#2826
Sahih
Narrated Isma'il bin Abi Khalid:that Abu Juhaifah said: "I saw the Messenger of Allah (ﷺ) (he was) white and turning grey. Al-Hasan bin 'Ali resembles him most. He had promised thirteen young she-camels for us, so we went to get them. When we arrived he had died without giving us anything. So when Abu Bakr (became the Khalifah) he said: 'If there is anyone to whom the Messenger of Allah (ﷺ) made a promise, then let him come forth.' I stood to inform him about it, and he ordered that they be given to us
ابوجحیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گورا چٹا دیکھا، آپ پر بڑھاپا آ چلا تھا حسن بن علی رضی الله عنہما ( شکل و صورت میں ) آپ کے مشابہ تھے۔ آپ نے تیرہ ( ۱۳ ) جوان اونٹنیاں ہم کو عنایت کرنے کے لیے حکم صادر فرمایا، ہم انہیں لینے کے لیے گئے ہی تھے کہ اچانک آپ کے انتقال کی خبر آ گئی، چنانچہ لوگوں نے ہمیں کچھ نہ دیا، پھر جب ابوبکر رضی الله عنہ نے مملکت کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو انہوں نے اعلان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس کسی کا بھی کوئی عہد و پیمان ہو تو وہ ہمارے پاس آئے ( اور پیش کرے ) چنانچہ میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور انہیں آپ کے حکم سے آگاہ کیا، تو انہوں نے ہمیں ان اونٹنیوں کے دینے کا حکم فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- مروان بن معاویہ نے یہ حدیث اپنی سند سے ابوجحیفہ رضی الله عنہ کے واسطے سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- کئی اور لوگوں نے بھی اسماعیل بن ابوخالد کے واسطہ سے ابوجحیفہ سے روایت کی ہے، ( اس روایت میں ہے ) وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے حسن بن علی رضی الله عنہما آپ کے مشابہ تھے۔ اور انہوں نے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہا۔
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبْيَضَ قَدْ شَابَ وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ وَأَمَرَ لَنَا بِثَلاَثَةَ عَشَرَ قَلُوصًا فَذَهَبْنَا نَقْبِضُهَا فَأَتَانَا مَوْتُهُ فَلَمْ يُعْطُونَا شَيْئًا فَلَمَّا قَامَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِدَةٌ فَلْيَجِئْ . فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَمَرَ لَنَا بِهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدْ رَوَى مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ هَذَا الْحَدِيثَ بِإِسْنَادٍ لَهُ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ نَحْوَ هَذَا . وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ وَلَمْ يَزِيدُوا عَلَى هَذَا .
#2827
Sahih
Narrated Isma'il bin Abi Khalid:that Abu Juhaifah said: "I saw the Prophet (ﷺ), and Al-Hasan bin 'Ali resembles him the most
ابوجحیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، حسن بن علی رضی الله عنہما آپ کے مشابہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اسی طرح کئی ایک نے اسماعیل بن ابوخالد سے اسی جیسی روایت کی ہے، ۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- ابوجحیفہ رضی الله عنہ کا نام وہب سوائی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو جُحَيْفَةَ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ نَحْوَ هَذَا . وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ . وَأَبُو جُحَيْفَةَ اسْمُهُ وَهْبٌ السُّوَائِيُّ .
#2828
Sahih
Narrated 'Ali:"I did not hear the Prophet (ﷺ) mentioning both of his parents (that is including both in the saying "May my father and mother be ransomed for you") for anyone other than Sa'd bin Abi Waqqas
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سعد بن ابی وقاص کے سوا کسی کے لیے اپنے ماں باپ کو جمع کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَمَعَ أَبَوَيْهِ لأَحَدٍ غَيْرَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ .
#2829
Munkar
Narrated 'Ali:"The Messenger of Allah (ﷺ) did not mention both of his parents for anyone except Sa'd bin Abi Waqqas. On the Day of Uhud he said: 'Shoot, may my father and mother be ransomed for you.' And he said to him: 'Shoot! O young man
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے والد اور اپنی ماں کو سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے سوا کسی کے لیے جمع نہیں کیا۔ جنگ احد میں آپ نے ان سے کہا: ”تیر چلاؤ، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں“، اور آپ نے ان سے یہ بھی کہا: ”اے بہادر قوی جوان! تیر چلاتے جاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث علی سے متعدد سندوں سے روایت کی گئی ہے، ۳- اس حدیث کو متعدد لوگوں نے یحییٰ بن سعید سے، یحییٰ نے سعید بن مسیب سے، سعید بن مسیب نے سعد بن ابی وقاص سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے کہا احد کی لڑائی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنے والدین کو یکجا کر دیا۔ آپ نے فرمایا: ”تیر چلائے جاؤ، تم پر ہمارے ماں باپ قربان ہوں“، ۴- اس باب میں زبیر اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، سَمِعَا سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ قَالَ عَلِيٌّ مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَاهُ وَأُمَّهُ لأَحَدٍ إِلاَّ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ " ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي " . وَقَالَ لَهُ " ارْمِ أَيُّهَا الْغُلاَمُ الْحَزَوَّرُ " . وَفِي الْبَابِ عَنِ الزُّبَيْرِ وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَلِيٍّ .
#2830
Sahih
Narrated Sa'd bin Abi Waqqas:"The Messenger of Allah (ﷺ) mentioned both of his parents to me on the Day of Uhud
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کی لڑائی کے دن میرے لیے «فداك أبي وأمي» کہہ کر اپنے ماں باپ کو یکجا کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
وَقَدْ رَوَى غَيْرُ، وَاحِدٍ، هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ " ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي " . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَكِلاَ الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ .
#2831
Sahih
Narrated Anas:that the Prophet (ﷺ) said to him: "O my little son
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «يا بني» ”اے میرے بیٹے“ کہہ کر پکارا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس سند کے علاوہ کچھ دیگر سندوں سے بھی انس سے روایت ہے، ۳- ابوعثمان یہ ثقہ شیخ ہیں اور ان کا نام جعد بن عثمان ہے، اور انہیں ابن دینار بھی کہا جاتا ہے اور یہ بصرہ کے رہنے والے ہیں۔ ان سے یونس بن عبید اور کئی ائمہ حدیث نے روایت کی ہے، ۴- اس باب میں مغیرہ اور عمر بن ابی سلمہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، شَيْخٌ لَهُ عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ " يَا بُنَىَّ " . وَفِي الْبَابِ عَنِ الْمُغِيرَةِ وَعُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَنَسٍ . وَأَبُو عُثْمَانَ هَذَا شَيْخٌ ثِقَةٌ وَهُوَ الْجَعْدُ بْنُ عُثْمَانَ وَيُقَالُ ابْنُ دِينَارٍ وَهُوَ بَصْرِيٌّ وَقَدْ رَوَى عَنْهُ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الأَئِمَّةِ .
#2832
Hasan
Narrated 'Amr bin Shu'aib:from his father, from his grandfather that the Prophet (ﷺ) ordered naming the child on the seventh day, removing the harm from him, and Al-'Aqq (removing the hair and slaughtering the animal for 'Aqiqah)
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتویں دن نومولود بچے کا نام رکھنے اس اور اس کا عقیقہ کر دینے کا حکم دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِتَسْمِيَةِ الْمَوْلُودِ يَوْمَ سَابِعِهِ وَوَضْعِ الأَذَى عَنْهُ وَالْعَقِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
#2833
Sahih
Narrated Ibn 'Umar:that the Prophet (ﷺ) said: "The most loved names to Allah are 'Abdullah and 'Abdur-Rahman
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو الْوَرَّاقُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَحَبُّ الأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
#2834
Sahih Muslim
Narrated Ibn 'Umar:that the Prophet (ﷺ) said: "The most loved names to Allah are 'Abdullah and 'Abdur-Rahman
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس سند سے یہ حدیث غریب ہے۔
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَحَبَّ الأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ " . هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
#2835
Sahih
Narrated 'Umar [bin Al-Khattab]:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "I forbid naming with Rafi, Barakah and Yasar
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اگر میں زندہ رہا تو ان شاءاللہ ) رافع، برکت اور یسار نام رکھنے سے منع کر دوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اسی طرح اسے ابواحمد نے سفیان سے ابوسفیان نے ابوزبیر سے ابوزبیر نے جابر سے اور انہوں نے عمر سے روایت کی ہے۔ اور ابواحمد کے علاوہ نے سفیان سے سفیان نے ابوزبیر سے اور ابوزبیر نے جابر سے جابر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۳- ابواحمد ثقہ ہیں حافظ ہیں، ۴- لوگوں میں یہ حدیث «عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم» مشہور ہے اور اس حدیث میں «عن عمر» ( عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے ) کی سند سے کا ذکر نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لأَنْهَيَنَّ أَنْ يُسَمَّى رَافِعٌ وَبَرَكَةُ وَيَسَارٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو أَحْمَدَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عُمَرَ وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَأَبُو أَحْمَدَ ثِقَةٌ حَافِظٌ وَالْمَشْهُورُ عِنْدَ النَّاسِ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ عُمَرَ .
#2836
Sahih
Narrated Samurah bin Jundab:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not name your boy Rabah, nor Aflah, nor Yasar, nor Najih, so that it may be said: 'Is he there?' and it may be said: 'No
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے غلام کا نام رباح، افلح، یسار اور نجیح نہ رکھو ( کیونکہ ) پوچھا جائے کہ کیا وہ یہاں ہے؟ تو کہا جائے گا: نہیں“ ۱؎۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تُسَمِّي غُلاَمَكَ رَبَاحٌ وَلاَ أَفْلَحُ وَلاَ يَسَارٌ وَلاَ نَجِيحٌ يُقَالُ أَثَمَّ هُوَ فَيُقَالُ لاَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2837
Sahih
Narrated Al-A'raj:that Abu Hurairah conveyed to him that the Prophet (ﷺ) said: "The most despicable (Akhna) name to Allah on the Day of Judgement is that of a man named King of Kings. (Malikil-Amlak)
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بدتر نام اس شخص کا ہو گا جس کا نام «ملک الاملاک» ہو گا“، سفیان کہتے ہیں: «ملک الاملاک» کا مطلب ہے: شہنشاہ۔ اور «اخنع» کے معنی «اقبح» ہیں یعنی سب سے بدتر اور حقیر ترین۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَخْنَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ تَسَمَّى بِمَلِكِ الأَمْلاَكِ " . قَالَ سُفْيَانُ شَاهَانْ شَاهْ وَأَخْنَعُ يَعْنِي أَقْبَحَ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2838
Sahih
Narrated Ibn 'Umar:that the Prophet (ﷺ) changed the name of 'Asiyah, he said: "You are Jamilah
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «عاصیہ» کا نام بدل دیا اور کہا ( آج سے ) تو «جمیلہ» یعنی: ”تیرا نام جمیلہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس حدیث کو یحییٰ بن سعید قطان نے مرفوع بیان کیا ہے۔ یحییٰ نے عبیداللہ سے عبیداللہ نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے، اور بعض راویوں نے یہ حدیث عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع سے اور نافع نے عمر سے مرسلاً روایت کی ہے، ۳- اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف، عبداللہ بن سلام، عبداللہ بن مطیع، عائشہ، حکم بن سعید، مسلم، اسامہ بن اخدری، ہانی اور عبدالرحمٰن بن ابی سبرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ وَقَالَ " أَنْتِ جَمِيلَةُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَإِنَّمَا أَسْنَدَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عُمَرَ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ وَعَائِشَةَ وَالْحَكَمِ بْنِ سَعْدٍ وَمُسْلِمٍ وَأُسَامَةَ بْنِ أَخْدَرِيٍّ وَشُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ أَبِيهِ وَخَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ .
#2839
Sahih
Narrated 'Aishah:that the Prophet (ﷺ) would change abhorrent names
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برا نام بدل دیا کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کے راوی ابوبکر بن نافع کہتے ہیں کہ کبھی تو عمر بن علی ( الفلاس ) نے اس حدیث کی سند میں کہا: «هشام بن عروة عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» یعنی مرسلاً روایت کی اور اس میں «عن عائشة» کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُغَيِّرُ الاِسْمَ الْقَبِيحَ . قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ وَرُبَّمَا قَالَ عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلٌ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَائِشَةَ .
#2840
Sahih
Narrated Muhammad bin Jubair bin Mut'im:from his father that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "I have some names: I am Muhammad, I am Ahmad, I am Al-Mahi, the one by whom Allah wipes out disbelief, I am Al-Hasir, the one whom the people are gathered at his feet, and I am Al-'Aqib, the one after whom there is no Prophet
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے کئی نام ہیں: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں وہ ماحی ہوں جس کے ذریعہ اللہ کفر کو مٹاتا ہے، میں وہ حاشر ہوں جس کے قدموں پر لوگ جمع کیے جائیں گے ۱؎ میں وہ عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہ پیدا ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حذیفہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ لِي أَسْمَاءً أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي وَأَنَا الْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ حُذَيْفَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2841
Hasan Sahih
Narrated Abu Hurairah:that the Prophet (ﷺ) prohibited that one use his name and his Kunyah; naming themselves Muhammad Abul-Qasim
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص آپ کا نام اور آپ کی کنیت دونوں ایک ساتھ جمع کر کے محمد ابوالقاسم نام رکھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے، ۳- بعض اہل علم مکروہ سمجھتے ہیں کہ کوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور آپ کی کنیت ایک ساتھ رکھے۔ لیکن بعض لوگوں نے ایسا کیا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يَجْمَعَ أَحَدٌ بَيْنَ اسْمِهِ وَكُنْيَتِهِ وَيُسَمَّى مُحَمَّدًا أَبَا الْقَاسِمِ . وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يَجْمَعَ الرَّجُلُ بَيْنَ اسْمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكُنْيَتِهِ وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ بَعْضُهُمْ . رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلاً، فِي السُّوقِ يُنَادِي يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَمْ أَعْنِكَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي " . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا . وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ مَا يَدُلُّ عَلَى كَرَاهِيَةِ أَنْ يُكْنَى أَبَا الْقَاسِمِ .
#2842
Sahih
Narrated Jabir:that the Messenger of Allah (ﷺ): "When you name yourself after me, then do not use my Kunyah
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میرے نام پر نام رکھو تو میری کنیت نہ رکھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا سَمَّيْتُمْ بِاسْمِي فَلاَ تَكْتَنُوا بِي " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
#2843
Sahih
Narrated 'Ali bin Abi Talib:that he said: "O Messenger of Allah (ﷺ)! If I have a son after you do you think I could name him your Kunyah?" He said: "Yes." So he said: "So that was permitted for me
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے اگر آپ کے انتقال کے بعد میرے یہاں لڑکا پیدا ہو تو کیا میں اس کا نام محمد اور اس کی کنیت آپ کی کنیت پر رکھ سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“۔ ( ایسا کر سکتے ہو ) علی رضی الله عنہ کہتے ہیں: یہ صرف میرے لیے رخصت و اجازت تھی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، حَدَّثَنِي مُنْذِرٌ، وَهُوَ الثَّوْرِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ وُلِدَ لِي بَعْدَكَ أُسَمِّيهِ مُحَمَّدًا وَأُكْنِيهِ بِكُنْيَتِكَ قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ فَكَانَتْ رُخْصَةً لِي . هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
#2844
Hasan Sahih
Narrated 'Abdullah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed some poetry is wisdom
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض اشعار میں حکمت و دانائی کی باتیں ہوتی ہیں“۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ إِنَّمَا رَفَعَهُ أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ عَنِ ابْنِ أَبِي غَنِيَّةَ . وَرَوَى غَيْرُهُ عَنِ ابْنِ أَبِي غَنِيَّةَ هَذَا الْحَدِيثَ مَوْقُوفًا . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَفِي الْبَابِ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ وَبُرَيْدَةَ وَكَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ .
#2845
Hasan Sahih
Narrated Ibn 'Abbas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed some poetry is wisdom
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض اشعار میں حکمت و دانائی کی باتیں ہوتی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2846
(Another chain) from 'Aishah with the same narration
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَالْبَرَاءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَهُوَ حَدِيثُ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ .
#2847
Sahih
Narrated Anas:that the Prophet (ﷺ) entered Makkah during 'Umratil-Qada and 'Abdullah bin Rawahah was walking in front of him reciting verses of poetry. "O tribes of disbelievers get out of his way - today we will strike you about its revelation; a strike that removes the heads from the shoulders - and makes the friend not concerned about his friend." 'Umar said to him: "O Ibn Rawahah! Before the Messenger of Allah (ﷺ), and in the sanctuary of Allah you utter poetry?" the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Leave him O 'Umar! For it is quicker upon them than the raining arrow
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمرۃ القضاء کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور عبداللہ بن رواحہ آپ کے آگے یہ اشعار پڑھتے ہوئے چل رہے تھے۔ «خلوا بني الكفار عن سبيله اليوم نضربكم على تنزيله ضربا يزيل الهام عن مقيله ويذهل الخليل عن خليله» ”اے کفار کی اولاد! اس کے ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ) راستے سے ہٹ جاؤ، آج کے دن ہم تمہیں ایسی مار ماریں گے جو کھوپڑی کو گردنوں سے جدا کر دے گی، ایسی مار ماریں گے جو دوست کو دوست سے غافل کر دے گی“ عمر رضی الله عنہ نے ان سے کہا: ابن رواحہ! تم رسول اللہ کے سامنے اور اللہ کے حرم میں شعر پڑھتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”انہیں کہنے دو، عمر! یہ اشعار ان ( کفار و مشرکین ) پر تیر برسانے سے بھی زیادہ زود اثر ہیں ( یہ انہیں بوکھلا کر رکھ دیں گے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- عبدالرزاق نے یہ حدیث معمر سے اور معمر نے زہری کے واسطہ سے انس سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- اس حدیث کے علاوہ دوسری حدیث میں مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ میں داخل ہوئے ( اس وقت ) کعب بن مالک آپ کے ساتھ آپ کے سامنے موجود تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: بعض محدثین کے نزدیک یہ زیادہ صحیح ہے اس لیے کہ عبداللہ بن رواحہ جنگ موتہ میں مارے گئے ہیں۔ اور عمرۃ القضاء اس کے بعد ہوا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَيْهِ يَمْشِي وَهُوَ يَقُولُ خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ الْيَوْمَ نَضْرِبْكُمْ عَلَى تَنْزِيلِهِ ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا ابْنَ رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَفِي حَرَمِ اللَّهِ تَقُولُ الشِّعْرَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " خَلِّ عَنْهُ يَا عُمَرُ فَلَهِيَ أَسْرَعُ فِيهِمْ مِنْ نَضْحِ النَّبْلِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ نَحْوَ هَذَا وَرُوِيَ فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ وَكَعْبُ بْنُ مَالِكٍ بَيْنَ يَدَيْهِ وَهَذَا أَصَحُّ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْحَدِيثِ لأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ قُتِلَ يَوْمَ مُؤْتَةَ وَإِنَّمَا كَانَتْ عُمْرَةُ الْقَضَاءِ بَعْدَ ذَلِكَ .
#2848
Sahih
Narrated Al-Miqdam bin Shuraih:from his father, that 'Aishah was asked: "Did the Prophet (ﷺ) used to say any poetry?" She said: "He would say parables with the poetry of Ibn Rawahah, saying: 'News shall come to you from where you did not expect it
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ان سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کوئی شعر بطور مثال اور نمونہ پیش کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن رواحہ کا شعر بطور مثال پیش کرتے تھے، آپ کہتے تھے: «ويأتيك بالأخبار من لم تزود» ۱؎ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ قِيلَ لَهَا هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَمَثَّلُ بِشَيْءٍ مِنَ الشِّعْرِ قَالَتْ كَانَ يَتَمَثَّلُ بِشِعْرِ ابْنِ رَوَاحَةَ وَيَتَمَثَّلُ وَيَقُولُ " وَيَأْتِيكَ بِالأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ " . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2849
Sahih
Narrated Abu Hurairah:that the Prophet (ﷺ) said: "The best statement spoken by the Arab is the saying of Labid: 'Everything aside from Allah perishes
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عرب کا بہترین شعری کلام لبید کا یہ شعر ہے: «ألا كل شيء ما خلا الله باطل» ”سن لو! اللہ کے سوا ہر چیز فانی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسے ثوری اور ان کے علاوہ نے بھی عبدالملک بن عمیر سے روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَشْعَرُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَتْ بِهَا الْعَرَبُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ أَلاَ كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُهُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ .
#2850
Sahih
Narrated Jabir bin Samurah:"I sat with the Prophet (ﷺ) more than one-hundred times. His Companions used to recite poetry and talk about things that occurred during Jahiliyyah, and he would remain silent, and sometimes he would smile along with them
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سو بار سے زیادہ بیٹھنے کا شرف حاصل ہے، آپ کے صحابہ شعر پڑھتے ( سنتے و سناتے ) تھے، اور جاہلیت کی بہت سی باتیں باہم ذکر کرتے تھے۔ آپ چپ بیٹھے رہتے اور کبھی کبھی ان کے ساتھ مسکرانے لگتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے زہیر بھی نے سماک سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ جَالَسْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ مَرَّةٍ فَكَانَ أَصْحَابُهُ يَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ وَيَتَذَاكَرُونَ أَشْيَاءَ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ وَهُوَ سَاكِتٌ فَرُبَّمَا تَبَسَّمَ مَعَهُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَاهُ زُهَيْرٌ عَنْ سِمَاكٍ أَيْضًا .