#3651
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"When a man dies all his good deeds come to an end except three: Ongoing charity (Sadaqah Jariyah), beneficial knowledge and a righteous son who prays for him
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل بھی ختم ہو جاتا ہے سوائے تین عمل کے ( جن سے اسے مرنے کے بعد بھی فائدہ پہنچتا ہے ) ایک صدقہ جاریہ، ۱؎ دوسرا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں ۲؎، تیسرا نیک اور صالح بیٹا جو اس کے لیے دعا کرتا رہے“۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا مَاتَ الإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلاَّ مِنْ ثَلاَثَةٍ مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ وَعِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ وَوَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ ".
#3652
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that a man said to the Prophet:"My father died and left behind wealth, but he did not leave a will. Will it expiate for him if I give charity on his behalf?
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ( اللہ کے رسول! ) میرے والد وصیت کئے بغیر انتقال کر گئے اور مال بھی چھوڑ گئے ہیں۔ اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا ان کی طرف سے کفارہ ( اور ان کے لیے موجب نجات ) ہو جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ مَالاً وَلَمْ يُوصِ فَهَلْ يُكَفِّرُ عَنْهُ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهُ قَالَ " نَعَمْ ".
#3653
Hasan Isnaad
It was narrated that Ash-Sharid bin Suwaid Ath-Thaqafi said:"I came to the Messenger of Allah and said: 'My mother left a will saying that a slave should be freed on her behalf. I have a Nubian slave girl; will it suffice if I free her on her behalf?' He said: 'Bring her here.' The Prophet said to her: 'Who is your Lord?' She said: 'Allah.' He said: 'Who am I?' She said: 'The Messenger of Allah.' He said: 'Set her free , for she is a believer
شرید بن سوید ثقفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے عرض کیا: میری ماں نے وصیت کی ہے کہ ان کی طرف سے ایک غلام آزاد کر دیا جائے اور میرے پاس حبشی نسل کی ایک لونڈی ہے، اگر میں اسے ان کی طرف سے آزاد کر دوں تو کیا وہ کافی ہو جائے گی؟ آپ نے فرمایا: ”جاؤ اسے ساتھ لے کر آؤ“ چنانچہ میں اسے ساتھ لیے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہو گیا، آپ نے اس سے پوچھا: ”تمہارا رب ( معبود ) کون ہے؟“ اس نے کہا: اللہ، آپ نے ( پھر ) اس سے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دو، یہ مسلمان عورت ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ إِنَّ أُمِّي أَوْصَتْ أَنْ تُعْتَقَ عَنْهَا رَقَبَةٌ وَإِنَّ عِنْدِي جَارِيَةً نُوبِيَّةً أَفَيُجْزِئُ عَنِّي أَنْ أَعْتِقَهَا عَنْهَا قَالَ " ائْتِنِي بِهَا ". فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ رَبُّكِ ". قَالَتِ اللَّهُ. قَالَ " مَنْ أَنَا ". قَالَتْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ " فَأَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ ".
#3654
Sahih
It was narrated from Ibn 'Abbas that Sa'd asked the Prophet:"My mother died and did not leave a will; shall I give charity on her behalf?" He said: "Yes
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میری ماں مر چکی ہیں اور کوئی وصیت نہیں کی ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں کر دو“۔
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدًا، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَلَمْ تُوصِ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا قَالَ " نَعَمْ ".
#3655
Sahih
It was narrated from Ibn 'Abbas that a man said:"O Messenger of Allah, my mother died; will it benefit her if I give in charity on her behalf?" He said: "Yes." He said: "I have a garden and I ask you to bear witness that I am giving it in charity on her behalf
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں تو کیا انہیں اس کا فائدہ پہنچے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، تو اس نے کہا: پھر تو میرے پاس کھجور کا ایک باغ ہے، آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنی ماں کی طرف سے اسے صدقہ میں دے دیا۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّهُ تُوُفِّيَتْ أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا قَالَ " نَعَمْ ". قَالَ فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا فَأُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا.
#3656
Sahih Lighairihi
It was narrated from Sa'd bin 'Ubadah that he came to the Prophet and said:"My mother has died and she had a vow to fulfill. Will it suffice if I free a slave on her behalf?" He said: "Free a slave on behalf of your mother
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میری ماں مر چکی ہیں اور ان کے ذمہ ایک نذر ہے، اگر میں ان کی طرف سے ( ایک غلام ) آزاد کر دوں تو کیا یہ ان کی طرف سے پوری ہو جائے گی؟ آپ نے فرمایا: ” ( ہاں ) اپنی ماں کی طرف سے غلام آزاد کر دو“۔
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ أَفَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ أَعْتِقَ عَنْهَا قَالَ " أَعْتِقْ عَنْ أُمِّكَ ".
#3657
Sahih Isnaad
It was narrated from Sa'd bin 'Ubadah that he consulted the Prophet about a vow which his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah said:"Fulfill it on her behalf
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نذر کے متعلق مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور اسے پوری کرنے سے پہلے ہی انتقال کر گئی تھیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نذر کو تم ان کی طرف سے پوری کر دو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ أَبُو يُوسُفَ الصَّيْدَلاَنِيُّ، عَنْ عِيسَى، - وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ - عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَهُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّهُ اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْضِهِ عَنْهَا ".
#3658
Sahih Isnaad
It was narrated from Sa'd bin 'Ubadah that he consulted the Prophet about a vow which his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah said:"Fulfill it on her behalf
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جوان کی ماں کے ذمہ تھی اور نذر پوری کرنے سے پہلے ہی ان کی موت ہو گئی تھی؟ آپ نے فرمایا: ”تم ان کی طرف سے نذر پوری کر دو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَدَقَةَ الْحِمْصِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَهُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّهُ اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْضِهِ عَنْهَا ".
#3659
Sahih
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"Sa'd consulted the Messenger of Allah about a vow which his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah said: 'Fulfill it on her behalf
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے متعلق پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور اسے پوری کرنے سے پہلے ہی وہ انتقال کر گئیں، تو آپ نے فرمایا: ”تم ان کی طرف سے نذر پوری کر دو“۔
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ اسْتَفْتَى سَعْدٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْضِهِ عَنْهَا ".
#3660
Sahih
It was narrated that Al-Harith bin Miskin said, it being read to him while I was listening:"From Sufyan, from Az-Zuhri, from 'Ubaidullah bin 'Abdullah, from Ibn 'Abbas, that Sa'd bin 'Ubadah consulted the Prophet about a vow which his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah said: 'Fulfill it on her behalf
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے متعلق مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور جسے پوری کرنے سے پہلے ہی وہ مر گئیں۔ تو آپ نے فرمایا: ”اسے تم ان کی طرف سے پوری کر دو“۔
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ فَقَالَ " اقْضِهِ عَنْهَا ".
#3661
Sahih Isnaad
Muhammad bin 'Abdullah bin Yazid said:"Sufyan narrated to us from Az-Zuhri, from 'Ubaidullah bin 'Abdullah, from Ibn 'Abbas, that Sa'd said: 'My mother died and there was an (outstanding) vow that she had to fulfill. I asked the Prophet and he told me to fulfill it on her behalf
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری ماں مر گئیں اور ان کے ذمہ ایک نذر تھی تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے ان کی طرف سے پوری کر دوں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ سَعْدٍ، أَنَّهُ قَالَ مَاتَتْ أُمِّي وَعَلَيْهَا نَذْرٌ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَهُ عَنْهَا.
#3662
Sahih
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"Sa'd bin 'Ubadah Al-Ansari consulted the Messenger of Allah about an (outstanding) vow that his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah said: 'Fulfill it on her behalf
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر سے متعلق جو ان کی ماں کے ذمہ تھی مسئلہ پوچھا اور اسے پوری کرنے سے پہلے وہ انتقال کر گئیں تھیں، تو آپ نے ان سے فرمایا: ”اسے ان کی طرف سے تم پوری کر دو“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ اسْتَفْتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ الأَنْصَارِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْضِهِ عَنْهَا ".
#3663
Sahih
It was narrated that Ibn 'Abbas said:Sa'd bin 'Ubadah came to the Prophet and said: "My mother has died and she had a vow to fulfill but she did not do so." He said: "Fulfill it on her behalf
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میری ماں انتقال کر گئی ہیں اور ان کے ذمہ ایک نذر ہے اور وہ اسے پوری نہیں کر سکی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تم اسے ان کی طرف سے پوری کر دو“۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، - هُوَ ابْنُ عُرْوَةَ - عَنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ وَلَمْ تَقْضِهِ قَالَ " اقْضِهِ عَنْهَا ".
#3664
Hasan
It was narrated that Sa'd bin 'Ubadah said:"I said: 'O Messenger of Allah, my mother has died; shall I give in charity on her behalf?' He said: 'Yes.' I said: 'What kind of charity is best?' He said: 'Providing drinking water
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں مر گئیں ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، میں نے پوچھا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ” ( پیاسوں کو ) پانی پلانا“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا قَالَ " نَعَمْ ". قُلْتُ فَأَىُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ " سَقْىُ الْمَاءِ ".
#3665
Hasan
It was narrated that Sa'd bin 'Ubadah said:"I said: 'O Messenger of Allah, what kind of charity is best?' He said: 'Providing drinking water
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”پانی پلانا“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ " سَقْىُ الْمَاءِ ".
#3666
Hasan Lighairihi
It was narrated from Sa'd bin 'Ubadah that his mother died. He said:"O Messenger of Allah, my mother has died; can I give charity on her behalf?" He said: "Yes." He said: "What kind of charity is best?" He said: "Providing drinking water." And that is the drinking-fountain of Sa'd in Al-Madinah
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کی ماں مر گئیں تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں انتقال کر گئیں ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، انہوں نے کہا: کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”پانی پلانا“ تو یہ ہے مدینہ میں سعد رضی اللہ عنہ کی پانی کی سبیل۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّ أُمَّهُ، مَاتَتْ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا قَالَ " نَعَمْ ". قَالَ فَأَىُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ " سَقْىُ الْمَاءِ ". فَتِلْكَ سِقَايَةُ سَعْدٍ بِالْمَدِينَةِ.
#3667
Sahih
It was narrated that Abu Dharr said:"The Messenger of Allah said to me: 'O Abu Dharr, I think that you are weak, and I like for you what I like for myself. Do not accept a position of Amir over two people, and do not agree to be the guardian of an orphan's property
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”ابوذر! میں تمہیں کمزور دیکھتا ہوں اور تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں ( لہٰذا تم ) دو آدمیوں کا بھی سردار نہ بننا اور نہ یتیم کے مال کا والی بننا“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا ذَرٍّ إِنِّي أَرَاكَ ضَعِيفًا وَإِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي لاَ تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ وَلاَ تَوَلَّيَنَّ عَلَى مَالِ يَتِيمٍ ".
#3668
Hasan Sahih
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that a man came to the Prophet and said:"I am poor and I do not have anything, and I have an orphan (under my care)." He said: "Eat from the property of your orphan without being extravagant, wasteful or keeping it as capital for yourself
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میں محتاج و فقیر ہوں، میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے اور میری سرپرستی میں ایک یتیم ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یتیم کے مال سے کھا لیا کرو ( لیکن دیکھو ) فضول خرچی اور اسراف مت کرنا اور نہ ہی یتیم کا مال لے لے کر اپنا مال بڑھانا“۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي فَقِيرٌ لَيْسَ لِي شَىْءٌ وَلِي يَتِيمٌ. قَالَ " كُلْ مِنْ مَالِ يَتِيمِكَ غَيْرَ مُسْرِفٍ وَلاَ مُبَاذِرٍ وَلاَ مُتَأَثِّلٍ ".
#3669
Hasan
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"When these Verses were revealed - 'And come not near to the orphan's property, except to improve it,' and 'Verily, those who unjustly eat up the property of orphans' - the people avoided the property and food of the orphans. That caused hardship to the Muslims and they complained about that to the Prophet. Then Allah revealed: 'And they ask you concerning orphans. Say: The best thing is to work honestly in their property, and if you mix your affairs with theirs, then they are your brothers. And Allah knows him who means mischief (e.g. to swallow their property) from him who means good (e.g. to save their property). And if Allah had wished, He could have put you into difficulties
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: «ولا تقربوا مال اليتيم إلا بالتي هي أحسن» ”یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اس طریقے سے جو کہ مستحسن ہو ( یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے ) “ ( الأنعام: ۱۵۲ ) اور «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما» ”اور جو لوگ یتیموں کا مال ظلم و زیادتی کر کے کھاتے ہیں ( وہ دراصل مال نہیں کھاتے وہ اپنے پیٹوں میں انگارے بھر رہے ہیں“ ( النساء: ۱۰ ) نازل ہوئی تو لوگ یتیموں کے مال کے قریب جانے ( اور ان کی حفاظت کی ذمہ داریاں سنبھالنے ) اور ان کا مال کھانے سے بچنے لگے۔ تو یہ چیز مسلمانوں پر شاق ( دشوار ) ہو گئی، چنانچہ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی جس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «ويسألونك عن اليتامى قل إصلاح لهم خير» سے «لأعنتكم» ”اور تم سے یتیموں کے بارے میں بھی سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئیے کہ ان کی خیر خواہی بہتر ہے اگر تم ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں۔ بدنیت اور نیک نیت ہر ایک کو اللہ خوب جانتا ہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا، یقیناً اللہ تعالیٰ غلبہ اور حکمت والا ہے“ ( البقرہ: ۲۲۰ ) تک نازل فرمائی ۳؎۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، - وَهُوَ ابْنُ السَّائِبِ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {وَلاَ تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلاَّ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ} وَ{إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا} قَالَ اجْتَنَبَ النَّاسُ مَالَ الْيَتِيمِ وَطَعَامَهُ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَنْزَلَ اللَّهُ {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلاَحٌ لَهُمْ خَيْرٌ} إِلَى قَوْلِهِ {لأَعْنَتَكُمْ}.
#3670
Hasan
It was narrated that Ibn 'Abbas said -concerning the Verse:"Verily, those who unjustly eat up the property of orphans" -A man would have an orphan in his care, and he would keep his food, drink and vessels separate. This caused hardship to the Muslims, so Allah, the Mighty and Sublime, revealed: "And they ask you concerning orphans. Say: The best thing is to work honestly in their property, and if you mix your affairs with theirs, then they are your brothers" (in religion), so it is permissible for you to mix with them
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما» کے سلسلہ میں کہتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو جس کی پرورش میں یتیم ہوتا تھا وہ اس کا کھانا پینا اور اس کا برتن الگ کر دیتا تھا لیکن یہ چیز مسلمانوں پر گراں گزری تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «وإن تخالطوهم فإخوانكم» ”اگر ان کو ملا کر رکھو تو وہ تمہارے بھائی ہیں“ ( البقرہ: ۲۲۰ ) نازل فرمائی اور یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے ساتھ ملا لینے کو جائز قرار دے دیا۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ {إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا} قَالَ كَانَ يَكُونُ فِي حِجْرِ الرَّجُلِ الْيَتِيمَ فَيَعْزِلُ لَهُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَآنِيَتَهُ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ} {فِي الدِّينِ} فَأَحَلَّ لَهُمْ خُلْطَتَهُمْ.
#3671
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"Avoid the seven sins that doom one to Hell." It was said: "O Messenger of Allah, what are they?" He said: "Associating others with Allah (Shirk), magic, killing a soul whom Allah has forbidden killing, except in cases dictated by Islamic law, consuming Riba, consuming the property of orphans, fleeing on the day of the march (to battlefield), and slandering chaste women who never even think of anything touching their chastity and are good believers
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات ہلاک کر دینے والی چیزوں سے بچو“، پوچھا گیا: اللہ کے رسول! یہ کیا کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، بخیلی، کسی شخص کا قتل جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، لڑائی کے وقت پیٹھ دکھا کر بھاگ جانا، اور بھولی بھالی پاک دامن مسلمان عورتوں پر تہمت لگانا“۔
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ ". قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هِيَ قَالَ " الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَالشُّحُّ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَأَكْلُ الرِّبَا وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلاَتِ الْمُؤْمِنَاتِ ".
#3672
Sahih
It was narrated from An-Nu'man bin Bashir that his father gave him a slave as a present, then he came to the Prophet to ask him to bear witness (to that). He said:"Have you given a present to all of your children?" He said: "No." He said: "Then take it back." This wording is that of (one of the narrators) Muhammad
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہیں ان کے والد نے ایک غلام ہبہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے کہ آپ کو اس پر گواہ بنائیں۔ آپ نے پوچھا: ”کیا تم نے اپنے سبھی بیٹوں کو یہ عطیہ دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو تم اسے واپس لے لو“۔ اس حدیث کے الفاظ محمد ( راوی ) کے ہیں۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدٍ، ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ سَمِعْنَاهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ، نَحَلَهُ غُلاَمًا فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُشْهِدُهُ فَقَالَ " أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَارْدُدْهُ " . وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ .
#3673
Sahih
It was narrated from An-Nu'man bin Bashir that his father brought him to the Messenger of Allah and said:"I have given my son a slave of mine as a present." The Messenger of Allah said: "Have you given a present to all of your children?" He said: "No." The Messenger of Allah said: "Then take (your present) back
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد انہیں ساتھ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہا: میرے پاس ایک غلام تھا جسے میں نے اپنے ( اس ) بیٹے کو دے دیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنے سبھی بیٹوں کو غلام دیے ہیں؟“، کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو تم اسے واپس لے لو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ، يُحَدِّثَانِهِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ، أَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي غُلاَمًا كَانَ لِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ " أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ " . قَالَ لاَ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَارْجِعْهُ " .
#3674
Sahih
It was narrated from An-Nu'man bin Bashir that his father Bashir bin Sa'd brought An-Nu'man with him and said:"O Messenger of Allah, I have given this son of mine a slave who belonged to me as a present." The Messenger of Allah said: "Have you given a present to all your children?" He said: "No." He said: "Then take (your present) back
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد بشیر بن سعد اپنے بیٹے نعمان کو لے کر آئے اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنا ایک غلام اپنے اس بیٹے کو دے دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی دیا ہے؟“ کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”پھر تو تم اسے واپس لے لو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ، بَشِيرَ بْنَ سَعْدٍ جَاءَ بِابْنِهِ النُّعْمَانِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلاَمًا كَانَ لِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَارْجِعْهُ " .
#3675
Sahih
It was narrated from Bashir bin Sa'd that he brought An-Nu'man to the Prophet and said:"I want to give this son of mine a slave as a present, and if you think that I should go ahead with it, I will go ahead." The Messenger of Allah said: "Have you given a present to all your children?" He said: "No." He said: "Then take (your present) back
بشیر بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( اپنے بیٹے ) نعمان بن بشیر کو لے کر آئے اور عرض کیا: میں نے اس بیٹے کو ایک غلام بطور عطیہ دیا ہے، اگر آپ اس عطیہ کے نفاذ کو مناسب سمجھتے ہوں تو میں اسے نافذ کر دوں، آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنے سبھی بیٹوں کو ایسا ہی عطیہ دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”پھر تو تم اسے واپس لے لو“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ النُّعْمَانِ، وَحُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَاهُ عَنْ بَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فَقَالَ إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلاَمًا فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُنْفِذَهُ أَنْفَذْتُهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَهُ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَارْدُدْهُ " .