#826
Sahih
It was narrated that 'Abdullah bin 'Umar said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to enjoin upon us to make the prayer short, but he would lead us in prayer and recite As-Saffat
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہلکی نماز پڑھانے کا حکم دیتے، اور آپ ہماری امامت سورۃ الصافات سے کرتے تھے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُ بِالتَّخْفِيفِ وَيَؤُمُّنَا بِالصَّافَّاتِ .
#827
Sahih
It was narrated that Abu Qatadah said:"I saw the Messenger of Allah (ﷺ)leading the people in prayer, carrying Umamah bint Abi Al-As on his shoulder. When he bowed he put her down and when he stood up from prostration he picked her up again
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی امامت کرتے ہوئے دیکھا، آپ ( اپنی نواسی ) امامہ بنت ابی العاص رضی اللہ عنہا کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ رکوع میں جاتے تو اسے اتار دیتے، اور جب سجدہ سے اٹھتے تو اسے دوبارہ اٹھا لیتے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَؤُمُّ النَّاسَ وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ عَلَى عَاتِقِهِ فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا وَإِذَا رَفَعَ مِنْ سُجُودِهِ أَعَادَهَا .
#828
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"Muhammad (ﷺ) said: 'Does the one who raises his head before the Imam not fear that Allah may turn his head into the head of a donkey?
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا سر امام سے پہلے اٹھا لیتا ہے کیا وہ ( اس بات سے ) نہیں ڈرتا کہ ۱؎ اللہ اس کا سر گدھے کے سر میں تبدیل نہ کر دے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ يَخْشَى الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ " .
#829
Sahih
It was narrated that Abu Ishaq said:"I heard 'Abdullah bin Yazid delivering a Khutbah. He said: 'Al-Bara, who was no liar,told us that when they prayed with the Messenger of Allah (ﷺ) would raise his head from bowing and they would remain standing until they saw him prostrate, then they would prostrate
براء رضی اللہ عنہ (جو جھوٹے نہ تھے ۱؎) سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، اور آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو وہ سیدھے کھڑے رہتے یہاں تک کہ وہ دیکھ لیتے کہ آپ سجدہ میں جا چکے ہیں، پھر وہ سجدہ میں جاتے۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ، يَخْطُبُ قَالَ حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ، وَكَانَ، غَيْرَ كَذُوبٍ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا صَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامُوا قِيَامًا حَتَّى يَرَوْهُ سَاجِدًا ثُمَّ سَجَدُوا .
#830
Sahih
It was narrated that Hittan bin 'Abdullah said:"Abu Musa led us in prayer and when he was sitting, a man from among the people entered and said: 'Prayer is based on righteousness and is always mentioned alongside Zakah (in the Qur'an).' When Abu Musa had said the Salam, he turned to the people and said: 'Which of you spoke these words?' The people kept quiet. Then he said: 'O Hittan, perhaps you said it?' He said: 'No, but I was afraid that you would rebuke me for it.' He said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) taught us our prayer and Sunnah prayers, and he said: The Imam is appointed to be followed, so when he says the Takbir, say the Takbir; when he says "Not (the way) of those who earned Your Anger, nor of those who went astray," say Amin, and Allah will respond to you; when he rises up from bowing and says, 'Sami' Allalhu liman hamidah (Allah hears those who praise Him), say 'Rabbana lakal-hamd (Our Lord, to You be praise),' and Allah will hear you; when he prostrates, prostrate, and when he sits up, sit up. The Imam should prostrate before you do and sit up before you do.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'This makes up for that
حطان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی تو جب وہ قعدہ میں گئے تو قوم کا ایک آدمی اندر آیا اور کہنے لگا کہ نماز نیکی اور زکاۃ کے ساتھ ملا دی گئی ہے ۱؎، تو جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سلام پھیر کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے یہ بات کہی ہے؟ تو سبھی لوگ خاموش رہے کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، تو انہوں نے کہا: اے حطان! شاید تم نے ہی یہ بات کہی ہے! تو انہوں نے کہا: نہیں میں نے نہیں کہی ہے، اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ مجھ ہی کو اس پر سرزنش نہ کرنے لگ جائیں، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ہماری نماز اور ہمارے طریقے سکھاتے تھے، تو آپ فرماتے: امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب وہ «غير المغضوب عليهم ولا الضالين»کہے تو تم لوگ آمین کہو، تو اللہ تعالیٰ تمہاری ( دعا ) قبول فرمائے گا، اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ ( رکوع ) سے سر اٹھائے اور «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم «ربنا لك الحمد» کہو، تو اللہ تعالیٰ تمہاری سنے گا، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور جب وہ سجدہ سے سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرتا ہے، اور تم سے پہلے سر بھی اٹھاتا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ادھر کی کسر ادھر پوری ہو جائے گی ۔
أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى فَلَمَّا كَانَ فِي الْقَعْدَةِ دَخَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ أُقِرَّتِ الصَّلاَةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ . فَلَمَّا سَلَّمَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ أَيُّكُمُ الْقَائِلُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ . قَالَ يَا حِطَّانُ لَعَلَّكَ قُلْتَهَا قَالَ لاَ وَقَدْ خَشِيتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُعَلِّمُنَا صَلاَتَنَا وَسُنَّتَنَا فَقَالَ " إِنَّمَا الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ { غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ } فَقُولُوا آمِينَ يُجِبْكُمُ اللَّهُ وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعِ اللَّهُ لَكُمْ وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا فَإِنَّ الإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَتِلْكَ بِتِلْكَ " .
#831
Sahih
It was narrated that Jabir said:"A man from the Ansar came when the Iqamah for prayer had been said. He entered the Masjid and prayed behind Muadh, and he(Muadh) made the prayer lengthy. The man went away and prayed in a comer of the Masjid, then he left. When Muadh finished praying, it was said to him that so-and-so had done such and such. Muadh said: 'Tomorrow I will mention that to the Messenger of Allah (ﷺ).' So Muadh came to the Messenger of Allah (ﷺ) and told him about that. The Messenger of Allah (ﷺ) sent for him and asked him: 'What made you do what you did? He said: '0 Messenger of Allah (ﷺ), I had been working with my camel to bring water all day, and when I came the Iqamah for prayer had already been said, so I entered the Masjid and joined him in the prayer, then he recited such and such a Surah and made it lengthy, so I went away and prayed in a comer of the Masjid.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Do you want to cause hardship to the people, 0 Muadh do you want to cause hardship to the people, 0 Muadh do you want to cause hardship to the people, 0 Muadh?
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کا ایک شخص آیا اور نماز کھڑی ہو چکی تھی تو وہ مسجد میں داخل ہوا، اور جا کر معاذ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھنے لگا، انہوں نے رکعت لمبی کر دی، تو وہ شخص ( نماز توڑ کر ) الگ ہو گیا، اور مسجد کے ایک گوشے میں جا کر ( تنہا ) نماز پڑھ لی، پھر چلا گیا، جب معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز پوری کر لی تو ان سے کہا گیا کہ فلاں شخص نے ایسا ایسا کیا ہے، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نے صبح کر لی تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور بیان کروں گا ؛ چنانچہ معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلا بھیجا، وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کس چیز نے ایسا کرنے پر ابھارا؟ تو اس نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں نے دن بھر ( کھیت کی ) سینچائی کی تھی، میں آیا، تو جماعت کھڑی ہو چکی تھی، تو میں مسجد میں داخل ہوا، اور ان کے ساتھ نماز میں شامل ہو گیا، انہوں نے فلاں فلاں سورت پڑھنی شروع کر دی، اور ( قرآت ) لمبی کر دی، تو میں نے نماز توڑ کر جا کر الگ ایک کونے میں نماز پڑھ لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو؟ معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو؟ معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو؟ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، وَأَبِي، صَالِحٍ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى خَلْفَ مُعَاذٍ فَطَوَّلَ بِهِمْ فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ فَصَلَّى فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَمَّا قَضَى مُعَاذٌ الصَّلاَةَ قِيلَ لَهُ إِنَّ فُلاَنًا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا . فَقَالَ مُعَاذٌ لَئِنْ أَصْبَحْتُ لأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَأَتَى مُعَاذٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَيْهِ فَقَالَ " مَا حَمَلَكَ عَلَى الَّذِي صَنَعْتَ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَمِلْتُ عَلَى نَاضِحِي مِنَ النَّهَارِ فَجِئْتُ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَدَخَلْتُ مَعَهُ فِي الصَّلاَةِ فَقَرَأَ سُورَةَ كَذَا وَكَذَا فَطَوَّلَ فَانْصَرَفْتُ فَصَلَّيْتُ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ " .
#832
Sahih
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) rode a horse and fell from it, and sustained an injury on his right side. He led one of the prayers sitting, and we prayed behind him sitting. When he had finished he said:"The Imam is appointed to be followed. If he prays standing then pray standing; when he bows, bow; when he says, Sami' Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him), say 'Rabbana lakalhamd (Our Lord, to You be praise); and if he prays sitting then pray sitting, all of you
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار ہوئے تو آپ اس سے گر گئے اور آپ کے داہنے پہلو میں خراش آ گئی، تو آپ نے کچھ نمازیں بیٹھ کر پڑھیں، ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ سلام پھیر کر پلٹے تو فرمایا: امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو، اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم«ربنا لك الحمد» کہو، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ فَصَلَّى صَلاَةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ " .
#833
Sahih
It was narrated that Aisha said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) became seriously ill, Bilal came to tell him it was time to pray and he said: 'Tell Abu Bakr to lead the people in prayer."' She said: "I said: '0 Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr is a tender-hearted man, and when he stands in your place he will not be able to make the people hear his voice; why don't you tell 'Umar (to do it)?' He said: 'Tell a Abu Bakr to lead the people in the prayer.' I said to Hafsah: 'Tell him.' So she told him. He said: 'You are (like) the female companions of Yosuf. Tell Abu Bakr lead the people in prayer."' She said: "So they told Abu Bakr. When he started to pray, the Messenger of Allah (ﷺ) began to feel better, so he got up and came with the help of two men, with his feet dragging along the ground. (When) he entered the Masjid, Abu Bakr heard him coming and he wanted to step back, but the Messenger of Allah (ﷺ) gestured to him: 'Stay where you are.' Then the Messenger of Allah (ﷺ) came and sat on Abu Bakr's left, so the Messenger of Allah (ﷺ) was leading the people in prayer sitting, and Abu Bakr was standing and following the Messenger of Allah (ﷺ) and the people were following the prayer of Abu Bakr, may Allah be pleased with him
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری بڑھ گئی، بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کی خبر دینے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوبکر نرم دل آدمی ہیں، وہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو ( قرآن ) نہیں سنا سکیں گے ۱؎ اگر آپ عمر کو حکم دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو صلاۃ پڑھائیں ، تو میں نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو، تو حفصہ نے ( بھی ) آپ سے کہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یوسف علیہ السلام کی ساتھ والیاں ہو ۲؎، ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، ( بالآخر ) لوگوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، تو جب انہوں نے نماز شروع کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا، تو آپ اٹھے اور دو آدمیوں کے سہارے چل کر نماز میں آئے، آپ کے دونوں پاؤں زمین سے گھسٹ رہے تھے، جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کے آنے کی آہٹ محسوس کی، اور وہ پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ جس طرح ہو اسی طرح کھڑے رہو ، ام المؤمنین کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے تھے، ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتداء کر رہے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَ بِلاَلٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلاَةِ فَقَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى يَقُومُ فِي مَقَامِكَ لاَ يُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ . فَقَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ فَقَالَتْ لَهُ . فَقَالَ " إِنَّكُنَّ لأَنْتُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . قَالَتْ فَأَمَرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً - قَالَتْ - فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلاَهُ تَخُطَّانِ فِي الأَرْضِ فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ فَذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ قُمْ كَمَا أَنْتَ قَالَتْ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى قَامَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ جَالِسًا فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِالنَّاسِ جَالِسًا وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمًا يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ يَقْتَدُونَ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ رضى الله عنه .
#834
Sahih
It was narrated that 'Ubaidullah bin 'Abdullah said:"I entered upon Aisha and said: 'Will you not tell me about the sickness of the Messenger of Allah (ﷺ)?' She said: 'When the Messenger of Allah (ﷺ), became seriously ill, he said: "Have the people prayed?" We said: "No, they are waiting for you, 0 Messenger of Allah (ﷺ)" He said: "Put some water in a tub for me." We did that and he performed Ghusl, then he tried to get up but he fainted. Then he came to us and said: "Have the people prayed?" We said: "No, they are waiting for you, 0 Messenger of Allah (ﷺ)." He said: "Put some water in a tub for me." We did that and he performed Ghusl, then he tried to get up but he fainted. Then for the third time he said the same thing. She said: The people were in the Masjid, waiting for the Messenger of Allah (ﷺ) to lead the prayer. The Messenger of Allah (ﷺ) sent word to Abu Bakr, telling him to lead the people in prayer, so the messenger came to him and said: "The Messenger of Allah (ﷺ) is telling you to lead the people in prayer." Abu Bakr was a tenderhearted man, he said: "0 'Umar. lead the in prayer." But ('Umar) said: "You have more right to that." So Abu Bakr led them in prayer during those days. When the Messenger of Allah (ﷺ) felt a little better, he came with the help of two men, one of whom was Al-'Abbas, to pray Zuhr. When Abu Bakr saw him, he wanted to step back, but the Messenger of Allah (ﷺ) gestured to him not to step back. He told them (the two men) to seat him beside Abu Bakr, and Abu Bakr started to pray standing. The people were following the prayer of Abu Bakr and the Messenger of Allah (ﷺ) was praying sitting."' "I ('Ubaidullah) entered upon Ibn Abbas and said 'Shall I not tell you what Aisha narrated to me about the sickness of the Messenger of Allah (ﷺ)?' He said: 'Yes.' So I told him and he did not deny any of it, but he said: 'Did she tell you the name of the man who was with Al-'Abbas?' I said: 'No.' He said: 'That was Ali, may Allah honor his face
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، اور میں نے ان سے کہا: کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت کا حال نہیں بتائیں گی؟ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی شدت بڑھ گئی، تو آپ نے پوچھا: کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ تو ہم نے عرض کیا: نہیں، اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے ٹب میں پانی رکھو ؛ چنانچہ ہم نے رکھا، تو آپ نے غسل کیا، پھر اٹھنے چلے تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ تو ہم نے عرض کیا: نہیں، اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے ٹب میں پانی رکھو ؛ چنانچہ ہم نے رکھا، تو آپ نے غسل کیا، پھر آپ اٹھنے چلے تو پھر بیہوش ہو گئے، پھر تیسری بار بھی آپ نے ایسا ہی فرمایا، لوگ مسجد میں جمع تھے، اور عشاء کی نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہلوا بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو قاصد ان کے پاس آیا، اور اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل آدمی تھے، تو انہوں نے ( عمر رضی اللہ عنہ سے ) کہا: عمر! تم لوگوں کو نماز پڑھا دو، تو انہوں نے کہا: آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں؛ چنانچہ ان ایام میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اندر ہلکا پن محسوس کیا، تو دو آدمیوں کے سہارے ( ان دونوں میں سے ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے ) نماز ظہر کے لیے آئے، تو جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ وہ پیچھے نہ ہٹیں، اور ان دونوں کو حکم دیا کہ وہ آپ کو ان کے بغل میں بٹھا دیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھا رہے تھے، لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صلاۃ کی اقتداء کر رہے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے۔ ( عبیداللہ کہتے ہیں ) میں ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس آیا، اور میں نے ان سے کہا: کیا میں آپ سے وہ چیزیں بیان نہ کر دوں جو مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے متعلق بیان کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں! ضرور بیان کرو، تو میں نے ان سے سارا واقعہ بیان کیا، تو انہوں نے اس میں سے کسی بھی چیز کا انکار نہیں کیا، البتہ اتنا پوچھا: کیا انہوں نے اس شخص کا نام لیا جو عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے؟ میں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے کہا: وہ علی ( کرم اللہ وجہہ ) تھے۔
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ أَلاَ تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَصَلَّى النَّاسُ " . فَقُلْنَا لاَ وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ " . فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ " أَصَلَّى النَّاسُ " . قُلْنَا لاَ هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ " . فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ مِثْلَ قَوْلِهِ قَالَتْ وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِصَلاَةِ الْعِشَاءِ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أَبِي بَكْرٍ " أَنْ صَلِّ بِالنَّاسِ " . فَجَاءَهُ الرَّسُولُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلاً رَقِيقًا فَقَالَ يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ . فَقَالَ أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ . فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الأَيَّامَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَجَاءَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلاَةِ الظُّهْرِ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ لاَ يَتَأَخَّرَ وَأَمَرَهُمَا فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِهِ فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي قَاعِدًا . فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَلاَ أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ . فَحَدَّثْتُهُ فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ لاَ . قَالَ هُوَ عَلِيٌّ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ .
#835
Sahih
It was narrated that 'Amr said:"I heard Jabir bin 'Abdullah say: 'Mu'adh used to pray with the Prophet (ﷺ) then he would go back to his people to lead them in a prayer. He stayed late one night and prayed with the Prophet (ﷺ) then he went back to his people to lead them in prayer, and he recited Surat Al-Baqarah. When a man from his people heard that, he stepped aside and prayed (on his own), then he left. They said: 'You have become a hypocrite, 0 so and-so!' He said: 'By Allah, I have not become a hypocrite, and I will go to the Prophet (ﷺ) and tell him (about that),' So he went to the Prophet and said: '0 Messenger of Allah(ﷺ), Muadh prays with you, then he comes to lead us in prayer. You delayed the prayer, and he prayed with you then he came back to lead us in prayer, and he started to recite Shut Al-Baqarah. When I heard that, I stepped aside and prayed by myself, because we are people who bring water with the camels and we work hard.' The Prophet (ﷺ) said to him: '0 Muadh, do you want to cause hardship to the people? Recite such and such a Surah, and such and such a Surah
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر اپنی قوم میں واپس جا کر ان کی امامت کرتے، ایک رات انہوں نے نماز لمبی کر دی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انہوں نے نماز پڑھی، پھر وہ اپنی قوم کے پاس آ کر ان کی امامت کرنے لگے، تو انہوں نے سورۃ البقرہ کی قرآت شروع کر دی، جب مقتدیوں میں سے ایک شخص نے قرآت سنی تو نماز توڑ کر پیچھے جا کر الگ سے نماز پڑھ لی، پھر وہ ( مسجد سے ) نکل گیا، تو لوگوں نے پوچھا، فلاں! تو منافق ہو گیا ہے؟ تو اس نے کہا: اللہ کی قسم میں نے منافقت نہیں کی ہے، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا، اور آپ کو اس سے باخبر کروں گا ؛ چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، پھر ہمارے پاس آتے ہیں، اور ہماری امامت کرتے ہیں، پچھلی رات انہوں نے نماز بڑی لمبی کر دی، انہوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر واپس آ کر انہوں نے ہماری امامت کی، تو سورۃ البقرہ پڑھنا شروع کر دی، جب میں نے ان کی قرآت سنی تو پیچھے جا کر میں نے ( تنہا ) نماز پڑھ لی، ہم پانی ڈھونے والے لوگ ہیں، دن بھر اپنے ہاتھوں سے کام کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو تم ( نماز میں ) فلاں، فلاں سورت پڑھا کرو ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ يَؤُمُّهُمْ فَأَخَّرَ ذَاتَ لَيْلَةٍ الصَّلاَةَ وَصَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ رَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ يَؤُمُّهُمْ فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَلَمَّا سَمِعَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ تَأَخَّرَ فَصَلَّى ثُمَّ خَرَجَ فَقَالُوا نَافَقْتَ يَا فُلاَنُ . فَقَالَ وَاللَّهِ مَا نَافَقْتُ وَلآتِيَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأُخْبِرُهُ . فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ ثُمَّ يَأْتِينَا فَيَؤُمُّنَا وَإِنَّكَ أَخَّرْتَ الصَّلاَةَ الْبَارِحَةَ فَصَلَّى مَعَكَ ثُمَّ رَجَعَ فَأَمَّنَا فَاسْتَفْتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَلَمَّا سَمِعْتُ ذَلِكَ تَأَخَّرْتُ فَصَلَّيْتُ وَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ أَنْتَ اقْرَأْ بِسُورَةِ كَذَا وَسُورَةِ كَذَا " .
#836
Sahih
It was narrated from Abu Bakr that the Prophet (ﷺ) offered the fear prayer (Salat Al-Khauf). He led those who were behind him in two Rak'ah and those who came (after them) in two Rak'ah, so the Prophet (ﷺ) prayed four Rak'ahs and each group prayed two
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کی نماز پڑھائی، تو اپنے پیچھے والوں کو دو رکعت پڑھائی، ( پھر وہ چلے گئے ) اور جو ان کی جگہ آئے انہیں بھی دو رکعت پڑھائی، تو اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہوئیں، اور لوگوں کی دو دو رکعتیں ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ صَلَّى صَلاَةَ الْخَوْفِ فَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَتَيْنِ وَبِالَّذِينَ جَاءُوا رَكْعَتَيْنِ فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعًا وَلِهَؤُلاَءِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ .
#837
Sahih
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Praying in congregation is twenty-seven times better than praying alone
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز تنہا نماز پر ستائیس درجہ فضیلت رکھتی ہے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " صَلاَةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ عَلَى صَلاَةِ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً " .
#838
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Praying in congregation is twenty-five portions better than one of you praying alone
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز تم میں سے کسی کی تنہا نماز سے پچیس گنا افضل ہے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " صَلاَةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلاَةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ جُزْءًا " .
#839
Sahih Isnaad
It was narrated from that the Prophet (ﷺ) said:"Prayer in congregation is twenty-five levels better than a prayer offered on one's own
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز تنہا نماز سے پچیس درجہ بڑھی ہوتی ہے ۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " صَلاَةُ الْجَمَاعَةِ تَزِيدُ عَلَى صَلاَةِ الْفَذِّ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً " .
#840
Sahih
It was narrated that Abu Sa'eed said:"The Messenger of Allah (ﷺ)said: 'If there are three people, let one of them lead the others in prayer, and the one who has the most right to lead the prayer is the one who recites (knows) the most (Qur'an)
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تین آدمی ہوں تو ان میں سے ایک ان کی امامت کرے، اور امامت کا زیادہ حقدار ان میں وہ ہے جسے قرآن زیادہ یاد ہو ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا كَانُوا ثَلاَثَةً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ وَأَحَقُّهُمْ بِالإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ " .
#841
Sahih
Ibn 'Abbas said:"I prayed beside the Prophet (ﷺ) and Aisha was behind us praying with us, and I was beside the Prophet (ﷺ) praying with him
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں نماز پڑھی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہمارے ساتھ ہمارے پیچھے نماز پڑھ رہیں تھیں، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، أَنَّ قَزَعَةَ، مَوْلًى لِعَبْدِ الْقَيْسِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عِكْرِمَةَ، قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَائِشَةُ خَلْفَنَا تُصَلِّي مَعَنَا وَأَنَا إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أُصَلِّي مَعَهُ .
#842
Sahih
It was narrated that Ibn Abbas said:"I prayed with the Messenger of Allah (ﷺ)and I stood on his left. He took hold of me with his left hand and made me stand on his right
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو میں آپ کے بائیں کھڑا ہوا، تو آپ نے مجھے اپنے بائیں ہاتھ سے پکڑا، اور ( پیچھے سے لا کر ) اپنے دائیں کھڑا کر لیا۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي بِيَدِهِ الْيُسْرَى فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ .
#843
Hasan
Ubay bin Ka'b said:"One day the Messenger of Allah (ﷺ) prayed Fajr, then he said: 'Did so-and-so attend the prayer? They said: 'No.' He said: '(What about) so-and-so? They said:'No' He said: 'These two prayers. are the most burdensome for the hypocrites. If they knew what (virtue) there is in them, they would come, even if they had to crawl. And the virtue of the first row is like that of the row of the angels. If you knew its virtue, you would compete for it. A man's prayer with another man is greater in reward than his prayer alone. And a man's prayer with two other men is greater in reward than his prayer with one other man; the more people there are, the more beloved that is to Allah, the Mighty and Sublime
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا فلاں نماز میں موجود ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور فلاں؟ لوگوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دونوں نمازیں ( عشاء اور فجر ) منافقین پر سب سے بھاری ہیں، اگر لوگ جان لیں کہ ان دونوں نمازوں میں کیا اجر و ثواب ہے، تو وہ ان دونوں میں ضرور آئیں خواہ چوتڑوں کے بل انہیں گھسٹ کر آنا پڑے، اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے، اگر تم اس کی فضیلت جان لو تو تم اس میں شرکت کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو گے، کسی آدمی کا کسی آدمی کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے سے بہتر ہے ۱؎، اور ایک شخص کا دو آدمیوں کے ساتھ نماز پڑھنا اس کے ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور لوگ جتنا زیادہ ہوں گے اتنا ہی وہ نماز اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہو گی ۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، - قَالَ شُعْبَةُ وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ، وَمِنْ أَبِيهِ - قَالَ سَمِعْتُ أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ، يَقُولُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا صَلاَةَ الصُّبْحِ فَقَالَ " أَشَهِدَ فُلاَنٌ الصَّلاَةَ " . قَالُوا لاَ . قَالَ " فَفُلاَنٌ " . قَالُوا لاَ . قَالَ " إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلاَتَيْنِ مِنْ أَثْقَلِ الصَّلاَةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا وَالصَّفُّ الأَوَّلُ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلاَئِكَةِ وَلَوْ تَعْلَمُونَ فَضِيلَتَهُ لاَبْتَدَرْتُمُوهُ وَصَلاَةُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلِ أَزْكَى مِنْ صَلاَتِهِ وَحْدَهُ وَصَلاَةُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلاَتِهِ مَعَ الرَّجُلِ وَمَا كَانُوا أَكْثَرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
#844
Sahih
It was narrated from 'Itban bin Malik that he said:"0 Messenger of Allah (ﷺ) the floods keep me from coming to the Masjid of my people. I would like you to come and pray in a place in my house so that I can take it as a Masjid." The Messenger of Allah (ﷺ) said: "We shall do that." "When the Messenger of Allah (ﷺ) entered he said: 'Where do you want (me to pray).' I showed him a comer of the house, and the Messenger of Allah (ﷺ) stood there, and we formed rows behind him, and he led us in praying two Rak'ahs
عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے اور میرے قبیلہ کی مسجد کے درمیان ( برسات میں ) سیلاب حائل ہو جاتا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے گھر تشریف لاتے، اور میرے گھر میں ایک جگہ نماز پڑھ دیتے جسے میں مصلیٰ بنا لیتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا ہم آئیں گے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے پوچھا: تم کہاں چاہتے ہو؟ تو میں نے گھر کے ایک گوشہ کی جانب اشارہ کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور ہم نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، پھر آپ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی ۱؎۔
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودٍ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ السُّيُولَ لَتَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَسْجِدِ قَوْمِي فَأُحِبُّ أَنْ تَأْتِيَنِي فَتُصَلِّيَ فِي مَكَانٍ مِنْ بَيْتِي أَتَّخِذُهُ مَسْجِدًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سَنَفْعَلُ " . فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَيْنَ تُرِيدُ " . فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ .
#845
Sahih
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) turned to face us when he stood up to pray, before he said Takbir, and said: 'Make your rows straight and fill the gaps, for I can see you from behind my back
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہنے سے پہلے آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی صفوں کو درست کر لیا کرو، اور باہم مل کر کھڑے ہوا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ۱؎۔
أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِوَجْهِهِ حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَقَالَ " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي " .
#846
Sahih
It was narrated from 'Abdullah bin Abi Qatadah that his father said:"We were with the Messenger of Allah (ﷺ) when some of the people said: 'Why do you not stop with us to rest awhile, 0 Messenger of Allah (ﷺ)?' He said: 'I am afraid that you will sleep and miss the prayer.' Bilal said:'I will wake you up.' So they lay down and slept, and Bilal leaned back on his mount. Then the Messenger of Allah (ﷺ) woke up when the sun had already started to rise, and he said: '0 Bilal, what about what you told us?' He said: 'I have never slept like that before.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Allah, the Mighty and Sublime, takes your souls when He wills and sends them back when He wills.' Stand up 0 Bilal and call the people to prayer.' Then Bilal stood up and & called the Adhan, and they performed Wudu' - that is, when the sun had risen (fully) - "then he stood and lead them in prayer
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ( سفر میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ لوگ کہنے لگے: اللہ کے رسول! کاش آپ آرام کے لیے پڑاؤ ڈالتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ تم کہیں نماز سے سو نہ جاؤ ، اس پر بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ سب کی نگرانی کروں گا، چنانچہ سب لوگ لیٹے، اور سب سو گئے، بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی پیٹھ اپنی سواری سے ٹیک لی، ( اور وہ بھی سو گئے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو سورج نکل چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: بلال! کہاں گئی وہ بات جو تم نے کہی تھی؟ بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: مجھ پر ایسی نیند جیسی اس بار ہوئی کبھی طاری نہیں ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے تمہاری روحیں قبض کر لیتا ہے، اور جب چاہتا ہے اسے لوٹا دیتا ہے، بلال اٹھو! اور لوگوں میں نماز کا اعلان کرو ؛ چنانچہ بلال کھڑے ہوئے، اور انہوں نے اذان دی، پھر لوگوں نے وضو کیا، اس وقت سورج بلند ہو چکا تھا، تو آپ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو زُبَيْدٍ، - وَاسْمُهُ عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ - عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا عَنِ الصَّلاَةِ " . قَالَ بِلاَلٌ أَنَا أَحْفَظُكُمْ . فَاضْطَجَعُوا فَنَامُوا وَأَسْنَدَ بِلاَلٌ ظَهْرَهُ إِلَى رَاحِلَتِهِ فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَقَالَ " يَا بِلاَلُ أَيْنَ مَا قُلْتَ " . قَالَ مَا أُلْقِيَتْ عَلَىَّ نَوْمَةٌ مِثْلُهَا قَطُّ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ فَرَدَّهَا حِينَ شَاءَ قُمْ يَا بِلاَلُ فَآذِنِ النَّاسَ بِالصَّلاَةِ " . فَقَامَ بِلاَلٌ فَأَذَّنَ فَتَوَضَّئُوا - يَعْنِي حِينَ ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ - ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِهِمْ .
#847
Hasan
It was narrated that Ma'din bin Abi Talhah Al-Ya'muri said:"Abu Ad-Darda said to me: 'Where do you live?' I said: 'In a town near Hims.' Abu Ad-Darda said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "There are no three people in a town or encampment among whom prayer is not established, but the Shaitan takes control of them. Therefore, stick to the congregation, for the wolf eats the sheep that strays off on its own." (One of the narrators (As Sa'ib) said: "The congregation means the congregational prayer
معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ مجھ سے ابودرداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہارا گھر کہاں ہے؟ میں نے کہا: حمص کے دُوَین نامی بستی میں، اس پر ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جب کسی بستی یا بادیہ میں تین افراد موجود ہوں، اور اس میں نماز نہ قائم کی جاتی ہوتی ہو تو ان پر شیطان مسلط ہو جاتا ہے، لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ بھیڑ یا ریوڑ سے الگ ہونے والی بکری ہی کو کھاتا ہے ۔ سائب کہتے ہیں: جماعت سے مراد نماز کی جماعت ہے۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ الْكَلاَعِيُّ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ، قَالَ قَالَ لِي أَبُو الدَّرْدَاءِ أَيْنَ مَسْكَنُكَ قُلْتُ فِي قَرْيَةٍ دُوَيْنَ حِمْصَ . فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنْ ثَلاَثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلاَ بَدْوٍ لاَ تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلاَةُ إِلاَّ قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ " . قَالَ السَّائِبُ يَعْنِي بِالْجَمَاعَةِ الْجَمَاعَةَ فِي الصَّلاَةِ .
#848
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"By the One in Whose Hand is my soul! I nearly ordered that firewood be gathered to be lit, then I would have ordered that the Adhan be called for prayer, and ordered a man to lead the people in prayer, then I would have gone from behind to those men and burned their houses down over them. By the One in Whose Hand is my soul! If any one of them knew that he would get a meaty bone or some meat in between two ribs, he would attend Isha
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ارادہ کیا کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں، تو وہ جمع کی جائے، پھر میں حکم دوں کہ نماز کے لیے اذان کہی جائے، پھر ایک شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کی امامت کرے، پھر میں لوگوں کے پاس جاؤں اور ان کے سمیت ان کے گھروں میں آگ لگا دوں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر ان میں سے کوئی یہ جانتا کہ اسے ( مسجد میں ) ایک موٹی ہڈی یا دو اچھے کھر ملیں گے تو وہ عشاء کی نماز میں ضرور حاضر ہوتا ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلاَةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا ثُمَّ آمُرَ رَجُلاً فَيَؤُمَّ النَّاسَ ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا أَوْ مَرْمَاتَيْنِ حَسْنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ " .
#849
Sahih
It was narrated that 'Abdullah said:"Whoever would like to meet Allah tomorrow as a Muslim, let him regularly attend these five (daily) prayers whenever the call for them is given (that in the mosques), for Allah prescribed for His Prophet the ways of guidance, and they (the prayers) are part of those ways of guidance. I do not think that there is anyone among you who does not have a place where he prays in his house. But if you were to pray in your houses and forsake the Masjids, you would be forsaking the Sunnah of your Prophet, and if you were to forsake the Sunnah of your Prophet you would go astray. There is no Muslim slave who performs Wudu and does it well, then walks to the prayer, but Allah will record one Hasanah (good deed) for each step he takes, or raise' him one level by it or erase one sin from him. I remember how we used to take short steps, and I remember (a time) when no one stayed behind from the prayer except a hypocrite whose hypocrisy was well known. And I have seen a man coming Supported by two others until he would be made to stand in the row
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ جس شخص کو اس بات کی خوشی ہو کہ وہ کل قیامت کے دن اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے کہ وہ مسلمان ہو، تو وہ ان پانچوں نمازوں کی محافظت کرے ۱؎، جب ان کی اذان دی جائے، کیونکہ اللہ عزوجل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے راستے مقرر کر دئیے ہیں، اور یہ نمازیں ہدایت کے راستوں میں سے ایک راستہ ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ تم میں کوئی بھی ایسا نہ ہو گا جس کی ایک مسجد اس کے گھر میں نہ ہو جس میں وہ نماز پڑھتا ہو، اگر تم اپنے گھروں ہی میں نماز پڑھو گے اور اپنی مسجدوں کو چھوڑ دو گے تو تم اپنے نبی کا طریقہ چھوڑ دو گے، اور اگر تم اپنے نبی کا طریقہ چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے، اور جو مسلمان بندہ اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر نماز کے لیے ( اپنے گھر سے ) چلتا ہے، تو اللہ تعالیٰ ہر قدم کے عوض جسے وہ اٹھاتا ہے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے، یا اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے، یا اس کے عوض اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے، میں نے اپنے لوگوں ( صحابہ کرام ) کو دیکھا ہے جب ہم نماز کو جاتے تو قریب قریب قدم رکھتے، ( تاکہ نیکیاں زیادہ ملیں ) اور میں نے دیکھا کہ نماز سے وہی پیچھے رہتا جو منافق ہوتا، اور جس کا منافق ہونا لوگوں کو معلوم ہوتا، اور میں نے ( عہدرسالت میں ) دیکھا کہ آدمی کو دو آدمیوں کے درمیان سہارا دے کر ( مسجد ) لایا جاتا یہاں تک کہ لا کر صف میں کھڑا کر دیا جاتا۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلاَءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَرَعَ لِنَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم سُنَنَ الْهُدَى وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى وَإِنِّي لاَ أَحْسَبُ مِنْكُمْ أَحَدًا إِلاَّ لَهُ مَسْجِدٌ يُصَلِّي فِيهِ فِي بَيْتِهِ فَلَوْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَتَرَكْتُمْ مَسَاجِدَكُمْ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ وَمَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَمْشِي إِلَى صَلاَةٍ إِلاَّ كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً أَوْ يَرْفَعُ لَهُ بِهَا دَرَجَةً أَوْ يُكَفِّرُ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نُقَارِبُ بَيْنَ الْخُطَا وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلاَّ مُنَافِقٌ مَعْلُومٌ نِفَاقُهُ وَلَقَدْ رَأَيْتُ الرَّجُلَ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ .
#850
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"A blind man came to the Messenger of Allah (ﷺ)and said: 'I do not have a guide to bring me to the prayer.' And he asked him to grant him a dispensation allowing him to pray in his house, and he gave him permission. Then when he turned away he said to him: 'Can you hear the call to prayer?' He said: 'Yes.' He said: 'Then respond to it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک نابینا شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۱؎، اور اس نے عرض کیا: میرا کوئی راہبر ( گائیڈ ) نہیں ہے جو مجھے مسجد تک لائے، اس نے آپ سے درخواست کی کہ آپ اسے اس کے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی، پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا، اور اس سے پوچھا: کیا تم اذان سنتے ہو؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں، ( سنتا ہوں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ( مؤذن کی پکار پر ) لبیک کہو ۲؎۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَصَمِّ، عَنْ عَمِّهِ، يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ أَعْمَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الصَّلاَةِ فَسَأَلَهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ أَنْ يُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ فَأَذِنَ لَهُ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ قَالَ لَهُ " أَتَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلاَةِ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَأَجِبْ " .