#451
Sahih
It was narrated that 'Abdullah said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) was taken on the Night Journey, he came to Sidrah Al-Muntaha, which is in the sixth heaven. That is where everything that comes up from below ends, and where everything that comes down from above, until it is taken from it. Allah says: When what covered the lote-tree did cover it! [1] He said: "It was moths of gold. And I was given three things: The five daily prayers, the last verses of Surah Al-Baqarah, and whoever of my Ummah dies without associating anything with Allah will be forgiven for Al-Muqhimat." [2] [1] An-Najm 53:16. [2] "The sins of the worst magnitude that drag one into the Fire." (An-Nihayah)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ۔ ( معراج کی شب ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جایا گیا تو جبرائیل علیہ السلام آپ کو لے کر سدرۃ المنتہیٰ پہنچے، یہ چھٹے آسمان پر ہے ۱؎ جو چیزیں نیچے سے اوپر چڑھتی ہیں ۲؎ یہیں ٹھہر جاتی ہیں، اور جو چیزیں اس کے اوپر سے اترتی ہیں ۳؎ یہیں ٹھہر جاتی ہیں، یہاں تک کہ یہاں سے وہ لی جاتی ہیں ۴؎ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آیت کریمہ «إذ يغشى السدرة ما يغشى» ۵؎ ( جب کہ سدرۃ کو ڈھانپ لیتی تھیں وہ چیزیں جو اس پر چھا جاتی تھیں ) پڑھی اور ( اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ) کہا: وہ سونے کے پروانے تھے، تو ( وہاں ) آپ کو تین چیزیں دی گئیں: پانچ نمازیں، سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں ۶؎، اور آپ کی امت میں سے اس شخص کی کبیرہ گناہوں کی بخشش، جو اللہ کے ساتھ بغیر کچھ شرک کئے مرے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْتُهِيَ بِهِ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَهِيَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ وَإِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا عُرِجَ بِهِ مِنْ تَحْتِهَا وَإِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا أُهْبِطَ بِهِ مِنْ فَوْقِهَا حَتَّى يُقْبَضَ مِنْهَا قَالَ { إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى } قَالَ فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ فَأُعْطِيَ ثَلاَثًا الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَخَوَاتِيمُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَيُغْفَرُ لِمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِهِ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا الْمُقْحِمَاتُ .
#452
Sahih
It was narrated from Anas bin Malik that the prayers were enjoined in Makkah, and that two angels came to the Messenger of Allah (ﷺ) and took him to Zamzam, where they split open his stomach and took out his innards in a basin of gold, and washed them with Zamzam water, then they filled his heart with wisdom and knowledge
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ پنج وقتہ نمازیں مکہ میں فرض کی گئیں، دو فرشتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وہ دونوں آپ کو زمزم کے پاس لے گئے، اور آپ کا پیٹ چاک کیا، اور اندر کی چیزیں نکال کر سونے کے ایک طشت میں رکھیں، اور انہیں آب زمزم سے دھویا، پھر آپ کا پیٹ علم و حکمت سے بھر کر بند کر دیا۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ رَبِّهِ بْنَ سَعِيدٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ الْبُنَانِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ الصَّلَوَاتِ، فُرِضَتْ بِمَكَّةَ وَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَهَبَا بِهِ إِلَى زَمْزَمَ فَشَقَّا بَطْنَهُ وَأَخْرَجَا حَشْوَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ فَغَسَلاَهُ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ كَبَسَا جَوْفَهُ حِكْمَةً وَعِلْمًا .
#453
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"The first time the Salah was enjoined it was two Rak'ahs, and it remained as such when traveling, but the Salah while resident was made complete
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ابتداء میں دو رکعت نماز فرض کی گئی، پھر سفر کی نماز ( دو ہی ) باقی رکھی گئی اور حضر کی نماز ( بڑھا کر ) پوری کر دی گئی۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَوَّلَ مَا فُرِضَتِ الصَّلاَةُ رَكْعَتَيْنِ فَأُقِرَّتْ صَلاَةُ السَّفَرِ وَأُتِمَّتْ صَلاَةُ الْحَضَرِ .
#454
Sahih
Abu 'Amr - meaning, Al-Awza'i - said that he asked Az-Zuhri about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) in Makkah before the Hijrah to Al-Madinah. He said:"Urwah told me that 'Aishah said: 'Allah enjoined the salah upon the Messenger of Allah (ﷺ), and the first thing that He enjoined was two Rak'ahs at a time, then it was made complete four Rak'ahs while in the state of residence but the prayer when traveling remained two Rak'ahs, as it was first enjoined
ولید کہتے ہیں کہ ابوعمرو اوزاعی نے مجھے خبر دی ہے کہ انہوں نے زہری سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا کہ مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے مکہ میں آپ کی نماز کیسی ہوتی تھی، تو انہوں نے کہا: مجھے عروہ نے خبر دی ہے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر دو دو رکعت نماز فرض کی، پھر حضر میں چار رکعت کر کے انہیں مکمل کر دی، اور سفر کی نماز سابق حکم ہی پر برقرار رکھی گئی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَعْلَبَكِّيُّ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو يَعْنِي الأَوْزَاعِيَّ، أَنَّهُ سَأَلَ الزُّهْرِيَّ عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ قَبْلَ الْهِجْرَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الصَّلاَةَ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم أَوَّلَ مَا فَرَضَهَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أُتِمَّتْ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَأُقِرَّتْ صَلاَةُ السَّفَرِ عَلَى الْفَرِيضَةِ الأُولَى .
#455
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"The Salah was enjoined two Rak'ahs at a time, then the Salah when traveling remained like that, but the Salah while resident was increased
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نماز دو دو رکعت فرض کی گئی، پھر سفر کی نماز ( دو ہی ) برقرار رکھی گئی، اور حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ فُرِضَتِ الصَّلاَةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فَأُقِرَّتْ صَلاَةُ السَّفَرِ وَزِيدَ فِي صَلاَةِ الْحَضَرِ .
#456
Sahih
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Salah was enjoined on the lips of the Prophet (ﷺ), four Rak'ahs while resident, and two while traveling, and one Rak'ah during times of fear
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نماز بزبان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضر میں چار رکعت، سفر میں دو رکعت، اور خوف میں ایک رکعت فرض کی گئی ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ فُرِضَتِ الصَّلاَةُ عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً .
#457
Sahih
It was narrated that Umayyah bin 'Abdullah bin Khalid bin Asid said to Ibn 'Umar:"How can the Salah be shortened as Allah says: There is no sin on you if you shorten As-Salah (the prayer) if you are in fear?" [1] Ibn 'Umar said: "O son of my brother! The Messenger of Allah (ﷺ) came to us when we had gone astray and he taught us. One of the things that he taught us was that Allah, the Mighty and Sublime, has commanded us to pray two Rak'ahs when traveling." [1] An-Nisa' 4:
امیہ بن عبداللہ بن خالد بن اسید سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ آپ نماز ( بغیر خوف کے ) کیسے قصر کرتے ہیں؟ حالانکہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے: «فليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم» اگر خوف کی وجہ سے تم لوگ نماز قصر کرتے ہو تو تم پر کوئی حرج نہیں ( النساء: ۱۰۱ ) تو ابن عمر رضی اللہ عنہم نے کہا: بھتیجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس وقت آئے جب ہم گمراہ تھے، آپ نے ہمیں تعلیم دی، آپ کی تعلیمات میں سے یہ بھی تھا کہ ہم سفر میں دو رکعت نماز پڑھیں، شعیثی کہتے ہیں کہ زہری اس حدیث کو عبداللہ بن ابوبکر کے طریق سے روایت کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ لاِبْنِ عُمَرَ كَيْفَ تَقْصُرُ الصَّلاَةَ وَإِنَّمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاَةِ إِنْ خِفْتُمْ } فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ يَا ابْنَ أَخِي إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَانَا وَنَحْنُ ضُلاَّلٌ فَعَلَّمَنَا فَكَانَ فِيمَا عَلَّمَنَا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنَا أَنْ نُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ . قَالَ الشُّعَيْثِيُّ وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ .
#458
Sahih
It was narrated from Abu Suhail, from his fatehr, that he heard Talhah bin 'Ubaidullah say:"A man from the people of Najd came to the Messenger of Allah (ﷺ) with unkempt hair. We could hear him talking loudly but we could not understand what he was saying until he came closer. He was asking about Islam. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: 'Five prayers each day and night.' He said: 'Do I have to do anything else' He said: 'No, unless you do it voluntarily.' He said: 'And fasting the month of Ramadan.' He said: 'Do I have to do anything else?' He said: 'No, unless you do it voluntarily.' And the Messenger of Allah (ﷺ) mentioned Zakah to him, and he said: 'Do I have to do anything else?' He said: 'No, unless you do it voluntarily.' The man left saying: 'By Allah, I will not do any more than this or any less.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'He will achieve salvation, if he is speaking the truth
ابو سہیل اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ اہل نجد کا ایک آدمی پراگندہ سر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، ہم اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سن رہے تھے، لیکن جو کہہ رہا تھا اسے سمجھ نہیں پا رہے تھے، یہاں تک کہ وہ قریب آ گیا، تو معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے متعلق پوچھ رہا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ( اسلام ) دن اور رات میں پانچ وقت کی نماز پڑھنا ہے ، اس نے پوچھا: کیا میرے اوپر ان کے علاوہ بھی ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، الا یہ کہ تم نفل پڑھو ، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ماہ رمضان کا روزہ ہے ، اس نے پوچھا: اس کے علاوہ بھی کوئی روزہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، الا یہ کہ تم نفل رکھو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زکوٰۃ کا بھی ذکر کیا، تو اس نے پوچھا: کیا میرے اوپر اس کے علاوہ بھی کچھ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، الا یہ کہ تم نفل صدقہ دو ، پھر وہ آدمی پیٹھ پھیر کر جانے لگا، اور وہ کہہ رہا تھا: قسم اللہ کی! میں اس سے نہ زیادہ کروں گا نہ کم، ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کامیاب ہو گیا اگر اس نے سچ کہا ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ نَسْمَعُ دَوِيَّ صَوْتِهِ وَلاَ نَفْهَمُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الإِسْلاَمِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ " . قَالَ هَلْ عَلَىَّ غَيْرُهُنَّ قَالَ " لاَ إِلاَّ أَنْ تَطَّوَّعَ " . قَالَ " وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ " . قَالَ هَلْ عَلَىَّ غَيْرُهُ قَالَ " لاَ إِلاَّ أَنْ تَطَّوَّعَ " . وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الزَّكَاةَ قَالَ هَلْ عَلَىَّ غَيْرُهَا قَالَ " لاَ إِلاَّ أَنْ تَطَّوَّعَ " . فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ وَاللَّهِ لاَ أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلاَ أَنْقُصُ مِنْهُ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ " .
#459
Sahih
It was narrated that Anas said:"A man asked the Messenger of Allah (ﷺ): 'O Messenger of Allah, how many prayers has Allah enjoined upon His slaves?' He said: 'Allah has enjoined upon His slaves (five) prayers.' He said: 'O Messenger of Allah, is there anything before them or after them?' He said: 'Allah has enjoined upon His salves (five) prayers.' The man swore that he would not do anything more or less than that. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'If he is speaking the truth he will most certainly enter Paradise
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! اللہ عزوجل نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں ، اس نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! کیا ان سے پہلے یا بعد میں بھی کوئی چیز ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں ہی فرض کی ہیں ، تو اس آدمی نے قسم کھائی کہ وہ نہ اس پر کوئی اضافہ کرے گا، اور نہ کوئی کمی کرے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نے سچ کہا تو وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَمِ افْتَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى عِبَادِهِ مِنَ الصَّلَوَاتِ قَالَ " افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ صَلَوَاتٍ خَمْسًا " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ قَبْلَهُنَّ أَوْ بَعْدَهُنَّ شَيْئًا قَالَ " افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ صَلَوَاتٍ خَمْسًا " . فَحَلَفَ الرَّجُلُ لاَ يَزِيدُ عَلَيْهِ شَيْئًا وَلاَ يَنْقُصُ مِنْهُ شَيْئًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ " .
#460
Sahih
Awf bin Malik Al-Ashja'i said:"We were with the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: 'Will you not pledge to the Messenger of Allah (ﷺ)?' And he repeated it three times. So we stretched forth our hands to give our pledge. We said: 'O Messenger of Allah, we are willing to give you our pledge, but on what?' He said: 'That you will worship Allah and not associate anything with him, and (offer) the five daily prayers.' And he said, very quietly: 'And you will not ask the people for anything
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت نہیں کرو گے؟ آپ نے اس بات کو تین مرتبہ دہرایا، تو ہم سب نے اپنا ہاتھ بڑھایا، اور آپ سے بیعت کی، پھر ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ سے بیعت تو کر لی، لیکن یہ بیعت کس چیز پر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بیعت اس بات پر ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے، پانچوں نمازیں ادا کرو گے ، اور آپ نے ایک اور بات آہستہ سے کہی کہ لوگوں سے کچھ مانگو گے نہیں ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلاَنِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنَا الْحَبِيبُ الأَمِينُ، عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَلاَ تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " . فَرَدَّدَهَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَقَدَّمْنَا أَيْدِيَنَا فَبَايَعْنَاهُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَايَعْنَاكَ فَعَلاَمَ قَالَ " عَلَى أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلاَ تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَأَسَرَّ كَلِمَةً خَفِيَّةً أَنْ لاَ تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا " .
#461
Sahih
It was narrated from Ibn Muhairiz that a man from Banu Kinanah who was called Al-Mukhdaji heard a man in Ash-Sham, who was known as Abu Muhammad, saying that Witr was obligatory. Al-Mukhdaji said:"In the morning I went to 'Ubadah bin As-Samit, and I met him while he was on his way to the Masjid. I told him what Abu Muhammad said, and 'Ubadah said: 'Abu Muhammad is wrong. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Five prayers are those that Allah has decreed for (His) slaves, whoever does them, and does not neglect any of them out of disregard toward them, will have a promise from Allah that He will admit him to Paradise. And whoever does not to them will have no such promise from Allah; if He wills he will punish him and if He wills He will admit him to Paradise
ابن محریز سے روایت ہے کہ بنی کنانہ کے ایک آدمی نے جسے مخدجی کہا جاتا تھا شام میں ایک آدمی کو جس کی کنیت ابو محمد تھی کہتے سنا کہ وتر واجب ہے، مخدجی کہتے ہیں: تو میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اور میں نے مسجد جاتے ہوئے انہیں راستے ہی میں روک لیا، اور انہیں ابو محمد کی بات بتائی، تو عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ابو محمد نے جھوٹ کہا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جو انہیں ادا کرے گا، اور ان میں سے کس کو ہلکا سمجھتے ہوئے ضائع نہیں کرے گا، تو اللہ کا اس سے پختہ وعدہ ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے گا، اور جس نے انہیں ادا نہیں کیا تو اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں ہے، اگر چاہے تو اسے عذاب دے، اور چاہے تو اسے جنت میں داخل کرے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ بَنِي كِنَانَةَ يُدْعَى الْمُخْدَجِيَّ سَمِعَ رَجُلاً، بِالشَّامِ يُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ يَقُولُ الْوِتْرُ وَاجِبٌ . قَالَ الْمُخْدَجِيُّ فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَاعْتَرَضْتُ لَهُ وَهُوَ رَائِحٌ إِلَى الْمَسْجِدِ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ فَقَالَ عُبَادَةُ كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَلَى الْعِبَادِ مَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ " .
#462
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Do you think that is there was a river by the door of any one of you, and he bathed in it five times each day, would there be any trace of dirt left on him?" They said: "No trace of dirt would be left on him." He said: "That is the likeness of the five daily prayers. By means of them Allah erases sins
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کا کیا خیال ہے کہ اگر کسی کے دروازے پر کوئی نہر ہو جس سے وہ ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو، کیا اس کے جسم پر کچھ بھی میل باقی رہے گا ، لوگوں نے کہا: کچھ بھی میل باقی نہیں رہے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسی طرح پانچوں نمازوں کی مثال ہے، اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَىْءٌ." قَالُوا لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ قَالَ فَكَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللَّهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا
#463
Sahih
It was narrated from 'Abdullah bin Buraidah that his father said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The covenant that stands between us and them is the Salah; whoever abandons it, he has committed disbelief
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور منافقوں کے درمیان جو ( فرق کرنے والا ) عہد ہے، وہ نماز ہے، تو جو اسے چھوڑ دے گا، کافر ہو جائے گا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْعَهْدَ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلاَةُ فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ " .
#464
Sahih
It was narrated that Jabir said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'There is nothing between a person and disbelief except abandoning Salah
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندے اور کفر کے درمیان سوائے نماز چھوڑ دینے کے کوئی اور حد فاصل نہیں ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ إِلاَّ تَرْكُ الصَّلاَةِ " .
#465
Sahih
It was narrated that Huraith bin Qabisah said:"I arrived in Al-Madinah and said: 'O Allah, make it easy for me to find a righteous companion.' Then I sat with Abu Hurairah, may Allah be pleased with him, and said: 'I prayed to Allah to help me find a righteous companion.' So tell me a Hadith that you heard from the Messenger of Allah (ﷺ), so that Allah might benefit me from it. He said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "The first thing for which a person will be brought to account will be his Salah. If it is sound then he will have succeeded, be salvaged, but if it is not then he will have lost and be doomed." - (One of the narrators) Hammam said: "I do not know whether this was the words of Qatadah or part of the report." - "If anything is lacking from his obligatory prayers, He will say: 'Look and see whether My slave has any voluntary prayers to make up for what is deficient from his obligatory prayers.' Then all of his deeds will be dealt with in like manner
حریث بن قبیصہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا، وہ کہتے ہیں: میں نے دعا کی، اے اللہ! مجھے کوئی نیک ہم نشیں عنایت فرما، تو مجھے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہم نشینی ملی، وہ کہتے ہیں: تو میں نے ان سے کہا کہ میں نے اللہ عزوجل سے دعا کی تھی کہ مجھے ایک نیک ہم نشیں عنایت فرما تو ( مجھے آپ ملے ہیں ) آپ مجھ سے کوئی حدیث بیان کیجئیے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، ہو سکتا ہے اللہ اس کے ذریعہ مجھے فائدہ پہنچائے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ( قیامت کے دن ) بندے سے سب سے پہلے اس کی نماز کے بارے میں بازپرس ہو گی، اگر یہ درست ہوئی تو یقیناً وہ کامیاب و کامراں رہے گا، اور اگر خراب رہی تو بلاشبہ ناکام و نامراد رہے گا ، راوی ہمام کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم یہ قتادہ کی بات ہے یا روایت کا حصہ ہے، اگر اس کے فرائض میں کوئی کمی رہی تو اللہ فرمائے گا: دیکھو میرے بندے کے پاس کوئی نفل ہے؟ ( اگر ہو تو ) ۱؎ فرض میں جو کمی ہے اس کے ذریعہ پوری کر دی جائے، پھر اس کا باقی عمل بھی اسی طرح ہو گا ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا هَارُونُ، - هُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ الْخَزَّازُ - قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ قَبِيصَةَ، قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَجَلَسْتُ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ - رضى الله عنه - قَالَ فَقُلْتُ إِنِّي دَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَحَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ . قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ بِصَلاَتِهِ فَإِنْ صَلَحَتْ فَقَدْ أَفْلَحَ وَأَنْجَحَ وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ " . قَالَ هَمَّامٌ لاَ أَدْرِي هَذَا مِنْ كَلاَمِ قَتَادَةَ أَوْ مِنَ الرِّوَايَةِ " فَإِنِ انْتَقَصَ مِنْ فَرِيضَتِهِ شَىْءٌ قَالَ انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَيُكَمَّلُ بِهِ مَا نَقَصَ مِنَ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ يَكُونُ سَائِرُ عَمَلِهِ عَلَى نَحْوِ ذَلِكَ " . خَالَفَهُ أَبُو الْعَوَّامِ .
#466
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:"The first thing for which a person will be brought to account on the Day of Resurrection will be his Salah. If it is found to be complete then it will be recorded as complete, and if anything is lacking He will say: 'Look and see if you can find any voluntary prayers with which to complete what he neglected of his obligatory prayers.' Then the rest of his deeds will be reckoned in like manner
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے بندہ سے اس کی نماز کے بارے میں بازپرس ہو گی، اگر وہ پوری ملی تو پوری لکھ دی جائے گی، اور اگر اس میں کچھ کمی ہوئی تو اللہ تعالیٰ کہے گا: دیکھو تم اس کے پاس کوئی نفل پا رہے ہو کہ جس کے ذریعہ جو فرائض اس نے ضائع کئے ہیں اسے پورا کیا جا سکے، پھر باقی تمام اعمال بھی اسی کے مطابق جاری ہوں گے ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، - يَعْنِي ابْنَ زِيَادِ بْنِ مَيْمُونٍ - قَالَ كَتَبَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ عَنْهُ - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَوَّامِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَلاَتُهُ فَإِنْ وُجِدَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ تَامَّةً وَإِنْ كَانَ انْتَقَصَ مِنْهَا شَىْءٌ قَالَ انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ لَهُ مِنْ تَطَوُّعٍ يُكَمِّلُ لَهُ مَا ضَيَّعَ مِنْ فَرِيضَةٍ مِنْ تَطَوُّعِهِ ثُمَّ سَائِرُ الأَعْمَالِ تَجْرِي عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ " .
#467
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"The first thing for which a person will be brought to account will be his Salah. If it is complete (all well and good), otherwise Allah will say: 'Look and see if My slave did any voluntary prayer.' If he is found to have done voluntary prayers, his obligatory prayers will be completed therewith
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے بندہ سے نماز کی بازپرس ہو گی، اگر اس نے اسے پورا کیا ہے ( تو ٹھیک ہے ) ورنہ اللہ عزوجل فرمائے گا: دیکھو میرے بندے کے پاس کوئی نفل ہے؟ اگر اس کے پاس کوئی نفل ملا تو فرمائے گا: اس کے ذریعہ فرض پورا کر دو ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ صَلاَتُهُ فَإِنْ كَانَ أَكْمَلَهَا وَإِلاَّ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ انْظُرُوا لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَإِنْ وُجِدَ لَهُ تَطَوُّعٌ قَالَ أَكْمِلُوا بِهِ الْفَرِيضَةَ " .
#468
Sahih
It was narrated from Abu Ayyub that a man said:"O Messenger of Allah, tell me of a deed that will gain me admittance to Paradise." The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Worship Allah and do not associate anything with Him, establish the Salah, pay the Zakah and uphold the ties of kinship. Let go!" - as if he was riding his camel. [1] [1] As if he was riding his camel and the man had grabbed hold of its reins to ask this question
ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو، اسے چھوڑ دو گویا آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُوهُ، عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَعْبُدُ اللَّهَ وَلاَ تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلاَةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ ذَرْهَا " كَأَنَّهُ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ .
#469
Sahih
It was narrated from Ibn Al-Munkadir and Ibrahim bin Maisarah, that they heard Anas say:"I prayed Zuhr with the Prophet (ﷺ) in Al-Madinah, four Rak'ahs and 'Asr in Dhul-Hulaifah, two Rak'ahs
ابن منکدر اور ابراہیم بن میسرہ سے روایت ہے کہ ان دونوں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھی، اور ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز دو رکعت پڑھی ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سَمِعَا أَنَسًا، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَبِذِي الْحُلَيْفَةِ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ .
#470
Sahih
It was narrated that Al-Hakam bin 'Utaibah said:"I heard Abu Juhaifah say: 'The Messenger of Allah (ﷺ) set off at midday, during the time of intense heat' - (One of the narrators) Ibn Al-Muthanna said, to Al-Batha' - and he performed Wudu', and prayed Zuhr, two Rak'ahs, and 'Asr, two Rak'ahs, with a short spear ('Anzah) in front of him
حکم بن عتیبہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر میں نکلے ( ابن مثنی کی روایت میں ہے: بطحاء کی طرف نکلے ) تو آپ نے وضو کیا، اور ظہر کی نماز دو رکعت پڑھی، اور عصر کی دو رکعت پڑھی، اور آپ کے سامنے نیزہ ( بطور سترہ ) تھا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْهَاجِرَةِ - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى إِلَى الْبَطْحَاءِ - فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ .
#471
Sahih
It was narrated from Abu Bakr bin 'Umarah bin Ruwaibah Ath-Thaqafi that his father said:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'He will never enter the Fire, the one who prays before the sun rises and before it sets
عمارہ بن رویبہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھے گا وہ ہرگز جہنم کی آگ میں داخل نہیں ہو گا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، وَابْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَالْبَخْتَرِيُّ بْنُ أَبِي الْبَخْتَرِيُّ، كُلُّهُمْ سَمِعُوهُ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ، رُوَيْبَةَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَنْ يَلِجَ النَّارَ مَنْ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا " .
#472
Sahih
It was narrated that Abu Yunus, the freed slave of 'Aishah the wife of the Prophet (ﷺ), said:"Aishah told me to copy a Mushaf for her, and she said: 'When you reach this verse, call my attention: Guard strictly the Salawat especially the middle (Al-Wusta) Salah. [1] When I reached it, I called her attention and she dictated to me: 'Guard strictly the Salawat expecially the middle (Al-Wusta) Salah and the 'Asr prayer, and stand before Allah with obedience.' Then she said: 'I heard it from the Messenger of Allah (ﷺ).'" [1] Al-Baqarah 2:
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابو یونس کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے ایک مصحف لکھوں، اور کہا: جب اس آیت کریمہ: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى» ( البقرہ: ۲۸۳ ) پر پہنچنا تو مجھے بتانا، چنانچہ جب میں اس آیت پر پہنچا تو میں نے انہیں بتایا، تو انہوں نے مجھے املا کرایا «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين» پھر انہوں نے کہا: میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، مَوْلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا فَقَالَتْ إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الآيَةَ فَآذِنِّي { حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى } فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَىَّ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى وَصَلاَةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ . ثُمَّ قَالَتْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#473
Sahih
It was narrated from 'Ali (ﷺ) that the Prophet (ﷺ) said:"They distracted us from Salatul-Wusta (the middle prayer) until the sun went down
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جنگ خندق کے موقع پر ) فرمایا: ان لوگوں ( کافروں ) نے ہمیں بیچ والی نماز سے مشغول کر دیا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " شَغَلُونَا عَنِ الصَّلاَةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ " .
#474
Sahih
It was narrated that Abu Qilabah said:"Abu Al-Malih narrated to me: 'We were with Buraidah on a cloudy day and he said: "Pray early, for the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever abandons Salat Al-'Asr, his good deeds will perish
ابوالملیح (ابوالملیح بن اسامہ) کہتے ہیں کہ بدلی والے ایک دن میں ہم بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے تو انہوں نے کہا: نماز جلدی پڑھو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس نے عصر کی نماز چھوڑی اس کا عمل رائیگاں گیا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الْمَلِيحِ، قَالَ كُنَّا مَعَ بُرَيْدَةَ فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ فَقَالَ بَكِّرُوا بِالصَّلاَةِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ تَرَكَ صَلاَةَ الْعَصْرِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ " .
#475
Sahih
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said:"We used to estimate how long the Messenger of Allah (ﷺ) stood when praying in Zuhr and 'Asr. We estimated that he stood in Zuhr for as long as it take to recite thirty verses, as long as Surat As-Sajadah in the fits two Rak'ahs, and half that in the last two. And we estimated that he stood for as long in the fits two Rak'ahs, and half that in the last two. And we estimated that he stood for as long in the first two Rak'ahs of 'Asr as he stood in the last two Rak'ahs of Zuhr, and we estimated that he stood half as long as that in the last two Rak'ahs of 'Asr
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگایا کرتے تھے، تو ہم نے ظہر کی پہلی دونوں رکعتوں میں آپ کے قیام کا اندازہ سورۃ السجدہ کی تیس آیتوں کے بقدر لگایا، اور آخر کی دونوں رکعتوں میں اس کا آدھا، اور ہم نے عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں آپ کے قیام کا اندازہ ظہر کی آخری دونوں رکعتوں کے بقدر لگایا، اور عصر کی آخری دونوں رکعتوں کا اندازہ اس کا آدھا لگایا۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كُنَّا نَحْزُرُ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الظُّهْرِ قَدْرَ ثَلاَثِينَ آيَةً قَدْرَ سُورَةِ السَّجْدَةِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ وَفِي الأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ .