#1351
Hasan Sahih
It was narrated from Ibn 'Umar that :A man saw in a dream that it was said to him: "What does your Prophet (ﷺ) command you to do?" He said: "He commanded us to say Tasbih thirty-three times following the prayer, and to say the tahmid thirty-three times, and to say the takbir thirty-four times, and that makes one-hundred." He said: Say the tasbih twenty-five times and say the tahmid twenty-five times and say the takbir twenty-five times and say the tahlil twenty-five times, and that will make one hundred." The following morning he told the Prophet (ﷺ) about that and the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do what the Ansari said
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دیکھا جیسے سونے والا خواب دیکھتا ہے، اس سے خواب میں پوچھا گیا: تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کس چیز کا حکم دیا ہے؟ اس نے کہا: آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أكبر» کہیں، تو یہ کل سو ہیں، تو اس نے کہا: تم پچیس بار «سبحان اللہ» پچیس بار «الحمد لله» پچیس بار «اللہ أكبر» اور پچیس بار «لا إله إلا اللہ»کہو، یہ بھی سو ہیں، چنانچہ جب صبح ہوئی تو اس آدمی نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ایسے ہی کر لو جیسے انصاری نے کہا ۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْفُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، رَأَى فِيمَا يَرَى النَّائِمُ قِيلَ لَهُ بِأَىِّ شَىْءٍ أَمَرَكُمْ نَبِيُّكُمْ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَمَرَنَا أَنْ نُسَبِّحَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَنَحْمَدَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَنُكَبِّرَ أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ فَتِلْكَ مِائَةٌ . قَالَ سَبِّحُوا خَمْسًا وَعِشْرِينَ وَاحْمَدُوا خَمْسًا وَعِشْرِينَ وَكَبِّرُوا خَمْسًا وَعِشْرِينَ وَهَلِّلُوا خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَتِلْكَ مِائَةٌ فَلَمَّا أَصْبَحَ ذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " افْعَلُوا كَمَا قَالَ الأَنْصَارِيُّ " .
#1352
Sahih
It was narrated that Juwayriyah bint Al-Harith said that:The Prophet (ﷺ) passed by her while she was in the masjid, supplicating, then he passed by her again when it was almost midday. He said to her: "Are you still here?" She said: "Yes." He said: "Shall I not teach you some words which you can say? Subhan Allah adada khalqihi, subhan Allah adada khalqihi, subhan Allah adada khalqihi; subhan Allah rida nafsihi, subhan Allah rida nafsihi, subhan Allah rida nafsihi; Subhan Allah zinata 'arshihi, Subhan Allah zinata 'arshihi, Subhan Allah zinata 'arshihi; Subhan Allah midada Kalamatihi, Subhan Allah midada Kalamatihi, Subhan Allah midada Kalamatihi (Glory be to Allah the number of His creation, glory be to Allah the number of His creation, glory be to Allah the number of His creation; glory be to Allah as much as pleases Him, glory be to Allah as much as pleases Him, glory be to Allah as much as pleases Him; glory be to Allah the weight of His throne, glory be to Allah the weight of His throne, glory be to Allah the weight of His throne; glory be to Allah the number of His words, glory be to Allah the number of His words, glory be to Allah the number of His words)
ام المؤمنین جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، اور وہ مسجد میں دعا مانگ رہی تھیں، پھر آپ ان کے پاس سے دوپہر کے قریب گزرے ( تو دیکھا وہ اسی جگہ دعا میں مشغول ہیں ) تو آپ نے ان سے فرمایا: تم اب تک اسی حال میں ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ بتاؤں کہ جنہیں تم کہا کرو؟ وہ یہ ہیں: «سبحان اللہ عدد خلقه سبحان اللہ عدد خلقه سبحان اللہ عدد خلقه سبحان اللہ رضا نفسه سبحان اللہ رضا نفسه سبحان اللہ رضا نفسه سبحان اللہ زنة عرشه سبحان اللہ زنة عرشه سبحان اللہ زنة عرشه سبحان اللہ مداد كلماته سبحان اللہ مداد كلماته سبحان اللہ مداد كلماته» اللہ کی پاکی اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو جتنا وہ چاہے، اللہ کی پاکی بیان ہو جتنا وہ چاہے، اللہ کی پاکی بیان ہو جتنا وہ چاہے، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے عرش کے وزن کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے عرش کے وزن کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے عرش کے وزن کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے بے انتہا کلمات کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے بے انتہا کلمات کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے بے انتہا کلمات کے برابر ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ قَالَ سَمِعْتُ كُرَيْبًا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ عَلَيْهَا وَهِيَ فِي الْمَسْجِدِ تَدْعُو ثُمَّ مَرَّ بِهَا قَرِيبًا مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ فَقَالَ لَهَا " مَا زِلْتِ عَلَى حَالِكِ " . قَالَتْ نَعَمْ . قَالَ " أَلاَ أُعَلِّمُكِ - يَعْنِي - كَلِمَاتٍ تَقُولِينَهُنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ " .
#1353
Munkar
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"Some poor people came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), the rich pray as we pray, and they fast as we fast, but they have wealth that they give in charity and with which they free slaves.' The Prophet (ﷺ) said: 'If you pray and say SubhanAllah thirty-three times, Al-hamdu-lillah thirty-three times and Alahu Akbar thirty-four times, and La illaha illaAllah ten times, then you will catch up with those who went ahead of you and will go ahead of those who come after you
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ فقراء نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! مالدار لوگ ( بھی ) نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں، وہ بھی روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں، ان کے پاس مال ہے وہ صدقہ و خیرات کرتے ہیں، اور ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرتے ہیں، ( اور ہم نہیں کر پاتے ہیں تو ہم ان کے برابر کیسے ہو سکتے ہیں ) یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم لوگ نماز پڑھ چکو تو تینتیس بار «سبحان اللہ»تینتیس بار «الحمد لله» اور تینتیس بار «اللہ أكبر» اور دس بار «لا إله إلا اللہ» کہو، تو تم اس کے ذریعہ سے ان لوگوں کو پا لو گے جو تم سے سبقت کر گئے ہیں، اور اپنے بعد والوں سے سبقت کر جاؤ گے ۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَتَّابٌ، - هُوَ ابْنُ بَشِيرٍ - عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَمُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ الْفُقَرَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الأَغْنِيَاءَ يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ وَلَهُمْ أَمْوَالٌ يَتَصَدَّقُونَ وَيُنْفِقُونَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِذَا صَلَّيْتُمْ فَقُولُوا سُبْحَانَ اللَّهِ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ عَشْرًا فَإِنَّكُمْ تُدْرِكُونَ بِذَلِكَ مَنْ سَبَقَكُمْ وَتَسْبِقُونَ مَنْ بَعْدَكُمْ " .
#1354
Sahih Isnaad
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever says the tasbih one hundred times following the morning prayer, and the tahlil one hundred times, he will be forgiven his sins even if they are like the foam of the sea
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص فجر کی نماز کے بعد سو بار «سبحان اللہ» اور سو بار «لا إله إلا اللہ» کہے گا، اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ - عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ سَبَّحَ فِي دُبُرِ صَلاَةِ الْغَدَاةِ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ وَهَلَّلَ مِائَةَ تَهْلِيلَةٍ غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " .
#1355
Sahih
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"I saw the Messenger of Allah (ﷺ) counting tasbih on his fingers
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح گنتے ہوئے دیکھا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الذَّارِعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْقِدُ التَّسْبِيحَ .
#1356
Sahih
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to observe I'tikaf during the middle ten days of the month, and after the twentieth (day of the month), he would come out on the twenty-first and go back to his home, and those who were observing I'tikaf with him would go back like him. Then he stayed one month on the night when he used to go back home, and he addressed the people and enjoined upon them whatever Allah (SWT) willed. Then he said: 'I used to observe I'tikaf during these ten days, then I decided to spend the last ten days in I'tikaf. So whoever was observing I'tikaf with me, let him stay in his place of I'tikaf, for I was shown this night (Lailatul Qadr), then I was caused to forget it, so seek it during the last ten nights on the odd-numbered nights. And I saw myself prostrating in water and mud.'" Abu Sa'eed said: "It rained on the night of the twenty-first, and the roof of the Masjid leaked over the place where the Messenger of Allah (ﷺ) used to pray. I looked at him when he had finished praying subh and his face was wet with water and mud
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( رمضان کے ) مہینہ کے بیچ کے دس دنوں میں اعتکاف کرتے تھے، جب بیسویں رات گزر جاتی اور اکیسویں کا استقبال کرتے تو آپ اپنے گھر واپس آ جاتے، اور وہ لوگ بھی واپس آ جاتے جو آپ کے ساتھ اعتکاف کرتے تھے، پھر ایک مہینہ ایسا ہوا کہ آپ جس رات گھر واپس آ جاتے تھے اعتکاف ہی میں ٹھہرے رہے، لوگوں کو خطبہ دیا، اور انہیں حکم دیا جو اللہ نے چاہا، پھر فرمایا: میں اس عشرہ میں اعتکاف کیا کرتا تھا پھر میرے جی میں آیا کہ میں ان آخری دس دنوں میں اعتکاف کروں، تو جو شخص میرے ساتھ اعتکاف میں ہے تو وہ اپنے اعتکاف کی جگہ میں ٹھہرا رہے، میں نے اس رات ( لیلۃ القدر ) کو دیکھا، پھر وہ مجھے بھلا دی گئی، تم اسے آخری دس دنوں کی طاق راتوں میں تلاش کرو، اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں ، ابو سعید خدری کہتے ہیں: اکیسویں رات کو بارش ہوئی تو مسجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی جگہ پر ٹپکنے لگی، چنانچہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صبح کی نماز سے فارغ ہو کر لوٹ رہے ہیں، اور آپ کا چہرہ مٹی اور پانی سے تر تھا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرٌ، - وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ - عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُجَاوِرُ فِي الْعَشْرِ الَّذِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ فَإِذَا كَانَ مِنْ حِينِ يَمْضِي عِشْرُونَ لَيْلَةً وَيَسْتَقْبِلُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ يَرْجِعُ إِلَى مَسْكَنِهِ وَيَرْجِعُ مَنْ كَانَ يُجَاوِرُ مَعَهُ ثُمَّ إِنَّهُ أَقَامَ فِي شَهْرٍ جَاوَرَ فِيهِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ الَّتِي كَانَ يَرْجِعُ فِيهَا فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَمَرَهُمْ بِمَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ " إِنِّي كُنْتُ أُجَاوِرُ هَذِهِ الْعَشْرَ ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُجَاوِرَ هَذِهِ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَثْبُتْ فِي مُعْتَكَفِهِ وَقَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فَأُنْسِيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فِي كُلِّ وَتْرٍ وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ " . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ مُطِرْنَا لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فِي مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَقَدِ انْصَرَفَ مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ وَوَجْهُهُ مُبْتَلٌّ طِينًا وَمَاءً .
#1357
Sahih
It was narrated that Jabir bin Samurah said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) prayed fajr, he would sit in the place where he had prayed until the sun rose
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر سے فارغ ہو جاتے تو آپ اپنے مصلیٰ ہی پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ قَعَدَ فِي مُصَلاَّهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ .
#1358
Sahih
It was narrated that Simak bin Harb said:"I said to Jabir bin Samurah: 'Did you used to sit with the Messenger of Allah (ﷺ)?" He said: 'Yes.' When the Messenger of Allah (ﷺ) had prayed fajr, he would sit in the place where he had prayed until the sun rose, and his companions would talk and remember things from the time of Jahilliyah and recite poetry, and they would laugh and he would smile
سماک بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں ( پھر انہوں نے بیان کیا ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر پڑھ لیتے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا، پھر آپ کے صحابہ آپ سے میں بات چیت کرتے، جاہلیت کے دور کا ذکر کرتے، اور اشعار پڑھتے، اور ہنستے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسکراتے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، وَذَكَرَ، آخَرَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ كُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ جَلَسَ فِي مُصَلاَّهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَيَتَحَدَّثُ أَصْحَابُهُ يَذْكُرُونَ حَدِيثَ الْجَاهِلِيَّةِ وَيُنْشِدُونَ الشِّعْرَ وَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ صلى الله عليه وسلم .
#1359
Sahih
It was narrated that As-Suddi said:"I asked Anas bin Malik: 'How should I leave after I have prayed- to the right or to the left?' He said: 'I usually saw the Messenger of Allah (ﷺ) leave to the right
سدی (اسماعیل بن عبدالرحمٰن) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ میں اپنے داہنے اور بائیں سلام پھیر کر کیسے پلٹوں؟ تو انہوں نے کہا: رہا میں تو میں نے اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں طرف سے پلٹتے دیکھا ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ السُّدِّيِّ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ كَيْفَ أَنْصَرِفُ إِذَا صَلَّيْتُ عَنْ يَمِينِي، أَوْ عَنْ يَسَارِي، قَالَ أَمَّا أَنَا فَأَكْثَرُ، مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ .
#1360
Sahih
It was narrated that Al-Aswad said:"Abdullah said: 'No one among you should allow the Shaitan to give him wrong ideas by making him believe that he can only leave after praying by moving to his right, because I saw the Messenger of Allah (ﷺ) usually departing to the left
اسود کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تم میں سے کوئی خود سے شیطان کا کوئی حصہ نہ کرے کہ غیر ضروری چیز کو اپنے اوپر لازم سمجھ لے، اور داہنی طرف ہی سے پلٹنے کو اپنے اوپر لازم کر لے، میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر بائیں طرف سے پلٹتے دیکھا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَفْصٍ، عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لاَ يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا يَرَى أَنَّ حَتْمًا عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَنْصَرِفَ إِلاَّ عَنْ يَمِينِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَكْثَرَ انْصِرَافِهِ عَنْ يَسَارِهِ .
#1361
Sahih Isnaad
It was narrated that 'Aishah said:"I saw the Messenger of Allah (ﷺ) drink standing and sitting, and he prayed barefoot and with sandals, and he left (after prayer) to the right and to the left
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر، اور ننگے پاؤں اور جوتے پہن کر بھی نماز پڑھتے دیکھا ہے، اور آپ سلام پھیر نے کے بعد ( کبھی ) اپنے دائیں طرف پلٹتے، اور ( کبھی ) اپنے بائیں طرف۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ، أَنَّ مَكْحُولاً، حَدَّثَهُ أَنَّ مَسْرُوقَ بْنَ الأَجْدَعِ حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَشْرَبُ قَائِمًا وَقَاعِدًا وَيُصَلِّي حَافِيًا وَمُنْتَعِلاً وَيَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ .
#1362
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"Women used to pray fajr with the Messenger of Allah (ﷺ), and when he said the taslim they would leave, wrapped in their Mirts, unrecognizable because of the darkness
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر ادا کرتی تھیں، جب آپ سلام پھیرتے تو وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی نکل جاتیں، اور اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتیں ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النِّسَاءُ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْفَجْرَ فَكَانَ إِذَا سَلَّمَ انْصَرَفْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ فَلاَ يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ .
#1363
Sahih
It was narrated that Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer one day, then he turned to face us and said: 'I am now your imam, so do not hasten to bow or prostrate or stand or leave before I do. I can see you in front of me and behind me.' Then he said: 'By the One in Whose Hand is my soul, if you had seen what I have seen, you would laugh little and weep much.' We said: 'What have you seen, O Messenger of Allah (ﷺ)?' He said: 'Paradise and Hell
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: میں تمہارا امام ہوں، تو تم مجھ سے رکوع و سجود اور قیام میں جلدی نہ کرو، اور نہ ہی سلام میں، کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں، اور پیچھے سے بھی ، پھر آپ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم وہ چیزیں دیکھتے جو میں دیکھتا ہوں تو تم ہنستے کم، اور روتے زیادہ ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: میں نے جنت اور جہنم دیکھی ہے ۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ " إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلاَ تُبَادِرُونِي بِالرُّكُوعِ وَلاَ بِالسُّجُودِ وَلاَ بِالْقِيَامِ وَلاَ بِالاِنْصِرَافِ فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي " . ثُمَّ قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " . قُلْنَا مَا رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ " .
#1364
Sahih
It was narrated that Abu Dharr said:"We fasted Ramadan with the Messenger of Allah (ﷺ), and the Prophet (ﷺ) did not lead us in Qiyam until there were seven days left of the month, then he led us in Qiyam until one-third of the night had passed. Then, when there were six days left, he did not lead us in Qiyam. When there were five days left, he led us in praying Qiyam until half the night had passed. We said: 'O Messenger of Allah (SA), why don't you lead us in praying Qiyam for the rest of the night?' He said: 'If a man prays with the Imam until he leaves, that will be continued for him as if he spent the whole night in prayer.' Then, when there were four days left, he did not lead us in praying Qiyam. When there were three days left he sent for his daughters and women, and gathered the people, and he led us in praying Qiyam until we feared that we would miss Al-Falah. Then he did not lead us in praying Qiyam for the rest of the month." Dawud (one of the narrators) said: "I said: ' What is falah?' He said: 'Sahur
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روزے رکھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ رمضان کے مہینہ کی سات راتیں رہ گئیں، تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے ہوئے ( اور پڑھاتے رہے ) یہاں تک کہ تہائی رات کے قریب گزر گئی، پھر چھٹی رات آئی لیکن آپ ہمیں پڑھانے کھڑے نہیں ہوئے، پھر جب پانچویں رات آئی تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے ہوئے ( اور پڑھاتے رہے ) یہاں تک کہ تقریباً آدھی رات گزر گئی، تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ یہ رات پوری پڑھاتے، آپ نے فرمایا: آدمی جب امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام شمار کیا جاتا ہے ، پھر چوتھی رات آئی تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے نہیں کھڑے ہوئے، پھر جب رمضان کے مہینہ کی تین راتیں باقی رہ گئیں، تو آپ نے اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو کہلا بھیجا اور لوگوں کو بھی جمع کیا، اور ہمیں تراویح پڑھائی یہاں تک کہ ہمیں خوف ہوا کہیں ہم سے فلاح چھوٹ نہ جائے، پھر اس کے بعد مہینہ کے باقی دنوں میں آپ نے ہمیں تراویح نہیں پڑھائی۔ داود بن ابی ہند کہتے ہیں: میں نے پوچھا: فلاح کیا ہے؟ تو انہوں نے ( ولید بن عبدالرحمٰن نے ) کہا: سحری کھانا۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ - قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ مِنَ الشَّهْرِ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ ثُلُثِ اللَّيْلِ ثُمَّ كَانَتْ سَادِسَةٌ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ نَفَلْتَنَا قِيَامَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ . قَالَ " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ " . قَالَ ثُمَّ كَانَتِ الرَّابِعَةُ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا فَلَمَّا بَقِيَ ثُلُثٌ مِنَ الشَّهْرِ أَرْسَلَ إِلَى بَنَاتِهِ وَنِسَائِهِ وَحَشَدَ النَّاسَ فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلاَحُ ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ . قَالَ دَاوُدُ قُلْتُ مَا الْفَلاَحُ قَالَ السُّحُورُ .
#1365
Sahih
It was narrated that 'Uqbah bin Al-Harith said:"I prayed 'Asr with the Prophet (ﷺ) in Al-Madinah, then he left, stepping over the necks of the people, so quickly that the people were surprised at his haste. He entered unto one of his wives, then he came out and said: 'While I was praying 'Asr, I remembered some gold that we had, and I did not want it to stay with us overnight, so I ordered that it be distributed
عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں نماز عصر پڑھی، پھر آپ تیزی سے لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے گئے یہاں تک کہ لوگ آپ کی تیزی سے تعجب میں پڑ گئے، کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے پیچھے گئے ( کہ کیا معاملہ ہے ) آپ اپنی ایک بیوی کے حجرہ میں داخل ہوئے، پھر باہر نکلے اور فرمایا: میں نماز عصر میں تھا کہ مجھے سونے کا وہ ڈلا یاد آ گیا جو ہمارے پاس تھا، تو مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ رات بھر وہ ہمارے پاس پڑا رہے، لہٰذا جا کر میں نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دے دیا ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ النَّوْفَلِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْعَصْرَ بِالْمَدِينَةِ ثُمَّ انْصَرَفَ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ سَرِيعًا حَتَّى تَعَجَّبَ النَّاسُ لِسُرْعَتِهِ فَتَبِعَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَدَخَلَ عَلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ " إِنِّي ذَكَرْتُ وَأَنَا فِي الْعَصْرِ شَيْئًا مِنْ تِبْرٍ كَانَ عِنْدَنَا فَكَرِهْتُ أَنْ يَبِيتَ عِنْدَنَا فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ " .
#1366
Sahih
It was narrated from Jabir bin Abdullah that:On the Day of Al-Khandaq, after the sun had set, Umar bin Al-Khattab started cursing the disbelievers of the Quraish and said: "O Messenger of Allah, I was hardly able to pray until the sun set." The Messenger of Allah (ﷺ) said: "By Allah, I did not pray." So we went down with the Messenger of Allah (ﷺ) to Buthan. He performed wudu' for prayer and so did we, and he prayed 'Asr after the sun had set, then he prayed Maghrib after that
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے دن سورج ڈوب جانے کے بعد کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نماز نہیں پڑھ سکا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، تو رسول اللہ نے فرمایا: قسم اللہ کی! میں نے بھی نہیں پڑھی ہے ، چنانچہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی بطحان میں اترے، پھر آپ نے نماز کے لیے وضو کیا، اور ہم نے بھی وضو کیا پھر آپ نے سورج ڈوب جانے کے باوجود ( پہلے ) عصر پڑھی، پھر اس کے بعد مغرب پڑھی۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - عَنْ هِشَامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَوْمَ الْخَنْدَقِ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ جَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كِدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ تَغْرُبُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَوَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا " . فَنَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى بُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ لِلصَّلاَةِ وَتَوَضَّأْنَا لَهَا فَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ .
#1367
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'We are the last (to come) but will be the foremost on the Day of Resurrection, but they were given the Book before us and we were given it after them. They differed concerning this day which Allah, the Mighty and Sublime, had prescribed for them and Allah, the Mighty and Sublime, guided us to"--meaning Friday--"so the people follow us, the Jews the next day and the Christians the day after that
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( دنیا میں ) ہم پیچھے آنے والے ہیں اور ( قیامت میں ) آگے ہوں گے، صرف اتنی بات ہے کہ انہیں ( یعنی یہود و نصاریٰ کو ) کتاب ہم سے پہلے دی گئی ہے، اور ہمیں ان کے بعد دی گئی ہے، یہ ( جمعہ کا دن ) وہ دن ہے جس دن اللہ نے ان پر عبادت فرض کی تھی مگر انہوں نے اس میں اختلاف کیا ۱؎، تو اللہ تعالیٰ نے اس سے ( یعنی جمعہ کے دن سے ) ہمیں نواز دیا، تو لوگ اس میں ہمارے تابع ہیں ۲؎، یہود کل کی یعنی ہفتہ ( سنیچر ) کی تعظیم کرتے ہیں، اور نصاریٰ پرسوں کی ( یعنی اتوار کی ) ۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنُ، طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ وَهَذَا الْيَوْمُ الَّذِي كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ - يَعْنِي يَوْمَ الْجُمُعَةِ - فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ الْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ " .
#1368
Sahih
ابوہریرہ اور حذیفہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے والوں کو جمعہ سے بھٹکا دیا، یہود کے لیے ہفتہ ( سنیچر ) کا دن مقرر ہوا، اور نصرانیوں کے لیے اتوار کا، پھر اللہ تعالیٰ ہمیں لایا تو اس نے ہمیں جمعہ کے دن سے نوازا، تو اب ( پہلے ) جمعہ ہے، پھر ہفتہ ( سنیچر ) پھر اتوار، اس طرح یہ لوگ قیامت تک ہمارے تابع ہوں گے، ہم دنیا میں بعد میں آئے ہیں مگر قیامت کے دن پہلے ہوں گے ۱؎۔
#1369
Hasan Sahih
ابوجعد ضمری رضی اللہ عنہ (جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے تین جمعہ سستی سے چھوڑ دیا، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا ۱؎۔
#1370
Sahih
It was narrated from Al-Hakam bin Mina' that:He heard Ibn Abbas and Ibn Umar narrate that while he was on the minbar, the Messenger of Allah (ﷺ) said: "People should stop neglecting Jumu'ah or Allah will place a seal on their hearts and they will be deemed as being among the negligent
عبداللہ بن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منبر کے زینے سے فرمایا: لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آ جائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا ۱؎ اور وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے ۲؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ الْحَضْرَمِيِّ بْنِ لاَحِقٍ، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي سَلاَّمٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَابْنَ، عُمَرَ يُحَدِّثَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَهُوَ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ " لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَلَيَكُونَنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ " .
#1371
Sahih
It was narrated from Hafsah, the wife of the Prophet (ﷺ) that:The Prophet (ﷺ) said: "Going to Jumu'ah is obligatory for everyone who has reached the age of puberty
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے لیے ( مسجد ) جانا ہر بالغ مرد پر فرض ہے ۔
أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رَوَاحُ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ " .
#1372
Daif
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بنا کسی عذر کے جمعہ چھوڑ دے تو وہ ایک دینار صدقہ کرے، اور اگر ایک دینار نہ ہو تو آدھا دینار ہی کرے ۔
#1373
Sahih
Abdur-Rahman Al-A'raj narrated that:He heard Abu Hurairah say: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The best day on which the sun rises is Friday. On this day, Adam, peace be upon him, was created, on this day he was admitted to Paradise, and on this day he was taken out of it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین دن جس میں سورج نکلا جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا، اور اسی دن انہیں جنت سے نکالا گیا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا " .
#1374
Sahih
It was narrated from Aws bin Aws that :The Prophet (ﷺ) said: "One of the best of your days is Friday. On this day, Adam was created and on this day he died, on this day the Trumpet will be blown, and on this day all creatures will swoon. So send a great deal of salah upon me on this day, for your salah will be presented to me." They said: "O Messenger of Allah (ﷺ), how will our salah be presented to you when you have decomposed (after death)?" He said: "Allah, the Mighty and Sublime, has forbidden the earth to consume the bodies of the prophets, peace be upon them
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے دنوں میں سب سے افضل ( بہترین ) جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم علیہ السلام پیدا ہوئے، اسی میں ان کی روح قبض کی گئی، اور اسی دن صور پھونکا جائے گا، اور اسی دن بیہوشی طاری ہو گی، لہٰذا تم مجھ پر زیادہ سے زیادہ صلاۃ ( درود و رحمت ) بھیجو کیونکہ تمہاری صلاۃ ( درود و رحمت ) مجھ پر پیش کیے جائیں گے ۱؎ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہماری صلاۃ ( درود و رحمت ) آپ پر کس طرح پیش کی جائیں گی حالانکہ آپ ریزہ ریزہ ہو چکے ہوں گے یعنی وہ کہنا چاہ رہے تھے، کہ آپ بوسیدہ ہو چکے ہوں گے، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کے جسم کو کھائے ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَفِيهِ قُبِضَ وَفِيهِ النَّفْخَةُ وَفِيهِ الصَّعْقَةُ فَأَكْثِرُوا عَلَىَّ مِنَ الصَّلاَةِ فَإِنَّ صَلاَتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَىَّ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلاَتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرَمْتَ أَىْ يَقُولُونَ قَدْ بَلِيتَ . قَالَ " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ حَرَّمَ عَلَى الأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ " .
#1375
Sahih
It was narrated (through two chains) from 'Abdur-Rahman bin Abi Sa'eed, from his father, that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Ghusl and using siwak on Fridays are obligatory for everyone who has reached the age of puberty, and he should put on whatever he can find of perfume." Except that Bukair (one of the narrators in one chain) did not mention 'Abdur-Rahman, and about the perfume he said: "Even if it is women's perfume
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن ہر بالغ شخص پر غسل کرنا واجب ہے، مسواک کرنا بھی، اور خوشبو جس پروہ قادر ہو لگانا بھی ۱؎ ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلاَلٍ، وَبُكَيْرَ بْنَ الأَشَجِّ، حَدَّثَاهُ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ وَالسِّوَاكُ وَيَمَسُّ مِنَ الطِّيبِ مَا قَدَرَ عَلَيْهِ " . إِلاَّ أَنَّ بُكَيْرًا لَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ وَقَالَ فِي الطِّيبِ " وَلَوْ مِنْ طِيبِ الْمَرْأَةِ " .