#3251
Sahih
Narrated Tawus:Ibn 'Abbas was asked about this Ayah: Say: "No reward do I ask of you for this except to be kind for my kinship with you (42:23)." So Sa'eed bin Jubair said: 'To be kind to the family of Muhammad.' Ibn 'Abbas replied: 'You know that there was no family of the Quraish except that the Messenger of Allah (ﷺ) had some relatives among them.' He said: 'Except that you should uphold ties of kinship that exist between me and you
طاؤس کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے اس آیت «قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربى» ”اے نبی! کہہ دو میں تم سے ( اپنی دعوت و تبلیغ کا ) کوئی اجر نہیں مانگتا، ہاں چاہتا ہوں کہ قرابت داروں میں الفت و محبت پیدا ہو“ ( الشوریٰ: ۲۳ ) ، کے بارے میں پوچھا گیا، اس پر سعید بن جبیر نے کہا: «قربیٰ» سے مراد آل محمد ہیں، ابن عباس نے کہا: ( تم نے رشتہ داری کی تشریح میں جلد بازی کی ہے ) قریش کی کوئی شاخ ایسی نہیں تھی جس میں آپ کی رشتہ داری نہ ہو، ( آیت کا مفہوم ہے ) اللہ نے کہا: میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا ( بس میں تو یہ چاہتا ہوں کہ ) ہمارے اور تمہارے درمیان جو رشتہ داری ہے اس کا پاس و لحاظ رکھو اور ایک دوسرے سے حسن سلوک کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے ابن عباس رضی الله عنہما سے آئی ہے۔
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ طَاوُسًا، قَالَ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ : (قل لاَ أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى ) فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ قُرْبَى آلِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَعَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلاَّ كَانَ لَهُ فِيهِمْ قَرَابَةٌ فَقَالَ إِلاَّ أَنْ تَصِلُوا مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنَ الْقَرَابَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
#3252
Daif Isnaad
Narrated 'Ubaidullah bin Al-Wazi':"A Shaikh from Banu Murrah narrated to me, he said: 'I arrived in Al-Kufah and was informed about Bilal bin Abi Burdah so I said: "Indeed there is a lesson in him" so I went to him while he was imprisoned in his home, which he had built.' He said: 'After everything that had happened to him he had changed due to the punishment and the beatings, and now he was living in isolation. So I said: "All praise is due to Allah O Bilal! I have seen you passing you by us holding your nose, and it was not from the dust! And today you are in this state.' So he said: 'Where are you from?' I said: 'From Banu Murrah bin 'Abbad.' So he said: 'Shall I not narrate a Hadith to you, perhaps Allah will benefit you by it?' I said: 'Go ahead.' He said: 'My father, Abu Burdah narrated from his father Abu Musa, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "No worshiper suffers a calamity nor what is worse than that or less, except due to a sin, and what Allah pardons as a result of it is more." He (Abu Musa) said: "And he recited: And whatever misfortune befalls you, it is because of what your hands have earned (42:)
بنی مرہ کے ایک شیخ کہتے ہیں کہ میں کوفہ آیا مجھے بلال بن ابوبردہ ۱؎ کے حالات کا علم ہوا تو میں نے ( جی میں ) کہا کہ ان میں عبرت و موعظت ہے، میں ان کے پاس آیا، وہ اپنے اس گھر میں محبوس و مقید تھے جسے انہوں نے خود ( اپنے عیش و آرام کے لیے ) بنوایا تھا، عذاب اور مار پیٹ کے سبب ان کی ہر چیز کی صورت و شکل بدل چکی تھی، وہ چیتھڑا پہنے ہوئے تھے، میں نے کہا: اے بلال! تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، میں نے آپ کو اس وقت بھی دیکھا ہے جب آپ بغیر دھول اور گردوغبار کے ( نزاکت و نفاست سے ) ناک پکڑ کر ہمارے پاس سے گزر جاتے تھے، اور آج آپ اس حالت میں ہیں؟ انہوں نے کہا: تم کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہو؟ میں نے کہا: بنی مرہ بن عباد سے، انہوں نے کہا: کیا میں تم سے ایک ایسی حدیث نہ بتاؤں جس سے امید ہے کہ اللہ تمہیں اس سے فائدہ پہنچائے گا، میں نے کہا: پیش فرمائیے، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے باپ ابوبردہ نے بیان کیا اور وہ اپنے باپ ابوموسیٰ اشعری سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کسی بندے کو چھوٹی یا بڑی جو بھی مصیبت پہنچتی ہے اس کے گناہ کے سبب ہی پہنچتی ہے، اور اللہ اس کے جن گناہوں سے درگزر فرما دیتا ہے وہ تو بہت ہوتے ہیں“۔ پھر انہوں نے آیت پڑھی «وما أصابكم من مصيبة فبما كسبت أيديكم ويعفو عن كثير» ( الشورى: 30 ) پڑھی ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَازِعِ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ، مِنْ بَنِي مُرَّةَ قَالَ قَدِمْتُ الْكُوفَةَ فَأُخْبِرْتُ عَنْ بِلاَلِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، فَقُلْتُ إِنَّ فِيهِ لَمُعْتَبَرًا فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ مَحْبُوسٌ فِي دَارِهِ الَّتِي قَدْ كَانَ بَنَى قَالَ وَإِذَا كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ قَدْ تَغَيَّرَ مِنَ الْعَذَابِ وَالضَّرْبِ وَإِذَا هُوَ فِي قُشَاشٍ فَقُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ يَا بِلاَلُ لَقَدْ رَأَيْتُكَ وَأَنْتَ تَمُرُّ بِنَا تُمْسِكُ بِأَنْفِكَ مِنْ غَيْرِ غُبَارٍ وَأَنْتَ فِي حَالِكَ هَذَا الْيَوْمَ فَقَالَ مِمَّنْ أَنْتَ فَقُلْتُ مِنْ بَنِي مُرَّةَ بْنِ عَبَّادٍ . فَقَالَ أَلاَ أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا عَسَى اللَّهُ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ قُلْتُ هَاتِ . قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَبُو بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَبِي مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يُصِيبُ عَبْدًا نَكْبَةٌ فَمَا فَوْقَهَا أَوْ دُونَهَا إِلاَّ بِذَنْبٍ وَمَا يَعْفُو اللَّهُ عَنْهُ أَكْثَرُ " . قَالَ وَقَرَأََ : (وما أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ ) . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
#3253
Hasan
Narrated Abu Umamah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "No people go astray after having been guided, but they resort to arguing." Then the Messenger of Allah (ﷺ) recited this Ayah: '...They quoted not the above example except for argument. Nay! But they are quarrelsome people... (43:)
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی قوم ہدایت پانے کے بعد جب گمراہ ہو جاتی ہے تو جھگڑا لو اور مناظرہ باز ہو جاتی ہے، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی «ما ضربوه لك إلا جدلا بل هم قوم خصمون» ”یہ لوگ تیرے سامنے صرف جھگڑے کے طور پر کہتے ہیں بلکہ یہ لوگ طبعاً جھگڑالو ہیں“ ( الزخرف: ۵۸ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم اسے صرف حجاج بن دینار کی روایت سے جانتے ہیں، حجاج ثقہ، مقارب الحدیث ہیں اور ابوغالب کا نام حزور ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا ضَلَّ قَوْمٌ بَعْدَ هُدًى كَانُوا عَلَيْهِ إِلاَّ أُوتُوا الْجَدَلَ " . ثُمَّ تَلاَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَذِهِ الآيَةَ : (ما ضَرَبُوهُ لَكَ إِلاَّ جَدَلاً بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ ) . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ حَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ . وَحَجَّاجٌ ثِقَةٌ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ وَأَبُو غَالِبٍ اسْمُهُ حَزَوَّرُ .
#3254
Sahih
Narrated Masruq:"A man came to 'Abdullah and said: 'A story teller has said that a smoke will appear from the earth, taking the hearing of disbelievers and manifesting as a cold for the believers.'" He became angry, and since he was reclining, he sat up then said: 'When one of you is asked about something he knows, then let him speak accordingly' - Mansur (one of the narrators) narrated it as: "Then let him inform of it" - "And when asked about what he does not know, then let him say: "Allah knows best." For indeed, it is part of a man's knowledge, that when he is asked about something he does not know, he says: "Allah knows best." For verily Allah, Most High said to His Prophet: Say: "No wage do I ask of you for this, nor am I one of the pretenders (38:86)." When the Messenger of Allah (ﷺ) saw that the Quraish were behaving stubbornly with him, he said: "O Allah! Assist me against them with seven (years of famine) like the seven of Yusuf." So He punished them with drought making everything barren, until they ate skins and carcasses" - one of them said: "bones." He said: 'And it appeared that smoke was coming out of the earth. So Abu Sufyan came to him and said: "Verily your people are being destroyed, so supplicate to Allah for them." He said: "So this is about His saying: 'The Day when the sky will bring forth a visible smoke, covering the people, this is a painful torment (44:10 & 11).'" Mansur narrated it as: "So this is about His saying: Our Lord! Remove the torment from us, really we shall become believers (44:12)." - "So shall the punishment be removed from them in the Hereafter? Al-Batshah (humiliated defeat in Badr), Al-Lizam (disbeliever captives from Badr), the smoke," - one of them said: "The moon" the other said: "The Romans have all passed
مسروق کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے پاس آ کر کہا: ایک قصہ گو ( واعظ ) قصہ بیان کرتے ہوئے کہہ رہا تھا ( قیامت کے قریب ) زمین سے دھواں نکلے گا، جس سے کافروں کے کان بند ہو جائیں گے، اور مسلمانوں کو زکام ہو جائے گا۔ مسروق کہتے ہیں: یہ سن کر عبداللہ غصہ ہو گئے ( پہلے ) ٹیک لگائے ہوئے تھے، ( سنبھل کر ) بیٹھ گئے۔ پھر کہا: تم میں سے جب کسی سے کوئی چیز پوچھی جائے اور وہ اس کے بارے میں جانتا ہو تو اسے بتانی چاہیئے اور جب کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جسے وہ نہ جانتا ہو تو اسے «اللہ اعلم» ”اللہ بہتر جانتا ہے“ کہنا چاہیئے، کیونکہ یہ آدمی کے علم و جانکاری ہی کی بات ہے کہ جب اس سے کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جسے وہ نہ جانتا ہو تو وہ کہہ دے «اللہ اعلم» ”اللہ بہتر جانتا ہے“، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا: «قل ما أسألكم عليه من أجر وما أنا من المتكلفين» ”کہہ دو میں تم سے اس کام پر کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، اور میں خود سے باتیں بنانے والا بھی نہیں ہوں“ ( ص: ۸۶ ) ، ( بات اس دخان کی یہ ہے کہ ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو دیکھا کہ وہ نافرمانی ہی کیے جا رہے ہیں تو آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! یوسف علیہ السلام کے سات سالہ قحط کی طرح ان پر سات سالہ قحط بھیج کر ہماری مدد کر“ ( آپ کی دعا قبول ہو گئی ) ، ان پر قحط پڑ گیا، ہر چیز اس سے متاثر ہو گئی، لوگ چمڑے اور مردار کھانے لگے ( اس حدیث کے دونوں راویوں اعمش و منصور میں سے ایک نے کہا ہڈیاں بھی کھانے لگے ) ، عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے کہا: دھواں جیسی چیز زمین سے نکلنے لگی، تو ابوسفیان نے آپ کے پاس آ کر کہا: آپ کی قوم ہلاک و برباد ہو گئی، آپ ان کی خاطر اللہ سے دعا فرما دیجئیے عبداللہ نے کہا: یہی مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «يوم تأتي السماء بدخان مبين يغشى الناس هذا عذاب أليم» ”جس دن آسمان کھلا ہوا دھواں لائے گا یہ ( دھواں ) لوگوں کو ڈھانپ لے گا، یہ بڑا تکلیف دہ عذاب ہے“ ( الدخان: ۱۰ ) ، کا، منصور کہتے ہیں: یہی مفہوم ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «ربنا اكشف عنا العذاب إنا مؤمنون» ”اے ہمارے رب! ہم سے عذاب کو ٹال دے ہم ایمان لانے والے ہیں“ ( الدخان: ۱۲ ) ، کا، تو کیا آخرت کا عذاب ٹالا جا سکے گا؟ ۔ عبداللہ کہتے ہیں: «بطشہ»، «لزام» ( بدر ) اور دخان کا ذکرو زمانہ گزر گیا اعمش اور منصور دونوں راویوں میں سے، ایک نے کہا: «قمر» ( چاند ) کا شق ہونا گزر گیا، اور دوسرے نے کہا: روم کے مغلوب ہونے کا واقعہ بھی پیش آ چکا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- «لزام» سے مراد یوم بدر ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، سَمِعَا أَبَا الضُّحَى، يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ إِنَّ قَاصًّا يَقُصُّ يَقُولُ إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنَ الأَرْضِ الدُّخَانُ فَيَأْخُذُ بِمَسَامِعِ الْكُفَّارِ وَيَأْخُذُ الْمُؤْمِنَ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ قَالَ فَغَضِبَ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ ثُمَّ قَالَ إِذَا سُئِلَ أَحَدُكُمْ عَمَّا يَعْلَمُ فَلْيَقُلْ بِهِ قَالَ مَنْصُورٌ فَلْيُخْبِرْ بِهِ وَإِذَا سُئِلَ عَمَّا لاَ يَعْلَمُ فَلْيَقُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّ مِنْ عِلْمِ الرَّجُلِ إِذَا سُئِلَ عَمَّا لاَ يَعْلَمُ أَنْ يَقُولَ اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لِنَبِيِّهِ : (قلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ ) " . إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا رَأَى قُرَيْشًا اسْتَعْصَوْا عَلَيْهِ قَالَ " اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ " . فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ فَأَحْصَتْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْجُلُودَ وَالْمَيْتَةَ وَقَالَ أَحَدُهُمَا الْعِظَامَ قَالَ وَجَعَلَ يَخْرُجُ مِنَ الأَرْضِ كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ قَالَ فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ قَالَ إِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ . قَالَ فَهَذَا لِقَوْلِهِ : ( يوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ * يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ ) . قَالَ مَنْصُورٌ هَذَا لِقَوْلِهِ ( رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ ) فَهَلْ يُكْشَفُ عَذَابُ الآخِرَةِ قَالَ مَضَى الْبَطْشَةُ وَاللِّزَامُ الدُّخَانُ وَقَالَ أَحَدُهُمَا الْقَمَرُ وَقَالَ الآخَرُ الرُّومُ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَاللِّزَامُ يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ . قَالَ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3255
Daif
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no believer except that he has two doors: A door through which his deeds ascend, and a door through which his sustenance descends. So when he dies they weep for him. That is the meaning of the saying of Allah, the Mighty and Sublime: And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite (44:)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مومن کے لیے دو دروازے ہیں، ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کے نیک عمل چڑھتے ہیں اور ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کی روزی اترتی ہے، جب وہ مر جاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: «فما بكت عليهم السماء والأرض وما كانوا منظرين» ” ( کفار و مشرکین ) پر زمین و آسمان کوئی بھی نہ رویا اور انہیں کسی بھی طرح کی مہلت نہ دی گئی“ ( الدخان: ۲۹ ) ، کا مطلب“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلاَّ وَلَهُ بَابَانِ بَابٌ يَصْعَدُ مِنْهُ عَمَلُهُ وَبَابٌ يَنْزِلُ مِنْهُ رِزْقُهُ فَإِذَا مَاتَ بَكَيَا عَلَيْهِ فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ ( فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ وَمَا كَانُوا مُنْظَرِينَ ) . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَمُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَيَزِيدُ بْنُ أَبَانَ الرَّقَاشِيُّ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ .
#3256
Daif Isnaad
Narrated 'Abdul-Malik bin 'Umair:from the nephew of 'Abdullah bin Salam who said: "When they were after 'Uthman, 'Abdullah bin Salam came, and 'Uthman said to him: 'What did you come for?' He said: 'I came to assist you.' He said: 'Go to the people to repel their advances against me. For verily your going is better to me than your entering here.'" He said: "So 'Abdullah bin Salam went to the people and said: 'O you people! During Jahiliyyah I was named so-and-so, then the Messenger of Allah (ﷺ) named me 'Abdullah, and some Ayat from the Book of Allah were revealed about me. (The following) was revealed about me: 'A witness from among the Children of Isra'il has testified to something similar, and believed while you rejected. Verily, Allah does not guide the wrongdoing people. (46:10)" And (the following) was revealed about me: 'Sufficient as a witness between me and you is Allah, and those too who have knowledge of the Scripture. (13:43)" Allah has sheathed the sword from you and the angels are your neighbors in this city of yours, the one in which the Revelation came to your Prophet. But by Allah! (Fear) Allah regarding this man; if you kill him, then by Allah! If you kill him, then you will cause the angels to remove your goodness from you, and to raise Allah's sheathed sword against you, such that it will never be sheathed again until the Day of Resurrection.'" He said: "They said: 'Kill the Jew and kill 'Uthman
عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کے بھتیجے کہتے ہیں کہ جب عثمان غنی رضی الله عنہ کو جان سے مار ڈالنے کا ارادہ کر لیا گیا تو عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ ان کے پاس آئے، عثمان رضی الله عنہ نے ان سے کہا: تم کس مقصد سے یہاں آئے ہو؟ انہوں نے کہا: میں آپ کی مدد میں ( آپ کو بچانے کے لیے ) آیا ہوں، انہوں نے کہا: تم لوگوں کے پاس جاؤ اور انہیں مجھ سے دور ہٹا دو، تمہارا میرے پاس رہنے سے باہر رہنا زیادہ بہتر ہے، چنانچہ عبداللہ بن سلام لوگوں کے پاس آئے اور انہیں مخاطب کر کے کہا: لوگو! میرا نام جاہلیت میں فلاں تھا ( یعنی حصین ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام عبداللہ رکھا، میرے بارے میں کتاب اللہ کی کئی آیات نازل ہوئیں، میرے بارے میں آیت: «وشهد شاهد من بني إسرائيل على مثله فآمن واستكبرتم إن الله لا يهدي القوم الظالمين» ”بنی اسرائیل میں سے گواہی دینے والے نے اس کے مثل گواہی دی ( یعنی اس بات پر گواہی دی کہ قرآن اللہ کے پاس سے آیا ہوا ہے ) اور ایمان لایا اور تم نے تکبر کیا، اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا“ ( الاحقاف: ۱۰ ) ، اور میرے ہی حق میں «قل كفى بالله شهيدا بيني وبينكم ومن عنده علم الكتاب» ”اے نبی کہہ دو! اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے اور وہ بھی گواہ ہے جس کے پاس کتاب کا علم ہے ( اس سے مراد عبداللہ بن سلام ہیں کہ حق کیا ہے اور کس کے پاس ہے ) “ ( الرعد: ۴۳ ) ، آیت اتری ہے، بیشک اللہ کے پاس ایسی تلوار ہے جو تمہیں نظر نہیں آتی، بیشک تمہارے اس شہر میں جس میں تمہارے نبی بھیجے گئے، فرشتے تمہارے پڑوسی ہیں، تو ڈرو اللہ سے، ڈرو اللہ سے اس شخص ( عثمان ) کے قتل کر دینے سے، قسم ہے اللہ کی اگر تم لوگوں نے انہیں قتل کر ڈالا تو تم اپنے پڑوسی فرشتوں کو اپنے سے دور کر دو گے ( بھگا دو گے ) اور اللہ کی وہ تلوار جو تمہاری نظروں سے پوشیدہ ہے تمہارے خلاف سونت دی جائے گی، پھر وہ قیامت تک میان میں ڈالی نہ جا سکے گی، راوی کہتے ہیں: لوگوں نے ( عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی بات سن کر ) کہا: اس یہودی کو قتل کر دو، اور عثمان رضی الله عنہ کو بھی مار ڈالو قتل کر دو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس حدیث کو شعیب بن صفوان نے عبدالملک بن عمیر سے اور عبدالملک بن عمیر نے ابن محمد بن عبداللہ بن سلام سے اور ابن محمد نے اپنے دادا عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُحَيَّاةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَخِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ، لَمَّا أُرِيدَ عُثْمَانُ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ مَا جَاءَ بِكَ قَالَ جِئْتُ فِي نَصْرِكَ قَالَ اخْرُجْ إِلَى النَّاسِ فَاطْرُدْهُمْ عَنِّي فَإِنَّكَ خَارِجٌ خَيْرٌ لِي مِنْكَ دَاخِلٌ . فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى النَّاسِ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ كَانَ اسْمِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فُلاَنٌ فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَبْدَ اللَّهِ وَنَزَلَ فِيَّ آيَاتٌ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ نَزَلَتْ فِيَّ : ( وشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ) وَنَزَلَتْ فِيَّ : (قلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ ) إِنَّ لِلَّهِ سَيْفًا مَغْمُودًا عَنْكُمْ وَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ قَدْ جَاوَرَتْكُمْ فِي بَلَدِكُمْ هَذَا الَّذِي نَزَلَ فِيهِ نَبِيُّكُمْ فَاللَّهَ اللَّهَ فِي هَذَا الرَّجُلِ أَنْ تَقْتُلُوهُ فَوَاللَّهِ إِنْ قَتَلْتُمُوهُ لَتَطْرُدُنَّ جِيرَانَكُمُ الْمَلاَئِكَةَ وَلَتَسُلُّنَّ سَيْفَ اللَّهِ الْمَغْمُودَ عَنْكُمْ فَلاَ يُغْمَدُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ فَقَالُوا اقْتُلُوا الْيَهُودِيَّ وَاقْتُلُوا عُثْمَانَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ رَوَاهُ شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنِ ابْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ .
#3257
Sahih
Narrated 'Aishah [may Allah be pleased with her]:"When the Prophet (ﷺ) saw storm clouds he would pace back and forth. And when it rained, he would relax." She said: "I said something to him about that, and he said: 'What do I know? Maybe it is as Allah, Most High said: Then, when they saw it as a dense cloud approaching their valleys, they said: "This is a cloud bringing us rain (46:)
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب برسنے والا کوئی بادل دیکھتے تو آگے بڑھتے پیچھے ہٹتے ( اندر آتے باہر جاتے ) مگر جب بارش ہونے لگتی تو اسے دیکھ خوش ہو جاتے، میں نے عرض کیا: ایسا کیوں کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ( صحیح ) جانتا تو نہیں شاید وہ کچھ ایسا ہی نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا» ”جب انہوں نے اسے بحیثیت بادل اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ بادل ہم پر برسنے آ رہا ہے، بلکہ یہ وہ عذاب ہے جس کی تم نے جلدی مچا رکھی تھی ( آندھی ہے کہ جس میں نہایت درد ناک عذاب ہے ) “ ( الاحقاف: ۲۴ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَأَى مَخِيلَةً أَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ . قَالَتْ فَقُلْتُ لَهُ . فَقَالَ " وَمَا أَدْرِي لَعَلَّهُ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : (فلمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا ) " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
#3258
Sahih
Narrated Ash-Sha'bi:that 'Alqamah said: "I said to Ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him: 'Did any of you accompany the Prophet (ﷺ) on the Night of the Jinn?' He said: 'None of us accompanied him. One night, while he was in Makkah, we could not find him. We said: "He has been murdered [or] snatched, what has happened to him?" So we spent the worst night a people could spend until the morning' or 'it was about dawn when we saw him coming from the direction of Hira.' He said: 'They told him about what they had went through.'" "So he (ﷺ) said: 'Someone from the Jinn came to invite me, so I went to them to recite for them.' He said: "So we went and saw their tracks and the traces of their camp fire.'" Ash-Sha'bi said: "They asked him about their provisions - and they were Jinns of Mesopotamia - so he said: 'Every bone upon which Allah's name has not been mentioned, that falls into your hands, and every dropping of dung is fodder for your beasts.'" So the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not perform Istinja with them for indeed they are provisions for your brothers among the Jinns
علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود رضی الله عنہ سے کہا: کیا جنوں والی رات میں آپ لوگوں میں سے کوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا؟ انہوں نے کہا: ہم میں سے کوئی آپ کے ساتھ نہیں تھا، آپ مکہ میں تھے اس وقت کی بات ہے، ایک رات ہم نے آپ کو نائب پایا، ہم نے کہا: آپ کا اغوا کر لیا گیا ہے یا ( جن ) اڑا لے گئے ہیں، آپ کے ساتھ کیا کیا گیا ہے؟ بری سے بری رات جو کوئی قوم گزار سکتی ہے ہم نے ویسی ہی اضطراب وبے چینی کی رات گزاری، یہاں تک کہ جب صبح ہوئی، یا صبح تڑکے کا وقت تھا اچانک ہم نے دیکھا کہ آپ حرا کی جانب سے تشریف لا رہے ہیں، لوگوں نے آپ سے اپنی اس فکرو تشویش کا ذکر کیا جس سے وہ رات کے وقت دوچار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنوں کا قاصد ( مجھے بلانے ) آیا، تو میں ان کے پاس گیا، اور انہیں قرآن پڑھ کر سنایا“، ابن مسعود کہتے ہیں: ـ پھر آپ اٹھ کر چلے اور ہمیں ان کے آثار ( نشانات و ثبوت ) دکھائے، اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے۔ شعبی کہتے ہیں: جنوں نے آپ سے توشہ مانگا، اور وہ جزیرہ کے رہنے والے جن تھے، آپ نے فرمایا: ”ہر ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا جائے گا تمہارے ہاتھ میں پہنچ کر پہلے سے زیادہ گوشت والی بن جائے گی، ہر مینگنی اور لید ( گوبر ) تمہارے جانوروں کا چارہ ہے“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( صحابہ سے ) فرمایا: ” ( اسی وجہ سے ) ان دونوں چیزوں سے استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ دونوں چیزیں تمہارے بھائی جنوں کی خوراک ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ مَسْعُودٍ رضى الله عنه هَلْ صَحِبَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْجِنِّ مِنْكُمْ أَحَدٌ قَالَ مَا صَحِبَهُ مِنَّا أَحَدٌ وَلَكِنْ قَدِ افْتَقَدْنَاهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهُوَ بِمَكَّةَ فَقُلْنَا اغْتِيلَ أَوِ اسْتُطِيرَ مَا فُعِلَ بِهِ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ حَتَّى إِذَا أَصْبَحْنَا أَوْ كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ إِذَا نَحْنُ بِهِ يَجِيءُ مِنْ قِبَلِ حِرَاءَ قَالَ فَذَكَرُوا لَهُ الَّذِي كَانُوا فِيهِ فَقَالَ " أَتَانِي دَاعِيَ الْجِنِّ فَأَتَيْتُهُمْ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ " . فَانْطَلَقَ فَأَرَانَا آثَارَهُمْ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ . قَالَ الشَّعْبِيُّ وَسَأَلُوهُ الزَّادَ وَكَانُوا مِنْ جِنِّ الْجَزِيرَةِ فَقَالَ " كُلُّ عَظْمٍ لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا كَانَ لَحْمًا وَكُلُّ بَعْرَةٍ أَوْ رَوْثَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ " . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَلاَ تَسْتَنْجُوا بِهِمَا فَإِنَّهُمَا زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3259
Sahih
Narrated Az-Zuhri:from Abu Salamah, from Abu Hurairah [may Allah be pleased with him] (regarding): 'And seek forgiveness for your sins, and also for the believing men and women (47:19).' That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed I ask Allah for forgiveness seventy times a day
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «واستغفر لذنبك وللمؤمنين والمؤمنات» ”تو اپنے گناہوں کے لیے اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے مغفرت مانگ“ ( محمد: ۱۹ ) ، کی تفسیر میں فرمایا: ”میں اللہ سے ہر دن ستر بار مغفرت طلب کرتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دن میں اللہ سے سو بار مغفرت طلب کرتا ہوں“، ۳- نیز متعدد دیگر سندوں سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ میں اللہ سے ہر دن سو مرتبہ استغفار طلب کرتا ہوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه : (واسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ) فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةً " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . - وَيُرْوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنِّي لأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ " . وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ " . وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
#3260
Sahih
Narrated Abu Hurairah:"One day, the Messenger of Allah (ﷺ) recited this Ayah: 'And if you turn away, He will replace you with other people; then they will not be like you (47:38).' They said: 'And who will replace us?' So the Messenger of Allah (ﷺ) patted the shoulder of Salman, then he said: 'This one and his people, this one and his people
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن یہ آیت «وإن تتولوا يستبدل قوما غيركم ثم لا يكونوا أمثالكم» ”اے عرب کے لوگو! تم ( ایمان و جہاد سے ) پھر جاؤ گے تو تمہارے بدلے اللہ دوسری قوم کو لا کر کھڑا کرے گا، وہ تمہارے جیسے نہیں ( بلکہ تم سے اچھے ) ہوں گے“ ( محمد: ۳۸ ) ، تلاوت فرمائی، صحابہ نے کہا: ہمارے بدلے کون لوگ لائے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان کے کندھے پر ہاتھ مارا ( رکھا ) پھر فرمایا: ”یہ اور اس کی قوم، یہ اور اس کی قوم“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس کی سند میں کلام ہے، ۳- عبداللہ بن جعفر نے بھی یہ حدیث علاء بن عبدالرحمٰن سے روایت کی ہے ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا شَيْخٌ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ تَلاَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا هَذِهِ الآيَة : (وإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لاَ يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ ) قَالُوا وَمَنْ يُسْتَبْدَلُ بِنَا قَالَ فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مَنْكِبِ سَلْمَانَ ثُمَّ قَالَ " هَذَا وَقَوْمُهُ هَذَا وَقَوْمُهُ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ . وَقَدْ رَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ أَيْضًا هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ .
#3261
Sahih
Narrated Abu Hurairah:"Some people among the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'O Messenger of Allah! Who are these people whom Allah mentioned, that if we turn away they would replace us, then they would not be like us?'" He said: "And Salman was beside the Messenger of Allah (ﷺ), so the Messenger of Allah (ﷺ) patted Salman's thigh and said: 'This one and his companions, and by the One in Whose Hand is my soul! If faith were suspended from Pleiades, then it would be reached by men from Persia
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں جن کا ذکر اللہ نے کیا ہے کہ اگر ہم پلٹ جائیں گے تو وہ ہماری جگہ لے آئے جائیں گے، اور وہ ہم جیسے نہ ہوں گے، سلمان رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان رضی الله عنہ کی ران پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: ”یہ اور ان کے اصحاب، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر ایمان ثریا ۱؎ کے ساتھ بھی معلق ہو گا تو بھی فارس کے کچھ لوگ اسے پا لیں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ عبداللہ بن جعفر بن نجیح: علی بن المدینی کے والد ہیں، ۲- علی بن حجر نے عبداللہ بن جعفر سے بہت سے احادیث روایت کی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ نَجِيحٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ ذَكَرَ اللَّهُ إِنْ تَوَلَّيْنَا اسْتُبْدِلُوا بِنَا ثُمَّ لَمْ يَكُونُوا أَمْثَالَنَا قَالَ وَكَانَ سَلْمَانُ بِجَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخِذَ سَلْمَانَ قَالَ " هَذَا وَأَصْحَابُهُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَ الإِيمَانُ مَنُوطًا بِالثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ رِجَالٌ مِنْ فَارِسَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ نَجِيحٍ هُوَ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ وَقَدْ رَوَى عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْكَثِيرَ . وَحَدَّثَنَا عَلِيٌّ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ . وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلاَءِ، نَحْوَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ مُعَلَّقٌ بِالثُّرَيَّا .
#3262
Sahih
Narrated Malik bin Anas:from Zaid bin Aslam, from his father who said: "I heard 'Umar bin Al-Khattab [may Allah be pleased with him] saying: 'We were with the Messenger of Allah (ﷺ) during one of his journeys when I said something to him but he was silent. Then I said something again but he was silent. I quickened my pace of mount to go to the other wise. I said: "May your mother lose you O Ibn Al-Khattab! You pestered the Messenger of Allah (ﷺ) three times, each time he did not reply to you! You deserve that something be revealed about you in the Qur'an.'" He ('Umar) said: "It was not long before I heard a voice calling me.' So I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: "O Ibn Al-Khattab! A Surah was revealed to me last night which is dearer to me than what the sun rises upon: Verily, We have given you a manifest victory (48:)
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے، میں نے آپ سے کچھ کہا، آپ خاموش رہے، میں نے پھر آپ سے بات کی آپ پھر خاموش رہے، میں نے پھر بات کی آپ ( اس بار بھی ) خاموش رہے، میں نے اپنی سواری کو جھٹکا دیا اور ایک جانب ( کنارے ) ہو گیا، اور ( اپنے آپ سے ) کہا: ابن خطاب! تیری ماں تجھ پر روئے، تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین بار اصرار کیا، اور آپ نے تجھ سے ایک بار بھی بات نہیں کی، تو اس کا مستحق اور سزاوار ہے کہ تیرے بارے میں کوئی آیت نازل ہو ( اور تجھے سرزنش کی جائے ) عمر بن خطاب کہتے ہیں: ابھی کچھ بھی دیر نہ ہوئی تھی کہ میں نے ایک پکارنے والے کو سنا، وہ مجھے پکار رہا تھا، عمر بن خطاب کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ نے فرمایا: ”ابن خطاب! آج رات مجھ پر ایک ایسی سورۃ نازل ہوئی ہے جو مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج نکلتا ہے اور وہ سورۃ یہ ہے «إنا فتحنا لك فتحا مبينا» ”بیشک اے نبی! ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی ہے“ ( الفتح: ۱ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- بعض نے اس حدیث کو مالک سے مرسلاً ( بلاعاً ) روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رضى الله عنه يَقُولُ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَكَلَّمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَكَتَ ثُمَّ كَلَّمْتُهُ فَسَكَتَ ثُمَّ كَلَّمْتُهُ فَسَكَتَ فَحَرَّكْتُ رَاحِلَتِي فَتَنَحَّيْتُ وَقُلْتُ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ نَزَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ لاَ يُكَلِّمُكَ مَا أَخْلَقَكَ أَنْ يَنْزِلَ فِيكَ قُرْآنٌ قَالَ فَمَا نَشِبْتُ أَنْ سَمِعْتُ صَارِخًا يَصْرُخُ بِي قَالَ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ لَقَدْ أُنْزِلَ عَلَىَّ هَذِهِ اللَّيْلَةَ سُورَةٌ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ : (إنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا ) " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ مَالِكٍ مُرْسَلاً .
#3263
Sahih Isnaad
Narrated Anas [May Allah be pleased with him]:"While the Messenger of Allah (ﷺ) was returning from Al-Hudaibiyyah it was revealed to him, 'That Allah may forgive you your sins of the past and the future (48:2).' So the Prophet (ﷺ) said: 'An Ayah has been revealed to me which is dearer to me than whatever is upon the earth.' Then the Prophet (ﷺ) recited it for them and they said: 'Congratulations O Messenger of Allah! Allah has explained what He will do with you, but what will He do with us?' So (the following) was revealed: 'That He may admit the believing men and the believing women into Gardens under which rivers flow' up to (His Saying) 'a supreme success (48:)
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر حدیبیہ سے واپسی کے وقت «ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر» ” ( اللہ نے جہاد اس لیے فرض کیا ہے ) تاکہ اللہ تمہارے اگلے پچھلے گناہ بخش دے“ ( الفتح: ۲ ) ، نازل ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے زمین کی ساری چیزوں سے زیادہ محبوب ہے“، پھر آپ نے وہ آیت سب کو پڑھ کر سنائی، لوگوں نے ( سن کر ) «هنيأ مريئًا» ( آپ کے لیے خوش گوار اور مبارک ہو ) کہا، اے اللہ کے نبی! اللہ نے آپ کو بتا دیا کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا مگر ہمارے ساتھ کیا کیا جائے گا؟ اس پر آیت «ليدخل المؤمنين والمؤمنات جنات تجري من تحتها الأنهار» سے لے کر سے «فوزا عظيما» ”تاکہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناہ دور کر دے اور اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی کامیابی ہے“ ( الفتح: ۵ ) ، تک نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں مجمع بن جاریہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، رضى الله عنه قَالَ أُنْزِلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلمَ : (ليغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ) مَرْجِعَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَىَّ آيَةٌ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا عَلَى الأَرْضِ ثُمَّ قَرَأَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِمْ فَقَالُوا هَنِيئًا مَرِيئًا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ لَكَ مَاذَا يُفْعَلُ بِكَ فَمَاذَا يُفْعَلُ بِنَا فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ : ( ليُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ ) حَتَّى بَلَغَ : (فوزًا عَظِيمًا ) قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِيهِ عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ .
#3264
Sahih
Narrated Anas:that eighty people swooped down from the mountain of At-Tan'im to kill the Messenger of Allah (ﷺ) during Salat As-Subh, but he captured them and (later) let them go. So Allah revealed the Ayah: And it is He Who has withheld their hands from you and your hands from them (48:)
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ پر حملہ آور ہونے کے لیے اسی ( ۸۰ ) کی تعداد میں کافر تنعیم پہاڑ سے نماز فجر کے وقت اترے، وہ چاہتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیں، مگر سب کے سب پکڑے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت: «وهو الذي كف أيديهم عنكم وأيديكم عنهم» ”وہی ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے“ ( الفتح: ۲۴ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ ثَمَانِينَ، هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابِهِ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ عِنْدَ صَلاَةِ الصُّبْحِ وَهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ يَقْتُلُوهُ فَأُخِذُوا أَخْذًا فَأَعْتَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْزَلَ اللَّهُ : ( هُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ ) الآيَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3265
Sahih
Narrated At-Tufail bin Ubayy bin Ka'b:from his father, from the Prophet (ﷺ) (regarding this Ayah): 'And made them stick to the word of Taqwa (48:26).' He (ﷺ) said (the word is): "La Ilaha Illallah
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «وألزمهم كلمة التقوى» ”اللہ نے انہیں تقوے کی بات پر جمائے رکھا“ ( الفتح: ۲۶ ) ، کے متعلق فرمایا: ”اس سے مراد «لا إله إلا الله» ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اسے ہم حسن بن قزعہ کے سوا کسی اور کو مرفوع روایت کرتے ہوئے نہیں جانتے، ۳- میں نے ابوزرعہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس سند کے سوا کسی اور سند سے اسے مرفوع نہیں جانا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزْعَةَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلمَ : ( وألْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى ) قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ بْنِ قَزْعَةَ قَالَ وَسَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ مَرْفُوعًا إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
#3266
Sahih
Narrated 'Abdullah bin Az-Zubair:"Al-Aqra' bin Habis arrived to meet the Prophet (ﷺ)" - he said - "so Abu Bakr said: 'O Messenger of Allah! Appoint him over his people.' 'Umar said: 'Do not appoint him O Messenger of Allah!' They continued talking before the Prophet (ﷺ) until they raised their voices. Abu Bakr said to 'Umar: 'You only wanted to contradict me.' So ['Umar] said: 'I did not want to contradict you.'" He said: "So this Ayah was revealed: 'O you who believe! Do not raise your voices above the voice of the Prophet (49:2).'" He said: "After that, when 'Umar spoke before the Prophet (ﷺ), his speech could not be heard until he told him he could not understand him." He (one of the narrators) said: "And Ibn Az-Zubair did not mention his grandfather" meaning Abu Bakr
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اقرع بن حابس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ابوبکر رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! آپ انہیں ان کی اپنی قوم پر عامل بنا دیجئیے، عمر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! آپ انہیں عامل نہ بنائیے، ان دونوں حضرات نے آپ کی موجودگی میں آپس میں توتو میں میں کی، ان کی آوازیں بلند ہو گئیں، ابوبکر نے عمر رضی الله عنہما سے کہا: آپ کو تو بس ہماری مخالفت ہی کرنی ہے، عمر رضی الله عنہ نے کہا: میں آپ کی مخالفت نہیں کرتا، چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي» ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند نہ کرو“ ( الحجرات: ۲ ) ، اس واقعہ کے بعد عمر رضی الله عنہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرتے تو اتنے دھیرے بولتے کہ بات سنائی نہیں پڑتی، سامع کو ان سے پوچھنا پڑ جاتا، راوی کہتے ہیں: ابن زبیر نے اپنے نانا یعنی ابوبکر رضی الله عنہ کا ذکر نہیں کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض نے اس حدیث کو ابن ابی ملیکہ سے مرسل طریقہ سے روایت کیا ہے اور اس میں عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُؤَمِّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَعْمِلْهُ عَلَى قَوْمِهِ . فَقَالَ عُمَرُ لاَ تَسْتَعْمِلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَتَكَلَّمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ مَا أَرَدْتَ إِلاَّ خِلاَفِي . فَقَالَ عُمَرُ مَا أَرَدْتُ خِلاَفَكَ قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : ( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ ) فَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا تَكَلَّمَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يُسْمِعْ كَلاَمَهُ حَتَّى يَسْتَفْهِمَهُ . قَالَ وَمَا ذَكَرَ ابْنُ الزُّبَيْرِ جَدَّهُ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ مُرْسَلٌ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ .
#3267
Sahih
Narrated Al-Bara bin 'Azib:regarding the saying of Allah the Most High: Verily, those who call you from behind the dwellings, most of them have no sense (49:4). He said: "A man stood and said: 'O Messenger of Allah! Indeed my praise (of others) is worthwhile and my censure is appropriate.' So the Prophet (ﷺ) said: 'That is for Allah, the Mighty and Sublime
براء بن عازب رضی الله عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «إن الذين ينادونك من وراء الحجرات أكثرهم لا يعقلون» ”اے نبی! جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے آواز دے کر پکارتے ہیں، ان کی اکثریت بے عقلوں کی ہے“ ( الحجرات: ۴ ) ، کی تفسیر میں کہتے ہیں: ایک شخص نے ( آپ کے دروازے پر ) کھڑے ہو کر ( پکار کر ) کہا: اللہ کے رسول! میری تعریف میری عزت ہے اور میری مذمت ذلت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ صفت تو اللہ کی ہے ( یہ اللہ ہی کی شان ہے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، فِي قَوْلِهِ : ( إنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لاَ يَعْقِلُونَ ) قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ حَمْدِي زَيْنٌ وَإِنَّ ذَمِّي شَيْنٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " ذَاكَ اللَّهُ تَعَالَى " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
#3268
Sahih
Narrated Abu Jubairah bin Ad-Dahhak:"A man among us would be known by two or three names. He would be called by one that perhaps he disliked, so this Ayah was revealed: Nor insult with nicknames (49:)
ابوجبیرہ بن ضحاک کہتے ہیں کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کے دو دو تین تین نام ہوا کرتے تھے، ان میں سے بعض کو بعض نام سے پکارا جاتا تھا، اور بعض نام سے پکارنا اسے برا لگتا تھا، اس پر یہ آیت «ولا تنابزوا بالألقاب» ”لوگوں کو برے القاب ( برے ناموں ) سے نہ پکارو“ ( الحجرات: ۱۱ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوجبیرہ، یہ ثابت بن ضحاک بن خلیفہ انصاری کے بھائی ہیں، اور ابوزید سعید بن الربیع صاحب الہروی بصرہ کے رہنے والے ثقہ ( معتبر ) شخص ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ كَانَ الرَّجُلُ مِنَّا يَكُونُ لَهُ الاِسْمَيْنِ وَالثَّلاَثَةَ فَيُدْعَى بِبَعْضِهَا فَعَسَى أَنْ يَكْرَهَ قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ( وَلاَ تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ ) . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . أَبُو جَبِيرَةَ هُوَ أَخُو ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ بْنِ خَلِيفَةَ أَنْصَارِيٌّ وَأَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ صَاحِبُ الْهَرَوِيِّ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ . حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ، نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3269
Sahih Isnaad
Narrated Abu Nadrah:"Abu Sa'eed Al-Khudri recited: And know that among you there is the Messenger of Allah. If he were to obey you in much of the matter, you would surely be in trouble (49:7). He said: "This is your Prophet (ﷺ) to whom the Revelation came, and the best of your leaders, if he had obeyed them in may of their matters, then he would have been in trouble. So how about you people today?
ابونضرہ کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے آیت: «واعلموا أن فيكم رسول الله لو يطيعكم في كثير من الأمر لعنتم» ”جان لو تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے، اگر وہ بیشتر معاملات میں تمہاری بات ماننے لگ جائے تو تم مشقت و تکلیف میں پڑ جاؤ گے“ ( الحجرات: ۷ ) ، تلاوت کی اور اس کی تشریح میں کہا: یہ تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، ان پر وحی بھیجی جاتی ہے اور اگر وہ بہت سارے معاملات میں تمہاری امت کے چیدہ لوگوں کی اطاعت کرنے لگیں گے تو تم تکلیف میں مبتلا ہو جاتے، چنانچہ ( آج ) اب تمہاری باتیں کب اور کیسے مانی جا سکتی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- علی بن مدینی کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن سعید قطان سے مستمر بن ریان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ ثقہ ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ الْمُسْتَمِرِّ بْنِ الرَّيَّانِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ قَرَأَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : ( واعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ، رَسُولَ اللَّهِ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الأَمْرِ لَعَنِتُّمْ ) قَالَ هَذَا نَبِيُّكُمْ صلى الله عليه وسلم يُوحَى إِلَيْهِ وَخِيَارُ أَئِمَّتِكُمْ لَوْ أَطَاعَهُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الأَمْرِ لَعَنِتُوا فَكَيْفَ بِكُمُ الْيَوْمَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ . قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ عَنِ الْمُسْتَمِرِّ بْنِ الرَّيَّانِ فَقَالَ ثِقَةٌ .
#3270
Sahih
Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) gave a Khutbah to the people on the day of the conquest of Makkah, and he said: "O you people! Verily Allah has removed the slogans of Jahiliyyah from you, and its reverence of its forefathers. So, now there are two types of men: A man who is righteous, has Taqwa and honorable before Allah, and a wicked man, who is miserable and insignificant to Allah. People are children of Adam and Allah created Adam from the dust. Allah said: O you people! We have created you from a male and a female, and made you into nations and tribes, that you may know one another. Verily, the most honorable of you with Allah is the one who has most Taqwa. Verily, Allah is All-Knowing, All-Aware (49:)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب فرمایا: ”لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا فخر و غرور اور خاندانی تکبر ختم کر دیا ہے، اب لوگ صرف دو طرح کے ہیں ( ۱ ) اللہ کی نظر میں نیک متقی، کریم و شریف اور ( ۲ ) دوسرا فاجر بدبخت، اللہ کی نظر میں ذلیل و کمزور، لوگ سب کے سب آدم کی اولاد ہیں۔ اور آدم کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا إن أكرمكم عند الله أتقاكم إن الله عليم خبير» ”اے لوگو! ہم نے تمہیں نر اور مادہ ( کے ملاپ ) سے پیدا کیا اور ہم نے تمہیں کنبوں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو، ( کہ کون کس قبیلے اور کس خاندان کا ہے ) بیشک اللہ کی نظر میں تم میں سب سے زیادہ معزز و محترم وہ شخص ہے جو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔ بیشک اللہ جاننے والا اور خبر رکھنے ولا ہے“ ( الحجرات: ۱۳ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اس حدیث کو صرف اسی سند کے سوا جسے عبداللہ بن دینار ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کسی اور سند سے مروی نہیں جانتے، ۳- عبداللہ بن جعفر ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، انہیں یحییٰ بن معین وغیرہ نے ضعیف کہا ہے، اور عبداللہ بن جعفر – یہ علی ابن مدینی – کے والد ہیں، ۴- اس باب میں ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَتَعَاظُمَهَا بِآبَائِهَا فَالنَّاسُ رَجُلاَنِ رَجُلٌ بَرٌّ تَقِيٌّ كَرِيمٌ عَلَى اللَّهِ وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ هَيِّنٌ عَلَى اللَّهِ وَالنَّاسُ بَنُو آدَمَ وَخَلَقَ اللَّهُ آدَمَ مِنْ تُرَابٍ " . قَالَ اللَّهُ : ( يا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ) . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ يُضَعَّفُ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ هُوَ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ .
#3271
Sahih
Narrated Al-Hasan:from Samurah that the Prophet (ﷺ) said: "Al-Hasab is wealth and Al-Karam is Taqwa
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «حسب» مال کو کہتے ہیں اور «کرم» سے مراد تقویٰ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف سلام بن ابی مطیع کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الأَعْرَجُ الْبَغْدَادِيُّ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَلاَّمِ بْنِ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْحَسَبُ الْمَالُ وَالْكَرَمُ التَّقْوَى " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ سَمُرَةَ . لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ سَلاَّمِ بْنِ أَبِي مُطِيعٍ وَهُوَ ثِقَةٌ .
#3272
Sahih
Narrated Anas bin Malik:that Allah's Prophet (ﷺ) said: "Jahannam will continue saying: 'Are there any more' until the Might Lord puts His Foot over it. It will say: 'Enough! Enough! By Your Might.' And one side of it will close in on the other
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم کہتی رہے گی «هل من مزيد» ”کوئی اور ( جہنمی ) ہو تو لاؤ، ( ڈال دو اسے میرے پیٹ میں ) “ ( قٓ: ۳۰ ) ، یہاں تک کہ اللہ رب العزت اپنا قدم اس میں رکھ دے گا، اس وقت جہنم «قط قط» ”بس، بس“ کہے گی اور قسم ہے تیری عزت و بزرگی کی ( اس کے بعد ) جہنم کا ایک حصہ دوسرے حصے میں ضم ہو جائے گا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ فائدہ ۱؎: یعنی ایک حصہ دوسرے حصہ سے چمٹ کر یکجا ہو جائے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى يَضَعَ فِيهَا رَبُّ الْعِزَّةِ قَدَمَهُ فَتَقُولُ قَطْ قَطْ وَعِزَّتِكَ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَفِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
#3273
Hasan
Narrated Abu Wa'il:from a man of Rabi'ah who said: "I arrived in Al-Madinah, entered upon the Messenger of Allah (ﷺ) and mentioned the emissary of 'Ad to him. I said: 'I seek refuge in Allah from being like the emissary of 'Ad.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'And what of the emissary of 'Ad?'" He said: "I said: You have got the one who is informed about it. When 'Ad suffered from famine they sent Qail and he stayed with Bakr bin Mu'awiyah. He gave him wine to drink and two slave girls to sing for him. Then he went out towards the mountains of Murrah and said: "O Allah! I did not come to You to cure a sick person, nor to ransom a captive! So give water to Your slave as You used to do, and give water to Bakr bin Mu'awiyah along with him." He said that out of gratitude for the wine which he gave him to drink. So two clouds appeared and it was said to him: "Choose one of them." So he chose the black one. It was said to him: "Take it as ashes that will leave none in 'Ad." So he mentioned that the wind sent upon them was not more than this circle - meaning the circle of a ring - then he recited: "...We sent against them the barren wind; it spared nothing that it reached, but blew it into broken spreads of rotten ruins. (51:)
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی ربیعہ کے ایک شخص نے کہا: میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں آپ کے پاس ( دوران گفتگو ) میں نے قوم عاد کے قاصد کا ذکر کیا، اور میں نے کہا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں عاد کے قاصد جیسابن جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عاد کے قاصد کا قصہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: ( اچھا ہوا ) آپ نے واقف کار سے پوچھا ( میں آپ کو بتاتا ہوں ) قوم عاد جب قحط سے دوچار ہوئی تو اس نے قیل ( نامی شخص ) کو ( امداد و تعاون حاصل کرنے کے لیے مکہ ) بھیجا، وہ ( آ کر ) بکر بن معاویہ کے پاس ٹھہرا، بکر نے اسے شراب پلائی، اور دو مشہور مغنیاں اسے اپنے نغموں سے محظوظ کرتی رہیں، پھر قیل نے وہاں سے نکل کر مہرہ کے پہاڑوں کا رخ کیا ( مہرہ ایک قبیلہ کے دادا کا نام ہے ) اس نے ( دعا مانگی ) کہا: اے اللہ! میں تیرے پاس کوئی مریض لے کر نہیں آیا کہ اس کا علاج کراؤں، اور نہ کسی قیدی کے لیے آیا اسے آزاد کرا لوں، تو اپنے بندے کو پلا ( یعنی مجھے ) جو تجھے پلانا ہے اور اس کے ساتھ بکر بن معاویہ کو بھی پلا ( اس نے یہ دعا کر کے ) اس شراب کا شکریہ ادا کیا، جو بکر بن معاویہ نے اسے پلائی تھی، ( انجام کار ) اس کے لیے ( آسمان پر ) کئی بدلیاں چھائیں اور اس سے کہا گیا کہ تم ان میں سے کسی ایک کو اپنے لیے چن لو، اس نے ان میں سے کالی رنگ کی بدلی کو پسند کر لیا، کہا گیا: اسے لے لو اپنی ہلاکت و بربادی کی صورت میں، عاد قوم کے کسی فرد کو بھی نہ باقی چھوڑے گی، اور یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ عاد پر ہوا ( آندھی ) اس حلقہ یعنی انگوٹھی کے حلقہ کے برابر ہی چھوڑی گئی۔ پھر آپ نے آیت «إذ أرسلنا عليهم الريح العقيم ما تذر من شيء أتت عليه إلا جعلته كالرميم» ”یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے ان پر بانجھ ہوا بھیجی جس چیز کو بھی وہ ہوا چھو جاتی اسے چورا چورا کر دیتی“ ( الذاریات: ۴۲ ) ، پڑھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو کئی لوگوں نے سلام ابومنذر سے، سلام نے عاصم بن ابی النجود سے، عاصم نے ابووائل سے اور ابووائل نے ( «عن رجل من ربیعة» کی جگہ ) حارث بن حسان سے روایت کیا ہے۔ ( یہ روایت آگے آ رہی ہے ) ۲- حارث بن حسان کو حارث بن یزید بھی کہا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سَلاَّمٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ رَبِيعَةَ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذُكِرْتُ عِنْدَهُ وَافِدَ عَادٍ فَقُلْتُ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ وَافِدِ عَادٍ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَمَا وَافِدُ عَادٍ " . قَالَ فَقُلْتُ عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ إِنَّ عَادًا لَمَّا أُقْحِطَتْ بَعَثَتْ قَيْلاً فَنَزَلَ عَلَى بَكْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَسَقَاهُ الْخَمْرَ وَغَنَّتْهُ الْجَرَادَتَانِ ثُمَّ خَرَجَ يُرِيدُ جِبَالَ مَهْرَةَ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي لَمْ آتِكَ لِمَرِيضٍ فَأُدَاوِيَهِ وَلاَ لأَسِيرٍ فَأُفَادِيَهُ فَاسْقِ عَبْدَكَ مَا كُنْتَ مُسْقِيَهُ وَاسْقِ مَعَهُ بَكْرَ بْنَ مُعَاوِيَةَ . يَشْكُرْ لَهُ الْخَمْرَ الَّذِي سَقَاهُ فَرُفِعَ لَهُ سَحَابَاتٌ فَقِيلَ لَهُ اخْتَرْ إِحْدَاهُنَّ فَاخْتَارَ السَّوْدَاءَ مِنْهُنَّ فَقِيلَ لَهُ خُذْهَا رَمَادًا رَمْدَدًا لاَ تَذَرُ مِنْ عَادٍ أَحَدًا وَذُكِرَ أَنَّهُ لَمْ يُرْسَلْ عَلَيْهِمْ مِنَ الرِّيحِ إِلاَّ قَدْرُ هَذِهِ الْحَلْقَةِ يَعْنِي حَلْقَةَ الْخَاتَمِ . ثُمَّ قَرَأَ : (إذْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيحَ الْعَقِيمَ * مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ أَتَتْ عَلَيْهِ إِلاَّ جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيمِ ) الآيَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سَلاَّمٍ أَبِي الْمُنْذِرِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَسَّانَ وَيُقَالُ لَهُ الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ .
#3274
Hasan
Narrated Abu Wa'il:that Al-Harith bin Yazid Al-Bakri said: "I arrived in Al-Madinah and entered the Masjid and found it full with the people and I also noticed a black banner raised high, while Bilal was holding a sword before the Messenger of Allah (ﷺ). I said: 'What is the matter with the people?' They said: 'He intends to send 'Amr bin Al-'As somewhere.'" So he mentioned the Hadith in its entirety, similar in meaning to the narration of Sufyan bin 'Uyainah (#3273). He said: He is also called Al-Harith bin Hassan
حارث بن یزید البکری کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا، مسجد نبوی میں گیا، وہ لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، کالے جھنڈ ہوا میں اڑ رہے تھے اور بلال رضی الله عنہ آپ کے سامنے تلوار لٹکائے ہوئے کھڑے تھے، میں نے پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے کہا: آپ کا ارادہ عمرو بن العاص رضی الله عنہ کو ( فوجی دستہ کے ساتھ ) کسی طرف بھیجنے کا ہے، پھر پوری لمبی حدیث سفیان بن عیینہ کی حدیث کی طرح اسی کے ہم معنی بیان کی۔ حارث بن یزید کو حارث بن حسان بھی کہا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّحْوِيُّ أَبُو الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْبَكْرِيِّ، قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ غَاصٌّ بِالنَّاسِ وَإِذَا رَايَاتٌ سُودٌ تَخْفُقُ وَإِذَا بِلاَلٌ مُتَقَلِّدٌ السَّيْفَ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ قَالُوا يُرِيدُ أَنْ يَبْعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَجْهًا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ نَحْوًا مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ بِمَعْنَاهُ . قَالَ وَيُقَالُ لَهُ الْحَارِثُ بْنُ حَسَّانَ أَيْضًا .
#3275
Daif
Narrated Ibn 'Umar:that the Prophet (ﷺ) said: "And at the setting of the stars (52:49) (about) the two Rak'ah before Fajr. And after the prostrations (50:40) 'The two Rak'at after Al-Maghrib
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «إدبار النجوم» ۱؎ ( نجوم کے پیچھے ) سے مراد نماز فجر سے پہلے کی دو رکعتیں یعنی سنتیں ہیں اور «إدبار السجود» ( سجدوں کے بعد ) سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعتیں ہیں ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اس حدیث کو مرفوعاً صرف محمد بن فضیل کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ رشدین بن کریب سے روایت کرتے ہیں، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے محمد ( محمد بن فضیل ) اور رشدین بن کریب کے بارے میں پوچھا کہ ان دونوں میں کون زیادہ ثقہ ہے؟ انہوں نے کہا: دونوں ایک سے ہیں، لیکن محمد بن فضیل میرے نزدیک زیادہ راجح ہیں ( یعنی انہیں فوقیت حاصل ہے ) ۴- میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن ( دارمی ) سے اس بارے میں پوچھا ( آپ کیا کہتے ہیں؟ ) کہا: کیا خوب دونوں میں یکسانیت ہے، لیکن رشدین بن کریب میرے نزدیک ان دونوں میں قابل ترجیح ہیں، کہتے ہیں: میرے نزدیک بات وہی درست ہے جو ابو محمد یعنی دارمی نے کہی ہے، رشدین محمد بن فضیل سے راجح ہیں اور پہلے کے بھی ہیں، رشدین نے ابن عباس کا زمانہ پایا ہے اور انہیں دیکھا بھی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ رِشْدِينَ بْنِ كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِدْبَارُ النُّجُومِ الرَّكْعَتَانِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَإِدْبَارُ السُّجُودِ الرَّكْعَتَانِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ عَنْ رِشْدِينَ بْنِ كُرَيْبٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَرِشْدِينَ ابْنَىْ كُرَيْبٍ أَيُّهُمَا أَوْثَقُ قَالَ مَا أَقْرَبَهُمَا وَمُحَمَّدٌ عِنْدِي أَرْجَحُ . قَالَ وَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ هَذَا فَقَالَ مَا أَقْرَبَهُمَا عِنْدِي وَرِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ أَرْجَحُهُمَا عِنْدِي . قَالَ وَالْقَوْلُ عِنْدِي مَا قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ وَرِشْدِينُ أَرْجَحُ مِنْ مُحَمَّدٍ وَأَقْدَمُ وَقَدْ أَدْرَكَ رِشْدِينُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَرَآهُ .