#6625
Jabir b. Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I am a human being and I have made this term with my Lord, the Exalted and Glorious: For any servant amongst Muslims whom I curse or scold, make that a source of purity and reward. This hadith has been narrated on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters
حجاج بن محمد نے کہا : ابن جریج نے کہا : مجھے ابوزبیر نے بتایا ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ، آپ فرماتے تھے : " میں ایک بشر ہی ہوں اور میں نے اپنے رب عزوجل سے یہ عہد لیا ہے کہ میں مسلمانوں میں سے جس بندے کو سب و شتم کروں تو یہ سب کچھ اس کے لیے پاکیزگی اور اجر ( کا سبب ) بن جائے ۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَىُّ عَبْدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا " . حَدَّثَنِيهِ ابْنُ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، ح وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
#6626
Jabir b. Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I am a human being and I have made this term with my Lord, the Exalted and Glorious: For any servant amongst Muslims whom I curse or scold, make that a source of purity and reward. This hadith has been narrated on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters
حجاج بن محمد نے کہا : ابن جریج نے کہا : مجھے ابوزبیر نے بتایا ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ، آپ فرماتے تھے : " میں ایک بشر ہی ہوں اور میں نے اپنے رب عزوجل سے یہ عہد لیا ہے کہ میں مسلمانوں میں سے جس بندے کو سب و شتم کروں تو یہ سب کچھ اس کے لیے پاکیزگی اور اجر ( کا سبب ) بن جائے ۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَىُّ عَبْدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا " . حَدَّثَنِيهِ ابْنُ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، ح وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
#6627
Anas b. Malik reported that there was an orphan girl with Umm Sulaim (who was the mother of Anas). Allah's Messenger (ﷺ) saw that orphan girl and said:O, it is you; you have grown young. May you not advance in years! That slave-girl returned to Umm Sulaim weeping. Umm Sulaim said: O daughter, what is the matter with you? She said: Allah's Apostle (ﷺ) has invoked curse upon me that I should not grow in age and thus I would never grow in age, or she said, in my (length) of life. Umm Sulaim went out wrapping her head-dress hurriedly until she met Allah's Messenger (ﷺ). He said to her: Umm Sulaim, what is the matter with you? She said: Allah's Apostle, you invoked curse upon my orphan girl. He said: Umm Sulaim, what is that? She said: She (the orphan girl) states you have cursed her saying that she might not grow in age or grow in life. Allah's Messenger (ﷺ) smiled and then said: Umm Sulaim, don't you know that I have made this term with my Lord. And the term with my Lord is that I said to Him: 1 am a human being and I am pleased just as a human being is pleased and I lose temper just as a human being loses temper, so for any person from amongst my Ummah whom I curse and he in no way deserves it, let that, O Lord, be made a source of purification and purity and nearness to (Allah) on the Day of Resurrection
زہیر بن حرب اور ابومعن رقاشی نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ اور الفاظ زہیر کے ہیں ۔ ۔ دونوں نے کہا : ہمیں عمر بن یونس نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں عکرمہ بن عمار نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اسحق بن ابی طلحہ نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس ایک یتیم لڑکی تھی اور یہی ( ام سلیم رضی اللہ عنہا ) ام انس بھی کہلاتی تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا تو فرمایا : "" تو وہی لڑکی ہے ، تو بڑی ہو گئی ہے! تیری عمر ( اس تیزی سے ) بڑی نہ ہو "" وہ لڑکی روتی ہوئی واپس حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس گئی ، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے پوچھا : بیٹی! تجھے کیا ہوا؟ اس نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے خلاف دعا فرما دی ہے کہ میری عمر زیادہ نہ ہو ، اب میری عمر کسی صورت زیادہ نہ ہو گی ، یا کہا : اب میرا زمانہ ہرگز زیادہ نہیں ہو گا ، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا جلدی سے دوپٹہ لپیٹتے ہوئے نکلیں ، حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : "" ام سلیم! کیا بات ہے؟ "" حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے نبی! کیا آپ نے میری ( پالی ہوئی ) یتیم لڑکی کے خلاف دعا کی ہے؟ آپ نے پوچھا : "" یہ کیا بات ہے؟ "" حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا : وہ کہتی ہے : آپ نے دعا فرمائی ہے کہ اس کی عمر زیادہ نہ ہو ، اور اس کا زمانہ لمبا نہ ہو ، ( حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے ، پھر فرمایا : "" ام سلیم! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے اپنے رب سے پختہ عہد لیا ہے ، میں نے کہا : میں ایکبشر ہی ہوں ، جس طرح ایک بشر خوش ہوتا ہے ، میں بھی خوش ہوتا ہوں اور جس طرح بشر ناراض ہوتے ہیں میں بھی ناراض ہوتا ہوں ۔ تو میری امت میں سے کوئی بھی آدمی جس کے خلاف میں نے دعا کی اور وہ اس کا مستحق نہ تھا تو اس دعا کو قیامت کے دن اس کے لیے پاکیزگی ، گناہوں سے صفائی اور ایسی قربت بنا دے جس کے ذریعے سے تو اسے اپنے قریب فرما لے ۔ "" ابو معن نے کہا : حدیث میں تینوں جگہ ( یتیمہ کے بجائے ) تصغیر کے ساتھ يتيمة ( چھوٹی سی یتیم بچی کا لفظ ) ہے ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا عُمَرُ، بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ كَانَتْ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ يَتِيمَةٌ وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْيَتِيمَةَ فَقَالَ " آنْتِ هِيَهْ لَقَدْ كَبِرْتِ لاَ كَبِرَ سِنُّكِ " . فَرَجَعَتِ الْيَتِيمَةُ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تَبْكِي فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَا لَكِ يَا بُنَيَّةُ قَالَتِ الْجَارِيَةُ دَعَا عَلَىَّ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ لاَ يَكْبَرَ سِنِّي فَالآنَ لاَ يَكْبَرُ سِنِّي أَبَدًا - أَوْ قَالَتْ قَرْنِي - فَخَرَجَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مُسْتَعْجِلَةً تَلُوثُ خِمَارَهَا حَتَّى لَقِيَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا لَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ " . فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَدَعَوْتَ عَلَى يَتِيمَتِي قَالَ " وَمَا ذَاكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ " . قَالَتْ زَعَمَتْ أَنَّكَ دَعَوْتَ أَنْ لاَ يَكْبَرَ سِنُّهَا وَلاَ يَكْبَرَ قَرْنُهَا - قَالَ - فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ أَمَا تَعْلَمِينَ أَنَّ شَرْطِي عَلَى رَبِّي أَنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي فَقُلْتُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَرْضَى كَمَا يَرْضَى الْبَشَرُ وَأَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ فَأَيُّمَا أَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِي بِدَعْوَةٍ لَيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ أَنْ تَجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا وَزَكَاةً وَقُرْبَةً يُقَرِّبُهُ بِهَا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . وَقَالَ أَبُو مَعْنٍ يُتَيِّمَةٌ . بِالتَّصْغِيرِ فِي الْمَوَاضِعِ الثَّلاَثَةِ مِنَ الْحَدِيثِ .
#6628
Ibn Abbas reported:I was playing with children that Allah's Messenger (ﷺ) happened to pass by (us). I hid myself behind the door. He (the Prophet) came and patted my shoulders and said: Go and call Mu'awiya. I returned and said: He is busy in taking food. He again asked me to go and call Mu'awiya to him. I went (and came back) and said that he was busy in taking food, whereupon he said: May Allah not fill his belly! Ibn Muthanna, said: I asked Umm Umayya what he meant by the word Hatani. He said: It means "he patted my shoulders
محمد بن مثنیٰ عنزی اور ابن بشار نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ ابن مثنیٰ کے ہیں ۔ ۔ دونوں نے کہا : ہمیں امیہ بن خالد نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابوحمزہ قصاب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا ، کہا : آپ آئے اور میرے دونوں شانوں کے درمیان اپنے کھلے ہاتھ سے ہلکی سی ضرب لگائی ( مقصود پیار کا اظہار تھا ) اور فرمایا : " جاؤ ، میرے لیے معاویہ کو بلا لاؤ ۔ " میں نے آپ سے آ کر کہا : وہ کھانا کھا رہے ہیں ۔ آپ نے دوبارہ مجھ سے فرمایا : " جاؤ ، معاویہ کو بلا لاؤ ۔ " میں نے پھر آ کر کہا : وہ کھانا کھا رہے ہیں ، تو آپ نے فرمایا : " اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الْقَصَّابِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَوَارَيْتُ خَلْفَ بَابٍ - قَالَ - فَجَاءَ فَحَطَأَنِي حَطْأَةً وَقَالَ " اذْهَبْ وَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ " . قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ هُوَ يَأْكُلُ - قَالَ - ثُمَّ قَالَ لِيَ " اذْهَبْ وَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ " . قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ هُوَ يَأْكُلُ فَقَالَ " لاَ أَشْبَعَ اللَّهُ بَطْنَهُ " . قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى قُلْتُ لأُمَيَّةَ مَا حَطَأَنِي قَالَ قَفَدَنِي قَفْدَةً .
#6629
This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Abbas with a slight variation of wording
نضر بن شمیل نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ابوحمزہ نے خبر دی کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہتے تھے : میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو میں آپ سے چھپ گیا ۔ آگے اسی ( سابقہ حدیث ) کی طرح بیان کیا ۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاخْتَبَأْتُ مِنْهُ . فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ .
#6630
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The worst amongst the people is the double-faced one; he comes to some people with one face and to others with the other face
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بدترین انسانوں میں سے دو رخا شخص ( بھی ) ہوتا ہے ۔ وہ ان لوگوں سے ایک چہرے کے ساتھ ملتا ہے اور ان لوگوں سے دوسرے چہرے کے ساتھ ملتا ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ " .
#6631
Abu Huraira reported that he heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The worst amongst people is one with the double face. He comes to some people with one face and to others with the other face
اعراک بن مالک نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " لوگوں میں سے بدترین شخص دو چہروں والا ہوتا ہے ، جو ان لوگوں کے پاس ایک چہرے سے آتا ہے اور اُن لوگوں کے پاس دوسرے چہرے سے آتا ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ شَرَّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ " .
#6632
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:You will find the worst amongst the people one having double face. He comes to some people with one face and to the others with the other face
سعید بن مسیب اور ابوزرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم لوگوں میں سے بدترین شخص اسے پاؤ گے جس کے دو چہرے ہیں ، ان کے پاس ایک چہرہ لے کر آتا ہے اور اُن کے پاس دوسرا چہرہ لے کر آتا ہے ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَجِدُونَ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ " .
#6633
Humaid b. 'Abd al-Rahman b. 'Auf reported that his mother Umm Kulthum daughter of 'Uqba b. Abu Mu'ait, and she was one amongst the first emigrants who pledged allegiance to Allah's Apostle (ﷺ), as saying that she heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying:A liar is not one who tries to bring reconciliation amongst people and speaks good (in order to avert dispute), or he conveys good. Ibn Shihab said he did not hear that exemption was granted in anything what the people speak as lie but in three cases: in battle, for bringing reconciliation amongst persons and the narration of the words of the husband to his wife, and the narration of the words of a wife to her husband (in a twisted form in order to bring reconciliation between them)
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حمید بن عبدالرحمان بن عوف نے خبر دی کہ ان کی والدہ حضرت ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت کرنے والی ان خواتین میں سے تھیں جنہوں نے سب سے پہلے ہجرت کی ۔ انہوں نے اسے ( اپنے بیٹے کو ) خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے : "" وہ شخص جھوٹا نہیں جو لوگوں میں صلح کرائے اور اچھی بات کہے اور اچھی بات پہنچائے ۔ "" ابن شہاب نے کہا : لوگ جو جھوٹی باتیں کرتے ہیں ، میں نے ان میں سے تین کے سوا کسی بات کے بارے میں نہیں سنا کہ ان کی اجازت دی گئی ہے : جنگ اور جہاد میں ، لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے اور خاوند کا اپنی بیوی سے ( اسے راضی کرنے کی ) بات اور عورت کی اپنے خاوند سے ( اسے راضی کرنے کے لیے ) بات ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ أُمَّهُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، وَكَانَتْ، مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ اللاَّتِي بَايَعْنَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَقُولُ " لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ وَيَقُولُ خَيْرًا وَيَنْمِي خَيْرًا " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَلَمْ أَسْمَعْ يُرَخَّصُ فِي شَىْءٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ كَذِبٌ إِلاَّ فِي ثَلاَثٍ الْحَرْبُ وَالإِصْلاَحُ بَيْنَ النَّاسِ وَحَدِيثُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَحَدِيثُ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا .
#6634
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shihab with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording
صالح نے کہا : ہمیں محمد بن مسلم بن عبیداللہ بن عبداللہ بن شہاب نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، مگر صالح کی حدیث میں ہے : اور ( ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : میں نے آپ سے نہیں سنا کہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں آپ نے ان میں سے تین کے سوا کسی بات کی اجازت دی ہو ۔ ( آگے ) اسی کے مانند جس طرح یونس نے ابن شہاب کا قول بتایا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّفِي حَدِيثِ صَالِحٍ وَقَالَتْ وَلَمْ أَسْمَعْهُ يُرَخِّصُ فِي شَىْءٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ إِلاَّ فِي ثَلاَثٍ . بِمِثْلِ مَا جَعَلَهُ يُونُسُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ شِهَابٍ .
#6635
This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri with a slight variation of wording
معمر نے ہمیں زہری سے اسی سند کے ساتھ آپ کے اس فرمان تک خبر دی : " اور اچھی بات پہنچائی " اور اس کے بعد کا حصہ بیان نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ " وَنَمَى خَيْرًا " . وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .
#6636
Abdullah b. Mas'ud reported that Muhammad (ﷺ) said:Should I inform you that slandering, that is in fact a tale-carrying which creates dissension amongst people, (and) he (further) said: The person tells the truth until he is recorded as truthful, and lie tells a lie until lie is recorded as a liar
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا میں تم کو یہ نہ بتاؤں کہ بدترین حرام کیا ہے؟ یہ چغلی ہے جو لوگوں کی زبان پر رواں ہو جاتی ہے ۔ " اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " انسان سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ ( اللہ تعالیٰ کے ہاں ) وہ صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ بولتا رہتا ہے حتی کہ اس کو کذاب لکھ دیا جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ إِنَّ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ مَا الْعَضْهُ هِيَ النَّمِيمَةُ الْقَالَةُ بَيْنَ النَّاسِ " . وَإِنَّ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الرَّجُلَ يَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ صِدِّيقًا وَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا " .
#6637
Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Truth leads one to Paradise and virtue leads one to Paradise and the person tells the truth until he is recorded as truthful, and lie leads to obscenity and obscenity leads to Hell, and the person tells a lie until he is recorded as a liar
جریر نے منصور سے ، انہوں نے ابووائل ( شقیق ) سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سچ نیکی اور اچھائی کے راستے پر لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے ، ایک آدمی سچ بولتا رہتا ہے حتی کہ وہ اللہ کے ہاں صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ فسق و فجور کی طرف لے جاتا ہے اور فسق و فجور ( جہنم کی ) آگ کی طرف لے جاتا ہے اور ایک آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسے کذاب لکھ دیا جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ صِدِّيقًا وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا " .
#6638
Abdullah b. Mas'ud reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Telling of truth is a virtue and virtue leads to Paradise and the servant who endeavours to tell the truth is recorded as truthful, and lie is obscenity and obscenity leads to Hell-Fire, and the servant who endeavours to tell a lie is recorded as a liar. Ibn Abu Shaiba reported this from Allah's Apostle (ﷺ)
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ہناد بن سری نے کہا : ہمیں ابواحوص نے منصور سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوائل سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" سچ نیکی ہے اور نیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور بندہ پوری کوشش سے سچ ہی کا قصد کرتا رہتا ہے حتی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ کج روی ہے اور کج روی جہنم کی طرف لے جاتی ہے اور بندہ جھوٹ بولنے کا قصد ہوتا رہتا ہے حتی کہ اسے جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے ۔ "" ابن ابی شیبہ کی روایت میں ( "" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "" کے بجائے ) "" نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے "" کے الفاظ ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الصِّدْقَ بِرٌّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا وَإِنَّ الْكَذِبَ فُجُورٌ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا " . قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#6639
Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:It is obligatory for you to tell the truth, for truth leads to virtue and virtue leads to Paradise, and the man who continues to speak the truth and endeavours to tell the truth is eventually recorded as truthful with Allah, and beware of telling of a lie for telling of a lie leads to obscenity and obscenity leads to Hell-Fire, and the person who keeps telling lies and endeavours to tell a lie is recorded as a liar with Allah
ابومعاویہ اور وکیع نے کہا : ہمیں اعمش نے شقیق ( ابووائل ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم صدق پر قائم رہو کیونکہ صدق نیکی کے راستے پر چلاتا ہے اور نیکی جنت کے راستے پر چلاتی ہے ۔ انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے اور کوشش سے سچ پر قائم رہتا ہے ، حتی کہ وہ اللہ کے ہاں سچا لکھ لیا جاتا ہے اور جھوٹ سے دور رہو کیونکہ جھوٹ کج روی کے راستے پر چلاتا ہے اور کج روی آگ کی طرف لے جاتی ہے ، انسان مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کا قصد کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسے جھوٹا لکھ لیا جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا " .
#6640
This hadith has been reported on the authority of A'mash with the same chain of transmitters and no mention is made in the hadith transmitted on the authority of 'Isa (of these words):" He who endeavours to tell the truth and endeavours to tell a lie," and in the hadith transmitted on the authority of Mushir (the words are):" Until Allah records it
ابن مسہر اور عیسیٰ بن یونس دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ خبر دی ، انہوں نے عیسیٰ کی روایت میں : " صدق کا قصد کرتا رہتا ہے اور جھوٹ کا قصد کرتا رہتا ہے " کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔ اور ابن مسہر کی روایت میں ( " اللہ کے نزدیک " کے بجائے ) " حتی کہ اللہ اس کو لکھ لیتا ہے " کے الفاظ ہیں ۔
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ، إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ عِيسَى " وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ " . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ " حَتَّى يَكْتُبَهُ اللَّهُ " .
#6641
Abdullah b. Mas'ud reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Whom do you count as" Raqub" amongst you? They (his Companions) said: One who has no children (the children are born unto him but they do not survive). Thereupon he (the Holy Prophet) said: He is not a Raqub but Raqub is one who does not find his child as the forerunner (in Paradise). He then said: Whom do you count as a wrestler amongst you? We said: He who wrestles with persons. He said: No, it is not he but one who controls himself when in a fit of rage
جریر نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابراہیم تیمی سے ، انہوں نے حارث بن سوید سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم لوگ اپنے خیال میں رقوب کسے شمار کرتے ہو؟ ہم نے عرض کی : جس شخص کے بچے پیدا نہ ہوتے ہوں ۔ آپ نے فرمایا : " یہ رقوب نہیں ہے ، بلکہ رقوب وہ شخص ہے جس نے ( آخرت میں ) کسی بچے کو آگے نہ بھیجا ہو ۔ " آپ نے فرمایا : " تم اپنے خیال میں پہلوان کسے سمجھتے ہو؟ " ہم نے کہا : جس کو لوگ پچھاڑ نہ سکیں ۔ آپ نے فرمایا : " پہلوان وہ نہیں ہے ، بلکہ پہلوان تو وہ شخص ہے جو غصے کے وقت خود پر قابو رکھتا ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا تَعُدُّونَ الرَّقُوبَ فِيكُمْ " . قَالَ قُلْنَا الَّذِي لاَ يُولَدُ لَهُ . قَالَ " لَيْسَ ذَاكَ بِالرَّقُوبِ وَلَكِنَّهُ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يُقَدِّمْ مِنْ وَلَدِهِ شَيْئًا " . قَالَ " فَمَا تَعُدُّونَ الصُّرَعَةَ فِيكُمْ " . قَالَ قُلْنَا الَّذِي لاَ يَصْرَعُهُ الرِّجَالُ . قَالَ " لَيْسَ بِذَلِكَ وَلَكِنَّهُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ " .
#6642
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters
ابومعاویہ اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی روایت کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَاهُ .
#6643
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The strong-man is not one who wrestles well but the strong man is one who controls himself when he is in a fit of rage
سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( کوئی شخص ) پچھاڑ دینے سے طاقت نہیں ہوتا ۔ طاقتور ( مضبوط ) وہ ہے جو غصے کے وقت خود کو قابو میں رکھتا ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَعَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالاَ كِلاَهُمَا قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ " .
#6644
Abu Huraira reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: One is not strong because of one's wrestling skillfully. They said: Allah's Messenger, then who is strong? He said: He who controls his anger when he is in a fit of rage
زبیدی نے زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حمید بن عبدالرحمٰن نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرماتے تھے : " پچھاڑ دینے سے کوئی شخص طاقتور نہیں ہوتا ۔ " صحابہ نے پوچھا : اللہ کے رسول! پھر طاقت ور کون ہے؟ آپ نے فرمایا : " جو غصے کے وقت خود کو قابو میں رکھتا ہے ۔
حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ " . قَالُوا فَالشَّدِيدُ أَيُّمَ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ " .
#6645
This hadith has been reported on the authority of Abu Huraira through another chain of transmitters
معمر اور شعیب دونوں نے زہری سے خبر دی ، انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْرَامَ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
#6646
Sulaiman b. Surad reported that two persons abused each other in the presence of Allah's Apostle (ﷺ) and the eyes of one of them became red as embers and the veins of his neck were swollen. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said:I know of a wording, if he were to utter that, his fit of rage (would be no more and that wording is): I seek refuge with Allah from Satan the accursed. The person said: Do you find any madness in me? Ibn al-'Ala' said: Do you see it? And he made no mention of the person
یحییٰ بن یحییٰ اور محمد بن علاء نے کہا : ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عدی بن ثابت سے اور انہوں نے حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : دو آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپس میں گالم گلوچ کیا ، ان دو میں سے ایک کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور گردن کی رگیں پھول گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر یہ شخص اسے کہہ دے تو وہ ( غصے کی ) جس کیفیت میں خود کو پا رہا ہے وہ جاتی رہے گی ، ( وہ کلمہ ہے ) : "" اعوذبالله من الشيطان الرجيم "" اس آدمی نے کہا : کیا آپ مجھ پر جنون طاری دیکھتے ہیں؟ ابن علاء کی روایت میں ( صرف ) "" اور کیا آپ دیکھتے ہیں "" کے الفاظ ہیں اور انہوں نے "" آدمی "" کا تذکرہ نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، قَالَ اسْتَبَّ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا تَحْمَرُّ عَيْنَاهُ وَتَنْتَفِخُ أَوْدَاجُهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأَعْرِفُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ الَّذِي يَجِدُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " . فَقَالَ الرَّجُلُ وَهَلْ تَرَى بِي مِنْ جُنُونٍ قَالَ ابْنُ الْعَلاَءِ فَقَالَ وَهَلْ تَرَى . وَلَمْ يَذْكُرِ الرَّجُلَ
#6647
Sulaiman b. Surad reported that two persons abused each other in the presence of Allah's Apostle (ﷺ) and one of them fell into a rage and his face became red. Allah's Apostle (ﷺ) saw him and said:I know of a wording; if he were to utter that, he would get out (of the fit of anger) (and the wording is): I seek refuge with Allah from Satan, the accursed. Thereupon, a person went to him who had heard that from Allah's Apostle (ﷺ) and said to him: Do you know what Allah's Messenger (ﷺ) said? He (the Holy Prophet) said: I know of a wording; if he were to say that, (the fit) would be no more (and the words are): I seek refuge with Allah from Satan, the accursed. And the person said to him: Do you find me mad?
ابواسامہ نے کہا : میں نے اعمش سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے عدی بن ثابت سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ ہمیں سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں نے آپس میں گالم گلوچ کیا ۔ ان میں سے ایک کو غصہ چڑھنا شروع ہو گیا اور اس کا چہرہ سرخ ہونے لگا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف نظر کی اور فرمایا : " مجھے ایک کلمے : " اعوذبالله من الشيطان الرجيم " کا پتہ ہے ۔ اگر یہ شخص وہ ( کلمہ ) کہہ دے تو اس سے یہ ( غصہ ) جاتا رہے گا ۔ " نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ( یہ بات ) سننے والوں میں سے ایک آدمی اٹھ کر اس شخص کی طرف گیا اور کہا : تمہیں پتہ ہے کہ ابھی ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ آپ نے فرمایا ہے : " مجھے ایک ایسے کلمے : " اعوذبالله من الشيطان الرجيم " کا پتہ ہے ۔ اگر یہ ( شخص ) وہ ( کلمہ ) کہہ دے تو اس سے یہ کیفیت جاتی رہے گی ۔ " اس شخص نے کہا : کیا تم یہ سمجھ رہے ہو کہ میں جنون کا شکار ہو گیا ہوں؟
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، سَمِعْتُ الأَعْمَشَ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ ثَابِتٍ، يَقُولُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ، قَالَ اسْتَبَّ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا يَغْضَبُ وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنِّي لأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ ذَا عَنْهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " . فَقَامَ إِلَى الرَّجُلِ رَجُلٌ مِمَّنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَتَدْرِي مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم آنِفًا قَالَ " إِنِّي لأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ ذَا عَنْهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " . فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ أَمَجْنُونًا تَرَانِي
#6648
This hadith has been reported on the authority of A'mash with the same chain of transmitters
حفص بن غیاث نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
#6649
Anas reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When Allah fashioned Adam in Paradise, He left him as He liked him to leave. Then Iblis roamed round him to see what actually that was and when he found him hollow from within, he recognised that he had been created with a disposition that he would not have control over himself
یونس بن محمد نے حماد بن سلمہ سے ، انہوں نے ثابت سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب اللہ تعالیٰ نے جنت میں حضرت آدم علیہ السلام کی صورت بنا لی تو جب تک چاہا ان ( کے جسد ) کو وہاں رکھا ۔ ابلیس اس کے اردگرد گھوم کر دیکھنے لگا کہ وہ کیسا ہے ۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ ( جسم ) اندر سے کھوکھلا ہے تو اس نے جان لیا کہ اسے اس طرح پیدا کیا گیا کہ یہ خود پر قابو نہیں رکھ سکتا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَمَّا صَوَّرَ اللَّهُ آدَمَ فِي الْجَنَّةِ تَرَكَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتْرُكَهُ فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يُطِيفُ بِهِ يَنْظُرُ مَا هُوَ فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ عَرَفَ أَنَّهُ خُلِقَ خَلْقًا لاَ يَتَمَالَكُ " .