#6475
Imran b. Husain reported Allah's-Messenger (ﷺ) as saying:The best among you (are) the people (who belong to) my age. Then those next to them, then those next to them, then those next to them. 'Imran said: I do not know whether Allah's Messenger (ﷺ) said twice or thrice (the words:" Then next" ) after (saying) about his (own age but he then said): Then after them (after successors or those who would succeed them) would come a people who would give evidence before they are asked for it, and would be dishonest and not trustworthy, who would make vows but would not fulfil them, and would be significant in being bulky
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے ابو جمرہ سے سنا ، انھوں نےکہا : مجھے زہدم بن مضرب نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ حدیث بیان کررہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سب سے اچھے میرے دور کے لوگ ہیں ، پھر وہ جو ان کے ساتھ ہیں ۔ پھر وہ جو ان کے ساتھ ہیں ، پھر وہ لوگ جو ان کے ساتھ ہیں ، " حضرت عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : مجھے یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے بعد دوبار فرمایا یا تین بار؟ ( پھر آپ نے فرمایا : ) " پھر ان کے بعد وہ لوگ ہوں گے کہ وہ گواہی دیں گے جبکہ ان سے گواہی مطلوب نہیں ہوگی اورخیانت کریں جبکہ ان کو امانت دار نہیں بنایا جائے گا ( جس مال کی ذمہ داری ان کے پاس نہیں ہوگی اس میں بھی خیانت کے راستے نکالیں گے ) ، وہ نذر مانیں گے لیکن اپنی نذریں پوری نہیں کریں گے اور ان میں موٹاپا ظاہر ہوجائے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ غُنْدَرٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ، حَدَّثَنِي زَهْدَمُ بْنُ، مُضَرِّبٍ سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ خَيْرَكُمْ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ " . قَالَ عِمْرَانُ فَلاَ أَدْرِي أَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ قَرْنِهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةً " ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَهُمْ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلاَ يُسْتَشْهَدُونَ وَيَخُونُونَ وَلاَ يُتَّمَنُونَ وَيَنْذُرُونَ وَلاَ يُوفُونَ وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ " .
#6476
This hadith has been reported on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters (and the words are):I do not know whether he made a mention of two generations after his generation or of the third one too. Shababa said: I heard this from Zahdam b. Mudarrib as he came to me riding a horse for some need and he narrated it to me that he had heard it from 'Imran b. Husain, and in the hadith transmitted on the authority of Yahya and Shababa (the words are): They take an oath but they do not fulfil it, and in the hadith transmitted on the authority of Bahz there the word is Yafun as transmitted on the authority of Ibn Ja'far
یحییٰ بن سعید ، بہز اور شبابہ سب نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور ان سب کی حدیث میں ہے ( حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے کےبعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین کا ، شبابہ کی حدیث میں ہے کہ ( ابو جمرہ نے ) کہا : میں نے زہدم بن مضرب سےسنا ، وہ گھوڑے پرسوارہوکرمیرے پاس ایک کام کے لئے آئے تھے ، انھوں نے مجھے حدیث سنائی کہ انھوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، نیز یحییٰ ( بن سعید ) اورشبابہ کی حدیث میں ہے : " وہ نذریں مانیں گے لیکن وفا نہیں کریں گے ۔ " اور بہز کی حدیث میں اسی طرح ہے جس طرح ابن جعفر کی حدیث میں ہے : " وہ ( اپنی نذریں ) پوری نہیں کریں گے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا بَهْزٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَفِي حَدِيثِهِمْ قَالَ لاَ أَدْرِي أَذَكَرَ بَعْدَ قَرْنِهِ قَرْنَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةً . وَفِي حَدِيثِ شَبَابَةَ قَالَ سَمِعْتُ زَهْدَمَ بْنَ مُضَرِّبٍ وَجَاءَنِي فِي حَاجَةٍ عَلَى فَرَسٍ فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمِعَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ . وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى وَشَبَابَةَ " يَنْذُرُونَ وَلاَ يَفُونَ " . وَفِي حَدِيثِ بَهْزٍ " يُوفُونَ " . كَمَا قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ .
#6477
This hadith has been narrated on the authority of 'Imran b. Husain through another chain of transmitters (and the words are):The best generation of this Umma is the generation to which I have been sent, then the next one, and there is an addition in the hadith transmitted on the authority of Abu 'Awana (and the words are): And Allah knows best whether he made a mention of the third (generation) or not; the rest of the hadith is the same as transmitted by Zahdam on the authority of 'Imran. And in the hadith transmitted by Hisham on the authority of Qatada there is an addition of these words: They take an oath whereas they are not asked to take
ابو عوانہ اور ہشام دونوں نے قتادہ سے ، انھوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے ، انھوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث ( ان الفاظ میں ) روایت کی : " اس امت کے بہترین لوگ اس دور کے ہیں جس میں مجھے ان میں بھیجاگیا ہے ، پھر وہ جوان کےساتھ ( کے دور میں ) ہوں گے ۔ " ۔ ۔ ۔ ابو عوانہ کی حدیث میں مزید یہ ہے کہ ( حضرت عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اللہ زیادہ جاننے والا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے ( دور ) کا ذکر کیا یا نہیں ، جس طرح حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےزہدم کی روایت کردہ حدیث ہے ۔ اور قتادہ سے ہشام کی روایت کردہ حدیث میں یہ الفاظ زائد ہیں : " وہ قسمیں کھائیں گے جبکہ ان سے قسم کھانے کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلاَهُمَا، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ " خَيْرُ هَذِهِ الأُمَّةِ الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ " . زَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لاَ . بِمِثْلِ حَدِيثِ زَهْدَمٍ عَنْ عِمْرَانَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ هِشَامٍ عَنْ قَتَادَةَ " وَيَحْلِفُونَ وَلاَ يُسْتَحْلَفُونَ " .
#6478
A'isha reported that a person asked Allah's Apostle (ﷺ) as to who amongst the people were the best. He said:Of the generation to which I belong, then of the second generation (generation adjacent to my generation), then of the third generation (generation adjacent to the second generation)
عبداللہ بہی نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سے لوگ سب سے بہتر ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس دور میں جس میں ہوں ، پھر دوسرے ( دورکے ) ، پھر تیسرے ( دور کے ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، - وَهُوَ ابْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ - عَنْ زَائِدَةَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَىُّ النَّاسِ خَيْرٌ قَالَ " الْقَرْنُ الَّذِي أَنَا فِيهِ ثُمَّ الثَّانِي ثُمَّ الثَّالِثُ " .
#6479
Abdullah b. Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) led us 'Isha' prayer at the latter part of the night and when he had concluded it by salutations he stood up and said:Have you seen this night of yours? At the end of one hundred years after this none would survive on the surface of the earth (from amount my Companions). Ibn Umar said: People were (not understanding) these words of the Messenger of Allah (ﷺ) which had been uttered pertaining to one hundred years. Allah's Messenger (ﷺ) in fact meant (by these words) that on that day none from amongst those who had been living upon the earth (from amongst his Companions) would survive (after one hundred years) and that would be the end of this generation
معمر نے زہری سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے سالم بن عبداللہ اور ابو بکر بن سلیمان نے بتا یا کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبا رکہ کے آخری حصے میں ایک را ت ہمیں عشاء کی نما ز پڑھا ئی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلا م پھیرا تو کھڑے ہو گئے تو فرما یا : " کیا تم لوگوں نے اپنی اس را ت کو دیکھا ہے؟ ( اسے یا د رکھو ) بلا شبہ اس رات سے سو سال کے بعد جو لو گ ( اس را ت میں ) روئے زمین پر مو جودہیں ان میں سے کو ئی بھی باقی نہیں ہو گا ۔ " حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ( بعض ) لو گ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فر ما ن کے متعلق غلط فہمیوں میں مبتلا ہوئے ہیں جو اس میں سو سال کے حوالے سے مختلف باتیں کر رہے ہیں ( کہ سو سال بعد زندگی کا خاتمہ ہو جا ئے گا ۔ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما یا تھا ۔ " آج جو لوگ روئےزمین پر مو جو د ہیں ان میں سے کو ئی باقی نہیں ہو گا ۔ " آپ کا مقصود یہ تھا کہ اس قرن ( اس دور میں رہنے والے لوگوں ) کا خاتمہ ہو جائے گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ عَبْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ سُلَيْمَانَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ صَلاَةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ فَقَالَ " أَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ فَإِنَّ عَلَى رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لاَ يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَحَدٌ " . قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَوَهَلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تِلْكَ فِيمَا يَتَحَدَّثُونَ مِنْ هَذِهِ الأَحَادِيثِ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ . أَحَدٌ يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنْ يَنْخَرِمَ ذَلِكَ الْقَرْنُ .
#6480
This hadith has been transmitted by Zuhri on the authority of Ma'mar
شعیب اور عبد الرحمٰن بن خالد بن مسافر دونوں نے زہری سے معمر کی سند کے ساتھ انھی کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، وَرَوَاهُ، اللَّيْثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِ مَعْمَرٍ كَمِثْلِ حَدِيثِهِ .
#6481
Jabir b. 'Abdullah reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying this one month before his death: You asked me about the Last Hour whereas its knowledge is with Allah. I, however, take an oath and say that none upon the earth, the created beings (from amongst my Companions), would survive at the end of one hundred years
حجاج بن محمد نے کہا : ابن جریج نے کہا : مجھے ابو زبیر نے بتا یا ، انھوں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سناکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی وفات سے ایک مہینہ قبل یہ فر ما تے ہو ئے سنا : " تم مجھ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہو ؟اس کا علم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ( البتہ اس بات پر ) میں اللہ کی قسم کھا تا ہوں کہ اس وقت کو ئی زندہ نفس موجود نہیں جس پر سوسال پورے ہوں ۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ " تَسْأَلُونِي عَنِ السَّاعَةِ وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ وَأُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا عَلَى الأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ " .
#6482
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters, but there is no mention of the words:" one month before his death
ابن جریج نے اسی سند کے ساتھ ہمیں خبر دی اور اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ ( آپ نے ) اپنی وفات سے ایک ماہ قبل ( یہ ارشاد فرمایا تھا ۔)
حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ .
#6483
Jabir b. 'Abdullah reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying one mouth before his death (or something like it):None amongst the created beings who had been living by that time (during the lifetime of Allah's Apostle).... 'Abd al-Rahman has interpreted these words of Allah's Apostle (ﷺ) as: The ages (of the people) would be diminished
معتمر بن سلیمان نے کہا : میں نے اپنے والد سے سنا ، کہا : ابو نضرہ نے ہمیں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : آپ نے اپنی وفات سے ایک مہینہ یا قریباًاتنا عرصہ پہلے فرما یا : " آج کو ئی ایسا سانس لیتا ہوا انسان موجود نہیں کہ اس پر سوسال گزریں تو وہ اس دن بھی زندہ ہو ۔ اور لوگوں کو پانی پلا نے والے عبدالرحمان ( بن آدم ) سے روایت ہے انھوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔ عبدالرحمان نے اس کا مفہوم بتا یا اور کہا : عمر کی کمی ( مراد ہے)
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، كِلاَهُمَا عَنِ الْمُعْتَمِرِ، قَالَ ابْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ " مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ الْيَوْمَ تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ وَهْىَ حَيَّةٌ يَوْمَئِذٍ " . وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، صَاحِبِ السِّقَايَةِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ ذَلِكَ وَفَسَّرَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ نَقْصُ الْعُمُرِ .
#6484
This hadith has been reported on the authority of Sulaiman Taimi through other chains of transmitters
یزید بن ہارون نے کہا : ہمیں سلیمان تیمی نے دونوں سندوں سے اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، بِالإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا . مِثْلَهُ .
#6485
Abu Sa'id reported that when Allah's Apostle (ﷺ) came back from Tabuk they (his Companions) asked about the Last Hour. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said:There would be none amongst the created beings living on the earth (who would survive this century)
ابو نضر ہ نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس آئے تو اس کے بعد لوگوں نے آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " سو سال نہیں گزریں گے ۔ کہ آج زمین پر سانس لیتا ہوا کو ئی شخص موجود ہو ۔ " ( اس سے پہلے یہ سب ختم ہو جا ئیں گے ۔)
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ دَاوُدَ، وَاللَّفْظُ، لَهُ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي، شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ لَمَا رَجَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ تَبُوكَ سَأَلُوهُ عَنِ السَّاعَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَأْتِي مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ الْيَوْمَ " .
#6486
Jabir b. 'Abdullah reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:None amongst the created beings (from my Companions) would survive after one hundred years. Salim said: We made a mention of it to him (Jabir), whereupon he said: It means those who had been living on that day
حصین نے سالم سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ( آج ) سانس لیتا ہوا شخص سو سال ( کی مدت ) تک نہیں پہنچےگا ۔ " سالم نے کہا : ہم نے ان ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے سامنے اس کے بارے میں گفتگو کی اس سے مراد ہر وہ شخص ہے جو اس وقت پیدا ہو چکا تھا ۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ تَبْلُغُ مِائَةَ سَنَةٍ " . فَقَالَ سَالِمٌ تَذَاكَرْنَا ذَلِكَ عِنْدَهُ إِنَّمَا هِيَ كُلُّ نَفْسٍ مَخْلُوقَةٍ يَوْمَئِذٍ .
#6487
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Do not revile my Companions, do not revile my Companions. By Him in Whose Hand is my life, if one amongst you would have spent as much gold as Uhud it would not amount to as much as one much on behalf of one of them or half of it
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے ابو صالح سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میرے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو برا مت کہو ، میرے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کہو ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ !اگر تم میں سے کو ئی شخص اُحد پہا ڑ جتنا سونا بھی خرچ کرے تو وہ ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) میں سے کسی ایک کے دیے ہو ئے مد بلکہ اس کے آدھے کے برابر بھی ( اجر ) نہیں پاسکتا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَسُبُّوا أَصْحَابِي لاَ تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلاَ نَصِيفَهُ " .
#6488
Abu Sa'id reported there was some altercation between Khalid b. Walid and Abd al-Rahman b. 'Auf and Khalid reviled him. Thereupon Allah's Messwger (ﷺ) said:None should revile my Companions. for if one amongst you were to spend as much gold as Uhud, it would not amount to as much as one mudd of one of them or half of it
جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابو صالح سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید ( خدری ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت خالد بن ولید اور عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان کو ئی مناقشہ تھا ، حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو برا کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میرے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے کسی کو برا نہ کہو ، کیونکہ تم میں سے کسی شخص نے اگر اُحدپہاڑ کے برابرسونا بھی خرچ کیاتو وہ ان میں سے کسی کے دیے ہو ئے ایک مدکے برابر بلکہ اس کے آدھے کے برابر بھی ( اجر ) نہیں پاسکتا ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي، سَعِيدٍ قَالَ كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ شَىْءٌ فَسَبَّهُ خَالِدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَسُبُّوا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِي فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلاَ نَصِيفَهُ " .
#6489
This hadith has been transmitted on the authority of al-A'mash and there is no mention by Shu'ba and Waki' of 'Abd al-Rahman b. Auf and Khalid
وکیع اور شعبہ نے اعمش سے جریر اور ابو معاویہ کی سند کے ساتھ ان دونوں کی حدیث کے مانند روایت کی ، لیکن شعبہ اور وکیع کی حدیث میں عبدالرحمٰن بن عوف اور خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تذکرہ نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ وَأَبِي مُعَاوِيَةَ . بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ وَوَكِيعٍ ذِكْرُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ .
#6490
Usair b. Jabir reported that a delegation from Kufa came to 'Umar and there was a person amongst them who jeered at Uwais. Thereupon Umar said:Is there amongst us one from Qaran? That person came and Umar said: Verily Allah's Messenger (ﷺ) has said: There would come to you a person from Yemen who would be called Uwais and he would leave none in Yemen (behind him) except his mother, and he would have the whiteness (due to leprosy) and he supplicated Allah and it was cured except for the size of a dinar or dirham. He who amongst you meets him should ask him to supplicate for forgiveness (from Allah) for you
سلیمان بن مغیرہ نے کہا : مجھے سعید جریری نے ابو نضرہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اُسیر بن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ اہل کوفہ ایک وفد میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے ، ان میں ایک ایسا آدمی بھی تھا جو حضرت اویس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ٹھٹا اڑاتا تھا ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا : یہاں قرن کے رہنے والوں میں سے کوئی ہے؟وہ شخص ( آگے ) آگیاتوحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " تمھارے پاس یمن سے ایک شخص آئے گا ، اس کا نام اویس ہوگا ، یمن میں اس کی والدہ کےسوا کوئی نہیں جسے وہ چھوڑ کرآئے ۔ اس ( کے جسم ) پرسفید ( برص کے ) نشان ہیں ۔ اس نے اللہ سے دعا کی تو اللہ نے ایک دینار یا درہم کے برابر چھوڑ کر باقی سارا نشان ہٹادیا ، وہ تم میں سے جس کو ملے ( وہ اس سے درخواست کرےکہ ) وہ تم لوگوں کےلیے مغفرت کی دعاکرے ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ، أَنَّ أَهْلَ الْكُوفَةِ، وَفَدُوا، إِلَى عُمَرَ وَفِيهِمْ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ يَسْخَرُ بِأُوَيْسٍ فَقَالَ عُمَرُ هَلْ هَا هُنَا أَحَدٌ مِنَ الْقَرَنِيِّينَ فَجَاءَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ قَالَ " إِنَّ رَجُلاً يَأْتِيكُمْ مِنَ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أُوَيْسٌ لاَ يَدَعُ بِالْيَمَنِ غَيْرَ أُمٍّ لَهُ قَدْ كَانَ بِهِ بَيَاضٌ فَدَعَا اللَّهَ فَأَذْهَبَهُ عَنْهُ إِلاَّ مَوْضِعَ الدِّينَارِ أَوِ الدِّرْهَمِ فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَكُمْ " .
#6491
Umar b. Khattab reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: Worthy amongst the successors would be a person who would be called Uwais. He would have his mother (living with him) and he would have (a small) sign of leprosy. Ask him to beg pardon for you (from Allah)
حماد بن سلمہ نے سعید جریری سے اسی سند کےساتھ حدیث بیان کی ، کہا : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا : کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ تابعین میں ایک بہترین شخص ہے جس کو اویس کہتے ہیں ، اس کی ایک ماں ہے ( یعنی رشتہ داروں میں سے صرف ماں زندہ ہو گی ) اور اس کو ایک سفیدی ہو گی ۔ تم اس سے کہنا کہ تمہارے لئے دعا کرے ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ - عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ خَيْرَ التَّابِعِينَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أُوَيْسٌ وَلَهُ وَالِدَةٌ وَكَانَ بِهِ بَيَاضٌ فَمُرُوهُ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَكُمْ " .
#6492
Usair b. Jabir reported that when people from Yemen came to help (the Muslim army at the time of jihad) he asked them:Is there amongst you Uwais b. 'Amir? (He continued finding him out) until he met Uwais. He said: Are you Uwais b., Amir? He said: Yes. He said: Are you from the tribe of Qaran? He said: Yes. He (Hadrat) 'Umar (again) said: Did you suffer from leprosy and then you were cured from it but for the space of a dirham? He said: Yes. He ('Umar) said: Is your mother (living)? He said: Yes. He ('Umar) said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) say: There would come to you Uwais b. Amir with the reinforcement from the people of Yemen. (He would be) from Qaran, (the branch) of Murid. He had been suffering from leprosy from which he was cured but for a spot of a dirham. His treatment with his mother would have been excellent. If he were to take an oath in the name of Allah, He would honour that. And if it is possible for you, then do ask him to beg forgiveness for you (from your Lord). So he (Uwais) begged forgiveness for him. Umar said: Where do you intend to go? He said: To Kufa. He ('Umar) said: Let me write a letter for you to its governor, whereupon he (Uwais) said: I love to live amongst the poor people. When it was the next year, a person from among the elite (of Kufa) performed Hajj and he met Umar. He asked him about Uwais. He said: I left him in a state with meagre means of sustenance. (Thereupon) Umar said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: There would come to you Uwais b. 'Amir, of Qaran, a branch (of the tribe) of Murid, along with the reinforcement of the people of Yemen. He had been suffering from leprosy which would have been cured but for the space of a dirham. His treatment with his mother would have been very kind. If he would take an oath in the name of Allah (for something) He would honour it. Ask him to beg forgiveness for you (from Allah) in case it is possible for you. So he came to Uwais and said.: Beg forgiveness (from Allah) for me. He (Uwais) said: You have just come from a sacred journey (Hajj) ; you, therefore, ask forgiveness for me. He (the person who had performed Hajj) said: Ask forgiveness for me (from Allah). He (Uwais again) said: You have just come from the sacred journey, so you ask forgiveness for me. (Uwais further) said: Did you meet Umar? He said: Yes. He (Uwais) then begged forgiveness for him (from Allah). So the people came to know about (the status of religious piety) of Uwais. He went away (from that place). Usair said: His clothing consisted of a mantle, and whosoever saw him said: From where did Uwais get this mantle?
زرارہ بن اوفیٰ نے اُسیر بن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جب یمن سے مدد کے لوگ آتے ( یعنی وہ لوگ جو ہر ملک سے اسلام کے لشکر کی مدد کے لئے جہاد کرنے کو آتے ہیں ) تو وہ ان سے پوچھتے کہ تم میں اویس بن عامر بھی کوئی شخص ہے؟ یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خود اویس کے پاس آئے اور پوچھا کہ تمہارا نام اویس بن عامر ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم مراد قبیلہ کی شاخ قرن سے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ انہوں نے پوچھا کہ تمہیں برص تھا وہ اچھا ہو گیا مگر درہم برابر باقی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تمہاری ماں ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ تمہارے پاس اویس بن عامر یمن والوں کی کمکی فوج کے ساتھ آئے گا ، وہ قبیلہ مراد سے ہے جو قرن کی شاخ ہے ۔ اس کو برص تھا وہ اچھا ہو گیا مگر درہم باقی ہے ۔ اس کی ایک ماں ہے ۔ اس کا یہ حال ہے کہ اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ تعالیٰ اس کو سچا کرے ۔ پھر اگر تجھ سے ہو سکے تو اس سے اپنے لئے دعا کرانا ۔ تو میرے لئے دعا کرو ۔ پس اویس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے لئے بخشش کی دعا کی ۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم کہاں جانا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ کوفہ میں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تمہیں کوفہ کے حاکم کے نام ایک خط لکھ دوں؟ انہوں نے کہا کہ مجھے خاکساروں میں رہنا اچھا معلوم ہوتا ہے ۔ جب دوسرا سال آیا تو ایک شخص نے کوفہ کے رئیسوں میں سے حج کیا ۔ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے اویس کا حال پوچھا تو وہ بولا کہ میں نے اویس کو اس حال میں چھوڑا کہ ان کے گھر میں اسباب کم تھا اور ( خرچ سے ) تنگ تھے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اویس بن عامر تمہارے پاس یمن والوں کے امدادی لشکر کے ساتھ آئے گا ، وہ مراد قبیلہ کی شاخ قرن میں سے ہے ۔ اس کو برص تھا وہ اچھا ہو گیا صرف درہم کے برابر باقی ہے ۔ اس کی ایک ماں ہے جس کے ساتھ وہ نیکی کرتا ہے ۔ اگر وہ اللہ پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ تعالیٰ اس کو سچا کرے ۔ پھر اگر تجھ سے ہو سکے کہ وہ تیرے لئے دعا کرے تو اس سے دعا کرانا ۔ وہ شخص یہ سن کر اویس کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میرے لئے دعا کرو ۔ اویس نے کہا کہ تو ابھی نیک سفر کر کے آ رہا ہے ( یعنی حج سے ) میرے لئے دعا کر ۔ پھر وہ شخص بولا کہ میرے لئے دعا کر ۔ اویس نے یہی جواب دیا پھر پوچھا کہ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملا؟ وہ شخص بولا کہ ہاں ملا ۔ اویس نے اس کے لئے دعا کی ۔ اس وقت لوگ اویس کا درجہ سمجھے ۔ وہ وہاں سے سیدھے چلے ۔ اسیر نے کہا کہ میں نے ان کو ان کا لباس ایک چادر پہنائی جب کوئی آدمی ان کو دیکھتا تو کہتا کہ اویس کے پاس یہ چادر کہاں سے آئی ہے؟ ( وہ ایسے تھے کہ ایک مناسب چادر بھی ان کے پاس ہونا باعث تعجب تھا ۔)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا - وَاللَّفْظُ، لاِبْنِ الْمُثَنَّى - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِذَا أَتَى عَلَيْهِ أَمْدَادُ أَهْلِ الْيَمَنِ سَأَلَهُمْ أَفِيكُمْ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ حَتَّى أَتَى عَلَى أُوَيْسٍ فَقَالَ أَنْتَ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ نَعَمْ . قَالَ مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ قَالَ نَعَمْ . قَالَ فَكَانَ بِكَ بَرَصٌ فَبَرَأْتَ مِنْهُ إِلاَّ مَوْضِعَ دِرْهَمٍ قَالَ نَعَمْ . قَالَ لَكَ وَالِدَةٌ قَالَ نَعَمْ . قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَأْتِي عَلَيْكُمْ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ مَعَ أَمْدَادِ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ كَانَ بِهِ بَرَصٌ فَبَرَأَ مِنْهُ إِلاَّ مَوْضِعَ دِرْهَمٍ لَهُ وَالِدَةٌ هُوَ بِهَا بَرٌّ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ فَافْعَلْ " . فَاسْتَغْفِرْ لِي . فَاسْتَغْفَرَ لَهُ . فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ الْكُوفَةَ . قَالَ أَلاَ أَكْتُبُ لَكَ إِلَى عَامِلِهَا قَالَ أَكُونُ فِي غَبْرَاءِ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَىَّ . قَالَ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ حَجَّ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِهِمْ فَوَافَقَ عُمَرَ فَسَأَلَهُ عَنْ أُوَيْسٍ قَالَ تَرَكْتُهُ رَثَّ الْبَيْتِ قَلِيلَ الْمَتَاعِ . قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَأْتِي عَلَيْكُمْ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ مَعَ أَمْدَادِ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ كَانَ بِهِ بَرَصٌ فَبَرَأَ مِنْهُ إِلاَّ مَوْضِعَ دِرْهَمٍ لَهُ وَالِدَةٌ هُوَ بِهَا بَرٌّ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ فَافْعَلْ " . فَأَتَى أُوَيْسًا فَقَالَ اسْتَغْفِرْ لِي . قَالَ أَنْتَ أَحْدَثُ عَهْدًا بِسَفَرٍ صَالِحٍ فَاسْتَغْفِرْ لِي . قَالَ اسْتَغْفِرْ لِي . قَالَ أَنْتَ أَحْدَثُ عَهْدًا بِسَفَرٍ صَالِحٍ فَاسْتَغْفِرْ لِي . قَالَ لَقِيتَ عُمَرَ قَالَ نَعَمْ . فَاسْتَغْفَرَ لَهُ . فَفَطِنَ لَهُ النَّاسُ فَانْطَلَقَ عَلَى وَجْهِهِ . قَالَ أُسَيْرٌ وَكَسَوْتُهُ بُرْدَةً فَكَانَ كُلَّمَا رَآهُ إِنْسَانٌ قَالَ مِنْ أَيْنَ لأُوَيْسٍ هَذِهِ الْبُرْدَةُ
#6493
Abu Dharr reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:You would soon conquer a land where people are in the habit of using foul language. They have a right of kinship upon you. And when you see two persons fighting for the space of a brick, then get out of that. He (Abu Dharr) then happened to pass by Rabila and 'Abd al-Rahman, the two sons of Shurahbil b. Hasana, and they had been disputing for the space of a brick. So he left the land
ابن وہب نے کہا : ہمیں حرملہ بن عمران تحبیی نے عبدالرحمٰن بن شماسہ مہری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" تم عنقریب ایک زمین کو فتح کرو گےجس میں قیراط کا نام لیا جاتا ہوگا ( یہ ان کے چھوٹے سکے کا نام ہوگا ) تم اس سرزمین کے رہنے والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی بات سن رکھو ، کیونکہ ان کا ( ہم پر ) حق بھی ہے اور رشتہ بھی ، پھر جب تم دو انسانوں کو ایک اینٹ کی جگہ کے لئے قتال پر آمادہ دیکھو تو وہاں سے چلے آنا ۔ "" ( حرملہ بن عمران نے ) کہا : تو ( عبدالرحمان بن شماسہ ) حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دو بیٹوں ربیعہ اور عبدالرحمان کے قریب سے گزرے ، وہ ایک اینٹ کی جگہ پر جھگڑ رہے تھے تو وہ وہاں ( مصر ) سے نکل آئے ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَرْمَلَةُ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ، سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ، - وَهُوَ ابْنُ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ شُمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ أَرْضًا يُذْكَرُ فِيهَا الْقِيرَاطُ فَاسْتَوْصُوا بِأَهْلِهَا خَيْرًا فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا فَإِذَا رَأَيْتُمْ رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلاَنِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَاخْرُجْ مِنْهَا " . قَالَ فَمَرَّ بِرَبِيعَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنَىْ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ يَتَنَازَعَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَخَرَجَ مِنْهَا .
#6494
Abu Dharr reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:You would soon conquer Egypt and that is a land which is known (as the land of al-qirat). So when you conquer it, treat its inhabitants well. For there lies upon you the responsibility because of blood-tie or relationship of marriage (with them). And when you see two persons falling into dispute amongst themselves for the space of a brick, than get out of that. He (Abu Dharr) said: I saw Abd al-Rahman b. Shurahbil b. Hasana and his brother Rabi'a disputing with one another for the space of a brick. So I left that (land)
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، سَمِعْتُ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ مِصْرَ وَهِيَ أَرْضٌ يُسَمَّى فِيهَا الْقِيرَاطُ ، فَإِذَا فَتَحْتُمُوهَا فَأَحْسِنُوا إِلَى أَهْلِهَا ، فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا» أَوْ قَالَ «ذِمَّةً وَصِهْرًا ، فَإِذَا رَأَيْتَ رَجُلَيْنِ يَخْتَصِمَانِ فِيهَا فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ ، فَاخْرُجْ مِنْهَا» قَالَ : فَرَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ ، وَأَخَاهُ رَبِيعَةَ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَخَرَجْتُ مِنْهَا
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، سَمِعْتُ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَةَ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ، عَنْ أَبِي، ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ مِصْرَ وَهِيَ أَرْضٌ يُسَمَّى فِيهَا الْقِيرَاطُ فَإِذَا فَتَحْتُمُوهَا فَأَحْسِنُوا إِلَى أَهْلِهَا فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا " . أَوْ قَالَ " ذِمَّةً وَصِهْرًا فَإِذَا رَأَيْتَ رَجُلَيْنِ يَخْتَصِمَانِ فِيهَا فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَاخْرُجْ مِنْهَا " . قَالَ فَرَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ وَأَخَاهُ رَبِيعَةَ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَخَرَجْتُ مِنْهَا .
#6495
Abu Barza reported that Allah's Messenger (ﷺ) sent a person to a tribe amongst the tribes of Arabia. They reviled him and beat him. He came to Allah's Messenger (ﷺ) and narrated to him (the story of atrocities perpetrated upon him by the people of the tribe). Thereupon he (the Holy Prophet) said:If you were to come to the people of 'Uman, they would have neither reviled you nor beaten you
جابر بن عمرو راسبی نے کہا : میں نے حضرت ابو برزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو قبائل عرب میں سے ایک قبیلے کے پاس بھیجا تو ان لوگوں نے ان کو گالیاں دیں اور مارا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کوخبر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر تم اہل عمان کے پاس جاتے تو وہ تمھیں گالیاں دیتے نہ مارتے ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ، جَابِرِ بْنِ عَمْرٍو الرَّاسِبِيِّ سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ، يَقُولُ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً إِلَى حَىٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَسَبُّوهُ وَضَرَبُوهُ فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ أَنَّ أَهْلَ عُمَانَ أَتَيْتَ مَا سَبُّوكَ وَلاَ ضَرَبُوكَ " .
#6496
Abu Naufal reported:I saw (the dead body) of Abdullah b. Zubair hanging on the road of Medina (leading to Mecca). The Quraish passed by it and other people too, that Abdullah b. Umar happened to pass by it. He stood up there and said: May there be peace upon you, Abu Khubaib (the Kunya of Hadrat 'Abdullah b. Zubair), may there be peace upon you Abu Khubaib, may there be peace upon you, Abu Khubaib! By Allah, I used to forbid you from this; by Allah, I used to forbid you from this, by Allah I used to forbid you from this. By Allah, so far as I know, you had been very much devoted to fasting and prayer and you had been paying very much care to cementing the ties of blood. By Allah, the group to which you belong (are labelled) as (a) wicked (person) is indeed a fine group. Then 'Abdullah b. 'Umar went away. The stand 'Abdullah (b. 'Umar) took in regard to the inhuman treatment (meted out to 'Abdullah b. Zubair) and his words (in that connection) were conveyed to Hajjaj (b. Yusuf) and (as a consequence of that) he (the body of Abdullah b. Zubair) was brought down from the stump (the scaffold) by which it was hanging and thrown into the graves of the Jews. He (Hajjaj) sent (his messenger) to Asma' (bint Abu Bakr, 'Abdullah's mother). But she refused to come. He again sent the messenger to her with the message that she must come, otherwise he would bring her forcibly catching hold of her hair. But she again refused and said: By Allah, I will not come to you until you send one to me who would drag me by pulling my hair. Thereupon he said: Bring me my shoes. He put on his shoes and walked on quickly swollen with vanity and pride until he came to her and said: How do you find what I have done with the enemy of Allah? She said: I find that you wronged him in this world, whereas he has spoiled your next life. It has been conveyed to me that you used to call him ('Abdullah b. Zubair) as the son of one having two belts. By Allah, I am indeed (a woman) of two belts. One is that with the help of which I used to suspend high the food of Allah's Messenger (ﷺ) and that of Abu Bakr (making it out of the reach) of animals and, so far as the second belt is concerned, that is the belt which no woman can dispense with. Verily Allah's Messenger (ﷺ) told us that in Thaqif, there would be born a great liar and great murderer. The liar we have seen, and as far as the murderer is concerned, I do not find anyone else besides you. 'Thereupon he (Hajjaj) stood up and did not give any reply to her
ہمیں اسود بن شیبان نے ابو نوافل سے خبردی ، کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( کے جسد خاکی ) کو شہر کی گھاٹی میں ( کھجور کے ایک تنے سے لٹکا ہوا ) دیکھا ، کہا : تو قریش اور دوسرے لوگوں نے وہاں سے گزرنا شروع کردیا ، یہاں تک کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں سے گزرے تو وہ ان ( ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے پاس کھڑے ہوگئے ، اور ( انھیں مخاطب کرتے ہوئے ) کہا : ابو خبیب!آپ پر سلام! ابو خبیب!آپ پر سلام! ابو خبیب!آپ پر سلام!اللہ گواہ ہے کہ میں آپ کو اس سے روکتا تھا ، اللہ گواہ ہے کہ میں آپ کو اس سے روکتا تھا ، اللہ گواہ ہے کہ میں آپ کو اس سے روکتا تھا ، اللہ کی قسم!آپ ، جتنا مجھے علم ہے بہت روزے رکھنے والے ، بہت قیام کرنے والے ، بہت صلہ رحمی کرنے و الے تھے ۔ اللہ کی قسم!وہ امت جس میں آپ سب سے بُرے ( قرار دیے گئے ) ہوں ، وہ امت تو پوری کی پوری بہترین ہوگی ( جبکہ اس میں تو بڑے بڑے ظالم ، قاتل اور مجرم موجود ہیں ۔ آپ کسی طور پر اس سلوک کے مستحق نہ تھے ۔ ) پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں سے چلے گئے ۔ حجاج کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وہاں کھڑے ہونے کی خبر پہنچی تو اس نے کارندے بھیجے ، ان ( کے جسدخاکی ) کو کھجور کے تنے سے اتارا گیا اور انھیں جاہلی دور کی یہود کی قبروں میں پھینک دیا گیا ، پھر اس نے ( ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ ) حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس کارندہ بھیجا ۔ انھوں نے اس کے پاس جانے سے انکار کردیا ۔ اس نے دوبارہ قاصد بھیجا کہ یا تو تم میرے پاس آؤ گی یا پھر میں تمھارے پاس ان لوگوں کو بھیجو ں گا جو تمھیں تمھارے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے آئیں گے ۔ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پھر انکار کردیا اورفرمایا : میں ہرگز تیرے پاس نہ آؤں گی یہاں تک کہ تو میرے پاس ایسے شخص کو بھیجے جو مجھے میرے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لےجائے ۔ کہا : توحجاج کہنے لگا : مجھے میرے جوتے دکھاؤ ، اس نے جوتے پہنے اور اکڑتا ہوا تیزی سے چل پڑا ، یہاں تک کہ ان کے ہاں پہنچا اور کہا : تم نے مجھے دیکھا کہ میں نے اللہ کے دشمن کے ساتھ کیا کیا؟انھوں نے جواب دیا : میں نے تمھیں دیکھا ہے کہ تم نے اس پر اس کی دنیا تباہ کردی جبکہ اس نے تمھاری آخرت برباد کردی ، مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تو اسے دو پیٹیوں والی کا بیٹا ( ابن ذات النطاقین ) کہتا ہے ۔ ہاں ، اللہ کی قسم!میں دو پیٹیوں والی ہوں ۔ ایک پیٹی کے ساتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کھانا سواری کے جانور پر باندھتی تھی اور دوسری پیٹی وہ ہے جس سے کوئی عورت مستغنی نہیں ہوسکتی ( سب کو لباس کے لیے اس کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ) اور سنو!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا تھا کہ بنو ثقیف میں ایک بہت بڑا کذاب ہوگا اور ایک بہت بڑا سفاک ہوگا ۔ کذاب ( مختار ثقفی ) کو تو ہم نے دیکھ لیا اور رہا سفاک تو میں نہیں سمجھتی کہ تیرے علاوہ کوئی اورہوگا ، کہا : تو وہ وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا اور انھیں کوئی جواب نہ دے سکا ۔
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيَّ - أَخْبَرَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي نَوْفَلٍ، رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى عَقَبَةِ الْمَدِينَةِ - قَالَ - فَجَعَلَتْ قُرَيْشٌ تَمُرُّ عَلَيْهِ وَالنَّاسُ حَتَّى مَرَّ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا أَمَا وَاللَّهِ إِنْ كُنْتَ مَا عَلِمْتُ صَوَّامًا قَوَّامًا وَصُولاً لِلرَّحِمِ أَمَا وَاللَّهِ لأُمَّةٌ أَنْتَ أَشَرُّهَا لأُمَّةٌ خَيْرٌ . ثُمَّ نَفَذَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَبَلَغَ الْحَجَّاجَ مَوْقِفُ عَبْدِ اللَّهِ وَقَوْلُهُ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَأُنْزِلَ عَنْ جِذْعِهِ فَأُلْقِيَ فِي قُبُورِ الْيَهُودِ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ فَأَبَتْ أَنْ تَأْتِيَهُ فَأَعَادَ عَلَيْهَا الرَّسُولَ لَتَأْتِيَنِّي أَوْ لأَبْعَثَنَّ إِلَيْكِ مِنْ يَسْحَبُكِ بِقُرُونِكِ - قَالَ - فَأَبَتْ وَقَالَتْ وَاللَّهِ لاَ آتِيكَ حَتَّى تَبْعَثَ إِلَىَّ مَنْ يَسْحَبُنِي بِقُرُونِي - قَالَ - فَقَالَ أَرُونِي سِبْتَىَّ . فَأَخَذَ نَعْلَيْهِ ثُمَّ انْطَلَقَ يَتَوَذَّفُ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ كَيْفَ رَأَيْتِنِي صَنَعْتُ بِعَدُوِّ اللَّهِ قَالَتْ رَأَيْتُكَ أَفْسَدْتَ عَلَيْهِ دُنْيَاهُ وَأَفْسَدَ عَلَيْكَ آخِرَتَكَ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ لَهُ يَا ابْنَ ذَاتِ النِّطَاقَيْنِ أَنَا وَاللَّهِ ذَاتُ النِّطَاقَيْنِ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكُنْتُ أَرْفَعُ بِهِ طَعَامَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَطَعَامَ أَبِي بَكْرٍ مِنَ الدَّوَابِّ وَأَمَّا الآخَرُ فَنِطَاقُ الْمَرْأَةِ الَّتِي لاَ تَسْتَغْنِي عَنْهُ أَمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدَّثَنَا " أَنَّ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابًا وَمُبِيرًا " . فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَرَأَيْنَاهُ وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَلاَ إِخَالُكَ إِلاَّ إِيَّاهُ - قَالَ - فَقَامَ عَنْهَا وَلَمْ يُرَاجِعْهَا .
#6497
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If the din were at the Pleiades, even then a person from Persia would have taken hold of it, or one amongst the Persian descent would have surely found it
یزید بن اصم جزری نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اگر دین ثریا پر ہوتا تب بھی فارس کا کوئی شخص ۔ ۔ ۔ یا آپ نے فرمایا ۔ ۔ ۔ فرزندان فارس میں سے کوئی شخص اس تک پہنچتا اور اسے حاصل کرلیتا ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ جَعْفَرٍ الْجَزَرِيِّ، عَنِ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ كَانَ الدِّينُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَذَهَبَ بِهِ رَجُلٌ مِنْ فَارِسَ - أَوْ قَالَ مِنْ أَبْنَاءِ فَارِسَ - حَتَّى يَتَنَاوَلَهُ " .
#6498
Abu Huraira reported:We were sitting in the company of Allah's Apostle (ﷺ) that Sura al-Jumu'a was revealed to him and when he recited (these words):" Others from amongst them who have not yet joined them," a person amongst them (those who were sitting there) said: Allah's Messenger! But Allah's Apostle (ﷺ) made no reply, until he questioned him once, twice or thrice. And there was amongst us Salman the Persian. The Apostle of Allah (ﷺ) placed his hand on Salman and then said: Even if faith were near the Pleiades, a man from amongst these would surely find it
ابو غیث نے حضرت ابو ہریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جمعہ نازل ہوئی اور آپ نے یہ پڑھا : ﴿ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا﴾ "" ان میں اور بھی لوگ ہیں جو اب تک آکر ان سے نہیں ملے ہیں ۔ "" ( الجمعۃ 62 : 3 ) تو ایک نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !وہ کون لوگ ہیں؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی جواب نہ دیا ، حتیٰ کہ اس نے آپ سے ایک یا دو یا تین بار سوال کیا ، کہا : اس وقت ہم میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی موجود تھے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ہاتھ رکھا ، پھر فرمایا؛ "" اگر ایمان ثریا کے قریب بھی ہوتا تو ان میں سے کچھ لوگ اس کو حاصل کرلیتے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْجُمُعَةِ فَلَمَّا قَرَأَ { وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ} قَالَ رَجُلٌ مَنْ هَؤُلاَءِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يُرَاجِعْهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى سَأَلَهُ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا - قَالَ - وَفِينَا سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ - قَالَ - فَوَضَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ ثُمَّ قَالَ " لَوْ كَانَ الإِيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلاَءِ " .
#6499
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:You would find people like one hundred camels and you would not find even one (camel) fit for riding
سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم لوگوں کو ایسے سواونٹوں کی مثل پاؤ گے کہ آدمی ان میں سے ایک بھی سواری کے لائق نہیں پاتا ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ - قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَجِدُونَ النَّاسَ كَإِبِلٍ مِائَةٍ لاَ يَجِدُ الرَّجُلُ فِيهَا رَاحِلَةً " .