#3676
Sahih
It was narrated from An-Nu'man bin Bashir that his father gave him a present, and his mother said:"Ask the Prophet to bear witness to what you have given to my son." So he came to the Prophet and told him about that, and the Prophet did not want to bear witness to it
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد نے انہیں ایک عطیہ دیا، تو ان کی ماں نے ان کے والد سے کہا کہ آپ نے جو چیز میرے بیٹے کو دی ہے اس کے دینے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا دیجئیے، چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اس کے لیے گواہ بننے کو ناپسند کیا۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ، نَحَلَهُ نُحْلاً فَقَالَتْ لَهُ أُمُّهُ أَشْهِدِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَلَى مَا نَحَلْتَ ابْنِي . فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَكَرِهَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَشْهَدَ لَهُ .
#3677
Sahih
It was narrated from Bashir that he gave his son a slave as a present, then he came to the Prophet and he wanted the Prophet to bear witness to that. He said:"Have you given a similar present to all of your children?" He said: "No." He said: "Then take (your present) back
بشیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو ایک غلام بطور عطیہ دیا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس ارادہ سے آئے کہ آپ کو اس پر گواہ بنا دیں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنے ہر بیٹے کو ایسا ہی عطیہ دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو اسے لوٹا لو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ، - يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ - عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ بَشِيرٍ، أَنَّهُ نَحَلَ ابْنَهُ غُلاَمًا فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَرَادَ أَنْ يُشْهِدَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ مِثْلَ ذَا " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَارْدُدْهُ " .
#3678
Sahih
It was narrated from Hisham bin 'Urwah, from his father, that Bashir came to the Prophet and said:"O Prophet of Allah, I have given An-Nu'man a present." He said: "Have you given something to his brothers?" He said: "No." He said: "Then take it back
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ بشیر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے نبی! میں نے ( اپنے بیٹے ) نعمان کو ایک عطیہ دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اس کے بھائیوں کو بھی دیا ہے؟“، انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”جو دیا ہے اسے واپس لے لو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ بَشِيرًا، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ نِحْلَةً . قَالَ " أَعْطَيْتَ لإِخْوَتِهِ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَارْدُدْهُ " .
#3679
Sahih
It was narrated that An-Nu'man said that his father took him to the Prophet and said:"Bear witness that I have given An-Nu'man such and such of my wealth as a gift." He said: "Have you given all your children a present like that which you have given to An-Nu'man?
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ان کے والد انہیں اٹھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور کہا: آپ گواہ رہیں میں نے اپنے مال میں سے نعمان کو فلاں اور فلاں چیزیں بطور عطیہ دی ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنے تمام بیٹوں کو وہی دی ہیں جو نعمان کو دی ہیں؟“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ، قَالَ انْطَلَقَ بِهِ أَبُوهُ يَحْمِلُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ اشْهَدْ أَنِّي قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ مِنْ مَالِي كَذَا وَكَذَا . قَالَ " كُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ مِثْلَ الَّذِي نَحَلْتَ النُّعْمَانَ " .
#3680
Sahih
It was narrated from An-Nu'man that his father brought him to the Prophet to bear witness to a present that he gave to him. He said:"Have you given all your children a present like that which you have given to him?" He said: "No." He said: "I will not bear witness to anything. Will it not please you if they were all to treat you with equal respect?" He said: "Of course." He said: "Then no (I will not do it)
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد انہیں ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس ارادہ سے آئے کہ انہوں نے انہیں خاص طور پر عطیہ دیا ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا دیں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنے سبھی لڑکوں کو ویسا ہی دیا ہے جیسا تم نے اسے دیا ہے؟“، انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ( اس طرح کی ) کسی چیز پر گواہ نہیں بنتا۔ کیا یہ بات تمہیں اچھی نہیں لگتی کہ وہ سب تمہارے ساتھ اچھے سلوک میں یکساں اور برابر ہوں“، انہوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ نے فرمایا: ”تب تو یہ نہیں ہو سکتا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ النُّعْمَانِ، أَنَّ أَبَاهُ، أَتَى بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُشْهِدُ عَلَى نُحْلٍ نَحَلَهُ إِيَّاهُ . فَقَالَ " أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَ مَا نَحَلْتَهُ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَلاَ أَشْهَدُ عَلَى شَىْءٍ أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا إِلَيْكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً " . قَالَ بَلَى . قَالَ " فَلاَ إِذًا " .
#3681
Sahih
An-Nu'man bin Bashir Al-Ansari narrated that his mother, the daughter of Rawahah, asked his father to give some of his wealth to her son. He deferred that for a year, then he decided to give it to him. She said:"I will not be pleased until you ask the Messenger of Allah to bear witness." He said: "O Messenger of Allah, the mother of this boy, the daughter of Rawahah, insisted that I give a gift to him." The Messenger of Allah said: "O Bashir, do you have any other children besides this one?" He said: "Yes." The Messenger of Allah said: "Have you given all of them a gift like that which you have given to this son of yours?" He said: "No." The Messenger of Allah said: "Then do not ask me to bear witness, for I will not bear witness to unfairness
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کی ماں رواحہ کی بیٹی نے ان کے باپ سے مال میں سے بعض چیزیں ہبہ کرنے کا مطالبہ کیا تو وہ انہیں سال بھر ٹالتے رہے، پھر ان کے جی میں کچھ آیا تو اس ( بیٹے ) کو وہ عطیہ دے دیا۔ ان کی ماں نے کہا: میں اتنے سے مطمئن اور خوش نہیں ہوں جب تک کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ نہیں بنا دیتے تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے اس بچے کو جو عطیہ دیا ہے تو اس لڑکے کی ماں، رواحہ کی بیٹی، اس پر مجھ سے جھگڑتی ہے ( کہ میں اس پر آپ کو گواہ کیوں نہیں بناتا؟ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بشیر! اس لڑکے کے علاوہ بھی تمہارا اور کوئی لڑکا ہے؟“، کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے سبھی لڑکوں کو ایسا ہی عطیہ دیا ہے جیسا تم نے اپنے اس بیٹے کو دیا ہے“، انہوں نے کہا: نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو تم مجھے گواہ نہ بناؤ، کیونکہ میں ظلم و زیادتی کا گواہ نہیں بن سکتا ۱؎“۔
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ الأَنْصَارِيُّ، أَنَّ أُمَّهُ ابْنَةَ رَوَاحَةَ، سَأَلَتْ أَبَاهُ بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ مِنْ مَالِهِ لاِبْنِهَا فَالْتَوَى بِهَا سَنَةً ثُمَّ بَدَا لَهُ فَوَهَبَهَا لَهُ فَقَالَتْ لاَ أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّ هَذَا ابْنَةَ رَوَاحَةَ قَاتَلَتْنِي عَلَى الَّذِي وَهَبْتُ لَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا بَشِيرُ أَلَكَ وَلَدٌ سِوَى هَذَا " . قَالَ نَعَمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَفَكُلُّهُمْ وَهَبْتَ لَهُمْ مِثْلَ الَّذِي وَهَبْتَ لاِبْنِكَ هَذَا " . قَالَ لاَ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَلاَ تُشْهِدْنِي إِذًا فَإِنِّي لاَ أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ " .
#3682
Sahih
It was narrated that An-Nu'man said:"My mother asked my father for a gift and he gave it to me. She said: 'I will not be contented until you ask the Messenger of Allah to bear witness.' So my father took me by the hand, as I was still a boy, and went to the Messenger of Allah. He said: 'O Messenger of Allah, the mother of this boy, the daughter of Rawahah, asked me for a gift, and she wanted me to ask you to bear witness to that.' He said: 'O Bashir, do you have any other child apart from this one?' He said: 'Yes.' He said: 'Have you given him gifts like that which you have given to this one?' He said: 'No.' He said: 'Then do not ask me to bear witness, for I will not bear witness to unfairness
نعمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری ماں نے میرے والد سے مطالبہ کیا کہ میرے بیٹے کو کچھ عطیہ دو، تو انہوں نے: مجھے عطیہ دیا۔ میری ماں نے کہا: میں اس پر راضی ( و مطمئن ) نہیں ہوں جب تک کہ میں اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہ بنا دوں، تو میرے والد نے میرا ہاتھ پکڑا، اس وقت میں ایک چھوٹا لڑکا تھا، مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! اس بچے کی ماں رواحہ کی بیٹی نے مجھ سے کچھ عطیہ کا مطالبہ کیا ہے اور اس کی خوشی اس میں ہے کہ میں اس پر آپ کو گواہ بنا دوں۔ تو آپ نے فرمایا: ”بشیر! کیا تمہارا اس کے علاوہ بھی کوئی بیٹا ہے؟“، کہا: ہاں، آپ نے پوچھا: ”کیا تم نے جیسا اسے دیا ہے اسے بھی دیا ہے؟“ کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”پھر تو تم مجھے گواہ نہ بناؤ، کیونکہ میں ظلم و زیادتی پر گواہ نہیں بنتا“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ، قَالَ سَأَلَتْ أُمِّي أَبِي بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ فَوَهَبَهَا لِي فَقَالَتْ لاَ أَرْضَى حَتَّى أُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ فَأَخَذَ أَبِي بِيَدِي وَأَنَا غُلاَمٌ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّ هَذَا ابْنَةَ رَوَاحَةَ طَلَبَتْ مِنِّي بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ وَقَدْ أَعْجَبَهَا أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَى ذَلِكَ . قَالَ " يَا بَشِيرُ أَلَكَ ابْنٌ غَيْرُ هَذَا " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَوَهَبْتَ لَهُ مِثْلَ مَا وَهَبْتَ لِهَذَا " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَلاَ تُشْهِدْنِي إِذًا فَإِنِّي لاَ أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ " .
#3683
Sahih Lighairihi
It was narrated that 'Amir said:"I was told that Bashir bin Sa'd came to the Messenger of Allah and said: 'O Messenger of Allah, my wife 'Amrah bint Rawahah told me to give a gift to her son Nu'man, and she told me to ask you to bear witness to that.' The Prophet said: 'Do you have any other children?' He said: 'Yes.' He said: 'Have you given them something like that which you have given to this one?' He said: 'No.' He said: 'Then do not ask me to bear witness to unfairness
عامر شعبی کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی کہ بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے کہا کہ میری بیوی عمرہ بنت رواحہ نے مجھ سے فرمائش کی ہے کہ میں اس کے بیٹے نعمان کو کچھ ہبہ کروں، اور اس کی فرمائش یہ بھی ہے کہ جو میں اسے دوں اس پر آپ کو گواہ بنا دوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس اس کے سوا اور بھی بیٹے ہیں؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے انہیں بھی ویسا ہی دیا ہے جیسا تم نے اس لڑکے کو دیا ہے؟“، انہوں نے کہا: نہیں تو آپ نے فرمایا: ”پھر تو تم مجھے ظلم و زیادتی پر گواہ نہ بناؤ“۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ أُخْبِرْتُ أَنَّ بَشِيرَ بْنَ سَعْدٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ امْرَأَتِي عَمْرَةَ بِنْتَ رَوَاحَةَ أَمَرَتْنِي أَنْ أَتَصَدَّقَ عَلَى ابْنِهَا نُعْمَانَ بِصَدَقَةٍ وَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَى ذَلِكَ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " هَلْ لَكَ بَنُونَ سِوَاهُ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَأَعْطَيْتَهُمْ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَ لِهَذَا " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَلاَ تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ " .
#3684
Sahih Lighairihi
It was narrated from 'Abdullah bin 'Utbah bin Mas'ud that a man came to the Prophet and said:"I have given a gift to my son, so bear witness." He said: "Do you have any other children?" He said: "Yes." He said: "Have you given them something like that which you have given him?" He said: "No." He said: "Shall I bear witness to unfairness?
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میں نے اپنے بیٹے کو کچھ ہبہ کیا ہے تو آپ اس پر گواہ ہو جائیے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا اس کے علاوہ بھی تمہارے پاس کوئی اور لڑکا ہے؟“، انہوں نے کہا: جی ہاں، ( ہے ) آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے انہیں بھی ایسا ہی دیا ہے جیسے تم نے اسے دیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تو کیا میں ظلم پر گواہی دوں گا؟“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - وَقَالَ مُحَمَّدٌ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى ابْنِي بِصَدَقَةٍ فَاشْهَدْ فَقَالَ " هَلْ لَكَ وَلَدٌ غَيْرُهُ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " أَعْطَيْتَهُمْ كَمَا أَعْطَيْتَهُ " . قَالَ لاَ . قَالَ " أَأَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ " .
#3685
Sahih Isnaad
An-Nu'man bin Bashir said:"My father took me to the Prophet to ask him to bear witness to something that he had given to me. He said: 'Do you have any other children?' He said: 'Yes.' He gestured with his hand held horizontally like this, (saying): 'Why don't you treat them all equally?
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد مجھے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، مجھے ایک چیز دی تھی اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک چیز پر گواہ بنانا چاہتے تھے جو انہوں نے مجھے دی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے اس لڑکے کے علاوہ بھی کوئی اور لڑکا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں ہے، آپ نے اپنا پورا ہاتھ ہتھیلی سمیت ایک دم سیدھا پھیلاتے ہوئے فرمایا: ”تم نے اس طرح ان کے درمیان برابری کیوں نہ رکھی ۱؎؟“۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ فِطْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ صُبَيْحٍ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ ذَهَبَ بِي أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُشْهِدُهُ عَلَى شَىْءٍ أَعْطَانِيهِ فَقَالَ " أَلَكَ وَلَدٌ غَيْرُهُ " . قَالَ نَعَمْ . وَصَفَّ بِيَدِهِ بِكَفِّهِ أَجْمَعَ كَذَا أَلاَ سَوَّيْتَ بَيْنَهُمْ .
#3686
Sahih Isnaad
An-Nu'man said, when he was delivering a Khutbah:"My father took me to the Messenger of Allah to ask him to bear witness to a gift that he had given me. He said: 'Do you have any other children besides him?' He said: 'Yes.' He said: 'Treat them equally
نعمان رضی الله عنہ نے دوران خطبہ کہا کہ میرے والد مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گئے، وہ آپ کو ایک عطیہ پر گواہ بنا رہے تھے تو آپ نے پوچھا: ”کیا اس کے علاوہ تمہارے اور بھی بیٹے ہیں؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں ( اور بھی بیٹے ہیں ) تو آپ نے فرمایا: ”ان کے درمیان انصاف اور برابری کا معاملہ کرو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ، يَقُولُ وَهُوَ يَخْطُبُ انْطَلَقَ بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُشْهِدُهُ عَلَى عَطِيَّةٍ أَعْطَانِيهَا فَقَالَ " هَلْ لَكَ بَنُونَ سِوَاهُ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " سَوِّ بَيْنَهُمْ " .
#3687
Sahih
An-Nu'man bin Bashir delivered a Khutbah and said:"The Messenger of Allah said: 'Treat your children fairly, treat your children fairly
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما نے خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” ( لوگو! ) اپنے بیٹوں کے درمیان انصاف کرو، اپنے بیٹوں کے درمیان انصاف کرو“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ الْمُهَلَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَخْطُبُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمُ اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ " .
#3688
Hasan
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, that his grandfather said:"We were with the Messenger of Allah when the delegation of Hawazin came to him and said: 'O Muhammad! We are one of the 'Arab tribes and a calamity has befallen us of which you are well aware. Do us a favor, may Allah bless you.' He said: 'Choose between your wealth or your women and children.' They said: 'You have given us a choice between our families and our wealth; we choose our women and children.' The Messenger of Allah said: 'As for that which was allocated to myself and to Banu 'Abdul-Muttalib, it is yours. When I have prayed Zuhr, stand up and say: "We seek the help of the Messenger of Allah in dealing with the believers, or the Muslims, with regard to our women and children."' So when they prayed Zuhr, they stood up and said that. The Messenger of Allah said: 'As for that which was allocated to myself and to Banu 'Abdul-Muttalib, it is yours.' The Muhajirun said: 'That which was allocated to us is for the Messenger of Allah.' The Ansar said: 'That which was allocated to us is for the Messenger of Allah.' Al-Aqra' bin Habis said: 'As for myself and Banu Tamim, then no (we will not give it up).' 'Uyaynah bin Hisn said: 'As for myself and Banu Fazarah, then no (we will not give it up).' Al-'Abbas bin Mirdas said: 'As for myself and Banu Sulaim, then no (we will not give it up).' Banu Sulaim stood up and said: 'You lied; whatever was allocated to us, it is for the Messenger of Allah.' The Messenger of Allah said: 'O people, give their women and children back to them. Whoever gives back anything of these spoils of war, he will have six camels from the spoils of war that Allah grants us next.' Then he mounted his riding-animal and the people surrounded him, saying: 'Distribute our spoils of war among us.' They made him go back toward a tree on which his Rida' (upper-wrap) got caught. He said: 'O people! Give me back my Rida'. By Allah! If there were cattle as many in number as the trees of Tihamah I would distribute them among you, then you would not find me a miser, a coward or a liar.' Then he went to a camel and took a hair from its hump between two of his fingers and said: 'Look! I do not have any of the spoils of war. All I have is the Khums, and the Khums will be given back to you.' A man stood up holding a ball of yarn made from goat hair and said: 'O Messenger of Allah, I took this to fix my camel-saddle.' He said: 'What was allocated to myself and to Banu 'Abdul-Muttalib is for you.' He said: 'Is this so important? I don't need it!' And he threw it down. He said: 'O people! Give back even needles large and small, for Al-Ghulul will be (a source of) shame and disgrace for those who took it on the Day of Resurrection
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب ہوازن کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو ہم آپ کے پاس تھے۔ انہوں نے کہا: اے محمد! ہم ایک ہی اصیل اور خاندانی لوگ ہیں اور ہم پر جو بلا اور مصیبت نازل ہوئی ہے وہ آپ سے پوشیدہ نہیں، آپ ہم پر احسان کیجئے، اللہ آپ پر احسان فرمائے گا۔ آپ نے فرمایا: ”اپنے مال یا اپنی عورتوں اور بچوں میں سے کسی ایک کو چن لو“، تو ان لوگوں نے کہا: آپ نے ہمیں اپنے خاندان والوں اور اپنے مال میں سے کسی ایک کے چن لینے کا اختیار دیا ہے تو ہم اپنی عورتوں اور بچوں کو حاصل کر لینا چاہتے ہیں، اس پر آپ نے فرمایا: ”میرے اور بنی مطلب کے حصے میں جو ہیں انہیں میں تمہیں واپس دے دیتا ہوں اور جب میں ظہر سے فارغ ہو جاؤں تو تم لوگ کھڑے ہو جاؤ اور کہو: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے آپ سارے مسلمانوں اور مومنوں سے اپنی عورتوں اور بچوں کے سلسلہ میں مدد کے طلب گار ہیں“۔ چنانچہ جب لوگ ظہر پڑھ چکے تو یہ لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے یہی بات دہرائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میرا اور بنی عبدالمطلب کا حصہ ہے وہ تمہارے حوالے ہے“، یہ بات سن کر مہاجرین نے کہا: جو ہمارے حصے میں ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد، اور انصار نے بھی کہا: جو ہمارے حصہ میں ہے وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد، اس پر اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اور بنو تمیم تو اپنا حصہ واپس نہیں کر سکتے۔ عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ نے بھی کہا کہ میں اور بنو فزارہ بھی اپنا حصہ دینے کے نہیں۔ عباس بن مرداس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اور بنو سلیم بھی اپنا حصہ نہیں لوٹانے کے۔ ( یہ سن کر ) قبیلہ بنو سلیم کے لوگ کھڑے ہوئے اور کہا: تم غلط کہتے ہو، ہمارا حصہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! ان کی عورتوں اور بچوں کو انہیں واپس کر دو اور جو کوئی بغیر کسی بدلے نہ دینا چاہے تو اس کے لیے میرا وعدہ ہے کہ مال فیٔ میں سے جو اللہ تعالیٰ پہلے عطا کر دے گا میں اس کے ہر گردن ( غلام ) کے بدلے چھ اونٹ ملیں گے“، یہ فرما کر آپ اپنی سواری پر سوار ہو گئے، اور لوگوں نے آپ کو گھیر لیا ( اور کہنے لگے: ) ہمارے حصہ کا مال غنیمت ہمیں بانٹ دیجئیے، اور آپ کو ایک درخت کا سہارا لینے پر مجبور کر دیا جس سے آپ کی چادر الجھ کر آپ سے الگ ہو گئی تو آپ نے فرمایا: ”لوگو! میری چادر تو واپس لا دو، قسم اللہ کی! اگر تمہارے لیے تہامہ کے درختوں کے برابر اونٹ بھی ہوں تو میں انہیں تم میں تقسیم کر دوں گا، تم لوگ مجھے بخیل، بزدل اور جھوٹا نہیں پاؤ گے، پھر ایک اونٹ کے پاس آئے اور اپنی انگلیوں کے درمیان اس کے کوہان سے بالوں کا ایک گچھا لے کر کہنے لگے: سن لو! فیٔ میں سے میرا کچھ نہیں ہے اور یہ بھی نہیں ہے ( اونٹ کے بالوں کی طرف اشارہ کر کے کہا ) سوائے خمس ( ۱/۵ ) کے اور خمس بھی ( گھوم پھر کر ) تمہیں لوگوں کو لوٹا دیا جاتا ہے“۔ یہ بات سن کر ایک آدمی بالوں کا ایک گچھا لے کر آپ کے پاس آ کھڑا ہوا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے بالوں کا یہ گچھا لیا ہے تاکہ اس سے اپنے اونٹ کی ( پھٹے ہوئے ) پالان ( گدے ) کو درست کر لوں، آپ نے فرمایا: ”میرا اور بنی مطلب کا جو حصہ ہے وہ تمہارے لیے ہے“ اس شخص نے کہا: کیا یہ اس حد تک سنگین اور اہم معاملہ ہے؟ تو مجھے اس سے کچھ نہیں لینا دینا، یہ کہہ کر اس نے بالوں کا گچھا مال فیٔ میں ڈال دیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! ”سوئی اور دھاگا بھی لا کر جمع کرو، کیونکہ مال غنیمت میں چوری اور خیانت قیامت کے دن چوری اور خیانت کرنے والے کے لیے شرم و ندامت کا باعث ہو گا“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ أَتَتْهُ وَفْدُ هَوَازِنَ فَقَالُوا يَا مُحَمَّدُ إِنَّا أَصْلٌ وَعَشِيرَةٌ وَقَدْ نَزَلَ بِنَا مِنَ الْبَلاَءِ مَا لاَ يَخْفَى عَلَيْكَ فَامْنُنْ عَلَيْنَا مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ . فَقَالَ " اخْتَارُوا مِنْ أَمْوَالِكُمْ أَوْ مِنْ نِسَائِكُمْ وَأَبْنَائِكُمْ " . فَقَالُوا قَدْ خَيَّرْتَنَا بَيْنَ أَحْسَابِنَا وَأَمْوَالِنَا بَلْ نَخْتَارُ نِسَاءَنَا وَأَبْنَاءَنَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ فَإِذَا صَلَّيْتُ الظُّهْرَ فَقُومُوا فَقُولُوا إِنَّا نَسْتَعِينُ بِرَسُولِ اللَّهِ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَوِ الْمُسْلِمِينَ فِي نِسَائِنَا وَأَبْنَائِنَا " . فَلَمَّا صَلَّوُا الظُّهْرَ قَامُوا فَقَالُوا ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَمَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ " . فَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ وَمَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَقَالَتِ الأَنْصَارُ مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ أَمَّا أَنَا وَبَنُو تَمِيمٍ فَلاَ . وَقَالَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ أَمَّا أَنَا وَبَنُو فَزَارَةَ فَلاَ . وَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ أَمَّا أَنَا وَبَنُو سُلَيْمٍ فَلاَ . فَقَامَتْ بَنُو سُلَيْمٍ فَقَالُوا كَذَبْتَ مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَيُّهَا النَّاسُ رُدُّوا عَلَيْهِمْ نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ فَمَنْ تَمَسَّكَ مِنْ هَذَا الْفَىْءِ بِشَىْءٍ فَلَهُ سِتُّ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ شَىْءٍ يُفِيئُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْنَا " . وَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ وَرَكِبَ النَّاسُ اقْسِمْ عَلَيْنَا فَيْأَنَا فَأَلْجَئُوهُ إِلَى شَجَرَةٍ فَخَطِفَتْ رِدَاءَهُ فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ رُدُّوا عَلَىَّ رِدَائِي فَوَاللَّهِ لَوْ أَنَّ لَكُمْ شَجَرَ تِهَامَةَ نَعَمًا قَسَمْتُهُ عَلَيْكُمْ ثُمَّ لَمْ تَلْقَوْنِي بَخِيلاً وَلاَ جَبَانًا وَلاَ كَذُوبًا " . ثُمَّ أَتَى بَعِيرًا فَأَخَذَ مِنْ سَنَامِهِ وَبَرَةً بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ ثُمَّ يَقُولُ " هَا إِنَّهُ لَيْسَ لِي مِنَ الْفَىْءِ شَىْءٌ وَلاَ هَذِهِ إِلاَّ خُمُسٌ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ فِيكُمْ " . فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ بِكُبَّةٍ مِنْ شَعْرٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذْتُ هَذِهِ لأُصْلِحَ بِهَا بَرْدَعَةَ بَعِيرٍ لِي . فَقَالَ " أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكَ " . فَقَالَ أَوَبَلَغَتْ هَذِهِ فَلاَ أَرَبَ لِي فِيهَا . فَنَبَذَهَا . وَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمِخْيَطَ فَإِنَّ الْغُلُولَ يَكُونُ عَلَى أَهْلِهِ عَارًا وَشَنَارًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
#3689
Hasan Sahih
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, that his grandfather said:"The Messenger of Allah said: 'No one should take back his gift except a father (taking back a gift) from his son. The one who takes back his gift is like one who goes back to his vomit
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص کسی کو کوئی چیز بطور ہبہ دے کر واپس نہیں لے سکتا، سوائے باپ کے کہ وہ اپنے بیٹے کو دے کر پھر واپس لے سکتا ہے، ( سن لو ) ہبہ کر کے واپس لینے والا ایسا ہی ہے جیسے کوئی قے کرے کے چاٹے“۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لا يَرْجِعُ أَحَدٌ فِي هِبَتِهِ إِلاَّ وَالِدٌ مِنْ وَلَدِهِ وَالْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ " .
#3690
Sahih
It was narrated from Ibn 'Umar and Ibn 'Abbas, who attributed the Hadith to the Prophet:"It is not permissible for a man to give a gift and then take it back except a father taking back what he gave to his son. The likeness of the one who gives a gift then takes it back is that of the dog which eats until it is full, then it vomits, and goes back to its vomit
عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہم روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص کے لیے حلال نہیں ہے کہ کسی کو کوئی تحفہ دے پھر اسے واپس لے ۱؎ سوائے باپ کے جسے وہ اپنے بیٹے کو دیتا ہے، اس شخص کی مثال جو کوئی عطیہ دیے کر اسے واپس لے لے اس کتے جیسی ہے جس نے ( خوب ) کھا لیا ہو یہاں تک کہ جب وہ آسودہ ہو جائے تو قے کرے پھر اسے چاٹے“
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي طَاوُسٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ، عَبَّاسٍ يَرْفَعَانِ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحِلُّ لِرَجُلٍ يُعْطِي عَطِيَّةً ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا إِلاَّ الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي عَطِيَّةً ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ " .
#3691
Sahih
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'The one who takes back his gift is like the dog which vomits then goes back to its vomit
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہبہ کر کے اسے لینے والا کتے کی طرح ہے، جو قے کرتا ہے پھر اسی کو چاٹتا ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَلَنْجِيُّ الْمَقْدِسِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ، - وَهُوَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ - عَنْ وُهَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " .
#3692
Sahih Lighairihi
It was narrated that Tawus said:"The Messenger of Allah said: 'It is not permissible for anyone to give a gift then take it back, except from one's son.'" Tawus said: "When I was young I used to hear (the phrase), 'The one who goes back to his vomit,' but we did not realize that this was a similitude." He said: "The likeness of the one who does that is that of a dog which eats then vomits, then goes back to its vomit
تابعی طاؤس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی کوئی ہبہ دے پھر اسے واپس لے، سوائے باپ کے کہ وہ اپنے بیٹے کو دے کر اس سے واپس لے سکتا ہے“۔ طاؤس کہتے ہیں: قے کر کے اسے چاٹنے کی بات میں سنتا تھا اور ( اس وقت ) میں چھوٹا تھا۔ میں یہ نہیں جان سکا تھا کہ آپ نے اسے بطور مثال بیان کیا ہے، ( تو اب سنو ) جو شخص ایسا کرے اس کی مثال کتے کی ہے جو قے کرتا ہے، پھر اسے چاٹتا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَحِلُّ لأَحَدٍ أَنْ يَهَبَ هِبَةً ثُمَّ يَرْجِعَ فِيهَا إِلاَّ مِنْ وَلَدِهِ " . قَالَ طَاوُسٌ كُنْتُ أَسْمَعُ وَأَنَا صَغِيرٌ عَائِدٌ فِي قَيْئِهِ فَلَمْ نَدْرِ أَنَّهُ ضَرَبَ لَهُ مَثَلاً قَالَ " فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ ثُمَّ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " .
#3693
Sahih
Abdullah bin 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'The likeness of the one who takes back his gift, is that of a dog which goes back to its vomit and eats it
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ دے کر جو شخص واپس لے لیتا ہے اس کی مثال کتے کی طرح ہے، کتا قے کرتا ہے اور پھر دوبارہ اپنے قے کیے ہوئے کو کھا لیتا ہے“۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَثَلُ الَّذِي يَرْجِعُ فِي صَدَقَتِهِ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَرْجِعُ فِي قَيْئِهِ فَيَأْكُلُهُ " .
#3694
Sahih
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Prophet said:"The likeness of the one who gives a gift then takes it back, is that of a dog which vomits, then goes back to its vomit and eats it
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ دے کر واپس لینے والے کی مثال کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے اور دوبارہ اسی قے کو کھا لیتا ہے“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَرْبٌ، - وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ - قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى، - هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ - قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو، - وَهُوَ الأَوْزَاعِيُّ - أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ، صلى الله عليه وسلم حَدَّثَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ بِالصَّدَقَةِ ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ فَأَكَلَهُ " .
#3695
Sahih
It was narrated from 'Abdullah bin 'Abbas that the Messenger of Allah said:"The likeness of the one who takes back his gift is that of a dog which vomits, then goes back to its vomit." (One of the narrators) Al-Awza'i said: "I heard him narrating this Hadith to 'Ata bin Abi Rabah
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ دے کر واپس لینے والے کی مثال کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے اور دوبارہ اسی قے کو کھا لیتا ہے“۔ اوزاعی کہتے ہیں: میں نے محمد بن علی بن الحسین کو یہ حدیث عطاء بن ابی رباح سے بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ مَرْوَانَ بْنِ الْهَيْثَمِ بْنِ عِمْرَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ بَكَّارِ بْنِ بِلاَلٍ - قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَثَلُ الَّذِي يَرْجِعُ فِي صَدَقَتِهِ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " . قَالَ الأَوْزَاعِيُّ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ .
#3696
Sahih
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Prophet said:"The one who takes back his gift is like the one who goes back to his vomit
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہبہ ( کر کے واپس ) لینے والا قے کر کے چاٹنے والے کی طرح ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ " .
#3697
Sahih
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The one who takes back his gift is like the one who goes back to his vomit
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہبہ کر کے واپس لینے والا قے کرے چاٹنے والے کی طرح ہے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الأَشْعَثِ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ " .
#3698
Sahih
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'It does not befit us to leave bad examples. The one who takes back his gift is like the one who goes back to his vomit
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے لیے بری مثال ( زیبا ) نہیں ہبہ کر کے واپس لینے والا قے کر کے چاٹنے والے کی طرح ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، - وَهُوَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ " .
#3699
Sahih
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'It does not befit us to leave bad examples. The one who takes back his gift is like the dog which goes back to its vomit
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے لیے بری مثال ( زیبا ) نہیں، ہبہ کر کے واپس لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے اسی کو چاٹ لیتا ہے“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " .
#3700
Sahih
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'It does not befit us to leave bad examples. The one who takes back his gift is like a dog with its vomit
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے لیے بری مثال ( زیبا ) نہیں، ہبہ کر کے واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے کھا لیتا ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ الرَّاجِعُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ فِي قَيْئِهِ " .