#6450
Abu Huraira reported that Tufail and his companions said:Allah's Messenger, the tribe of Daws has disbelieved and has belied you, so invoke curse upon them. It was said: Let Daws be destroyed, whereupon he (Allah's Messenger) said: Allah guide aright the tribe of Daws and direct them to me
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : حضرت طفیل ( بن عمرو دوسی ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھی آئے اور آکر عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ( ہمارے قبیلے ) دوس نے کفر کیا اور ( اسلام لا نے سے ) انکا ر کیا ، آپ ان کے خلا ف دعا کیجیے! ( بعض لوگوں کی طرف سے ) کہا گیا ۔ کہ اب دوس ہلا ک ہو گئے ۔ ( لیکن ) آپ نے ( دعا کرتے ہو ئے ) فر ما یا : " اے اللہ !دوس کو ہدایت دےاور ان کو ( یہاں ) لےآ ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَدِمَ الطُّفَيْلُ وَأَصْحَابُهُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ دَوْسًا قَدْ كَفَرَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهَا . فَقِيلَ هَلَكَتْ دَوْسٌ فَقَالَ " اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ " .
#6451
empty
حارث نے ابو زرعہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں بنو تمیم کے ساتھ تین باتوں کی وجہ سے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنیں محبت کرتا آرہا ہوں ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرما تے ہو ئے سنا ، یہ میری امت میں سے دجال کے خلا ف زیادہ سخت ہوں گے ۔ کہا : اور ان لوگوں کے صدقات ( زکاۃ کے اموال ) آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " یہ ہماری اپنی قوم کے صدقات ہیں ۔ کہا : ان میں سے جنگ میں پکڑی ہو ئی ایک باندی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تھی ۔ آپ نے ان سے فرما یا : " اسے آزاد کردو ۔ یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولا د میں سے ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لاَ أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ مِنْ ثَلاَثٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ " . قَالَ وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا " . قَالَ وَكَانَتْ سَبِيَّةٌ مِنْهُمْ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَعْتِقِيهَا فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ " .
#6452
The other hadith has been transmitted on the authority of Abu Huraira with a slight variation of wording
عمارہ نے ابو زرعہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : تین باتوں کے بعد جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنیں ، میں بنو تمیم سے مسلسل محبت کرتا آرہا ہوں ، پھر اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لاَ أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَ ثَلاَثٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُهَا فِيهِمْ . فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
#6453
Abu Huraira reported:There are some distinguishing features of Banu Tamim which I heard from Allah's Messenger (ﷺ) and my love for them is never on the decline after that and the words are: They are the bravest amongst people in the battlefield and there is no mention of (the word)" Dajjal
۔ شعبی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : تین صفات ہیں جو میں نے بنوتمیم کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنیں اس کے بعد سے میں ان سے محبت کرتا ہوں اور ( آگے ) اسی معنی میں حدیث بیان کی ، البتہ ( شعبی نے ) یہ کہا : " وہ ( مستقبل میں ہو نے والی ) بڑی جنگوں کے دوران میں لڑنے میں سب لوگوں سے زیادہ سخت ہوں گے ۔ " اور انھوں نے دجال کا ذکر نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْمَازِنِيُّ، إِمَامُ مَسْجِدِ دَاوُدَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ ثَلاَثُ خِصَالٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَنِي تَمِيمٍ لاَ أَزَالُ أُحِبُّهُمْ بَعْدُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِهَذَا الْمَعْنَى غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " هُمْ أَشَدُّ النَّاسِ قِتَالاً فِي الْمَلاَحِمِ " . وَلَمْ يَذْكُرِ الدَّجَّالَ .
#6454
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:You would find people like those of mine, the good amongst you in the Days of Ignorance would be good amongst you in the days of Islam, provided they have an understanding of it and you will find good amongst people the persons who would be averse to position of authority until it is thrust upon them, and you will find the worst amongst persons one who has double face. He comes with one face to them and with the other face to the others
ابن شہاب نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں کو کانوں کی طرح پاؤ گے ۔ پس جو جاہلیت میں بہتر تھے وہ اسلام میں بھی بہتر ہیں جب دین میں سمجھدار ہو جائیں اور تم بہتر اس کو پاؤ گے جو مسلمان ہونے سے پہلے اسلام سے بہت نفرت رکھتا ہو ( یعنی جو کفر میں مضبوط تھا وہ اسلام لانے کے بعد اسلام میں بھی ایسا ہی مضبوط ہو گا جیسے سیدنا عمر اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہما وغیرہ یا یہ مراد ہے کہ جو خلافت سے نفرت رکھے اسی کی خلافت عمدہ ہو گی ) ۔ اور تم سب سے برا اس کو پاؤ گے جو دو روّیہ ہو کہ ان کے پاس ایک منہ لے کر آئے اور ان کے پاس دوسرا منہ لے کر جائے ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلاَمِ إِذَا فَقُهُوا وَتَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ فِي هَذَا الأَمْرِ أَكْرَهُهُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ فِيهِ وَتَجِدُونَ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ " .
#6455
This hadith has been transmitted through other chains of transmitters. The chain of of Abu Zur'a has a slight variation of wording
ابو زرعہ اور اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم لوگوں کو معدنیات کی کانوں کی طرح پاؤگے ۔ ۔ ۔ " ( آگے اسی طرح ہے ) جس طرح زہری کی حدیث ہے ، البتہ ابو زرعہ اور اعرج کی روایت میں ہے : " تم اس ( دین کے ) معاملے میں سب لوگوں سے بہتر انھیں پاؤگے جو اس ( دین ) میں داخل ہونے سے پہلے سب لوگوں سے بڑھ کر اس کو ناپسند کرتے تھے ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ " . بِمِثْلِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ أَبِي زُرْعَةَ وَالأَعْرَجِ " تَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ فِي هَذَا الشَّأْنِ أَشَدَّهُمْ لَهُ كَرَاهِيَةً حَتَّى يَقَعَ فِيهِ " .
#6456
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Good amongst the women are those who ride camels. One of them said: They are pious women of the Quraish, and the other one said: The women of the Quraish are kind to the orphans in their childhood and look after the wealth of their spouses
ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابو زناد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی اور ابن طاوس نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ان عورتوں میں سے بہترین جو اونٹوں پر سوار ہوتی ہیں ۔ ان دونوں ( اعرج اورطاؤس ) میں سے ایک نے کہا : قریش کی نیک عورتیں ہیں اور دوسرے نے کہا : قریش کی عورتیں ہیں ۔ جو یتیم بچے کی کم عمری میں اس پر سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں اور اپنے شوہر کے مال کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الإِبِلَ - قَالَ أَحَدُهُمَا صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ . وَقَالَ الآخَرُ نِسَاءُ قُرَيْشٍ - أَحْنَاهُ عَلَى يَتِيمٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ " .
#6457
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Huraira with a slight variation of wording and there is no word" orphan
عمرو ناقد نےکہا : ہمیں سفیان نے ابو زناد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اعرض سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی جو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے ( آپ سے روایت کرتے تھے ۔ ) اس ( سابقہ روایت ) کے مانند ، اور ابن طاوس نے اپنے والد سے روایت کی جو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے ، مگر انھوں نے اس طرح کہا : " وہ ا پنے بچے کی اس کی کم سنی میں سب سے زیادہ نگہداشت کرنے والی ہوتی ہیں ۔ " انھوں نے " یتیم ( پر ) " نہیں کہا ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " أَرْعَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ " . وَلَمْ يَقُلْ يَتِيمٍ .
#6458
Abu Huraira reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: The women of the Quraish are good amongst the womenfolk. They ride camels and show affection to their children and zealously guard the wealth of their husbands. Abu Huraira said at the end of this narration that Mary, the daughter of Imran, never rode the camel
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ سے سنا ، آپ نے فرمایا : "" قریش کی عورتیں اونٹوں پر سواری کرنے والی تمام عورتوں میں سب سے اچھی ہیں ، بچے پر سب سے بڑھ کر مہربان ہیں اور اپنے خاوند کے لئے اس کے مال کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والی ہیں ۔ "" ( سعیدبن مسیب نے ) کہا : ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے بعد کہا کر تے تھے : مریم بنت عمران علیہ السلام اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئیں ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " نِسَاءُ قُرَيْشٍ خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الإِبِلَ أَحْنَاهُ عَلَى طِفْلٍ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ " . قَالَ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَى إِثْرِ ذَلِكَ وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيرًا قَطُّ .
#6459
Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) gave a proposal of marriage to Umm Hani, the daughter of Abu Talib, whereupon she said:Allah's Messenger, I am of an advanced age with a (large) family. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: The best women are those who ride (the camels) ; the rest of the hadith is the same but with this difference that, instead of the word Ar'a the word Ahna has been used (and the complete sentence is like this): That they treat children in their childhood with affection
معمر نے زہری سے ، انھوں نے ابن مسیب سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نکاح کا پیغام بھجوایا ، انھوں نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اب میں بوڑھی ہوگئی ہوں اور میرےبہت سے بچے ہیں ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( اونٹوں پر ) سوار ہونے والی عورتوں میں سے بہترین " پھر یونس کی حدیث کی طرح بیان کیا مگر یوں کیا : " اس کی کم سنی میں بچے پر سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِ��ٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ كَبِرْتُ وَلِيَ عِيَالٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ " . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ " .
#6460
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The best women who ride the camels are the pious women of the Quraish; they treat with affection children in their childhood and keep a strict watch on the wealth of their spouses
معمر نے ابن طاوس سے اورانھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، نیز معمر نے ہمام بن منبہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اونٹوں پر سفر کرنے والی عورتوں میں سے بہترین ، قریش کی نیک عورتیں ہیں جو بچے پر اس کی کم سنی میں زیادہ شفقت کرنے و الی ہوتی ہیں اور اپنے خاوند کے مال کی زیادہ حفاظت کرتی ہیں ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ عَبْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الإِبِلَ صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ " .
#6461
This hadith has been reported on the authority of Abu Huraira with the same chain of transmitters
سہیل ( بن ابی صالح ) نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معمر کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ - حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، - وَهُوَ ابْنُ بِلاَلٍ - حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ هَذَا سَوَاءً .
#6462
Anas reported that Allah's Messenger (ﷺ) established fraternity between Abu Ubaida b. Jarrah and Abu Talha
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا ۔
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم آخَى بَيْنَ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَبَيْنَ أَبِي طَلْحَةَ .
#6463
It was said to Anas b. Malik:You must have heard this that Allah's Messenger (ﷺ) said: There is no alliance (hilf) of brotherhood in Islam. Anas said: Allah's Messenger (ﷺ) established the bond of fraternity between the Quraish and the Ansar in his home
حفص بن غیاث نے کہا : ہمیں عاصم احول نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا : کیا آپ تک یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اسلام میں حلیف بننا بنانا ( جائز ) نہیں " ؟حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مکان میں قریش اور انصار کو ایک دوسرے کا حلیف بنایا تھا ۔
حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، قَالَ قِيلَ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ حِلْفَ فِي الإِسْلاَمِ " . فَقَالَ أَنَسٌ قَدْ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالأَنْصَارِ فِي دَارِهِ .
#6464
Anas reported Allah's Messenger (ﷺ) established fraternity between the Quraish and the Ansar in his house at Medina
عبدہ بن سلیمان نے عاصم سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں میرے گھر میں قریش اور انصار کو ایک دوسرے کا حلیف بنایا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ، سُلَيْمَانَ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالأَنْصَارِ فِي دَارِهِ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ .
#6465
Jubair b. Mut'im reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There is no alliance (hilf) in Islam but (the hilf) established in the pre-Islamic days (for good). Islam intensifies and strengthens it
سعد بن ابراہیم نے ا پنے والد سے ، انھوں نے حضرت جبیربن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " اسلام میں ایک دوسرے کو حلیف بنانے کی ضرورت نہیں ، جو شخص کا جاہلیت میں جو حلف تھا ، اسلام نے اس کی مضبوطی میں اور اضافہ کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ حِلْفَ فِي الإِسْلاَمِ وَأَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الإِسْلاَمُ إِلاَّ شِدَّةً " .
#6466
Abu Burda reported on the authority of his father:We offered the sunset prayer along with Allah's Apostle (ﷺ). We then said: If we sit (along with Allah's Messenger) and observe night prayer with him it would be very good, so we sat down and he came to us and said: You are still sitting here. I said: Allah's Messenger, we observed evening prayer with you, then we said: Let us sit down and observe night prayer along with you, whereupon he said: You have done well or you have done right. He then lifted his head towards the sky and it often happened that as he lifted his head towards the sky, he said: The stars are a source of security for the sky and when the stars disappear there comes to the sky, i. e. (it meets the same fate) as it has been promised (it would plunge into darkness). And I am a source of safety and security to my Companions and when I would go away there would fall to the lot (of my Companions) as they have been promised with and my Companions are a source of security for the Umma and as they would go there would fall to the lot of my Umma as (its people) have been promised
سعید بن ابی بردہ نے ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے ا پنے والد ( ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : ہم نے مغرب کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی ، پھر ہم نے کہا کہ اگر ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھیں تو بہتر ہو گا ۔ پھر ہم بیٹھے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم یہیں بیٹھے رہے ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ جی ہاں یا رسول اللہ! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھی ، پھر ہم نے کہا کہ اگر ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء کی نماز بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھیں تو بہتر ہو گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اچھا کیا یا ٹھیک کیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے ، پھر فرمایا کہ ستارے آسمان کے بچاؤ ہیں ، جب ستارے مٹ جائیں گے تو آسمان پر بھی جس بات کا وعدہ ہے وہ آ جائے گی ( یعنی قیامت آ جائے گی اور آسمان بھی پھٹ کر خراب ہو جائے گا ) ۔ اور میں اپنے اصحاب کا بچاؤ ہوں ۔ جب میں چلا جاؤں گا تو میرے اصحاب پر بھی وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے ( یعنی فتنہ اور فساد اور لڑائیاں ) ۔ اور میرے اصحاب میری امت کے بچاؤ ہیں ۔ جب اصحاب چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے ( یعنی اختلاف و انتشار وغیرہ ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، كُلُّهُمْ عَنْ حُسَيْنٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، - عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ صَلَّيْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قُلْنَا لَوْ جَلَسْنَا حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَهُ الْعِشَاءَ - قَالَ - فَجَلَسْنَا فَخَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ " مَا زِلْتُمْ هَا هُنَا " . قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّيْنَا مَعَكَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ قُلْنَا نَجْلِسُ حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَكَ الْعِشَاءَ قَالَ " أَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ " . قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَكَانَ كَثِيرًا مِمَّا يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ " النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ وَأَنَا أَمَنَةٌ لأَصْحَابِي فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لأُمَّتِي فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ " .
#6467
Abu Sa'id Khudri reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:A time would come for the people when groups of people would set out for fighting in the cause of Allah and it would be said to them: Is there one amongst you who saw Allah's Messenger (ﷺ)? And they would say: Yes, and they would be victorious. Then the people would set out for fighting in the cause of Allah and it would be said to them: Is there one amongst you who saw those (who have had the privilege of sitting in the company of Allah's Messenger (ﷺ)? And they would say: Yes, and victory would be granted to them. Then a group of persons would set out for fighting in the cause of Allah and it would be said to them: Is there one amongst you who saw one of those who saw those who (had the privilege) of sitting in the company of Allah's Messenger (ﷺ)? And they would say: Yes, and the Victory would be granted to them
عمرو ( بن دینار ) نے حضرت جابر ( بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے سنا ، وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دیتے تھے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " ایک زمانہ آئے گا کہ آدمیوں کے جھنڈ جہاد کریں گے تو ان سے پوچھیں گے کہ کوئی تم میں سے وہ شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو؟ تو وہ لوگ کہیں گے کہ ہاں! تو ان کی فتح ہو جائے گی ۔ پھر لوگوں کے گروہ جہاد کریں گے تو ان سے پوچھیں گے کہ تم میں سے کوئی وہ ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کو دیکھا ہو ( یعنی تابعین میں سے کوئی ہے؟ ) لوگ کہیں کے کہ ہاں! پھر ان کی فتح ہو جائے گی ۔ پھر آدمیوں کے لشکر جہاد کریں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ تم میں سے کوئی وہ ہے جس نے صحابی کے دیکھنے والے کو دیکھا ہو ( یعنی تبع تابعین میں سے ) ؟ تو لوگ کہیں گے کہ ہاں ۔ پھر لوگوں کے گروہ جہاد کریں گے تو پوچھیں گے کہ کیا تم میں کوئی ایسا آدمی ہے جس نے اتباع تابعین کو دیکھا ہو؟
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو، جَابِرًا يُخْبِرُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيُقَالُ لَهُمْ فِيكُمْ مَنْ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُونَ . نَعَمْ فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيُقَالُ لَهُمْ فِيكُمْ مَنْ رَأَى مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُونَ نَعَمْ . فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيُقَالُ لَهُمْ هَلْ فِيكُمْ مَنْ رَأَى مَنْ صَحِبَ مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُونَ نَعَمْ . فَيُفْتَحُ لَهُمْ " .
#6468
Abu Sa'id Khudri reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There would come to the people a time when a detachment would be sent for fighting in the cause of Allah and they would say: See, if you can find amongst them someone from amongst the Companions of Allah's Apostle (ﷺ). They would find a person and they would be granted victory because of him. Then a second detachment would be sent to them and they would say: Do you find amongst them one who had had the privilege of seeing the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ)? -and the victory would be granted to them because of him. Then the third detachment would be sent and it would be said to them: See, if you find amongst them (who had had the honour of seeing one) who saw those who saw the Companions of Allah's Apostle (ﷺ). Then the fourth detachment would be sent and it would be said to them: See it you find amongst them one who had the privilege (of seeing) one who saw those who saw those who saw the Companions of Allah's Apostle (ﷺ), and a person would be found and they would be granted victory because of him
ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یقین تھا ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں سے کوئی لشکر بھیجاجائے گا تو لوگ کہیں گے : دیکھو ، کیا تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کوئی فرد ہے؟تو ایک شخص مل جائے گا ، چنانچہ اس کی وجہ سے انھیں فتح مل جائے گی ، پھر ایک اور لشکر بھیجا جائے گا تو لوگ ( آپس میں ) کہیں گے : کیا ان میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھا ہو؟تو انھیں اس ( شخص ) کی بنا پر فتح حاصل ہوجائےگی ، پھر تیسرا لشکر بھیجاجائے گا تو کہا جائے گا : دیکھو ، کیا ان میں کوئی ایسا دیکھتے ہو جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھنے والوں کو دیکھا ہو؟پھر چوتھا لشکر بھیجاجائے گاتو کہا جائے گا : دیکھو ، کیا ان میں کوئی ایسا شخص دیکھتے ہو جس نے کسی ایسے آدمی کو دیکھا ہو جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھنے والوں میں سے کسی کو دیکھا ہو؟تو وہ آدمی مل جائے گا اور اس کی وجہ سے انھیں فتح مل جائے گی ۔
حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي، الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ زَعَمَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُبْعَثُ مِنْهُمُ الْبَعْثُ فَيَقُولُونَ انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ فِيكُمْ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيُوجَدُ الرَّجُلُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّانِي فَيَقُولُونَ هَلْ فِيهِمْ مَنْ رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّالِثُ فَيُقَالُ انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ مَنْ رَأَى مَنْ رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ يَكُونُ الْبَعْثُ الرَّابِعُ فَيُقَالُ انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ أَحَدًا رَأَى مَنْ رَأَى أَحَدًا رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيُوجَدُ الرَّجُلُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ " .
#6469
Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The best of my Umma would be those of the generation nearest to mine. Then those nearest to them, then those nearest to them, then people would come whose witness would precede the oath and the oath will precede the witness. Hannad has not made the mention of Qarn in his narration. Qutaiba said that, instead of the word Qaum, the word Aqwam has been used
قتیبہ بن سعید اور ہناد بن سری نے کہا : ہمیں ابواحوص نے منصور سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابراہیم بن یزید سے ، انھوں نے عبیدہ سلیمانی سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میر ی امت میں سے بہترین اس دور کے لوگ ہیں جو میرے ساتھ ہیں ( صحابہ ) ، پھر وہ ہیں جو ان کےساتھ ( کے دور میں ) ہوں گے ( تابعین ) ، پھر وہ جوان کے ساتھ ( کے دور میں ) ہوں گے ( تبع تابعین ) ، پھر ایسے لوگ آئیں گے کہ ان کی گواہی ان کی قسم سے پہلے ہوگی ۔ اور ان کی قسم ان کی گواہی سے پہلے ہوگی ۔ " ہناد نے اپنی حدیث میں قرن ( دور ) کا ذکر نہیں کیا ۔ اور قتیبہ نے کہا : " پھر ایسی اقوام آئیں گی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِينَ يَلُونِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ " . لَمْ يَذْكُرْ هَنَّادٌ الْقَرْنَ فِي حَدِيثِهِ وَقَالَ قُتَيْبَةُ " ثُمَّ يَجِيءُ أَقْوَامٌ " .
#6470
Abdullah reported:It was asked from Allah's Apostle (ﷺ) who amongst the people were the best. He said: (People) of my generation, then those next to them, then those next to them, then there would come a people whose evidence would precede their oath and their oath would precede their evidence. Ibrahim said: They forbade us to make vows and bear witness when we were too young
جریر نے منصور سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : لوگوں میں سب سے بہتر کون ہیں؟آپ نے فرمایا : "" میرے دور کے لوگ پھر وہ جو ان کے ساتھ ( کے دور میں ) ہوں گے ، پھر وہ جو ان کے ساتھ ہوں گے ، پھر ایک ایسی قوم آئے گی کہ ان کی شہادت ان کی قسم سے جلدی ہوگی اور ان کی قسم انکی شہادت سے جلدی ہوگی ۔ "" ابراہیم ( نخعی ) نے کہا : جس وقت ہم کم عمر تھے ( تو بڑی عمرکے ) لوگ ہمیں قسم کھانے اور شہادت دینے سے منع کرتے تھے ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ النَّاسِ خَيْرٌ قَالَ " قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَبْدُرُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَتَبْدُرُ يَمِينُهُ شَهَادَتَهُ " . قَالَ إِبْرَاهِيمُ كَانُوا يَنْهَوْنَنَا وَنَحْنُ غِلْمَانٌ عَنِ الْعَهْدِ وَالشَّهَادَاتِ .
#6471
This hadith has been transmitted by Mansur on the authority of Abu al-Ahwas and Jarir with a slight variation of wording
شعبہ اور سفیان دونوں نے منصور سے ابو احوص اور جریر کی سند کے ساتھ انھی دونوں کی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی ، دونوں کی حدیث میں " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیاگیا " ( کے الفاظ ) نہیں ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلاَهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ، بِإِسْنَادِ أَبِي الأَحْوَصِ وَجَرِيرٍ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمَا وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#6472
Abdullah (b. Mas'ud) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:The best among people are of my generation, then those next to them. (The narrator said): I do not know whether (he said) it three times or four times. Then there would fellow after them such persons whose evidence would precede the oath, and in case of some others, the oath (would precede) the evidence
ابن عون نے ابراہیم سے ، انھوں نے عبیدہ سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا؛ " لوگوں میں سے بہترین میرے دور کے لوگ ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) ہیں ، پھر وہ جو ان کے ساتھ ( کے دورکے ) ہوں گے ( تابعین رحمۃ اللہ علیہ ) ، پھر وہ جوان کے ساتھ ( کے دور کے ) ہوں گے ( تبع تابعین ۔ ) " ( عبیدہ سلیمانی نے کہا : ) مجھے یاد نہیں ( کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) تیسری بار کہا یاچوتھی بار : " پھر ان کے جانشین ایسے لوگ ہوں گے کہ ان میں سے کسی ایک کی گواہی قسم سے پہلے ہوگی اوراور اس کی قسم اس کی گواہی سے پہلے ہوگی ۔
وَحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ " . فَلاَ أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ قَالَ " ثُمَّ يَتَخَلَّفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ " .
#6473
Abu Huraira reported Allah's Messenger (may, peace be upon him) as saying:The best age of my Umma is one in which I was sent (by Allah as an Apostle), then the one next to that. (The narrator said): And Allah knows best whether he stated this third (time) or not. Then there would come people who would love (to look) bulky and they would hasten to the witness box before they are asked to bear witness
ہشیم نے ابو بشر سے ، انھوں نے عبداللہ بن شقیق سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میری امت کے بہترین لوگ اس زمانے کے ہیں جن میں میری بعثت ہوئی ہے ، پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے ساتھ ( کے دور کے ) ہیں ۔ " اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ آپ نے تیسرے زمانے کا ذکر کیاتھا یا نہیں ، فرمایا؛ " پھر ایک ایسی قوم آئے گی جو موٹا ہونا پسند کریں گے ، وہ شہادت طلب کیے جانے سے پہلے شہادت دیں گے ۔
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، ح وَحَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ، بْنُ سَالِمٍ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ " . وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لاَ قَالَ " ثُمَّ يَخْلُفُ قَوْمٌ يُحِبُّونَ السَّمَانَةَ يَشْهَدُونَ قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدُوا " .
#6474
This hadith has been reported on the authority of Abu Huraira through another chain of transmitters (but with this variation) that Abu Huraira said:I do not know whether he (the Holy Prophet) said (these words:" Then next" ) twice or thrice
شعبہ اور ابو عوانہ دونوں نے ابو بشر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ، مگر شعبہ کی حدیث میں ہے : ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نہیں جانتا ( کہ آپ نے ) دوبار ( کہا ) یا تین بار ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي بِشْرٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَلاَ أَدْرِي مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةً .