Jami at-Tirmidhi

Hadith #2953

العربية
أَخْبَرَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ، أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ الْقَوْمُ هَذَا عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ ‏.‏ وَجِئْتُ بِغَيْرِ أَمَانٍ وَلاَ كِتَابٍ فَلَمَّا دَفَعْتُ إِلَيْهِ أَخَذَ بِيَدِي وَقَدْ كَانَ قَالَ قَبْلَ ذَلِكَ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ يَدَهُ فِي يَدِي قَالَ فَقَامَ بِي فَلَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ وَصَبِيٌّ مَعَهَا ‏.‏ فَقَالاَ إِنَّ لَنَا إِلَيْكَ حَاجَةً فَقَامَ مَعَهُمَا حَتَّى قَضَى حَاجَتَهُمَا ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي حَتَّى أَتَى بِي دَارَهُ فَأَلْقَتْ لَهُ الْوَلِيدَةُ وِسَادَةً فَجَلَسَ عَلَيْهَا وَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَا يُفِرُّكَ أَنْ تَقُولَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَهَلْ تَعْلَمُ مِنْ إِلَهٍ سِوَى اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ لاَ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ تَكَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا تَفِرُّ أَنْ تَقُولَ اللَّهُ أَكْبَرُ وَتَعْلَمُ أَنَّ شَيْئًا أَكْبَرُ مِنَ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ لاَ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّ الْيَهُودَ مَغْضُوبٌ عَلَيْهِمْ وَإِنَّ النَّصَارَى ضُلاَّلٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي جِئْتُ مُسْلِمًا ‏.‏ قَالَ فَرَأَيْتُ وَجْهَهُ تَبَسَّطَ فَرَحًا قَالَ ثُمَّ أَمَرَ بِي فَأُنْزِلْتُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ جَعَلْتُ أَغْشَاهُ آتِيهِ طَرَفَىِ النَّهَارِ قَالَ فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ عَشِيَّةً إِذْ جَاءَهُ قَوْمٌ فِي ثِيَابٍ مِنَ الصُّوفِ مِنْ هَذِهِ النِّمَارِ قَالَ فَصَلَّى وَقَامَ فَحَثَّ عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ وَلَوْ صَاعٌ وَلَوْ بِنِصْفِ صَاعٍ وَلَوْ بِقَبْضَةٍ وَلَوْ بِبَعْضِ قَبْضَةٍ يَقِي أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ حَرَّ جَهَنَّمَ أَوِ النَّارِ وَلَوْ بِتَمْرَةٍ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لاَقِي اللَّهَ وَقَائِلٌ لَهُ مَا أَقُولُ لَكُمْ أَلَمْ أَجْعَلْ لَكَ سَمْعًا وَبَصَرًا فَيَقُولُ بَلَى ‏.‏ فَيَقُولُ أَلَمْ أَجْعَلْ لَكَ مَالاً وَوَلَدًا فَيَقُولُ بَلَى ‏.‏ فَيَقُولُ أَيْنَ مَا قَدَّمْتَ لِنَفْسِكَ فَيَنْظُرُ قُدَّامَهُ وَبَعْدَهُ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ لاَ يَجِدُ شَيْئًا يَقِي بِهِ وَجْهَهُ حَرَّ جَهَنَّمَ لِيَقِ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ فَإِنِّي لاَ أَخَافُ عَلَيْكُمُ الْفَاقَةَ فَإِنَّ اللَّهَ نَاصِرُكُمْ وَمُعْطِيكُمْ حَتَّى تَسِيرَ الظَّعِينَةُ فِيمَا بَيْنَ يَثْرِبَ وَالْحِيرَةِ أَكْثَرُ مَا تَخَافُ عَلَى مَطِيَّتِهَا السَّرَقَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَجَعَلْتُ أَقُولُ فِي نَفْسِي فَأَيْنَ لُصُوصُ طَيِّئٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ‏.‏ وَرَوَى شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ‏.‏
English
(Another chain) from 'Adi bin Hatim who said:"I went to the Prophet (ﷺ) while he was sitting in the Masjid, the people said: 'This is 'Adi bin Hatim.' And I came without having a treaty nor a writ. When I was brought to him, he took my hand. Prior to that he had said: 'I hope that Allah will place his hand in my hand.'" He said: "He stood with me, and a woman and a boy met him and said: 'We have a need from you.' He stood with them, until he was finished dealing with what they wanted. Then he took me by the hand until he brought me to his house. A slave girl brought him a cushion to sit on, and I sat in front of him. He expressed thanks and praise for Allah then said: 'What has caused you to flee from saying La Ilaha Illallah? Do you know of another god other than Him?'" He said: "I said: 'No.'" He said: "Then he talked for some time, and then said: 'You refuse to say Allahu Akbar because you know that there is something greater than Allah?'" He said: "I said: 'No.' He said: 'Indeed the Jews are those who Allah is wrath with, and the Christians have strayed.'" He said: "I said: 'Indeed I am a Muslim, Hanif.'" He said: "I saw his face smiling with happiness." He said: "Then he ordered that I stop with him at the home of a man from the Ansar, whom he would frequently visit in the mornings and the evenings. When I was with him at night, a people in woolen garments of these Nimar (a cloth with certain patters, and the word appeared before) came. Then he performed Salat and stood to encourage them (the people) to give (charity) to them. Then he said: 'Even with a Sa' or half a Sa', or a handful or part of a handful, to save the face of one of you from the heat of Hell, or the Fire. And even if it be by a date or a part of a date - for indeed one of you shall meet Allah and it shall be said to him what I say to you: "Have I not given hearing and seeing to you?" He shall say: "Of course." It will be said: "Have I not given you wealth and children?" He shall say: "Of course." It will be said: "So where is what you have sent forth for yourself?" He will look before him and behind him, on his right and on his left, but he shall not find anything to protect his face from the heat of Hell. Let one of you protect his face from the Fire, even if with part of a date, and if he does not find that, then with a good statement. For indeed I do not fear poverty for you - Allah will aid you and grant you, such that a woman can travel on her camel howda from Yathrib to Al-Hirah, or further, without fear of being robbed.' I began thinking to myself: "Where would the thieves of Taiy' be then?
اردو
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے، لوگوں نے کہا: یہ عدی بن حاتم ہیں، میں آپ کے پاس بغیر کسی امان اور بغیر کسی تحریر کے آیا تھا، جب مجھے آپ کے پاس لایا گیا تو آپ نے میرا ہاتھ تھام لیا۔ آپ اس سے پہلے فرما چکے تھے کہ ”مجھے امید ہے کہ اللہ ان کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے گا“ ۱؎۔ عدی کہتے ہیں: آپ مجھے لے کر کھڑے ہوئے، اسی اثناء میں ایک عورت ایک بچے کے ساتھ آپ سے ملنے آ گئی، ان دونوں نے عرض کیا: ہمیں آپ سے ایک ضرورت ہے۔ آپ ان دونوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور ان کی ضرورت پوری فرما دی۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ تھام لیا اور مجھے لیے اپنے گھر آ گئے۔ ایک بچی نے آپ کے لیے ایک گدا بچھا دیا، جس پر آپ بیٹھ گئے اور میں بھی آپ کے سامنے بیٹھ گیا، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ” ( بتاؤ ) تمہیں «لا إلہ إلا اللہ» کہنے سے کیا چیز روک رہی ہے؟ کیا تم اللہ کے سوا کسی اور کو معبود سمجھتے ہو؟“ میں نے کہا: نہیں، آپ نے کچھ دیر باتیں کیں، پھر فرمایا: ”اللہ اکبر کہنے سے بھاگ رہے ہو؟“ کیا تم سمجھتے ہو کہ اللہ سے بھی بڑی کوئی چیز ہے؟ میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”یہود پر اللہ کا غضب نازل ہو چکا ہے اور نصاریٰ گمراہ ہیں“، اس پر وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: میں تو مسلمان ہونے کا ارادہ کر کے آیا ہوں۔ وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا، پھر آپ نے میرے لیے حکم فرمایا: تو میں ایک انصاری صحابی کے یہاں ( بطور مہمان ) ٹھہرا دیا گیا، پھر میں دن کے دونوں کناروں پر یعنی صبح و شام آپ کے پاس حاضر ہونے لگا۔ ایک شام میں آپ کے پاس بیٹھا ہی ہوا تھا کہ لوگ چیتے کی سی دھاری دار گرم کپڑے پہنے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوئے ( ان کے آنے کے بعد ) آپ نے نماز پڑھی، پھر آپ نے کھڑے ہو کر تقریر فرمائی اور لوگوں کو ان پر خرچ کرنے کے لیے ابھارا۔ آپ نے فرمایا: ” ( صدقہ ) دو اگرچہ ایک صاع ہو، اگرچہ آدھا صاع ہو، اگرچہ ایک مٹھی ہو، اگرچہ ایک مٹھی سے بھی کم ہو جس کے ذریعہ سے تم میں کا کوئی بھی اپنے آپ کو جہنم کی گرمی یا جہنم سے بچا سکتا ہے۔ ( تم صدقہ دو ) چاہے ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو؟ چاہے آدھی کھجور ہی کیوں نہ ہو؟ کیونکہ تم میں سے ہر کوئی اللہ کے پاس پہنچنے والا ہے، اللہ اس سے وہی بات کہنے والا ہے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں، ( وہ پوچھے گا ) کیا ہم نے تمہارے لیے کان اور آنکھیں نہیں بنائیں؟ وہ کہے گا: ہاں، کیوں نہیں! اللہ پھر کہے گا: کیا میں نے تمہیں مال اور اولاد نہ دی؟، وہ کہے گا: کیوں نہیں تو نے ہمیں مال و اولاد سے نوازا۔ وہ پھر کہے گا وہ سب کچھ کہاں ہے جو تم نے اپنی ذات کی حفاظت کے لیے آگے بھیجا ہے؟ ( یہ سن کر ) وہ اپنے آگے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں بائیں ( چاروں طرف ) دیکھے گا، لیکن ایسی کوئی چیز نہ پائے گا جس کے ذریعہ وہ اپنے آپ کو جہنم کی گرمی سے بچا سکے۔ اس لیے تم میں سے ہر ایک کو اپنے آپ کو جہنم کی گرمی سے بچانے کی کوشش و تدبیر کرنی چاہیئے ایک کھجور ہی صدقہ کر کے کیوں نہ کرے۔ اور اگر یہ بھی نہ میسر ہو تو اچھی و بھلی بات کہہ کر ہی اپنے کو جہنم کی گرمی سے بچائے۔ مجھے اس کا خوف نہیں ہے کہ تم فقر و فاقہ کا شکار ہو جاؤ گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارا مددگار ہے، اور تمہیں دینے والا ہے ( اتنا دینے والا ہے ) کہ ایک ہودج سوار عورت ( تنہا ) یثرب ( مدینہ ) سے حیرہ تک یا اس سے بھی لمبا سفر کرے گی اور اسے اپنی سواری کے چوری ہو جانے تک کا ڈر نہ ہو گا ۲؎“ عدی رضی الله عنہ کہتے ہیں: ( اس وقت ) میں سوچنے لگا کہ قبیلہ بنی طی کے چور کہاں چلے جائیں گے ۳؎؟ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف سماک بن حرب کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۳- شعبہ نے سماک بن حرب سے، سماک نے، عباد بن حبیش سے، اور عباد بن حبیش نے عدی بن حاتم رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوری حدیث روایت کی ہے۔

Find a Hadith