#5550
Jabir reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade (the animals to be beaten) on the face or cauterisation on the face
علی بن مسہر نے ابن جریج سے ، انھوں نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرما یا کہ ( جانور کو ) منہ پر مارا جا ئے یا منہ پر نشانی ثبت کی جائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ وَعَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ .
#5551
This hadith has been reported on the authority of Jabir b. 'Abdullah through another chain of transmitters
حجاج بن محمد اور محمد بن بکر دونوں نے ابن جریج سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے ابو زبیر نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فر ما یا : سابقہ حدیث کے مانند ۔
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، . كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ، بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
#5552
Jabir reported that there happened to pass before Allah's Apostle (ﷺ) an ass the face of which had been cauterised, whereupon he said:Allah has cursed one who has cauterised it (on the face)
معقل نے ابو ہریرہ سے انھوں نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے ایک گدھا گزرا جس کے منہ پر داغا گیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس نے اسے ( منہ پر ) داغاہے اس پر اللہ کی لعنت ہو ۔
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ عَلَيْهِ حِمَارٌ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ " لَعَنَ اللَّهُ الَّذِي وَسَمَهُ " .
#5553
Ibn Abbas reported that Allah's Messenger (ﷺ) saw an ass which had been cauterised on the face. He disapproved of it saying:By Allah, I do not cauterise (the animal) but on a part at a distance from the face, and commanded (for the cauterisation) of his ass and it was cauterised on the buttocks and he was the first to cauterise on the buttocks
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلا م ناعم ابو عبد اللہ نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ فرمارہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھا دیکھا جس کے چہرے کو نشانی لگا نے کے لیے داغا گیا تھا آپ نے اس کو بہت برا خیال کیا ، انھوں نے ( حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : اللہ کی قسم !میں جو حصہ چہرے سے سب سے زیادہ دور ہو اس کے علاوہ کسی جگہ نشانی ثبت نہیں کر تا ۔ پھر انھوں نے اپنے گدھے کے بارے میں حکم دیا تو اس کی سرین ( کے وہ حصے جہاں دم ہلاتے وقت لگتی ہے ) پر نشانی ثبت کی گئی یہ پہلے آدمی ہیں جنھوں نے اس جگہ داغنے کا آغاز کیا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ، بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ نَاعِمًا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ وَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِمَارًا مَوْسُومَ الْوَجْهِ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ قَالَ فَوَاللَّهِ لاَ أَسِمُهُ إِلاَّ فِي أَقْصَى شَىْءٍ مِنَ الْوَجْهِ . فَأَمَرَ بِحِمَارٍ لَهُ فَكُوِيَ فِي جَاعِرَتَيْهِ فَهُوَ أَوَّلُ مَنْ كَوَى الْجَاعِرَتَيْنِ .
#5554
Anas reported that Umm Sulaim gave birth to a child. She said to him:Anas, see that nothing is given to this child until he is brought to Allah's Apostle (ﷺ) in the morning, so that he should chew some dates and touch his palate with it. I went to him in the morning and he was in the garden at that time having the mantle of Jauniyya over him and he was bus in cauterising (the camels) which had been brought to him (as spoils of war) in victory (over the enemy)
محمد ( ابن سیرین ) نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، کہا : جب حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو انھوں نے مجھ سے کہا : انس !اس بچے کا دھیان رکھو ، اس کے منہ میں کو ئی چیز نہ جا ئے یہاں تک کہ صبح تم اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جا ؤ آپ اسے گھٹی دیں گے ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کہ میں صبح کے وقت آیا ، اس وقت آپ باغ میں تھے ، آپ کے جسم پر ایک کا لے رنگ کی بنوجون کی بنا ئی ہو ئی منقش اونی چادر تھی اور آپ ان سواری کے جانوروں ( کے جسم ) پرنشان ثبت فر ما رہے تھے جو فتح مکہ کے زمانے میں ( فتح مکہ کے فوراً بعد جنگ حنین کے مو قع پر ) آپ کو حاصل ہو ئے تھے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَمَّا وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ قَالَتْ لِي يَا أَنَسُ انْظُرْ هَذَا الْغُلاَمَ فَلاَ يُصِيبَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُحَنِّكُهُ . قَالَ فَغَدَوْتُ فَإِذَا هُوَ فِي الْحَائِطِ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ جَوْنِيَّةٌ وَهُوَ يَسِمُ الظَّهْرَ الَّذِي قَدِمَ عَلَيْهِ فِي الْفَتْحِ .
#5555
Anas reported that when his mother gave birth to a child they brought that child to Allah's Messenger (ﷺ) so that he might chew some dates and touch his palate with them. and Allah's Apostle (ﷺ) was at that time in the fold busy in cauterising the animals Shu'ba said:So far as I know (he was cauterising) their ears
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا ، کہ جب ان کی والد کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو وہ لوگ اس بچے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تا کہ آپ اسے گھٹی دیں اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اونٹوں کے ایک باڑے میں تھے اور بکریوں کو نشان لگا رہے تھے شعبہ نے کہا : میرا غالب گمان یہ ہے کہ انھوں نے ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا تھا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) ان ( بکریوں ) کے کا نوں پر نشان لگا رہے تھے ۔ ( اونٹوں کو لگانے کے بعد بکریوں کو بھی وہیں لا کر نشان لگا رہے تھے ۔)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يُحَدِّثُ أَنَّ أُمَّهُ، حِينَ وَلَدَتِ انْطَلَقُوا بِالصَّبِيِّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُحَنِّكُهُ قَالَ فَإِذَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي مِرْبَدٍ يَسِمُ غَنَمًا . قَالَ شُعْبَةُ وَأَكْثَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ فِي آذَانِهَا .
#5556
Anas reported:We went to Allah's Messenger (ﷺ) as he was in the fold and he was cauterising the animals of the flock and I think (he was cauterising them) on their ears. This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba through another chain of transmitters
یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے روایت کی ، کہا : مجھے ہشام بن زید نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اونٹوں کے باڑے میں گئے ، اس وقت آپ بکریوں کو نشان لگا رہے تھے ( ، شعبہ نے ) کہا : میرا خیال ہے ( ہشام نے ) کہا : کہ ان ( بکریوں ) کے کانوں پر ( نشان لگا رہے تھے ۔)
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ، زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِرْبَدًا وَهُوَ يَسِمُ غَنَمًا . قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ فِي آذَانِهَا . وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، وَيَحْيَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
#5557
Anas reported:We went to Allah's Messenger (ﷺ) as he was in the fold and he was cauterising the animals of the flock and I think (he was cauterising them) on their ears. This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba through another chain of transmitters
یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے روایت کی ، کہا : مجھے ہشام بن زید نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اونٹوں کے باڑے میں گئے ، اس وقت آپ بکریوں کو نشان لگا رہے تھے ( ، شعبہ نے ) کہا : میرا خیال ہے ( ہشام نے ) کہا : کہ ان ( بکریوں ) کے کانوں پر ( نشان لگا رہے تھے ۔)
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ، زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِرْبَدًا وَهُوَ يَسِمُ غَنَمًا . قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ فِي آذَانِهَا . وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، وَيَحْيَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
#5558
Anas b. Malik reported:I saw in the hand of Allah's Messenger (ﷺ) an instrument for cauterisation and he was cauterising the caracia collected as Zakat
اسحٰق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں نشان لگا نے والا آلہ دیکھا ، آپ صدقے میں آئے ہو ئے اونٹوں پر نشان ثبت فر ما رہے تھے ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ إِسْحَاقَ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ رَأَيْتُ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمِيسَمَ وَهُوَ يَسِمُ إِبِلَ الصَّدَقَةِ .
#5559
Ibn Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade Qaza. I said to Nafi:What is Qaza'? He said: This means having a part of a boy's head shaved and leaving a part unshaven
یحییٰ بن سعید نے عبید اللہ سے روایت کی کہا : مجھے عمر بن نافع نے اپنے والد سے خبردی ۔ انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے " قزع " سے منع فرمایا ، میں نے نافع سے پو چھا : قزع کیا ہے ؟انھوں نے کہا : بچے کے سر کے کچھ حصے کے بال مونڈدیے جا ئیں اور کچھ حصے کو چھوڑ دیا جا ئے ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْقَزَعِ . قَالَ قُلْتُ لِنَافِعٍ وَمَا الْقَزَعُ قَالَ يُحْلَقُ بَعْضُ رَأْسِ الصَّبِيِّ وَيُتْرَكُ بَعْضٌ .
#5560
This hadith has been reported on the authority of 'Ubaidullah with the same chain of transmitters. and the exposition of Qaza' is the same as that of Abu Usama
ابو اسامہ اور عبد اللہ بن نمیر دونوں نے کہا : ہمیں عبید اللہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، اور انھوں نے ابو اسامہ کی حدیث میں ( قزع کی ) تفسیر کو عبید اللہ کا قول قراردیا ہے ۔ ( ان کے شاگردوں کے سامنے عبید اللہ نے یہ وضاحت نافع کی طرف منسوب کیے بغیر بیان کی ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالاَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَجَعَلَ التَّفْسِيرَ فِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ مِنْ قَوْلِ عُبَيْدِ اللَّهِ .
#5561
This hadith has been narrated on the authority of 'Umar b. Nafi' with the same chain of transmitters and Muhammad b. Muthanna as well as 'Umar b. Nafi have given the same exposition (of the word Qaza') in their narration
عثمان بن عثمان غطفانی اور روح ( بن قاسم ) نے عمر بن نافع سے عبید اللہ کی سند سے اسی کے مانند حدیث بیان کی اور دونوں نے تفسیر ( قزع کی وضاحت ) کو حدیث کا لا حقہ بنا یا ۔ ( الگ سے بیان نہیں کیا ۔)
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُثْمَانَ الْغَطَفَانِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ، ح وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ، نَافِعٍ بِإِسْنَادِ عُبَيْدِ اللَّهِ . مِثْلَهُ وَأَلْحَقَا التَّفْسِيرَ فِي الْحَدِيثِ .
#5562
This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Umar through another chain of transmitters
ایوب اور عبد الرحمٰن سراج نے نافع سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ، زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّرَّاجِ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ .
#5563
Abu Sa'id Al-Khudri reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Avoid sitting on the paths. They (his Companions) said: Allah's Messenger, there is no other help to it (but to sit there as we) hold our meetings and discuss matters there. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: If you have to sit at all, then fulfil the rights, of the path. They said: What are their rights? Thereupon he said: Keeping the eye downward (so that you may not stare at the women), refraining from doing some harm to the other and exchanging mutual greetings (saying as-Salamu 'Alaikum to one another) and commanding the good and forbidding the evil
حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے ، انھوں نے عطاء بن یسار سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " راستوں میں بیٹھنے سے بچو ۔ " لوگوں نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے لیے اپنی مجلسوں میں بیٹھے بغیر چارہ نہیں وہی ہم ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اگر تم بیٹھے بغیر نہیں رہ سکتے تو راستے کا ( جہاں مجلس ہے ) حق ادا کرو ۔ " لوگوں نے پو چھا : راستے کا حق کیا ہے ؟ آپ نے فر ما یا : " نگا ہیں جھکا کر رکھنا ( چلنے والوں کے لیے ) تکلیف کا سبب بننے والی چیزوں کو ہٹانا سلام کا جواب دینا ، اچھی بات کا حکم دینا اور برا ئی سے روکنا ۔
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ، بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ فِي الطُّرُقَاتِ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا بُدٌّ مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَإِذَا أَبَيْتُمْ إِلاَّ الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ " . قَالُوا وَمَا حَقُّهُ قَالَ " غَضُّ الْبَصَرِ وَكَفُّ الأَذَى وَرَدُّ السَّلاَمِ وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْىُ عَنِ الْمُنْكَرِ " .
#5564
This hadith has been reported on the authority of Zaid b. Aslam with the same chain of transmitters
عبد العزیز بن محمد مدنی اور ہشام بن سعید ان دونوں نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ، ح وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ، بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - كِلاَهُمَا عَنْ زَيْدِ بْنِ، أَسْلَمَ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
#5565
Asma', daughter of Abu Bakr, reported that a woman came to Allah's Apostle (ﷺ) and said:I have a daughter who has been newly wedded. She had an attack of smallpox and thus her hair had fallen; should I add false hair to her head? Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Allah has cursed the woman who adds some false hair and the woman who asks for it
ابومعاویہ نے ہشام بن عروہ سے ، انھوں نے فاطمہ بنت منذر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ، انھوں نے حضرت اسماءبنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کی ، کہا : ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا : میری بیٹی دلہن ہے ۔ اسے خسرہ ( بعض روایات میں چیچک ) نکالاتھا تو اس کے بال جھڑ گئے ہیں کیا میں ( اس کے بالوں کے ساتھ ) دوسرے بال جوڑ دوں ؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " اللہ نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی ( دونوں ) پر لعنت کی ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ، الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي ابْنَةً عُرَيِّسًا أَصَابَتْهَا حَصْبَةٌ فَتَمَرَّقَ شَعْرُهَا أَفَأَصِلُهُ فَقَالَ " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ " .
#5566
This hadith has been transmitted on the authority of Shu'ba with a slight variation of wording
عبداللہ بن نمیر ، عبدہ ، وکیع اور شعبہ سب نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ ابو معاویہ کی حدیث کی طرح روایت بیان کی ، مگر وکیع اور شعبہ نے اپنی روایت میں " " ( اس کے بال چھدرے ہوگئے ہیں ) کے الفاظ کہے ۔
حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، ح وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَعَبْدَةُ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، أَخْبَرَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّحَدِيثِهِمَا فَتَمَرَّطَ شَعْرُهَا .
#5567
Asma', daughter of Abu Bakr, reported that a woman came to Allah's Apostle (ﷺ) and said:I have married my daughter (whose) hair of head have fallen. Her spouse likes them (the long hair). Allah's Messenger (may add false hair to her head? He forbade her to do this)
منصور کی والدہ نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی : میں نے اپنی بیٹی کی شادی کی ہے ، اس کے بال جھڑ گئے ہیں ، اس کا شوہر اس کو خوبصورت دیکھنا چاہتا ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں اس کے بالوں کے ساتھ دوسرے بال جوڑ دوں؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع فرمادیا ۔
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنِّي زَوَّجْتُ ابْنَتِي فَتَمَرَّقَ شَعْرُ رَأْسِهَا وَزَوْجُهَا يَسْتَحْسِنُهَا أَفَأَصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَنَهَاهَا .
#5568
A'isha reported that a girl of the Ansar who had fallen ill and had lost the hair was married. They (her relatives) thought of adding false hair (to her head). so they asked Allah's Messenger (ﷺ) about it, whereupon he cursed the woman who adds false hair and the woman who asks for it
عمرو بن مر ہ نے کہا : میں نے حسن بن مسلم سے سنا ، وہ صفیہ بنت شیبہ سے حدیث بیان کررہے تھے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انصار کی ایک لڑکی نے شادی کی ، وہ بیمار ہوگئی تھی جس سے اس کے بال جھڑ گئے تھے ان لوگوں نے اس کے بالوں کے ساتھ بال جوڑنے کا ارادہ کیا تو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوا ل کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں میں جوڑ لگانے والی اور جوڑ لگوانے والی ( دونوں ) پر لعنت فرمائی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ، مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ جَارِيَةً، مِنَ الأَنْصَارِ تَزَوَّجَتْ وَأَنَّهَا مَرِضَتْ فَتَمَرَّطَ شَعْرُهَا فَأَرَادُوا أَنْ يَصِلُوهُ فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَلَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ .
#5569
A'isha reported that a woman from the Ansar married her daughter who had lost her hair because of illness. She came to Allah's Apostle (ﷺ) and said:Her husband wants that false hair should be aaded to her head. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: The woman who adds false hair has been cursed. This hadith has been narrated on the authority of Nafi' with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording
زید بن حباب نے ابراہیم بن نافع سے روایت کی ، کہا : مجھے حسن بن مسلم بن یناق نے صفیہ بنت شیبہ سے خبر دی ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انصار کی ایک عورت نے ا پنی بیٹی کی شادی کی ، وہ بیمار ہوگئی تو اس کے بال جھڑ گئے ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اورعرض کی کہ اس کا خاوند اس کی رخصتی چاہتاہے ، کیا میں اس کے بالوں میں جوڑ لگادوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جوڑنے والیوں پر لعنت کی گئی ہے ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنَ الأَنْصَارِ زَوَّجَتِ ابْنَةً لَهَا فَاشْتَكَتْ فَتَسَاقَطَ شَعْرُهَا فَأَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنَّ زَوْجَهَا يُرِيدُهَا أَفَأَصِلُ شَعَرَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لُعِنَ الْوَاصِلاَتُ " . وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ " لُعِنَ الْمُوصِلاَتُ " .
#5570
A'isha reported that a woman from the Ansar married her daughter who had lost her hair because of illness. She came to Allah's Apostle (ﷺ) and said:Her husband wants that false hair should be aaded to her head. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: The woman who adds false hair has been cursed. This hadith has been narrated on the authority of Nafi' with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording
زید بن حباب نے ابراہیم بن نافع سے روایت کی ، کہا : مجھے حسن بن مسلم بن یناق نے صفیہ بنت شیبہ سے خبر دی ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انصار کی ایک عورت نے ا پنی بیٹی کی شادی کی ، وہ بیمار ہوگئی تو اس کے بال جھڑ گئے ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اورعرض کی کہ اس کا خاوند اس کی رخصتی چاہتاہے ، کیا میں اس کے بالوں میں جوڑ لگادوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جوڑنے والیوں پر لعنت کی گئی ہے ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنَ الأَنْصَارِ زَوَّجَتِ ابْنَةً لَهَا فَاشْتَكَتْ فَتَسَاقَطَ شَعْرُهَا فَأَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنَّ زَوْجَهَا يُرِيدُهَا أَفَأَصِلُ شَعَرَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لُعِنَ الْوَاصِلاَتُ " . وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ " لُعِنَ الْمُوصِلاَتُ " .
#5571
Ibn Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) cursing the woman who added false hair and the woman who asked for tattoos. This hadith has been reported on the authority of Abdullah through another chain of transmitters
عبیداللہ نے کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبردی کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوڑ لگانے والی ، جوڑلگوانے والی ، گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ، بْنُ الْمُثَنَّى - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ . وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ، جُوَيْرِيَةَ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ .
#5572
Ibn Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) cursing the woman who added false hair and the woman who asked for tattoos. This hadith has been reported on the authority of Abdullah through another chain of transmitters
عبیداللہ نے کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبردی کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوڑ لگانے والی ، جوڑلگوانے والی ، گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ، بْنُ الْمُثَنَّى - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ . وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ، جُوَيْرِيَةَ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ .
#5573
Abdullah reported that Allah had cursed those women who tattooed and who have themselves tattooed, those who pluck hair from their faces and those who make spaces between their teeth for beautification changing what God has created. This news reached a woman of the tribe of Asad who was called Umm Ya'qub and she used to recite the Holy Qur'an. She came to him and said:What is this news that has reached me from you that you curse those women who tattooed and those women who have themselves tattooed, the women who pluck hair from their faces and who make spaces between their teeth for beautification changing what God has created? Thereupon 'Abdullah said: Should I not curse one upon whom Allah's Messenger (ﷺ) has invoked curse and that is in the Book also. Thereupon that woman said: I read the Qur'an from cover to cover, but I did not find that in it. whereupon he said: If you had read (thoroughly) you would have definitely found this in that (as) Allah, the Exalted and Glorious, has said:" What Allah's Messenger brings for you accept that and what he has forbidden you, refrain from that." That woman said: I find this thing in your wife even now. Thereupon he said: Go and see her. She reported: I went to the wife of 'Abdullah but found nothing of this sort in her. She came back to him and said: I have not seen anything. whereupon he said: Had there been anything like it in her, I would have never slept with her in the bed
جریر نے منصور سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے علقمہ سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : کہ اللہ تعالیٰ نے لعنت کی گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر اور چہرے کے بال اکھیڑنے والیوں پر اور اکھڑوانے والیوں پر اور دانتوں کو خوبصورتی کے لئے کشادہ کرنے والیوں پر ( تاکہ خوبصورت و کمسن معلوم ہوں ) اور اللہ تعالیٰ کی خلقت ( پیدائش ) بدلنے والیوں پر ۔ پھر یہ خبر بنی اسد کی ایک عورت کو پہنچی جسے ام یعقوب کہا جاتا تھا اور وہ قرآن کی قاریہ تھی ، تو وہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور بولی کہ مجھے کیا خبر پہنچی ہے کہ تم نے گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر اور منہ کے بال اکھاڑنے والیوں پر اور اکھڑوانے والیوں ، اور دانتوں کو کشادہ کرنے والیوں پر اور اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنے والیوں پر لعنت کی ہے؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اور یہ تو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود ہے؟ وہ عورت بولی کہ میں تو دو جلدوں میں جس قدر قرآن تھا ، پڑھ ڈالا لیکن مجھے نہیں ملا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تو نے پڑھا ہے تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تجھے ضرور ملا ہو گا کہ ’ جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں بتلائے اس کو تھامے رہو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو ‘ ( الحشر : 7 ) وہ عورت بولی کہ ان باتوں میں سے تو بعضی باتیں تمہاری عورت بھی کرتی ہے ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جا دیکھ ۔ وہ ان کی عورت کے پاس گئی تو کچھ نہ پایا ۔ پھر لوٹ کر آئی اور کہنے لگی کہ ان میں سے کوئی بات میں نے نہیں دیکھی ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو ہم ان کے ساتھ مل کر نہ رہتے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لإِسْحَاقَ - أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ وَالنَّامِصَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ . قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ وَكَانَتْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَأَتَتْهُ فَقَالَتْ مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ لَعَنْتَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَمَا لِيَ لاَ أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ لَوْحَىِ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُهُ . فَقَالَ لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ فَإِنِّي أَرَى شَيْئًا مِنْ هَذَا عَلَى امْرَأَتِكَ الآنَ . قَالَ اذْهَبِي فَانْظُرِي . قَالَ فَدَخَلَتْ عَلَى امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ فَلَمْ تَرَ شَيْئًا فَجَاءَتْ إِلَيْهِ فَقَالَتْ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا . فَقَالَ أَمَا لَوْ كَانَ ذَلِكِ لَمْ نُجَامِعْهَا .
#5574
This hadith has been reported on the authority of Mansur with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording
سفیان اور مفضل بن مہلہل دونوں نے منصور سے ، اسی سند میں جریر کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی مگر سفیان کی حدیث میں : " گودنے والیاں اور گدوانے والیاں " ہے ، جبکہ مفضل کی روایت میں " گودنے والیاں اور جن ( کے جسم ) پر گودا جاتا ہے " کے الفاظ ہیں ۔ ( مقصود ایک ہی ہے ۔)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، - وَهُوَ ابْنُ مُهَلْهَلٍ - كِلاَهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ . بِمَعْنَى حَدِيثِ جَرِيرٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ . وَفِي حَدِيثِ مُفَضَّلٍ الْوَاشِمَاتِ وَالْمَوْشُومَاتِ .