#3276
Sahih
Narrated ['Abdullah] bin Mas'ud:"When the Messenger of Allah (ﷺ) reached Sidrat Al-Muntaha" He said: 'There terminates everything that ascends from the earth, and everything that descends from above. So there Allah gave him three, which He did not give to any Prophet before him: He made fiver prayers obligatory upon him, He gave him the last Verses of Surat Al-Baqarah, and He pardoned the grave sins for those of his Ummah who do not associate anything with Allah.' Ibn Mas'ud said regarding the Ayah: "When that covered the Sidrah which did cover it! (53:16)" he said: "The sixth Sidrah in heavens." Sufyan said: "Golden butterflies" and Sufyan indicated with his hand in a fluttering motion. Others besides Malik bin Mighwal said: "There terminates the creatures' knowledge, there is no knowledge for them of what is above that
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( معراج کی رات ) سدرۃ المنتہیٰ کے پاس پہنچے تو کہا: یہی وہ آخری جگہ ہے جہاں زمین سے چیزیں اٹھ کر پہنچتی ہیں اور یہی وہ بلندی کی آخری حد ہے جہاں سے چیزیں نیچے آتی اور اترتی ہیں، یہیں اللہ نے آپ کو وہ تین چیزیں عطا فرمائیں جو آپ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں فرمائی تھیں، ( ۱ ) آپ پر پانچ نمازیں فرض کی گئیں، ( ۲ ) سورۃ البقرہ کی «خواتیم» ( آخری آیات ) عطا کی گئیں، ( ۳ ) اور آپ کی امتیوں میں سے جنہوں نے اللہ کے ساتھ شرک نہیں کیا، ان کے مہلک و بھیانک گناہ بھی بخش دیئے گئے، ( پھر ) ابن مسعود رضی الله عنہ نے آیت «إذ يغشى السدرة ما يغشى» ”ڈھانپ رہی تھی سدرہ کو جو چیز ڈھانپ رہی تھی“ ( النجم: ۱۶ ) ، پڑھ کر کہا «السدرہ» ( بیری کا درخت ) چھٹے آسمان پر ہے، سفیان کہتے ہیں: سونے کے پروانے ڈھانپ رہے تھے اور سفیان نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے انہیں چونکا دیا ( یعنی تصور میں چونک کر ان پروانوں کے اڑنے کی کیفیت دکھائی ) مالک بن مغول کے سوا اور لوگ کہتے ہیں کہ یہیں تک مخلوق کے علم کی پہنچ ہے اس سے اوپر کیا کچھ ہے کیا کچھ ہوتا ہے انہیں اس کا کچھ بھی علم اور کچھ بھی خبر نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِدْرَةَ الْمُنْتَهَى قَالَ " انْتَهَى إِلَيْهَا مَا يَعْرُجُ مِنَ الأَرْضِ وَمَا يَنْزِلُ مِنْ فَوْقَ . قَالَ فَأَعْطَاهُ اللَّهُ عِنْدَهَا ثَلاَثًا لَمْ يُعْطِهِنَّ نَبِيًّا كَانَ قَبْلَهُ فُرِضَتْ عَلَيْهِ الصَّلاَةُ خَمْسًا وَأُعْطِيَ خَوَاتِمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَغُفِرَ لأُمَّتِهِ الْمُقْحِمَاتُ مَا لَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا " . قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : ( إذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى ) قَالَ السِّدْرَةُ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ . قَالَ سُفْيَانُ فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ وَأَشَارَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ فَأَرْعَدَهَا وَقَالَ غَيْرُ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ إِلَيْهَا يَنْتَهِي عِلْمُ الْخَلْقِ لاَ عِلْمَ لَهُمْ بِمَا فَوْقَ ذَلِكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3277
Sahih
Narrated Ash-Shaibani:"I asked Zirr bin Hubaish about the saying of Allah the Might and Sublime: And was a distance of two bow lengths or less (53:9). So he said: 'Ibn Mas'ud informed me that the Prophet (ﷺ) saw Jibra'il, and he had six-hundred wings
شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے زر بن حبیش سے آیت: «فكان قاب قوسين أو أدنى» ”دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کچھ کم فرق رہ گیا“ ( النجم: ۹ ) ، کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے کہا: مجھے ابن مسعود رضی الله عنہ نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کو دیکھا اور ان کے چھ سو پر تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ سَأَلْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ عَنْ قَوْلِهِ : (فكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى ) فَقَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى جِبْرِيلَ وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
#3278
Daif Isnaad
Narrated Ash-Sha'bi:"Ibn 'Abbas met Ka'b at Arafat, so he asked him about something and he kept on saying the Takbir until it reverberated off of the mountains. So Ibn 'Abbas (finally) said: 'We are Banu Hashim.' So Ka'b said: 'Indeed Allah divided His being seen and His speaking between Muhammad and Musa. He spoke to Musa two times, and Muhammad saw Him two times.' Masruq said: 'I entered upon 'Aishah and asked her if Muhammad saw his Lord.' She said: 'You have said something that makes my hair stand on end.' I said: 'Take it easy.' Then I recited: Indeed he saw of the great signs of his Lord (53:18). So she said: 'What do you mean by that? That is only Jibra'il. Whoever informed you that Muhammad saw his Lord, or that (ﷺ) concealed something he was ordered with, or he knew of the five things about which Allah, [Most High] said: Verily Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain (31:34) - then he has fabricated the worst lie. Rather he (ﷺ) saw Jibra'il, but he did not see him in his (real) image except two times. One time at Sidrat Al-Muntaha and one time in Jiyad, he had six-hundred wings which filled the horizon
عامر شراحیل شعبی کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی الله عنہما کی ملاقات کعب الاحبار سے عرفہ میں ہوئی، انہوں نے کعب سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے تکبیرات پڑھیں جن کی صدائے بازگشت پہاڑوں میں گونجنے لگی، ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: ہم بنو ہاشم سے تعلق رکھتے ہیں، کعب نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اپنی رویت و دیدار کو اور اپنے کلام کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ ( علیہ السلام ) کے درمیان تقسیم کر دیا ہے۔ اللہ نے موسیٰ سے دو بار بات کی، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کو دو بار دیکھا۔ مسروق کہتے ہیں: میں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے پاس پہنچا، میں نے ان سے پوچھا: کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: تم نے تو ایسی بات کہی ہے جسے سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں، میں نے کہا: ٹھہریئے، جلدی نہ کیجئے ( پوری بات سن لیجئے ) پھر میں نے آیت «لقد رأى من آيات ربه الكبرى» ”پھر آپ نے اللہ کی بڑی آیات و نشانیاں دیکھیں“ ( النجم: ۱۸ ) ، تلاوت کی ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے فرمایا: ”تمہیں کہاں لے جایا گیا ہے؟ ( کہاں بہکا دیے گئے ہو؟ ) یہ دیکھے جانے والے تو جبرائیل تھے، تمہیں جو یہ خبر دے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ یا جن باتوں کا آپ کو حکم دیا گیا ہے ان میں سے آپ نے کچھ چھپا لیا ہے، یا وہ پانچ چیزیں جانتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ «إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث» ”اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے اور اللہ ہی جانتا ہے کہ بارش کب اور کہاں نازل ہو گی“ ( سورۃ لقمان: ۳۴ ) ، اس نے بڑا جھوٹ بولا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ آپ نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، جبرائیل علیہ السلام کو آپ نے ان کی اپنی اصل صورت میں صرف دو مرتبہ دیکھا ہے، ( ایک بار ) سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک بار جیاد میں ( جیاد نشیبی مکہ کا ایک محلہ ہے ) جبرائیل علیہ السلام کے چھ سو بازو تھے، انہوں نے سارے افق کو اپنے پروں سے ڈھانپ رکھا تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: داود بن ابی ہند نے شعبی سے، شعبی نے مسروق سے اور مسروق نے عائشہ رضی الله عنہا کے واسطہ سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس جیسی حدیث روایت کی، داود کی حدیث مجالد کی حدیث سے چھوٹی ہے ( لیکن وہی صحیح ہے ) ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ لَقِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَعْبًا بِعَرَفَةَ فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ، فَكَبَّرَ حَتَّى جَاوَبَتْهُ الْجِبَالُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّا بَنُو هَاشِمٍ . فَقَالَ كَعْبٌ إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ رُؤْيَتَهُ وَكَلاَمَهُ بَيْنَ مُحَمَّدٍ وَمُوسَى فَكَلَّمَ مُوسَى مَرَّتَيْنِ وَرَآهُ مُحَمَّدٌ مَرَّتَيْنِ . قَالَ مَسْرُوقٌ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ فَقَالَتْ لَقَدْ تَكَلَّمْتَ بِشَيْءٍ قَفَّ لَهُ شَعْرِي قُلْتُ رُوَيْدًا ثُمَّ قَرَأْتُ : (لقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى ) قَالَتْ أَيْنَ يُذْهَبُ بِكَ إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ مَنْ أَخْبَرَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَى رَبَّهُ أَوْ كَتَمَ شَيْئًا مِمَّا أُمِرَ بِهِ أَوْ يَعْلَمُ الْخَمْسَ الَّتِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : ( إنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ) فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ وَلَكِنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ لَمْ يَرَهُ فِي صُورَتِهِ إِلاَّ مَرَّتَيْنِ مَرَّةً عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَمَرَّةً فِي جِيَادٍ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ قَدْ سَدَّ الأُفُقَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَوَى دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ وَحَدِيثُ دَاوُدَ أَقْصَرُ مِنْ حَدِيثِ مُجَالِدٍ .
#3279
Daif
Narrated 'Ikrimah:that Ibn 'Abbas said: "Muhammad saw his Lord." I said: "Did Allah not say: No vision can grasp Him, but He grasps all vision (6:103). He said: "Woe unto you! That is when He manifests His Light. But Muhammad saw his Lord two times
عکرمہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے، میں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے «لا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار» ”اس کو آنکھیں نہیں پا سکتی ہیں ہاں وہ خود نگاہوں کو پا لیتا ہے“ ( الانعام: ۱۰۳ ) ، انہوں نے کہا: تم پر افسوس ہے ( تم سمجھ نہیں سکے ) یہ تو اس وقت کی بات ہے جب وہ اپنے ذاتی نور کے ساتھ تجلی فرمائے، انہوں نے کہا: آپ نے اپنے رب کو دو بار دیکھا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نَبْهَانَ بْنِ صَفْوَانَ الْبَصْرِيُّ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ . قُلْتُ أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ : ( لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ ) قَالَ وَيْحَكَ ذَاكَ إِذَا تَجَلَّى بِنُورِهِ الَّذِي هُوَ نُورُهُ وَقَدْ رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ مَرَّتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
#3280
Hasan Sahih
Narrated Abu Salamah:from Ibn 'Abbas regarding Allah's saying: And indeed he saw him at a second descent. Near Sidrat Al-Muntaha (53:13 & 14). So He revealed to His worshiper whatever he revealed (53:10). And was a distance of two bow lengths or less (53:9). Ibn 'Abbas said: "The Prophet (ﷺ) saw Him
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما نے آیت: «ولقد رآه نزلة أخرى عند سدرة المنتهى» ۱؎ «فأوحى إلى عبده ما أوحى» ۲؎ «فكان قاب قوسين أو أدنى» ۳؎ کی تفسیر میں کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِ اللَّهِ ( ولَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً * أُخْرَى عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى ) ( فأوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى ) (فكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى ) . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ رَآهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
#3281
Sahih
Narrated 'Ikrimah:that Ibn 'Abbas said (regarding the Ayah): The heart lied not in what he (ﷺ) saw (53:11). He said: "He saw Him with his heart
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے آیت «ما كذب الفؤاد ما رأى» ”جو کچھ انہوں نے دیکھا اسے دل نے جھٹلایا نہیں ( بلکہ اس کی تصدیق کی ) “ ( النجم: ۱۱ ) ، پڑھی، کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دل کی آنکھ سے دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَابْنُ أَبِي رِزْمَةَ، وَأَبُو نُعَيْمٍ عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ( ما كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى ) قَالَ رَآهُ بِقَلْبِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
#3282
Sahih
Narrated 'Abdullah bin Shaqiq:"I said to Abu Dharr: 'If I saw the Prophet (ﷺ) then I would asked him." He said: 'What is it that you would have asked him about?' I said: 'I would have asked him if Muhammad saw his Lord?' He said: 'I did ask him that, and he (ﷺ) said: I saw light
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی الله عنہ سے کہا: اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہوتا تو آپ سے پوچھتا، انہوں نے کہا: تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا پوچھتے؟ میں نے کہا: میں یہ پوچھتا کہ کیا آپ ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ ابوذر رضی الله عنہ نے کہا: میں نے آپ سے یہ بات پوچھی تھی، آپ نے فرمایا: ”وہ نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي ذَرٍّ لَوْ أَدْرَكْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْتُهُ . فَقَالَ عَمَّا كُنْتَ تَسْأَلُهُ قُلْتُ كُنْتُ أَسْأَلُهُ هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ فَقَالَ قَدْ سَأَلْتُهُ فَقَالَ " نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
#3283
Sahih
Narrated 'Abdur-Rahman bin Zaid:from 'Abdullah (regarding the Ayah): The heart lied not in what he saw (53:11). He said: "The Messenger of Allah (ﷺ) saw Jibra'il in a Hullah (dress normally made up of two pieces) of Rafraf filling what is between the heavens and the earth
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ اس آیت: «ما كذب الفؤاد ما رأى» کی تفسیر میں کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو باریک ریشمی جوڑا پہنے ہوئے دیکھا۔ آسمان و زمین کی ساری جگہیں ان کے وجود سے بھر گئی تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، وَابْنُ أَبِي رِزْمَةَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (ما كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى ) قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جِبْرِيلَ فِي حُلَّةٍ مِنْ رَفْرَفٍ قَدْ مَلأَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3284
Sahih
Narrated 'Ata:from Ibn 'Abbas (regarding this Ayah): Those who avoid great sins and Al-Fawahish except Al-Lamam (minor sins) (53:32). He said: "The Prophet (ﷺ) said: 'Your forgiveness, O Allah is so ample, and which of Your worshipers has not committed Al-Lamam (minor sins)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «الذين يجتنبون كبائر الإثم والفواحش إلا اللمم» ”جو لوگ بڑے گناہوں سے بچتے ہیں مگر چھوٹے گناہ ( جو کبھی ان سے سرزد ہو جائیں تو وہ بھی معاف ہو جائیں گے ) “ ( النجم: ۳۲ ) ، کی تفسیر میں کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے رب اگر بخشتا ہے تو سب ہی گناہ بخش دے، اور تیرا کون سا بندہ ایسا ہے جس سے کوئی چھوٹا گناہ بھی سرزد نہ ہوا ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف زکریا بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : (الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلاَّ اللَّمَمَ ) قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنْ تَغْفِرِ اللَّهُمَّ تَغْفِرْ جَمَّا وَأَىُّ عَبْدٍ لَكَ لاَ أَلَمَّا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاقَ .
#3285
Sahih
Narrated Ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him:"We were with the Messenger of Allah (ﷺ) in Mina, when the moon was cleft asunder into two parts. Part of it was behind the mountain, and part of it before it. The Messenger of Allah (ﷺ) said to us: 'Bear witness' meaning: The house has drawn near, and the moon has been cleft asunder (54:)
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، چاند دو ٹکڑے ہو گیا، ایک ٹکڑا ( اس جانب ) پہاڑ کے پیچھے اور دوسرا ٹکڑا اس جانب ( پہاڑ کے آگے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”گواہ رہو، یعنی اس بات کے گواہ رہو کہ «اقتربت الساعة وانشق القمر» یعنی: قیامت قریب ہے اور چاند کے دو ٹکڑے ہو چکے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِنًى فَانْشَقَّ الْقَمَرُ فِلْقَتَيْنِ فِلْقَةٌ مِنْ وَرَاءِ الْجَبَلِ وَفِلْقَةٌ دُونَهُ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اشْهَدُوا " . يَعْنِي : (اقتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ) قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3286
Sahih
Narrated Anas:"The people of Makkah asked the Prophet (ﷺ) for a sign, so the moon was cleft asunder in Makkah two times (meaning two parts), so the following was revealed: 'The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder, up to his saying: 'Magic, Mustamir (54:1 & 2)' meaning 'Going away
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اہل مکہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نشانی ( معجزہ ) کا مطالبہ کیا جس پر مکہ میں چاند دو بار دو ٹکڑے ہوا، اس پر آیت «اقتربت الساعة وانشق القمر» سے لے کر «سحر مستمر» نازل ہوئی، راوی کہتے ہیں: «سحر مستمر» میں «مستمر» کا مطلب ہے «ذاہب» ( یعنی وہ جادو جو چلا آ رہا ہو ) امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم آيَةً فَانْشَقَّ الْقَمَرُ بِمَكَّةَ مَرَّتَيْنِ فَنَزَلَت : (اقتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ) إِلَى قَوْلِهِ : (سحْرٌ مُسْتَمِرٌّ ) يَقُولُ ذَاهِبٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3287
Sahih
Narrated Ibn Mas'ud:"The moon was cleft asunder during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), so the Prophet (ﷺ) said to us: 'Bear witness
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑے ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تم سب گواہ رہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اشْهَدُوا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3288
Sahih
Narrated Ibn 'Umar:"The moon was split during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Bear witness
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب گواہ رہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ انْفَلَقَ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اشْهَدُوا " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3289
Sahih Isnaad
Narrated Muhammad bin Jubair bin Mut'im:from his father who said: "The moon was split during the time of the Messenger of Allah (ﷺ) until it became as two sections, one above this mountain and one above that mountain. So they said: 'Muhammad has cast a spell upon us.' Some of them said: 'If he could cast a spell upon us, he can not cast a spell upon all of the people
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا، ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر اور ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر، ان لوگوں نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہم پر جادو کر دیا ہے، لیکن ان ہی میں سے بعض نے ( اس کی تردید کی ) کہا: اگر انہوں نے ہمیں جادو کر دیا ہے تو ( باہر کے ) سبھی لوگوں کو جادو کے زیر اثر نہیں لا سکتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ان میں سے بعض نے یہ حدیث حصین سے حصین نے جبیر بن محمد بن جبیر بن مطعم سے، جبیر نے اپنے باپ محمد سے، محمد نے ان ( جبیر پوتا ) کے دادا جبیر بن مطعم سے اسی طرح روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى صَارَ فِرْقَتَيْنِ عَلَى هَذَا الْجَبَلِ وَعَلَى هَذَا الْجَبَلِ فَقَالُوا سَحَرَنَا مُحَمَّدٌ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَئِنْ كَانَ سَحَرَنَا مَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْحَرَ النَّاسَ كُلَّهُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ نَحْوَهُ .
#3290
Sahih
Narrated Abu Hurairah:"The idolaters of the Quraish came to the Messenger of Allah (ﷺ) arguing about Qadar, so the following was revealed: The day they will be dragged on their faces into the Fire. Taste you the touch of Hell! Verily, We have created all things with Qadar (54:)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مشرکین قریش آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تقدیر کے مسئلہ میں لڑنے ( اور الجھنے ) لگے اس پر آیت کریمہ: «يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر إنا كل شيء خلقناه بقدر» ”یاد کرو اس دن کو جب جہنم میں وہ اپنے مونہوں کے بل گھسیٹے جائیں گے ( کہا جائے گا ) دوزخ کا عذاب چکھو ہم نے ہر چیز تقدیر کے مطابق پیدا کی ہے“ ( القمر: ۴۸ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَبُو بَكْرٍ بُنْدَارٌ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ مُشْرِكُو قُرَيْشٍ يُخَاصِمُونَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي الْقَدَرِ فَنَزَلَتْْ : ( يومَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ * إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ ) . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3291
Hasan
Muhammad bin Al Munkadir narrated that:Jabir [may Allah be pleased with him] said: “The Messenger of Allah came out to his Companions, and recited Surat Ar-Rahman from its beginning to its end for them, and they were silent. So he said: ‘I recited it to the Jinns on the ‘Night of the Jinns,’ and they had a better response to it than you did. Each time I came to Allah’s saying: ‘Which of your Lords favor do you deny.’ They said: “We do not deny any of Your favors our Lord! And Yours is praise.”
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس آئے اور ان کے سامنے سورۃ الرحمن شروع سے آخر تک پڑھی، لوگ ( سن کر ) چپ رہے، آپ نے کہا: میں نے یہ سورۃ اپنی جنوں سے ملاقات والی رات میں جنوں کو پڑھ کر سنائی تو انہوں نے مجھے تمہارے بالمقابل اچھا جواب دیا، جب بھی میں پڑھتا ہوا آیت «فبأي آلاء ربكما تكذبان» پر پہنچتا تو وہ کہتے «لا بشيء من نعمك ربنا نكذب فلك الحمد» ”اے ہمارے رب! ہم تیری نعمتوں میں سے کسی نعمت کا بھی انکار نہیں کرتے، تیرے ہی لیے ہیں ساری تعریفیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے ولید بن مسلم کی روایت کے سوا جسے وہ زہیر بن محمد سے روایت کرتے ہیں، اور کسی سے نہیں جانتے، ۲- احمد بن حنبل کہتے ہیں: زہیر بن محمد جو شام میں ہیں، وہ زہیر نہیں جن سے اہل عراق روایت کرتے ہیں تو ان وہ دوسرے آدمی ہیں، لوگوں نے ان کا نام اس وجہ سے تبدیل کر دیا ہے ( تاکہ لوگ ان کا نام نہ جان سکیں ) کیونکہ لوگ ان سے منکر احادیث بیان کرتے تھے، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ اہل شام زہیر بن محمد سے مناکیر ( منکر احادیث ) روایت کرتے ہیں، اور اہل عراق ان سے صحیح احادیث روایت کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ أَبُو مُسْلِمٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، رضى الله عنه قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَرَأَ عَلَيْهِمْ سُورَةَ الرَّحْمَنِ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا فَسَكَتُوا فَقَالَ " لَقَدْ قَرَأْتُهَا عَلَى الْجِنِّ لَيْلَةَ الْجِنِّ فَكَانُوا أَحْسَنَ مَرْدُودًا مِنْكُمْ كُنْتُ كُلَّمَا أَتَيْتُ عَلَى قَوْلِهِِ : ( فبأَىِّ آلاَءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ) قَالُوا لاَ بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمْدُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ . قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ كَأَنَّ زُهَيْرَ بْنَ مُحَمَّدٍ الَّذِي وَقَعَ بِالشَّامِ لَيْسَ هُوَ الَّذِي يُرْوَى عَنْهُ بِالْعِرَاقِ كَأَنَّهُ رَجُلٌ آخَرُ قَلَبُوا اسْمَهُ يَعْنِي لِمَا يَرْوُونَ عَنْهُ مِنَ الْمَنَاكِيرِ . وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ يَقُولُ أَهْلُ الشَّامِ يَرْوُونَ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ مَنَاكِيرَ وَأَهْلُ الْعِرَاقِ يَرْوُونَ عَنْهُ أَحَادِيثَ مُقَارِبَةً .
#3292
Hasan
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said:“Allah said: ‘I have prepared for My righteous worshippers, what no eye has seen, nor ear has hear, and no human heart has conceived.’ So recite if you wish: No person knows what is kept hidden for them of delights of the eyes as a reward for what they used to do. And in Paradise there is a tree under whose shade a rider can travel for one hundred years without stopping. Recite if you wish: And in shade extended. And the space occupied by a whip in Paradise is better than the world and whatever is in it. Recite if you wish: And whoever is removed away from the Fire and admitted to Paradise, he indeed is successful. The life of this world is only the enjoyment of deception.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی چیزیں تیار کی ہیں جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ ہی کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال آیا ہے، تم چاہو تو اس آیت کو پڑھ لو «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون» ”ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کی آنکھ کی ٹھنڈک کے طور پر جو چیز تیار کی گئی ہے اسے کوئی بھی نہیں جانتا“ ( السجدۃ: ۱۷ ) ، جنت میں ایک ایسا درخت ہے جس کی ( گھنی ) چھاؤں میں سوار سو برس تک بھی چلتا چلا جائے تو بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو، تم چاہو تو آیت کا یہ ٹکڑا «وظل ممدود» ”پھیلا ہوا لمبا لمبا سایہ“ ( الواقعہ: ۳۰ ) ، پڑھ لو، جنت میں ایک کوڑا رکھنے کی جگہ برابر دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے، چاہو تو دلیل کے طور پر یہ آیت پڑھ لو «فمن زحزح عن النار وأدخل الجنة فقد فاز وما الحياة الدنيا إلا متاع الغرور» ”جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو وہ کامیاب ہو گیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے“ ( آل عمران: ۱۸۵ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَقُولُ اللَّهُ أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لاَ عَيْنٌ رَأَتْ وَلاَ أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلاَ خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : ( فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ) وَفِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لاَ يَقْطَعُهَا وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : ( وظِلٍّ مَمْدُودٍ ) وَمَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : ( فمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُورِ ) " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3293
Sahih
Anas narrated that the Prophet said:“Indeed in Paradise there is a tree under whose shade a rider can travel for one hundred years without stopping. Recite if you wish: And in shave extended. And water flowing constantly.”
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک درخت ہے، سوار اس کے سایہ میں سو سال تک چلے گا پھر بھی اس درخت کے سایہ کو عبور نہ کر سکے گا، اگر چاہو تو پڑھو «وظل ممدود وماء مسكوب» ”ان کے لیے دراز سایہ ہے اور ( فراواں ) بہتا ہوا پانی“ ( الواقعہ: ۳۰ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لاَ يَقْطَعُهَا وَإِنْ شِئْتُمْ فَاقْرَءُوا : ( وَظِلٍّ مَمْدُودٍ * وَمَاءٍ مَسْكُوبٍ ) " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ .
#3294
Daif
Abu Sa’eed Al-Khudri may Allah be pleased with him, narrated :from the Prophet – regarding Allah’s saying ‘And on couches raised high – he said: “Their height is as what is between the heavens and the earth, and the distance between the two of them is five hundred years.”
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «وفرش مرفوعة» ”جنتیوں کے اونچے اونچے بچھونے ہوں گے“ ( الواقعہ: ۳۴ ) ، کے سلسلے میں فرمایا: ”ان بچھونوں کی اونچائی اتنی ہے جنتا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے اور ان کے درمیان چلنے کی مسافت پانچ سو سال کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف رشدین کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض اہل علم کہتے ہیں: اس حدیث میں «ارتفاعها كما بين السماء والأرض» کا مفہوم یہ ہے کہ بچھونوں کی اونچائی درجات کی بلندی کے مطابق ہو گی اور ہر دو درجے کے درمیان کا فاصلہ اتنا ہو گا جتنا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رضى الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي قَوْلِهِ : ( وفُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ ) قَالَ " ارْتِفَاعُهَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ وَمَسِيرَةُ مَا بَيْنَهُمَا خَمْسُمِائَةِ عَامٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ وَارْتِفَاعُهَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ . قَالَ ارْتِفَاعُ الْفُرُشِ الْمَرْفُوعَةِ فِي الدَّرَجَاتِ وَالدَّرَجَاتُ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ .
#3295
Daif Isnaad
Abu Abdur-Rahman narrated from Ali that :the Messenger of Allah said: And you make your provision your demise! – he said: “Your gratitude is expressed by saying: ‘We received rain because of this and that celestial position, and because of this and that star.’”
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وتجعلون رزقكم أنكم تكذبون» ”اور تم اپنے رزق ( کا شکریہ یہ ادا کرتے ہو کہ ) تم ( اللہ کی رزاقیت کی ) تکذیب کرتے ہو“ ( الواقعہ: ۸۲ ) ، کے متعلق فرمایا: ”تمہارا «شكر» یہ ہوتا ہے: تم کہتے ہو کہ یہ بارش فلاں فلاں نچھتر کے باعث اور فلاں فلاں ستاروں کی گردش کی بدولت ہوئی ہے۔ اس طرح تم جھوٹ بول کر حقیقت کو جھٹلاتے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ہم اسے اسرائیل کی روایت کے سوا اور کسی سند سے مرفوع نہیں جانتے، ۲- اس حدیث کو سفیان ثوری نے عبدالاعلی سے، عبدالاعلیٰ نے ابوعبدالرحمٰن سلمی سے، اور عبدالرحمٰن نے علی سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " : (أتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ ) قَالَ شُكْرُكُمْ تَقُولُونَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا وَبِنَجْمِ كَذَا وَكَذَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ لاَ نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ . وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ، مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، .
#3296
Daif Isnaad
Anas [may Allah be pleased with him] said:“The Messenger of Allah recited: Verily, We have created them a special creation. He said: “Among that special creation is the women who were decrepit, bleary eyed and elderly in the world.”
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «إنا أنشأناهن إنشاء» ”ہم انہیں نئی اٹھان اٹھائیں گے نئی اٹھان“ ( الواقعہ: ۸۲ ) ، کے سلسلے میں فرمایا: ”ان نئی اٹھان والی عورتوں میں وہ عورتیں بھی ہیں جو دنیا میں بوڑھی تھیں، جن کی آنکھیں خراب ہو چکی ہوں اور ان سے پانی بہتا رہتا ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف موسیٰ بن عبیدہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اور موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْخُزَاعِيُّ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ، عَنْ أَنَسٍ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلمَّ : (إنا أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنْشَاءً ) قَالَ " إِنَّ مِنَ الْمُنْشَآتِ اللاَّئِي كُنَّ فِي الدُّنْيَا عَجَائِزَ عُمْشًا رُمْصًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ وَمُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَيَزِيدُ بْنُ أَبَانَ الرَّقَاشِيُّ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ .
#3297
Sahih
Abu Ishaq narrated from Ikrimah, from Ibn Abbas who said:“Abu Bakr [may Allah be pleased with him] said: ‘O Messenger of Allah! You have become gray.’ He said: ‘I have gone gray from (Surat) Hud, Al-Waqi`ah, Al-Mursalat and `Amma Yatasa'alun and Idhash-Shamsu Kuwwirat.’”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ تو بوڑھے ہو چلے؟ آپ نے فرمایا: ”مجھے «هود»، «الواقعة»، «المرسلات»، «عم يتساءلون» اور سورۃ «إذا الشمس کوّرت» نے بوڑھا کر دیا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے ابن عباس رضی الله عنہما کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- علی بن صالح نے یہ حدیث اسی طرح ابواسحاق سے، اور ابواسحاق نے ابوحجیفہ رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، ۳- اس حدیث کی کچھ باتیں ابواسحاق ابومیسرہ سے مرسلاً روایت کی گئی ہیں۔ ابوبکر بن عیاش نے ابواسحاق کے واسطہ سے، ابواسحاق نے عکرمہ سے، اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شیبان کی اس حدیث جیسی روایت کی ہے جسے انہوں نے ابواسحاق سے روایت کی ہے اور انہوں نے اس روایت میں ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ شِبْتَ . قَالَ " شَيَّبَتْنِي هُودٌ وَالْوَاقِعَةُ وَالْمُرْسَلاَتُ وَ عمَّ يَتَسَاءَلُونَ وَإذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَرَوَى عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ نَحْوَ هَذَا . وَرُوِيَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ شَيْءٌ مِنْ هَذَا مُرْسَلاً . وَرَوَى أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِ شَيْبَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ هَاشِمُ بْنُ الْوَلِيدِ الْهَرَوِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ .
#3298
Daif
Al-Hasan narrated that:Abu Hurairah said: “Once when the Prophet of Allah was sitting with his Companions, a cloud came above them, so the Prophet of Allah said: ‘Do you know what this is?’ They said: ‘Allah and His Messenger know better.’ He said: ‘These are the clouds that are to drench the earth, which Allah [Blessed and Most High] dispatches to people who are not grateful to Him, nor supplicate to Him.’ Then he said: ‘Do you know what is above you?’ They said: ‘Allah and His Messenger know better.’ He said: ‘Indeed it is a preserved canopy of the firmament whose surge is restrained.’ Then he said: ‘Do you know how much is between you and between it?’ They said: ‘Allah and His Messenger know better.’ He said: ‘Between you and it [is the distance] of five-hundred year.’ Then he said: ‘Do you know what is above that.’ They said: ‘Allah and His Messenger know better.’ He said: ‘Verily, above that are two Heavens, between the two of them there is a distance of five-hundred years’ – until he enumerated seven Heavens – ‘What is between each of the two Heavens is what is between the heavens and the earth.’ Then he said: ‘Do you know what is above that?’ They said: ‘Allah and His Messenger know better.’ He said: ‘Verily, above that is the Throne between it and the heavens is a distance [like] what is between two of the heavens.’ Then he said: ‘Do you know what is under you?’ They said: ‘Allah and His Messenger know better.’ He said: ‘Indeed it is the earth.’ Then he said: ‘Do you know what is under that?’ They said: ‘Allah and His Messenger know better.’ He said: ‘Verily, below it is another earth, between the two of which is a distance of five-hundred years.’ Until he enumerated seven earths: ‘Between every two earths is a distance of five-hundred years.’ Then he said: ‘By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad! If you were to send [a man] down with a rope to the lowest earth, then he would descend upon Allah.’ Then he recited: He is Al-Awwal, Al-Akhir, Az-Zahir Al-Batin, and He has knowledge over all things.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اس دوران کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ بیٹھے ہوئے تھے، ان پر ایک بدلی آئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”یہ بادل ہے اور یہ زمین کے گوشے و کنارے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس بادل کو ایک ایسی قوم کے پاس ہانک کر لے جا رہا ہے جو اس کی شکر گزار نہیں ہے اور نہ ہی اس کو پکارتے ہیں“، پھر آپ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو تمہارے اوپر کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”یہ آسمان «رقیع» ہے، ایسی چھت ہے جو ( جنوں سے ) محفوظ کر دی گئی ہے، ایک ایسی ( لہر ) ہے جو ( بغیر ستون کے ) روکی ہوئی ہے“، پھر آپ نے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو کہ کتنا فاصلہ ہے تمہارے اور اس کے درمیان؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”تمہارے اور اس کے درمیان پانچ سو سال مسافت کی دوری ہے“، پھر آپ نے پوچھا: ”کیا تمہیں معلوم ہے اور اس سے اوپر کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ معلوم ہے، آپ نے فرمایا: ”اس کے اوپر دو آسمان ہیں جن کے بیچ میں پانچ سو سال کی مسافت ہے“۔ ایسے ہی آپ نے سات آسمان گنائے، اور ہر دو آسمان کے درمیان وہی فاصلہ ہے جو آسمان و زمین کے درمیان ہے، پھر آپ نے پوچھا: ”اور اس کے اوپر کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، اور اس کے رسول آپ نے فرمایا: ”اس کے اوپر عرش ہے، عرش اور آسمان کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی دوری دو آسمانوں کے درمیان ہے“، آپ نے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو تمہارے نیچے کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں: آپ نے فرمایا: ”یہ زمین ہے“، آپ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو اس کے نیچے کیا ہے؟“، لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں آپ نے فرمایا: ”اس کے نیچے دوسری زمین ہے، ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کی دوری ہے“، اس طرح آپ نے سات زمینیں شمار کیں، اور ہر زمین کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کی دوری بتائی، پھر آپ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر تم کوئی رسی زمین کی نچلی سطح تک لٹکاؤ تو وہ اللہ ہی تک پہنچے گی، پھر آپ نے آیت «هو الأول والآخر والظاهر والباطن وهو بكل شيء عليم» ”وہی اول و آخر ہے وہی ظاہر و باطن ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے“ ( الحدید: ۳ ) ، پڑھی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- ایوب، یونس بن عبید اور علی بن زید سے مروی ہے، ان لوگوں نے کہا ہے کہ حسن بصری نے ابوہریرہ سے نہیں سنا ہے، ۳- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر کرتے ہوئے کہا: مراد یہ ہے کہ وہ رسی اللہ کے علم پر اتری ہے، اور اللہ اور اس کی قدرت و حکومت ہر جگہ ہے اور جیسا کہ اس نے اپنی کتاب ( قرآن مجید ) میں اپنے متعلق بتایا ہے وہ عرش پر مستوی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، - الْمَعْنَى وَاحِدٌ قَالُوا حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَمَا نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ وَأَصْحَابُهُ إِذْ أَتَى عَلَيْهِمْ سَحَابٌ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذَا " . فَقَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " هَذَا الْعَنَانُ هَذِهِ رَوَايَا الأَرْضِ يَسُوقُهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى قَوْمٍ لاَ يَشْكُرُونَهُ وَلاَ يَدْعُونَهُ " . ثُمَّ قَالَ " هَلْ تَدْرُونَ مَا فَوْقَكُمْ " . قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " فَإِنَّهَا الرَّقِيعُ سَقْفٌ مَحْفُوظٌ وَمَوْجٌ مَكْفُوفٌ " . ثُمَّ قَالَ " هَلْ تَدْرُونَ كَمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا " . قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ سَنَةٍ " . ثُمَّ قَالَ " هَلْ تَدْرُونَ مَا فَوْقَ ذَلِكَ " . قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " فَإِنَّ فَوْقَ ذَلِكَ سَمَاءَيْنِ وَمَا بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ " . حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَوَاتٍ مَا بَيْنَ كُلِّ سَمَاءَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ . ثُمَّ قَالَ " هَلْ تَدْرُونَ مَا فَوْقَ ذَلِكَ " . قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " فَإِنَّ فَوْقَ ذَلِكَ الْعَرْشَ وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ بُعْدُ مَا بَيْنَ السَّمَاءَيْنِ " . ثُمَّ قَالَ " هَلْ تَدْرُونَ مَا الَّذِي تَحْتَكُمْ " . قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " فَإِنَّهَا الأَرْضُ " . ثُمَّ قَالَ " هَلْ تَدْرُونَ مَا الَّذِي تَحْتَ ذَلِكَ " . قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " فَإِنَّ تَحْتَهَا الأَرْضَ الأُخْرَى بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ سَنَةٍ " . حَتَّى عَدَّ سَبْعَ أَرَضِينَ بَيْنَ كُلِّ أَرْضَيْنِ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ سَنَةٍ ثُمَّ قَالَ " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ أَنَّكُمْ دَلَّيْتُمْ رَجُلاً بِحَبْلٍ إِلَى الأَرْضِ السُّفْلَى لَهَبَطَ عَلَى اللَّهِ " . ثُمَّ قَرَأََ ( هو الأَوَّلُ وَالآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ) . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . قَالَ وَيُرْوَى عَنْ أَيُّوبَ وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ قَالُوا لَمْ يَسْمَعِ الْحَسَنُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَفَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالُوا إِنَّمَا هَبَطَ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ وَسُلْطَانِهِ . عِلْمُ اللَّهِ وَقُدْرَتُهُ وَسُلْطَانُهُ فِي كُلِّ مَكَانٍ وَهُوَ عَلَى الْعَرْشِ كَمَا وَصَفَ فِي كِتَابِهِ .
#3299
Sahih
Salamah bin Sakhr Al Ansari said:“I was a man who had an issue with intercourse with a women that none other than me had. When (the month of) Ramadan entered, I pronounced Zihar upon my wife (to last) until the end of Ramadan, fearing that I might have an encounter with her during the night, and I would continue doing that until daylight came upon me, and I would not be able to stop. One night while she was serving me, something of her became exposed for me, so I rushed myself upon her. When the morning came I went to my people to inform them about what happened to me. I said: ‘Accompany me to the Messenger of Allah to inform him about my case.’ They said: ‘No by Allah! We shall not do that, we feat that something will be revealed about us in the Qur’an, or the Messenger of Allah might say something about us, the disgrace of which will remain upon us. But you do and do whatever you want.’” He said: “So I left and I went to the Messenger of Allah, and informed him of my case. He said: ‘You are the one who did that?” I said: ‘I am the one.’ He said: ‘You are the one who did that?” I said: ‘I am the one.’ He said: ‘You are the one who did that?” I said: ‘I am the one, it is before you, so give me Allah’s judgment, for I shall be patient with that.’ He said: ‘Free a slave.’” He said: “I struck the sides of my neck with me hands, and said: ‘No by the One Who sent you with the Truth! I possess nothing besides it.’ He said: ‘Then fast for two months’ I said: ‘O Messenger of Allah! Did this occur to me other than when I was fasting?’ He said: ‘Then feed sixty poor people.’ I said: ‘By the One Who sent you with the Truth! We have spent these nights of ours hungry without an evening meal.’ He said: ‘Go to the one with the charity from Banu Ruzaiq, tell him to give it to you, then feed a Wasq of it, on your behalf, to sixty poor people. Then help yourself and your dependants with the remainder of it.’” He said: “I returned to my people and said: ‘I found dejection and bad ideas with you, and I found liberalness and blessing with the Messenger of Allah. He ordered me to take your charity, so give it to me.’ So they gave it to me.”
سلمہ بن صخر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے عورت سے جماع کی جتنی شہوت و قوت ملی تھی ( میں سمجھتا ہوں ) اتنی کسی کو بھی نہ ملی ہو گی، جب رمضان کا مہینہ آیا تو میں نے اس ڈر سے کہ کہیں میں رمضان کی رات میں بیوی سے ملوں ( صحبت کر بیٹھوں ) اور پے در پے جماع کئے ہی جاؤں کہ اتنے میں صبح ہو جائے اور میں اسے چھوڑ کر علیحدہ نہ ہو پاؤں، میں نے رمضان کے ختم ہونے تک کے لیے بیوی سے ظہار ۱؎ کر لیا، پھر ایسا ہوا کہ ایک رات میری بیوی میری خدمت کر رہی تھی کہ اچانک مجھے اس کی ایک چیز دکھائی پڑ گئی تو میں ( اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا ) اسے دھر دبوچا، جب صبح ہوئی تو میں اپنی قوم کے پاس آیا اور انہیں اپنے حال سے باخبر کیا، میں نے ان سے کہا کہ میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو تاکہ میں آپ کو اپنے معاملے سے باخبر کر دوں، ان لوگوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! ہم نہ جائیں گے، ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہمارے متعلق قرآن ( کوئی آیت ) نازل نہ ہو جائے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات نہ کہہ دیں جس کی شرمندگی برقرار رہے، البتہ تم خود ہی جاؤ اور جو مناسب ہو کرو، تو میں گھر سے نکلا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ کو اپنی بات بتائی، آپ نے فرمایا: ”تم نے یہ کام کیا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، میں نے ایسا کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”تم نے ایسا کیا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، میں نے ایسا کیا ہے آپ نے ( تیسری بار بھی یہی ) پوچھا: ”تو نے یہ بات کی ہے“، میں نے کہا: جی ہاں، مجھ سے ہی ایسی بات ہوئی ہے، مجھ پر اللہ کا حکم جاری و نافذ فرمائیے، میں اپنی اس بات پر ثابت و قائم رہنے والا ہوں، آپ نے فرمایا: ”ایک غلام آزاد کرو“، میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مار کر کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں اپنی اس گردن کے سوا کسی اور گردن کا مالک نہیں ہوں ( غلام کیسے آزاد کروں ) آپ نے فرمایا: ”پھر دو مہینے کے روزے رکھو“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے جو پریشانی و مصیبت لاحق ہوئی ہے وہ اسی روزے ہی کی وجہ سے تو لاحق ہوئی ہے، آپ نے فرمایا: ”تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو“، میں نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! ہم نے یہ رات بھوکے رہ کر گزاری ہے، ہمارے پاس رات کا بھی کھانا نہ تھا، آپ نے فرمایا: ”بنو زریق کے صدقہ دینے والوں کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ تمہیں صدقہ کا مال دے دیں اور اس میں سے تم ایک وسق ساٹھ مسکینوں کو اپنے کفارہ کے طور پر کھلا دو اور باقی جو کچھ بچے وہ اپنے اوپر اور اپنے بال بچوں پر خرچ کرو، وہ کہتے ہیں: پھر میں لوٹ کر اپنی قوم کے پاس آیا، میں نے کہا: میں نے تمہارے پاس تنگی، بدخیالی اور بری رائے و تجویز پائی، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کشادگی اور برکت پائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہارا صدقہ لینے کا حکم دیا ہے تو تم لوگ اسے مجھے دے دو، چنانچہ ان لوگوں نے مجھے دے دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: سلیمان بن یسار نے میرے نزدیک سلمہ بن صخر سے نہیں سنا ہے، سلمہ بن صخر کو سلمان بن صخر بھی کہتے ہیں، ۳- اس باب میں خولہ بنت ثعلبہ سے بھی روایت ہے، اور یہ اوس بن صامت کی بیوی ہیں ( رضی الله عنہما ) ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ كُنْتُ رَجُلاً قَدْ أُوتِيتُ مِنْ جِمَاعِ النِّسَاءِ مَا لَمْ يُؤْتَ غَيْرِي فَلَمَّا دَخَلَ رَمَضَانُ تَظَاهَرْتُ مِنَ امْرَأَتِي حَتَّى يَنْسَلِخَ رَمَضَانُ فَرَقًا مِنْ أَنْ أُصِيبَ مِنْهَا فِي لَيْلَتِي فَأَتَتَابَعَ فِي ذَلِكَ إِلَى أَنْ يُدْرِكَنِي النَّهَارُ وَأَنَا لاَ أَقْدِرُ أَنْ أَنْزِعَ فَبَيْنَمَا هِيَ تَخْدُمُنِي ذَاتَ لَيْلَةٍ إِذْ تَكَشَّفَ لِي مِنْهَا شَيْءٌ فَوَثَبْتُ عَلَيْهَا فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمْ خَبَرِي فَقُلْتُ انْطَلِقُوا مَعِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأُخْبِرُهُ بِأَمْرِي . فَقَالُوا لاَ وَاللَّهِ لاَ نَفْعَلُ نَتَخَوَّفُ أَنْ يَنْزِلَ فِينَا قُرْآنٌ أَوْ يَقُولَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَقَالَةً يَبْقَى عَلَيْنَا عَارُهَا وَلَكِنِ اذْهَبْ أَنْتَ فَاصْنَعْ مَا بَدَا لَكَ . قَالَ فَخَرَجْتُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرِي . فَقَالَ " أَنْتَ بِذَاكَ " . قُلْتُ أَنَا بِذَاكَ . قَالَ " أَنْتَ بِذَاكَ " . قُلْتُ أَنَا بِذَاكَ . قَالَ " أَنْتَ بِذَاكَ " . قُلْتُ أَنَا بِذَاكَ وَهَا أَنَا ذَا فَأَمْضِ فِيَّ حُكْمَ اللَّهِ فَإِنِّي صَابِرٌ لِذَلِكَ . قَالَ " أَعْتِقْ رَقَبَةً " . قَالَ فَضَرَبْتُ صَفْحَةَ عُنُقِي بِيَدِي فَقُلْتُ لاَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ غَيْرَهَا . قَالَ " صُمْ شَهْرَيْنِ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ أَصَابَنِي مَا أَصَابَنِي إِلاَّ فِي الصِّيَامِ . قَالَ " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " . قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ وَحْشَى مَا لَنَا عَشَاءٌ . قَالَ " اذْهَبْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَقُلْ لَهُ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ فَأَطْعِمْ عَنْكَ مِنْهَا وَسْقًا سِتِّينَ مِسْكِينًا ثُمَّ اسْتَعِنْ بِسَائِرِهِ عَلَيْكَ وَعَلَى عِيَالِكَ " . قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَى قَوْمِي فَقُلْتُ وَجَدْتُ عِنْدَكُمُ الضِّيقَ وَسُوءَ الرَّأْىِ وَوَجَدْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم السَّعَةَ وَالْبَرَكَةَ أَمَرَ لِي بِصَدَقَتِكُمْ فَادْفَعُوهَا إِلَىَّ فَدَفَعُوهَا إِلَىَّ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . قَالَ مُحَمَّدٌ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ لَمْ يَسْمَعْ عِنْدِي مِنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ . قَالَ وَيُقَالُ سَلَمَةُ بْنُ صَخْرٍ وَسَلْمَانُ بْنُ صَخْرٍ . وَفِي الْبَابِ عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ وَهِيَ امْرَأَةُ أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ .
#3300
Daif Isnaad
Ali bin Abi Talib said:“When (the following) was revealed: ‘O you who believe! When you consult the Messenger in private, spend something in charity before your private consultation.’ The Prophet said to me: ‘What do you think? A dinar?’ I said: ‘They will not be able to.’ He said: ‘Then half a Dinar?’ I said: ‘They will not be able.’ He said: ‘Then how much?’ I said ‘A barely corn.’ He said: ‘You made it too little.’” He said: “So the Ayah was revealed: ‘Are you afraid of spending in charity before your private consultation?’ He said: “It was about my case for which Allah lightened the burden upon this Ummah.”
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب آیت کریمہ: «يا أيها الذين آمنوا إذا ناجيتم الرسول فقدموا بين يدي نجواكم صدقة» ”اے ایمان والو! جب رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے سرگوشی کرنا چاہو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو“ ( المجادلہ: ۱۲ ) ، نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”تمہاری کیا رائے ہے، ایک دینار صدقہ مقرر کر دوں؟“ میں نے کہا: لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے، آپ نے فرمایا: ”تو کیا آدھا دینار مقرر کر دوں؟ میں نے کہا: اس کی بھی طاقت نہیں رکھتے“، آپ نے فرمایا: ”پھر کتنا کر دوں؟“ میں نے کہا: ایک جو کر دیں، آپ نے فرمایا: ”تم تو بالکل ہی گھٹا دینے والے نکلے“، اس پر یہ آیت نازل ہوئی «أأشفقتم أن تقدموا بين يدي نجواكم صدقات» ”کیا تم اس حکم سے ڈر گئے کہ تم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقے دے دیا کرو“ ( المجادلہ: ۱۳ ) ، علی رضی الله عنہ کہتے ہیں: اللہ نے میری وجہ سے فضل فرما کر اس امت کے معاملے میں تخفیف فرما دی ( یعنی اس حکم کو منسوخ کر دیا ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- علی رضی الله عنہ کے قول «شعيرة» سے مراد ایک جو کے برابر ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلْقَمَةَ الأَنْمَارِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ : (يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً ) . قَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا تَرَى دِينَارًا " . قُلْتُ لاَ يُطِيقُونَهُ . قَالَ " فَنِصْفُ دِينَارٍ " . قُلْتُ لاَ يُطِيقُونَهُ . قَالَ " فَكَمْ " . قُلْتُ شَعِيرَةٌ . قَالَ " إِنَّكَ لَزَهِيدٌ " . قَالَ فَنَزَلَتْ : (أأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ ) الآيَةَ . قَالَ فَبِي خَفَّفَ اللَّهُ عَنْ هَذِهِ الأُمَّةِ . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَمَعْنَى قَوْلِهِ شَعِيرَةٌ يَعْنِي وَزْنَ شَعِيرَةٍ مِنْ ذَهَبٍ وَأَبُو الْجَعْدِ اسْمُهُ رَافِعٌ .