#2801
Hasan
Narrated Jabir:that the Prophet (ﷺ) said: "Whoever believes in Allah and the Last Day, then he is not to let his wife enter the Hammam, and whoever believes in Allah and the Last Day, then he is not to enter the Hammam without an Izar. And whoever believes in Allah and the Last Day, then he is not to sit at a spread in which Khamr is circulated
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ تہہ بند باندھے بغیر غسل خانہ ( حمام ) میں داخل نہ ہو، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنی بیوی کو غسل خانہ ( حمام ) میں نہ بھیجے، اور جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ ایسے دستر خوان پر نہ بیٹھے جہاں شراب کا دور چلتا ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اس سند سے جانتے ہیں، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: لیث بن ابی سلیم صدوق ہیں، لیکن بسا اوقات وہ وہم کر جاتے ہیں، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ احمد بن حنبل کہتے ہیں: لیث کی حدیث سے دل خوش نہیں ہوتا۔ لیث بعض ایسی حدیثوں کو مرفوع بیان کر دیتے تھے جسے دوسرے لوگ مرفوع نہیں کرتے تھے۔ انہیں وجوہات سے لوگوں نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يَدْخُلِ الْحَمَّامَ بِغَيْرِ إِزَارٍ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يُدْخِلْ حَلِيلَتَهُ الْحَمَّامَ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يَجْلِسْ عَلَى مَائِدَةٍ يُدَارُ عَلَيْهَا بِالْخَمْرِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ طَاوُسٍ عَنْ جَابِرٍ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ صَدُوقٌ وَرُبَّمَا يَهِمُ فِي الشَّىْءِ . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ لَيْثٌ لاَ يُفْرَحُ بِحَدِيثِهِ كَانَ لَيْثٌ يَرْفَعُ أَشْيَاءَ لاَ يَرْفَعُهَا غَيْرُهُ فَلِذَلِكَ ضَعَّفُوهُ .
#2802
Daif
Narrated Abu 'Udhrah [and he lived during the time of the Prophet (ﷺ)]:from 'Aishah, that the Prophet (ﷺ) prohibitied the men and women from the Hammamat (plural of Hammam), then he permitted it for the men in Izar
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں اور عورتوں کو حمامات ( عمومی غسل خانوں ) میں جا کر نہانے سے منع فرمایا۔ پھر مردوں کو تہہ بند پہن کر نہانے کی اجازت دے دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس کی سند ویسی مضبوط نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي عُذْرَةَ، وَكَانَ، قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ عَنِ الْحَمَّامَاتِ ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ فِي الْمَيَازِرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاكَ الْقَائِمِ .
#2803
Sahih
Narrated Abu Al-Malih Al-Hudhali:that some women from the inhabitants of Hims, or from the inhabitants of Ash-Sham entered upon 'Aishah, so she said: "Are you those whose women enter the Hammamat? I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: 'No woman removes her garments in other than the house of her husband except that she has torn the screen between herself and her Lord
ابوملیح ہذلی سے روایت ہے کہ اہل حمص یا اہل شام کی کچھ عورتیں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے پاس گئیں تو انہوں نے کہا: تم وہی ہو جن کی عورتیں حمامات ( عمومی غسل خانوں ) میں نہانے جایا کرتی ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو عورت اپنے شوہر کے گھر کے سوا اپنے کپڑے کہیں دوسری جگہ اتار کر رکھتی ہے وہ عورت اپنے اور اپنے رب کے درمیان سے حجاب کا پردہ اٹھا دیتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ، أَنَّ نِسَاءً، مِنْ أَهْلِ حِمْصَ أَوْ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ دَخَلْنَ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ أَنْتُنَّ اللاَّتِي يَدْخُلْنَ نِسَاؤُكُنَّ الْحَمَّامَاتِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنِ امْرَأَةٍ تَضَعُ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلاَّ هَتَكَتِ السِّتْرَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ رَبِّهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
#2804
Sahih
Narrated Ibn 'Abbas:"I heard Abu Talhah saying: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: "The angels do not enter a house in which there is a dog or an object of images
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو، اور نہ اس گھر میں داخل ہوتے ہیں جس میں جاندار مجسموں کی تصویر ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، وَاللَّفْظُ، لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا طَلْحَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ صُورَةُ تَمَاثِيلَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2805
Sahih
Narrated Ishaq bin 'Abdullah bin Abi Talhah:that Rafi' bin Ishaq informed him, saying: "I and 'Abdullah bin Abi Talhah entered upon Abu Sa'eed Al-Khudri to visit him. So Abu Sa'eed said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) informed us: "The angels do not enter a house in which there is an image or a picture
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خبر دی ہے: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں مجسمے ہوں یا تصویر ہو“، ( اس حدیث میں اسحاق راوی کو شک ہو گیا کہ ان کے استاد نے «تماثیل» اور «صورة» دونوں میں سے کیا کہا؟ انہیں یاد نہیں ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَهُ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ نَعُودُهُ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ الْمَلاَئِكَةَ لاَ تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ أَوْ صُورَةٌ . شَكَّ إِسْحَاقُ لاَ يَدْرِي أَيُّهُمَا قَالَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2806
Sahih
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Jibra'il came to me and said: "Indeed I had come to you last night, and nothing prevented me from entering upon you at the house you were in, except that there were images of men at the door of the house, and there was a curtain screen with imagines on it, and there was a dog in the house. So go and sever the head of the image that is at the door so that it will become like a tree stump, and go and cut the screen and make two throw-cushions to be sat upon, and go and expel the dog." So the Messenger of Allah (ﷺ) did so, and the dog was a puppy belonging to Al-Husain or Al-Hasan which was under his belongings, so he ordered him to expel it
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل علیہ السلام نے آ کر کہا: ”کل رات میں آپ کے پاس آیا تھا لیکن مجھے آپ کے پاس گھر میں آنے سے اس بات نے روکا کہ آپ جس گھر میں تھے اس کے دروازے پر مردوں کی تصویریں تھیں اور گھر کے پردے پر بھی تصویریں تھیں۔ اور گھر میں کتا بھی تھا، تو آپ ایسا کریں کہ دروازے کی «تماثیل» ( مجسموں ) کے سر کو اڑوا دیجئیے کہ وہ مجسمے پیڑ جیسے ہو جائیں، اور پردے پھڑوا کر ان کے دو تکیے بنوا دیجئیے جو پڑے رہیں اور روندے اور استعمال کیے جائیں۔ اور کتے کو نکال بھگائیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ اور وہ کتا ایک پلا تھا حسن یا حسین کا ان کی چارپائی کے نیچے رہتا تھا، چنانچہ آپ نے اسے بھگا دینے کا حکم دیا اور اسے بھگا دیا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ اور ابوطلحہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ أَتَيْتُكَ الْبَارِحَةَ فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَكُونَ دَخَلْتُ عَلَيْكَ الْبَيْتَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ إِلاَّ أَنَّهُ كَانَ فِي بَابِ الْبَيْتِ تِمْثَالُ الرِّجَالِ وَكَانَ فِي الْبَيْتِ قِرَامُ سِتْرٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ وَكَانَ فِي الْبَيْتِ كَلْبٌ فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ الَّذِي بِالْبَابِ فَلْيُقْطَعْ فَيَصِيرَ كَهَيْئَةِ الشَّجَرَةِ وَمُرْ بِالسِّتْرِ فَلْيُقْطَعْ وَيُجْعَلْ مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ مُنْتَبَذَتَيْنِ يُوَطَآنِ وَمُرْ بِالْكَلْبِ فَيُخْرَجْ " . فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ ذَلِكَ الْكَلْبُ جَرْوًا لِلْحَسَنِ أَوِ الْحُسَيْنِ تَحْتَ نَضَدٍ لَهُ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَأَبِي طَلْحَةَ .
#2807
Daif Isnaad
Narrated 'Abdullah bin 'Amr:"A man passed by while wearing two red garments. He gave Salam to the Prophet (ﷺ) but he did not return the Salam
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص سرخ رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے گزرا۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس حدیث سے اہل علم کے نزدیک مراد یہ ہے کہ وہ زرد رنگ میں رنگا ہوا کپڑا پہننا مکروہ سمجھتے ہیں۔ اور جو کپڑا گیروے رنگ وغیرہ میں رنگا جائے اس کے پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے جب کہ وہ کسم کا نہ ہو ( یعنی زرد رنگ کا نہ ہو ) ۔
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ مَرَّ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَحْمَرَانِ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِ السَّلاَمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُمْ كَرِهُوا لُبْسَ الْمُعَصْفَرِ وَرَأَوْا أَنَّ مَا صُبِغَ بِالْحُمْرَةِ بِالْمَدَرِ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ فَلاَ بَأْسَ بِهِ إِذَا لَمْ يَكُنْ مُعَصْفَرًا .
#2808
Sahih Matn
Narrated 'Ali bin Abi Talib:"The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited the gold ring, Al-Qassi, Al-Mitharah, and Al-Ji'ah (beer)
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے ( مردوں کو ) سونے کی انگوٹھی پہننے سے، قسی کے ( ریشم ملے ہوئے ) کپڑے پہننے سے، زین پر رکھنے والی ریشمی گدیلے سے اور جَو کی نبیذ سے۔ ابوالا ٔحوص کہتے ہیں «جعه» ایک شراب ہے جو مصر میں جَو سے بنائی جاتی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ خَاتِمِ الذَّهَبِ وَعَنِ الْقَسِّيِّ وَعَنِ الْمِيثَرَةِ وَعَنِ الْجَعَةِ . قَالَ أَبُو الأَحْوَصِ وَهُوَ شَرَابٌ يُتَّخَذُ بِمِصْرَ مِنَ الشَّعِيرِ . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2809
Sahih
Narrated Al-Bara bin 'Azib:"The Messenger of Allah (ﷺ) ordered us with seven things and he forbade us from seven. He ordered us to follow the funeral, visit the ill, reply to the sneezing person, accept the invitation, assist the oppressed, to help the one who made an oath, and to return the Salam. And he forbade us from seven things: From the gold ring, or ringlets of gold, silver vessels, wearing silk, Ad-Dibaj, Al-Istabraq, And Al-Qassi
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کے اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں کے کرنے سے منع فرمایا ہے۔ آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جنازے کے ساتھ جائیں۔ مریض کی عیادت کریں، چھینکنے والے کی چھینک کا جواب دیں۔ دعوت دینے والے کی دعوت قبول کریں، مظلوم کی مدد کریں، اور قسم کھانے والے کی قسم پوری کرائیں، اور سلام کا جواب دیں کا، اور سات چیزوں سے آپ نے ہمیں منع فرمایا ہے سونے کی انگوٹھی پہننے، یا سونے کے چھلے استعمال کرنے سے، اور چاندی کے برتنوں سے اور حریر، دیباج، استبرق اور قسی کے پہننے سے ( یہ سب ریشمی کپڑے ہیں ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اشعث بن سلیم: یہ اشعث بن ابوشعثاء ہیں، ابوشعثاء کا نام سلیم بن اسود ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا بِاتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ وَعِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ وَرَدِّ السَّلاَمِ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ عَنْ خَاتِمِ الذَّهَبِ أَوْ حَلْقَةِ الذَّهَبِ وَآنِيَةِ الْفِضَّةِ وَلُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَالإِسْتَبْرَقِ وَالْقَسِّيِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ هُوَ أَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ وَأَبُو الشَّعْثَاءِ اسْمُهُ سُلَيْمُ بْنُ الأَسْوَدِ .
#2810
Sahih
Narrated Samurah bin Jundab:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Wear white, for indeed it is very pure and cleaner, and shroud your dead in it
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفید کپڑے پہنو، کیونکہ یہ پاکیزہ اور عمدہ لباس ہیں، اور انہیں سفید کپڑوں کا اپنے مردوں کو کفن دو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْبَسُوا الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ .
#2811
Shu'bah and Ath-Thawri reported it from Abu Ishaq from Al-Bara bin 'Azib who said:"I saw a red Hullah on the Messenger of Allah." (Another chain of narration)
وَرَوَى شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ رَأَيْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُلَّةً حَمْرَاءَ . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مَحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ بِهَذَا . وَفِي الْحَدِيثِ كَلاَمٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا . قَالَ سَأَلْتُ مُحَمَّدًا قُلْتُ لَهُ حَدِيثُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ أَصَحُّ أَوْ حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ فَرَأَى كِلاَ الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحًا . وَفِي الْبَابِ عَنِ الْبَرَاءِ وَأَبِي جُحَيْفَةَ .
#2812
Sahih
Narrated Abu Rimthah:"I saw the Messenger of Allah wearing two green Burud
ابورمثہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو سبز کپڑے استعمال کئے ہوئے دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف عبیداللہ بن ایاد کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- ابورمثہ تیمی کا نام حبیب بن حیان ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کا نام رفاعہ بن یثربی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ إِيَادٍ . وَأَبُو رِمْثَةَ التَّيْمِيُّ يُقَالُ اسْمُهُ حَبِيبُ بْنُ حَيَّانَ وَيُقَالُ اسْمُهُ رِفَاعَةُ بْنُ يَثْرِبِيٍّ .
#2813
Sahih
Narrated 'Aishah:"The Messenger of Allah (ﷺ) went out during the morning wearing a Mirt made of black hair
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( گھر سے ) نکلے، اس وقت آپ کالے بالوں کی چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ غَدَاةٍ وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مِنْ شَعَرٍ أَسْوَدَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
#2814
Hasan
Narrated 'Abdullah bin Hassan:that his grandmothers Safiyyah bint 'Ulaibah and Dhuhaibah bint 'Ulaibah narrated to him, from Qailah bint Makhramah - and they were her wet nurses and Qailah was the grandmother of their father - his mother's mother - she said: "We came to the Messenger of Allah (ﷺ)" and she mentioned the Hadith in its entirety; "until a man came when the sun had rose up, so he said: "As-Salamu 'Alaika O Messenger of Allah!' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Wa 'Alaikas-Salamu Wa Rahmatullah' and upon him - meaning the Prophet (ﷺ) - were two tattered cloths, which had been dyed with saffron and had faded, and he had a small date-palm branch with him
قیلہ بنت مخرمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے پھر انہوں نے پوری لمبی حدیث بیان کی ( اس میں ہے کہ ) ایک شخص اس وقت آیا جب سورج چڑھ آیا تھا۔ اس نے کہا: «السلام علیک یا رسول اللہ» ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وعلیک السلام ورحمة اللہ»، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( کے جسم ) پر دو پرانے کپڑے تھے۔ وہ زعفران سے رنگے ہوئے تھے، اور کثرت استعمال سے ان کا رنگ پھیکا پڑ گیا تھا ۱؎ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کی ایک شاخ تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: قیلہ کی حدیث کو ہم صرف عبداللہ بن حسان کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّفَّارُ أَبُو عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَّانَ، أَنَّهُ حَدَّثَتْهُ جَدَّتَاهُ، صَفِيَّةُ بِنْتُ عُلَيْبَةَ وَدُحَيْبَةُ بِنْتُ عُلَيْبَةَ حَدَّثَتَاهُ عَنْ قَيْلَةَ بِنْتِ مَخْرَمَةَ، وَكَانَتَا، رَبِيبَتَيْهَا وَقَيْلَةُ جَدَّةُ أَبِيهِمَا أُمُّ أُمِّهِ أَنَّهَا قَالَتْ قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتِ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ حَتَّى جَاءَ رَجُلٌ وَقَدِ ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَعَلَيْكَ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " . وَعَلَيْهِ تَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - أَسْمَالُ مُلَيَّتَيْنِ كَانَتَا بِزَعْفَرَانٍ وَقَدْ نَفَضَتَا وَمَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عُسَيْبُ نَخْلَةٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ قَيْلَةَ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَّانَ .
#2815
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) prohibited saffron for men
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مردوں کو ) زعفرانی رنگ کے استعمال سے منع فرمایا ہے، مردوں کے لیے زعفران کے استعمال کی کراہت کا مطلب یہ ہے کہ مرد زعفران کی خوشبو نہ لگائیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ التَّزَعْفُرِ لِلرِّجَالِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَرَوَى شُعْبَةُ، هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ التَّزَعْفُرِ . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا آدَمُ عَنْ شُعْبَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَمَعْنَى كَرَاهِيَةِ التَّزَعْفُرِ لِلرِّجَالِ أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ يَعْنِي أَنْ يَتَطَيَّبَ بِهِ .
#2816
Daif Isnaad
Narrated Ya'la bin Murrah:"The Prophet (ﷺ) saw a man wearing Khuluq and said: 'Go and wash it, then wash it, then do not use it again
یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خلوق لگائے ہوئے دیکھا ۱؎، تو آپ نے فرمایا: ”جاؤ اسے دھو ڈالو۔ پھر دھو ڈالو، پھر ( آئندہ کبھی ) نہ لگاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بعض لوگوں نے عطا بن سائب سے اس حدیث کی اسناد میں اختلاف کیا ہے، ۳- علی ( علی ابن المدینی ) کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید نے کہا ہے کہ جس نے عطاء بن سائب سے ان کی زندگی کے پرانے ( پہلے ) دور میں سنا ہے تو اس کا سماع صحیح ہے اور شعبہ اور سفیان ثوری کا عطاء بن سائب سے سماع صحیح ہے مگر دو حدیثیں جو عطاء سے زاذان کے واسطہ سے مروی ہیں تو وہ صحیح نہیں ہیں، ۴- شعبہ کہتے ہیں میں نے ان دونوں حدیثوں کو عطاء سے ان کی عمر کے آخری دور میں سنا ہے۔ ( اور یہ حدیث ان میں سے نہیں ہے ) ، ۵- کہا جاتا ہے کہ عطاء بن سائب کا حافظہ ان کے آخری دور میں بگڑ گیا تھا، ۶- اس باب میں عمار، ابوموسیٰ، اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَفْصِ بْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَبْصَرَ رَجُلاً مُتَخَلِّقًا قَالَ " اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ لاَ تَعُدْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدِ اخْتَلَفَ بَعْضُهُمْ فِي هَذَا الإِسْنَادِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ . قَالَ عَلِيٌّ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ مَنْ سَمِعَ مِنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَدِيمًا فَسَمَاعُهُ صَحِيحٌ وَسَمَاعُ شُعْبَةَ وَسُفْيَانَ مِنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ صَحِيحٌ إِلاَّ حَدِيثَيْنِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ قَالَ شُعْبَةُ سَمِعْتُهُمَا مِنْهُ بِأَخَرَةٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى يُقَالُ إِنَّ عَطَاءَ بْنَ السَّائِبِ كَانَ فِي آخِرِ أَمْرِهِ قَدْ سَاءَ حِفْظُهُ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَمَّارٍ وَأَبِي مُوسَى وَأَنَسٍ وَأَبُو حَفْصٍ هُوَ أَبُو حَفْصِ بْنُ عُمَرَ .
#2817
Sahih
Narrated The freed slave of Asma:from Ibn 'Umar who said: "I heard 'Umar mentioning that the Prophet (ﷺ) said: 'Whoever wears silk in the world he shall not wear it in the Hereafter
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی الله عنہ کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں «حریر» ( ریشمی کپڑا ) پہنا تو وہ اسے آخرت ( یعنی جنت ) میں نہ پہنے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے اسماء بنت ابی بکر کے آزاد کردہ غلام ابوعمرو سے مروی ہے۔ ان کا نام عبداللہ اور ان کی کنیت ابوعمرو ہے، ان سے عطاء بن ابی رباح اور عمرو بن دینار نے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں علی، حذیفہ، انس رضی الله عنہم اور دیگر کئی لوگوں سے بھی احادیث آئی ہیں، جن کا ذکر ہم کتاب اللباس میں کر چکے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي مَوْلَى، أَسْمَاءَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ، يَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الآخِرَةِ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَحُذَيْفَةَ وَأَنَسٍ وَغَيْرِ وَاحِدٍ وَقَدْ ذَكَرْنَاهُ فِي كِتَابِ اللِّبَاسِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عُمَرَ . وَمَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ وَيُكْنَى أَبَا عُمَرَ وَقَدْ رَوَى عَنْهُ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ .
#2818
Sahih
Narrated Al-Miswar bin Makhramah:"The Messenger of Allah (ﷺ) distributed some cloaks but he did not give anything to Makhramah. Makhramah said: 'O my son! Let us go to the Messenger of Allah (ﷺ).' So I went with him. He said: 'Enter and call him for me.'So I called the Prophet (ﷺ) for him, then the Prophet (ﷺ) came out wearing one of the cloaks. He (ﷺ) said: 'I kept this one for you.'" He said: "So he looked at him and said: 'Makhramah is pleased
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ قبائیں تقسیم کیں، اور مخرمہ کو ( ان میں سے ) کچھ نہ دیا۔ مخرمہ رضی الله عنہ نے کہا: اے میرے بیٹے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر چلو، تو میں ان کے ساتھ گیا۔ انہوں نے کہا: تم اندر جاؤ اور آپ کو میرے پاس بلا لاؤ، چنانچہ میں آپ کو ان کے پاس بلا کر لانے کے لیے چلا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر تشریف لائے۔ تو آپ کے پاس ان قباؤں میں سے ایک قباء تھی“، آپ نے فرمایا: ”یہ میں نے تمہارے لیے چھپا رکھی تھی“۔ مسور کہتے ہیں: پھر مخرمہ نے آپ کو دیکھا اور بول اٹھے: مخرمہ اسے پا کر خوش ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابن ابی ملیکہ کا نام عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَسَمَ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا فَقَالَ مَخْرَمَةُ يَا بُنَىَّ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ قَالَ ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي فَدَعَوْتُهُ لَهُ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ قِبَاءٌ مِنْهَا فَقَالَ " خَبَأْتُ لَكَ هَذَا " . قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ " رَضِيَ مَخْرَمَةُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ .
#2819
Hasan Sahih
Narrated 'Amr bin Shu'aib:from his father, from his grandfather who said: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Indeed Allah loves to see the results of his favors upon His Slaves
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند کرتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابوالاحوص کے باپ، عمران بن حصین اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ يُحِبَّ أَنْ يُرَى أَثَرُ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
#2820
Sahih
Narrated Ibn Buraidah:from his father: "An-Najashi gave the Prophet (ﷺ) two black plain Khuff. So he wore them, then he performed Wudu and wiped over them
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نجاشی ( شاہ حبشہ ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کالے رنگ کے موزے بھیجے، آپ نے انہیں پہنا، پھر آپ نے وضو کیا اور ان دونوں موزوں پر مسح فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ہم اسے صرف دلہم کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- محمد بن ربیعہ نے دلہم ( راوی ) سے روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ دَلْهَمِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ حُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّجَاشِيَّ، أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خُفَّيْنِ أَسْوَدَيْنِ سَاذَجَيْنِ فَلَبِسَهُمَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ دَلْهَمٍ وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ دَلْهَمٍ .
#2821
Sahih
Narrated 'Amr bin Shu'aib:from his father, from his grandfather: "The Prophet (ﷺ) prohibited plucking gray hair. And he said: "It is the Muslim's light
عمرو بن العاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑھاپے کے ( سفید ) بال اکھیڑنے سے منع کیا، اور فرمایا ہے: ”یہ تو مسلمان کا نور ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- عبدالرحمٰن بن حارث اور کئی دیگر لوگوں سے یہ حدیث عمر بن شعیب کے واسطہ سے مروی ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ نَتْفِ الشَّيْبِ وَقَالَ " إِنَّهُ نُورُ الْمُسْلِمِ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ قَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ وَغَيْرِ وَاحِدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ .
#2822
Sahih Lighairihi
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The one whose counsel is sought is entrusted
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشیر جس سے مشورہ لیا جاتا ہے اس کو امانت دار ہونا چاہیئے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- متعدد لوگوں نے شیبان بن عبدالرحمٰن نحوی سے روایت کی ہے، اور شیبان، صاحب کتاب اور صحیح الحدیث ہیں، اور ان کی کنیت ابومعاویہ ہے، ۳- ہم سے عبدالجبار بن علاء عطار نے بیان کیا، انہوں نے روایت کی سفیان بن عیینہ سے وہ کہتے ہیں کہ عبدالملک بن عمیر نے کہا: جب میں حدیث بیان کرتا ہوں تو اس حدیث کا ایک ایک لفظ ( یعنی پوری حدیث ) بیان کر دیتا ہوں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ شَيْبَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّحْوِيِّ وَشَيْبَانُ هُوَ صَاحِبُ كِتَابٍ وَهُوَ صَحِيحُ الْحَدِيثِ وَيُكْنَى أَبَا مُعَاوِيَةَ . حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ الْعَطَّارُ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ إِنِّي لأُحَدِّثُ الْحَدِيثَ فَمَا أَدَعُ مِنْهُ حَرْفًا .
#2823
Sahih
Narrated Umm Salamah:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The one whose council is sought is entrusted
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشیر یعنی جس سے مشورہ لیا جائے اس کو امین ہونا چاہیئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حدیث ام سلمہ رضی الله عنہا کی روایت سے غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابوہریرہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، عَنْ جَدَّتِهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ " . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ .
#2824
Narrated Salim and Hamzah, the sons of 'Abdullah bin 'Umar:from their father that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "An omen is in three: A woman, a dwelling, and a (riding) beast
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نحوست تین چیزوں میں ہے ( ۱ ) عورت میں ( ۲ ) گھر میں ( ۳ ) اور جانور ( گھوڑے ) میں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- زہری کے بعض اصحاب ( تلامذہ ) اس حدیث کا ذکر کرتے ہوئے «عن حمزة» کا ذکر نہیں کرتے بلکہ «عن سالم عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، وَحَمْزَةَ، ابْنَىْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الشُّؤْمُ فِي ثَلاَثَةٍ فِي الْمَرْأَةِ وَالْمَسْكَنِ وَالدَّابَّةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَبَعْضُ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ لاَ يَذْكُرُونَ فِيهِ عَنْ حَمْزَةَ إِنَّمَا يَقُولُونَ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَرَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَقَالَ عَنْ سَالِمٍ وَحَمْزَةَ ابْنَىْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِمَا وَهَكَذَا رَوَى لَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ وَحَمْزَةَ ابْنَىْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِمَا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَمْزَةَ، وَرِوَايَةُ، سَعِيدٍ أَصَحُّ لأَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ وَالْحُمَيْدِيَّ رَوَيَا عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَذَكَرَا، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ لَمْ يَرْوِ لَنَا الزُّهْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ إِلاَّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ . وَرَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَقَالَ عَنْ سَالِمٍ وَحَمْزَةَ ابْنَىْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِمَا . وَفِي الْبَابِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَعَائِشَةَ وَأَنَسٍ . - وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِنْ كَانَ الشُّؤْمُ فِي شَيْءٍ فَفِي الْمَرْأَةِ وَالدَّابَّةِ وَالْمَسْكَنِ " . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ شُؤْمَ وَقَدْ يَكُونُ الْيُمْنُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ " . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ عَمِّهِ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا .
#2825
Sahih
Narrated 'Abdullah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whenever there are three of you, then let two not converse in exclusion of their companion
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم تین آدمی ایک ساتھ ہو، تو دو آدمی اپنے تیسرے ساتھی کو اکیلا چھوڑ کر باہم کانا پھوسی نہ کریں“، سفیان نے اپنی روایت میں «لا يتناجى اثنان دون الثالث فإن ذلك يحزنه» کہا ہے، یعنی ”تیسرے شخص کو چھوڑ کر دو سرگوشی نہ کریں کیونکہ اس سے اسے دکھ اور رنج ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”ایک کو نظر انداز کر کے دو سرگوشی نہ کریں، کیونکہ اس سے مومن کو تکلیف پہنچتی ہے، اور اللہ عزوجل مومن کی تکلیف کو پسند نہیں کرتا ہے“، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا كُنْتُمْ ثَلاَثَةً فَلاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا " . وَقَالَ سُفْيَانُ فِي حَدِيثِهِ " لاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . - وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " لاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ فَإِنَّ ذَلِكَ يُؤْذِي الْمُؤْمِنَ وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَكْرَهُ أَذَى الْمُؤْمِنِ " . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ .