العربية
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، - قَالَ شُعْبَةُ وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ، وَمِنْ أَبِيهِ - قَالَ سَمِعْتُ أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ، يَقُولُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا صَلاَةَ الصُّبْحِ فَقَالَ " أَشَهِدَ فُلاَنٌ الصَّلاَةَ " . قَالُوا لاَ . قَالَ " فَفُلاَنٌ " . قَالُوا لاَ . قَالَ " إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلاَتَيْنِ مِنْ أَثْقَلِ الصَّلاَةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا وَالصَّفُّ الأَوَّلُ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلاَئِكَةِ وَلَوْ تَعْلَمُونَ فَضِيلَتَهُ لاَبْتَدَرْتُمُوهُ وَصَلاَةُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلِ أَزْكَى مِنْ صَلاَتِهِ وَحْدَهُ وَصَلاَةُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلاَتِهِ مَعَ الرَّجُلِ وَمَا كَانُوا أَكْثَرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
English
Ubay bin Ka'b said:"One day the Messenger of Allah (ﷺ) prayed Fajr, then he said: 'Did so-and-so attend the prayer? They said: 'No.' He said: '(What about) so-and-so? They said:'No' He said: 'These two prayers. are the most burdensome for the hypocrites. If they knew what (virtue) there is in them, they would come, even if they had to crawl. And the virtue of the first row is like that of the row of the angels. If you knew its virtue, you would compete for it. A man's prayer with another man is greater in reward than his prayer alone. And a man's prayer with two other men is greater in reward than his prayer with one other man; the more people there are, the more beloved that is to Allah, the Mighty and Sublime اردو
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا فلاں نماز میں موجود ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور فلاں؟ لوگوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دونوں نمازیں ( عشاء اور فجر ) منافقین پر سب سے بھاری ہیں، اگر لوگ جان لیں کہ ان دونوں نمازوں میں کیا اجر و ثواب ہے، تو وہ ان دونوں میں ضرور آئیں خواہ چوتڑوں کے بل انہیں گھسٹ کر آنا پڑے، اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے، اگر تم اس کی فضیلت جان لو تو تم اس میں شرکت کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو گے، کسی آدمی کا کسی آدمی کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے سے بہتر ہے ۱؎، اور ایک شخص کا دو آدمیوں کے ساتھ نماز پڑھنا اس کے ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور لوگ جتنا زیادہ ہوں گے اتنا ہی وہ نماز اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہو گی ۔