#3776
Daif
It was narrated from Mus'ab bin Sa'd that his father said:"We were talking about something, and I had only recently left Jahiliyyah behind, so I swore by Al-Lat and Al-'Uzza. The Companions of the Messenger of Allah said to me: 'What a bad thing you have said! Go to the Messenger of Allah and tell him, for we think that you have committed Kufr.' So I went to him and told him, and he said to me: 'Say: La ilaha illallah wahdahu la sharika lah (There is none worthy of worship except Allah alone, without partner) three times, and seek refuge with Allah from the Shaitan three times, and spit dryly to your left three times, and do not say that again
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک معاملے کا ذکر کر رہے تھے اور میں نیا نیا مسلمان ہوا تھا، میں نے لات و عزیٰ کی قسم کھا لی، تو مجھ سے صحابہ کرام نے کہا کہ تم نے بری بات کہی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ کو اس کی خبر دو کیونکہ ہمارے خیال میں تو تم نے کفر کا ارتکاب کیا ہے، چنانچہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تین بار: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له» کہو اور تین بار شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو اور تین بار اپنے بائیں طرف تھوک دو اور پھر دوبارہ کبھی ایسا نہ کہنا ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا نَذْكُرُ بَعْضَ الأَمْرِ وَأَنَا حَدِيثُ، عَهْدٍ بِالْجَاهِلِيَّةِ فَحَلَفْتُ بِاللاَّتِ وَالْعُزَّى فَقَالَ لِي أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِئْسَ مَا قُلْتَ ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبِرْهُ فَإِنَّا لاَ نَرَاكَ إِلاَّ قَدْ كَفَرْتَ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِي " قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَاتْفُلْ عَنْ يَسَارِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَلاَ تَعُدْ لَهُ " .
#3777
Daif
Mus'ab bin Sa'd narrated that his father said:"I swore by Al-Lat and Al-'Uzza and my companions said to me: 'What a bad thing you have said! You have said something horrible.' So I went to the Messenger of Allah and told him about that. He said: 'Say: La ilaha illallah wahdahu la sharika lah, lahul-mulk wa lahul-hamd wa huwa 'ala kulli shay'in qadir (There is none worthy of worship except Allah with no partner or associate; His is the Dominion, to Him be all praise, and He is able to do all things). Spit to your left three times, seek refuge with Allah from the Shaitan, and do not say that again
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے لات و عزیٰ کی قسم کھا لی تو میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا: تم نے بری بات کہی ہے، تم نے فحش بات کہی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا تذکرہ کیا، تو آپ نے فرمایا: کہو: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اور تین بار بائیں طرف تھوک لو اور شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرو اور پھر کبھی ایسا نہ کرنا ۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ حَلَفْتُ بِاللاَّتِ وَالْعُزَّى فَقَالَ لِي أَصْحَابِي بِئْسَ مَا قُلْتَ قُلْتَ هُجْرًا . فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ وَانْفُثْ عَنْ يَسَارِكَ ثَلاَثًا وَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثُمَّ لاَ تَعُدْ " .
#3778
Sahih
Al-Bara' bin 'Azib said:"The Messenger of Allah commanded us to do seven things: He commanded us to attend funerals, visit the sick, to reply (say: Yarhamuk Allah [may Allah have mercy on you]) to one who sneezes, to accept invitations, to support the oppressed, to fulfill oaths (when adjured by another) and to return greetings of Salaam
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا: آپ نے ہمیں جنازوں کے پیچھے جانے، بیمار کی عیادت کرنے، چھینکنے والے کا جواب دینے، دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، قسم پوری کرنے اور سلام کا جواب دینے کا حکم دیا ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسَبْعٍ أَمَرَنَا بِاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَعِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ وَرَدِّ السَّلاَمِ .
#3779
Sahih
It was narrated from Abu Musa that the Prophet said:"There is nothing on Earth that I swear an oath upon, and I see that something else is better, but I do that which is better
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین پر کوئی ایسی قسم نہیں جو میں کھاؤں پھر اس کے سوا کو اس سے بہتر سمجھوں مگر میں وہی کروں گا ( جو بہتر ہو گا ) ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ زَهْدَمٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا عَلَى الأَرْضِ يَمِينٌ أَحْلِفُ عَلَيْهَا فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلاَّ أَتَيْتُهُ " .
#3780
Sahih
It was narrated that Abu Musa Al-Ash'ari said:"I came to the Messenger of Allah with a group of the Ash'ari people and asked him to give us animals to ride. He said: 'By Allah, I cannot give you anything to ride and I have nothing to give you to ride.' We stayed as long as Allah willed, then some camels were brought to him. He ordered that we be given three fine-looking camels. When we left, we said to one another: 'We came to the Messenger of Allah to ask him for animals to ride, and he swore by Allah that he would not give us anything to ride, then he gave us something.'" Abu Musa said: "We came to the Prophet and told him about that. He said: 'I did not give you animals to ride, rather Allah gave you them to ride. By Allah, I do not swear an oath and then see something better than it, but I offer expiation for my oath and do that which is better
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، ہم آپ سے سواریاں مانگ رہے تھے۱؎، آپ نے فرمایا: قسم اللہ کی! میں تمہیں سواریاں نہیں دے سکتا، میرے پاس کوئی سواری ہے بھی نہیں جو میں تمہیں دوں ، پھر ہم جب تک اللہ نے چاہا ٹھہرے رہے، اتنے میں کچھ اونٹ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے تین اونٹوں کا حکم دیا، تو جب ہم چلنے لگے تو ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اللہ تعالیٰ ہمیں برکت نہیں دے گا۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواریاں طلب کرنے آئے تو آپ نے قسم کھائی کہ آپ ہمیں سواریاں نہیں دیں گے۔ ابوموسیٰ اشعری کہتے ہیں: تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں سواریاں نہیں دی ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے دی ہیں، قسم اللہ کی! میں کسی بات کی قسم کھاتا ہوں، پھر میں اس کے علاوہ کو بہتر سمجھتا ہوں تو میں اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں اور جو بہتر ہوتا ہے کرتا ہوں ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَهْطٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ " وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ " . ثُمَّ لَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ فَأُتِيَ بِإِبِلٍ فَأَمَرَ لَنَا بِثَلاَثِ ذَوْدٍ فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ لاَ يُبَارِكُ اللَّهُ لَنَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَحْمِلَنَا . قَالَ أَبُو مُوسَى فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ بَلِ اللَّهُ حَمَلَكُمْ إِنِّي وَاللَّهِ لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلاَّ كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " .
#3781
Hasan Sahih
Amr bin Shu'aib narrated from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah said:"Whoever swears an oath, then sees something better than it, let him do that which is better
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی قسم کھائے پھر اس کے سوا کو اس سے بہتر سمجھے تو اسے چاہیئے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے اور وہی کام انجام دے جو بہتر ہے ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " .
#3782
Sahih
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Samurah that the Messenger of Allah said:"If any one of you swears an oath, then he sees something better than it, let him offer expiation for his oath, and look at what is better and do it
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی قسم کھائے پھر اس کے سوا کو اس سے بہتر سمجھے تو چاہیئے کہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے اور دیکھے کہ کون سی بات بہتر ہے تو وہی کرے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَنْظُرِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ فَلْيَأْتِهِ " .
#3783
Sahih
Abdur-Rahman bin Samurah said:"The Messenger of Allah said: 'If you swear an oath, offer expiation for your oath, then do that which is better
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم قسم کھاؤ تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو پھر وہ کام کرو جو بہتر ہو ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ ثُمَّ ائْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " .
#3784
Sahih
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Samurah that the Prophet said:"If you swear an oath, then you see something better than it, then offer expiation for your oath, and do that which is better
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی بات کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہی کرو جو بہتر ہے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، وَذَكَرَ، كَلِمَةً مَعْنَاهَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَائْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " .
#3785
Sahih
It was narrated that 'Adiyy bin Hatim said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever swears an oath, then sees something better than it, let him do that which is better and offer expiation for his oath
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی بات کی قسم کھائے پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر پائے تو وہی کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ يُحَدِّثُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ " .
#3786
Sahih
It was narrated that 'Adiyy bin Hatim said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever swears an oath, then sees something better than it, let him leave his oath, and do that which is better, and offer expiation for it
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی بات کی قسم کھائے پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر بات پائے تو اپنی قسم کو ترک کر دے اور وہی کرے جو بہتر ہو، اور قسم کا کفارہ ادا کرے ۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَدَعْ يَمِينَهُ وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيُكَفِّرْهَا " .
#3787
Sahih
It was narrated that 'Adiyy bin Hatim said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever swears an oath, then sees something better than it, let him do that which is better and leave his oath
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی بات کی قسم کھائے، پھر اس سے بہتر بات پائے تو وہی کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کو چھوڑ دے ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، قَالَ سَمِعْتُ تَمِيمَ بْنَ طَرَفَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيَتْرُكْ يَمِينَهُ " .
#3788
Sahih
It was narrated from Abu Al-Ahwas that his father said:"I said: 'O Messenger of Allah, I have a cousin, and I come to him and ask him (for help) but he does not give me anything, and he does not uphold the ties of kinship with me. Then, when he needs me, he comes to me and asks me (for help). I swore that I would not give him anything, nor uphold the ties of kinship with him.' He commanded me to do that which is better and to offer expiation for my oath
ابوالاحوص کے والد مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے میرے چچا زاد بھائی کو دیکھا؟ میں اس کے پاس اس سے کچھ مانگنے آتا ہوں تو وہ مجھے نہیں دیتا اور مجھ سے صلہ رحمی نہیں کرتا ہے ۱؎، پھر اسے میری ضرورت پڑتی ہے تو وہ میرے پاس مجھ سے مانگنے آتا ہے، میں نے قسم کھا لی ہے کہ میں نہ اسے دوں گا اور نہ اس سے صلہ رحمی کروں گا، تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں وہی کروں جو بہتر ہو اور میں اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزَّعْرَاءِ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ ابْنَ عَمٍّ لِي أَتَيْتُهُ أَسْأَلُهُ فَلاَ يُعْطِينِي وَلاَ يَصِلُنِي ثُمَّ يَحْتَاجُ إِلَىَّ فَيَأْتِينِي فَيَسْأَلُنِي وَقَدْ حَلَفْتُ أَنْ لاَ أُعْطِيَهُ وَلاَ أَصِلَهُ فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَأُكَفِّرَ عَنْ يَمِينِي .
#3789
Sahih
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Samurah said:"The Prophet said to me: 'If you swear an oath, and you see something that is better, then do that which is better and offer expiation for your oath
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی چیز کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ چیز کو اس سے بہتر پاؤ تو وہی کرو جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِذَا آلَيْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ " .
#3790
Sahih
Abdur-Rahman bin Samurah said:"The Messenger of Allah said: 'If you swear an oath, then you see something that is better, then do that which is better and offer expiation for your oath
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی بات کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ بات کو اس سے بہتر پاؤ تو وہی کرو جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ " .
#3791
Sahih
Abdur-Rahman bin Samurah said:"The Messenger of Allah said to me: 'If you swear an oath, then you see something that is better, do that which is better, and offer expiation for your oath
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی بات کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ بات کو اس سے بہتر پاؤ تو وہی کرو جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، فِي حَدِيثِهِ عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ " .
#3792
Hasan Sahih
Amr bin Shu'aib narrated from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah said:"There is no vow and no oath concerning that which one does not possess, nor to commit sin, nor to sever the ties of kinship
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس چیز میں کوئی نذر، اور کوئی قسم نہیں ہوتی، جس کے تم مالک نہیں ہو اور نہ ہی معصیت اور قطع رحمی میں قسم ہے ۱؎
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ نَذْرَ وَلاَ يَمِينَ فِيمَا لاَ تَمْلِكُ وَلاَ فِي مَعْصِيَةٍ وَلاَ قَطِيعَةِ رَحِمٍ " .
#3793
Sahih
It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet said:"Whoever swears an oath and says: 'If Allah wills', then if he wishes he may go ahead, and if he wishes he may not, without having broken his oath
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قسم کھائے اور ان شاءاللہ ( اگر اللہ نے چاہا ) کہے تو اگر چاہے تو وہ قسم پوری کرے اور اگر چاہے تو پوری نہ کرے، وہ قسم توڑنے والا نہیں ہو گا ۱؎ ۔
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى فَإِنْ شَاءَ مَضَى وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ غَيْرَ حَنِثٍ " .
#3794
Sahih
It was narrated from 'Umar bin Al-Khattab that the Prophet said:"Actions are but by intentions, and each person will have but that which he intended. Thus, he whose emigration was for the sake of Allah and His Messenger, his emigration was for the sake of Allah and His Messenger, and he whose emigration was to achieve some worldly gain or to take some woman in marriage, his emigration was for that for which he emigrated
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور آدمی کو اسی کا ثواب ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہو، تو جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو گی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہو گی جس کی خاطر اس نے ہجرت کی ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّمَا لاِمْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ " .
#3795
Sahih
Ubaid bin 'Umair said:I heard 'Aishah say: "The Prophet used to stay with Zainab bint Jahsh and drink honey at her house. Hafsah and I agreed that if the Prophet came to either of us, she would say: 'I detect the smell of Maghafir (a nasty-smelling gum) on you. Have you eaten Maghafir?' He went to one of them and she said that to him. He said: 'No, rather I drank honey at the house of Zainab bint Jahsh, but I will never do it again.' Then the following was revealed: 'O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you' up to: 'If you two turn in repentance to Allah' -'Aishah and Hafsah- 'And (remember) when the Prophet disclosed a matter in confidence to one of his wives.' refers to him saying: 'No, rather I drank honey
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پیتے تھے، میں نے اور حفصہ نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے: مجھے آپ ( کے منہ ) سے مغافیر ۱؎ کی بو محسوس ہو رہی ہے، آپ نے مغافیر کھائی ہے۔ آپ ان دونوں میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے آپ سے یہی کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور آئندہ اسے نہیں پیوں گا ۔ تو آیت کریمہ «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» سے ( آیت کا سیاق یہ ہے کہ ) اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں ( التحریم: ۱ ) «إن تتوبا إلى اللہ» ( آیت کا سیاق یہ ہے کہ ) ( اے نبی کی بیویو! ) اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہتر ہے ) ( التحریم: ۴ ) تک نازل ہوئی، اس سے عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما مراد ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: میں نے تو شہد پیا ہے ( مگر اب نہیں پیوں گا ) کی وجہ سے آیت کریمہ «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے چپکے سے ایک بات کہی ( التحریم: ۳ ) نازل ہوئی۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ زَعَمَ عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلاً فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " لاَ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ " . فَنَزَلَتْ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ } إِلَى { إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ } عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ { وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا } لِقَوْلِهِ " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً " .
#3796
Sahih
It was narrated that Jabir said:"I entered the house of the Prophet with him and there was some bread and vinegar. The Messenger of Allah said: 'Eat; what a good condiment is vinegar
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے گھر میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ روٹی کا ایک ٹکڑا اور سرکہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ، سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بَيْتَهُ فَإِذَا فِلَقٌ وَخَلٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلْ فَنِعْمَ الإِدَامُ الْخَلُّ " .
#3797
Sahih
It was narrated that Qais bin Abi Gharazah said:"At the time of the Messenger of Allah we used to be called Samasir (brokers). The Messenger of Allah came to us when we were selling and called us by a name that was better than that. He said: 'O merchants (Tujjar), this selling involves lies and (false) oaths, so mix some charity with it
قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ ہمیں «سماسر» ( دلال ) کہا جاتا تھا، ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہم خرید و فروخت کر رہے تھے تو آپ نے ہمیں ہمارے نام سے بہتر ایک نام دیا، آپ نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! خرید و فروخت میں قسم اور جھوٹ ۱؎ بھی شامل ہو جاتی ہیں تو تم اپنی خرید و فروخت میں صدقہ ملا لیا کرو ۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ كُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَبِيعُ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ مِنِ اسْمِنَا فَقَالَ " يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ فَشُوبُوا بَيْعَكُمْ بِالصَّدَقَةِ " .
#3798
Sahih
It was narrated that Qais bin Abi Gharazah said:"We used to sell in Al-Baqi, and the Messenger of Allah came to us. We used to be called Samasir (brokers) but he said: 'O merchants!' And called us by a name that was better than our name. Then he said: 'This selling involves (false) oaths and lies, so mix some charity with it
قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ بقیع میں خرید و فروخت کرتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ہم لوگوں کو«سماسرہ» ( دلال ) کہا جاتا تھا، تو آپ نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! آپ نے ہمیں ایک ایسا نام دیا جو ہمارے نام سے بہتر تھا، پھر فرمایا: خرید و فروخت میں ( بغیر قصد و ارادے کے ) قسم اور جھوٹ کی باتیں شامل ہو جاتی ہیں تو اس میں صدقہ ملا لیا کرو ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَعَاصِمٍ، وَجَامِعٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ كُنَّا نَبِيعُ بِالْبَقِيعِ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ فَقَالَ " يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ " . فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ مِنِ اسْمِنَا ثُمَّ قَالَ " إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ " .
#3799
Sahih
It was narrated that Qais bin Abi Gharazah said:"The Prophet came to us when we were in the marketplace and said: 'This marketplace is filled with idle talk and (false) oaths, so mix some charity with it
قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ بازار میں تھے کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور فرمایا: ان بازاروں میں ( بغیر قصد و ارادے کے ) غلط اور جھوٹی باتیں آ ہی جاتی ہیں، لہٰذا تم اس میں صدقہ ملا لیا کرو ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ أَتَانَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ فِي السُّوقِ فَقَالَ " إِنَّ هَذِهِ السُّوقَ يُخَالِطُهَا اللَّغْوُ وَالْكَذِبُ فَشُوبُوهَا بِالصَّدَقَةِ " .
#3800
Sahih
It was narrated that Qais bin Abi Gharazah said:"In Al-Madinah we used to buy and sell Wasqs (of goods), and we used to call ourselves Samasir (brokers), and the people used to call us like that. The Messenger of Allah came out to us one day, and called us by a name that was better than that which we called ourselves and which the people called us. He said: 'O Tujjar (traders), your selling involves (false) oaths and lies, so mix some charity with it
قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مدینے میں وسق بیچتے اور خریدتے تھے، اور ہم اپنے کو «سماسرہ» ( دلال ) کہتے تھے، لوگ بھی ہمیں دلال کہتے تھے۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکل کر آئے تو آپ نے ہمیں ایک ایسا نام دیا جو اس نام سے بہتر تھا جو ہم اپنے لیے کہتے تھے یا لوگ ہمیں اس نام سے پکارتے تھے، آپ نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! تمہاری خرید و فروخت میں ( بلا قصد و ارادے کے ) قسم اور جھوٹ کی باتیں بھی آ جاتی ہیں تو تم اس میں صدقہ ملا لیا کرو ۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ كُنَّا بِالْمَدِينَةِ نَبِيعُ الأَوْسَاقَ وَنَبْتَاعُهَا وَكُنَّا نُسَمِّي أَنْفُسَنَا السَّمَاسِرَةَ وَيُسَمِّينَا النَّاسُ فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ مِنَ الَّذِي سَمَّيْنَا أَنْفُسَنَا وَسَمَّانَا النَّاسُ فَقَالَ " يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّهُ يَشْهَدُ بَيْعَكُمُ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ " .