#6600
Jarir b. 'Abdullah reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:He who is deprived of tenderly feelings is in fact deprived of good and he who is deprived of tenderly feelings is in fact deprived of good
محمد بن اسماعیل نے عبدالرحمٰن بن ہلال سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص نرم مزاجی سے محروم ہوا وہ بھلائی سے محروم ہوا ، یا جو شخص نرم مزاجی سے محروم کر دیا جاتا ہے وہ بھلائی سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلاَلٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ حُرِمَ الرِّفْقَ حُرِمَ الْخَيْرَ أَوْ مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ " .
#6601
A'isha, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:'A'isha, verily Allah is kind and He loves kindness and confers upon kindness which he does not confer upon severity and does not confer upon anything else besides it (kindness)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عائشہ! اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والا اور نرمی کو پسند فرماتا ہے اور نرمی کی بنا پر وہ کچھ عطا فرماتا ہے جو درشت مزاجی کی بنا پر عطا نہیں فرماتا ، وہ اس کے علاوہ کسی بھی اور بات پر اتنا عطا نہیں فرماتا ۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ، - يَعْنِي بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لاَ يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ وَمَا لاَ يُعْطِي عَلَى مَا سِوَاهُ " .
#6602
A'isha, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Kindness is not to be found in anything but that it adds to its beauty and it is not withdrawn from anything but it makes it defective
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے مقدام بن شریح بن بانی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اس کو زینت بخش دیتی ہے اور جس چیز سے بھی نرمی نکال دی جاتی ہے اسے بدصورت کر دیتی ہے ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمِقْدَامِ، - وَهُوَ ابْنُ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الرِّفْقَ لاَ يَكُونُ فِي شَىْءٍ إِلاَّ زَانَهُ وَلاَ يُنْزَعُ مِنْ شَىْءٍ إِلاَّ شَانَهُ " .
#6603
This hadith has been reported by Miqdam b. Shuraih b. Hani with the same chain of transmitters but with this addition:" 'A'isha mounted upon a wild camel and she began to make that go round and round. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: You should show kindness, and then he made a mention of this hadith
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے مقدام بن شریح بن بانی کو اسی سند سے ( حدیث بیان کرتے ہوئے ) سنا اور انہوں نے حدیث میں مزید بیان کیا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک ایسے اونٹ پر سوار ہوئیں جس میں ابھی سرکشی تھی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اسے گھمانے لگیں ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عائشہ! " نرمی سے کام لو ۔ " اس کے بعد اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند بیان کیا ۔
حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ رَكِبَتْ عَائِشَةُ بَعِيرًا فَكَانَتْ فِيهِ صُعُوبَةٌ فَجَعَلَتْ تُرَدِّدُهُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ " . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ .
#6604
Imran b. Husain reported:We were with Allah's Messenger (ﷺ) in some of his journeys and there was a woman from the Ansar riding a she-camel that it shied and she invoked curse upon that. Allah's Messenger (ﷺ) heard it and said: Unload that and set it free for it is accursed. 'Imran said: I still perceive that (dromedary) walking amongst people and none taking any notice of that
اسماعیل بن ابراہیم نے کہا : ہمیں ایوب نے ابوقلابہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابومہلب سے ، انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے اور ایک انصاری عورت اونٹنی پر سوار تھی کہ اچانک وہ اونٹنی مضطرب ہوئی ، اس عورت نے اس پر لعنت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن لی ، آپ نے فرمایا : "" اس ( اونٹنی ) پر جو کچھ موجود ہے وہ ہٹا لو اور اس کو چھوڑو کیونکہ وہ ملعون اونٹنی ہے ۔ "" حضرت عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جیسے میں اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ اونٹنی لوگوں کے درمیان چل رہی ہے ، کوئی اس سے تعرض نہیں کرتا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ، حُصَيْنٍ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَامْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ عَلَى نَاقَةٍ فَضَجِرَتْ فَلَعَنَتْهَا فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " خُذُوا مَا عَلَيْهَا وَدَعُوهَا فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ " . قَالَ عِمْرَانُ فَكَأَنِّي أَرَاهَا الآنَ تَمْشِي فِي النَّاسِ مَا يَعْرِضُ لَهَا أَحَدٌ .
#6605
Imran reported:I perceive as if I am looking towards that dromedary, and in the hadith transmitted on the authority of Thaqafi (the words are):" Unload it and make its back bare for it is accursed
حماد بن زید اور ( عبدالوہاب ) ثقفی نے ایوب سے اسماعیل کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، مگر حماد کی حدیث میں ہے : حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے کہا : جیسے اب بھی میں اس کو دیکھ رہا ہوں ، وہ خاکستری رنگ کی ایک اونٹنی ہے ۔ اور ثقفی کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس پر جو کچھ ہے اتار لو ، اس کی پیٹھ ننگی کر دو کیونکہ وہ ایک ملعون اونٹنی ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ، كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، بِإِسْنَادِ إِسْمَاعِيلَ . نَحْوَ حَدِيثِهِ إِلاَّ أَنَّ فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ قَالَ عِمْرَانُ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا نَاقَةً وَرْقَاءَ وَفِي حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ فَقَالَ " خُذُوا مَا عَلَيْهَا وَأَعْرُوهَا فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ " .
#6606
Abu Burza al-Aslami reported that a slave-girl was riding a dromedary and there was also the luggage of people upon it. that she suddenly saw Allah's Apostle (ﷺ). The way of the mountain was narrow and she said (to that dromedary):Go ahead (but that dromedary did not move). She (that slave-girl), out of anger, said: O Allah, let that (dromedary) be damned. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: Let the dromedary on which the curse has been invoked not proceed with us
یزید بن زریع نے کہا : ہمیں تیمی نے ابوعثمان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک باندی ایک اونٹنی پر سوار تھی جس پر لوگوں کا کچھ سامان بھی لدا ہوا تھا ، اچانک اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، اس وقت پہاڑ ( کے درے نے ) گزرنے والوں کا راستہ تنگ کر دیا تھا ۔ اس باندی نے ( اونٹنی کو تیز کرنے کے لیے زور سے ) کہا : چل ( تیز چلو تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ جائیں ، جب وہ اونٹنی تیز نہ ہوئی تو کہنے لگی : ) اے اللہ! اس پر لعنت بھیج ( حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے ) کہا : تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ اونٹنی جس پر لعنت ہو ہمارے ساتھ ( شریک سفر ) نہ ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ، قَالَ بَيْنَمَا جَارِيَةٌ عَلَى نَاقَةٍ عَلَيْهَا بَعْضُ مَتَاعِ الْقَوْمِ إِذْ بَصُرَتْ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَتَضَايَقَ بِهِمُ الْجَبَلُ فَقَالَتْ حَلْ اللَّهُمَّ الْعَنْهَا . قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُصَاحِبُنَا نَاقَةٌ عَلَيْهَا لَعْنَةٌ " .
#6607
This hadith has been narrated on the authority of Sulaiman Taimi with the same chain of transmitters but with a variation of words (and that is):" By Allah, let that accompany us not which has been damned, or he said like it
معتمر بن سلیمان اور یحییٰ بن سعید نے سلیمان تیمی سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، معتمر کی حدیث میں مزید یہ ہے ( کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) " نہیں ، اللہ کی قسم! ایسی اونٹنی ہمارے ساتھ نہ رہے جس پر اللہ کی لعنت ہو ۔ " یا آپ نے جن الفاظ میں فرمایا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، ح وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - جَمِيعًا عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ الْمُعْتَمِرِ " لاَ ايْمُ اللَّهِ لاَ تُصَاحِبُنَا رَاحِلَةٌ عَلَيْهَا لَعْنَةٌ مِنَ اللَّهِ " . أَوْ كَمَا قَالَ .
#6608
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:It does not seem proper for a Siddiq that he should be an invoker of curse
سلیمان بن بلال نے مجھے خبر دی ، کہا : علاء بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے ، انہوں نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک صدیق کے شایان شان نہیں کہ وہ زیادہ لعنت کرنے والا ہو ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ، - وَهُوَ ابْنُ بِلاَلٍ - عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَنْبَغِي لِصِدِّيقٍ أَنْ يَكُونَ لَعَّانًا " .
#6609
This hadith has been narrated on the authority of Abu Kuraib with the same chain of transmitters
محمد بن جعفر نے علاء بن عبدالرحمٰن سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنِيهِ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ، الرَّحْمَنِ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
#6610
Zaid b. Aslam reported that 'Abd al-Malik b. Marwan sent some domestic goods for decoration to Umm Darda' on his own behalf, and when it was night 'Abd al-Malik got up and called for the servant. It seemed as if he (the servant) was late (in responding to his call), so he ('Abd al-Malik) invoked curse upon him, and when it was morning Umm Darda' said to him:I heard you cursing your servant during the night when you called him, and she said: I heard Abu Darda' as saying that Allah's Messenger (ﷺ) said: The invoker of curse would neither be intercessor nor witness on the Day of Resurrection
حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے روایت کی کہ عبدالملک بن مروان نے حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا کو اپنی طرف سے گھر کا کچھ عمدہ سامان بھیجا ، پھر ایسا ہوا کہ ایک رات کو عبدالملک اٹھا ، اس نے اپنے خادم کو آواز دی ، غالبا اس نے دیر لگا دی تو عبدالملک نے اس پر لعنت کی ، جب اس ( عبدالملک ) نے صبح کی تو حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نے رات کو سنا کہ جس وقت تم نے اپنے خادم کو بلایا تھا تو تم نے اس پر لعنت کی تھی ، پھر وہ کہنے لگیں : میں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " زیادہ لعنت کرنے والے قیامت کے دن نہ شفاعت کرنے والے ہوں گے ، نہ گواہ بنیں گے ۔
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ، بْنَ مَرْوَانَ بَعَثَ إِلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ بِأَنْجَادٍ مِنْ عِنْدِهِ فَلَمَّا أَنْ كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ قَامَ عَبْدُ الْمَلِكِ مِنَ اللَّيْلِ فَدَعَا خَادِمَهُ فَكَأَنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ فَلَعَنَهُ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَتْ لَهُ أُمُّ الدَّرْدَاءِ سَمِعْتُكَ اللَّيْلَةَ لَعَنْتَ خَادِمَكَ حِينَ دَعَوْتَهُ . فَقَالَتْ سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَكُونُ اللَّعَّانُونَ شُفَعَاءَ وَلاَ شُهَدَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
#6611
This hadith has been narrated on the authority of Zaid b. Aslam with the same chain of transmitters
معمر نے زید بن اسلم سے اسی سند سے حفص بن میسرہ کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَعَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، كِلاَهُمَا عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ .
#6612
Umm Darda' reported on the authority of Abu Darda' as saying:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: The invoker of curse would neither be witness nor intercessor on the Day of Resurrection
ہشام بن سعد نے زید بن اسلم اور ابوحازم سے روایت کی ، انہوں نے ام درداء رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " بلاشبہ زیادہ لعنت کرنے والے قیامت کے روز نہ شہادت دینے والے ہوں گے اور نہ شفاعت کرنے والے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَأَبِي، حَازِمٍ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ اللَّعَّانِينَ لاَ يَكُونُونَ شُهَدَاءَ وَلاَ شُفَعَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
#6613
Abu Huraira reported it was said to Allah's Messenger (ﷺ):Invoke curse upon the polytheists, whereupon he said: I have not been sent as the invoker of curse, but I have been sent as mercy
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی : اللہ کے رسول! مشرکین کے خلاف دعا کیجئے ۔ آپ نے فرمایا : " مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا ، مجھے تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ - عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ قَالَ " إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً " .
#6614
A'isha reported that two persons visited Allah's Messenger (ﷺ) and both of them talked about a thing, of which I am not aware, but that annoyed him and he invoked curse upon both of them and hurled malediction, and when they went out I said:Allah's Messenger, the good would reach everyone but it would not reach these two. He said: Why so? I said: Because you have invoked curse and hurled malediction upon both of them. He said: Don't you know that I have made condition with my Lord saying thus: O Allah, I am a human being and that for a Muslim upon whom I invoke curse or hurl malediction make it a source of purity and reward
جریر نے اعمش سے ، انہوں نے ابوضحیٰ سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو شخص آئے ، مجھے معلوم نہیں کس معاملے میں انہوں نے آپ سے گفتگو کی اور آپ کو ناراض کر دیا ، آپ نے ان پر لعنت کی اور ان دونوں کو برا کہا ، جب وہ نکل کر چلے گئے تو میں نے عرض کی : کوئی شخص بھی جسے کوئی خیر ملی ہو ( وہ ) ان دونوں کو نہیں ملی ۔ آپ نے فرمایا : " وہ کیسے؟ " کہا : میں نے عرض کی : آپ نے ان کو لعنت کی اور برا کہا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہیں علم نہیں ہے میں نے اپنے رب سے کیا شرط کی ہوئی ہے؟ میں نے کہا ہے : اے اللہ! میں صرف بشر ہوں ، لہذا میں جس مسلمان کو لعنت کروں یا برا کہوں تو اس ( لعنت اور برا بھلا کہنے ) کو اس کے لیے گناہوں سے پاکیزگی اور حصولِ اجر کا ذریعہ بنا دے ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاَنِ فَكَلَّمَاهُ بِشَىْءٍ لاَ أَدْرِي مَا هُوَ فَأَغْضَبَاهُ فَلَعَنَهُمَا وَسَبَّهُمَا فَلَمَّا خَرَجَا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَصَابَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا مَا أَصَابَهُ هَذَانِ قَالَ " وَمَا ذَاكِ " . قَالَتْ قُلْتُ لَعَنْتَهُمَا وَسَبَبْتَهُمَا قَالَ " أَوَمَا عَلِمْتِ مَا شَارَطْتُ عَلَيْهِ رَبِّي قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَىُّ الْمُسْلِمِينَ لَعَنْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْهُ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا " .
#6615
This hadith has been reported on the authority of A'mash with the same chain of transmitters and the hadith transmitted on the authority of 'Isa (the words are):" He had a private meeting with them and hurled malediction upon them and cursed them and sent them out
ابومعاویہ اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ جریر کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، اور عیسیٰ ( بن یونس ) کی حدیث میں کہا : وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی میں ملے تو آپ نے انہیں برا بھلا کہا ، ان دونوں پر لعنت بھیجی اور ان کو نکال دیا ۔
حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، جَمِيعًا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَقَالَ فِي حَدِيثِ عِيسَى فَخَلَوَا بِهِ فَسَبَّهُمَا وَلَعَنَهُمَا وَأَخْرَجَهُمَا .
#6616
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:O Allah, I am a human being and for any person amongst Muslims upon whom I hurl malediction or invoke curse or give him whipping make it a source of purity and mercy
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں اعمش نے ابوصالح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے اللہ! میں صرف ایک بشر ہوں ، اس لیے میں جس مسلمان کو برا بھلا کہوں یا اس پر لعنت کروں یا اس کو کوڑے ماروں تو اسے اُس کے لیے پاکیزگی ( کا ذریعہ ) اور رحمت بنا دے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً " .
#6617
Jabir reported Allah's Apostle (ﷺ) a hadith like it but with a slight variation of wording
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں اعمش نے ابوسفیان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے مانند روایت کی مگر اس میں " پاکیزگی اور اجر " کے الفاظ ہیں ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ إِلاَّ أَنَّ فِيهِ " زَكَاةً وَأَجْرًا " .
#6618
This hadith has been transmitted on the authority of A'mash and in the hadith transmitted on the authority of 'Isa the words are:Make it a source of reward, and in the hadith transmitted on the authority of Abu Huraira (the words are):" Make it a source of mercy
ابومعاویہ اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے عبداللہ بن نمیر کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، مگر عیسیٰ کی روایت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں " بنا دے " اور " اجر " کے لفظ ہیں اور جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اور " بنا دے " اور " رحمت " کے لفظ ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ . مِثْلَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي، حَدِيثِ عِيسَى جَعَلَ " وَأَجْرًا " . فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَجَعَلَ " وَرَحْمَةً " . فِي حَدِيثِ جَابِرٍ .
#6619
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:O Allah, I make a covenant with Thee against which Thou wouldst never go. I am a human being and thus for a Muslim whom I give any harm or whom I scold or upon whom I invoke curse or whom I beat, make this a source of blessing, purification and nearness to Thee on the Day of Resurrection
مغیرہ بن عبدالرحمٰن حزامی نے ہمیں ابوزناد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دعا کرتے ہوئے ) فرمایا : " اے اللہ! میں تجھ سے عہد لیتا ہوں جس میں تو میرے ساتھ ہرگز خلاف ورزی نہیں فرمائے گا کہ میں ایک بشر ہی ہوں ، میں جس کسی مومن کو تکلیف پہنچاؤں ، اسے برا بھلا کہوں ، اس پر لعنت کروں ، اسے کوڑے ماروں تو ان تمام باتوں کو قیامت کے دن اس کے لیے رحمت ، پاکیزگی اور ایسی قربت بنا دے جس کے ذریعے سے تو اسے اپنا قرب عطا فرمائے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَىُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ شَتَمْتُهُ لَعَنْتُهُ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلاَةً وَزَكَاةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
#6620
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Zinad with a slight variation of wording
ابوزناد نے ہمیں اسی سند کے ساتھ یہ روایت بیان کی ، البتہ انہوں نے "" او جلدة "" کہا ۔ ابوزناد نے کہا : یہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبان ہے ۔ ( قریش کی زبان میں ) یہ لفظ "" جلدته "" ہی ہے ۔ ( معنی ایک ہی ہے ، یعنی جسے میں کوڑے ماروں ۔)
حَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ " أَوْ جَلَدُّهُ " . قَالَ أَبُو الزِّنَادِ وَهِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَإِنَّمَا هِيَ " جَلَدْتُهُ " .
#6621
A hadith like this has been reported on the authority of Abu Huraira through another chain of transmitters
ایوب نے عبدالرحمٰن اعرج سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ .
#6622
Salim, the freed slave of Nasriyyin, said:I heard Abu Huraira as saying that he heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: O Allah, Muhammad is a human being. I lose my temper just as human beings lose temper, and I have held a covenant with Thee which Thou wouldst not break: For a believer whom I give any trouble or invoke curse or beat, make that an expiation (of his sins and a source of) his nearness to Thee on the Day of Resurrection
نصریوں کے آزاد کردہ غلام سالم نے کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ، کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ ( دعا کرتے ہوئے ) فرما رہے تھے : " اے اللہ! محمد ایک بشر ہی ہے ، جس طرح ایک بشر کو غصہ آتا ہے ، اسے بھی غصہ آتا ہے اور میں تیرے حضور ایک وعدہ لیتا ہوں جس میں تو میرے ساتھ ہرگز خلاف ورزی نہیں فرمائے گا کہ جس مومن کو بھی میں نے تکلیف پہنچائی ، اسے برا بھلا کہا یا کوڑے سے مارا تو اس سب کچھ کو اس کے لیے گناہوں کا کفارہ بنا دینا اور ایسی قربت میں بدل دینا جس کے ذریعے سے قیامت کے دن تو اسے اپنا قرب عطا فرمائے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ سَالِمٍ، مَوْلَى النَّصْرِيِّينَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنَّمَا مُحَمَّدٌ بَشَرٌ يَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ وَإِنِّي قَدِ اتَّخَذْتُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ آذَيْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
#6623
Abu Huraira reported that he heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying:O Allah, for any believing servant whom I curse make that as a source of nearness to Thee on the Day of Resurrection
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ ( دعا کرتے ہوئے ) فرما رہے تھے : " اے اللہ! میں جس بندہ مومن کو برا بھلا کہوں تو اس کے لیے اسے قیامت کے دن اپنی قربت میں بدل دینا ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اللَّهُمَّ فَأَيُّمَا عَبْدٍ مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْ ذَلِكَ لَهُ قُرْبَةً إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
#6624
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I have held covenant with Thee which Thou wouldst not break, so for any believer whom I curse or beat, make that an expiation on the Day of Resurrection
ابن شہاب کے بھتیجے نے اپنے چچا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ ( دعا کرتے ہوئے ) فرما رہے تھے : " اے اللہ! میں نے تیرے حضور پختہ عہد لیا ہے جس میں تو میرے ساتھ ہرگز خلاف ورزی نہیں فرمائے گا کہ کوئی بھی مومن جسے میں نے تکلیف پہنچائی ہو یا اسے برا بھلا کہا ہو یا اسے کوڑے سے مارا ہو ، اسے تو قیامت کے دن اس کے لیے ( گناہوں کا ) کفارہ بنا دینا ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنِّي اتَّخَذْتُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْ ذَلِكَ كَفَّارَةً لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .