#1326
Sahih
It was narrated that Jabir bin Samurah said:"I prayed with the Messenger of Allah (ﷺ) and when we said the salam we used to gesture with our hands: 'Asalamu alaykum wa rahmatullah (peace be upon, peace be upon you).' The Messenger of Allah (ﷺ) looked at us and said: 'What is the matter with you, pointing with your hands as if they are the tails of wild horses? When any one of you says the salam, let him turn to his companions and not gesture with his hand
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب ہم سلام پھیرتے تو اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے کہتے:«السلام عليكم السلام عليكم» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس طرح کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ تم لوگ اپنے ہاتھوں سے اشارے کرتے ہو، گویا کہ وہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں، جب تم میں سے کوئی سلام پھیرے تو وہ اپنے ساتھ والے کی طرف متوجہ ہو جائے، اور اپنے ہاتھ سے اشارہ نہ کرے ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، - وَهُوَ ابْنُ الْقِبْطِيَّةِ - عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكُنَّا إِذَا سَلَّمْنَا قُلْنَا بِأَيْدِينَا السَّلاَمُ عَلَيْكُمُ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ - قَالَ - فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا شَأْنُكُمْ تُشِيرُونَ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ إِذَا سَلَّمَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْتَفِتْ إِلَى صَاحِبِهِ وَلاَ يُومِئْ بِيَدِهِ " .
#1327
Sahih
Itban bin Malik said:"I used to lead my people Bani Salim in prayer. I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'I have lost my eyesight and the rainwater prevents me from reaching the masjid of my people. I would like you to come and pray in my house in a place that I can take as a masjid.' The Prophet (ﷺ) said: 'I will do that, if Allah (SWT) wills.' The next day, the Messenger of Allah (ﷺ) came, and Abu Bakr was with him, after the day had grown hot. The Prophet (ﷺ) asked for permission to enter, and I gave him permission. He did not sit own until he asked: 'Where would you like me to pray in your house?' I showed him the place where I wanted him to pray, so the Messenger of Allah (ﷺ) stood there and formed a row behind him, then he said the salam and we said the salam when he did
محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں اپنی قوم بنی سالم کو نماز پڑھایا کرتا تھا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے عرض کیا کہ میری آنکھیں کمزور ہو گئی ہیں، اور برسات میں میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان سیلاب حائل ہو جاتا ہے، لہٰذا میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لاتے، اور کسی جگہ میں نماز پڑھ دیتے تو میں اس جگہ کو اپنے لیے مسجد بنا لیتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا ان شاءاللہ عنقریب آؤں گا ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوب دن چڑھ آنے کے بعد میرے پاس تشریف لائے، آپ کے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت مانگی، میں نے آپ کو اندر تشریف لانے کے لیے کہا، آپ بیٹھے بھی نہیں کہ آپ نے پوچھا: تم اپنے گھر کے کس حصہ میں چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟ تو میں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں میں چاہتا تھا کہ آپ اس میں نماز پڑھیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، اور ہم نے آپ کے پیچھے صف باندھی، پھر آپ نے سلام پھیرا، اور ہم نے بھی سلام پھیرا جس وقت آپ نے سلام پھیرا۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ سَمِعْتُ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كُنْتُ أُصَلِّي بِقَوْمِي بَنِي سَالِمٍ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَإِنَّ السُّيُولَ تَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَسْجِدِ قَوْمِي فَلَوَدِدْتُ أَنَّكَ جِئْتَ فَصَلَّيْتَ فِي بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مَسْجِدًا . قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . فَغَدَا عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ - رضى الله عنه - مَعَهُ بَعْدَ مَا اشْتَدَّ النَّهَارُ فَاسْتَأْذَنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَذِنْتُ لَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى قَالَ " أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ " . فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أُحِبُّ أَنْ يُصَلِّيَ فِيهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا حِينَ سَلَّمَ .
#1328
Sahih
It was narrated from 'Urwah (that) Aishah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray eleven rak'ahs, making it odd (witr) by one between the time when he finished 'Isha and dawn, and he would prostrate for as long as it takes one of you to recite fifty verses before raising his head
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے فجر تک کے بیچ میں گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے، اور ایک رکعت کے ذریعہ وتر کرتے۱؎، اور ایک سجدہ اتنا لمبا کرتے کہ کوئی اس سے پہلے کہ آپ سجدہ سے سر اٹھائیں پچاس آیتیں پڑھ لے۔ اس حدیث کے رواۃ ( ابن ابی ذئب، عمرو بن حارث اور یونس بن یزید ) ایک دوسرے پر اضافہ بھی کرتے ہیں اور یہ حدیث ایک لمبی حدیث سے مختصر کی گئی ہے۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ حَمَّادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلاَةِ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ وَيَسْجُدُ سَجْدَةً قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ . وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى بَعْضٍ فِي الْحَدِيثِ . مُخْتَصَرٌ .
#1329
Sahih
It was narrated from 'Abdullah that:The Prophet (ﷺ) said the salam, then he spoke, then he performed two prostrations of forgetfulness
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر آپ نے گفتگو کی، پھر سہو کے دو سجدے کیے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ حَفْصٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَلَّمَ ثُمَّ تَكَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ .
#1330
Hasan Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that:"The Messenger of Allah (ﷺ) said the salam then he performed two prostrations of forgetfulness while he was still sitting, then he said the salam." He said: He mentioned it in the hadith of Dhul-Yadain
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر سہو کے دو سجدے بیٹھے بیٹھے کئے، پھر سلام پھیرا، راوی کہتے ہیں: اس کا ذکر ذوالیدین والی حدیث میں بھی ہے۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ضَمْضَمُ بْنُ جَوْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ سَلَّمَ . قَالَ ذَكَرَهُ فِي حَدِيثِ ذِي الْيَدَيْنِ .
#1331
Sahih
It was narrated from 'Imran bin Husain that:The Prophet (ﷺ) prayed three (rak'ahs) then said the taslim. Al-Khirbaq said: "You prayed three." So he led them in praying the remaining rak'ah, then he said the taslim, then he did the two prostrations of forgetfulness, then he said the taslim (again)
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین رکعت نماز پڑھ کر سلام پھیر دیا، تو خرباق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: آپ نے تین ہی رکعت نماز پڑھی ہے، چنانچہ آپ نے انہیں وہ رکعت پڑھائی جو باقی رہ گئی تھی، پھر آپ نے سلام پھیرا، پھر سجدہ سہو کیا، اس کے بعد سلام پھیرا۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى ثَلاَثًا ثُمَّ سَلَّمَ فَقَالَ الْخِرْبَاقُ إِنَّكَ صَلَّيْتَ ثَلاَثًا . فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ ثُمَّ سَلَّمَ .
#1332
Sahih
It was narrated that Al-Bara' bin 'Azib said:"I watched the Messenger of Allah (ﷺ) when he prayed, and I noticed that his standing, his bowing, his standing up after bowing, his prostration, his sitting between the two prostrations and his sitting between the taslim and departing were almost the same in length
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو بغور دیکھا، تو میں نے پایا کہ آپ کا قیام ۱؎، آپ کا رکوع، اور رکوع کے بعد آپ کا سیدھا کھڑا ہونا، پھر آپ کا سجدہ کرنا، اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا، پھر دوسرا سجدہ کرنا، پھر سلام پھیرنے اور مقتدیوں کی طرف پلٹنے کے درمیان بیٹھنا تقریباً برابر برابر ہوتا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ رَمَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَتِهِ فَوَجَدْتُ قِيَامَهُ وَرَكْعَتَهُ وَاعْتِدَالَهُ بَعْدَ الرَّكْعَةِ فَسَجْدَتَهُ فَجَلْسَتَهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فَسَجْدَتَهُ فَجَلْسَتَهُ بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَالاِنْصِرَافِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ .
#1333
Sahih
Hind bint Al-Harith Al-Farrasiyyah narrated that:Umm Salamah told her that during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), when the women said the taslim at the end of the prayer, the Messenger of Allah (ﷺ) and the men who had prayed with him would stay put for as long as Allah (ﷺ) willed. Then, when the Messenger of Allah (ﷺ) got up, the men did too
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں جب نماز سے سلام پھیرتیں تو کھڑی ہو جاتیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مردوں میں سے جو لوگ نماز میں ہوتے بیٹھے رہتے جب تک اللہ چاہتا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے تو مرد بھی کھڑے ہو جاتے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ الْفِرَاسِيَّةُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهَا أَنَّ النِّسَاءَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُنَّ إِذَا سَلَّمْنَ مِنَ الصَّلاَةِ قُمْنَ وَثَبَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ صَلَّى مِنَ الرِّجَالِ مَا شَاءَ اللَّهُ فَإِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ الرِّجَالُ .
#1334
Sahih
It was narrated from Jabir bin Yazid bin Al-Aswad, from his father that:He prayed subh with the Messenger of Allah (ﷺ), and when he finished praying he turned away (from the Qiblah and toward the people)
یزید بن اسود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی، جب نماز پڑھ چکے تو آپ نے اپنا رخ پلٹ کر مقتدیوں کی طرف کر لیا۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا صَلَّى انْحَرَفَ .
#1335
Sahih
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"I used to know that the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) ended by the takbir
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے ختم ہونے کو تکبیر کے ذریعہ جانتا تھا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ إِنَّمَا كُنْتُ أَعْلَمُ انْقِضَاءَ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالتَّكْبِيرِ .
#1336
Sahih
It was narrated that 'Uqbah bin 'Amr said:"The Messenger of Allah (ﷺ) commanded me to recite Al-Mu'awwidhat following every prayer
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ہر نماز کے بعد معوذتین «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» پڑھا کروں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ حُنَيْنِ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عُلَىِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَقْرَأَ الْمُعَوِّذَاتِ دُبُرَ كُلِّ صَلاَةٍ .
#1337
Sahih
Thawban, the freed slave of the Messenger of Allah (ﷺ), narrated that:When he finished the prayer, the Messenger of Allah (ﷺ) would pray for forgiveness three times and say: 'Allahumma anta asalam, wa minka as-salam tabarakta ya dhal-jalali wal-ikram (O Allah, You are the source of eace (or the One free from all faults) and from You comes peace, blessed are You, O Possessor of Majesty and Honor
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹتے تو تین بار «استغفر اللہ» کہتے، پھر کہتے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» اے اللہ! تو سلام ہے، اور تجھ سے ہی تمام کی سلامتی ہے، تیری ذات بڑی بابرکت ہے، اے بزرگی اور عزت والے ۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ، أَنَّ أَبَا أَسْمَاءَ الرَّحَبِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلاَتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلاَثًا وَقَالَ " اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْكَ السَّلاَمُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ " .
#1338
Sahih
It was narrated from 'Aishah that :After saying the taslim the Messenger of Allah (ﷺ) would say: "Allahumma anta as-salam wa minka as-salam tabarakta ya dhal-jalali wal-ikram (O Allah, You are the source of eace (or the One free from all faults) and from You comes peace, blessed are You, O Possessor of Majesty and Honor
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو کہتے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» اے اللہ! تو سلام ہے، اور تجھی سے تمام کی سلامتی ہے، اے عزت و بزرگی والے تیری ذات بڑی بابرکت ہے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صُدْرَانَ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا سَلَّمَ قَالَ " اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْكَ السَّلاَمُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ " .
#1339
Sahih
Abu Az-Zubair said:"I heard Abdullah bin Az-Zubair speaking from the Minbar, saying: 'When the Messenger of Allah (ﷺ) said the taslim, he would say: "La Ilaha Illallah wahdahu la sharika lah, lahul-mulk wa lahul-hamd wa huwa 'ala kulli shay'in qadir, la hawla wala quwwata illa billahil-'azim; la ilaha ill-Allahu wa la nabbed illa iyyah, ahlan-ni'mati wal-fadli wath-thana'il-has an; la ilaha ill-Allah, mukhlisina lahud-dina wa law karihal-kafirun (There is none worthy of worship except Allah (SWT) alone, with no partner or associate. His is the Dominion, to Him be all praise, and He is able to do all things; there is no power and no strength except with Allah (SWT) the Almighty. There is none worthy of worship except Allah (SWT), and we worship none but Him, the source of blessing and kindness and the One Who is deserving of all good praise. There is none worthy of worship except Allah (SWT), and we are sincere in faith and devotion to Him even though the disbelievers detest it
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم کو اس منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير لا حول ولا قوة إلا باللہ لا إله إلا اللہ لا نعبد إلا إياه أهل النعمة والفضل والثناء الحسن لا إله إلا اللہ مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے جو اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، نہیں طاقت و قوت مگر اللہ ہی کی توفیق سے، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، ہم صرف اسی نعمت، فضل اور بہترین تعریف والے کی عبادت کرتے ہیں، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، ہم دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والے ہیں، اگرچہ کافروں کو برا لگے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ الْمَرُّوذِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، يُحَدِّثُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا سَلَّمَ يَقُولُ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ لاَ نَعْبُدُ إِلاَّ إِيَّاهُ أَهْلَ النِّعْمَةِ وَالْفَضْلِ وَالثَّنَاءِ الْحَسَنِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ " .
#1340
Sahih
It was narrated that Abu Az-Zubair said:"Abdullah bin Az-Zubair used to recite the tahlil following every prayer, saying: 'La Ilaha Illallah wahdahu la sharika lah, lahul-mulk wa lahul-hamd wa huwa 'ala kulli shay'in qadir, la hawla wala quwwata illa billahil-'azim; la ilaha ill-Allahu wa la nabbed illa iyyah, ahlan-ni'mati wal-fadli wath-thana'il-has an; la ilaha ill-Allah, mukhlisina lahud-dina wa law karihal-kafirun (There is none worthy of worship except Allah (SWT) alone, with no partner or associate. His is the Dominion, to Him be all praise, and He is able to do all things; there is no power and no strength except with Allah (SWT) the Almighty. There is none worthy of worship except Allah (SWT), and we worship none but Him, the source of blessing and kindness and the One Who is deserving of all good praise. There is none worthy of worship except Allah (SWT), and we are sincere in faith and devotion to Him even though the disbelievers detest it. ) Then Ibn Az-Zubair said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite the tahlil in this manner following every prayer
ابو الزبیر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم نماز کے بعد تہلیل کرتے اور کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير لا إله إلا اللہ ولا نعبد إلا إياه له النعمة وله الفضل وله الثناء الحسن لا إله إلا اللہ مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، جو تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے سب پر، اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں، نعمت، فضل اور بہترین ثنا اسی کے لیے ہے، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، ہم دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والے ہیں، اگرچہ کافروں کو برا لگے پھر ابن زبیر رضی اللہ عنہم کہتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد انہیں کلمات کے ذریعہ تہلیل کیا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يُهَلِّلُ فِي دُبُرِ الصَّلاَةِ يَقُولُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَلاَ نَعْبُدُ إِلاَّ إِيَّاهُ لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ . ثُمَّ يَقُولُ ابْنُ الزُّبَيْرِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهَلِّلُ بِهِنَّ فِي دُبُرِ الصَّلاَةِ .
#1341
Sahih
Warrad, the scribe of Al-Mughirah bin Shu'bah, said:Muawiyah wrote to Al-Mughirah bin Shu'bah saying: "Tell me of something that you heard from the Messenger of Allah (ﷺ)." He said: "When the Messenger of Allah (ﷺ) finished praying, he would say: La Ilaha Illallah wahdahu la sharika lah, lahul-mulk wa lahul-hamd wa huwa 'ala kulli shay'in qadir. Allahumma la mani' lima a'taita wa la mu'tia lima mana'ta wa la yanfa'u dhal-jaddi minka al-jadd. (There is none worthy of worship except Allah (ﷺ) alone with no partner or associate. He is the Dominion and to Him be all praise, and He is able to do all things. O Allah, one can withhold what You have given and none can give what You have withheld, and no wealth or fortune can benefit anyone for from You comes all wealth and fortune
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے منشی وراد کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ چکتے تو کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير اللہم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور مالدار کی مالداری تیرے عذاب سے بچا نہیں سکتی ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ سَمِعْتُهُ مِنْ، عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ وَسَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، كِلاَهُمَا سَمِعَهُ مِنْ، وَرَّادٍ، كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبِرْنِي بِشَىْءٍ، سَمِعْتَهُ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَضَى الصَّلاَةَ قَالَ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " .
#1342
Sahih
It was narrated that Warrad said:"Al-Mughirah bin Shu'bah wrote to Mu'awiyah (Saying) that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say following every prayer, after the taslim: 'La Ilaha Illallah wahdahu la sharika lah, lahul-mulk wa lahul-hamd wa huwa 'ala kulli shay'in qadir. Allahumma la mani' lima a'taita wa la mu'tia lima mana'ta wa la yanfa'u dhal-jaddi minka al-jadd. (There is none worthy of worship except Allah (ﷺ) alone with no partner or associate. He is the Dominion and to Him be all praise, and He is able to do all things. O Allah, one can withhold what You have given and none can give what You have withheld, and no wealth or fortune can benefit anyone for from You comes all wealth and fortune
وراد کہتے ہیں کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد جب سلام پھیرتے تو کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير اللہم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے سلطنت و حکومت ہے، اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک دے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور نہ مالدار کی مالداری تیرے عذاب سے بچا سکے گی ۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ أَبِي الْعَلاَءِ، عَنْ وَرَّادٍ، قَالَ كَتَبَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ دُبُرَ الصَّلاَةِ إِذَا سَلَّمَ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " .
#1343
Shadh
It was narrated from Warrad that:Mu'awiyah wrote to Al-Mughirah asking him to write him a hadith that he had heard from the Messenger of Allah (ﷺ). Al-Mughirah wrote to him (Saying): "I heard him say, when he finished the prayer: 'La Ilaha Illallah wahdahu la sharika lah, lahul-mulk wa lahul-hamd wa huwa 'ala kulli shay'in qadir (There is none worthy of worship except Allah (ﷺ) alone with no partner or associate. He is the Dominion and to Him be all praise, and He is able to do all things) three times
مغیرہ رضی اللہ عنہ کے منشی وراد سے روایت ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو لکھا: مجھے کوئی حدیث لکھ بھیجو جسے تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام پھیر کر پلٹتے وقت «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے تین بار کہتے سنا ہے۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلُ الْمُجَالِدِيُّ، قَالَ أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْمُغِيرَةُ، وَذَكَرَ، آخَرَ ح وَأَنْبَأَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا غَيْرُ، وَاحِدٍ، مِنْهُمُ الْمُغِيرَةُ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ وَرَّادٍ، كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ، كَتَبَ إِلَى الْمُغِيرَةِ أَنِ اكْتُبْ إِلَىَّ بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَكَتَبَ إِلَيْهِ الْمُغِيرَةُ إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلاَةِ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ " . ثَلاَثَ مَرَّاتٍ .
#1344
Sahih
It was narrated from Aishah that:When the Messenger of Allah (ﷺ) sat in a gathering or prayed, he said some words, and 'Aishah asked him about those words. He said: "If he has spoken some good words (and he says this statement of remembrance), it will be a seal for them to preserve them until the Day of Resurrection, and if he has said something other than that, it (these words) will be an expiation for him: 'Subhanak Allahumma wa bihamdika, astaghfiruka wa atubu ilayk (Glory and praise be to You, O Allah, I seek Your forgiveness and I repent to You)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مجلس میں بیٹھتے یا نماز پڑھتے تو کچھ کلمات کہتے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے ان کلمات کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نے کوئی بھلی بات کی ہو گی تو یہ کلمات اس پر قیامت کے دن تک بطور مہر ہوں گے، اور اگر اس کے علاوہ اس نے کوئی اور بات کی ہو گی تو یہ کلمات اس کے لیے کفارہ ہوں گے، وہ یہ ہیں: «سبحانك اللہم وبحمدك أستغفرك وأتوب إليك» تیری ذات پاک ہے اے اللہ! اور تیری حمد کے ذریعہ سے میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں، اور تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّاغَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، - قَالَ أَبُو سَلَمَةَ وَكَانَ مِنَ الْخَائِفِينَ - عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا جَلَسَ مَجْلِسًا أَوْ صَلَّى تَكَلَّمَ بِكَلِمَاتٍ فَسَأَلَتْهُ عَائِشَةُ عَنِ الْكَلِمَاتِ فَقَالَ " إِنْ تَكَلَّمَ بِخَيْرٍ كَانَ طَابِعًا عَلَيْهِنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنْ تَكَلَّمَ بِغَيْرِ ذَلِكَ كَانَ كَفَّارَةً لَهُ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " .
#1345
Daif Isnaad
Aishah said:"A Jewish woman entered unto me and said: 'The torment of the grave is because of urine.' I said: 'You are lying.' She said: 'No, it is true; we cut our skin and clothes because of it.' The Messenger of Allah (ﷺ) went out to pray and our voices became loud. He said: 'What is this?' So I told him what she had said. He said: 'She spoke the truth.' After that day he never offered any prayer but he said, following the prayer: 'Rabba Jibril wa Mika'il wa Israfil, aiding min harrin-nar wa 'adhabil-qabr (Lord of Jibril, Mika'il and Israfil, grant me refuge from the heat of the Fire and the torment of the grave)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی: پیشاب سے نہ بچنے پر قبر میں عذاب ہوتا ہے تو میں نے کہا: تو جھوٹی ہے، تو اس نے کہا: سچ ہے ایسا ہی ہے، ہم کھال یا کپڑے کو پیشاب لگ جانے پر کاٹ ڈالتے ہیں، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے باہر تشریف لائے، ہماری آواز بلند ہو گئی تھی، آپ نے پوچھا: کیا ماجرا ہے؟ میں نے آپ کو جو اس نے کہا تھا بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سچ کہہ رہی ہے ، چنانچہ اس دن کے بعد سے آپ جو بھی نماز پڑھتے تو نماز کے بعد یہ کلمات ضرور کہتے: «رب جبريل وميكائيل وإسرافيل أعذني من حر النار وعذاب القبر» اے جبرائیل وم یکائیل اور اسرافیل کے رب! مجھے جہنم کی آگ کی تپش، اور قبر کے عذاب سے بچا ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا قُدَامَةُ، عَنْ جَسْرَةَ، قَالَتْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ، - رضى الله عنها - قَالَتْ دَخَلَتْ عَلَىَّ امْرَأَةٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَتْ إِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ . فَقُلْتُ كَذَبْتِ . فَقَالَتْ بَلَى إِنَّا لَنَقْرِضُ مِنْهُ الْجِلْدَ وَالثَّوْبَ . فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الصَّلاَةِ وَقَدِ ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا فَقَالَ " مَا هَذَا " . فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَتْ فَقَالَ " صَدَقَتْ " . فَمَا صَلَّى بَعْدَ يَوْمَئِذٍ صَلاَةً إِلاَّ قَالَ فِي دُبُرِ الصَّلاَةِ " رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ أَعِذْنِي مِنْ حَرِّ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ " .
#1346
Daif Isnaad
It was narrated from 'Ata bin Abi Marwan, from his father, that:Ka'b swore to him: "By Allah (SWT) Who parted the sea for Musa, we find in the Tawrah that when Dawud, the Prophet of Allah, finished his prayer, he would say: 'Allahumma Aslih li dinya-lladhi ja'altahu li ismatan wa aslih li dunyaya-llati ja'alta fiha ma'ashi, Allahumma inni a-udhu biridaka min sakhatik wa a-udhu bi'afwika min naqmatika wa a-udhu bika mink, la mani' lima a'taita wa la mu'tia lima mana'ta wa la yanfa'u dhal-jaddi minka al-jadd (O Allah, set straight my religious commitment that You have made a protection for me, and set straight my worldly affairs which You have made a means of my livelihood. O Allah, I seek refuge in Your pleasure from Your wrath, and I seek refuge in Your forgiveness from Your punishment, and I seek refuge in You from You. None can withhold what you have given and none can give what you have withheld, and no wealth or fortune can avail the man of wealth and fortune before You.)'" He said: "And Ka'b told me that Suhaib told him that Muhammad (ﷺ) used to say (these words) when he had finished praying
ابومروان روایت کرتے ہیں کہ کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے اس اللہ کی قسم کھا کر کہا جس نے موسیٰ کے لیے سمندر پھاڑا کہ ہم لوگ تورات میں پاتے ہیں کہ اللہ کے نبی داود علیہ السلام جب اپنی نماز سے سلام پھیر کر پلٹتے تو کہتی: «اللہم أصلح لي ديني الذي جعلته لي عصمة وأصلح لي دنياى التي جعلت فيها معاشي اللہم إني أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بعفوك من نقمتك وأعوذ بك منك لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» اے اللہ! میرے لیے میرے دین کو درست فرما دے جسے تو نے میرے لیے بچاؤ کا ذریعہ بنایا ہے، اور میرے لیے میری دنیا درست فرما دے جس میں میری روزی ہے، اے اللہ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں، اور تیرے عذاب سے تیرے عفو و درگزر کی پناہ چاہتا ہوں، اور میں تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں، نہیں ہے کوئی روکنے والا اس کو جو تو دیدے، اور نہ ہی ہے کوئی دینے والا اسے جسے تو روک لے، اور نہ مالدار کو اس کی مالداری بچا پائے گی۔ ابومروان کہتے ہیں: اور کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ صہیب رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کو نماز سے سلام پھیر کر پلٹنے پر کہا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ كَعْبًا، حَلَفَ لَهُ بِاللَّهِ الَّذِي فَلَقَ الْبَحْرَ لِمُوسَى إِنَّا لَنَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ أَنَّ دَاوُدَ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلاَتِهِ قَالَ " اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي جَعَلْتَهُ لِي عِصْمَةً وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَاىَ الَّتِي جَعَلْتَ فِيهَا مَعَاشِي اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِعَفْوِكَ مِنْ نِقْمَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ . قَالَ وَحَدَّثَنِي كَعْبٌ أَنَّ صُهَيْبًا حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُهُنَّ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنْ صَلاَتِهِ .
#1347
Sahih Isnaad
It was narrated that Muslim bin Abi Bakrah said:"My father used to say following every prayer: 'Allahumma inni a-udhu bika min al-kufri wal-faqri wa 'adhab al-qabr. ( O Allah, I seek refuge with You from Kufr, poverty, and the torment of the grave)' and I used to say them (these words). My father said: 'O my son, from whom did you learn this?' I said: 'From you. He said: "The Messenger of Allah (ﷺ) used to say them following the prayer
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد ( ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ) نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے: «اللہم إني أعوذ بك من الكفر والفقر وعذاب القبر» اے اللہ میں کفر سے، محتاجی سے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں تو میں بھی انہیں کہا کرتا تھا، تو میرے والد نے کہا: میرے بیٹے! تم نے یہ کس سے یاد کیا ہے؟ میں نے کہا: آپ سے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں نماز کے بعد کہا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ كَانَ أَبِي يَقُولُ فِي دُبُرِ الصَّلاَةِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ فَكُنْتُ أَقُولُهُنَّ فَقَالَ أَبِي أَىْ بُنَىَّ عَمَّنْ أَخَذْتَ هَذَا قُلْتُ عَنْكَ . قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُهُنَّ فِي دُبُرِ الصَّلاَةِ .
#1348
Sahih
It was narrated that Abdullah in 'Umar said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'There are two qualities which no Muslim person attains but he will enter Paradise, and they are easy, but those who do them are few.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The five daily prayers: After each prayer one of you glorifies Allah (SWT) ten times and praises Him ten times and magnifies him ten times, which makes one hundred and fifty on the tongue and one thousand five hundred in the balance.' And I saw the Messenger of Allah (ﷺ) counting them on his hands. 'And when one of you retires to his bed he says the tasbih thirty-three times and the tahmid thirty-three times and the takbir thirty-four times, that is one hundred on the tongue and one thousand in the balance.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: "So which of you does two thousand five hundred bad deeds in a day and a night?" It was said: "O Messenger of Allah (ﷺ), how can a person not persist in doing that?" He said: "The Shaitan comes to one of you when he is praying and says: 'Remember such and such, remember such and such," or he comes to him when he is in bed and makes him fall asleep
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو ایسی خصلتیں ہیں کہ کوئی مسلمان آدمی انہیں اختیار کر لے تو وہ جنت میں داخل ہو گا، یہ دونوں آسان ہیں لیکن ان پر عمل کرنے والے کم ہیں، پانچ نمازیں تم میں سے جو کوئی ہر نماز کے بعد دس بار «سبحان اللہ» دس بار «الحمد لله» اور دس بار «اللہ أكبر» کہے گا، تو وہ زبان سے کہنے کے لحاظ سے ڈیڑھ سو کلمے ہوئے، مگر میزان میں ان کا شمار ڈیڑھ ہزار کلموں کے برابر ہو گا، ( عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں اپنے ہاتھوں ( انگلیوں ) پر شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے ) ، اور جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر سونے کے لیے جائے، اور تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أكبر» کہے، تو وہ زبان پر سو کلمات ہوں گے، مگر میزان ( ترازو ) میں ایک ہزار شمار ہوں گے، تو تم میں سے کون دن و رات میں دو ہزار پانچ سو گناہ کرتا ہے، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہم یہ دونوں تسبیحیں کیوں کر نہیں گن سکتے؟۱؎ تو آپ نے فرمایا: شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے، اور وہ نماز میں ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے: فلاں بات یاد کرو، فلاں بات یاد کرو اور اسی طرح اس کے سونے کے وقت اس کے پاس آتا ہے، اور اسے ( یہ کلمات کہے بغیر ہی ) سلا دیتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَلَّتَانِ لاَ يُحْصِيهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلاَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَهُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ " . قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ يُسَبِّحُ أَحَدُكُمْ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ عَشْرًا وَيَحْمَدُ عَشْرًا وَيُكَبِّرُ عَشْرًا فَهِيَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ فِي اللِّسَانِ وَأَلْفٌ وَخَمْسُمِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ " . وَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْقِدُهُنَّ بِيَدِهِ " وَإِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ أَوْ مَضْجَعِهِ سَبَّحَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَحَمِدَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ فَهِيَ مِائَةٌ عَلَى اللِّسَانِ وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ " . قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَمِائَةِ سَيِّئَةٍ " . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ لاَ نُحْصِيهِمَا فَقَالَ " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ وَهُوَ فِي صَلاَتِهِ فَيَقُولُ اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا وَيَأْتِيهِ عِنْدَ مَنَامِهِ فَيُنِيمُهُ " .
#1349
Sahih
It was narrated that Ka'b bin 'Ujrah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'There are statements of remembrance following the prayer of which the one who says them will never be deprive of the reward: Glorifying Allah (SWT) thirty-three times following each prayer, and praising Him thirty-three times, and magnifying Him thirty-four times
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ ایسے الفاظ ہیں جنہیں ہر نماز کے بعد کہا جاتا ہے ان کا کہنے والا ناکام و نامراد نہیں ہو سکتا، یعنی جو ہر نماز کے بعد تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أکبر» کہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ أَسْبَاطٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مُعَقِّبَاتٌ لاَ يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَيَحْمَدُهُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَيُكَبِّرُهُ أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ " .
#1350
Sahih
It was narrated that Zaid bin Thabit said:"They were commanded to say the tasbih thirty-three times following the prayer, and to say the tahmid thirty-three times, and to say the takbir thirty-four times, then a man from among the Ansar was told in a dream: 'Did the Messenger of Allah (ﷺ) command you to say the tasbih thirty-three times following the prayer, and to say the tahmid thirty-three times, and to say the takbir thirty-four times?' He said: 'Yes.' 'Instead of that, say each one twenty-five times, and include the tahlil among them.' The next morning he came to the Messenger of Allah (ﷺ) and told him about that, and he said: 'Do that
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو حکم دیا گیا کہ وہ ہر نماز کے بعد تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أکبر» کہیں، پھر ایک انصاری شخص سے اس کے خواب میں پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ہر نماز کے بعد تینتیس بار «سبحان اللہ»تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أکبر» کہنے کا حکم دیا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، تو پوچھنے والے نے کہا: تم انہیں پچیس، پچیس بار کر لو، اور باقی پچیس کی جگہ «لا الٰہ إلا اللہ» کہا کرو، تو جب صبح ہوئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے سارا واقعہ بیان کیا، تو آپ نے فرمایا: اسے اسی طرح کر لو ۔
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ حِزَامٍ التِّرْمِذِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنِ ابْنِ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ أُمِرُوا أَنْ يُسَبِّحُوا، دُبُرَ كُلِّ صَلاَةٍ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَيَحْمَدُوا ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَيُكَبِّرُوا أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ فَأُتِيَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فِي مَنَامِهِ فَقِيلَ لَهُ أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُسَبِّحُوا دُبُرَ كُلِّ صَلاَةٍ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَتَحْمَدُوا ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَتُكَبِّرُوا أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ قَالَ نَعَمْ . قَالَ فَاجْعَلُوهَا خَمْسًا وَعِشْرِينَ وَاجْعَلُوا فِيهَا التَّهْلِيلَ فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " اجْعَلُوهَا كَذَلِكَ " .