#2951
Daif
Narrated Ibn 'Abbas:that the Prophet (ﷺ) said: "Beware of narrating from me except what I taught you, for whoever lies about me on purpose, then let him take his seat in the Fire. And whoever says (something) about the Qur'an according to his (own) opinion, then let him take his seat in the Fire
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری طرف سے کوئی بات اس وقت تک نہ بیان کرو جب تک کہ تم ( اچھی طرح ) جان نہ لو کیونکہ جس نے جان بوجھ کر جھوٹی بات میری طرف منسوب کی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے اور جس نے قرآن میں اپنی عقل و رائے سے کچھ کہا وہ بھی اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي إِلاَّ مَا عَلِمْتُمْ فَمَنْ كَذَبَ عَلَىَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ وَمَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
#2952
Sahih Isnaad Maqtu
Narrated Jundab bin 'Abdullah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever says (something) about the Qur'an according to his own opinion and he is correct, yet he has committed a mistake." This Hadith is Gharib. Some of the people of Hadith have criticized Suhail bin Abi Hazm. [Imam At-Tirmidhi said:] This is how it has been reported from some of the people of knowledge among the Companions of the Prophet (ﷺ), and others. They were very stern about this - about explaining the Qur'an without knowledge. As for what has been related from Mujãhid, Qatadah and others, among the people of knowledge, that they would interpret the Qur'an, then it should not be thought about them that they would say something about the Qur'an, or interpret it without knowledge, or according to their own intellect. Rather that which proves what we have said has been reported from them, that they would not say something from themselves without knowledge. Husain bin Mahdi Al-Basri narrated to us (he said: AbdurRazzaq narrated to us, from Ma'mar, from Qatadah who said): "There is no Ayah in the Qur'an except that I have heard something about it." Ibn Abi 'Umar narrated to us (he said): "Sufyan bin 'Uyainah narrated to us, from Al-A'mash who said: 'Mujãhid said: If you recited the recitation of Ibn Mas'ud, you would not need to ask Ibn 'Abbãs about much of what you ask him regarding the Qur'an
جندب بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن کی تفسیر اپنی رائے ( اور اپنی صواب دید ) سے کی، اور بات صحیح و درست نکل بھی گئی تو بھی اس نے غلطی کی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- بعض محدثین نے سہیل بن ابی حزم کے بارے کلام کیا ہے، ۳- اسی طرح بعض اہل علم صحابہ اور دوسروں سے مروی ہے کہ انہوں نے سختی سے اس بات سے منع کیا ہے کہ قرآن کی تفسیر بغیر علم کے کی جائے، لیکن مجاہد، قتادہ اور ان دونوں کے علاوہ بعض اہل علم کے بارے میں جو یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ انہوں نے قرآن کی تفسیر ( بغیر علم کے ) کی ہے تو یہ کہنا درست نہیں، ایسے ( ستودہ صفات ) لوگوں کے بارے میں یہ بدگمانی نہیں کی جا سکتی کہ انہوں نے قرآن کے بارے میں جو کچھ کہا ہے یا انہوں نے قرآن کی جو تفسیر کی ہے یہ بغیر علم کے یا اپنے جی سے کی ہے، ۴- ان ائمہ سے ایسی باتیں مروی ہیں جو ہمارے اس قول کو تقویت دیتی ہیں کہ انہوں نے کوئی بات بغیر علم کے اپنی جانب سے نہیں کہی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَزْمٍ أَخُو حَزْمٍ الْقُطَعِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ فَقَدْ أَخْطَأَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي سُهَيْلِ بْنِ أَبِي حَزْمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَكَذَا رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ أَنَّهُمْ شَدَّدُوا فِي هَذَا فِي أَنْ يُفَسَّرَ الْقُرْآنُ بِغَيْرِ عِلْمٍ . وَأَمَّا الَّذِي رُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ وَقَتَادَةَ وَغَيْرِهِمَا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُمْ فَسَّرُوا الْقُرْآنَ فَلَيْسَ الظَّنُّ بِهِمْ أَنَّهُمْ قَالُوا فِي الْقُرْآنِ أَوْ فَسَّرُوهُ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَوْ مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِهِمْ وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُمْ مَا يَدُلُّ عَلَى مَا قُلْنَا أَنَّهُمْ لَمْ يَقُولُوا مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِهِمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ . حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْبَصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ مَا فِي الْقُرْآنِ آيَةٌ إِلاَّ وَقَدْ سَمِعْتُ فِيهَا بِشَيْءٍ . حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ قَالَ مُجَاهِدٌ لَوْ كُنْتُ قَرَأْتُ قِرَاءَةَ ابْنِ مَسْعُودٍ لَمْ أَحْتَجْ إِلَى أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الْقُرْآنِ مِمَّا سَأَلْتُ .
#2953
(Another chain) from 'Adi bin Hatim who said:"I went to the Prophet (ﷺ) while he was sitting in the Masjid, the people said: 'This is 'Adi bin Hatim.' And I came without having a treaty nor a writ. When I was brought to him, he took my hand. Prior to that he had said: 'I hope that Allah will place his hand in my hand.'" He said: "He stood with me, and a woman and a boy met him and said: 'We have a need from you.' He stood with them, until he was finished dealing with what they wanted. Then he took me by the hand until he brought me to his house. A slave girl brought him a cushion to sit on, and I sat in front of him. He expressed thanks and praise for Allah then said: 'What has caused you to flee from saying La Ilaha Illallah? Do you know of another god other than Him?'" He said: "I said: 'No.'" He said: "Then he talked for some time, and then said: 'You refuse to say Allahu Akbar because you know that there is something greater than Allah?'" He said: "I said: 'No.' He said: 'Indeed the Jews are those who Allah is wrath with, and the Christians have strayed.'" He said: "I said: 'Indeed I am a Muslim, Hanif.'" He said: "I saw his face smiling with happiness." He said: "Then he ordered that I stop with him at the home of a man from the Ansar, whom he would frequently visit in the mornings and the evenings. When I was with him at night, a people in woolen garments of these Nimar (a cloth with certain patters, and the word appeared before) came. Then he performed Salat and stood to encourage them (the people) to give (charity) to them. Then he said: 'Even with a Sa' or half a Sa', or a handful or part of a handful, to save the face of one of you from the heat of Hell, or the Fire. And even if it be by a date or a part of a date - for indeed one of you shall meet Allah and it shall be said to him what I say to you: "Have I not given hearing and seeing to you?" He shall say: "Of course." It will be said: "Have I not given you wealth and children?" He shall say: "Of course." It will be said: "So where is what you have sent forth for yourself?" He will look before him and behind him, on his right and on his left, but he shall not find anything to protect his face from the heat of Hell. Let one of you protect his face from the Fire, even if with part of a date, and if he does not find that, then with a good statement. For indeed I do not fear poverty for you - Allah will aid you and grant you, such that a woman can travel on her camel howda from Yathrib to Al-Hirah, or further, without fear of being robbed.' I began thinking to myself: "Where would the thieves of Taiy' be then?
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے، لوگوں نے کہا: یہ عدی بن حاتم ہیں، میں آپ کے پاس بغیر کسی امان اور بغیر کسی تحریر کے آیا تھا، جب مجھے آپ کے پاس لایا گیا تو آپ نے میرا ہاتھ تھام لیا۔ آپ اس سے پہلے فرما چکے تھے کہ ”مجھے امید ہے کہ اللہ ان کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے گا“ ۱؎۔ عدی کہتے ہیں: آپ مجھے لے کر کھڑے ہوئے، اسی اثناء میں ایک عورت ایک بچے کے ساتھ آپ سے ملنے آ گئی، ان دونوں نے عرض کیا: ہمیں آپ سے ایک ضرورت ہے۔ آپ ان دونوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور ان کی ضرورت پوری فرما دی۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ تھام لیا اور مجھے لیے اپنے گھر آ گئے۔ ایک بچی نے آپ کے لیے ایک گدا بچھا دیا، جس پر آپ بیٹھ گئے اور میں بھی آپ کے سامنے بیٹھ گیا، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ” ( بتاؤ ) تمہیں «لا إلہ إلا اللہ» کہنے سے کیا چیز روک رہی ہے؟ کیا تم اللہ کے سوا کسی اور کو معبود سمجھتے ہو؟“ میں نے کہا: نہیں، آپ نے کچھ دیر باتیں کیں، پھر فرمایا: ”اللہ اکبر کہنے سے بھاگ رہے ہو؟“ کیا تم سمجھتے ہو کہ اللہ سے بھی بڑی کوئی چیز ہے؟ میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”یہود پر اللہ کا غضب نازل ہو چکا ہے اور نصاریٰ گمراہ ہیں“، اس پر وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: میں تو مسلمان ہونے کا ارادہ کر کے آیا ہوں۔ وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا، پھر آپ نے میرے لیے حکم فرمایا: تو میں ایک انصاری صحابی کے یہاں ( بطور مہمان ) ٹھہرا دیا گیا، پھر میں دن کے دونوں کناروں پر یعنی صبح و شام آپ کے پاس حاضر ہونے لگا۔ ایک شام میں آپ کے پاس بیٹھا ہی ہوا تھا کہ لوگ چیتے کی سی دھاری دار گرم کپڑے پہنے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوئے ( ان کے آنے کے بعد ) آپ نے نماز پڑھی، پھر آپ نے کھڑے ہو کر تقریر فرمائی اور لوگوں کو ان پر خرچ کرنے کے لیے ابھارا۔ آپ نے فرمایا: ” ( صدقہ ) دو اگرچہ ایک صاع ہو، اگرچہ آدھا صاع ہو، اگرچہ ایک مٹھی ہو، اگرچہ ایک مٹھی سے بھی کم ہو جس کے ذریعہ سے تم میں کا کوئی بھی اپنے آپ کو جہنم کی گرمی یا جہنم سے بچا سکتا ہے۔ ( تم صدقہ دو ) چاہے ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو؟ چاہے آدھی کھجور ہی کیوں نہ ہو؟ کیونکہ تم میں سے ہر کوئی اللہ کے پاس پہنچنے والا ہے، اللہ اس سے وہی بات کہنے والا ہے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں، ( وہ پوچھے گا ) کیا ہم نے تمہارے لیے کان اور آنکھیں نہیں بنائیں؟ وہ کہے گا: ہاں، کیوں نہیں! اللہ پھر کہے گا: کیا میں نے تمہیں مال اور اولاد نہ دی؟، وہ کہے گا: کیوں نہیں تو نے ہمیں مال و اولاد سے نوازا۔ وہ پھر کہے گا وہ سب کچھ کہاں ہے جو تم نے اپنی ذات کی حفاظت کے لیے آگے بھیجا ہے؟ ( یہ سن کر ) وہ اپنے آگے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں بائیں ( چاروں طرف ) دیکھے گا، لیکن ایسی کوئی چیز نہ پائے گا جس کے ذریعہ وہ اپنے آپ کو جہنم کی گرمی سے بچا سکے۔ اس لیے تم میں سے ہر ایک کو اپنے آپ کو جہنم کی گرمی سے بچانے کی کوشش و تدبیر کرنی چاہیئے ایک کھجور ہی صدقہ کر کے کیوں نہ کرے۔ اور اگر یہ بھی نہ میسر ہو تو اچھی و بھلی بات کہہ کر ہی اپنے کو جہنم کی گرمی سے بچائے۔ مجھے اس کا خوف نہیں ہے کہ تم فقر و فاقہ کا شکار ہو جاؤ گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارا مددگار ہے، اور تمہیں دینے والا ہے ( اتنا دینے والا ہے ) کہ ایک ہودج سوار عورت ( تنہا ) یثرب ( مدینہ ) سے حیرہ تک یا اس سے بھی لمبا سفر کرے گی اور اسے اپنی سواری کے چوری ہو جانے تک کا ڈر نہ ہو گا ۲؎“ عدی رضی الله عنہ کہتے ہیں: ( اس وقت ) میں سوچنے لگا کہ قبیلہ بنی طی کے چور کہاں چلے جائیں گے ۳؎؟ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف سماک بن حرب کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۳- شعبہ نے سماک بن حرب سے، سماک نے، عباد بن حبیش سے، اور عباد بن حبیش نے عدی بن حاتم رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوری حدیث روایت کی ہے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ، أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ الْقَوْمُ هَذَا عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ . وَجِئْتُ بِغَيْرِ أَمَانٍ وَلاَ كِتَابٍ فَلَمَّا دَفَعْتُ إِلَيْهِ أَخَذَ بِيَدِي وَقَدْ كَانَ قَالَ قَبْلَ ذَلِكَ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ يَدَهُ فِي يَدِي قَالَ فَقَامَ بِي فَلَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ وَصَبِيٌّ مَعَهَا . فَقَالاَ إِنَّ لَنَا إِلَيْكَ حَاجَةً فَقَامَ مَعَهُمَا حَتَّى قَضَى حَاجَتَهُمَا ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي حَتَّى أَتَى بِي دَارَهُ فَأَلْقَتْ لَهُ الْوَلِيدَةُ وِسَادَةً فَجَلَسَ عَلَيْهَا وَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " مَا يُفِرُّكَ أَنْ تَقُولَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَهَلْ تَعْلَمُ مِنْ إِلَهٍ سِوَى اللَّهِ " . قَالَ قُلْتُ لاَ . قَالَ ثُمَّ تَكَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ " إِنَّمَا تَفِرُّ أَنْ تَقُولَ اللَّهُ أَكْبَرُ وَتَعْلَمُ أَنَّ شَيْئًا أَكْبَرُ مِنَ اللَّهِ " . قَالَ قُلْتُ لاَ قَالَ " فَإِنَّ الْيَهُودَ مَغْضُوبٌ عَلَيْهِمْ وَإِنَّ النَّصَارَى ضُلاَّلٌ " . قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي جِئْتُ مُسْلِمًا . قَالَ فَرَأَيْتُ وَجْهَهُ تَبَسَّطَ فَرَحًا قَالَ ثُمَّ أَمَرَ بِي فَأُنْزِلْتُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ جَعَلْتُ أَغْشَاهُ آتِيهِ طَرَفَىِ النَّهَارِ قَالَ فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ عَشِيَّةً إِذْ جَاءَهُ قَوْمٌ فِي ثِيَابٍ مِنَ الصُّوفِ مِنْ هَذِهِ النِّمَارِ قَالَ فَصَلَّى وَقَامَ فَحَثَّ عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ " وَلَوْ صَاعٌ وَلَوْ بِنِصْفِ صَاعٍ وَلَوْ بِقَبْضَةٍ وَلَوْ بِبَعْضِ قَبْضَةٍ يَقِي أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ حَرَّ جَهَنَّمَ أَوِ النَّارِ وَلَوْ بِتَمْرَةٍ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لاَقِي اللَّهَ وَقَائِلٌ لَهُ مَا أَقُولُ لَكُمْ أَلَمْ أَجْعَلْ لَكَ سَمْعًا وَبَصَرًا فَيَقُولُ بَلَى . فَيَقُولُ أَلَمْ أَجْعَلْ لَكَ مَالاً وَوَلَدًا فَيَقُولُ بَلَى . فَيَقُولُ أَيْنَ مَا قَدَّمْتَ لِنَفْسِكَ فَيَنْظُرُ قُدَّامَهُ وَبَعْدَهُ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ لاَ يَجِدُ شَيْئًا يَقِي بِهِ وَجْهَهُ حَرَّ جَهَنَّمَ لِيَقِ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ فَإِنِّي لاَ أَخَافُ عَلَيْكُمُ الْفَاقَةَ فَإِنَّ اللَّهَ نَاصِرُكُمْ وَمُعْطِيكُمْ حَتَّى تَسِيرَ الظَّعِينَةُ فِيمَا بَيْنَ يَثْرِبَ وَالْحِيرَةِ أَكْثَرُ مَا تَخَافُ عَلَى مَطِيَّتِهَا السَّرَقَ " . قَالَ فَجَعَلْتُ أَقُولُ فِي نَفْسِي فَأَيْنَ لُصُوصُ طَيِّئٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ . وَرَوَى شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْحَدِيثَ بِطُولِهِ .
#2954
Sahih
Narrated 'Adiyy bin Hatim:that the Prophet (ﷺ) said: "The Jews are those who Allah is wrath with, and the Christians have strayed
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَبُنْدَارٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْيَهُودُ مَغْضُوبٌ عَلَيْهِمْ وَالنَّصَارَى ضُلاَّلٌ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ .
#2955
Sahih
Narrated Abu Musa Al-Ash'ari:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed Allah Most High created Adam from a handful that He took from all of the earth. So the children of Adam come in according with the earth, some of them come red, and white and black, and between that, and the thin, the thick, the filthy, and the clean
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ساری زمین کے ہر حصے سے ایک مٹھی مٹی لے کر اس سے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، چنانچہ ان کی اولاد میں مٹی کی مناسبت سے کوئی لال، کوئی سفید، کالا اور ان کے درمیان مختلف رنگوں کے اور نرم مزاج و گرم مزاج، بد باطن و پاک طینت لوگ پیدا ہوئے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالُوا حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ الأَعْرَابِيِّ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيعِ الأَرْضِ فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلَى قَدْرِ الأَرْضِ فَجَاءَ مِنْهُمُ الأَحْمَرُ وَالأَبْيَضُ وَالأَسْوَدُ وَبَيْنَ ذَلِكَ وَالسَّهْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2956
Sahih
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said, regarding Allah's saying: Enter the gate in prostration (2:58): "They entered dragging their behinds" meaning they distorted it, and with this chain, from the Prophet (ﷺ): But those who did wrong changed the word from that which had been told to them for another (2:59) - "They said: Habbah (a seed) in Sha'irah (in barely)
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «ادخلوا الباب سجدا» ”اور جھکے جھکے دروازہ میں داخل ہونا“ ( البقرہ: ۵۸ ) کے بارے میں فرمایا: ”بنی اسرائیل چوتڑ کے بل کھسکتے ہوئے داخل ہوئے“۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي قَوْلِهِ : (ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا ) قَالَ " دَخَلُوا مُتَزَحِّفِينَ عَلَى أَوْرَاكِهِمْ " . وَبِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلمَ : (فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلاً غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ ) قَالَ " قَالُوا حَبَّةٌ فِي شَعْرَةٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2957
Hasan
Narrated 'Abdullah bin 'Amir bin Rabi'ah:from his father who said: "We were with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey on a very dark night and we did not know where the Qiblah was. So each man among us prayed in his own direction. In the morning when we mentioned that to the Messenger of Allah (ﷺ), then the following was revealed: "So wherever you turn, there is the Face of Allah. (2:)
عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک انتہائی اندھیری رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، کوئی نہ جان سکا کہ قبلہ کدھر ہے۔ چنانچہ جو جس رخ پر تھا اس نے اسی رخ پر نماز پڑھ لی، جب صبح ہوئی تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو ( اس وقت ) یہ آیت «فأينما تولوا فثم وجه الله» ”تم جدھر بھی منہ کروا ادھر اللہ کا منہ ہے“ ( البقرہ: ۱۱۵ ) نازل ہوئی۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ السَّمَّانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرِهِ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ فَلَمْ نَدْرِ أَيْنَ الْقِبْلَةُ فَصَلَّى كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا عَلَى حِيَالِهِ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَنَزَلَتْ : (أَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ ) . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ أَشْعَثَ السَّمَّانِ أَبِي الرَّبِيعِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ . وَأَشْعَثُ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ .
#2958
Sahih
Narrated Ibn 'Umar:"The Messenger of Allah (ﷺ) would perform voluntary Salat upon his mount facing whichever direction he was headed, while he was coming from Makkah to Al-Madinah." Then Ibn 'Umar recited: To Allah belong both the east and the west. (2:115)" And Ibn 'Umar said: "It was about this that the Ayah was revealed." [Abu Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. It has been reported from Qatadah that he said about this Ayah: To Allah belong both the east and the west, so wherever you turn, there is the Face of Allah. [Qatadah said:] "It is abrogated, it was abrogated by [His saying]: So turn your face in the direction of Al-Masjid Al-Haram. Meaning: facing it." And it has been reported that Mujãhid said about this Ayah: "So wherever you turn, there is the Face of Allah": "So there is the direction of Allah
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ آتے ہوئے نفل نماز اپنی اونٹنی پر بیٹھے بیٹھے پڑھ رہے تھے۔ اونٹنی جدھر بھی چاہتی منہ پھیرتی ۱؎، ابن عمر نے پھر یہ آیت «ولله المشرق والمغرب» ”اللہ ہی کے لیے مغرب و مشرق ہیں“ ( البقرہ: ۱۱۵ ) پڑھی۔ ابن عمر کہتے ہیں: یہ آیت اسی تعلق سے نازل ہوئی ہے ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- قتادہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: آیت: «ولله المشرق والمغرب فأينما تولوا فثم وجه الله» ( البقرة: ۱۱۵ ) منسوخ ہے، اور اسے منسوخ کرنے والی آیت «فول وجهك شطر المسجد الحرام» ”آپ اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں“ ( البقرہ: ۱۴۴ ) ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ وَهُوَ جَاءٍ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ ثُمَّ قَرَأَ ابْنُ عُمَرَ هَذِهِ الآيَةَ : (وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ) الآيَةَ . قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَفِي هَذَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَيُرْوَى عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الآيَةِِ : ()ولله الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ ) قَالَ قَتَادَةُ هِيَ مَنْسُوخَةٌ نَسَخَهَا قَوْلُهُ : (فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ) أَىْ تِلْقَاءَهُ . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ . وَيُرْوَى عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي هَذِهِ الآيَةِ : (أَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ ) قَالَ فَثَمَّ قِبْلَةُ اللَّهِ . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ النَّضْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ عَنْ مُجَاهِدٍ بِهَذَا .
#2959
Sahih
Narrated Anas:that 'Umar bin Al-Khattab said: "O Messenger of Allah (ﷺ)! I wish that we could perform Salat behind the Maqam: So the following was revealed: And take you the Maqam of Ibrahim as a place of Salat. (2:)
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کاش ہم مقام ( مقام ابراہیم ) کے پیچھے نماز پڑھتے، تو آیت: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ”تم مقام ابراہیم کو جائے صلاۃ مقرر کر لو“ ( البقرہ: ۱۲۵ ) نازل ہوئی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ صَلَّيْنَا خَلْفَ الْمَقَامِ فَنَزَلَتْ : (وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ) . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2960
Sahih
Narrated Anas:that 'Umar bin Al-Khattab [may Allah be pleased with him] said: "I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ)! I wish that you could perform Salat behind the Maqam of Ibrahim.' So the following was revealed: And take you the Maqam of Ibrahim as a place of Salat
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اگر آپ مقام ابراہیم کو مصلی ( نماز پڑھنے کی جگہ ) بنا لیتے ( تو کیا ہی اچھی بات ہوتی ) تو آیت «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَوِ اتَّخَذْتَ مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى فَنَزَلَتْ : (وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ) . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ .
#2961
Sahih
Narrated Abu Sa'eed:that about Allah's saying: Thus we have made you a Wasata nation (2:143) - the Prophet (ﷺ) said: "The meaning of Wasata is just." [Abu 'Eisa said: This Hadith is [Hasan] Sahih. (Another chain) From Abu Sa'eed who narrated that: "The Messenger of Allah a said: 'Nuh will be called and it will be said: "Did you deliver (the Message)? "He will say: "Yes" and his people will be called and it will be said: "Did he call you?" They will say: "No warner came to us. No one came to us.' It will be said: "Who will testify for you?" So it is said: "Muhammad and his Ummah (community)." He (ﷺ) said: You will be brought to testify that he delivered (the Message) and that is His saying: Thus, we have made you a Wasata nation that you will be witnesses over mankind and the Messenger (Muhammad) will be a witness over you.' And Al-Wasat is "Just." (Sahih) Abu 'Eisa said: This Hadith is Hasan Sahih
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وكذلك جعلناكم أمة وسطا» ”ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے“ ( البقرہ: ۱۴۳ ) کے سلسلے میں فرمایا: ” «وسط» سے مراد عدل ہے“ ( یعنی انصاف پسند ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي قَوْلِهِ : (كََذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا ) قَالَ " عَدْلاً " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُدْعَى نُوحٌ فَيُقَالُ هَلْ بَلَّغْتَ فَيَقُولُ نَعَمْ . فَيُدْعَى قَوْمُهُ فَيُقَالُ هَلْ بَلَّغَكُمْ فَيَقُولُونَ مَا أَتَانَا مِنْ نَذِيرٍ وَمَا أَتَانَا مِنْ أَحَدٍ . فَيَقُولُ مَنْ شُهُودُكَ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ . قَالَ فَيُؤْتَى بِكُمْ تَشْهَدُونَ أَنَّهُ قَدْ بَلَّغَ فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ : ( وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا ) وَالْوَسَطُ الْعَدْلُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، نَحْوَهُ .
#2962
Sahih
Narrated Al-Bara bin 'Azib:"When the Messenger of Allah (ﷺ) arrived in Al-Madinah, he performed Salat facing the direction of Bait Al-Maqdis (Jerusalem) for sixteen or seventeen months. The Messenger of Allah (ﷺ) longed to face toward the Ka'bah, so Allah, Might and Sublime is He revealed: Verily, WE have seen the turning of your face towards the heave. Surely, We Shall turn your face in the direction of Al-Masjid Al-Haram (2:144). So he faced the direction of the Ka'bah and he longed for that. (One day) a man performed Salat Al-'Asr along with him." He said: "Then he passed by some people of the Ansar performing Salat Al-'Asr, while they were bowing toward Bait Al-Maqdis. He told them that he testifies that he performed Salat with the Messenger of Allah (ﷺ), and he had faced the direction of the Ka'bah." He said: "So they turned while they were bowing
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ تشریف لے آئے تو سولہ یا سترہ مہینے تک آپ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے، حالانکہ آپ کی خواہش یہی تھی کہ قبلہ کعبہ کی طرف کر دیا جائے، تو اللہ نے آپ کی اس خواہش کے مطابق «قد نرى تقلب وجهك في السماء فلنولينك قبلة ترضاها فول وجهك شطر المسجد الحرام» ”ہم آپ کے چہرے کو باربار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اب ہم آپ کو اس قبلہ کی جانب پھیر دیں گے جس سے آپ خوش ہو جائیں، آپ اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں“ ( البقرہ: ۱۴۴ ) ، پھر آپ کعبہ کی طرف پھیر دئیے گئے، اور آپ یہی چاہتے ہی تھے۔ ایک آدمی نے آپ کے ساتھ نماز عصر پڑھی، پھر وہ کچھ انصاری لوگوں کے پاس سے گزرا وہ لوگ بیت المقدس کی طرف رخ کئے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ اور رکوع کی حالت میں تھے، اس شخص نے ( اعلان کرتے ہوئے ) کہا کہ وہ گواہی دیتا ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے اور آپ کو کعبہ کی طرف منہ پھیر کر نماز پڑھنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ یہ سن کر لوگ حالت رکوع ہی میں ( کعبہ کی طرف ) پھر گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے سفیان ثوری نے بھی ابواسحاق سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ صَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحِبُّ أَنْ يُوَجَّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: ( قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ) فَوَجَّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ وَكَانَ يُحِبُّ ذَلِكَ فَصَلَّى رَجُلٌ مَعَهُ الْعَصْرَ قَالَ ثُمَّ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلاَةِ الْعَصْرِ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ هُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَّهُ قَدْ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ قَالَ فَانْحَرَفُوا وَهُمْ رُكُوعٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ .
#2963
Sahih
Narrated Ibn 'Umar:"They were bowing during Salat Al-Fajr
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ لوگ فجر کی نماز ۱؎ میں حالت رکوع میں تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمرو بن عوف مزنی، ابن عمر، عمارہ بن اوس اور انس بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانُوا رُكُوعًا فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ وَابْنِ عُمَرَ وَعُمَارَةَ بْنِ أَوْسٍ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2964
Sahih
Narrated Ibn 'Abbas:"When the Prophet (ﷺ) began facing the Ka'bah they said: 'O Messenger of Allah! How about our brothers who died while they were praying toward Bait Al-Maqdis?' So Allah Most High revealed: Allah would not allow your faith to be wasted. (2:)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے ان بھائیوں کا کیا بنے گا جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، اور وہ گزر گئے تو ( اسی موقع پر ) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وما كان الله ليضيع إيمانكم» ”اللہ تعالیٰ تمہارا ایمان ضائع نہ کرے گا“ ( البقرہ: ۱۴۳ ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَأَبُو عَمَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا وُجِّهَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْكَعْبَةِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: (وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ ) الآيَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2965
Sahih
Narrated Az-Zuhri:that 'Urqah said: "I said to 'Aishah: 'I do not see anything wrong if someone does not go between As-Safa and Al-Marwah, nor any harm if I do not go between them.' She said: 'How horrible is what you have said O my nephew! The Messenger of Allah (ﷺ) would go between them, and the Muslims go between them. It was only that the people who assumed Ihram in the name of the false deity Mannah, which was in Al-Mushallal, would not go between As-Safa and Al-Marwah. So, Allah Blessed and Most High revealed: So it is not a sin for those who perform Hajj or go 'Umrah to the House to go between them (2:158). And if it were as you say, then it would be: "Then there is no harm on him if he does not go between them." Az-Zuhri said: "I mentioned that to Abu Bakr bin 'Abdur-Rahman bin Al-Harith bin Hisham. He was surprised at that and he said: 'Indeed this is knowledge. I had heard some men among the people of knowledge saying that those Arabs who would not go between As-Safa and Al-Marwah said, that going between these two rocks is a matter from Jahiliyyah. And others among the Ansar said: "We have only been ordered with going around the House, we were not ordered to do so with As-Safa and Al-Marwah." So Allah Most High revealed: Indeed As-Safa and Al-Marwah are of the symbols of Allah...' (2.158) Abu Bakr bin 'Abdur-Rahman said: 'So I thought that it was revealed about these people, and those people
عروہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے کہا: میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص صفا و مروہ کے درمیان طواف نہ کرے، اور میں خود اپنے لیے ان کے درمیان طواف نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں پاتا۔ تو عائشہ نے کہا: اے میرے بھانجے! تم نے بری بات کہہ دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کیا اور مسلمانوں نے بھی کیا ہے۔ ہاں ایسا زمانہ جاہلیت میں تھا کہ جو لوگ مناۃ ( بت ) کے نام پر جو مشلل ۱؎ میں تھا احرام باندھتے تھے وہ صفا و مروہ کے درمیان طواف نہیں کرتے تھے، تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیت: «فمن حج البيت أو اعتمر فلا جناح عليه أن يطوف بهما» ۲؎ نازل فرمائی۔ اگر بات اس طرح ہوتی جس طرح تم کہہ رہے ہو تو آیت اس طرح ہوتی «فلا جناح عليه أن لا يطوف بهما» ( یعنی اس پر صفا و مروہ کے درمیان طواف نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ) ۔ زہری کہتے ہیں: میں نے اس بات کا ذکر ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام سے کیا تو انہیں یہ بات بڑی پسند آئی۔ کہا: یہ ہے علم و دانائی کی بات۔ اور ( بھئی ) میں نے تو کئی اہل علم کو کہتے سنا ہے کہ جو عرب صفا و مروہ کے درمیان طواف نہ کرتے تھے وہ کہتے تھے کہ ہمارا طواف ان دونوں پتھروں کے درمیان جاہلیت کے کاموں میں سے ہے۔ اور کچھ دوسرے انصاری لوگوں نے کہا: ہمیں تو خانہ کعبہ کے طواف کا حکم ملا ہے نہ کہ صفا و مروہ کے درمیان طواف کا۔ ( اسی موقع پر ) اللہ تعالیٰ نے آیت: «إن الصفا والمروة من شعائر الله» نازل فرمائی ۳؎۔ ابوبکر بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت انہیں لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ شَيْئًا وَمَا أُبَالِي أَنْ لاَ أَطَّوَّفَ بَيْنَهُمَا . فَقَالَتْ بِئْسَمَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَطَافَ الْمُسْلِمُونَ وَإِنَّمَا كَانَ مَنْ أَهَلَّ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي بِالْمُشَلَّلِ لاَ يَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ : (فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا ) وَلَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ لَكَانَتْ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَطَّوَّفَ بِهِمَا قَالَ الزُّهْرِيُّ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَأَعْجَبَهُ ذَلِكَ وَقَالَ إِنَّ هَذَا لَعِلْمٌ وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالاً مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ إِنَّمَا كَانَ مَنْ لاَ يَطَّوَّفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مِنَ الْعَرَبِ يَقُولُونَ إِنَّ طَوَافَنَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَجَرَيْنِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ وَقَالَ آخَرُونَ مِنَ الأَنْصَارِ إِنَّمَا أُمِرْنَا بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ وَلَمْ نُؤْمَرْ بِهِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ) قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَأُرَاهَا قَدْ نَزَلَتْ فِي هَؤُلاَءِ وَهَؤُلاَءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2966
Sahih
Narrated 'Asim Al-Ahwal:"I asked Anas bin Malik about As-Safa and Al-Marwah, and he said: 'They were among the rites of Jahiliyyah.' He said: 'So during Islam, we refrained from them, then Allah, Blessed and Most High, revealed: Indeed As-Safa and Al-Marwah are of the symbols of Allah. So it is not a sin for those who perform Hajj or 'Umrah to the house to go between them. (2:158)' He said: 'So it is voluntarily then verily, Allah is the All-Recogniser, the All-Knowing. (2:)
عاصم الأحول کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ سے صفا اور مروہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ دونوں جاہلیت کے شعائر میں سے تھے ۱؎، پھر جب اسلام آیا تو ہم ان دونوں کے درمیان طواف کرنے سے رک گئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «إن الصفا والمروة من شعائر الله» ( صفا و مروہ شعائر الٰہی میں سے ہیں ) نازل فرمائی۔ تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے اس کے لیے ان دونوں کے درمیان طواف ( سعی ) کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ان کے درمیان طواف ( سعی ) نفل ہے اور جو کوئی بھلائی کام ثواب کی خاطر کرے تو اللہ تعالیٰ اس کا قدردان اور علم رکھنے والا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَقَالَ كَانَا مِنْ شَعَائِرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا كَانَ الإِسْلاَمُ أَمْسَكْنَا عَنْهُمَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ : ( إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا ) قَالَ هُمَا تَطَوُّعٌ (فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ ) . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2967
Sahih
Narrated Jabir bin 'Abdullah:"When the Messenger of Allah (ﷺ) arrived in Makkah, performing Tawaf around the House seven times, I heard him reciting: And take the Maqam of Ibrahim as a place of prayer (2:125). So he performed Salat behind the Maqam, then he came to the (Black) Stone, then he said: 'We begin with what Allah began with.' So he began at As-Safa and recited: Indeed As-Safa and Al-Marwah are among the Symbols of Allah (2:)
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لائے اور آپ بیت اللہ کا سات طواف کیا تو میں نے آپ کو یہ آیت پڑھتے سنا: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ”مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو“۔ آپ نے مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی، پھر حجر اسود کے پاس آ کر اسے چوما، پھر فرمایا: ”ہم ( سعی ) وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ نے ( اس کا ذکر ) شروع کیا ہے۔ اور آپ نے پڑھا «إن الصفا والمروة من شعائر الله» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا فَقَرَأَ : (وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ) فَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ ثُمَّ أَتَى الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ قَالَ " نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ " . وَقَرَأَ : (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ) . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2968
Sahih
Narrated Al-Bara bin 'Azib:"It was the custom among the Companions of Muhammad (ﷺ), that if any of them was fasting and the food was presented but he had slept before eating, he would not eat that night, nor the following day until the evening. Qais bin Sirmah Al-Ansari fasted and came to his wife at the time of Iftar, and said to her: 'No, but I will go and bring something for you.' He worked during the day, so his eyes (sleep) overcame him. Then his wife came, and when she saw him she said: 'You shall be disappointed.' About the middle of the next day he fainted. That was mentioned to the Prophet (ﷺ), so this Ayah was revealed: 'It is made lawful for you to have sexual relations with your women on the night of the fasts. So they were very happy about that. 'And eat and drink until the white thread (light) of dawn appears distinct to you from the black thread (of night). (2:)
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ شروع میں کے صحابہ کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی آدمی روزہ رکھتا اور افطار کا وقت ہوتا اور افطار کرنے سے پہلے سو جاتا، تو پھر وہ ساری رات اور سارا دن نہ کھاتا یہاں تک کہ شام ہو جاتی۔ قیس بن صرمہ انصاری کا واقعہ ہے کہ وہ روزے سے تھے جب افطار کا وقت آیا تو وہ اپنی اہلیہ کے پاس آئے اور پوچھا کہ تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟ انہوں نے کہا: ہے تو نہیں، لیکن میں جاتی ہوں اور آپ کے لیے کہیں سے ڈھونڈھ لاتی ہوں، وہ دن بھر محنت مزدوری کرتے تھے اس لیے ان کی آنکھ لگ گئی۔ وہ لوٹ کر آئیں تو انہیں سوتا ہوا پایا، کہا: ہائے رے تمہاری محرومی و بدقسمتی۔ پھر جب دوپہر ہو گئی تو قیس پر غشی طاری ہو گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کی گئی تو اس وقت یہ آیت: «أحل لكم ليلة الصيام الرفث إلى نسائكم» ”روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیا گیا“ ( البقرہ: ۱۸۷ ) ، نازل ہوئی، لوگ اس آیت سے بہت خوش ہوئے۔ ( اس کے بعد یہ حکم نازل ہو گیا ) «وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود من الفجر» تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے ظاہر ہو جائے“ ( البقرہ: ۱۸۷ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَائِمًا فَحَضَرَ الإِفْطَارُ فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَ لَمْ يَأْكُلْ لَيْلَتَهُ وَلاَ يَوْمَهُ حَتَّى يُمْسِيَ وَإِنَّ قَيْسَ بْنَ صِرْمَةَ الأَنْصَارِيَّ كَانَ صَائِمًا فَلَمَّا حَضَرَهُ الإِفْطَارُ أَتَى امْرَأَتَهُ فَقَالَ هَلْ عِنْدَكِ طَعَامٌ قَالَتْ لاَ وَلَكِنْ أَنْطَلِقُ فَأَطْلُبُ لَكَ . وَكَانَ يَوْمَهُ يَعْمَلُ فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ وَجَاءَتْهُ امْرَأَتُهُ فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ خَيْبَةً لَكَ . فَلَمَّا انْتَصَفَ النَّهَارُ غُشِيَ عَلَيْهِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : ( أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ ) فَفَرِحُوا بِهَا فَرَحًا شَدِيدًا : (فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ) . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2969
Sahih
Narrated An-Nu'man bin Bashir:from the Prophet (ﷺ) regarding Allah's saying: Your Lord said: Invoke Me, I shall respond to you (40:60, it appears that the author intended to apply it to Al-Baqarah 2:186). - he said: "The supplication is the worship." And he recited: 'Your Lord said: Invoke Me, I shall respond to you.' up to His saying: 'in humiliation
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وقال ربكم ادعوني أستجب لكم» ”اور تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا، یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے اعراض کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے“ ( المؤمن: ۶۰ ) ، کی تفسیر میں فرمایا کہ دعا ہی عبادت ہے۔ پھر آپ نے سورۃ مومن کی آیت «وقال ربكم ادعوني أستجب لكم» سے «داخرين» ۱؎ تک پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اسے منصور نے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ يُسَيْعٍ الْكِنْدِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي قَوْلِهِ : (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ) قَالَ " الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ " . وَقَرَأَ :( وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ) إِلَى قَوْلِهِ ( دَاخِرِينَ ) . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2970
Sahih
Narrated 'Adi bin Hatim:"When 'Until the white (light) thread of dawn appears distinct to you from the black thread (of night)' was revealed, the Prophet (ﷺ) said to me: 'That only refers to the whiteness of the day from the blackness of the night
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت: «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود من الفجر» نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اس سے مراد رات کی تاریکی سے دن کی سفیدی ( روشنی ) کا نمودار ہو جانا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَخْبَرَنَا عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ : ( حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ) قَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا ذَاكَ بَيَاضُ النَّهَارِ مِنْ سَوَادِ اللَّيْلِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ ذَلِكَ .
#2971
Sahih
Narrated 'Adi bin Hatim:"I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about the fast, he said: 'Until the white (light) thread of dawn appears distinct to you from the black thread (of night)'" - he said: "So I took two ropes, one white and the other black to look at them. So the Messenger of Allah (ﷺ) said to me" - it was something that Sufyan (a sub narrator) did not remember - so he said: "It is only the night and the day
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود» ”یہاں تک کہ سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے نمایاں ہو جائے“ تو میں نے دو ڈوریاں لیں۔ ایک سفید تھی دوسری کالی، میں انہیں کو دیکھ کر ( سحری کے وقت ہونے یا نہ ہونے کا ) فیصلہ کرنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کچھ باتیں کہیں ( ابن ابی عمر کہتے ہیں: میرے استاد ) سفیان انہیں یاد نہ رکھ سکے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد رات اور دن ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّوْمِ فَقَالَ : ( حَتََّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ ) قَالَ فَأَخَذْتُ عِقَالَيْنِ أَحَدُهُمَا أَبْيَضُ وَالآخَرُ أَسْوَدُ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِمَا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا لَمْ يَحْفَظْهُ سُفْيَانُ قَالَ " إِنَّمَا هُوَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2972
Sahih
Narrated Aslam bin 'Imran At-Tujibi:"We were in a Roman city, when a large column of Romans came out to us. So about the same number or more of the Muslims went towards them. The commander of the people of Egypt was 'Uqbah bin 'Amir, and the commenter of the (our) group was Fadalah bin 'Ubaid. One man among the Muslims reached the Roman line until he entered amidst them, so the people started screaming: 'Subhan Allah! He has thrown himself into destruction!' Abu Ayyub Al-Ansari said: 'O you people! You give this interpretation for this Ayah, while this Ayah was only revealed about us, the people among the Ansar, when Allah made Islam might, and increased its supporters. Some of us secretly said to each other, outside of the presence of the Messenger of Allah (ﷺ): "Our wealth has been ruined, and Allah has strengthened Islam, and increased its supporters, so if we tend to our wealth then what we lost of it shall be revitalized for us." So Allah, Blessed and Most High, revealed to His Prophet (ﷺ), rebuking what we said: 'And spend in the cause of Allah, and do not throw yourselves into destruction. (2:195)' So the destruction was tending to the wealth and maintaining it.' Abu Ayyub did not cease traveling in Allah's cause, until he was buried in the land of the Romans
اسلم ابوعمران تجیبی کہتے ہیں کہ ہم روم شہر میں تھے، رومیوں کی ایک بڑی جماعت ہم پر حملہ آور ہونے کے لیے نکلی تو مسلمان بھی انہی جیسی بلکہ ان سے بھی زیادہ تعداد میں ان کے مقابلے میں نکلے، عقبہ بن عامر رضی الله عنہ اہل مصر کے گورنر تھے اور فضالہ بن عبید رضی الله عنہ فوج کے سپہ سالار تھے۔ ایک مسلمان رومی صف پر حملہ آور ہو گیا اور اتنا زبردست حملہ کیا کہ ان کے اندر گھس گیا۔ لوگ چیخ پڑے، کہنے لگے: سبحان اللہ! اللہ پاک و برتر ہے اس نے تو خود ہی اپنے آپ کو ہلاکت میں جھونک دیا ہے۔ ( یہ سن کر ) ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: لوگو! تم اس آیت کی یہ تاویل کرتے ہو، یہ آیت تو ہم انصار کے بارے میں اتری ہے، جب اللہ نے اسلام کو طاقت بخشی اور اس کے مددگار بڑھ گئے تو ہم میں سے بعض لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چھپا کر رازداری سے آپس میں کہا کہ ہمارے مال برباد ہو گئے ہیں ( یعنی ہماری کھیتی باڑیاں تباہ ہو گئی ہیں ) اللہ نے اسلام کو قوت و طاقت بخش دی۔ اس کے ( حمایتی ) و مددگار بڑھ گئے، اب اگر ہم اپنے کاروبار اور کھیتی باڑی کی طرف متوجہ ہو جاتے تو جو نقصان ہو گیا ہے اس کمی کو پورا کر لیتے، چنانچہ ہم میں سے جن لوگوں نے یہ بات کہی تھی اس کے رد میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ آیت نازل فرمائی۔ اللہ نے فرمایا: «وأنفقوا في سبيل الله ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة» ”اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو“ ( البقرہ: ۱۹۵ ) ، تو ہلاکت یہ تھی کہ مالی حالت کو سدھار نے کی جدوجہد میں لگا جائے، اور جہاد کو چھوڑ دیا جائے ( یہی وجہ تھی کہ ) ابوایوب انصاری رضی الله عنہ ہمیشہ اللہ کی راہ میں جہاد کی ایک علامت و ہدف کی حیثیت اختیار کر گئے تھے یہاں تک کہ سر زمین روم میں مدفون ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ التُّجِيبِيِّ، قَالَ كُنَّا بِمَدِينَةِ الرُّومِ فَأَخْرَجُوا إِلَيْنَا صَفًّا عَظِيمًا مِنَ الرُّومِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِثْلُهُمْ أَوْ أَكْثَرُ وَعَلَى أَهْلِ مِصْرَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ وَعَلَى الْجَمَاعَةِ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ فَحَمَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى صَفِّ الرُّومِ حَتَّى دَخَلَ فِيهِمْ فَصَاحَ النَّاسُ وَقَالُوا سُبْحَانَ اللَّهِ يُلْقِي بِيَدَيْهِ إِلَى التَّهْلُكَةِ فَقَامَ أَبُو أَيُّوبَ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تَتَأَوَّلُونَ هَذِهِ الآيَةَ هَذَا التَّأْوِيلَ وَإِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِينَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ لَمَّا أَعَزَّ اللَّهُ الإِسْلاَمَ وَكَثُرَ نَاصِرُوهُ فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ سِرًّا دُونَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أَمْوَالَنَا قَدْ ضَاعَتْ وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعَزَّ الإِسْلاَمَ وَكَثُرَ نَاصِرُوهُ فَلَوْ أَقَمْنَا فِي أَمْوَالِنَا فَأَصْلَحْنَا مَا ضَاعَ مِنْهَا . فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم يَرُدُّ عَلَيْنَا مَا قُلْنَا: (وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلاَ تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ) فَكَانَتِ التَّهْلُكَةُ الإِقَامَةَ عَلَى الأَمْوَالِ وَإِصْلاَحَهَا وَتَرَكْنَا الْغَزْوَ فَمَا زَالَ أَبُو أَيُّوبَ شَاخِصًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى دُفِنَ بِأَرْضِ الرُّومِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
#2973
Sahih
Narrated Mujahid:that Ka'b bin 'Ujrah said: "By the one in Whose Hand is my soul! This Ayah was revealed referring to my case: 'And whosoever of you is ill or has an ailment on his scalp (necessitating shaving) he must pay Fidyah of either fasting or giving charity, or a sacrifice. (2:196)'" He said: "We were with the Messenger of Allah (ﷺ) at Al-Hudaibiyyah and we were in a state of Ihram. The idolaters had held us back, and I had a good deal of hair, and the lice were falling on my face. The Prophet (ﷺ) passed by me and said: 'The lice on your head are bothering you?'" He said: "I said: 'Yes.' He said: 'Then shave.' And this Ayah was revealed." Mujahid said: "The fasting is for three days, the feeding is six needy people, and the sacrifice is a sheep or more
مجاہد کہتے ہیں کہ کعب بن عجرہ رضی الله عنہ نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ آیت: «فمن كان منكم مريضا أو به أذى من رأسه ففدية من صيام أو صدقة أو نسك» ”البتہ تم میں سے جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو ( جس کی وجہ سے سر منڈا لے ) تو اس پر فدیہ ہے، خواہ روزے رکھ لے، خواہ صدقہ دے، خواہ قربانی کرے“ ( البقرہ: ۱۹۶ ) ، میرے بارے میں اتری ہم حدیبیہ میں تھے، احرام باندھے ہوئے تھے، مشرکوں نے ہمیں روک رکھا تھا، میرے بال کانوں کے لو کے برابر تھے، سر کے جوئیں چہرے پر گرنے لگیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہمارے پاس سے ہوا ( ہمیں دیکھ کر ) آپ نے فرمایا: ”لگتا ہے تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”سر لو مونڈ ڈالو“، پھر یہ آیت ( مذکورہ ) اتری۔ مجاہد کہتے ہیں: روزے تین دن ہیں، کھانا چھ مسکینوں ۱؎ کو کھلانا ہے۔ اور قربانی ( کم از کم ) ایک بکری، اور اس سے زیادہ بھی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ قَالَ كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَفِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَإِيَّاىَ عَنَى بِهَا : (فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ ) قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْحُدَيْبِيَةِ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ وَقَدْ حَصَرَنَا الْمُشْرِكُونَ وَكَانَتْ لِي وَفْرَةٌ فَجَعَلَتِ الْهَوَامُّ تَسَاقَطُ عَلَى وَجْهِي فَمَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " كَأَنَّ هَوَامَّ رَأْسِكَ تُؤْذِيكَ " . قَالَ قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ " فَاحْلِقْ " . وَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ . قَالَ مُجَاهِدٌ الصِّيَامُ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ وَالطَّعَامُ سِتَّةُ مَسَاكِينَ وَالنُّسُكُ شَاةٌ فَصَاعِدًا . حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ ذَلِكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ ذَلِكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَصْبَهَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ أَيْضًا .
#2974
Sahih
Narrated 'Abdur-Rahman bin Abi Laila:from Ka'b bin 'Ujrah who said: "The Messenger of Allah (ﷺ) came to me while I was lighting a fire under a pot, and lice were falling on my face, or on my eye-brows. He said: 'Are your lice bothering you?'" [He said:] "I said: 'Yes.' He said: 'Then shave your head and offer a sacrifice, or fast three days, or feed six needy people.'" Ayyub said: "I do not know which of them he started with
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ اس وقت میں ایک ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور جوئیں میری پیشانی یا بھوؤں پر بکھر رہی تھیں، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”اپنا سر مونڈ ڈالو اور بدلہ میں قربانی کر دو، یا تین دن روزہ رکھ لو، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو“۔ ایوب ( راوی ) کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں رہا کہ ( میرے استاذ نے ) کون سی چیز پہلے بتائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ أَتَى عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ وَالْقَمْلُ تَتَنَاثَرُ عَلَى جَبْهَتِي أَوْ قَالَ حَاجِبِي فَقَالَ " أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ " . قَالَ قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ " فَاحْلِقْ رَأْسَكَ وَانْسُكْ نَسِيكَةً أَوْ صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطَعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ " . قَالَ أَيُّوبُ لاَ أَدْرِي بِأَيَّتِهِنَّ بَدَأَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2975
Sahih
Narrated 'Abdur-Rahman bin Ya'mar:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Hajj is 'Arafat, the Hajj is 'Arafat, the Hajj is 'Arafat. The days of Mina are three: But whoever hastens to leave in two days, there is no sin on him, and whoever stays on, there is no sin on him (2:203). And whoever sees (attends) the 'Arafah before the rising of Fajr, then he has performed the Hajj." Ibn Abi 'Umar said: "Sufyan bin 'Uyainah said: 'This is the best Hadith that Ath-Thawri reported
عبدالرحمٰن بن یعمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج عرفات کی حاضری ہے، حج عرفات کی حاضری ہے۔ حج عرفات کی حاضری ہے، منیٰ ( میں قیام ) کے دن تین ہیں۔ مگر جو جلدی کر کے دو دنوں ہی میں واپس ہو جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور جو تین دن پورے کر کے گیا اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ۲؎ اور جو طلوع فجر سے پہلے عرفہ پہنچ گیا، اس نے حج کو پا لیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابن ابی عمر کہتے ہیں: سفیان بن عیینہ نے کہا: یہ ثوری کی سب سے عمدہ حدیث ہے، جسے انہوں نے روایت کی ہے، ۳- اسے شعبہ نے بھی بکیر بن عطاء سے روایت کیا ہے، ۴- اس حدیث کو ہم صرف بکیر بن عطاء کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْحَجُّ عَرَفَاتٌ الْحَجُّ عَرَفَاتٌ الْحَجُّ عَرَفَاتٌ أَيَّامُ مِنًى ثَلاَثٌ : (فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ ) وَمَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ " . قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَهَذَا أَجْوَدُ حَدِيثٍ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ وَلاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ .