allahu liman hamidah) "Allah listens to those who praise Him." And he raised his hands and stood up straight until all of his bones completely returned to their places. Then he went down to the ground prostrating, then he said: (Allahu Akbar) "Allah is Most Great." Then he held his upper arms away from his midsection, and opened his toes on his feet (facing the Qiblah), then he bend his left foot and sat on it then straightened up until all of his bones completely returned to their placed, then he went down to prostrate. Then he said: (Allahu Akbar) "Allah is Most Great," then he bent his foot and sat and straightened up until all of his bones completely returned to their places. Then he got up. Then in the second Rak'ah he did the same as that, such that when he stood from the two prostrations, he sad the Takbir and raised his hands until they were at the level of his shoulders as he did when he opened the Salat. Then he did like that until it was the Rak'ah in which his Salat was to end, when he moved his left foot over and sat on his side (in the Mutawarrik postion). Then he said the Taslim
محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ انہوں نے ابو حمید ساعدی رضی الله عنہ کو کہتے ہیں سنا ( جب ) صحابہ کرام میں سے دس لوگوں کے ساتھ تھے، ان میں سے ایک ابوقتادہ بن ربعی تھے، ابوحمید رضی الله عنہ کہہ رہے تھے کہ میں تم میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی نماز کا سب سے زیادہ جانکار ہوں، تو لوگوں نے کہا کہ تمہیں نہ تو ہم سے پہلے صحبت رسول میسر ہوئی اور نہ ہی تم ہم سے زیادہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آتے جاتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں یہ ٹھیک ہے ( لیکن مجھے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا طریقہ نماز زیادہ یاد ہے ) اس پر لوگوں نے کہا ( اگر تم زیادہ جانتے ہو ) تو پیش کرو، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو بالکل سیدھے کھڑے ہو جاتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل میں لے جاتے، پھر جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل میں لے جاتے، پھر «الله أكبر» کہتے اور رکوع کرتے اور بالکل سیدھے ہو جاتے، نہ اپنا سر بالکل نیچے جھکاتے اور نہ اوپر ہی اٹھائے رکھتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، پھر «سمع الله لمن حمده» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) اور سیدھے کھڑے ہو جاتے یہاں تک کہ جسم کی ہر ایک ہڈی سیدھی ہو کر اپنی جگہ پر لوٹ آتی پھر سجدہ کرنے کے لیے زمین کی طرف جھکتے، پھر «الله أكبر» کہتے اور اپنے بازوؤں کو اپنی دونوں بغل سے جدا رکھتے، اور اپنے پیروں کی انگلیاں کھلی رکھتے، پھر اپنا بایاں پیر موڑتے اور اس پر بیٹھتے اور سیدھے ہو جاتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آتی، اور آپ اٹھتے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے یہاں تک کہ دوسری رکعت سے جب ( تیسری رکعت کے لیے ) اٹھتے تو «الله أكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل میں کرتے جیسے اس وقت کیا تھا جب آپ نے نماز شروع کی تھی، پھر اسی طرح کرتے یہاں تک کہ جب وہ رکعت ہوتی جس میں نماز ختم ہو رہی ہو تو اپنا بایاں پیر مؤخر کرتے یعنی اسے داہنی طرف دائیں پیر کے نیچے سے نکال لیتے اور سرین پر بیٹھتے، پھر سلام پھیرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور ان کے قول «رفع يديه إذا قام من السجدتين» ”دونوں سجدوں سے کھڑے ہوتے وقت اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے“ کا مطلب ہے کہ جب دو رکعتوں کے بعد ( تیسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ سَمِعْتُهُ وَهُوَ، فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ بْنُ رِبْعِيٍّ يَقُولُ أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالُوا مَا كُنْتَ أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً وَلاَ أَكْثَرَنَا لَهُ إِتْيَانًا قَالَ بَلَى . قَالُوا فَاعْرِضْ . فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ اعْتَدَلَ قَائِمًا وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ " . وَرَكَعَ ثُمَّ اعْتَدَلَ فَلَمْ يُصَوِّبْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقْنِعْ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ قَالَ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " . وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَاعْتَدَلَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلاً ثُمَّ أَهْوَى إِلَى الأَرْضِ سَاجِدًا ثُمَّ قَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ " . ثُمَّ جَافَى عَضُدَيْهِ عَنْ إِبْطَيْهِ وَفَتَخَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ ثَنَى رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ عَلَيْهَا ثُمَّ اعْتَدَلَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلاً ثُمَّ أَهْوَى سَاجِدًا ثُمَّ قَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ " . ثُمَّ ثَنَى رِجْلَهُ وَقَعَدَ وَاعْتَدَلَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ ثُمَّ نَهَضَ ثُمَّ صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا صَنَعَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلاَةَ ثُمَّ صَنَعَ كَذَلِكَ حَتَّى كَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي تَنْقَضِي فِيهَا صَلاَتُهُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ عَلَى شِقِّهِ مُتَوَرِّكًا ثُمَّ سَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . قَالَ وَمَعْنَى قَوْلِهِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ إِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ يَعْنِي قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ .
#305
Sahih
(Another chain) that Muhammad bin Amir bin Ata narrated from Abu Humaid As-Saidi,:he (Muhammad) said: "I heard him saying - while he was among ten of the Companions of the Prophet, one of whom was Abu Qatadah bin Ribi
محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ میں نے ابو حمید ساعدی رضی الله عنہ کو دس صحابہ کرام کی موجودگی میں جن میں ابوقتادہ بن ربعی بھی تھے، کہتے سنا، پھر انہوں نے یحییٰ بن سعید کی حدیث کی طرح اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث میں ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے عبدالحمید بن جعفر کے واسطے سے اس لفظ کا اضافہ کیا ہے کہ ( نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نماز والی اس صفت و کیفیت کو سننے والے ) صحابہ کرام رضی الله عنہم اجمعین نے کہا کہ آپ نے صحیح کہا، نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ الْحُلْوَانِيُّ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ أَبُو قَتَادَةَ بْنُ رِبْعِيٍّ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ بِمَعْنَاهُ وَزَادَ فِيهِ أَبُو عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ هَذَا الْحَرْفَ قَالُوا صَدَقْتَ هَكَذَا صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو عِيسَى زَادَ أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ هَذَا الْحَرْفَ قَالُوا صَدَقْتَ هَكَذَا صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم .
#306
Sahih
Qutbah bin Malik narrated:"I heard Allah's Messenger reciting for Fajr: And tall date palms in the first Rak'ah
قطبہ بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فجر میں پہلی رکعت میں «والنخل باسقات» پڑھتے سنا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- قطبہ بن مالک کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمرو بن حریث، جابر بن سمرہ، عبداللہ بن سائب، ابوبرزہ اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فجر میں سورۃ الواقعہ پڑھی، ۴- یہ بھی مروی ہے کہ آپ فجر میں ساٹھ سے لے کر سو آیتیں پڑھا کرتے تھے، ۵- اور یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے «إذا الشمس كورت» پڑھی، ۶- اور عمر رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ اشعری کو لکھا کہ فجر میں طوال مفصل پڑھا کرو ۱؎، ۷- اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَلاَقَةَ، عَنْ عَمِّهِ، قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ : (وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ ) فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ وَأَبِي بَرْزَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَرَأَ فِي الصُّبْحِ بِالْوَاقِعَةِ . وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ مِنْ سِتِّينَ آيَةً إِلَى مِائَةٍ . وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَرَأَ : (إِذََا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ ) . وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى أَنِ اقْرَأْ فِي الصُّبْحِ بِطِوَالِ الْمُفَصَّلِ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَعَلَى هَذَا الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ .
#307
Hasan Sahih
Jabir bin Samurah narrated:"For Zuhr and Asr, Allah's Messenger would recite: By the heavens, holding the Buruj and (By the heavens and At-Tariq) and similar to them
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ظہر اور عصر میں «وسماء ذات البروج»، «والسماء والطارق» اور ان جیسی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں خباب، ابوسعید، ابوقتادہ، زید بن ثابت اور براء بن عازب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے ظہر میں «الم تنزیل» یعنی سورۃ السجدہ کے بقدر قرأت کی، ۴- یہ بھی مروی ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم ظہر کی پہلی رکعت میں تیس آیتوں کے بقدر اور دوسری رکعت میں پندرہ آیتوں کے بقدر قرأت کرتے تھے، عمر رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ رضی الله عنہ کو لکھا کہ تم ظہر میں «وساط مفصل» پڑھا کرو ۱؎، ۶- بعض اہل علم کی رائے ہے کہ عصر کی قرأت مغرب کی قرأت کی طرح ہو گی، ان میں ( امام ) «قصار مفصل» پڑھے گا ۲؎، ۷- اور ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ ظہر کی قرأت عصر کی قرأت سے چار گنا ہو گی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ وَشِبْهِهِمَا . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ خَبَّابٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي قَتَادَةَ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَرَأَ فِي الظُّهْرِ قَدْرَ تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ . وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مِنَ الظُّهْرِ قَدْرَ ثَلاَثِينَ آيَةً وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ قَدْرَ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً . وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى أَنِ اقْرَأْ فِي الظُّهْرِ بِأَوْسَاطِ الْمُفَصَّلِ . وَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْقِرَاءَةَ فِي صَلاَةِ الْعَصْرِ كَنَحْوِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْمَغْرِبِ يَقْرَأُ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ . وَرُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ قَالَ تَعْدِلُ صَلاَةُ الْعَصْرِ بِصَلاَةِ الْمَغْرِبِ فِي الْقِرَاءَةِ . وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ تُضَاعَفُ صَلاَةُ الظُّهْرِ عَلَى صَلاَةِ الْعَصْرِ فِي الْقِرَاءَةِ أَرْبَعَ مِرَارٍ .
#308
Sahih
Umm Al-Fadl narrated:"Allah's Messenger came out to us with his head bandaged from his illness. He prayed Maghrib, reciting (Surat) Al-Mursalat." [She said:] "He did not pray it again until he met Allah the Might and Sublime
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے ان کی ماں ام الفضل رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ہماری طرف اس حال میں نکلے کہ آپ بیماری میں اپنے سر پر پٹی باندھے ہوئے تھے، مغرب پڑھائی تو سورۂ ”مرسلات“ پڑھی، پھر اس کے بعد آپ نے یہ سورت نہیں پڑھی یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام الفضل کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جبیر بن مطعم، ابن عمر، ابوایوب اور زید بن ثابت رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے مغرب میں دونوں رکعتوں میں سورۃ الاعراف پڑھی، اور آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے مغرب میں سورۃ الطور پڑھی، ۵- عمر رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ رضی الله عنہ کو لکھا کہ تم مغرب میں «قصار مفصل» پڑھا کرو، ۶- اور ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ وہ مغرب میں «قصار مفصل» پڑھتے تھے، ۷- اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، ۸- امام شافعی کہتے ہیں کہ امام مالک کے سلسلہ میں ذکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے مغرب میں طور اور مرسلات جیسی لمبی سورتیں پڑھنے کو مکروہ جانا ہے۔ شافعی کہتے ہیں: لیکن میں مکروہ نہیں سمجھتا، بلکہ مغرب میں ان سورتوں کے پڑھے جانے کو مستحب سمجھتا ہوں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ الْفَضْلِ، قَالَتْ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَاصِبٌ رَأْسَهُ فِي مَرَضِهِ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ فَقَرَأَ بِالْمُرْسَلاَتِ قَالَتْ فَمَا صَلاَّهَا بَعْدُ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي أَيُّوبَ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أُمِّ الْفَضْلِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ بِالأَعْرَافِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا . وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ . وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى أَنِ اقْرَأْ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ . وَرُوِيَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّهُ قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ . قَالَ وَعَلَى هَذَا الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . وَقَالَ الشَّافِعِيُّ وَذُكِرَ عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُقْرَأَ فِي صَلاَةِ الْمَغْرِبِ بِالسُّوَرِ الطُّوَلِ نَحْوِ الطُّورِ وَالْمُرْسَلاَتِ قَالَ الشَّافِعِيُّ لاَ أَكْرَهُ ذَلِكَ بَلْ أَسْتَحِبُّ أَنْ يُقْرَأَ بِهَذِهِ السُّوَرِ فِي صَلاَةِ الْمَغْرِبِ .
#309
Sahih
Abdullah bin Buraidah narrated that his father (Buraidah) said:"Allah's Messenger would recite: By the sun and its brightness, or similar Surah for the latter Isha (prayer)
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم عشاء میں «والشمس وضحاها» اور اس جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بریدہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں براء بن عازب اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۳- نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے عشاء میں سورۃ «والتين والزيتون» پڑھی۔ ۴- عثمان بن عفان سے مروی ہے کہ وہ عشاء میں «وساط مفصل» کی سورتیں جیسے سورۃ المنافقون اور اس جیسی دوسری سورتیں پڑھا کرتے تھے، ۵- صحابہ کرام اور تابعین سے یہ بھی مروی ہے کہ ان لوگوں نے اس سے زیادہ اور اس سے کم بھی پڑھی ہے۔ گویا ان کے نزدیک معاملے میں وسعت ہے لیکن اس سلسلے میں سب سے بہتر چیز جو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے وہ یہ کہ آپ نے سورۃ «والشمس وضحاها» اور سورۃ «والتين والزيتون» پڑھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ الآخِرَةِ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهَا مِنَ السُّوَرِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ وَأَنَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ بُرَيْدَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَرَأَ فِي الْعِشَاءِ الآخِرَةِ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ . وَرُوِيَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِسُوَرٍ مِنْ أَوْسَاطِ الْمُفَصَّلِ نَحْوِ سُورَةِ الْمُنَافِقِينَ وَأَشْبَاهِهَا . وَرُوِيَ عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ أَنَّهُمْ قَرَءُوا بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا وَأَقَلَّ فَكَأَنَّ الأَمْرَ عِنْدَهُمْ وَاسِعٌ فِي هَذَا . وَأَحْسَنُ شَيْءٍ فِي ذَلِكَ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَرَأَ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ .
#310
Sahih
Al-Bara bin Azib narrated:"The Prophet would recite: By the fig and the olive for Isha
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عشاء میں سورۃ «والتين والزيتون» پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ فِي الْعِشَاءِ الآخِرَةِ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#311
Daif
Ubadah bin As-Samit narrated:"Allah's Messenger prayed the Subh prayer, and he had difficulty with the recitation. When turned (after finishing) he said: 'I think that you are reciting behind your Imam?'" He said: "We said: 'Yes, Messenger of Allah, by Allah!' He said: 'Do not do that, except for Umm Al-Kitab, for there is no Salat for one who does not recite it
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فجر پڑھی، آپ پر قرأت دشوار ہو گئی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے فرمایا: ”مجھے لگ رہا ہے کہ تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قرأت کرتے ہو؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کی قسم ہم قرأت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کیا کرو سوائے سورۃ فاتحہ کے اس لیے کہ جو اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبادہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث زہری نے بھی محمود بن ربیع سے اور محمود نے عبادہ بن صامت سے اور عبادہ نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی، یہ سب سے صحیح روایت ہے، ۳ – اس باب میں ابوہریرہ، عائشہ، انس، ابوقتادہ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- صحابہ اور تابعین میں سے اکثر اہل علم کا امام کے پیچھے قرأت کے سلسلے میں عمل اسی حدیث پر ہے۔ ائمہ کرام میں سے مالک بن انس، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول بھی یہی ہے، یہ سبھی لوگ امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصُّبْحَ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ " إِنِّي أَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ وَرَاءَ إِمَامِكُمْ " . قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِي وَاللَّهِ . قَالَ " فَلاَ تَفْعَلُوا إِلاَّ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ وَأَنَسٍ وَأَبِي قَتَادَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عُبَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الزُّهْرِيُّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " . قَالَ وَهَذَا أَصَحُّ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ فِي الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ يَرَوْنَ الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الإِمَامِ .
#312
Sahih
Abu Hurairah narrated:"Allah's Messenger turned (after praying) from a Salat in which he recited aloud and said: 'Has any one of you recite along with me just now?' A man said: 'Yes, O Messenger of Allah.' He said: 'Indeed I said to myself: Why was I being contended with for the Quran?'" He (Az-Zuhri one of the narrators) said: "So when they heard that from Allah's Messenger, the people stopped reciting with Allah's Messenger in the prayers that Allah's Messenger recited aloud
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اس نماز سے فارغ ہونے کے بعد جس میں آپ نے بلند آواز سے قرأت کی تھی تو فرمایا: ”کیا تم میں سے ابھی کسی نے میرے ساتھ قرأت کی ہے؟“ ایک شخص نے عرض کیا: جی ہاں اللہ کے رسول! ( میں نے کی ہے ) آپ نے فرمایا: ”تبھی تو میں یہ کہہ رہا تھا: آخر کیا بات ہے کہ قرآن کی قرأت میں میری آواز سے آواز ٹکرائی جا رہی ہے اور مجھ پر غالب ہونے کی کوشش کی جاری ہے“، وہ ( زہری ) کہتے ہیں: تو جب لوگوں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے یہ بات سنی تو لوگ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ان نمازوں میں قرأت کرنے سے رک گئے جن میں آپ بلند آواز سے قرأت کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابن اکیمہ لیثی کا نام عمارہ ہے انہیں عمرو بن اکیمہ بھی کہا جاتا ہے، زہری کے دیگر تلامذہ نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے لیکن ان لوگوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے «قال الزهري فانتهى الناس عن القراءة حين سمعوا ذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم» ”زہری نے کہا کہ لوگ قرأت سے رک گئے جس وقت ان لوگوں نے اسے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے سنا“ ۳- اس باب میں ابن مسعود، عمران بن حصین اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اس حدیث میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو ان لوگوں کے لیے رکاوٹ کا سبب بنے جن کی رائے امام کے پیچھے بھی قرأت کی ہے، اس لیے کہ ابوہریرہ رضی الله عنہ ہی ہیں جنہوں نے یہ حدیث روایت کی ہے اور انہوں نے ہی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے یہ حدیث بھی روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ”جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ ناقص ہے، ناقص ہے، ناتمام ہے“ تو ان سے ایک شخص نے جس نے ان سے یہ حدیث اخذ کی تھی پوچھا کہ میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں ( تو کیا کروں؟ ) تو انہوں نے کہا: تم اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کر۔ ابوعثمان نہدی سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ مجھے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ میں اعلان کر دوں کہ سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی، ۵- اکثر محدثین نے اس بات کو پسند کیا ہے کہ جب امام بلند آواز سے قرأت کرے تو مقتدی قرأت نہ کرے، اور کہا ہے کہ وہ امام کے سکتوں کا «تتبع» کرتا رہے، ”یعنی وہ امام کے سکتوں کے درمیان پڑھ لیا کرے“، ۶- امام کے پیچھے قرأت کے سلسلہ میں اہل علم کا اختلاف ہے، صحابہ و تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں، مالک بن انس، عبداللہ بن مبارک شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ امام کے پیچھے قرأت کرتا ہوں اور لوگ بھی کرتے ہیں سوائے کوفیوں میں سے چند لوگوں کے، اور میرا خیال ہے کہ جو نہ پڑھے اس کی بھی نماز درست ہے، ۷- اور اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے اس سلسلہ میں سختی برتی ہے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ سورۃ فاتحہ کا چھوڑنا جائز نہیں اگرچہ وہ امام کے پیچھے ہو، یہ لوگ کہتے ہیں کہ بغیر سورۃ فاتحہ کے نماز کفایت نہیں کرتی، یہ لوگ اس حدیث کی طرف گئے ہیں جسے عبادہ بن صامت نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اور خود عبادہ بن صامت رضی الله عنہ نے بھی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے بعد امام کے پیچھے قرأت کی ہے، ان کا عمل نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اسی قول پر رہا ہے کہ سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں، یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ وغیرہ کا بھی قول ہے، ۸- رہے احمد بن حنبل تو وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے فرمان ”سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی“ کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ اکیلے نماز پڑھ رہا ہو تب سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہو گی۔ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کی حدیث سے یہ استدلال کیا ہے جس میں ہے کہ ”جس نے کوئی رکعت پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو اس کی نماز نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے ہو ۱؎“۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ یہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ میں ایک شخص ہیں اور انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے فرمان ”سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی“ کی تفسیر یہ کی ہے کہ یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو اکیلے پڑھ رہا ہو۔ ان سب کے باوجود احمد بن حنبل نے امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے ہی کو پسند کیا ہے اور کہا ہے کہ آدمی سورۃ فاتحہ کو نہ چھوڑے اگرچہ امام کے پیچھے ہو۔
حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْصَرَفَ مِنْ صَلاَةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ " هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا " . فَقَالَ رَجُلٌ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ " . قَالَ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الصَّلَوَاتِ بِالْقِرَاءَةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَابْنُ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيُّ اسْمُهُ عُمَارَةُ . وَيُقَالُ عَمْرُو بْنُ أُكَيْمَةَ . وَرَوَى بَعْضُ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ وَذَكَرُوا هَذَا الْحَرْفَ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَلَيْسَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مَا يَدْخُلُ عَلَى مَنْ رَأَى الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الإِمَامِ لأَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ هُوَ الَّذِي رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَذَا الْحَدِيثَ وَرَوَى أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " مَنْ صَلَّى صَلاَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ " . فَقَالَ لَهُ حَامِلُ الْحَدِيثِ إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الإِمَامِ قَالَ اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ . وَرَوَى أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَمَرَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ أُنَادِيَ أَنْ لاَ صَلاَةَ إِلاَّ بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ . وَاخْتَارَ أَكْثَرُ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ أَنْ لاَ يَقْرَأَ الرَّجُلُ إِذَا جَهَرَ الإِمَامُ بِالْقِرَاءَةِ وَقَالُوا يَتَتَبَّعُ سَكَتَاتِ الإِمَامِ . وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ فَرَأَى أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمُ الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الإِمَامِ وَبِهِ يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ أَنَّهُ قَالَ أَنَا أَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ وَالنَّاسُ يَقْرَءُونَ إِلاَّ قَوْمًا مِنَ الْكُوفِيِّينَ وَأَرَى أَنَّ مَنْ لَمْ يَقْرَأْ صَلاَتُهُ جَائِزَةٌ . وَشَدَّدَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي تَرْكِ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَإِنْ كَانَ خَلْفَ الإِمَامِ فَقَالُوا لاَ تُجْزِئُ صَلاَةٌ إِلاَّ بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَحْدَهُ كَانَ أَوْ خَلْفَ الإِمَامِ . وَذَهَبُوا إِلَى مَا رَوَى عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَقَرَأَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ بَعْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَلْفَ الإِمَامِ وَتَأَوَّلَ قَوْلَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " لاَ صَلاَةَ إِلاَّ بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ " . وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَإِسْحَاقُ وَغَيْرُهُمَا . وَأَمَّا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ فَقَالَ مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " . إِذَا كَانَ وَحْدَهُ . وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَيْثُ قَالَ مَنْ صَلَّى رَكْعَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَلَمْ يُصَلِّ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ وَرَاءَ الإِمَامِ . قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ فَهَذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَأَوَّلَ قَوْلَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " . أَنَّ هَذَا إِذَا كَانَ وَحْدَهُ . وَاخْتَارَ أَحْمَدُ مَعَ هَذَا الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الإِمَامِ وَأَنْ لاَ يَتْرُكَ الرَّجُلُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَإِنْ كَانَ خَلْفَ الإِمَامِ .
#313
Sahih Muquf
Abu Nu'aim Wahb bin Kaisan narated that he heard Jabir bin 'Abdullah saying:"Whoever prayed a Rak'ah in which he did not recite Umm Al-Qur'an, then he did not pray except if he was behind an Imam." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جس نے کوئی رکعت ایسی پڑھی جس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو اس نے نماز ہی نہیں پڑھی، سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے ہو ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ مَنْ صَلَّى رَكْعَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَلَمْ يُصَلِّ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ وَرَاءَ الإِمَامِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#314
Sahih
Fatimah the Great narrated:"When Allah's Messenger entered the Masjid he said Salat and Salam upon Muhammad and then said: (Rabbighfirli dhunubi, waftahli abwaba rahmatik) 'O pardon my sins, and open the gates of Your mercy for me.' And when he exited he said Salat and Salam upon Muhammad, and then said: (Rabbighfirli dunubi, waftahli abwaba rakmatik) 'O Lord pardon my sins, and open the gates of Your blessings for me
فاطمہ بنت حسین اپنی دادی فاطمہ کبریٰ رضی الله عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر درود و سلام بھیجتے اور یہ دعا پڑھتے: «رب اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب رحمتك» ”اے میرے رب! میرے گناہ بخش دے اور اپنی رحمت کے دروازے میرے لیے کھول دے“ اور جب نکلتے تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر صلاۃ ( درود ) و سلام بھیجتے اور یہ کہتے: «رب اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب فضلك» ”اے میرے رب! میرے گناہ بخش دے اور اپنے فضل کے دروازے میرے لیے کھول دے“۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ عَنْ جَدَّتِهَا، فَاطِمَةَ الْكُبْرَى قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ وَقَالَ " رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ " . وَإِذَا خَرَجَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ وَقَالَ " رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ " .
#315
Sahih
Ismail bin Ibrahim (a narrator in the chain of Hadith no. 314) said:"I met Abdullah bin al Husain in Makkah, so I asked him about this Hadith, so he narrated it to me, he said: 'When Allah's Messenger entered, he said (Rabbi aftahli abwaba rahmatik) 'O Lord, open the gates of Your mercy for me.' And when he exited he said: (Rabbi iftahli abwaba fadlik) 'O Lord, open the gates of Your blessings for me
اسماعیل بن ابراہیم بن راہویہ کا بیان ہے کہ میں عبداللہ بن حسن سے مکہ میں ملا تو میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھ سے اسے بیان کیا اور کہا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوتے تو یہ کہتے «رب افتح لي باب رحمتك» ”اے میرے رب! اپنی رحمت کے دروازہ میرے لیے کھول دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- فاطمہ رضی الله عنہا کی حدیث ( شواہد کی بنا پر ) حسن ہے، ورنہ اس کی سند متصل نہیں ہے، ۲- فاطمہ بنت حسین نے فاطمہ کبریٰ کو نہیں پایا ہے، وہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چند ماہ ہی تک زندہ رہیں، ۳- اس باب میں ابوحمید، ابواسید اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَسَنِ بِمَكَّةَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِي بِهِ، قَالَ كَانَ إِذَا دَخَلَ قَالَ " رَبِّ افْتَحْ لِي بَابَ رَحْمَتِكَ وَإِذَا خَرَجَ $$قَالَ رَبِّ افْتَحْ لِي بَابَ فَضْلِكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ وَأَبِي أُسَيْدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ فَاطِمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ . وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْحُسَيْنِ لَمْ تُدْرِكْ فَاطِمَةَ الْكُبْرَى إِنَّمَا عَاشَتْ فَاطِمَةُ بَعْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَشْهُرًا .
#316
Sahih
Abu Qatadah narrated that :Allah's Messenger said: "When one of you comes to the Masjid, then let him perform two Rak'ah before sitting
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد آئے تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوقتادہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن عجلان اور دیگر کئی لوگوں نے عامر بن عبداللہ بن زبیر سے بھی یہ حدیث روایت کی ہے جیسے مالک بن انس کی روایت ہے، ۳- سہیل بن ابی صالح ۲؎ نے یہ حدیث بطریق: «عامر بن عبد الله بن الزبير عن عمرو بن سليم الزرقي عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے روایت کی ہے، ۴ – یہ حدیث غیر محفوظ ہے اور صحیح ابوقتادہ کی حدیث ہے، اس باب میں جابر، ابوامامہ، ابوہریرہ، ابوذر اور کعب بن مالک سے بھی احادیث آئی ہیں، ہمارے اصحاب کا عمل اسی حدیث پر ہے: انہوں نے مستحب قرار دیا ہے کہ جب آدمی مسجد میں داخل ہو تو جب تک دو رکعتیں نہ پڑھ لے، نہ بیٹھے الا یہ کہ اس کے پاس کوئی عذر ہو، ۵- علی بن مدینی کہتے ہیں: سہیل بن ابی صالح کی حدیث میں غلطی ہوئی ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَأَبِي أُمَامَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي ذَرٍّ وَكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ نَحْوَ رِوَايَةِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ . وَرَوَى سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَهَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَصْحَابِنَا اسْتَحَبُّوا إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ الْمَسْجِدَ أَنْ لاَ يَجْلِسَ حَتَّى يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ عُذْرٌ . قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَحَدِيثُ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ خَطَأٌ أَخْبَرَنِي بِذَلِكَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ .
#317
Sahih
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that :Allah's Messenger said: "All of the earth is a Masjid except for the graveyard and the washroom
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوائے قبرستان اور حمام ( غسل خانہ ) کے ساری زمین مسجد ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی عبداللہ بن عمرو، ابوہریرہ، جابر، ابن عباس، حذیفہ، انس، ابوامامہ اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ان لوگوں نے کہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے پوری زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور طہارت و پاکیزگی کا ذریعہ بنائی گئی ہے، ۲- ابوسعید رضی الله عنہ کی حدیث عبدالعزیز بن محمد سے دو طریق سے مروی ہے، بعض لوگوں نے ابوسعید کے واسطے کا ذکر کیا ہے اور بعض نے نہیں کیا ہے، اس حدیث میں اضطراب ہے، سفیان ثوری نے بطریق: «عمرو بن يحيى عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے۔ اور حماد بن سلمہ نے یہ حدیث بطریق: «عمرو بن يحيى عن أبيه عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرفوعاً روایت کی ہے۔ اور محمد بن اسحاق نے بھی یہ حدیث بطریق: «عمرو بن يحيى عن أبيه» اور ان کا کہنا ہے کہ یحییٰ کی اکثر احادیث آئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوسعید ہی کے واسطہ سے مروی ہیں، لیکن اس میں انہوں نے ابوسعید کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، گویا ثوری کی روایت «عمرو بن يحيى عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» زیادہ ثابت اور زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَأَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ إِلاَّ الْمَقْبُرَةَ وَالْحَمَّامَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَحُذَيْفَةَ وَأَنَسٍ وَأَبِي أُمَامَةَ وَأَبِي ذَرٍّ قَالُوا إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " جُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ قَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ رِوَايَتَيْنِ مِنْهُمْ مَنْ ذَكَرَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يَذْكُرْهُ . وَهَذَا حَدِيثٌ فِيهِ اضْطِرَابٌ . رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلٌ . وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ وَكَانَ عَامَّةُ رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَكَأَنَّ رِوَايَةَ الثَّوْرِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَثْبَتُ وَأَصَحُّ مُرْسَلاً .
#318
Sahih
Uthman bin Affan narrated that :he heard Allah's Messenger say: "Whoever builds a Masjid for (the sake of) Allah, then Allah will build a similar house for him in Paradise
عثمان بن عفان رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے اللہ کی رضا کے لیے مسجد بنائی، تو اللہ اس کے لیے اسی جیسا گھر بنائے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عثمان رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبکر، عمر، علی، عبداللہ بن عمرو، انس، ابن عباس، عائشہ، ام حبیبہ، ابوذر، عمرو بن عبسہ، واثلہ بن اسقع، ابوہریرہ اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَسٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ وَأُمِّ حَبِيبَةَ وَأَبِي ذَرٍّ وَعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ وَوَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عُثْمَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَمَحْمُودُ بْنُ لَبِيدٍ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَمَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ قَدْ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُمَا غُلاَمَانِ صَغِيرَانِ مَدَنِيَّانِ .
#319
Daif
It has been related that :the Prophet said: "Whoever builds a Masjid for (the sake of) Allah, be it small or large, then Allah will build a house for him in Paradise
انس رضی الله عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے لیے کوئی مسجد بنائی، چھوٹی ہو یا بڑی، اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا“۔
وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا صَغِيرًا كَانَ أَوْ كَبِيرًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى قَيْسٍ عَنْ زِيَادٍ النُّمَيْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا .
#320
Daif
Ibn Abbbas narrated:"Allah's Messenger cursed the women who visit the graves, and those who use them as Masajid and put torches on them
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور قبروں پر مساجد بنانے والے اور چراغ جلانے والے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور عائشہ رضی الله عنہما سے احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمَتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَأَبُو صَالِحٍ هَذَا هُوَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ وَاسْمُهُ بَاذَانُ وَيُقَالُ بَاذَامُ أَيْضًا .
#321
Sahih
Ibn Umar narrated:"We would sleep in the Masjid during the time of Allah's Messenger and we were young men
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد میں سوتے تھے اور ہم نوجوان تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم میں کی ایک جماعت نے مسجد میں سونے کی اجازت دی ہے، ابن عباس کہتے ہیں: کوئی اسے سونے اور قیلولے کی جگہ نہ بنائے ۱؎ اور بعض اہل علم ابن عباس کے قول کی طرف گئے ہیں۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنَّا نَنَامُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ وَنَحْنُ شَبَابٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي النَّوْمِ فِي الْمَسْجِدِ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لاَ يَتَّخِذُهُ مَبِيتًا وَلاَ مَقِيلاً . وَقَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ذَهَبُوا إِلَى قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
#322
Hasan
Amr bin Shu'aib narrated from his father, from his grandfather (Abdullah bin Amr Al-As), that :Allah's Messenger prohibited the recitation of poetry in the Masjid, and from selling and buying in it, and (he prohibited) the people from forming circles in it on Friday before the Salat
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اشعار پڑھنے، خرید و فروخت کرنے، اور جمعہ کے دن نماز ( جمعہ ) سے پہلے حلقہ باندھ کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے، ۲- عمرو کے باپ شعیب: محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص کے بیٹے ہیں ۱؎، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ میں نے احمد اور اسحاق بن راہویہ کو ( اور ان دونوں کے علاوہ انہوں نے کچھ اور لوگوں کا ذکر کیا ہے ) دیکھا کہ یہ لوگ عمرو بن شعیب کی حدیث سے استدلال کرتے تھے، محمد بن اسماعیل کہتے ہیں کہ شعیب بن محمد نے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما سے سنا ہے، ۳ – جن لوگوں نے عمرو بن شعیب کی حدیث میں کلام کرنے والوں نے انہیں صرف اس لیے ضعیف قرار دیا ہے کہ وہ اپنے دادا ( عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما ) کے صحیفے ( صحیفہ الصادقہ ) سے روایت کرتے ہیں، گویا ان لوگوں کا خیال ہے کہ یہ احادیث انہوں نے اپنے دادا سے نہیں سنی ہیں ۲؎ علی بن عبداللہ ( ابن المدینی ) کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید ( قطان ) سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا: عمرو بن شعیب کی حدیث ہمارے نزدیک ضعیف ہے، ۴- اس باب میں بریدہ، جابر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۵- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے مسجد میں خرید و فروخت کو مکروہ قرار دیا ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں ۳؎، ۶- اور تابعین میں سے بعض اہل علم سے مسجد میں خرید و فروخت کرنے کی رخصت مروی ہے، ۷- نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثوں میں مسجد میں شعر پڑھنے کی رخصت مروی ہے ۴؎۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنْ تَنَاشُدِ الأَشْعَارِ فِي الْمَسْجِدِ وَعَنِ الْبَيْعِ وَالاِشْتِرَاءِ فِيهِ وَأَنْ يَتَحَلَّقَ النَّاسُ فِيهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلاَةِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ بُرَيْدَةَ وَجَابِرٍ وَأَنَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَعَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ رَأَيْتُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ وَذَكَرَ غَيْرَهُمَا يَحْتَجُّونَ بِحَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ . قَالَ مُحَمَّدٌ وَقَدْ سَمِعَ شُعَيْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو . قَالَ أَبُو عِيسَى وَمَنْ تَكَلَّمَ فِي حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ إِنَّمَا ضَعَّفَهُ لأَنَّهُ يُحَدِّثُ عَنْ صَحِيفَةِ جَدِّهِ كَأَنَّهُمْ رَأَوْا أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ هَذِهِ الأَحَادِيثَ مِنْ جَدِّهِ . قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَذُكِرَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عِنْدَنَا وَاهِي . وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ الْبَيْعَ وَالشِّرَاءَ فِي الْمَسْجِدِ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ رُخْصَةٌ فِي الْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ فِي الْمَسْجِدِ . وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَيْرِ حَدِيثٍ رُخْصَةٌ فِي إِنْشَادِ الشِّعْرِ فِي الْمَسْجِدِ .
#323
Sahih
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated:"A man from Banu Khudrah and a man from Banu Amr bin Awf were disputing about the Masjid that was founded upon Taqwa. The man from Banu Khudrah said: 'It is the Masjid of Allah's Messenger.' The other one said that it was Masjid Qub. So they went to ask Allah's Messenger about that. He said: 'It is this - meaning his Masjid - 'and in that one (Masjid Quba) there is much good
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنی خدرہ کے ایک شخص اور بنی عمرو بن عوف کے ایک شخص کے درمیان بحث ہو گئی کہ کون سی مسجد ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ۱؎ تو خدری نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ( یعنی مسجد نبوی ) ہے، دوسرے نے کہا: وہ مسجد قباء ہے، چنانچہ وہ دونوں اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: ”وہ یہ مسجد ہے، یعنی مسجد نبوی اور اس میں ( یعنی مسجد قباء میں ) بھی بہت خیر و برکت ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- علی بن عبداللہ بن المدینی نے یحییٰ بن سعید القطان سے ( سند میں موجود راوی ) محمد بن ابی یحییٰ اسلمی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ان میں کوئی قابل گرفت بات نہیں ہے، اور ان کے بھائی انیس بن ابی یحییٰ ان سے زیادہ ثقہ ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أُنَيْسِ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ امْتَرَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي خُدْرَةَ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى فَقَالَ الْخُدْرِيُّ هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَقَالَ الآخَرُ هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءٍ . فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ فَقَالَ " هُوَ هَذَا يَعْنِي مَسْجِدَهُ وَفِي ذَلِكَ خَيْرٌ كَثِيرٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى الأَسْلَمِيِّ فَقَالَ لَمْ يَكُنْ بِهِ بَأْسٌ وَأَخُوهُ أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى أَثْبَتُ مِنْهُ .
#324
Sahih
Abu Al-Abrad the freed slave of Banu Khatmah narrated that he heard Usaid bin Zuhair Al-Ansari - and he was one of the Companions of the Prophet - narrated that :the Prophet said: "The Salat in Masjid Quba is like Umrah
اسید بن ظہیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد قباء میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک عمرہ کے برابر ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اسید کی حدیث حسن، غریب ہے، ۲- اس باب میں سہل بن حنیف رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- ہم اسید بن ظہیر کی کوئی ایسی چیز نہیں جانتے جو صحیح ہو سوائے اس حدیث کے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ أَبُو كُرَيْبٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَبْرَدِ، مَوْلَى بَنِي خَطْمَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أُسَيْدَ بْنَ ظُهَيْرٍ الأَنْصَارِيَّ، وَكَانَ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الصَّلاَةُ فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ كَعُمْرَةٍ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أُسَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَلاَ نَعْرِفُ لأُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ شَيْئًا يَصِحُّ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ وَلاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ . وَأَبُو الأَبْرَدِ اسْمُهُ زِيَادٌ مَدِينِيٌّ .
#325
Sahih
Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "Salat is this Masjid of mine is better than a thousand Salat in another, except for Masjid Al-Haram
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اس مسجد کی ایک نماز دوسری مساجد کی ہزار نمازوں سے زیادہ بہتر ہے، سوائے مسجد الحرام کے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- کئی سندوں سے مروی ہے، ۳- اس باب میں علی، میمونہ، ابوسعید، جبیر بن مطعم، ابن عمر، عبداللہ بن زبیر اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رَبَاحٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " صَلاَةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلاَةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلاَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَلَمْ يَذْكُرْ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ إِنَّمَا ذَكَرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرُّ اسْمُهُ سَلْمَانُ . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَمَيْمُونَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ وَابْنِ عُمَرَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَأَبِي ذَرٍّ .