#426
Sahih
It was narrated that Jabir said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) performed Ghusl, he would pour water on his head three times
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل کرتے تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُخَوَّلٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اغْتَسَلَ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثًا .
#427
Sahih
It was narrated from 'Aishah:"A woman asked the Prophet (ﷺ): 'O Messenger of Allah, how should I perform Ghusl when I become pure?' He said: 'Take a piece of cotton wool scented with musk and clean yourself with it.' She said: 'How should I clean myself with it?' He said: 'Clean yourself with it.' She said: "How should I clean myself with it?' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Subhan Allah!' and turned away from her." 'Aishah understood what the Messenger of Allah (ﷺ) meant, and said: "So I pulled her toward me and told her what the Messenger of Allah (ﷺ) meant
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اللہ کے رسول! میں طہارت کے وقت کیسے غسل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مشک کا ایک پھاہا لو، اور اس سے پاکی حاصل کرو ، اس نے کہا: میں اس سے کیسے پاکی حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے پاکی حاصل کرو ، اس نے ( پھر ) عرض کیا: میں اس سے کیسے پاکی حاصل کروں؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبحان اللہ کہا، اور اس سے اپنا رخ مبارک پھیر لیا، عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو سمجھ گئیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بتانا چاہ رہے تھے، آپ کہتی ہیں: تو میں نے اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو چاہ رہے تھے اسے بتایا ۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، سَأَلَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَغْتَسِلُ عِنْدَ الطُّهُورِ قَالَ " خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَوَضَّئِي بِهَا " . قَالَتْ كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا قَالَ " تَوَضَّئِي بِهَا " . قَالَتْ كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا قَالَتْ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَبَّحَ وَأَعْرَضَ عَنْهَا فَفَطِنَتْ عَائِشَةُ لِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ فَأَخَذْتُهَا وَجَبَذْتُهَا إِلَىَّ فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#428
Sahih
It was narrated that Maimunah, the wife of the Prophet (ﷺ), said:"The Prophet (ﷺ) performed Ghusl from Janabah; he washed his private part then rubbed his hand on the ground or the wall, then he performed Wudu' as for prayer, then he poured water over his head and the rest of his body
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنابت کا غسل کیا، تو آپ نے اپنی شرمگاہ کو دھویا، اور زمین یا دیوار پر اپنا ہاتھ رگڑا، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، پھر اپنے سر اور پورے جسم پر پانی بہایا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتِ اغْتَسَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْجَنَابَةِ فَغَسَلَ فَرْجَهُ وَدَلَكَ يَدَهُ بِالأَرْضِ أَوِ الْحَائِطِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ وَسَائِرِ جَسَدِهِ .
#429
Sahih
Ja'far bin Muhammad said:"My father told me: 'We came to Jabir bin 'Abdullah and asked him about the Hajj of the Prophet (ﷺ). He narrated; "The Messenger of Allah (ﷺ) set out when there were five (days) remaining in Dhul-Qa'dah, and we set out with him. When he came to Dhul-Hulaifah, Asma' bint 'Umais gave birth to Muhammad bin Abi Bakr. She sent word to the Messenger of Allah (ﷺ) asking what he should do. He said: 'Perform Ghusl, bind yourself with a cloth then begin (the Talbiyah for Ihram)
محمد (باقر) کہتے ہیں: ہم لوگ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کے پاس آئے، اور ہم نے ان سے حجۃ الوداع کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پچیس ذی قعدہ کو ( مدینہ سے ) نکلے، ہم آپ کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ جب آپ ذوالحلیفہ آئے تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے محمد بن ابوبکر کو جنا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوایا کہ میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: تم غسل کر لو، پھر لنگوٹ باندھ لو، پھر ( احرام باندھ کر ) لبیک پکارو ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ . وَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ أَصْنَعُ فَقَالَ " اغْتَسِلِي ثُمَّ اسْتَثْفِرِي ثُمَّ أَهِلِّي " .
#430
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) would not perform Wudu' after Ghusl
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ .
#431
Sahih
Aishah said:"I used to put perfume on the Messenger of Allah (ﷺ) and he would go around to all his wives, then enter Ihram in the morning with the smell of perfume coming from him
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگاتی تھی، پھر آپ اپنی بیویوں کے پاس جاتے ۱؎ پھر آپ محرم ہو کر صبح کرتے، اور آپ کے جسم سے خوشبو پھوٹتی ہوتی ۲؎۔
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ بِشْرٍ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ - قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا يَنْضَخُ طِيبًا .
#432
Sahih
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'I have been given five things that were not given to anyone before me: I have been supported with fear being struck into the hearts of my enemy for a distance of one month's travel; the earth has been made a place of prostration and a means of purification for me, so wherever a man of my Ummah is when the time for prayer comes, let him pray; I have been given the intercession which was not given to any Prophet before me; and I have been sent to all of mankind whereas the Prophets before me were sent to their own people
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں ۱؎: ایک مہینہ کی مسافت پر رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے ۲؎، میرے لیے پوری روئے زمین مسجد اور پاکی کا ذریعہ بنا دی گئی ہے، تو میری امت کا کوئی فرد جہاں بھی نماز کا وقت پا لے، نماز پڑھ لے، اور مجھے شفاعت ( عظمیٰ ) عطا کی گئی ہے، یہ چیز مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی، اور میں سارے انسانوں کی طرف ( رسول بنا کر ) بھیجا گیا ہوں، اور ( مجھ سے پہلے ) نبی خاص اپنی قوم کے لیے بھیجے جاتے تھے ۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا سَيَّارٌ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا فَأَيْنَمَا أَدْرَكَ الرَّجُلَ مِنْ أُمَّتِي الصَّلاَةُ يُصَلِّي وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَلَمْ يُعْطَ نَبِيٌّ قَبْلِي وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً " .
#433
Sahih
It was narrated from Abu Sa'eed that two men performed Tayammum and prayed, then they found water when there was still time left for prayer. One of them performed Wudu' and repeated the prayer, and the other did not. They asked the Prophet (ﷺ) about that and he said to the one who did not repeat the prayer:"You followed the Sunnah and your prayer is acceptable." And he said to the other: "And you will have something like the reward of two prayers
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی، پھر انہیں وقت کے اندر ہی پانی مل گیا، تو ان میں سے ایک شخص نے وضو کر کے وقت کے اندر نماز دوبارہ پڑھ لی، اور دوسرے نے نماز نہیں دہرائی، ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا، تو آپ نے اس شخص سے جس نے نماز نہیں لوٹائی تھی فرمایا: تم نے سنت کے موافق عمل کیا، اور تمہاری نماز تمہیں کفایت کر گئی ، اور دوسرے سے فرمایا: رہے تم تو تمہارے لیے دوہرا اجر ہے ۔
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ نَافِعٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ، تَيَمَّمَا وَصَلَّيَا ثُمَّ وَجَدَا مَاءً فِي الْوَقْتِ فَتَوَضَّأَ أَحَدُهُمَا وَعَادَ لِصَلاَتِهِ مَا كَانَ فِي الْوَقْتِ وَلَمْ يُعِدِ الآخَرُ فَسَأَلاَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ " أَصَبْتَ السُّنَّةَ وَأَجْزَأَتْكَ صَلاَتُكَ " . وَقَالَ لِلآخَرِ " أَمَّا أَنْتَ فَلَكَ مِثْلُ سَهْمِ جَمْعٍ " .
#434
It was narrated from Tariq bin Shaihab that a man became Junub and did not pray. He came to the Prophet (ﷺ) and told him about that, and he said:"You did the right thing." Then another man became Junub so he performed Tayammum and prayed. He came (to the Prophet (ﷺ)) who said to him what he had said to the other man- meaning, "You did the right thing
طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ ایک شخص جنبی ہو گیا، تو اس نے نماز نہیں پڑھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا ، پھر ایک دوسرا آدمی جنبی ہوا، تو اس نے تیمم کیا، اور نماز پڑھ لی، تو آپ نے اس سے بھی اسی طرح کی بات کہی جو آپ نے دوسرے سے کہی تھی یعنی تم نے ٹھیک کیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، أَنْبَأَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنَّ مُخَارِقًا، أَخْبَرَهُمْ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَجْنَبَ فَلَمْ يُصَلِّ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " أَصَبْتَ " . فَأَجْنَبَ رَجُلٌ آخَرُ فَتَيَمَّمَ وَصَلَّى فَأَتَاهُ فَقَالَ نَحْوًا مِمَّا قَالَ لِلآخَرِ يَعْنِي " أَصَبْتَ " .
#435
Sahih Isnaad
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"Ali, Al-Miqdad and 'Ammar were talking. 'Ali said: 'I am a man who emits a lot of Madhi but I am too shy to ask the Messenger of Allah (ﷺ) about that because of his daughter's position with me, so let one of you ask him.' He told me that one of them - but I forgot who - asked him, and the Prophet (ﷺ) said: 'That is Madhi. If any one of you notices that, let him wash it off himself and perform Wudu' as for prayer or similar to the Wudu' of prayer
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ علی، مقداد اور عمار رضی اللہ عنہم نے آپس میں بات کی، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایک ایسا آدمی ہوں جسے بہت مذی آتی ہے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس کے بارے میں ) پوچھنے سے شرماتا ہوں، اس لیے کہ آپ کی صاحبزادی میرے عقد نکاح میں ہیں، تو تم دونوں میں سے کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے ( عطاء کہتے ہیں: ) ابن عباس رضی اللہ عنہا نے مجھ سے ذکر کیا کہ ان دونوں میں سے ایک نے ( میں اس کا نام بھول گیا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مذی ہے، جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اسے اپنے جسم سے دھو لے، اور نماز کے وضو کی طرح وضو کرے ، راوی کو شک ہے «وضوئه للصلاة» کہا یا «كوضوء الصلاة» کہا۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ تَذَاكَرَ عَلِيٌّ وَالْمِقْدَادُ وَعَمَّارٌ فَقَالَ عَلِيٌّ إِنِّي امْرَؤٌ مَذَّاءٌ وَإِنِّي أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَكَانِ ابْنَتِهِ مِنِّي فَيَسْأَلُهُ أَحَدُكُمَا فَذَكَرَ لِي أَنَّ أَحَدَهُمَا وَنَسِيتُهُ سَأَلَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " ذَاكَ الْمَذْىُ إِذَا وَجَدَهُ أَحَدُكُمْ فَلْيَغْسِلْ ذَلِكَ مِنْهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ أَوْ كَوُضُوءِ الصَّلاَةِ " .
#436
Sahih Lighairihi
It was narrated that 'Ali, may Allah be please with him, said:"I was a man who emotted a great deal of Madhi. I told a man to ask the Prophet (ﷺ) (about that) and he said: 'Wudu' (is required) for that
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے بہت مذی آتی تھی، تو میں نے ایک آدمی کو حکم دیا، تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو ہے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ رَجُلاً مَذَّاءً فَأَمَرْتُ رَجُلاً فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «فِيهِ الْوُضُوءُ»
#437
Sahih
It was narrated that 'Ali said:"I felt too shy to ask the Messenger of Allah (ﷺ) about Madhi because of Fatimah, so I told Al-Miqdad to ask him, and he said: 'Wudu' (is required) for that
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مذی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے شرما رہا تھا، تو میں نے مقداد کو حکم دیا، انہوں نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو ہے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ، قَالَ سَمِعْتُ مُنْذِرًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - قَالَ اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمَذْىِ مِنْ أَجْلِ فَاطِمَةَ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ " فِيهِ الْوُضُوءُ " .
#438
Sahih
Ali said:"I sent Al-Miqdad to the Messenger of Allah (ﷺ) to ask him about Madhi, and he said: 'Perform Wudu' and sprinkle water over your private part.'" Abu 'Abdur-Rahman said: Makhramah (one of the narrators) did not hear anything from his father
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے مقداد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ وہ ( جا کر ) آپ سے مذی کے متعلق پوچھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو کر لو، اور اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لو ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى عَنِ ابْنِ وَهْبٍ وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْسَلْتُ الْمِقْدَادَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْمَذْيِ فَقَالَ: «تَوَضَّأْ وَانْضَحْ فَرْجَكَ». قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: مَخْرَمَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ شَيْئًا
#439
Sahih Lighairihi
It was narrated that Sulaiman bin Yasar said:"Ali bin Abi Talib sent Al-Miqdad to the Messenger of Allah (ﷺ) to ask him about a man who notices Madhi. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Let him wash his penis then perform Wudu
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مقداد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ وہ آپ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھیں جو مذی پاتا ہو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی شرمگاہ دھو لے، پھر وضو کر لے ۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ أَرْسَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رضى الله عنه - الْمِقْدَادَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْأَلُهُ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْمَذْىَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَغْسِلُ ذَكَرَهُ ثُمَّ لْيَتَوَضَّأْ " .
#440
Sahih
It was narrated from Al-Miqdad bin Al-Aswad thatt 'Ali bin Abi Talib, peace be upon him, told him to ask the Messenger of Allah (ﷺ) about a man who gets close to a woman and Madhi comes out of him. (He said:) "For his daughter is (married) to me and I feel too shy to ask him." So he asked the Messenger of Allah (ﷺ) about that and he said: "If any one of you notices that let him sprinkle water on his private parts and perform Wudu' as for prayer
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے متعلق پوچھیں کہ جب وہ عورت سے قریب ہوتا ہو تو اسے مذی نکل آتی ہو، چونکہ میرے عقد نکاح میں آپ کی صاحبزادی ہیں اس لیے میں پوچھنے سے شرما رہا ہوں، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اسے چاہیئے کہ اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لے، اور اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کر لے ۔
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رضى الله عنه أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنَ الْمَرْأَةِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْىُ فَإِنَّ عِنْدِي ابْنَتَهُ وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ . فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ " إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ " .
#441
Sahih
Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When any one of you gets up after (sleeping) at night, let him not put his hand into the vessel until he has poured water on it two or three times, for none of you knows where his hand spent the night
سعید بن مسیب کہتے ہیں: مجھ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رات میں اٹھے تو اپنا ہاتھ برتن میں داخل نہ کرے، یہاں تک کہ دو یا تین مرتبہ اس پر پانی ڈال لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں کہاں رہا ۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلاَ يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ حَتَّى يُفْرِغَ عَلَيْهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لاَ يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ " .
#442
Sahih
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"I prayed with the Prophet (ﷺ) one night, and I stood on his left, but he made me stand on his right, and he prayed. Then he reclined on his side and took a nap, then the Mu'adhdhin came to him and he prayed, and did not perform Wudu
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی تو میں ( جا کر ) آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی داہنی طرف کر لیا، اور نماز ادا کی، پھر لیٹے اور سو گئے اتنے میں مؤذن آپ کے پاس آیا ( اس نے آپ کو جگایا ) تو آپ نے ( جا کر ) نماز پڑھی، اور وضو نہیں کیا روایت مختصر ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى ثُمَّ اضْطَجَعَ وَرَقَدَ فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ مُخْتَصَرٌ .
#443
Sahih
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"If anyone of you feels drowsy during his Salah, let him go and take a nap
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں اونگھے تو وہ لوٹ جائے، اور ( جا کر ) سو جائے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ فَلْيَنْصَرِفْ وَلْيَرْقُدْ " .
#444
Sahih
It was narrated that Busrah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever touches his private part, let him perform Wudu
بسرۃ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنا ذکر ( عضو تناسل ) چھوئے، تو چاہیئے کہ وہ وضو کرے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي بَكْرٍ - قَالَ عَلَى أَثَرِهِ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَلَمْ أُتْقِنْهُ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ بُسْرَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ " .
#445
Sahih Isnaad
It was narrated from Busrah bint Safwan that the Prophet (ﷺ) said:"If any one of you touches his private part with his hand, let him perform Wudu
بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنا ہاتھ اپنے ذکر ( عضو تناسل ) تک لے جائے ( چھوئے ) تو چاہیئے کہ وہ وضو کرے ۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَفْضَى أَحَدُكُمْ بِيَدِهِ إِلَى فَرْجِهِ فَلْيَتَوَضَّأْ " .
#446
Sahih
It was narrated that Marwan bin Al-Hakam said that one should perform Wudu' after touching one's penis. Marwan said:"Busrah bint Safwan told me that." 'Urwah sent someone to check that, and she said: "The Messenger of Allah (ﷺ) mentioned what Wudu' is done for, and said: 'Touching the penis
عروہ بن زبیر مروان بن حکم سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: شرمگاہ چھونے پر وضو ہے، تو مروان نے کہا: مجھ سے اسے بسرہ بنت صفوان نے بیان کیا ہے، تو عروہ نے بسرہ کے پاس ( اس کی تصدیق کے لیے آدمی ) بھیجا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو کیا جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذکر چھونے سے بھی وضو ہے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، أَنَّهُ قَالَ الْوُضُوءُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ فَقَالَ مَرْوَانُ أَخْبَرَتْنِيهِ بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ . فَأَرْسَلَ عُرْوَةُ قَالَتْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ فَقَالَ " مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ " .
#447
Sahih Isnaad
It was narrated from Busrah bin Safwan that the Prophet (ﷺ) said:"Whoever touches his penis, he should not perform Salah until he performs Wudu'." Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasa'i) said: Hisham bin 'Urwah did not hear this Hadith from his father
بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنا ذکر ( عضو تناسل ) چھوئے، تو نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ وضو کر لے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی ) کہتے ہیں: ہشام بن عروہ نے اس حدیث ۱؎ کو اپنے باپ سے نہیں سنا ہے، «واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم»۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلاَ يُصَلِّي حَتَّى يَتَوَضَّأَ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ هَذَا الْحَدِيثَ وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ .
#448
Sahih
It was narrated from Anas bin Malik, from Malik bin Sa'sa'ah, that the Prophet (ﷺ) said:"While I was at the Ka'bah, in a state between sleep and wakefulness, three men came, and one of them who was in the middle came toward me. I was brought a basin of gold, filled with wisdom and faith, and he slit open from the throat to the lower abdomen, and washed the heart with Zamzam water, then - "it was filled with wisdom and faith. Then I was brought a riding-beast, smaller than a mule and bigger than a donkey. I set off with Jibril, peace be upon him, and we came to the lowest heaven. It was said: 'Who is with you?' He said: 'Muhammad.' It was said: 'Has (revelation) been sent to him? Welcome to him, what an excellent visit his is.' I came to Adam, peace be upon him, and greeted him, and he said: 'Welcome to you! What an excellent son and Prophet.' Then we came to the second heaven and it was said: 'Who is this?' He said: 'Jibra'il.' [1] It was said: 'Who is with you?' he said: 'Muhammad.' And the same exchange took place. I came to Yahya and 'Eisa, peace be upon them both, and greeted them, and they said: 'Welcome to you! What an excellent brother and Prophet.' Then we came to the third heaven and it was said: 'Who is this?' He said: 'Jibra'il.' It was said: 'Who is with you?' He said: 'Muhammad.' And the same exchange took place. I came to Yusuf, peace be upon him, and greeted him, and he said: 'Welcome to you! What an excellent brother and Prophet.' Then we came to the fourth heaven and the same exchange took place. I came to Idris, peace be upon him, and greeted him, and he said: 'Welcome to you! What an excellent brother and Prophet.' Then we came to the fifth heaven and the same exchange took place. I came to Harun, peace be upon him, and greeted him, and he said: 'Welcome to you! What an excellent brother and Prophet.' Then we came to the sixth heaven and the same exchange took place. I came to Musa, peace be upon him, and greeted him, and he said: 'Welcome to you! What an excellent brother and Prophet.' What I passed him, he wept, and it was said: 'Why are you weeping?' He said: 'O Lord, this young man whom You have sent after me, more of his Ummah will enter Paradise than from my nation, and they will be more virtuous than them.' Then we came to the seventh heaven and a similar exchange took place. I came to Ibrahim, peace be upon him, and greeted him, and he said: 'Welcome to you! What an excellent son and Prophet.' Then I was taken up to the Oft-Frequented House (Al-Bait al-Ma'mur) and I asked Jibra'il about it, and he said: 'This is Al-Bait al-Ma'mur in which seventy thousand angels pray everyday, and when they leave it they never come back.' Then I was taken up to Sidrah Al-Muntaha (the Lote-Tree of the Utmost Boundary). Its fruits were like Qilal [2] of Hajar and its leaves were like the ears of elephants. At its base were four rivers: Two hidden rivers and two manifest rivers. I asked Jibril (About them) and he said: 'The two hidden ones are in paradise, and the two manifest ones are the Euphrates and the Nile.' Then fifty prayers were enjoined upon me. I came to Musa and he said: 'What happened?' I said: 'Fifty prayers have been enjoined upon me.' He said: 'I know more about the people than you. I tried hard with the Children of Israel. Your Ummah will never be able to bear that. Go back to your Lord and ask Him to reduce it for you.' So I went back to my Lord and asked Him to reduce it, and He made it forty. Then I went back to Musa, peace be upon him, and he said: 'What happened?' I said: 'He made it forty.' He said to me something similar to what he said the first time, so I went back to my Lord and He made it thirty. I came to Musa, peace be upon him, and told him, and he said to me something similar to what he said the first time, so I went back to my Lord and he made it twenty, then ten, then five. I came to Musa, peace be upon him, and he said to me something like he had said the first time, but I said: 'I feel too shy before my Lord to go back to Him.' Then it was called out: 'I have decreed (the reward for) My obligation, and I have reduced the burden for My slaves and I will give a ten-fold reward for each good deed.'" [1] It is like this here, while it is Jibra'il the first time it appears in this narration, and Jibra'il is often used in the Hadith literature. [2] Plural of Qullah
انس بن مالک، مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کعبہ کے پاس نیم خواب اور نیم بیداری میں تھا کہ اسی دوران میرے پاس تین ( فرشتے ) آئے، ان تینوں میں سے ایک جو دو کے بیچ میں تھا میری طرف آیا، اور میرے پاس حکمت و ایمان سے بھرا ہوا سونے کا ایک طشت لایا گیا، تو اس نے میرا سینہ حلقوم سے پیٹ کے نچلے حصہ تک چاک کیا، اور دل کو آب زمزم سے دھویا، پھر وہ حکمت و ایمان سے بھر دیا گیا، پھر میرے پاس خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا ایک جانور لایا گیا، میں جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ چلا، تو ہم آسمان دنیا پر آئے، تو پوچھا گیا کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل ہوں، پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں، پوچھا گیا: کیا بلائے گئے ہیں؟ مرحبا مبارک ہو ان کی تشریف آوری، پھر میں آدم علیہ السلام کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بیٹے اور نبی! پھر ہم دوسرے آسمان پر آئے، پوچھا گیا: کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل ہوں، پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں، یہاں بھی اسی طرح ہوا، یہاں میں عیسیٰ علیہ السلام اور یحییٰ علیہ السلام کے پاس آیا، اور میں نے ان دونوں کو سلام کیا، ان دونوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بھائی اور نبی! پھر ہم تیسرے آسمان پر آئے، پوچھا گیا کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل ہوں، پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں، یہاں بھی اسی طرح ہوا، یہاں میں یوسف علیہ السلام کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بھائی اور نبی! پھر ہم چوتھے آسمان پر آئے، وہاں بھی اسی طرح ہوا، یہاں میں ادریس علیہ السلام کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بھائی اور نبی! پھر ہم پانچویں آسمان پر آئے، یہاں بھی ویسا ہی ہوا، میں ہارون علیہ السلام کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بھائی، اور نبی! پھر ہم چھٹے آسمان پر آئے، یہاں بھی ویسا ہی ہوا، تو میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بھائی اور نبی! تو جب میں ان سے آگے بڑھا، تو وہ رونے لگے ۱؎، ان سے پوچھا گیا آپ کو کون سی چیز رلا رہی ہے؟ انہوں نے کہا: پروردگار! یہ لڑکا جسے تو نے میرے بعد بھیجا ہے اس کی امت سے جنت میں داخل ہونے والے لوگ میری امت کے داخل ہونے والے لوگوں سے زیادہ اور افضل ہوں گے، پھر ہم ساتویں آسمان پر آئے، یہاں بھی ویسا ہی ہوا، تو میں ابراہیم علیہ السلام کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بیٹے اور نبی! پھر بیت معمور ۲؎ میرے قریب کر دیا گیا، میں نے ( اس کے متعلق ) جبرائیل سے پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ بیت معمور ہے، اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں، جب وہ اس سے نکلتے ہیں تو پھر دوبارہ اس میں واپس نہیں ہوتے، یہی ان کا آخری داخلہ ہوتا ہے، پھر سدرۃ المنتھی میرے قریب کر دیا گیا، اس کے بیر ہجر کے مٹکوں جیسے، اور اس کے پتے ہاتھی کے کان جیسے تھے، اور اس کی جڑ سے چار نہریں نکلی ہوئی تھی، دو نہریں باطنی ہیں، اور دو ظاہری، میں نے جبرائیل سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: باطنی نہریں تو جنت میں ہیں، اور ظاہری نہریں فرات اور نیل ہیں، پھر میرے اوپر پچاس وقت کی نمازیں فرض کی گئیں، میں لوٹ کر موسیٰ ( علیہ السلام ) کے پاس آیا، تو انہوں نے پوچھا: آپ نے کیا کیا؟ میں نے کہا: میرے اوپر پچاس نمازیں فرض کی گئیں ہیں، انہوں نے کہا: میں لوگوں کو آپ سے زیادہ جانتا ہوں، میں بنی اسرائیل کو خوب جھیل چکا ہوں، آپ کی امت اس کی طاقت بالکل نہیں رکھتی، اپنے رب کے پاس واپس جایئے، اور اس سے گزارش کیجئیے کہ اس میں تخفیف کر دے، چنانچہ میں اپنے رب کے پاس واپس آیا، اور میں نے اس سے تخفیف کی گزارش کی، تو اللہ تعالیٰ نے چالیس نمازیں کر دیں، پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا، انہوں نے پوچھا: آپ نے کیا کیا؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے انہیں چالیس کر دی ہیں، پھر انہوں نے مجھ سے وہی بات کہی جو پہلی بار کہی تھی، تو میں پھر اپنے رب عزوجل کے پاس واپس آیا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں تیس کر دیں، پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، اور انہیں اس کی خبر دی، تو انہوں نے پھر وہی بات کہی جو پہلے کہی تھی، تو میں اپنے رب کے پاس واپس گیا، تو اس نے انہیں بیس پھر دس اور پھر پانچ کر دیں، پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، تو انہوں نے پھر وہی بات کہی جو پہلے کہی تھی، تو میں نے کہا: ( اب مجھے ) اپنے رب عزوجل کے پاس ( باربار ) جانے سے شرم آ رہی ہے، تو آواز آئی: میں نے اپنا فریضہ نافذ کر دیا ہے، اور اپنے بندوں سے تخفیف کر دی ہے، اور میں نیکی کا بدلہ دس گنا دیتا ہوں ۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْتِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ إِذْ أَقْبَلَ أَحَدُ الثَّلاَثَةِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مَلآنَ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَشَقَّ مِنَ النَّحْرِ إِلَى مَرَاقِّ الْبَطْنِ فَغَسَلَ الْقَلْبَ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ مُلِئَ حِكْمَةً وَإِيمَانًا ثُمَّ أُتِيتُ بِدَابَّةٍ دُونَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ ثُمَّ انْطَلَقْتُ مَعَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَأَتَيْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَقِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ . قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ . قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ مَرْحَبًا بِهِ وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَأَتَيْتُ عَلَى آدَمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ قَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنِ ابْنٍ وَنَبِيٍّ . ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ . قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ فَمِثْلُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عَلَى يَحْيَى وَعِيسَى فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمَا فَقَالاَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ . ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ الثَّالِثَةَ قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ . قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ فَمِثْلُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عَلَى يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ قَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ . ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ الرَّابِعَةَ فَمِثْلُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عَلَى إِدْرِيسَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ . ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ الْخَامِسَةَ فَمِثْلُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عَلَى هَارُونَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ قَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ . ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ السَّادِسَةَ فَمِثْلُ ذَلِكَ ثُمَّ أَتَيْتُ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ . فَلَمَّا جَاوَزْتُهُ بَكَى قِيلَ مَا يُبْكِيكَ قَالَ يَا رَبِّ هَذَا الْغُلاَمُ الَّذِي بَعَثْتَهُ بَعْدِي يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِهِ الْجَنَّةَ أَكْثَرُ وَأَفْضَلُ مِمَّا يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي . ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ السَّابِعَةَ فَمِثْلُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنِ ابْنٍ وَنَبِيٍّ . ثُمَّ رُفِعَ لِيَ الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ فَسَأَلْتُ جِبْرِيلَ فَقَالَ هَذَا الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ يُصَلِّي فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ فَإِذَا خَرَجُوا مِنْهُ لَمْ يَعُودُوا فِيهِ آخِرَ مَا عَلَيْهِمْ ثُمَّ رُفِعَتْ لِي سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى فَإِذَا نَبِقُهَا مِثْلُ قِلاَلِ هَجَرٍ وَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ وَإِذَا فِي أَصْلِهَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ نَهْرَانِ بَاطِنَانِ وَنَهْرَانِ ظَاهِرَانِ فَسَأَلْتُ جِبْرِيلَ فَقَالَ أَمَّا الْبَاطِنَانِ فَفِي الْجَنَّةِ وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالْفُرَاتُ وَالنِّيلُ ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَىَّ خَمْسُونَ صَلاَةً فَأَتَيْتُ عَلَى مُوسَى فَقَالَ مَا صَنَعْتَ قُلْتُ فُرِضَتْ عَلَىَّ خَمْسُونَ صَلاَةً . قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ بِالنَّاسِ مِنْكَ إِنِّي عَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ وَإِنَّ أُمَّتَكَ لَنْ يُطِيقُوا ذَلِكَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي فَسَأَلْتُهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنِّي فَجَعَلَهَا أَرْبَعِينَ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ مَا صَنَعْتَ قُلْتُ جَعَلَهَا أَرْبَعِينَ . فَقَالَ لِي مِثْلَ مَقَالَتِهِ الأُولَى فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَجَعَلَهَا ثَلاَثِينَ فَأَتَيْتُ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِي مِثْلَ مَقَالَتِهِ الأُولَى فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي فَجَعَلَهَا عِشْرِينَ ثُمَّ عَشْرَةً ثُمَّ خَمْسَةً فَأَتَيْتُ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ لِي مِثْلَ مَقَالَتِهِ الأُولَى فَقُلْتُ إِنِّي أَسْتَحِي مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْهِ فَنُودِيَ أَنْ قَدْ أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِي وَأَجْزِي بِالْحَسَنَةِ عَشْرَ أَمْثَالِهَا " .
#449
Sahih
Anas bin Malik and Ibn Hazm said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Allah, the Mighty and Sublime, enjoined fifty prayers upon my Ummah, and I came back with that until I passed by Musa, peace be upon him, who said: 'What has your Lord enjoined upon your Ummah?' I said: 'He has enjoined fifty prayers on them.' Musa said to me: 'Go back to your Lord, the Mighty and Sublime, for your Ummah will not be able to do that.' So I went back to my Lord, the Mighty and Sublime, and He reduced a portion of it. Then I came back to Musa and told him, and he said: 'Go back to you Lord, for your Ummah will not be able to do that.' So I went back to my Lord, the Mighty and Sublime, and He said: 'They are five (prayers) but they are fifty (in reward), and the Word that comes from Me cannot be changed.' [1] I came back to Musa and he said: 'Go back to your Lord.' I said: 'I feel too shy before my Lord, the Mighty and Sublime.'" [1]See Surah Qaf 50:
انس بن مالک اور ابن حزم رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، تو میں انہیں لے کر لوٹا، تو موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزر ہوا، تو انہوں نے پوچھا: آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: اس نے ان پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں، تو موسیٰ علیہ السلام نے مجھ سے کہا: جا کر اپنے رب سے پھر سے بات کیجئے، آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، تو میں نے اپنے رب عزوجل سے بات کی، تو اللہ تعالیٰ نے اس میں سے آدھا ۱؎ معاف کر دیا، تو میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، اور میں نے انہیں اس کی خبر دی، تو انہوں نے کہا: اپنے رب سے پھر بات کیجئے، آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، چنانچہ میں نے اپنے رب سے پھر سے بات کی، تو اس نے کہا: یہ پانچ نمازیں ہیں جو ( اجر میں ) پچاس ( کے برابر ) ہیں، میرے نزدیک فرمان بدلا نہیں جاتا، پھر میں موسیٰ ( علیہ السلام ) کے پاس واپس آیا، تو انہوں نے کہا: اپنے رب سے جا کر پھر بات کیجئے، میں نے کہا: مجھے اپنے رب کے پاس ( باربار ) جانے سے شرم آ رہی ہے ۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَابْنُ حَزْمٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلاَةً فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى أَمُرَّ بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ مَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ قُلْتُ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلاَةً . قَالَ لِي مُوسَى فَرَاجِعْ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ . فَرَاجَعْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَوَضَعَ شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ . فَرَاجَعْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ لاَ يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَىَّ . فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ فَقُلْتُ قَدِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ " .
#450
Munkar
Anas bin Malik narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"I was brought an animal that was larger than a donkey and smaller than a mule, whose stride could reach as far as it could see. I mounted it, and Jibril was with me, and I set off. Then he said: 'Dismount and pray,' so I did that. He said: 'Do you know where you have prayed? You have prayed in Taibah, which will be the place of the emigration.' Then he said: 'Dismount and pray,' so I prayed. He said: 'Do you know where you have prayed? You have prayed in Mount Sinai, where Allah, the Mighty and Sublime, spoke to Musa, peace be upon him.' So I dismounted and prayed, and he said: 'Do you know where you have prayed? You have prayed in Bethlehem, where 'Eisa, peace be upon him, was born.' Then I entered Bait Al-Maqdis (Jerusalem) where the Prophets, peace be upon them, were assembled for me, and Jibril brought me forward to lead them in prayer. Then I was taken up to the first heaven, where I saw Adam, peace be upon him. Then I was taken up to the second heaven where I saw the maternal cousins 'Eisa and Yahya, peace be upon them. Then I was taken up to the third heaven where I saw Yusuf, peace be upon him. Then I was taken up to the fourth heaven where I saw Harun, peace be upon him. Then I was taken up to the fifth heaven where I saw Idris, peace be upon him. Then I was taken up to the sixth heaven where I saw Musa, peace be upon him. Then I was taken up to the seventh heaven where I saw Ibrahim, peace be upon him. Then I was taken up above seven heavens and we came to Sidrah Al-Muntaha and I was covered with fog. I fell down prostrate and it was said to me: '(Indeed) The day I created the heavens and the Earth, I enjoined upon you and your Ummah fifty prayers, so establish them, you and your Ummah.' I came back to Ibrahim and he did not ask me about anything, then I came to Musa and he said: 'How much did your Lord enjoin upon you and your Ummah?' I said: 'Fifty prayers.' He said: 'You will not be able to establish them, neither you nor your Ummah. Go back to your Lord and ask Him to reduce it.' So I went back to my Lord and He reduced it by ten. Then I came to Musa and he told me to go back, so I went back and He reduced it by ten. Then I came to Musa and he told me to go back, so I went back and He reduced it by ten. Then it was reduced it by ten. Then it was reduced to five prayers. He (Musa) said: 'Go back to you Lord and ask Him to reduce it, for two prayers were enjoined upon the Children of Israel but they did not establish them.' So I went back to my Lord and asked Him to reduce it, but He said: 'The day I created the heavens and the Earth, I enjoined fifty prayers upon you and your Ummah. Five is for fifty, so establish them, you and your Ummah.' I knew that this was what Allah, the Mighty and Sublime, had determined so I went back to Musa, peace be upon him, and he said: 'Go back.' But I knew that it was what Allah had determined, so I did not go back
یزید بن ابی مالک کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا ایک جانور لایا گیا، اس کا قدم وہاں پڑتا تھا جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی تھی، تو میں سوار ہو گیا، اور میرے ہمراہ جبرائیل علیہ السلام تھے، میں چلا، پھر جبرائیل نے کہا: اتر کر نماز پڑھ لیجئیے، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، انہوں نے پوچھا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ آپ نے طیبہ میں نماز پڑھی ہے، اور اسی کی طرف ہجرت ہو گی، پھر انہوں نے کہا: اتر کر نماز پڑھئے، تو میں نے نماز پڑھی، انہوں نے کہا: کیا جانتے ہیں کہ آپ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ آپ نے طور سینا پر نماز پڑھی ہے، جہاں اللہ عزوجل نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا تھا، پھر کہا: اتر کر نماز پڑھئے، میں نے اتر کر نماز پڑھی، انہوں نے پوچھا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ آپ نے بیت اللحم میں نماز پڑھی ہے، جہاں عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تھی، پھر میں بیت المقدس میں داخل ہوا، تو وہاں میرے لیے انبیاء علیہم السلام کو اکٹھا کیا گیا، جبرائیل نے مجھے آگے بڑھایا یہاں تک کہ میں نے ان کی امامت کی، پھر مجھے لے کر جبرائیل آسمان دنیا پر چڑھے، تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں آدم علیہ السلام موجود ہیں، پھر وہ مجھے لے کر دوسرے آسمان پر چڑھے، تو دیکھتا ہوں کہ وہاں دونوں خالہ زاد بھائی عیسیٰ اور یحییٰ علیہما السلام موجود ہیں، پھر تیسرے آسمان پر چڑھے، تو دیکھتا ہوں کہ وہاں یوسف علیہ السلام موجود ہیں، پھر چوتھے آسمان پر چڑھے تو وہاں ہارون علیہ السلام ملے، پھر پانچویں آسمان پر چڑھے تو وہاں ادریس علیہ السلام موجود تھے، پھر چھٹے آسمان پر چڑھے وہاں موسیٰ علیہ السلام ملے، پھر ساتویں آسمان پر چڑھے وہاں ابراہیم علیہ السلام ملے، پھر ساتویں آسمان کے اوپر چڑھے اور ہم سدرۃ المنتہیٰ تک آئے، وہاں مجھے بدلی نے ڈھانپ لیا، اور میں سجدے میں گر پڑا، تو مجھ سے کہا گیا: جس دن میں نے زمین و آسمان کی تخلیق کی تم پر اور تمہاری امت پر میں نے پچاس نمازیں فرض کیں، تو تم اور تمہاری امت انہیں ادا کرو، پھر میں لوٹ کر ابراہیم علیہ السلام کے پاس آیا، تو انہوں نے مجھ سے کچھ نہیں پوچھا، میں پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، تو انہوں نے پوچھا: تم پر اور تمہاری امت پر کتنی ( نمازیں ) فرض کی گئیں؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں، تو انہوں نے کہا: نہ آپ اسے انجام دے سکیں گے اور نہ ہی آپ کی امت، تو اپنے رب کے پاس واپس جایئے اور اس سے تخفیف کی درخواست کیجئے، چنانچہ میں اپنے رب کے پاس واپس گیا، تو اس نے دس نمازیں تخفیف کر دیں، پھر میں موسیٰ ( علیہ السلام ) کے پاس آیا، تو انہوں نے مجھے پھر واپس جانے کا حکم دیا، چنانچہ میں پھر واپس گیا تو اس نے ( پھر ) دس نمازیں تخفیف کر دیں، میں پھر موسیٰ ( علیہ السلام ) کے پاس آیا انہوں نے مجھے پھر واپس جانے کا حکم دیا، چنانچہ میں واپس گیا، تو اس نے مجھ سے دس نمازیں تخفیف کر دیں، پھر ( باربار درخواست کرنے سے ) پانچ نمازیں کر دی گئیں، ( اس پر بھی ) موسیٰ ( علیہ السلام ) نے کہا: اپنے رب کے حضور واپس جایئے اور تخفیف کی گزارش کیجئے، اس لیے کہ بنی اسرائیل پر دو نمازیں فرض کی گئیں تھیں، تو وہ اسے ادا نہیں کر سکے، چنانچہ میں اپنے رب کے حضور واپس آیا، اور میں نے اس سے تخفیف کی گزارش کی، تو اس نے فرمایا: جس دن میں نے زمین و آسمان پیدا کیا، اسی دن میں نے تم پر اور تمہاری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، تو اب یہ پانچ پچاس کے برابر ہیں، انہیں تم ادا کرو، اور تمہاری امت ( بھی ) ، تو میں نے جان لیا کہ یہ اللہ عزوجل کا قطعی حکم ہے، چنانچہ میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا، تو انہوں نے کہا: پھر جایئے، لیکن میں نے جان لیا تھا کہ یہ اللہ کا قطعی یعنی حتمی فیصلہ ہے، چنانچہ میں پھر واپس نہیں گیا ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُتِيتُ بِدَابَّةٍ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ خَطْوُهَا عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهَا فَرَكِبْتُ وَمَعِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَسِرْتُ فَقَالَ انْزِلْ فَصَلِّ . فَفَعَلْتُ فَقَالَ أَتَدْرِي أَيْنَ صَلَّيْتَ صَلَّيْتَ بِطَيْبَةَ وَإِلَيْهَا الْمُهَاجَرُ ثُمَّ قَالَ انْزِلْ فَصَلِّ . فَصَلَّيْتُ فَقَالَ أَتَدْرِي أَيْنَ صَلَّيْتَ صَلَّيْتَ بِطُورِ سَيْنَاءَ حَيْثُ كَلَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ ثُمَّ قَالَ انْزِلْ فَصَلِّ . فَنَزَلْتُ فَصَلَّيْتُ فَقَالَ أَتَدْرِي أَيْنَ صَلَّيْتَ صَلَّيْتَ بِبَيْتِ لَحْمٍ حَيْثُ وُلِدَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ . ثُمَّ دَخَلْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَجُمِعَ لِيَ الأَنْبِيَاءُ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ فَقَدَّمَنِي جِبْرِيلُ حَتَّى أَمَمْتُهُمْ ثُمَّ صُعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَإِذَا فِيهَا آدَمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ثُمَّ صُعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ فَإِذَا فِيهَا ابْنَا الْخَالَةِ عِيسَى وَيَحْيَى عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ ثُمَّ صُعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ فَإِذَا فِيهَا يُوسُفُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ثُمَّ صُعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ فَإِذَا فِيهَا هَارُونُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ثُمَّ صُعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ فَإِذَا فِيهَا إِدْرِيسُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ثُمَّ صُعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ فَإِذَا فِيهَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ ثُمَّ صُعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَإِذَا فِيهَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ثُمَّ صُعِدَ بِي فَوْقَ سَبْعِ سَمَوَاتٍ فَأَتَيْنَا سِدْرَةَ الْمُنْتَهَى فَغَشِيَتْنِي ضَبَابَةٌ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا فَقِيلَ لِي إِنِّي يَوْمَ خَلَقْتُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ فَرَضْتُ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمَّتِكَ خَمْسِينَ صَلاَةً فَقُمْ بِهَا أَنْتَ وَأُمَّتُكَ . فَرَجَعْتُ إِلَى إِبْرَاهِيمَ فَلَمْ يَسْأَلْنِي عَنْ شَىْءٍ ثُمَّ أَتَيْتُ عَلَى مُوسَى فَقَالَ كَمْ فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمَّتِكَ قُلْتُ خَمْسِينَ صَلاَةً . قَالَ فَإِنَّكَ لاَ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَقُومَ بِهَا أَنْتَ وَلاَ أُمَّتُكَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ . فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي فَخَفَّفَ عَنِّي عَشْرًا ثُمَّ أَتَيْتُ مُوسَى فَأَمَرَنِي بِالرُّجُوعِ فَرَجَعْتُ فَخَفَّفَ عَنِّي عَشْرًا ثُمَّ رُدَّتْ إِلَى خَمْسِ صَلَوَاتٍ . قَالَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ فَإِنَّهُ فَرَضَ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ صَلاَتَيْنِ فَمَا قَامُوا بِهِمَا . فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَسَأَلْتُهُ التَّخْفِيفَ فَقَالَ إِنِّي يَوْمَ خَلَقْتُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ فَرَضْتُ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمَّتِكَ خَمْسِينَ صَلاَةً فَخَمْسٌ بِخَمْسِينَ فَقُمْ بِهَا أَنْتَ وَأُمَّتُكَ . فَعَرَفْتُ أَنَّهَا مِنَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى صِرَّى فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ ارْجِعْ فَعَرَفْتُ أَنَّهَا مِنَ اللَّهِ صِرَّى - أَىْ حَتْمٌ - فَلَمْ أَرْجِعْ .